2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۚ— وَعَسٰۤی اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْـًٔا وَّهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ— وَعَسٰۤی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْـًٔا وَّهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ۟۠كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ لَّـكُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡــئًا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ Open ayah 2:216 in the Quran reader

فرض کیا گیا تم پر جنگ کرنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

جہاد کی فرضیت اور ترغیب مکہ مکرمہ کے زمانہ قیام میں مسلمان بہت ہی ضعیف تھے، تھوڑے سے تھے۔ کافروں کا تسلط تھا ان سے لڑنے اور جنگ کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا اور نہ جنگ کرنے کی اجازت تھی، بالآخر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ قیام پذیر ہوگئے، یہاں قیام کرنے کے بعد ان لوگوں سے جنگ کرنے کی اجازت دی گئی جو لڑنے کے لیے آمادہ ہوجائیں جیسا کہ سوررۂ حج میں فرمایا : (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا) اس کے بعد وہ وقت بھی آیا کہ عام مشرکین سے قتال کرنے کا حکم ہوگیا اگرچہ وہ ابتداء نہ کریں۔ (قرطبی ص 38 ج 3) آیت بالا کے عموم سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ کفار سے جنگ کرنا ہر مسلمان پر نماز روزہ کی طرح فرض عین ہے لیکن سورة برأت کی آیت (وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ ) (الایۃ) سے اور بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قتال کرنا ہر مسلمان پر ہر وقت فرض عین نہیں ہے لیکن اسی لیے فقہاء نے اس بارے میں تفصیل لکھی ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ بعض حالات میں فرض عین اور عام حالات میں فرض کفایہ ہے کافروں سے جنگ کرنا جارحانہ بھی مشروع ہے اور مد افعانہ بھی جیسا کہ قرآن و حدیث کی نصوص عامہ سے ثابت ہے، عام طور سے کافروں سے جنگ کرنے کو جہاد کہا جاتا ہے لفظ جہاد جہد سے لیا گیا ہے جو محنت اور کوشش کے معنی میں ہے یہ اپنے عمومی معنی کے اعتبار سے ہر اس محنت اور کوشش کو شامل ہے جو اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے ہو، سورة برأت میں فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (نکل کھڑے ہو ہلکے ہو یا بھاری اور جہاد کرو اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے، اللہ کی راہ میں یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو) اس آیت میں مال اور جان دونوں سے جہاد کرنے کا حکم فرمایا ہے اور سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جاھد المشرکین بأموالکم و انفسکم و ألسنتکم (باب کراھیۃ ترک الغزو) اس حدیث میں زبانوں سے جہاد کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے۔ زبان سے جہاد کرنے میں بہت سی باتیں آگئیں، کافروں سے مناظرہ کرنا، ان کے خلاف تقریریں کرنا مسلمانوں کو جہاد کے لیے ترغیب دینا اور آمادہ کرنا وغیرہ، مسلمانوں پر ہر قسم کا جہاد باقی رکھنا لازم ہے۔ علامہ ابوبکر جصاص احکام القرآن ص 113 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام مالک اور تمام فقہاء امصار کا قول ہے کہ جہاد قیامت تک فرض ہے۔ لیکن اس میں اتنی تفصیل ہے کہ عام حالات میں فرض کفایہ ہے مسلمانوں کی ایک جماعت اس میں مشغول رہے گی تو باقی مسلمانوں کو اس کے ترک کرنے کی گنجائش ہوگی، اور یہ بھی لکھا ہے کہ تمام مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مسلمانوں کے ممالک کی سرحدوں کے رہنے والے مسلمان اگر طاقتور نہ ہوں اور ان میں کافروں سے مقابلہ کی طاقت نہ ہو جس کی وجہ سے انہیں اپنے شہروں اور اپنی جانوں اور اپنے بال بچوں پر دشمنوں کی طرف سے خوف ہو تو ساری امت پر فرض ہوگا کہ وہ اپنے گھروں سے نکلیں اور کافروں کے حملہ سے مسلمانوں کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ امت میں کسی کا بھی یہ قول نہیں ہے کہ جب (کسی علاقہ میں) مسلمانوں کو اپنی جانوں کے قتل ہونے کا اور بچوں کے قید ہونے کا خطرہ ہو تو دوسرے (علاقہ کے) مسلمانوں کو ان کی مدد چھوڑ کر گھر میں بیٹھنا جائز ہو۔ پھر لکھا ہے کہ امام المسلمین پر اور عامتہ المسلمین پر لازم ہے کہ ہمیشہ کافروں سے جنگ کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ اسلام قبول کریں یا جزیہ ادا کریں۔ (ثم قال : و ھو مذھب أصحابنا و من ذکرنا من السلف المقداد بن الأسود و أبی طلحۃ فی آخرین من الصحابۃ و التابعین و قال حذیفۃ بن الیمان : الاسلام ثمانیۃ أسھم و ذکر سھما منھا الجھاد) علامہ جصاص نے جہاد کی فرضیت پر متعدد آیات قرآنیہ نقل کی ہیں۔ مثلاً (وَ قَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنَ لِلّٰہِ ) اور (قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ ) (الآیۃ) اور (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) ّ (الایۃ) اور (فَلاَ تَہِنُوْا وَتَدْعُوْا اِِلَی السَّلْمِ وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ) اور (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ) اور (وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً ) وغیرھا من الآیات صاحب ہدایۃ لکھتے ہیں کہ جہاد فرض کفایہ ہے، مسلمانوں کی ایک جماعت اگر اس فریضہ پر قائم رہے تو باقی مسلمانوں سے ساقط ہوجائے گا اور اگر کوئی بھی جہاد میں مشغول نہ رہے تو سب گنہگار ہوں گے۔ پھر لکھتے ہیں کہ کافروں سے قتال کرنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ خود سے جنگ میں پہل نہ کریں، اور اگر مسلمانوں کے کسی شہر پر دشمن چڑھ آئیں تو تمام مسلمانوں پر ان کا دفاع لازم ہوگا۔ اس صورت میں عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر نکل کھڑی ہو اور غلام بھی آقا کی اجازت کے بغیر میدان میں آجائے، اس لیے کہ اس صورت میں دشمنوں سے جنگ کرنا فرض عین ہوجاتا ہے۔ (ہدایہ کتاب السیر) جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا جہاد اور قتال اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اور اللہ کا دین پھیلانے کے لیے ہے اور جنگ برائے جنگ نہیں ہے اور جہاد کے لیے مستقل احکام ہیں جو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں بیان کیے گئے ہیں۔ جہاد کے بعض احکام : صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ جب مسلمان کافروں کے ملک میں داخل ہوں اور ان کے کسی شہر یا قلعہ کا محاصرہ کرلیں تو ان کو اسلام کی دعوت دیں اگر وہ دعوت قبول کرلیں اور اسلام لے آئیں تو جنگ کرنے سے رک جائیں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ (لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ ) کی گواہی دیں اور مجھ پر اور میرے لائے ہوئے دین پر ایمان لائیں۔ (کما رواہ مسلم فی روایۃ) اور اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کریں تو ان کو جزیہ ادا کرنے کی دعوت دیں۔ اگر وہ جزیہ ادا کرنا منظور کرلیں تو پھر ان کے وہی حقوق ہو نگے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان کی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو (ملک کی حفاظت کے سلسلے میں) مسلمانوں پر عائد ہوں گی (لیکن جزیہ کی دعوت مشرکین عرب کو نہیں دی جائے گی ان کے لیے اسلام ہے یا تلوار ہے) جن لوگوں کو دعوت اسلام نہیں پہنچی ان کو دعوت دئیے بغیر جنگ کرنا جائز نہیں۔ اور جن لوگوں کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہے ان کے بارے میں مستحب ہے کہ پہلے ان کو دعوت جائے پھر قتال کیا جائے۔ اگر کفار قبول اسلام سے بھی انکاری ہوں اور جزیہ دینے پر بھی راضی نہ ہوں تو اللہ سے مددطلب کرکے ان سے جنگ کی جائے اور عورتوں کو اور بچوں کو اور بہت بوڑھے کو اور اپاہج کو اور اندھے کو قتل نہ کیا جائے۔ ہاں اگر ان میں سے کوئی شخص امور حرب میں رائے رکھنے والاہو یا عورت بادشاہ بنی ہوئی ہو تو ان کو قتل کردیا جائے (من الھدایۃ باب کیفیۃ القتال) مسلمانوں نے جب سے جہاد چھوڑا ہے دشمنوں نے ان پر قابو پایا ہوا ہے۔ اور ایسے معاہدوں میں جکڑ دیا ہے جن کی وجہ سے وہ کافروں پر حملہ نہ کرسکیں اور کافروں کا اپنا یہ حال ہے کہ معاہدوں کی پاسداری کے بغیر جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ سراسر خیر ہی ہے اس سے اسلام پھیلتا ہے کافروں پر حجت قائم ہوتی ہے۔ مسلمانوں میں قوت آجاتی ہے۔ دشمن مغلوب ہوتے ہیں اور مغلوب رہتے ہیں۔ مسلمان باعزت زندہ رہتے ہیں۔ اللہ کی مدد نازل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ کرنا دشمنان دین کے مشوروں پر چلنا اور ان سے دبنا اسی نے تو عالم میں مسلمانوں کی ساکھ خراب کر رکھی ہے۔ مسلمانوں نے خدمت اسلام کے جذبہ کو چھوڑ دیا۔ حب جاہ، حب اقتدار نے ان کے چھوٹے چھوٹے ملک بنا دئیے، ہر ایک اپنے اقتدار کی ہوس میں ہے اور اقتدار باقی رکھنے کے لیے دشمنوں کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ اس طوائف الملو کی نے مسلمانوں کی طاقت کو منتشر کر رکھا ہے۔ آپس میں لسانی عصبیتوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کی جانوں کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ دشمنوں کی شہہ پر اپنی و حدت ختم کر رکھی ہے۔ سارے عالم کے مسلمانوں کا اگر ایک ہی ملک ہوتا اور ایک ہی امیر المومنین ہوتا سارے مسلمان اسلام ہی کے لیے سوچتے اور اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے تو کسی دشمن کی ہمت نہ تھی کہ آنکھ اٹھا کر دیکھتا، دشمنوں نے عصبیتیں سمجھا کر بہت سارے چھوٹے چھوٹے ملک بھی بنوا دئیے اور جہاد سے بھی دور کردیا۔ لہٰذا اپنے قابو میں کچھ نہ رہا، ہمت کر کے آپس میں ایک ہوں تو اب بھی انشاء اللہ حال ٹھیک ہوجائے گا۔ مجاہدین کے فضائل حضرت ابوہریرہ، حضرت سہل بن سعد اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام کو نکلناساری دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری ص 392 ج 1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرورمیری خواہش ہے کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (صیح بخاری ص 392 ج 1) حضرت عبدالرحمن بن جبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بندے کے قدم اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوگئے اسے دوزخ کی آگ نہ چھوئے گی۔ (بخاری ص 394 ج 1) حضرت انس بن مالک ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا کہ جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا وہ دنیا میں واپس آنے کی آرزو نہ کرے گا خواہ اس کو وہ سب کچھ مل جائے جو دنیا میں ہے سوائے شہید کے۔ وہ وہاں جو اپنا اعزاز دیکھے گا اس کی وجہ سے آرزو کرے گا کہ دنیا میں واپس چلا جاتا اور دس مرتبہ قتل کیا جاتا۔ (صحیح بخاری ص 395 ج 1) حضرت سلمان فارسی ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن ایک رات اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت میں گزارنا ایک ماہ کے روزے رکھنے اور راتوں رات ایک ماہ نمازوں میں قیام کرنے سے بہتر ہے۔ اگر یہ شخص اسی حالت میں وفات پا گیا تو (ثواب کے اعتبار سے) اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو عمل وہ کیا کرتا تھا اور اس کا رزق جاری رہے گا (اور قبر میں) فتنہ ڈالنے والوں سے پر امن رہے گا۔ (صحیح مسلم ص 142 ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اس نے جہاد نہیں کیا اور اس کے نفس میں جہاد کا خیال بھی نہ آیا تو وہ نفاق کے ایک شعبہ پر مرگیا۔ (صحیح مسلم ص 141 ج 2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا اور اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اس کی راہ میں کون زخمی ہوتا ہے تو وہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ (صحیح بخاری ص 313 ج 2 صحیح مسلم ص 123 ج 2) جہاد میں مال خرچ کرنے کا ثواب : اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا بھی بڑا ثواب ہے۔ ایک شخص نے جہاد کے لیے ایک اونٹنی پیش کردی جس کو مہار لگی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تیرے لیے اس کے عوض قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہوں گی ہر ایک کو مہار لگی ہوئی ہوگی (صحیح مسلم ص 137 ج 2) (یعنی مہار لگی ہوئی سات سو اونٹنیاں خرچ کرنے کا ثواب ملے گا) ۔ جہاد میں شرکت کے لیے جانے والے کو سامان دے دینا جس سے وہ جنگ کرے اور کھائے پیئے اس کا بھی بہت بڑا ثواب ہے۔ حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے کسی فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے کو سامان دیا اس نے (بھی) جہاد کیا اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے گھر والوں کی خدمت میں خیر کے ساتھ رہا اس نے بھی جہاد کیا۔ (صحیح بخاری ص 399 ج 1) جہاد پر دشمنان اسلام کا اعتراض اور اس کا جواب : دشمنان اسلام نے جہاد کو بہت مکروہ طریقہ پر پیش کیا ہے اول تو اسلام کی دشمنی میں اسلام کی دعوت کو نہیں سمجھتے۔ اسلام کی دعوت یہ ہے کہ سارے انسان اللہ کو وحدہ لاشریک مانیں اس کے سب رسولوں اور سب کتابوں پر ایمان لائیں۔ خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا نبی اور رسول مانیں، قرآن پر ایمان لائیں اور محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی طرف سے جو شریعت پیش کی ہے اس کو مانیں، جو شخص یہ سب قبول کرے گا وہ مسلم ہوگا۔ اللہ کا فرمانبر دار ہوگا۔ مستحق جنت ہوگا۔ اور جو شخص اس دین و شریعت کو قبول نہ کرے گا۔ وہ کافر ہوگا۔ مستحق دوزخ ہوگا۔ ہمیشہ ہمیشہ آگ کے دائمی عذاب میں رہے گا۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے جب مسلمان کافروں سے جنگ کریں تو انہیں پہلے اسلام کی دعوت دیں اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو کوئی لڑائی نہیں جنگ نہیں۔ قتال نہیں، اگر اسلام کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ دینے کو کہا جائے گا۔ پھر اگر جزیہ دینا بھی قبول نہ کریں تو جنگ کی جائے۔ جہاد کا مقصود اعلی کافروں کو دین حق کی طرف بلانا ہے تاکہ وہ جنت کے مستحق ہوجائیں اگر جنگ کرکے کسی قوم کو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کرلیا تو اس میں ان کے ساتھ احسان ہی کیا، کسی قوم کے تھوڑے سے افراد جنگ میں کام آگئے اور اکثر افراد نے اسلام قبول کرلیا تو مجموعی حیثیت سے اس قوم کا فائدہ ہی ہوگا، اگر کوئی قوم اسلام قبول نہ کرے اور جزیہ دینے پر راضی ہوجائے اور اس طرح مسلمانوں کی عملداری میں رہنا قبول کرے تو اس میں بھی اس قوم کا فائدہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے ان کی جانیں محفوظ ہوگئیں اور آخرت کے اعتبار سے یہ فائدہ ہوا کہ انہیں دین اسلام کے بارے میں غور کرنے کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کی اذانیں سنیں گے، نمازیں دیکھیں گے۔ مسلمانوں کا جو اللہ سے تعلق ہے اور جو مخلوق کے ساتھ ان کے معاملات ہیں وہ سامنے آئیں گے۔ مسلمانوں کے زہد وتقویٰ سے متاثر ہوں گے۔ اس طرح سے اقرب ہے کہ وہ اسلام قبول کرلیں اور کفر سے بچ جائیں اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔ رہا جزیہ تو وہ ان کی جانوں کی حفاظت کا بدلہ ہے اور وہ بھی سب پر نہیں ہے۔ اور زیادہ نہیں ہے۔ اس ساری تفصیل سے سمجھ لینا چاہیے کہ جہاد میں کافروں کی خیر خواہی پیش نظر ہے اگر کافروں کی کوئی جماعت اسلام بھی قبول نہ کرے اور جزیہ دینا بھی منظور نہ کرے تو ان کے ساتھ جنگ اور قتل و قتال کا معاملہ ہوگا، کافر اللہ کا باغی ہے۔ کفر بہت بڑی بغاوت ہے۔ مجازی حکومتوں میں سے کسی حکومت کا کوئی فردیا جماعت بغاوت کرے تو اس کو سخت سے سخت سزا دی جاتی ہے اللہ کے باغی جو اس کی زمین پر بستے ہیں اس کا دیاکھاتے ہیں اس کی عطا کی ہوئی نعمتیں کام میں لاتے ہیں مگر اللہ پر ایمان نہیں لاتے اگر اللہ کو مانتے ہیں تو اس کے ساتھ غیر اللہ کی بھی عبادت کرتے ہیں۔ بتوں کو پوجتے ہیں اور بہت سے خدا مانتے ہیں ایسے لوگ اس قابل کہاں ہیں کہ خدا کی زمین پر زندہ رہیں، اللہ کے وفادار بندے جنہوں نے اللہ کے دین کو قبول کرلیا اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہیں پھر ان باغیوں کے منکر ہونے کے بعد اللہ کے وفادار بندے ان کو قتل کردیں تو اس میں اعتراض کی کیا بات ہے ؟ دنیا سے کفر و شرک مٹانے کے لیے اور خالق ومالک جل مجدہ، کے باغیوں کی سرکوبی کے لیے جو اسلام میں جہاد شروع کیا گیا ہے اس پر تو دشمنوں کو اعتراض ہے۔ لیکن صدیوں دشمنان اسلام خاص کر یورپ کے لوگ جو ایشیا کے ممالک پر قبضہ کرتے رہے ہیں اور اس سلسلہ میں جو لاکھوں کروڑوں خون ہوئے ہیں۔ 1857 ء میں جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کا قتل عام کیا ہے اور 1941 ء اور 1942 ء میں جو عالمی جنگیں ہوئی تھیں اور ہیرو شیما پر جو بم پھینکا گیا اور ایک طویل زمانہ تک جو صلیبی جنگیں ہوئی ہیں جن میں لاکھوں انسان تہ تیغ ہوئے یہ سب کچھ کونسی خیر پھیلانے کے لیے ہوئے ؟ کیا اس میں ملک گیری کی ہوس اور کفر و شرک پھیلانے کے عزائم اور دین اسلام کو مٹانے کے ارادے نہیں تھے ؟ یہ ان لوگوں کی حرکتیں ہیں جو سیدنا حضرت عیسیٰ علی نبینا و (علیہ السلام) سے نسبت رکھنے کے جھوٹے دعوے دار ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم یہ تھی کہ کوئی شخص تمہارے رخسار پر ایک طمانچہ مارے تو دوسرا رخسار بھی اس کے سامنے کردو، اور مشرکین ہند کو دیکھو جن کے یہاں ہتھیا کرنا بہت بڑا پاپ ہے جو چوہا مارنے کو برا جانتے ہیں وہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں اور برابر فساد کرتے ہیں اور اسلامی جہاد پر اعتراض کرنے والے اپنے آئینہ میں اپنا منہ نہیں دیکھتے اور جو لوگ اللہ کے باغی ہیں ان کی بغاوت کو کچلنے والوں کے جہاد اور قتال پر اعتراض کرتے ہیں، سچ ہے۔ اپنے عیبوں کی کہاں آپ کو کچھ پروا ہے ؟ غلط الزام بھی اوروں پر لگا رکھا ہے ! یہ ہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے ؟ ممکن ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو : آیت بالا میں جہاد کی فرضیت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ) (کہ ممکن ہے تمہیں کوئی چیز ناگوار ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تمہیں کوئی چیز محبوب ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہو) سیاق کلام کے اعتبار سے تو اس کا تعلق جہاد اور قتال سے ہے کہ طبعی طور پر جہاد ناگوار معلوم ہوتا ہے لیکن نتائج اور ثمرات کے اعتبار سے تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور جہاد چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جانا اور کاروبار میں لگنا تمہاری محبوب چیز ہے لیکن حقیقت میں جہاد کا چھوڑ دینا تمہارے حق میں شر ہے، اور اس کے چھوڑ دینے سے بہت سی خیر سے محرومی ہے اور برے نتائج سامنے آنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن انداز بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے کہ جہاد کے علاوہ بھی بہت سے امور کو شامل ہے، عموماً انسان بعض چیزوں کو مکروہ جانتا ہے لیکن اس کے لیے وہ بہتر ہوتی ہیں اور بہت سی چیزوں کو پسند کرتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اس کے لیے مضر ہوتی ہیں اور یہ ایسی بات ہے جس کا رات دن تجربہ ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا خیر اسی میں ہے کہ اللہ کے احکام مانیں اور ان ہی پر چلیں۔ آخر میں ارشاد فرمایا : (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) کہ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے، کیونکہ حقیقی علم اللہ ہی کو ہے۔ اسے اپنی مخلوق کا نفع و ضرر اور مصلحت سب کچھ معلوم ہے۔
Ayah 2:217

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ ؕ— قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ ؕ— وَصَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۗ— وَاِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ۚ— وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ؕ— وَلَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ؕ— وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ— وَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ قِتَالٍ فِيۡهِ‌ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِيۡهِ كَبِيۡرٌ ‌ؕ وَصَدٌّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَ کُفۡرٌ ۢ بِهٖ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَاِخۡرَاجُ اَهۡلِهٖ مِنۡهُ اَكۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌‌ۚ وَالۡفِتۡنَةُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ‌ؕ وَلَا يَزَالُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ حَتّٰى يَرُدُّوۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ‌ؕ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ‌‌ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

آپ سے شہر حرام کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ ان میں جنگ کرنا بڑا جرم ہے، اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ کفر کرنا اور اہل مسجد حرام کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ پر دازی قتل کرنے سے بڑا جرم ہے اور کافر لوگ برابر تم سے جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں پھیر دیں تمہارے دین سے اگر ان سے ہو سکے، اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے پھر حالت کفر میں مرجائے، سو دنیا و آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال اکارت ہوجائیں گے اور یہ لوگ دوزخ والے ہیں، اور اس میں ہمیشہ رہیں گے،

اللہ کی راہ سے اور مسجد حرام سے روکنا اور فتنہ پر دازی کرنا جرم کے اعتبار سے قتل سے بڑھ کر ہے رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن جحش ؓ کی امارت میں چند مہاجرین سے فرمایا کہ مقام بطن نخلہ میں پہنچ کر قریش کے قافلہ کا انتظار کرنا، ممکن ہے کہ کوئی خیر کی خبر لے آؤ، بطن نخلہ مکہ اور طائف کے درمیان ہے، یہ حضرات وہاں پہنچے تو قریش کا قافلہ گزرتا ہوا نظر آیا جو طائف سے سامان تجارت کشمش وغیرہ لے کر آ رہا تھا، یہ قافلہ عمرو بن الحضرمی اور حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ اور نوفل بن عبداللہ پر مشتمل تھا۔ ان لوگوں نے حضرات صحابہ کرام کو دیکھا تو ڈر گئے، حضرت عبداللہ بن جحش ؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ لوگ خوف زدہ ہوگئے لہٰذا ان پر حملہ کردینا چاہئے جب مشورہ سے یہ بات طے ہوگئی تو واقد بن عبداللہ تمیمی ؓ نے عمرو بن الحضرمی کو تیر مار کر قتل کردیا، یہ پہلا مشرک تھا جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا نیز حضرات صحابہ ؓ نے حکم بن کیسان اور عثمان بن عبداللہ کو قید کرلیا۔ یہ دونوں سب سے پہلے قیدی تھے جنہیں مسلمانوں نے قید کیا۔ قافلہ کا ایک فرد نوفل بن عبداللہ قابو میں نہ آیا اور فرار ہوگیا۔ حضرات صحابہ ؓ اس قافلہ کے سامان کو اور دونوں قیدیوں کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ واقعہ جمادی الاخرٰی کی انتیس تاریخ گزرنے کے بعد آنے والے دن میں پیش آیا۔ اس کے بارے میں یہ طے نہ کرسکے کہ یہ جمادی الاخری کی تیس تاریخ ہے یا رجب کی پہلی ہے۔ رجب کا مہینہ ان چاروں مہینوں میں شمار ہوتا تھا جن میں جنگ کرنا ممنوع تھا (زمانہ جاہلیت میں ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب میں قتل نہیں کرتے تھے اور ابتدائے اسلام میں بھی ان میں قتل کرنے کی ممانعت تھی۔ ) ۔۔ حضرات صحابہ ؓ نے جو یہ حملہ کردیا تھا اس میں رجب کا شروع ہونا متحقق نہیں تھا لیکن قریش مکہ نے اس کو اپنے اعتراض کا نشانہ بنا لیا، اور کہنے لگے کہ محمد ﷺ نے اس میں قتال حلال کرلیا جو اشہر حرام میں سے ہے۔ اس مہینہ میں لوگ امن کے ساتھ چلتے پھرتے ہیں اور اپنی روزیوں کے لیے منتشر ہوجاتے ہیں اور انہوں نے اس ماہ کی بےحرمتی کی ہے۔ اس اعتراض کو انہوں نے بہت اہمیت دی۔ مسلمانوں کی جس جماعت نے حملہ کیا تھا ان کو قریش مکہ نے عار دلائی۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی ان کا حملہ آور ہونا پسند نہ آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں اشہر حرام میں قتال کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ آپ نے یہ سامان اور دونوں قیدیوں کا معاملہ موقوف رکھا اور اس مال میں سے کچھ بھی نہیں لیا، جس جماعت نے یہ کارروائی کی تھی انہیں بڑی ندامت ہوئی انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ جس دن ہم نے عمرو بن حضرمی کو قتل کیا ہے اس دن شام کو جو چاند نظر آیا تو اس کے اعتبار سے ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ قتل ہم سے جمادی الاخری میں ہوا یا رجب میں، اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ نزول آیت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے قافلہ کا سامان لے لیا اور اس میں سے خمس علیحدہ کرلیا جو مال غنیمت کا اصول ہے۔ اور باقی مال اسی جماعت پر تقسیم کردیا جنہوں نے قافلہ سے مال چھین لیا تھا، جو دو قیدی مسلمانوں نے پکڑ لیے تھے مال دے کر ان کو مکہ والوں نے چھڑا لیا، پھر ان دونوں میں سے حکم بن کیسان تو مسلمان ہوگئے اور مدینہ منورہ میں رہے اور بیر معونہ کے غزوہ میں شہید ہوئے اور دوسرا قیدی عثمان بن عبداللہ نامی مکہ معظمہ واپس جا کر حالت کفر میں مرگیا۔ ( اسباب النزول ص 62 تا 64، روح المعانی ص 107 ج 2) مشرکین نے جو اعتراض کیا تھا اس کے جواب میں اللہ جل شانہ نے آیت کریمہ نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ آپ فرما دیجیے اشہر حرام میں قتال کرنا بڑا گناہ ہے لیکن مشرکین کو اپنے کرتوت نظر نہیں آتے۔ اللہ کی راہ سے روکنا دین حق قبول کرنے والوں کو منع کرنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام کے ساتھ کفر کرنا اور اہل مسجد حرام کو وہاں سے نکالنا (جیسا کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو مکہ معظمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا حالانکہ مسجد حرام کے تقدس کو باقی رکھنے والے اور نمازوں سے اسے معمور کرنے والے یہی حضرات تھے) یہ سب چیزیں اللہ کے نزدیک اشہر حرام میں قتل کرنے سے گناہ گاری میں بڑھ کر ہیں جن کا ارتکاب کیا ہے ( قال القرطبی ص 42 ج 3: و ما تفعلون انتم من الصد عن سبیل اللّٰہ لمن اراد الاسلام و من کفرکم باللّٰہ و اخراجکم اھل المسجد منہ کما فعلتم برسول اللّٰہ ﷺ و اصحابہ اکبر جرمًا عنداللّٰہ۔ پھر فرمایا (وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ) (فتنہ پردازی جرم میں قتل سے بڑھ کر ہے) مشرکین مکہ شرک و کفر میں مبتلا تھے اور جو لوگ مسلمان ہوجاتے تھے ان کو مارتے پیٹتے تھے اور کفر میں واپس لے جانے کی کوشش کرتے تھے، یہ سب سے بڑا فتنہ ہے جو ایک شخص کے قتل سے بہت بڑھ کر ہے جسے بعض صحابہ ؓ نے چاند کی صحیح تاریخ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قتل کردیا تھا پھر مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ (وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّوْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ ) وہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اس میں مشرکین کے عزائم بتائے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان سے کبھی بھی راضی نہ ہوں گے اور اپنے دین میں واپس کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے (وہ اپنے دین میں پختہ ہیں تو تم اپنے دین میں پختہ رہو، وہ تمہیں اپنے دین میں کھینچنا چاہتے ہیں تم انہیں اپنے دین میں لانے کی کوشش کرتے رہو) ۔ مرتد کے احکام : اس کے بعد فرمایا : (وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَیَمُتْ وَ ھُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (اور جو شخص تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے، پھر حالت کفر میں مرجائے تو دنیا و آخرت میں ان لوگوں کے اعمال اکارت ہوجائیں گے اور وہ لوگ دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے) اس میں مرتد کے بعض احکام بتائے ہیں، دین اسلام قبول کرنے کے بعد جو شخص اس کو چھوڑ کر کوئی سا بھی دین اختیار کرے۔ ( اور اسلام کے علاوہ ہر دین کفر ہی ہے) تو اس نے زمانہ اسلام میں جو اعمال کیے تھے وہ سب ضائع ہوگئے۔ کفر کی وجہ سے ان سب کا اجر وثواب ختم ہوگیا دنیا میں بھی ان اعمال کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جو زمانہ اسلام میں کیے تھے اور آخرت میں بھی ان کا کوئی اجر وثواب نہ ملے گا۔ اور دوسرے کافروں کی طرح وہ بھی ہمیشہ دوزخ میں جائے گا۔ سورة مائدہ میں فرمایا (وَ مَنْ یَّکْفُرْ بالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور جو شخص ایمان کا منکر ہوجائے تو اس کے اعمال حبط ہوگئے اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا) جو شخص مرتد ہوجائے (العیاذ باللہ) اس سے بات کی جائے۔ اس کا جو کوئی شبہ ہو دور کیا جائے۔ اور تین دن اسے بند رکھا جائے۔ اگر تین دن گزر جانے پر اسلام قبول نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے اور اگر عورت مرتد ہوجائے ( العیاذ باللہ) اور باوجود سمجھانے کے دوبارہ اسلام نہ لائے تو اسے بند کردیا جائے یہاں تک کہ مسلمان ہوجائے اگر اسلام قبول نہ کرے تو موت آنے تک جیل ہی میں رکھی جائے۔ یہ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کا مذہب ہے۔ حضرت امام شافعی ؓ نے فرمایا کہ اسے بھی تین دن کی مہلت دینے کے بعد قتل کردیا جائے، جب کسی نے اسلام کے بعد کفر اختیار کرلیا تو اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے اس کے تمام اموال اس کی ملک سے نکل گئے، پھر اگر مسلمان ہوگیا تو واپس اس کی ملک میں آجائیں گے، اگر حالت کفر میں مرگیا یا مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کردیا گیا تو اس کے وہ اموال جو اس نے زمانہ اسلام میں کسب کیے تھے اس کے مسلمان وارثوں کو مل جائیں گے اور جو مال اس نے مرتد ہونے کی حالت میں کمایا اس پر مال فئی کے احکام جاری ہوں گے۔ (یعنی اس کا مال بیت المال میں داخل کردیا جائے گا اور وہ حسب قواعد مسلمانوں کی ضرورتوں میں خرچ کردیا جائے گا۔۔ یہ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کا مذہب ہے۔ اور حضرت امام شافعی ؓ نے فرمایا کہ دونوں قسم کے اموال پر فئی کے احکام جاری ہوں گے۔ اور جیسے ہی کوئی شخص مرتد ہوجائے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی۔ اگر کوئی ایسا شخص مرجائے جس کی اسے میراث پہنچی تھی تو اس کی میراث سے یہ شخص محروم ہوگا۔ مرتد کی نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور اس کا ذبیحہ بھی حرام ہوگا۔ ارتداد سے پہلے جو بھی نیک کام نماز، روزہ، حج، عمرہ وغیرہ کیا تھا یہ سب ضائع ہوگیا۔ آخرت میں اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اگر یہ شخص دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ سو اس کے بارے میں جان لینا چاہئے کہ آخرت میں دوزخ سے بچ جائے گا اور دنیا میں بھی آئندہ احکام اسلام اس پر جاری ہوں گے اور اسے خود بھی احکام اسلام پر عمل پیرا ہونا لازم ہوگا اور عام مسلمان بھی اس سے مسلمانوں جیسا معاملہ کریں گے۔ رہی یہ بات کہ اس کے گزشتہ اعمال صالحہ کا ثواب پھر سے واپس ملے گا یا نہیں اور جو حج کرلیا تھا اس کی فرضیت دوبارہ عود کرے گی یا نہیں، اس بارے میں حضرات آئمہ کرام کا اختلاف ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ مرتد ہوجانے کی وجہ سے جو اس کے اعمال ضبط ہوگئے تھے، اب دوبارہ مسلمان ہونے سے ان کا ثواب واپس نہ ہوگا اور جو حج کرلیا تھا وہ بھی ختم ہوگیا۔ اب حج فرض دوبارہ ادا کرنا ہوگا۔ مرتد ہونے کی وجہ سے جو بیوی نکاح سے نکل گئی تھی دوبارہ اسلام قبول کرنے سے پھر باہمی رضا مندی سے نکاح کریں تو ہوسکتا ہے دوبارہ نکاح نہ کیا تو اس کی بیوی نہ ہوگی۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ کے عموم میں مرتد شامل نہیں : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرتد دوبارہ اسلام قبول نہ کرنے سے جو قتل کیا جائے گا یہ تو ایک قسم کا جبر ہے حالانکہ سورة بقرہ ہی میں دوسری جگہ (ع 34) (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) فرمایا ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ سوال وارد ہی نہیں ہوتا کیونکہ (لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ ) ان کافروں سے متعلق ہے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، جب کسی نے ایک مرتبہ اسلام قبول کرلیا اور اس کو حق مان لیا دلائل سے سمجھ لیا اس کی برکات دیکھ لیں تو اب اس کے لیے صرف یہی ہے کہ یا اسلام قبول کرے یا قتل کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ ۔ (رواہ البخاری ص 1023 ج 2)
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ— اُولٰٓىِٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ؕ— وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَالَّذِيۡنَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ اُولٰٓئِكَ يَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہ لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

آخر میں یہ جو فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَ جَاھَدُوْا) (الایۃ) اس کے بارے میں مفسر ابن کثیر ص 254 ج 1 لکھتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن جحش ؓ اور ان کے ساتھیوں کا مسئلہ حل ہوگیا اور سرور عالم ﷺ نے ان کے لائے ہوئے مال کو جو کافروں سے لے لیا تھا 5/1 نکال کر باقی مال انہی پر تقسیم فرما دیا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم اس بات کی امید کریں کہ جو کچھ ہم نے کیا یہ ہمارے لیے جہاد شرعی میں شمار ہوجائے گا اور اس میں ہمیں وہ اجر مل جائے گا جو مجاہد کو ملا کرتا ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ شانہ نے واضح طور پر بتادیا کہ بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں یہ لوگ رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ ان لوگوں کا امید رکھنا بھی صحیح ہے اور ان لوگوں سے جو خطا اجتہادی کے طور پر ایک آدمی قتل ہوگیا تھا وہ بھی اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ فائدہ : (قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ) (آپ فرما دیجیے کہ اشہر حرام میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے) اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ اشہر حرام میں قتال کرنا ممنوع ہے سورة برأۃ کی آیت (اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ) سے بھی خوب واضح طور پر چار مہینوں میں قتال کرنے کی حرمت معلوم ہو رہی ہے۔ ان چار مہینوں میں قتال کی حرمت اب بھی باقی ہے یا نہیں اس بارے میں اختلاف ہے۔ حضرت عطاء بن أبی رباح فرماتے تھے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ لہٰذا أشہر حرم میں قتال کرنا جائز نہیں۔ الایہ کہ دشمن قتال کرنے لگے تو اس کے جواب میں قتال کرنا جائز ہوگا، حضرت سلیمان بن یسار اور سعید بن المسیب ؓ فرماتے تھے کہ اشہر حرم میں قتال کی ممانعت منسوخ ہوگئی اور اب اشہر حرم میں قتل کرنا جائز ہے، علامہ ابوبکر جصاص (رح) لکھتے ہیں : وَ ھو قول فقھاء الأمصار ( کہ یہی فقہاء امصار کا قول ہے) ۔ پھر لکھتے ہیں کہ پہلا حکم حرمت قتال والا منسوخ ہے۔ آیت کریمہ (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْھُمْ ) اور دوسری آیت (قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ لَا بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) أشہر حرام میں قتال کی ممانعت کے بعد نازل ہوئی۔ (احکام القرآن ص 222 ج 1) علامہ قرطبی ص 43 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ جمہور کا مذہب ہے کہ اشہر حرم میں قتل کرنے کی ممانعت منسوخ ہوچکی ہے اور اب ان میں قتال کرنا مباح ہے، اس کا ناسخ کون ہے اس میں اختلاف ہے حضرت زہری نے فرمایا کہ آیت کریمہ (وَ قاتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً ) (سورۂ توبہ) نے اسے منسوخ کردیا اور بعض حضرات کا فرمانا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اشہر حرام میں بنی ثقیف سے جہاد فرمایا تھا اور حضرت أبو عامر اشعری ؓ کو اشہر حرام میں وادی اوطاس میں جہاد کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ ا ھ بہر حال جمہور کا مذہب ہے کہ أشہر حرم میں قتال کرنے کی ممانعت منسوخ ہے۔ ائمہ اربعہ کا بھی یہی مذہب ہے اور اگر دشمن جنگ کی ابتدا کردیں تو اس صورت میں وہ حضرات بھی جنگ کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو اس حکم کو منسوخ نہیں مانتے ہیں۔
Ayah 2:219

یَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ ؕ— قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ ؗ— وَاِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ؕ— وَیَسْـَٔلُوْنَكَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ ؕ۬— قُلِ الْعَفْوَؕ— كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ۟ۙيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡخَمۡرِ وَالۡمَيۡسِرِ‌ؕ قُلۡ فِيۡهِمَآ اِثۡمٌ کَبِيۡرٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا ؕ وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الۡعَفۡوَ‌ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَكَّرُوۡنَۙ Open ayah 2:219 in the Quran reader

وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں، اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے، اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں، آپ فرما دیجیے کہ جو زائد ہو وہ خرچ کردیں اللہ ایسے ہی بیان فرماتا ہے آیات، تاکہ تم فکر کرو

شراب اور جوئے کی حرمت ان آیتوں میں اول تو شراب اور جوئے کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں پھر یہ فرمایا کہ ان کا گناہ ان کے منافع سے بڑا ہے، اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ کسی چیز کے نفع مند ہونے سے اس کا حلال ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز نفع مند ہو اور حرام بھی ہو۔ حرام حرام ہی رہے گا خواہ اس میں کتنا ہی بڑا نفع ہو۔ اور اس کے ارتکاب میں گناہ ہوگا جو دنیا و آخرت میں باعث و بال ہوگا۔ شراب اور جوئے کے بارے میں تفصیلی کلام انشاء اللہ تعالیٰ ہم سورة مائدہ کی آیت : (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ ) (الایۃ) کے ذیل میں لکھیں گے۔ یہاں اتنا سمجھ لیں کہ نشہ لانے والی ہر چیز کا پینا حرام ہے اور ہر ایک جوا حرام ہے جس طرح سے بھی ہو اور جس صورت میں بھی ہو، اس کا جو بھی نام رکھ لیا جائے حرام ہی رہے گا۔ فی سبیل اللہ کیا خرچ کریں ؟ پھر ارشاد فرمایا کہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں یہ سوال چونکہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ وہاں یہ جواب دیا تھا کہ جو بھی تم مال خرچ کرو اپنے والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو چونکہ وہاں مصارف بتانے کی اہمیت زیادہ تھی اس لیے وہاں خرچ کے مواقع بتا دیے اور پھر یہ بتادیا کہ جو بھی کوئی خیر کا کام کرو گے وہ اللہ کے علم میں ہوگا ( اور وہ اس کا ثواب عطا فرمائے گا) اور یہاں الفاظ سابقہ میں جو دوبارہ سوال مذکور ہے اس میں خصوصیت کے ساتھ اس پر زور ہے کہ کیا خرچ کریں۔۔ ؟ لہٰذا نہیں اسی سوال کا جواب دے دیا گیا۔ لباب النقول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہوا تو چند صحابہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے مالوں میں جو مقرر فرمایا گیا ہے وہ کس قدر ہے ہم اس میں کتنا خرچ کریں ان کے سوال کے جواب میں اللہ جل شانہ نے آیت کریمہ (وَ یَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ قُلِ الْعَفْوَ ) نازل فرمائی اور سوال کرنے والوں کے جواب میں فرمایا کہ جو مال اپنی ضروریات سے زائد ہو وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا : (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) ۔ کہ تم خرچ کرنے میں غور و فکر سے کام لو، آخرت کی ضروریات دیکھو، اور دنیاوی ضروریات کو سمجھو، ایسا بھی نہ ہو کہ خرچ ہی نہ کرو کہ ضروریات سے جس قدر بھی زائد ہو وہ پڑا ہی رہے اور جمع ہی ہوتا رہے اور ایسا بھی نہ ہو کہ سب خرچ کر کے بیٹھ رہو اور فقر و فاقہ میں مبتلا ہو کر کل کو دوسروں سے مانگنے کی نوبت آجائے۔ نیز جوش سخاوت میں ایسا بھی نہ ہو کہ اہل و عیال جن کے حقوق واجب ہیں ان کا کوئی حق ضائع ہوجائے، ضرورت سے زیادہ جو مال جمع ہوجائے اگر اس میں سے فرض زکوٰۃ اور صدقات و نفقات واجبہ ادا ہوتے رہیں تو اس کا جمع کرنا جائز تو ہے لیکن خرچ کردینا افضل ہے اس میں احوال بھی مختلف ہوتے ہیں، کسی میں زہد غالب ہے اور جتنا زائد ہو سب خرچ کردیتا ہے اس کی بھی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ﷺ کل کے لیے کچھ نہیں رکھتے تھے۔ اگر کوئی شخص فرائض اور واجبات ادا کرنے کے بعد زائد مال میں سے للہ فی اللہ کچھ خرچ کر دے اور کچھ رکھ لے تو اس کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت زیادہ خرچ کرتے تھے لیکن ان کے پاس مال جمع بھی رہتا تھا اور یہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے تھا آپ ﷺ نے نکیر نہیں فرمائی۔
Ayah 2:220

فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ ؕ— وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰی ؕ— قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ ؕ— وَاِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ ؕ— وَاللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ؕ— وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ ۟فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِؕ وَيَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡيَتٰمٰىؕ قُلۡ اِصۡلَاحٌ لَّهُمۡ خَيۡرٌ ؕ وَاِنۡ تُخَالِطُوۡهُمۡ فَاِخۡوَانُكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ الۡمُفۡسِدَ مِنَ الۡمُصۡلِحِ‌ؕ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعۡنَتَكُمۡؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ Open ayah 2:220 in the Quran reader

دنیا میں اور آخرت میں، اور وہ آپ سے سوال کرتے ہیں یتیموں کے بارے میں، آپ فرما دیجیے کہ اصلاح کرنا ان کے لیے بہتر ہے اور اگر ان کا خرچ آپس میں ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ تم میں مفسد کون ہے اور مصلح کون ہے اور اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

پھر ارشاد فرمایا : (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی) کہ وہ لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں پھر اس سوال کا جواب عنایت فرمایا جواب سمجھنے سے پہلے آیت کا سبب نزول سمجھ لیا جائے اس سے سوال کا مضمون بھی واضح ہوجائے گا، اور پھر جواب بھی سمجھ میں آجائے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ در منثور ص 355 ج 1 میں بحوالہ سنن ابو داؤد اور مستدرک حاکم حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب آیت کریمہ (وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ) (اور نہ قریب جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو احسن ہو) اور آیت کریمہ (اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْبَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا) (جو لوگ یتیموں کے مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں) نازل ہوئی تو وہ صحابہ جن کے پاس کوئی یتیم تھا انہوں نے یتیم کا کھانا پینا الگ کردیا (یتیم کے لیے الگ پکاتے اور اپنے لیے الگ تیار کرتے) ایسا کرنے سے یتیم کے کھانے میں سے کچھ حصہ بچ جاتا تھا اسے رکھ لیتے تھے پھر بعد میں وہ یتیم کھا لیتا تھا یا خراب ہوجاتا تھا۔ جب یہ صورت حال پیش آئی تو ان حضرات نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پوری کیفیت پیش کی اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (در منثور ص 55 ج) آیت کا مطلب یہ ہے کہ مقصود اصلی اصلاح ہے۔ یتیم بچوں کا مال اس طریقہ پر ان پر خرچ کرو کہ ان کا نقصان بھی نہ ہو اور کوئی خراب نیت بھی نہ ہو کہ اس کا مال ساتھ ملا کر پکانے میں اس کے حصہ میں سے اپنے اوپر یا اپنے بچوں پر خرچ ہوجانے کی نیت ہو ان کا مال اپنے مال میں ملا کر پکانے میں چونکہ مصلحت پیش نظر ہے کہ ان کا مال زیادہ خرچ نہ ہو اور ضائع نہ ہو تو اس میں کوئی مؤاخذہ اور محاسبہ کی بات نہیں ہے وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بھائیوں کی طرح مل جل کر اصلاح و خیر خواہی مد نظر رکھتے ہوئے کھاؤ اور پیو، اللہ تعالیٰ شانہ مصلح کو بھی جانتا ہے۔ (جس کی نیت اصلاح کی ہو) اور مفسد کو بھی جانتا ہے جس کی نیت خراب ہو اور فساد اور بگاڑ کا ارادہ رکھتا ہو۔ پھر فرمایا کہ (وَلَوْ شَآء اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ) اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا اور تم کو حکم دیتا کہ یتیموں کا ہر حال میں الگ پکاؤ اور ایسے انداز سے پکاؤ کہ ذرا بھی خراب نہ ہو اور یہ تمہارے لیے مشکل اور دشواری کا باعث ہوجاتا، اللہ تعالیٰ نے آسانی عطا فرما دی، آسانی پر عمل کرو، اور نیت اچھی رکھو، آخر میں فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ عزیز ہے یعنی غلبہ والا ہے) وہ مؤاخذہ فرمائے تو کوئی اس سے بچ نہیں سکتا اور وہ حکیم بھی ہے اس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔
Ayah 2:221

وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ؕ— وَلَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْكُمْ ۚ— وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ؕ— وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ۖۚ— وَاللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَی الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ ۚ— وَیُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟۠وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ؕ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ۚ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌ؕ وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡؕ اُولٰٓئِكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ  ۖۚ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ Open ayah 2:221 in the Quran reader

اور نکاح نہ کرو مشرک عورتوں سے جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں، اور البتہ ایمان والی باندی بہتر ہے مشرک عورت سے اگرچہ وہ تمہیں اچھی لگے، اور نہ نکاح کرو اپنی عورتوں کا مشرکین سے جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ البتہ ایمان والا غلام بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے، یہ لوگ بلاتے ہیں دوزخ کی طرف، اور اللہ بلاتا ہے جنت اور مغفرت کی طرف اپنے حکم سے، اور اللہ بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے اپنی آیات تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح کرنے کی ممانعت اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح کریں، ہاں اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو ان سے نکاح کرنا جائز ہوگا مشرک عورتیں بعض مرتبہ حسن و جمال یا اموال کے اعتبار سے اچھی معلوم ہوتی ہیں اور ان سے نکاح کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ تم مشرکہ سے نکاح نہ کرو، اگر کوئی باایمان لونڈی مل جائے تو اس سے نکاح کرلو۔ وہ تمہارے لیے مشرک عورت سے بہتر ہے۔ پھر دوسرا حکم ارشاد فرمایا کہ مشرکوں سے اپنی عورتوں کا نکاح نہ کرو، مشرک کی نسبت مومن غلام بہتر ہے (تم اس سے اپنی عورتوں کا نکاح کرو) ہاں اگر کوئی مشرک مسلمان ہوجائے تو وہ تمہارا دینی بھائی ہوگیا اس سے اپنی عورتوں کا نکاح کرسکتے ہو۔ آخر میں مشرکوں سے بچنے اور ان سے ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے کی علت بتادی کہ مشرکین دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، مشرکین سے مردہوں یا عورت ازدواجی میل جول رکھنے میں خطرہ ہے کہ مسلمان مرد ہو یا عورت خدانخواستہ ان کے عقائد سے متاثر ہوجائے اور کسی دن ایمان کھو بیٹھے اور مستحق دوزخ ہوجائے، پھر مسئلہ اولاد کا بھی پیدا ہوگا مرد مشرک ہو یا عورت وہ اولاد کو ضرور اپنے دین پر لگائیں گے۔ اگر اولاد مشرک ہوگئی تو دوزخی ہوگی۔ لامحالہ مؤمن مردو عورت مشرک مرد و عورت سے بہتر ہے چاہے وہ مومن غلام یا باندی ہی ہو، چونکہ نہ تو وہ اپنے جوڑے کو دوزخ کی دعوت دیتا ہے اور نہ اولاد کو دوزخ کے راستہ پر ڈالتا ہے۔ فائدہ : آیت کے عموم الفاظ سے ظاہر ہے کہ کسی مومن عورت کا کسی مشرک مرد سے اور کسی مومن مرد کا کسی مشرک عورت سے نکاح درست نہیں ہے اور اس عموم میں ہر طرح کے کافر داخل ہیں۔ ملحد زندیق دہرئیے بھی اسی حکم میں آجاتے ہیں۔ ایسے مردوں اور عورتوں سے کسی مرد مومن اور عورت مومنہ کا نکاح درست نہیں اگر نکاح کرلیا تو وہ نکاح شرعی نکاح نہ ہوگا اور اس کی بنیاد پر ازدواجی تعلقات حرام ہوں گے، البتہ کتابی عورت (یہودیہ ہو یا نصرانیہ) سے مسلمان مرد کا نکاح درست ہے اور اس کا جواز سورة مائدہ کے پہلے رکوع میں بیان فرما دیا ہے، اس کے بعض احکام ہم وہیں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ، یہاں اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ اگرچہ یہودیہ و نصرانیہ عورت سے مسلمان کا نکاح درست ہے لیکن ان سے بچنا افضل ہے خاص کر اس زمانہ میں جبکہ یہ عورتیں مسلمانوں سے نکاح کرتی ہی اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنے دین پر لے آئیں اور اولاد کو بھی اپنے دین پر ڈال دیں، اور مسلمانوں کی اندرونی خبریں دشمنان اسلام کو پہنچایا کریں۔ حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانے میں اس نزاکت کو بھانپ لیا تھا اور اپنے عہد خلافت میں صحابہ ؓ کو اس سے روکتے تھے۔ (کما فی کتاب الآثار لامام محمد بن الحسن الشیبانی ص 89) بہت سے ممالک میں جہاں مسلمان مل جل کر رہتے ہیں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہر مذہب اور مسلک کے لڑکے لڑکیاں یکجا جمع ہو کر کلاسوں میں بیٹھتے ہیں وہاں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ مسلمان لڑکے اور لڑکیاں مقامی حکومت کے قانون کے مطابق کو رٹ میں جا کر نکاح کرلیتے ہیں، اگر لڑکا مسلمان ہو اور لڑکی کتابی ہو تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے بشرطیکہ ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے ہوا ہو اور اگر لڑکی کتابی نہیں، ہندو، سکھ، بدھسٹ، آتش پرست ہو تو یہ نکاح ہونے ہی کا نہیں، اور کسی مسلمان عورت کا نکاح کسی بھی کافر سے نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ کافر یہودی و نصرانی ہو۔ بہت سے فرقے ایسے بھی ہیں جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں لیکن وہ اپنے عقائد کی وجہ سے کافر ہیں۔ مثلاً وہ لوگ جو ختم نبوت کے منکر ہیں اور وہ لوگ جو تحریف قرآن کے قائل ہیں اور وہ لوگ جو اپنے امام کے اندر خدائے پاک کا حلول مانتے ہیں یہ سب لوگ بھی کافر ہیں ان سے کسی مسلمان لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا اور نہ کسی مسلمان مرد کا اس طرح کی کسی عورت سے نکاح ہوسکتا ہے۔ سبب نزول بیان کرتے ہوئے اسباب النزول ص 66 میں لکھا ہے کہ ابو مرثد غنوی صحابی ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عناق نامی عورت سے نکاح کرنے کی اجازت چاہی، یہ عورت قریشیہ تھی اور حسن و جمال میں بڑھ کر تھی لیکن وہ مشرکہ تھی اور ابو مرثد مسلمان تھے، ابو مرثد نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ میرے دل کو بھاتی ہے، اس پر آیت (وَ لَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ) نازل ہوئی اور یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی ایک سیاہ فام باندی تھی انہوں نے غصہ میں اس کو ایک طمانچہ مار دیا پھر گھبرائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا واقعہ سنایا، آپ نے فرمایا اے عبداللہ وہ کیسی عورت ہے ؟ عرض کیا یا رسول اللہ وہ روزہ رکھتی ہے نماز پڑھتی ہے۔ اور اچھی طرح وضو کرتی ہے اور اللہ کی توحید کی اور آپ کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے عبداللہ وہ مومنہ ہے، انہوں نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں ضرور اس کو آزاد کر دوں گا اور اس سے نکاح کرلوں گا۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اس پر بعض مسلمانوں نے ان پر طعن کیا اور کہا کہ اس نے باندی سے نکاح کرلیا، جو لوگ چاہتے تھے کہ مشرکین سے مناکحت ہوتی رہے (کیونکہ ان لوگوں میں کچھ مال و جمال نظر آتا تھا) ان کی تردید میں اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت (وَ لَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ) نازل فرمائی۔
Ayah 2:222

وَیَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ ؕ— قُلْ هُوَ اَذًی ۙ— فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ ۙ— وَلَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰی یَطْهُرْنَ ۚ— فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ ۟وَ يَسۡــئَلُوۡنَكَ عَنِ الۡمَحِيۡضِ‌ۙ قُلۡ هُوَ اَذًى فَاعۡتَزِلُوۡا النِّسَآءَ فِى الۡمَحِيۡضِ‌ۙ وَلَا تَقۡرَبُوۡهُنَّ حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ‌‌ۚ فَاِذَا تَطَهَّرۡنَ فَاۡتُوۡهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ Open ayah 2:222 in the Quran reader

اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ وہ گندگی ہے، سو تم علیحدہ رہو عورتوں سے حیض کے زمانہ میں، اور ان کے پاس نہ جاؤ یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں، پھر وہ جب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جس جگہ سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے، بیشک اللہ پسند فرماتا ہے خوب توبہ کرنے والوں کو، اور پسند فرماتا ہے خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو۔

حیض والی عورت سے متعلقہ احکام اللہ جل شانہٗ نے نوع انسان کو بڑھانے اور باقی رکھنے کے لیے مرد عورت کے درمیان خاص تعلق رکھا ہے اور شرعی قانون کے مطابق نکاح ہوجانے سے قواعد اور اصول کے مطابق آپس میں ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھنے اور قریب تر ہونے کی اجازت دی ہے اور طبعی طور پر مرد عورت میں شہوت رکھی ہے وہ اس شہوت کے تقاضے پر عمل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہی شہوت اولاد پیدا ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے اولاد پیدا ہونے کے لیے شہوت رکھ دی اور پھر اس کی پرورش کروانے کے لیے محبت رکھ دی، جسے مامتا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور تکوینی طور پر عورتوں کے لیے یہ تجویز فرما دیا کہ ان کے رحم سے خون جاری ہوا کرے یہ خون عموماً بالغ عورتوں کو ہر مہینہ جاری ہوتا ہے۔ اسے حیض اور محیض کہا جاتا ہے، شریعت مطہرہ میں اس کے بھی احکام ہیں ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ وہ ان ایام میں نہ روزہ رکھیں نہ نماز پڑھیں ( اور ایام حیض گزر جانے کے بعد نمازوں کی قضاء بھی واجب نہیں، البتہ رمضان میں حیض آیا تو پاک ہونے کے بعد ان روزوں کی قضا رکھنا واجب ہے) زمانہ حیض میں مسجد میں داخل ہونا کعبہ شریف کا طواف کرنا، قرآن شریف پڑھنا اور قرآن شریف چھونا بھی ممنوع ہے۔ (ہاں اگر اس غلاف کے ساتھ چھوئے جو قرآن شریف سے الگ ہوتا رہتا ہے تو چھو سکتی ہے) ۔ جو احکام حیض سے متعلق ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ ان ایام میں عورت کا شوہر اس سے جماع نہ کرے، حیض کے زمانہ میں جماع کرنا حرام ہے۔ جس کو (فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَ لَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ فَاِذَا تَطَھَّرْنَ ) میں بیان فرمایا ہے، حیض والی عورت کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب جائز ہے، اور ناف سے لے کر گھٹنہ تک کے حصہ کو چھوڑ کر شوہر اس سے بوس و کنار کے ذریعہ استمتاع بھی کرسکتا ہے، بہت سی قوموں میں یہ رواج ہے کہ حیض کے زمانہ میں عورت اچھوت بنا کر ڈال دی جاتی ہے، شریعت اسلامیہ میں ایسا نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ وہ حیض کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کے مبارک سر میں کنگھی کردیا کرتی تھیں اور انہوں نے یہ بھی بیان فرمایا کہ میرے حیض کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ میری گود میں تکیہ لگا کر قرآن شریف کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ میرے حیض کے زمانہ میں رسول اللہ ﷺ حکم فرماتے تھے کہ تہبند باندھ لو پھر میرے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔ (صحیح بخاری ص 43، 44 ج 1) حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان فرمایا کہ یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب عورت کو حیض آجاتا تھا تو اس کے ساتھ نہ تو کھاتے پیتے تھے اور نہ گھروں میں ان کے ساتھ رہتے سہتے تھے حضرات صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم کیا کریں تو اس پر اللہ جل شانہ، نے آیت کریمہ (وَ یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ) (آخر تک) نازل فرمائی، آیت نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جماع کرنے کے سوا سب کچھ کرو (اس میں ساتھ کھانے پینے، رہنے سہنے اٹھنے بیٹھنے لیٹنے کی اجازت ہوگئی) یہودیوں کو جو اس بات کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ شخص ہر چیز میں ہماری مخالفت کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے، ان کی یہ بات سن کر (دو صحابی) اسید بن حضیر اور اور عباد بن بشر حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہودی ایسا ایسا کہتے ہیں تو کیا ہم ایسا نہ کریں کہ حیض والی عورتوں کے ساتھ رہنا چھوڑ دیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور متغیر ہوگیا۔ ( 143 ج 1) ان روایات حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ (فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ ) میں جماع کرنے کی ممانعت ہے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی ممانعت نہیں ہے یہ جو فرمایا : (فَاِذَا تَطَھَّرْنَ فَاْتُوْ ھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَ کُمُ اللّٰہُ ) پس جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس آؤ جس جگہ سے اللہ نے حکم دیا ہے) ۔ یعنی عورتوں سے جماع کرنے کے لیے سامنے کے راستہ سے آؤ جو رحم کا راستہ ہے۔ اس میں اس بات کی ممانعت فرمائی کہ کوئی مرد اپنی بیوی سے پیچھے کے راستے سے شہوت پوری کرے، اس بارے میں جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ انشاء اللہ ابھی بیان ہوں گی۔ پھر فرمایا : (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ ) (کہ بلاشبہ اللہ پسند فرماتا ہے۔ خوب زیادہ توبہ کرنے والوں کو) اس میں باطنی پاکیزگی اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے، یعنی گناہوں سے پاک ہونے کا طریقہ بتایا ہے اور وہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے حضور میں توبہ کرے، اور گناہوں کے سوا دوسری تمام گندی چیزوں سے بچنے کی تعلیم اور ترغیب کے لیے۔ (وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ ) (اور پسند فرماتا ہے خوب زیادہ پاکی اختیار کرنے والوں کو) فرمایا، اس میں ہر قسم کی ظاہری گندگیوں سے بچنے والوں کی مدح فرمائی ہے۔ جسم یا کپڑوں میں ناپاکی کا لگا رہنا حالت حیض میں جماع کرنا گندی جگہ پر شہوت پوری کرنا، ان سب چیزوں کی برائی اور ممانعت اس میں آگئی۔