Ayah 2:195اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کی ممانعت
مستدرک حاکم ص 275 ج 3 میں ابو عمران سے روایت نقل کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم قسطنطنیہ میں تھے اور امیر المومنین کی طرف سے مصر پر عقبہ بن عامر جہنی اور شام پر فضالہ عامل تھے رومیوں کی ایک بہت بڑی صف (جنگ کرنے کے لیے) سامنے آئی۔ مسلمانوں نے بھی ان کے سامنے بہت بڑی صف بنالی ایک مسلمان نے رومیوں کی صف پر حملہ کردیا۔ یہاں تک کہ وہ ان میں گھس گئے پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر وہاں سے نکلے۔ لوگ کہنے لگے کہ اس نے تو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈال دیا اس پر حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم اس آیت کا مطلب غلط لیتے ہو (اس کا یہ مطلب نہیں کہ دشمنوں سے قتال نہ کرو اور ان پر حملہ آور نہ ہو) یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غلبہ دے دیا اور اس کے مددگار بہت ہوگئے تو بعض انصار نے یوں کہا کہ ہمارے مال ضائع ہوگئے۔ لہٰذا اب اگر ہم مالوں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں مقیم رہیں (تو شاید کچھ حرج نہ ہو) اللہ تعالیٰ شانہ، نے ہمارے ارادوں کی تردید فرمائی اور آیت کریمہ (وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (الایۃ) نازل فرمائی۔ جس سے معلوم ہوگیا کہ مالوں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں بیٹھنے میں ہلاکت ہے۔ پس ہم کو جہاد کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابوایوب ؓ موت آنے تک برابر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے سنن ترمذی کتاب التفسیر (تفسیر سورة البقرہ) میں بھی یہ واقعہ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ مروی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں : فلو اقمنا فی اموالنا واصلحنا ما ضاع منھا۔ (کہ اگر ہم اپنے مالوں میں قیام کرتے اور ان میں جو خرابی و خستگی آگئی ہے اسے ٹھیک کرلیتے تو اچھا تھا) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالانازل فرمائی جس سے واضح ہوا کہ ہلاکت مالوں کی دیکھ بھال اور ان کی اصلاح کے لیے گھروں میں مقیم ہونے اور جہاد چھوڑنے میں ہے۔ آیت کے شان نزول سے معلوم ہوا کہ کافروں کے ساتھ جہاد کرتے رہنے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے رہنے میں اسلام اور مسلمان کی عزت و غلبہ ہے اور اس کو چھوڑنے میں ہلاکت ہے۔
جہاد کی اہمیت اور ضرورت :
درحقیقت جہاد بہت بڑی چیز ہے اس میں بہت بڑی عزت ہے اس سے اللہ کی مدد آتی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ رہتا ہے۔ تاریخ الخلفاء ص 87 میں ابوبکر صدیق ؓ کی مرویات میں بحوالہ طبرانی (فی المعجم الاوسط) حدیث نقل کی ہے۔ ما ترک قوم الجھاد الأعمھم اللّٰہ بالعذاب (جس قوم نے جہاد کو چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ عام عذاب بھیج دیں گے) جب سے مسلمانوں نے فی سبیل اللہ جہاد کرنا چھوڑ دیا ہے اس کی وجہ سے عمومی عذاب بھی دیکھ رہے ہیں مسلمان جہاد کی طرف متوجہ نہیں، یا تو آپس میں لڑتے ہیں یا دشمن کی شہہ پر جنگ کرتے ہیں اور جنگ میں بھی وطن یا زبان کی عصبیتیں پیش نظر ہوتی ہیں اللہ کی رضا کے لیے اور اللہ کی بات اونچی کرنے کے لیے جنگ کرنے کا دھیان بھی نہیں ہوتا۔ لامحالہ دشمن پیٹ دیتا ہے۔ اور جب ایک دشمن دوسرے دشمن کو مسلمانوں کا ملک دلواتا ہے تو اسی کے پاس فریاد لے کر چلے جاتے ہیں اور اسی کے فیصلوں پر راضی ہوجاتے ہیں اس طرح ہلاکت میں پڑ رہے ہیں۔ اللہ کی راہ میں جو جان و مال خرچ کرنے کا حکم ہے مسلمانوں کا کوئی ملک اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ فالی اللّٰہ المشتکیٰ وھو المستعان۔
یہ جو فرمایا : (وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ ) اس کی ایک تفسیر تو وہی ہے جو شان نزول سے معلوم ہوئی اور حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے بیان فرمائی لیکن مفسرین نے اس کا مصداق بتاتے ہوئے اور بھی کئی چیزیں ذکر کی ہیں اور الفاظ کے عموم کے اعتبار سے بہت سی صورتیں اس میں شامل ہیں۔ مال کے خرچ کرنے میں اسراف کرنا، حلال ذریعہ معاش کو ضائع کرنا۔ خود کشی کرنا۔ قصداً و عمداً ایسے کام کرنا جس میں ہلاکت ہو۔ جن مواقع میں مال خرچ کرنا فرض یا واجب ہے وہاں خرچ کرنے سے جان چرانا، گناہوں میں مبتلا رہنا توبہ نہ کرنا۔ اور اس طرح کی بہت سی صورتیں ہیں جو جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے ذیل میں آتی ہیں وہ سب ممنوع ہیں۔
صفت احسان اختیار کرنے کا حکم :
آیت کے آخر میں فرمایا : (وَ اَحْسِنُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) لفظ اَحْسِنُوْا باب افعال میں ہے کہ امر کا صیغہ ہے۔ اور احسان حسن سے ماخوذ ہے۔ حسن خوبی اور اچھائی کو کہتے ہیں اور احسان کسی کام کو عمدہ طریقے پر انجام دینے کو کہا جاتا ہے جو کام کیے جائیں ان کی شرائط اور آداب کا خیال رکھا جائے۔ تاکہ ان میں صف احسان پیدا ہوجائے اور خوبی کے ساتھ انجام دینا صادق آجائے۔ حدیث جبریل میں ہے کہ انہوں نے آنحضرت سرور عالم ﷺ سے جب سوال کیا کہ احسان کیا چیز ہے تو آپ نے عبادت کو احسان بتادیا اور فرمایا : ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک (احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے) زکوٰۃ کو صفت احسان کے ساتھ ادا کریں دکھاوا مقصود نہ ہو، ردی مال نہ دیں جس کو دیں اس پر احسان نہ دھریں، خوش دلی کے ساتھ دیں پوری زکوٰۃ نکالیں، حج میں جنایات نہ کریں۔ جنگ وجدال سے پرہیز کریں۔ حج کرکے نام کرنا مقصود نہ ہو۔ روزہ رکھیں، غیبت اور سب وشتم سے روزہ کی حفاظت کریں یہ سب صفت احسان میں شامل ہے انسانی ضرورت کے لیے جانوروں کے ذبح کرنے کی اجازت دی گئی لیکن اس میں بھی صفت احسان ملحوظ رکھنے کا حکم فرمایا ہے۔ حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے میں خوبی اختیار کرنے کا حکم فرمایا سو جب تم (کسی کو شریعت کی اجازت سے) قتل و قتال کرنے میں خوبی اختیار کرو (مثلاً ہاتھ پاؤں نہ کاٹ دو ، چہرہ نہ بگاڑ دو ) اور جب تم ذبح کرنے لگو تو خوبی کے ساتھ ذبح کرو اپنی چھری کو تیز کرلو اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچاؤ۔ (صحیح مسلم ص 152 ج 1)
Ayah 2:196حج اور عمرہ کے احکام
جہاد کا حکم بیان فرمانے کے بعد اب حج اور عمرہ کے احکام بیان کیے جاتے ہیں۔ جو شخص مکہ معظمہ تک سواری پر آ جاسکتا ہو اور سفر کے اخراجات اس کے پاس ہوں اور بال بچوں کے لیے ضروری اخراجات بھی موجود ہوں اس پر حج کرنا فرض ہے اور حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے اس سے زیادہ جو کوئی شخص حج کرے گا تو وہ نفل ہوگا۔ حج کے کام آٹھ ذوالحجہ سے شروع ہوتے ہیں اور بارہ تیرہ ذوالحجہ تک ختم ہوجاتے ہیں۔ البتہ طواف و داع اس وقت ہوگا جب مکہ معظمہ سے واپس آنے لگیں گے اگرچہ اس سے پہلے بھی جائز ہے (بشرطیکہ اس سے پہلے طوازیارت کرچکا ہو) چونکہ افعال حج کے لیے ایام مقرر ہیں اس لیے حج میں یہ بات نہیں ہے کہ جب چاہے کرلیں۔ اور عمرہ پورے سال میں جس وقت چاہے کرسکتا ہے اس کی کوئی تاریخ مقرر نہیں البتہ ایام حج میں یعنی 9۔ 10۔ 11۔ 2 1۔ 13 ذوالحجہ کو عمرہ کرنا فقہانے مکروہ لکھا ہے۔ (کیونکہ یہ ایام حج کی مشغولیت کے ہیں) عمرہ زندگی میں ایک مرتبہ کرلینا سنت ہے اگر کسی کو مقدور ہو تو عمرہ کی فضیلت سے محروم نہ ہو۔ عمرہ میں احرام اور طواف دو چیزیں فرض ہیں اور صفا مروہ کی سعی اور حلق یا قصر (سر منڈانا یا کاٹنا) جس سے احرام سے نکل جائے یہ دونوں چیزیں واجب ہیں، حج اور عمرہ دونوں کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور ( جس میں گناہ نہ کیے ہوں) اس کی جزا جنت ہی ہے (صحیح بخاری ص 238 ج 1) اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور ایسی باتیں نہ کیں جو مرد و عورت کے درمیان ہوتی ہیں اور گناہ نہ کیے وہ (حج کرکے) ایسا واپس ہوگا جیسا کہ اس دن (بےگناہ) تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ (صحیح بخاری ص 206 ج 1) اور رمضان المبارک میں عمرہ (ثواب میں) حج کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری ص 239 ج 1) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج وعمرہ کے درمیان متابعت کرو (کہ ایک کے بعد دوسرے کو ادا کرو) کیونکہ وہ دونوں تنگدستی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جیسے بھٹی سونے چاندی اور لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ (مشکوٰۃ)
جو لوگ حج کے لیے جاتے ہیں وہ حج سے پہلے یا حج کے بعد عمرہ کر ہی لیتے ہیں لیکن جو لوگ غیر ایام حج میں مکہ مکرمہ جاکر عمرہ کرکے چلے آتے ہیں اور پھر زندگی بھر حج فرض کے لیے نہیں جاتے وہ لوگ ترک حج کرکے گنہگار ہوتے ہیں جس کی و عید بہت شدید ہے۔
حج نہ کرنے پر وعید :
مکہ معظمہ پہنچنے کی قدرت ہوتے ہوئے حج کیے بغیرمرجانا سخت گناہ ہے حدیث شریف میں ہے کہ جسے مجبوری نے ظالم بادشاہ نے یا روکنے والے مرض نے حج سے نہ روکا اور مرگیا اور حج نہ کیا تو چاہے یہودی ہونے کی حالت میں مرجائے یا نصرانی ہونے کی حالت میں مرجائے۔ (مشکوٰۃ ص 222 عن الدارمی)
حج اور عمرہ احرام کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ حج یا عمرہ کی نیت کر کے تلبیہ (یعنی لبیک اللھم لبیک اخیر تک) پڑھنے سے احرام میں داخل ہوجاتا ہے۔ ممنوعات اور محظورات دونوں احراموں کے ایک ہی ہیں۔ ان کی خلاف روزی پر بعض صورتوں میں دم (یعنی حرم مکہ میں ایک سال کی بکری یا بکرا ذبح کرنا) اور بعض صورتوں میں صدقہ بقدر صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔
احرام کے ممنوعات :
احرام کے ممنوعات یہ ہیں (1) خوشبو استعمال کرنا۔ (2) جسم سے بال دور کرنا۔ (3) ناخن کاٹنا۔ (4) خشکی کا شکار کرنا۔ (5) میاں بیوی والے خاص تعلق کو کام میں لانا اور شہوت کے کام کرنا۔ (6) مرد کو ایسا کپڑا پہننا جو پورے بدن یا کسی ایک عضو کی ہیئت اور ساخت پر سی کر یا بن کر یا چپکا کر تیار کیا گیا ہو۔ (7) مرد کو سر یا چہرہ کو کپڑا لگانا اور عورت کو چہرہ پر کپڑا لگانا (اجنبی مردوں سے پردہ کرنے کے لیے چہرہ سے ہٹا کر چادر وغیرہ لٹکالے، پردہ احرام میں بھی لازم ہے) ۔
ان چیزوں کی خلاف ورزی کرنے پر جو دم یا صدقہ واجب ہوتا ہے اس کی تفصیلات کتب فقہ میں مذکور ہیں اور حج کی معتبر کتابوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ مرض کی مجبوری سے اگر بال دور کرے یا ناخن کاٹے یا مرد سلا ہوا کپڑا پہنے یا سر ڈھانکے یا چہرہ ڈھانکے یا عورت چہرہ ڈھانکے تو اس کے لیے رعایت ہے جو ابھی عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ مذکور ہوں گی۔ جب حج یا عمرہ کے احرام سے نکلنے کا شرعاً موقعہ آجائے اس وقت بال مونڈ کر یا بال کاٹ کر احرام سے نکل جائے۔ اس وقت سے پہلے بالوں کے مونڈنے یا تراشنے سے جزا لازم ہوگی۔ عورتوں کو احرام سے نکلنے کے لیے سر مونڈھنا حرام ہے۔ وہ پورے سر کے بال بقدر ایک پورے کے کاٹ کر احرام سے نکل جائے۔ اگر کسی مرد نے بقدر ایک پورے کے چوتھائی سر کے بال کاٹ دئیے یا عورت نے چوتھائی سرکے بال اپنی چوٹی سے بقدر ایک پورے کے کاٹ دئیے تو احرام سے نکل جائیں گے بشرطیکہ احرام سے نکلنے کا وقت ہوچکا ہو۔
احصار کے احکام :
اگر کسی مرد یا عورت نے حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیا اور کسی مرض یا دشمن یا درندہ کی وجہ سے آگے بڑھنے سے روک دیا گیا کہ حج کے احرام والا نہ عرفات جاسکتا ہے نہ طواف کرسکتا ہے۔ اور عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد طواف سے روک دیا گیا تو اس کو احصار کہتے ہیں اور جس محرم کو روک دیا گیا ہو اسے محصر کہتے ہیں۔ محصر اگر انتظار نہیں کرسکتا اور احرام سے نکلنا چاہتا ہے تو وہ حدود حرم میں ایک سال کی بکری ذبح کردے ایسا کرنے سے احرام سے نکل جائے گا۔ اور اس کے بعد احرام کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی اگر حدود حرم میں خود موجود نہیں ہے تو جس جگہ بھی ہے وہاں سے کم از کم ایک سال کی بکری یا بکرا یا اس کی قیمت بھیج دے اور جس کے ذریعے بھیجے اس سے وقت مقرر کرلے کہ فلاں دن فلاں وقت ذبح کر دے۔ جب وہ وقت آجائے اور غالب گمان ہوجائے کہ اب جانور ذبح ہوچکا ہوگا تو احرام سے نکل جائے اب اگر ان کاموں میں سے کوئی کام کرے گا جو احرام کی وجہ سے ممنوع تھے تو جزا لازم نہ ہوگی اور صرف جانور ذبح ہوجانے سے احرام سے نکل جائیگا مگر بہتر یہ ہے کہ مرد محصر ہو تو سر بھی منڈا دے۔ اگر کوئی شخص قارن تھا یعنی اس نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا تو وہ حدود حرم میں دو جانور ذبح کرائے جب یہ دونوں جانور ذبح ہوجائیں گے تو وہ دونوں احراموں سے نکل جائے گا۔
حج وعمرہ کا احرام باندھنے کے بعد پورا کرنا لازم ہے :
اس ساری تفصیل کو سامنے رکھ کر اب آیت کی تفسیر غور سے پڑھیئے۔ اول تو یہ فرمایا (وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ) (کہ حج وعمرہ کو پورا کرو اللہ کے لیے) اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی کوئی مرد یا عورت حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے تو اب احرام کے کپڑے اتار دینے سے یا نیت بدل دینے سے احرام سے نہ نکلے گا اور حج یا عمرہ پورا کرنا ہی ہوگا۔ حج فرض ہو یا نفل، عمرہ سنت ہو یا نفل، اپنا حج ہو یا حج بدل۔ بہر حال پورا کرنا ہی لازم ہے۔ اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ حج یا عمرہ کا احرام تو باندھ لیا لیکن احصار ہوگیا کسی دشمن یا مرض کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور احرام میں رہنے میں دقت ہے اور جلد حلال ہونا چاہتا ہے تو حرم میں قربانی کا جانور ذبح کرا دے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی۔ حرم میں جانور ذبح کرائے بغیر احرام سے نہیں نکل سکتا۔ اسی کو فرمایا : (فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ) کہ اگر تم روک دیئے جاؤ تو جو جانور میسر ہو ذبح کر دو ۔ یا دوسرے سے ذبح کرا دو ۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ جب 7 ھ میں عمرہ کرنے کے لیے اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے تھے اور دشمنوں نے مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ جانور ذبح کرکے احرام سے نکل گئے تھے۔ یہ مقام حدیبیہ کا قصہ ہے جو مکہ معظمہ سے دس میل ہے اور جدہ کے پرانے راستہ پر ہے۔ آج کل اس کو شمیسیہ کہتے ہیں۔ یہ جو فرمایا (وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ ) (اور اپنے سروں کو مت مونڈو، یہاں تک کہ قربانی کا جانور اپنی جگہ پہنچ جائے) جگہ سے مراد حرم ہے۔ اس سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ احصار کا جانور حرم میں ذبح کیا جائے۔ وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ احرام میں سر مونڈنا ممنوع ہے۔
سنن ترمذی (باب ماجاء فی الذی یھل بالحج فیکسر او یعرج) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کا کوئی عضو ٹوٹ گیا یا لنگڑا ہوگیا تو اس کو حلال ہونے کی اجازت ہے اور اس پر آئندہ ایک حج کرنا لازم ہے۔ (وقال الترمذی ھذا حدیث حسن واخرجہ الحاکم فی المستدرک ج 1 ص 470 وقال صحیح علی شرط الشیخین و اقرہ الذھبی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب محصر قربانی کا جانور ذبح کرا کر حلال ہوجائے تو اس کے ذمہ قضاء بھی لازم ہوتی ہے۔
احصار زائل ہوجانے کے بعد :
اگر کسی شخص نے حج کا احرام باندھا تھا اور احصار ہوجانے کی وجہ سے حرم میں جانور ذبح کرا کے حلال ہوگیا پھر حصار دور ہوگیا اور ابھی اسی سال حج کا وقت باقی ہے لہٰذا اس نے دوبارہ احرام باندھ کر اسی سال حج کرلیا تو حج ادا ہوگیا۔ اور اب اس کی قضاء واجب نہیں 1 اور اگر اسی سال حج نہ کرسکا تو حج کی قضا واجب ہے، آئندہ سال یا جب بھی موقع ہو قضا کی نیت سے حج کرے اور اس کے ساتھ ایک عمرہ کرنا بھی واجب ہوگا،
1 المحصر بالحج اذا تحلل ثم زال الاحصار عنہ و حج من عامہ فلیس علیہ نیۃ القضاء ولا عمرۃ علیہ۔
اگر قارن تھا اور اسی سال احرام کے مطابق حج یا عمرہ نہ کرسکا تو اس پر قضا میں ایک حج اور دو عمرے واجب ہوں گے۔
مسئلہ : اگر حج فرض کے احرام میں احصار ہوا تھا اور حرم میں قربانی کرا کر احرام سے نکل گیا تھا تو جب بھی حج کرے قضا کی نیت کرنا واجب نہیں خواہ اسی سال حج کرے یا اس کے بعد۔
مسئلہ : ہر محصر پر قضا واجب ہے خواہ حج فرض ہو یا نفل، اپنا حج ہو یا حج بدل، اگر عمرہ کے احرام میں احصار ہوا تھا تو اس کی قضاء بھی واجب ہے اور اس پر صرف ایک ہی عمرہ کی قضا لازم ہے۔ جب چاہے عمرہ کرسکتا ہے۔ عمرہ کے ساتھ دوسرا عمرہ کرنا واجب نہیں (جبکہ حج قضا کرنے کی صورت میں اس کے ساتھ ایک عمرہ کرنا بھی واجب ہے) ۔
فائت الحج کا حکم :
اگر کسی شخص کو احصار ہوگیا اور وہ حرم میں قربانی کرا کے احرام سے نہ نکلا حتیٰ کہ حج کے دن گزر گئے یعنی احرام باندھنے کے بعد نو ذوالحجہ کو زوال سے لیکر صبح صادق ہونے تک عرفات میں نہ پہنچ سکا۔ تو اس کا حج فوت ہوگیا اور یہ شخص فائت الحج ہوگیا۔ جب حج فوت ہوجائے۔ عذر سے یا بلا عذر تو اسی احرام سے عمرہ کے افعال ادا کرکے یعنی طواف اور سعی کرکے بال مونڈا کر احرام سے نکل جائے پھر آئندہ سال یا جب موقع مل جائے اس حج کی قضا کرلے۔ اس قضا کے ساتھ عمرہ کرنا لازم نہیں۔
مسئلہ : عمرہ میں احصار تو ہوسکتا ہے لیکن عمرہ فوت نہیں ہوتا۔ عمرہ کا احرام باندھ لینے کے بعد جتنے دن بھی گزر جائیں جب بھی عمرہ کرے گا ادا ہوجائے گا۔ کیونکہ وہ پورے سال میں ادا ہوسکتا ہے۔ اگر عمرہ کے احرام کے بعد محصر ہوگیا اور ابھی قر بانی کرا کے احرام سے نہیں نکلا تھا کہ احصار زائل ہوگیا تو اب جا کر عمرہ کرلے۔
عذر کی وجہ سے ارتکاب جنایت کا حکم :
اگر کسی نے حج یا عمرہ کا احرام باندھا اور سر منڈانے پر دکھ تکلیف کی وجہ سے مجبور ہوگیا۔ مثلاً سر میں جوئیں زیادہ پڑگئیں یا پورے سر یا آدھے سر میں درد ہے تو ایسے شخص کو اختیار ہے کہ سر منڈا دے اور چونکہ یہ احرام پر جنایت ہوگی اس لیے یا تو حرم میں ایک سال کی بکری ذبح کر دے یا تین صاع گیہوں چھ مسکینوں کو دے دے۔ ہر مسکین کو آدھا صاع دے (آدھا صاع صدقہ فطر کے برابر ہوتا ہے) یا تین روزے رکھ لے، اگر مالدار ہو تب بھی اختیار ہے کہ ان تینوں کاموں میں سے جو صورت چاہے اختیار کرلے۔
آیت شریفہ میں یہ جو فرمایا ہے۔ (فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْبِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ) (یعنی جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو فدیہ دے دے روزوں سے یا صدقے سے یا قربانی کے جانور سے) اس میں یہی مسئلہ بیان کیا ہے۔
حضرت کعب بن عجرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی، رسول اللہ ﷺ مقام حدیبیہ میں میرے پاس کھڑے ہوئے تھے۔ اس وقت میرے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا کیا یہ جانور تجھے تکلیف دے رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا جی ہاں ! آپ نے فرمایا کہ سر مونڈ لو۔
ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنا سر مونڈ لو اور تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا دے دو یا ایک بکری ذبح کر دو ۔ تیسری روایت میں اس کی تصریح ہے کہ ہر مسکین کو آدھا صاع دے دینا یہ سب روایات صحیح بخاری ص 244 میں مذکور ہیں۔ آیت شریفہ میں جو (فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ) وارد ہوا ہے اس کی تفسیر حدیث شریف سے معلوم ہوگئی۔
مسئلہ : مرض کی معذوری اور سر میں تکلیف ہونے کی مجبوری سے سر منڈانے کا فدیہ اوپر مذکور ہوا اگر کوئی شخص احرام میں ہو اور سخت بخار یا سخت سردی یا سخت گرمی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے سلا ہوا کپڑا پہن لے اور بقدر ایک دن یا ایک رات کے پہنے یا بقدر ایک دن ایک رات کے سر یا چہرہ ڈھانک لے یا علاج کی مجبوری سے زخم پر خوشبو دار دوا استعمال کرلے تو اس صورت میں ایک دم واجب ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ عذر کی وجہ سے جنایت کا ارتکاب کیا ہے اس لیے مذکورہ بالا تینوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔ اگر بلا عذر ان جنایات کا ارتکاب کرے تو دم ہی دینا لازم ہے۔
مسئلہ : اگر بیماری کی مجبوری کی وجہ سے کوئی ایسا کام کیا جس سے بلا عذر کرنے میں صدقہ واجب ہوتا ہے۔ مثلاً ایک دن یا ایک رات سے کم سلا ہوا کپڑا پہنا تو اس صورت میں اختیار ہے کہ ایک مسکین کو آدھا گیہوں دے دے یا اس کے عوض ایک روزے رکھ لے۔
تمتع اور قرآن کا بیان
جو شخص صرف حج کا احرام باندھے اور حج سے پہلے کوئی عمرہ نہ کرے اس کا حج، حج افراد ہوگا۔ اور جو شخص حج سے پہلے حج کے مہینوں میں عمرہ کرے اور پھر اسی سال حج بھی کرے اس کی دو صورتیں ہیں اول یہ کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھ کر جائے پھر عمرہ کرنے کے بعد سر مونڈ کر یا قصر کر کے احرام سے نکل جائے اور ایام حج کا انتظار کرتا رہے پھر ذوالحجہ کی آٹھ تاریخ کو مکہ معظمہ سے حج کا احرام باندھ لے اور حج کے سب کام پورے کرلے جیسا کہ حج افراد والا کرتا ہے۔ اس کو فقہاء کی اصطلاح میں جمع تمتع کہا جاتا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ میقات سے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھے اس کے بعد مکہ معظمہ آکر عمرہ کرلے پھر حلق یا قصر کر کے احرام سے نکل جائے۔ اس کو فقہاء کی اصطلاح میں قرآن کہا جاتا ہے۔ جو صرف حج کرے وہ مفرد ہے اور جو شخص حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنے کی پہلی صورت اختیار کرے وہ متمتع ہے اور جو شخص دوسری صورت اختیار کرے، وہ قارن ہے۔
متمتع اور قارن پر قربانی واجب ہے :
متمتع اور قارن پر جمرہ کبریٰ کی رمی کرنے کے بعد حلق یا قصر سے پہلے قربانی کرنا بھی واجب ہے اس کو دم شکر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ دونوں عبادتیں جمع کرنے کی سعادت نصیب فرمائی ہے، اسی کو فرمایا (فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ) (جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر منتفع ہوا ہو جو قربانی کا جانور میسر ہو ذبح کر دے) ۔
قربانی حرم ہی میں ہونا ضروری ہے اور منیٰ میں ہونا افضل ہے اور بارھویں تاریخ کا سورج چھپنے سے پہلے پہلے قربانی کردینا واجب ہے۔ متمتع اور قارن جب تک قربانی نہیں کرے گا اس وقت تک حلق یا قصر کرنا جائز نہ ہوگا۔ قرآن مجید میں جو لفظ تمتع فرمایا ہے یہ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے ہے اصطلاحی تمتع اور قرآن دونوں کو شامل ہے۔ تمتع اور قرآن کی قربانی میں ایک سال کا بکرا یا بکری یا پانچ سالہ اونٹ یا دو سالہ گائے کا ساتواں حصہ بھی کافی ہوسکتا ہے۔ بشر طی کہ تمام شرکاء کی نیت ثواب کی ہو۔
تمتع اور قرآن کی قربانی کا بدل :
اگر کسی متمتع یا قارن کے پاس قربانی کا جانور نہیں اور پیسے بھی نہیں ہیں تاکہ جانور خرید کر قربانی کرے تو اس کے لیے یہ آسانی ہے کہ عمرہ کا احرام باندھ لینے کے بعد ذوالحجہ کی دسویں تاریخ سے پہلے پہلے تین روزے رکھ لے چاہے متفرق طور پر رکھے چاہے متواتر (لگاتار) رکھے۔ مگر لگاتار رکھنا مستحب ہے اور افضل یہ ہے کہ ذوالحجہ کی ساتویں، آٹھویں اور نویں کو رکھ لے اور اگر اندیشہ ہو کہ نویں کا روزہ رکھنے سے وقوف عرفات کے موقع پر ضعف ہوجائے گا تو اس سے پہلے ہی تینوں روزے رکھ کر فارغ ہوجائے۔ تین روزے تو یہ ہوئے جو حج سے پہلے رکھ لیے اور سات روزے تیرہویں تاریخ کے بعد رکھ لے۔ خواہ مکہ مکر مہ ہی میں مقیم ہو خواہ اپنے گھر یا اور کسی جگہ چلا گیا ہو۔ ان روزوں کو بھی متفرق طور پر رکھ سکتا ہے اور لگا تار رکھنا افضل ہے۔ یہ کل دس روزے ہوگئے جو قربانی کا بدل ہیں۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا (فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ)
مسئلہ : اگر کسی نے دس ذوالحجہ سے پہلے تین روزے نہ رکھے اور نویں تاریخ گزر گئی تو اب روزے رکھنے سے تمتع اور قرآن کی قربانی کا بدل نہیں ہوسکتا بلکہ اب قربانی ہی کرنا متعین ہوگیا۔ اگر قربانی کرنے پر قدرت نہیں ہے تو حلق یا قصر کراکر حلال ہوجائے پھر اگر بارہ تاریخ کے اندر قربانی کرنے پر قادر ہوگیا تو قربانی کر دے اور ایک دم ذبح سے پہلے حلق یا قصر کرنے کا دے اور اگر بارہ تاریخ کے بعد قربانی پر قادر ہوا تو تین دم دینے ہوں گے۔ ایک دم شکر (یعنی تمتع یا قرآن کی قربانی) اور ایک ذبح سے پہلے حلق یا قصر کرنے کا، اور ایک ایام نحر سے ذبح مؤخر کرنے کا۔
مسئلہ : تمتع کی ایک صورت یہ ہے کہ محرم اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لایا ہو ایسے محرم کو سائق الھدی کہتے ہیں۔ جو متمتع سائق الھدی ہو مکہ مکرمہ پہنچ کر عمرہ کرلے لیکن حلق اور قصر نہ کرے ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ آنے تک احرام ہی میں رہے پھر آٹھ تاریخ کو حج کا احرام باندھ لے اور حج افراد کرنے والوں کی طرح حج کرے اور دسویں تاریخ کو جمرہ کبریٰ کی رمی اور ذبح کے بعد حلق یا قصر کرکے دونوں احراموں سے ایک ساتھ نکل جائے۔
مسئلہ : جو شخص مفرد ہو اس پر حج کی قربانی واجب نہیں ہے۔ بلکہ مستحب ہے کہ وہ قربانی کر دے۔ اگر قربانی کرے تو افضل یہ ہے کہ 10 ذی الحجہ کو جمرہ کبریٰ کی رمی کے بعد پہلے ذبح کرلے پھر حلق یا قصر کرے البتہ رمی سے پہلے حلق یا قصر جائز نہیں ہے۔ اگر مفرد نے قربانی سے پہلے حلق یا قصر کردیا تو افضل کے خلاف ہوگا۔
مسئلہ : دم قرآن یا تمتع کی قربانی عید الاضحی کی قربانی کے قائم مقام نہیں ہے۔ عید الاضحی کی قربانی مقیم پر واجب ہے مسافر پر واجب نہیں۔ جو لوگ مکہ مکرمہ میں حج سے پہلے پہنچ کر پندرہ روز قیام کرنے کی نیت کرچکے ہیں ان پر عید الاضحی کی قربانی بھی واجب ہے۔ مگر اس کے لیے حرم میں ہونا شرط نہیں۔ وطن میں بھی خط بھیج کر یا پہلے سے کہہ کر کرائی جاسکتی ہے۔ پھر فرمایا (ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ )
(یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام میں حاضر نہ ہوں) اس میں ائمہ کا اختلاف ہے کہ ذلک کا مشار الیہ کیا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے یہ اشارہ (مَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ ) کی طرف ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ یہ اشارہ جمع بین النسکین کی طرف ہے جو (فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ ) میں مذکور ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے فرمایا ہے کہ تمتع اور قرآن ان لوگوں کے لیے جائز نہیں ہے جو مکہ معظمہ میں یا حل میں رہتے ہیں بلکہ جو شخص مکہ مکرمہ میں اس وقت موجود ہو جب عید کا چاند ہوا تو اس کے لیے بھی تمتع اور قرآن جائز نہیں ہے ہاں اگر یہ لوگ حج کے مہینوں سے پہلے میقات سے باہر کہیں چلے جائیں پھر اشہر حج میں احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آئیں تو قرآن اور تمتع کرسکتے ہیں۔
آخر میں فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ) کہ اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب والا ہے چونکہ ہر کام اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جبکہ اللہ کا خوف دل میں ہو اس لیے بار بار تقویٰ کا حکم دیا جاتا ہے حج کے متعدد احکام بیان فرما کر یہاں بھی (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ) فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ شدید العقاب ہے۔ نافرمانی پر عذاب ہونے کا قانون ہے۔ لہٰذا ہر نافرمانی سے بچو۔
Ayah 2:197حج کے مہینوں کا تذکرہ اور حج کے بعض احکام
حج کا وقت چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حج کے چند مہینے اللہ پاک کی طرف سے مقر رہیں جو معروف و مشہور مہینے ہیں۔ ان میں ماہ شوال اور ماہ ذیقعدہ اور شروع کے دس دن ذوالحجہ کے ہیں افعال حج تو ذوالحجہ کی آٹھویں تاریخ سے شروع ہوتے ہیں لیکن شوال اور ذیقعدہ کو حج کے مہینوں میں اس لیے شمار کیا گیا کہ ان میں اگر کوئی شخص عمرہ کرے اور اس کے بعد اسی سال حج بھی کرے تو وہ عمرہ مل کر حج تمتع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے قربانی واجب ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص شوال سے پہلے عمرہ کرے تو وہ عمرہ مفردہ ہوگا اور اس کی وجہ سے حج تمتع نہ بنے گا۔ اسی طرح اگر کسی کو تمتع یا قرآن کی قربانی کے عوض روزے رکھنے ہیں تو وہ حج کے کسی بھی مہینہ میں عمرہ کے احرام کے بعد تین روزے رکھ سکتا ہے جو ھدی کے عوض حج سے پہلے رکھے جاتے ہیں اگر کوئی شخص حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھ لے تو احرام تو منعقد ہوجائے گا لیکن ایسا کرنا مکروہ ہے۔ یہ سب احکام اس پر متفرع ہیں کہ حج کے مہینے شوال کا چاند دیکھنے سے شروع ہوجاتے ہیں۔ حج ان لوگوں پر فرض ہے جو حج کی استطاعت رکھتے ہوں اور جب حج کی استطاعت ہوجائے تو حج کرنے میں جلدی کرنی چاہئے۔ اگر کسی نے دیر لگائی اور زندگی بھر میں کبھی بھی حج کرلیا تو وہ حج ادا ہی ہوگا۔ فرض ہوتے ہی پہلے سال نہ کرنے سے یہ نہ کہا جائے گا کہ حج قضا ہوگیا۔ جب کسی سال حج کا احرام باندھ لیا تو احرام باندھنے والے نے اپنے ذمہ حج کرنا فرض کرلیا اب حج کرنا ہی ہوگا اور بغیر حج کیے احرام سے نہیں نکل سکتا۔ 1 احرام کی ممنوعات چند صفحات پہلے بیان ہوچکی ہیں ان ممنوعات میں وہ چیزیں بھی ہیں جو غیر احرام کی حالت میں جائز ہیں۔ مرد کو سلے ہوئے کپڑے پہننا اور سر اور چہرہ ڈھکنا بال اور ناخن کاٹنا میاں بیوی والے تعلقات کو کام میں لانا (جماع بوس و کنار اور اس سلسلے کی بےتکلفی والی باتیں کرنا) یہ چیزیں غیر احرام کی حالت میں جائز ہیں لیکن احرام میں جائز نہیں۔ وقوف عرفات سے پہلے جماع کرلے تو حج فاسد ہوجاتا ہے اور شہوت سے بوس و کنار کرے تو دم واجب ہوجاتا ہے۔
حج میں گناہ سے بچنے کی تاکید :
آیت بالا میں جو فَلَا رَفَثَ فرمایا۔ اس میں ان سب چیزوں کی ممانعت فرمادی جو شوہر اور بیوی کے درمیان زوجیت کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی (وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ ) بھی فرمایا۔ فسوق نافرمانی کو کہا جاتا ہے۔ لفظ فاسق اسی سے نکلا ہے۔ ” حج میں نافرمانی نہیں “ اس کا عموم ان سب نافرمانیوں کو شامل ہے جو احکام احرام کی خلاف ورزی کی صورت میں ہوں اور جو باتیں احرام میں بھی گناہ ہیں اور غیراحرام میں بھی گناہ ہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد تلف کرنا وہ بھی سب اس کے عموم میں داخل ہیں، یہ افسوس کی بات ہے کہ بہت سے لوگ حج کرنے نکلتے ہیں تو فرض نمازیں تک چھوڑ دیتے ہیں اور بہت سے لوگ حرام مال ہی سے حج کرنے کو چل دیتے ہیں۔ عورتیں بغیر محرم کے حج کے لیے روانہ ہو
1 ہاں اگر احصار کی صورت پیش آجائے تو اور بات ہے۔
جاتی ہیں۔ عین احرام کے وقت غیبتیں بھی جاری رہتی ہیں اور احرام میں بد نظری کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں اس سے بھی احتیاط نہیں برتی جاتی حالانکہ لَا فُسُوْقَ کے عموم کا تقاضا ہے کہ احرام میں ہر گناہ سے خصوصیت کے ساتھ پرہیز کریں گو گناہوں سے بچنا ہمیشہ ہی لازم ہے۔ حجاج کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ مبارک ایام میں مقدس سر زمین میں حدود حرم میں جہاں صرف عبادت ہی کے لیے آئے ہیں اور بار بار تلبیہ پڑھ رہے ہیں احرام کے لباس میں ہیں پھر بھی چھوٹے بڑے گناہوں میں ملوث رہتے ہیں۔ ڈاڑھی مونڈنے کا گناہ تو ہزاروں حجاج کرتے ہیں۔ احرام سے نکلنے کے لیے ذرا بہت بال کاٹ دیتے ہیں جس سے احرام سے نکلتے بھی نہیں۔ سر کے بال تو مونڈاتے نہیں جس میں حضور اقدس ﷺ کا اتباع ہے اور جو قصر سے افضل ہے لیکن وہیں منیٰ میں بیٹھ کر ڈاڑھی ضرور مونڈ دیتے ہیں عین وقوف عرفات کے موقعہ پر گانے سننے میں مشغول رہتے ہیں حالانکہ قبولیت حج کی شرط یہ ہے کہ رفث اور فسوق کا ارتکاب نہ کیا ہو۔ اس بارے میں حدیث صریح آیت (وَاَتِمُّوا الْحَجَّ ) کے ذیل میں گزر چکی ہے۔
لڑائی جھگڑے سے بچنے کا حکم :
فسوق کی نفی کے بعد جدال کی نفی فرمائی۔ جدال عربی زبان میں لڑنے جھگڑنے کو کہتے ہیں۔ سفر حج میں اول سے اخیر تک بہت سے ایسے مواقع پیش آتے ہیں۔ جہاں رفقائے سفر اور حجاج سے لڑنے کو جی چاہتا ہے۔ کہیں جگہ کی تنگی کی وجہ سے اور کہیں پانی لینے کی بھیڑ میں اور دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ حجاج لڑ پڑتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ معمولی سی باتیں جن پر ہمیشہ اپنے گھروں میں آپس میں مصالحت کرلیتے ہیں ان میں سے کوئی صورت حج میں پیش آجائے تو دل کھول کر لڑائی لڑتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک ابتلاء ہوتا ہے بعض حجاج نے بتایا کہ اندر سے بار بار نفس میں لڑائی کے لیے ابھار ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سنیچر کے دن بنی اسرائیل کے لیے مچھلیاں سمندر کی تہہ سے اوپر آجاتی تھیں لیکن اس دن پکڑنا منع تھا اور دوسرے دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ ابتلاء کے موقعہ پر ہر مسلمان اپنے نفس پر قابو کرے اور شریعت کو سامنے رکھے، قرآن و حدیث کی ہدایت کا اتباع کرے۔
جو بھی خیر کا کام کرو اللہ کو معلوم ہے :
یہ جو فرمایا (وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ ) اس میں یہ بتادیا ہے کہ جو کچھ خیر کا کام کرو گے۔ اللہ اسے جان لے گا اور اس کا ثواب دے گا۔ احرام کی ممنوعات سے بچو اور ان دنوں کو غنیمت جانو، عبادت تلاوت، ذکر اور اعمال صالحہ میں لگاؤ، یہ چیزیں ضائع ہونے والی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان سب کا ثواب ملے گا۔
مخلوق سے سوال کرنے کی ممانعت :
پھر فرمایا : (وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّاد التَّقْوٰی) کہ زاد راہ ساتھ لے لیا کرو کیونکہ بہتر زاد راہ بچا رہنا ہے (بچے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے سوال نہ کیا جائے) اسباب النزول ص 55 میں ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یمن کے لوگ حج کو آتے تھے لیکن سفر کے لیے انتظام کرکے نہیں چلتے تھے (زاد راہ پاس نہ ہوتا تھا) اور کہتے تھے کہ ہم تو کل والے ہیں جب مکہ معظمہ پہنچ جاتے تھے تو لوگوں سے سوال کرتے تھے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ توشہ ساتھ لیا کرو، کیونکہ بہتر توشہ یہ ہے کہ لوگوں سے سوال نہ کیا جائے۔ (صحیح بخاری ج 1 ص 206)
چونکہ ایام حج میں عموماً مال والے ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے ان دنوں میں سوال کرنے والوں کو خوب مواقع ملتے ہیں اور بہت سے لوگ حج اور عمرہ کا سفر ہی حجاج سے مانگنے کے لیے کرتے ہیں بہت سے مردوں اور عورتوں کو دیکھا جاتا ہے کہ وقوف عرفات میں سارا وقت خیمہ خیمہ گھومنے اور لوگوں سے سوال کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 163) میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے ایک شخص کو دیکھا جو عرفات میں لوگوں سے مانگ رہا ہے۔ حضرت علی ؓ نے اس کو ایک درہ مارا اور فرمایا کہ تو آج کے دن میں اور اس جگہ میں غیر اللہ سے سوال کرتا ہے۔
آخر میں تقوی کا حکم دیا اور فرمایا : (وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ ) (کہ اے عقل والو ! مجھ سے ڈرو) ۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے ڈرنا، گناہوں سے بچنا ہر کام میں ضروری ہے اور اس طرح ہر کام خوبی کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔
(کما فی الحدیث علیک بتقوی اللّٰۃ فاتہ ازین لا مرک کلہ۔ مشکوٰۃ ج 2 ص 415)
Ayah 2:198حج میں خریدو فروخت کی اجازت اور مشعر حرام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کا حکم
اس آیت میں اول تو حج کے موقعہ پر کسب معاش کی اجازت دی اور فرمایا کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فضل تلاش کرنے میں تجارت اور محنت مزدوری سب داخل ہیں۔ صحیح بخاری ج 2 ص 647 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز جاہلیت میں لوگوں کی تجارت گاہیں تھیں۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو مسلمانوں نے ان میں تجارت کرنے کو گناہ سمجھنا۔ یہاں تک کہ آیت (لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ) نازل ہوگئی جس میں موسم حج میں تجارت کرنے کی اجازت دی گئی۔
مستدرک ج 1 ص 449 میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں حج کے موقعہ پر (اونٹ وغیرہ) کرائے پر لے جاتا ہوں اور لوگ یوں کہتے ہیں کہ تیرا کوئی حج نہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کیا تو احرام نہیں باندھتا۔ تلبیہ نہیں پڑھتا۔ طواف نہیں کرتا عرفات جا کر واپس نہیں آتا رمی جمار نہیں کرتا ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں یہ تو سب کام کرتا ہوں۔ فرمایا پھر تو تیرا حج ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ آیت (لَیْسَ عَلَیْکُمْ ) (الایۃ) نازل ہوگئی اور آپ نے اس شخص کو بلا کر یہ آیت سنا دی اور فرمایا کہ تیرا حج ہوگیا۔ (قال الحاکم ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ و أقرہ الذھبی)
فتح الباری ج 3 ص 594 میں لکھا ہے کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ ذی قعدہ کی پہلی تاریخ کی صبح سے بیس دن تک مقام عکاظ میں میلہ لگاتے اور تجارت کرتے تھے پھر دس دن مقام مجنہ میں بازار لگاتے تھے پھر یکم ذوالحجہ سے آٹھ ذی الحجہ تک مقام ذی المجاز میں قیام کرتے اور کار و بار جاری رکھتے تھے۔ عکاظ کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ نخلہ اور طائف کے درمیان واقع تھا اور مجنہ کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ مر الظہر ان کے قریب تھا اور ذوالمجاز کے بارے میں لکھا ہے کہ عرفات کے قریب ذرا ایک جانب کو ہٹ کر تھا۔ آیت بالا میں حج کے موقع پر کسب معاش کی جو اجازت دی گئی ہے اس میں انداز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے کہ اگر کوئی تجارت کرے تو اس کی اجازت ہے ایسی کوئی ترغیب نہیں دی گئی کہ اس کو حج کا جزو ہی بنا لیں اور تجارت کو حج کے کاموں میں داخل کرلیں کوئی شخص اپنی نیت اصلیہ کے اعتبار سے حج ہی کے لیے گیا اور موقعہ پاکر خصوصاً ضرورت کے وقت تجارت بھی کرلی تو اس کی گنجائش آیت شریفہ سے معلوم ہوتی ہے۔ سفر حج ہی کے لیے ہونا چاہئے۔ اصل سفر تجارت کا ہو اور حج نمبر دو پر ہو ایسا نہ کیا جائے۔
قال الحافظ فی الفتح ج 3 ص 595 و استدل بھذا الحدیث علی جواز البیع والشراء للمعتکف قیاسا علی الحج والجامع بینھما العبادۃ وھو قول الجمھور، و عن مالک کراھۃ ما زاد علی الحاجۃ کالخبز اذا لم یجدما یکفیہ و کذا کر ھہ عطاء و مجاھد والزھری وَ لاریب انہ خلاف الاولی والآیۃ انما نفت الجناح ولا یلزم من نفیہ نفی اولویۃ مقابلہ واللّٰہ اعلم 1 ھ۔
صاحب روح المعانی ص 87 ج 2 میں لکھتے ہیں چونکہ پہلی آیت میں جدال سے منع فرمایا اور تجارت میں کچھ جھگڑا ہونے کا احتمال رہتا ہے۔ قیمت کی کمی بیشی کے سلسلہ میں نزاع ہوسکتا ہے۔ اس لیے ممکن تھا کہ کہ بعض اذہان جدال کی ممانعت سے تجارت کی ممانعت کی طرف چلے جاتے اس لیے تجارت کی اجازت دے دی۔ تجارت چاہے تو کرلے لیکن جدال اور نزاع سے بچے۔ پھر فرمایا : (فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ )
(پھر جب تم عرفات سے واپس ہو تو اللہ کو یاد کرو مشعر الحرام کے نزدیک) اس میں عرفات سے واپس ہو کر مزدلفہ میں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم فرمایا۔ عرفات مزدلفہ سے تین میل مشرق کی طرف ہے یہ ایک بہت بڑا میدان ہے۔ یہاں پر ٹھہرنا حج کا سب سے بڑا رکن ہے حج کے احرام کے ساتھ کوئی شخص ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو زوال کے بعد سے لے کر آنے والی رات کو صبح صادق تک عرفات میں پہنچ جائے تو اس کا حج ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد فرائض حج میں سے صرف طواف زیارت باقی رہ جاتا ہے۔ عرفات میں ذکر اور دعا میں مشغول رہتے ہیں۔ ظہر و عصر کی نماز بھی اسی وقفہ میں پڑھتے ہیں۔ سورج چھپ جانے کے بعد مزدلفہ کے لیے واپس ہوتے ہیں (جب عرفات گئے تھے تو مزدلفہ ہوتے ہوئے گئے تھے۔ کیونکہ منیٰ سے عرفات کو جاتے ہوئے درمیان میں مزدلفہ آتا ہے) مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی پڑھی جاتی ہے۔ عرفات میں یا راستہ میں نماز مغرب پڑھنا جائز نہیں۔ سورج چھپ جانے کے باو جود قصداً نماز مغرب کو مؤخر کرنا واجب ہے۔ مزدلفہ میں پہنچ کر عشاء دونوں نمازیں اکٹھی پڑھ کر رات کو مزدلفہ میں رہنا سنت ہے اور صبح صادق کے بعد تھوڑی دیر مزدلفہ میں وقوف کرنا واجب ہے اور سنت یہ ہے کہ دیر تک وقوف کرے یہاں تک کہ سورج نکلنے میں تھوڑی دیر رہ جائے تو منیٰ کے لیے روانہ ہوجائے۔ المشعر الحرام مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے جس کا نام جبل قزح ہے رسول اللہ ﷺ نے عرفات سے واپس ہو کر مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی پڑھی۔ پھر آرام فرمایا، اس کے بعد صبح صادق ہوتے ہی نماز فجر اندھیرے میں پڑھ کر المشعر الحرام کے پاس تشریف لے گئے اور قبلہ رخ ہو کر خوب زیادہ روشنی پھیل جانے تک دعا اور تکبیر و تہلیل میں اور توحید باری تعالیٰ اور ذکر کرنے میں مشغول رہے۔ پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کے لیے روانہ ہوگئے۔ (صحیح مسلم ص 399 ج 1)
مزدلفہ سارا وقوف کی جگہ ہے۔ البتہ المشعر الحرام کے قریب وقوف کرنا افضل ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ووقفت ھھنا وجمع کلھا موقف۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 400)
چونکہ سارا ہی مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے اور المشعر الحرام اسی میں ہے اس لیے بعض حضرات نے پورے مزدلفہ کو المشعر الحرام سے تعبیر کردیا ہے۔ (کما ذکر فی الدر المنثور ج ا ص 224 عن عبداللّٰہ بن عمرو و عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنھم) مزدلفہ میں رات کا وقت گزاریں، اور صبح صادق کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے جو وقت ہے اس میں خوب اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں اور دعائیں مانگیں ...... پھر ارشاد فرمایا : (وَ اذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ ) (اور اس کو یاد کرو جیسا کہ اس نے تم کو ہدایت دی) یعنی جس طرح اس نے تم کو ہدایت سے نوازا ہے اور راہ حق پر ڈالا ہے تم بھی اسے خوب اچھی طرح سے یاد کرو اور بعض مفسرین نے اس کا یہ معنی بتایا ہے کہ اللہ کا ذکر اسی طریقے سے کرو جو طریقے اس نے سکھائے اور بتائے ہیں۔ دونوں معانی صاحب روح المعانی نے لکھے ہیں اور تیسرا معنی یہ لکھا ہے کہ : اُذکروہ و عظموہ لأ جل ھدایتہ السابقۃ منہ تعالیٰ لکُمْ ۔ یعنی تم اس کا ذکر کرو اور عظمت کے ساتھ اسے یاد کرو اس وجہ سے کہ اس نے تم کو پہلے سے ہدایت دی ہے۔ پھر فرمایا (وَ اِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ ) (اور حقیقت میں بات یہ ہے کہ تم اس سے پہلے محض ناواقف تھے) یعنی ایمان کو اور طاعات کو نہیں جانتے تھے اور جاہلیت میں جو حج کرتے تھے اس میں جو ذکر کرتے تھے اول تو آباؤ اجداد کا ذکر ہوتا تھا اور تھوڑا بہت جو اللہ کا نام لیتے تھے آخرت میں وہ بھی مفید نہ ہوگا۔ کیونکہ کفر کے ساتھ کوئی نیکی کام نہیں دیتی۔
Ayah 2:199حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ قریش اور وہ لوگ جو ان کے دین پر تھے (بنو عامر، بنو ثقیف، بنو خزاعہ) یہ لوگ زمانہ جاہلیت میں حج کرتے تھے تو عرفات میں نہیں جاتے تھے۔ یہ لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے اور وہیں سے واپس ہوجاتے تھے۔ جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ عرفات میں پہنچیں، اور وہاں وقوف کریں پھر وہاں سے واپس آئیں۔ (ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاض النَّاسُ ) میں یہی حکم مذکور ہے۔ (صحیح بخاری ص 648 ج 1)
تفسیر معالم التنزیل ص 175 ج 1 میں ہے کہ قریش اور ان کے حلفاء اور جو ان کے دین پر تھے مزدلفہ ہی میں ٹھہر جاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ ہم اللہ والے اور اس حرم کے رہنے والے ہیں۔ لہٰذا ہم حرم کو پیچھے نہ چھوڑیں گے اور حرم سے نہ نکلیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے برتر سمجھتے تھے کہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہریں۔ جب دوسرے قبائل عرفات میں وقوف کرکے واپس آتے تھے تو قریش اور ان کے حلفاء مزدلفہ سے ان سب لوگوں کے ساتھ واپس آجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ عرفات میں وقوف کریں پھر وہاں سے سب لوگوں کے ساتھ مزدلفہ میں آئیں۔
حضور اقدس ﷺ بھی قریشی تھے اس لیے حجتہ الوداع کے موقع پر قریش کو اس میں شک نہ تھا کہ آپ ہماری طرح مزدلفہ ہی میں ٹھہر جائیں گے لیکن رسول اللہ ﷺ مزدلفہ کو چھوڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ عرفات پہنچ گئے۔ (کمافی صحیح مسلم ص 397 ج 1)
آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان پر عمل کیا اور سب صحابہ بھی آپ کے ساتھ عرفات پہنچے اور پھر وہاں سے آفتاب غروب ہونے پر واپس ہوئے۔
لفظ ثم جو اس آیت میں وارد ہوا ہے اس کی وجہ سے بعض اہل تفسیر نے یوں کہا ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں مزدلفہ سے منیٰ کو واپس ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ عرفات سے واپس ہونے کا ذکر گزشتہ آیت میں ہوچکا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت میں تقدیم و تاخیر ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ثم واؤ کے معنی میں ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے یہ تینوں قول لکھے ہیں بظاہر یہ تیسرا قول زیادہ مناسب ہے اور یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ثم ترتیب ذکری کے لیے ہے ترتیب عمل کے لیے نہیں ہے۔ (قال ابن کثیر ص 242 ج 1) ثم ھھنا لعطف خبر علی خبر و ترتیبہ علیہ کانہ تعالیٰ امر الواقف بعرفات ان یدفع الی المزدلفۃ لیذکر اللّٰہ تعالیٰ عند المشعر الحرام و امرہ ان یکون وقوفہ مع جمھور الناس بعرفات الخ۔
Ayah 2:200ایام منیٰ میں ذکر اللہ میں مشغول ہونے کا حکم
دسویں ذوالحجہ کو مزدلفہ سے واپس آ کر جمرہ کبریٰ کو کنکریاں ماری جاتی ہیں اور پھر حلق اور قصر کر کے احرام سے نکل جاتے ہیں اس کے بعد طواف زیارت اور دو یا تین دن کی رمی یعنی کنکریاں مارنا باقی رہ جاتا ہے۔ زمانہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ حج سے فارغ ہو کر اپنے باپ دادوں کا تذکر کیا کرتے تھے اور مقابلہ میں اشعار پڑھتے تھے اور اپنے قبیلوں کی بڑائی بیان کرتے تھے۔
اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ حج کے کاموں سے فارغ ہو کر اللہ کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے رہے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اللہ کو یاد کرو۔ (روح المعانی ص 89 ج 2)
صاحب معالم التنزیل نے مناسککم کا ترجمہ نسائککم کیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ جب تم حج سے فارغ ہوجاؤ اور قربانی کے جانور ذبح کرلو تو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ۔
و ذلک بعد رمی جمرۃ العقبۃ والاستقرار بمنی۔ (ص 178۔ ج 1)
پھر دعا کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے صرف دنیا ہی طلب کرتے ہیں یہ لوگ حج میں بکریاں، اونٹ، گائیں، اور غلام مانگا کرتے تھے۔ صرف طالب دنیا تھے۔ آخرت کا انہیں کچھ بھی دھیان نہ تھا یہ لوگ یوں دعا کرتے تھے۔ اے اللہ میرے باپ کا عظیم قبہ تھا، بڑا پیالہ تھا اور وہ کثیر المال تھا مجھے بھی اسی قدر مال عطا فرما جتنا اس کو دیا تھا۔ (معالم التنزیل ص 176 ج 1)
Ayahs 2:201–202ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے آخرت میں ذرا سا بھی حصہ نہیں ہے پھر اہل ایمان کی دعا کا تذکرہ فرمایا کہ وہ یوں دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہم کو دنیا میں بھی بہتر عطا فرما اور آخرت میں بھی بہتر عطا فرما، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اہل ایمان دونوں جہاں کی کامیابی، خوشحالی اور خوبی و بہتری کے لیے دعا کرتے ہیں۔ لفظ حَسَنَۃٌ حَسَنٌ کی تانیث ہے جو ہر خوبی اور ہر بہتری کو شامل ہے مذکورہ دعا میں دنیا کی ہر خوبی اور آخرت کی ہر خوبی اور بہتری کا سوال ہے اور اس میں بڑی جامعیت ہے۔
صحیح بخاری ص 945 ج 2 میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے۔ (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَاب النَّارِ )
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کی عیادت کی جن کی آواز بہت ہی کمزور ہوگئی تھی اور وہ چوزہ کی طرح دبلے ہوگئے تھے، آپ نے فرمایا کیا تم اللہ سے کوئی دعا کرتے رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں میں یہ دعا کرتا تھا کہ یا اللہ مجھے جو کچھ سزا آخرت میں دینی ہو وہ دنیا ہی میں دے دیجیے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ سبحان اللہ ! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے تم نے دعا میں یوں کیوں نہ کہا۔
(رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَاب النَّارِ )
راوی حدیث حضرت انس فرماتے ہیں کہ ان صاحب نے اس کے بعد یہ دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو شفا عطاء فرما دی۔ (صحیح مسلم ص 343 ج 2) سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکن یمانی اور حجرا سود کے درمیان طواف کرتے ہوئے ربنا اتنا فی الدنیا (آخر تک) پڑھتے تھے۔