Ayahs 4:60–61اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَـآ اُنْزِلَ اِلَیْـکَ وَمَـآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِـکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْ بِہٖ ط وَیُرِیْدُالشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلـاً م بَعِیْدًا وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰـفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْـکَ صُدُوْدًا ج
(اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انھیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں) (النسآء : 60 تا 61)
سابقہ آیت کریمہ میں اسلامی زندگی کے جو بنیادی اصول بیان فرمائے گئے ہیں ‘ ان کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ ایک شخص جو مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کے اسلام اور ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ غیرمشروط اطاعت صرف اللہ اور رسول کی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور قانون کی اطاعت کرنے کا اولاً تو وہ مجاز نہیں اور اگر کہیں اس کی اجازت ہے تو اس شرط کے ساتھ کہ وہ قانون اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے متصادم نہ ہو۔ اور اس کا مزاج اسلامی قانون کے مزاج سے مختلف نہ ہو۔ ایسی ہر حکومت اور ایسا ہر تخت وتاج جو اللہ اور رسول کی حکومت اور اطاعت سے انحراف کا راستہ دکھاتا ہو اور یا اس کے توڑ پر اپنی حکومت کا صور پھونکتا ہو اور اپنی غیرمشروط اطاعت کرانے پر زور دیتا ہو۔ اسے نہ صرف قبول نہیں کیا جاسکتا بلکہ ایسے ہر رشتہ اطاعت کو توڑ پھینکنے کا حکم دیا گیا ہے اور ہر مسلمان ‘ مسلمان ہوتے ہوئے اس بنیادی اصول اور عہد کا پابند ہے۔ پیش نظر آیات کریمہ میں ان لوگوں کا پول کھولا جارہا ہے جو اپنے تئیں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور بڑی قوت سے یہ بات کہتے تھے کہ ہم اللہ اس کے رسول اور ان تمام کتابوں پر ایمان لائے ہیں ‘ جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔ لیکن ان کا طرز ِعمل اپنے اس دعوے کے یکسر برعکس تھا۔ قرآن حکیم اظہار تعجب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے پیغمبر ذرا ان لوگوں کے طرزعمل کو دیکھئے اور پھر ان کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ چناچہ ان کی حقیقت کو یوں تو ان آیات میں پوری طرح بےنقاب کردیا گیا ہے لیکن مفسرین نے ان آیات کا جو شان نزول بیان کیا ہے ‘ اس سے ان کے حالات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔
آیات کا شان نزول
ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے ‘ جس کی تفصیل یہ ہے کہ بشر نامی ایک منافق تھا ‘ اس کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے کہا کہ چلو تمہارے پیغمبر سے فیصلہ کرواتے ہیں۔ مگر بشر منافق نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ کعب بن اشرف یہودی کے پاس جانے اور اس سے فیصلہ کرانے کی تجویز پیش کی۔ کعب بن اشرف یہود کا ایک سردار اور رسول کریم ﷺ اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا۔ یہ عجیب بات تھی کہ یہودی تو اپنے سردار کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کا فیصلہ پسند کرے اور اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا بشر آپ ﷺ کی بجائے یہودی سردار کا فیصلہ اختیار کرے ‘ مگر راز اس میں یہ تھا کہ ان دونوں کو اس پر یقین تھا کہ رسول کریم ﷺ حق و انصاف کا فیصلہ کریں گے۔ اس میں کسی کی رو رعایت یا غلط فہمی کا اندیشہ نہیں اور چونکہ اس جھگڑے میں یہودی حق پر تھا ‘ اس لیے اس کو اپنے سردار کعب بن اشرف سے زیادہ اعتماد آنحضرت ﷺ پر تھا اور بشر منافق غلطی اور ناحق پر تھا ‘ اس لیے جانتا تھا کہ آپ ﷺ کا فیصلہ میرے خلاف ہوگا اگرچہ میں مسلمان کہلاتا ہوں اور یہ یہودی ہے۔
ان دونوں میں باہمی گفتگو کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں اسی پر راضی ہوگئے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہو کر آپ ﷺ ہی سے اپنے مقدمہ کا فیصلہ کرائیں۔ مقدمہ آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپ ﷺ نے معاملہ کی تحقیق فرمائی ‘ تو حق یہودی کا ثابت ہوا۔ اسی کے حق میں فیصلہ دے دیا اور بشر کو جو بظاہر مسلمان تھا ‘ ناکام کردیا۔ اس لیے وہ اس فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور ایک نئی راہ نکالی کہ کسی طرح یہودی کو اس بات پر راضی کرلیا جائے کہ ہم حضرت عمر بن الخطاب ( رض) کے پاس فیصلہ کرانے چلیں۔ یہودی نے اس کو قبول کرلیا۔ راز اس میں یہ تھا کہ بشر نے یہ سمجھا ہوا تھا کہ حضرت عمر ( رض) کفار کے معاملہ میں سخت ہیں ‘ وہ یہودی کے حق میں فیصلہ دینے کے بجائے میرے حق میں فیصلہ دیں گے۔
بہرکیف یہ دونوں اب حضرت فاروق اعظم ( رض) کے پاس پہنچے ‘ یہودی نے حضرت فاروق اعظم ( رض) کے سامنے پورا واقعہ بیان کردیا کہ اس مقدمہ کا فیصلہ جناب رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں ‘ مگر یہ شخص اس پر مطمئن نہیں اور آپ کے پاس مقدمہ لایا ہے۔
حضرت عمر ( رض) نے بشر سے پوچھا کہ کیا یہی واقعہ ہے ؟ اس نے اقرار کیا۔ حضرت فاروق اعظم ( رض) نے فرمایا : اچھا ذرا ٹھہرو۔ میں آتا ہوں ‘ گھر میں تشریف لے گئے اور ایک تلوار لے کر آئے اور اس منافق کا کام تمام کردیا اور فرمایا : ” جو شخض رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو ‘ اس کا یہی فیصلہ ہے۔ “ ( یہ واقعہ روح المعانی میں بروایت ثعلبی و ابن ابی حاتم حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) سے منقول ہے)
منافقین کا اصل جرم
آیت کریمہ کے مفہوم اور شان نزول کی تفصیل کو سامنے رکھئے تو آپ کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی کہ وہ اصل جرم کیا ہے جس کی وجہ سے منافقین کو یہاں مطعون کیا جارہا ہے اور جس کی وجہ سے حضرت عمرفاروق ( رض) ایک منافق کا سراڑانے پر مجبور ہوئے۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات کو دیکھتے ہوئے ایک مخلص مومن کے لیے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے مسلمان کی جان لینے کی کوشش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب یہ شکایت پہنچی کہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے ایک ایمان کے دعویدار کو قتل کردیا ہے تو حضور ﷺ نے برہم ہو کر فرمایا : ماکنت اظن ان عمر یجتری علی قتل رجل مومن ( میں گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ عمر ایک مومن آدمی کے قتل پر جرأت کرے گا) ۔ لیکن جب آپ کے سامنے اس منافق کا اصل جرم آیا اور قرآن کریم نے پوری صورتحال کو کھول کر بیان کردیا تو آنحضرت ﷺ بھی مطمئن ہوئے اور مسلمانوں کو بھی اطمینان ہوا کہ اس جرم کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی تھی۔ وہ جرم یہ ہے کہ یہ منافق لوگ اپنے معاملات کو فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کے پاس لے کے جاتے ہیں۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ طاغوت یوں تو ہر ایسی سرکش قوت کو کہتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مقابلے میں اپنی غیرمشروط اطاعت پر اصرار کرے لیکن اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور وہ نظام عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہٰذا یہ آیت اس معنی میں بالکل واضح ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہو ‘ اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ قرآن کی رو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت کا انکار دونوں لازم وملزوم ہیں۔ خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جھکنا عین منافقت ہے۔ یہی بات شان نزول سے معلوم ہوتی ہے۔ جب حضرت عمرفاروق ( رض) کو یہ معلوم ہوا کہ اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے فیصلہ کو ماننے سے انکار کیا اور پہلے یہ یہود کی عدالت میں جانا چاہتا تھا اور اب میرے پاس فیصلے کے لیے آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کے فیصلے کو یہ آخری سند ماننے سے انکار کرتا ہے اور کسی دوسرے کے فیصلے کو آپ کے فیصلے پر ترجیح دیتا ہے۔ یہ وہ جرم ہے جسے شریعت کی زبان میں ارتداد کہتے ہیں۔ ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والا مرتد کہلاتا ہے۔ کیونکہ ایمان نام ہے اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں پر سرجھکا دینے کا اور دل و دماغ کو سپرد کردینے کا۔ لیکن جب ایک شخص ایمان اور اسلام کے دعوے کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لا کر اس نے جو عہد کیا تھا ‘ وہ عہد اس نے توڑ ڈالا۔ اس عہد کی وجہ سے جو اسے حقوق شہریت میسر تھے ‘ وہ یقینا اس سے چھین لیے جائیں گے اور اسلامی ریاست نے ایمان کے عوض جس طرح اس کی جان مال اور آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کی تھی ‘ وہ ختم ہوجائے گی۔ بلکہ دوسروں کے سامنے اس جرم کی شناعت کو پوری طرح واضح کرنے کے لیے اسے وہ سزا دی جائے گی جو ہر قانون میں ملک کے باغی کو دی جاتی ہے۔ چناچہ ایسے شخص کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا : من ارتد عن دینہ فاقتلوہ ( جو آدمی اپنے دین سے پھرجائے اسے قتل کردو) کیونکہ اسلام میں دین پرائیویٹ معاملہ نہیں بلکہ ریاست کا قانون اور دستور ہے۔ اسے چیلنج کرنے کی کسی طرح بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ چناچہ حضرت عمرفاروق ( رض) نے اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے جو کو توال شہر کے طور پر آپ کو حاصل تھا ‘ اسے قتل کردیا۔ اور آئندہ کے لیے مسلمانوں پر یہ بات واضح کردی کہ ایمان کے دعویٰ بعد اللہ اور اس کے رسول کی حیثیت کو چیلنج کرنا اور دوسروں کو وہ حیثیت دینا جو درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی حیثیت ہے ‘ اس کا اسلام میں کوئی جواز نہیں۔
وَیُرِیْدُالشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّـہُمْ ضَلٰـلاً م بَعِیْدًا کا مفہوم
آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا : وَیُرِیْدُالشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّـہُمْ ضِلٰـلاً م بَعِیْدًا (شیطان انھیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) اس جملے پر غور کرنے سے اس جملے کی بلاغت اور اس کے مفہوم کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک انسان کی زندگی مسجد تک محدود نہیں بلکہ گھر سے شروع ہو کر محلے ‘ بازار ‘ منڈیوں ‘ تعلیمی ادارے ‘ دفاتر ‘ عدالتوں سے ہوتی ہوئی ایوان ہائے حکومت تک پھیلی ہوئی ہے۔ کوئی انسان بھی جو انسانی اجتماعیت کا حصہ ہے ‘ وہ زندگی کی اس وسعت سے انکار نہیں کرسکتا۔ مسلمان انسان ہونے کے اعتبار سے اپنی زندگی میں ایسی ہی وسعت رکھتا ہے لیکن مسلمان ہونے کے حوالے سے اس کی اور عام انسان کی زندگی میں ایک فرق بھی ہے۔ عام انسان زندگی کے تمام دوائر میں اپنے ملکی قانون یا اپنے من مرضی کا مالک ہے۔ جو کچھ اس سے ملک کا قانون تقاضا کرتا ہے اور جس طرح اس کے مفادات محفوظ ہوتے اور خواہشات سپھل ہوتی ہیں ‘ اسی طرح وہ زندگی کو گزارنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور اس کا مجاز بھی ہے۔ لیکن ایک مسلمان کی مجبوری یہ ہے کہ وہ گھر کی انفرادی زندگی سے لے کر ایوان ہائے حکومت تک پھیلی ہوئی اجتماعیت میں کسی سطح پر بھی نہ تو ایسے ملکی قانون کی پیروی کرسکتا ہے ‘ جو اللہ اور اس کے رسول کے قانون سے متصادم ہو۔ اور نہ اپنی اس طرح کی مرضی اختیار کرسکتا ہے جو اسے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی پر آمادہ کرے۔ اسے بہرصورت زندگی کے ہر دائرے میں اور ہر مقام پر صرف اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کرنی ہے۔ اسی کا نام ایمان اور اسلام ہے۔ اگر ایک شخص اسلام کا دعویٰ کرنے کے باوجود اسلامی قانون کو نظرانداز کرکے ایسی عدالتوں میں جاتا ہے جہاں غیراسلامی قانون نافذ ہے اور جہاں طاغوت کے احکام چلتے ہیں ‘ تو اس کا یہ رویہ صرف عدالتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ زندگی کے تمام دوائر میں یہی رویہ اختیار کرے گا۔ جہاں چاہے گا غیر اللہ کے قوانین کی اطاعت کرے گا۔ جہاں چاہے گا اپنی خواہشات کی پرستش کرے گا۔ جہاں چاہے گا اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر اسلامی قانون کو توڑ کر پھینک دے گا۔ اس کا بدیہی نتیجہ یہی ہوگا کہ اس کی پوری زندگی مسجد کے علاوہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام سے آزاد ‘ شیطان یا اپنی خواہشات کی پیروی میں گزرے گی۔ یہ وہ گمراہی ہے جو بظاہر غیراسلامی عدالتوں میں اپنے معاملات کے لے جانے سے شروع ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ پوری زندگی اسلام کی پٹڑی سے اتر کر شیطان کی پٹڑی پر چڑھ جاتی ہے اور ایک مسلمان اسلام سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ بعض دفعہ اسے پلٹنے کا راستہ بھی نہیں ملتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا ذکر اگلی آیت کریمہ میں کیا گیا ہے کہ منافقین کو دیکھو کہ دعویٰ اسلام کا رکھتے ہیں لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف آؤ۔ یعنی اللہ نے قرآن کریم میں جو احکام نازل کیے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سنت سے جو اس کی تشریح اور تفسیر فرمائی اور جو اس کو عملی شکل و صورت عطا کی ہے ‘ اس کی طرف آؤ ‘ تو تم ان منافقین کو دیکھوگے کہ اس سے پہلو بچا کے نکل جاتے ہیں یعنی کسی طرح بھی اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ ان کا رویہ اس لیے پختہ ہوگیا ہے کہ انھوں نے یہود کی عدالتوں میں جانے کا جو جرم کیا تھا ‘ شیطان نے اس سے فائدہ اٹھایا اور ان کی پوری زندگی پر اس کی چھاپ لگا دی۔
یہ تنقید ہمارے لیے آئینہ ہے
ان آیات میں ان منافقوں پر تنقید ہو رہی ہے ‘ جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے ہم عصر تھے اور ان کے دلوں میں چھپی ہوئی خیانتوں کو بےنقاب کیا جارہا ہے۔ اس لحاظ سے اس تنقید پر 1400 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا لیکن جب ہم آج کے مسلمان کی حالت دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ تو ہماری حالت بیان کی جارہی ہے۔ اندازہ فرمائیے کہ مسلمانوں کے تقریباً ساٹھ کے قریب ملک ہیں۔ ان تمام ملکوں میں واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے اور مسلمانوں کی تعداد سوا ارب سے زیادہ ہے اور دنیا کے تمام قابل ذکر ساحلوں پر ان کا قبضہ ہے۔ اللہ کی بیش بہا نعمتیں ان کے ہر ملک میں فراوانی سے پائی جاتی ہیں۔ قدرت نے مسلمانوں کو نوازنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ممکن ہے اس میں مسلمانوں کا امتحان بھی ہو۔ لیکن اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ سعودی عرب میں حدود اللہ کے اجرا کے علاوہ پوری دنیائے اسلام میں کہیں بھی اللہ کا قانون نافذ نہیں۔ بعض مسلمان ملک ایسے ہیں کہ جن میں اگر مساجد نہ ہوں تو شاید باہر سے آنے والا پہچان بھی نہ سکے کہ یہ کوئی مسلمان ملک ہے۔ کوئی ایسی غیراسلامی حرکت ‘ کوئی بےحیائی ‘ کوئی بدعنوانی ‘ کوئی خیانت ایسی نہیں جس کا ارتکاب مسلمان ملکوں میں نہیں ہوتا۔ اور بیشتر ممالک کے حکمران اسلام کا نام لیتے ہوئے بھی شرماتے ہیں۔ اکثر ممالک کے جدید تعلیم یافتہ لوگ ‘ ان کے نام نہاد دانشور ‘ ان کے ذرائع ابلاغ پر قابض مافیا امکانی حد تک لادینیت کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور اسلام کی جڑ کاٹنا اور اس کے بارے میں نئی نسل کے ذہنوں میں عجیب و غریب اشتباہات پیدا کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ اب تو نوبت باین جا رسید کہ شرعی شکل و صورت رکھنا ‘ شرعی لباس پہننا ‘ علوم اسلامیہ کے ادارے قائم کرنا ‘ انہیں سپورٹ کرنا ‘ تبلیغ و دعوت کے کام میں شریک ہونا اور لادینی قوتوں پر تنقید کرنا ایک ایسا جرم بن گیا ہے جس سے بڑھ کر حکمرانوں کے نزدیک اور کوئی جرم نہیں۔ اکبر مرحوم نے تو شاید صرف شاعری کی تھی لیکن ان کا یہ شعر اب تو مسلمانوں کے حال کی منہ بولتی تصویر ہے :
حریفوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھا نے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
مسلمانوں کی ریاستیں اور حکومتیں جنھیں مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلام کا امین ‘ مبلغ اور منفّذ ہونا چاہیے تھا اور جن کی ریاستوں میں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مقابلے میں کسی اور حکم اور کسی قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہونی چاہیے تھی اور جن کی شناخت اور جن کا فخر صرف اسلام ہونا چاہیے تھا اور جن کے دل و دماغ کے رشتے صرف اللہ اور اس کے رسول سے وابستہ ہونے چاہئیں تھے اور جن کے تعلیمی ادارے علوم عصریہ کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ کے بھی مرکز ہونے چاہئیں تھے۔ جن کے تہذیب و تمدن کی بنیادیں صرف اسلام سے پھوٹنی چاہئیں تھیں اور جن کی ثقافت آنحضرت ﷺ کے گھر اور آپ کے ماحول کی نمائندہ ہونی چاہیے تھی لیکن ان ریاستوں کو دیکھتے ہوئے یہ باتیں دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہیں۔ آج کے دانشوروں سے اگر یہ باتیں کہی جائیں تو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتیں۔ یہ تمام صورت حال یقینا خون رلادینے والی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے ہم عصر منافقین تو یہودی عدالتوں میں جا کر قیامت تک کے لیے رسوا ہوگئے اور منافق کے نام سے پہچانے گئے لیکن آج کے مسلمان ان سے بڑھ کر منافقت رکھتے ہوئے کس نام سے پکارے جائیں گے۔ انھیں اگر شیطان دور تک گمراہی کے راستوں پر لے گیا تو آج کے مسلمان کی گمراہی کے راستوں میں کوئی روک یا اوٹ باقی رہ گئی ہے ؟ کاش مسلمان اپنی اس حالت پر غور کریں۔ قرآن کریم کے آئینہ میں اپنی شکل پہچانیں اور قرآن کریم نے منافقین کی دنیا اور آخرت میں جس سزا کا ذکر کیا ہے ‘ اسے دیکھتے ہوئے عبرت حاصل کریں۔ اور عذاب کا وقت آنے سے پہلے اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش کریں ‘ تو اللہ کی رحیمی اور کریمی سے کوئی بعید نہیں کہ وہ مسلمانوں کی حالت پر رحم فرمائے۔
Ayahs 4:62–63فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ثُمَّ جَـآئُ وْکَ یَحْلِفُوَنَ صلے ق بِاللّٰہِ اِنْ اَرَدْنَـآ اِلَّا اِحْسَانًاوَّتَوْفِیْقاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰہُ مَافِیْ قُلُوْبِھِمْ ق فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَعِظْھُمْ وَقُلْ لَّھُمْ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا
(اس وقت کیا ہوگا جب ان کے اعمال کی پاداش میں ان کو بھی مصیبت پہنچے گی ‘ پھر یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آئیں گے کہ خدا کی قسم ہم نے تو صرف بہتری اور سازگاری چاہی۔ ان لوگوں کے دلوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اللہ اس سے خوب واقف ہے ‘ ان سے اعراض کرو ‘ ان کو سمجھاؤ اور ان سے خود ان کے بارے میں دل میں دھنسنے والی بات کرو) (النسآء : 62 تا 63)
منافقین کو تنبیہ اور آگاہی
پروردگار منافقین کو آنے والے دنوں کا حوالہ دے کر اپنی حالت پر غور کرنے کی تلقین فرما رہے ہیں۔ آج تو ان کا حال یہ ہے کہ بڑھ چڑھ کر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے معاملات اللہ اور رسول کے سامنے پیش کرو تو کسی نہ کسی بہانے سے پہلو بچا کے نکل جاتے ہیں اور حتی الامکان ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنا کوئی معاملہ اللہ کے رسول کی عدالت میں لے کر نہ جائیں۔ حالانکہ ان کے ایمان کا تقاضا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہر بات کو حرز جان بنائیں اور انہی کے فیصلوں کو آخری سند اور اتھارٹی سمجھیں۔ لیکن اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ان کے کرتوت ان کے راز افشا کردیں گے اور ان کے عزائم بےنقاب ہوجائیں گے اور ان کی اصلیت واضح ہوجائے گی۔ تو پھر یہ دوڑے دوڑے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئیں گے کیونکہ وہی ایک دروازہ ایسا ہے ‘ جس میں رحمت کے سوا اور کچھ نہیں اور پھر جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اب تک جو رویہ اختیار کیا۔ آخر اس کا سبب کیا تھا کیونکہ تمہیں تو دعویٰ تھا مومن ہونے کا اور مومن ہو کر پھر طاغوت کے پاس اپنے معاملات لے کے جانا ان دونوں باتوں میں تو کوئی جوڑ نہیں تو پھر وہ دورازکار باتیں بنانے کی کوشش کریں گے ‘ کہ ہمارے پیش نظر صرف مسلمانوں کی بھلائی تھی۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ مسلمانوں اور یہود کے درمیان اختلاف کی خلیج بڑھتی چلی جائے۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کررہے تھے۔ یعنی ہمارے پیش نظر مصالحت اور موافقت کے سوا اور کوئی جذبہ نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس مصیبت اور اس طرح کے حالات پیش آنے کا مفہوم کیا ہے۔ بعض مفسرین کا گمان یہ ہے کہ جس طرح بشر صریحاً اللہ کے رسول کے فیصلے سے انکار کرکے حضرت عمر ( رض) کے غضب کا نشانہ بنا اور اپنے انجام کو پہنچا۔ باقی لوگ بھی کبھی نہ کبھی اپنے کرتوتوں کے باعث پکڑے جائیں گے۔ ان کی حرکتیں بھی کھل کے رہیں گی۔ وہ بھی بشر کی طرح اپنے برے انجام کو پہنچیں گے۔ لیکن ان آیات کریمہ پر گہرے تدبر سے اگر کام لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مستقبل کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی جارہی ہے ‘ جس کی تعبیر اگرچہ پردہ غیب میں ہے لیکن اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے ہیں۔ یہ ان کی کرم نوازی ہے کہ وہ منافقین کو قبل ازوقت مطلع فرما رہے ہیں اور جن لوگوں کی حالات پر نظر گہری تھی ‘ ان کے لیے یہ باتیں بعید ازقیاس نہ تھیں۔ بات یہ کہی جارہی ہے کہ آج تو تم یہود کی پشت پناہی کے باعث اسلام کو اور مسلمانوں کو وہ اہمیت نہیں دے رہے جو بجا طور پر دینی چاہیے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں کہ جب اسلام کو غلبہ عمومی حاصل ہوگا اور یہود آہستہ آہستہ اپنا دم خم کھو بیٹھیں گے اور انہیں مدینے سے جانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اور ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا جائے گا کہ منافقین کے معاملہ میں وہ چشم پوشی اور اغماض کی روش بدل دیں اور جس طرح اب تک ان کو بہر صورت برداشت کرنے کی پالیسی چل رہی تھی ‘ اسے چھوڑ کر احتساب شروع کردیں۔ پھر منافقین کو اندازہ ہوگا کہ ہم جن کے بل بوتے پر شرارتیں کرتے رہے اور جن مسلمانوں کی کریم النفسی اور وسعت ظرف کے باعث مہلت سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اب صورتحال ایسی تبدیل ہوئی ہے کہ مسلمانوں نے اپنی روش بدل لی ہے اور یہود پشت پناہی کے لائق نہیں رہے۔ تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر مختلف قسم کے عذر پیش کریں۔
قرآن کریم نے یہاں جس پیشگوئی کو ذکر فرمایا ہے۔ جنگ خندق کے بعد وہ وقت آگیا کہ جب یہ پیشگوئی حقیقت کی شکل اختیار کرکے سامنے آکھڑی ہوئی۔ بنونضیر اور بنو قینقاع کو پہلے شہر بدر کیا جا چکا تھا۔ بنوقریظہ قتل کردیے گئے۔ اب مدینے کے ماحول کو خالص اسلامی ماحول میں تبدیل کرنے کا وقت آگیا۔ اور حالات کا تقاضا ہوا کہ مدینہ میں اسلامی ریاست کا مکمل غلبہ ہو۔ فتح مکہ کا معرکہ قریب آرہا تھا۔ اس کی تیاری کے لیے آستین کے سانپوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس لیے اب تیزی سے منافقین کا احتساب شروع ہوا اور اس وقت منافقین کو اندازہ ہوا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کی کریم النفسی اور نرم خوئی سے فائدہ نہ اٹھا کر بہت سخت غلطی کی۔ لیکن یہ وہ باتیں ہیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ‘ اس پیش گوئی میں ان باتوں کی تصویر دیکھی جاسکتی تھی۔ لیکن اس وقت آنحضرت ﷺ سے پروردگار فرما رہے ہیں کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ‘ آپ انھیں سن لیجیے لیکن ان کی حقیقت وہ نہیں جو کچھ کہا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلی ارادوں کو جانتا ہے۔ یہ تو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم تو امت کی خیرخواہی اور سازگاری کے جذبے سے یہ سب کچھ کرتے رہے۔ حالانکہ یہ منافقت اور طاغوت پرستی کا فساد تھا جو انھیں اسلام کی طرف سے یکسو نہیں ہونے دیتا تھا اور یہ دل میں امید لگائے بیٹھے تھے کہ اسلام اور یہود کی اس کشمکش میں ہوسکتا ہے کہ یہود کا پلڑا بھاری ہوجائے تو پھر یہ ہماری پالیسی ہمارے کام آئے گی اور ہم انھیں اپنی موجودہ پالیسی کا حوالہ دے کر مفادات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور فرض کریں اگر مسلمان ہی غالب آتے ہیں تو تب بھی مسلمانوں میں ہمارا شامل رہنا ہمارے مفادات کی حفاظت کے لیے ضمانت بن جائے گا۔ لیکن آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ابھی ان سے کچھ نہ کہئے ‘ البتہ انھیں نصیحت فرمائیے اور فہمائش کیجیے۔ البتہ اس نصیحت میں پہلے نرم روی اور شبنمی انداز کا غلبہ رہتا تھا ‘ اب تھوڑی سی لہجے میں تبدیلی پیدا کیجیے۔ اور ان پر یہ حقیقت واضح کردیجیے کہ ان سے جو کچھ کہا جارہا ہے یہ خود ان کے لیے بہتر ہے ‘ ان کی اس روش سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور ان کو یہ بات اس انداز میں فرمائیے جو دل میں دھنس جانے والی ہو ‘ یعنی دل میں وہ ایک چبھن محسوس کریں اور سمجھ لیں کہ اگر ہم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔
Ayah 4:64وَمَآ اَرْسَلْـنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَلَوْاَنَّھُمْ اِذْظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ جَـآئُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
(اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا تو اسی لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر وہ جب کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ‘ تمہاری خدمت میں حاضر ہوتے اور خدا سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے معافی چاہتا تو وہ خدا کو بڑا توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے) (النسآء : 64)
رسول کا حقیقی مقام و مرتبہ
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے رسول کی حیثیت و عظمت کو پوری طرح نمایاں کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا : کہ ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے تو صرف اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے مان لیا جائے اور اس سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا جائے بلکہ رسول اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ اسے مانا بھی جائے ‘ اس سے عقیدت بھی رکھی جائے اور اس سے محبت بھی کی جائے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی اطاعت کی جائے کیونکہ صرف مان لینا کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک اس کے ساتھ اطاعت شامل نہ ہو۔ اسی طرح وہ محبت اور عقیدت زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں جس کے ساتھ اطاعت کی تائید شامل نہ ہو۔ ایک آدمی کسی شخصیت کی عظمت تسلیم کرتا ہے لیکن اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتا۔ کسی سے عقیدت و محبت کا دم بھرتا ہے لیکن اس کی پیروی نہیں کرتا تو غور فرمائیے کہ اس مان لینے اور عقیدت و محبت کے اظہار کرنے کا آخر کیا فائدہ ہے۔ رسول تو دنیا میں اس لیے آتا ہے تاکہ یہ ساری نسبتیں اس کے ساتھ قائم ہوں۔ وہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں مکمل تبدیلی لانے کا پابند ہوتا ہے۔ اگر اس کے احکام کی تعمیل نہ کی جائے اور اس کی کسی ہدایت کو قبول نہ کیا جائے اور اس کو ماننے والے صرف زبانی جمع خرچ کرنے والے ہوں تو ایسے لوگوں کی زندگی میں کیا تبدیلی واقع ہوسکتی ہے اور ان کے واسطے سے کیسا انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ تو ہر رسول کے ساتھ ہے۔ کہ اطاعت رسول کو ماننے کی لازمی شرط ہے۔ لیکن وہ ذات گرامی جو سید الرسل بن کے دنیا میں آئی ہے ‘ اس کی اطاعت نہ کرنے کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔ لیکن منافقین صرف یہ سمجھتے تھے کہ ایمان کا دعویٰ اور محبت وعقیدت کا اظہار بس ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے اور بدنصیبی سے آج کا مسلمان بھی یہی سمجھتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں شریعت کو دخیل ہونے کا کہیں موقع نہیں دیتا۔ وہ اپنی پوری زندگی کو اس سے آزاد رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن جب اسے خیال آتا ہے کہ میں آخر ایک مسلمان بھی ہوں تو وہ چند نعتیں پڑھ کر یعنی اظہار محبت وعقیدت کرکے سمجھتا ہے کہ میں نے آخرت کا سامان کرلیا ہے۔ ایک عرب شاعر نے نہایت تعجب سے اس دو عملی پر توجہ دلائی ہے۔ وہ کہتا ہے :
تَعصِی الرَّسُولُ وَ اَنْتَ تَظْہَرُ حُبَّہ
ھَذَا لَعَمْرِی فِی الزَّمَانِ بَدِیع
لَوْ کَانَ حُبُّـکَ صَادِقاً لَاُطَعْتَہٗ
اِنَّ المُحِبَّ لِمَنْ یَحِبُّ مُطِیع
(تو رسول کی نافرمانی کرتا ہے اور اس سے محبت کا اظہار بھی کرتا ہے میری بقا کی قسم زمانے میں یہ بالکل نئی بات ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو رسول کی اطاعت کرتا ‘ کیونکہ محبت کرنے والا ہمیشہ اپنے محبوب کی اطاعت کرتا ہے)
اسی بات کو آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا۔ کل امتی یدخلون الجنۃ الا من ابیٰ ۔ قالوا : یارسول اللہ ومن ابیٰ ؟ قال : من اطاعنی فقد دخل الجنۃ ومن عصانی فقد ابٰی (میری ساری امت جنت میں جائے گی ‘ ہاں وہ نہیں جائے گا جس نے انکار کیا۔ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ کس نے انکار کیا ؟ ارشاد فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے مجھے ماننے سے انکار کیا)
مختصر یہ کہ رسول ‘ اللہ کی حاکمیتِ قانونی اور تشریعی کا مظہر ہوتا ہے۔ اس کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔ تو جو بھی اس کی نافرمانی کرتا ہے چونکہ یہ اللہ کی نافرمانی ہے ‘ اس لحاظ سے وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ رسول کی عدالت کو چھوڑ کر کسی اور عدالت میں اپنے معاملے کو فیصلے کے لیے لے کرجاتا ہے تو وہ اللہ کی حاکمیت کا انکار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اپنی جان پر اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرچکے ‘ یعنی یہود کی عدالتوں میں جا کر انھوں نے اپنے آپ پر ظلم توڑا ہے تو اب بھی بچ نکلنے کا ایک راستہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اے پیغمبر وہ آپ کے پاس آئیں ‘ پھر اللہ سے معافی مانگیں اور آپ بھی ان کے لیے اللہ سے استغفار کریں۔ تو یقینا اللہ کو توبہ قبول کرنے ولا اور رحم کرنے والا پائیں گے۔ آپ کے پاس انہیں آنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ انھوں نے آپ کی عدالت میں نہ آکر حقیقت میں آپ کی رسالت کو چیلنج بھی کیا ہے اور آپ کا دل بھی دکھایا ہے۔ اس جرم کی تلافی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ سب سے پہلے آپ کے پاس آکر آپ سے معافی نہ مانگیں اور آپ کو خوش نہ کریں۔ اور جب تک آپ ان کے لیے استغفار نہیں کریں گے ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ انہیں معاف نہیں فرمائے گا۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ آیت اگرچہ خاص منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لیے دعائے مغفرت کردیں ‘ اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانے میں ہوسکتی تھی ‘ اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کو دفن کرکے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آکر گرگیا اور زار زار روتے ہوئے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کے لیے دعائے مغفرت کردے تو اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لیے دعائے مغفرت فرمائیں۔ اس وقت جو لوگ حاضر تھے ‘ ان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر سے آواز آئی۔ قَدْغُفِرُلَـکَ (کہ تمہاری مغفرت کردی گئی) واللہ اعلم واحکم بالصواب۔ ( بحرمحیط)
Ayah 4:65فَلاَ وَ رَبِّـکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیمًا
(پس (اے پیغمبر) تیرے رب کی قسم یہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حاکم بنائیں آپ کو ہر اس جھگڑے میں جو پھوٹ پڑا ان کے درمیان۔ پھر نہ پائیں اپنے نفسوں میں تنگی اس سے جو فیصلہ آپ نے کیا اور تسلیم کرلیں دل و جان سے) (النسآء : 65)
وَ رَبِّـکَ کا معنی و مفہوم
وَرَبِّـکَ میں وائو قسم کے لیے ہے۔ اس سے پہلے لا زائد کہا جاتا ہے ‘ لیکن یہ قسم کی تاکید کے لیے آتا ہے۔ ہمارے متقدمین اس کو اسی معنی میں لیتے ہیں۔ نفیِ ایمان پر دلالت کرنے کے لیے لا نفی کو دو بار ذکر کیا۔ ایک بار قسم سے پہلے اور دوسری مرتبہ قسم کے بعد۔ اس سے قسم کے ساتھ جو بات کہی جا رہی ہے اس کی انتہائی تاکید بھی مقصود ہے اور تحسین کلام بھی۔
سابقہ آیت کریمہ میں رسول کی حیثیت کو بیان کیا گیا تھا۔ رسول کو مان لینا یا اس سے عقیدت کا اظہار کرنا کافی نہیں بلکہ اس کی اطاعت بھی ضروری ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس مضمون کو پوری وسعت اور جامعیت کے ساتھ کھول دیا ہے۔ اس میں سب سے پہلے ایک قاری کی نگاہ قسم پر پڑتی ہے کہ ” اے پیغمبر ! تیرے رب کی قسم ہے۔ “ اور اس کے بعد منافقین کے بارے میں ان کے عدم ایمان کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قسم اس وقت کھائی جاتی ہے جب مخاطب کو بات کہنے والے کی بات کا اعتبار نہ ہو۔ اور اس کے نزدیک قائل کی حیثیت ایسی معتبر نہ ہو کہ اس کی ذات کا حوالہ باقی ہر چیز سے مستغنی کر دے۔ تو پھر بات کہنے والا اپنی بات کو موکد اور قابل اعتبار ٹھہرانے کے لیے قسم کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن جس کی ذات ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا ہو اسے ان سہاروں کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پروردگار کے بارے میں کوئی بدتر سے بدتر آدمی بھی تصور نہیں کرسکتا کہ اس کی کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ بھی ہوسکتا ہے۔ خود قرآن کریم نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہی ہے وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا (اللہ سے بڑھ کر کس کی بات سچی ہوسکتی ہے) ۔ لیکن یہاں پروردگار بات کہنے سے پہلے قسم کھا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ قسم کے ذریعے اپنی بات کا اعتبار پیدا کر رہا ہے۔ بلکہ یہاں دو وجہ سے قسم کھائی جا رہی ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ منافقین کو اس بات کا اچھی طرح یقین آجائے کہ اللہ کے نزدیک وہ ایمان کسی طرح بھی قابل اعتبار نہیں جس میں اللہ کے رسول کی اطاعت اور محبت میں کمی ہو۔ وہ ہزار ایمان کے دعوے کریں لیکن ایمان کے لیے لازمی سندوہ ہے جو اس آیت کریمہ میں آگے پیش فرمائی جا رہی ہے۔ اور دوسری وجہ قسم کھانے کی شاید یہ ہے کہ اس سے پہلے آیت نمبر 63 میں پروردگار نے منافقین کی قسم کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ آپ کو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے ایمان میں اور مسلمانوں کے ساتھ ہمارے رویے میں منافقت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہاں پروردگار نے منافقین کی اس جھوٹی قسم کی تردید سچی قسم کے ساتھ فرمائی ہے کہ وہ اپنا اعتبار جمانے کے لیے ہزار قسمیں کھائیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ سچی قسم یہ ہے کہ وہ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ اور مزید یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وَرَبِّـکَکے خطاب میں جس طرح پروردگار نے اپنی اضافت رسول اللہ ﷺ کی ذات کی طرف فرمائی ہے اور جس طرح التفاتِ خاص کا ثبوت دیا ہے اس سے منافقین اور قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ بات بتلانا مقصود ہے کہ جس پیغمبر کی اطاعت اور محبت کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ اس کا مقام و مرتبہ اللہ کی نگاہ میں کیا ہے ؟ قسم تو یقینا اللہ کے نام کی ہوتی ہے اس لیے پروردگار یہ بھی فرما سکتے تھے کہ ” مجھے اپنی قسم ہے “ لیکن بطور خاص یہ فرمانا کہ ” تیرے رب کی قسم ہے “ اس میں آنحضرت ﷺ کی جس طرح دلنوازی اور عظمت شان کا اہتمام کیا گیا ہے اس کی وضاحت کے لیے تو شہپرجبریل چاہیے ‘ انسانی زبان یا قلم میں اس کی طاقت نہیں کہ وہ اس کی نزاکتوں کا حق ادا کرسکے۔ اس کے بعد ایمان کے ثبوت کے لیے تین باتیں ارشاد فرمائیں :
ایمان کے ثبوت کے لیے تین شرائط
1 کہ تمہارے ایمان کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں جب تک تم اپنی زندگی کے تمام اختلافات میں اللہ کے رسول ﷺ کو آخری حکم ‘ سند اور اتھارٹی نہ سمجھو۔ اس میں دو باتیں انتہائی قابل غور ہیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے رسول کی فیصلہ کن حیثیت صرف عبادات یا خالص دینی امور میں نہیں ‘ بلکہ اعتقادات سے لے کر معاملات تک اور پھر عدالتوں سے لے کر ایوان ہائے حکومت تک ‘ قومی معاملات سے لیکر بین الاقوامی معاملات تک تک ‘ کسی سطح پر بھی اور کسی دائرے میں بھی کوئی معاملہ سر اٹھائے جس میں امت کے اہل علم یا عوام اور حکمرانوں میں یہ اختلاف ہوجائے کہ اس معاملے میں راہ صواب اور نقطہ اعتدال کیا ہے ؟ تو اس کے فیصلے کے لیے صرف اللہ کے رسول کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اگرچہ رجوع سب سے پہلے قرآن حکیم کی طرف کیا جائے گا ‘ لیکن قرآن کریم کے اصولوں کی عملی تعبیر ‘ اس کے مبہمات کی وضاحت ‘ اس کے مجملات کی تشریح ‘ چونکہ یہ صرف اللہ کے رسول کا کام ہے اس لیے عملی طور پر اللہ کے رسول کی ذات ہی مرجع ہوگی۔ کوئی آدمی یا کوئی گروہ صرف اعتقادات یا عبادات میں تو اللہ کے رسول کی طرف دیکھتا ہے لیکن باقی پوری زندگی میں وہ اللہ کے رسول کو حَکَم تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ منافق ہے اور اس کے ایمان کا کوئی بھروسہ نہیں۔ اور دوسری یہ بات کہ کہ اگر کوئی شخص زندگی کے ہر معاملے میں زبانی طور پر تو اللہ کے رسول کی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے ‘ لیکن عملی طور پر وہ اللہ کے رسول یعنی قرآن و سنت کو حقیقی اہمیت دینے اور واقعی حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ جب کبھی آنحضرت ﷺ سے اظہارِ عقیدت و محبت کا وقت آئے تو وہ سب سے پیش پیش ہو ‘ لیکن جب اس سے اجتماعی ‘ تہذیبی ‘ تمدنی ‘ حکومتی اور تعلیمی معاملات میں آنحضرت یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کے لیے کہا جائے تو وہ صاف پہلو بچا کر نکل جائے تو ایسا شخص بھی اللہ کی نگاہ میں مومن نہیں۔ مختصر یہ کہ زندگی کے تمام معاملات اور اختلافی امور میں جب تک آنحضور ﷺ کی فیصلہ کن حیثیت تسلیم نہ کی جائے اس وقت تک ایمان ناقابلِ اعتبار رہتا ہے۔ اور ایسا شخص حقیقت میں مومن نہیں ہوتا۔
2 دوسری بات اس آیت کریمہ میں ایمان کے ثبوت کے لیے یہ فرمائی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو حکم ‘ سند اور اتھارٹی تسلیم کرلینا ہی کافی نہیں ‘ بلکہ آپ ﷺ کے فیصلوں کو جو قرآن و سنت کی شکل میں موجود ہیں اور قیامت تک کے لیے باقی رہیں گے انھیں دل و جان سے قبول کرنا بھی ضروری ہے۔ یعنی زبانی اقرار کافی نہیں بلکہ دل کی تصدیق اور دل کا میلان بھی ضروری ہے۔ جیسے ہی کسی معاملے میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس معاملے میں آنحضرت ﷺ کی ہدایت یہ ہے تو اگر دل اسے قبول کرنے میں تنگی محسوس کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نفاق موجود ہے۔ حقیقی ایمان کے لیے انشراحِ قلب اور طبیعت کا یکسو ہونا ضروری ہے۔ دنیا کے اہل علم اس کے بارے میں کوئی بھی رائے رکھیں ‘ لیکن ایک مومن کے لیے اللہ کے رسول کی رائے کے مقابلے میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ دل میں اس کیفیت کا پیدا ہوجانا حقیقی ایمان ہے ‘ جس کے بغیر اللہ کے یہاں ایمان کا اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی بات کا حکم دیتے تھے تو صحابہ ( رض) فوراً سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہہ اٹھتے تھے اور ان کا انگ انگ اطاعت میں ڈوب جاتا تھا۔ وہ جیسے جیسے اطاعت کی کلفتوں سے گزرتے تھے ویسے ویسے ان کے دلوں کی مسرتوں میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔
3 تیسری چیز حقیقت میں متذکرہ دونوں چیزوں کا نتیجہ ہے۔ جب ایک شخص اللہ کے رسول کی اصل حیثیت کو تسلیم کرلیتا ہے ‘ پھر اللہ کے رسول کے ہر فیصلے پر وہ دل و جان سے جھک جاتا ہے اور آپ ﷺ کی ایک ایک ادا پر سرِ تسلیم خم کردیتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی پوری ذات کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں دے دیتا ہے ‘ اپنی خواہشات سے دستبردار ہوجاتا ہے اور اپنے نفع و ضرر کے پیمانوں کو توڑ کر پھینک دیتا ہے۔ اب اس کے سامنے نفع وہ ہے جسے حضور ﷺ نفع قرار دیں اور نقصان وہ ہے جسے حضور ﷺ نقصان قرار دیں۔ ان تین باتوں کا خلاصہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرما دیا۔ ارشاد فرمایا لایؤمن احدکم حتی یکون ہواہ تبعا لما جئت بہ (تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ اس کی خواہشاتِ نفس اس تعلیم اور شریعت کے تابع نہ ہوجائیں جسے میں لے کے آیا ہوں) ۔ اس حدیث پر اگر غور کریں تو پوری زندگی اس میں سمٹ آتی ہے۔ گھر میں بھی حضور کی سنت حکومت کرتی نظر آتی ہے اور اجتماعی زندگی کے ہر ادارے میں اور حکومت کے ایوانوں میں بھی آنحضرت یعنی آپ ﷺ کی شریعت کا ڈنکا بجتا سنائی دیتا ہے۔
Ayahs 4:66–68وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ مَّا فَعَلُوْہُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْہُمْ ط وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوْا مَایُوْعَظُوْنَ بِہٖ لَـکَانَ خَیْرًا لَّہُمْ وَاَشَدَّ تَثْبِیْتًا لا وَّ اِذًا لَّاٰ تَیْنٰـہُمْ مِّنْ لَّدُنَّـآ اَجْرًا عَظِیْمًا لا وَّ لَھَدَیْنٰـہُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْـقِیْنَ وَالشُّھَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ ج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا ط ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیْمًا ع
(اور اگر ہم ان پر یہ فرض کرتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے تو ان میں سے بہت تھوڑے ہی اس کی تعمیل کرتے۔ اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی ہدایت کی جاتی ہے تو ان کے لیے یہ بات بہتر اور ایمان پر قدم جمانے والی ہوتی۔ اور اس وقت ہم عطا کرتے انھیں اپنے پاس سے اجر عظیم اور ضرور ہی پہنچاتے انھیں سیدھے راستے پر اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور کیا ہی اچھے ہیں یہ سب ساتھی۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے والا) (النساء : 66 تا 70)
نفاق کا اصل سبب
ان آیات میں سے پہلی آیت کریمہ میں منافقین کے اصل سبب ِ نفاق سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اور اس نفاق کی وضاحت کے لیے جو کچھ فرمایا گیا ہے اسے ہمارے مفسرین کرام نے دو طرح سے سلجھایا ہے۔ بعض مفسرینِ کرام اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ کا مفہوم یہ مراد لیتے ہیں کہ قتل کرو اپنے نفسوں کو یعنی اپنے آپ کو قتل کرو اور اپنے اہل خانہ کو قتل کرو۔ اور اُخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ کا مطلب ہے اپنے گھروں سے نکل جاؤ۔ یعنی خود اپنی اور اپنے اہل خانہ کی قربانی اللہ کی خاطر دے ڈالو۔ اور اس قربانی دینے سے پہلے اپنے گھر بھی چھوڑ دو ۔ یعنی سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کردو۔ مقصد یہ ہے کہ یہ منافقین معمولی سی آزمائش میں بھی ہمت ہار دیتے ہیں اور نفاق کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور اس سے ان کے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اگر کہیں ایسی شدید آزمائش سے انھیں دو چار کردیا جاتا کہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی اور اپنی اہل خانہ کی گردنیں کاٹو اور خود ہی اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو چند آدمیوں کے سوا یہ سب اس امتحان میں ناکام ہوجاتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے جب یہ آیت سنی تو بول اٹھے ” لوفعل ربنا لفعلنا (اگر ہمارے رب نے ہمیں یہ حکم دیا تو ہم ضرور تعمیل کریں گے) ۔ اور ایسا ہی ایمان افروز جواب حضرت صدیق اکبر ( رض) سے بھی نقل کیا جاتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے جب اپنے صحابہ کا یہ جواب سنا تو اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا الایمان اثبت فی قلوب اہلہ من الجبال الرواسی (اہل ایمان کے دلوں میں ایمان مستحکم پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوطی سے جاگزیں ہے) ۔
بعض دوسرے مفسرین نے اسے سیاق کلام سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ حقیقت میں یہ منافقین زیادہ تر یہود اور اطرافِ مدینہ کے قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر قسمت آزمائی کی خاطر مسلمانوں سے متعلق ہوگئے اور بڑھ چڑھ کر ایمان کا اظہار کرنے لگے۔ لیکن یہود اور قبائلی سرداروں کے ساتھ اپنے روابط کو چھوڑنے کے لیے کسی طرح بھی تیار نہ تھے۔ اسی وجہ سے جب بھی انھیں موقع ملتا وہ اپنے معاملات اور مقدمات یہود یا اپنے قبائلی سرداروں کے پاس فیصلے کے لیے لے کے جاتے تھے۔ یہاں ان کے اسی نفاق کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ یہ منافقین کہنے کو تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اپنے سابق روابط و تعلقات سے کسی طرح دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ خاندان ‘ برادری ‘ قبیلہ اور قوم کی زنجیرین ابھی تک ان کے پائوں میں پڑی ہیں۔ یہ وطن کی سرزمین کو اپنے دین و ایمان پر مقدم سمجھتے ہیں۔ بظاہر تو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو اپنے اخلاص اور اطاعت کا بڑھ چڑھ کر ثبوت دیتے ہیں ‘ لیکن اگر ان پر یہ پابندی لگا دی جائے کہ تمہیں ہجرت کرنی ہے اور اسلام کی خاطر اپنوں سے بھی لڑنا پڑے تو اس سے دریغ نہیں کرنا تو تم دیکھو گے کہ ان کے ایمان و اخلاص کے سارے دعوے دھرے رہ جائیں گے۔ ان مفسرین کے نزدیک اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ کا معنی اپنے آپ کو قتل کرنا نہیں بلکہ اپنے ان قرابت داروں کے خلاف تلوار نکالنا ہے جو اسلام کے رستے میں حائل ہوتے ہیں ‘ چاہے ان سے کتنا بھی قریبی خونی رشتہ کیوں نہ ہو۔ کفر کے خلاف جہاد کرنا بجائے خود ایک بہت بڑا امتحان ہے اور زندگی بھر کے نظریات و اعتقادات سے دستبردار ہوجانا بہت بڑی قربانی ہے لیکن اگر کسی قوم کو اپنی ہی قوم اور اپنے قرابت داروں سے لڑنے اور وطن چھوڑ کر ہجرت کرنے کا حکم دے دیا جائے تو اس ابتلاء و آزمائش کی گہرائی کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔ اسی آزمائش کے حوالے سے ان کے ایمان کی آزمائش کی بات ہو رہی ہے۔ کہ اگر انھیں اس آزمائش میں ڈال دیا جاتا تو گنتی کے چند لوگوں کے سوا سب فیل ہوجاتے ‘ لیکن مہاجرین اسی امتحان سے سرخرو ہو کر نکل چکے تھے۔ جنگ بدر ان کے لیے سب سے بڑی آزمائش تھی۔ ہجرت کر کے وہ اپنے ایمان کا پہلے ہی ثبوت دے چکے تھے۔ لیکن جنگ بدر میں جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو مسلمانوں نے دیکھا کہ ان کے اپنے ہی خونی رشتہ داران کے سامنے کھڑے تھے۔ اور آج سب سے بڑا امتحان یہ تھا کہ مسلمانوں کو اپنی تلواریں اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف بےنیام کرنا تھیں۔ ادھر مسلمانوں کی صف میں اگر حذیفہ تھے تو قریش کے لشکر کی کمان عتبہ کر رہا تھا جو حذیفہ کا باپ تھا۔ جب وہ سب سے آگے بڑھ کر اپنے بھائی اور بیٹے کے ساتھ مبارزت طلب ہوا تو حضرت حذیفہ برہنہ تلوار لے کر مقابلے کے لیے آگے بڑھے۔ لیکن حضور نے باپ کے مقابلے کے لیے بیٹے کو بھیجنا مناسب نہ سمجھا۔ عاص بن وائل جو حضرت عمر فاروق ( رض) کا ماموں تھا۔ حضرت عمر فاروق کی تیغ خون آشام اس کے خون میں رنگین تھی۔ عبدالرحمن حضرت ابوبکر ( رض) کے صاحبزادے جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے حضرت صدیق اکبر کو دیکھا گیا کہ آپ برہنہ تلوار لیے ہوئے اس کا تعاقب فرما رہے ہیں۔ غرضیکہ مہاجرین میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہو جس کے خونی رشتہ داروں میں سے کوئی شخص اس کی تلوار کی زد میں نہ آیا ہو ‘ لیکن یہ لوگ اسلام سے اپنا رشتہ اس طرح جوڑ چکے تھے کہ کوئی رشتہ بھی اس رشتے کے راستے میں حائل نہ ہوتا تھا۔ جب مسلمانوں نے اس طرح سے اپنے اخلاص اور فدائیت کا ثبوت مہیا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فتح کی صورت میں انھیں انعام سے نوازا۔ ان منافقین سے کہا جا رہا ہے کہ حقیقی ایمان دیکھنا ہو تو مہاجرین و انصار کو دیکھو جنھوں نے اللہ اور رسول کے مقابلے میں ہر رشتہ توڑ ڈالا اور آج قدم قدم پر اللہ کے انعامات کے وہ مستحق ہوگئے ہیں۔ اگر تم بھی اسی راستے پر چلو اور انہی باتوں پر عمل کرو جس پر مخلص مسلمان کر رہے ہیں اور یہ خاندان اور قبیلے اور قوم کی زنجیریں توڑ کر پھینک دو تو یہ تمہارے لیے اسی طرح بہتر ہوگا جیسے مسلمانوں کے لیے بہتر ثابت ہوا ہے۔ اور جب تم یہ سارے رشتے توڑ کر ایک اللہ کے ہوجاؤ گے تو پھر تمہیں اسلام پر ثابت قدم رہنا آسان ہوجائے گا۔ اور یہ جو قدم قدم پر تمہارے قدم ڈگمگانے لگتے ہیں ‘ کبھی تم مسلمانوں کی طرف دیکھتے ہو اور کبھی اپنے قوم اور قبیلہ کی طرف ‘ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ تم اپنے فیصلوں میں یکسو نہیں ہو۔ جس دن تم نے یکسوئی اختیار کرلی اسی دن اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ان انعامات کا مستحق قرار دے گا جس سے مسلمان نوازے جا رہے ہیں۔ اور تمہیں اپنی طرف سے اجر عظیم سے نوازے گا اور تمہیں کرب و الم کی اس کیفیت سے نجات دے کر جو تذبذب اور بےیقینی کے تھپیڑے کھانے والوں کا مقدر ہوتی ہے اس صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے گا جو اپنے مسافر کو جنت تک پہنچا کے چھوڑتا ہے۔