4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

یہود میں سے ایک گروہ زبان کو تروڑ مروڑ کر اور دین پر طعن کرتے ہوئے الفاظ کو ان کے موقع ومحل سے ہٹا دیتا ہے اور سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا کہتا ہے اور اگر وہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ” اِسْمَعْ “ اور انْظُرْنَا کہتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات برمحل ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے اس وجہ سے وہ شاذ ہی ایمان لائیں گے

مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْـکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـیًّا م بِاَلْسِنَتِھِمْ وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ ط وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ لا وَلٰـکِنْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً (یہود میں سے ایک گروہ زبان کو تروڑ مروڑ کر اور دین پر طعن کرتے ہوئے الفاظ کو ان کے موقع ومحل سے ہٹا دیتا ہے اور سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا کہتا ہے اور اگر وہ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، اِسْمَعْ اور انْظُرْنَاکہتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اور بات برمحل ہوتی۔ لیکن اللہ نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے اس وجہ سے وہ شاذ ہی ایمان لائیں گے) (النسآء : 46) رسولوں کی عزت و حرمت اور اللہ کی غیرت گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن اس میں گھبرانے کی بات نہیں تمہارے سر پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہے وہ تمہارا ولی بھی ہے نصیر بھی۔ اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے سب سے پہلے تو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہود کے مختلف گروہ تھے اور ان کی گمراہیاں اور ان کی خباثتیں قدر مشترک رکھتے ہوئے الگ الگ بھی تھیں۔ ان میں سے وہ گروہ جو آنحضرت ﷺ کی مجلسِ مبارک میں آتا جاتا تھا۔ وہ جس طرح زبان آوری کے پردے میں اور الفاظ کا چکمہ دے کر اور لہجہ اور پیرایہ بدل کر اپنی خباثتِ نفس کا اظہار کرتا اور اس طرح سے آنحضرت ﷺ کے مقام و مرتبہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ قرآن کریم نے اس آیت کریمہ میں ان کا چہرہ بےنقاب کیا ہے۔ مسلمان چونکہ اپنی شرافتِ نفس سے ان کے باقاعدہ آنحضرت کی مجالس میں آنے کے باعث خوش فہمی کا شکار تھے اور اگر کوئی بات کھٹکتی بھی تھی تو خود ہی اس کی تاویل بھی کرلیتے تھے اور یا ان کی طرف سے تاویلات پر اعتماد کرلیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ جو ان باتوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے کیونکہ آپ کی ذہانت اور ژرف نگاہی کے ساتھ ساتھ نبوت کا نو ربھی کارفرما تھا آپ کو یقینا معلوم تھا کہ وہ دبی دبی زبان میں کیا حرکتیں کرتے ہیں۔ لیکن آپ اپنے علومرتبت، کرامتِ نفس اور اعلیٰ اخلاقی تحمل کے باعث ان کی باتوں کانوٹس لینے پر بھی تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ مسلسل نظر انداز فرما رہے تھے پروردگار نے اپنے علم کامل کی وجہ سے ایک تو ان کی نام نہاد شرافت کا پردہ چاک کیا اور دوسرا اپنے ولی اور نصیر ہونے کا اس طرح ثبوت دیا کہ ان کی ان خباثتوں پر گرفت فرمائی جن سے حضور برابرغض بصر سے کام لے رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی عزت و حرمت کے معاملے میں نہایت متحمل ثابت ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے اپنی ذات کا انتقام کبھی کسی سے نہیں لیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں اس کے پیغمبر خاموش رہتے ہیں وہ خود مداخلت فرما کر پیغمبر کی عزت کی حفاظت فرماتا ہے۔ اور ان لوگوں پر لعنت فرماتا ہے جو اللہ کے نبی کی عزت کو نقصان پہچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جگہ میں قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤذُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَـہٗ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ” جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں جیسے یہود اپنی زبانی خباثت سے پہنچاتے تھے اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے “۔ چناچہ یہاں بھی اللہ کی غیرت وحمیت اپنا کام کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہود کی قومی شخصیت کی شناخت دوسری بات جو اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جیسے جیسے آدمی اس آیت پر غور کرتا ہے ویسے ویسے اس کے سامنے یہود کی قومی شخصیت کی تہیں کھلتی جاتی ہیں۔ اندازہ فرمائیے ! یہود مدینے کا وہ گروہ ہے جو مدینہ کو Dominate کررہا ہے۔ وہ مالی اعتبار سے مدینہ کی ساری آبادی پرچھایا ہوا ہے۔ بازاروں پر اس کا تسلط ہے، کاروبار اس کے ہاتھ میں ہے، بہت سے باغات اس کے قبضے میں ہیں، اہل کتاب ہونے کی وجہ سے عرب قبائل پر اس کا علمی رعب ہے، ان میں بڑے بڑے علما اور مشائخ ایسے موجود ہیں جن کی علمی وجاہت بھی مسلم ہے اور بزرگی کی دھوم بھی ہے۔ ان کے اپنے تعلیمی ادارے ” مِدراس “ کے نام سے جابجا کام کررہے ہیں، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ انھیں دنیوی وجاہت بھی حاصل ہے اور دینی عزت اور حرمت بھی۔ ایسے گروہ سے جن کا پس منظر کتاب سے رشتہ اور پیغمبروں سے انتساب ہے کسی طرح بھی یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اللہ کے آخری پیغمبر کی مجلس میں جسے وہ اپنی کتابوں کی گواہی کی وجہ سے اچھی طرح پہچانتے بھی ہیں کمینی حرکتوں کا ارتکاب کریں گے۔ دنیوی اعتبار سے مہذب اور تعلیم یافتہ آدمی کسی بھی بڑے آدمی کی مجلس میں جائے اور وہ ہرچند اس سے ہزار اختلاف رکھتاہو لیکن وہ کبھی بھی یہ حرکت نہیں کرے گا کہ باتوں باتوں میں الفاظ بگاڑ کریالہجہ بدل کر اس کی توہین کرنے کی کوشش کرے یا اس کے پیروکاروں کو اس سے گمراہ کرنے اور دور کرنے کی سعی کرے۔ ہاں ! وہ شخص کہ تہذیب اور تعلیم جس کے پاس نہیں پھٹکی اور وہ اپنے معاشرے کا ایک آوارہ اور بدچلن آدمی ہے اس سے آپ یہ ضرور توقع کرسکتے ہیں کہ وہ جہاں بھی جائے گا ایسی حرکت ضرور کرے گایا اس طرح کی گری ہوئی حرکتیں وہ شخص یا وہ گروہ کرسکتا ہے جو اپنی خود ساختہ عصبیتوں میں اندھا ہوچکاہو۔ ان باتوں کوا گر ذہن میں رکھیں تو یہود کے بارے میں یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ بیشک دنیوی وجاہت کے مالک تھے اور اپنے پاس علم بھی رکھتے تھے باایں ہمہ ! اخلاقی قدروں سے ان کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا اور وہ اپنے تعصبات کا اس بری طرح شکار تھے کہ ان کے لیے بری سے بری حرکت کرنا بھی کوئی مشکل بات نہ تھی۔ یہ ان کی ایسی قومی خصلت ہے جس نے آج تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبیوں کی توہین کرنا اپنے مخالف کے حوالے سے ہر کمینی حرکت کرگزرنا اور ہمیشہ کسی نہ کسی سازش میں لگے رہنا، یہ ان کی وہ شناخت ہے جس سے وہ اپنی تاریخ کے اولین عہد میں بھی پہچانے جاتے تھے اور ہر دور میں برابراس کے شواہد ملتے ہیں اور آج کے دور میں بھی، جب کہ تہذیب اور مجلسی آداب کو ترقی کرنے کا بہت زعم ہے، ان کے اندر اپنی اس شناخت کے اعتبار سے کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ پیغمبروں کی توہین یہود کے ملی مقاصد میں شامل ہے میں آگے بڑھنے سے پہلے یہاں ایک اور حقیقت کا اظہار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ کے نبیوں اور اس کے نیک بندوں سے طبعی تنفر، ان کی توہین کرنے کی کوشش اور دنیا میں ہر خیر کے سرچشمے کو ناکام کردینے کا جذبہ جس طرح ہم یہود میں دیکھتے ہیں اسی طرح عیسائیت میں بھی نظر آتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تو یہ کہنا چاہیے کہ یہ خصائلِ بد یہودیت کی شناخت نہیں بلکہ یہ کفر کے آثار ہیں۔ جو ہمیں یہود میں بھی نظر آتے ہیں اور عیسائیوں میں بھی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انھیں باربار اس بات سے تشویش لاحق ہوتی ہے اور وہ اسے بدلنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں کہ پاکستان میں پیغمبروں کی عزت کے تحفظ کا جو قانون بن چکا ہے اسے کسی نہ کسی طرح ختم کیا جائے۔ انھیں کے زیر اثر ہمارے وہ دانشور اور وہ حکمران جو سراسر مغرب کے پروردہ ہیں اور امریکہ کے زلہ خوار ہیں وہ بھی انھیں کی جگالی کرنے لگتے ہیں حالانکہ نہایت سادہ سی بات ہے کہ ہم اگر اپنے رسول پاک کی عزت و حرمت پر کسی طرح کا غبارآنا بھی برداشت نہیں کرتے بلکہ ہم تمام انبیاء کرام کی عزت و حرمت کے پاسبان ہیں تو اس میں آخر ان کا کیا نقصان ہے ؟ انبیاء ورسل کی حفاظت یا ان کی عزت کرنے سے ان کا کیا بگڑجاتا ہے ؟ کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم انھیں اس کی کھلی چھٹی دے دیں کہ یہ ہمارے رسول ِ پاک کے بارے میں جو چاہیں یا وہ گوئی کریں ؟ مسلمان تو اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور اس کی غیرت کا تقاضا ہے۔ بفرضِ محال اگر انھیں اس کی آزادی مل جائے تو انھیں اس سے آخر ملے گا کیا ؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کا قومی نفسیاتی مسئلہ بن گیا ہے۔ جس طرح بچھو کسی کو ڈسے بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح یہ لوگ جب تک اللہ کے نبیوں کی توہین نہ کرلیں ان کے خبث باطن کو تسکین نہیں ملتی۔ عیسائی بھی یہود کے ہمنوا ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہود کی تو یہ فطرت بن چکی ہے لیکن عیسائی اس معاملے میں ان کے ہمنوا کیوں ہیں ؟ جس آدمی کی نظرعیسائیت کی تاریخ پر ہو اس کے لیے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) پر بڑی محدود تعداد میں لوگ ایمان لائے۔ آپ نے اپنے بارہ حواریوں کو دینی ذمہ داریاں سونپیں۔ یہی لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی علمی اور دینی وارثت کے امین اور جانشین ٹھہرے۔ لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بعد جس شخص نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین کو عیسائیت کی شکل دے دی جبکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عیسائیت نہیں اسلام لے کر آئے تھے۔ وہ وہ تھا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں سینٹ پال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ ایک یہودی عالم تھا اور اپنے مذہبی خیالات میں نہایت متعصب تھا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) جب تک دنیا میں اپنی دعوت پیش کرتے رہے اس شخص نے اس دعوت کو ناکام کرنے کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کی سب سے زیادہ مخالفت کی۔ لیکن جیسے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر اٹھالیے گئے یا یہود اور نصاریٰ کے عقیدہ کے مطابق انھیں سولی پر چڑھادیا گیا تو اس کے تھوڑے عرصے بعد اس شخص نے ایک ڈھونگ رچایا کہ میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بادلوں میں دیکھا ہے میں ان کے ہاتھ پر ایمان لے آیا ہوں اور انھوں نے مجھے اپناجانشین قرار دیا ہے چونکہ آدمی نہایت ہوشیار، پڑھالکھا اور بااثر تھا اس لیے تمام حواریوں پر غالب آگیا۔ وہ بچارے چیختے ہی رہے لیکن اس نے یہودیت ہی کو ایک نئی شکل دے کر عیسائیت کے نام سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور اس منظم طریقے سے اس کا پرچار کیا کہ لوگوں نے اسی کو حقیقت جانا اور بعد میں ایمان لانے والے اسی پر ایمان لاتے رہے اور حواریوں کی جو مرتب کردہ انجیلیں ان کے تصورات کے خلاف تھیں ان کو مٹادیا گیا۔ اس طرح سے یہودیت، عیسائیت کے نام پر عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کے دل و دماغ میں اتار دی گئی اور آج تک عیسائی اسی عیسائیت پر چل رہے ہیں۔ لیکن یہ عیسائیت وہ مذہب یا وہ دین نہیں جسے سیدنامسیح (علیہ السلام) لے کر آئے تھے۔ ان کا عقیدہ تثلیث، ان کا کفارہ کا عقیدہ، دین ودنیا میں جدائی وغیرہ وہ تصورات ہیں جو انھوں نے یہودیت سے لیے اور بعض محققین کے مطابق ہندو مت سے لیے اور انھیں عیسائیت میں شامل کرلیا اور یہ سب کچھ ایک یہودی نے کیا جس نے عیسائی ہونے کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ اس سے یہ بات سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ یہودیت اور عیسائیت میں باوجود الگ الگ مذہب ہونے کے مسلمانوں کے معاملے میں یک رنگی کیوں ہے ؟ اور کیوں اللہ کے نبیوں کے بارے میں دونوں ہی دشمنی کا رویہ رکھتے ہیں ؟ اور انھیں ایسا ہر قانون کھٹکتا ہے جس میں اللہ کے نبیوں کی عزت کا تحفظ کیا گیا ہو۔ میں نے جو بات عرض کی ہے اگر اس حقیقت کو قبول نہ کیا جائے تو پھر بعض باتوں کا جواب ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ مثلاً عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں کیونکہ کوئی مردان کا باپ نہیں۔ لیکن یہود ان کے نسب پر طعن کرتے ہیں اور نہ صرف کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک بےنسب آدمی سمجھتے ہیں بلکہ ان کی والدہ کو بھی نعوذباللہ من ذلکبدچلن عورت خیال کرتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا الزام اور اس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ کوئی بھی غیرت رکھنے والی قوم اس طرح کے الزام لگانے والوں سے کوئی تعلق رکھنے کی روادار نہیں ہوسکتی۔ لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ قرآن کریم جس نے آکر عیسیٰ (علیہ السلام) کی عزت و حرمت واضح کی ان کو اللہ کا نبی ثابت کیا، ان کے حیرت انگیز معجزات کا ذکر کیا اور ان کی والدہ محترمہ کو عفت مآب اور صدیقہ قرار دیا۔ لیکن عیسائی مسلمانوں کے اس احسان کے باوجود جب بھی کوئی تعلق قائم کرتے اور رشتہ جوڑتے ہیں تو وہ یہود سے جوڑتے ہیں اور دونوں ملکر مسلمانوں سے دشمنی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہودیت اور نصرانیت اصل میں ایک ہی شجر خبیث سے نکلنے والی شاخیں ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہودیت اور عیسائیت کے اس رشتے کو سمجھیں اور اپنی خارجہ پالیسی طے کرتے ہوئے اس نقطے کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ یہود کی طرف سے مجلسی الفاظ کا غلط استعمال اب اس آیت کریمہ کے الفاظ کے آئینہ میں دیکھنے کی کوشش کیجیے اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے اپنے باطنی بغض اور مخفی کینے کا اظہار کرنے میں کس چابک دستی کا ثبوت دیا تھا۔ سیدھے سادے اور معصوم مجلسی الفاظ کو اس طرح توڑمروڑ کر ادا کرتے تھے کہ سننے والا بڑی مشکل سے محسوس کرسکتا تھا کہ یہ بد باطن ان سادہ سے الفاظ سے کیا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ ہر زبان میں الفاظ کو اچھے یا برے مقاصد میں استعمال کرنے کے لیے نیت اور ارادہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ہی طرح کے الفاظ نیت میں خرابی آنے کے باعث برائی کے پیغامبر بن جاتے ہیں اور نیت میں اصلاح ہونے کی وجہ سے محبت اور نیکی کی علامت ٹھہرتے ہیں۔ عربوں کی مجالس میں بولے جانے والے الفاظ ان کے روز مرہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر آدمی سمجھتا تھا کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ مثلاً جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی یا ان کا سردار چھوٹے لوگوں کو یا اپنے ماتحتوں کو کسی بات کا حکم دیتاتو سننے والے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہم اس حکم کے لیے آمادئہ عمل ہیں اور آپ ہماری اطاعت میں انشاء اللہ کوئی کمی نہیں دیکھیں گے۔ سَمِعْنَاوَاَطَعْنَا کہتے کہ ” ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی “۔ لیکن ان بدبخت یہود نے یہ رویہ اختیار کررکھا تھا کہ جب حضور کی مجلس میں آتے تو اپنی سعادت مندی اور وفاداری کی نمائش کے لیے آگے بڑھ کر سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتے تاکہ مسلمانوں کو ان کے اخلاص کا یقین آجائے۔ لیکن اپنے خبث باطن کی تسکین کے لیے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکی بجائے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔ لب و لہجہ کو اس طرح بدلتے کہ سننے والے کو دونوں میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا چونکہ دونوں کے حروف ہم آہنگ اور قریب المخرج ہیں اس وجہ سے اس تحریف میں ان کو کامیابی ہوجاتی۔ اسی طرح جب حضور کی مجلس میں سے کوئی صاحب آنحضرت سے کوئی بات کہنا چاہتے تو وہ کہتے اِسْمَعْ غَیْرَمُسْمَعٍ جس کا معنی یہ ہے ” آپ میری بات سنئے اور آپ ایسے محترم ہیں کہ آپ کو کوئی بات خلاف مرضی نہیں سنائی جاسکتی “۔ لیکن یہود جب اس جملے کو استعمال کرتے تو وہ اس سے یہ مراد لیتے کہ ” ہماری بات سنئے اور تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں کوئی کچھ سنائے “ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ ” خدا کرے تم بہرے ہوجاؤ۔ “ بعض اہل علم نے اس کا اور مفہوم بھی بیان کیا ہے کہ اس فقرے کا لفظی معنی یہ ہے کہ ” سنئے وہ بات جو اس سے پہلے سنائی نہیں گئی۔ “ جب کسی خطیب یا متکلم کو یہ فقرہ کوئی مخاطب کہتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ آپ نے ایک ایسی بلند بات کہی ہے جو اس سے پہلے کبھی سنائی نہیں گئی یا ایک سامع دوسرے سامع کو متوجہ کرکے یہ فقرہ بولتا اور مقصود اس کا یہ ہو تاکہ ذراغور سے اس بات کو سنیے ایسی دانشمندانہ اور حکیمانہ بات اس سے پہلے کبھی ہمارے کانوں نے نہیں سنی۔ اس طرح لوگ اپنے خطیبوں کو داد دیتے یا اپنی طرف سے قدردانی کا ثبوت دیتے اور دوسروں کے لیے اس طرح تشویق اور ترغیب کا سامان کرتے۔ لیکن یہود اسی خوبصورت جملے کو اپنی بدباطنی کے باعث لہجہ بدل کر تمسخر کے انداز میں اس طرح ادا کرتے جس کا مفہوم یہ ہوجاتا کہ ” ذراسنیے اس شخص کی بات جو پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔ یعنی یہ شخص کیسی بےپر کی اڑا رہا ہے اور یہ بات اس قابل نہیں کہ اسے سنا جاسکے۔ اندازہ کیجیے کہ محض انداز اور لب و لہجہ کی تبدیلی سے کس طرح ایک معصوم لفظ کو بدباطنی کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ پروردگار نے اس پر حکم دیا کہ یہ سارا فساد چونکہ غَیْرَ مُسْمَعٍ سے پیدا ہوتا ہے اور یہ بدباطن یہود اسی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے آج کے بعد کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ آنحضرت کی مجلس میں غَیْرَ مُسْمَعٍ کا استعمال کرے۔ عرب اپنی مجلسوں میں جب کسی بات کو سمجھنا چاہتے یا وہ کسی بات کو پوری طرح سن نہیں پائے اور وہ اس کو دوبارہ سننا چاہتے تو وہ کہتے رَاعِنَا۔ صحابہ بھی آنحضرت کے سامنے یہ لفظ بولتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ آپ دوبارہ ارشاد فرمادیجیے، آپ ہماری رعایت فرمائیے تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔ لیکن ان بدبخت یہود نے رَاعِنَا کو زبان کے توڑمروڑ کے ذریعے سے طنز کے قالب میں ڈھال دیا۔ وہ رَاعِنَا میں ” ع “ کے کسرہ کو ذرا دبا دیتے تو یہ لفظ رَاعِینَا بن جاتا۔ جس کا معنی ہے ” ہمارا چرواہا۔ “ اتنے سے نازک فرق کو دوسرے سننے والے محسوس بھی نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن یہود اس طرح کی حرکتوں سے اپنے طور پر خوش ہوتے تھے کہ ہم نے اپنے خبث باطن کے اظہار کے لیے ایک راستہ نکال لیا ہے اور اس طرح وہ اپنی بھڑاس نکالنے میں کامیاب ہوجاتے تھے۔ پروردگار نے یہود کی اس شرارت کو روکنے کے لیے اس لفظ کو سرے سے مسلمانوں کے مجلسی الفاظ ہی سے خارج کردیا اور اس کی جگہ اُنْظُرْنَا کے استعمال کی ہدایت فرمائی۔ جس کے معنی ہیں ” ذرا ہمیں مہلت عنایت فرمائیے، ذراہم پر توجہ فرمائیے “۔ یعنی مفہوم کے لحاظ سے یہ ٹھیک ٹھیک رَاعِنَاکا قائم مقام ہے لیکن اس میں لہجہ کے بگاڑ سے غلط فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع نہیں۔ اس آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ اہل کتاب کا یہ گروہ اپنا علمی پس منظر رکھنے کے باعث آنحضرت کی مجلس میں جاکرجو کمینہ حرکتیں کرتا ہے اس کی ان سے ہرگز توقع نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسی حرکتیں تو معمولی آدمی بھی نہیں کرتا۔ لیکن یہ ساری حرکتیں اس لیے کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے کفر اور بداعمالیوں کے باعث اپنی قسمت پھوڑ لی ہے۔ پروردگار بڑے سے بڑے گناہ گاروں کو مہلت پر مہلت دیتارہتا ہے۔ لیکن جب ان کا کفر عناد میں تبدیل ہوجاتا ہے اور وہ اپنے کفر اور گمراہی پر عصبیت کے پیکر بن جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیغمبر کی عزت بھی ان کے ہاتھ سے محفوظ نہیں رہتی تو پھر اللہ کا غضب بڑھکتا ہے تو ان پر لعنت کی پھٹکار ماری جاتی ہے۔ یہ لوگ بھی چونکہ آنحضرت ﷺ کی توہین تک پہنچ گئے ہیں اور یہ طریقے طریقے سے یہ حرکت کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی پاداش میں ان پر لعنت فرمادی ہے۔ لعنت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہدایت اور رحمت سے انھیں دور کرکے ان کی محرومی کا فیصلہ کردیا ہے۔ اسی لعنت کا نتیجہ دلوں پر مہر لگ جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اب ان لوگوں سے ایمان کی کوئی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ البتہ ! ان میں ایک بہت معمولی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کفر، دشمنی اور عناد کی آخری حد تک نہیں پہنچے ان کے بارے میں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایمان کی دولت سے بہرہ ور فرمائیں گے۔ نبی پر طعن خود دین پر طعن ہے اس آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا ہے کہ یہود کی تمام خباثتیں اور شرارتیں نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے اور ان کے مقام و مرتبہ کو ہدف بنانے کے لیے تھیں۔ لیکن قرآن کریم نے اسے طعناً فی الرسول نہیں بلکہ طعناً فی الدینکے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس سے ایک بہت بڑی حقیقت سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے وہ یہ کہ نبی حقیقت میں مجسمہ دین اور مظہر شریعت ہوتا ہے۔ اس کی زبان سے اللہ کا قانون بولتا ہے، اس کے عمل سے شریعت کو عملی شکل ملتی ہے، اس کی سعی و کاوش سے دین کو غلبہ ملتا ہے، اسی کی دعوت و تبلیغ سے دین لوگوں تک پہنچتا ہے اور لوگ حلقہ بگوش دین ہوتے ہیں، اس کی ذات دین کا پیغام بھی ہے اور دین کی شناخت بھی۔ جیسے جیسے اس کی ذات سربلند ہوگی ویسے ویسے اللہ کا دین سربلند ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص اللہ کے نبی پر طعن توڑتا ہے اور اسے نشانہ بناتا ہے، وہ درحقیقت دین پر طعن کرتا ہے اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظررہنی چاہیے کہ جب ہم سابقہ امتوں کی گمراہیوں کی تاریخ پڑھتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کی گمراہی کا آغاز اللہ کی کتاب کے مٹنے سے نہیں ہوا بلکہ سب سے پہلے اللہ کے رسول سے ان کا تعلق ٹوٹا، اس کی شخصیت سے لاتعلق ہوگئے، اس کا اسوہ اور اس کی سنت ان کی زندگیوں سے نکل گئی۔ جس کے نتیجے میں کتاب سے بھی ان کا رشتہ قائم نہ رہا، کتاب باقی رہی بھی تو انھوں نے اسے موم کی ناک بنا کر رکھ دیا۔ امت مسلمہ کو بھی اس بات کی شدید فکر کرنی چاہیے اور اس آیت کے آئینہ میں تو ان کا احساس مزید تیز ہوجانا چاہیے کہ وہ اگر مسلمان کی حیثیت سے دنیا کی قوموں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور انھیں واقعی ایک آبرومندانہ زندگی عزیز ہے تو پھر انھیں آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے اپنے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو ناکام بنادینا چاہیے جس کے نتیجے میں سرکارِ دوعالم ﷺ کے احترام اور محبت میں کمی آتی ہو اور یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ حضور کی عزت و حرمت کا تحفظ یقینا قوانین سے بھی ہونا چاہیے لیکن اس تحفظ کی اصل ضمانت مسلمانوں کے اس جذبے میں مضمر ہے جو جذبہ انھیں بعض دفعہ اللہ کے نبی کی عزت و حرمت کے لیے جان دینے پر اکساتا ہے۔ ظفرعلی خان مرحوم نے اپنے بڑھاپے کے دنوں میں کانپتے ہوئے لہجے میں مسلمان امت کو پیغام دیتے ہوئے فی البدیہہ شعرک ہے تھے ؎ نماز اچھی روزہ اچھا و حج اچھا زکوٰۃ اچھی مگر میں باوجود ان کے مسلماں ہو نہیں سکتا نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی عزت پر خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی اس چیز پر ایمان لائو جو ہم نے اتاری ہے تصدیق کرنے والی ان پیشین گوئیوں کی جو خود تمہارے پاس موجود ہیں اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بگاڑ دیں اور ان کو ان کے پیچھے کی جانب الٹ دیں یا ان پر بھی اسی طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت کی اور اللہ کی بات شدنی ہے

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْـنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْھًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓی اَدْبَارِھَآ اَوْنَلْعَنَھُمْ کَمَا لَعَنَّـآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً (اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی اس چیز پر ایمان لائو جو ہم نے اتاری ہے تصدیق کرنے والی ان پیشگوئیوں کی جو خود تمہارے پاس موجود ہیں اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بگاڑ دیں اور ان کو ان کے پیچھے کی جانب الٹ دیں یا ان پر بھی اسی طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت کی اور اللہ کی بات شدنی ہے) (النسآء : 47) اتمام حجت گزشتہ آیت کے آخر میں آپ نے دیکھا کہ پروردگار نے یہود پر لعنت فرمائی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک دریچہ کھلارکھا ہے : فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلاَّ قَلِیْلاً ” لعنت کے سبب وہ ایمان کے اہل نہیں رہے لیکن کچھ لوگوں میں تھوڑی سی صلاحیت باقی ہے اور ان کی روح کی موت واقع ہونے میں کچھ سانس باقی ہیں جس کی وجہ سے ایک محدود تعداد ایمان لاسکتی ہے “۔ شاید انھیں سے خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے :” اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی ہے ہماری نازل کردہ کتاب اور ہمارے مبعوث رسول کریم ﷺ پر ایمان لائویہ تمہارے لیے آخری موقعہ ہے “۔ لیکن ساتھ ہی غضب ناک انداز میں فرمایا : اگر تم ایمان نہیں لاتے تو پھر یاد رکھو تمہاری پوری قوم کے اب تک کے طرز عمل نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تم کسی رحم کے مستحق نہیں ہو بلکہ تم اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں کے باعث اس قابل ہوگئے ہو کہ تمہارے چہرے بگاڑ دیئے جائیں اور تم پر سبت والوں کی طرح عذاب آئے اور تم ذلیل بندر بنادیے جاؤ۔ سبت والوں کا ذکر اس سے پہلے سورة البقرۃ میں گزرچکا ہے۔ وہاں جن الفاظ میں اس واقعہ کا تذکرہ کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اتنا مشہور اور اتنا عام تھا کہ اس کے ثبوت کے لیے کوئی بات کہنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ وہاں فرمایا : وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ (تم خوب جانتے ہو) یہ واقعہ تمہارا جاناپہچانا ہے۔ تم یہ بھی جانتے ہو کہ ساحل سمندر پر رہنے والوں نے کیسی کیسی نافرمانیاں کیں اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ نے کس طرح ان کی شکلیں بگاڑ کر انھیں بندر بنادیا تھا اور پھر تم اس سے بھی ناواقف نہیں ہو کہ ان کا یہ انجام بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت بن گیا تھا اور آج بھی تم اس واقعہ کی تفصیلات سے واقف ہو۔ اگر تم اس پر غور کرو تو تمہیں یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ تمہاری موجودہ بداعمالیاں اور بداطواریاں ان سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اگر ان کی شکلیں بگاڑی گئیں اور ان کے چہرے مسخ کیے گئے تو تم بھی یقینا اس کے مستحق ہوچکے ہو۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے تمہارے انجام کے بارے میں تمہیں آگاہ کردیا ہے۔ اب اگر تم اپنے دشمن نہیں ہوگئے ہو تو تم اپنے اس انجام سے بچنے کی کوشش کرو جو تمہارے سر پر تقدیر بن کر کھڑا ہے اور یہ بھی تمہیں غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ کو ایسی سزا دینے میں کوئی دشواری پیش آسکتی ہے کیونکہ جب تم جانتے ہو کہ تمہی میں سے ایک گروہ اس انجام سے دوچار ہوچکا ہے اور اس وقت قدرت حق کو اپنے فیصلے کے نفاذ میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو اب کیا پیش آسکتی ہے۔ اس کے حکم اور اس کے نفاذ میں کوئی فاصلہ نہیں ہوتا ادھر حکم ہوتا ہے ادھر نافذ ہوجاتا ہے۔ وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً چہروں کو مسخ کرنے کا مفہوم بعض لوگوں کو اس میں یہ شبہ لاحق ہوا ہے کہ یہود کو جس سزا کی دھمکی دی گئی تھی وہ سزا ان پر نافذ تو نہیں ہوئی کیونکہ دور نبوت کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہود کے چہرے مسخ نہیں کیے گئے تو پھر آخر اس دھمکی کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ بعض علما نے تو یہ کہا کہ ان سزائوں کا ظہور آخرت میں ہوگا اور مِنْ قَبْلِ ہمیشہ کسی واقعہ کے واقع ہوجانے پر ہی دلالت نہیں کرتا بلکہ صرف اس کے ہوسکنے پر بھی دلالت کرتا ہے اور محل تہدید میں آتا ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال قرآن وسنت میں کثرت سے ہوا ہے۔ بعض دیگر اہل علم کا خیال ہے کہ مرنے سے پہلے ہر یہودی کا چہرہ مسخ کیا جاتا ہے۔ یہ تمام اشکال طلب باتیں ہیں لیکن ہم نے جس طرح اس کی وضاحت کی ہے اگر اسے غور سے پڑھا جائے تو یہ بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ یہود سے یہ نہیں کہا گیا کہ تم اگر ایمان نہیں لائو گے تو ہم تمہارے چہرے بگاڑ دیں گے بلکہ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہاری بداعمالیوں اور تمہاری سرکشیوں نے تو یقینا تمہیں اس سزاکامستحق بنادیا ہے کیونکہ تم کسی طرح سے بھی سرکشی اور نافرمانی میں اصحابِ سبت سے کم نہیں ہو۔ رہی یہ بات کہ یہ سزا تم پر نافذ ہوگی یانھیں اس کا تعلق سراسر اللہ کی مشیت اور اس کی حکمت سے ہے۔ اس کی مشیت اور حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ اصحاب السبت کو چہرے بگاڑ کر جس طرح بعد کے آنے والوں کے لیے عبرت بنایا گیا تھا اور ان کی غیر معمولی موت لوگوں کے لیے ایک سبق آموز واقعہ بن کر رہ گئی تھی۔ آج کے یہود کو عبرت بنایا جائے لیکن چہرے بگاڑ کر نہیں قومی تشخص بگاڑ کر ان کا جغرافیہ ان سے چھین کر، ان کی وجاہتوں کو ذلت میں تبدیل کرکے، ان کا وطن چھین کر اور مختلف قوموں میں ان کو بکھیر کر ہر قوم کی جانب سے ان کو پٹواکر اور ان کا قتل عام کراکر۔ اصحاب سبت کو صرف تین دن زندہ رکھا گیا اور انھوں نے اپنا عذاب تین دن تک دیکھا۔ لیکن انھیں ہزاروں سال کی زندگی دی گئی تاکہ ہزاروں سالوں میں آنے والی نسلیں ان کے انجام سے عبرت پکڑیں۔ آپ ذرا اندازہ فرمائیے ! مدینے میں یہ کس شان و شوکت سے رہتے تھے۔ اپنی افرادی قوت، مالی حیثیت، سیاسی طاقت اور علمی وجاہت کی وجہ سے انھیں مدینہ میں غیرمعمولی حیثیت حاصل تھی۔ اوس و خزرج ان کے ساہوکاری قرضوں میں بری طرح جکڑے ہوئے تھے، خود چونکہ امی محض تھے اس لیے ان کی علمی وجاہت سے ہمیشہ مرعوب رہتے تھے۔ یہود میں بعض سردار تو ایسے ظالم اور کمینہ ثابت ہوئے تھے کہ اوس و خزرج یا ان کی بعض شاخوں پر ان کے اثرات کا عالم یہ تھا کہ ان کی بیٹیاں سہاگ رات ان ظالموں کے گھروں میں گزارتی تھیں۔ عربوں کی غیرت وحمیت مشہور ہے اوس و خزرج بھی قحطانی عرب تھے۔ باایں ہمہ ! یہ بےغیرتی اور بےحمیتی کا کاروبار مدینہ میں ہوتا تھا۔ بازاروں کے نرخ ان کی مرضی سے طے ہوتے تھے۔ مال تجارت پر پوری طرح ان کے مفادات کا قبضہ تھا۔ اوس و خزرج کی شادیاں ان کے سودی قرضوں کے بغیر نہیں ہوسکتی تھیں۔ جس قوم نے اتنی شان و شوکت سے صدیوں زندگی گزاری ہو، اس کے لیے حوادث کا یہ رنگ کہ سب سے پہلے بنو قینقاع کی عبداللہ بن ابی کے غیرمعمولی اصرار پر جان بخشی تو کردی گئی لیکن انھیں شہر بدر کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اونٹوں پر لاد کر جو لے جاسکتے ہولے جاؤ اس کے علاوہ تمہیں کچھ لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ یہود کا دوسرا معزز قبیلہ بنو نضیر اپنے انجام کی گرفت میں آیا اور ان کو بھی انھیں شرائط کے ساتھ مدینہ بدر کردیا گیا اور یہ دونوں قبیلے خیبر میں جاکر آباد ہوگئے۔ تیسرا قبیلہ بنو قریظہ باقی رہ گیا۔ جنگ خندق میں انھوں نے جس طرح عہد شکنی کی اور صاف اعلان کردیا کہ ہم نہیں جانتے ” محمد “ کون ہے اور اس کے ساتھ ہونے والا عہد کیا ہے۔ انھوں نے آستین کا خنجر بن کر قریش کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا اور بروقت اگر اللہ کی مدد شامل حال نہ ہوتی تو مسلمانوں کے لیے قیامت برپا ہوجاتی۔ ان کی عہد شکنی کی پاداش میں جب ان کا محاصرہ کیا گیا تو بجائے آنحضرت ﷺ پر اعتماد کرنے کے انھوں نے اپنے پرانے حلیف حضرت سعد بن معاذ ( رض) کے بارے میں اصرار کیا کہ وہ ہمارا فیصلہ کریں۔ چناچہ انھوں نے وہ فیصلہ کیا جو ایک مخلص مومن کرسکتا تھا۔ انھوں نے فرمایا کہ میں تمہارا فیصلہ تمہاری کتاب تورات کے مطا بق کروں گا۔ تورات کا فیصلہ یہ ہے کہ جس قوم پر عہد شکنی کا جرم ثابت ہوجائے اس کے بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو غلام بنالیاجائے۔ چناچہ اسی فیصلے پر عمل ہوا۔ غور فرمائیے ! قوموں کی اجتماعی عزت، اجتماعی وقار ان کا اصل چہرہ ہوتا ہے۔ کہاں تو یہود کا وہ چہرہ جس میں دولت، وجاہت، ہیبت، اور عزت کی علامتیں رخشندہ تھیں اور کہاں ان کا یہ چہرہ جس پر ملک بدری، شہر بدری، ذلت، نکبت اور قتل عام کے داغ دکھائی دیتے ہیں۔ ان دونوں کا تقابل کیجیے اور پھر دیکھئے چہرے بگاڑنا اور کسے کہا جاتا ہے ؟ جو بادشاہ اپنے تاج سے پہچانا جاتا ہے اسے مجرموں کے کٹہرے میں اگر جوتوں سے تواضع کی جائے تو اس کے چہرے کو کون پہچانے گا ؟ ہوسکتا ہے چہرے بگاڑنے سے پروردگار نے ان کی پوری تاریخی اور قومی حیثیت کو بگاڑ نامراد لیاہو۔ اسی سے ملتی جلتی بات ہمارے متقدمین میں سے صاحب کشاف اور امام بیضاوی نے بھی کہی ہے۔ ان کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ وجوھا سے مراد یہ ہے کہ ان کے سرداروں کو ذلیل و خوار کیا جائے گا اور ہم ان کی وجاہت واقبال کو سلب کرلیں گے اور ان پر ذلت وادبار نازل کریں گے۔ حقیقی مفہوم تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن آج بھی باوجود اس کے کہ اسرائیل نام کی ایک حکومت یہود بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ جنھیں وہ اپنے دنیوی خدائوں اور آقایانِ ولی نعمت کی پشتیبانی، مدد اور اعانت سے اسلحہ کی چھائونی میں بدلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی آباد ہیں کوئی شخص بھی ان کا ذکر عزت کے ساتھ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سیاسی اور عالمی حالات کے تناظر نے یہود کو ایک خاص اہمیت دے دی ہے بلکہ بدمعاشوں کے اڈے کی طرح عربوں کی تباہی اور بربادی کے لیے امریکہ اور مغربی قوتیں انھیں استعمال کررہی ہیں۔ جیسے ہی یہ حالات بدلے لوگ انشاء اللہ دیکھیں گے کہ انھیں قوتوں کے ہاتھوں ان بچھوئوں کا سر کچلنے کا قدرت کام لے گی کیونکہ یہود نے آج تک کبھی کسی سے وفا نہیں کی۔ یہ بڑی طاقتیں آج ان کے بارے میں اگرچہ قراردادِ مذمت بھی پاس کرنے کی اجازت نہیں دیتیں لیکن دل سے ہر قوم جانتی ہے کہ یہ قوم قابل نفرت افراد کا گروہ ہے۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

بیشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے علاوہ جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افتراء کرتا ہے

اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِافْتَرٰٓی اِثْمًا عِظِیْمًا (بےشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے علاوہ جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افتراء کرتا ہے) (النسآء : 48) یہود پر لعنت کا اصل سبب شرک ہے سابقہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہود کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے نتیجے میں اللہ نے صرف ان پر لعنت ہی نہیں فرمائی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ تم اپنی سرکشی کے باعث اس بات کے مستحق ہوچکے ہو کہ تمہارے چہرے بگا ڑدیئے جائیں اور تمہاری شکلیں مسخ کردی جائیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہود اپنے اس برے انجام کو اچانک نہیں پہنچے اور ان کے اندر سرکشی بھی اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ یہ تمام بگاڑ اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انھوں نے دین کی بنیاد اکھاڑ دی۔ اسلام کی بنیادجن بنیادی اعتقادات پر رکھی گئی ہے ان میں سب سے اہم عقیدہ ” عقیدہ توحید “ ہے۔ جب اس میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو دین کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور اس تصور کے بگڑنے یا کمزور ہونے سے اللہ سے اور اس کے دین سے رشتہ کمزور ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری زندگی اور اس کے رویوں کا تعلق تمام تر اس بات سے ہے کہ وہ کون سی ذات ہے جس کو وہ سب سے بڑ اسمجھتا ہے، جسے وہ اپنا محسن خیال کرتا ہے، زندگی اور موت جس کے قبضے میں جانتا ہے، تمام اختیارات کا جسے مالک سمجھتا ہے، اس کے علم کو ہر غلطی سے پاک اور اس کی قدرت کو ہر نارسائی سے بالاسمجھتا ہے، جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ رہنمائی اور آئین دینے کا حق صرف اسی کو ہے کیونکہ اس کا علم ہر خطا سے پاک ہے اور اس کی ذات ہر مفاد سے بلند ہے اور وہی ہے جسے زندگی میں کیے ہوئے ہر عمل اور ہر فیصلے کے بارے میں جواب طلبی کا اختیا رہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جس پر زندگی کے صحیح یا غلط ہونے کا انحصار ہے۔ اگر تو ان اصولی باتوں اور اساسی تصورات کو وہ اللہ وحدہٗ لاشریک سے متعلق سمجھتا ہے اور ان باتوں میں کسی اور کو شریک نہیں ٹھہراتاتو اس کی زندگی ایک مومن کی زندگی ہوگی اور اگر وہ ان باتوں کا مستحق دوسری قوتوں کو سمجھتا ہے تو پھر وہ قوتیں اس کی زندگی میں دخیل ہوں گی اور اس کے حسن وقبح کا تعین انھیں کے حوالے سے ہوگا۔ توحید کا مفہوم توحید کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ ان تینوں کے حوالے سے پوری زندگی کے تصورات کو متعین کیا جاسکتا ہے۔ 1۔ توحید فی الذات، 2۔ توحید فی الصفات، 3۔ توحید فی الحقوق توحید فی الذات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات میں کوئی شریک نہیں۔ نہ کوئی اس کا باپ ہے نہ بیٹانہ اس کی کوئی بیوی ہے۔ وہ ہر لحاظ سے اپنی ذات میں تنہا ہے۔ باقی سب مخلوقات ہیں وہ خالق ہے۔ ہر چیز فانی ہے وہ باقی ہے۔ کوئی اس کے مشابہ نہیں۔ سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں۔ توحید فی الصفات کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خصوصی صفات میں کوئی شریک نہیں۔ اس کی عمومی صفات میں بھی من کل الوجود کوئی اس جیسا نہیں اس کی خصوصی صفات میں اس کا بےعیب اور ہمہ گیر علم بھی ہے، اس میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ یعنی کسی بزرگ یا کسی پیر کے ساتھ یہ اعتقاد رکھنا کہ ہمارے سب حال کی اسے ہر وقت خبر ہے۔ نجومی یا پنڈت سے غیب کی خبریں دریافت کرنا یا کسی بزرگ کے کلام میں فال دیکھ کر اس کو یقینی سمجھنا یا کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی ہے یا کسی کے نام کا روزہ رکھناوغیرہ۔ توحید فی الحقوق کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات اور صفات سے جو حقوق لازم آتے ہیں اس میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً جب ہم اس کی قدرت کاملہ کو مانتے ہیں تو اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ دنیا میں تصرف کا حق اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اس لیے کسی کو نفع یا نقصان کا مختار سمجھناکسی سے مرادیں مانگنا، روزی اور اولاد مانگنا، یہ شرک فی الحقوق میں شامل ہے۔ اسی طرح جب ہم اللہ کو سب سے بڑا، سب سے زیادہ احترام کا مستحق اور پرستش اور پوجا کا تنہامالک سمجھتے ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ یہ وہ حق ہے جو ان صفات کو ماننے سے خودبخود ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کسی کو سجدہ کرنا، کسی کی نماز پڑھنا، کسی کی بارگاہ کا طواف کرنا، کسی کے نام کا جانور چڑھانا، چڑھاوے چڑھانا، کسی کے نام کی منت ماننا، خدا کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کے قول یا رسم کو ترجیح دینا کسی کے روبرو رکوع کی طرح جھکنا، کسی کے نام پر جانور ذبح کرنا، دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے متاثر سمجھنا، اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا وغیرہ، سب حرام ہے اور شرک ہے۔ شرک افتراء عظیم آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا کہ شرک اللہ پر ایک افترائِ عظیم ہے، جس کو پروردگار کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ افتراء کہتے ہیں ” جھوٹ باندھنے کو “۔ مشرک لوگ جب اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں تو ساتھ ہی یہ جھوٹ بھی باندھتے ہیں کہ اللہ ہی نے ہمیں اس کا اختیار دیا ہے۔ وہ اگر ایسا نہ چاہتا تو ہم کبھی ایسا کرنے پر قادر نہ ہوتے اور کبھی تو صاف صاف اس کے پیغمبروں کے واسطے سے یہ جھوٹ باندھا جاتا ہے کہ ان پیغمبروں نے ہمیں اس شرک کی تعلیم دی ہے۔ غور فرمائیے ! جو قوم بھی اس طرح کے شرک کا ارتکاب کرے گی اس کی اعتقادی اور عملی زندگی میں وہ خرابیاں یقینا پیدا ہوں گی۔ یہود کے حوالے سے جن خرابیوں کا ذکر ہوچکا ہے کیونکہ ان میں بھی یہ خرابیاں عقیدہ توحید کو چھوڑنے اور شرک کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں۔ حاصل کلام یہ کہ جو قوم بھی اس مکروہ شرک میں مبتلا ہوگی اور اپنی پوری دینی زندگی کو تباہ کردے گی اس کا مقدر اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی طرف سے اس پر لعنت کی جائے۔ یہاں ایک بات یاد رکھنابہت ضروری ہے وہ یہ کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ شرک کو کبھی نہیں بخشے گا اس کے علاوہ بڑے سے بڑے گناہ کو بھی چاہے گا تو بخش دے گا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دوسرے گناہوں پر آدمی دلیر ہوجائے اس لیے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کی معصیت پر دلیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص نے اللہ کی کبریائی اور اس کے مطاع مطلق ہونے کا انکار کردیا کیونکہ اگر وہ اللہ کو سب سے بڑا سمجھتا اور اسکی اطاعت کو حرف آخر جانتاتو کبھی اس کی نافرمانی کی جرأت نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نافرمانی پر دلیر ہونا اور اس کی کبریائی کا تصور دل سے نکال دینا بجائے خود شرک ہے اور شرک کو تو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا۔ مزید یہ بات کہ اللہ کی مشیت اللہ ہی کے چند مقرر کردہ قوانین کی پابند ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ میں حقوق اللہ کو تو معاف کرسکتا ہوں لیکن حقوق العباد کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ جن بندوں کے حقوق تلف کیے گئے ہیں جب تک وہ معاف نہیں کریں گے اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا اور مزید یہ بھی فرمایا کہ میں گناہ کبیرہ اس وقت معاف کرتا ہوں جب گناہ کرنے والا اس گناہ پر توبہ کرتا ہے۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم توحید کو کبھی نقصان نہ پہنچنے دیں۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کی نافرمانی پر کبھی دلیر نہ ہوں اور کبائر پر ہمیشہ توبہ کرنے کی کوشش کریں۔ محض خانہ پری سے پروردگار کبھی معاف نہیں فرماتا۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں بلکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَھُمْ ط بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآئُ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ( کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو بڑا پاکیزہ ٹھہراتے ہیں بلکہ اللہ ہی ہے جو پاک کرتا ہے جس کو چاہتا ہے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا) (النسآء : 49) اہل کتاب کے شرک کی مثال اہلِ کتاب کے اللہ کے ساتھ شرک کرنے کی یہ ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو برابر پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کی نجات کے لیے ایمان وعمل کو لازم ٹھہرایا اور ایمان وعمل کی بنیاد پر ہی اس نے درجات عطا فرمائے اور انھیں دونوں کی وجہ سے قیامت کے دن جزاوسزا کا فیصلہ ہوگا۔ جو اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائے گا ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور اپنے نامہ عمل کو اعمالِ صالحہ سے روشن کرے گا اور ساری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری میں گزارے گا تو یہ وہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن پاک ٹھہرایا جائے گا اور یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ اپنی پاکیزگی کے باعث اس قابل ہے کہ اسے جنت میں بھیج دیاجائے۔ لیکن جو حساب کتاب اور اعمال کے تول میں ناکام ثابت ہوا اور جس نے اپنانامہ عمل اعمال بد کی گندگیوں سے داغ دار کرلیا یا اپنے عقیدہ میں شرک کی غلاظت پیدا کرلی تو اللہ تعالیٰ اسے پاکیزہ نہیں ٹھہرائیں گے بلکہ اسے گندہ اور ناپاک قرار دے کر جہنم میں پھینک دیں گے لیکن یہود نے اپنے طور پر یہ عقیدہ بنارکھا تھا کہ ہم اللہ کے چہیتے اور اس کے بیٹے ہیں۔ اس لیے ہم دوسروں سے برتر اور برگزیدہ ہیں۔ ہمارے ایمان وعمل میں چاہے کیسی خرابیاں کیوں نہ ہوں ہم چونکہ اللہ سے اور اس کے نبیوں سے انتساب رکھتے ہیں اس لیے ہماری پاکیزگی کبھی مجروح ہونے والی نہیں، ہم کیسی ہی زندگی گزاریں ہمیں جہنم کی آگ چھو بھی نہیں سکتی۔ اس طرح کے خانہ ساز تصورات کے تحت انھوں نے اپنی زندگی کو ایمان و عمل سے بالکل بےنیاز کردیا تھا بلکہ وہ بندگی کے دائرے سے نکل کر الوہیت کے زمرے میں شامل ہوگئے تھے۔ تزکیہ اور پاک ٹھہرانا یہ سراسر اللہ کی صفت ہے، لیکن وہ اسے اپنی صفت بناچکے تھے۔ دنیا میں جس طرح عزت وذلت کے فیصلے اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی جزاوسزا کا فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے لیکن انھوں نے اسے اپنے اختیار میں لے کر اپنے آپ کو اللہ کا شریک بنالیا تھا۔ ان کے اس رویے کو شرک کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگی شرک کی تصویر بن گئی تھی۔ آیت کے آخر میں ایک نہایت نازک بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ کہ یہود یہ نہ سمجھیں کہ چونکہ انھوں نے شرک کا کاروبار جاری کررکھا ہے اور ان کی زندگیوں میں سرکشی کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا اور اللہ نے ان پر لعنت کی پھٹکار ماری ہے۔ بنابریں ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کے ساتھ نہایت سخت سلوک کیا جائے لیکن یہاں فرمایا جارہا ہے کہ وہ اس بات کا اطمینان رکھیں کہ ہم ان کے ایک ایک عمل کو ترازو کے تول تولیں گے اور اگر انھوں نے کوئی بھی خیرکاراستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو ان کے حق سے انھیں ہرگز محروم نہیں کیا جائے گا اور ان کے ساتھ ذرا برابر ناانصافی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھئے ! یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور صریح گناہ ہونے کے لیے تو یہی کافی ہے)

اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْـکَذِبَ ط وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا ع (دیکھئے ! یہ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور صریح گناہ ہونے کے لیے تو یہی کافی ہے) (النسآء : 50) اس سے پہلے کی آیت میں ان کے جس شرک کی مثال دی گئی ہے جس شرک کی وجہ سے ان کی پوری زندگی عمل اور اطاعت کی ذمہ داریوں سے بےگانہ ہو کر رہ گئی ہے، اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا گیا ہے کہ ذرادیکھئے ! یہ اپنے اس شرک کو بھی اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ انھوں نے جس طرح اپنے آپ کو عمل کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا ہے اسے اپنی بےعملی یا بےدینی ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ نے اپنے چہیتا ہونے کی سند عطا کی ہے۔ ہم اللہ کے بیٹے ہیں توا سکے بیٹے اور چہیتے ہونے کی وجہ سے اللہ ہی نے ہمیں ان ذمہ داریوں سے فارغ کردیا ہے، اس طرح سے وہ اللہ پر کتنا بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ ان کا اللہ کی طرف یہ جھوٹا انتساب یہود کے دوسرے جرائم سے قطع نظر ان کے مجرم ہونے کے لیے کافی ہے کیونکہ اللہ کا نام لے کر اس کی نافرمانی کا جواز پیدا کرنا ایک انسان کے لیے اس سے بڑاجرم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔