4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

(اور کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کے ذمہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور خون بہا ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ الا یہ کہ وہ خون بہا معاف کر دے۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد تھا اور وہ مومن تھا تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو خون بہا بھی ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا بھی۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینوں کے روزے رکھے۔ یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے۔ اللہ علیم و دانا ہے

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا ج وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا ط فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ط وَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَہْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ ج فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ز تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ” اور کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کے ذمہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا اور خون بہا ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ الا یہ کہ وہ خون بہا معاف کر دے۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول تمہاری دشمن قوم کا فرد تھا اور وہ مومن تھا تو ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر وہ کسی ایسی قوم کا فرد تھا جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے تو خون بہا بھی ہے جو اس کے وارثوں کو دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا بھی۔ اور جو شخص غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینوں کے روزے رکھے۔ یہ اللہ کی طرف سے ٹھہرائی ہوئی توبہ ہے۔ اللہ علیم و دانا ہے۔ “ (النسآء : 92) قتل عمد کا تصور بھی مسلمان کے لیے روا نہیں سابقہ آیات میں ان نام نہاد مسلمانوں کے قتل کی اجازت دی گئی تھی جنھوں نے بظاہر اسلام قبول تو کیا لیکن وہ رسمی اسلام سے آگے بڑھنے کو تیار نہ تھے۔ دینی تقاضوں کو پورا کرنے اور اسلامی تحریک کی توانائی کے لیے ہجرت ایک لازمی تقاضا بھی تھا اور اللہ اور رسول ﷺ کی جانب سے ٹھہرایا ہوا فرض بھی وہ اس کی ادائیگی کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے۔ لیکن ایسے منافقین یا نام نہاد مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم علاقوں میں مخلص مسلمان بھی موجود تھے جو دل و جان سے ایمان لائے تھے اور وہ ہر وقت ہجرت کے بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ لیکن حالات کی مجبوریاں ان کے قدموں کی زنجیر بن گئی تھیں۔ وہ کوشش کے باوجود اپنے لیے کوئی راستہ نہ پاتے تھے۔ جب مسلمانوں کا ایسے قبیلوں سے واسطہ پڑتا جن میں ایسے مخلص مسلمان موجود تھے تو بعض دفعہ انجانے میں کسی مسلمان کے قتل کا واقعہ بھی پیش آجاتا ‘ چناچہ پیش نظر آیات میں دو باتوں کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ کسی مسلمان کے لیے ہرگز اس بات کی گنجائش نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے۔ قتل کرنا ایک آخری حرکت ہے جس سے انسانیت کے رشتے کٹ جاتے ہیں اور قتل کرنے والا اگر ظلماً قتل کرتا ہے تو اسے بجا طور پر انسانیت کا دشمن کہنا چاہیے۔ درندہ اگر کسی کو چیرتا پھاڑتا اور کسی کی جان لیتا ہے تو اسے یہ رعایت دی جاسکتی ہے کہ درندگی اس کی فطرت ہے۔ اس سے اس کے علاوہ اور کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ لیکن انسان انس سے بنا ہے۔ اس کی فطرت میں محبت اور خیر خواہی گوندھی گئی ہے۔ وہ جب قتل کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ انسان نہیں رہتا درندوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے۔ اور مذہبی زبان میں اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اور اسلام چونکہ امن کا دین ہے اس لیے جو امن کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اس کا اسلام سے اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی سے تعلق کٹ جاتا ہے اور وہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کی برادری سے نکل جاتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ” من حمل علینا اسلاح فلیس منا “ (جو آدمی ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں) قتل تو ایک آخری بات ہے ارادہ قتل سے جو آدمی ہتھیار اٹھاتا ہے یعنی تلوار سوتتا ہے یا بندوق کی نالی سیدھی کرتا ہے وہ اس حرکت سے اپنا تعلق آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور مسلمانوں سے کاٹ لیتا ہے۔ اس لیے اس پر تو سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو قتل کر دے۔ قتلِ خطا اور اس کی سزا البتہ دنیا اچھے برے اتفاقات سے معمور ہے۔ اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کردے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ کہ جھاڑی کے پیچھے کوئی درندہ بیٹھا ہے اس نے فائر کردیا۔ معلوم ہوا درندہ نہیں کوئی مسلمان بھائی تھا جو کسی ضرورت کے لیے بیٹھا تھا یا اس نے کسی شکار پر فائر کیا لیکن اڑتی ہوئی گولی اندھے قتل کا باعث بن گئی۔ یا ہنگامی حالات میں اس نے کسی کافر کو نشانہ بنایا لیکن مسلمان نشانہ بن گیا۔ اس طرح کے اتفاقات یا غلطیوں سے مسلمان کے ہاتھ سے مسلمان مارا جاسکتا ہے۔ اس میں یقینا مارنے والے کے ارادے کا دخل نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود شریعت نے اس بات کو گوارا نہیں کیا کہ ایک مسلمان کا خون رائیگاں جائے۔ اس نے حکم دیا کہ جس نے کسی مسلمان کو غلطی سے بھی قتل کیا اس پر دو چیزیں لازم ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ خون بہا (دیت) ادا کرے۔ اور یہ خون بہا مقتول کے وارثوں کو دیا جائے گا۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ مرحوم ایک گھر کا کفیل ہو اس کے مرنے کے بعد گھر لا وارث ہوگیا۔ ان کی کسی حد تک تلافی اس رقم سے ہوسکتی ہے جو خون بہا کے طور پر انھیں ادا کی جائے گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ وہ ایک غلام آزاد کرے۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت دنیا میں غلامی کا رواج تھا۔ اسلام نے مختلف طریقوں سے اس رواج کو روکا۔ غلاموں کے حقوق مقرر کیے ‘ غلاموں کی آزادی ایک نیکی بنادی گئی ‘ غلاموں کو حق دیا گیا کہ وہ اپنے آقا سے معاملہ طے کر کے اپنی غلامی کا راستہ نکالیں اور مالکوں کو پابند کیا کہ وہ ایسی کوششوں کو ناکام نہ ہونے دیں۔ مزید یہ کہ جہاں کہیں کسی حکم کی تعمیل میں کوتاہی سے یا حکم کے توڑنے سے کفارہ لازم آتا تھا عموماً اس میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ اس طرح آہستہ آہستہ غلامی ختم ہوگئی۔ چناچہ انہی میں سے قتل کے واقعہ میں بھی غلام کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ دیت اور خون بہا تو وارثوں کے لیے ایک وقتی امداد تھی اور خون کی تلافی تھی ‘ لیکن غلام کو آزاد کرنا یہ اس جرم کا خمیازہ تھا۔ جو قاتل سے سرزد ہوا۔ اور پھر اس خون بہا کی ادائیگی کو قاتل پر اس قدر لازم ٹھہرایا کہ مقتول کے وارثوں کے سوا کسی کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی گئی۔ نہ کوئی عدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے اور نہ حکومت اس میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے ‘ بلکہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قاتل سے مقتول کے وارثوں کو خون بہا کی ادائیگی کا انتظام کرے۔ البتہ مقتول کے وارثوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اگر قاتل کو معاف کردیں تو خون بہا معاف ہوسکتا ہے۔ ان دو صورتوں سے اسلام نے قتل خطا کا بھی بہت حد تک راستہ روک دیا۔ جب ایک مسلمان نے یہ دیکھتا ہے کہ قتل خطا اگرچہ بغیر ارادے کے ہوتا ہے لیکن اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے ‘ اس کی ایک بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور ساتھ اس کے یہ گناہ بھی ہے جس کی تلافی کے لیے غلام آزاد کرنا ضروری ہے۔ اور ہر آدمی کے لیے خون بہا کی ادائیگی آسان ہے اور نہ کسی مسلمان کے لیے اللہ کی ناراضگی قابل برداشت ہے تو ایسی صورت میں اس فعل کے ارتکاب کی جرأت بڑی مشکل ہوگئی۔ آیتِ کریمہ میں قتل خطا کی دوسری صورت یہ بیان کی گئی ہے کہ قتل خطا کی صورت میں مقتول ہونے والا اگر تمہارے دشمن قوم کا فرد ہو لیکن مسلمان ہو اور دشمنوں سے تصادم کے دوران غلطی سے کسی کے ہاتھ سے مارا جائے تو ایسی صورت میں اس کا خون بہا ادا کرنا لازم نہیں۔ کیونکہ خون بہا ایک معاملہ ہے جو دشمنوں کے قبیلے ‘ ملک یا علاقے میں جا کر طے نہیں کیا جاسکتا۔ خون بہا وارثوں کے سپرد کیا جاتا ہے لیکن باہمی دشمنی اور لڑائی کے باعث وارثوں تک پہنچنا ممکن نہیں۔ اگر وارثوں سے رابطہ ہوسکتا تو ممکن تھا کہ وہ معاف کردیتے اور اگر وہ معاف نہ کرتے تو خون بہا ان کے سپرد کیا جاتا۔ یہ صورتیں جنگ کے زمانے میں چونکہ ممکن نہیں اس لیے خون بہا کو ایسے قتل خطا میں لازم نہیں ٹھہرایا گیا۔ البتہ یہ ممکن نہیں کہ ایک مسلمان کے قتل کا احساس بھی نہ کیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ اس کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ اس لیے ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ٹھہرایا گیا۔ مومن اس لیے کہ مقتول مومن ہے۔ اور آزاد کرنے کی پابندی اس لیے تاکہ قتل خطا کا ارتکاب کرنے والے کو یہ احساس ہو کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی ہے وہ ان جانے میں سہی لیکن ایک گناہ ہوا ہے اس کی تلافی اسی صورت میں ممکن ہے کہ میں اللہ سے اپنی غلطی کی معافی مانگوں ‘ ندامت کا اظہار کروں اور ساتھ ہی ایک غلام خرید کے آزاد کروں کہ میرے ہاتھوں اگر ایک زندگی ضائع ہوئی ہے تو دوسری زندگی کو آزادی دے کر میں اسے حقیقی زندگی سے بہرہ ور کر رہا ہوں۔ قتل خطا کی تیسری صورت یہ ہے کہ غلطی سے قتل ہونے والا مومن ہے لیکن اس کا تعلق ایک ایسی دشمن قوم سے ہے جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہے۔ معاہدہ کی موجودگی میں چونکہ اس کے وارثوں سے رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے اس لیے خون بہا ادا کرنا بھی لازم ہوگا اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا بھی۔ پہلی اور دوسری صورت میں آپ نے دیکھا کہ خون بہا کا ذکر آیا ہے۔ اور تینوں صورتوں میں غلام آزاد کرنے کا۔ اس لیے دونوں باتوں کی وضاحت کی ضرورت ہے۔ جہاں تک خون بہا کی تفصیل کا تعلق ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ آنحضرت ﷺ نے خون بہا کی مقدار سو اونٹ یا دو سو گائیں یا دو ہزار بکریاں مقرر فرمائی ہیں۔ اگر دوسری کسی شکل میں کوئی شخص خون بہا دینا چاہے تو اس کی مقدار انہی چیزوں کی بازادی قیمت کے لحاظ سے مقرر کی جائے گی۔ مثلاً نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نقد خون بہا دینے والوں کے لیے آٹھ سو دینار یا آٹھ ہزار درہم مقرر تھے۔ جب حضرت عمر فاروق ( رض) کا زمانہ آیا تو انھوں نے فرمایا کہ اونٹوں کی قیمت اب بڑھ گئی ہے لہٰذا اب سونے کے سکے میں ایک ہزار دینار اور چاندی کے سکے میں بارہ ہزار درہم خون بہا دلوایا جائے گا۔ جہاں تک غلام آزاد کرنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں دو باتیں قابل ذکر ہیں۔ پہلی تو یہ بات کہ اگر تو کوئی شخص غلام آزاد کرنے کی استطاعت رکھتا ہے اور غلام بھی موجود ہے تو پھر تو اسے غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔ لیکن اگر کوئی اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو پھر اسی آیت کے آخر میں فرمایا کہ اسے دو مہینے کے پے درپے یعنی مسلسل روزے رکھنے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے روزہ چھوڑ دے تو اسے نئے سرے سے روزے شروع کرنا ہوں گے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ غلاموں کی موجودگی میں اگر کوئی شخص غلام خرید کر آزاد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے ‘ لیکن آج جبکہ غلامی ختم ہوچکی ہے اب جو شخص غلام آزاد کرنے کی مقدرت رکھتا ہے ‘ غلامی ختم ہوجانے کی وجہ سے اب وہ کیا کرے گا ؟ کیونکہ اب تو کوشش کے باوجود بھی غلام میسر نہیں آسکتا۔ یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ لیکن اس میں مناسب رائے یہی معلوم ہوتی ہے کہ ایسا شخص غلام کی قیمت کے مطابق صدقہ کرے اور یہ صدقہ غریب اور نادار مسلمانوں کے قرضوں کی ادائیگی اور ان کے رہن شدہ مکانوں اور زمینوں کو چھڑانے پر صرف کیا جائے۔ اور اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو ان لوگوں کی اس رقم سے آزادی کا سامان کیا جائے جو بےگناہ پکڑے گئے ہوں اور کوئی ان کے کیسوں کی پیروی کرنے والا نہ ہو یا وہ اپنی قید کی مدت گزار چکے ہوں لیکن محض جرمانے کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رہائی رکی ہوئی ہو۔ یہ بھی ایک طرح کے غلام ہیں اگر انھیں صدقے کی اس رقم سے آزادی نصیب ہوجائے تو یہ غلام کی آزادی کا بہترین بدل ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ تَوْبَۃً مِّنَ اللّٰہِ یہاں توبہ کا لفظ مفعول واقع ہوا ہے لیکن اس کا فعل مذکور نہیں۔ عربی کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کبھی مفعول فعل کے بغیر آتا ہے تو عموماً اس پر خاص تاکید اور زور دینا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی قتل خطا کے مرتکب کو غلام خریدنے کی استطاعت نہیں تو بہرصورت دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھنے چاہئیں۔ یہ بات کسی شخص پر بھی شاق نہیں گزرنی چاہیے اور نہ اس سے لاپرواہی برتنی چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ توبہ ہے۔ قتل مومن غلطی ہی سے سہی عظیم گناہ ہے۔ اس گناہ کو دھونے کے لیے صرف خون بہا کافی نہیں۔ اس کے لیے غلام کو آزاد کرنا چاہیے اور اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے جائیں تاکہ دل پر لگا ہوا گناہ کا داغ اچھی طرح دھل جائے اور آدمی بار بار اللہ سے رجوع کرے کہ میرے ہاتھوں ایک بہت بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے اگرچہ میرے ارادے کو اس میں دخل نہیں تھا لیکن یہ اتنا بڑا نقصان ہے جو ان جانے میں مجھ سے ہوا ‘ میں ہر روزے کے ساتھ اس کے لیے مغفرت طلب کرنا چاہتا ہوں اور اس کے احساس کو زندہ رکھ کر اپنے آپ کو اس کے گناہ سے صاف کرنا چاہتا ہوں۔
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزاء جہنم ہے جس میں وہہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا ” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزاء جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ (النسآء : 93) قتلِ عمد کی سزا اور اس جرم کی سنگینی قتل خطا کے احکام بیان کرنے کے بعد قتل عمد کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت ہے۔ اور اس کے لیے دردناک عذاب اللہ نے تیار کر رکھا ہے۔ قرآن کریم نے کفار کے بارے میں جس سزا کا ذکر کیا ہے وہ بعینہٖ یہی ہے۔ ان پر اللہ کا غضب بھی بھڑکے گا ‘ وہ لعنت کے مستحق بھی ہوں گے ‘ انھیں جہنم کی ابدی سزا بھی دی جائے گی اور وہ بدترین عذاب کا شکار ہوں گے۔ اور یہاں جس قتل کا ذکر ہو رہا ہے اس کا ارتکاب کرنے والا کافر نہیں مومن ہے ‘ لیکن اس کو سزا کافروں جیسی دی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق جان کا احترام ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کردیتا ہے تو وہ گویا دوسرے مسلمان کا سب سے بڑا حق چھین لیتا ہے۔ حقوق العباد میں قاعدہ یہ ہے کہ جو آدمی کسی شخص کی حق شکنی یا حق تلفی کرتا ہے تو اس کی معافی کی اس کے سوا کوئی صورت ممکن نہیں کہ جس کا اس نے نقصان کیا ہے یا جس کو اذیت دی ہے خود اسی سے معافی مانگے۔ کیونکہ حقوق العباد میں اللہ تعالیٰ بھی مداخلت نہیں کرتے۔ جس کا حق چھینا گیا ہے وہی معافی دے گا تو اللہ معاف فرمائیں گے اور اگر وہ معاف نہیں کرے گا تو اللہ معاف نہیں فرمائیں گے۔ اور یہاں حال یہ ہے کہ جو اس گناہ کو معاف کرسکتا ہے وہ دنیا سے چلا گیا ہے۔ اس کے وارث قصاص یا دیت کو تو معاف کرسکتے ہیں لیکن اس گناہ کو معاف نہیں کرسکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قاتل کا مقتول سے قیامت کے دن آمنا سامنا ہوگا۔ جہاں معافی کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ مقتول قاتل سے اللہ کے سامنے اپنا حق مانگے گا اور وہاں چونکہ حق کی ادائیگی ناممکن ہے اس لیے پروردگار اس عظیم جرم کے بدلے میں اسے وہ سزا دیں گے جو ایک کافر کو دی جاتی ہے۔ ہمارے علمائِ کرام قرآن و سنت کی بعض دوسری وضاحتوں کے پیش نظر یہ کہتے ہیں کہ ایک مومن جو ایمان کی حالت میں مرتا ہے اس نے چاہے کتنے بھی کبائر کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو وہ اپنے ایمان کی وجہ سے ایک نہ ایک دن جنت میں ضرور جائے گا۔ وہ اپنی بد اعمالیوں کی سزا بھگتے گا لیکن بالآخر اللہ کی رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لے گی اور اسے جہنم سے نکال دیا جائے گا۔ اس اصول کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قتل عمد کی حقیقی سزا تو یہی ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس کا نفاذ نہیں فرمائیں گے۔ وہ اپنے اصول مغفرت کے مطابق قاتل کو سخت سے سخت سزا دیں گے لیکن اس کے ایمان کا لحاظ کرتے ہوئے اسے ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھیں گے بلکہ ایک نہ ایک دن اس کی مغفرت ہوجائے گی۔
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم خدا کی راہ میں نکلا کرو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرے اسے فوراً نہ کہہ دیا کرو کہ تم مومن نہیں ہو۔ تم دنیوی زندگی کا سامان چاہتے ہو اللہ کے پاس بہت سے اموالِ غنیمت ہیں۔ تم بھی اس سے پہلے اسی طرح تھے پس اللہ نے تم پر احسان فرمایا تو تحقیق کرلیا کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُوْا وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰٓی اِلَیْکُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ج تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ز فَعِنْدَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ ط کَذٰلِکَ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم خدا کی راہ میں نکلا کرو تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرے اسے فوراً نہ کہہ دیا کرو کہ تم مومن نہیں ہو۔ تم دنیوی زندگی کا سامان چاہتے ہو اللہ کے پاس بہت سے اموالِ غنیمت ہیں۔ تم بھی اس سے پہلے اسی طرح تھے پس اللہ نے تم پر احسان فرمایا تو تحقیق کرلیا کرو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ “ (النسآء : 94) سلام کہنے والوں کو مسلمان سمجھو اور قتل مت کرو اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت مسلمان ایک عجیب صورت حال سے دوچار تھے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی غالب اکثریت تو ہجرت کر کے مدینہ آچکی تھی لیکن ابھی تک کچھ ایسے مسلمان بھی تھے جو اپنی حقیقی مجبوریوں کے باعث ہجرت کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔ مشرکین مکہ نے عرب کے بیشتر قبائل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ لگا رکھی تھی۔ اس لیے مسلمان مجبور تھے کہ وقتاً فوقتاً کبھی سرایا کی شکل میں اور کبھی غزوات کی صورت میں ایسے قبیلوں پر حملہ کریں جن کے بارے میں اطلاعات ملتی تھیں کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ایک طرف دشمنوں کے عزائم کے باعث مسلمان حملہ کرنے پر مجبور تھے اور دوسری طرف وہاں گھرے ہوئے مسلمانوں کی جان کی بھی فکر تھی کہ اس حملہ کی صورت میں انھیں کوئی گزند نہ پہنچ جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزید پیچیدگی یہ تھی کہ اس بات کا بھی شدید امکان تھا کہ ہم بعض علامتوں کے باعث کسی کو مسلمان سمجھ کے اس سے عین حالت جنگ میں ہاتھ روک لیں ‘ لیکن وہ حقیقت میں کافر ہو اور موقع پا کر ہاتھ روکنے والے کا ہی سر قلم کر دے۔ اس طرح کے حالات میں مسلمانوں سے غلطیوں کا صدور بھی ہو رہا تھا۔ جہاد کے سفر میں کوئی شخص بکریاں چراتا ہوا مل گیا ‘ اسے معلوم نہیں تھا کہ یہاں سے مسلمانوں کا لشکر گزر رہا ہے ‘ مسلمان مصارفِ جنگ اور زندگی کی باقی ضروریات کے لیے شدید تہی دامن تھے۔ اس لیے زندگی کی بقا اور جہاد کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے جب بھی کوئی موقع ملتا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے۔ چناچہ اسی مصلحت کے پیش نظر جب کوئی بکریاں چراتا ہوا شخص کافروں کے علاقے میں نظر آتا تو حالت جنگ میں چونکہ لوگوں کو قتل کرنا اور ان کا مال چھین لینا جائز ہوتا ہے یہ اس کی طرف آگے بڑھتے تو وہ سلام کہہ دیتا یا لا الہ الا اللہ کہہ دیتا تو ایسی صورت میں مسلمان یہ سمجھنے میں حق بجانب تھے کہ یہ شخص اپنی جان اور اپنا مال ہم سے بچانا چاہتا ہے چناچہ یہ اسے قتل کردیتے اور اس کا مال چھین کرلے آتے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ جنگ چھڑ گئی اور کافر ان مسلمانوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے جو اپنا اسلام اخفاء میں رکھتے تھے۔ اگر وہ ان کے سامنے اپنے اسلام کا اعلان کرتے تو وہ شاید پہلے ہی انھیں قتل کردیتے ایسے مسلمان جنگ میں شریک ہونے پر مجبور تھے۔ لیکن جب عین جنگ کے دوران کسی مسلمان سے ان کا سامنا ہوتا تو وہ اسے دیکھتے ہی فوراً سلام کہتے تاکہ مسلمان یہ سمجھ جائیں کہ ہم بھی ان کے بھائی ہیں کیونکہ اسلام نے سلام کو مسلمانوں کے لیے شعار اور علامت کی حیثیت دے دی تھی اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دیکھ کر جب سلام کہتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں تمہارے ہی گروہ کا آدمی ہوں ‘ تمہارا دوست اور ہمدرد ہوں۔ میرے پاس تمہارے لیے سلامتی اور عافیت کے علاوہ کچھ نہیں لہٰذا نہ تم مجھ سے دشمنی کرو اور نہ میری طرف سے عداوت اور ضرر کا اندیشہ رکھو۔ چناچہ انہی احساسات کے ساتھ وہ مسلمان سلام کہتا اور اس کے پاس اس کے سوا بچ نکلنے کا اور کوئی راستہ بھی نہ تھا کیونکہ سامنے مسلمان تھے اور پیچھے کافر۔ لیکن بعض دفعہ مسلمان یہ سمجھ کر کہ یہ شاید ہمیں فریب دے رہا ہے وہ اسے قتل کردیتے۔ آنحضرت ﷺ نے ایسے موقعوں پر شدید تنبیہہ فرمائی۔ غالباً حضرت اسامہ اور ایک دفعہ حضرت خالد بن ولید ( رض) سے کچھ ایسے ہی ملتے جلتے الفاظ فرمائے جس کا مفہوم یہ تھا کہ تم نے جسے سلام یا کلمہ سن کر بھی قتل کردیا ہے جب وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے تمہارے خلاف اپنا کلمہ لے کر آئے گا تو تم اس وقت کیا جواب دو گے ؟ اور پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے اور کہا ” یا اللہ میں اس خون سے بری ہوں۔ “ آپ ﷺ کی یہ تنبیہہ دل دہلا دینے کے لیے کافی تھی۔ لیکن چونکہ یہ انفرادی واقعات تھے مجموعی طور پر اس طرح کی کوتاہیوں کا ازالہ نہ ہوسکا۔ چناچہ پروردگار نے مداخلت فرمائی اور اس آیت کریمہ میں مستقلاً چند احکام نازل فرمائے۔ پہلا حکم یہ دیا کہ مسلمانو ! کسی بھی قبیلے پر حملہ کرنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو کہ وہاں مسلمان تو نہیں اور مزید یہ کہ اگر اس بات کا امکان ہو کہ اس قبیلے میں مسلمان بھی موجود ہیں تو پھر جس طرح حدیث میں آیا ہے کہ اس بستی یا اس قبیلے پر حملہ کرنے سے پہلے اذان کہو تاکہ مسلمان باخبر ہوجائیں اور وہ اپنے بچائو کی تدبیر کرلیں اور یا بروقت مسلمانوں سے رابطہ کرلیں اور دوسرا حکم یہ دیا کہ اگر عین حالت جنگ میں کوئی شخص تمہیں سلام کہہ دے یعنی وہ اپنے اسلام کا اظہار کرے اور سلام کے ذریعے اپنے مسلمان ہونے کی خبر دے تو جنگ کی حالت میں اگرچہ ہر سلام کہنے والے کا اعتبار کرنا مشکل ہے اس سے کچھ نقصان بھی ہوسکتا ہے لیکن تم ہر طرح کے نقصان کا سامنا کرتے ہوئے اس سلام کہنے والے کے سلام کی پاسداری کرو ‘ اسے مسلمان سمجھو اور اسے اپنی حفاظت میں لے لو۔ اس کے سلام پر بےاعتباری کرتے ہوئے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں جو ہمیں فریب دے رہے ہو۔ تمہیں اس کے قتل کرنے سے زیادہ سے زیادہ اس کا اسلحہ ‘ اس کی وردی اور اس کے پاس جو کچھ ہے وہ مل سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھو یہ بہت معمولی فائدہ ہے۔ جس کے لیے کسی مسلمان کی جان کو خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہیے۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ اگر تم ان خطرات کو سامنا کرتے ہوئے ایک مسلمان کی جان بچاتے ہو تو تمہارے لیے اللہ کے پاس بیشمار غنیمتیں ہیں ‘ ان گنت نعمتیں ہیں ‘ اللہ کی رضا ہے ‘ اجر وثواب کے خزانے ہیں۔ اور پھر یہ بات بھی سوچو کہ جس طرح آج ایک شخص اپنی جان بچانے کے لیے سلام کے ذریعے کوشش کر رہا ہے کیونکہ اپنے لوگوں میں اپنے ایمان کی اظہار کی ہمت نہیں پاتا تم بھی تو اس سے پہلے ایسے ہی حالات سے گزرے ہو دشمن کے ڈر سے اپنے اسلام کو چھپانے پر مجبور تھے۔ اللہ نے تم پرا حسان کیا ‘ تمہیں ایک اجتماعیت کا حصہ بنادیا ‘ اب تم اللہ کے فضل و کرم سے دین کی علمبرداری کر رہے ہو اس احسان کی شکر گزاری کا تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ ابھی تک اس صورت حال سے دوچار ہیں ان سے نرمی سے پیش آئو ‘ ان کے ایمان پر بھروسہ کرو ‘ ان کی جان بچانے کے لیے اگر خطرات بھی مول لینے پڑیں تو اس سے دریغ نہ کرو اور یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تمہارے ہر طرح کے اعمال سے باخبر ہے۔ کوتاہیوں کو بھی دیکھتا ہے نیکیوں کو بھی جانتا ہے۔ اس سلسلے میں جو نیکی نجام دو گے اس کی جزا پائو گے اور کوتاہی کرو گے تو اللہ کی طرف سے سزا کا اندیشہ ہے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

مسلمانوں میں سے غیر معذور بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت کا بخشا ہے اور سب سے وعدہ فرمایا ہے اللہ نے بھلائی کا اور فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم سے۔

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

اس کی طرف سے بلند درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُاُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ ط فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَۃٌ ط وَکُلًّا وَّ عَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی ط وَفَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰہِدِیْنَ عَلَی الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا لا دَرَجٰتٍ مِّنْہُ وَ مَغْفِرَۃً وَّ رَحْمَۃً ط وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع ” مسلمانوں میں سے غیر معذور بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں۔ مال و جان سے جہاد کرنے والوں کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت کا بخشا ہے اور سب سے وعدہ فرمایا ہے اللہ نے بھلائی کا اور فضیلت دی ہے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم سے۔ اس کی طرف سے بلند درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ “ (النسآء : 95 تا 96) جہاد کی ترغیب اور اس کے مختلف درجات اس آیت کریمہ کو سمجھنے سے پہلے ایک ضروری بات کو جان لیجیے کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے جو جہاد فرض فرمایا ہے اس کے مختلف درجات ہیں۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ کسی طاقت نے مسلمان ملک پر حملہ کردیا ہے یا کسی قوم سے متعلق موثق ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ بس آج کل میں ان کی طرف سے حملہ ہونے والا ہے یا مسلمانوں کے ہمسایہ ملک میں جہاں مسلمان آباد ہیں کوئی غیر مسلم ملک حملہ کر دے اور ہمسایہ مسلمان ملک میں اپنے دفاع کی طاقت نہ ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ مسلمان حکومت یا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس جہاد کا اعلان کرے اور اس کا انتظام کرے۔ لیکن اس میں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کیا اس جہاد کے لیے ملک کے ہر صحت مند شہری کو نکلنا ضروری ہے یا ایک متعین تعداد چلی جائے تو دفاع یا اقدام کی ضرورتیں پوری ہوجائیں گی۔ اگر تو دوسری صورت ہے یعنی ساری قوم کے ہر فرد کی شرکت ضروری نہیں بلکہ ایک متعین تعداد اس مقصد کے لیے کافی ہے تو پھر ایسے جہاد کو فرضِ کفایہ کہتے ہیں۔ یعنی ضرورت کے مطابق مجاہدین کے چلے جانے سے باقی لوگوں سے اس جہاد کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ اور اگر حالات ایسے شدید ہوجائیں کہ قوم کے ایک ایک نوجوان کو اس میں شریک ہونا ضروری ہو ورنہ اس کے بغیر نہ ملک بچتا ہے اور نہ مسلمان محفوظ رہتے ہیں تو پھر جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے۔ فرضِ عین ہونے کی صورت میں حکومت کو نفیر عام سے کام لینا ہوتا ہے۔ یعنی سب کو نکلنے کا حکم دیا جاتا ہے ‘ جیسے آنحضرت ﷺ اور پروردگار نے جنگ تبوک کے موقعے پر نفیر عام فرمایا تھا۔ ایسی صورت میں کوئی مسلمان بھی پیچھے نہیں رہ سکتا اور جو مسلمان بغیر کسی شرعی عذر کے پیچھے رہے گا اسے منافق سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر جہاد فرضِ کفایہ ہے تو پھر مسلمانوں کو نکلنے کی ترغیب دی جاتی ہے ‘ لیکن ہر آدمی پر یہ جہاد فرض نہیں ہوتا۔ ضرورت کے مطابق لوگ جہاد کے لیے نکل جائیں تو نماز جنازہ کی طرح باقی لوگوں سے یہ ذمہ داری اتر جائے گی۔ وہ اپنی جائز ضرورتوں میں مصروف رہیں تو نہ حکومت ان سے تعرض کرے گی نہ کوئی مسلمان ان پر تنقید کرسکتا ہے۔ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ پیچھے رہ جانے والے ایسے لوگ جن کے پاس پیچھے رہ جانے کا کوئی شرعی عذر نہیں اور جہاد کے لیے جانے والے اجر وثواب اور مرتبے کے اعتبار سے برابر نہیں۔ اگر پیچھے رہ جانے والے تصنیف و تالیف جیسے اہم کام میں مصروف ہوں ‘ تعلیم و تعلم میں لگے ہوئے ہوں یا اس لیے کاروبار میں مشغول ہوں تاکہ مجاہدین کی مدد کی جاسکے۔ یہ سارے کام نہ صرف جائز ہیں بلکہ اجر وثواب کے مستحق بھی ہیں لیکن اللہ کے راستے میں سفر کرنا ‘ سفر کی صعوبت اٹھانا ‘ موسم کی شدت برداشت کرنا اور پھر اللہ کی رضا کے لیے اپنی جان تک پیش کردینا یہ ایک ایسا کام ہے کہ جس کی ہمسری کا دعویٰ کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ نے گھروں میں بیٹھ رہنے والے لیکن جائز مقاصد کو پورا کرنے والوں کے لیے اجر وثواب تو رکھا ہے لیکن یہ اجر وثواب میں مجاہدین کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے مجاہدین کو قاعدین پر اجر عظیم کی فضیلت دی ہے ‘ ان کے لیے درجات ہیں ‘ مراتب ہیں ‘ اللہ کی مغفرت ہے ‘ اس کی رحمت ہے لیکن گھروں میں بیٹھ رہنے والے یقینا اجر وثواب کے مستحق ہیں لیکن جو کچھ اللہ نے مجاہدین کے لیے رکھا ہے وہ اس کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ اس میں ایک طرح سے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ اور یہ تصور بھی دیا جا رہا ہے کہ زندگی کے تمام جائز کام کرنے کے ہیں اور تمہیں ان میں حصہ لینا چاہیے اور تمام ذمہ داریاں ادا کرنے کی ہیں ‘ تمہیں ان کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے۔ لیکن جب جہاد فرضِ کفایہ بھی ہوجائے تو پھر جو شخص اللہ کے قرب کا خواہش مند ہے اور وہ بیش از بیش اجر وثواب چاہتا ہے اسے جہاد کے لیے نکلنا چاہیے۔ یہ وہ نیکی ہے کہ جس کے برابر کوئی فضیلت نہیں۔ اور یہ وہ کام ہے جس کے ساتھ قوموں کی عزتیں وابستہ ہیں۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

(بےشک جن لوگوں کی فرشتے جان قبض کریں گے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ‘ وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں پڑے رہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم زمین میں بےبس تھے۔ وہ کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں وہ بےبس مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکتے تھے اور نہ کوئی راہ پاسکتے تھے۔

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

بعید نہیں کہ اللہ انھیں معاف کر دے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگذر کرنے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ ط قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ ط قَالُوْٓا اَلمْ تَکُنْ اَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوْا فِیہَا ط فَاُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا لا اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ لَایَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَایَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا لا فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّعْفُوَعَنْہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوْرًا ” بیشک جن لوگوں کی فرشتے جان قبض کریں گے اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے ‘ وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم کس حال میں پڑے رہے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم زمین میں بےبس تھے۔ وہ کہیں گے کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ ہاں وہ بےبس مرد اور عورتیں اور بچے جو نہ تو کوئی تدبیر کرسکتے تھے اور نہ کوئی راہ پاسکتے تھے۔ بعید نہیں کہ اللہ انھیں معاف کر دے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگذر کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 97 تا 99) تمام غیر معذور مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ترغیب اور ترہیب کے ذریعے اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کو جو اسلام لانے کے باوجود کسی شرعی مجبوری کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہجرت کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے آخری دفعہ ہجرت پر اکسایا گیا ہے۔ ترغیب بھی دی گئی ہے اور ترہیب سے بھی کام لیا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل لرزتا ہے اور اگر ایمان کی کچھ بھی رمق باقی ہو تو چند باتیں اس سے بڑی آسانی سے سمجھ میں آتی ہیں۔ سب سے بڑی بات جس پر زور معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کی زندگی ایک کافر کی زندگی کی طرح صرف زندگی کی آسائشوں کے حاصل کرنے کا نام نہیں۔ حیوان کی طرح کھانے پینے اور کسی بھٹ میں زندگی گزاردینے اور بچے پیدا کرنے اور پالنے کا نام نہیں۔ یہ اگرچہ حیوانی ضرورتیں ہیں جو انسان کے ساتھ بھی لاحق ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کی زندگی ان ضرورتوں کے حصول کے بعد مقاصد پورا کرنے کی زندگی ہے۔ اللہ نے جو سب سے بڑا فرض ایک مسلمان پر عائد کیا ہے وہ یہ ہے کہ اسے زندگی گزارنے کے جو آداب سکھائے گئے ہیں اور اس سلسلے میں جن فرائض و واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی زندگی کی جو منزل ٹھہرائی گئی ہے انہی مقاصد کا حصول اور انہی کا عکاس طرز زندگی اور اسی منزل کی طرف مسلسل رواں دواں رہنے کی کوشش اور خواہش وہ زندگی ہے جس کا ایک مسلمان کو مکلف بنایا گیا ہے۔ اگر اسے ایسا وطن میسر ہے جس میں وہ اسلامی آداب کے مطابق اسلامی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے پوری اسلامی زندگی گزارنے پر قادر ہے تو پھر تو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں لگا رہنا چاہیے ‘ لیکن اگر وہ کسی ایسے وطن میں رہتا ہے جہاں اس کے لیے اسلامی زندگی کے تقاضوں کو پورا کرنا ممکن نہیں تو اب اس کے سامنے دو ہی راستے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اسلام کو اس سرزمین پر غالب کرنے اور نظام کفر کو نظام اسلام میں تبدیل کرنے کی امکانی حد تک جدوجہد کرتا رہے جس طرح انبیاء (علیہم السلام) اور ان پر ایمان لانے والے اپنی افرادی کمی اور مالی و سیاسی بےبسی کے باوجود ہرحال میں کرتے رہے۔ اس جدوجہد کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اسے اس سے سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ کامیابی نصیب ہوجائے تو اللہ کا انعام ہے اور اگر کامیابی نہ ملے اسی راستے میں زندگی کھپا دینا یا اس مقصد پر زندگی قربان کردینا اس کا مقصد ہونا چاہیے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اس وطن کو چھوڑ کر ایسے وطن میں جانے کی کوشش کرے جہاں اسے پوری اسلامی زندگی کے امکانات نظر آتے ہوں اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ وہاں میں اسلامی فرائض کی ادائیگی کرسکتا ہوں۔ اپنے وطن سے نکل کر محض غلبہ دین اور اللہ کی رضا کی خاطر ایک ایسی جگہ کو وطن بنانا جس میں اللہ کا دین غالب ہو اور اسلامی زندگی کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہوں اسی کو ہجرت کہتے ہیں۔ جو شخص بھی ہجرت کرسکتا ہو یعنی اس کے پاس اتنے وسائل میسر ہیں کہ وہ وطن سے نکلنے اور دارالسلام پہنچنے پر قادر ہے لیکن وہ پھر بھی ہجرت نہ کرے محض وطن کی محبت اور اپنے مال و دولت کی ہوس اسے نکلنے کی اجازت نہ دے اور وہ اسی کو بےبسی سمجھ کر اپنے وطن میں قیام پذیر رہے تو یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہاں فرمایا گیا ہے کہ جب فرشتے ان کی روح قبض کریں گے تو وہ ان سے پوچھیں گے کہ تمہاری زندگی کا مقصد کھانا پینا تو نہیں تھا بلکہ اسلامی زندگی گذارنا تھا اور اس کے امکانات تمہارے وطن میں بالکل نہ تھے تو پھر تم یہاں پڑے کیا کرتے رہے ہو ؟ تم نے یہاں رہ کر اپنی زندگی پر ظلم کیا ہے کیونکہ زندگی کا مقصد یہ ہے کہ اسے اللہ کے احکام کے مطابق گذارا جائے اور اسلامی زندگی کے ایک ایک تقاضے کو پورا کیا جائے۔ لیکن تم نے چھپ چھپ کر نمازیں پڑھنے کو ہی اسلامی زندگی سمجھ لیا اور زندگی اس طرح گزاری کہ جس پر نظام کفر کا غلبہ تھا۔ یہ وہ ظلم ہے جو تم نے اپنے اوپر ڈھایا کہ تمہیں اللہ نے ایک دین دے کر دنیا پر غالب آنے کا رستہ دکھایا لیکن تم نے کفر کے سائے میں سانس لینے اور چھپ کر نماز پڑھنے کو اسلامی زندگی سمجھ لیا۔ متحدہ ہندوستان میں بعض لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ہماری مسجدیں ہیں ‘ بزرگوں کے مزار ہیں ‘ مدارس ہیں ‘ ہمیں نمازیں پڑھنے کی اجازت ہے اور ہم کس بات کی آزادی چاہتے ہیں تو اقبال نے کہا تھا ؎ ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت بےچارہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد وہ جواب میں کہیں گے کہ ہم اپنے وطن میں بڑے بےبس تھے۔ فرشتے ان کی بات کو ٹوکتے ہوئے کہیں گے کہ ہم تمہاری بےبسی کو سمجھتے ہیں۔ تم اپنے دنیوی مفادات کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے اور اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا ہو کر تم دارالسلام جانے کے لیے آمادہ نہ تھے۔ تمہاری بےبسی ہوس کی بےبسی تھی۔ تم دنیوی فوائد سے دستبردار ہونے کو بےبسی کا نام دیتے ہو اور کنویں کے مینڈک کی طرح تم اپنے وطن اور اپنے گھر سے باہر دیکھنے کی ہمت سے محروم ہو ‘ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے۔ تمہارے سامنے مدینہ دارالسلام کے طور پر موجود تھا ‘ اس نے اپنی آغوش تمہارے لیے کھول رکھی تھی۔ لیکن اگر کسی دور میں دارالسلام نہ بھی ہو تو کیا زمین میں کوئی پہاڑ یا جنگل نہیں جہاں تم درختوں کے پتے کھا کے اور بکریوں کا دودھ پی کے زندگی گزار سکو۔ لیکن اللہ کے احکام کی تعمیل کی تمہیں آزادی میسر ہو اور کفر کے احکام کی اطاعت سے تم بچے رہو۔ یہ صحیح ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے ایمان لانے والوں کے لیے ہجرت کو فرض قرار دیا تھا اور اسے ایمان کی علامت بنادیا تھا اور جس نے ہجرت کی استطاعت کے باوجود ہجرت نہیں کی اسے منافق قرار دیا گیا۔ آج یقینا یہ صورت حال نہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اپنا وطن چھوڑ کر مدینے کی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت کرنا بذات خود تو کوئی مقصد نہ تھا ‘ اس کی اصل علت تو یہ تھی کہ وہاں اسلامی نظام زندگی کو بروئے کار نہیں لایا جاسکتا تھا۔ کفر کا شکنجہ مسلمانوں کو اس طرح جکڑے ہوئے تھا کہ انفرادی طور پر بھی چھپ چھپ کر اسلامی احکام پر عمل کیا جا رہا تھا۔ اور جہاں تک اجتماعی زندگی کا تعلق ہے اس میں تو اسلامی احکام کو بروئے کار لانے کا تصور بھی مشکل تھا۔ اس مقصد کو بروئے کار لانے کے لیے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی احکام کے مطابق گزارنے کی آزادی ہو اور اسلامی احکام کے مطابق اجتماعی ادارے وجود میں لائے جائیں اور ایک ہمہ گیر نظام زندگی جو اسلام نے عطا کیا تھا اسے بلا کم وکاست نافذ کیا جائے۔ یہ وہ علت ہے جو ہجرت کی فرضیت کا باعث بنی۔ آج اگر کسی ملک میں مسلمان آنحضرت ﷺ کے زمانے کے مسلمانوں کی صورت حال سے دوچار ہوں اور انھیں اسلامی زندگی گزارنے کے لیے ایک آزاد وطن کی ضرورت محسوس ہو تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ایک آزاد ملک کے حصول کے لیے کوشش کریں اور وہاں اسلامی زندگی کو پوری طرح بروئے کار لانے کے لیے اسلامی نظام کو نافذ کریں۔ اسی مقصد کی خاطر ہندوستان کے مسلمانوں نے پاکستان کی طرف ہجرت کی تھی اور اسی مقصد کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا ” لاہجرۃ بعد الفتح “ (یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے) یہ حدیث کوئی دائمی حکم نہیں ‘ بلکہ اس وقت کے حالات کے تناظر میں آپ ﷺ نے ایسا ارشاد فرمایا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ فتح مکہ کے بعد عرب میں کفر کا زور ٹوٹ گیا اور قریب قریب پورا ملک اسلام کے زیر نگیں آگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب ہجرت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لیکن اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے تمام حالات میں قیامت تک کے لیے ہجرت کی فرضیت منسوخ ہوگئی ہے۔ جن لوگوں نے اپنے لیے ” مستضعفین “ کا لفظ محض بہانہ سازی کے لیے اختیار کیا تھا انھیں سخت سرزنش کی گئی اور ان کے انجام کے بارے میں فرمایا کہ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اندازہ فرمایئے کہ یہ لوگ کلمہ گو ہیں ‘ نمازیں پڑھتے ہیں ‘ ممکن ہے اور بھی بھلے کام کرتے ہوں لیکن جرم صرف یہ تھا کہ انھوں نے اسلام کی بالا دستی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا۔ نظام کفر سے پوری طرح ناطہ توڑ کر اپنے آپ کو نظام اسلام سے وابستہ نہیں کیا۔ دنیا کی آسائشوں اور راحتوں کو اپنا مقصد بنایا اور اللہ کے دین کے لیے دنیا کو قربان کرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینک دیے گئے۔ کاش آج مسلمان اس بات پر غور کریں کہ ہم ساٹھ سے زیادہ اپنے آزاد ممالک رکھتے ہیں اور کسی ایک مسلمان ملک میں بھی اسلام کا نظام زندگی نافذ نہیں۔ انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی کے ایک ایک گوشے تک نظام کفر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ لیکن ہمیں اس سے کبھی تشویش نہیں ہوئی۔ ہم ملکی وسائل کی کمیابی کا رونا روتے ہیں غربت بڑھ جانے پر دہائی دیتے ہیں ‘ ہمارا معیارِ زندگی اتنا نہیں بڑھ پا رہا جس کی ہم توقع کرتے ہیں اس سے ہمیں شدید شکایت ہے۔ لیکن وہ غلبہ دین اور اسلامی نظام جو ایک مسلمان کی زندگی کا اصل ہدف اور مقصد ہے اس کا ایک ایک تسمہ ٹوٹ رہا ہے ‘ ایک ایک تقاضا پامال ہو رہا ہے ‘ ہمیں اس سلسلے میں کوئی تشویش نہیں ہماری غالب اکثریت اس حوالے سے بالکل بےفکر ہے ‘ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کل کو ہمارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْن َ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآئِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَۃً وَّلَا یَہْتَدُوْنَ سَبِیْلًا سے ان حقیقی مستضعفین کا ذکر کیا جا رہا ہے جو واقعتا بےبس ہیں۔ جن میں مرد بھی ہیں ‘ عورتیں بھی ہیں ‘ بچے بھی ہیں۔ وہ ایسی بےبسی کی زندگی گزار رہے ہیں کہ کوشش اور خواہش کے باوجود ہجرت کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتے ‘ انھیں کوئی تدبیر نہیں سوجھتی ‘ نظام کفر کے شکنجے میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ انھیں آواز نکالنے کی بھی ہمت نہیں ‘ اللہ کی نگاہ میں یہ لوگ واقعی بےبس ہیں اور ان کی بےبسی کا لحاظ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ امید ہے اللہ تعالیٰ ان سے عفو و درگزر کا سلوک کرے گا۔ کیونکہ وہ ذات در گزر کرنے والی اور رحم کرنے والی ہے۔ وہ کسی شخص پر ایسی ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتی جس کو وہ اٹھا نہ سکے۔ یہ بےبس لوگ چونکہ ہجرت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے وہ کوشش اور خواہش کے باوجود ہجرت کرنے کے لیے کوئی راستہ نہ نکال سکے۔ اللہ جو رحیم و کریم ہونے کے ساتھ ساتھ عادل اور منصف بھی ہے۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ان کی بےبسی کے باوجود انھیں سزا دے۔ یہاں لفظ اگرچہ عسیٰ آیا ہے جو امید اور توقع کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن بادشاہ جب کسی کو امید دلاتے ہیں تو اس شخص کے گھر میں شادیانے بجنے لگتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بادشاہوں کے منہ پر امید کا لفظ دوسروں کی زبانوں پر یقین سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو سب سے بڑا ہے۔ اس کی طرف سے امید کا لفظ یقینا ایک ایساسہارا ہے جس سے بڑھ کر کوئی سہارا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بڑے بڑے ٹھکانے اور وسعت پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے مہاجر بن کے نکلے اور پھر اسے راستے میں ہی موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا۔ اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے)

وَمَنْ یُّہَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ط وَمَنْ یَّخْرُجْ مِنْ م بَیْتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع ” اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بڑے بڑے ٹھکانے اور وسعت پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے مہاجر بن کے نکلے اور پھر اسے راستے میں ہی موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا۔ اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 100) ہجرت پر دنیوی اور اخروی برکات کے دعوے پہلے ترہیب سے کام لیا گیا اب ترغیب دی جا رہی ہے۔ ترغیب کے سلسلے میں قرآن میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ جو آدمی اللہ کے راستے میں ہجرت کرتا ہے یعنی اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ‘ آنحضرت ﷺ کی صحبت سے فیض اٹھانا ‘ مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا حصہ بننا اور وقت کے ساتھ ساتھ نازل ہونے والے احکام کے لیے اپنے آپ کو آمادہ رکھنا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیش بہا اخروی نعمتیں رکھی ہیں۔ سورة البقرہ میں ہجرت اور جہاد کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ” اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحَمَۃَ اللّٰہِ “ (یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں) اور سورة التوبہ میں ارشاد فرمایا ” اَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ اللّٰہِ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآ ئِزُوْنَ “ (یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس بڑے درجہ میں ہیں اور یہی لوگ کامیاب اور بامراد ہیں) ایک مومن کے لیے اخروی کامیابی اور اخروی نعمتیں ہی اصل مقصود ہیں۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے اخروی نعمتوں کی نوید کے ساتھ ساتھ دنیوی نعمتوں کا بھی وعدہ فرمایا۔ سورة النحل میں ارشاد فرمایا ” وَالذِّیْنَ ہَاجَرُوْا فِی اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْٓا لَنُبَوِّئَنَّہُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّلْاَجْرُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ “ (جن لوگوں نے اللہ کے لیے ہجرت کی اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے اور آخرت کا ثواب تو بہت بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ سمجھ لیتے) دنیوی نعمتوں کے حوالے سے ہی دوسرا وعدہ پیش نظر آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اس میں انعام کے طور پر دو باتوں کا ذکر فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ پائے گا زمین میں (1) مُرٰغَمًا کَثِیْرًا (2) سَعَۃً ۔ معلوم ہوتا ہے یہ دو الگ الگ نعمتیں ہیں۔ مراغم مصدر ہے جس کے معنی ہیں ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونا اور منتقل ہونے کی جگہ کو بھی مراغم کہہ دیا جاتا ہے۔ اس لیے بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ پناہ گاہ کیا ہے۔ لیکن صاحب کشاف معنی میں تو خاص فرق نہیں کرتے لیکن وجہ تسمیہ بہت خوب بیان کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مراغم کا لفظ رَغِمَسے نکلا ہے۔ اور عربی محاورات میں ” رَغِمَ اَنفُہٗ “ (اس کی ناک خاک آلود ہو) ہم اکثر پڑھتے ہیں۔ اسی نسبت سے صاحب ِ کشاف فرماتے ہیں ” مراغما : مہاجرا و طریقا یراغم بسلو کہ قومہ او یفارقہم علی رغم انوفہم “ (یعنی مراغم کا معنی ہجرت گاہ یا ہجرت کا راستہ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کافر جو ہجرت کرنے سے اسے بزور روک رہے ہیں ان کی ناک کو خاک میں ملا کر اس نے ہجرت کی) اس لحاظ سے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرتا ہے وہ اپنا گھر اور اپنا وطن اور اپنا زندگی بھر کا اثاثہ چھوڑ کے نکلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے اللہ پر توکل رکھنا چاہیے اور اسے امید رکھنی چاہیے کہ وہ جہاں بھی ہجرت کر کے جائے گا وہاں اسے گھر ملے گا ‘ اسے غذائی ضروریات مہیا ہوں گی ‘ اسے دربدر کی ٹھوکریں نہیں کھانا پڑیں گی ‘ بلکہ اسے ایک ایسا وطن میسر آئے گا جس میں اسے اللہ کے دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کی آزادی ہوگی۔ وہ اس وطن کو اپنا کہہ سکے گا ‘ اس کے دائیں بائیں اصحابِ ایمان ہوں گے جو اس کے دست وبازو ہوں گے ‘ وہ حفاظت کے ایسے حصار میں ہوگا کہ اسے دنیا کا کوئی غم پریشان نہیں کرے گا۔ دوسرا لفظ ہے ” سَعَۃً “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہر چیز میں وسعت عطا فرمائے گا اور وسعت اسی وقت نصیب ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غلبہ اور سربلندی عطا فرمائے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے مکہ معظمہ یا دوسرے قبیلوں سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کو اپنا وطن بنایا اللہ نے انھیں ساری نعمتیں عطا فرمائیں ‘ چند ہی سالوں میں پورا جزیرہ عرب ان کے قدموں میں ڈال دیا اور دیکھتے دیکھتے عجم کی قوتیں بھی ان کے سامنے سرنگوں ہوگئیں۔ جس قوم نے کبھی کسی ملک کی طرف رخ اس ارادے سے نہیں کیا تھا کہ ہم اس کو فتح کریں گے بلکہ قبائلی لڑائیوں کے سوا وہ فتوحات کا اور کوئی تصور نہیں رکھتے تھے ‘ دنیا کے ایک کونے میں الگ تھلگ ایک جزیرے میں سمٹ کر انھوں نے صدیاں گزار دی تھیں اب اچانک صرف دس سالوں میں بارہ لاکھ مربع میل کے علاقے میں وہ حکمران ہوگئے اور اس کے بعد خلافتِ راشدہ میں یہ قافلہ بڑھتا ہی چلا گیا حتیٰ کہ خیر کا ایک ایسا طوفان بن گیا کہ مزاحمت کی تمام قوتیں اس کے سامنے دم توڑ گئیں۔ اتنی بڑی عزت اور غلبہ و سربلندی کے باوجود آنحضرت ﷺ کے تربیت یافتہ لوگوں نے دنیا کو اپنا مقصود نہیں بنایا باایں ہمہ دنیا بھر کی نعمتیں ان کے قدموں میں ڈھیر ہوتی چلی گئیں۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) جو کبھی بھوک کی شدت سے بےہوش ہوجاتے تھے اور کھانے کے لیے روٹی میسر نہیں آتی تھی وہ مختلف علاقوں کے گورنر رہے۔ خود اپنی سابقہ زندگی کا ذکر کر کے اپنے آپ کو مخاطب فرماتے کہ اے ابوہریرہ تو وہی ہے نا کہ فلاں قبیلہ کا نوکر تھا اور تجھے تنخواہ کے طور پر صرف پیٹ بھرنے کے لیے روٹی ملتی اور تیری ڈیوٹی یہ تھی کہ جب وہ لوگ سفر پہ جائیں تو تو ان کی سواریوں کے ساتھ پیدل چلے اور جب وہ کسی منزل پہ اتریں تو تو ان کے لیے جلانے کی لکڑیاں چن کر لائے۔ آج اسلام کی بدولت تو کہاں سے کہاں پہنچ گیا کہ لوگ تجھے امام اور امیر المؤمنین کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان نعمتوں کے وعدے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ایک اور بات بھی ارشاد فرمائی ہے کہ یہ ہمارے وعدے یقینا ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ہجرت کا سفر کر کے ” دارالہجرۃ “ میں پہنچ جائیں۔ لیکن اگر کوئی شخص گھر سے نکلتے ہی یا سفر کے دوران ” دارالہجرۃ “ پہنچنے سے پہلے پہلے اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے تو اس سے ہمارا وعدہ یہ ہے کہ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ( کہ اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہوگیا) یعنی جتنی اخروی نعمتیں اللہ نے مہاجر کے لیے لکھی ہیں وہ ان تمام سے فیضیاب ہوگا۔ اور اپنے اخلاص کے مطابق نہ جانے کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ بعض روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ حضرت خالد بن حزام ( رض) کے بارے میں نازل ہوئی جو ہجرت حبشہ کے ارادے سے گھر سے نکلے لیکن راستہ میں سانپ نے کاٹ لیا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ لیکن اللہ نے ان کی ہجرت کو قبول فرمایا اور ان کے لیے اجر وثواب کی تصویب فرمائی۔