Ayahs 4:29–30یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَـکُمْ بَیْنَـکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلاَّ ٓ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
(اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے اور جو شخص یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی آسان ہے) (النسآء : 29 تا 30)
اس آیت کریمہ میں تین باتیں
اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ دو باتوں سے منع فرمایا گیا ہے اور تیسری بات کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے۔ سب سے پہلے اس بات پر توجہ فرمائیے کہ آیت میں لاَ تَاْکُلُوْٓا کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی ہے ” مت کھائو “۔ لیکن مراد اس سے صرف کھانا نہیں بلکہ ہر وہ تصرف ہے جو دوسرے کے مال میں غلط طریقے سے کیا جائے اور اس سے فائدہ اٹھایاجائے۔ چاہے وہ چیز کھانے کی ہو یا کھانے کی نہ ہو۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود اور جمہور صحابہ کے نزدیک اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو شرعاً ممنوع اور ناجائز ہیں۔ چوری، ڈاکہ، غصب، خیانت، رشوت، سود ‘ قمار اور تمام معاملاتِ فاسدہ جن سے شریعت نے روکا ہے وہ سب اس میں داخل ہیں۔ بالباطل سے تمام ناجائز طریقے مراد ہیں جن پر شریعت نے پابندی لگائی ہے۔ حرام چیز تو حرام ہی ہے لیکن حلال چیز بھی اگر باطل اور ناجائز طریقے سے حاصل کی جائے تو وہ بھی حرام ہوجاتی ہے۔ باطل اور ناجائز طریقوں سے مراد کاروبار، تجارت اور لین دین کے وہ طریقے ہیں جن میں معاملہ کے دونوں فریقوں کی حقیقی رضامندی یکساں طور پر نہیں پائی جاتی بلکہ اس میں ایک کا مفاد محفوظ ہوتا ہے دوسرا ضرر یا غرر کا ہدف بنتا ہے اور یا وہ معاملہ مُفْضِی اِلَی المُنَازَعَۃ ہوتا ہے۔ معاملات کی جائز صورت صرف وہ ہے جسے اس آیت کریمہ میں آپس کی رضامندی سے تجارت کا نام دیا گیا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ تجارت عام طور پر خریدوفروخت کے معاملہ کو کہا جاتا ہے۔ لیکن تفسیر مظہری کے مصنف نے واضح کیا ہے کہ تجارت میں اجارہ یعنی ملازمت و مزدوری اور کرایہ کے معاملات بھی شامل ہیں۔ یعنی ایسے وہ تمام معاملات جس میں مفاد اور منافع کاتبادلہ ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ دیتا ہے البتہ یہاں صرف تجارت کا نام اس لیے آیا ہے کہ اگرچہ مال کمانے کے جائز ذرائع اور بھی ہیں لیکن تجارت اور محنت سب سے افضل اور سب سے پاکیزہ ذریعہ معاش ہے۔ آنحضرت ﷺ نے مختلف مواقع پر اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ کہیں فرمایا کہ سچا اور امانتدار تاجر صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا اور کہیں فرمایا کہ قیامت کے دن وہ عرش کے سائے کے نیچے ہوگا۔ لیکن حضرت معاذ بن جبل ( رض) کی روایت بڑی تفصیلی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ پاک کمائی تاجروں کی کمائی ہے بشرطیکہ جب وہ بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں اور جب وعدہ کریں تو وعدہ خلافی نہ کریں اور جب ان کے پاس کوئی امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کریں اور جب کوئی سامان کسی سے خریدیں تو (تاجروں کی عادت کے مطابق) اس سامان کو برا اور خراب نہ بتائیں اور جب ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو ٹالنے کی کوشش نہ کریں اور جب ان کا قرض کسی کے ذمہ ہو تو اس کو تنگ نہ کریں۔ (اخرجہ الاصبہانی از حاشیہ مظہری)
تجارت کے ساتھ عَنْ تَرَاضٍ مِّنْـکُمْ کی شرط لگائی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ لین دین اور تجارت آپس کی رضامندی سے ہونا چاہیے لیکن جہاں تجارت ہی نہ ہو بلکہ تجارت کے نام پر جوا، سٹہ، یا ربا اور سود کا معاملہ ہو یا مال ابھی موجود نہیں محض ذہنی قرارداد پر اس کا سودا کیا گیا ہو وہ بیع باطل اور حرام ہے۔ اگر تجارت تو ہو لیکن آپس کی رضامندی شامل نہ ہو یعنی اس میں کسی کا ناجائز دبائوشامل ہو یا اس میں کوئی فریب یا دغا کیا جارہاہو، رشوت اور سود میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے لیکن فی الواقع رضامندی مجبورانہ ہوتی ہے اور دبائو کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جوئے میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے مگر درحققیت جوئے میں حصہ لینے والا ہر شخص اس غلط امید پر رضا مند ہوتا ہے کہ جیت اسی کی ہوگی۔ ہارنے کے ارادے سے کوئی بھی راضی نہیں ہوتا۔ بعض اہل علم نے اس میں ایک اور قسم کو بھی شامل کیا ہے وہ یہ کہ طرفین سے تبادلہ مال بھی ہے اور بظاہر فریقین کی رضامندی بھی مگر وہ رضامندی درحقیقت مجبوری کی رضا مندی ہے حقیقی رضامندی نہیں۔ اس لیے شرعاً اس قسم کو بھی ناجائز کہا جاتا ہے۔ مثلاً عام ضرورت کی چیزوں کو سب طرف سے سمیٹ کر کوئی ایک شخص یا ایک کمپنی اسٹاک کرے اور پھر اس کی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ کرکے فروخت کرنے لگے چونکہ بازار میں دوسری جگہ میسر نہیں گاہک مجبور ہو کر مہنگے داموں یہ چیز خریدتا ہے۔ اگرچہ گاہک خود چل کر آتا ہے اور بظاہر رضامندی کے ساتھ خریدتا ہے لیکن اس کی یہ رضامندی درحقیقت ایک مجبوری ہے۔
اس آیت میں جن دو باتوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سے ایک تو وہ ہے کہ جس کی آپ نے تفصیل پڑھی اور دوسرا ہے کسی دوسرے کو قتل کرنا یا قتل نفس کہہ لیجیے۔ لیکن اس میں عجیب بات یہ ہے کہ اس آیت میں دونوں کو جمع کردیا گیا ہے حالانکہ کسی کے مال میں ناجائز تصرف کرنا اس کا بظاہر قتل نفس سے کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا لیکن اگر تھوڑے سے تدبر سے کام لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں ایسا گہرا رشتہ پایا جاتا ہے کہ جہاں کہیں پہلاجرم پایا جاتا ہے وہیں بالعموم دوسرے جرم کا صدور ہوتا ہے۔ دوسروں کے مال میں ناجائز تصرف اس وقت ہوتا ہے جب آدمی میں مال کی حرص جائز حدود سے تجاوز کرجاتی ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جن میں سرے سے مال کی خواہش نہ ہو۔ لیکن یہ خواہش جب تک جائز اور حلال پابندیوں میں محصور رہتی ہے تو کسی کو نقصان نہیں دیتی لیکن جب یہ خواہش حرص کی شکل اختیار کرتی اور حدود سے تجاوز کرجاتی ہے تو پھر یہ اپنے راستے میں ہر حائل ہونے والی رکاوٹ کو گرا دینا اپنا فرض سمجھتی ہے۔ ایسا آدمی اگر اپنی حرص کے باعث فیصلہ کرلیتا ہے کہ مجھے اپنے مفاد کے لیے فلاں زمین پر قبضہ کرنا ہے تو وہ زمین اس کے حقیقی بھائی کی بھی ہو تو اس کے حصول کے لیے اگر اسے بھائی کو بھی قتل کرنا پڑے تو وہ دریغ نہیں کرے گا۔ روزانہ اخبارات میں ہم ایسے واقعات پڑھتے ہیں کہ چند مرلے زمین یا چند ہزار روپے کی خاطرقتل وخوں ریزی کے بڑے بڑے واقعات پیش آتے ہیں اولاد اپنے ماں باپ کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتی۔ بھائی بھائی پر ہاتھ اٹھانے سے شرم محسوس نہیں کرتا۔ جتنے بھی ہماری سماجی زندگی میں فسادات برپا ہیں اگر ان کی حقیقت جاننے کی کوشش کی جائے تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں مال کی محبت کو سب سے زیادہ دخل ہوگا۔ اس لیے اسلام نے ان میں باہمی گہرے رشتے کی وجہ سے دونوں چیزوں کی حرمت کی یکساں تاکید فرمائی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : حُرْمَۃُ مَالِہ کَحُرمَۃِ دَمِہ ” مومن کا مال بھی اسی طرح محترم ہے جس طرح اس کی جان محترم ہے “۔ جو معاشرہ اور جو سماج اپنے اندر مالی مفاسد کو روکنے کی کوشش نہیں کرتا اس کے اندر قتل کے واقعات کا پیش آنا ایک فطری امر ہے۔ اس لیے یہ دونوں حکم ساتھ ساتھ دئیے گئے اور اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی وہ نہائیت توجہ طلب ہے۔ فرمایا گیا : وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْجس کا لفظی معنی ہے ” تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو “ حالانکہ نفسوں کو یعنی اپنے آپ کو کون قتل کرنا پسند کرتا ہے۔ لیکن جب پہلے حکم کے ساتھ ہم اسے ملاکر دیکھتے ہیں تو یہ اس حکم کا تتمہ معلوم ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پرکھانا خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ دنیا میں اس سے نظام تمدن اس قدر بگڑتا ہے کہ اس کے برے نتائج سے حرام خور آدمی بھی نہیں بچ سکتا۔ جس کا یہ نتیجہ نکلے بغیر نہیں رہتا کہ یہ صورتحال قتل وخوں ریزی کا باعث بنتی ہے اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص معاشرہ کے اندر کسی قتل کا ارتکاب کرتا ہے وہ کسی اور کو نہیں خود اپنے آپ کو قتل کرتا ہے کیونکہ جسے اس نے قتل کیا وہ اس کا دینی بھائی ہے اسے قتل کرنا گویا اپنے آپ کو قتل کرنا ہے۔ اسی اصول پر قرآن کریم نے ایک قتل کو سب کا قتل قرار دیا ہے اور مزید یہ بات بھی کہ جو شخص کسی پر ہاتھ اٹھاتا ہے وہ دراصل اپنے لیے خطرے کا راستہ کھولتا ہے کیونکہ اگر اس کا قتل اندھا قتل ثابت ہو تو جب بھی معاشرہ غیر محفوظ ہوجاتا ہے جس کا یہ بھی ایک فرد ہے اور اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے فلاں کو قتل کیا ہے تو پھر یا تو قانون کا ہاتھ اس کی طرف بڑھے گا اور یا مقتول کے وارثوں میں سے کسی کا ہاتھ اس کا گلا دبوچ لے گا۔ ؎
دلوں کو زخم نہ دو حرف ناملائم سے
یہ تیر وہ ہے جو لوٹ کر بھی آتا ہے
اگر حرف ناملائم تیر بن کر لوٹ سکتا ہے تو کسی کا قتل خنجر بن کر واپس کیوں نہیں آسکتا ؟
پابندیوں کی علت
آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا اس آیت میں جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں یہ درحقیقت اس کی علت بیان کی گئی ہے کہ تمہارا پروردگار چونکہ تم پر مہربان ہے اس کی مہربانی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ تمہارے آپس کے تعلقات کو بگڑنے سے بچائے تاکہ تمہیں ایک آسودہ زندگی گزارنے میں دشواری پیش نہ آئے اور اس کی زمین فساد سے محفوظ رہے۔ اس لیے جن طریقوں سے تم باہمی مفاسد سے بچ سکتے تھے ان طریقوں کو تم پر لازم فرمادیا۔ رہے وہ لوگ جو ان ہدایات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور خواہشِ نفس میں اندھے ہو کر ایک دوسرے کے مال ہڑپ کریں، ایک دوسرے کے گلے کاٹیں، یعنی وہ ظلم وعدوان کے مرتکب ہوں۔ تو اللہ کی رحمت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ وہ عدل و انصاف کا ایک ایسا دن لائے جس میں نیکو کار جزا پائیں اور ایسے بدکردار اپنے انجام کو پہنچیں۔ اس لیے دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا : کہ جو شخص بھی اس طرح ظلم اور عدوان سے کام لے گا یعنی وہ کسی کے حقوق پر طاقت اور جبر سے دست درازی کرے گا یا دھاندلی سے کسی کا حق دبا لے گا اور ادا نہیں کرے گا تو اللہ کے لیے یہ بات نہائیت آسان ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم رسید کردے اور یہ بات شائد اس لیے بھی فرمائی گئی ہے کہ اس سے پہلے کی آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تم پر بڑا مہربان اور رحیم ہے تو بعض لوگ اس کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ وہ چونکہ رحیم ہے اس لیے کبھی کسی کو سزا نہیں دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم بھی ہے اور عادل بھی ہے اس کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ انصاف کرے۔ اطاعت گزاروں کو نوازے اور ظالم اور بدکردار لوگوں کو ان کے کیے کی سزا دے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے جس طرح اس کی رحمت بےپایاں ہے اسی طرح اس کے عدل کے سامنے بھی کوئی رکاوٹ نہیں۔
Ayah 4:31اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَـآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نُـکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْـکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا
(اگر تم بچتے رہو ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم روکے جارہے ہو تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں جھاڑ دیں گے اور تم کو عزت کے مقام میں داخل کریں گے) (النسآء : 31)
کبائر اور صغائر کا مفہوم
اللہ تعالیٰ ہمارا معبودِ برحق اور حاکم حقیقی ہے وہی ہماری آنکھوں کی روشنی اور دلوں کے سکون کا باعث ہے۔ ہم ہرحال میں اس کے احکام کے پابند ہیں اور اس کی رضا کا حصول ہماری منزل ہے۔ ہماری حیثیت اس کے سامنے ایک بندئہ محض کی ہے جسے صرف بندگی زیب دیتی ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے حوالے سے اپنے آقا کی کسی بھی معصیت اور سرتابی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسے ہرگز یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اس کا کوئی حکم توڑے یا اس کی خوشنودی کے خلاف کوئی کام کرے، اسے بہرصورت اپنے اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنی ہے۔ بات کوئی چھوٹی ہو یا بڑی اسے کسی طرح بھی معصیت اور نافرمانی کا کوئی حق نہیں۔ اس کے چھوٹے اور بڑے گناہ کی مثال محسوسات کے حوالے سے ایسی ہے جیسے آگ کا بڑا انگارہ اور چھوٹی چنگاری۔ لیکن کوئی عقل مند انسان دونوں میں سے کسی کو بھی پسند نہیں کرسکتا۔ اس لیے حضرت فضیل بن عیاض نے فرمایا کہ تم جس قدر کسی گناہ کو ہلکا سمجھو گے اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک بڑا جرم ہوجائے گا۔ اور سلف صالحین نے فرمایا کہ ہر گناہ کفر کا قاصد ہے جو انسان کو کافرانہ اخلاق و اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے۔ لیکن یہ اللہ کا انتہائی فضل و احسان ہے کہ ایک بندہ ہوتے ہوئے ہمارے لیے کسی گناہ کا کوئی موقع نہیں۔ لیکن اس نے گناہوں میں تقسیم فرمادی کہ کچھ گناہ کبیرہ ہیں اور کچھ صغیرہ۔ اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو تو ہم اپنے فضل و کرم سے تمہارے صغائر کو معاف فرمادیں گے یعنی جو احکام تم پر فرض وواجب کیے گئے ہیں تم ان کی بجاآوری میں کبھی کمی نہ کرو کیونکہ ان کا بجا نہ لانا بجائے خود ایک کبیرہ گناہ ہے۔ فرائض وواجبات کی پابندی کے ساتھ ساتھ اگر تم کبائر سے بچنے میں کامیاب ٹھہرے تو اللہ تعالیٰ فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ تمہارے صغیرہ گناہ معاف فرمادے گا۔ ہمیں احادیثِ مبارکہ میں اس کی مثالیں بھی ملتی ہیں۔ حضور نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے وضو کرتا ہے تو ہر عضو کے دھونے کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ چہرہ دھویا تو آنکھ، کان، ناک وغیرہ کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، کلی کی تو زبان کے گناہوں کا کفارہ ہوگیا، پائوں دھوئے تو پائوں کے گناہ دھل گئے، پھر جب وہ مسجد کی طرف چلتا ہے تو ہر قدم پر گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص کبائر سے پرہیز پوری طرح نہیں کرتا اس کے صغائر بھی معانہیں ہوتے کیونکہ عملی زندگی میں بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ جو آدمی اپنے ہزاروں کے قرضے ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتاوہ کسی کے پانچ روپے بھی کبھی نہیں دبا سکتا۔ لیکن جو لوگ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا بڑا ہتمام کرتے ہیں اور کبائر کے ارتکاب سے نہیں بچتے وہ ساری زندگی مچھرچھانتے رہتے اور اونٹ نگلتے رہتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ قرآن وسنت میں کبیرہ گناہ کسے کہا گیا ہے ؟ تو اہل علم نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس کی تشریح فرمائی ہے۔
صاحبِ معارف القرآن فرماتے ہیں :
” گناہ کبیرہ کی تعبیر قرآن و حدیث اور اقوال سلف کی تشریحات کے ماتحت یہ ہے کہ جس گناہ پر قرآن میں کوئی شرعی حد یعنی سزا دنیا میں مقرر کی گئی ہے یا جس پر لعنت کے الفاظ وارد ہوئے ہیں یا جس پر جہنم وغیرہ کی وعید آئی ہے۔ وہ سب گناہ کبیرہ ہیں اسی طرح ہر وہ گناہ بھی کبیرہ میں داخل ہوگا جس کے مفاسد اور نتائج بد کسی کبیرہ گناہ کے برابر یا اس سے زائد ہوں، اسی طرح جو گناہ صغیرہ جرأت و بیباکی کے ساتھ کیا جائے یا جس پر مداومت کی جائے تو وہ بھی کبیرہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
ابن عباس ( رض) کے سامنے کسی نے کبیرہ گناہوں کی تعداد سات بتلائی تو آپ نے فرمایا سات نہیں سات سو کہا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔
امام بن حجر مکی نے اپنی کتاب الزواجر میں ان تمام گناہوں کی فہرست اور ہر ایک کی مکمل تشریح بیان فرمائی ہے جو مذکورالصدر تعریف کی رو سے کبائر میں داخل ہیں ان کی اس کتاب میں کبائر کی تعداد چارسو سڑسٹھ تک پہنچی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ بعض نے بڑے بڑے ابواب معصیت کو شمار کرنے پر اکتفاء کیا ہے تو تعداد کم لکھی ہے بعض نے ان کی تفصیلات اور انواع و اقسام کو پورا لکھا تو تعداد زیادہ ہوگئی، اس لیے یہ کوئی تعارض واختلاف نہیں ہے۔
رسول کریم ﷺ نے مختلف مقامات میں بہت سے گناہوں کا کبیرہ ہونا بیان فرمایا اور حالات کی مناسبت سے کہیں تین، کہیں چھ، کہیں سات، کہیں اس سے بھی زیادہ بیان فرمائے ہیں۔ اسی سے علمائے امت نے یہ سمجھا کہ کسی عدد میں انحصار کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مواقع اور حالات کے مناسب جتنا سمجھا گیا اتنا بیان کردیا گیا۔
بخاری ومسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کبیرہ گناہوں میں بھی جو سب سے بڑے ہیں میں تمہیں ان کی خبر کرتا ہوں وہ تین ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی یاجھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا۔
اسی طرح بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائو حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پھر پوچھا کہ اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ تو فرمایا کہ تم اپنے بچہ کو اس خطرہ سے مار ڈالو کہ یہ تمہارے کھانے میں شریک ہوگا تمہیں اس کو کھلانا پڑے گا پھر پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ بدکاری کرنا، بدکاری خود ہی بڑا جرم ہے اور پڑوسی کے اہل و عیال کی حفاظت بھی چونکہ اپنے اہل واعیال کی طرح انسان کے ذمہ لازم ہے اس لیے یہ جرم دوگنا ہوگیا۔
صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالیاں دے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یارسول اللہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے ہی ماں باپ کو گالی دینے لگے ؟ فرمایا کہ ہاں ! جو شخص کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے خود اپنے ماں باپ کو گالیاں دی ہوں کیونکہ یہ ان گالیوں کا سبب بنا ہے۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ نے شرک اور قتل ناحق اور یتیم کا مال ناجائز طریق پرکھانے اور سود کی آمدنی کھانے اور میدانِ جہاد سے بھاگنے اور پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے اور بیت اللہ کی بےحرمتی کرنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے۔
بعض روایات حدیث میں اس کو بھی کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے کہ کوئی شخص دارالکفر سے ہجرت کرنے کے بعد پھر دارالہجرۃ کو چھوڑ کردارالکفر میں دوبارہ چلاجائے۔
دوسری روایاتِ حدیث میں ان صورتوں کو بھی کبیرہ کی فہرست میں داخل کیا گیاہیے مثلاً جھوٹی قسم کھانا، اپنی ضرورت سے زائد پانی کو روک رکھنا، دوسرے ضرورت والوں کو نہ دینا، جادو سیکھنا، جادو کا عمل کرنا اور فرمایا کہ شراب پینا اکبر الکبائر ہے اور فرمایا کہ شراب پینا ام الفواحش ہے کیونکہ شراب میں مست ہو کر آدمی ہر برے سے برا کام کرسکتا ہے۔
اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے مسلمان بھائی پر ایسے عیب لگائے جس سے اس کی آبروریزی ہوتی ہو۔
ایک حدیث میں ہے جس شخص نے بغیر کسی عذر شرعی کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کردیاتو وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نماز کو اپنے وقت میں نہ پڑھا بلکہ قضاء کرکے دوسری نماز کے ساتھ پڑھا۔
بعض روایات حدیث میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا بھی کبیرہ گناہ ہے اور اس کے عذاب وسزا سے بےفکر و بےخوف ہوجانا بھی کبیرہ گناہ ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ وارث کو نقصان پہنچانے اور اس کا حصہ میراث کم کرنے کے لیے کوئی وصیت کرنا بھی کبائر میں سے ہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ خائب و خاسر ہوئے اور تباہ ہوگئے اور تین وفعہ اس کلمہ کو دہرایا حضرت ابوذر غفاری ( رض) نے عرض کیا یارسول اللہ یہ محروم القسمۃ اور تباہ و برباد کون لوگ ہیں ؟ تو آپ نے جواب دیا ایک وہ شخص جو تکبر کے ساتھ پاجامہ یاتہبند یا کرتہ اور عباء کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے، دوسرا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرکے احسان جتلائے، تیسرا وہ آدمی جو بوڑھا ہونے کے باوجود بدکاری میں مبتلا ہو، چوتھے وہ آدمی جو بادشاہ یا افسر ہونے کے باوجود جھوٹ بولے پانچویں وہ آدمی جو عیال دار ہونے کے باوجود تکبر کرے، چھٹے وہ آدمی جو کسی امام کے ہاتھ پر محض دنیا کی خاطر بیعت کرے۔
صحیحین کی ایک حدیث میں ہے کہ چغلی کھانے والا جنت میں نہ جائے گا۔
نسائی ومسند احمد وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ چند آدمی جنت میں نہ جائیں گے شرابی، ماں باپ کا نافرمان، رشتہ داروں سے بلاوجہ قطع تعلق کرنے والا، احسان جتلانے والا، جنات و شیاطین یا دوسرے ذرائع سے غیب کی خبریں بتانے والا، دیوث یعنی اپنے اہل و عیال کو بےحیائی سے نہ روکنے والا۔
مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اس شخص پر جو کسی جانور کو اللہ کے سوا کسی کے لیے قربان کرے۔ “
صاحبِ تفہیم القرآن نے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کے مفہوم کے حوالے سے قرآن وسنت کی تفصیلات کو دیکھتے ہوئے مغز کی بات پانے کی کوشش کی ہے چناچہ وہ لکھتے ہیں :
یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ میں اصولی فرق کیا ہے ؟ جہاں تک میں نے قرآن وسنت میں غور کیا ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے (واللہ علم باالصواب) کہ تین چیزیں ہیں جو کسی فعل کو بڑا گناہ بناتی ہیں :
1 کسی کی حق تلفی، خواہ وہ خدا ہو جس کا حق تلف کیا گیا ہے یا والدین ہوں یا دوسرے انسان یا خود اپنانفس، پھر جس کا حق جتنا زیادہ ہے اسی قدر اس کے حق کو تلف کرنا زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اسی بنا پر گناہ کو ” ظلم “ بھی کہا جاتا ہے اور اسی بناپرشرک کو قرآن میں ظلم عظیم کہا گیا ہے۔
2 اللہ سے بےخوفی اور اس کے مقابلہ میں استکبار جس کی بنا پر آدمی اللہ کے امرونہی کی پرواہ نہ کرے اور نافرمانی کے ارادے سے قصداً وہ کام کرے جس سے اللہ نے منع کیا ہے اور عمداً ان کاموں کو نہ کرے جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ یہ نافرمانی جس قدر زیادہ ڈھٹائی اور جسارت اور ناخدا ترسی کی کیفیت اپنے اندر لیے ہوگی اسی قدر گناہ بھی شدید ہوگا۔ اسی معنی کے لحاظ سے گناہ کے لیے ” فسق اور معصیت “ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
3 ان روابط کو توڑنا اور ان تعلقات کو بگاڑنا جن کے وصل و استحکام اور درستی پر انسانی زندگی کا امن منحصر ہے خواہ یہ روابط بندے اور خدا کے درمیان ہوں یا بندے اور بندے کے درمیان، پھر جو رابطہ جتنا زیادہ اہم ہے اور اس کے کٹنے سے امن کو جتنا زیادہ نقصان پہنچتا ہے اور جس کے معاملہ میں مامونیت کی جتنی زیادہ توقع کی جاتی ہے اسی قدر اس کو توڑنے اور کاٹنے اور خراب کرنے کا گناہ زیادہ بڑا ہے۔ مثلاً زنا اور اس کے مختلف مدارج پر غور کیجیے ! یہ فعل فی تفسہٖ نظام تمدن کو خراب کرنے والا ہے اس لیے بجائے خود ایک بڑا گناہ ہے مگر اس کی مختلف صورتیں ایک دوسرے سے گناہ میں شدید تر ہیں۔ شادی شدہ آدمی کا زنا کرنا بن بیا ہے کی بہ نسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔ منکوحہ عورت سے زنا کرنا غیر منکوحہ سے کرنے کی بہ نسبت قبیح تر ہے۔ ہمسایہ کے گھروالوں سے زنا کرنا غیر ہمسایہ سے کرنے کی بہ نسبت زیادہ برا ہے۔ محرمات مثلاً بہن یابیٹی یا ماں سے زنا کرنا غیر عورت سے کرنے کی بہ نسبت اشنع ہے۔ مسجد میں زنا کرنا کسی اور جگہ کرنے سے اشدّ ہے۔ ان مثالوں میں ایک ہی فعل کی مختلف صورتوں کے درمیان گناہ ہونے کی حیثیت سے مدارج کا فرق انہی وجوہ سے ہے جو اوپر بیان ہوئے۔ جہاں مامونیت کی توقع جس قدر زیادہ ہے جہاں انسانی رابطہ جتنازیادہ مستحقِ احترام ہے اور جہاں اس رابطہ کو قطع کرنا جس قدر زیادہ موجبِ فساد ہے وہاں زنا کا ارتکاب اسی قدر زیادہ شدید گناہ ہے۔ اسی معنی کے لحاظ سے گناہ کے لیے ” فجور “ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
Ayah 4:32وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَافَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبُوْا ط وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبْنَ ط وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا
(نہ تمنا کرو اس چیز کی جس میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہے۔ مردوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو، بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے) (النسآء : 32)
انسانی زندگی میں مفاسد کا اہم سبب خلقی اور غیراختیاری امور میں غلط سوچ اور رویہ ہے
انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مفاسد پیدا ہونے کے مختلف اسباب ہیں۔ ان میں سب سے بڑا سبب انسان کی سوچ کا بگاڑ ہے۔ اس آیت کریمہ میں نہائیت حکمت کے ساتھ اس غلط سوچ کی طرف دلائی گئی ہے۔ انسان جب اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی انسانی زندگی کے تنوع کو دیکھتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ انسانوں کی خلقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ ان کے درمیان متعدد حیثیتوں سے فرق پایا جاتا ہے۔ کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدصورت، کوئی طاقتور ہے اور کوئی کمزور، کوئی خوش آواز ہے اور کوئی بدآواز، کوئی سلیم الاعضا ہے اور کوئی معذور، کوئی جسمانی اور ذہنی قوتوں سے مالا مال ہے اور کوئی اس لحاظ سے مفلس، کسی نے امیر گھر میں جنم لیا ہے اور کسی نے غریب گھر میں، کوئی عالی نسب خاندان سے نسبت رکھتا ہے اور کوئی معمولی خاندان سے، کسی کے لیے آگے بڑھنے کے امکانات کشادہ ہیں اور کسی کے لیے دست وبازو کے سوا کوئی سہارا نہیں۔ انسان جب اس قسم کے مختلف تضادات کو دیکھتا ہے تو وہ بجائے اس کے کہ اس کی حقیقت کو سمجھے، وہ اپنی حالت کو دیکھ کر کڑھنے لگتا ہے اور اپنی کمتر حالت کو قدرت کی طرف منسوب کرکے اپنی بدقسمتی پر شاکی ہو کر بیٹھ جاتا ہے حالانکہ اگر وہ حقیقت پر ذراغور کرتا تو اس کے لیے یہ بات سمجھنا مشکل نہ تھا کہ انسانوں میں یہ فرق اور امتیاز انسانی تمدن کی ضرورت بھی ہے اور انسانی زندگی کی آسانیوں کا راز بھی ہے کیونکہ اگر دنیا میں تمام انسان ہر حیثیت سے یکساں ہوتے تو انسانی ضرورتیں کبھی پوری نہ ہوتیں اور تمدن کی گونا گونی کبھی وجود میں نہ آتی کیونکہ ؎
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
انسانی زندگی اور خود ہماری گردوپیش کی دنیا اسی حقیقت کی ترجمان ہے۔ ہم قدم قدم پر اس اختلاف اور تنوع سے محظوظ ہوتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی، بہار اور خزاں کا آنا جانا، میدانی علاقوں میں رنگارنگ لہلہاتی فصلیں، بہتے ہوئے دریا، رواں دواں نالے اور جھیلیں اور پھر اس کے مقابلے میں سربفلک پہاڑ، ان کے دامن میں جھنڈوں کی طرح گڑے ہوئے مختلف درخت، ان میں ابلتے ہوئے چشمے، گرتی ہوئی آبشاریں، یہ وہ تنوع اور اختلاف ہے جو انسانی زندگی کو یکسانی کی کلفت سے بچاتا ہے اور زمین کو حسن آرا بنا دیتا ہے۔ یہی حال انسانی زندگی کا بھی ہے اگر سب لوگ خوبصورت ہوتے خوبصورتی کی قدر ختم ہوجاتی۔ سب لوگ تنومند اور سلیم الاعضا ہوتے تو نجانے کتنے نازک احساس اپنی موت آپ مرجاتے۔ اگر سب مالدار ہوتے تو کوئی کسی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے آگے نہ بڑھتا۔ ہر شخص کو خود بڑھئی، مزدور، معمار، خوانچہ فروش، دکاندار، سیلزمین، کاشتکار، خاکروب، سب کچھ خود بننا پڑتا۔ چھوٹا کام کرکے روٹی کمانے والے لوگ جب کام سے رک جاتے تو گندم پیدا کرنے، آٹا پیسنے، روٹی کمانے، جوتا گانٹھنے، کپڑا بننے، عمارت تعمیر کرنے، غرضیکہ زندگی کے ہر کام کرنے والا کوئی نہ رہتاتو انسانی ضرورتیں کیسے پوری ہوتیں ؟ اور یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ ایک عالم دین اور یونیورسٹی کا پروفیسر علمی انہماک چھوڑ کر ان ضرورتوں کے پورا کرنے میں لگ جاتا۔ ملک کی سرحدوں کے محافظ حفاظت ترک کرکے کاشتکاری میں کھپ جاتے۔ انسانی زندگی اگر انسانی ضرورتوں کے پورا ہونے کا نام ہے تو اس کا تمام تر دارومدار اللہ کی اس حکمت تخلیق پر ہے کہ اس نے سب کو یکساں پیدا نہیں فرمایا۔ اس لیے سب سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں میں یہ فرق و امتیاز عین مقتضائے حکمت ہے۔ البتہ ! یہ فرق اس وقت ظلم بن جاتا ہے جب انسان اسے فطری حدود سے بڑھاکرمصنوعی امتیازات سے اس میں اضافہ کردیتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص اور وہ قوم جو اس خلقی فرق اور امتیاز کو مٹادینے کی کوشش کرتی ہے وہ فطرت سے جنگ کرتی ہے اور اس سے دوسری نوعیت کا فساد برپا ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کے لیے عافیت کا راستہ یہ ہے کہ ایسے امتیازات اور اختلافات جو خلقی اور اس کے لیے غیر اختیاری ہیں انھیں کبھی اپنا مسئلہ نہ بنائے ورنہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کی اجتماعی زندگی، حسد، رقابت، عداوت اور مزاحمت کی کشاکش سے خون خون ہوجائے گی کیونکہ یہ امتیازات اس کے مٹائے سے تو مٹیں گے نہیں، وہ یقینا اس کے لیے ناجائز تدبیروں سے کام لینے کی کوشش کرے گا۔ یہیں سے وہ ایک ایسے راستے پر چل پڑے گا جوا نسانیت کے لیے تباہی کا راستہ ہے۔ اس لیے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ اللہ نے اگر ایک کو دوسرے پر غیراختیاری معاملات میں ترجیح سے نوازا ہے تو اس کی حکمت کا تقاضا انسانی تمدن کی ضرورت اور تمہاری ضروریاتِ زندگی کا مطالبہ اور حسن ہے۔
اس حکمت کا ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ بعض دفعہ آدمی اختیاری معاملات میں کوشش کے باوجود بھی ناکامی کا شکار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں عقل کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی دوبارہ سہ بارہ کوشش کرے اور اللہ سے کامیابی کی دعا کرے۔ لیکن بعض لوگ اسے قسمت کا مسئلہ بناکر ہمت ہار دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شائد قدرت نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آدمی غیرجانبداری سے غور کرے تو وہ محسوس کرے گا کہ جس کام کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ میں نے پوری کوشش سے اسے انجام دینے کی کوشش کی ہے، درحقیقت میری کوشش میں کئی کمزوریاں رہی ہیں۔ اگر میں ان کمزوریوں کو دور کرلیتا تو یقینا اللہ مجھے بھی کامیابی عطا فرما دیتا ۔ البتہ ! کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آدمی اپنی امکانی مساعی کے باوجو دبھی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قدرت میرے ساتھ ناکامی کی صورت میں کوئی بھلائی کررہی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ آدمی جس کو اپنے لیے کامیابی سمجھتا ہو حقیقت میں وہی اس کے لیے کامیابی ہو۔ بسا اوقات ایسا دیکھا گیا ہے کہ وقتی طور پر کسی ناکامی نے آدمی کو پریشان کیا ہے لیکن آئندہ چل کر اسی ناکامی سے اس کے لیے کامیابی کا راستہ نکلایا وہی نا کامی اس کے لیے رحمت ثابت ہوئی۔ مولانا محمد علی جوہر برصغیر کے مسلمانوں کے قابل فخر رہنما تھے۔ آکسفورڈ جانے سے پہلے ان کے خیالات قومی سیاستدانوں سے مختلف نہیں تھے۔ بہت سے معاملات میں حکومت کی ہمنوائی کرتے تھے۔ آکسفورڈ پڑھنے گئے ان کے ذہن میں آئندہ زندگی کا تصور حکومت کے کسی عہدہ ومنصب کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے نوکر شاہی میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکیں۔ لیکن خدا کا کرنا یہ ہوا کہ وہ فیل ہوگئے۔ یہ صدمہ ان کے اور ان کے خاندان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا لیکن اسی ناکامی سے وہ محمد علی جوہر پیدا ہوئے جس کی صورت میں اللہ نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسا رہنما عطا کیا جس کا دل صرف مسلمانوں کے لیے دھڑکتا تھا۔ زندگی میں ایسی مثالیں آپ کو بکثرت ملیں گی کہ اللہ تعالیٰ نے ناکامیوں میں کامیابیوں کا راستہ روشن کردیا۔
حاصل کلام یہ کہ غیر اختیاری معاملات میں اللہ نے انسانوں میں سے ایک دوسرے کو جو فضیلت عطا فرمائی ہے اور انسانوں میں مختلف حیثیتوں سے جو امتیازات رکھے ہیں وہ انسانی زندگی کی ضرورت بھی ہیں اور انسانی تمدن کا حسن بھی۔ اس لیے کسی بھی انسان کو ایسے امتیازات میں منفی جذبات کا اسیر نہیں ہونا چاہیے اور دوسری یہ بات کہ کامیابیاں بھی اللہ کی دین ہیں اور ناکامیاں بھی۔ ناکامیوں کو بدقسمتی سے تعبیر کرنا انتہائی کوتاہ فکری ہے۔ ہوسکتا ہے یہی ناکامیاں مستقبل کی کامیابی کی نوید بن جائیں۔ البتہ انسان کی محنت وعمل کا اصل میدان اختیاری امور ہیں، ان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا نہ صرف محمود ہے بلکہ مسابقت فی الخیر ات کا حکم دیا گیا ہے۔ مسابقت اور تنافس کا میدان خلقی صفات یا فطری ترجیحات نہیں بلکہ اکتسابی صفات ہیں۔ علمی فضائل، اخلاقی کمالات اور کاروباری معاملات میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ اسی طرح نیکی تقویٰ ، عبادت، ریاضت، توبہ، انابت، یعنی ایمان وعمل صالح کا میدان درحقیقت وہ میدان ہے جس میں ہر ایک کے لیے مسابقت کے دروازے کھلے ہیں اور ہر ایک کو اپنی محنت اور اپنی جدوجہد کا پورا ثمرہ ملے گا۔ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبُوْا ط وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبْنَ کا یہی مفہوم ہے۔ مرد اور عورت اس میدان میں یکساں ہیں جو بھی محنت اور عمل سے آگے بڑھ جائے گا وہ اللہ کے ہاں فضیلت پاجائے گا۔ مرد کو اس لیے آگے بڑھنے کا حق نہیں ملے گا کہ وہ مرد ہے اور عورت کو اس لیے پیچھے نہیں ہٹادیا جائے گا کہ وہ عورت ہے بلکہ دونوں اپنے اپنے ایمان وعمل اور علمی اور اخلاقی کمالات کے اعتبار سے دنیا میں بھی عزت پائیں گے اور قیامت کے دن بھی باریاب ہوں گے۔ مزید فرمایا : وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اس میں ایک عجیب و غریب حکمت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ آدمی بعض دفعہ کسی کو اپنے سے بہتر حال میں دیکھتا ہے تو وہ اللہ سے اس جیسا ہونے کی دعا کرتا ہے۔ کبھی دولت مانگتا ہے، کبھی عزوجاہ کی تمنا کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص کو جس چیز کی وجہ سے عزت وناموری ملی ہے اور جس چیز کی وجہ سے اس کے گھر میں دولت کی ریل پیل اور آسودگی ہے وہی چیز مجھے بھی مل جائے تو میں بھی اس جیسا ہوجاؤں گا۔
اللہ کے فضل کو متعین اور مقید نہ کرو
یہاں فرمایا جارہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے کسی متعین چیز کی دعا نہ کرو کہ مجھے فلاں شخص جیسا بنادے بلکہ اللہ تعالیٰ سے صرف فضل مانگو کیونکہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہر شخص کے لیے جدا جدا صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کسی کے لیے مال و دولت فضلِ الٰہی ہوتا ہے اگر وہ فقیر ہوجائے تو گناہ وکفر میں مبتلا ہوجائے اور کسی کے لیے تنگی اور تنگدستی ہی اس کا فضل ہے کیونکہ اگر وہ غنی اور مالدار ہوجائے تو ہزاروں گناہوں کا شکار ہوجائے۔ یہی حال باقی کمالات کا بھی ہے، ہر شخص الگ الگ ظرف دے کر پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کون سی حالت کس شخص کے لیے بہتر ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے صرف فضل مانگا جائے گا تو وہ وہ چیز عطا فرمائے گا جو مانگنے والے کے لیے خیروبرکت کا باعث ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس کا علم اور اس کی حکمت خوب جانتی ہے کہ میرا کون سا بندہ کس حال میں آسودہ رہ سکتا ہے اور اس کی کون سی حالت اس کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سبب بن سکتی ہے۔
Ayah 4:33وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ط وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُـکُمْ فَاٰ تُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا ع
(ہر ایک کے لیے ہم نے مقرر کردئیے ہیں وارث اس مال کے جو والدین اور قرابتدار چھوڑ جائیں۔ رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدوپیمان ہوں تو ان کا حصہ انھیں دے دو ، بیشک اللہ ہر چیز پر نگران ہے) (النسآء : 33)
نظامِ میراث قطعی ہے
قرآن کریم میں نظام میراث نازل ہونے سے پہلے عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ دوست و احباب آپس میں عہدوپیمان کرلیتے کہ تم میری وراثت میں حصہ دار بنوگے اور میں تمہاری وراثت میں حصہ دار بنوں گا۔ اسی طرح منہ بولے بیٹے کو بھی وارث سمجھا جاتا تھا۔ اس آیت کریمہ میں جاہلیت کے ان تمام طریقوں کو منسوخ کرتے ہوئے فرمایا : ہم نے وارثوں کا حصہ مقرر کردیا ہے اور وارث بھی مقرر کردیئے ہیں اس لیے عہدوپیمان کے ذریعے نہ کوئی کسی کا وارث ہوسکتا ہے نہ احکامِ میراث میں تبدیلی کرسکتا ہے۔ البتہ ! اگر کوئی شخص وارثوں میں شامل نہیں توتہائی مال میں مرنے والا اس کے لیے وصیت کرسکتا ہے۔ تو اگر کسی نے کسی غیروارث کو کچھ دینے کا وعدہ کررکھا ہے اور وہ ایک تہائی سے کم ہے تو یہاں حکم دیا گیا ہے کہ ایسے شخص کو وعدے کے مطابق اس کا حصہ دے دو ۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ اگر تم نے بلاوجہ ان احکام میں تبدیلی لانے کے لیے کوئی مخفی یا فرضی کوشش کی تو وہ اللہ تعالیٰ کے علم سے مخفی نہیں رہ سکتی وہ ہر جگہ حاضر وناظر اور ہر جلی اور خفی کا جاننے والا ہے تمہاری بھی ہر طرح کی کوششوں سے باخبر ہے۔