Ayah 2:130ملت ابراہیمی سے وہی اعراض کرے گا جو احمق ہو
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا و (علیہ السلام) کی ملت میں توحید الٰہی پر جینے اور مرنے کا حکم ہے اور شرک سے بیزاری ہے۔ ظاہری باطنی نظافت اور طہارت ہے، مہمانی ہے، قربانی ہے اللہ کی عبادت ہے اور فرمانبر داری ہے۔ انابت الی اللہ ہے صحیح انسانیت کی تعلیم ہے ان کی ملت کا اتباع کرنے کا رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا۔ سورة نحل میں ارشاد ہے۔
(ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ )
” پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کی ملت کا اتباع کیجئے جو باطل دینوں کو چھوڑ کر حق ہی کی راہ پر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔ “
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عمل اتمام کلمات اور ان کو لوگوں کا پیشوا بنانے کے اعلان، اور ان کے کعبہ بنانے اور قبولیت کی دعائیں کرنے اور اپنی نسل میں سے نبی آخر الزماں کی بعثت کی دعا مانگنے کا تذکرہ کرنے کے بعد ارشاد ہو رہا ہے کہ ملت ابراہیمی سے وہی شخص بےرغبت ہوسکتا ہے اور ان کی ملت سے وہی رو گردانی کرسکتا ہے جو عقل سے کو را ہو اور جس نے اپنے نفس کو بالکل ہی احمق بنا دیا ہو، کوئی سلیم الفطرت عقل مند انسان ان کی ملت سے انکاری نہیں ہوسکتا۔
ملت ابراہیمی اس وقت ملت محمدیہ میں منحصر ہے اور آنحضرت سرور عالم ﷺ ہی اس کے داعی ہیں۔ جو لوگ اس سے بیزار ہیں وہ لوگ مشرک، بت پرست، بےحیا، بےشرم، بداخلاق، بداعمال، دھوکے باز اور زمین میں فساد کرنے والے اور قوموں کو لڑانے والے ہیں اور جس قدر بھی دنیا میں قبائح اور خراب کام ہیں سب انہیں لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو ملت ابراہیم سے ہٹے ہوئے ہیں (گو کمزور ایمان والے مسلمانوں میں بھی معاصی ہیں لیکن اول تو انہیں گناہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں اور دوسرے توبہ کرتے رہتے ہیں اور ہر حال میں گناہ بھی حماقت ہی سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورة نساء میں فرمایا (اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَھَالَۃٍ ) (الایہ) مسلمین اہل المعاصی کی حماقت ان لوگوں کی حماقت سے بہت زیادہ کم ہے جو کفر و شرک پر جمے ہوئے ہیں اور ملت ابراہیمی کو قبول کرنے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔
یہ بتانے کے بعد کہ ابراہیم کی ملت سے وہی رو گردانی کریگا جس نے اپنی جان کو بیوقوف بنادیاہو یہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چن لیا اور برگزیدہ بنالیا۔ دنیا میں ان کی فضیلت اور برتری سب پر ظاہر ہے سب قومیں ان کی فضیلت کی قائل ہیں اور ان کے بعد جو بھی کوئی نبی آیا ہے انہیں کی نسل اور ذریت میں سے آیا ہے اور سب ان کو مانتے ہیں اور ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کو دشمن نے آگ میں ڈالا، اللہ تعالیٰ نے وہ آگ ان کے لیے گلزار بنا دی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کعبہ تعمیر کرایا اس وقت سے لے کر آج تک کعبہ شریف کا حج ہوتا ہے۔ اور ان کو جو مناسک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بتائے تھے۔ ان پر برابر عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے جو بیٹے کی قربانی کی تھی اس قربانی کے اتباع میں کروڑوں قربانیاں ہر سال پورے عالم میں ہوتی ہیں۔ درود ابراہیمی میں ان کا ذکر ہے۔ امت محمدیہ جس کا نام انہوں نے مسلمین رکھا تھا (کمافی سورة الحج) وہ ان کی ملت کی اتباع کرنے والی ہے اور ان کی یاد گار ہے۔ پھر فرمایا : (وَ اِنَّہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے) ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے کہ وہ ثابت قدم صاحب استقامت اور خیر اور صلاح سے متصف ہونے والوں میں شمار ہوں گے۔ وہاں بھی ان کی رفعت ہوگی جیسا کہ دنیا میں ان کی فضیلت مشہور و معروف ہوئی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
(ای المشھودلھم باثبات علی الاستقامۃ والخیر والصلاح) اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں :
و ذلک من حیث المعنی دلیل مبین لکون الراغب عن ملۃ ابراھیم سفیھا اذ الاصطفاء والعز فی الدنیا غایۃ المطالب الدنیویۃ والصلاح جامع للکمالات الاخرویۃ ولا مقصد للانسان الغیر السفیہ سوی خیر الدارین
یعنی ان کی خیر و صلاح اور ثبات علی الاستقامتہ میں اس امر کی واضح دلیل ہے کہ جو شخص ملت ابراہیمی سے منحرف ہوا وہ واقعی بیوقوف ہے۔ اس لیے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ بننا اور معزز ہونا دنیاوی مطلوبات کا آخری مقام ہے اور صلاح کمالات اخرویہ کو جامع ہے اور سمجھ دار آدمی کے لیے دونوں جہان کی خیر سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں (نا سمجھ یعنی بیوقوف ہی ان مقاصد عالیہ سے منحرف ہوسکتا ہے) ۔
Ayah 2:131اسلام کا معنی اور مفہوم :
پھر فرمایا : (اِذْ قَالَ لَہٗ رَبُّہٗٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) (یعنی جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ فرمانبر دار ہوجا تو انہوں نے عرض کیا میں رب العالمین کا فرمانبر دار ہوں) ۔
لفظ اسلام کا مادہ سین۔ لام۔ میم ہے۔ جب یہ مادہ باب افعال میں مستعمل ہوتا ہے تو حکم ماننے فرمانبرداری کرنے اور حکم کے سامنے جھک جانے اور ظاہر و باطن سے فرمانبر دار ہوجانے پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا صیغہ اسم فاعل مسلم ہے جس کی جمع مسلمون اور مسلمین ہے۔ اللہ جل شانہ خالق اور مالک ہیں سب اس کے بندے ہیں۔ بندہ اپنے خالق کا فرمانبر دار ہو اس سے بڑھ کر اس کی کوئی سعادت نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ ( علیہ السلام) کعبہ شریف بناتے ہوئے یہ دعا کرتے جا رہے تھے۔ (رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلَمِیْنِ لَکَ ) (کہ اے ہمارے پروردگار تو ہم کو ان لوگوں سے بنا دے جو تیرے فرمانبر دار ہیں) اور ساتھ ہی یہ بھی دعا کی (وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ ) (کہ ہماری ذریت میں سے بھی ایک امت مسلمہ بنا دے) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنے رب کے مطیع اور فرمانبر دار ہوجاؤ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے رب کا فرمانبر دار ہوں۔ فرمانبر دار تو وہ تھے ہی فرمانبرداری پر ثابت قدم رہنے کے لیے حکم ہوا اور انہوں نے ہمیشہ فرمانبر دار رہنے کا اقرار کیا اور یہ بتادیا کہ میں ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا فرمانبردار ہوں لفظ (اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) کہہ کر یہ بات ظاہر کردی کہ چونکہ وہ رب العالمین ہے اس لیے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری لازم ہے جو اس کی اطاعت اور فرمانبر داری کرے گا وہ اپنے مخلوق ہونے کا فرض منصبی ادا کریگا۔ سورة انعام میں فرمایا :
(قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) سورة آل عمران میں فرمایا : (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا وَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ )
” کیا اللہ کے دین کے سوا دوسرا دین چاہتے ہیں حالانکہ اس کے لیے سب فرمانبر داری کے ساتھ جھکے ہوئے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور سب اس کی طرف لوٹیں گے۔ “
ساری مخلوق پر لازم ہے کہ اپنے خالق ومالک کی اطاعت کریں۔ حضرت ابراہیم نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام امتحانات میں کامیاب ہوئے ہر مرحلہ سے گزرتے گئے۔ اور اطاعت و فرمانبر داری ہی کو اختیار کئے رہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ وہ سارے انسانوں کو اللہ تعالیٰ شانہ، کی فرمانبر داری کی طرف بلائیں۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین اسلام تھا۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانیں اور شرک سے بیزار ہوں اور احکام الٰہیہ کی تعمیل کریں اور ہر طرح سے فرمانبر دار ہوں۔ گواحکام فرعیہ میں اختلاف بھی رہا لیکن اصول میں سب متحد اور متفق تھے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الانبیاء اخوۃ من علات و امھاتم شتی و دینھم واحد۔ (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوۃ ص 509)
ان کی اپنی اپنی زبانوں میں اس دین کے لیے جو بھی لفظ اختیار کیا گیا ہو ہمارے رسول حضرت خاتم النّبیین محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ عربی تھے اور ان پر کتاب بھی عربی میں نازل ہوئی اس لیے لفظی اور معنوی طور پر ان کے دین کا نام اسلام ہی ہے اور یہ لفظ جہاں فرمانبرداری کے معنی دیتا ہے وہاں اپنے مادہ کے اعتبار سے اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ حقیقی سلامتی دین اسلام ہی میں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے قیصر روم کو جو اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تھا اس میں تحریر فرمایا تھا۔ (اَسْلِمْ تَسْلِمْ یُؤْتِکَ اللّٰہُ اَجْرَکَ مَرَّتَیْنِ ) تو اسلام قبول کر سلامت رہے گا اللہ تعالیٰ تجھے دو ہرا اجر عطا فرمائے گا۔ (صحیح بخاری ص 5 ج 1)
حضرت ابراہیم واسمٰعیل ( علیہ السلام) نے جو امت مسلمہ کے لیے دعا کی اس کی قبولیت کا مظاہرہ اس طرح ہوا کہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ وجود میں آگئی اور اس امت کے اعیان و اشخاص وا فراد کا نام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ” مسلمین “ رکھ دیا تھا (حیث قال فی دعاۂ امۃ مسلمۃ لک)
سیدنا حضرت محمد رسول اللہ کے دین کا نام اسلام ہے دعوت بھی فرمانبر داری کی ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا۔ اور تم پر اپنا انعام پورا کردیا۔ اور میں نے اسلام کو دین کے اعتبار سے تمہارے لیے پسند کرلیا) اور فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (کہ بلاشبہ دین اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے) اور فرمایا (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور جو اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ اس سے قبول نہ ہوگا۔ اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا) پس مسلمانوں کا دین لفظاً و معنیً سراپا اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری ہے۔ زندگی کے آخری لمحات تک فرمانبر دار رہنے کا حکم ہے۔ سورة آل عمران میں فرمایا :
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) ” اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے اور بجز اسلام کے اور کسی حالت میں نہ مرنا۔ “
معلوم ہوگیا کہ مسلمان کا کام بس یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے۔ بغیر چون وچرا اللہ تعالیٰ کے دین پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل پیرا ہو۔ اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے کیونکہ رسول اللہ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ (مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدَ اَطَاع اللّٰہَ ) بہت سے لوگ اپنے دعوی میں تو مسلمان ہیں لیکن دل سے مسلمان نہیں۔ وہ اپنی عقل سے اسلام کی باتوں کو رد کرتے ہیں اور دشمنان اسلام کی صحبتوں سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراض کرتے ہیں اور بہت سے لوگ اسلام کو اپنے نظریات کے تابع بنانا چاہتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ حقائق ایمانیہ کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام والے نہیں (اگر چہ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں) ایسے لوگ ملت ابراہیمیہ سے منحرف ہیں۔
دین اسلام کے علاوہ ہر دین مردود ہے :
شاید کوئی ناسمجھ یہ اعتراض کرے کہ جب خالق ومالک کی فرمانبرداری ہی مطلوب ہے تو دین اسلام قبول کرنے کی ضرورت کیا ہے جس دین پر بھی کوئی شخص ہو اور اس دین میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے تو مقصود حاصل ہوگیا اور وہ مستحق نجات ہوگا۔ اس جاہلانہ سوال کا جواب یہ ہے کہ خالق مالک نے اسی کو فرمانبردار قرار دیا ہے جو اس کے بھیجے ہوئے دین کے مطابق اس کی فرمانبرداری کرے۔ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنے اپنے زمانہ میں آتے رہے۔ ان پر ایمان لانا فرض تھا اور ان کی کتابوں اور صحیفوں پر بھی ایمان لانا فرض تھا اور قیامت پر ایمان لانا بھی ان تفصیلات کے ساتھ فرض تھا جو انہوں نے بتائیں اللہ کے کسی نبی سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری اللہ کے یہاں معتبر نہیں ہے۔ کسی بھی نبی کا انکار اور اللہ کی کسی کتاب کا انکار کفر ہے، سب سے بڑی نافرمانی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کوئی عبادت اور کوئی فرمانبرداری معتبر نہیں۔ سب سے آخر میں خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی کتاب پر ایمان لانا ہر انسان پر فرض ہے جو شخص آپ کے لائے ہوئے دین سے اور آپ کی لائی ہوئی کتاب سے اور آپ کی نبوت اور رسالت سے منحرف ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کا باغی اور نافرمان ہوگا۔ لہٰذا اس کی نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہیں۔ اس بارے میں آیات قرآنیہ ہم گزشتہ صفحہ پر پیش کرچکے ہیں۔
اسلام کے علاوہ دنیا میں جتنے مذاہب ہیں کفر تو ان سبھی میں ہے اور ان میں اکثر مشرکین ہیں اور بہت بڑی بھاری تعداد میں وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں یہ سب کیسے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوسکتے ہیں ؟ پھر ان لوگوں میں بےشرمی، بےحیائی، سود خوری، رشوت ستانی اور زنا کاری اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ یہ کسی بھی طرح فرمانبرداری کے دائرہ میں نہیں آسکتے۔ ہندوؤں اور بد ہسٹوں کے پیشوا تو لنگوٹی باندھے ہوئے عام مخلوق کے سامنے آجاتے ہیں۔ یورپ اور امریکا کے لوگ اور ان کی تقلید کرنے والے جہاں کہیں بھی ہیں حتیٰ کہ ان کے مذہبی مقتدا اور سیاسی زعماء بد اعمالی اور بد کرداری میں لت پت ہیں۔ ان لوگوں کو خداوند قدوس کی فرمانبرداری سے دور کا بھی واسطہ نہیں جس قوم میں زنا کاری عام ہو اور ان کے عقیدہ میں اتوار کے دن چرچ میں پوپ کے معاف کردینے سے گناہ معاف ہوجاتے ہوں اور چھوٹے پوپ کے گناہ بڑا پوپ معاف کردیتا ہو وہ خداوند قدوس کے حکم کے فرمانبردار نہیں ہوسکتے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب اور انجیل شریف کی تحریف کی اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نہ صرف یہ کہ ایمان نہ لائے بلکہ آپ کی ذات گرامی پر اعتراضات کئے اور کرتے رہے اور کرتے ہیں۔ ایسے لوگ خداوند قدوس کے نافرمان اور سراپا نافرمان ہیں ان میں جو کوئی شخص راہب ہے اور اپنے خیال میں خداوند قدوس کی عبادت کرتا ہے۔ اس کی رہبانیت اور عبادت سب بےکار ہے اور ضائع ہے، بھسم ہے اور راکھ کا ڈھیر ہے۔
Ayahs 2:132–133ملت ابراہیمی کی وصیت
یعنی ملت ابراہیمیہ کی وصیت کی ابراہیم (علیہ السلام) نے اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اپنے بیٹوں کو اور انہوں نے فرمایا کہ اے بیٹو ! تمہارے لیے اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمیہ کو منتخب فرما دیا ہے۔ جس میں اخلاص ہے اور احکام الہیہ کا انقیاد ہے اور سراپا فرمانبرداری ہے۔ اس دین کو کبھی بھی مت چھوڑنا، مرتے وقت اور زندگی کے آخری لمحات تک اسی پر قائم رہنا کہ تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہو۔ علامہ واحدی اسباب النزول میں لکھتے ہیں کہ یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یعقوب نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی تھی کہ تم یہودیت پر قائم رہنا اور ان کی اس بات کی تردید میں آیت بالا نازل ہوئی کہ تم لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرف یہ بات کیسے منسوب کرتے ہو کہ انہوں نے موت کے وقت یہودیت کی وصیت کی تھی کیا تم ان کی موت کے وقت ان کے پاس موجود تھے ؟ ان کی موت کے سینکڑوں سال کے بعد تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی جن کے دین کو تم یہودیت سے تعبیر کرتے ہو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کو بھی صدیاں گزر گئیں۔
اب تم یہ کہہ رہے ہو کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یہودیت کی وصیت کی تھی تمہارے پاس تمہارے دعویٰ کی نہ کوئی دلیل ہے نہ کوئی گواہ ہے اور یہودیت ان کے زمانہ میں تھی بھی نہیں پھر انہوں نے بیٹوں کو کیسے اس کی وصیت کردی۔ ؟ انہوں نے توحید کی وصیت کی جس پر ملت ابراہیمیہ مشتمل ہے اور جو ملت ابراہیمیہ کا رکن اعظم ہے ان کے بیٹے سراپا مطیع اور فرمانبردار تھے اور توحید خالص ان کا دین تھا جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد کس کی عبادت کرو گے تو ان سب نے جواب میں کہا کہ ہم اسی ذات پاک کی عبادت کریں گے جو آپ کا معبود اور آپ کے باپ دادوں یعنی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کا معبود ہے۔ اور معبود صرف وہی ایک ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں اور طاعت گزار ہیں اور ہم اسی دین پر رہیں گے اور مریں گے۔ درحقیقت جب عصبیت جاہلیہ کسی فرد یا قوم یا جماعت کے دلوں میں جگہ پکڑ لے تو حق اور ناحق کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ایسے لوگ صرف اپنے نفسانی عقائد و اعمال کے پیچھے چلتے ہیں۔ تدبر اور تفکر سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کہاں ابراہیم اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) کا دین جو توحید الٰہی پر مشتمل تھا اور جس میں سراپا خاوند قدوس کی فرمانبرداری تھی اور کہاں یہودیوں کا وہ دین جس پر وہ خاتم النبیین ﷺ کے زمانہ میں تھے جس میں حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں ابن اللہ ہونے کا عقیدہ بھی تھا اور جس میں حق کا چھپانا بھی تھا اور جس میں حضرت عیسیٰ رسول اللہ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب اور توریت شریف کی تحریف اور رشوت خوری اور سود خوری تھی جو آج تک بھی یہودیوں کے اندر باقی ہے۔
فائدہ : (1) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے اسماعیل اور دوسرے بیٹے اسحاق تھے اور یعقوب اسحاق کے بیٹے تھے۔ اسماعیل یعقوب کے والد نہ تھے پھر بھی ان کے آباء کے عموم میں شامل فرمایا، مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے یہ معلوم ہوا کہ چچا پر بھی باپ کا اطلاق کرنا جائز ہے۔ تفسیر روح المعانی میں مصنف ابن ابی شیبہ سے حدیث مرفوع نقل کی ہے : واحفظونی فی العباس فاتہ بقیۃ آبائی (ص 351 ج 1) کہ تم عباس کے بارے میں میرے تعلقات کی حفاظت کرو کیونکہ وہ میرے آباء کا بقیہ ہیں۔
فائدہ : (2) حضرت ابراہیم اور یعقوب (علیہ السلام) کی وصیت سے معلوم ہوا کہ مسلمان کو جہاں اپنے دین کے لیے فکر مند ہونا ضروری ہے۔ وہاں یہ بھی لازم ہے کہ اپنی اولاد اور آنے والی نسلوں کے لیے اس بات کا فکر مند ہو کہ وہ توحید پر قائم رہیں اور دین اسلام پر جئیں اور ہمیشہ اللہ کے فرمانبردار رہیں۔ برخلاف اس کے اپنی اولاد کو ایسے ممالک میں بھیجنا یا لے جانا جہاں وہ دین خداوندی پر باقی نہ رہ سکیں یا ایسی درسگاہوں میں ان کو علم پڑھانا جہاں وہ اپنے دین کو کھو بیٹھیں یہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ جو لوگ اپنے نماز روزے کا خیال کرتے ہیں اور اولاد کو کفر اور فسق و فجور کے ماحول میں دھکیل دیتے ہیں اور وہ اس ماحول کو ان کے لیے ترقی سمجھتے ہیں وہ بڑے ظالم ہیں۔
Ayahs 2:134–135یہودیوں کے اس غرور کا جواب کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں
یہودیوں کو اس بات پر غرور تھا اور اب بھی ہے کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں اور ان کے نسل اور نسب میں ہونے کی وجہ سے ہم عذاب سے بچ جائیں گے۔ اس آیت میں صاف صاف اس بات کی تصریح فرما دی کہ وہ حضرات اپنے اپنے عقائد اور اعمال لے کر دنیا سے چلے گئے انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے ساتھ ہے ان کے اعمال صالحہ ان کے کام آئیں گے اور تم نے جو کچھ کیا وہ تمہارے ساتھ ہے ان کے اعمال میں سے کوئی حصہ تمہیں نہ ملے گا۔ دوسروں کے اعمال کی وجہ سے خواہ مخواہ آس لگائے بیٹھے ہو جبکہ یہ آس اور امید قانون خداوندی کے خلاف ہے، تم اپنے عقائد اور اعمال اور کفر و ایمان کو دیکھو تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ ملے گا۔ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرتے ہو انجیل اور قرآن کو نہیں مانتے پھر بھی نجات کی امید لگائے ہوئے ہو۔ یہ بہت بڑی جہالت ہے وہ حضرات سابقین جن سے تم انتساب رکھتے ہو ان کے اعمال کی تم سے پوچھ تک نہ ہوگی اور نہ ان کا ذکر تمہارے سامنے آئے گا ان کے اعمال کا تمہیں نفع پہنچنا تو دور کی بات ہے۔
امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں بھی بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو سید زادے، پیر زادے ہونے پر گھمنڈ کیے ہوئے ہیں تارک فرائض ہیں۔ مرتکب منہیات و محرمات ہیں۔ بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہیں لیکن وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کی نسل اور نسب میں ہونے کی وجہ سے بخش دیئے جائیں گے اور بہت سے جعلی جھوٹے دنیا دار پیروں نے اپنے عوام کو یہ دھوکہ دے رکھا ہے کہ تم ہمارے جھنڈے کے نیچے ہو گے جس نے ہم سے بیعت کرلی بس وہ بخشا بخشایا ہے یہ سب فریب ہے گمراہی ہے۔ قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔ (صحیح بخاری ص 702 ج 2) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کو اور اپنے اعزہ و اقربا کو پکارا۔ سب کو حق کی دعوت دی اور عمومی اور خصوصی خطاب فرمایا اس خطاب میں یہ بھی تھا کہ اے عباس بن عبدالمطلب میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، اور اے صفیہ رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا اور اے فاطمہ بنت محمد ﷺ میرے مال سے جو چاہو سوال کرو میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔
مطلب یہ ہے کہ اپنا دین و ایمان اور عمل صالح اللہ کے ہاں کام آئے گا۔ جو مومن نہ ہوگا اس کو میری رشتہ داری کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ جب آنحضرت ﷺ نے اپنی رشتہ داری کے بارے میں ایسا فرما دیا تو دوسروں کی کیا مجال ہے کہ وہ نسب کی بنیاد پر بخشے جانے کی امید رکھیں۔
صحیح مسلم میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
من بطأبہ عملہ لم یسرع بہٖ نسبہ۔ یعنی جس کا عمل دیر لگائے گا اس کا نسب جلدی کر کے آگے نہیں بڑھا دے گا۔ (ص 345)
Ayah 2:136اللہ کے تمام نبیوں اور تمام کتابوں پر ایمان لانے کا حکم
تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن اسحاق و ابن جریر وغیر ھما حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن صوریا اعور (یہودی) نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہدایت صرف وہی ہے جس پر ہم ہیں لہٰذا تم ہمارا اتباع کرو۔ ہدایت پا جاؤ گے۔ اور نصاری نے بھی اسی طرح کی بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے آیت (وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی تَھْتَدُوْا) (الآیۃ) نازل فرمائی۔ (ص 140 ج 1)
مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے دین کو ہدایت بتایا اور اس کی دعوت دی اور نصاری نے اپنے دین کو ہدایت بتایا اور اس کی دعوت دی اللہ جل شانہ نے ان کی تردید فرمائی کہ تم ہدایت پر نہیں ہو تم اپنے اپنے دین کو چھوڑو اور ابراہیم حنیف کے دین کو اختیار کرو جس کے داعی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ان کے دین کا عالم اور شارح اور داعی آپ کے سوا کوئی نہیں ہے ان کے دین میں توحید ہے حق پر استقامت ہے۔ قربانی ہے ایثار ہے۔ اخلاص ہے اور تم میں سے کوئی بھی ملت ابراہیم کا متبع نہیں ہے۔ دین حق میں اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرض ہے کہ اس کی ساری کتابوں اور اس کے سارے نبیوں پر ایمان لایا جائے اور ایمان لانے میں کوئی تفریق نہ کی جائے۔ اگر کسی ایک نبی کو بھی نبی نہ مانا تو سب کی تکذیب لازم آئے گی۔ اس صورت میں ہدایت پر ہونے کا دعوی غلط ہے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو نہیں مانا اور یہود و نصاری دونوں قوموں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رسالت کا انکار کیا قرآن کو نہیں مانا پھر ہدایت پر کیسے ہوسکتے ہیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خصوصی وصف لفظ حنیفاً میں بیان فرمایا اور یہ قرآن مجید میں کئی جگہ ان کے حق میں استعمال ہوا ہے اس کا مادہ ح نہے۔ امام راغب لکھتے ہیں : الحنف ھو المیل عن الضلال الی الاستقامۃ والحنیف ھو المائل الی ذلک۔ (ص 123) یعنی حنف یہ ہے کہ گمراہی سے ہٹتے ہوئے حق پر استقامت ہو۔ اور حنیف وہ ہے جس میں یہ صفت پائی جائے۔ تفسیر در منثور ص 140 ج 1 میں مسند احمد اور الادب المفرد (للبخاری) سے نقل کیا ہے کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کو کون سا دین پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا الحنیفیۃ السمحۃ یعنی وہ دین اللہ کو محبوب ہے جس میں باطل سے بچتے ہوئے حق کو اپنایا گیا ہو اور جس پر عمل کرنے میں دشواری نہیں ہے (اس سے دین اسلام مراد ہے) ۔
حنیفاً کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دوسری صفت بیان فرمائی یعنی (وَمَاکَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) ان کی یہ صفت دوسری آیت میں بھی ان الفاظ میں مذکور ہے۔ اس میں صاف اور واضح طور پر بتادیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) مشرک نہیں تھے۔ جو بھی کوئی جماعت یا فرد مشرک ہوگا وہ دین ابراہیمی پر نہیں ہوسکتا مشرکین مکہ بھی اس بات کے مدعی تھے کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں ان کے اندر ختنہ کرنا، حج کرنا اور مہمان نوازی کرنا باقی تھا لیکن ساتھ ہی مشرک بھی تھے۔ حج کے تلبیہ میں بھی شرک کے الفاظ بڑھا رکھے تھے اور کعبہ شریف میں بت بھر رکھے تھے اور یہود و نصاریٰ نے بھی شرک اختیار کر رکھا ہے عزیر اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ ملت ابراہیم کا اتباع کرو اور ان کی ملت میں سب سے پہلی بنیادی بات یہ ہے کہ توحید کے اقراری ہوں اور شرک کے انکاری ہوں۔
مذکورہ بالا آیت میں لفظ الاسباط جو آیا ہے یہ سبط کی جمع ہے اس سے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔ ان میں سب تو نبی تھے لیکن ایک بڑی تعداد میں ان میں انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے اسی کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
(اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّ اٰتٰیکُمْ مَّالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ )
(ذکرہ و حکایۃ عن موسیٰ (علیہ السلام) فی سورة المائدہ)
مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بعد بجز سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے جتنے بھی نبی آئے سب انہی کی اولاد میں سے تھے۔ اور وہ حضرت اسحاق کے بیٹے تھے۔ (صلوات اللہ علیہم اجمعین) امت محمدیہ الحمد للہ اللہ کے تمام نبیوں پر اور اس کی ساری کتابوں پر ایمان رکھتی ہے سب کا ادب سے نام لیتے ہیں اور اس میں کسی قسم کے عصبیت نہیں ہے۔ باوجودیکہ یہود و نصاریٰ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں بےجا باتیں کرتے ہیں لیکن مسلمان کبھی بھی الٹ کر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں کوئی ناروا کلمہ نہ کہتے ہیں اور نہ کہہ سکتے ہیں اگر ایسا کریں گے تو ان کا ایمان جاتا رہے گا۔
Ayah 2:137اگر دشمنان دین اسلام نہ لائیں تو وہ مخالفت ہی پر تلے ہوئے ہیں
اس آیت میں مسلمانوں سے خطاب ہے اور حضور اقدس ﷺ کو تسلی بھی ہے، ارشاد ہے کہ اپنے اپنے دین کو ہدایت پر بتانے والے اگر اسی طرح کے مومن ہوجائیں جس طرح کے تم مومن ہو اور ان سب چیزوں پر ایمان لائیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے اور اگر وہ اعراض کریں اور اس ایمان سے رو گردانی کریں جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے اور جسے تم پیش کرتے ہو تو سمجھ لو کہ ان کو خواہ مخواہ ضد ہے حق قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں اور انہوں نے حق کی مخالفت پر کمر باندھی ہوئی ہے تھوڑا سا موقع ان کو مل رہا ہے۔ اے نبی ﷺ اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری طرف سے کفایت فرمائے گا اور ان کے شر اور مکرو کید سے مستقل طریقہ پر تمہیں چھٹکارہ اور خلاصی دے گا۔ وہ ذلیل ہوں گے خوار ہوں گے دنیا و آخرت کی سزا میں مبتلا ہوں گے اللہ تعالیٰ سمیع ہے وہ ان کی سب باتیں سنتا ہے اور علیم بھی ہے جو ان کی سب باتوں کو جانتا ہے۔
Ayah 2:138ہم کو اللہ تعالیٰ نے رنگ دیا ہے
علامہ واحدی نے اسباب النزول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نصاری کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کا کوئی بچہ سات دن کا ہوجاتا تھا تو اسے پانی میں رنگ دیتے تھے اور اس پانی کو معمودی کہتے تھے۔ مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح سے اسے پاک کردیں۔ اور (چونکہ ختنہ نہیں کرتے تھے) اس لیے کہتے تھے کہ یہ عمل ختنہ کی جگہ ہے جس سے طہارت حاصل ہوگئی جب یہ کام کرلیتے تھے تو یہ سمجھتے تھے کہ اب پکا نصرانی ہوگیا۔ اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور بتادیا کہ صحیح رنگ وہی ہے جس رنگ میں اللہ نے اپنے مومن بندوں کو رنگ دیا۔ اصل رنگ
1 ترجمہ علی ان ” مثل “ زائدۃ کما فی تفسیر الجلالین 12 قال صاحب معالم التنزیل ای بما أمنتم بہ و کذلک کان یقرء ھا ابن عباس و المثل صلۃ قولہ تعالیٰ لیس کمثلہ شیء ای لیس ھو کشیء و قیل معناہ فان اٰمنوا بجمیع ما آمنتم بہ أی اتوا بایمان کا یمانکم و توحید کتوحید کم، وقیل معناہ فان امنوا مثل ما آمنتم والباء زائدہ۔
ایمان کا رنگ ہے اور اعمال صالحہ کا رنگ ہے۔ اور اللہ کے علاوہ وہ کون ہے جس کے رنگ دینے کی حالت اللہ تعالیٰ کے رنگ دینے کی حالت سے اچھی ہو۔ حاصل یہ ہے کہ مومن بندے اعلان کردیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان رچا دیا اور اعمال صالحہ سے ہم کو آراستہ فرما دیا، ایمان اور اعمال صالحہ پر ہم کو جو استقامت بخشی ہے ہمارا رنگ یہی ہے اور اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ہم ایمان اور اعمال صالحہ کے رنگ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں اس سے اچھا کوئی رنگ نہیں اللہ نے ہمیں رنگ دیا ہے اور ہم اس رنگ میں خوش ہیں۔ ہم اللہ کی توحید پر جیتے اور مرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبر دار اور مطیع ہیں۔ صاحب تفسیر جلا لین فرماتے ہیں۔ صبغۃ اللّٰہ مصدر مؤکد بامنا و نصبہ بفعل مقدر أی صبغنا اللہ والمراد بھا دینہ الذی فطر الناس علیھا لظھور اثرہ علی صاحبہ کالصبغ۔
نصرانی معمودی نام کے پانی میں رنگنے سے اپنے بچوں کو اپنے باطل خیال میں پاک کرتے تھے اور اب بھی جس کو نصرانی بناتے ہیں بپتسمہ دیتے ہیں اور خاص پانی میں نہلاتے ہیں، کفر کے ساتھ باطن پاک ہو ہی نہیں سکتا، ظاہری پانی تطہیر باطن کا کام دینے والا نہیں ہے۔
آیت شریفہ میں مومنین کو ایمان پر استقامت کا حکم بھی ہوگیا اور نصاری کو تردید بھی ہوگئی۔
Ayah 2:139اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے
رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ یہود و نصاری سے فرمادیں کہ تم ہم سے اللہ کے دین کے بارے میں جو حجت بازی کرتے ہو اور کہتے ہو کہ جو دین اللہ کو پسند ہے وہ یہودیت اور نصرانیت ہے۔ تمہارا یہ کہنا اور اپنے خیال کے مطابق جنت میں داخل ہونے کے خواب دیکھنا غلط ہے۔ وہ ہمارا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے سب کو اسے راضی کرنے کے لیے فکر مند ہونا لازم ہے اور اس نے جس دین اور جس ملت کو جس زمانہ میں ذریعہ نجات بنایا اسی کو اختیار کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے عرب میں سے ایک نبی کو چن لیا۔ اسی نبی پر ایمان لانا فرض ہے تم ایمان نہیں لاتے اور ہم سے جھگڑتے ہو۔ ہم سے جھگڑنا فضول ہے ہمیں اپنے ایمان اور اعمال حسنہ کا اجر ملے گا تمہیں تمہارے کفر اور تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کی مخالفت کی سزا ملے گی۔ ہم تو اللہ کے لیے مخلص ہیں اپنے اعمال کے ذریعہ صرف اسی کی رضا چاہتے ہیں۔ قال صاحب الروح قل اتحاجوننا تجرید الخطاب للنبی ﷺ لما أن المامور بہ من الوظائف الخاصۃ بہ (علیہ السلام) والھمزۃ للانکار، فی اللہ ای فی دینہ و تدعون ان دینہ الحق الیھودیۃ والنصرانیۃ و تبنون دخول الجنۃ والاھتداء علیھما وقیل : المراد فی شان اللہ تعالیٰ و اصطفاۂ نبیا من العرب دونکم بناء علی ان الخطاب لاھل الکتاب، وسوق النظم یقتضی ان تفسر المحاجۃ بما یختص بھم، والمحاجۃ فی الدین لیست کذلک الی آخر ما قال)
Ayah 2:140یہود و نصاری کے اس قول کی تردید کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب یہودی یا نصرانی تھے
یہودی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم و اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد جن کو اللہ نے نبوت سے سر فراز فرمایا یہودی تھے۔ اور نصاری کہتے تھے کہ یہ حضرات نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان لوگوں کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ یہ حضرات ملت ابراہیمی پر تھے یہودیت اور نصرانیت اور توریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہیں جن سے تم اپنا جوڑ لگاتے ہو پھر ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے اور پوتے یہودیت اور نصرانیت اور توریت پر کیسے ہوسکتے ہیں تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ تعالیٰ کو زیادہ علم ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا عالم ہے اسی کو صحیح علم ہے تم جہاں حضرت ابراہیم اور اسمٰعیل، اسحاق اور یعقوب اور ان کے اسباط کے بارے میں غلط بات کہتے ہو اور ان کو یہودیت اور نصرانیت پر بتلاتے ہو وہاں اس شہادت اور گواہی کو بھی چھپاتے ہو جو اللہ کی طرف سے تمہارے پاس پہنچی۔ اور وہ شہادت یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے موحد تھے مشرک نہیں تھے یہودی اور نصرانی نہیں تھے۔
سورۃ آل عمران میں فرمایا : (یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ مَآ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰیۃُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْ بَعْدِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْن ھٰٓاَنْتُمْ ھآؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہٖ عِلْمٌ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) ” اے اہل کتاب کیوں حجت کرتے ہو ابراہیم کے بارے میں حالانکہ نہیں نازل کی گئی تورات اور انجیل مگر ان کے بعد، کیا پھر سمجھتے نہیں ہو۔ ہاں تم ایسے ہو کہ ایسی بات میں تو حجت کر ہی چکے تھے جس سے تم کو کسی قدر تو واقفیت تھی سو ایسی باتوں میں کیوں حجت کرتے ہو جس سے تم کو اصلاً واقفیت نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے لیکن طریق مستقیم والے صاحب اسلام تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔ “
آیت شریفہ کے عموم میں جہاں اس شہادت کے چھپانے کو بڑا ظلم بتایا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں تھی وہاں یہودیوں کی اس بدباطنی کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس گواہی کو چھپا رکھا تھا جو تورات اور انجیل میں حضرت رسول کریم ﷺ کی بعثت اور نبوت و رسالت کے بارے میں موجود تھی۔
قال فی الروح ص 400 ج 1 و فی اطلاق الشھادۃ مع ان المراد بھا ما تقدم من الشھادۃ المعینۃ تعریض بکتما نھم شھادۃ اللہ تعالیٰ لنبیہ محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فی التوراۃ والانجیل۔
Ayah 2:141نسب پر غرور کرنے والوں کو تنبیہ
یہ آیت مکر رہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہود کو دوبارہ متنبہ فرمایا ان کی طبیعتوں میں جو باپ دادوں پر فخر کرنا اور نسب پر بھروسہ کرنا مستحکم تھا اس کے نافع نہ ہونے پر دوبارہ بطور تاکید کے تنبیہ فرمائی اور بتادیا کہ اللہ تمہیں تمہارے اعمال پر جزا دے گا اور تمہارا باپ دادوں کا عمل تمہیں کچھ نفع نہ دے گا اور قیامت کے دن تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادے کیا عمل کرتے تھے (یعنی ان کے اعمال کا بالکل ذکر نہ ہوگا) بلکہ تم سے تمہارے اعمال کا سوال ہوگا اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ یہ آیت پہلے جو گزری ہے وہاں اہل کتاب کو خطاب تھا اور یہاں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ التحیہ کو تنبیہ ہے کہ تم لوگ یہود کی اقتدا نہ کرنا اور ان کی طرح سے آباؤ اجداد پر فخر نہ کرنا اور اپنے ذاتی اعمال کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔
Ayah 2:142تحویل قبلہ پر بیوقوفوں کا اعتراض اور ان کا جواب
تفسیر درمنثور ص 141 ج 1 میں بحوالہ ترمذی و نسائی وغیر ہم حضرت براء ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی اور آپ کا دل چاہتا تھا کہ کعبہ شریف کی طرف نماز پڑھیں۔ آپ آسمان کی طرف منہ اٹھاتے تھے (اور وحی کا انتظار کرتے تھے کہ کعبہ شریف کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوجائے) ۔ اللہ جل شانہ نے آیت (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ ) (الایۃ) نازل فرمائی اور کعبہ شریف کی طرف نماز میں رخ کرنے کا حکم فرما دیا اس پر بیوقوفوں نے یعنی یہودیوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ کس چیز نے اس قبلہ سے ان کا رخ پھیر دیا، جس پر یہ تھے (یعنی بیت المقدس کی طرف رخ کرنا چھوڑ کر کعبہ شریف کی طرف رخ کرنا کیوں شروع کیا) اللہ تعالیٰ نے (ایک کے جواب میں) (قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرقُ وَ الْمَغْرِبُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) نازل فرمائی۔ تفسیر درمنثور ص 142 ج 1 میں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے جو حکم قرآنی منسوخ ہوا وہ قبلہ کی منسوخیت تھی۔ رسول اللہ ﷺ (مدینہ منورہ تشریف لائے) تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے جو یہود کا قبلہ تھا۔ سترہ مہینے تک آپ نے اس طرف نماز پڑھی تاکہ یہود ایمان لے آئیں اور آپ کا اتباع کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت (وَ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌاور قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ ) نازل فرمائی۔
جب کعبہ شریف کو قبلہ مقرر کردیا گیا تو یہودیوں نے باتیں بنانا اور اعتراض کرنا شروع کیا اور کہنے لگے کہ (حضرت) محمد ( رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا جس کی طرف اب تک نماز پڑھتے رہے۔ اللہ جل شانہ کی طرف سے ارشاد ہوا۔ اے نبی آپ فرما دیں اللہ ہی کے لیے مشرق و مغرب ہے اسے اختیار ہے اپنے عبادت کرنے والوں کو جس طرف چاہے نماز پڑھنے کا حکم دیدے۔ کسی کو خداوند قدوس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے۔ مومن بندے اللہ کے قانون پر چلتے ہیں وہ اسی کے پابند ہیں۔ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا تو ادھر نماز پڑھنے لگے۔ کعبہ شریف کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہوا تو اسے قبلہ بنا لیا۔ قبلہ بدلنے پر اعتراض کرنا مسلمانوں پر اعتراض نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے۔ مقصد اللہ کی عبادت اور اطاعت ہے۔ کسی جہت یا کسی جانب کا رخ کرنا مقصود نہیں ہے۔ اور اسی لیے اعتراض کرنے والوں کو بیوقوف بتایا وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ ہمارا اعتراض کس پر ہو رہا ہے۔ معترض اندھا تو ہوتا ہی ہے اسے یہ ہوش نہیں ہوتا کہ میری بات کہاں لگے گی اور میرا اعتراض کہاں پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چلنا ہی صراط مستقیم کو اختیار کرنا ہے۔ اللہ کا ہر فرمان حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس نے اپنی حکمت کے موافق بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا۔ پھر حکمت ہی کے مطابق اپنے بندوں کا رخ کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو ہدایت دی اور ہدایت کے لیے چن لیا۔ ہدایت یافتہ بندے حکم کے پابند ہیں بےچون و چرا حکم پر عمل کرتے ہیں دشمنان اسلام صراط مستقیم سے دور ہیں اور اللہ کے حکم اور اس کی حکمت پر معترض ہیں ایسے معترضین کا بیوقوف ہونا ظاہر ہے۔ قال صاحب الروح ص 3 ج 2 کانہ قلیل ان التولیۃ المذکورۃ ھدایۃ یخص اللہ تعالیٰ بھا من یشاء ویختار من عبادہ۔ و قد خصنا بھا فلہ الحمد۔