2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآىِٕكُمْ ؕ— هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ— عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۚ— فَالْـٰٔنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۪— وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۪— ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ۚ— وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ— فِی الْمَسٰجِدِ ؕ— تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا ؕ— كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ۟اُحِلَّ لَـکُمۡ لَيۡلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمۡ‌ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّـكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّکُمۡ كُنۡتُمۡ تَخۡتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمۡ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ وَعَفَا عَنۡكُمۡۚ فَالۡــئٰنَ بَاشِرُوۡهُنَّ وَابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰهُ لَـكُمۡ وَكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَـكُمُ الۡخَـيۡطُ الۡاَبۡيَضُ مِنَ الۡخَـيۡطِ الۡاَسۡوَدِ مِنَ الۡفَجۡرِ‌ؕ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيۡلِ‌ۚ وَلَا تُبَاشِرُوۡهُنَّ وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى الۡمَسٰجِدِؕ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ فَلَا تَقۡرَبُوۡهَا ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

حلال کیا گیا تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں بیویوں میں مشغول ہونا، وہ لباس ہیں تمہارے لیے اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ بلاشبہ تم اپنے نفسوں کی خیانت کرتے ہو سو تمہاری توبہ قبول فرمائی اور تم کو معاف فرما دیا۔ سو اب ان سے میل ملاپ کرو، اور تلاش کرو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید تاگہ سیاہ تاگہ سے ممتاز ہو کر ظاہر ہوجائے۔ یعنی فجر کا تاگہ پھر تم روزے پورے کرو رات تک۔ بیویوں میں میل ملاپ نہ کرو اس حال میں کہ تم اعتکاف کئے ہوئے ہو مسجدوں میں۔ یہ اللہ کی حد بندیاں ہیں لہٰذا ان کے پاس نہ پھٹکو اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے اپنی آیات تاکہ لوگ پرہیزگار بنیں۔

تکملہ احکام صیام حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان فرمایا کہ روزوں کی فرضیت کے ابتدائی زمانہ میں (قانون کے مطابق) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ اس پر عمل کرتے تھے کہ جب کسی شخص کا روزہ ہوتا اور افطارکا وقت آجاتا اور وہ افطار سے پہلے ہوجاتا تو اب پوری رات اور اگلے پورے دن نہیں کھا سکتا تھا جب تک کہ شام نہ ہوجائے۔ اور یہ واقعہ پیش آیا کہ قیس بن صرمہ انصاری ؓ کا روزہ تھا افطار کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے ان سے کہا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے لیکن میں کہیں جا کر تمہارے لیے انتظام کرکے لاتی ہوں۔ انہوں نے دن بھر کام کیا تھا ابھی ان کی بیوی واپس نہ آئی تھی کہ ان کی آنکھ لگ گئی پس جب وہ آئیں اور ان کو دیکھا کہ وہ سو چکے ہیں تو کہنے لگیں ہائے تیری محرومی (کھانے کا وقت ختم ہوا اور کل کو روزہ بھی رکھنا ہے) انہوں نے اسی طرح (بغیر کھائے پیئے) روزہ رکھ لیا جب آدھا دن ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَام الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْ ) نازل فرمائی جس سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور آیت (وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری ص 256 ج 1) قال فی فتح الباری بعد ذکر الاختلاف فی اسم الصحابی الذی وقع لہ ذلک أنہ أبوقیس صرمۃ بن أبی أنس قیس بن مالک فمن قال قیس بن صرمہ قلبہ۔ سو جانے کے بعد رمضان المبارک میں جیسے کھانا پینا ممنوع ہوجاتا تھا اسی طرح بیویوں سے ہمبستر ہونا بھی ممنوع ہوجاتا تھا۔ صحابہ کو اس میں بہت دشواری پیش آئی۔ صحیح بخاری ص 647 ج 2 میں ہے کہ جب رمضان کے روزوں کا حکم ہوا تو (افطار کے بعد نیند آجانے کی صورت میں) عورتوں کے قریب نہ جاتے تھے اور پورے رمضان کا یہی قانون تھا اور بہت سے لوگ اپنے نفسوں کی خیانت کرتے تھے (اور قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھتے تھے) لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَ عَفَا عَنْکُمْ ) نازل فرمائی۔ سنن ابو داؤد (باب کیف الاذان) میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیوی سے جماع کرنے کا ارادہ کیا انہوں نے کہا میں تو سو گئی تھی (اب یہ کام جائز نہیں رہا) انہوں نے سمجھا کہ یہ بہانہ کررہی ہے لہٰذا جماع کربیٹھے۔ تفسیر درمنثور ص 197 ج 1 میں ہے کہ حضرت عمر ؓ ایک مرتبہ رات کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہے اور باتیں کرتے رہے جب گھر آئے تو دیکھا بیوی سو چکی ہے اسے جگایا اور مخصوص کام کا ارادہ کیا وہ کہنے لگی کہ میں تو سو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تم سوئی نہیں ہو (غلط کہہ رہی ہو) پھر اس سے جماع کرلیا اور کعب بن مالک کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ صبح کو حضرت عمر ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَکُمْ ) نازل فرمائی۔ نفس کے ابھار کی وجہ سے جو نفسوں کا تقاضا پورا کرلیا اس میں بظاہر نفس کی موافقت ہے لیکن قانون شرعی کی خلاف ورزی کی وجہ سے یہ نفسوں کی خیانت ہے کیونکہ احکام کی خلاف ورزی مواخذہ کی چیز ہے، اور تختانون کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ غلبہ شہوت کی وجہ سے تمہارے نفسوں کا تقاضا بیویوں کے پاس جانے کا ہوتا تھا لیکن تم اجازت شرعی نہ ہونے کی وجہ سے تقاضے کو پورا نہ کرتے تھے اس میں نفسوں کی خواہش کی خیانت اگرچہ ایمانی تقاضوں کی موافقت تھی۔ اب مباشرت کی اجازت دے گئی تو نفسوں کی خیانت بھی ختم ہوئی۔ آیت شریفہ (اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَام الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآءِکُمْ ) آخر تک نازل ہونے سے پوری رات کھانا پینا اور بیویوں سے مباشرت کرنا جائز ہوگیا جو کچھ کسی سے خلاف ورزی ہوئی تھی وہ اس پر نادم ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور ان کو معاف فرما دیا۔ زن و شوہر کے تعلقات کا لطیف انداز میں بیان : رمضان المبارک کی راتوں میں بیویوں سے مباشرت کی اجازت دیتے ہوئے میاں بیوی کے تعلق کو ایک لطیف انداز میں بیان فرمایا۔ اور وہ یہ کہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں یعنی وہ تمہارے لیے سکون اور دل جمعی کا باعث ہیں اور تم ان کے لیے سکون اور دل جمعی کا باعث ہو۔ کما فی سورة الاعراف (لِیَسْکُنَ اِلَیْھَا و فی سورة الروم لِتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا) عورت اور مرد چونکہ معانقہ کرتے ہیں اور ہر ایک دوسرے سے لپٹ جاتا ہے۔ اس لیے ہر ایک کو ایک دوسرے کے لیے لباس سے تعبیر فرمایا اور یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے پردہ بن جاتے ہیں اور فسق و فجور سے روکتے ہیں۔ اس لیے بھی ہر ایک کو دوسرے کا لباس بتایا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب کسی بندہ نے نکاح کرلیا تو اس نے آدھا دین کامل کرلیا۔ لہٰذا وہ باقی آدھے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرے۔ (مشکوٰۃ البیہقی فی شعب الایمان) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں پہلے جملہ یعنی (ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ ) سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ تم عورتوں سے صبر نہیں کرسکتے اور دوسرا جملہ (وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ ) یہ بتارہا ہے کہ تمہارے لیے ان سے پرہیز کرنا مشکل ہے اور چونکہ مرد کا احتیاج خوب واضح ہے اس لیے پہلے جملے کو مقدم کیا گیا۔ (من روح المعانی ص 165 ج 1) ابتغائے اولاد کا حکم : یہ جو فرمایا (وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ ) (یعنی طلب کرو تم جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے اولاد طلب کرنا مقصود ہے یعنی جماع کرنے میں نیت رکھو کہ اللہ تعالیٰ اولاد نصیب فرمائے گا۔ صاحب روح المعانی ص 65 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ نکاح کرنے میں نسل بڑھنے کی نیت رکھنی چاہئے صرف قضائے شہوت مقصود نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہوت جماع کو بنی نوع انسان کی بقا کے لیے انسانوں میں رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ کھانے کی خواہش انسانوں کے زندہ رہنے کے لیے پیدا فرما دی ہے صرف قضائے شہوت جانوروں کا مقصود ہے بعض مفسرین نے یہ بھی فرمایا کہ جب جماع کو اولاد طلب کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا تو اس سے عورتوں سے غیر فطری طریقے سے قضاء شہوت کرنے کی ممانعت ثابت ہوگئی کیونکہ وہ جگہ طلب ولد کی نہیں ہے۔ صبح صادق تک کھانے پینے کی اجازت : پھر فرمایا (وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ تمہارے لیے سفید تاگہ سیاہ تاگہ سے ممتاز ہو کر ظاہر ہوجائے (فخر کا تاگہ) اس میں اجازت دی گئی ہے کہ روزوں کی راتوں میں صبح صادق ہونے تک کھا پی سکتے ہو۔ سفید تاگے سے بیاض النہار (یعنی دن کی سفیدی جو صبح صادق سے شروع ہوتی ہے) مراد ہے۔ اور سیاہ تاگے سے سوا داللیل (یعنی رات کی تاریکی) مراد ہے۔ یہ تفسیر خود آنحضرت سرور عالم ﷺ سے مروی ہے۔ (کمافی صحیح البخاری ص 357 ج 1) حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت (وَ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) نازل ہوئی اور ابھی لفظ من الفجر نازل نہ ہوا تھا تو بعض لوگوں نے اپنے پاؤں میں سفید اور کالا تاگہ باندھ لیا اور برابر کھاتے رہے یہاں تک کہ ان دونوں میں فرق ظاہر ہوجائے (وہ زمانہ بتی اور بجلی کا تو تھا نہیں چھوٹے چھوٹے گھروں میں اندر بیٹھ کر کھاتے رہے صبح صادق ہوجانے اور باہر روشنی پھیل جانے پر بھی دونوں تاگوں میں امتیاز نہ ہوا۔ (ان حضرات نے خَیْطِ اَبْیَضْ اور خَیْطِ اَسْوَدْ کا معروف معنی سمجھا) پھر اللہ تعالیٰ نے لفظ من الفجر نازل فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ خیط ابیض اور خیط اسود سے دن اور رات مراد ہے۔ (صحیح بخاری ص 287 ج 1) معلوم ہوا کہ سحری کھانے کا آخری وقت صبح صادق تک ہے اور چونکہ پوری رات میں جماع کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی اس لیے جماع بھی صبح صادق ہونے تک جائز ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جنابت روزہ کے منافی نہیں ہے کیونکہ جب رات کے آخر حصے تک جماع کرنے کی اجازت ہے تو جماع کرنے والا لامحالہ فجر طلوع ہونے کے بعد ہی غسل کرے گا اور غسل کرنے میں جو وقت خرچ ہوگا اس وقت میں روزہ بھی ہوگا جو صبح صادق سے شروع ہوچکا ہوگا۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کو حالت جنابت میں فجر ہوجاتی تھی۔ پھر آپ روزہ رکھ لیتے تھے اور یہ جنابت احتلام کی نہیں بلکہ جماع کی وجہ سے ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری ص 258 ج 1) چونکہ جنابت روزہ کے منافی نہیں ہے اس لیے اگر روزہ میں احتلام ہوجائے تو اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ روزہ کا ابتدائی وقت ( یَتَبَیَّنَ لَکُمُ ) میں بتادیا پھر روزے کی انتہا بتانے کے لیے فرمایا : (ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ) (پھر روزوں کو رات تک پورا کرو) رات غروب شمس ہوتے ہی شروع ہوجاتی ہے جیسے ہی سورج غروب ہوجائے روزہ افطار کرنے کا وقت ہوجاتا ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مشرق کی طرف سے رات آگئی اور دن مغرب کی طرف چلا گیا اور سورج چھپ گیا تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہوگیا۔ (صحیح بخاری ص 262 ج 1) مسئلہ : غروب ہوتے ہی فوراً روزہ افطار کرلینا مستحب ہے جیسا کہ سحری کھانا آخر رات میں مستحب ہے۔ (کمافی صحیح مسلم ص 351 ج 1) البتہ سحری میں اتنی تاخیر نہ کرے کہ صبح صادق ہونے کا اندیشہ ہوجائے۔ اعتکاف کے فضائل اور مسائل : پھر فرمایا (وَلاَ تُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ ) (اور بیویوں سے میل ملاپ نہ کرو اس حال میں کہ تم اعتکاف کیے ہوئے ہو مسجدوں میں) اعتکاف مسنون ہے جو صرف مسجدوں ہی میں ہوتا ہے اور اس کے لیے نیت کرنا بھی ضروری ہے۔ اعتکاف کی نیت کے بغیرمسجد میں جتنا بھی وقت گزارے اعتکاف میں شمار نہ ہوگا۔ اعتکاف کے دنوں میں ایک تو شب قدر میں بیدار رہنے اور نمازوں میں قیام کرنے کی آسانی ہوجاتی ہے۔ دوسرے مخلوق سے تعلق کم سے کم ہوجاتا ہے۔ اور خالق تعالیٰ شانہ ہی کی طرف پوری توجہ رہتی ہے۔ دل و جان سے جسم اور زبان سے عبادت اور تلاوت میں مشغولیت رہتی ہے۔ یہ در پر جا پڑنے والی بات ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں دس دن کا اعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (صحیح بخاری ص 274 ج 1) حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے پھر ایک سال کا اعتکاف نہیں کیا تو آئندہ سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (سنن ابو داؤد ص 334 ج 1) اور ایک سال آپ نے ماہ شوال میں بھی بیس دن کا کا اعتکاف فرمایا۔ ( ایضاً ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ گناہوں سے روکتا ہے اور اس کے لیے اس شخص کا ثواب لکھا جاتا ہے جو تمام نیکیاں کرنے والا ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص 127) رات ہو یا دن اعتکاف میں جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھونا جائز نہیں ہے۔ اگر جماع کرلیا تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا اگر شہوت کے بغیر ہاتھ لگایا تو اس کی گنجائش ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں ( مسجد میں بیٹھے ہوئے) اپنا سر مبارک میری طرف کو نکال دیتے تھے اور میں آپ کا سر دھو دیتی تھی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے سر میں کنگھی کردیتی تھی۔ (صحیح بخاری ص 272 ج 1) اور حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ آپ اعتکاف کی حالت میں صرف انسانی حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری 272 ج 1) حاجت انسانی سے پیشاب پاخانہ مراد ہے۔ کھانا پینا چونکہ مسجد ہی میں ہوتا ہے اس لیے معتکف کو اس کے لیے مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اعتکاف کرے گا اور راتوں میں بیدار رہے گا تو جس رات میں بھی شب قدر ہوگی وہ اسے پالے گا اور اس کی خیرو برکت سے محرومی نہ ہوگی۔ قرآن شریف میں فرمایا (لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ) (کہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے) لہٰذا شب قدر کی تلاش میں رہنا چاہیے اور خاص کر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اسے تلاش کریں ہزار مہینے کے 83 سال چند ماہ ہوتے ہیں چند گھنٹے عبادت میں گزار کر اتنا بڑا ثواب لے لینا عظیم نفع ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (وَ لا یحرم خَیْرَھا الاّ کل محروم) (یعنی شب قدر کی خیر سے وہی محروم رہے گا جو پورا محروم ہے) (جسے ذرا بھی عبادت کا ذوق نہیں) (مشکوٰۃ المصابیح ص 173 ج 1) ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ جس شخص نے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر کی رات میں نماز میں قیام کیا (یعنی نفل نمازیں پڑھتا رہا) اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ص 701 ج 1) نفل روزوں کا بیان : گزشتہ آیت میں جو فرمایا (فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَھُوَ خَیْرٌ لَّہٗ ) اس میں نوافل کی ترغیب دی ہے بیان تو روزوں کے ذیل میں آتا ہے لیکن الفاظ کے عموم میں ہر نفلی عبادت آگئی ہے۔ یہاں نفل نمازوں کے کچھ فضائل لکھے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا کریم ہے ہر نیکی کم از کم دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے۔ شش عید کے روزے : حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے مہینے میں رکھ لیے تو (پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ہوگا اگر ہمیشہ ایسا کرے گا تو) گویا اس نے ساری عمر روزے رکھے۔ (رواہ مسلم ص 369 ج 1) جب کسی نے رمضان کے تیس روزے رکھے اور پھر چھ روزے اور رکھ لیے تو یہ چھتیس روزے رکھنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تین سو ساٹھ روزے شمار ہوں گے اس طرح سے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔ اگر کوئی شخص ہر سال ایسا ہی کرلیا کرے تو وہ ثواب کے اعتبار سے ساری عمر روزہ رکھنے والا شمار ہوگا اگر رمضان کے روزے چاند کی وجہ سے 29 ہی رہ جائیں تب بھی شوال میں چھ روزے رکھنے سے انشاء اللہ مذکورہ بالا ثواب ملے گا کیونکہ ہر مسلمان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ چاند نظر نہ آیا تو تیسواں روزہ بھی ضرور رکھے گا۔ پیر اور جمعرات کا روزہ : پیر اور جمعرات کو بھی روزہ رکھنے کی فضیلت وارد ہوئی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اعمال پیش ہوتے ہیں لہٰذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزہ دار ہوں۔ (رواہ الترمذی ص 131 ج 1) ایام بیض کے روزے : ایام بیض کے روزے رکھنے کی بھی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ 13۔ 14۔ 15 کو ایام بیض کہا جاتا ہے حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو مہینے سے تین روزے رکھے تو تیرہ چودہ، پندرہ تاریخ کے روزے رکھ لے۔ (رواہ الترمذی ص 133 ج 1) نیز رسول اللہ ﷺ ایام ابیض کے روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے۔ (رواہ النسائی ص 329 ج 1) عاشوراء کا روزہ : صحیح بخاری (ص 268 ج 1) میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں قریش عاشوراء (محرم کی دس تاریخ) کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس دن کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو عاشورا کا روزہ (بحیثیت تاکیدی حکم کے) باقی نہ رہا پھر جو چاہتا اس دن کا روزہ رکھتا تھا اور جو چاہتا چھوڑ دیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یوم عاشورا کا روزہ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے پہلے مشروع تھا اور اس کا روزہ رکھنا مؤکد تھا۔ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد تأکد ختم ہوگیا اور استحباب کا درجہ رہ گیا۔ صحیح مسلم (ص 367 ج 1) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے پوری پوری امید رکھتا ہوں کہ یوم عرفہ (بقر عید کی نویں تاریخ) کا روزہ رکھنے پر ایک سال قبل اور ایک سال بعد کے گناہ معاف فرما دے گا۔ اور یوم عاشورا کے روزہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے پوری امید رکھتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ رمضان کے بعد سے زیادہ افضل محرم (یعنی اس کی دس تاریخ) کا روزہ ہے جو شہر اللہ ہے اور سب نمازوں میں فرض نمازوں کے بعد رات کی نماز (یعنی نماز تہجد افضل ہے۔ (صحیح مسلم ص 355 ج 1) قال الطیبی أراد بصیام شھر اللّٰہ صیام یوم عاشوراء اھ ویکون من باب ذکر الکل وارادۃ البعض ویمکن أن یقال أفضلیتہ لما فیہ من یوم عاشوراء و لکن الظاھر أن المراد جمیع شھر المحرم۔ (کذا فی المرقاۃ) محرم کو شہر اللہ یعنی اللہ کا مہینہ فرمایا۔ یہ اضافت تشریفی ہے۔ کیونکہ سب مہینے اللہ ہی کی ہیں۔ محرم الحرام کی فضیلت بتانے کے لیے شہر اللہ فرمایا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو۔ (سنن الترمذی ص 122 ج 1) اور شیخ ابن ہمام نے فرمایا کہ دسویں تاریخ کا روزہ رکھنا مستحب ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد روزہ رکھے۔ صرف یوم عاشورا کا روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس میں یہود کی مشابہت ہے۔ (ذکرہ فی المرقاۃ) عشرہ ذی الحجہ کے روزے بقر عید کی نویں تاریخ کے روزہ کی فضیلت اوپر معلوم ہوئی۔ اس سے پہلے جو آٹھ دن ہیں ان میں بھی روزہ رکھنا چاہیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ذوالحجہ کے اول کے دس دنوں میں عمل صالح سب دنوں کے اعمال سے افضل ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا اور جہاد فی سبیل اللہ سے بھی ؟ فرمایا (ہاں) جہاد فی سبیل اللہ بھی ان دنوں کے اعمال صالحہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔ الایہ کہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں نکلا (اور اس نے جان اور مال کی بازی لگا دی) پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ ہوا۔ (صحیح بخاری ص 132 ج 1) ام المومنین حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عاشورا کا روزہ اور ذوالحجہ کے عشرہ اولیٰ کے روزے (باستثناء یوم الاضحی) اور مہینے کے تین روزے نہیں چھوڑتے تھے۔ (سنن نسائی ص 228 ج 1) فائدہ : بقر عید کی نویں تاریخ کو حج ہوتا ہے اس دن حج کرنے والے عرفات میں ہوتے ہیں۔ ظہر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک دعاؤں میں مشغولیت ہوتی ہے اس لیے حجاج کے لیے افضل ہے کہ اس تاریخ کا روزہ نہ رکھیں۔ حضور اقدس ﷺ نے بھی حج کے موقع پر اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ (کما فی صحیح البخاری ص 267 ج 1، صحیح مسلم ص 397 ج 1) فائدہ : نفل عبادت روزہ ہو یا نماز، ذکر ہو یا تلاوت، حج ہو یا عمرہ جس قدر بھی کوئی شخص ادا کرے گا اس کا ثواب پائے گا۔ لیکن ہر عمل میں شریعت کے اصول و قوانین کا خیال رکھنا لازم ہے۔ ایک نفلی روزہ کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فی سبیل اللہ ایک روزہ رکھ لیا اللہ تعالیٰ اس کی ذات کو دوزخ سے اتنی دور کردیں گے جتنی دور کوئی شخص ستر سال میں چل کر پہنچے۔ (یعنی وہ دوزخ میں نہ جائے گا) ۔ (صحیح بخاری ص 398 ج 1) لفظ فی سبیل اللہ کا قابل غور معنی تو یہ ہے کہ جہاد کے موقعہ پر روزہ رکھنے کی یہ فضیلت ہے اور اسی لیے امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الجہاد میں ذکر کیا ہے اور بعض شراح حدیث نے اس کا ترجمہ لوجہ اللہ بھی کیا ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھے۔ اس کا یہ ثواب ہے۔ فتح الباری (ص 48 ج 2) میں دونوں معنی لکھے ہیں۔ نفل روزہ بقدر طاقت (جس سے دوسری فرض عبادتوں میں ضعف نہ آجائے اور اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے ضروری حلال کسب معاش میں فرق نہ آئے) رکھتے رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے اور راتوں رات نفل نماز میں قیام کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو روزہ بھی رکھو اور بےروزہ بھی رہو اور رات کو نماز میں بھی قیام کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے پاس آنے جانے والوں کا بھی تم پر حق ہے۔ اور فرمایا کہ سب سے افضل روزہ داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بےروزہ رہتے تھے۔ (صحیح البخاری ص 265 ج 1) سال بھر میں پانچ دن ایسے ہیں جن میں روزہ رکھنا حرام ہے : پانچ دن پورے سال میں روزہ رکھنا حرام ہے۔ وہ پانچ دن یہ ہیں عید الفطر کا دن اور ذی الحجہ کی 10۔ 11۔ 12۔ 13 تاریخوں میں۔ ذوالحجہ کی ان تاریخوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ (رواہ المسلم ص 250 ج 1) بخاری ص 267 ج 1 میں حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، ذکر اللہ میں تو ہمیشہ ہی مشغول رہنا چاہیے۔ لیکن ایام تشریق میں خصوصیت کے ساتھ ذکر اللہ کا اہتمام کیا جائے۔ مسئلہ : جس عورت کا شوہر گھر پر موجود ہو وہ شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزے نہ رکھے البتہ فرض روزوں میں شوہر کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ وہ منع بھی کرے تب بھی رکھے۔ کیونکہ اللہ کے فرائض سب کے حقوق سے مقدم ہیں۔ روزانہ نفلی روزہ رکھنا محمود نہیں : فائدہ : بہت سے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ روزانہ روزہ رکھتے ہیں روزانہ روزہ رکھنا محمود نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے لا صام من صام الابد (یعنی جس نے ہمیشہ روزے رکھے اس نے روزے رکھے ہی نہیں) ۔ (صحیح بخاری ص 265 ج 1) اور آپ نے روزانہ روزہ رکھنے والے کے لیے یہ بھی فرمایا کہ لا صام ولا افطر کہ اس نے نہ روزے رکھے نہ بےروزہ رہا (صحیح مسلم ص 267 ج 1) اور وجہ اس کی یہ ہے کہ روزانہ روزہ رکھنے سے نفس کو عادت ہوجاتی ہے۔ صرف کھانے پینے کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ افضل الصیام : سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن بےروزہ رہے حضرت داؤد (علیہ السلام) اسی طرح نفلی روزے رکھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا لا صوم فوق صوم داؤد (صحیح بخاری ص 765 ج 1) (یعنی داؤد (علیہ السلام) کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں) اور ایک روایت ہے۔ لا افضل من ذلک (بخاری ص 765 ج 1) یعنی اس روزے سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔ حدود اللہ سے آگے بڑھنے کی ممانعت : آخر میں فرمایا (تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا) (الایۃ) (یعنی یہ اللہ کی حد بندیاں ہیں لہٰذا ان کے پاس نہ پھٹکو۔ گزشتہ آیات میں جو روزہ کی فرضیت اور مریض و مسافر کے لیے رخصت اور روزہ کی ابتداء اور انتہاء کے اوقات بیان ہوئے اور اعتکاف والوں کے لیے ارشاد ہوا کہ اعتکاف میں مباشرت نہ کریں ان سب کے بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے کہ یہ احکام اللہ کی حد بندیاں ہیں۔ حدود سے آگے مت بڑھو جو حکم جس طرح ہوا ہے اس کو اسی طرح پورا کرو اور ایسی صورت کے قریب جانے کی ممانعت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے روزہ ضائع ہوجائے۔ نہ سحری میں اتنی دیر کریں کہ صبح صادق ہوجائے۔ نہ افطار میں اتنی جلدی کریں کہ سورج چھپنے سے پہلے ہی کھا کے فارغ ہوجائیں حالت روزہ میں منہ میں ایسی کوئی چیز نہ لیں جس کے اندر جانے کا اندیشہ ہو اور وضو کرتے وقت ناک میں پانی دینے میں مبالغہ نہ کریں (کما فی الحدیث و بالغ فی الاستنشاق الا ان تکون صائما۔ رواہ ابوداود) روزے میں مسواک کرنا تو احادیث شریفہ سے ثابت ہے لیکن دوسری چیزوں سے روزے میں دانت صاف کرنے کو فقہاء نے اسی لیے مکروہ لکھا ہے کہ تھوڑا بہت اندر چلے جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
Ayah 2:188

وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَی الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۟۠وَلَا تَاۡكُلُوۡٓا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ وَتُدۡلُوۡا بِهَآ اِلَى الۡحُـکَّامِ لِتَاۡکُلُوۡا فَرِيۡقًا مِّنۡ اَمۡوَالِ النَّاسِ بِالۡاِثۡمِ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل ذریعہ سے مت کھاؤ۔ اور نہ لے جاؤ ان کو حاکموں کی طرف تاکہ کھا جاؤ ایک حصہ لوگوں کے مالوں میں سے گناہ کے ساتھ حالانکہ تم جانتے ہو۔

باطل طریقوں سے مال کھانے کی ممانعت اس آیت میں باطل طریقہ پر کسی کا مال حاصل کرنے اور اپنے استعمال میں لانے کی ممانعت فرمائی۔ رمضان میں دن کے اندر حلال کھانے کی ممانعت فرمائی گئی۔ اور اب احکام رمضان کے متصل ہی یہ ارشاد ہو رہا ہے کہ حرام کبھی نہ کھاؤ۔ نہ رمضان میں نہ رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینہ میں۔ لفظ ” بالباطل “ بڑھا کر یہ بتادیا کہ جو مال شرعاً جائز ہو مثلاً طیب نفس کے ساتھ کوئی ہدیہ دے دے یا شریعت کے مطابق تجارت کرنے کی بہت صورتیں ہیں۔ جن میں سے متعدد صورتیں آیت کریمہ (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا) کے ذیل میں بیان کردی گئی ہیں۔ یہاں قرآن کریم نے ایک خاص صورت کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعے لوگوں کے مالوں پر باطل طریقہ سے قبضہ کرلیا جاتا ہے۔ حکام وقت کو ذریعہ بنا کر لوگوں کے مالوں کو اپنا مال بنا لیتے ہیں۔ اس کی کئی صورتیں ہیں۔ حاکم کے فیصلہ کردینے سے کسی کا مال حلال نہیں ہوجاتا : ایک صورت یہ ہے کہ کسی کے مال پر دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے اور حاکم کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیا اور ایک طریقہ یہ ہے کہ جھوٹی تحریر لکھ کر یا جھوٹے گواہ بنا کر حاکم کے ہاں پیش کر کے کسی غیر کے مال اور جائیداد کے بارے میں اپنے حق میں فیصلہ کرا لیا۔ اور ایک طریقہ یہ ہے کہ شرعی قانون کے خلاف حکومت وقت کے رائج قوانین کے مطابق کسی کا مال دبا لیا۔ مثلاً کسی حکومت نے یہ قانون بنا دیا کہ مرنے والے کے مال میں صرف لڑکوں کا حصہ ہوگا۔ اور اس قانون کے پیش نظر لوگوں نے حاکم سے اپنے حق میں میراث تقسیم کرانے کا فیصلہ کرا لیا۔ اور بہنوں کو محروم کردیا۔ یا جیسے کسی حکومت نے قانون بنا دیا کہ فلاں فلاں اشخاص کا مال زبر دستی لے کر فلاں فلاں قسم کے آدمیوں پر تقسیم کردیا جائے۔ تو ان میں سے کسی بھی صورت میں کسی شخص کا مال ہرگز حلال نہیں ہوگا اور بھی اس کی بہت سی صورتیں ہیں جنہیں مقدمہ باز جانتے ہیں اور مکرو فریب کے ذریعہ حکام کو استعمال کر کے دوسروں کے مالوں پر قبضہ کرتے رہتے ہیں۔ حاکم سے فیصلہ کرا کر جو شخص کسی کا مال لے لے گا وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگا۔ دنیا و آخرت میں اس کا بہت بڑا وبال ہے اور سخت عذاب ہے۔ دنیاوی حکام کے فیصلوں کے ذریعے کسی کا مال اپنا بنا کر مطمئن نہ ہوجائیں۔ یہ یاد رکھیں کہ مالک یوم الدین قاضی روز جزاء جل مجدہٗ کے حضور میں بھی پیش ہونا ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں انسان ہی ہوں اور تم میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو اور ممکن ہے کہ تم میں سے ایک آدمی دوسرے کے مقابلہ میں اپنی حجت کو بڑھ چڑھ کر بیان کر دے اور میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو کچھ میں نے اس سے سنا (اور یہ فیصلہ حقیقت میں غلط ہو) سو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے مال میں سے کسی چیز کا کوئی فیصلہ کر دوں تو اسے ہرگز نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔ (صحیح بخاری ص 1062 ج 2) مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی پر جھوٹا مقدمہ دائر کیا اور جس کا حق نہیں ہے اس کے زور بیان پر میں نے اس کو دوسرے کا حق دلا دیا تو میرے دلانے سے وہ اس کے لیے حلال نہ ہوجائے گا۔ وہ یہ نہ سمجھے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے میرے حق میں فیصلہ کردیا۔ لہٰذا میرے لیے دوسرے کا مال حلال ہوگیا۔ باوجود فیصلہ کردینے کے دوسرے کا مال مدعی کے لیے حلال نہ ہوجائے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسی چیز کا دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے اور وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ (رواہ مسلم ج 1 صفحہ 57) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جھوٹی قسم کھائی جس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال اپنے حق میں کرلینا چاہتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوگا۔ (صحیح بخاری ج 2 صفحہ 987، صحیح مسلم ج 1 صفحہ 80) لفظ (فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاسِ ) جو فرمایا ہے۔ اس میں یہ بتادیا کہ صرف آپس میں مسلمانوں ہی کا مال ناحق لے لینا حرام نہیں ہے بلکہ غیروں کا مال ناحق لے لینا بھی حرام ہے۔ جو کافر مسلمانوں کی عملداری میں رہتے ہیں شریعت کی اصطلاح میں ان کو ذمی کہا جاتا ہے۔ تمام مسلمانوں پر ان کی جان و مال کی حفاظت لازم ہے۔ اور خیانت کر کے یا کسی بھی طرح ان کا مال ناحق رکھ لینا جائز نہیں ہے۔
Ayah 2:189

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ؕ— قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ؕ— وَلَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰی ۚ— وَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا ۪— وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۟يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَهِلَّةِ ‌ؕ قُلۡ هِىَ مَوَاقِيۡتُ لِلنَّاسِ وَالۡحَجِّ ؕ وَلَيۡسَ الۡبِرُّ بِاَنۡ تَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ ظُهُوۡرِهَا وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنِ اتَّقٰى‌ۚ وَاۡتُوا الۡبُيُوۡتَ مِنۡ اَبۡوَابِهَا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

وہ آپ سے چاندوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ یہ اوقات مقررہ ہیں لوگوں کے لیے اور حج کے لیے، اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں کی طرف سے آؤ لیکن نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقوی اختیار کرے۔ اور آجاؤ تم گھروں میں ان کے دروازوں سے۔ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔

چاند میں کمی بیشی کیوں ہوتی ہے تفسیر درمنثور ج 1 صفحہ 203 میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اور ثعلبہ بن عنمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ چاند چھوٹا بڑا کیسے ہوجاتا ہے۔ اول باریک دھاگہ کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ پھر بڑھتے بڑھتے بڑا ہوجاتا ہے۔ اور گول ہوجاتا ہے۔ پھر گھٹتے گھٹتے باریک ہوجاتا ہے۔ اور شروع میں جیسا تھا ویسا ہی آخر میں ہوجاتا ہے۔ ان کے سوال پر آیت بالا نازل ہوئی اور ان کو جواب دیا گیا کہ یہ چاند لوگوں کے لیے اوقات مقررہ بتانے والے ہیں اور حج کا وقت بھی ان کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کب رکھنا شروع کریں گے۔ عورتوں کے عدت کے اوقات ان کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں۔ اور خریدو فروخت کے معاملات میں جو کوئی اجل اور میعاد مقرر ہوتی ہے چاندوں کے ذریعہ ان کے ختم ہونے کا علم بھی ہوتا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں قمری مہینوں کا اعتبار ہے : شریعت اسلامیہ میں چاند کے مہینوں کا اعتبار کیا گیا ہے صاحب نصاب پر چاند کے اعتبار سے بارہ مہینے گزر جانے پر زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہوتی ہے (اگر کوئی شخص شمسی مہینوں کے اعتبار سے سال گزر جانے پر زکوٰۃ ادا کرتا رہے گا تو چھتیس سال کے بعد ایک سال کی زکوٰۃ کی ادائیگی میں کمی رہ جائے گی۔ کیونکہ شمسی سال قمری سال سے دس گیارہ دن بڑا ہوتا ہے) جس عورت کا شوہر وفات پا جائے اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے اور جس عورت کو اب تک حیض نہیں آیا اس کو طلاق ہوجائے تو اس کی عدت تین مہینہ ہے۔ یہ مہینے قمری مہینوں کے اعتبار سے معتبر ہوں گے۔ اور رمضان کے روزے بھی چاند ہی کے حساب سے رکھے جاتے ہیں کیونکہ رمضان چاند کے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے پھر عید بھی چاند دیکھ کر کی جاتی ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چاند دیکھ کر (رمضان کے) روزے رکھنا شروع کرو، اور چاند دیکھ کر رمضان کے روزے رکھنا ختم کر دو ۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس (روزوں کی) گنتی پوری کرلو۔ (صحیح مسلم ج 1 صفحہ 347، صفحہ 348) حج بھی ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو ہوتا ہے اور قربانیاں ذوالحجہ کی دس۔ گیا رہ۔ بارہ کی تاریخوں میں ہوتی ہیں۔ ان سب احکام میں چونکہ چاند ہی کا مہینہ معتبر ہے اور چاند ہی کے حساب سے مہینوں کی ابتداء اور انتہا ہوتی ہے اس لیے چاند کے مہینوں کا محفوظ رکھنا اور ان کی ابتداء اور انتہا جاننا فرض کفایہ ہے۔ دینی امور کو قمری مہینوں سے متعلق کرنے میں آسانی ہے : چاند کے مہینوں سے دینی امور کو متعلق کرنے میں عوام اور خواص کے لیے اور پورے عالم کے انسانوں کے لیے آسانی بھی ہے۔ چاند شروع میں مغرب کی طرف چھوٹا سا نظر آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اب مہینہ شروع ہے پھر چند دن کے بعد پوری رات روشن رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ ایام بیض کا زمانہ ہے پھر اخیر میں مشرق کی طرف چھوٹا ہو کر نظر آنے لگتا ہے اور ایک دو دن بالکل ہی نظر نہیں آتا، اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اب مہینہ کا آخر ہو رہا ہے۔ اگر شمسی مہینوں سے عبادات کا تعلق ہوتا تو اسے صرف حساب دان ہی سمجھ سکتے تھے اور ہر شخص کے پاس کیلنڈر اور جنتری ہونا ضروری تھا اور یہ یاد رکھنا ضروری تھا کہ کونسا مہینہ کتنے دن کا ہوتا ہے یہ سب باتیں عوام کے لیے سمجھنا اور یاد رکھنا مشکل تھا پھر کیلنڈر وغیرہ اب ترقی یافتہ دنیا میں چھپنے لگے وہ بھی ہر بستی اور ہر گھر میں نہیں ہوتے۔ اور احکام اسلام چودہ سو سال سے نافذ ہیں پھر کیلنڈر اور جنتریوں پر عبادات کیسے موقوف رکھی جاسکتی ہے۔ عوام اور خواص کے لیے یہ آسانی ہے کہ چاند دیکھا اور مہینے کی ابتداء اور انتہا سمجھ لی۔ سورج روزانہ ایک ہی طرح نکلتا اور چھپتا ہے۔ سردی گرمی میں اس کا طلوع غروب ایک ہی طرح ہے۔ اسے دیکھ کر مہینوں کی ابتداء اور انتہا سمجھنے کا کوئی راستہ نہیں۔ صاحب روح المعانی ج 2 صفحہ 71 لکھتے ہیں کہ حضرات صحابہ نے جو سوال کیا تھا وہ یہودیوں کے سوال کرنے پر تھا۔ یہودیوں نے حضرات صحابہ ؓ سے چاند کے بارے میں سوال کیا تو ان حضرات نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کرلیا۔ الفاظ سوال میں احتمال ہے کہ انہوں نے چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت معلوم کی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس کے گھٹنے بڑھنے کی علت اور سبب معلوم کیا ہو۔ اگر چاند کے گھٹنے بڑھنے کی حکمت معلوم کی تھی تب تو جواب سوال کے مطابق ہوگیا کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے میں عبادات کے اوقات اور معاملات کی میعادیں معلوم کرنے کا فائدہ ہے۔ اگر چاند آفتاب کی طرح ایک ہی حالت پر ہوتا تو اوقات کا سمجھنا اور معلوم کرنا مشکل ہوجاتا۔ اور اگر حضرات صحابہ کا سوال چاند کے گھٹنے بڑھنے کی علت جاننے کے متعلق تھا تو جواب من قبیل اسلوب الحکیم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں وہ معلوم کرنا چاہئے جس کی تمہیں ضرورت ہے۔ چاند کے گھٹنے بڑھنے کے اسباب تکوینیہ جاننے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں، تمہیں ضرورت ہے چاند کے گھٹنے بڑھنے میں حکومت کیا ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے چناچہ ان کو اسی سوال کا جواب دے دیا گیا جو سوال انہیں کرنا چاہئے تھا۔ چاند کا گھٹنا بڑھنا یعنی چھوٹا بڑا نظر آنا اس کے اسباب تکوینیہ ریاضی کی کتابوں میں لکھے ہیں کچھ پرانے فلاسفہ کے تخیلات ہیں اور کچھ نئے سائنس کے تصورات ہیں ان میں سے کسی بھی چیز کی قرآن و حدیث سے تصدیق نہیں ہوتی اور نہ کوئی دینی مسئلہ ان کے جاننے پر موقوف ہے۔ بہت سے لوگ فلکیات اور اجرام سماویہ کے احوال جدید آلات کے ذریعہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مروجہ علوم میں ماہر بھی ہوجاتے ہیں۔ اور اپنے کو بڑا عالم بھی سمجھتے ہیں دنیا کے ادارے اور ملکوں کے سربراہ ان کو اعزازی ڈگریاں بھی دیتے ہیں۔ لیکن یہ سب ان چیزوں کے خالق ومالک کی نہ صرف عبادت کرنے سے اور اس کی معرفت سے محروم ہیں بلکہ اس ذات پاک پر ایمان بھی نہیں لاتے جس نے یہ چیزیں پیدا فرمائیں۔ قرآن مجید کے طرز جواب میں ان لوگوں کو بھی تنبیہ ہے کہ چاند کے گھٹنے بڑھنے کے اسباب تکوینیہ کے جاننے میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان پر سب سے زیادہ خالق جل جلالہ کے احکام کی طرف متوجہ ہونا فرض ہے۔ گھروں میں دروازوں سے آنے کا حکم : چاندوں کے متعلق سوال کا جواب دینے کے بعد جاہلیت کی ایک رسم کی تردید فرمائی۔ صحیح بخاری ج 2 صفحہ 248 میں حضرت براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ جاہلیت میں عرب کے لوگ جب احرام باندھ لیتے تھے تو (احرام کے زمانہ میں) گھر کی پشت سے داخل ہوتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا) اور صحیح بخاری ابواب العمرہ ج 1 صفحہ 242 میں یوں نقل کیا ہے کہ انصار (اوس اور خزرج کے قبیلے) جب حج کرکے واپس ہوتے تھے تو اپنے گھروں میں دروازوں سے نہیں بلکہ پچھواڑوں کی طرف سے داخل ہوتے تھے ایک انصاری جو حج کرکے آئے تو وہ گھر کے دروازہ سے داخل ہوئے (ان کو عار دلائی گئی) گویا انہوں نے کوئی برا کام کیا ہے اس پر آیت بالانازل ہوگئی۔ اپنی طرف سے کسی کام میں ثواب یا گناہ سمجھ لینا بدعت ہے : گھروں کے پچھواڑوں سے داخل ہونے کو وہ لوگ ثواب سمجھتے تھے اور اس کو نیک کام جاننے تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ نیکی نہیں ہے کہ اپنے گھروں میں ان کی پشتوں کی طرف سے آؤ۔ نیکی اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے منع فرمایا ان سے پرہیز کیا جائے۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی ہوتی رہے اور اپنی طرف سے تراشے ہوئے احکام اور اعمال کی پابندی کی جائے اور اس میں ثواب سمجھا جائے یہ گمراہی کی بات ہے۔ جس چیز کو شریعت نے ضروری نہیں قرار دیا یا ثواب کا کام نہیں بتایا اس کو اپنی طرف سے ضروری قرار دے دینا یا ثواب کا کام سمجھ لینا بدعت ہے اور گناہ ہے جیسا کہ جو چیز شرعاً جائز ہو اسے گناہ سمجھنا گناہ ہے، گھروں کے دروازوں سے داخل ہونا شرعاً جائز تھا اس کو گناہ قراردیا اور مکان کی پشتوں کو توڑ کر داخل ہونے کو ضروری سمجھا اور ثواب کا کام جانا اس لیے ان کے عقیدہ اور عمل کی تردید فرمائی اور آخر میں فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) کہ تم اللہ سے ڈرو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔ اس کے احکام پر عمل پیرا ہو اور اس کے احکام میں تغیر و تبدل نہ کرو۔ علامہ جصاص کا ایک استنباط : علامہ جصاص احکام القرآن ج 1 صفحہ 256 میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ قانون معلوم ہوا کہ جس عمل کو اللہ تعالیٰ نے ثواب کا کام نہیں بتایا اور جس کی ترغیب نہیں دی وہ کسی شخص کے ثواب بنا لینے سے ثواب کی چیز نہ بنے گا۔ نہ دین کا جزو ہوگا۔ اس کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ نہ سمجھ لیا جائے۔ اور یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ وہ دین ہے پھر لکھتے ہیں کہ اس کی نظیریہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دن بھر خاموش رہنے سے منع فرمایا، (چونکہ شریعت محمدیہ میں خاموش رہنے کا روزہ نہیں ہے) ۔ اور ایک شخص کو آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہے آپ نے فرمایا اس کو کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے دھوپ میں کھڑے ہونے کی نذر مانی ہے۔ آپ نے اس کو حکم دیا کہ سایہ میں چلا جا۔
Ayah 2:190

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۟وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو ان لوگوں سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور زیادتی مت کرو، بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

اللہ کی راہ میں قتال کرنے کا حکم اور ظلم و زیادتی سے پرہیز کرنے کی تاکید حضرت سید المرسلین ﷺ ہجرت کے چھٹے سال اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے جب مکہ معظمہ قریب آیا تو مقام حدیبیہ پر مشرکین مکہ نے آپ کو روک دیا۔ اور مکہ معظمہ میں داخل نہ ہونے دیا۔ بڑی رد وکد کے بعد انہوں نے دس سال کے لیے چند شرطوں پر صلح کرلی ان میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اس سال عمرہ نہیں کرسکتے آئندہ سال عمرہ کے لیے تشریف لائیں۔ اور اس وقت مکہ معظمہ میں تین دن سے زیادہ نہیں ٹھہریں گے۔ یہ ہی ذی قعدہ کا مہینہ تھا۔ پھر آپ آئندہ سال ماہ ذی قعدہ ہی میں عمرہ کی قضاء کے لیے تشریف لائے اس زمانے میں چار مہینوں میں قتال اور جنگ کرنا ممنوع تھا۔ ان چار مہینوں میں ذی قعدہ کا مہینہ بھی شامل تھا۔ لباب النقول میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ مذکورہ بالا آیت اس موقع پر نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے لیے اپنے صحابہ کے ساتھ 7 ھ میں تشریف لے گئے تھے حضرات صحابہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ ممکن ہے کہ قریش مکہ صلح کی شرطوں کی خلاف ورزی کربیٹھیں اور اس مرتبہ بھی مسجد حرام تک نہ پہنچے دیں اور جنگ پر آمادہ ہوجائیں۔ اگر ایسا ہوا تو ہمیں بھی جنگ کا اقدام کرنا پڑے گا اور یہ بھی اس مہینہ میں ہوگا جس میں جنگ کرنا حرام ہے اور ہم جوابی کارروائی نہ کریں تو مغلوب ہوں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور قتال کرنے کی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ تم سے قتال کرتے ہیں ان سے قتال کرو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ زیادتی مت کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنیوالوں کو پسند نہیں فرماتا۔ شریعت اسلامیہ میں ہر چیز کی حدود ہیں۔ اصول ہیں، آداب ہیں اور اخلاق عالیہ ہیں۔ قتل اور قتال کے بھی کچھ اصول ہیں۔ حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ لاَ تَعْتَدُوْا کے عموم ہیں وہ سب باتیں داخل ہوگئیں جو جنگ کے موقعہ پر ممنوع ہیں مثلاً مثلہ کرنا (کسی مقتول کے ناک کان کاٹ دینا صورت بگاڑ دینا) مال غنیمت میں خیانت کرنا، عورت، بچوں، اور بوڑھوں کو قتل کرنا جو نہ جنگ کرتے ہوں نہ جنگ کے معاملات میں کوئی رائے یا مشورہ دیتے ہوں اور مثلاً راہبوں کو قتل کرنا اور بغیر کسی مصلحت کے درختوں کو جلانا اور حیوانات کو قتل کرنا (تفسیر ابن کثیر ج 1 صفحہ 266) صحیح مسلم ج 2 صفحہ 82 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکریا کسی فوجی دستہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو خاص کر اس کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی اور جو مسلمان اس کے ساتھ جا رہے ہوں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت فرماتے تھے۔ پھر فرماتے تھے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اللہ کو نہ مانتا ہو اس سے جنگ کرنا مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور غدر نہ کرنا اور کسی کا مثلہ نہ کرنا اور کسی بچہ کو قتل نہ کرنا۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ جہاد کے موقعہ پر ایک عورت مقتولہ پائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا، آپ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کرنے کی ممانعت فرمائی۔ (صحیح مسلم ج 2 صفحہ 84)
Ayah 2:191

وَاقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَاَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ— وَلَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ ۚ— فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ ؕ— كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ ۟وَاقۡتُلُوۡهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوۡهُمۡ وَاَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ اَخۡرَجُوۡكُمۡ‌ وَالۡفِتۡنَةُ اَشَدُّ مِنَ الۡقَتۡلِۚ وَلَا تُقٰتِلُوۡهُمۡ عِنۡدَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ حَتّٰى يُقٰتِلُوۡكُمۡ فِيۡهِ‌ۚ فَاِنۡ قٰتَلُوۡكُمۡ فَاقۡتُلُوۡهُمۡؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ Open ayah 2:191 in the Quran reader

اور تم ان کو قتل کرو جہاں بھی پالو، اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا، اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت ہے۔ اور ان سے جنگ مت کرو مسجد حرام کے پاس جب تک کہ وہ تم سے اس میں خود نہ لڑیں۔ سو اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تم ان کو قتل کردو۔ ایسی ہی جزا ہے کافروں کی۔

پھر فرمایا (وَ اقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ) (کہ ان کو قتل کرو جہاں بھی پاؤ) (وَ اَخْرِجُوْھُمْ مِنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ ) (اور ان کو نکال دو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا) یعنی تمہیں مکہ معظمہ چھوڑ کر ہجرت پر مجبور کیا۔ فتنہ گری قتل سے زیادہ سخت ہے : اور فرمایا (وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ) (اور فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے) فتنہ سے مراد شرک ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ج 1 صفحہ 75 کہ صحابہ کے دلوں میں جو بات آرہی تھی کہ حرم میں ان کو کس طرح قتل کریں گے۔ جبکہ حرم کا احترام ضروری ہے۔ ان کے اس وسوسہ کا جواب دیا گیا کہ جس کام میں یہ لوگ خود لگے ہوئے ہیں یعنی شرک باللہ اور وہ بھی حرم میں وہ قتل کرنے سے بہت زیادہ سخت ہے۔ لہٰذا تم اس کی پرواہ نہ کرو کہ حرم میں قتل و قتال واقع ہوجائے گا۔ دفاع کے لیے قتال کرنا : پھر فرمایا : (وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ ) (اور ان سے جنگ مت کرو مسجد حرام کے پاس جب تک کہ وہ تم سے اس میں خود نہ لڑیں۔ سو اگر وہ تم سے جنگ کریں تو تم ان کو قتل کر دو ، ایسی ہی جزا ہے کافروں کی) اس میں مسلمانوں کو ابتداء بالقتال کی ممانعت فرمائی کہ مسجد حرام کے قریب خود سے قتل و قتال کی ابتداء نہ کرنا جب تک کہ وہی تم سے قتال شروع نہ کریں اگر وہ حرم کی حرمت کی پاسداری ترک کردیں تو تم بھی ان کو قتل کر دو ۔ قال صاحب الروح ج 2 صفحہ 75 نفی للحرج عَن القتال فی الحرم الذی خاف منہ المسلمون وکرھوہ ای ان قاتلوکم ھناک فلاتبالوا بقتالھم لانھم الذین ھتکو الحرمۃ و أنتم فی قتالھم دافعون القتل عن انفسکم۔
Ayah 2:192

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟فَاِنِ انۡـتَهَوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

سو اگر وہ باز آجائیں تو اللہ غفور رحیم ہے۔

اس کے بعد فرمایا (فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) یعنی اگر مشرکین کفر اور شرک سے باز آجائیں اور اسلام قبول کرلیں تو (اھل اسلام سے قتال بھی نہ کریں گے) اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (وہ سب کی توبہ قبول فرماتا ہے)
Ayah 2:193

وَقٰتِلُوْهُمْ حَتّٰی لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ ؕ— فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ۟وَقٰتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ لِلّٰهِ‌ؕ فَاِنِ انتَهَوۡا فَلَا عُدۡوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

اور ان سے یہاں تک جنگ کرو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور ہوجائے دین اللہ ہی کے لیے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو زیادتی نہیں ہے مگر ظالموں پر۔

قتال کب تک ہونا چاہئے : پھر فرمایا (وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ) (یعنی کافروں سے یہاں تک جنگ کرو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے) اس میں قتال کی ضرورت اور غرض وغایت بیان فرمائی ہے شرک اور کفر بد ترین گناہ ہے۔ خالق ومالک کی بغاوت ہے۔ دنیا میں اس کو مٹانے کے لیے کافروں اور مشرکوں سے جنگ کرتے رہیں اور یہاں تک جنگ کریں کہ سارا دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے۔ صحیح بخاری ج 1 صفحہ 8 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے یہ حکم ہوا کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللّٰہ کو نہ مانیں۔ جب انہوں نے اس کو کہہ لیا تو وہ مجھ سے اپنے خونوں اور مالوں کو بچا لیں گے۔ ہاں اگر اسلام کا قانون ان کے خونوں اور مالوں کے بارے میں جاری کرنا ضروری ہوا تو وہ اور بات ہے اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (یعنی کوئی شخص اگر ظاہراً اسلام قبول کرے گا تو ہم اس کو قتل نہ کریں گے۔ آگے اس کا حساب اللہ کے سپرد ہے دل سے اسلام قبول نہ کیا ہوگا تو آخرت کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔ دلوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ ہم ظاہر کے پابند ہیں) ۔ قتال کرنے میں کیا نیت ہو ؟ آیت سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ قتال کی ضرورت کفر اور شرک کو مٹانے کے لیے ہے وہاں قتال کرنے والوں کو یہ بھی بتادیا کہ قتال اور جہاد میں یہ نیت رکھیں کہ اللہ کا بول بالا ہو اس کا دین بلند ہو۔ دنیا سے اس کے باغی ختم ہوں، اور حقیقتاً اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو اللہ کی بات بلند کرنے کے لیے قتال کرے ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے سوال کیا کہ ایک آدمی مال غنیمت کے لیے قتال کرتا ہے۔ ایک شہرت کے لیے لڑتا ہے اور ایک اس لیے لڑتا ہے کہ لوگ اس کی بہادری کے قائل ہوجائیں سو ان میں فی سبیل اللہ لڑنے والا کون ہے ؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کی بات اونچی ہو تو وہ فی سبیل اللہ لڑنے والا ہے۔ (صحیح بخاری ج 1 صفحہ 394) فائدہ : عرب کے مشرکوں کے لیے یہی قانون ہے کہ یا تو اسلام قبول کریں یا قتل کردیئے جائیں ان کے علاوہ دوسرے انسانوں کے لیے جان و مال محفوظ کرنے کا یہ بھی طریقہ ہے کہ وہ جزیہ دینا منظور کرلیں وہ مسلمانوں کے ملک میں مغلوب ہو کر رہیں اور اصول شریعت کے مطابق ان سے جزیہ وصول کیا جاتا رہے۔ سورة برأت میں ادائے جزیہ کی صورت میں جنگ بند کرلینے کا ذکر ہے۔ یہاں چونکہ مشرکین عرب کا ذکر ہے اس لیے جزیہ کا ذکر نہیں فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے کہ جزیہ کا قانون بعد میں نازل ہوا ہو۔ فتنوں کو دبانے کے لیے جنگ کرنا : یہ جو فرمایا (وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ) اس میں واضح طور پر فرما دیا کہ قتال فتنہ ختم کرنے کے لیے ہے۔ لفظ فتنہ عام ہے ...... سب سے بڑا فتنہ کفر اور شرک ہے اور اس کے علاوہ فسق و فجور کے فتنے بھی اٹھتے رہتے ہیں کبھی مسلمان بھی آپس میں لڑتے ہیں اس میں بہت سی مرتبہ واضح طور پر کسی جماعت کے بارے میں حق اور ناحق کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ جنگ میں شریک ہونے پر موجود فتنہ میں اضافہ ہوجاتا ہے اس لیے دین دارسمجھ دار آخرت کے فکرمند حضرات اس میں حصہ نہیں لیتے۔ صحیح بخاری ج 2 صفحہ 648 میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی خدمت میں دو آدمی آئے۔ یہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے جنگ وجدال کرنے کا زمانہ تھا۔ ان دونوں نے عرض کیا کہ لوگ ضائع ہو رہے ہیں اور آپ حضرت عمر کے بیٹے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں۔ آپ جنگ میں حصہ کیوں نہیں لیتے ؟ ...... حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے ان دونوں سے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے (مسلمان) بھائی کا قتل کرنا حرام قرار دیا ہے (پھر میں کیسے شرکت کروں ؟ ممکن ہے مجھ سے کوئی ناحق قتل ہوجائے) ان دونوں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ۔۔ (کہ ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے) حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ہم نے دشمنان دین سے یہاں تک جنگ کی کہ فتنہ باقی نہ رہا اور دین اللہ ہی کے لیے ہوگیا اور تم چاہتے ہو کہ یہاں تک جنگ کروں کہ فتنہ وجود میں آجائے اور دین غیر اللہ کے لیے ہوجائے (لہٰذا تمہاری جنگ اللہ کے لیے نہیں ہے میں اس میں کیسے شرکت کروں ؟ ) آج کل قتل و قتال کی کثرت ہے اسلام کا دعوی کرنے والے افراد اور جماعتیں طرح طرح کی عصبیتوں کی وجہ سے اور دشمنان دین کے ابھارنے کے باعث آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کو مسلمان بےتحاشہ قتل کر ڈالتے ہیں اول تو قتل مسلم حرام ہے اور بہت بڑا گناہ ہے جس کی سزا آخرت میں بہت سخت ہے پھر اس سے کفر اور اہل کفر کی تقویت ہوتی ہے اور دشمن کے مقابلہ میں مسلمانوں میں کمزوری آتی ہے۔ یہ وہی فتنہ ہے جس کے پیش نظر حضرت ابن عمر ؓ قتال میں حصہ لینے سے باز رہے اور فرمایا کہ قرآن نے تو یہ فرمایا ہے کہ یہاں تک جنگ کرو کہ فتنہ نہ رہے اور تم اس لیے لڑتے ہو کہ فتنہ ہو۔ تمام مسلمان حضرت ابن عمر ؓ کی بات کو سمجھیں اور باہمی قتل و قتال کرکے دنیا و آخرت کے عذاب اور و بال کے مستحق نہ بنیں۔ جو مشرک اسلام قبول کرلیں ان کو قتل کرنا جائز نہیں : یہ جو فرمایا (فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) اس میں یہ بتایا کہ کافر اور مشرک اگر اسلام قبول کرلیں تو پھر ان کا قتل کرنا جائز نہیں۔ اگر اسلام قبول کرنے کے بعد تم نے ان کو قتل کیا تو تم ظالم ہوجاؤ گے اور پھر تم گرفت اور سزا کے مستحق ہو گے کیونکہ ظالم ہی گرفت کے مستحق ہوتے ہیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو ان پر سختی کرنے کا موقعہ نہ رہا۔ سختی تو ظالموں پر ہوتی ہے جو لوگ کفر و شرک پر مصر ہیں ان پر سختی کرنا درست ہے۔ مفسر بیضاوی ص 134 پر لکھتے ہیں : ای فلا تعتدوا علی المنتھین أذ لا یحسن أن یظلم الا من ظلم أو أنکم ان تعرضتم للمنتھین صرتم ظالمین و ینعکس الأمر علیکم اور معالم التنزیل ج 1 صفحہ 163 میں ہے : أی فان اسلموا فلا نھب ولا أسر ولا قتل الاّ علی الظالمین الذین بقوا علی الشرک۔ لفظ عدو ان کا ترجمہ زیادتی کیا گیا ہے۔ جو اس کا لفظی ترجمہ ہے تعدی اور اعتداء کا مادہ بھی یہی ہے جو لوگ اسلام قبول نہ کریں ان سے قتال کرنے کو عدو ان سے جو تعبیر فرمایا ہے یہ مشاکلۃً ہے یعنی انہوں نے جو کفر پر کمرباندھ رکھی ہے اور اس طرح سے زیادتی کر رکھی ہے تم ان کو اس زیادتی کی سزا دے سکتے ہو ...... انہوں نے زیادتی کی ہے تو تم بھی زیادتی کرسکتے ہو یعنی ان کی زیادتی پر ان کو قتل کرسکتے ہو۔ مسلمانوں کی طرف سے جو ان پر قتل اور غارت گری کی صورت میں سزا ہوگی اسے عدوان فرمایا۔ جیسے محاورات میں کہہ دیتے ہیں کہ فلاں زیادتی کرے تو تم بھی زیادتی کرو حالانکہ زیادتی کا جواب زیادتی نہیں ہوتا۔ و فی التنزیل العزیز وَ جَزَآءُ سَیّْءَۃٌ مِّثْلُھَا۔ (من البغوی البیضاوی)
Ayah 2:194

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ؕ— فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْكُمْ ۪— وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ۟اَلشَّهۡرُ الۡحَـرَامُ بِالشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ وَالۡحُرُمٰتُ قِصَاصٌ‌ؕ فَمَنِ اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ فَاعۡتَدُوۡا عَلَيۡهِ بِمِثۡلِ مَا اعۡتَدٰى عَلَيۡكُمۡ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے عوض، اور حرمتیں معاوضہ کی چیزیں ہیں۔ سو جو شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یقین کرو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے۔

مشرکین کی زیادتی کا جواب صلح کی شرطوں کے مطابق جب نبی اکرم ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ 7 ھ میں عمرۃ القضا کے لیے تشریف لے گئے تو یہ ماہ ذی قعدہ تھا مشرکین مکہ سے مسلمانوں کو خطرہ تھا کہ معاہدہ کی پاسداری نہ کریں اور حملہ کردیں اگر انہوں نے حملہ کیا تو حرمت والے مہینہ میں اور حرم میں جنگ کرنی پڑے گی اور اس سے مکان و زمان دونوں کی حرمت میں فرق آئے گا۔ حرم کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ارشاد فرما دیا کہ (وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ ) اور مہینہ کی حرمت کے بارے میں اس آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر جنگ کرنی پڑے تو تم جنگ کرلینا اور حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے عوض ہوجائے گا یعنی مشرکین حرمت والے مہینہ کا احترام کریں تو تم بھی احترام کرو اور خود سے جنگ نہ کرو وہ بےحرمتی کر بیٹھیں تو تم بھی جوابی کار روائی کرو۔ اور یہ فرمایا والحرمت قصاص اس کا مطلب یہ ہے کہ حرمت عوض اور معاوضہ کی چیزیں ہیں جو لوگ تمہارے ساتھ ان حرمتوں کی رعایت کریں تم بھی ان کی رعایت کرو جس ذات پاک نے حرم اور ماہ حرم میں جنگ کرنے کو حرام قرار دیا اسی کی طرف سے جوابی کار روائی کرنے اور دفاع کرنے کی اجازت مل گئی تو اب حیرانی پریشانی کا کوئی موقعہ نہ رہا۔ پھر فرمایا (فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ) (یعنی جو شخص تم پر زیادتی کرے تو اس پر اتنی ہی زیادتی کرو جتنی زیادتی اس نے تم پر کی ہے) جس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی (یعنی عمرۃ القضاء جس میں دشمنوں کے حملے کا خطرہ تھا) اس کے بارے میں بتادیا کہ زیادتی کرنے والے پر اتنی ہی زیادتی کرسکتے ہو جتنی وہ زیادتی کرے آیت کا نزول اگرچہ خاص موقعہ پر تھا لیکن الفاظ کے عموم نے مستقل قانون بتادیا کہ زیادتی کا جواب بقدر زیادتی ہی دے سکتے ہو اور جتنی زیادتی کسی نے کی ہو اس سے اسی قدر بدلہ لے سکتے ہو اگر اس سے زیادہ کچھ کیا تو پھر تم زیادتی کرنے والے ہوجاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے : آخر میں فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ ) (یعنی بدلہ لینے میں اور ہر موقعہ پر گناہ سے بچو اور اللہ سے ڈرو۔ جس چیز کی اجازت نہیں اسے نہ کرو اور یہ بھی سمجھ لو کہ تقوی اختیار کرنے والوں کا بہت بڑا مقام ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے۔ اگر کسی موقعہ پر نفس کے ابھار کی وجہ سے زیادتی کرنے کا تقاضا ہوا، اور شرعی ممانعت کی وجہ سے اس سے پرہیز کیا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا بدلہ دیں گے۔