Ayah 2:203ایام تشریق میں ذکر اللہ اور رمی جمار کی مشغولیت
آیت بالا میں اول تو یہ فرمایا کہ چند دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔ ان دنوں سے ایام تشریق مراد ہیں جن میں قربانیاں کی جاتی ہیں اور حجاج کا منیٰ میں قیام ہوتا ہے۔ اور جمرات کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ اس سے پہلے مزدلفہ میں ذکر کرنے کا حکم فرمایا اور عرفات میں تو ذکر اور دعا ہی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جمرات کو کنکریاں مارنا اور صفا مروہ کی سعی کرنا اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ (رواہ التر مذی و قال حدیث حسن صحیح)
اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ مومن بندوں کو ہر وقت اس میں لگا رہنا چاہئے، بعض خاص ایام اور خاص اوقات میں ذکر کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے : (اَقِمِ الصَّلوٰۃَ لِذِکْرِیْ ) (نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو) جیسا کہ سب جانتے ہیں نماز اول سے آخر تک ذکر ہی ہے، نماز سے پہلے اذان و اقامت ہے وہ بھی ذکر ہے، نماز کے بعد تسبیحات اور دعائیں ہیں یہ بھی ذکر ہے۔ حج سراپا ذکر ہے تلبیہ ذکر ہے، طواف میں ذکر ہے، سعی میں ذکر ہے، عرفات میں ذکر ہے، مزدلفہ میں ذکر ہے، ایام منیٰ میں ذکر ہے۔ رمی کرتے وقت ذکر ہے۔ قربانی کرتے وقت ذکر ہے۔
سید المرسلین خاتم النّبیین ﷺ نے زندگی کے تمام احوال و اشغال میں اذکا روادعیہ کی تعلیم دی۔ درحقیقت ذکر ہی اس دنیا کی روح ہے جس دن اللہ کا ذکر نہ ہوگا یہ دنیا ختم ہوجائے گی۔ صحیح مسلم ص 84 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک ایسا وقت نہ آجائے کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کہا جائے۔ سید المرسلین ﷺ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ کان یذکر اللّٰہ فی کل احیانہ (صحیح مسلم) منیٰ کے قیام کے دوران خوب اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہیں۔ تفسیر روح المعانی ص 93 ج 2 میں ہے : واذ کروا اللّٰہ ای کبروہ أدبار الصلوات و عند ذبح القرابین و عند رمی الجمار وغیرھا۔ یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرو نمازوں کے بعد اور قربانی کرتے وقت رمی جمار وغیرہ کے وقت۔ پھر فی ایام معدودات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : وھی ثلثۃ ایام التشریق و ھو المروی فی المشھور عن عمرو علی و ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم۔
اور تفسیر معالم التنزیل (ص 171 ج 1) میں لکھا ہے : و من الذکر فی أیام التشریق التکبیر۔ (یعنی ان دنوں کے ذکر میں سے یہ بھی ہے کہ ان میں تکبیر کہی جائے) پھر لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ اور عبداللہ ابن عمر ؓ نمازوں کے بعد منیٰ میں تکبیر کہتے تھے اور مجلس میں بھی اور بستر پر ہوتے ہوئے بھی اور راستہ میں بھی 1 ھ تکبیر تشریق بھی ان ایام میں مشروع ہے، منیٰ میں موجود ہوں یا اپنے وطن میں مقیم ہوں غرض نمازوں کے بعد اس کا پڑھنا واجب ہے۔ مرد زور سے تکبیر تشریق پڑھیں اور عورتیں آہستہ کہیں۔ یہ تکبیر نویں تاریخ کی فجر سے لے کر تیرھویں کی عصر تک پڑھی جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اسی طرح منقول ہے۔ ایام تشریق میں خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذکر کا اہتمام کرنا چاہئے، ان دنوں میں روزہ رکھنا ممنوع ہے فرمایا حضور ﷺ نے (لا تصوموا فی ھذا الأیام فاتھا ایام أکل و شرب و ذکر اللّٰہ) ۔ (صحیح مسلم ص 360 ص 1)
یعنی ان دنوں میں روزہ نہ رکھو، کیونکہ یہ دن کھانے پینے کے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔
رمی جمار کے بعض مسائل :
ذکر کا حکم فرمانے کے بعد رمی جمار کے بعض مسائل بیان فرمائے جس کی تشریح یہ ہے کہ دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ کبریٰ کی رمی کی جاتی ہے۔ اس کا وقت سورج نکلنے کے بعد سے لے کر آنے والی صبح صادق تک ہے لیکن رات میں کنکریاں مارنا قوت اور صحت والوں کے لیے مکروہ ہے۔ گیارہ اور بارہ تاریخ کی کنکریاں مارنے کا وقت زوال آفتاب کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور وہ بھی آنے والی صبح صادق تک رہتا ہے، قوت و صحت والوں کے لیے رمی کرنا ان دونوں راتوں میں بھی مکروہ ہے۔ گیارہویں اور بارہویں تاریخ کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے۔ دس گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کی رمی کرنا واجب ہے۔ منیٰ میں چھوٹے چھوٹے تین منارے سے بنائے ہوئے ہیں ان کو جمرات کہتے ہیں جو جمرۃ کی جمع ہے، پہلا جمرہ مسجد خیف کے قریب ہے اس کو جمرہ اولیٰ اور جمرہ صغریٰ کہتے ہیں۔ اس کے بعد جو جمرہ ہے اسے جمرہ وسطی کہتے ہیں۔ پھر اس کے بعد جو جمرہ ہے اس کو جمرہ کبریٰ اور جمرہ اخریٰ اور جمرۃ العقبۃ کہتے ہیں۔ اس کے قریب منیٰ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ ان تینوں جمرات کے نیچے جڑ میں دائرے بنے ہوئے ہیں۔ ان دائروں میں کنکریاں گرنا ضروری ہے۔ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان تینوں جگہ شیطان نے وسوسہ ڈال کر ورغلانے کی کوشش کی تھی آپ نے اس کو کنکریاں ماری تھیں۔ کنکریاں مارنااسی کی یاد گار ہے ہر کنکری کے ساتھ (بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ رَغْمًا للشَّیْطَانِ وَرِضًی للرَّحْمٰنِ ) پڑھے (میں اللہ کا نام لے کر رمی کرتا ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ رمی شیطان کو ذلیل کرنے کے لیے ہے اور رحمن کو راضی کرنے کے لیے ہے)
13 ذی الحجہ کی رمی چھوڑ دینا جائز ہے :
ان دو دنوں (گیارہ بارہ تاریخ) کی رمی کرنے کے بعد اگر کوئی شخص چاہے کہ منیٰ سے چلا جائے اور تیرہویں تاریخ کی رمی نہ کرے تو اس کی اجازت ہے۔ اسی کو فرمایا (فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ) لیکن افضل یہ ہے کہ منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تیرہویں تاریخ کی رمی کرکے منیٰ سے روانہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر تیرھویں تاریخ کی رمی بھی کی تھی جیسا کہ گیارہ بارہ تاریخ کو زوال کے بعد رمی کی، تیرھویں تاریخ کی رمی کا وقت صرف غروب آفتاب تک ہے۔ فقہا نے لکھا ہے کہ بارہویں تاریخ کو اگر منیٰ میں ہوتے ہوئے سورج غروب ہوجائے تو تیرہویں کی رمی چھوڑ کر جانا مکروہ ہے۔ اور اگر منیٰ میں ہوتے ہوئے تیرھویں کی صبح ہوجائے تو تیرھویں کی رمی کرنا بھی واجب ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص گیارہ بارہ کی رمی کرکے چلے جانے کی اجازت ہوتے ہوئے منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تیرہویں کی رمی کرکے جائے۔ اس کے بارے میں فرمایا (وَمَنْ تَأخَّرَ فَلاآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی) (اور جو شخص تاخیر کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے) ۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ لفظ (فَلَآ اِثْمَ ) جو دو جگہ وارد ہوا ہے اس سے دونوں باتوں میں اختیار دینا مقصود ہے کہ دسویں تاریخ کے بعد دو دن کی رمی کر کے چلا جائے تو اس کا بھی اختیار ہے اور تیسرے دن کی رمی کے لیے ٹھہر جائے اور منیٰ سے روانگی میں تاخیر کرے تو اس کا بھی اختیار ہے۔ اس پر یہ جو اشکال ہوتا ہے کہ جب تیرہویں تاریخ کی رمی کرکے جانا افضل ہے تو اس کے بارے میں (فَلَا اِثْمَ ) کے بجائے ایسا لفظ ہونا چاہئے تھا جو افضلیت پر دلالت کرتا۔ اس کے جواب میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے افضلیت کی نفی نہیں ہوتی (کیونکہ جو چیز افضل ہوتی ہے فلاآ اِثْمَ عَلَیْہِ اس پر بھی صادق آتا ہے) لیکن یہ بات پھر بھی قابل توجہ ہے کہ نفی الاثم کو دونوں جگہ کیوں اختیار کیا گیا۔ اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اہل جاہلیت کی تردید کرنے کے لیے یہ طرز اختیار فرمایا ہے کیونکہ وہ آپس میں اختلاف رکھتے تھے۔ بعض لوگ کہتے تھے تعجیل گناہ ہے اور بعض کہتے تھے کہ تاخیر گناہ ہے۔ 1 ھ۔
علامہ قرطبی نے بھی (ص 13 ج 3) یہ بات لکھی ہے کہ اہل عرب کی تردید کے لیے یہ لفظ اختیار کیا گیا ہے حیث قال فمعنی الآیۃ أن کل ذالک مباح و عبر عنہ بھذا التقسیم اھتما ما و تاکیدا اذکان من العرب من یذم المتعجل و بالعکس، فنزلت الآیۃ رافعۃ للجناح فی کل ذالک 1 ھ۔
صاحب معالم التنزیل نے (ص 179 ج 1) آیت کی تفسیر میں بعض حضرات سے یوں نقل کیا ہے کہ حج کرنے والے پر کوئی گناہ باقی نہیں رہے گا۔ خواہ بارہ تاریخ کو رمی کرکے چلا جائے خواہ تیرہویں کی رمی کے لیے ٹھہر جائے۔ اور اس معنی کی تائید کے لیے حدیث من حج للّٰہ فلم یرفث ولم یفسق پیش کی ہے۔ اور پھر فرمایا ہے کہ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے اس معنی کو لینے سے لمن اتقی کا تعلق بھی واضح ہوجاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ تعجیل کرے یا تاخیر کرے کوئی گناہ باقی نہ رہے گا بشرطیکہ اس حج میں تقویٰ اختیار کیا ہو اور گناہوں سے بچا ہو، صاحب معالم التنزیل نے حضرت ابن مسعود کا قول (اِنما جعلت مغفرۃ الذنوب لمن اتقی اللّٰہ تعالیٰ فی حجہ) اس معنی کی تائید کے لیے نقل کیا ہے ...... اور حضرت ابو العالیہ سے لمن اتقی کی تفسیر کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ (ذھب ائمۃ لمن اتقی فیما بقی من عمرہ) (یعنی بعض ائمہ نے لمن اتقی کا معنی یہ کیا ہے کہ حج کرنے کے بعد باقی عمر میں گناہوں سے بچتا رہے) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 2:204–205میٹھی باتیں کرنیوالے منافقوں اور مفسدوں کا تذکرہ
معالم التنزیل ص 179 ج 1 میں لکھا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی یہ شخص میٹھی باتیں کرنے والا تھا۔ دیکھنے میں بھی اچھا لگتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تھا اور پاس بیٹھ کر اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور اس پر قسمیں کھاتا تھا اور اندر سے منافق تھا۔ رسول اللہ ﷺ (اس کی ظاہری باتوں کی وجہ سے) اسے قریب بٹھاتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
اخنس بن شریق کی حرکت :
لباب النقول میں بحوالہ ابن جریر مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی، وہ آپ کی خدمت میں آیا اور اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا۔ آپ کو اس کی باتیں پسند آئیں پھر وہ آپ کے پاس سے چلا گیا اور مسلمانوں کی کھیتیوں پر گزرا جہاں گدھے بھی (چر رہے) تھے اس نے کھیتیوں کو آگ لگا دی اور گدھوں کے پاؤں کاٹ کر چلا گیا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔
(یُھْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ ) میں اسی کو بیان فرمایا۔ علامہ مناوی نے فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ص 145 ج 2 میں بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا اللّٰھم انی أعوذبک من خلیل ماکر (الحدیث) میں یہ اخنس بن شریق مراد ہے جو میٹھی زبان والا تھا، جب آنحضرت ﷺ سے باتیں تھا تو نرم نرم باتیں کرتا تھا اور یوں کہتا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ میں سچا ہوں۔
لباب النقول میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک یہ بات نقل کی ہے کہ جس جماعت میں حضرت عاصم اور حضرت مرثد تھے اس جماعت کے شہید ہونے کا جب علم ہوا تو دو منافقوں نے یہ کہا کہ افسوس ہے ان لوگوں پر جو فتنے میں پڑگئے اور ہلاک ہوگئے۔ نہ تو اپنے گھروں میں ہی بیٹھے اور نہ تبلیغی ذمہ داری کو پورا کرسکے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔
بہر حال آیت کا سبب نزول جو بھی ہو الفاظ کا عموم ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو دنیاوی زندگی میں میٹھی میٹھی اور چکنی چپڑی باتیں کرکے مسلمانوں کے عوام اور خواص میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں اندر سے منافق ہوتے ہیں اور اپنے مسلمان ہونے کے جھوٹے دعوے ثابت کرنے کے لیے بار بار قسم کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ گواہ ہے ہم سچے مسلمان ہیں، ان لوگوں کا مقصد چونکہ اول سے آخر تک دنیا اور دنیا کا جاہ و مال ہی ہوتا ہے اور اندر سے مسلمان نہیں ہوتے اس لیے جب بھی کوئی موقعہ دیکھتے ہیں مسلمانوں کو زک دینے اور نقصان پہنچانے اور ان کی حکومتوں کے خلاف منصوبے بنانے میں اور ان کی حکومتوں کو برباد کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہیں رکھتے۔ جو کام اخنس بن شریق نے کیا کہ خدمت عالی میں حاضرہو کر مسلمان ہونے کا دعوی کیا اور اللہ کو اپنے دعوے کی سچائی پر گواہ بنایا اور پھر وہاں سے نکل کر مسلمانوں کی کھیتیوں کو آگ لگا دی اور مویشیوں کو کاٹ کر پھینک دیا وہی کام ہمیشہ سے منافقین کرتے آئے ہیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ قتادہ اور مجاہد اور علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ آیت ہر ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کفر چھپائے ہوئے ہو، نفاق اور جھوٹ کو اپنائے ہوئے اپنی زبان سے اپنے دل کے خلاف ظاہر کرتا ہو۔ نیز علامہ قرطبی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ دینی اور دنیاوی امور میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ص 10 ج 3)
لفظ (فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) کے بارے میں مفسر بیضاوی فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ امور دنیا اور اسباب معاش میں آپ کو اس کی باتیں اچھی لگتی ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ دنیاوی مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دنیاوی باتوں میں اس کی حلاوت اور فصاحت آپ کو پسند آتی ہے لیکن آخرت میں اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہوگی۔ وہاں جو اس کو وحشت سوار ہوئی اس کی وجہ سے وہ بولنے بھی نہ پائے گا۔ (ص 109 ج 1)
جھگڑالو اور چرب زبان کی مذمت :
(اَلَدُّ الْخِصَامِ ) یہ دونوں کلمے آپس میں مضاف مضاف الیہ ہیں۔ پہلا لفظ لدد سے اسم تفضیل کا صیغہ ہے جس کا معنی ہے بہت زیادہ جھگڑالو اور خصام بھی جھگڑے کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔ مفسر بیضاوی نے اس کا ترجمہ شدید العدا وہ (سخت دشمنی والا) کیا ہے جو اس کا لازمی معنی ہے۔ منافقوں کی یہ صفت بیان فرمانے سے ہر جھگڑالو کی مذمت معلوم ہوئی جو باطل کے لیے جھگڑتا ہو۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض وہ ہے جو زیادہ جھگڑالو ہو۔ (صحیح بخاری ص 649 ج 2، ص 1066 ج 2)
میٹھی میٹھی باتیں کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور دل میں جو کچھ ہے اس کے خلاف ظاہر کرنا آج کی دنیا میں اس کو بڑی ہوشیاری سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ چیز سیاست حاضرہ کا جزو بن چکی ہے، سنن تر مذی ابواب الزہد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آخر زمانہ میں ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ذریعہ دنیا حاصل کریں گے اور تواضع ظاہر کرنے کے لیے بھیڑوں کی کھالوں کے کپڑے پہنیں گے ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی۔ اور ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں گے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا یہ لوگ میرے حلم سے دھوکہ کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں میں اپنی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان لوگوں پر ان ہی میں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا کہ جو ان میں ہوشمند عقل والا ہوگا اسے (بھی) حیران کر دے گا۔
Ayah 2:206تکبر کی مذمت :
جن لوگوں میں خالص دنیاوی جاہ اور مال کی طلب ہوتی ہے ان کے دلوں میں جھکاؤ نہیں ہوتا۔ وہ غرور نفس کی وجہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی حق کہنے والے کی بات قبول کرلی تو ہماری ہیٹی ہوجائے گی اور ناک کٹ جائے گی، کفرو شرک پر اور گناہوں پر اصرار کرتے رہتے ہیں اور حق قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا نفس انہیں حق قبول کرنے نہیں دیتا، ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا :
(وَ اِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بالْاِثْمِ )
(کہ جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے طور طریق اور طرز عمل میں اللہ سے ڈر تو اس کی حمیت اسے پکڑ لیتی ہے اور گناہ پر آمادہ رکھتی ہے)
تکبر کیا ہے ؟
حضور اقدس ﷺ نے تکبر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا الکبر بطر الحق و غمط الناس یعنی حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔ بہت سے اسلام کے دعویدار بھی حق کو ٹھکرا دیتے ہیں، جب کوئی شخص دین کی بات کرتا ہے اور گناہ چھوڑنے کو کہتا ہے یا کسی بات کی خیر خواہانہ نصیحت کرتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ تو کون ہے ہمیں نصیحت کرنے والا تو ہمارے سامنے کا بچہ ہے فلاں قوم کا فرد ہے، فلاں ملک کا رہنے والا ہے، یہ سب کبر ہے اور حق کو جھٹلانے کی باتیں ہیں۔ اوپر منافقوں اور مفسدوں کا طرز عمل بیان فرمایا اور اخیر میں فرمایا کہ ایسے شخص کو دوزخ کافی ہے اور دوزخ برا بچھونا ہے، مھاد عربی میں بستر کو کہتے ہیں، دوزخ میں اہل نفاق کا جو ٹھکانا بنے گا، اسے مھاد سے تعبیر فرمایا کیونکہ وہ ان کا مستقل ٹھکانا ہے۔ جو ان کو دنیا کے بستروں کی بجائے ملے گا۔ یہاں نرم بستروں پر سوتے تھے اور وہاں آگ کا بستر ہوگا اور آرام و راحت و نیند کا نام نشان نہ ہوگا۔ اعاذنا اللہ تعالیٰ منہ۔
Ayah 2:207اللہ کی رضا کے لیے جان و مال خرچ کرنے والوں کی فضیلت
حلیتہ الاولیاء ص 101 ج 1 میں حضرت سعید بن المسیب سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت صہیب رومی ؓ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کی نیت سے (مکہ معظمہ سے) نکلے تو قریش کے چند افراد ان کے پیچھے لگ گئے تاکہ ان کو واپس کریں۔ حضرت صہیب رومی ؓ اپنی سواری سے اترے اور اپنے ترکش سے تیر نکالے اور ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو ! تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سے بڑھ کر تیر انداز ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ میں اپنے سارے تیر تمہاری طرف نہ پھینک دوں جو میرے ترکش میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک میرے ہاتھ میں سکت رہے گی۔ اب تم جو چاہو کرلو، اور ایک صورت یہ ہے کہ میرا مال اور میرے کپڑے جہاں مکہ میں رکھے ہیں میں تمہیں ان کا پتہ بتادیتا ہوں تم ان کو لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو ، وہ کہنے لگے ہاں یہ ٹھیک ہے ہم اس پر راضی ہیں وہ لوگ تو ادھر چلے گئے اور حضرت صہیب ؓ سفر قطع کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ربح البیع ابا یحی ربح البیع ابا یحییٰ (اے ابو یحییٰ یہ بیع نفع والی ہے، اے ابو یحییٰ یہ بیع نفع والی ہے (جس کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی دنیا خرچ کرکے جو اپنی جان اور دین کو بچا لے یہ نفع کا سودا ہے۔ (ابو یحییٰ حضرت صہیب کی کنیت ہے) ان کے پہنچنے سے پہلے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو واقعہ کی خبر دیدی تھی۔ مستدرک حاکم ص 398 ج 3 میں بھی تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ یہ قصہ مذکور ہے اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ آیت شریفہ (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَات اللّٰہِ ) حضرت صہیب ؓ کے مدینہ منورہ پہنچنے سے پہلے ہی نازل ہوگئی تھی۔ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو یحییٰ نفع کا سودا ہوا اور آپ نے انہیں آیت بالا پڑھ کر سنائی۔ تفسیر ابن کثیر ص 247 ج 1 میں ہے کہ حضرت صہیب ؓ نے بیان فرمایا کہ جب میں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو قریش نے کہا کہ اے صہیب ؓ تم یہاں آئے تھے تو تمہارے پاس کچھ بھی مال نہ تھا اور اب تم یہاں کا کمایا ہوا مال اپنے ساتھ لے جا رہے ہو۔ اللہ کی قسم ایسا نہ ہوگا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم مناسب جانو تو میں تمہیں اپنا مال دیدوں اور تم مجھے چھوڑ دو ۔ وہ اس پر راضی ہوگئے اور میں ان کو اپنا مال دے دیا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا۔ نبی اکرم ﷺ کو واقعہ کی خبر مل چکی تھی آپ ﷺ نے فرمایا (رَبِحَ صُھَیْبٌ رَبِحَ صُھَیْبٌ) (صہیب نے نفع کا سودا کیا۔ صہیب نے نفع کا سودا کیا)
بعض مفسرین نے یشری کا ترجمہ یبیع سے کیا ہے یعنی بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لیے اپنے نفس کو بیچ دیتے ہیں۔ مفسر ابن کثیر ص 247 ج 1 میں لکھتے ہیں کہ اکثر حضرات نے آیت کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ ہر ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے، قرآن کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَ اَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ ) (الایۃ) سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی جانوں اور مالوں کو جنت کے عوض خرید لیا۔ اس اعتبار سے مجاہدین اپنے جان و مال کو فروخت کرنے والے ہوگئے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں ص 22 ج 2 ...... کہ حضرت صہیب کے قصے میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ وہ مشرکین مکہ سے قتال کے لیے تیار ہوگئے اس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے نفس کو بیچ دیا، اس اعتبار سے ان کے قصہ کو سامنے رکھ کر بھی یشری کا ترجمہ یبیع (بیچتا ہے) کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت آیت کا جو شان نزول ہے (یعنی حضرت صہیب ؓ کا واقعہ) اس کو سامنے رکھتے ہوئے بھی آیت کا عموم ہر اس شخص کو شامل ہے جو بھی اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال خرچ کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان پر کھیل جائے، معالم التنزیل ص 183 ج 2 میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس کا مصداق ایسے شخص کو بتایا جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے قتل کردیا جائے۔
Ayah 2:208اسلام میں پورے طور پر داخل ہونے کا حکم
آیت کے شان نزول کے بارے میں لکھا ہے کہ بعض صحابہ ؓ جو پہلے یہودی تھے انہوں نے سنیچر کے دن کی تعظیم کو باقی رکھنا چاہا جو شریعت موسوی میں تھی اور اونٹ کا گوشت کھانے سے پرہیز کرنا چاہا کیونکہ یہودیت کے زمانہ میں نہیں کھاتے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ توریت بھی تو اللہ کی کتاب ہے، ہم اس کو تہجد کی نماز میں پڑھ لیا کریں (جیسا کہ قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے) اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور حکم فرمایا کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ، شریعت محمدیہ کے آنے کے بعد اب کوئی شریعت باقی نہیں رہی۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ میں تمہارے پاس خوب روشن اور صاف شریعت لے کر آیا ہوں اگر موسیٰ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی اس کے سوا کوئی گنجائش نہ تھی کہ وہ میرا اتباع کریں۔ (معالم التنزیل ص 183 ج 1) حضرت جابر ؓ کی روایت مسند احمد اور شعب الایمان للبیہقی میں بھی ہے۔ (کمافی المشکوۃ ص 30)
زندگی کے تمام شعبوں میں ہر شخص اسلام کے احکام کا پابند ہے :
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔ اسلام کے احکام کو پورا پورا قبول کرو اور اس کے جملہ احکام پر عمل کرو، حاکم ہو یا محکوم بڑا ہو یا چھوٹا، شہری ہو یا دیہاتی، تاجر ہو یا کاری گر، کار خانہ دار ہو، مزدور ہو یا کسان، سب اسلام پر پوری طرح چلیں اور ایک دوسرے کا منہ نہ دیکھے کہ وہ چلے تو میں بھی چلوں۔ ہر ایک اپنی ذمہ داری کو سامنے رکھے۔ بہت سے لوگوں نے یہ طریقہ بنا رکھا ہے کہ نماز روزہ اور ان کے علاوہ دو چار کاموں تک ہی اسلام کو محدود رکھتے ہیں اس کے علاوہ معیشت اور معاشرت، تجارت اور سیاست اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں میں اسلام کے احکام کی پاسداری نہیں کرتے جس طرح چاہیں تجارت کرلیں اور جو بھی چیز سامنے آجائے خرید لیں، یا بیچ دیں۔ جس محکمہ میں چاہیں ملازم ہوجائیں۔ حرام حلال کا کچھ خیال نہیں کیا جاتا۔ بیاہ شادی میں غیر شرعی طریقہ کار اختیار کرتے ہیں۔ سراسر گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ خوشی کے موقعہ پر ہم پر شرعی کوئی پابندی نہیں۔ حرام حلال کی بحثوں کو فضول سمجھتے ہیں، کوئی عالم اگر بتادے کہ تمہاری ملازمت حرام ہے یا تجارت میں سود ہے تو کہتے ہیں کہ مولوی ترقی سے روکتا ہے۔ جن قوموں کے دین میں چند تصورات اور توہمات اور چند اعمال کے علاوہ اور کوئی بھی پابندی نہیں ہے اپنے دین کو انہیں کے دین پر قیاس کرلیتے ہیں۔ (العیاذ باللہ) ہمارا دین جامع ہے، کامل ہے مکمل ہے اور زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے احکام تفصیل کے ساتھ اسلام نے نہ بتائے ہوں۔ بعض احکام پر عمل کرنا اور بعض کو چھوڑ دینا یہ وہی چیز ہے جس کو سورة بقرہ کے رکوع (10) میں یہودیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : ” کیا کتاب کے بعض حصہ پر ایمان لاتے ہو اور بعض حصہ کے منکر ہوتے ہو “ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مسلمان ہونے کے صرف دعوے دار ہی ہیں۔ اسلام کے فرائض تک پر عمل نہیں کرتے، اور کچھ لوگوں کو دینداری کا خیال تو ہے لیکن ان کی دینداری نماز تک یا ایک دو اعمال تک محدود ہے۔ اگر توجہ دلائی جائے کہ حرام ملازمت چھوڑ دو تو تیار نہیں اگر یوں کہا جائے کہ سود کا لین دین نہ کرو تو آمادہ نہیں اگر یوں کہو کہ حرام چیزیں فروخت نہ کرو تو کہتے ہیں کہ یہ روزی کا معاملہ ہے۔ اس کو کیسے چھوڑیں ؟ ان کی جاہلانہ بات کا مطلب یہ ہے کہ روزی کمانے میں گویا پورے آزاد ہیں۔ (العیاذ باللہ)
اصحاب حکومت کی بےراہی :
جن ممالک میں مسلمانوں کی حکومتیں ہیں وہاں کے ذمہ دار ان ہی طریقوں پر حکومتیں چلاتے ہیں جو کافروں سے سیکھے ہیں کچہریوں میں کافرانہ اور ظالمانہ قوانین کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ اسلام کے قانون کا نام آجائے تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ کافرانہ اقوال اور افعال کے باوجود اس کے دعوے دار ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام پر پوری طرح عمل نہ کرنا بعض احکام کو ماننا بعض کو چھوڑنا یہ سب شیطانی حرکات ہیں۔ اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کا حکم دینے کے بعد یہ بھی فرمایا کہ (وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ) شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو، اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ (اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ) (کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے) لوگ شیطان کو برا بھی کہتے ہیں اور اس پر لعنت بھی بھیجتے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے طریقوں کو بھی اختیار کرتے ہیں۔ یہ عجیب طریقہ ہے۔ پھر فرمایا :
Ayah 2:209(فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) ” سو اگر تم لغزش کھا جاؤ اس کے بعد کہ تمہارے پاس واضح دلیلیں آچکی ہیں، تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ “
اس آیت میں بتایا کہ واضح دلائل آجانے کے بعد پھر بھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تو اس کو معمولی بات نہ سمجھنا یہ اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہے۔ وہ غالب ہے اس کے عذاب اور انتقام سے بچ نہیں سکتے، اور وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے موافق وہ سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو اس سے دھوکہ نہ کھانا اور یہ نہ سمجھنا کہ گرفت نہ ہوگی اور انتقام سے محفوظ رہیں گے۔
قال صاحب الروح ص 98 ج 2 غالب علمی أمرلا یعجزہ شییء من الانتقام منکم حکیم لا یترک ماتقتضیہ الحکمۃ من مؤاخذۃ المجرمین۔
Ayah 2:210حق قبول نہ کرنے پر وعید
جو لوگ واضح دلائل کے بعد بھی دین اسلام میں داخل نہیں ہوتے انہیں کیا انتظار ہے ان کے طور طریق سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بس اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں کے سائبانوں میں آجائیں اور ان کو ان کے کفر کی سزا مل جائے، اور سارا فیصلہ ہوجائے، پھر آگے اسلام قبول کرنے کا موقعہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ عذاب سامنے آنے کے بعد اسلام قبول نہیں ہوتا، پھر فرمایا کہ تمام امور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ وہ قاضی روز جزا ہے۔ اس دن مجازی صاحب اختیار بھی کوئی نہ ہوگا۔ وہ حق کے ساتھ فیصلے فرمائے گا، اھل کفر کے بارے میں دائمی عذاب کا فیصلہ ہوگا۔ لہٰذا اپنا انجام سوچ لیں۔
فائدہ : لفظ یاتیھم اللّٰہ میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف اتیان (یعنی آنے) کی نسبت کی ہے اس پر ایمان لائیں۔ مفہوم کے سمجھنے اور معنی کریدنے میں نہ لگیں۔ سلف کا یہی طریقہ ہے، اور بعض حضرات نے مضاف مقدر مانا ہے۔ قال القرطبی ص 25 ج 3 و قیل لیس الکلام علی ظاھرہ فی حقہ سبحانہ وانما المعنیٰ یأتیھم امر اللّٰہ و حکمہ، و قیل ای بما وعدھم من الحساب والعذاب۔
مطلب یہ ہے کہ (یَأْتِیَھُمُ اللّٰہُ ) سے اللہ کا أمر اور اس کا حکم اور عذاب آنا مراد ہے۔ واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 2:211بنی اسرائیل کی ناشکری اور اس پر عذاب
بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی واضح دلیلیں عنایت فرمائی تھیں۔ وہ ان دلائل سے کام لیتے اور حق پر جمتے تو ان کے حق میں اچھا تھا۔ لیکن انہوں نے الٹی ہی چال چلی ہدایت کے بجائے گمراہیوں کو پسند کیا، اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو نقمت سے بدل دیا۔ جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں مستحق عذاب و عقاب ہوئے۔ بنی اسرائیل کو جو دلائل واضحہ دیئے گئے تھے ان کے بارے میں صاحب معالم التنزیل ص 184 ج 1 لکھتے ہیں کہ اس سے وہ دلائل مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے بارے میں عطا کئے گئے تھے۔ مثلاً عصا موسوی اور ید بیضاء اور سمندر کو پھاڑ کر بنی اسرائیل کو پار کرنا وغیر ذلک، اور ایک قول یہ بھی لکھا ہے کہ اس سے وہ صاف اور واضح بیانات مراد ہیں جو تورات و انجیل میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بارے میں تھے، یہودیوں نے جو ان آیات سے انحراف کیا اور حق واضح ہوجانے کے باوجود گمراہی کا راستہ اختیار کیا اس کے بیان کرنے کے لیے ایک ایسا اسلوب اختیار فرمایا جس سے ہر نعمت کے بدلنے کی شناعت اور قباحت معلوم ہوجائے اور عمومی طور پر یہ بھی معلوم ہوجائے کہ جو بھی کوئی شخص اللہ کی کسی بھی نعمت کو بدلے گا وہ مستحق عذاب و عقاب ہوگا۔
Ayah 2:212کافروں کے لیے دنیا کا مزین ہونا اور ان کا ایمان والوں پر ہنسنا
اس آیت میں کافروں کے کفر پر جمنے اور کفر اختیار کرنے کا سبب بتایا ہے اور وہ یہ کہ دنیاوی زندگی اور اس سے متعلقہ سازو سامان آرائش اور زیبائش ان کی نظروں میں بھایا ہوا ہے۔ اسی حسن ظاہر کو دیکھ کر وہ دنیا پر پلے پڑے ہیں۔ چونکہ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنے میں انہیں دنیا اور اسباب دنیا میں کمی ہوتی نظر آتی ہے اس لیے کفر اختیار کیے ہوئے ہیں۔ دنیا کے سازو سامان مال اور جائیداد ہی کو کامیابی سمجھے ہوئے ہیں اس لیے اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان سے تمسخر کرتے ہیں (کیونکہ ان کے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں) یہ دنیا چند روزہ ہے اس کے بعد اہل کفر کے لیے عذاب ہی عذاب ہے اور اہل ایمان کے لیے جنت ہے۔ اہل ایمان قیامت کے دن بلند وبالا ہوں گے۔ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے اور اہل کفر دوزخ میں پڑے ہوں گے اس وقت اہل ایمان ان پر ہنسیں گے جیسا کہ سورة مطففین میں فرمایا : (فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوْنَ عَلَی الْاَرَاءِکِ یَنْظُرُوْنَ ) (سو آج ایمان والے کافروں سے ہنسیں گے۔ مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دیکھتے ہو نگے) علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ یہ آیت مشرکین عرب ابو جہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ اپنے مالوں میں مست تھے۔ تنعم کی زندگی گزارتے تھے۔ اور آخرت کی تکذیب کرتے تھے اور فقرائے مومنین مثلاً عبداللہ بن مسعود و عمار بن یاسر اور صہیب اور بلال اور خباب جیسے حضرات کا مذاق بناتے تھے، ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت منافقین (عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں) کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ دنیا میں مزے کی زندگی گزارتے تھے اور فقرائے مہاجرین پر پھبتیاں کستے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو محمد ﷺ کا کہنا ہے کہ ان (مسکینوں) کو ساتھ لے کر لوگوں پر غلبہ پائیں گے۔ حضرت عطاء نے فرمایا کہ یہ آیت رؤسائے یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو فقرائے مہاجرین پر ہنستے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین سے وعدہ فرمایا کہ بنی نضیر اور بنی قریظہ کے اموال تم کو بغیر جنگ کے مل جائیں گے۔ چناچہ الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔ (معالم التنزیل ص 185 ج 1)
آیت کے ختم پر فرمایا کہ (وَ اللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) (اور اللہ جسے چاہے بلا حساب رزق عطا فرماتا ہے) بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے دنیا میں بغیر کسی محنت اور تکلیف کے جس قدر چاہے عطا فرما دے اور اسے اعمال صالحہ کی توفیق دیدے پھر آخرت میں اس مال کا حساب نہ لے، اور بعض حضرات نے بغیر حساب کا یہ معنی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو جتنا چاہے دے کم دے زیادہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ اس سے کوئی حساب لینے والا نہیں، اور ایک معنی یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےحساب خرچ فرماتا ہے۔ اسے خرچ کرنے میں حساب کرنے کی ضرورت نہیں اس کے خزانے بےانتہا ہیں۔
Ayah 2:213سارے انسان امت واحدہ تھے، حق واضح ہونے کے بعد عناد اور ضد کی وجہ سے مختلف فرقے ہوگئے
تفسیر درمنثور ص 243 ج 1 میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کے درمیان جو قرنیں تھیں یہ سب ہدایت پر اور حق شریعت پر تھے، پھر لوگوں نے اختلاف کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھیجا جو (اس اختلاف کے بعد) سب سے پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا، اور ایسے وقت میں بھیجا جب کہ لوگوں میں اختلاف ہوچکا تھا اور حق کو چھوڑ چکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد رسول بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں جو مخلوق پر حجت ہیں۔
اور تفسیر قرطبی ص 31 ج 2 میں کلبی اور واقدی سے نقل کیا ہے کہ امت واحدہ سے وہ مسلمان مراد ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں تھے (اس وقت دنیا میں صرف یہی لوگ اھل ایمان تھے، دوسری کوئی جماعت نہ تھی) حضرت نوح (علیہ السلام) کی وفات کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوگیا (اور اہل ایمان کے مقابلہ میں مشرکوں اور کافروں کی جماعتیں پیدا ہوگئیں) ۔
امتہ واحدہ کا مصداق بیان کرنے کے سلسلہ میں اور بھی اقوال ہیں۔ بہر صورت آیت شریفہ کا مفہوم یہ ہے کہ کسی زمانہ میں تمام انسان ایک ہی مذہب اور ملت اور ایک ہی عقیدہ پر تھے اور یہ وہ دین تھا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول تھا، پھر لوگوں میں (شیطان کے بہکانے سے اور رائے و فکر کے اختلاف سے) بہت سے فرقے پیدا ہوگئے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے راہ حق بتانے کے لیے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور ان پر کتابیں نازل فرمائیں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) نے راہ حق بتانے اور اصلاح حال کرنے کے لیے اپنی پوری پوری کوششیں کیں، یہ حضرات حق قبول کرنے والے کو جنت کی بشارت دیتے تھے۔ اور حق سے منہ موڑنے والوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ امور اختلافیہ میں فیصلہ فرمایا، اور حق اور ناحق کو ممتاز کر کے بتادیا، حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیم و تبلیغ سامنے ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے اپنی نفسانیت اور ضد وعناد کی وجہ سے حق سے منہ موڑا، اور باہمی اختلاف کرتے رہے، جن کو علم دیا گیا واضح دلائل سامنے ہوتے ہوئے حق سے منحرف ہوئے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے فضل سے اہل ایمان کو راہ حق کی ہدایت دی اور جو چیز حق تھی وہ ان کو بتادی۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔
تفسیر درمنثور ص 242 ج 1 میں (وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ ) کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت ابی بن کعب سے نقل کیا ہے کہ جن کو کتاب اور علم دیا گیا ان سے بنی اسرائیل مراد ہیں۔ اور بَغْیًا بَیْنَھُم کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی حرص اور ملک کی طلب اور اس کی ظاہری زیب وزینت کی وجہ سے بعض نے بعض پر بغاوت کردی اور آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مار دیں، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ہدایت دی جو اختلاف کے وقت اس دین پر قائم رہے جو دین حق تھا وہ خدائے وحدہ لا شریک کے لیے اخلاص کے ساتھ دین میں لگے اور اختلاف والوں سے علیحدہ ہو کر رہے، لہٰذا یہ لوگ قیامت کے دن دوسری قوموں یعنی قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح اور قوم شعیب (وغیرہم) کے مقابلہ میں گواہی دیں گے اور یہ بتائیں گے کہ ان کے رسولوں نے ان کو تبلیغ کی تھی لیکن انہوں نے ان کو جھٹلایا تھا۔
اس عالم میں اللہ جل شانہ کی طرف سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے رہے ہیں اور کتب الٰہیہ نازل ہوتی رہی ہیں۔ حق پر چلنے والے بھی رہے اور مخالفین بھی رہے اب اہل ایمان کو سمجھ لینا چاہئے کہ اہل کفر ہماری مخالفت کرتے رہیں گے اور حق ظاہر ہونے کے باو جود اسے اختیار نہ کریں گے اور جب اختلاف ہوگا تو ان سے تکلیفیں بھی پہنچیں گی، اور قتل و قتال کی نوبت بھی آئے گی۔ صبر بھی کرنا ہوگا اور اللہ کی راہ میں جان و مال بھی خرچ کرنا ہوگا کافر اپنے عناد پر جمے رہیں گے۔ اہل ایمان کو ایمانی تقاضوں پر ثابت قدم رہنا لازم ہوگا۔ اس تقریر سے آیت (اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) کا ربط بھی سمجھ میں آگیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 2:214مصائب میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین اور امم سابقہ کے مسلمانوں سے عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
مسلمانوں کو مشرکین اور یہود و منافقین سے برابر تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔ مکہ معظمہ میں جب تک رہے مشرکین برابر تکلیفیں پہنچاتے رہے پھر جب مدینہ منورہ ہجرت کرکے آگئے تو یہودیوں سے اور منافقوں سے واسطہ پڑا اور مشرکین مکہ نے یہاں بھی چین سے نہ رہنے دیا۔ ان کی دشمنی کی وجہ سے بدر اور احد اور خندق کے غزوات پیش آئے۔ دشمنوں کی ایذار سانیوں کے علاوہ بھوک پیاس وغیرہ کی تکلیفیں بھی پہنچتی رہتی تھیں۔
اسباب النزول ص 60 میں ہے کہ یہ آیت غزوۂ خندق کے موقعہ پر نازل ہوئی جبکہ مسلمانوں کو سخت تکلیف پہنچی، دشمنوں کا خوف بھی تھا، اور سردی بھی سخت تھی اور کھانے پینے کی چیزیں بھی مہیا نہ تھیں۔ اور کئی طرح سے تکالیف کا سامنا تھا جس کو اللہ جل شانہ نے سورة احزاب میں یوں بیان فرمایا ہے کہ : (بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ ) (اور کلیجے منہ کو آگئے تھے) نیز اللہ جل شانہ نے غزوہ احزاب کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ (ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا) ” کہ اس موقعہ پر مسلمانوں کو آزمائش میں ڈالا گیا اور ان کو سختی کے ساتھ جھنجھوڑا گیا۔ “
منافقین اس حال کو دیکھ کر طرح طرح کی باتیں کرنے لگے حتیٰ کہ کفر یہ کلمات تک کہہ گئے۔ اللہ رب العزت تعالیٰ شانہ، نے آیت بالانازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ تم جنت کی آرزو لیے بیٹھے ہو حالانکہ جسے جنت میں جانے کا ارادہ ہو اسے آزمایا جاتا ہے۔ تکلیفوں میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ تم سے پہلے جو اہل ایمان تھے ان کو دکھ پہنچا، مصیبتوں نے گھیرا، تکلیفوں نے دبوچا، اور ان کو اس قدر سختی کے ساتھ جھنجھوڑا گیا کہ ان کے زمانہ کے رسول نے اور ان کے ساتھیوں نے مدد میں دیر محسوس کی تو یوں کہہ دیا کہ اللہ کی مدد کب ہوگی۔ جب وہ اس حال پر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری دی گئی کہ خبر دار اللہ کی مدد قریب ہے۔
اس میں جہاں منافقین کو جواب دیا گیا (جنہوں نے غزوہ احد میں (مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا) وہاں مسلمانوں کو بھی تسلی دی کہ یہ مصائب اور تکالیف کوئی نئی نہیں ہیں۔ تمہارے ساتھ نیا معاملہ نہیں کیا جا رہا ہے تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں۔ ان کو بھی آزمایا گیا ہے۔ جب ان کو بہت زیادہ تکلیف پہنچی اور انہوں نے (مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ) (کب ہوگی اللہ کی مدد) کہا تو اللہ پاک کی طرف سے (اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ) کا اعلان کیا گیا اور جلد ہی مدد آگئی، تمہاری تکلیف بھی اس مرحلہ پر پہنچ چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد قریب ہے دنیا میں بھی مدد ہوگی اور جنت کا داخلہ بھی ہوگا۔ قال ابن کثیر ص 251 ج 1 قال اللّٰہ تعالیٰ الآ ان نصر اللّٰہ قریب کما قال فان مع العسر یسرا ان مع العسر یسرا و کما تکون الشدۃ ینزل من النصر مثلھا و لھذا قال تعالیٰ الا ان نصر اللّٰہ قریب 1 ھ۔
یہ آزمائش پہلے نبیوں پر اور ان کی امتوں پر آئی ہمارے رسول سرور عالم ﷺ پر آئی آپ کے صحابہ ؓ پر آئی، تابعین پر آئی ان کے بعد مسلمانوں پر آتی رہی اور آتی رہے گی۔ سورة عنکبوت میں فرمایا :
(اآمّ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) (کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ اتنا کہنے پر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا اور بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو آزمایا جو ان سے پہلے تھے سو اللہ تعالیٰ ضرور ضرور جان لیگا ان لوگوں کو جو سچے ہیں اور اور ضرور جان لے گا جھوٹوں کو) حضرت خباب ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ان تکلیفوں کی شکایت کی جو مشرکین مکہ سے پہنچتی رہتی تھیں۔ اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں چادر سے تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ہم نے عرض کیا کیا آپ اللہ سے دعا نہیں فرماتے ؟ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو مسلمان تھے ان میں سے بعض کو زمین میں گڑھا کھود کر کھڑا کردیا جاتا تھا پھر آرہ لا کر سر کے اوپر سے لیکر (نیچے تک) چیر دیا جاتا تھا جس سے دو ٹکڑے ہوجاتے تھے۔ یہ تکلیف بھی ان کو ان کے دین سے نہیں روکتی تھی اور ان کے سروں میں لوہے کی کنگھیاں کی جاتی تھیں جو گوشت سے گزر کر ہڈی اور پٹھے تک پہنچ جاتی تھیں اور یہ چیز انہیں ان کے دین سے نہیں روکتی تھی۔ (مشکوٰۃ عن البخاری ص 525)
Ayah 2:215کن مواقع میں مال خرچ کیا جائے
اسباب النزول ص 60 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت عمرو بن جموح انصاری ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، وہ بوڑھے آدمی تھے اور بہت مال والے تھے، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم کیا صدقہ کریں اور کس پر خرچ کریں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی، تفسیر درمنثور ص 243 ج 1 میں ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ اس آیت میں نفلی صدقات کا ذکر ہے اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔
سبب نزول کے بارے میں جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دو باتوں کا سوال کیا گیا تھا، اول یہ کہ کیا خرچ کریں، دوم یہ کہ کس پر خرچ کریں، اللہ جل شانہ نے اولاً دوسرے سوال کا جواب دیا کہ والدین پر اور دیگر رشتہ داروں پر، یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرو۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے نفس پر اور بیوی بچوں پر چونکہ انسان اپنے ذاتی تقاضے سے خرچ کرتا ہے اس لیے سوال ان کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کے متعلق تھا۔ لہٰذا اخراجات کی تفصیل بتاتے ہوئے پہلے والدین کا ذکر فرمایا پھر ماں باپ کے بعد دوسرے رشتہ داروں کا اجمالی ذکر فرمایا جو اپنے کنبہ کے لوگ ہیں۔ پھر یتیموں اور مسکینوں کا ذکر فرمایا جو رشتہ داروں میں ہوتے ہیں اور رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے خاندانوں میں بھی ہوتے ہیں۔
سنن ابی داؤد ص 343 ج 2 میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں ؟ فرمایا، اپنی ماں کے ساتھ ! عرض کیا پھر کس کے ساتھ ؟ فرمایا اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو تجھ سے زیادہ قریب ہو، پھر اس کے بعد جو تجھ سے زیادہ قریب ہو۔
پھر (وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ) فرما کر پہلے سوال کا جواب دیدیا کہ جو مال بھی تھوڑا یا بہت خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ کو اس کا خوب علم ہے وہ اس سب کی جزا عطا فرماوے گا اور مال کو جو خیر سے تعبیر فرمایا اس میں یہ بتادیا کہ مال حلال ہو (کیونکہ مال حرام خیر نہیں ہے) اور رضائے الٰہی کے لیے خرچ ہو (کیونکہ جس خرچہ سے ریا کاری اور شہرت مقصود ہو وہ خیر نہیں ہے) ۔
مفسرین نے فرمایا ہے کہ دوسرے سوال کے جواب کو اس لیے اہمیت دی گئی کہ کوئی شخص کتنا ہی مال خرچ کرے جب تک صحیح مصرف میں خرچ نہ ہو ثواب کا استحقاق نہ ہوگا۔ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی فضیلت سے متعلق بعض روایات حدیث آیت کریمہ (لَیْسَ الْبِِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ ) کے ذیل میں گزر چکی ہیں۔