Ayah 2:160حق چھپانے اور گمراہ کرنے والوں کی توبہ کی شرائط :
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا ای رجعوا عن الکتمان أوعنہ و عن سائر ما یجب أن یتاب عنہ۔ (ص 28 ج 2) (یعنی وہ لوگ لعنت سے بچ جائیں گے جنہوں نے علم کے چھپانے سے اور ہر اس عمل سے توبہ کی جس سے توبہ کرنا لازم ہے) ۔
پھر فرمایا وَ اَصْلَحُوْا۔ اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
اصلحوا ما افسدوا بالتدارک فیما یتعلق بحقوق الحق والخلق و من ذلک أن یصلحوا قومھم بالارشاد الی الاسلام بعد الاضلال وان یزیلوا الکلام المحرف ویکتبوا مکانہ ما کانوا ازالوہ عنہ التحریف۔
” یعنی توبہ کرنے کے ساتھ اصلاح بھی کریں، جو فساد کیا تھا اس کو دور کریں حق کے چھپانے کی وجہ سے خالق جل مجدہ اور مخلوق کے جو حقوق تلف ہوئے تھے ان کا تدارک کریں اور جن لوگوں کو گمراہ کیا تھا ان کو اسلام قبول کرنے کی طرف دعوت دیں اور بتادیں کہ ہم نے تم کو حق سے روکا تھا حق یہ ہے کہ جو ہم اب کہہ رہے ہیں اور اللہ کی کتاب میں جو کچھ تحریف کی تھی اس کو درست کردیں۔ غلط کو ہٹا دیں اور صحیح کو اس کے قائم مقام کردیں۔ “
پھر فرمایا : وَبَیَّنُوْا، اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
أی اظھر و اما بینہ اللہ تعالیٰ للناس معاینۃ۔۔” یعنی اللہ تعالیٰ شانہ نے جو کچھ بیان فرمایا تھا اور انہوں نے اس کو چھپا دیا تھا اب اس کو خوب واضح طور پر بیان کریں۔ “
نیز صاحب روح المعانی لکھتے ہیں : وبھذین الامرین تتم التوبۃ۔ یعنی جن لوگوں نے حق کو چھپایا فساد کیا لوگوں کو گمراہی پر ڈالا ان کی توبہ اسی وقت پوری ہوگی جب وہ اصلاح بھی کریں اور بیان بھی کریں۔ ان کے قول و فعل سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں اور عوام و خواص میں جو گمراہی پھیلی اس کی تلافی کریں جو حقوق تلف ہوئے ہیں ان کا تدارک کریں۔
یہ بات بہت اہم ہے جس کی طرف لوگوں کو بہت کم توجہ ہوتی ہے۔ بہت سے آزاد خیال لوگ جو اہل حق کو چھوڑ کر خودرو مجتہد اور مجدد بن جاتے ہیں اور مصنف اور مضمون نگار ہونے کے زعم میں زور قلم دکھاتے ہیں ایسے لوگ اہل سنت والجماعت سے ہٹ کر اپنی راہ نکالتے ہیں اور اسی کی اشاعت کرتے ہیں یہ لوگ اگر توبہ کرنے لگیں تو صرف تنہائی میں توبہ کرنا کافی نہیں ہے ان لوگوں پر لازم ہے کہ صاف صاف اعلان کریں اور عوام کو بتائیں کہ فلاں فلاں عقیدہ یا عمل کی جو ہم نے اہل السنت والجماعت کے مسلک کے خلاف تبلیغ و اشاعت کی ہے وہ غلط ہے آج کل فتنوں کا دور ہے۔ بہت سے لوگ صریح کفر اختیار کرلیتے ہیں اور اس کی تبلیغ و اشاعت بھی کرتے رہتے ہیں۔ پھر جب توبہ کرتے ہیں تو چپکے سے توبہ کرکے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ (تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا) تینوں پر عمل کریں۔
فائدہ اولیٰ :
جہاں علم دین کا چھپانا گناہ ہے۔ وہاں یہ بات بھی جان لینا ضروری ہے کہ جو شخص واقعی عالم ہو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے واقف ہو حلال حرام کا علم رکھتا ہو مسائل سے پوری طرح واقف ہو مسئلہ بتانے فتوی دینے کا مقام اسی شخص کا ہے۔ غلط مسئلہ بتانے کا و بال بھی بہت زیادہ ہے۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من سئل من علمہ ثم کتمہ الجم یوم القیامۃ بلجام من نار۔ کہ جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا تھا پھر اس نے اس کو چھپایا تو قیامت کے دن اس کو آگ کی لگام ڈالی جائے گی۔ (سنن التر مذی ابواب العلم)
اس میں لفظ عملہ جو زیادہ فرمایا ہے یہ اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ جو شخص جانتا ہو بتانے کی ذمہ داری اسی کی ہے بےعلم اگر دینی بات بتانے کی جرأت کرے گا تو گمراہی کے گڑھے میں گرے گا اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
صحیح بخاری ص 710 ج 2 میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اے لوگو ! جسے علم کی کوئی چیز معلوم ہو تو وہ اسے بتادے اور جسے معلوم نہ ہو تو اللہ اعلم کہہ دے (یعنی اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے) ...... اس لیے کہ یہ بھی علم کی بات ہے کہ جو کچھ نہ جانتا ہو اس کے بارے میں اللہ اعلم کہہ دے اور خواہ مخواہ اپنے پاس سے نہ بتاوے اور بتکلف عالم نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے (قُلْ مَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ )
اسی لیے علماء نے فرمایا کہ لا ادری نصف العلم (یعنی یہ کہہ دینا کہ میں نہیں جانتا یہ آدھا علم ہے) بہت سے ناقص العلم آدمیوں کو دیکھا جاتا ہے کہ ان کے ہاں لا ادری کا خانہ ہی نہیں ہے ہر بات بتانے کو تیار ہیں اور علم پڑھے بغیر دینی کتابیں لکھتے ہیں غلط مسائل جمع کرتے ہیں اور یہ بھی لکھا گیا کہ جب کسی اچھے علم والے ماہر مفتی سے کوئی شخص مسئلہ پوچھے تو وہ ابھی غور ہی کر رہا ہے لیکن پاس کے بیٹھنے والے جاہلوں نے بتا کر بات ختم بھی کردی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ دینی ذمہ داری اور آخرت کے مواخذہ کا احساس نہیں۔
ایک حدیث میں ہے کہ (اَجْرَءُ کُمْ عَلَی الْفُتْیَا اَجْرَءُ کُمْ عَلَی النَّارِ ) (یعنی تم میں جو شخص فتوی دینے میں زیادہ جری ہے وہ دوزخ میں جانے پر زیادہ جرأت کرنے والا ہے) ۔ (سنن الدارمی ص 53 ج 1)
درحقیقت قرآن کے معنی بتانا یا حدیث کی روایت کرنا یا مسئلہ بتانا بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔ حضرت محمد بن المنکدر نے فرمایا کہ بلاشبہ عالم (جو علم کی باتیں بتاتا ہو) وہ اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان واسطہ بن جاتا ہے۔ اب اس ذمہ داری سے نکلنے کا راستہ سوچے (سنن الدارمی ص 50 ج 1) نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ اٹکل سے اور بھر پور علم کے بغیر باتیں نہ بتائے اور جو کوئی بات معلوم نہ ہو، صاف نہ ہو، صاف کہہ دے کہ مجھے معلوم نہیں۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کو کوئی فتوی دیا گیا جو علم اور تحقیق کے بغیر تھا تو اس کا گناہ اسی پر ہے جس نے اسے فتوی دیا۔ (سنن دارمی 53 ج 1 وسنن ابو داؤد ص 159 ج 2)
اول تو مسئلہ خوب تحقیق کے بعد بتائیں پھر بھی اگر غلطی ہوجائے تو اپنی غلطی کا اعلان کریں اور جسے فتوی دیا ہو اسے تلاش کریں اور بتائیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی، صحیح مسئلہ یہ ہے۔
فائدہ ثانیہ :
علم کی باتوں کو چھپانا گناہ ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت اور حدیث سے معلوم ہوا لیکن بتانے والے کو یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ سائل جو کچھ پوچھ رہا ہے وہ اس کے جو اب کو سمجھنے کا اہل ہے بھی یا نہیں۔ اور اگر سمجھ بھی لے گا تو اس سے مطلب کیا نکالے گا اور لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگی تو وہ اس کو سمجھ پائیں گے یا نہیں اور کسی فتنہ میں تو نہ پڑجائیں گے۔ حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو وہ باتیں بتاؤ جو جانتے پہچانتے ہوں (ان کی عقل و فہم سے اونچی باتیں کرو گے تو وہ اللہ و رسول کی تکذیب کریں گے) کیا تم پسند کرتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کی جائے (بخاری ص 24 ج 1) حضور اقدس ﷺ نے حضرت معاذ ؓ سے فرمایا :
من لقی اللہ لا یشرک بہ شیئا دخل الجنۃ (کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس نے شرک نہ کیا ہو تو جنت میں داخل ہوگا) ۔
انہوں نے عرض کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں، مجھے ڈر ہے کہ لوگ (اسی پر) بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور اعمال چھوڑ دیں گے) ۔ (صحیح بخاری ص 24 ج 1)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ان الذی یفتی الناس فی کل ما یستفی المجنون۔ (جو شخص لوگوں کے ہر استفتاء کا جواب دے وہ دیوانہ ہے۔ (سنن دارمی ص 56 ج 1، ورواہ الطبرانی فی الکبیر کمافی جمع الفوائد)
Ayahs 2:161–162کفر پر مرنے والوں پر لعنت اور عذاب
اس آیت شریفہ میں کفر پر مرنے والوں کی سزا کا ذکر ہے آیت کا عموم ان یہود کو بھی شامل ہے جو کفر پر جمے رہے اور دوسروں کو بھی کفر پر جمائے رکھا۔ حضور اقدس ﷺ کی نعت اور صفت کو چھپایا اور حق کو قبول نہ کیا اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیا، اور یہود کے علاوہ دوسرے تمام کفار نصاریٰ مشرکین منکرین رسالت انبیاء ( علیہ السلام) اور منکرین عقائد اسلامیہ اور منکرین ضروریات دین اور ختم نبوت کے منکر اور تمام ملاحدہ اور زنادقہ اور وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر کافر ہوگئے ان سب کو آیت کا عموم شامل ہے۔ حاصل یہ ہے کہ تمام کافر جو کفر پر مرجائیں ان سب پر اللہ کی لعنت ہے اور سب فرشتوں کی اور سب انسانوں کی، گزشتہ آیت کی تفسیر میں بتادیا گیا ہے کہ لعنت خدائے پاک کی رحمت سے دوری کو کہتے ہیں۔ سب سے بڑی دوری یہ ہے کہ دوزخ میں ہمیشہ کے لیے داخلہ ہوجائے کافروں کے لیے یہ سب سے بڑی لعنت ہے اس لیے خالِدِیْنَ فرمایا۔ حضرت ابو العالیہ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا خالدین فی جھنم فی اللعنۃ یعنی وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخل ہوں گے اور لعنت میں رہیں گے۔ (در منثور ص 167 ج 1)
شاید کسی کے ذہن میں یہ خیال وارد ہو کہ کافر تو ایک دوسرے پر لعنت نہیں کرتے پھر ان سب لوگوں کی لعنت کیسے ہوئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ اس دنیا میں لعنت نہیں کرتے مگر آخرت میں سب ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ سورة عنکبوت میں ہے (ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا وَّ مَاْوٰیکُمُ النَّارُ وَ مَا لَکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ) (یعنی پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے سے برگشتہ ہوجاؤ گے۔ اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا۔ اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی حمایتی نہ ہوگا۔
سورۃ اعراف میں ہے (کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا حَتّآی اِذَا ادَّارَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰیھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھآؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ) (جب بھی کوئی جماعت دوزخ میں داخل ہوگی تو وہ دوسری جماعت پر لعنت بھیجے گی۔ یہاں تک کہ جب سب دوزخ میں ایک دوسرے کو پالیں گے تو بعد والے پہلے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ لہٰذا ان کو آگ کا دو گنا عذاب دے۔
اور سورة احزاب میں فرمایا (وَ قَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ کُبَرَآءَ نَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا) (اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم نے اطاعت کی اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑوں کی، سو انہوں نے ہم کو راہ سے بھٹکا دیا اے ہمارے رب ان کو دہری سزا دیجیے اور ان پر بڑی لعنت فرما۔ تفسیر در منثور میں ہے کہ حضرت ابو العالیہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کافر کھڑا کردیا جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ پھر اس کے فرشتے لعنت کریں گے۔ پھر تمام انسان اس پر لعنت بھیجیں گے۔
پھر فرمایا (لَا یُخَفَّفُ عَنْھُمُ الْعَذَابُ ) (یعنی ان لوگوں سے عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا۔ )
سورۃ نحل میں فرمایا (اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ زِدْنٰھُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوْا یُفْسِدُوْنَ ) (یعنی جو لوگ کفر کرتے تھے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے ان کے لیے ہم ایک سزا پر دوسری سزا بمقابلہ ان کے فساد کے بڑھا دیں گے۔
سورۃ زخرف میں فرمایا (اِِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ لاَ یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ ) (بلاشبہ مجرمین جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں ناامید ہو کر پڑے رہیں گے)
سورۂ مومن میں فرمایا (وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَہَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ قَالُوْا اَوَ لَمْ تَکُ تَاْتِیکُمْ رُسُلُکُمْ بالْبَیِّنَاتِ قَالُوْا بَلٰی قَالُوْا فَادْعُوْا وَمَا دُعَاءُ الْکٰفِرِیْنَ اِِلَّا فِیْ ضَلاَلٍ ) ” اور جو لوگ دوزخ میں ہوں گے جہنم کے دارو غاؤں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے تم دعا کرو ایک دن ہمارا عذاب ہلکا فرما دے، وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلے کھلے دلائل لے کر نہ آئے تھے وہ کہیں گے ہاں آئے تو تھے۔ داروغے کہیں گے کہ پھر تم ہی دعا کرلو اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بےاثر۔ “
آخر میں فرمایا (وَ لاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ) (اور ان کو مہلت نہ دی جائے گی) ۔ مہلت اسے دی جاتی ہے جسے اپیل کرنے کا موقع دیا جائے۔ کافروں کو بہر حال دائمی عذاب میں رہنا ہے کسی طرح کی ان کے لیے کوئی مہلت نہیں دی جائے گی نہ ان کو کسی طرح کی معذرت خواہی کی اجازت دی جائے گی۔
سورۃ مرسلات میں فرمایا (ھٰذَا یَوْمُ لاَ یَنْطِقُوْنَ وَلاَ یُؤْذَنُ لَہُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ وَیْلٌ یَّوْمَءِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ) (یہ دن ہے جس میں وہ نہ بولیں گے اور نہ ان کو اجازت دی جائے گی کہ عذر پیش کریں۔ ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔
لعنت کرنے سے متعلقہ مسائل :
مسئلہ : عام طور سے یوں کہہ سکتے ہیں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت اور ظالموں پر اللہ کی لعنت لیکن کسی خاص شخص کو مقرر کر کے یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ ملعون ہے خواہ مومن ہو یا کافر ہو، خاص طور پر معین کر کے صرف اسی شخص پر لعنت بھیج سکتے ہیں جس کا کفر پر مرنا یقینی ہو جیسے فرعون، ابو لہب ابو جہل وغیرہ، جو شخص اسی دنیا میں موجود ہے اور حالت کفر میں ہے اس کو بھی متعین طریقہ پر ملعون کہنا جائز نہیں کیونکہ یہ یقین نہیں ہے کہ وہ کفر پر مرے گا، بہت سے لوگ اس میں بےاختیار ہوتے ہیں نہ صرف کافروں کو بلکہ مسلمانوں کو ملعون لعین کہہ دیتے ہیں۔ بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کی زبان اس میں زیادہ کھلی ہوئی ہوتی ہے۔ حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔ سو آسمان کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں پھر زمین کی طرف اتاری جاتی ہے سو زمین کے دروازے بھی بند کردیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں اپنا راستہ دیکھتی ہے جب کوئی جگہ نہیں پاتی تو اس پر لوٹ جاتی ہے جس نے لعنت کے لفظ زبان سے نکالے تھے۔ (سنن ابو داؤد کتاب الادب ص 316 ج 2)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر ہوا نے ہٹا دی۔ اس نے ہوا پر لعنت کردی حضرت رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کر کیونکہ وہ تو اللہ کے حکم کے مطابق چلتی ہے اور اس میں شک نہیں کہ جو شخص کسی چیز پر لعنت کرے اور وہ چیز اس کی اہل نہ ہو تو لعنت کرنے والے پر ہی لعنت لوٹ جاتی ہے۔ (سنن ابو داؤد کتاب الادب ص 316 ج 2)
مسئلہ : لعنت کے ہم معنی جو بھی الفاظ ہوں ان کا استعمال کرنا بھی اسی وقت جائز ہے جبکہ اصول کے مطابق اس پر لعنت بھیجنا جائز ہو۔ لفظ مردود بھی ملعون کے معنی میں ہے اور پھٹکار بھی اردو میں لعنت کے معنی میں آتا ہے۔ عورتوں کو لعنت اور اس کے ہم معنی لفظ استعمال کرنے کی بہت زیادہ عادت ہوتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ ایک مرتبہ عید الفطر یا عید الاضحی کی نماز کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ عورتوں پر آپ کا گزر ہوا آپ نے فرمایا کہ اے عورتو ! تم صدقہ کرو مجھے دوزخ میں تمہاری تعداد زیادہ دکھائی گئی ہے۔ عورتوں نے عرض کیا کیوں یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا کہ تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 13 از بخاری و مسلم)
Ayah 2:163معبود حقیقی ایک ہی ہے
اس آیت میں خالق تعالیٰ شانہ کی توحید بیان فرمائی ہے اور مشرکین کی تردید فرمائی ہے۔ فرمایا کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ اپنی ذات صفات میں یکتا ہے اور تنہا ہے۔ اور ایک ہے وہ بہت مہربان ہے اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں اور اس کا کوئی ہمسر اور برابر نہیں۔ وہ واحد ہے احد ہے وحدہ لاشریک ہے۔ ساری مخلوق کو تنہا اسی نے پیدا فرمایا۔ لہٰذا وہی واحد معبود ہے ساری مخلوق پر وہ رحم فرماتا ہے۔ لوگوں نے اس کے علاوہ جو دوسرے معبود بنائے ہیں وہ جھوٹے معبود ہیں ان میں سے کوئی بھی مستحق عبادت نہیں نہ وہ خالق ہیں نہ مالک ہیں نہ رحمن ہیں نہ رحیم ہیں۔
Ayah 2:164توحید کے دلائل کا بیان
تفسیر در منثور ص 163 ج 1 میں ہے کہ جب آیت (وَ اِلٰھُکُمْ الہٌ وَّاحِدٌ) نازل ہوئی تو مشرکین کو تعجب ہوا اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ معبود صرف ایک ہی ہے۔ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی نشانی دکھائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے خالق ومالک ہونے کا اور کائنات میں تصرف فرمانے کا تذکرہ فرمایا۔ مشرک بھی جانتے ہیں کہ یہ تصرفات اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ سمجھ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کو واحد ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں اور حضرت عطاء سے منقول ہے کہ جب مدینہ منورہ میں آیت کریمہ (وَ اِلٰھُکُمْ الہٌ وَّاحِدٌ) نازل ہوئی تو مکہ میں کفار قریش نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سب لوگوں کا ایک ہی معبود ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ ان آیات میں غور کریں سو سمجھ میں آجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے اور واحد ہے اور وہ ہر چیز کا معبود ہے اور ہر چیز کا خالق ہے (ایضاً ص 174) ۔ مشرکین کا عجیب طریقہ تھا اور اب بھی ہے کہ پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے رزق دیا اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی پرورش اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اولاد وہ دیتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں وہ پیدا فرماتا ہے لیکن مشرکین عبادت دوسروں کی کرتے ہیں اور عجیب تربات ہے کہ جب مشرکین مکہ کے سامنے یہ بات آئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو تعجب سے کہنے لگے۔ (اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِِلٰہًا وَّاحِدًا اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ) (کیا تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا دیا بلاشبہ یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے) دنیا بھی عجیب جگہ ہے جو بھی چیز رواج پا جائے خواہ کیسی ہی باطل اور بری ہو رواج کی وجہ سے لوگ اسے اچھی چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ انسانوں پر فرض ہے کہ وہ صرف اپنے خالق مالک کی عبادت کریں۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کو معبود نہ بنائیں۔ یہی انسانوں کا دین ہے جو ان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) نے بتایا اور اختیار کیا اور ان کے بعد تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اس کی دعوت دیتے رہے۔ جب لوگوں میں شرک پھیل گیا تو اسی سے مانوس ہوگئے اور توحید کی دعوت پر تعجب کرنے لگے۔
مذکورہ بالا آیت میں چند ایسی چیزوں کا ذکر ہے جو سب کے سامنے ہیں اور سب کو اقرار ہے کہ یہ ساری چیزیں صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت اور تصرف سے وجود میں آئی ہیں اور ان کی بقاء اور وجود صرف اس کی مشیت سے ہے۔ کسی دوسرے کو ذرہ بھی ان کے وجود و بقا میں دخل نہیں۔
آسمان و زمین کی تخلیق :
سب سے پہلے آسمان و زمین کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا ان کی تخلیق صرف اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے۔ سورة زمر میں فرمایا : (وَ لَءِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ) ” اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو تو وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا۔ “ سورة احقاف میں فرمایا (قُلْ اَرَءَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اِءْتُوْنِیْ بِکِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ ھٰذَا اَوْ اَثَارَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ )
” آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ جن چیزوں کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو مجھ کو یہ دکھلاؤ کہ انہوں نے کون سی زمین پیدا کی یا ان کا آسمانوں میں کچھ ساجھا ہے۔ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے کی ہو یا اور کوئی مضمون منقول ہو لے آؤ۔ اگر تم سچے ہو۔ “
رات دن کا آنا جانا :
آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر فرمانے کے بعد اختلاف اللیل و النہار یعنی رات دن کے آگے پیچھے آنے ایک کے کم ہونے دوسرے کے زیادہ ہونے کا تذکرہ فرمایا۔ سورة فرقان میں ارشاد ہے (وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا) ” اور وہ وہی ذات پاک ہے جس نے بنا دیا رات و دن کو آگے پیچھے آنے والا اس شخص کے لیے جو نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ کرے یا ارادہ کرے شکر گزار ہونے گا “۔ سورة زمر میں فرمایا (خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ یُکَوِّرُ الَّیْلَ عَلَی النَّہَارِ وَیُکَوِّرُ النَّہَارَ عَلَی الَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ) ” پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ، وہ لپیٹتا ہے رات کو دن پر، اور اس نے مسخر فرمایا سورج کو اور چاند کو “
سورۂ فاطر میں فرمایا (یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّھَارِ وَ یُوْلِجُ النَّھَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ ) (وہ داخل فرماتا ہے رات کو دن میں اور داخل فرماتا ہے دن کو رات میں اور اس نے مسخر فرمایا سورج کو اور چاند کو ہر ایک چلتا ہے اپنی مقررہ اجل کے لیے، یہ اللہ ہے تمہارا رب ہے اسی کے لیے ملک ہے اور جب لوگوں کو تم اس کے علاوہ پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں) ۔
رات اور دن کا وجود میں آنا کم و بیش ہونا کسی علاقہ میں کسی زمانہ میں رات کا زیادہ ہونا اور کسی علاقہ میں کسی زمانہ میں دن کا زیادہ ہونا سب اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تحت ہے کسی کو اس میں ذرا بھی دخل نہیں سب اہل عقل اس کو جانتے اور مانتے ہیں۔
سمندروں میں جہازوں کا چلنا :
پھر تیسری نشانی کا ذکر فرمایا (وَ الْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِیْ الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ ) (یعنی جو کشتیاں سمندر میں چلتی ہیں وہ سامان لے کر جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہیں) ان کشتیوں کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے سمندر خود اللہ تعالیٰ کی بڑی مخلوق ہے اس میں طرح طرح کے جانور بہت سی چیزیں ہیں جو انسانوں کے کام آنے والی ہیں۔ سمندروں نے ایک براعظم کو دوسرے براعظم میں ملا رکھا ہے۔ اگر سمندر نہ ہوتے تو خشکی ہی کے ذریعہ دور و نزدیک کے سامان کو منتقل کرنا پڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر میں کشتیاں جاری فرما دیں اگر اللہ چاہتا تو کوئی کشتی سمندر کی سطح پر نہ چلتی بلکہ ڈوب کر رہ جاتی۔ یہ سامان یورپ سے ایشیا اور ایشیا سے یورپ تک جاتا ہے۔ اگر براعظم کے لوگ دوسرے براعظم کی پیداوار سے منتفع ہوتے ہیں باوجودیکہ ہوائی جہازوں کی سروس بہت زیادہ ہوگئی ہے اور ٹرینیں بھی کثیر تعداد میں چلنے لگی ہیں لیکن سامان کو نقل و حمل کے لیے آج تک بحری جہازوں سے بےنیازی نہیں ہے۔
سورۂ نحل میں فرمایا (وَ تَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ سمندر میں پانی کو چیرتی ہوئی چلی جاتی ہیں اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو) ۔
سمندر کا سفر ہے نیچے پانی ہے۔ اوپر آسمان ہے۔ بھاری بھر کم جہاز، دریا کا تلاطم، ہواؤں کے تھپیڑے اور ڈوبنے کا ڈر۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ ہی حفاظت فرماتے ہیں۔ ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔ جو سامان لدا ہوا ہے اور جو لوگ اس میں سوار ہیں۔ صرف اللہ کی حفاظت سے منزل مقصود تک پہنچتے ہیں جب سمندر میں طغیانی آجائے تو ڈرتے ہیں اور لرزتے ہیں اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نظر نہیں جاتی اور صرف اسی کو پکارتے ہیں۔ سارے باطل معبودوں کی یاد یوں ہی دھری رہ جاتی ہیں۔ سورة عنکبوت میں فرمایا (فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) ” پھر جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ وہ ناقدری کریں اس نعمت کی جو ان کو ہم نے دی اور تاکہ وہ نفع حاصل کرلیں۔ سو عنقریب جان لیں گے۔ )
یہ مشرک انسان کا عجیب مزاج ہے کہ جب مصیبت پڑتی ہے تو صرف اللہ کو یاد کرتا ہے اور اسی کو پکارتا ہے اور جب مصیبت سے چھوٹ جاتا ہے تو شرک کرنے لگتا ہے۔ اور غیر اللہ کو پکارتا ہے اور اس کی عبادت میں لگ جاتا ہے۔
بارش کا نازل فرمانا :
چوتھی نشانی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ ) کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے جو پانی اتارا ہے اور اس کے ذریعہ مردہ زمین کو زندہ فرمایا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے خالق مالک اور واحد ہونے کی نشانیوں میں سے ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور یہ نعمت بہت زیادہ ہے۔ کروڑوں انسان اور چوپائے اور درخت اس سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ختم ہونے نہیں پاتا۔ بارشیں ہوتی ہیں میٹھا پانی برستا ہے۔ خشک زمینیں اس سے سیراب ہوتی ہیں۔ کھیتیاں ہری بھری ہوتی ہیں۔ باغات سرسبز و شاداب ہوتے ہیں۔ تالابوں میں پانی جمع ہوتا ہے۔ مہینوں انسانوں اور جانور اس کو اپنے خرچ میں لاتے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں بارش کے سوا پانی کا کوئی انتظام ہی نہیں۔ کنوئیں ہیں تو وہ بھی بہت گہرے اور کم پانی والے ہیں۔ پانی پینے کپڑے دھونے اور کھیتوں کو سیراب کرنے، بارش کے لیے اللہ سے لو لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو جان میں جان آتی ہے۔ جن علاقوں میں میٹھے پانی کی نہروں سے سیرابی ہوتی ہے وہ بھی آسمان ہی کا برسایا ہوا ہے۔ کیونکہ آسمان کی بارشیں پہاڑوں پر برف کی صورت میں منجمد ہوجاتی ہیں۔ پھر وہ برف پگھل پگھل کر نہروں میں آتی ہے۔ سورة شوریٰ میں فرمایا (وَھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ وَھُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ ) (اور وہی ہے جو بارش نازل فرماتا ہے اس کے بعد کہ وہ ناامید ہوچکے اور وہ پھیلاتا ہے اپنی رحمت کو اور وہی کام بنانے والا، سب تعریفوں کے لائق ہے۔
سورة حم سجدہ میں فرمایا (وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنَّکَ تَرَی الْاَرْضَ خَاشِعَۃً فَاِِذَآ اَنزَلْنَا عَلَیْہَا الْمَآءَ اھْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِِنَّ الَّذِیْٓ اَحْیَاھَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰی اِِنَّہٗ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) ” اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے کہ دبی ہوئی پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے بلاشبہ جس نے اس زمین کو زندہ فرمایا وہی مردوں کو زندہ کر دے گا۔ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
سورۃ روم میں فرمایا : (فَانْظُرْ الآی اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰہِ کَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا اِنَّ ذٰلِکَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰی وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) ” سو رحمت الٰہی کے آثار دیکھو کہ اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد کس طرح زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “
زمین کا خشک ہوجانا اور اس کے درختوں کا سوکھ جانا اس کو زمین کی موت سے تعبیر فرمایا اور اس کی سر سبزی و شادابی کو حیات سے تعبیر فرمایا۔
جانوروں کا پیدا فرمانا اور زمین میں پھیلانا :
اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے پانچویں نشانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ (وَ بَثَّ فِیْھَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ ) کہ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پھیلا دیے ہر قسم کے چلنے پھرنے والے جانور۔ اس کا عطف اَنْزَلَ پر بھی ہوسکتا ہے۔ اور اَحْیٰی پر بھی کما ذکرہ صاحب الروح۔ عربی لغت کے اعتبار سے دَآبَّۃ ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو زمین پر چلے پھرے اگرچہ عرف عام میں بڑے بڑے جانور گائے، بیل، بھینس، اونٹ وغیرہ کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ زمین پر چلنے پھرنے والے طرح طرح کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ کس قدرکثیر تعداد میں مختلف اجناس و اصناف کے جانور پیدا فرمائے ہیں۔ ان کی طبیعتیں الگ الگ ہیں۔ صورتیں الگ الگ ہیں۔ منافع مختلف ہیں۔ اور ان سب پر انسان کو مسلط فرما دیا ہے۔ خوب زیادہ غور کیا جائے اور ایک ایک جانور کے خواص پر نظر ڈالی جائے تو بیشمار قدرت الٰہیہ کے مظاہر سمجھ میں آجاتے ہیں۔
ہواؤں کو مختلف رخوں پر چلانا :
چھٹی نشانی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وَتَصْرِیْفِ الرِّیَاح یعنی ہواؤں کو چلانے پھرانے ان کے رخوں کو بدلنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ جیسا چاہتے ہیں۔ ہوائیں چلتی ہیں جس رخ پر اللہ چاہتے ہیں۔ ادھر ہی جاتی ہیں۔ تیز چلنے کا حکم ہو تو تیز چلتی ہیں اور آہستہ چلنے کا حکم ہو تو آہستہ چلتی ہیں۔ عذاب کا ذریعہ بھی بنتی ہیں اور رحمت کا سبب بھی۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو قدرت نہیں ہے کہ ان کا رخ بدل دے یا ان کی تیز رفتاری کو کم کر دے یا سست رفتاری کو تیز کر دے۔
سورۂ روم میں فرمایا (وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ بِاَمْرِہٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) ” یعنی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو خوشخبری دیتی ہیں اور تاکہ تم کو اپنی رحمت چکھا دے اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں تاکہ اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے عذاب دینے کے لیے ہوا بھیج دی وہ آندھی بن کر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ پوری نافرمان قوم ہلاک اور برباد ہوگئی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے اس کو نعمت بنا دیا۔ صبح کو ایک ماہ کی مسافت تک لے جاتی تھی اور شام کو بھی ایک ماہ کی مسافت پر لے جاتی تھی۔ غزوہ خندق میں اللہ تعالیٰ شانہ نے آندھی بھیج دی جس نے دشمنان اسلام کو واپس ہونے پر مجبور کردیا۔ ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں ان کے چہرے مٹی سے اٹ گئے۔ سخت تیز اور سخت ٹھنڈی ہوا تھی جس کی وجہ سے بدحواس ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
سورۃ احزاب میں ارشاد فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَآءَ تْکُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْھَا) ” اے ایمان والو ! یاد کرو اللہ کی نعمت کو جبکہ آگئے تمہارے پاس لشکر، سو ہم نے بھیج دیا ان کے اوپر ہوا کو اور ایسے لشکر کو جسے تم نہیں دیکھ رہے تھے، صحیح بخاری میں 141 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نُصِرت بالصبا و أھلکت عاد بالدبور یعنی صبا کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد دبور کے ذریعہ ہلاک کی گئی۔ (صبا اور دبور ہواؤں کے نام ہیں) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہوا رحمت لے کر آتی ہے اور عذاب لے کر آتی ہے۔ جب تم اس کو دیکھو تو اسے برا نہ کہو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کے شر سے پناہ مانگو۔ (سنن ابی داؤد ص 239 ج 1)
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو رسول اللہ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے۔ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ خَیْرَھَا وَ خَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَ شَرِّ مَا فِیْھَا وَ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ ) (اے اللہ میں آپ سے اس کی خیر کا اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا اور جو کچھ یہ لے کر بھیجی گئی اس کی خیر کا سوال کرتا ہوں اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے اور جو کچھ یہ لے کر بھیجی گئی ہے اس کے شر سے۔ (صحیح مسلم ص 294 ج 1)
بادلوں کی تسخیر :
ساتویں نشانی ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِبَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ) (اور بادلوں میں نشانی ہے جو مسخر ہیں آسمان و زمین کے درمیان) ۔ بادلوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمان و زمین کے درمیان مسخر فرمایا کہ یہ پانی بھر بھر کر لاتے ہیں جب بارش ہوتی ہے، تو ان سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ بارش ہونیوالی ہے۔ ان کو دیکھ کر لوگ اپنا انتظام کرلیتے ہیں اور پانی سے بھرے ہوئے بادل ادھر ہی جاتے ہیں۔ جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے۔
سورۂ اعراف میں فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ حَتّٰٓی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِہِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِہٖ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ )
” اور وہ ایسا ہے کہ اپنی رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے جو خوش کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں تو ہم اس بادل کو کسی خشک سر زمین کی طرف ہانک دیتے ہیں پھر اس کے ذریعہ پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو۔ “
بادلوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو میدان تیہ میں سایہ عطا فرمایا۔ بادل ان کے ساتھ چلتے تھے، اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور تصرف سے بادلوں کا ہلکا بھاری ہونا بہت زیادہ بادلوں کا آجانا بالکل ختم ہوجانا نظروں کے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ سب اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ قوم عاد پر عذاب آنے کی ابتداء اسی طرح سے ہوئی تھی کہ عرصہ دراز سے بارش نہ ہوئی تھی اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ بادل ظاہر ہوگئے۔ انہوں نے سمجھا کہ بادل بارش برسائے گا۔ سخت گرمی کی وجہ سے جب میدان میں نکل کر کھڑے ہوگئے تو بجائے بارش کے سخت آندھی آگئی جس کی وجہ سے وہ بالکل تہس نہس ہو کر رہ گئے صحیح بخاری ص 715 ج 2 میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ جب کوئی بادل یا ہوا دیکھتے تھے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ مبارک میں ظاہر ہوجاتا تھا۔ حضرت عائشہ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ لوگ جب بادل کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔ اس امید پر کہ بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ کے سامنے بادل آجائے تو آپ کے چہرہ مبارک میں پریشانی محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ مجھے کیا اطمینان ہے اس میں عذاب ہو۔ ایک قوم کو ہوا کے ذریعہ عذاب دیا گیا۔ جب انہوں نے عذاب کو دیکھا ( جس کی ابتداء بادل ظاہر ہونے سے تھی) تو انہوں نے کہا (ھَذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا) (کہ یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا) لیکن وہ ہوا کی صورت میں سخت عذاب تھا۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آسمان میں کچھ بادل وغیرہ معلوم ہوتا تھا تو آنحضرت سرور عالم ﷺ کے چہرے مبارک کا رنگ بدل جاتا تھا آپ کبھی اندر جاتے کبھی باہر آتے کبھی آگے بڑھتے کبھی پیچھے ہٹتے جب بارش ہوجاتی تھی تو آپ کی وہ کیفیت جاتی رہتی تھی۔ (صحیح مسلم ص 294 ج 1)
یہ امور جو آیت میں مذکور ہوئے ان سب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور خالقیت کی نشانیاں ہیں توحید کے منکر بھی مانتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اسی کے تصرف سے عالم میں سب کچھ ہو رہا ہے پھر بھی توحید کا اقرار نہیں کرتے اور شرک میں مبتلا ہیں۔ ھداھم اللّٰہ تعالیٰ
Ayahs 2:165–166مشرکین کی باطل معبودوں سے محبت اور اس پر سخت عذاب
توحید کا ذکر کرنے اور توحید کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اب ان لوگوں کی حالت بیان فرمائی جنہوں نے توحید سے منہ موڑا اور شرک کو اختیار کیا۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود تجویز کرلیے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھتے ہیں۔ ان کی عبادت کرتے ہیں ان کے لیے نذریں مانتے ہیں، اور ان کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں ان کا حال بتانے کے بعد فرمایا (یُحبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ ) کہ یہ لوگ ان باطل معبودوں سے ایسی محبت کرتے ہیں۔ جیسی اللہ تعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں (ص 34 ج 2) کہ یہاں محبت سے تعظیم اور فرمانبرداری مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور معبود ان باطلہ کے درمیان برابری کرتے ہیں اور باطل معبودوں کی تعظیم اور اطاعت میں اسی طرح لگتے ہیں جیسا کہ معبود حقیقی کی عبادت اور اطاعت کرنا لازم ہے چونکہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر سمجھتے ہیں اس لیے وہ ضمیر جمع لائی گئی جو عقلاء کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ یعنی یُحِبُّوْ نَھُمْ فرمایا یُحِبُّوْنَھَا نہیں فرمایا۔ بعض مفسرین نے اَنْدَاداً سے قوم و قبیلے اور علاقہ کے بڑے لوگ مراد لیے ہیں یعنی بہت سے لوگ اپنے رؤساء کو ایسا مطاع مانتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور فرمانبرداری کرنا لازم ہے۔
اہل ایمان کو اللہ سے سب سے زیادہ محبت ہے :
پھر فرمایا
(وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ) ” یعنی جو لوگ ایمان لائے ان کا اللہ سے محبت کرنا بہت ہی زیادہ قوی ہے “ کیونکہ اہل ایمان کی جو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے وہ کامل ہے اور راسخ ہے اور مضبوط ہے۔ ان کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ وہ کبھی بھی اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مدد نہیں مانگتے اور غیر اللہ کی کبھی بھی عبادت نہیں کرتے۔ برخلاف بت پرستوں کے کہ جب وہ مصیبتوں میں گرفتار ہوتے ہیں تو بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں مثلاً جب کشتی میں سوار ہوں اور وہ ڈوبنے اور ڈگمگانے لگے تو سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی سے نجات کا سوال کرتے ہیں اور دوسرے احوال میں بھی جب بھی کوئی پریشانی ہو اس کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تک کسی بت کی پوجا پاٹ کرتے رہتے ہیں۔ پھر اسے چھوڑ کر دوسرا بت تراش کر اس کے سامنے جبین نیاز رگڑنے لگتے ہیں اور بعض مرتبہ حلوے وغیرہ کا بت بنا لیتے ہیں۔ پھر عند الضرورت اسے کھا جاتے ہیں۔
ہندوستان کے مشرکوں کو دیکھا جاتا ہے کہ دیوالی کے موقع پر ( جو ان کا ایک تہوار ہے) کھانڈ کی مورتیاں بناتے ہیں پھر ان کو بیچتے ہیں اور چھوٹے بڑے مل کر ان کو کھا جاتے ہیں۔
پھر فرمایا (وَ لَوْ یَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا وَّ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ ) ” کہ جن لوگوں نے خدا کے ہمسر تجویز کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا قیامت کے دن جب عذاب کو دیکھیں گے تو اس وقت جان لیں گے کہ ساری قوت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس موقع پر ان کو بہت زیادہ ندامت، پشیمانی اور شرمندگی ہوگی جس سے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچے گا۔ یہ آیت کی ایک تفسیر ہے۔ اور اس تفسیر کی بناء پر جواب تو محذوف ہے۔
قال البیضاوی لو یعلمون أن القدرۃ للّٰہ جمیعا اذا عاینوا العذاب لندموا اشد الندم۔ اور مفسر ابن کثیر ص 202 ج 1 نے اس کی تفسیر اس طرح سے کی ہے کہ :
اگر وہ جان لیں اس عذاب کو جسے وہاں یوم قیامت میں دیکھیں گے (جو سخت عذاب ان کے شرک اور کفر کی وجہ سے ان کو دیا جائے گا) تو آج ہی اس دنیا میں اپنے کفر سے باز آجائیں۔
مفسر بیضاوی نے بعض مفسرین سے آیت کی تفسیر اس طرح بھی نقل کی (وَ لَوْیَرَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَنْدَادَھُمْ لاَ تَنْفَعُ لَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْقُوَّۃَ لِلّٰہِ کُلَّھَا لاَ یَنْفَعُ وَ لاَ یَضُرُّ غَیْرُہٗ )
(یعنی جنہوں نے ظلم کیا اگر وہ جان لیں کہ ان کے بنائے ہوئے خدا نفع دینے والے نہیں ہیں تو یہ بات ضرور جان لیں کہ ساری قوت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کے سوا کوئی نفع اور ضرر کا مالک نہیں۔ اس صورت میں یری کا مفعول یعنی اندادھم لاینفع محذوف ہوگا۔ (وذکرہ فی الروح ایضاً ص 35 ج 2)
Ayah 2:167قیامت کے دن متبوعین کا اپنے ماننے والوں سے بیزاری ظاہر کرنا اور اس وقت ان کی پشیمانی ہونا
ان آیات میں کافروں کی ایک اور حسرت اور ندامت اور شناعت اور فظاعت ذکر فرمائی۔ اور وہ یہ کہ جو لوگ دنیا میں پیشوا تھے اور قوموں اور قبیلوں کے اور ملک و وطن کے بڑے تھے جن کے پیچھے چل کر ان کی اولاد نے اور قوم و قبیلہ نے اور ملک کے بسنے والوں نے اپنا ناس کھویا اور کفر اور شرک میں مبتلا ہوئے۔ یہ سردار ان قوم اور زعماء ملک و وطن قیامت کے دن اپنے ماننے والوں اور پیچھے چلنے والوں اور ان کی رضا مندی کیلئے قربانیاں دینے والوں سے صاف صاف کہہ دیں گے کہ ہمارا تمہارا کوئی تعلق نہیں اور یہ بیزاری ایسے موقع پر ہوگی جب ان کے ماننے والے اس دنیا سے گزر چکے ہوں گے اور کفر و شرک پر مرچکے ہوں گے۔ وہاں نہ ایمان لانا معتبر ہوگا نہ دنیا میں واپس آسکیں گے اور عذاب بھگتنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا ان کے آپس کے تعلقات ختم ہوچکے ہوں گے اور کوئی کسی کو کسی طرح بھی مدد نہ دے سکے گا۔ کما قال تعالیٰ (مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلاَ شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ) (سورۃ مومن) ” ظالموں کے لیے نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جس کی اطاعت کی جائے) ۔
جب سردار ان قوم بیزاری ظاہر کردیں گے تو وہ لوگ جنہوں نے ان کا اتباع کیا تھا یوں کہیں گے کہ اگر ہمیں دنیا میں واپس جانا نصیب ہوجائے تو ہم ان سے اسی طرح بیزاری ظاہر کریں جیسا کہ آج وہ ہم سے بیزار ہوگئے۔
پھر فرمایا (کَذٰلِکَ یُرِیْھِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَھُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْھِمْ ) (یعنی جس طرح ان کو آپس کی بیزاری کا منظر دکھایا جائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے دوسرے اعمال بھی حسرتیں بنا کر ان کو دکھائے گا اور حسرت سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ دوزخ کے عذاب کے ساتھ حسرتوں کا عذاب مستقل عذاب ہوگا۔ بار بار نادم ہوں گے کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اتباع کرلیتے تو اچھا تھا۔ کفر و شرک اختیار نہ کیا ہوتا، فلاں فلاں عمل اختیار کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا اور اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے اس دن کا سوچنا، سمجھنا، نادم ہونا، دوزخ سے نکلنے کا ذریعہ نہ بنے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ کبھی بھی اس سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ (وَمَا ھُمْ بْخَارْجْیْنَ مِنَ النَّارْ )
Ayahs 2:168–169حلال کھانے اور شیطان کے اتباع سے پرہیز کرنے کا حکم
ان آیات میں اول تو ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی جو زمین میں حلال اور پاکیزہ چیزیں موجود ہیں۔ پھر یہ فرمایا کہ شیطان کے قدموں کا تباع نہ کریں۔ شیطان کا اتباع کرنے اور اس کی بات ماننے میں سراسر نقصان اور خسران اور ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس کا کوئی مشورہ اور کسی بھی عمل کی ترغیب انسانوں کے لیے خیر نہیں ہوسکتی وہ تمہارا دشمن ہے اس نے دشمنی پر کمر باندھی ہوئی ہے۔ اسے دوزخ میں جانا ہے اس کی کوشش یہ ہے کہ سب بنی آدم بھی میرے ساتھ دوزخ میں چلے جائیں۔ وہ ہمیشہ برائی ہی کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور بدکاری ہی کا راستہ بتاتا ہے۔ اس کا یہ بھی کام ہے کہ تم سے شرک کرائے اور تمہیں غلط عقیدوں پر ڈالے۔ اور پھر تم سے یہ کہلوائے کہ یہ جو کچھ ہم نے کیا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے اور اس کی رضا کے لیے ہے۔
سورۃ اعراف میں فرمایا : (وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْھَآ اٰبَآءَ نَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِھَا قُلْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاْمُرُ بالْفَحْشَآءِ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ) ” اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کا حکم نہیں دیتا، کیا خدا کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کو تم نہیں جانتے۔ “
اسباب النزول للواحدی ص 43 میں ہے کہ آیت (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ ) (الایۃ) بنی ثقیف اور بنی خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان لوگوں نے کچھ کھیتیاں، کچھ جانور اپنے اوپر حرام کرلیے تھے اور جن جانوروں کو حرام کیا تھا (ان کی حرمت کے لیے کچھ شرطیں اور قیدیں لگا دی تھیں اور) ان کے نام بحیرہ سائبہ اور وصیلہ اور حام تجویز کرلیے تھے۔ سورة مائدہ اور سورة انعام کی تفسیر میں انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تفصیلات مذکور ہوں گی۔ یہ باتیں ان کو شیطان نے بتائی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام کرنے کا یا حرام کو حلال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ یہ جو تحریم و تحلیل کا سلسلہ مشرکین نے نکالا تھا اس میں شیاطین کو اور بتوں کو راضی رکھنے کے جذبات تھے۔ اللہ تعالیٰ کی شریعت میں جو چیزیں حلال ہیں ان کو حرام کرلینا حلال نہیں ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی شریعت کو بدلنا ہے اور تحریف کرنا ہے۔
تحلیل و تحریم کا حق صرف اللہ ہی کو ہے :
سورۃ مائدہ میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) (اے ایمان والو ! اللہ نے جو چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حدود سے آگے مت نکلو۔ بلاشبہ اللہ حد سے نکلنے والوں سے محبت نہیں فرماتے) ۔
حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ شہد پینے کے متعلق فرما دیا تھا کہ اب ہرگز نہ پیوں گا، اللہ جل شانہ نے آیت نازل فرمائی : ( ٰٓیاََیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ )
” اے نبی تم اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جسے اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے۔ “ ایسی بہت سی رسمیں آج لوگوں میں موجود ہیں جن میں عملاً بلکہ اعتقاداً بھی بہت سی حلال چیزوں کو حرام سمجھ رکھا ہے۔ مثلاً ذی قعدہ کے مہینہ میں ( جسے عورتیں خالی مہینہ کہتی ہیں) اور محرم و صفر میں شریعت میں شادی کرنا خوب حلال اور درست ہے لیکن اللہ کی اس حد سے لوگ آگے نکلتے ہیں اور ان میں شادی کرنے سے بچتے ہیں۔ ماہ محرم میں میاں بیوی والے تعلق سے بچتے ہیں۔ اور بہت سی قوموں میں بیوہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں اور عملاً اس کو حرام بنا رکھا ہے۔ بہت سی قوموں میں ماموں، خالہ، چچا، پھوپھی کی لڑکی سے نکاح کرنے کو عملاً بلکہ اعتقاداً حرام قرار دے رکھا ہے۔ یہ سب حدود سے آگے بڑھ جانا ہے۔ جس طرح حلال کو حرام کرنا منع ہے اسی طرح حرام کو حلال کرلینا بھی منع ہے۔ حرام و حلال مقرر فرمانے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے۔ خواہ اس نے قرآن میں نازل فرمایا ہو یا اپنے نبی ﷺ کی زبانی بتایا ہو۔ سورة نحل میں ارشاد ہے (وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) ” اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا زبانی جھوٹا دعویٰ ہے ان کی نسبت یوں مت کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ گے۔ )
Ayah 2:170باپ داداے ہدایت پر نہ ہوں تو ان کا اتباع اوراقتداء باعث ہلاکت ہے
مشرکین کا یہ طریقہ تھا اور اب بھی ہے کہ وہ اپنے باپ دادوں کو مقتدیٰ سمجھتے رہے ہیں۔ ان کو ہزار سمجھایا جائے، حق کی دعوت دی جائے، توحید کی طرف بلایا جائے، اللہ کے دین اور اس کی شریعت قبول کرنے کے لیے کہا جائے اور توحید کی دلیلیں خوب کھول کر بیان کردی جائیں اور شرک و کفر کی مذمت خوب واضح کر کے بتادی جائے تو وہ کسی بھی قیمت پر اپنے باپ دادوں کا دین کفر و شرک چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتے ان کا یہی ایک جواب ہوتا ہے کہ ہم اس دین اور طور طریق اور رسم و رواج کے پابند ہیں جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔ اس آیت شریفہ میں مشرکین کی یہی بات نقل فرمائی ہے اور پھر اس کی تردید کی ہے۔ تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْءًا وَّ لاَ یَھْتَدُوْنَ ) ” کیا وہ اپنے باپ دادوں کا اتباع کریں گے اگرچہ وہ کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور ہدایت پر نہ ہوں۔ “ باپ دادوں نے اپنی ناسمجھی سے شرک اختیار کیا غیر اللہ کی پرستش کی۔ برے رسم و رواج نکالے وہ لوگ کیسے لائق اتباع ہوسکتے ہیں ؟ پھر یہ معلوم ہے کہ باپ دادوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں۔ نہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کے پاس تھی نہ کسی نبی سے انہوں نے ہدایت حاصل کی تھی، سراپا گمراہی میں تھے گمراہوں کا اتباع کرنا کہاں کی سمجھ داری ہے ہاں اگر باپ دادے ہدایت پر ہوں اور انہوں نے حق کی راہ بتائی ہو تو ان کا اتباع کیا جائے جیسا کہ سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے اپنے جیل کے ساتھیوں فرمایا (وَ اتَّبَعْتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِ یْٓ اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ) ” کہ میں نے اتباع کیا اپنے باپ دادوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کی ملت کا۔ “ باطل میں کسی کی بھی تقلید کرنا حلال نہیں ہے۔ البتہ جو اہل حق ہو، اللہ کے دین پر چلتا ہو اور اسی کی دعوت دیتا ہو اس کا اتباع کرنا لازم ہے جیسا کہ سورة لقمان میں فرمایا (وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ) ” کہ جو شخص میری طرف رجوع ہو اس کا اتباع کرو۔ “
Ayah 2:171کافروں کی ایک مثال
صاحب روح المعانی ص 48 ج 2 لکھتے ہیں کہ مشبہ یا مشبہ بہ کی جانب میں مضاف محذوف ہے پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ کافروں کو دعوت دینے والے شخص کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان جانوروں کے پیچھے چیخ رہا ہو جو بس پکار اور آواز سنتے ہیں اور اس سے زیادہ کوئی بات وہ نہیں سمجھتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں کسی نے آواز دی لیکن کیا کہا اس کو بالکل نہیں سمجھتے اور دوسری صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ کافروں کی مثال اس شخص کے جانوروں کی طرح ہے جو اپنے جانوروں کو پکارتا اور چیختا چلاتا ہے اور جانوروں کو پکار کے سوا کچھ خبر نہیں۔ (خلاصہ مطلب دونوں صورتوں میں یہ ہے کہ کافر لوگ اپنی جہالت اور حماقت سے باپ دادوں کی تقلید میں لگے ہوئے ہیں حق سمجھنے اور قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس بارے میں وہ جانوروں کی طرح ہیں۔ حق کی آواز سنتے ہیں لیکن سب سنی ان سنی کردیتے ہیں۔ نہ ادھر اپنے ذہنوں کو متوجہ کرتے ہیں اور نہ غور و فکر کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ بالکل جانوروں کی طرح سے ہیں۔ آواز تو سنی لیکن سمجھتے کچھ نہیں۔
کافر بہرے، گونگے، اندھے ہیں :
پھر فرمایا (صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ) کہ یہ لوگ حق سننے کو تیار نہیں بہرے بنے ہوئے ہیں، حق بولنے کو تیار نہیں گونگے بنے ہوئے ہیں۔ راہ حق پر چلنے کو تیار نہیں۔ اندھا پن اختیار کیے ہیں، اپنے حواس کھو چکے ہیں۔ لہٰذا حق کو ذرا بھی نہیں سمجھتے۔