4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:37

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ Open ayah 4:37 in the Quran reader

جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بھی بخالت کا مشورہ دیتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل میں سے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کررکھا ہے

الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ وَیَـکْتُمُوْنَ مَـآاٰ تٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَاَعْتَدْنَا لِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا ج (جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بھی بخالت کا مشورہ دیتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل میں سے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کررکھا ہے) (النسآء : 37) ایک مومن بخیل نہیں ہوتا 1 اکڑنے والے اور تکبر کرنے والوں میں تکبر کے باعث جو مذموم خصوصیات پیدا ہوتی ہیں ان میں پہلی خصوصیت بخل کرنا ہے اسلامی زندگی میں بخل کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو عادتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہوتیں ” بخل اور بد اخلاقی “۔ جس طرح اسلامی معاشرے میں ہر طرح کی بداخلاقی ناقابلِ برداشت ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلامی معاشرے میں باہمی تعلقات میں بخل نہایت قابل نفرت چیز ہے کیونکہ بخل بجائے خود کوئی بیماری نہیں وہ انسان کے اس بگاڑ کا اظہار ہے جس کی جڑیں اس کے دل و دماغ میں ہیں۔ آدمی جب یہ سمجھتا ہے کہ میں نے جو کچھ کمایا ہے یہ میری دماغی صلاحیت اور دست وبازو کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس لیے بجا طور پر مجھے حق پہنچتا ہے کہ میں اپنی ذات کے سوا کہیں اور خرچ نہ کروں اور اسے سینت سینت کر رکھوں تاکہ اس میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے۔ یہ وہ قارونی ذہنیت ہے جس کے پیدا ہوجانے کے بعد اللہ سے تعلق نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے اور اپنی ذاتی صلاحیتوں پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ یہی اعتماد ہے جو جب تکبر کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو پھر اس کی نگاہوں میں انسانی رشتے قابل لحاظ نہیں رہتے۔ وہ اپنی ذات کے گنبد میں ایسا اسیر ہوتا ہے کہ اسے اپنی ذات کے باہر نہ تو کوئی رشتہ نظر آتا ہے نہ کوئی ضرورت نظر آتی ہے، حتی کہ ہمدردی اور خیرخواہی جیسے الفاظ اس کے نزدیک بےمعنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ سے مانگنے کا تصور بھی اس کے دل و دماغ سے نکل جاتا ہے۔ اسلام کے تمام تصورات کی اساس توحید ہے جس ذہنیت سے اس بنیادی اساس کو نقصان پہنچتاہو۔ اس کے بارے میں اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کی نگاہ میں کس قدر مبغوض ہوگی۔ ایسی ذہنیت والے آدمی کو آپ اللہ کا نام لے کر یا انسانیت کا نام لے کر کسی بھلائی کے لیے آمادہ نہیں کرسکتے۔ وہ ایک طرف اگر اللہ کی ذات سے کٹ جاتا ہے تو دوسری طرف انسانیت سے اس کا رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ صرف لکشمی دیوی کی پوجا کرتا ہے اور یہ دھن کی محبت اس کی پوری ذات کا اس طرح احاطہ کرلیتی ہے کہ وہ انسانیت کی بڑی سے بڑی ضرورت اور اخلاق کی بڑی سے بڑی قدر کو بھی ہمیشہ درہم ودینا رکے ترازو میں تولتا ہے۔ وہ ہر بھلائی کے تصور سے کٹ کر دولت کے تصور سے اس طرح جڑ جاتا ہے کہ معدہ ہی اس کا مطاف ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر معاملے پر جب بھی غور کرے گا دولت دنیا کے حوالے سے غور کرے گا۔ اس کی تمام ترجیحات دولت کے کم وبیش ہونے سے وابستہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بخیل کس شخص کو کہتے ہیں ؟ لیکن یہ بات ذہن میں رکھئے کہ بخیل اس آدمی کو نہیں کہتے جو اپنی ذات پر خرچ کرنا پسند نہ کرتاہو بلکہ بخیل اس شخص کو کہتے ہیں جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں تنگ دل ہو اور کسی بھی خیر کے موقعہ پر اس کا ہاتھ کھلنے کی بجائے گردن سے حمائل ہوجاتاہو۔ اگرچہ اسلام نے دولت اور نعمت کے ہوتے ہوئے اپنی ذات پر بےجا سختی کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ جس شخص کو اللہ نے نعمتوں سے نوازا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رہن سہن، اپنے لباس اور میل جول سے اس کا اظہار بھی کرے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اپنے آپ کو بہت سادہ رکھ کر سب کچھ اللہ کے راستے میں یا اللہ کے بندوں پر خرچ کردیتا ہے تو اسے بخل نہیں کہتے اور نہ یہ اللہ کے نزدیک مذموم ہے بلکہ اگر اس سے کسی غلط فہمی کا اندیشہ نہ ہو تو اسے محمود ہی کہا جائے گا۔ بالخصوص وہ لوگ جو تخت اقتدار پر فائز ہوں یا بڑے عہدہ و منصب کے مالک ہوں یا امیر کبیر ہونے کی شہرت رکھتے ہوں تو ایسے لوگوں کی سادگی اور اپنے آپ پر کم سے کم خرچ کرنے کی عادت نہ صرف کہ کوئی برائی نہیں بلکہ اللہ کے نزدیک بھی باعث ِ اجر ہے اور بندوں کی نگاہ میں بھی مادہ اور مادی زندگی کو حقیر جاننے کی ایک قابل قدر کوشش ہے۔ جس کے اثرات ہمیشہ دیکھنے والوں پر اچھے ہی ثابت ہوتے ہیں۔ خلفائے راشدین کا نہایت سادہ زندگی گزارنا، موٹا جھوٹا کھانا، پیوند زدہ کپڑے پہننا، آج تک ایک قابل تعریف عمل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ہماری قریبی تاریخ میں آخری نظام حیدرآباد دکن اپنے سیاسی فیصلوں کے علاوہ اپنی اس خوبی کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہیں گے کہ انھوں نے بڑی بڑی مساجد اور بڑے بڑے اداروں کو دل کھول کر سرمایہ فراہم کیا لیکن ان کا اپنا لباس اور اپنی ضرورت کی چیزیں ایک عام آدمی کی سطح سے زیادہ نہیں تھیں۔ ہماری قریبی تاریخ میں ایک مشہور سرجن گزرے ہیں جو ڈاکڑ امیرالدین مرحوم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انھیں ایک دفعہ جب ان کے داماد نے بتایا کہ اگر ایک اے۔ سی (A.C.) بند کردیا جائے تو کئی غریب گھروں کو بجلی مل سکتی ہے۔ تو وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور انھوں نے اے۔ سی بند کردیا۔ اس کے بعد برسوں زندہ رہے لیکن پھر کبھی اے۔ سی نہیں چلایا۔ انھیں جب بھی توجہ دلائی جاتی کہ گرمی بہت ہے آپ اے۔ سی چلانے کی اجازت دے دیں تو وہ ہمیشہ اپنے داماد کی بات دہراتے۔ اس طرح کی بیشمار مثالیں آپ اپنے گردوپیش میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن بخل میں جو چیز نہایت قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسروں کے حقوق فیاضی اور کشادہ دلی سے ادا کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو وہ اپنی کوتاہی کے مطابق بخیل کہا جائے گا۔ آنحضرت ﷺ نے اسی عادت بد کو مسلمانوں سے دور رکھنے کے لیے بارہا بخل کی مذمت فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ہر صبح کے وقت دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ کہتا ہے اے اللہ ! بھلائی کے راستہ میں خرچ کرنے والے کو اچھا عوض عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ ! بخیل کو تباہی سے ہمکنار کر۔ (بخاری و مسلم) آنحضرت ﷺ نے حضرت اسماء ( رض) سے فرمایا : بھلائی کے راستے میں خرچ کیا کر اور گن گن کر نہ دیاکرورنہ اللہ بھی تمہارے حق میں گننا شروع کردے گا۔ بخل معلوم ہوتا ہے ایک حالت پر اکتفا کرنے والی بیماری نہیں بلکہ اس کی نئی نئی شاخیں پھوٹتی ہیں اور سرطان کی طرح یہ ناسور پھیلتا جاتا ہے۔ چناچہ اس سے جو دوسری برائی جنم لیتی ہے۔ 2 اس کے بارے میں قرآن کریم نے کہا : وَیَامُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ ” وہ لوگوں کو بخل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں “۔ یعنی ان کی عادت بد اپنے بخل کی حد تک قناعت نہیں کرتی بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی بخل کریں تاکہ ان کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔ ایک آدمی جب دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا تو وہ اپنے عزیزوں اور اپنے ملنے والوں سے بھی چاہتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کے حقوق دبائے رکھیں کیونکہ جب اس کے گردوپیش میں ایک ہی طرح کی ذہنیت کے لوگ ہوں گے تو کوئی اس کی طرف انگلی نہیں اٹھائے گا کیونکہ انسان کی فطرت یہ ہے کہ افراد کے ضمیر تو سوجاتے ہیں اجتماعی زندگی کا ضمیر نہیں مرتا۔ ان میں کچھ نہ کچھ ایسے رہتے ہیں جو برائی سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور برائی کرنے والوں کی طرف انگلی اٹھاتے ہیں۔ سخاوت اور بخل کا تعلق چونکہ عام انسانی معاملات سے ہے جس طرح سخاوت نیک نامی کا باعث بنتی ہے اسی طرح بخل سے بدنامی پھیلتی ہے اور کبھی نہ کبھی بخیل کو اس بدنامی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے بخیل کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے گردوپیش میں رہنے والے لوگوں میں اپنی ذہنیت پیدا کردے تاکہ اسے کبھی اس صورتحال سے واسطہ نہ پڑے۔ یہ جو کچھ میں نے عرض کیا ہے اس کا تعلق عموماً ان لوگوں سے ہے جنھیں مال و دولت سے اس حد تک محبت ہوجاتی ہے کہ باقی تمام وابستگیاں اور محبتیں انسانی رشتے اور اخلاقی قدریں ان کے سامنے ماند پڑجاتی ہیں۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مال و دولت کی محبت کے ساتھ ساتھ بعض خانہ ساز قسم کے نظریات یا باطل قوتوں کے ساتھ دل و دماغ کے ایسے رشتے وابستہ ہوجاتے ہیں کہ پھر آدمی مال و دولت کے ساتھ ساتھ ان رشتوں اور وابستگیوں کے حوالے سے بھی دیکھتا ہے۔ چناچہ اس کی سب سے واضح مثال قرآن کریم میں منافقین کا وہ رویہ ہے جس کا ذکر پروردگار نے ” سورة المنافقون “ میں فرمایا ہے۔ ایک غزوہ میں حضرت عمر فاروق ( رض) کے ملازم اور ایک انصاری کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا دونوں نے اپنے اپنے حمائیتیوں کو پکارا۔ آنحضرت ﷺ بروقت پہنچ گئے اور لڑائی کا خطرہ ٹل گیا آپ نے اس پر برہمی کا اظہار فرمایا اور اصلاح کے لیے نصیحتیں فرمائیں۔ لیکن منافقین جو اس غزوہ میں مسلمانوں کے ساتھ تھے ان کے رئیس عبداللہ بن ابی کو جیسے ہی ان کے ساتھ تخلیہ میں بیٹھنے کا موقعہ ملا تو اس نے کہا یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم نے ان مہاجرین کو اپنے یہاں پناہ دی او اپنے گھر ان کے لیے کھول دیئے، اب وہ تمہیں ہی آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کتے کو کھلائو پلائو کہ وہ تمہیں پر بھونکے۔ آنحضرت ﷺ کو اس کی اس یا وہ گوئی کی اطلاع دی گئی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھاتو صاف مکر گیا۔ ” سورة المنافقون “ نے نازل ہو کر ان کا سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔ چناچہ جو کچھ انھوں نے کہا ان میں سے ایک بات کا قرآن کریم نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا : ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَرَسُوْلِ اللّٰہِ حَتٰٓی یَنْفَضُّوْا (یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر مت خرچ کروتا کہ یہ لوگ چلتے بنیں۔ ) ان الفاظ پر غور کیجیے ! یہ ایک اجتماعی بخل کی مثال ہے اور جس کے پیچھے صرف مال و دولت کی محبت کارفرما نہیں بلکہ منافقت کے جذبات، باطل سے گہرا تعلق اور اسلام دشمنی بھی اپنا کام دکھارہی ہے۔ یہ بخل کی بدترین مثال ہے اس کے آئینہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بخل کا حکم دینا یا بخل کا مشورہ دینا کسے کہتے ہیں ورنہ آدمی یہ الفاظ پڑھ کر حیران ہوجاتا ہے کہ یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ لوگ اپنے مال و دولت کے معاملے میں بخیل ہوتے ہیں لیکن وہ دوسروں کو اس کا حکم دیتے ہیں یا مشورہ دیتے ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس مثال سے اسے بڑی آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ہمارے اپنے ملک میں ہماری قریبی تاریخ میں اس کی مثالیں موجود رہی ہیں۔ روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو تیس لاکھ کے قریب مہاجرین ہمارے ملک میں آگئے۔ انھوں نے ایک اسلامی ملک میں اپنی جانیں اور عزتیں بچانے کے لیے پناہ لی۔ اہل پاکستان کے لیے لازم ہوگیا کہ وہ ان مہاجرین کے لیے انصار کا کردار ادا کریں۔ لیکن آپ اخباروں کے فائل اٹھاکردیکھیں آپ کو ایسے مضامین کی بڑی تعداد ملے گی جس میں ان مہاجرین پر خرچ کرنے سے روکا گیا ہے اور باربار ملکی وسائل کی کمی کا حوالہ دیا گیا ہے حالانکہ اصل حقیقت بائیں بازو سے تعلق لادینی قوتوں کی ایجنٹی اور اسلامی اخوت سے دشمنی تھی۔ اس لیے کیسے کیسے دانشور اپنی حکومت کو بخل کے مشورے دے رہے تھے۔ گزشتہ دو سال سے امریکہ نے اسلامی ملکوں میں جو حالات پیدا کردیئے ہیں اور جس نے دو مسلمان ملکوں کو ادھیڑ کدھیڑ کر رکھ دیا ہے اسلامی رشتے کے حوالے سے ہمارا فرض تو یہ تھا کہ ہم اسلام کے رشتے سے ہر طرح کے مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دیتے ان کی جانیں اور عزتیں بچاتے اور ان کے لیے انصار ہونے کا ثبوت دیتے۔ لیکن اس کے برعکس ہو یہ رہا ہے کہ نہ صرف کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے جانی دشمن ہوگئے ہیں بلکہ جہاں جہاں بھی خیر کے مراکز ہیں جہاں سے اسلام کو کسی طرح بھی سپورٹ (Support) مل رہی ہے، ہمیں باہر اور اندر سے یہ مشورے دیئے جارہے ہیں کہ آپ ایسے تمام مراکز اور اداروں کی مدد سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اگر آپ ایسانھیں کریں گے تو آپ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ میں حیران ہوں کہ قرآن کریم کے یہ الفاظ جو کل تک ہمارے لیے ناقابلِ فہم تھے آج ایک حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہیں۔ منافقت نے آج تک کبھی اتنی صراحت اور جرأت کے ساتھ گھونگھٹ نہیں الٹا ہوگا۔ ایک عرصہ دراز سے غیرمسلم قوتیں مسلمانوں کے ساتھ منافقت کا کھیل کھیل رہی تھیں اور خود مسلمانوں کے اندر چھپے ہوئے منافق پانچویں کلام کا کردار ادا کررہے تھے۔ لیکن اب انھوں نے براہ راست مسلمانوں کی زندگی کے سرچشموں پر حملہ کردیا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہم تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے امت مسلمہ کی اکثریت کو اصل مقصد اور اصل اہداف سے دور کرچکے ہیں۔ لیکن ایک محدود اقلیت ابھی تک دینی مدارس میں پڑھ رہی ہے اور ابھی مسلمانوں میں اس کے اثرات باقی ہیں۔ ان کی مساجد کو وہیں سے کارکن میسر آتے ہیں۔ ان کی دینی زندگی کی راہنمائی وہیں سے ہوتی ہے۔ وہاں سے نکلنے والے اپنی دنیا برباد کرکے دین کی آبادی کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ انھیں کے دم سے نوجوانوں میں روح محمد ﷺ باقی ہے اور انھیں کی وجہ سے غیرت دینی کو ابھی تک ختم نہیں کیا جاسکا۔ ایک طرف تو دہشت گردی کا لیبل لگا کر ان پر ہاتھ ڈالنے کا راستہ نکالا اور دوسری طرف علم دین کے سرچشموں کو خشک کرنے کے لیے دولت مندوں کو حکم دیا کہ ان اداروں کو امداد دینا بند کردیں۔ ملک میں اگر کپڑے کی قلت پیدا کرنی ہو تو اس کا طریقہ یہ نہیں کہ کپڑا جلانا شروع کردیا جائے بلکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی کپڑے کی صنعت اور کپڑے کا خام مال دستیاب ہوتا ہے اسے برباد کردو۔ دینی مدارس علم دین کی فیکٹریاں ہیں، یہاں سے علم دین بھی پر وڈیوس Produce ہوتا ہے اور رجالِ دین بھی۔ اگر انھیں وسائل سے تہی دامن کردیا جائے تو یہ خود بخود بند ہوجائیں گی اور رفتہ رفتہ نتیجہ یہ ہوگا کہ دین کے پڑھنے پڑھانے والے ختم ہوجائیں گے۔ کاش ! ہمیں اندازہ ہوتا کہ یہ کتنا بڑا خطرناک اقدام ہے جو غیر مسلم قوتوں اور اپنے ملک کے منافقین کی طرف سے ہورہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے سب سے پہلے اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے صفہ کا ایک چبوترا بنایا جس میں رات دن قران وسنت کا علم حاصل کرنے والے پڑے رہتے تھے۔ آنحضرت ﷺ جہاں ان کی تربیت فرماتے تھے وہیں ان کی ساری ضروریات کے کفیل بھی تھے۔ پہلے آپ ان کی ضروریات کا انتظام فرماتے بعد میں اپنے گھر کی خبرلیتے۔ آنحضرت ﷺ کی نگاہ میں ان لوگوں کی کس قدر اہمیت تھی اور آپ کے دل میں ان کے لیے کس قدر شفقت تھی اس کا اندازہ آپ اس سے کرلیجیے کہ حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمارے پاس آکر اس حال میں لیٹ گئے کہ بھوک کی وجہ سے آپ کو نیند نہیں آرہی تھی اور ہمارا حال بھی ابتر تھا۔ اتنے میں ایک شخص دودھ کا ایک بڑاپیالہ لے کر آیا کہا مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اب حضور مجھے بھی اس میں سے حصہ عطا فرمائیں گے۔ لیکن آپ نے مجھے ہی حکم دیا کہ جاؤ جاکر تمام اصحابِ صفہ کو بلالائو۔ اس وقت ان کی تعدادستر کے قریب تھی۔ وہ سب آگئے تو مجھے خیال ہوا کہ شاید حضور سب سے پہلے مجھے ہی پینے کا حکم دیں۔ لیکن اس وقت تو میری مایوسی کی کوئی انتہانہ رہی جب آپ نے فرمایا کہ ابوہریرہ ان سب کو باری باری پلائو۔ میں نے ان کو پلانا شروع کیا تو ستر افراد ایک ایک کرکے سیرہوکر پی گئے لیکن پیالہ ویسے کا ویسے بھرارہا۔ اب حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ابوہریرہ تم پیو، میں نے سیر ہو کر پیا۔ حضور ﷺ نے پھر حکم دیا اور پیو، میں نے اور پیا۔ آپ نے مزید پینے کے لیے فرمایا لیکن اب میرے پیٹ میں کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے پیا تو پیالہ ختم ہوگیا۔ اندازہ فرمائیے ! جن لوگوں کا بچا ہوا اور جھوٹا سرکار رسالت مآب ﷺ پیتے ہیں اب انھیں کے راستے پر چلنے والوں اور انھیں کی سنت زندہ کرنے والوں کے لیے احکام جاری کیے جارہے ہیں کہ ان کا ناطقہ بند کردو، ان کے ذرائع کی تلاشی لو۔ مقصود صرف یہ ہے کہ علم کے یہ سوتے خشک ہوجائیں۔ یہ بخل کا حکم دینے کی بدترین مثال ہے۔ وَیَکْتُمُوْنَ مَـآاٰ تٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ (اور اللہ نے اپنے فضل میں سے انھیں جو کچھ دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں ) 3 یہ ان متکبروں اور خودپسندوں میں پیدا ہونے والی تیسری بری خصوصیت ہے جو درحقیقت بخل ہی کی ایک صورت ہے کہ ایسے لوگ جب لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام لیتے ہیں اور اپنی بدنامی سے بچنے کے لیے دوسروں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ گردوپیش میں کوئی ان کو ملامت کرنے والانہ رہے۔ لیکن آخری کوشش ان کی یہ ہوتی ہے کہ ان کی دولت کی خبر کسی شخص تک نہ پہنچنے پائے۔ لوگ انھیں ایک دولت مند آدمی ضرور سمجھیں تاکہ ان کا ایک رعب بھی باقی رہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا بھی یقین رکھیں کہ یہ شخص سب کچھ رکھتا ہوا بھی اس قدر مجبو رہے کہ کسی دوسرے کی مدد کرنے کے قابل نہیں کیونکہ ایسے لوگ ہر ملنے جلنے والے اور ہر مدد کے خواہش مند کے سامنے اپنے وسیع اخراجات، کاروبار میں نقصانات، اپنی پھیلی ہوئی ذمہ داریوں اور سائلوں کی کثرت کا اس طرح دکھڑاروتے ہیں کہ سننے والا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ شخص ہے تو بڑا دریا دل اور بڑا فیاض لیکن ذمہ داریوں کے بوجھ نے اس کا ہاتھ روک رکھا ہے چونکہ اس کے پاس بچتاکچھ نہیں اس لیے وہ کسی کی مدد کرنے کے قابل نہیں۔ اپنے مال و دولت کو چھپانابعض لوگوں کے یہاں ایک اور طریقے سے بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے رہنے سہنے، کھانے پینے، لباس، سواری اور گھر رکھنے کے معاملے میں اس طرح کارویہ اختیار رکھتے ہیں کہ دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ نہایت خستہ حال لوگ ہیں وہ نہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں گے، نہ لوگوں کی مدد کریں گے، نہ نیک کاموں میں حصہ لیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے ایسے لوگوں کو بھی تنبیہ فرمائی۔ آپ نے فرمایا : اِنَّ اللّٰہَ اِذَا اَنْعَمَ نِعْمَۃً عَلٰی عَبْدٍ اَحَبَّ اَنْ یَّظْہَرَ اَثْرُھَا (اللہ جب کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر بندے پر ظاہرہو) ۔ یعنی اس کے کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس اور مسکن اور اس کی داد ودہش ہر چیز سے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا اظہار ہو۔ وَاَعْتَدْنَا لِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا (ایسے کافروں کے لیے ہم نے رسواکن عذاب تیار کررکھا ہے) ایسے بخیل لوگ جو خودبھی اپنے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تلقین کریں اور اپنی دولت کو ہوا تک نہ لگنے دیں قیامت کے دن ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اس لیے رسواکن عذاب دیں گے کیونکہ انھوں نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ پہچانی اس کے شکر گزار بندے بننے کی بجائے اترانے والے اور تکبر کرنے والے بنے۔ انھوں نے اپنی دولت سے عیاشیاں کیں لیکن انسانیت ان کے سامنے ذلیل ہوتی رہی۔ اب ان کی سزا صرف عذاب ہی نہیں بلکہ رسوائی بھی ہونی چاہیے تاکہ یہ پوری طرح اپنے انجام کو پہنچیں۔
Ayah 4:38

وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا Open ayah 4:38 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے وہ نہایت برا ساتھی ہے

وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَـآئَ النَّاسِ وَلَایُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط وَمَنْ یَّـکُنِ الشَّیْطٰنُ لَـہٗ قَرِیْنًا فَسَآئَ قَرِیْنًا (اور وہ لوگ جو اپنے مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے وہ نہایت برا ساتھی ہے) (النسآء : 38) 4 ان متکبروں کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں پر، اللہ کے راستے میں اور خیر اور بھلائی کے کسی کام کے لیے تو ایک دمڑی خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے لیکن ایسی جگہوں اور ایسے کاموں میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں جہاں لوگ دیکھیں ان کے نام کا چرچاہو ان کی شہرت پھیلے اور لوگ تعریفیں کریں کہ فلاں آدمی کا کیا کہناوہ تو بہت فیاض آدمی ہے۔ وہ تو اجتماعی کاموں کے لیے بڑھ چڑھ کر خرچ کرتا ہے۔ حکومت کسی کام کے لیے اگر امرا کو دعوت دیتی ہے کہ اس میں حکومت کی مدد کرے یا کسی ادارے کو قائم کرنے کے لیے حکومت کوئی سکیم منظور کرتی ہے یا کوئی وقتی آفت آنے پر حکومت کی طرف سے اپیلیں ہوتی ہیں تو یہ لوگ دوسروں سے آگے بڑھ کر حکمرانوں کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں گے، وہاں بڑی بڑی رقموں کا اعلان کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ پوری کوشش کریں گے کہ ان کا یہ اعلان قومی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں تک پہنچ جائے تاکہ ان کی نیک نامی ہو اور حکومت کے بڑے بڑے لوگوں کے بھی علم میں آجائے تاکہ ان کی نگاہوں میں ان کی عزت پیداہو۔ جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں اس سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی رائے اپنے حق میں ہموار کریں اور ساتھ ہی ساتھ حکمرانوں کی نگاہوں میں بھی اپنا ایک مقام پیدا کریں۔ لوگوں کی رائے بدلنے کا فائدہ الیکشن کی صورت میں نکلتا ہے۔ لوگ ان کی ان نیک نامیوں کے باعث انھیں ووٹ دیتے ہیں اور یہ انھیں چندوں اور فیاضیوں کی وجہ سے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جاکر مختلف ذرائع سے وہ ساری کمی پوری کرتے ہیں جو آج تک ان کی فیاضیوں کے نتیجے میں ان کی دولت میں واقع ہوئی ہے اور حکمرانوں کا اعتبار حاصل کرکے ان سے مصنوعی اداروں کے لیے فنڈز منظور کرواتے ہیں اور ایسی ایسی مراعات حاصل کرتے ہیں جس سے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے میں انھیں مدد ملتی ہے۔ قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ یہ لوگ سب کچھ محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان کا دعویٰ تو رکھتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دلوں میں ایمان نہیں۔ وہ آخرت کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن انھیں ہرگز یقین نہیں کہ آخرت واقع ہوگی اور اس دن اپنے تمام اعمال کا جواب دینا پڑے گا۔ اللہ پر اس طرح کا ایمان کہ وہ آدمی کے ہر عمل کو دیکھتا ہے اس کی نیت کو جانتا ہے اس کے ارادوں سے واقف ہے، وہ ہرحال میں اس کانگران ہے، کوئی کام ہزار تنہائیوں میں کیا جائے وہ اس سے بھی واقف ہے۔ مزید یہ کہ اللہ کی قدرت بےپناہ ہے ہر چیز اس کے قبضے میں ہے، رزق کے خزانے بھی اسی کے پاس ہیں، وہ جسے چاہے خوشحالی دیتا ہے اور جسے چاہے بدحالی میں مبتلا کردیتا ہے، لیکن یہ خوشحالی اور بدحالی اس کی طرف سے بندے کی آزمائش ہے کہ وہ خوشحالی میں شکر گزار ہوتا ہے یانھیں اور بدحالی میں صبر کرتا ہے یانھیں اور ساتھ اس بات کا یقین رکھتا ہے یانھیں کہ رزق میں فراخی اور تنگی سراسر اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے مجھے ہمیشہ اسی کے سامنے دست سوال پھیلانا چاہیے۔ اور دوسرا اس بات کا یقین اور ایمان کہ میں جو کچھ کررہا ہوں میرا ایک ایک عمل محفوظ کیا جارہا ہے، میرے دونوں کندھوں پر دو لکھنے والے بیٹھے ہیں جو نہایت دیانت داری اور احتیاط کے ساتھ میرے اعمال کو منضبط کررہے ہیں۔ قیامت کا دن آئے گا جب مجھ سے میرے ایک ایک عمل کا حساب مانگا جائے گا۔ مجھ سے پوچھا جائے گا تم نے دولت کیسے کمائی اور کہاں خرچ کی ؟ یہ ایمان کے دو پہلو ہیں جو انسان کو راہ راست پر رکھتے ہیں۔ جس آدمی کو یقین ہو کہ میں اللہ کی نگاہوں میں ہوں وہ سرکشی کیسے کرسکتا ہے ؟ اور جسے ایمان ہو کہ ایک نہ ایک دن مجھے اپنے اعمال کی جواب دہی بھی کرنی ہے وہ اعمال کے بارے میں بےفکر اور لاپرواہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور وہ کس طرح اپنی دولت کو برے کاموں میں یا دکھاوے کے لیے خرچ کرسکتا ہے ؟ دکھاوے کے لیے تو عبادت بھی کی جائے تو شرک بن جاتی ہے چہ جائیکہ عام عمل اللہ کی رضا جوئی کے بجائے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کیا جائے۔ چناچہ جو لوگ ایمان کے ان دونوں پہلوئوں سے محروم ہوجاتے ہیں ان کی سوچ میں نہایت خطرناک تبدیلی آتی ہے۔ وہ پھر اسی دنیا کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک اسی دنیا کی خوشیاں اصل خوشیاں ہیں اور اسی کے غم حقیقی غم ہیں۔ جو آدمی اللہ پر ایمان کھودیتا ہے اور دولت اور اقتدار کو سب سے بڑی قوت سمجھتا ہے اور آخرت میں جواب دہی کے احساس سے بےنیاز ہوجاتا ہے اس کی دولت اللہ اور اس کے بندوں کی دولت نہیں بلکہ شیطان کی دولت بن جاتی ہے وہ مختلف سکیموں کے ذریعے دولت بھی کمائے گا اور سود کی لعنت بھی عام کرے گا۔ وہ مختلف اداروں پر خرچ کرے گا لیکن وہاں کسی خیر کا گزر نہیں ہوگا۔ وہاں ہر برائی اور ہر بےحیائی کو فروغ ملے گا۔ ہر وہ کام کرے گا جس سے اس کی دولت بڑھے اور اس کے ساتھ ساتھ شیطنت بھی پھیلے۔ اب اس کی خواہشات کی باگ دوڑ شیطان کے ہاتھ میں ہوگی۔ وہ جس راستے کی اسے ترغیب دے گا وہ ادھر چلے گا۔ اس کی مثال اس سوار کی ہوگی جو اپنے گھوڑے کے قابو میں آچکاہو اور لگام اس کے ہاتھ سے چھوٹ چکی ہو۔ اب گھوڑا اسے کھینچے پھرے گا۔ کچھ خبر نہیں کہ وہ اسے کس کھائی میں پھینکتا ہے۔ گھوڑا ایک جانور ہے جو اپنے مالک کو بچا بھی سکتا ہے اور مار بھی سکتا ہے۔ اس میں اگر بہیمیت کی وجہ سے نقصان رسانی کے پہلو ہیں تو اپنے مالک سے وفاداری کی وجہ سے بہتر امید بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن جو شخص شیطان کو اپنا دوست بنالے اور وہ ہر کام میں شیطان کی راہنمائی کو قبول کرلے اور شیطان کی انگیخت کو ہی اپنے نفس کا مطالبہ سمجھ بیٹھے اورا سی کے مطابق زندگی گزارنے کا فیصلہ کرلے تو ایسے شخص کی تباہی کے بارے میں دورائے نہیں ہوسکتیں کیونکہ شیطان ازل سے انسان کا دشمن ہے اس نے جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) سے دشمنی کی حضرت ِ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ان کی برتری کو تسلیم نہ کرنے کے باعث اسے راندہ ٔ درگاہ قراردیا گیا اور ذلت سے اسے وہاں سے نکلناپڑا۔ اس نے آدم کی اولاد سے اس کا انتقام لینے کا فیصلہ کرلیا اور پھر اس نے اپنے اس ارادے کو چھپایا نہیں بلکہ اللہ کے سامنے اس کا اظہار بھی کیا اس لیے قرآن کریم نے انسانوں کو اس سے باخبر کرتے ہوئے بتایا : اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْن (یہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے) ۔ ایسا خطرناک دشمن جس کا ساتھی بن جائے وہ یقینا اسے کسی ایک کھائی میں نہیں بلکہ زندگی کی ہر کھائی میں پھینکے گا اور جب تک اسے تباہ و برباد نہ کردے اسے چین نہیں آئے گا کیونکہ شیطان کی جو خصوصیات اور اس کے عزائم ہمیں قرآن وسنت سے معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تو وہ شیطان ہے جس کا نام ابلیس ہے اور ایک شیطانوں کی فوج ہے جو اس کی کمانڈ میں کام کرتی ہے اور جس کے سپاہی جنات میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔ یہ اس کا تمام لائو لشکر نہایت مستعدی کے ساتھ جن وانس کو بگاڑنے میں لگا رہتا ہے۔ اس کی چالیں اور گھاتیں اس قدر گہری اور اس قدر پراسرار ہیں کہ عام انسانوں کے لیے اس کا سمجھنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ وہ برائی کو برائی کی صورت میں اور برائی کا نام دے کر بہت کم متعارف کراتا ہے۔ بالخصوص ان لوگوں میں جو نیک ہونے کے باعث برائی کے نام سے چڑتے ہیں ان کے لیے تو ایسے خوبصورت قالب اور ٹائٹل کے ساتھ برائی کو پیش کرتا ہے کہ اس پر نیکی کا گمان ہوتا ہے اور پھر اس کام پر اس کی پوری فوج اس دیانت، اخلاص اور مستعدی سے کام کرتی ہے کہ انسانوں میں اس کا تصور بہت کم ہے۔ اس کے اور نیک لوگوں کے مقابلے کو دیکھتے ہوئے بعض دفعہ کچھوے اور خرگوش کی کہانی یاد آتی ہے، جو سکولوں میں بچوں کو پڑھائی جاتی ہے کہ دونوں نے آپس میں ریس لگائی۔ خرگوش یہ سوچ کر بےفکری سے سوگیا کہ میں چونکہ انتہائی تیز رفتار ہوں جب اٹھوں گا چھلانگتا پھلانگتا اس سے آگے نکل جاؤں گا اور کچھوا اپنی سست رفتاری کو محسوس کرکے مسلسل چلتارہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خرگوش اس وقت نیند سے جاگا جب کچھوا منزل پر پہنچ چکا تھا۔ اس کا حد سے بڑھا ہوا اعتماد اور اپنے مقصد سے لاپرواہی اور بےنیازی اسے لے بیٹھی۔ اسلامی اور شیطانی قوتوں کے مقابلے کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شیطانی قوتیں خرگوش کی مانند ہیں اور اسلامی قوتیں کچھوے کی طرح ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کہ کچھوا سو رہا ہے اور خرگوش جاگ رہا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جس کا دوست شیطان بن جائے اس کی دین سے بیزاری اور لادینیت سے محبت ہر خیر کے کام سے نفرت اور ہر شر کی طرف رغبت کا عالم کیا ہوگا ؟ یوں تو جو بھی شخص اللہ کے ذکر اور اس کی بندگی سے اعراض کرتا ہے، پروردگار فرماتے ہیں : ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں لیکن جو لوگ اپنا مال و دولت اللہ کے راستے میں اور اللہ کے بندوں پر خرچ کرنے کی بجائے اسراف اور تبذیر میں اڑاتے ہیں اور لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں ایسے تبذیر کرنے والوں کو تو قرآن کریم نے شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔ یہاں ایسے ہی لوگوں کو قرین اور دوست ٹھہرایا گیا ہے اور ساتھ ہی فرمایا جس شخص کا دوست شیطان بن جائے وہ نہایت برادوست ہے۔
Ayahs 4:39–40

وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا Open ayah 4:39 in the Quran reader

اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کررکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تو ان سے اچھی طرح باخب رہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:40 in the Quran reader

اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اگر ایک نیکی ہو تو اس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے

وَمَاذَا عَلَیْہِمْ لَواٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْامِمَّارَزَقَھُمُ اللّٰہُ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِھِمْ عَلِیْمًا اِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج وَاِنْ تَـکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْـہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کررکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تو ان سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اگر ایک نیکی ہو تو اس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے) (النسآء : 39 تا 40) متکبروں، بخیلوں، تنگ دلوں اور دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والوں پر پوری طرح بات کھول دینے اور ان کو آخری تنبیہ کردینے کے بعد اسلوبِ کلام بدل گیا ہے۔ ان لوگوں کو عذاب کی دھمکی اور سرزنش کے بعد بھی اپنی بدنصیبی کا احساس نہیں ہوا اور وہ اپنی حالت بدلنے پر تیار نہیں تو لہجہ بدل کر فرمایا کہ نادانوں تم اس ایک پہلو پر بھی غور کرکے دیکھو کہ ایمان سے محرومی اور انفاق سے کوتاہی نے تمہارے سیرت و کردار میں جو کانٹے بوئے ہیں اور تمہارے باہمی تعلقات میں جو ڈائنا میٹ بچھ گئے ہیں کہ تمہاری سماجی اور معاشرتی زندگی کھیل کھیل ہو کر رہ گئی ہے اور تم خود اپنی پیدا کردہ قیامت کا سامنا کررہے ہو۔ کاش ! تم اپنی اس حالت پر غور کرتے اور تم اپنی حالت کو بدلنے پر آمادہ ہوتے اور اس بےایمانی کے رویے کو ترک کرکے تم ایمان کی روش اختیار کرتے اور اللہ کے راستے میں انفاق کا فیصلہ کرتے تو ذرا سوچو تمہارا کیا بگڑجاتا۔ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودی ہے اور خود اپنے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ تم نے ہرگز نہیں سوچا کہ ایمان کے مقابلے میں بےایمانی، یقین کے مقابلے میں بےیقینی، انفاق کے مقابلے میں بخل، آخر تمہیں اور معاشرے کو کیا دے سکتے ہیں۔ اگر تم ایمان لے آتے تمہارے اندر کی بےاطمینانی نکل جاتی، تمہارے معاشرے میں یکسانی اور یکسوئی پیدا ہوتی، تم روشنی کے مسافر ہوتے، تمہیں اپنی منزل کا یقین ہوتا۔ اندازہ کرو ! اس سے تمہاری سوچ اور زندگی کے عمل میں کتنی خوبصورت تبدیلی واقع ہوتی اور پھر تم اگر بخل کی بجائے انفاق کا راستہ اختیار کرتے اور یہ سوچتے کہ میں جو بھی خرچ کررہا ہوں وہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کررہا ہوں کیونکہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کی دین اور اس کی امانت ہے۔ میں نے اگر دولت کے حصول میں محنت کی ہے تو محنت کا جذبہ بھی اسی کی عطا ہے اور اگر میں نے صلاحیت سے کام لیا ہے تو صلاحیت بھی تو اسی کی بخشی ہوئی ہے۔ جن عوامل نے میری دولت بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے ان میں سے کوئی سی چیز بھی اللہ کے علم اور اس کی گرفت سے باہر نہیں۔ جب میں ان احساسات کے ساتھ اس کے راستے میں خرچ کروں گا اور یہ سمجھ کر خرچ کروں گا کہ اللہ میرے ایک ایک عمل سے باخبر ہے اس کا علم بےحد وبے نہایت ہے۔ اس کی نگاہ سے کوئی چیز مخفی نہیں، وہ میری نیت سے بھی واقف ہے، اور اس کا کرم یہ ہے کہ وہ اپنے راستے پر خرچ کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ نوازتا ہے۔ میں اگر ایک پائی خرچ کروں تو وہ نجانے اس کے بدلے میں مجھے کیا کچھ عطا کردے کیونکہ اس کا ارشاد یہ ہے : اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مُثْقَالَ ذَرَّۃٍ (اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا) کسی کی حق تلفی نہیں کرتا۔ حق تلفی نہ کرنے کا مطلب تو یہ ہے کہ جتنا کسی نے خرچ کیا ہے اور جتنے اخلاص سے کیا ہے اتنا اسے واپس کردے۔ لیکن اس کے کرم اور فضل کا عالم تو یہ ہے کہ وہ فرماتا ہے : وَاِنْ تَـکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّـدُنْـہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (اگر ایک نیکی ہو تو وہ اس کو دوگنا چوگنا کردیتا ہے اور پھر اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے) کسی نیکی پر دس گنا اجر دینا تو اس کا عام معمول ہے۔ لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے اعمال بھی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ بیس لاکھ گنا اجرعطا فرماتے ہیں۔ نیکی میں جیسے جیسے اخلاص بڑھتا جاتا ہے اللہ پر اعتماد اور یقین میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ کی طرف سے نیکی میں اضافہ ہوتاچلا جاتا ہے۔ ہم چونکہ انھیں محض آخرت کی باتیں سمجھتے ہیں اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں تو دے گا ہی کیونکہ وہی حقیقت میں دارلجزا ہے۔ لیکن بعض دفعہ وہ دنیا میں بھی اسی طرح عطا کرتا ہے۔ سیالکوٹ کے ایک مخلص اور مخیر دوست جن کا وسیع کاروبا رہے انھوں نے مجھے بتایا کہ میں نے جب اپنا کاروبار شروع کیا تو میں نے اپنے اللہ سے وعدہ کیا کہ یا اللہ ! میں اپنے کاروبار میں سود کا مال شامل نہیں ہونے دوں گا۔ سود پر قرض نہیں لوں گا اپنی فیکٹریوں میں کوئی ناجائز کام نہیں ہونے دوں گا۔ آپ میرے کاروبار میں برکت عطا فرمائیں۔ شریعت کی پابندی کرنا اور حرام مال سے اجتناب کرنا اور حلال طریقوں پر چلنا یہ میری ذمہ داری ہے اور کاروبار میں برکت دینا یہ آپ کی عطا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چند سالوں تک تو اللہ تعالیٰ نے خوب میرے اخلاص کا امتحان لیا اور خوب مجھے جھٹکے دیئے لیکن میں نے جب اپنے وعدے پر استقامت دکھائی اور مسلسل اپنے پروردگار سے مانگتارہا تو آج نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ پروردگار نے مجھے اتنا عطا فرمایا ہے کہ میں کبھی اس حد تک سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ میرا جتنا کاروبار ہے اس میں بینک کا کوئی حصہ نہیں۔ جبکہ بیشتر کاروبار کرنے والے بینکوں کے سودی سرمائے سے کاروبار کرتے ہیں۔ اسی طرح کی سینکڑوں مثالیں آپ کو اپنے گردوپیش میں ملیں گی۔ لیکن ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہم اللہ کے وعدوں پر اعتبار نہیں کرتے۔ ہم قرآن کریم کو پڑھتے ضرور ہیں لیکن اس کی ہر بات ہمارے دل میں یقین پیدا نہیں کرتی۔ صحابہ میں اور ہم میں یہی فرق ہے کہ وہ جس حکم کو سنتے تھے اس پر یقین لاتے تھے پھر عمل کے لیے کمر بستہ ہوجاتے تھے، بالآخر اپنا سب کچھ اس پر قربان کردیتے تھے۔ حضرت ابوالدحداح ( رض) ایک صحابی ہیں۔ انھوں نے سنا کہ قرآن کریم کی ایک آیت اتری ہے۔ جس میں پروردگار نے فرمایا ہے کہ جو اللہ کو قرض دے گا اللہ اسے کئی گنابڑھا کر واپس کرے گا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کیا حضور میں نے سنا ہے اللہ نے قرض مانگا ہے اور پھر اس پر اجر کبیر دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک سنا، انھوں نے کہا حضور اپنا ہاتھ بڑھائیے، آپ نے ہاتھ آگے بڑھایاتو صحابی نے حضور کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا : حضور میرے دو باغ ہیں ایک زیادہ قیمتی ہے، اسی میں میری رہائش ہے۔ آپ گواہ رہیں میں نے وہ باغ اپنی رہائش سمیت اللہ کو قرض دے دیا۔ پھر وہاں سے اٹھے اور باغ کے کنارے کھڑے ہو کر اپنی بیوی ام الدحداح کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آجاؤ۔ انھوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ایسی کیا بات ہے ؟ آپ اندر تشریف کیوں نہیں لارہے ؟ انھوں نے کہا : میں نے یہ باغ اللہ کو قرض دے دیا ہے۔ بیوی بھی صحابیہ تھیں اور رسول پاک کی تربیت یافتہ۔ سن کر کہنے لگیں ابو الدحداح مبارک ہو آپ نے بہت اچھا سودا کیا۔ یہی وہ انفاق ہے جو سچے ایمان کا نتیجہ ہے کیونکہ جب تک اللہ پر ایمان نہ ہو کہ رزق کے خزانے اسی کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے رزق میں کشادگی پیدا کرتا ہے اور جب چاہتا ہے تنگی پیدا کردیتا ہے۔ وہ چاہے تو غریب کو دولت مند اور بےکس کو تخت وتاج کا مالک بنا دے اور جب چاہے قارون جیسے دولت مند کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں غرق کردے۔ اس وقت تک اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کیا جاسکتا لیکن ایسا ایمان نصیب ہوجانے کے بعدجب اسے انفاق کے لیے کہا جاتا ہے تو فوراً ایمان اس کے اندر سے بولتا ہے کہ یہ میرا مال و دولت اللہ کی ہی عطا ہے۔ میں جتنا اس کے راستے میں خرچ کروں گا اس کا وعدہ ہے کہ اتنا ہی اس میں اضافہ کرے گا۔ وہ یہ اضافہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی کرے گا۔ یہ سوچ اس کے ہاتھ کو رکنے نہیں دیتی۔ اس کے کانوں میں آنحضرت ﷺ کے یہ الفاظ گونجنے لگتے ہیں بلال اللہ کے راستے میں خرچ کر اور اس سے تنگی کا شکوہ نہ کر۔ اور یہ بھی کہ لوگو ! اگر تم اللہ کے راستے میں گن گن کردوگے تو وہ بھی تمہیں گن گن کردے گا، بےحساب دو گے تو وہ بھی بےحساب دے گا۔ اس آیت کا آخری جملہ ایک مومن کی سرخوشی کے لیے ایسا مژدہ جاں فزا ہے جس پر جتنا بھی اظہارِ مسرت کیا جائے تھوڑا ہے۔ ارشاد فرمایا : وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (وہ اپنی طرف سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے) سوال یہ ہے کہ یہ اجر عظیم کیا ہے ؟ لفظی معنی تو ہے بڑا اجر لیکن بڑے اجر یا بڑے معاوضے کا کوئی ایک پیمانہ نہیں۔ اس پیمانے کا دارومدار اس کے کہنے والے پر ہے۔ اگر ایک چھوٹا آدمی یہ کہتا ہے کہ میں تمہیں بہت بڑا معاوضہ دوں گا تو ظاہر کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے گا۔ لیکن جب ایک بڑا آدمی کوئی نواب یا بادشاہ کسی سے کہتا ہے کہ ہم تمہیں بڑا اجر عطا کریں گے تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس کے ہاں بڑے اجر کا کیا مفہوم ہوگا۔ نواب عبدالرحیم خان خاناں مغلیہ دور کے ایک عظیم نواب گزرے ہیں۔ یہ بادشاہ کے نورتنوں میں سے تھے۔ ان کی حوصلہ مندی اور فیاضی ضرب المثل کی حد تک پہنچ گئی تھی۔ ایک دفعہ دہلی سے آگرہ جانے کے لیے نکلے، امرا، مصاحب اور فوج کا ایک حصہ ساتھ تھا۔ آگرہ دہلی سے پندرہ منزل کے فاصلے پر ہے اور یہ ہر منزل یعنی پندرہ میل پر پڑائو ڈالتے تھے۔ رات وہاں گزارتے اور اگلے دن پھر سفر شروع کردیتے۔ پہلی ہی منزل پر پڑائو ڈالا۔ دربار سجا۔ امرا اور مصاحب اپنی اپنی مسندوں پر فروکش ہوگئے۔ نواب اپنی مسند ِ خاص پر نہایت تمکنت کے ساتھ آکر بیٹھے کہ اچانک ایک درویش بارگاہ کے دروازے پر آکر کھڑا ہوا اور اس نے بلند آواز سے ایک شعر پڑھا۔ منعم بہ کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت منعم کا معنی تو مال دار اور سخی ہوتا ہے۔ لیکن نواب کوا سوقت بادشاہ کی جانب سے منعم خاں کالقب بھی عطا ہوچکا تھا۔ اس لحاظ سے وہ اور بھی محظوظ ہوئے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ منعم یعنی ایک بڑا آدمی پہاڑ، جنگل اور صحرا میں بھی مسافر نہیں ہوتا وہ جہاں بھی جاتا ہے خیمہ لگاتا اور دربار سجاتا ہے۔ نواب نہایت خوش ہوا اور اسی وقت اس درویش کو ایک لاکھ روپے دینے کا حکم دیا۔ دوسرے روز اگلی منزل پر دربار لگایا۔ خیمے آراستہ ہوئے، تو پھر وہی درویش آیا اور اس نے دروازے پر کھڑے ہو کر پھر وہی شعر پڑھا۔ نواب نے خوش ہو کر پھر ایک لاکھ روپے دینے کا حکم دیا۔ چار پانچ منزلوں تک یہ درویش آتارہا اور ہر بار یہی شعر پڑھتا اور ایک لاکھ روپیہ انعام حاصل کرکے چلا جاتا۔ لیکن چھٹے دن وہ نہیں آیا۔ اس نے سوچا ہوگا کہ اتنا انعام آج تک کبھی کسی نے کسی کو نہیں دیا، ایسانہ ہونواب بگڑ کر سارا انعام چھین لے۔ اس لیے زیادہ حرص اچھی نہیں جو میں لے چکا ہوں وہ ہی بہت ہے۔ اس دن نواب نے دیر تک دربار جاری رکھا۔ شام ہوگئی اور وہ درویش نہیں آیا، تو نہایت افسوس سے کہنے لگے کہ درویش کم ظرف نکلا اسے نجانے کس خیال نے روک لیا ہم نے تو پہلے ہی دن پندرہ لاکھ روپیہ الگ رکھنے کا حکم دے دیا تھا تاکہ روزانہ اس درویش کو ایک لاکھ روپیہ دیا جاتا رہے۔ اندازہ کیجیے ! جس انعام کو ایک درویش غیر معمولی اور بہت بڑاسمجھتا ہے وہ نواب کی نگاہوں میں کوئی بڑا انعام نہیں۔ تو اللہ جیسے کریم کے بارے میں کون اندازہ کرسکتا ہے کہ جب وہ کسی کو اجر عظیم عطا فرمائے تو اس اجر کی عظمت کا حال کیا ہوگا۔