Ayah 2:80یہود کی جھوٹی خوش گمانی کہ دوزخ میں صرف چند دن کے لیے جائیں گے
اس آیت شریفہ میں یہودیوں کا ایک اور دعوی اور اس کی تردید مذکور ہے۔ یہودیوں کا یہ جھوٹا دعوی تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہیں ہوگی اور اپنے بارے میں سمجھتے تھے کہ ہم اسی شریعت پر قائم رہیں گے لہٰذا ہمیں عذاب کیوں ہونے لگا۔ اور عذاب ہوگا تو صرف چالیس دن عذاب ہوگا یعنی جتنے دن ہمارے آبا و اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی ہے اتنے ہی دن عذاب میں گرفتار ہوں گے اس کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے۔ اور حضرت ابن عباس سے یوں منقول ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہر ہزار سال کے بدلہ ہم کو ایک دن دوزخ میں عذاب بھگتنا ہوگا۔ اور گنے چنے سات دن ہوں گے جو زیادہ نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ہم کچھ دن دوزخ میں رہیں گے پھر ہم دوزخ سے نکل آئیں گے اور ہماری جگہ مسلمان دوزخ میں چلے جائیں گے۔ غزوہ خیبر کے موقعہ پر جب ایک یہودی عورت نے زہر ملابکری کا گوشت حضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا تھا اس وقت آپ نے ان سے جو سوال و جواب کئے تھے ان میں یہ بھی تھا کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ دوزخی کون ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم دوزخ میں تھوڑا سا وقت گزاریں گے پھر آپ لوگ اس میں ہمارے بعد داخل ہوجائیں گے۔ آپ نے فرمایا دور ہوجاؤ اللہ کی قسم ایسا کبھی نہ ہوگا کہ تم اس میں سے نکل جاؤ اور تمہارے بعد ہم اس میں چلے جائیں۔ مفسر ابن کثیر نے یہ روایات لکھی ہیں اور آخری بات جس میں خیبر کی گفتگو مذکور ہے اس کو بحوالہ مسند احمد و صحیح بخاری نقل کیا ہے۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ص 860 ج 2 پر مذکور ہے۔
پہلی آیت میں یہودیوں کی آرزوؤں اور خوش گمانیوں کا جو ذکر تھا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دوزخ میں چند دن ہی جائیں گے۔ وہ یہ جانتے ہوئے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں آپ پر ایمان نہ لائے اور یہ جانتے ہوئے کہ کسی نبی کو نہ ماننا کفر ہے اور کفر کی سزا دائمی جہنم ہے طرح طرح کے جھوٹے دعوے کرتے تھے اور ان کے دعوے اور آرزوئیں سب خود ساختہ تھے جن کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔ بےسند باتیں کرتے تھے اور انہی باتوں میں مست تھے۔ اسی لیے اللہ جل شانہ، نے ارشاد فرمایا : (قُلْ اَتَّخَذْ تُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدًا) (الایۃ) کہ اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیں کہ یہ جو کچھ تمہارا دعوی ہے کہ ہم صرف چند دن دوزخ میں رہیں گے اس کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کیا اللہ تعالیٰ سے تم نے کوئی عہد لیا ہے جس کی بنیاد پر تم ایسی باتیں کر رہے ہو ؟ اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے عہد کے خلاف نہیں فرماتا لیکن تم سے اس کا کوئی عہد نہیں ہے خود اپنے پاس سے اللہ کی طرف ان باتوں کی نسبت کرتے ہو جن کا تمہیں علم نہیں۔ اپنی طرف سے اپنے بارے میں کوئی بھی شخص کوئی بھی خیال اور گمان کرکے بیٹھ جائے اور اسی پر بھروسہ کرلے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی کوئی سند اور دلیل نہ ہو تو اس کا گمان اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کفر کی سزا بہر حال ملے گی خواہ کیسی ہی خوش فہمی میں مبتلا ہو۔ یہودیوں کی حماقت تو دیکھو کہ خود اپنے اقرار سے دوزخ میں جانے کو تیار نہیں جبکہ یہ جانتے ہیں کہ دوزخ میں ایک سیکنڈ کا عذاب بھی بہت بڑا ہوگا جس کی برداشت کسی کو نہیں ہوسکتی۔ دنیا کی آگ کی ایک چنگاری تھوڑی سی دیر کے لیے ہاتھ میں لینے کو کوئی بھی شخص تیار نہیں اور دوزخ میں جانے کو بڑی اہمیت اور حوصلے کے ساتھ تیار ہیں۔ جبکہ دوزخ کی آگ کی گرمی دنیا کی آگ سے انہتر درجے زیادہ گرم ہے۔ (کما فی روایۃ الصحیحین)
جس طرح یہود جھوٹی آرزوؤں اور خود تراشیدہ اوہام و خیالات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اسی طرح آج کل بہت سے فرقے ایسے ہیں جو اسلام کے دعویدار ہیں۔ لیکن کفریہ عقائد کے حامل ہیں مثلاً قرآن کی تحریف کا عقیدہ رکھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے العیاذ باللہ ہمارے امام کے اندر حلول کیا ہے اور بہت سے لوگ جھوٹے نبی کی امت بنے ہوئے ہیں اور ان سب کو اپنی نجات کی خوش گمانی ہے حالانکہ یہ لوگ قرآنی تصریحات کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ بہت سے پیر فقیر جو بالکل بےعمل بلکہ بدعمل ہیں وہ صرف اس بنیاد پر اپنی نجات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ کسی بزرگ کی اولاد میں ہیں اپنی خوش گمانی اور جھوٹی آرزو سے کچھ نہیں ہوتا نجات کے لیے عقیدہ اور عمل صحیح ہونا ضروری ہے جو قرآن و حدیث کے مطابق ہو، بےسند آرزو اور بےخوش گمانی آخرت کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ کسی کی نسل میں ہونے سے نجات نہ ہوگی۔ بنی اسرائیل بھی تو انبیاء کی اولاد ہیں پھر بھی دوزخی ہیں خوب سمجھ لیا جائے۔
دور حاضر کے کافروں کی خوش گمانی :
جس طرح یہودی اپنے بارے میں خیالی دنیا اور خوش گمانی میں مبتلا ہیں اسی طرح دور حاضر کے مذاہب والے جو یہودیوں کے علاوہ ہیں وہ بھی اپنے بارے میں خوش گمانیوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے خود ساختہ عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس کوئی سند نہیں کہ وہ جس دین پر ہیں وہ ذریعہ نجات بنے گا۔ مشرکین اور بت پرست اپنی مکتی اور نجات کا عقیدہ لیے پھر تے ہیں اور الٹا موحدین مسلمین کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی نجات نہ ہوگی۔
Ayahs 2:81–82اصحاب الجنتہ کون ہیں اور اصحاب النار کون ہیں ؟
ان دو آیتوں میں جنتی اور دوزخی ہونے کا ضابطہ بتایا ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے طریقہ سے یہودیوں کے اس دعوے کی تردید بھی ہے جو اوپر کی آیت میں مذکور تھا۔ پہلی آیت میں یوں فرمایا کہ تمہارے پاس اپنے دعوے کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی سند نہیں ہے، اور ان دو آیتوں میں جو ضابطہ جنت اور دوزخ کے داخلے کا ذکر فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ تم لوگ ضابطہ کے مطابق ان لوگوں کے زمرہ میں آتے ہو جن کو ہمیشہ دائمی عذاب ہوگا۔
ارشاد فرمایا کہ تم یہ جو کہتے ہو کہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے صرف چند دن عذاب ہوگا تمہاری بات غلط ہے۔ تم ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہو۔ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص برائی کرے اور اس کی برائی ہر طرف سے اس کو گھیر لے کہ وہ کفر اختیار کرے جو سب سے بڑی برائی ہے تو وہ دوزخ والا ہے اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ تم لوگ خاتم النبیین ﷺ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہو لہٰذا ضابطہ کے مطابق ہمیشہ دوزخ میں رہو گے اور اہل جنت وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے جنہوں نے اللہ کے سب نبیوں کو مانا خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم کو مانا اور اعمال صالحہ انجام دئیے۔ یہ حضرات ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔
Ayah 2:83بنی اسرائیل سے عہد و پیمان اور ان کا انحراف
اس آیت شریفہ میں توریت شریف کے چند احکام مذکور ہیں بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا تھا کہ تم ان سب کاموں کو کرنا انہوں نے عہد کرلیا۔ لیکن ان میں سے تھوڑے سے آدمیوں کے علاوہ اس عہد سے پھرگئے اور عہد کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ان کے عہد سے پھرجانے کا ذکر فرمانے کے بعد یہ بھی فرمایا کہ و أنتم معرضون کہ اے یہودیو ! تمہاری عادت اور مزاج ہی یہ ہے کہ حق سے اور قول وقرار سے اور اطاعت سے اعراض کیا کرتے ہو۔ اور خاص طور سے زمانہ نزول قرآن کے یہودیوں کو مخاطب فرمایا کہ تم بھی اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر ہو اور قبول حق سے اعراض کئے ہوئے ہو۔ آیت شریفہ میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔ اور پھر والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور رشتہ داروں اور یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم فرمایا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا۔ ان چیزوں کا سابقہ امتوں کو بھی حکم تھا اور یہ ایسی چیزیں ہیں جن پر نسخ وارد نہیں ہوا۔ امت محمدیہ بھی ان سب چیزوں کی مامور ہے۔ سورة نساء میں فرمایا کہ (وَ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْءًا وَّ بالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ) (اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اختیار کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی۔ اور یتیموں کے ساتھ بھی اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور قریب والے پڑوسی کے ساتھ بھی اور دور کے اہل قرابت کے ساتھ بھی، اور برابر میں ساتھ بیٹھنے والے کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضہ میں ہیں)
نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ سورة بقرہ کے شروع ہی میں متقیوں کی صفات میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ پھر سورة بقرہ کے پانچویں رکوع میں اقامت الصلوۃ اور اداء زکوٰۃ کا حکم مذکور ہے اور اسی سورة بقرہ کے تیرہویں رکوع میں بھی ان دونوں کا حکم فرمایا ہے اور بھی جگہ جگہ نماز اور زکوٰۃ کی اہمیت اور تاکید قرآن مجید میں مذکور ہے۔ یہ جو فرمایا (وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْنًا) اس میں بہت عموم ہے اور یہ بہت سے احکام پر مشتمل ہے اول تو یہ فرمایا کہ لوگوں سے اچھی باتیں کہو اس عموم میں مومن کافر نیک و بد سب قسم کے انسان آگئے پھر اچھی بات میں سب کچھ آگیا نیکیوں کی راہ بتانا برائی سے روکنا نصیحت میں نرمی اختیار کرنا گفتگو میں بڑوں کا ادب ملحوظ رکھنا اور مسئلہ صحیح بتانا اور سچ بات کہنا کسی کو دھوکا نہ دینا۔ حقوق کی و صول یابی میں نرم کلمات استعمال کرنا اور اس طرح کے بہت سارے احکام پر یہ کلمہ مشتمل ہے۔ اس میں یہودیوں سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی نعت اور صفت جو توریت میں مذکور ہے اسے واضح طور پر ظاہر کریں اور حق اور حقیقت کو نہ چھپائیں۔ مسلمانوں پر بھی لازم ہے کہ مذکورہ احکام کی پاسداری کریں اور ان سے اعراض کرکے ردگردانی نہ کریں اور (وَ اَنْتُمْ مُّعْرِِضُوْنَ ) کا مصداق نہ بنیں۔
Ayah 2:84یہودیوں کی ایک خاص خلاف ورزی کا تذکرہ
ان دونوں آیتوں میں یہودیوں کے ایک اور عہد اور قول وقرار کا اور پھر ان کی عہد شکنی کا تذکرہ فرمایا۔ زمانہ نزول قرآن کے وقت جو یہودی تھے ان کو اس قول وقرار کا بھی پتہ تھا جو یہودیوں سے لیا گیا تھا اور ان سے جو عہد شکنی اور خلاف ورزی سرزد ہوتی رہی تھی وہ بھی ان کے علم میں تھی ان سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا اور ان کو عہد شکنی یاد لائی اور ان کی دنیا و آخرت کی سزا بھی بتائی اور ساتھ ہی ساتھ اس میں حضرت خاتم النبیین ﷺ کی نبوت اور رسالت پر بھی دلیل قائم ہوگئی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہمارے اس قول وقرار اور عہد اور اس کی خلاف ورزی کا علم آپ کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوا ہے سب کچھ جاننے کے باوجود آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔
پہلے گزر چکا ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے بنی نضیر اور بنی قریظہ آباد تھے اور دو قومیں یمن سے آکر آباد ہوگئی تھیں ان میں سے ایک قبیلہ کا نام اوس تھا اور دوسرے کا نام خزرج تھا، یہ دونوں قبیلے بت پرست تھے اور یہودیوں کے دونوں قبیلے اپنے کو دین سماوی پر سمجھتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی پابندی کا دم بھرتے تھے۔ اس زمانے میں عرب کا کچھ ایسا مزاج تھا کہ لڑائی کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ جب اوس اور خزرج میں لڑائی ہوتی تھی تو بنو قریظہ اوس کی مدد کرتے تھے اور بنو نضیر خزرج کے حمایتی بن جاتے تھے اس میں جہاں اوس اور خزرج کے افراد مارے جاتے اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوتے وہاں یہودیوں کے دونوں قبیلوں کے افراد بھی مارے جاتے تھے اور بہت سے افراد ترک وطن پر مجبور ہوجاتے تھے۔
اور جب بنی نضیر اور بنی قریظہ کے کسی فرد کو دشمن قید کرلیتا تو اس کے چھڑانے کے لیے ان کی دونوں جماعتیں پیسے خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتی تھیں جب ان سے کوئی پوچھتا کہ تم اس کو کیوں چھڑا رہے ہو تمہاری حرکت سے تو وہ دشمن کے قبضے میں گیا ہے اور ترک وطن پر مجبور ہوا ہے۔ تو جواب دیتے تھے کہ ہم کو شریعت موسوی میں یہ حکم دیا گیا کہ جب کسی کو قیدی دیکھو تو اسے رہائی دلا دو ۔ لہٰذا ہم اس حکم کی پابندی کرتے ہیں وہ اس حکم پر عمل کرنے کو تو تیار تھے کہ قیدی کو رہائی دلا دو ۔ لیکن جس وجہ سے وہ گھر سے بےگھر ہوا اور دشمن کے چنگل میں پڑ کر قیدی ہوا اس کے اختیار کرنے یعنی اپنوں کے مقابلہ میں جنگ کرنے والوں کی مدد سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ان سے کہا جاتا تھا کہ تم یہ کیا کرتے ہو تم خود ہی اپنوں کے مقابلہ میں مددگار بنے اور اس قتال کی وجہ سے تمہارا آدمی گرفتار ہو کر قیدی ہوا، اب اس کے چھڑانے کو تیار ہو۔ ؟ اس کا جواب یہ دیتے تھے کہ چونکہ اوس اور خزرج ہمارے حلیف ہیں اس لیے ان کی مدد کرنے پر مجبور ہیں۔ اللہ جل شانہٗ نے اسی کو بیان فرمایا کہ :
Ayahs 2:85–86(اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ) ” کیا تم کتاب کے بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض پر ایمان نہیں رکھتے۔ “
کیا توریت شریف میں قیدی کے چھڑانے ہی کا حکم ہے اور کیا آپس کا قتل و قتال اور ایک دوسرے کو جلا وطن کرنا توریت شریف میں ممنوع نہیں ہے ؟ یعنی قتل و قتال کی ممانعت پر تو عمل نہ کیا اور قیدی کو چھڑانے کے لیے پیسے خرچ کرنے کو تیار ہوگئے۔ حالانکہ اس کا قیدی ہونا قتل و قتال کی بنیاد پر ہے۔ نہ قتل و قتال کرتے نہ یہ قیدی ہو کر آتا۔ لہٰذا معاملہ شریعت موسوی کا نہ رہا بلکہ اپنی طبیعت کا رہا۔ جس حکم کو چاہا مانا اور جس حکم کو چاہا نہ مانا، جس حکم کو مانا اسے ایمان سے اور جس حکم کو نہ مانا اسے کفر سے تعبیر فرمایا اگر دل سے کسی حکم قطعی کا منکر ہوجائے تب تو کافر ہو ہی جاتا ہے اور اگر دل سے منکر نہ ہو لیکن عمل حکم کے خلاف ہو تو اس عمل کا کرنے والا گناہ کا مرتکب تو ہو ہی جاتا ہے جو منکروں اور کافروں کا طریقہ ہے۔
یہودیوں کی مذکورہ بالا بےعملی کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ ایسے لوگوں کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا میں رسوا اور ذلیل ہوں اور آخرت میں ان کے لیے عذاب ہے ہی۔ چناچہ بنو نضیر مسلمانوں کے ہاتھوں ذلیل ہوئے مدینہ منورہ سے خیبر کو نکال دیے گئے اور پھر خیبر سے حضرت عمر ؓ نے ان کو نکال دیا، اور در بدر مارے مارے پھرتے رہے۔ اور بنی قریظہ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔
آخر میں فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت کے بدلہ مول لے لیا۔ سو آخرت میں ان کے عذاب میں تخفیف نہ ہوگی اور نہ ان کی کسی طرح کی کوئی مدد ہوگی۔ کوئی حامی مددگار طرفدار وکیل مختار موجود نہ ہوگا جو ان کی کچھ مدد کرسکے۔
مسلمانوں کی تنبیہ جو پورے دین پر عمل کرنے کو تیار نہیں !
جو حال یہودیوں کا تھا وہی آج مسلمانوں کا ہے۔ وہ بھی کتاب اللہ کے بعض حصے پر عمل کرتے اور بعض پر عمل نہیں کرتے، جو لوگ بےعمل ہیں وہ تو درکنار جو لوگ بظاہر دین دار ہیں ان کی دینداری بھی نماز روزہ اور دو چار کاموں تک محدود ہے۔ حرام ذریعہ سے مال کمانا اور حرام محکموں میں ملازمت کرنا، رشوتیں دینا اور رشوتیں لینا، میراث کا مال کھا جانا، بہنوں کو اور یتیموں کو اور بیواؤں کی میراث کا شرعی حصہ نہ دینا، بیاہ شادی اور مرنے جینے میں غیر اسلامی طور طریق اختیار کرنا، اس طرح کے امور میں دینداری کے دعویدار بھی مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگ زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ حج بھی کرلیتے ہیں لیکن ان کے سامنے اسلامی تعزیرات حدود اور قصاص نافذ کرنے کی بات آتی ہے تو ٹھٹھک کر رہ جاتے ہیں اور اس کے نفاذ کے لیے ہاں کرنے کو تیار نہیں۔ حاکم اور محکوم دونوں ہی انکاری ہیں۔
Ayah 2:87یہودی بعض نبیوں کی صرف تکذیب کرتے تھے اور بعض کو قتل کردیتے تھے
اس آیت شریف میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی (یعنی توریت شریف) اور ان کے بعد بھی رسول بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے کھلے معجزات دیے جو ان کی نبوت اور رسالت پر واضح دلائل تھے۔ مردوں کو زندہ کرنا۔ مٹی سے پرندہ کی صورت بنا کر اس میں پھونک دینا جس سے پرندہ ہو کر اڑ جانا، مادر زاد اندھے اور برص والے کو اچھا کردینا اور غیب کی باتیں بتادینا، اور روح القدس یعنی حضرت جبریل (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی تائید کرنا۔ یہ سب امور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت اور رسالت کے لیے واضح دلائل تھے۔ سورة آل عمران میں ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا (وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَ جِءْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوْنِ ) (یعنی میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کرتا ہوں جو تم پر (توریت شریف میں) حرام کردی گئی تھیں اور تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے معجزہ لے کر آیا ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو) بعض احکام انہوں نے ایسے بتائے جن سے توریت شریف کے بعض احکام منسوخ ہوگئے تو اس پر یہودی ان کے دشمن ہوگئے قتل تو نہ کرسکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اوپر اٹھالیا لیکن ان سے پہلے دیگر انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل کرچکے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل اور تکذیب پر اس لیے آمادہ ہوگئے کہ جو احکام انہوں نے بتائے ان کے نفسوں کی خواہش کے خلاف تھے۔ اور انہوں نے نہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی بلکہ بہت سے نبیوں کو انہوں نے جھٹلایا۔ اور بہت سے نبیوں کو قتل بھی کیا۔ خدا جانے انہوں نے کتنے نبیوں کو قتل کیا اس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے قتل اور تکذیب کے درپے یہودی اس لیے ہوجاتے تھے کہ جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتاتے تھے وہ ان کے نفسوں کو نہیں بھاتے تھے اور ان کی طبیعت کے خلاف ہوتے تھے۔ لہٰذا وہ ان کی تکذیب تو کرتے ہی تھے قتل بھی کردیتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ قتل کا تذکرہ فرماتے ہوئے مضارع کا صیغہ تقتلون لایا گیا ہے۔ قتلتم صیغہ ماضی کا نہیں لایا گیا۔ اس میں اس پر دلالت ہے کہ آئندہ بھی تم سے ایسی حرکت سرزد ہوگی چناچہ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا اور خیبر میں بکری کے گوشت میں زہر ملا کر پیش کردیا جسے آپ نے تناول فرما لیا اور پھر موت کے قریب اس زہر کے اثر سے ایک رگ کٹ گئی جو موت کا سبب بنی جیسا کہ مشکوٰۃ ص 548 میں مذکور ہے، اس آیت شریفہ میں تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ہیں ان حضرات میں حضرت داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کا ذکر تو قرآن مجید میں موجود ہے اور بعض حضرات کے اسماء گرامی قرآن مجید میں نہیں ہیں۔ تفسیر کی بعض کتابوں میں لکھے ہیں لیکن کسی صحیح روایت سے ان اسماء کا ثبوت نہیں ملتا۔ تفسیر درمنثورص 86 ج 1 میں حضرت ابن عباس سے بعض حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اسماء گرامی نقل کئے ہیں۔ مثلاً شمویل حزقیل۔ ہم اللہ کے سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں اگرچہ سب کے نام سب کا زمانہ بعثت ہمیں معلوم نہیں، اس آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نے روح القدس کے ذریعے عیسیٰ بن مریم کی تائید کی اس تائید سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں علامہ نسفی فرماتے ہیں کہ جب یہودیوں نے حصرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا حضرت جبریل (علیہ السلام) نے ان کو اوپر اٹھا لیا اور تفسیر جلا لین میں ہے کہ حضرت جبریل ان کے ساتھ ساتھ رہتے تھے اور حفاظت فرماتے تھے روح القدس قرآن و حدیث میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کا لقب ہے، سورة نحل میں فرمایا (قُلْ نَزَّلَہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِکَ ) اور حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت حسان کو دعا دی اللّٰھم اَیِّدہ بروح القدس۔ (رواہ مسلم ص 300 ج 2)
Ayah 2:88یہودیوں کا کہنا کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں، اور اس کی تردید
یہودی اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے اور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تھے آپ کی سچائی کی علامات اور معجزات دیکھ کر بھی منحرف تھے اور اس گمراہی کو اپنے لیے کمال اور باعث فخر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور پردے پڑے ہوئے ہیں کسی کی بات ہمارے دلوں میں اثر نہیں کرسکتی اور اپنے دین کے علاوہ ہم کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرسکتے، اللہ تعالیٰ شانہ، نے ان کی تردید فرمائی۔ کہ یہ بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں اور حق بھی جانتے ہیں لیکن حق سے ان کو تنفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون قرار دیدیا ہے لعنت اور پھٹکار میں گرفتار ہیں دلوں پر پردے اور غلاف کچھ نہیں کفر کی پھٹکار اور لعنت کے سبب ایمان سے محرومی ہے۔ سورة مائدہ میں فرمایا کہ (بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْھَا بِکُفْرِھِمْ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر مار دی۔ غرض یہ ہے کہ کفر میں ان کی پختگی لعنت اور پھٹکار اور دلوں پر مہر لگ جانے کے سبب سے ہے جس پر وہ فخر کر رہے ہیں قبحھم اللّٰہ۔ یہ جو فرمایا کہ بہت کم ایمان لاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان لاتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں بھی تھا لیکن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا جو حکم دیا گیا تھا جن میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی بھی ہے اس سے منکر ہوگئے۔ ایک نبی کی تکذیب بھی کفر ہے تھوڑا سا ایمان آخرت میں کام نہیں دے گا۔ بعض مفسرین نے (فَقَلِیْلاً مَّا یُؤْمِنُوْنَ ) کا یہ معنی بھی بتایا ہے کہ ان میں سے بہت کم لوگ ہوں گے جو ایمان لائیں گے۔
Ayah 2:89یہودیوں نے جانتے بوجھتے ہوئے عناد اور ضد کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کیا
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودی اس لیے آکر آباد ہوگئے تھے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت ہوگی تو ہم ان کا اتباع کریں گے۔ یہ لوگ اپنے کو موحد سمجھتے تھے اور یہ خیال کرتے تھے کہ ہم دین سماوی کے حامل ہیں، اوس اور خزرج کے قبیلے بھی یمن سے آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ لوگ بت پرست مشرک تھے۔ یہودیوں سے ان لوگوں کی جنگ ہوتی رہتی تھی اور یہودی ان سے کہا کرتے تھے کہ نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لائیں گے ان کی بعثت کا زمانہ قریب آچکا ہے ہم ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ ہو کر تم سے جہاد کریں گے اور اس وقت تمہارا ناس کھو دیں گے اور قوم عاد کی طرح تمہارا قتل عام کریں گے۔ بلکہ بعض روایات میں ہے کہ یہودی یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ اس نبی کی بعثت فرما جس کے مبعوث ہونے کا ہماری کتاب میں ذکر ہے تاکہ ہم اس کے ساتھ مل کر عرب کے مشرکوں کو قتل کریں۔ یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کی نعت اور صفت جانتے تھے جو توریت شریف میں مذکور تھی آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوگئی اور آپ مدینہ منورہ میں بھی تشریف لے آئے اور یہودیوں نے آپ کو ان علامات اور صفات کے ذریعہ پہچان بھی لیا جو ان کے علم میں تھیں کہ یہ واقعی نبی آخر الزمان ہیں ہم جن کے انتظار میں تھے انہوں نے آپ کے معجزات بھی دیکھتے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے آپ کی نبوت اور رسالت کے منکر ہوگئے۔ ان کو اوس اور خزرج کے بعض افراد نے توجہ بھی دلائی اور کہا کہ اے یہودیو ! تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرو تم تو یہ کہا کرتے تھے نبی آخر الزمان ﷺ تشریف لانے والے ہیں تم ان کی صفات بھی بیان کرتے تھے اور ہم سے یوں کہتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لا کر ان کے ساتھ مل کر تمہیں مغلوب اور مقہور کردیں گے۔ لہٰذا اب تم حق کو قبول کرو نبی آخر الزمان پر ایمان لاؤ اور مسلمان ہوجاؤ اس پر انہوں نے کہا کہ یہ وہ نبی نہیں ہیں ہم جس کے انتظار میں تھے وہ تو ہم ہی میں سے ہوگا۔ عرب میں سے نہیں ہوگا۔ جانتے پہچانتے ہوئے منکر ہوگئے اور یہ حسد ان کو کھا گیا کہ نبی عرب میں سے کیوں آیا۔ اس آیت میں ان کے اسی انکار اور حق سے انحراف کرنے کا تذکرہ ہے اور آخیر میں یہ فرمایا ہے کہ کافروں پر اللہ کی لعنت ہے جو حق اور حقیقت کو جانتے ہیں پھر بھی اس کے ماننے سے منکر ہیں۔ (من ابن کثیر ص 824 ج 1)
کتاب اللہ یعنی قرآن مجید کی صفت بیان کرتے ہوئے یہ جو فرمایا کہ (مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ) کہ یہ کتاب اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جس کو وہ اللہ کی کتاب مانتے ہیں (یعنی توریت شریف) اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر یہ نبی اس نبی کے خلاف ہوتا جس پر توریت نازل ہوئی۔ اور یہ نبی اس کتاب کی کاٹ کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس نبی پر نازل کی تھی جس کو تم مانتے ہو تو انحراف اور مخالفت کی کوئی وجہ بھی ہوتی۔ وہ تو سارے نبیوں پر ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی ساری کتابوں کو ماننے کی دعوت دیتا ہے اس سے انحراف کرنا اس حسد میں کہ یہ عرب میں سے ہے سراپا حماقت اور بیوقوفی ہے اور اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے کہ اس نے عرب میں سے نبی کیوں بھیجا اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرنا مستقل کفر ہے۔
Ayah 2:90(اَنْ یَّکْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ بَغْیًا) میں یہ بتایا کہ انہوں نے اپنی جانوں کو دوزخ کا مستحق اس لیے بنایا کہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اختیار فرمانے سے عناد ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے نبوت اور رسالت عطا کرے اور جس بندے پر چاہے اپنی کتاب اتارے اسے پورا پورا اختیار ہے اس میں کسی کو اعتراض کرنے کا اور یہ ضد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو کیوں نبی بنایا اور فلاں کو نہیں بنایا ؟
یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے منکر ہو کر کافر ہوئے پھر اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرکے کافر ہوئے۔ اور اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ اور اللہ کی کتاب قرآن مجید کے منکر ہو کر کفر ہی کفر میں ترقی کرتے چلے گئے اور اللہ تعالیٰ کے غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے۔ لہٰذا آخرت میں ذلت کے عذاب میں گرفتار ہوں گے لفظ اشتروا کے بارے میں مفسر بیضاوی لکھتے ہیں کہ باعُوْا وشروا بحَسْبِ ظَنِّھِمْاور صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
اَی باعوا، فالانفس بمنزلۃ المثمن والکفر بمنزلۃ الثمن لان انفسھم الخبیثۃ لا تشتریٰ بل تباع و ھو علی الاستعارۃ أی أنھم اختاروا الکفر علی الایمان و بذلوا أنفسھم فیہ ” یعنی انہوں نے اپنے نفسوں کو بیچ دیا اور ان کے عوض کفر کو بطور قیمت کے لے لیا اور یہ معنی لینا زیادہ مناسب ہے کیونکہ ان کے خبیث نفس خریداری کے قابل نہیں بیچنے ہی کے لائق ہیں مطلب یہ ہے کہ اپنی جانوں کو بیچ ڈالا یعنی برباد کردیا اور کفر کو بطور قیمت کے حاصل کرلیا۔ “
بعض حضرات نے کہا ہے کہ اشتروا اپنے مشہور معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے اعتقاد میں یہ سمجھا کہ جو طریقہ ہم نے اختیار کیا ہے اس سے جانوں کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا لیں گے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (بِءْسَمَا اشْتَرَوْا بِہٖٓ اَنْفُسَھُمْ ) کہ ان کا یہ خیال غلط ہے کہ اس سے وہ عذاب سے بچ جائیں گے قال صاحب الروح ص 321 فھؤلاء الیھود لما اعتقدوا فیما اتوا بہ أنہ یخلصھم من العقاب ظنوا أنھم اشتروا أنفسھم و خلّصوھا فذمھم اللّٰہ علیہ۔
اگر یہ لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان لاتے تو اپنی جانوں کو دوزخ سے بچا لیتے، منکر اور منحرف ہو کر ہمیشہ کے دائمی عذاب کے مستحق ہوگئے۔
Ayah 2:91یہودیوں کا یہ کہنا کہ ہم توریت کے علاوہ کسی کتاب کو نہیں مانتے، اور اس پر ان سے سوال
اس آیت شریفہ میں یہودیوں کا یہ قول ذکر فرمایا کہ ہم صرف توریت پر ایمان لاتے ہیں اس کے سوا کسی کتاب کو نہیں مانتے، ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (وَھُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ) کہ جو کتاب ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل کی ہے وہ اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ جس پر وہ ایمان رکھنے کے مدعی ہیں۔ قرآن کو نہ ماننا توریت کے نہ ماننے کو مستلزم ہے۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں۔ لأنھم لما کفروا بما یوافق التوراۃ فقد کفروابھا۔
توریت شریف میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علاوہ کسی قوم میں سے اللہ تعالیٰ نبی بھیجے تو اس کو مت ماننا اور توریت کے علاوہ اللہ کی کسی دوسری کتاب پر ایمان نہ لانا۔ یہ سب باتیں ان کے ذاتی حسد کی وجہ سے ہیں۔ توریت شریف میں تو نبی آخرالزمان ﷺ کی بعثت کی خبر دی ہے جب نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت ہوگئی اور ان کی علامات اور صفات سے یہود نے پہچان لیا کہ یہ نبی آخر الزمان ہیں پھر ان سب کے باوجود آپ پر ایمان نہ لانا اور قرآن مجید کو نہ ماننا یہ توریت کے ماننے سے انکاری ہونا ہے، کہہ رہے ہیں کہ ہمارا توریت پر ایمان ہے حالانکہ ان کا اس پر بھی ایمان نہیں۔
یہودیوں کی بری حرکتوں میں سے یہ بھی تھا کہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کردیتے تھے۔ آیت بالا میں فرمایا کہ اگر تم توریت پر ایمان رکھنے کا دعوی کرتے ہو تو یہ بتاؤ کہ تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کرنے کا ارتکاب کیوں کیا نبی کا قتل کرنا تو توریت شریف کے قانون سے بھی کفر ہے۔ تمہارے آباؤ اجداد نے اس جرم کا ارتکاب کیا تم اس سے راضی ہو اور ان کو اپنا مقتدا مانتے ہو اس سے صاف ظاہر ہے کہ توریت شریف پر نہ تمہارا ایمان ہے اور نہ تمہارے باپ دادوں کا ایمان تھا۔
اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بہت سے انبیاء ( علیہ السلام) تشریف لائے وہ توریت کے احکام کی تبلیغ کرتے تھے اور انہوں نے توریت کے منسوخ ہونے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ اے یہودیو ! تم ان کو نبوت اور رسالت میں سچا بھی جانتے تھے پھر بھی تم نے ان کو قتل کردیا، حالانکہ وہ تمہاری قوم میں سے تھے۔ معلوم ہوا کہ تمہارا دین و ایمان شریعت موسوی کا اتباع نہیں ہے بلکہ خواہشات نفس کا اتباع ہی تمہارا دین ہے۔
Ayah 2:92پھر فرمایا (وَلَقَدْ جَآءَ کُمْ مُّوسٰی بالْبَیِّنَاتِ ) (الایۃ) یعنی تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) بھی کھلی ہوئی اور واضح دلیلیں لے کر آئے جو تم نے خود دیکھیں جس سے ان کا رسول اللہ ہونا واضح ہوگیا اور انہوں نے پوری طرح توحید کی دعوت دی اور تم کو جم کر لا الہ الا اللہ کی تبلیغ کی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے لیکن جب وہ کوہ طور پر توریت شریف لینے چلے گئے تو تم لوگوں نے ان کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہارا یہ غیر اللہ کی پرستش کرنا سراسر ظلم صریح تھا، راہ حق کے خلاف چلنا دلائل واضحہ اور آیات بینات سامنے ہوتے ہوئے منکر ہوجانا سراسر ظلم ہے جو تمہاری پرانی عادت ہے تمہارے اسلاف کی حرکتیں تمہارے سامنے ہیں جن کا تم کو علم ہے لیکن ابھی تک ان کو پیشوا بنائے ہوئے ہو اور انہیں کی راہ پر گامزن ہو۔ (من ابن کثیر ص 127 ج 1)
Ayah 2:93یہودیوں سے عہد و پیمان اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت
اس سے پہلے بھی اسی سورت کے آٹھویں رکوع میں یہودیوں سے پختہ عہد لینے اور کوہ طور ان پر اٹھانے اور مضبوطی کے ساتھ توریت شریف کو تھامنے اور اس پر عمل کرنے کا عہد لینے کا ذکر گزرا ہے یہاں پھر اس کو دھرایا ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ جب ان کو حکم ہوا کہ توریت شریف کو مضبوطی سے تھام لو اور اس کے احکام کو سن لو تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سن تو لیا لیکن ہم اس پر عمل نہ کریں گے حکم تھا کہ دل کے کانوں سے سنو، قبول کرنے کے لیے سنو، عمل کرنے کے لیے سنو لیکن انہوں نے اپنے اوپر پہاڑ گرنے کے ڈر سے اس وقت تو کہہ دیا کہ ہاں ہم نے سنا اور اوپر کے دل سے اقرار بھی کرلیا جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے لیکن بعد میں اس قول وقرار سے پھرگئے اور نافرمانی پر تل آئے اور کہنے لگے کہ سنا تو ہے لیکن عمل کرنا ہمارے بس کا نہیں۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے بچھڑے کی جو عبادت کی تھی وہ ان کے اندر رچ بس گئی تھی اور رگ و پے میں گھس گئی تھی جیسے پینے کی چیز اندر جا کر جہاں جہاں جگہ دیکھتی ہے اپنی جگہ پکڑ لیتی ہے ان کے کفر کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا کہ بچھڑے کی محبت ان کے اندر پوری طرح سرایت کرگئی اور جاگزیں ہوگئی۔
پھر فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیں تم ایمان کے دعویدار ہو اگر تم مومن ہو (حالانکہ مومن نہیں) تو سمجھ لو کہ تمہارا ایمان تمہیں برے اعمال کی تعلیم دیتا ہے کفر اور شرک پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ کیسا ایمان ہے جو توحید کی تعلیم نہیں دیتا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ابھارتا ہے اور نبی آخر الزمان ﷺ کی تکذیب پر آمادہ کرتا ہے جن کا نبی ہونا تم پر دلائل سے واضح ہے۔
فائدہ : بچھڑے کی عبادت سے ان لوگوں نے توبہ تو کرلی تھی جیسا کہ سورة بقرہ کے چھٹے رکوع میں گزرا لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بہت سوں نے اوپر اوپر سے توبہ کرلی، دل کی گہرائی سے توبہ نہ کی اور بچھڑے کی پرستش کا اثر ان میں باقی رہا اور اس اثر کی وجہ سے اللہ کی کتاب توریت شریف کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے جب پہاڑ اٹھا کر ان پر کھڑا کردیا گیا تو اس وقت جھوٹ موٹ کو مان گئے لیکن بعد میں نافرمانی پر تلے رہے۔
Ayahs 2:94–96یہودیوں کو دعوت مباہلہ کہ موت کی تمنا کریں
یہودیوں کے دعوؤں اور آرزوؤں میں یہ بھی تھا کہ عالم آخرت کی خیر اور خوبی اور جنت کا داخلہ اور نعمتوں کا حصول یہ سب کچھ ہمارے لیے ہی خاص ہے دوسرے کسی دین والے اور کسی بھی قوم اور نسل کے لوگ جنت میں نہ جائیں گے ان کے اس خیالی جھوٹے دعوے اور جھوٹی آرزو کے پیش نظر ان کو مباہلہ کی دعوت دی گئی کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو آجاؤ ہم اور تم مل کر موت کی دعا کریں کہ دونوں فریق میں سے جو بھی جھوٹا ہو وہ ابھی فوراً مرجائے جب یہ بات سامنے آئی تو اس پر آمادہ نہ ہوئے اور راہ فرار اختیار کرلی۔ حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یہ لوگ موت کی تمنا کرتے تو اسی وقت مرجاتے۔ مفسر ابن جریر نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر یہودی موت کی تمنا کرتے تو اسی وقت مرجاتے اور دوزخ میں اپنا اپنا ٹھکانا دیکھ لیتے اور مباہلہ کے لیے نکلتے تو واپس ہو کر نہ جاتے اور اور مآل کچھ بھی نہ پاتے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ انہیں اپنا کفر اور بد اعمالیاں معلوم ہیں وہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کرسکتے، اور اللہ تعالیٰ سب مجرموں اور ظالموں کو جانتا ہی ہے جو ہر ایک کو اس کا بدلہ دے دے گا۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ کیا موت کی آرزو کرسکتے ہیں۔ یہ تو سب لوگوں سے زیادہ زندگی کی حرص رکھتے ہیں۔ جو لوگ مشرک ہیں اللہ کی کسی کتاب کو نہیں مانتے ان سے بھی زیادہ دنیا میں رہنے اور جینے کے حریص ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کاش ہزار سال زندہ رہ جاتے اگر ہزار سال بھی زندہ رہ جائیں تو اس کی وجہ سے عذاب سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا کبھی تو موت آہی جائیگی اور موت کے بعد وہی عذاب کا سامنا اور دوزخ کا داخلہ ہوگا جو اہل کفر کے لیے طے شدہ ہے، ابلیس کو ہزاروں سال کی زندگی دے دی گئی مگر انجام دوزخ ہی ہے۔
سورۂ الجمعہ میں بھی یہ مضمون مذکورہ ہے۔ وہاں فرمایا ہے : (قُلْ اِِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّوْنَ مِنْہُ فَاِِنَّہٗ مُلاَقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ اِِلٰی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِِلٰی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ” آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہو تم ضرور اس سے ملاقات کرنے والے ہو پھر اس کی طرف لوٹادئیے جاؤ گے جو غیب اور شہادۃ کو جانتا ہے پھر وہ تمہیں تمہارے کاموں کی خبر دے دے گا۔ “
مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اوپر جو آیت کی تفسیر بیان ہوئی کہ یہود کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی یہی تفسیر صحیح ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسا نجران کے نصاری کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی جو سورة آل عمران میں مذکور ہے۔ (ثُمَّ نَبْتَھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ) اس کے بعد ابن کثیرفرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے آیت کی تفسیر میں یوں کہا ہے کہ اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ دار آخرت تمہارے ہی لیے خاص ہے تو موت کی تمنا کرو تاکہ مرنے کے ساتھ ہی جنت میں چلے جاؤ اور دنیا کی تکلیفوں سے محفوظ و مامون ہوجاؤ۔ اس دوسری تفسیر میں مباہلہ کا ذکر نہیں بلکہ صرف آرزوئے موت کی دعوت دی گئی۔ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ معنی لے کر ان لوگوں پر حجت قائم نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اپنے دعوی میں سچا ہونا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ موت کی تمنا بھی کرے کیونکہ وہ الٹ کر یہ کہہ سکتے تھے کہ اے مسلمانو ! تم بھی تو اپنے بارے میں جنتی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہو تم بھی حالت صحت اور تندرستی میں موت کی تمنا نہیں کرتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayahs 2:97–98یہودیوں کا کفریہ قول کہ جبرائیل ہمارا دشمن ہے
یہودیوں کو جب معلوم ہوا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر جبرائیل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں تو کہنے لگے کہ جبریل تو ہمارا دشمن ہے کیونکہ وہ سخت احکام لاتا ہے۔ اور ہم اس کتاب کو نہیں مانتے جو جبریل کے ذریعہ نازل ہوئی ہے اور وہ عذاب بھی لاتا رہا ہے لہٰذا اگر میکائیل وحی لانے والے ہوتے تو ہم محمد رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرلیتے کیونکہ وہ رحمت اور بارش لانے والے ہیں۔ ایک مرتبہ یہودی حضور ﷺ سے باتیں پوچھ رہے تھے انہوں نے وعدہ کرلیا تھا کہ آپ نے یہ باتیں بتادیں تو ہم آپ کا اتباع کرلیں گے جب آپ ان کا جواب دیتے گئے تو ہر بات مانتے گئے آخر میں جب یہ ذکر آیا کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) وحی لاتے ہیں تو انہوں نے یہ بات نکالی کہ جبریل تو ہمارے دشمن ہیں اگر میکائیل آپ پر وحی لانے والے ہوتے تو ہم مان لیتے (ابن کثیر ص 120 ج 1) اللہ جل شانہ، نے فرمایا کہ جو شخص جبریل کا دشمن ہو، ہوا کرے (جبریل کا کوئی قصور نہیں وہ مامور من اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ ان کو دیا جاتا ہے وہی لے کر آتے ہیں) انہوں نے ہی آپ کے دل پر اللہ کے حکم سے قرآن نازل کیا ہے اور یہ قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق بھی کرتا ہے اور اہل ایمان کو بشارت بھی دیتا ہے (جو شخص جبریل سے دشمنی کرتا ہے وہ حقیقتاً اللہ کا دشمن ہے کیونکہ جبریل کو اللہ تعالیٰ نے قاصد بنایا اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے جبریل کے ذریعہ اپنے نبیوں پر بھیجا جبریل وہی لے کر آئے، ان سے دشمنی کرنا اللہ سے دشمنی کرنا ہوا جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہوگا وہ کافر ہے اور اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے) یہودیوں کی یہ کیسے احمقانہ بات ہے کہ ہم اس کتاب کو نہیں مانتے جس کو جبریل لے کر آئے۔ اول تو وہ جو کچھ لے کر آئے اللہ کا کلام ہے سفیر اور قاصد کوئی بھی ہو بھیجنے والے کو دیکھا جاتا ہے احکام بھیجنے والا اللہ جل شانہ، ہے پھر اللہ کے احکام کو اس لیے نہ ماننا کہ جبریل لائے ہیں جب کہ وہ اللہ کے حکم سے لائے، بہت بڑی حمایت اور شقاوت ہے۔
مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ فرشتوں اور رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد حضرت جبریل اور میکائیل کا جو خصوصی ذکر فرمایا اس سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ کے کسی رسول سے دشمنی رکھنا فرشتوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے یہ اللہ تعالیٰ سے دشمنی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ جبریل سے ہماری دشمنی ہے اور میکائیل سے ہماری دشمنی نہیں ہے وہ غلط کہتا ہے۔ وہ درحقیقت میکائیل (علیہ السلام) کا بھی دشمن ہے کیونکہ ایک فرشتے سے دشمنی سب فرشتوں سے دشمنی کرنے کے درجہ میں ہے اور موجب کفر ہے یہودیوں کا یہ کہنا کہ میکائیل ہمارے دوست ہیں یہ غلط ہے جبریل کا یا کسی بھی فرشتے کا دشمن ہونا سارے فرشتوں کا دشمن ہونا ہے اور اس میں اللہ کی دشمنی پوشیدہ ہے۔
Ayah 2:99آیات بینات کا انکار فاسقوں ہی کا کام ہے
تفسیر درمنثور میں ص 94 ج 1 حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ابن صور یا یہودی نے حضرت سرور عالم ﷺ سے کہا کہ اے محمد ! کوئی ایسی چیز آپ نہیں لائے جسے ہم پہچانتے ہوتے اور نہ آپ کے پاس ایسی کوئی کھلی ہوئی دلیل ہے جس کی وجہ سے ہم آپ کا اتباع کرلیں۔ اس کی تردید میں اللہ جل شانہ، نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم نے اے محمد ! تمہاری طرف واضح آیات نازل فرمائی ہیں جو آیات بینات ہیں، ان آیات میں یہود کی پوشیدہ باتیں ان کے بھید اور راز بیان کرنا ان کے گزرے ہوئے اسلاف کے حالات بتانا اور ان کی تحریفات کا پتہ دینا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل شانہ، نے حضرت سرور عالم ﷺ پر ظاہر فرمایا اور اپنی کتاب میں نازل فرمایا جو شخص انصاف پسند ہو حسد اور جلن کی وجہ سے اپنی جان ہلاک کرنے پر تل نہ گیا ہو اس کے لیے یہ دلائل کافی اور وافی ہیں۔ لیکن اگر کسی کو حق اور حقیقت سے بعض اور عناد ہو اور حکم عدولی ہی جس کی طبیعت ثانیہ بن گئی ہو اور فسق اس کی طبیعت میں رچ بس گیا ہو وہ ہی ان آیات بینات کا منکر ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:100یہودیوں کی ایک جماعت ہر عہد کی خلاف ورزی کرتی رہی ہے :
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت سرور عالم ﷺ نے یہودیوں کو تذکیر فرمائی اور جو ان سے میثاق اور قول وقرار لیا گیا تھا وہ ان کو یاد دلایا اور خاتم النّبیین ﷺ کے بارے میں جو ان سے عہد لیا گیا تھا اس کی یاد دہانی فرمائی تو وہ صاف منکر ہوگئے۔ ان میں ایک آدمی مالک بن سیف تھا اس نے کہا کہ اللہ کی قسم محمد (e) کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (اَو کُلَّمَا عٰھَدُوا عَھْدًا) (الایۃ) یعنی یہ لوگ اس عہد سے منکر ہو رہے ہیں۔ اور حال ان کا یہ رہا ہے کہ جب کبھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک جماعت نے اس کو پھینک دیا ان کا یہ مزاج ہے اور نقض عہد کی عادت ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ واؤ کے پہلے معطوف علیہ حذف ہے اور عبارت یوں ہے۔ اکفروا بالآیٰت و کلما عاھد وا وھو من عطف الفعلیۃ علی الفعلیۃ۔ روح المعانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان کی پرواہ نہ کریں اور ان کی مخالفت کو اپنے دل کا بوجھ نہ بنائیں (ص 335 ج 1) ۔ آخر میں فرمایا (بَلْ اَکْثَرُ ھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) یعنی ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے بعض یہودی مسلمان ہوگئے تھے اس لیے یہ فرمایا کہ ان میں سے اکثر ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 2:101اہل کتاب نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا
اس آیت شریفہ میں یہودیوں کی اس بات کا ذکر ہے کہ جب ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم المرتبہ رسول آیا یعنی حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ اور اس رسول نے اس کتاب کی تصدیق بھی کی جسے یہود مانتے تھے اور اس کو اللہ کی کتاب جانتے تھے (یعنی توریت شریف) تو ان لوگوں نے دونوں کتابوں میں مطابقت ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب توریت شریف کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن کو تو قبول کیا ہی نہیں اور توریت شریف کے بھی منحرف ہوگئے اور اس میں جو نبی اکرم ﷺ کی صفات بیان کی گئی تھیں۔ ان کے اظہار کے بجائے ان کو پوشیدہ کرلیا اور اس سے منکر اور منحرف ہوئے کہ گویا وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ توریت اللہ کی کتاب ہے اور انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے دلائل موجود ہیں۔ (کذافی الروح ص 336 ج 1)