2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:232

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ— ذٰلِكُمْ اَزْكٰی لَكُمْ وَاَطْهَرُ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ ذٰ لِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰ لِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ‌ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

اور جب تم طلاق دو عورتوں کو پھر وہ پہنچ جائیں اپنی عدت کو تو ان کو اس سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کریں جب کہ آپس میں خوبی کے ساتھ رضا مند ہوجائیں۔ اس کے ذریعہ نصیحت کی جاتی ہے اس شخص کو جو تم میں سے اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتا ہے۔ یہ تمہارے لیے زیادہ صفائی اور زیادہ پاکی کی بات ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

مطلقہ عورتیں سابقہ شوہروں سے نکاح کرنا چاہیں تو اس میں رکاوٹ نہ ڈالیں اس آیت میں عورتوں کے اولیاء اوراقرباء کو ایک خاص نصیحت کی گئی اور وہ یہ کہ جب طلاق کے بعد عورت کی عدت گزر جائے اور وہ اپنے اسی شوہر کے نکاح میں پھرجانا چاہے جس نے طلاق دی تھی تو اس میں رکاوٹ نہ ڈالو، طلاق رجعی کے بعد جب عدت گزر جائے تو یہ طلاق بائن ہوجاتی ہے اور طلاق بائن ہوجانے پر میاں بیوی کی رضا مندی سے آپس میں دو بارہ نکاح ہوسکتا ہے۔ جب دونوں یہ محسوس کریں کہ ہمیں پھر سے زن و شوہر کی طرح رہنا چاہئے اور پھر سے نکاح کرلینے میں مصلحت محسوس کریں تو عورت کے اولیاء و اقرباء رکاوٹ نہ ڈالیں ان کا نکاح آپس میں ہونے دیں۔ البتہ ان دونوں میں آپس میں خیر و خوبی سے اور عمدہ طریقہ پر نباہ کرنے کے جذبات ہونے چاہئیں۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ وقتی جوش میں مرد طلاق دے بیٹھتا ہے اور عورت بھی کبھی غصہ میں طلاق طلب کرلیتی ہے جس سے شوہر کے منہ سے طلاق کے کلمات نکل جاتے ہیں۔ پھر آپس میں پشیمان ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پھر مل بیٹھیں، یعنی دو بارہ نکاح کرلیں۔ جب ایسی صورت حال بن جاتی ہے تو عورت کا باپ یا بھائی یا خاندان کے دوسرے لوگ رکاوٹ ڈالتے ہیں اور اس کو اپنی ہتک عزت سمجھتے ہیں۔ اور بعض مرتبہ رشوت لینے کے پھیر میں ہوتے ہیں اس کے شوہر کو دباتے ہیں تاکہ کچھ مال دینے پر مجبور ہوجائے، ان سب باتوں سے آیت بالا میں منع فرمایا ہے۔ حضرت معقل بن یسار ؓ نے بیان فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے اپنی ایک بہن کا ایک شخص سے نکاح کردیا تھا پھر اس نے اس کو طلاق دے دی۔ جب عدت گزر گئی تو پھر وہ اس سے نکاح کرنے کے لیے پیغام لے کر آگیا میں نے کہا کہ میں نے تجھ سے اس کا نکاح کردیا اور اس کو تیرے ساتھ بھیج دیا اور تیرا اکرام کیا پھر تو نے طلاق دے دی اب تو دو بارہ نکاح کا پیغام لے کر آیا ہے اللہ کی قسم کبھی بھی تیرے پاس نہ جائے گی۔ یہ آدمی مناسب تھا اور عورت چاہتی تھی کہ واپس چلی جائے۔ اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت سن کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اب تو میں ضرور وہی کروں گا جس کا حکم ہوا ہے۔ لہٰذا اپنی قسم کا کفارہ دے دیا اور اسی شخص سے اس کا نکاح کردیا، بعض روایات میں ہے کہ جب آیت سنی تو حضرت معقل بن یسار نے کہا (سَمْعًا لِرَبِّیْ وَطَاعَۃً ) (میں نے اپنے رب کا فرمان سنا اور میں فرمانبر داری کے لیے حاضر ہوں) ۔ (تفسیر درمنثور ص 287 ج 1 عن البخاری وابی داؤدو الترمذی والحاکم وغیر ہم) بعض مفسرین نے فرمایا کہ اَزْوَاجَھُنَّ سے پہلے شوہروں کے علاوہ وہ لوگ بھی مراد ہوسکتے ہیں جو پہلے شوہر نہ تھے لیکن طلاق و عدت کے بعد مطلقہ عورتیں بعض مرتبہ بعض مردوں سے رشتہ طے کرلیتی ہیں اور آپس میں دونوں شریعت کے قاعدہ کے مطابق نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو عورت کے اولیاء و اقرباء آڑے نہ آئیں اور نہ طلاق دینے والا پہلا شوہر رکاوٹ ڈالے۔ بالمعروف میں یہ بتادیا کہ وہ شرعی قاعدے کے مطابق نکاح کرنا چاہیں تو ان کو نکاح کرنے دیں، البتہ خلاف شرع کوئی بات ہو تو اس سے روکنا واجب ہے۔ عورت کو بھی چاہئے کہ اپنے برابر اور میل کے آدمی سے نکاح کرے اور مہر مثل پر نکاح کرے تاکہ اولیاء کو خفت محسوس نہ ہو اور کسی طرح اعتراض کا موقعہ نہ ملے پھر فرمایا اس میں ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ فرمایا کہ اس حکم کے ماننے میں تمہاری بہت بڑی صفائی اور پاکیز گی ہے کیونکہ اس کی خلاف ورزی میں فتنہ فساد اور گناہوں میں مبتلا ہونے کے مواقع نکل سکتے ہیں اور مرد و عورت کی عفت بھی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) (کہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) بعض لوگ اپنے خیال سے کچھ مصلحتیں سوچتے ہیں لیکن فکر میں خطاء کرتے ہیں غلط بھی سوچتے ہیں۔ دنیا داری کے جذبات سے سوچتے ہیں مرد و عورت کی مصلحتوں پر نظر نہیں رکھتے، اپنے غور و فکر کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کریں، اس نے جو قانون بتایا ہے اس پر چلنے میں خیر ہے۔
Ayah 2:233

وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ؕ— وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا ۚ— لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ ۗ— وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ۚ— فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا ؕ— وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟وَالۡوَالِدٰتُ يُرۡضِعۡنَ اَوۡلَادَهُنَّ حَوۡلَيۡنِ كَامِلَيۡنِ‌ لِمَنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ ‌ ؕ وَعَلَى الۡمَوۡلُوۡدِ لَهٗ رِزۡقُهُنَّ وَكِسۡوَتُهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفۡسٌ اِلَّا وُسۡعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌ ۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوۡلُوۡدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ وَعَلَى الۡوَارِثِ مِثۡلُ ذٰ لِكَ ۚ فَاِنۡ اَرَادَا فِصَالًا عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا ‌ؕ وَاِنۡ اَرَدْتُّمۡ اَنۡ تَسۡتَرۡضِعُوۡٓا اَوۡلَادَكُمۡ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّآ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں دودھ پلائیں اپنی اولاد کو دو سال پورے اس کے لیے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے۔ اور جس کی اولاد ہے اس کے ذمہ ماؤں کا کھانا اور کپڑا ہے قاعدہ کے مطابق، کسی جان کو تکلیف نہیں دی جاتی مگر اس کی برداشت کے مطابق، نہ تکلیف دی جائے والدہ کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور نہ اس کو تکلیف دی جائے جس کا بچہ ہے اس کے بچہ کی وجہ سے، اور وارث کے ذمہ اسی طرح سے لازم ہے۔ سو اگر دونوں آپس کی رضا مند ی اور باہم مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں، اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کچھ گناہ نہیں ہے جب کہ تم سپرد کر دو جو کچھ ان کو دینا طے کیا ہے قاعدہ کے موافق، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ ان کا موں کو دیکھتا ہے جنہیں تم کرتے ہو۔

بچوں کو دودھ پلانے کے احکام اس آیت میں بچوں کو دودھ پلانے اور پلوانے کے بارے میں چند احکام مذکور ہیں۔ جب میاں بیوی خوشی کے ساتھ آپس میں مل جل کر رہ رہے ہوں اور اولاد پیدا ہوجائے تو چونکہ ماں اور باپ دونوں کو بچہ پر شفقت ہوتی ہے اور دونوں اس کی تربیت کرتے ہیں اور دکھ تکلیف سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے بچے ماں باپ کے سایہ میں خوب اچھی طرح پرورش پاتے ہیں اور ایسی صورت میں والدہ اس کے دودھ پلانے یا پرورش کرنے پر اس کے باپ سے کسی طرح کی اجرت بھی طلب نہیں کرتی، حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ بچے کی والدہ جب اپنے شوہر کے نکاح میں ہے اور بحق زوجیت کھانا کپڑا اسے مل رہا ہے تو اس کے لیے یہ درست نہیں کہ دودھ پلانے کے سلسلے میں کوئی اجرت طلب کرے اور بعض مرتبہ ایسا ہوجاتا ہے کہ شوہر طلاق دے دیتا ہے۔ اس میں اول تو یہ اختلاف رونما ہوتا ہے کہ بچہ کون لے۔ اصول یہ ہے کہ لڑکا جب تک سات برس کا نہ ہوجائے اور لڑکی نو سال کی نہ ہوجائے اس وقت تک والدہ کو پرورش کا حق ہے۔ لڑکا یا لڑکی کی پرورش کا حق مطلقہ عورت کو اس وقت تک ہے جب تک کہ کسی ایسے شخص سے نکاح نہ کرلے جو بچے کا محرم نہ ہو، والدہ کی پرورش میں بچہ کے رہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچہ کے اخراجات بھی والدہ ہی کے ذمہ ہوں بلکہ اخراجات بچے کے والد پر ہی واجب ہوں گے، جب کسی مرد نے کسی عورت کو طلاق دے دی اور ماں نے بچہ کو پرورش کے لیے لیا اور ابھی دودھ پلانے کا زمانہ باقی ہے تو جب تک عدت نہ گزر جائے اس وقت تک بچہ کو دودھ پلانے کی اجرت وہ نہیں لے سکتی کیونکہ اسے طلاق دینے والے شوہر کی طرف سے زمانہ عدت کا نان و نفقہ مل رہا ہے۔ دو ہرا خرچہ نہیں دیا جائے گا اور جب عدت گزر جائے اور ابھی دودھ پلانے کا زمانہ باقی ہے تو اب بچہ کی ماں بچہ کے باپ سے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔ بچہ کے دوسرے اخراجات اس کے سوا ہوں گے اور دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ بچہ کی عمر دو سال (قمری مہینوں کے اعتبار سے) ہوجانے تک طلب کیا جاسکتا ہے اس کے بعد بچہ کا باپ دودھ پلانے کی اجرت نہ دے تو دودھ پلانے والی والدہ دودھ پلانے کی اجرت طلب نہیں کرسکتی (حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دودھ پلانے کی مدت زیادہ سے زیادہ ڈھائی سال ہے اور دوسرے اماموں کے نزدیک دو سال ہے۔ اور احتیاط اسی میں ہے کہ دو سال سے زیادہ دودھ نہ پلایا جائے البتہ اگر کسی نے دو سال کے بعد بھی ڈھائی سال ہونے تک کی مدت میں پلا دیا تو اس سے حرمت رضاعت کا فتویٰ دیا جائے گا کیونکہ تحریم نکاح کے سلسلہ میں اسی میں احتیاط ہے، سو اگر کوئی عورت دو سال کے بعد دودھ پلائے سو شوہر کے ذمہ دودھ پلائی کا خرچہ نہیں ہے) ۔ ماں کو یا باپ کو اولاد کی وجہ سے ضرر نہ دیا جائے : اُجرت رضاعت اور مدت رضاعت بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا : (لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَھَا) جس میں یہ بتایا کہ بچہ کا باپ جو دودھ پلانے والی کو اجرت دے گا اس میں اس کی حیثیت سے زیادہ مطالبہ نہ کیا جائے گا وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق خرچہ دے گا، جو خرچہ اس کی استطاعت سے باہر ہو اس کا مطالبہ اس سے نہ کیا جائے پھر ارشاد فرمایا : (لَا تُضَآرَّ وَالِدَۃٌ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖ ) یعنی کسی ماں کو اس کے بچہ کی وجہ سے اور کسی باپ کو اس کے بچہ کی وجہ سے ضرر نہ پہنچایا جائے۔ مثلاً طلاق ہوگئی تو بچہ کے ماں باپ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچانے سے باز رہیں اگر بچہ کی والدہ دودھ پلانے سے معذور ہو یا حق پرورش سے دستبردارہو جائے اور یوں کہے کہ کسی اور سے دودھ پلوا لو تو اس کا باپ زبردستی نہ کرے کہ تجھے ہی پلانا ہوگا اور مفت پلانا ہوگا ماں کی مامتا سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ یہ نہ سوچے کہ جب بچہ کو تڑپتا دیکھے گی خود ہی پلائے گی۔ یا ماں اجرت پر پلانے کو راضی ہو تو باپ یوں نہ کہے کہ میں تجھ سے نہیں پلواتا۔ میں دوسری عورت کو زیادہ اجرت دے دوں گا لیکن تجھے ایک کوڑی بھی نہ دوں گا۔ باپ نہ ہو تو وارث ذمہ دار ہے : پھر فرمایا (وَ عَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بچہ کا باپ وفات پا جائے تو اس کے دودھ پلانے کی ذمہ داری وارث پر ہے اگر بچہ کا اپنا مال ہو مثلاً اس کے باپ کی میراث سے اسے ملا ہے اور بچہ کے دودھ پینے کی مدت ابھی باقی ہے تو بچہ کے مال میں سے بچہ پر خرچ کرے اور دودھ پلوانے کی اجرت اسی مال سے دے اور اگر بچہ کا اپنا مال نہیں ہے تو یہ وارث اپنے مال سے بچہ پر خرچ کرے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا وارث سے بچہ کا وارث مراد ہے مثلاً اگر یہ فرض کیا جائے کہ بچہ کی موت ہوگئی تو اس وقت جو لوگ اس کے وارث ہوسکتے ہیں ان پر اس کا خرچ واجب ہے۔ حضرت امام صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے وہ وارث مراد ہے جو محرم ہو، اگر اس طرح کا وارث ایک ہی ہو تو پورا خرچ اس ایک ہی پر واجب ہوگا، اور اگر چند افراد ایسے ہوں تو ان سب پر بقدر حصہ میراث بچہ کے اخراجات لازم ہوں گے محرم اس کو کہتے ہیں جس سے کبھی بھی نکاح جائز نہ ہو، اگر بچہ اور اس کے رشتہ دار ایک ہی جنس کے ہوں یعنی سب مرد ہوں تو محرم کے پتہ چلانے کا طریقہ یہ ہے کہ بچہ اور اس کے رشتہ داروں میں سے اگر کسی کو عورت فرض کرلیا جائے تو آپس میں نکاح درست نہ ہو۔ ایسے رشتہ کو رشتہ محرمیت کہتے ہیں۔ چچا بھتیجی کا نکاح تو آپس میں درست نہیں ہے۔ لہٰذا چچا اپنی بھتیجی کا محرم ہے اور چچا بھتیجا کا بھی محرم ہے اس لیے اگر دونوں میں سے کسی ایک کو عورت فرض کرلیا جائے تو آپس میں نکاح درست نہ ہوگا۔ مسئلہ : اگر کسی بچہ کا والد وفات پا گیا اور بچہ کا مال بھی نہیں ہے اور اس کی والدہ ہے اور دادا ہے تو دونوں پر بقدر اپنے حصہ میراث کے بچے کا خرچہ واجب ہوگا، لہٰذا ماں کے ذمہ 189 ہوگا اور دادا کے ذمہ 193 ہوگا۔ کیونکہ دونوں محرم بھی ہیں اور بچے کی میراث ان دونوں کو اسی نسبت سے پہنچتی ہے۔ دو سال سے پہلے بھی باہمی مشورہ سے دودھ چھڑا سکتے ہیں : پھر فرمایا (فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْھُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا) یعنی اگر دو سال سے پہلے ہی والدین بچہ کا دودھ چھڑانا چاہیں اور آپس میں رضا مندی اور مشورے سے اس کا فیصلہ کرلیں تو اس میں بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ مشورے میں بچے کی مصلحت پیش نظر رکھی جائے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ کی والدہ کا دودھ خراب ہوجاتا ہے۔ وہ بچہ کے لیے مضر ہوتا ہے۔ کبھی بچہ دودھ پینا خود سے چھوڑ دیتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ ماں کے علاوہ نہ کسی اور عورت کا دودھ پینے کو تیار ہے نہ اوپر کا دودھ پینا گوارا کرتا ہے ایسی صورت میں ماں کا دودھ چھڑائیں گے تو وہ بھوکا رہے گا، دودھ چھڑاتے وقت بچہ کی ہمدردی اور مربیانہ شفقت پیش نظر رکھی جائے۔ اجرت پر دودھ پلوانے کے مسائل : پھر فرمایا (وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَکُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ ) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم بچوں کی ماؤں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ ماں زندہ ہے لیکن مناسب یہ سمجھتے ہیں کہ دودھ کسی اور سے پلوائیں۔ تو یہ بھی درست ہے۔ بچہ کی مصلحت پیش نظر ہوتے ہوئے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اس میں ایک یہ صورت پیش آسکتی ہے کہ بچہ کی ماں کو اس کے باپ نے طلاق دے دی ہے اور عدت بھی گزر گئی ہے اور دودھ پلانے کا زمانہ ابھی ختم نہیں ہوا تو بچہ کی ماں اگر اجرت پر پلانا گوارا کرے تو باپ اس سے بچہ کو جدا نہ کرے اس کی والدہ ہی سے پلوائے، ہاں اگر وہ دوسری دودھ پلانے والیوں کے بہ نسبت زیادہ اجرت مانگتی ہو، یا ماں کے دودھ میں کچھ خرابی ہو تو اس کا باپ دوسری عورت سے دودھ پلوا دے تو یہ بھی جائز ہے۔ مسئلہ : جب بچہ ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوائے اور ماں یوں کہے کہ دودھ خواہ وہ پلائے لیکن رہے میرے ہی پاس تو اس کا یہ مطالبہ صحیح ہے۔ بچہ کے باپ کو یہ مطالبہ پورا کرنا لازم ہے۔ مسئلہ : جب کسی عورت کو دودھ پلانے پر مقرر کریں تو اس کی اجرت اچھی طرح سے طے کرلیں۔ ایسانہ کریں کہ اجرت طے کر کے اسے بالکل ہی نہ دیں یا جو اجرت طے ہوئی تھی اس سے تھوڑی دیں یا ٹال مٹول کریں۔ جو کچھ طے ہوا ہے قاعدہ کے موافق خوش اسلوبی سے دے دیں، (اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے۔ مسئلہ : دودھ پلانے کے علاوہ اگر اس سے اور کوئی خدمت لینا چاہیں تو اسے بھی معاملہ میں طے کرلیں۔ مسئلہ : دودھ پلانے والی کو روٹی کپڑے پر ملازم رکھنا درست ہے۔ البتہ کھانا کپڑا کیسا ہوگا اس کی صاف صاف تصریح کر دے، دودھ پلانے والی کے علاوہ اور کسی ملازم کو روٹی کپڑے پر رکھنا جائز نہیں ہے۔ مذکورہ بالا احکام بیان کرنے کے بعدارشاد فرمایا : (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو پوری طرح دیکھنے والا ہے۔ اس میں تنبیہ ہے کہ احکام شرعیہ کی پابندی کرو اور اللہ سے ڈرو، خلاف ورزی کرکے مواخذہ اور عذاب کے مستحق نہ بنو۔ اور یہ بھی سمجھ لو کہ تمہارا کوئی عمل اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے۔
Ayah 2:234

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا ۚ— فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ ۟وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا ‌‌ۚ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو یہ بیویاں اپنی جانوں کو روکے رکھیں چار مہینے دس دن، پھر جب وہ پہنچ جائیں اپنی میعاد کو سو تم پر کوئی گناہ نہیں اس بات میں کہ وہ عورتیں اپنی جانوں کے بارے میں خوبی کے ساتھ کوئی فیصلہ کرلیں، اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کی خبر رکھنے والا ہے۔

شوہر کی موت پر عدت گزارنے کے احکام اس آیت شریفہ میں ان عورتوں کی عدت بیان فرمائی ہے جن کے شوہر وفات پاجائیں اور یہ عدت چار مہینہ دس دن ہے، چار ماہ دس دن تک وہ عورت کسی دوسری جگہ نکاح نہ کرے۔ اور اس زمانہ میں سوگ بھی کرے، یعنی خوشبو مہندی نہ لگائے اور بن ٹھن کر نہ رہے۔ یہ حکم حدیث شریف میں وارد ہوا ہے، واضح رہے کہ چار ماہ دس دن اس عورت کی عدت ہے جس کو حمل نہ ہو اور اس کا شوہر وفات پا جائے، اگر کسی ایسی عورت کا شوہر وفات پا جائے جو حمل سے ہو تو پھر اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی شوہر کی موت کے بعد جتنی مدت میں بھی بچہ پیدا ہو اس وقت تک وہ عورت عدت میں رہے گی، خواہ شوہر کی موت کے ایک گھنٹہ بعد ہی ولادت ہوجائے خواہ مہینوں لگ جائیں۔ یہ مضمون سورة طلاق کی آیت (وَاُوْلاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ) میں بیان فرمایا ہے۔ اور سوگ کرنا بھی اس کے لیے واجب ہے۔ مسئلہ : جو عورت عدت وفات گزار رہی ہو وہ عدت ختم ہونے تک اس گھر میں رہے، جس میں رہتے ہوئے شوہر کی موت ہوئی ہے۔ اگر خرچہ نہ ہو تو بقدر ضرورت روزی حاصل کرنے کے لیے دن کے اوقات میں نکل سکتی ہے۔ ضرورت پوری کر کے پھر اسی گھر میں آجائے۔ مسئلہ : اگر چاند رات کو شوہر کی وفات ہوئی ہو تو مہینوں کے اعتبار سے چار ماہ دس د ن پورے کرلے اور اگر چاند رات گزر جانے کے بعد وفات ہوئی ہے تو ایک سو تیس دن شمار کرکے عدت پوری کرے۔ جب عدت گزر جائے تو عورتیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی خود مختار ہیں کہ خوبی کے ساتھ شرعی قواعد کے موافق جس سے چاہیں نکاح کرلیں۔ اولیاء اس میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ ہاں اگر کوئی خلاف شرع کام کرنے لگیں تو اولیاء کے ذمہ ہوگا کہ اس سے روکیں اور نہی عن المنکر کریں۔ (فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِنَّ بالْمَعْرُوْفِ ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے۔ اور عورتوں کو اور ان کے اولیاء کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : (وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے کاموں کی پوری طرح خبر ہے، اور کسی عورت نے خلاف شرع کوئی اقدام کیا یا مردوں نے اس طرح کا اقدام کرنے دیا تو گناہگار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے اس سے کسی کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے۔
Ayah 2:235

وَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ ؕ— عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ؕ۬— وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ ؕ— وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ ۚ— وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ ۟۠وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا عَرَّضۡتُمۡ بِهٖ مِنۡ خِطۡبَةِ النِّسَآءِ اَوۡ اَکۡنَنۡتُمۡ فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمۡ سَتَذۡكُرُوۡنَهُنَّ وَلٰـكِنۡ لَّا تُوَاعِدُوۡهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا قَوْلًا مَعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا عُقۡدَةَ النِّکَاحِ حَتّٰى يَبۡلُغَ الۡكِتٰبُ اَجَلَهٗ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ مَا فِىۡٓ اَنۡفُسِكُمۡ فَاحۡذَرُوۡهُ ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اور تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو کنایتاً نکاح کا پیغام دیدو یا اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھو، اللہ کو معلوم ہے کہ بیشک تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے، لیکن ان سے نکاح کا خفیہ طور پر وعدہ نہ کرلینا، مگر یہ کہ ان سے ایسی بات کہو جو قاعدہ کے موافق ہو، اور تم نکاح کرنے کا ارادہ مت کرو یہاں تک کہ عدت قانون کے مطابق ختم ہوجائے، اور تم جان لو کہ بیشک اللہ جانتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے، اور سو تم اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ بلاشبہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

بیوہ عورتوں کو صریح پیغام نکاح دینے کی ممانعت اس آیت شریفہ میں عدت وفات گزارنے والی عورتوں کے بارے میں ایک تنبیہ فرمائی ہے اور وہ یہ کہ ایسی عورتوں کو صاف صریح الفاظ میں نکاح کا پیغام نہ دیا جائے ہاں اگر اشارتاً و کنایتاً ذکر کردیا جائے مثلاً یوں کہہ دیا جائے کہ فکر نہ کرنا اللہ مالک ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی پریشانی نہ ہوگی۔ وغیرہ وغیرہ۔ تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ صرف دل میں یہ خیال کرلیا جائے کہ اس کی عدت گزر جائے گی تو اس سے نکاح کرلوں گا۔ اللہ تعالیٰ کو سب کے دلوں کا حال معلوم ہے، اس نے اتنی گنجائش دے دی کہ اشارتاً و کنایتاً عورت کے کان میں بات ڈال دی جائے۔ البتہ اس کی اجازت نہیں دی کہ عدت والی عورت اور پیغام دینے والا مرد آپس میں خفیہ طریقہ پر عقد نکاح کا آپس میں وعدہ کرلیں اور اس کی بھی اجازت نہیں دی کہ عدت ختم ہونے سے پہلے نکاح کریں۔ آیت کے ختم پر وہی بات دہرا دی کہ اللہ تعالیٰ کو دلوں کا سب حال معلوم ہے اس سے ڈرو احکام کی خلاف ورزی نہ کرو، اگر کبھی کوئی خطاء ہوجائے تو توبہ کرلو، اللہ تعالیٰ غفور بھی ہے حلیم بھی ہے۔
Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً ۖۚ— وَّمَتِّعُوْهُنَّ ۚ— عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ۚ— مَتَاعًا بِالْمَعْرُوْفِ ۚ— حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ۟لَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡهُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَهُنَّ فَرِيۡضَةً  ۖۚ وَّمَتِّعُوۡهُنَّ ‌ۚ عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ ‌ۚ مَتَاعًا ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌‌ۚ حَقًّا عَلَى الۡمُحۡسِنِيۡنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

کوئی گناہ نہیں تم پر اگر طلاق دے دو عورتوں کو جب کہ تم نے ان کو چھوا نہ ہو اور مہر مقرر نہ کیا ہو اور ان کو متعہ دے دو ، گنجائش رکھنے والے پر گنجائش بقدر ہے، اور تنگ دست پر اس کی حیثیت کے موافق ہے، یہ فائدہ پہنچانا عمدہ طریقہ پر ہو، واجب ہے اچھا سلوک کرنے والوں پر۔

مہر اور متعہ کے احکام ان دونوں آیتوں میں چند مسائل بیان فرمائے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو صرف نکاح کر کے طلاق دیدے نہ اسے ہاتھ لگایا ہو نہ اس کے لیے مہر مقرر کیا ہو تو اس صورت میں مہر واجب نہیں ہے۔ البتہ بطور سلوک و احسان اور دلداری کے متعہ دینا واجب ہے، یہ متعہ ایک جوڑا کپڑوں کی صورت میں ہوگا، یعنی طلاق دینے والا مرد مطلقہ عورت کو تین کپڑے دے دے، ایک کرتہ، ایک دوپٹہ اور ایک خوب چوڑی چکلی چادر جو سر سے پاؤں تک ڈھانک سکے۔ اور اس میں مرد کی حالت کا اعتبار ہوگا، مرد پیسہ والا ہے تو اپنی حیثیت کے مطابق دے اور تنگ دست ہے تو اپنے حالات کے مطابق دے دے، اس و جوب کو مؤکد فرمانے کے لیے ارشاد فرمایا : (مَتَاعًا بالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ) کہ یہ نفع پہنچانا شرعی قاعدہ کے مطابق ہو جو محسنین پر واجب ہے، ہر مسلمان اپنے ایمان کی وجہ سے صفت احسان اختیار کرنے پر مامور ہے اور ہر مؤمن محسن ہے، لہٰذا اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ جو لوگ فاسق اور گناہ گار ہیں ان پر واجب نہیں۔ آیت بالا سے معلوم ہوا کہ اگر مہر مقرر کیے بغیر نکاح کرلیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے۔ اب اس کے بعد اگر مذکورہ بالا صورت پیش آجائے (کہ مرد نے عورت کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور طلاق دے دی) تو اس صورت میں متعہ دینا ہوگا جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور اگر مہر مقرر کیے بغیر نکاح کرلیا، اور پھر میاں بیوی والی تنہائی بھی ہوگئی یا خلوت سے پہلے شوہر کی وفات ہوگئی تو مہر مثل دینا ہوگا۔ جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے۔
Ayah 2:237

وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ؕ— وَاَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ؕ— وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۟وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ يَّعۡفُوۡنَ اَوۡ يَعۡفُوَا الَّذِىۡ بِيَدِهٖ عُقۡدَةُ النِّكَاحِ ‌ؕ وَاَنۡ تَعۡفُوۡٓا اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ وَ لَا تَنۡسَوُا الۡفَضۡلَ بَيۡنَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو اس سے پہلے طلاق دو کہ ان کو چھوا ہو حالانکہ ان کے لیے مہر مقرر کرچکے ہو تو اس صورت میں اس کا آدھا ہے جتنا تم نے مقرر کیا ہے، مگر یہ کہ وہ معاف کردیں یا وہ شخص معاکر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اور یہ بات کہ تم معاف کر دو زیادہ قریب ہے تقویٰ سے۔ اور نہ بھولو آپس میں احسان کرنے کو، بیشک اللہ اس کو دیکھنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

اور اگر مہر مقرر کیا تھا لیکن طلاق خلوت سے پہلے دیدی تو اس صورت میں مقرر کردہ مہر کا آدھا دینا لازم ہوگا، ہاں اگر عورت بالکل ہی چھوڑ دے کچھ بھی نہ لے تو معاف ہوجائے گا اور اگر شوہر اسے پورا ہی مہر دیدے باو جود یہ کہ آدھا ہی واجب تھا، یا جو پورا مہر دے چکا تھا اس میں سے آدھا واپس نہ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں (اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ ) میں یہی آخری بات بیان فرمائی ہے۔ جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ وہ شوہر ہے، اور اگر مہر مقرر کیا گیا تھا اور خلوت بھی ہوگئی تھی تو پورا مہر دینا فرض ہوجاتا ہے پھر فرمایا : (وَ اَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) (کہ تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے) کیونکہ معاف کرنا موجب اجر وثواب ہے۔ پھر فرمایا : (وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ ) یعنی ایک دوسرے کے ساتھ احسان کرنے کو نہ بھولو، آپس میں حسن سلوک سے پیش آتے رہو۔ قال صاحب الروح ص 155 ج 2 ای لا تترکوا أن یتفضل بعضکم علی بعض کا لشیء المنسیٰ ۔ آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ) کہ بلاشبہ اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ اس میں وہی تذکیرو تنبیہ ہے جو بار بار گزر چکی ہے اور مضامین کے ختم میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔ درحقیقت اس بات کا مراقبہ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال سے باخبر ہے۔ اور ہمارے کردار کو وہ دیکھ رہا ہے، سارے اعمال کو درست بنا دینے کا ذریعہ ہے۔ دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ جہاں آخرت کی مسؤلیت سے ذرا غفلت ہوتی ہے وہیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے ضائع ہونے کے مواقع پیش آجاتے ہیں اس لیے قرآن مجید میں بار بار اس بات کو دہرایا ہے کہ آخرت کی پیشی اور محاسبہ کو سامنے رکھیں۔
Ayah 2:238

حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی ۗ— وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ ۟حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

پابندی کرو نمازوں کی اور درمیان والی نماز کی، اور کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے اس حال میں کہ عاجزی اختیار کیے ہوئے ہو۔

تمام نمازوں اور خاص کر صلوٰۃ وسطیٰ کی محافظت کا حکم طلاق اور شوہر کی وفات سے متعلق بعض مسائل باقی ہیں۔ درمیان میں نمازوں کی پابندی کا حکم فرما دیا بندے جس حال میں بھی ہوں۔ اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوں اور خاص کر نمازوں کا خوب زیادہ اہتمام کریں۔ نماز سراپا ذکر ہے، بار بار خالق کائنات جل مجدہ کی یاد کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اللہ کی یاد ہی اس پورے عالم کی جان ہے، آدمی کیسی ہی مشغولیت میں ہو نماز سے غافل نہ ہو، اور ان نمازوں میں بھی صلاۃ وسطیٰ یعنی درمیان والی نماز کا اور زیادہ دھیان رکھے۔ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح ہے کہ صلاۃ وسطیٰ ، (درمیان والی نماز) سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس نماز کا خصوصی دھیان رکھنے کے لیے اس لیے ارشاد فرمایا کہ عموماً تجارتی امور اور کاروبار اور بہت سے کام ایسے وقت میں سامنے آجاتے ہیں جبکہ نماز عصر کا وقت ہوتا ہے۔ مالوں کی خریدو فروخت کی گرم بازاری عصر ہی کے وقت ہوتی ہے، اس وقت میں نمازوں کی پابندی کرنے والے بھی نماز عصر سے غافل ہوجاتے ہیں۔ حضرت عبادۃ بن الصامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ نمازیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرض فرمایا ہے۔ جس نے اچھی طرح ان کا وضو کیا اور ان کو بر وقت پڑھا اور ان کا رکوع وخشوع پورا کیا تو اللہ کے ذمہ یہ عہد ہے کہ وہ اس کی مغفرت فرما دے گا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے لیے اللہ کا کوئی عہد نہیں چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے اسے عذاب دے۔ (رواہ ابو داؤد ص 61 ج 1) آخر میں فرمایا : (وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ) لفظ قانتین قنوت سے لیا گیا ہے۔ جو اسم فاعل کا صیغہ ہے اس کی تفسیر کئی طرح سے کی گئی ہے۔ مطیعین، خاشعین، ساکتین، یہ سب اس کی تفسیریں ہیں۔ جو سب حضرات سلف سے مشہور ہیں۔ حضرت زید ابن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز کے اندر باتیں کرلیا کرتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ (وَ قُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ ) نازل ہوگئی تو ہمیں خاموشی کا حکم ہوا اور آپس میں بات کرنے سے روک دیئے گئے۔ (رواہ البخاری ص 650 ج 2) نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہی پڑھا جائے اور آپس میں باتیں نہ کی جائیں۔ حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا کہ قنوت یہ ہے کہ رکوع لمبا ہو نظر پست ہو اور خشوع حاصل ہو اور یہ کہ کسی طرف التفات نہ کیا جائے، اور کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کیا جائے (جو بعض مسجدوں میں فرش پر پڑی رہتی تھیں) اور دنیاوی امور کے وسوسے اپنے دل میں نہ لائے، بعض حضرات نے قانتین کی تفسیر کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے۔ مکملین الطاعۃ و مُتمَیھا علی أحسن وجہ من غیر اخلال بشیء مما ینبغی فیھا۔ کہ نہایت اچھے طریقہ پر طاعت کو درجہ کمال تک پہنچایا جائے اور جو چیزیں طاعت کے لیے چاہئیں ان میں سے کسی بھی چیز میں خلل نہ آنے دیا جائے۔ (روح المعانی ص 107، ج 2)
Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ۚ— فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ۟فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُكۡبَانًا ‌‌ ۚ فَاِذَآ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰهَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

پھر اگر تم کو خوف ہو تو کھڑے ہوئے یا سواری پر بیٹھے ہوئے نماز پڑھ لیا کرو پھر جب تم کو امن حاصل ہوجائے تو اللہ کو یاد کرو جیسا کہ اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

دشمنوں کا ہجوم ہو تو نماز کیسے پڑھی جائے گزشتہ آیت میں تمام نمازوں کی پابندی اور خاص کر صلوٰۃ وسطی کی پابندی کا حکم فرمایا۔ اس آیت میں خوف اور امن کے حالات میں نماز پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جہاں تک بھی ممکن ہو پانچوں نمازوں کو ہر حال میں اور ہر مقام میں ضرور پڑھیں۔ بعض مرتبہ دشمنوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ اس موقعہ پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ باقاعدہ رکوع سجدہ کے ساتھ نماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا ایسی صورت میں کھڑے کھڑے اشارہ ہی سے نماز پڑھ لیا کریں۔ زمین پر اترنے کا موقعہ نہ ہو تو سواری ہی پر پڑھ لیں۔ پھر جب امن ہوجائے اور اطمینان نصیب ہوجائے تو اسی طرح نماز پڑھو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے امن و اطمینان کے حالات میں نماز پڑھنے کی تعلیم دی ہے اگر دشمنوں کا ہجوم ہو اور کوئی صورت کسی طرح نماز پڑھنے کی بن نہ پڑے تو مجبوراً نماز مؤخر کر دے اور بعد میں قضا پڑھ لے۔ صحیح بخاری ص 83 ج 1 میں حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جنگ خندق کے موقعہ پر حضرت عمر ؓ حاضر خدمت ہوئے اور کفار قریش کو برا کہنے لگے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں نے بھی عصر نہیں پڑھی پھر وادی بطحان کی طرف توجہ فرمائی اور آپ نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا اس کے بعد آپ نے عصر کی نماز پڑھی جبکہ سورج غروب ہوچکا تھا۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے (مشرکین کو بددعا دیتے ہوئے) فرمایا اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ سے روک دیا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔ (صحیح مسلم ص 226 ج 1)
Ayah 2:240

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ۖۚ— وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ ۚ— فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ؕ— وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡکُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا  ۖۚ وَّصِيَّةً لِّاَزۡوَاجِهِمۡ مَّتَاعًا اِلَى الۡحَـوۡلِ غَيۡرَ اِخۡرَاجٍ‌‌ ۚ فَاِنۡ خَرَجۡنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡکُمۡ فِىۡ مَا فَعَلۡنَ فِىۡٓ اَنۡفُسِهِنَّ مِنۡ مَّعۡرُوۡفٍؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَکِيۡمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ وفات پاجائیں اور چھوڑ جائیں بیویوں کو وصیت کردیں اپنی بیویوں کے لیے منتفع ہونے کی ایک سال تک اس طور پر کہ وہ گھر سے نہ نکالی جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اس بات میں جو وہ اپنی جانوں کے لیے قاعدہ کے مطابق کرلیں، اور اللہ عزت والا ہے، حکمت والا ہے۔

بیویوں کے لیے وصیت کرنا زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو اس کی عدت ایک سال تھی، وہ ایک سال تک کسی کوٹھڑی میں پڑی رہتی تھی اور ایک سال کے بعد اس کوٹھڑی سے نکالتے تھے اور اس کی گود میں اونٹ کی مینگنیاں بھر دیتے تھے پھر اسے باہر گلی کوچے میں نکالتے تھے۔ وہ لوگوں پر مینگنیاں پھنکتی جاتی تھی اس سے لوگ سمجھ لیتے تھے کہ اس کی عدت ختم ہوگئی جیسا کہ صحیح بخاری 803 ج 2 اور صحیح مسلم ص 487 ج 1 اور سنن ابو داؤد ص 314 ج 1 میں مذکور ہے۔ اسلام میں ایسی عورت کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرما دی جس کا شوہر وفات پا جائے اور وہ حمل سے نہ ہو اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ اس آیت میں حکم فرمایا کہ مرنے والا اپنی بیویوں کا خیال رکھے موت سے پہلے اس بات کی وصیت کر دے کہ شوہر کے ترکہ سے ایک سال تک اس کو نان و نفقہ دیا جائے، لفظ (مَتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ ) میں اس کو بیان فرمایا ہے۔ یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا اور اس کے ساتھ یہ حکم تھا کہ وصیت میں یہ بھی شامل کردیں کہ ایک سال تک اسے شوہر کے گھر سے نہ نکالا جائے، (غَیْرَ اِخْرَاجٍ ) میں اس حکم کو بیان فرمایا ہے۔ لیکن عورت کو اختیار تھا کہ اگر وہ چاہے تو مرنے والے شوہر کے گھر میں رہے اور چاہے تو اپنے ماں باپ کے یہاں چلی جائے (فَاِنْ خَرَجْنَ الخ) میں اس مضمون کو بیان فرمایا ہے۔ یہ حکم آیت میراث نازل ہونے سے پہلے تھا۔ جب میراث کا حکم نازل ہوگیا اور اس کے بعد یہ حکم ہوگیا کہ میراث لے لے اور خرچہ اسی میں سے کرے۔ البتہ عدت پوری ہونے تک شوہر ہی کے گھر میں رہے نہ اس میں سے نکلے نہ نکالی جائے۔
Ayahs 2:241–242

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ ؕ— حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۟وَلِلۡمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ ۢ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ‌ؕ حَقًّا عَلَى الۡمُتَّقِيۡنَ‏ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے فائدہ پہنچانا ہے اچھے طریقہ پر، یہ ضروری قرار دیا گیا ہے متقیوں پر،

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟۠كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح اللہ بیان فرماتا ہے اپنی آیات تاکہ تم سمجھو۔

مطلقہ عورتوں کو متعہ دینے کی تاکید جن عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی جائے اور مہر مقرر نہ کیا گیا ہو ان کے لیے متعہ دینے کا حکم عنقریب گزر چکا ہے۔ اس آیت میں فرمایا کہ طلاق دی ہوئی عورتوں کے لیے نفع پہنچانا ہے، اس سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے تو یہ فرمایا ہے کہ اس سے پہلے جن عورتوں کو متعہ یعنی تین کپڑے دینے کا حکم ہوا تھا اس کو یہاں بطور تاکید دوبارہ بیان فرمایا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 160 ج 2 لکھتے ہیں کہ اس کی تعیین اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن جریر نے ابن زید سے روایت کی ہے اور وہ یہ کہ جب لفظ (حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ ) نازل ہوا تو ایک شخص نے کہا کہ یہ تو احسان اور سلوک کی بات ہوئی۔ (یعنی تبرع والا معاملہ ہوا) چاہے عمل کروں چاہے نہ کروں۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور (حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا، جس سے ظاہر ہوا کہ جو شخص اس پر عمل نہیں کرے گا وہ گناہ گار ہوگا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے عدت کے زمانہ میں نان و نفقہ مراد ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی نفع پہنچانے میں شامل ہے اور لفظ مَتَاعٌ کو اور زیادہ عام لیا جائے تو اس میں وہ سب احکام داخل ہوجاتے ہیں جو مطلقہ عورتوں سے متعلق ہیں جس میں بعض صورتوں میں پورے مہر کی ادائیگی اور بعض صورتوں میں نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اگر بیوی کا مہر ادا نہیں کیا ہے تو یہ نہ سمجھے کہ اب تو میری بیوی رہی ہی نہیں اب کیا لینا دینا ہے بلکہ اب تو مہر کی ادائیگی کی فرضیت اور زیادہ مؤکد ہوگئی کیونکہ جب تک نکاح میں تھی تو معاف کردینے کا بھی احتمال تھا اب کیوں معاف کرنے لگی۔ لہٰذا اب جلدی ادائیگی کر کے سبکدوش ہوجائے۔
Ayahs 2:243–244

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَهُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ۪— فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ۫— ثُمَّ اَحْیَاهُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ ۟اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَهُمۡ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الۡمَوۡتِ ۖ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوۡتُوۡا ثُمَّ اَحۡيَاھُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى النَّاسِ وَلٰـكِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا يَشۡکُرُوۡنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

تو نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے اور وہ تعداد میں ہزاروں تھے، پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ مرجاؤ، پھر ان کو زندہ فرمادیا، بیشک اللہ ضرور فضل والا ہے لوگوں پر، لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟وَقَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور قتال کرو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

بنی اسرائیل کا ایک واقعہ علامہ بغوی (رح) معالم التنزیل ص 223 ج 1 میں لکھتے ہیں کہ اکثر اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک بستی جس کا نام داور دان تھا اس میں طاعون واقع ہوگیا، اس موقعہ پر ایک جماعت وہاں سے نکل گئی اور ایک جماعت بستی میں رہ گئی۔ جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے اور جو لوگ بستی چھوڑ کر چلے گئے تھے وہ صحیح سلامت رہے اور پھر بستی میں آگئے، جو لوگ بستی میں رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ ساتھی ہم سے زیادہ ہوشیار رہے۔ آئندہ ہم ایسی زمین کی طرف نکل جائیں گے جہاں وباء نہ ہو چناچہ آئندہ سال طاعون واقع ہوا تو بستی کے تقریباً سب ہی لوگ چلے گئے اور ایک وسیع میدان میں قیام کرلیا، اس میں میدان میں نجات پانے کی نیت سے قیام کیا تھا لیکن ہوا یہ ایک فرشتہ نے اوپر کے حصہ سے اور ایک فرشتہ نے میدان کے نچلے والے حصہ سے پکارا اور کہا کہ مُوْتُوْا کہ تم سب مرجاؤ، چناچہ وہ سب مرگئے۔ دوسرا قول علامہ بغوی نے یہ نقل کیا ہے کہ جو لوگ گھروں سے نکلے تھے یہ لوگ جہاد سے فرار ہوئے تھے جس کا واقعہ یوں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے ان کو حکم دیا تھا کہ دشمن سے جنگ کے لیے نکلیں ان لوگوں نے اول تو لشکر تیار کرلیا لیکن پھر ان پر بزدلی سوار ہوگئی اور موت سے جان چھڑانے لگے، لہٰذا انہوں نے ایک حیلہ بنایا اور اپنے بادشاہ سے کہا کہ جس سر زمین میں جہاد کرنے کے لیے ہم کو جانے کا حکم ہوا ہے اس میں وبا پھیلی ہوئی ہے۔ جب وبا ختم ہوجائے گی تو ہم وہاں پہنچ جائیں گے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان پر موت بھیج دی، جب وہیں ان کی بستی میں موتیں ہونی شروع ہوئیں تو وہ موت کے ڈر سے گھروں کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ جب بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو بارگاہ خداوندی میں اس نے دعا کی کہ اے اللہ ! آپ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دیجیے جس سے یہ سمجھ لیں کہ موت سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں، اور فرار موت سے نہیں بچا سکتا۔ چناچہ جب وہ بستیوں سے نکلے تو اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا موتوا (مر جاؤ) اور یہ بطور عقوبت و سزا کے فرمایا۔ چناچہ وہ لوگ مرگئے، ان کے جانور بھی مرگئے اور آن واحد میں سب کو موت آگئی۔ جیسے شخص واحد کی موت ہو، وہ آٹھ دن تک اسی طرح پڑے رہے، یہاں تک کہ نعشیں ان کی پھول گئیں۔ ان کی طرف لوگ نکلے تو اتنی کثیر تعداد کو دفن کرنے سے عاجز آگئے۔ لہٰذا انہوں نے ان کے چاروں طرف احاطہ بنا دیا تاکہ درندے نہ پھاڑ ڈالیں اور ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا، حضرت حز قیل (علیہ السلام) جو اس زمانے کے نبی تھے وہ ان لوگوں پر گزرے تو کھڑے ہوگئے اور تعجب سے غور فرمانے لگے، اللہ جل شانہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کیا میں تمہیں کوئی نشانی دکھاؤں عرض کیا، ہاں دکھائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو زندہ فرما دیا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت حز قیل (علیہ السلام) نے ان کے زندہ کرنے کے لیے دعا کی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا، جب وہ لوگ زندہ ہوگئے تو ان کی زبان سے یہ کلمات نکلے۔ (سُبحان اللّٰہ ربنا وبحمدک لا الٰہ الاّ اَنت) (اے اللہ اے ہمارے رب ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں) زندہ ہو کر یہ لوگ اپنی قوم میں چلے گئے، حضرت قتادہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بطور سزا کے موت دیدی تھی۔ کیونکہ موت سے بھاگے تھے پھر باقی عمریں پوری کرنے کے لیے زندہ کردیے گئے، اگر ان کی عمریں ختم ہوچکی ہوتیں تو دوبارہ زندہ نہ کیے جاتے۔ یہ لوگ مقدار میں کتنے تھے جو موت کے بعد زندہ ہوئے اس کے بارے میں علامہ بغوی ؓ نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں 3 ہزار، 4 ہزار، آٹھ ہزار، دس ہزار، تیس ہزار سے کچھ اوپر، چالیس ہزار، ستر ہزار۔ علامہ بغوی ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے دس ہزار سے زیادہ کہا وہ قول زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ ألوف جمع کثرت ہے جس کا دس ہزار سے کم پر اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ جو کچھ معالم التنزیل سے نقل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ بھی کتب تفسیر میں کچھ واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ سب واقعات اسرائیلیات ہیں اور ان قصوں کے جاننے پر قرآن کا مفہوم سمجھنا موقوف بھی نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ایک واقعہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انسانوں کو موت دیدی پھر ان سب کو زندہ فرما دیا، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسے موت دینے اور پھر زندہ کرنے پر قدرت ہے۔ ایک جان کی موت وحیات اور ہزاروں جانوں کی موت وحیات اس کے لیے سب برابر ہیں۔ آن واحد میں وہ ہزاروں افراد کو موت دے سکتا ہے اور زندہ بھی کرسکتا ہے۔ اس واقعہ میں خاص کر بنی اسرائیل کے لیے تذکیر ہے کیونکہ انہیں اپنے خاندان کے واقعات یاد تھے۔ رسول اللہ ﷺ تو امّی تھے۔ آپ کو ان باتوں کا پتہ نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو باتیں بتائی ہیں۔ اور یہ آپ کی نبوت کے دلائل میں سے روشن دلیل ہے۔ دوسری آیت میں یہ جو فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتال کرو اس کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جو موت کے بعد زندہ کیے گئے تھے۔ اور یہ بات ان مفسرین کے بیان سے جوڑ بھی کھاتی ہے جنہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں نے جہاد سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی تھی، اور بعض حضرات نے یہ فرمایا کہ اس میں امت محمدیہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے اور ان کو جہاد کا حکم دیا ہے اس قول کے مطابق بنی اسرائیل کے واقعہ کو حکم جہاد کی تمہید کہا جاسکتا ہے کہ جہاد میں شریک ہونے سے موت کا خوف مانع نہ ہونا چاہیے موت کے ڈر سے بھاگنا موت سے بچا نہیں سکتا۔ بنی اسرائیل کے ہزاروں آدمی بھاگ کھڑے ہوئے تھے لیکن موت نے ان کو نہ چھوڑا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا آخرت کے بہت بڑے اجر وثواب اور اعلائے کلمۃ اللہ کا ذریعہ ہے جو جہاد نہ کرے گا موت اس کو بھی آئے گی پھر کیوں اجر وثواب کو کھوئے۔ بعض اہل تفسیر کے قول کے مطابق وہ لوگ طاعون سے بھاگے تھے جو بنی اسرائیل کے لیے عذاب تھا اور اس امت کے لیے رحمت ہے ہمارے نبی فخر الانبیاء والمرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے اللہ جس پر چاہتا ہے اسے بھیج دیتا ہے۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین کے لیے رحمت بنایا ہے، جو بھی کوئی شخص کسی ایسی جگہ موجود ہو جہاں طاعون واقع ہوگیا ہو اور صبر کرتے ہوئے اور یہ جانتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے کہ مجھے اس کے سوا کچھ (ضرر) نہیں پہنچ سکتا جو اللہ نے میرے لیے لکھ دیا ہے، تو ایسے شخص کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے (رواہ البخاری ص 853 ج 2) یہ تو اس شخص کے لیے ہے جو طاعون کی جگہ ثابت قدم رہا۔ وہاں سے گیا نہیں اور طاعون میں مبتلا نہ ہوا۔ صبر و استقامت کی وجہ سے اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جو شخص طاعون میں مرگیا وہ بھی شہیدوں میں شمار ہے۔ (کمار واہ البخاری ص 853 ج 2) حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں طاعون ہے وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی سر زمین میں طاعون آجائے جہاں تم موجود ہو تو اس سے بھاگنے کے لیے مت نکلنا۔ (رواہ البخاری ص 853 ج 2) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص طاعون سے بھاگے وہ ایسے ہے، جیسے میدان جہاد سے بھاگا اور جو صبر کرتے ہوئے وہیں رہے اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے۔ (رواہ احمد کما فی المشکوٰۃ ص 139 ج 1)
Ayahs 2:245–246

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً ؕ— وَاللّٰهُ یَقْبِضُ وَیَبْصُۜطُ ۪— وَاِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ ۟مَنۡ ذَا الَّذِىۡ يُقۡرِضُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضۡعَافًا کَثِيۡرَةً  ‌ؕ وَاللّٰهُ يَقۡبِضُ وَيَبۡصُۜطُ ۖ وَ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ہے جو قرض دے اللہ کو قرض حسن، پھر اللہ اس کے لیے اضافہ فرما دے چند در چند بہت سے اضافے فرما کر، اور اللہ تنگی فرماتا ہے اور کشادہ فرماتا ہے، اور اس کی طرف لوٹا دئیے جاؤ گے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی ۘ— اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ— قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا ؕ— قَالُوْا وَمَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاَبْنَآىِٕنَا ؕ— فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ ؕ— وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ ۟اَلَمۡ تَرَ اِلَى الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰى‌ۘ اِذۡ قَالُوۡا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ابۡعَثۡ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ اِنۡ کُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوۡا ؕ قَالُوۡا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَقَدۡ اُخۡرِجۡنَا مِنۡ دِيَارِنَا وَاَبۡنَآئِنَا ‌ؕ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ تَوَلَّوۡا اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡهُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِالظّٰلِمِيۡنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا آپ کو بنی اسرائیل کی ایک جماعت کا قصہ معلوم ہے جو موسیٰ کے بعد پیش آیا، جب انہوں نے اپنے نبی سے عرض کیا کہ مقرر کردیجیے ہمارے لیے ایک بادشاہ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں، انہوں نے فرمایا کیا ایسا ہوگا کہ اگر تم پر قتال فرض کیا گیا تو تم قتال نہ کرو ؟ وہ کہنے لگے اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں حالانکہ ہم نکال دئیے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے بیٹوں کے پاس سے، پھر جب ان پر قتال فرض کیا گیا تو پھرگئے سوائے ان میں سے تھوڑے لوگوں کے، اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے،

اللہ کی رضا کے لیے صدقہ خیرات کرنے کی فضیلت لباب النقول میں اس آیت کریمہ کا سبب نزول بتاتے ہوئے بحوالہ ابن حبان وغیرہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب آیت شریفہ (مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ ) (آخر تک) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کیا (رَبِّ زِدْاُمَّتِیْ ) (یعنی اے میرے رب میری امت کو اور زیادہ عطا فرما) اس پر آیت (مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا) نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے استفہام کا طریقہ اختیار فرمایا ہے ( جو ترغیب کا بہت عمدہ طریقہ ہے) کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دیتا ہے۔ قرض کا معنی تو سب ہی جانتے ہیں اور حسن اچھے کے معنی میں آتا ہے۔ صاحب روح المعانی ص 162 ج 2 لکھتے ہیں کہ اخلاص کے ساتھ خرچ کرنا اور حلال اور طیب مال خرچ کرنا یہ سب قرض حسن کے عموم میں داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ محتاج نہیں ہے سب کچھ اسی نے پیدا فرمایا اور سب اسی کی ملکیت ہے۔ جو لوگ مجازی مالک ہیں وہ اور ان کے اموال سب اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ شانہ کا کتنا بڑا فضل ہے اور شان کریمانہ ہے کہ اس کے دیے ہوئے میں سے جو شخص اس کی مخلوق پر خرچ کرے جو خرچ کرنے والے کی اپنی جنس ہے حتیٰ کہ اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے اور اس میں ثواب سمجھے تو اس کا نام قرض رکھ دیا اور پھر جتنا دیا ہے اس سے بہت زیادہ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا جس کو آیت میں (اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ) فرمایا ہے، کسی نے کیا خوب کہا ؂ مال عالم ملک تست مالکاں مملوکِ تو باوجود ایں بےنیازی اقر ضوا اللہ گفتۂ صحیح بخاری ص 189 ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص ایک کھجور کے برابر حلال مال سے صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال ہی کو قبول فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لیتا ہے پھر اس کی تربیت فرماتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچہ کی تربیت کرتا ہے اور وہ ذرا سا صدقہ بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ صحیح مسلم ص 258 ج 2 میں ہے کہ روزانہ رات کو جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں۔ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اس کو دے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے میں اس کی مغفرت کروں، کون ہے جو ایسے کو قرض دے جس کے پاس سب کچھ ہے اور جو ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ صبح تک یوں ہی فرماتے رہتے ہیں۔ یہ جو فرمایا کہ کون ہے جو ایسے کو دے جس کے پاس سب کچھ ہے اس میں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے مال کی حاجت نہیں ہے اس کی ملکیت میں سب کچھ ہے، کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ ضرورت مند کو دے رہا ہوں، بلکہ اپنا فائدہ سمجھ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ اور یہ جو فرمایا کہ وہ ظلم کرنے والا نہیں ہے اس میں یہ بتایا کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ضائع نہ جائے گا اس کے مارے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ یَقْبِضُ وَ یَبْسُطُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) اللہ تعالیٰ تنگی کرتا ہے اور کشادہ فرماتا ہے اور اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ جس کو جتنا چاہے دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس کی روزی تنگ کر دے اس کا بھی اختیار ہے اس پر کوئی پابندی لگانے والا نہیں۔ کسی کو زیادہ دینا اور دے کر کم کردینا سب اسی کے قبضہ وقدرت میں ہے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا) (بلا شبہ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق عطا فرماتا ہے اور تنگی فرما دیتا ہے۔ بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے دیکھنے والا ہے) یہ مضمون سورة العنکبوت رکوع 6 اور سورة سباء رکوع 4 اور رکوع 5 میں بھی مذکور ہے۔ آخر میں یہ جو فرمایا (وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) اس میں یہ بتایا کہ اللہ کے لیے خرچ کیا ضائع نہیں ہے۔ جب اللہ کے یہاں پہنچو گے، سب کا ثواب پالو گے۔
Ayahs 2:247–248

وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ؕ— قَالُوْۤا اَنّٰی یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ؕ— قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَزَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ؕ— وَاللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ ؕ— وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۟وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اللّٰهَ قَدۡ بَعَثَ لَـکُمۡ طَالُوۡتَ مَلِكًا ‌ؕ قَالُوۡٓا اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهُ الۡمُلۡكُ عَلَيۡنَا وَنَحۡنُ اَحَقُّ بِالۡمُلۡكِ مِنۡهُ وَلَمۡ يُؤۡتَ سَعَةً مِّنَ الۡمَالِ‌ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰٮهُ عَلَيۡکُمۡ وَزَادَهٗ بَسۡطَةً فِى الۡعِلۡمِ وَ الۡجِسۡمِ‌ؕ وَاللّٰهُ يُؤۡتِىۡ مُلۡکَهٗ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور کہا ان سے ان کے نبی نے بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ وہ کہنے لگے کہ ان کو ہم پر حکمران ہونے کا حق کیسے پہنچتا ہے حالانکہ ہم ان سے زیادہ حکمرانی کے مستحق ہیں اور ان کو مالی گنجائش نہیں دی گئی، ان کے نبی نے کہا کہ بیشک اللہ نے ان کو تم پر حکمرانی کے لیے منتخب فرمایا ہے، اور ان کو علم میں اور جسم میں فراخی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا ہے علم والا ہے۔

وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ ؕ— اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟۠وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ اِنَّ اٰيَةَ مُلۡکِهٖۤ اَنۡ يَّاۡتِيَکُمُ التَّابُوۡتُ فِيۡهِ سَکِيۡنَةٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوۡسٰى وَاٰلُ هٰرُوۡنَ تَحۡمِلُهُ الۡمَلٰٓئِكَةُ‌ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّـکُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور کہا ان سے ان کے نبی نے کہ بلاشبہ ان کے حکمران ہونے کی یہ نشانی ہے کہ آجائے گا تمہارے پاس تابوت جس میں تسکین ہے تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ان میں سے جنہیں چھوڑا تھا آل موسیٰ اور آل ہارون نے جس کو فرشتے اٹھا کرلے آئیں گے۔ بیشک اس میں ضرور نشانی ہے تمہارے لیے اگر تم ایمان والے ہو۔

بنی اسرائیل کا ایک واقعہ اور طالوت کی بادشاہت کا ذکر ان آیات کریمہ میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے۔ پورا واقعہ پارہ کے ختم کے قریب تک بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے لیے جہاں تذکیر نعمت ہے وہاں امت محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والتحیۃ کے لیے بھی بہت سی عبرتیں ہیں، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعدانہی کی قوم میں سے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے جو یکے بعد دیگرے آتے رہے، حضرت یوشع، حضرت شمعون، شمویل اور حضرت کالب بن یوقنا اور حضرت حزقیل ( علیہ السلام) کے اسماء گرامی لکھے ہیں۔ یہ حضرات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کی تبلیغ اور توریت کے مضامین بیان فرماتے تھے۔ بنی اسرائیل میں شدہ شدہ بےدینی بلکہ بد دینی تک آگئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط فرما دیا۔ جو جالوت کی قوم میں سے اور عمالقہ میں سے تھے اور بحر روم کے ساحل پر مصر و فلسطین کے درمیان رہتے تھے۔ یہ لوگ بنی اسرائیل پر غالب ہوگئے۔ ان کی زمین چھین لی اور ان کی اولاد کو جن میں ان کے بادشاہوں کی نسل کے لوگ بھی تھے قید کرلیا اور ان پر جزیہ لگا دیا، بنی اسرائیل اس موقعہ پر بہت ہی زیادہ مصیبت اور سختی میں مبتلا رہے کوئی ایسا نہ رہا جو ان کا قائد اور مدبر ہوتا۔ جب بہت زیادہ دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوئے تو اس زمانہ میں جو ان کے نبی تھے۔ (اور اسی مصیبت کے زمانہ میں وہ پیدا ہوئے اور بڑے ہو کر نبوت سے سر فراز ہوئے) ان کی خدمت میں بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اللہ پاک کی طرف سے آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کرا دیں تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر دشمنوں سے جہاد کریں اور ان کو اپنے علاقوں سے نکال دیں (چونکہ بنی اسرائیل کو سیاسی حالات میں بادشاہوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی عادت تھی اس لیے انہوں نے ایسا سوال کیا) جب ان لوگوں نے کسی کو بادشاہ بنانے کا سوال کیا اور دشمنوں سے جہاد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان کے نبی نے جو ان کے حال اور قال کو جانتے تھے خطرہ ظاہر کیا اور فرمایا کہ تم سے تو یہ امید ہے کہ قتال فرض ہوگیا تو جنگ سے دور بھاگو گے اور لڑائی سے جان چھڑاؤ گے اس پر وہ کہنے لگے بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں۔ جنگ نہ لڑنے کا کوئی سبب نہیں بلکہ لڑنے کا سبب موجود ہے اور وہ یہ کہ دشمن نے ہم پر تسلط کر رکھا ہے اس کی وجہ سے ہم اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ہیں اور اپنی اولادوں سے دور کر دئیے گئے ہیں۔ باتیں تو بڑھ چڑھ کر کر رہے تھے لیکن جب قتال فرض ہوگیا تو وہ خطرہ سامنے آگیا جو ان کے نبی کو تھا اور تھوڑے لوگوں کے علاوہ باقی سب ارادوں اور وعدوں سے پھرگئے اور جنگ کرنے سے منہ موڑ لیا۔ اللہ جل شانہ نے ان کی درخواست پر حضرت طالوت کو بادشاہ بنا دیا اور ان کے نبی نے اس کا اعلان کردیا، عمل اور کار گزاری حضرت طالوت کی تھی اور مشورہ اور رہبری ان کے نبی کی تھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا یہ نبی جن سے مذ کو رہ بالا درخواست کی تھی شمعون (علیہ السلام) تھے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی درخواست پر حضرت طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا گیا تو اپنی روائتی کجروی کے باعث اسی طرح کی الٹی باتیں کیں جیسا کہ ان کا مزاج تھا اور پرانا طریقہ کار تھا۔ ان کی اس طرح کی باتیں ذبح بقرہ کے واقعہ کے سلسلہ میں گزر چکی ہیں۔ حضرت طالوت کی بادشاہت کا اعلان سننے کے بعد کہنے لگے کہ یہ شخص ہمارا بادشاہ کیسے ہوسکتا ہے اس کے پاس پیسہ ہے نہ کوڑی، اس سے زیادہ تو ہم بادشاہ بننے کے مستحق ہیں اپنی جہالت سے وہ اللہ تعالیٰ شانہ کو بھی رائے دینے لگے کہ اس کے بجائے ہم میں سے کوئی پیسہ والا بادشاہ ہونا چاہئے، اور یہ انسان کا عجیب مزاج ہے کہ وہ پیسے والے کو بڑا آدمی سمجھتا ہے خواہ کیسا ہی بےعلم اور ناسمجھ اور بخیل ہو۔ ان کے نبی نے ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو منتخب فرما لیا ہے تم پر ان کو ترجیح دے دی اور حکومت کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اس میں پوری طرح موجود ہے حکومت کے لیے علم ہونا چاہئے جس کے ذریعہ وہ تدبیر امور کرسکے اور دشمنوں سے نمٹ سکے اور ساتھ ہی جسمانی قوت بھی ہونی چاہئے علم کی تدبیر اور جسم کی قوت سے ہمت ہوتی ہے اور حوصلہ بلند ہوتا ہے اور دشمنوں پر غلبہ پانے کے لیے انہی چیزوں کی ضرورت ہے۔ اور یوں بھی اللہ کو اختیار ہے وہ جس کو چاہے حکومت اور مملکت عطا فرمائے، تمہیں اعتراض کا کیا حق ہے اور اللہ کے فیصلہ کے خلاف تم رائے دینے والے کون ہو اسے معلوم ہے کہ حکومت ملنے پر کوئی کیا کرے گا اور کیسا ثابت ہوگا۔ (وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) ایک نبی کا فرمانا بات ماننے کے لیے اور حضرت طالوت کو بادشاہ تسلیم کرنے کے لیے کافی تھا۔ لیکن ان کے نبی نے حضرت طالوت کی بادشاہت کا ثبوت دینے کے لیے ایک نشانی بھی بیان فرمائی اور وہ یہ کہ تمہارے پاس وہ تابوت آئے گا جو تمہارے لیے باعث اطمینان و سکون ہوگا۔ اس تابوت میں ان چیزوں کا بقیہ ہوگا جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے چھوڑی تھیں چناچہ وہ تابوت ان لوگوں کے پاس آگیا جسے فرشتے اٹھائے ہوئے تھے، دشمنوں نے ان سے چھین لیا تھا جب یہ تابوت ان کے پاس تھا تو دشمنوں سے جنگ کرتے وقت اس کو سامنے رکھا کرتے تھے اور اس کے ذریعہ دشمن پر فتح یابی حاصل کرلیتے تھے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) نے جو چیزیں چھوڑیں تھیں ان کا بقیہ کیا تھا جو اس تابوت میں تھا۔ ان کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ توراۃ شریف کی دو تختیاں تھیں اور ان تختیوں کا کچھ چورا تھا جو ٹوٹ گئی تھیں۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا تھا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پگڑی تھی، اور کچھ من بھی تھا جو سلویٰ کے ساتھ بنی اسرائیل پر نازل ہوا کرتا تھا، اس تابوت کا ان کے پاس فرشتوں کا لیکر آنا اور دو بارہ واپس مل جانا اس بات کی صریح دلیل تھی کہ حضرت طالوت کو واقعی اللہ تعالیٰ نے بادشاہ بنایا ہے۔ فرشتے یہ تابوت لائے اور حضرت طالوت کے سامنے رکھ دیا لیکن بنی اسرائیل سے پھر بھی یہ بعید نہ تھا کہ انکار کربیٹھیں اس لیے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) (تمہارے لیے اس میں نشانی ہے اگر تم مومن ہو) ۔