2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:143

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا ؕ— وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْهِ ؕ— وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَی الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ ؕ— وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۟وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَةَ الَّتِىۡ كُنۡتَ عَلَيۡهَآ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ يَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ يَّنۡقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيۡهِ ‌ؕ وَاِنۡ كَانَتۡ لَكَبِيۡرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيۡنَ هَدَى اللّٰهُ ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيْعَ اِيۡمَانَكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی جماعت بنادیا جو اعتدال والی ہے تاکہ تم ہوجاؤ لوگوں پر گواہ اور ہوجائے رسول تم پر گواہ اور جس قبلہ پر آپ تھے اسے ہم نے مقرر نہیں کیا مگر اس لیے کہ ہم جان لیں کون اتباع کرتا ہے رسول کا اس سے ممتاز ہو کر جو پیچھے پلٹ جاتا ہے اپنے الٹے پاؤں، اور بیشک یہ قبلہ بدلنا بھاری بات ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ ضائع کرے تمہارے ایمان کو۔ بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا مشفق مہربان ہے۔

امت محمدیہ ساری امتوں سے افضل ہے ابھی قبلہ کا مضمون باقی ہے۔ درمیان میں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیہ کی فضیلت بیان فرمادی۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تمہارا قبلہ سب قبلوں سے افضل بنا دیا اسی طرح ہم نے تم کو اعتدال والی امت بنا دیا اور ساری امتوں سے افضل امت بنا دی۔ اس امت کی افضلیت کا ظہور میدان حشر میں اس طرح سے ہوگا کہ یہ امت تمام امتوں کے بارے میں گواہی دے گی اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے بارے میں گواہی دیں گے کہ ہاں میری امت عدل ہے ثقہ ہے اس کی گواہی معتبر ہے۔ دوسری امتوں کے مقابلہ میں اس امت کی گواہی اور اس پر فیصلے : حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز حضرت نوح (علیہ السلام) کو لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ تم نے تبلیغ کی ؟ وہ عرض کریں گے کہ یا رب میں نے واقعتا تبلیغ کی تھی۔ ان کی امت سے سوال ہوگا کہ بولو انہوں نے تم کو احکام پہنچائے ؟ وہ کہیں گے نہیں۔ ہمارے پاس تو کوئی نذیر (ڈرانے والا) نہیں آیا۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے دعوے کی تصدیق کے لیے گواہی دینے والے کون ہیں ؟ وہ جواب دیں گے کہ حضرت محمد ﷺ اور ان کے امتی ہیں۔ یہاں تک بیان فرمانے کے بعد آنحضرت سید عالم ﷺ نے اپنی امت کو خطاب کرکے فرمایا کہ اس کے بعد تم کو لایا جائے گا اور تم گواہی دو گے کہ بیشک حضرت نوح ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تھی، اس کے بعد آنحضرت سید عالم ﷺ نے آیت ذیل تلاوت فرمائی : (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) ” اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک جماعت بنا دیا ہے جو نہایت اعتدال پر ہے تاکہ تم دوسری امتوں کے لوگوں کے مقابلہ میں گواہ بنو، اور تمہارے لیے رسول ﷺ گواہ بنیں۔ “ یہ بخاری شریف کی روایت ہے۔ (ص 645 ج 2) اور مسند احمد وغیرہ کی روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے علاوہ دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتیں بھی انکاری ہوں گی اور کہیں گے کہ ہم کو تبلیغ نہیں کی گئی ان کے نبیوں سے سوال ہوگا کہ تم نے تبلیغ کی ؟ وہ اثبات میں جواب دیں گے کہ واقعی ہم نے تبلیغ کی تھی۔ اس پر ان سے گواہ طلب کیے جائیں گے تو وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو گواہی میں پیش کریں گے۔ چناچہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی امت سے سوال ہوگا کہ اس بارے میں آپ لوگ کیا کہتے ہیں ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ہم پیغمبروں کے دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ سے سوال ہوگا کہ تم کو اس معاملہ کی کیا خبر ہے ؟ وہ جواب میں عرض کریں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی تشریف لائے اور انہوں نے خبر دی کہ تمام پیغمبروں نے اپنی اپنی امت کو تبلیغ کی۔ (درمنثور ص 144 ج 1) آیت کا عموم (لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) بھی اس کو چاہتا ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے علاوہ دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کے مقابلوں میں بھی امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ گواہی دے گی۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ بعض روایات میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ جب امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ دوسری امتوں کے بارے میں گواہی دے گی کہ ان کے نبیوں (o) نے ان کو تبلیغ کی ہے تو سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو لایا جائے گا اور آپ سے آپ کی امت کے بارے میں سوال کیا جائے گا کیا آپ کی امت عادل ہے گواہی کے لائق ہے ؟ اس پر آپ ان کا تزکیہ فرمائیں گے کہ واقعی میری امت عدل ہے۔ گواہی کے لائق ہے اس کی گواہی معتبر ہے۔ (ص 5 ج 2) بلاشبہ اس امت کا بڑا مرتبہ ہے اور بڑی فضیلت ہے جس کا میدان حشر میں تمام اولین و آخرین کے سامنے ظہور ہوگا۔ یہ امت خیر الامم ہے اس کو افضل الانبیاء کی امت ہونے کا شرف حاصل ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے سب کتابوں میں سے افضل کتاب عطا فرمائی جو اللہ کی کتاب ہی نہیں اللہ کا کلام بھی ہے جو چھوٹے بچوں تک کے سینوں میں محفوظ ہے اور صیغر و کبیر سب کے وردزباں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو تمام بنی آدم سے منتخب فرمایا۔ سورة حج میں ارشاد ہے۔ (وَ جَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَ اجْتَبٰکُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَ تَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) ” اور اللہ کے کام میں خوب کوشش کیا کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔ اس نے تم کو منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کسی قسم کی تنگی نہیں کی، تم اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر قائم رہو اللہ نے تمہارا لقب مسلمان رکھا پہلے بھی اور اس (قرآن) میں بھی تاکہ تمہارے لیے رسول گواہ ہوں اور تم لوگوں کے مقابلہ میں گواہ بنو۔ “ امت محمدیہ کی آپس میں گواہی پر بخشش کے فیصلے : اس امت کی فضیلتوں میں یہ بہت بڑی فضیلت ہے کہ اس کی گواہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معتبر ہے ان کی گواہی سے دوسری امتوں کے خلاف فیصلہ ہوگا اور آپس میں بھی ان کی گواہی معتبر ہے۔ حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ کچھ لوگ ایک جنازے کو لے کر گزرے تو حاضرین نے اس جنازہ کے بارے میں اچھے کلمات کہے اور اس کی تعریف کی۔ آپ نے فرمایا وَجَبَتْ پھر دوسرا جنازہ لے کر گزرے تو حاضرین نے برائی کے ساتھ اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے اس پر بھی وَجَبَتْ فرمایا۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ وَجَبَتْ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کے بارے میں تم نے خیر کے کلمات کہے لہٰذا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور اس کے بارے میں تم نے شر کے الفاظ استعمال کیے اس کے لیے دوزخ واجب ہوگئی۔ انتم شھدآء اللہ فی الارض یعنی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ (صحیح بخاری ص 183 ج 1) حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی مسلمان کے لیے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ ہم نے عرض کیا کہ اگر دو شخص گواہی دے دیں ؟ آپ نے فرمایا، دو کا بھی یہی حکم ہے۔ پھر ہم نے ایک کی گواہی کے بارے میں دریا فت نہیں کیا۔ (صحیح بخاری 183 ج 1) تفسیر درمنثور ص 145 ج 1 میں بحوالہ مسند احمد و سنن ابن ماجہ وغیرہ حضرت ابو زہیر ثقفی سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ایسا ہوگا کہ تم اچھے لوگوں کو برے لوگوں سے ممتاز کرسکو گے۔ اور جان سکو گے کہ کون کیسا ہے۔ حضرات صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ اچھا ذکر ہونے سے اور برا ذکر ہونے سے (یعنی جسے مسلمان اچھا کہیں وہ اچھا ہے اور جسے برا کہیں وہ برا ہے) تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ اھ۔ گواہی دینے کے اس بڑے مرتبہ سے وہ لوگ محروم ہوں گے جو لعنت کے الفاظ زیادہ نکالتے ہیں۔ سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زیادہ لعنت کرنیوالے قیامت کے دن نہ شہید ہوں گے نہ شفیع ہو نگے۔ (یعنی قیامت کے دن یہ لوگ نہ گواہی دینے کے اہل ہو نگے اور نہ سفارش کرنے کے لائق ہوں گے) ۔ امت محمدیہ کا اعتدال اور لفظ وسطا کی تشریح : امت محمدیہ کی تعریف میں (اُمَّۃً وَّسَطًا) فرمایا لفظ وسط کا معنی بہترین بھی کیا گیا ہے اور عدول بھی کیا گیا ہے عدول، عدل کی جمع ہے۔ عدل اس کو کہتے ہیں جو ثقہ ہو۔ منصف ہو اور اس کی گواہی معتبر ہو۔ اوصاف عالیہ سے متصف ہو۔ خیر کی صفات کو جامع ہو۔ برائیوں سے دور ہو، اور بعض حضرات نے اس کا معنی معتدل کا بھی کیا ہے یعنی یہ امت ہر اعتبار سے اعتدال پر ہے اس کے اخلاق اور اعمال سب میں اعتدال ہے افراط اور تفریط سے بری ہے۔ نہ عبادات سے غفلت ہے نہ راہبوں کی طرح دنیا کو چھوڑ کر پہاڑوں میں رہنا ہے۔ ساری رات نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نفس اور بیوی اور مہمان کے حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دی گئی۔ روزانہ روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا۔ نہ فضول خرچی ہے نہ بخل بلکہ درمیانی راہ ہے جس کا نام جود ہے۔ اسی طرح نہ بزدلی نہ ضرورت سے زیادہ بہادری جس سے لوگوں پر ظلم ہوجائے بلکہ ان کے درمیان شجاعت ہے ظالم بھی نہیں اور مظلوم رہنے کو بھی تیار نہیں۔ نہ عورتوں کو سردار بنایا گیا نہ ان کی مظلومیت روا رکھی گئی۔ نہ ہر فعل حلال قراردیا گیا نہ ہر چیز کا کھانا جائز کیا گیا بلکہ حلال حرام کی تفصیلات بتائی گئیں۔ ضرر دینے والی اور خبیث چیزوں کے کھانے سے منع کردیا گیا، جن سے اخلاق و اجسام پر برا اثر پڑے، طیب اور حلال چیزوں کے کھانے کی اجازت دی گئی۔ انسانیت کو اونچا کیا گیا۔ بہیمیت سے بچایا گیا۔ بربریت سے دور رکھا گیا۔ حد یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ عین میدان جنگ کے موقع پر عمل کرنے کے لیے بھی ایسے احکام صادر فرمائے جن میں اعتدال ہی اعتدال ہے بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا گیا مُثْلَہْ کرنے یعنی دشمن کے ہاتھ پاؤں، ناک، کان کاٹنے سے منع فرمایا۔ معاشی نظام میں زکوٰۃ فرض کی گئی۔ نفلی صدقات کا بھی حکم دیا گیا۔ میراث کے احکام جاری کئے گئے تاکہ دولت ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے۔ جان کا بدلہ قصاص مقرر کیا گیا لیکن خطا میں دیت رکھی گئی۔ اور قصاص واجب ہونے کی صورت میں اولیاء مقتول کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو قصاص لے لیں۔ چاہیں دیت لے لیں۔ حدیث اور فقہ کی کتابوں میں عام ابواب پر نظر کی جائے تو احکام میں سراسر اعتدال ہی نظر آتا ہے۔ تحویل قبلہ امتحان کے لیے ہے امت محمدیہ کی فضیلت ظاہر فرما کر پھر قبلہ کے موضوع سے متعلق باقی بیان شروع ہوتا ہے۔ بیت المقدس کی طرف جو سولہ سترہ مہینے تک نمازیں پڑھی گئیں، پھر کعبہ شریف کی طرف نماز میں رخ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے پہلے قبلہ کی بجائے دوسرے قبلہ کی طرف رخ کرنے کا جو حکم دیا اس میں یہ حکمت ہے کہ ہم جان لیں کہ رسول کا اتباع کون کرتا ہے اور تبدیل قبلہ کی وجہ سے کون الٹے پاؤں لوٹتا ہے اور اتباع رسول سے رو گردانی کرتا ہے۔ مومن بندوں کا مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت ہے۔ جدھر منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوگیا وہی جہت قبلہ ہے۔ فرمانبر دار بندوں کے لیے حق تعالیٰ شانہ کے احکام ماننے میں ذرا بھی کوئی جھجک نہیں ہوتی اور نہ ان کے نزدیک چون چرا کا مواقع ہوتا ہے۔ زبان تازہ کردن باقرار تو نینگیختن علت از کار تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قبلہ بدلنے میں یہی حکمت تھی کہ ہم جان لیں یعنی علم ازلی کا ظہور ہوجائے کہ کون ہمارے رسول کا اتباع کرتا ہے اور کون منکر اور منحرف ہوجاتا ہے اور الٹے پاؤں چلا جاتا ہے۔ جب قبلہ بدلنے کا حکم ہوا تو بعض ضعیف الایمان، ایمان سے پھرگئے اور انہوں نے کہا کہ کبھی ادھر نماز پڑھنے کا حکم ہوتا ہے اور کبھی ادھر (اس کو بہانہ بنا کر مرتد ہوگئے) ۔ (نقلہ فی الدر المنثور عن ابن جریج ص 146 ج 1) اللہ تعالیٰ کو سب اختیار ہے بندوں کو جو چاہے حکم دے لیکن جاہلوں بیوقوفوں اور منافقوں اور یہودیوں کے نزدیک قبلہ بدلنا بہت بڑی چیز ہوگئی۔ ان کے نفسوں پر یہ امر بہت شاق گزرا۔ اور اسے ہدف طعن وتشنیع اور محل اعتراض بنا لیا اور مومنین کے لیے اس میں کوئی اشکال اور اعتراض کی بات ہی نہیں ہے۔ فرمانبر دار یوں بھی خوش ہے۔ اور یوں بھی راضی۔ وہ تو پابند حکم ہے۔ اسے فرمانبر داری کے سوا اور کچھ مطلوب نہیں۔ قال صاحب الروح ص 6 ج 2 و ان کانت الکبیرۃ ای شاقۃ ثقلیۃ، والضمیر لمادل علیہ قولہ تعالیٰ و ما جعلنا (الخ) من الجعلۃ او التولیۃ أو الردۃ او التحویلۃ الصیرورۃ او المتابعۃ أو القبلۃ و فائدہ اعتبار التانیث علی بعض الوجوہ الدلالۃ علی ان ھذا الرد و التحویل بوقوعہ مرۃ واحدۃ و قولہ الاعلی الذین ھدی اللہ ای الی سرالاحکام الشرعیۃ المبنیۃ علی الحکم والمصالح اجمالا اوتفصیلا والمراد بھم (من یتبع الرسول) من الثابتین علی الایمان الغیر المتزلزلین المنقلبین علی أعقابھم (1 ھ بحذف) قبلہ اولیٰ کی طرف جو نمازیں پڑھی گئیں ان کا ثواب ضائع نہیں : پھر فرمایا (وَمَاکَان اللّٰہُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ ) (اور اللہ نہیں ہے کہ ضائع کرے تمہارے ایمان کو) تفسیر درمنثور میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بحوالہ سنن ترمذی و معجم طبرانی و مستدرک حاکم حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو نماز میں کعبہ شریف کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو حضرات صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ جو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھتے رہے (اور قبلہ بدلنے سے پہلے وفات پا گئے) اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمان کو ضائع فرما دے۔ اس آیت میں نماز کو ایمان فرمایا اس سے نماز کا رتبہ معلوم ہوگیا۔ بعض روایات میں نماز کے بارے میں فرمایا ہے کہ اسلام میں نماز کا مرتبہ ایسا ہے جیسے انسان کے جسم میں سر کا مرتبہ ہے۔ (الترغیب ص 246 ج 1) سر موجود ہے تو جسم کی بھی حیثیت ہے۔ جسم سے سر کٹ گیا تو کچھ بھی نہ رہا۔ آیت کے اخیر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ بالنَّاسِ لَرَءُوُفٌ رَّحِیْمٌ) (کہ بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا مشفق اور مہربان ہے) اللہ تعالیٰ حکیم بھی ہے حاکم بھی ہے۔ وہ حکمت کے مطابق ان کاموں کا لوگوں کو حکم دیتا ہے جن میں بندوں کا بھلا اور نفع ہوتا ہے ہر حکم میں ان کے ساتھ رافت اور رحمت کا معاملہ ہے۔ جو نمازیں حکم کے مطابق پڑھ لی گئیں ان کے ضائع ہونے کا وہم و گمان صحیح نہیں۔ وہ عمل صحیح کو ضائع نہیں فرماتا جو حکم کے مطابق انجام دیا گیا ہو، لفظ رحمت اور رأفت دونوں ہی مہربانی کے معنی میں آتے ہیں لیکن رأفت میں رحمت سے زیادہ مبالغہ ہے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ ۚ— فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا ۪— فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ— وَحَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ ؕ— وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ؕ— وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ۟قَدۡ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِى السَّمَآءِ‌‌ۚ فَلَـنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةً تَرۡضٰٮهَا‌ ۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ شَطۡرَهٗ ‌ؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ لَيَـعۡلَمُوۡنَ اَنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

ہم دیکھ رہے ہیں آپ کا آسمان کی طرف باربار منہ اٹھانا پس ہم آپ کو ضرور ضرور متوجہ کردیں گے ایسے قبلہ کی طرف جس سے آپ راضی ہوں گے، سو آپ پھیر دیجیے اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف، اور جہاں کہیں بھی تم لوگ ہو سو اپنے چہروں کو مسجد حرام کی طرف متوجہ کیا کرو۔ اور بلاشبہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی وہ ضرور جانتے ہیں کہ بلاشبہ یہ حکم حق ہے ان کے رب کی طرف سے ہے۔ اور اللہ غافل نہیں ان کاموں سے جن کو تم کرتے ہو۔

کعبہ شریف کی طرف رخ کرنے کا حکم اور آنحضرت ﷺ کو شدت سے اس کا انتظار حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ جس زمانہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ سلام پھیر کر آسمان کی طرف (اس انتظار میں) منہ اٹھاتے کہ کعبہ شریف قبلہ مقرر کیا جائے۔ لہٰذا آیت (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ ) نازل ہوئی۔ علامہ واحد ی اسباب نزول ص 39 میں لکھتے ہیں کہ حضرت نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہود کے قبلہ سے ہٹا کر میرے لیے کوئی دوسرا قبلہ مقرر فرما دے اور مقصد یہ تھا کہ کعبہ شریف قبلہ مقرر ہوجائے کیونکہ وہ قبلہ ابراہیمی ہے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ میں بھی تو آپ کی طرح ایک بندہ ہوں۔ کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔ آپ اپنے رب سے سوال کریں کہ وہ آپ کو قبلہ ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا حکم فرما دے۔ اس کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) اوپر چڑھ گئے اور رسول اللہ ﷺ برابر اس امید میں آسمان کی طرف نظر فرماتے رہے کہ جبرائیل آپ کی خواہش کے مطابق حکم خداوندی لے کر نازل ہوں۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ ہجرت کے بعد آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھتے رہے اور یہ سولہ سترہ مہینے تک رہا۔ پھر آنحضرت ﷺ کی خواہش پر کعبہ شریف کو قبلہ مقرر کردیا گیا۔ اور کعبہ شریف کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا اور عمومی طور پر سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو (مکہ یا مدینہ میں یا بیت المقدس میں یا دنیا کے کسی گوشہ میں) مسجد حرام ہی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔ جہت قبلہ سے تھوڑا سا انحراف مفسد صلوٰۃ نہیں ہے : مسجد حرام اس مسجد کا نام ہے جو کعبہ شریف کے چاروں طرف ہے۔ اس پر ساری امت کا اتفاق ہے کہ کعبہ شریف ہی قبلہ ہے چونکہ کعبہ شریف مسجد حرام کے اندر ہے اس لیے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم فرمایا۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خاص کعبہ ہی کی طرف ہو دور اور قریب کے نمازی کو رخ کرنا لازم نہیں بلکہ مسجد حرام کی طرف منہ کرنے سے نماز ہوجائے گی۔ جو لوگ مسجد حرام میں حاضر نہ ہوں چونکہ عین کعبہ کی طرف رخ کرنا ان کی قدرت سے باہر ہے اس لیے آسانی اور رفع حرج کے لیے مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ لیکن جو شخص مسجد حرام میں موجود ہے اس کے لیے لازم ہے کہ عین کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے۔ تفسیر قرطبی ص 159 ج 2 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کعبہ شریف مسجد حرام والوں کا قبلہ ہے اور مسجد حرام اہل حرم کا قبلہ ہے اور حرم شرقاً و غرباً میری تمام امت کے لیے قبلہ ہے زمین میں جہاں کہیں بھی ہوں، فقہا نے لکھا ہے کہ جس جہت پر کعبہ شریف ہو اس طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی۔ تھوڑا سا انحراف مفسد صلاۃ نہیں۔ جب کوئی شخص جہت کی طرف رخ کرکے کھڑا ہو اور کعبہ شریف سے دائیں یا بائیں جانب 45 درجے کے اندر انحراف ہوگیا تو نماز ہوجائے گی۔ قرآن مجید میں جو (شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام) فرمایا ہے اس سے حضرات فقہا نے یہ استنباط کیا کہ کعبہ شریف کے رخ پر نماز پڑھنا کافی ہے۔ اگرچہ تھوڑا سا انحراف ہوجائے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی ما بین المشرق والمغرب قبلۃ (رواہ التر مذی) فرما کر یہ بتادیا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان جو جہت ہے اس طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے نماز ہوجائے گی۔ یہ آپ نے اہل مدینہ کے لیے فرمایا کیونکہ کعبہ شریف مدینہ منورہ سے جنوب کی طرف واقع ہے۔ اور وہاں سے جہت جنوب مشرق اور مغرب کے درمیان پڑتی ہے۔ پورے عالم میں بسنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے استقبال کے بارے میں یہ بہت آسانی دی گئی ہے۔ کہ وہ جہت قبلہ کی طرف نماز پڑھ لیں۔ تھوڑا سا انحراف ہوجائے تب بھی نماز ہوجائے گی۔ احکام شرعیہ کو اللہ جل شانہ نے اس قدر آسان رکھا ہے کہ ہر گاؤں جنگل اور پہاڑ اور جزیرہ میں بسنے والے مسلمان احکام شریعت پر عمل کرسکتے ہیں۔ اوقات نماز طلوع و غروب کے مشاہدہ سے سمجھ لیتے ہیں۔ اسی طرح حسابات اور ریاضی اور ہیئت اور آلات رصدیہ کے احتیاج کے بغیر کسی تکلف کے اپنا قبلہ مقرر کرسکتے ہیں یعنی جہت کعبہ کی طرف نماز پڑھ سکتے ہیں جس میں کافی وسعت ہے۔ ہاں مسجدیں بناتے وقت خوب محقق کرکے قبلہ مقرر کرنا افضل ہے۔ کعبہ شریف کو قبلہ بنانے میں حکمت : اللہ جل شانہ، کی ذات پاک سمت اور جہت سے بالا اور برتر ہے۔ مشارق اور مغارب سب اس کی ملکیت ہیں۔ اسی لیے (قُلْ لِّلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ) فرمایا۔ تاہم نماز میں اجتماع اور وحدت کے لیے تمام دنیا کے تمام انسانوں کا رخ کسی ایک جہت کی طرف ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا کعبہ شریف کو آخر میں قبلہ نماز مقرر فرما دیا گیا اور کعبہ شریف چونکہ اول حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا اور وہ سب سے پہلے پیغمبر تھے اور تمام انسانوں کے باپ تھے اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا جن کو ان کے بعد آنے والی تمام قومیں مانتی ہیں۔ اس لیے کعبہ شریف کو ہمیشہ کے لیے قبلہ قراردیا گیا۔ اس سے تمام مسلمانوں کو وحدت اجتماعیہ فی الصلوٰۃ حاصل ہوگئی۔ اگر انسانوں پر اس کا فیصلہ چھوڑا جاتا تو بہت سے اختلافات رونما ہوتے اور اس طرح سے وحدت حاصل نہ ہوسکتی تھی۔ کعبہ شریف کو قبلہ صلوٰۃ مقرر کرنے میں یہ بھی حکمت ہے کہ چاروں جہات میں ہر جہت نماز کے لیے مقرر ہوگئی۔ ہر جہت والے اس رخ پر نماز پڑھتے ہیں جس رخ پر ان کے علاقہ کے اعتبار سے کعبہ شریف واقع ہے۔ اب نمازیں مشرق کو بھی ہو رہی ہیں اور مغرب کو بھی اور جنوب و شمال کو بھی ...... اس میں (لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ ) کا پورا پورا مظاہرہ ہے۔ پھر آیت کے ختم پر ارشاد فرمایا : (وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْ ) ” جن لوگوں کو کتاب دی گئی یعنی یہود و نصاری ان کو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ قبلہ کا بدلنا اور کعبہ شریف کو قبلہ قرار دینا بالکل صحیح ہے اور حق ہے اور ان کے رب کی طرف سے ہے۔ “ لیکن وہ ضد اور عناد کی وجہ سے معترض ہو رہے ہیں اور حق کی تکذیب کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ وہی نبی ہیں جن کی بشارت ان کی کتابوں میں موجود ہے۔ اور وہ باطل کا حکم نہیں دیتے۔ (روح المعانی) ۔ آخر میں ارشاد فرمایا (وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اعمال سے اور ان کی حرکتوں سے غافل نہیں ہے۔ اسے سب کچھ معلوم ہے یہ لوگ اپنے کفر اور اعمال بد کی سزا پائیں گے۔
Ayah 2:145

وَلَىِٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ— وَمَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ— وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ؕ— وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ— اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۟ۘوَلَئِنۡ اَ تَيۡتَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَكَ‌ۚ وَمَآ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَهُمۡ‌ۚ وَمَا بَعۡضُهُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَةَ بَعۡضٍؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ‌ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‌ۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی اگر آپ ان کے پاس تمام دلیلیں لے آئیں تب بھی آپ کے قبلہ کا اتباع نہ کریں گے۔ اور نہ آپ انکے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں، اور نہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں۔ اور البتہ اگر آپ نے اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے ان کی خواہشوں کا اتباع کیا تو بیشک آپ اس وقت یقینا ظلم کرنے والوں میں سے ہوں گے۔

یہود و نصاری کی ضد اور عناد کا مزید تذکرہ اس آیت شریفہ میں یہود و نصاری کے عناد اور ضد کو مزید واضح کرکے بیان فرمایا اور صاف طور پر بتادیا کہ ان لوگوں سے قبول حق کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے جو آپ کے قبلہ کو قبول نہیں کیا تو یہ کسی دلیل کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف مخالفت اور عناد اور مکابرہ پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ دلیلیں پیش کردیں۔ انہیں آپ کی موافقت کرنا نہیں ہے۔ نہ وہ آپ کے قبلہ کا اتباع کریں گے اور نہ ہی آپ ان کے قبلہ کا اتباع کرنے والے ہیں۔ اہل کتاب نے دھوکہ دینے کے لیے کہا تھا۔ یا محمد عُدْ الی قبلتنا نومن بک ونتبعک (کہ اے محمد ! ہمارے قبلہ کی طرف واپس آجاؤ۔ ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے قبلہ کا اتباع کرلیں گے) ۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں طرف کی امید کو ختم فرما دیا کہ نہ وہ آپ کے قبلہ کا اتباع کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی طرف متوجہ ہوں گے۔ یہود کا قبلہ بیت المقدس ہے۔ اور نصاری نے اپنا قبلہ جہت مشرق کو تجویز کرلیا تھا۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے رفع الی السماء تک کبھی بھی مشرق کی طرف نماز نہیں پڑھی ان کا قبلہ وہی تھا جو بنی اسرائیل کا قبلہ تھا یعنی بیت المقدس۔ (روح المعانی ص 11 ج 2) پھر یہ فرمایا (وَ مَا بَعْضُھُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَۃَ بَعْضٍ ) (اہل کتاب یہود و نصاری آپس میں بھی ایک دوسرے کے قبلہ کا اتباع کرنے والے نہیں ہیں) صاحب روح المعانی ص 12 ج 2) لکھتے ہیں کہ اس میں یہود و نصاری کے الحاد اور تصلب فی الہویٰ کو بیان فرمایا ہے مطلب یہ کہ اے محمد ﷺ ان کی یہ مخالفت اور عناد صرف آپ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے خود آپس میں بھی ان کی مخالفت اور عناد کا یہی حال ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ لَءِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآءَ ھُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پاس کے اللہ کی طرف سے علم آگیا اور یہ یقین ہے کہ یہ صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے اور یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ خواہشوں کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ انہیں حق قبول کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ لہٰذا بالفرض اگر آپ نے ان کی خواہشوں کا اتباع کرلیا تو آپ ان لوگوں میں شمار ہوجائیں گے جو ظلم کرنے والے اور حق کو چھوڑ کر ناحق کی طرف جانے والے ہیں اس طرز بیان میں اتباع ہویٰ سے بچنے کی بہت زیادہ تاکید ہے اور یہ بتایا ہے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) سے گناہ صادر ہونا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اتباع ہویٰ اور ارتکاب گناہ ظالموں کا شیوہ ہے۔ اور حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) ہر ظلم سے محفوظ اور معصوم ہیں۔ (روح المعانی 12 ج 1)
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ؕ— وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ ۟ؔاَلَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ يَعۡرِفُوۡنَهٗ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡؕ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ رسول کو پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ اور بلاشبہ ان میں سے ایک فریق ایسا ہے جو ضرور حق کو چھپاتے ہیں

اہل کتاب رسول اللہ ﷺ کو پہچانتے ہیں اور حق چھپاتے ہیں اس آیت شریفہ میں اہل کتاب کا مزید عناد اور تمرد بیان فرمایا کہ اہل کتاب صرف قبلہ کے بارے میں ہی عناد قائم نہیں بلکہ وہ تو نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت ہی کے منکر ہیں اور ان کا یہ انکار خالص عناد پر مبنی ہے۔ وہ اپنی کتابوں میں آپ کی صفات جلیلہ اور آپ کی تشریف آوری کی بشارت عظیمہ پڑھتے رہے ہیں اور وہ نعوت اور صفات خوب اچھے طرح واضح طور پر دیکھ کر آپ کی نبوت کو اس طرح پہچان گئے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں کہ یہ ہمارے بیٹے ہیں اور اپنے بیٹوں کو پہچاننے میں ان کو ذرا شک و شبہ نہیں ہے۔ (تفسیر درمنثور ص 147 ج 1) حضرت عبداللہ بن سلام ؓ (جو یہود کے علماء میں سے تھے) آنحضرت سرور عالم ﷺ کو انہوں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا تھا کہ آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں انہوں نے اسلام قبول کیا اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کو پہچاننا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں مجھے اپنے بیٹے کے پہچاننے سے زیادہ یقینی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ کیوں کر ؟ انہوں نے کہا کہ میں بالکل یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہوں کہ بلاشبہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں لیکن میں اس طرح کی گواہی اپنے بیٹے کے بارے میں نہیں دے سکتا، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ عورتیں (مردوں کے پیچھے) کیا کرتی ہیں ممکن ہے میری بیوی نے خیانت کی ہو اور میں جسے اپنا بیٹا کہہ رہا ہوں وہ میرا بیٹا نہ ہو۔ (اسباب النزول للو احدی ص 40 درمنثور ص 147 ج 1) پھر فرمایا کہ بلاشبہ اہل کتاب میں ایک گروہ ایسا ہے جو حق کو چھپاتا ہے اور حال یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم حق کو چھپا رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ حق چھپانے کا و بال اور عذاب بہت زیادہ ہے۔
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ۟۠اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حالانکہ وہ جانتے ہیں، حق ہے آپ کے رب کی طرف سے سو آپ ہرگز شک کرنیوالوں میں سے نہ ہوجائیں

آخر میں فرمایا کہ یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے لہٰذا آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں۔ صاحب روح المعانی ص 14 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق اپنی جگہ ثابت اور متحقق ہے اور ظاہر و باہر ہے اس میں کسی کو کچھ بھی شک کرنے کی گنجائش نہیں۔ صیغہ نہی کا ہے لیکن مقصود اخبار ہے۔ حق میں شک کرنے کی گنجائش ہی نہیں۔
Ayah 2:148

وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوْا الْخَیْرٰتِ ؔؕ— اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟وَلِكُلٍّ وِّجۡهَةٌ هُوَ مُوَلِّيۡهَا ‌ۚ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَيۡرٰتِؕ اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يَاۡتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر جماعت کے لیے ایک جہت ہے، جس کی طرف وہ اپنا رخ کرنے والے ہیں۔ لہٰذا تم نیک کاموں کی طرف آگے بڑھو، جہاں کہیں بھی تم ہو گے اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ہر ملت کا قبلہ الگ الگ ہے اس میں لکل کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ ای لکل اھل ملۃ أو جماعۃ من المسلین والیھود و النصاریٰ یعنی ہر مذہب اور ملت اور ہر جماعت کا عبادتوں میں اپنا رخ الگ ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے۔ خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردیا گیا ہو۔ خواہ لوگوں نے کوئی جہت اپنے طور پر مقرر کرلی ہو پھر اگر نبی اکرم خاتم الانبیاء ﷺ کے لیے قبلہ ابراہیمی مقرر کردیا گیا جو دوسروں کے قبلہ سے مختلف ہے تو اس میں اعتراض اور تعجب کی کیا وجہ ہے۔ اور یہ معنی بھی لیا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کا رخ مختلف بلاد و امصار اور مختلف آفاق و اطراف میں مختلف ہوتا ہے۔ چار جہات ( مشرق مغرب جنوب شمال) میں سے کوئی جہت بھی مسلمانوں کا قبلہ نہیں ہے بلکہ ان کا قبلہ کعبہ ہے اور کعبہ شریف کو رخ کرنے سے مختلف علاقوں کے لوگ مختلف جہات کی طرف نماز پڑھتے ہیں۔ رخ سب کا کعبہ شریف ہی کی طرف ہے کوئی مشرق کو رخ کیے ہوئے ہے کوئی مغرب کی طرف نماز پڑھتا ہے کسی کا قبلہ جنوب اور کسی کا قبلہ شمال کی طرف ہے۔ او کل قوم من المسلمین جھۃ و جانب من الکعبۃ یصلی الیھا جنوبیۃ او شمالیۃ او شرقیۃ او غربیۃ۔ (روح المعانی ص 3 ج 2) پھر فرمایا (فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ ) اے مومنو ! ان کاموں کی طرف آگے بڑھو اور پہل کرو جن میں، دارین میں سعادت حاصل ہو قبلہ کا استقبال بھی امر خداوندی کے مطابق کرو اور اس کے سوا دیگر احکام الہیہ میں بھی بڑھ چڑھ کر عمل کرو۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ الخیرات سے نمازیں مراد ہیں جب نماز کا وقت مامور بہ ہوجائے تو نماز کی طرف لپکنے اور آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ پھر فرمایا (اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَاْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو جس خطہ زمین میں ہو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی جزا دینے کے لیے تم سب کو جمع فرمائے گا۔ فرمانبرداری اور اعمال صالحہ کی اچھی جزا ملے گی اور برے کاموں کی سزا ملے گی۔ لہٰذا فرصت کو غنیمت جائیں اور موت اور حشر نشر سے غافل نہ ہوں اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے۔ زندگی بخشنا موت دینا جمع کرنا جزا دینا سب اس کے لیے آسان ہے۔ یہ جو فرمایا کہ ” ہر جماعت کا الگ الگ قبلہ ہے پس تم نیک کاموں کی طرف سبقت کرو “ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ مسلمان کا کام فضول بحثوں میں الجھنا نہیں جب یہ معلوم ہوگیا کہ اہل کتاب تمہارے قبلہ کی طرف رخ کرنیوالے نہیں اور تم ان کے قبلہ کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ تو اب بحث بلا ضرورت ہے اور فضول ہے اور وقت کا ضائع کرنا ہے ان بحثوں کو چھوڑ کر اپنے اصلی کام میں لگیں یعنی خیر کے کاموں کی طرف سبقت کریں جو آخرت میں اجر وثواب کا ذریعہ ہیں اور فاسْتَبِقُوْا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب بھی کبھی خیر کا موقع مل جائے تو فوراً اس کی طرف بڑھنا اور لپکنا چاہیے۔
Ayah 2:149

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ— وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ؕ— وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۟وَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَاِنَّهٗ لَـلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّكَؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور جس جگہ سے بھی آپ باہر جائیں تو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دیں۔ اور بلاشبہ یہ ضرور حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، اور اللہ غافل نہیں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو

دنیا میں جہاں بھی ہوں مسجد حرام کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اے نبی ﷺ آپ جس جگہ سے بھی کہیں سفر میں باہر نکلیں۔ نماز میں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کیا کریں اور فرمایا کہ یہ حکم حق ہے آپ کے رب کی طرف سے ہے۔ اللہ سب کاموں کو دیکھتا ہے کسی کے عمل سے غافل نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حکم کا دوبارہ اعادہ فرمایا اور ساتھ ہی عامۃ المسلمین کو بھی خطاب فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو نمازوں میں اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو۔ (قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآءِ ) سے لے کر (لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) تک (فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ) تین مرتبہ اور (وَ حَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْ ھَکُمْ شَطْرَہٗ ) دو بار ہے۔ تحویل قبلہ کا مسئلہ چونکہ بہت اہم بن گیا تھا۔ مخالفوں کے اعتراض اور شورو شغب کی وجہ سے بعض کچے مسلمان بھی متاثر ہوگئے تھے اور ان میں سے بعض مرتد بھی ہوگئے تھے۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔ اس لیے تاکید کے طور پر بار بار مسجد حرام کی طرف استقبال کرنے کا حکم فرمایا گیا اور درمیان میں (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِکَ اور لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ) لایا گیا۔ اور بعض حضرات نے یوں بھی کہا ہے کہ پہلے حالت حضر کا پھر حالت سفر کا حکم بیان فرمایا کہ سفر میں بھی مسجد حرام ہی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھیں اور (مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ ) دو بار ذکر فرمایا تاکہ خوب اچھی طرح واضح ہوجائے کہ سفر قریب کا ہو یا بعید کا مشرق کا ہو یا مغرب کا جنوب کا ہو یا شمال کا۔ ہر حالت میں مسجد حرام ہی کی طرف نماز پڑھنا ہوگا۔
Ayah 2:150

وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ— وَحَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ ۙ— لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ ۙۗ— اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ۗ— فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِیْ ۗ— وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۟ۙۛوَمِنۡ حَيۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِؕ وَحَيۡثُ مَا كُنۡتُمۡ فَوَلُّوۡا وُجُوۡهَڪُمۡ شَطۡرَهٗ ۙ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَيۡكُمۡ حُجَّةٌ اِلَّا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ فَلَا تَخۡشَوۡهُمۡ وَاخۡشَوۡنِىۡ وَلِاُتِمَّ نِعۡمَتِىۡ عَلَيۡكُمۡ وَلَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جس جگہ سے بھی آپ باہر جائیں اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دیجیے۔ اور جہاں کہیں بھی تم ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو، تاکہ لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔ سوائے ان کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا۔ لہٰذا تم ان سے ڈرو اور مجھ سے ڈروتا کہ میں پوری کر دوں تم پر اپنی نعمت اور تاکہ تم ہدایت پر رہو۔

قبلہ بدلنے پر یہودیوں کی حجت ختم ہوگئی : آخر میں یہ جو فرمایا (لِءَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّۃٌ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ) اس کے بارے میں مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ (فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کی علت ہے مطلب یہ ہے کہ بیت المقدس کی بجائے کعبہ شریف کی طرف رخ پھیر دینے میں یہودیوں کی حجت ختم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ان کا یہ اعتراض تھا کہ توریت شریف میں تو یہ مذکور ہے کہ نبی آخر الزمان کا قبلہ کعبہ شریف ہوگا لیکن یہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے ہیں اور دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ ہمارے دین کا انکار کرتے ہیں لیکن ہمارے قبلہ کا اتباع کرتے ہیں یہودیوں کے یہ دونوں اعتراض کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ملنے سے ختم ہوگئے۔ اور مشرکین جو یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ ملت ابراہیمی کے اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے قبلہ کے علاوہ دوسرا قبلہ اختیار کیے ہوئے ہیں تحویل قبلہ سے ان کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ الناس کا عموم یہود اور مشرکین دونوں کو شامل ہے۔ پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْھُمْ ) یعنی کعبہ شریف کو قبلہ مقرر کردینے سے لوگوں کی حجت ختم ہوگئی اور اب کسی کا اعتراض باقی نہیں رہا سوائے ان لوگوں کے جو ظالم ہیں جنہوں نے عناد پر ہی کمر باندھ رکھی ہے اور جنہیں حق قبول کرنا ہی نہیں۔ مثلاً یہودی معاند یوں کہیں گے کہ انہوں نے کعبہ کو قبلہ اس لیے اختیار کرلیا کہ اپنی قوم کے دین کی طرف مائل ہوگئے اور وطن کی محبت نے ان کو کعبہ کو قبلہ بنانے پر آمادہ کرلیا۔ یا یوں کہیں گے کہ ان کو اس وقت یہ خیال آگیا کہ اپنے باپ دادوں کا قبلہ اختیار کرلیں ممکن ہے کہ پھر ہمارے قبلہ کی طرف واپس آجائیں۔ معترض اور معاند کا منہ تو کبھی بند نہیں ہو سکتا وہ تو کٹ حجتی کرتا ہی رہتا ہے۔ پھر فرمایا ( فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِیْ ) ( کہ تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو) جو حکم کعبہ شریف کو رخ کرنے کا ہوا ہے اس کی تعمیل کرو اور معترضین اور معاندین کی کسی بات کا کوئی خیال نہ کرو ان سے نہ ڈرو کیونکہ ان کے طعنے اور اعتراضات تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچائیں گے مجھ سے ڈرو میرے امر کی مخالفت نہ کرو۔ آخر میں فرمایا (وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) یہ محذوف کی علت ہے یعنی (و امرتکم لاتمامی النعمۃ علیکم وارادتی اھتدائکم) یعنی میں نے تم کو تحویل قبلہ کا حکم دیا ہے جو اس لیے ہے کہ تم پر اپنی نعمت پوری کروں اور تاکہ تم ہدایت پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہو۔ (کلہ من البیضاوی)
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَكِّیْكُمْ وَیُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَیُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۟ؕۛكَمَآ اَرۡسَلۡنَا فِيۡکُمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡکُمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيۡکُمۡ وَيُعَلِّمُکُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِکۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا کہ ہم نے بھیجا تمہارے اندر ایک رسول جو تم میں سے ہے وہ تلاوت کرتا ہے تم پر ہماری آیات اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے اور تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تم کو وہ چیزیں سکھاتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے تھے۔

اہل ایمان کے لیے تکمیل نعمت یہ ما قبل سے متعلق ہے۔ (ای ولا تم نعمتی علیکم فی امر القبلۃ او فی الاخرۃ کما اتممتھا بارسال رسول منکم) یعنی ہم نے تم کو کعبہ شریف کی طرف نمازوں میں رخ کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ تم پر اپنی نعمت قبلہ کے بارے میں یا آخرت میں پوری کروں جیسا کہ میں نے اپنی نعمت تم پر اس طرح بھی پوری کی ہے کہ تمہارے اندر تمہیں میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو ہماری آیتیں پڑھ کر تم کو سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے۔ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے سے تم ظاہری باطنی برائی اور خرابی سے پاک ہوجاؤ گے۔ وہ تم کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور وہ وہ باتیں بتاتا ہے جن کو تم نہیں جانتے تھے۔ جن کے جاننے کا راستہ وحی الٰہی کے علاوہ بالکل نہیں ہے۔ ہم نے اپنا رسول بھیجا اس پر وحی بھیجی اور وحی کے ذریعہ تم کو بہت کچھ بتایا اور سمجھایا لہٰذا تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد کرونگا اور تم میرا شکر کرو، اور میری ناشکری نہ کرو۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوْا لِیْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ۟۠فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ وَاشۡکُرُوۡا لِىۡ وَلَا تَكۡفُرُوۡنِ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا شکر کرو، اور میری ناشکری نہ کرو۔

فَاذْ کُرُوْنِیٓ اَذْکُرْکُمْ کی تفسیر : مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ فاذکرونی باطاعتی اذکرکم بالثواب یعنی تم مجھے فرمانبرداری کے ساتھ یاد کرو میں تمہیں ثواب دے کر یاد کروں گا، دل سے زبان سے اللہ کو یاد کرنا یہ بھی یاد ہے اور فرمانبرداری اور اطاعت میں لگنا یہ بھی یاد ہے۔ اللہ کے خوف سے گناہوں کو چھوڑ دینا یہ بھی یاد ہے محققین نے فرمایا ہے۔ کل مطیع اللہ فھو ذاکر۔ یعنی ہر وہ شخص جو اللہ کی فرمانبرداری میں مشغول ہو وہ ذاکر ہے۔ زبان سے یاد کرنے کی بھی بہت زیادہ فضیلت ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ حرکت کریں (صحیح بخاری عن ابی ہریرۃ) اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندہ کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے سو اگر اس نے مجھے تنہائی میں یاد کیا تو میں بھی اسے تنہا یاد کروں گا اور اگر وہ مجھے جماعت میں یاد کرے تو میں اسے ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہے۔ (یعنی عالم بالا کے درباری فرشتوں کے سامنے) ۔ (صحیح بخاری ایضاً عن ابی ہریرۃ) ذکر اللہ کے فضائل : احادیث شریفہ میں تسبیح تہلیل اور تکبیر میں مشغول ہونے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں یوں کہوں کہ (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) تو یہ مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن چیزوں پر آفتاب طلوع ہو۔ (صحیح مسلم ص 425 ج 2) حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کون سا کلام (ذکر کے لیے) سب سے زیادہ افضل ہے۔ آپ نے فرمایا جو اللہ نے اپنے فرشتہ کے لیے منتخب فرمایا یعنی (سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ ) (رواہ مسلم ص 351 ج 2) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے یوں (سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ ) اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جائے گا۔ (رواہ الترمذی فی ابواب الدعوات ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو کلمے ایسے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں (قیامت کے دن) ترازو میں بھاری ہوں گے اور رحمن کو محبوب ہیں اور وہ یہ ہیں (سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) (صحیح بخاری آخری حدیث) ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ اسلام کی باتیں تو بہت ہیں آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس میں لگا رہوں آپ نے فرمایا (لاَ یَزَالُ لِسَانُکَ رَطَبًا مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ) یعنی تیری زبان ہر وقت اللہ کی یاد میں تر رہے۔ (رواہ الترمذی و حسنہ) حضرت ابو موسیٰ الاشعری ؓ نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا اور دل میں (لاَ حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ ) پڑھ رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس (یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نام ہے) کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ نے فرمایا وہ خزانہ (لاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ ) ہے۔ (صحیح مسلم ص 346 ج 2) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان پر رحمت چھا جاتی ہے اور ان پر اطمینان کا نزول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے درباریوں میں یاد فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم ص 345 ج 2) شکر کی فضیلت اور اہمیت : ذکر کا حکم فرمانے کے بعد شکر کا حکم فرمایا اور ارشاد فرمایا (وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلاَتَکْفُرُوْنِ ) (یعنی میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو) ذکر کے ساتھ شکر ادا کرنا بھی لازم ہے۔ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جن کا شمار بھی بندوں کی قدرت سے باہر ہے۔ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔ شکر میں یہ سب کچھ آجاتا ہے کہ نعمتوں کا اقرار کریں۔ قول اور فعل سے نعمتوں کا اظہار کریں۔ نعمتوں کی قدر دانی کریں۔ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں اور نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں خرچ کریں۔ نعمتوں کا منکر ہونا ان کی ناقدری کرنا اور ان کو گناہوں میں خرچ کرنا ناشکری ہے۔ یہ کتنی بڑی حماقت ہے کہ نعمتیں اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے اور ان نعمتوں کا استعمال اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اور نفس و شیطان کی فرمانبرداری میں ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں تو سبھی استعمال کرتے ہیں لیکن شکر گزار بندے کم ہیں جیسا کہ سورة سبا میں فرمایا۔ (وَ قَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ) شکر بہت بڑی چیز ہے اس کی وجہ سے نعمتیں باقی بھی رہتی ہیں اور نعمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ اور ناشکری پر نعمتیں چھین لی جاتی ہیں۔ سورة ابراہیم (ع 2) میں فرمایا۔ (وَ اٰتٰکُمْ مِّنْ کُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ) (اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سب چیزوں میں سے دیا جن کا تم نے سوال کیا اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنے لگو تو شمار نہ کرسکو گے۔ بلاشبہ انسان بڑا ظالم ہے (اور بڑا ناشکرا ہے۔ ) بندوں کا یہی کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں اس کی نعمتوں کو یاد کریں جب انہیں استعمال کریں تو اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول ہوں۔ حدیث شریف کی کتابوں میں جو دعائیں وار دہوئی ہیں۔ ان میں نعمتوں پر بار بار اللہ کی حمد کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ الحمد راس الشکر ما شکر اللہ عبدٌ ولا یحمدہ (یعنی اللہ کی حمد کرنا اصل شکر ہے جو بندہ اللہ کی حمد بیان نہیں کرتا، اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ ص 201)
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ۟يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو ! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد حاصل کرو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔

صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد مانگنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں ذکر اور شکر کا حکم فرمایا اور اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ صبر اور صلاۃ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو۔ لفظ صبر کا لغوی معنی رکنے اور ٹھہر جانے کا ہے۔ شریعت میں یہ لفظ تین معنی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اول اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور طاعت و فرما نبرداری پر لگائے رہنا دوم اپنے نفس کو گناہوں سے روک کر رکھنا۔ سوم آفات اور مصائب پر جو تکلیف ہوا سے سہ جانا اور اس طرح سے گزر جانا کہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر راضی ہو اور اللہ تعالیٰ پر کوئی اعتراض نہ کرے اور دکھ تکلیف اور مصیبت پر ثواب کا امید وار رہے عام لوگ صبر صرف تیسرے معنی ہی کے لیے استعمال کرتے ہیں پہلے دو معنی کی طرف ان کا ذہن نہیں جاتا حالانکہ یہ تینوں صورتیں صبر کا جزو ہیں اور صبر کے مفہوم میں شامل ہیں اور تینوں میں مشترک امر وہی ایک بات ہے یعنی نفس کو دبانا اور ہر اس بات سے روکنا جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہو۔ جو شخص بھی صبر کے ان تینوں طریقوں کو اختیار کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نصرتیں اس پر نازل ہوں گی۔ سورة زمر میں ارشاد فرمایا۔ (اِِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) کہ صابروں کو پورا پورا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔ صبر کی فضیلت اور اہمیت : درحقیقت صبر اور شکر مومن کی زندگی کے لیے (جو ایک رواں دواں سیارہ کے مشابہ ہے) پہیے ہیں اور مومن کی کوئی چیز ضائع نہیں ہے۔ آرام و راحت ہو نعمتیں ہوں یا دکھ تکلیف ہو اور کلفتیں ہوں ہر حال میں اس کے لیے نفع ہے۔ حضرت صہیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجب ہے۔ اس کی ہر حالت خیر ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں اگر مومن کو خوش کرنے والی حالت پہنچ گئی تو اس نے شکر کیا جو اس کے لیے بہتر ہوا اور اگر اس کو تکلیف دینے والی حالت پہنچ گئی تو اس نے صبر کیا یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوا۔ (رواہ مسلم ص 413 ج 2) صحیح بخاری ص 958 ج 2 میں ہے کہ ولن تعطوا عطاء خیر او اوسع من الصبر (یعنی تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہیں دی گئی۔ ) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو چار چیزیں عطا کردی گئیں اسے دنیاو آخرت کی بھلائی دے دی گئی۔ 1۔ شکر گزار دل، 2۔ ذکر کرنے والی زبان۔ 3۔ مصیبت پر صبر کرنے والا بدن، 4۔ ایسی بیوی جو اپنی جان کے بارے میں اور شوہر کے مال کے بارے میں شوہر کی خیانت نہ کرے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ ص 283) صبر میں تھوڑی سی تکلیف تو ہوتی ہے مگر اس کے بعد نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ کچھ ملتا ہے جس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ تکلیفیں تو سبھی کو پہنچتی ہیں۔ مومن ہو یا کافر نیک ہو یا بد۔ فرق اتنا ہے کہ جو لوگ صبر کرلیتے ہیں وہ ثواب بھی لیتے ہیں اور آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد رحمت اور نصرت کے دروازے بھی ان کے لیے کھل جاتے ہیں۔ جو لوگ صبر نہیں کرتے واویلا کرتے ہیں چیختے چلاتے ہیں۔ اللہ پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کی قضا اور قدر پر راضی نہیں ہوتے تکلیف بھی اٹھاتے ہیں اور ثواب سے بھی محروم ہوتے ہیں اور اللہ پر اعتراض کر کے کافر ہوجاتے ہیں۔ اور درحقیقت اصل مصیبت زدہ وہی لوگ ہیں جو ثواب سے بھی محروم رہتے ہیں۔ وانما المصاب من حرم الثواب۔ (رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ) جس نے اپنی تکلیف پر صبر کرکے ثواب لے لیا آخرت میں درجات بلند کروا لیے اس کی تکلیف کوئی تکلیف نہیں ہے کیونکہ اسے اس تکلیف کی قیمت مل گئی۔ دنیا میں دیکھتے ہیں کہ مہینہ بھر ملازمت کی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے تکلیف اٹھاتے ہیں۔ مزدور دن بھر دھوپ میں کام کرتے ہیں لیکن چونکہ ان سب کا معاوضہ مل جاتا ہے اس لیے یہ تکلیف خوشی سے برداشت کرلیتے ہیں اور اس کو تکلیف سمجھا ہی نہیں جاتا۔ دفع مصائب کے لیے نماز : صبر کے ساتھ نماز کا تذکرہ بھی فرمایا اور نماز کے ذریعہ بھی مدد حاصل کرنے کا حکم فرمایا۔ نماز بھی اللہ کی مدد اور نصرت لانے کے لیے بہت بڑی چیز ہے۔ اور ہر طرح کی پریشانیاں دور کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی مشکل پیش آجاتی تھی تو نماز میں مشغول ہوجاتے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 117) نماز فرض کا تو بہر حال اہتمام ہوتا ہی تھا۔ مشکلات سے نکلنے کے لیے اور حاجات پوری کرانے کے لیے آنحضرت سرور عالم ﷺ خصوصیت کے ساتھ نفل نماز میں مشغول ہوجاتے تھے صلوٰۃ الحاجت، صلوٰۃ الاستخارہ۔ صلوٰۃ التوبہ۔ صلوٰۃ الاستسقاء (بارش طلب کرنے کی نماز) یہ سب رسول اللہ ﷺ سے مروی ہیں۔ جو اللہ کی رحمت اور نصرت کرنے کے لیے مشروع کی گئی ہیں۔ اس سلسلہ کی بعض روایات آیت کریمہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَ الصَّلوٰۃِ ) کے ذیل میں گزر چکی ہے لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ کوئی مصیبت آجائے دنیا بھر کی تدبیریں کرتے ہیں اور مخلوق سے مدد چاہتے ہیں لیکن صبر اور صلوٰۃ کو مدد حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اس کے برعکس بےصبری کرتے ہیں اور تھوڑے بہت چند افراد جو نمازیں پڑھتے ہیں وہ فرض نمازیں بھی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ نفل نمازوں میں لگنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اور جن گناہوں میں مبتلا تھے ان سب گناہوں میں بھی لگے رہتے ہیں۔ پھر رحمت اور نصرت کیسے ملے ؟ آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ صابروں کے ساتھ ہے۔ صابروں کے لیے یہ کتنی بڑی سعادت ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہے۔ اگر حکومت کا کوئی معمولی درجہ کا آدمی بھی یقین دلا دے کہ فکر نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں تو اس سے بڑی ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ طبیعت میں بڑا اطمینان ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ جل شانہ نے جو وعدہ فرمایا کہ میں صبر والوں کے ساتھ ہوں اس وعدہ پر عموماً لوگ یقین نہیں رکھتے اور صبر کے موقع میں بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ درحقیقت مومن کو کسی بھی جگہ ناکام ہونے اور گھبرانے کا کوئی موقع نہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر و شکر میں اور صبر و صلاۃ میں لگا رہے پھر اس کے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے۔