Ayah 4:86وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْہَآ اَوْرُدُّ وْہَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَسِیْبًا
(اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹا دو ۔ اللہ ہر چیز کا حساب کرنے والا ہے) (النسآء : 86)
” تحیۃ “ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس کا اصل معنی ” کسی کو زندگی کی دعا دینا “ ہے۔ ” حَیَّاکَ اللّٰہُ “ کا دعائیہ کلمہ اسی سے بنا ہے جس کا معنی ہے ” اللہ تمہیں زندہ رکھے “ یا ” اللہ تمہاری عمر دراز کرے “۔
سلام کے حکم کا پس منظر
گزشتہ رکوع میں ہم نے پڑھا ہے کہ منافقین کی مختلف عادات و خصوصیات کو بیان کرنے اور مسلمانوں کے خلاف ان کی درپردہ سازشوں کو بےنقاب کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے کہا گیا ہے کہ آپ ان کی سازشوں کی پرواہ نہ کریں ‘ البتہ ان سے اعراض کا رویہ اختیار کریں۔ آپ کا بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے۔ وہی آپ کا کارساز ہے ‘ اس کی تائید و نصرت اگر میسر ہے تو پھر یہ منافقین آپ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ اس لیے ان کی مخالفت سے آپ نہ اثر قبول کریں اور نہ ابھی ان کے خلاف کوئی اقدام کریں ‘ البتہ وہ شفقت اور توجہ جس کی پھوار ہر ایک پر برستی رہتی ہے اس میں آپ کمی فرما دیں اور ان سے اعراض اور بےنیازی کا رویہ اختیار کریں تاکہ ان کو اندازہ ہوجائے کہ آپ ان کی سازشوں اور شرارتوں سے بیخبر نہیں ہیں۔
مسلمان چونکہ ہر معاملے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کرتے تھے اور آپ ﷺ کی ایک ایک بات اور ایک ایک ادا پر ان کی نظر رہتی تھی۔ وہ جیسے ہی منافقین سے آپ کو اعراض کرتے ہوئے دیکھیں گے تو انھیں یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ آپ یقینا ان سے ناراض ہیں اور آپ کی ناراضگی کسی سے بھی اپنی ذات کی وجہ سے تو نہیں ہوتی بلکہ اس کا سبب غیرت دینی یا اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ اس احساس کے پیدا ہوتے ہی یقینا اس بات کا خطرہ تھا کہ مسلمان بھی منافقین سے اپنا رویہ بدل لیں اور جو لوگ مسلمانوں میں زیادہ پرجوش ہیں وہ ہوسکتا ہے منافقین کے خلاف کوئی اقدام کر ڈالیں۔ ابھی حالات اس سطح تک نہیں پہنچے تھے کہ منافقین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے ذریعے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی کہ منافقین کا طرز عمل کچھ بھی ہو تمہیں بہرحال اپنے طرز عمل میں سختی یا بیگانگی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ تمہاری حیثیت ایک داعی اور مبلغ کی ہے۔ دوسروں کی طرف سے اگر تمہیں تلخیاں بھی ملیں تو تمہیں اس کا جواب تلخی سے نہیں دینا چاہیے۔ اس سے معاملات ہمیشہ بگڑتے ہیں سدھرتے نہیں۔ اس لیے جب تم یہ دیکھو کہ کوئی تمہیں احترام کے ساتھ دعا دے رہا ہے تو تم بھی اس کی دعا کا جواب دعا سے دو ۔ بلکہ تمہاری دعا میں اس کے لیے زیادہ محبت کا اظہار ہونا چاہیے اور اگر ایسا نہ کرسکو تو اسی کے دعائیہ کلمات کو دہرا دو ۔
سلام مسلمان کی شناخت
اس آیت کریمہ میں بظاہر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمہیں کوئی دعائیہ کلمات سے سلام کرتا ہے تو تمہیں بھی ایسے ہی دعائیہ کلمات سے جواب دینا چاہیے۔ اور اس کی ضرورت اس وقت کے تلخ حالات میں مسلمانوں کو تلخی کا رویہ پیدا کرنے سے روکنا تھا۔ لیکن جمہور مفسرین کہتے ہیں کہ یہ صحیح ہے کہ اس وقت اس کی ضرورت اس لیے پید اہوئی ‘ لیکن درحقیقت یہ آیت کریمہ بنیاد ہے اس طریق سلام کی جسے اسلام نے مسلمانوں میں رواج دیا اور جو مسلمانوں کی قومی اور ملی شناخت کا ذریعہ بن گیا۔
دنیا میں بسنے والی تمام قوموں میں اس بات کا احساس پایا جاتا ہے کہ ان کی قوم کے دو افراد بھی جب آپس میں ملیں تو باہمی تعارف ‘ شناخت اور اعتماد کا کوئی ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جس سے بیگانگی دور کرنے میں مدد ملے۔ چناچہ مختلف قوموں نے اپنے اپنے طریقے کے مطابق کچھ الفاظ اختیار کر رکھے ہیں۔ مثلاً دو انگریز جب آپس میں ملتے ہیں تو وقت کے حوالے سے ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں۔ صبح کو Good Morning کہیں گے دوپہر کو Good Noon سہہ پہر کو Good Afternoon شام کو Good Evening اور رات کو Good Night۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے بدلنے سے ان کا دعائیہ کلمہ بھی بدل جاتا ہے۔ یہی حال عربوں کا بھی تھا۔ وہ عام طور پر دعائیہ کلمہ ” حیَّاکَ اللّٰہ “ سلام کے طور پر استعمال کرتے۔ کبھی ” اَنْعَمَ اللّٰہُ بِکَ عَیْنًا “ کہتے۔ کبھی ” انعم صباحا “ کہتے اور کبھی ” انعم مساء “۔ یعنی ان کے سلام بھی صبح و شام کے فرق سے بدلتے رہتے۔ ہندوئوں میں آپ دیکھیں گے ان کے عام لوگ ” نمستے “ کہتے ہیں اور ان کے زیادہ مذہبی لوگ دوسرے سے ملتے ہوئے ” رام رام “ کہتے ہیں۔ ان مثالوں میں آپ نے دیکھا کہ ہر قوم نے باہمی تعارف اور آپس میں موانست کے اظہار کے لیے سلام کے کچھ طریقے مقرر کر رکھے ہیں۔ جن میں دو چیزیں بڑی نمایاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ باہمی ملاقات کے وقت وہ ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں۔ لیکن یہ دعا وقت کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ اس لیے وقت بدلنے سے دعا بھی بدل جاتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ بعض قوموں نے اسے اپنے مذہب کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لیے وہ ملاقات کے وقت اپنے مذہب کی کسی بنیادی بات کا حوالہ دیتے ہیں۔ جس سے تعارف یا موانست میں شاید کوئی مدد ملتی ہے یا نہیں ملتی البتہ مذہب کا اظہار ضرور ہوجاتا ہے۔ لیکن اسلام نے سلام کے جس طریقے کو متعارف کرایا اور مسلمانوں پر اسے لازم کیا وہ صرف ملاقات کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ اس میں اتنی وسعت اور جامعیت پائی جاتی ہے کہ جس کا عام قوموں میں دور دور تک تصور نہیں پایا جاتا۔ اس میں بیک وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ہے ‘ تذکیر بھی ‘ مسلمان بھائی سے اظہارِ تعلق بھی ہے اور اس کے لیے دعا اور ضمانت بھی۔ ان تمام حوالوں سے جب ہم سلام کو دیکھتے ہیں تو اس کی جامعیت کو دیکھتے ہوئے حیرت ہونے لگتی ہے۔ اب ہم اس کی وضاحت کے لیے چند باتیں عرض کرتے ہیں۔
سلام کا مفہوم اور اس کی جامعیت
1 سلام اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ جب آدمی کسی کو سلام کہتا ہے تو وہ گویا السلام کا لفظ بول کر اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ اور اگر وہ اس کی معنویت پر غور کرے تو اس کے احساس میں مزید وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ کا ذکر آدمی میں تذکیر کا کام بھی کرتا ہے۔ یعنی اسے یاد دلاتا ہے کہ تم اللہ کے بندے ہو خود رو یا آزاد مخلوق نہیں ہو۔ اللہ کی طرف سے جس طرح تم پر اس کے حقوق عائد کیے گئے ہیں اسی طرح بندوں کے حقوق بھی عائد کیے گئے ہیں دیکھو اللہ کا نام لے کر جب تم کسی بندے سے ہمکلام ہوتے ہو تو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو مجروح نہ ہونے دینا۔ اور مزید یہ کہ تم اس کی معنویت پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ تم نے السلام کا لفظ بول کر کتنی بڑی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ابن العربی نے احکام القرآن میں ذکر کیا ہے کہ ” السلام علیکم کے معنی ہیں ” اللہ رقیب علیکم “ (اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ ہے) جب تم نے اسے اللہ کے محافظ ہونے کی خبر دی تو پھر اگر تمہاری طرف سے اسے کوئی بھی نقصان پہنچا یا تمہاری نیت میں اس کے حوالے سے کوئی بھی فساد پیدا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اللہ کی حفاظت کو چیلنج کیا ہے۔ اس صورت میں یہ معاملہ تمہارے اور دوسرے آدمی کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ تمہارے اور اللہ کے درمیان ہوگا۔ تم جیسے جیسے اس کی حفاظت کے حصار کو توڑو گے ویسے ویسے تم خود غیر محفوظ ہوتے جاؤ گے۔ اس لحاظ سے آپ دیکھیں کہ السلام علیکم کہہ کر آدمی کتنی بڑی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ ایک طرف اللہ کو یاد کرتا ہے اور دوسری طرف اس کے حوالے سے اپنے ملنے والے کو اپنی پناہ میں لے لیتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے مسلمان کی تعریف یہ فرمائی ” المسلم من سلم المسلمون من لسانہٖ و یدہٖ “ (مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں) ابن العربی نے احکام القرآن میں امام ابن عیینہ کا یہ قول نقل کیا ہے ” أ تدری ما السلام ؟ یقول انت آمن منی “ (تم جانتے ہو کہ سلام کیا چیز ہے ؟ سلام کہنے والا یہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مامون ہو) یعنی میں تمہیں ضمانت دیتا ہوں کہ میری طرف سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بلکہ حتیٰ المقدور میں تمہاری حفاظت کروں گا۔
2 سلام دو مسلمانوں کے درمیان اظہارِ تعارف بھی ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے کو السلام علیکم کہتا ہے تو وہ دراصل ایک علامت کا اظہار کرتا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور میرا تعلق امت مسلمہ سے ہے۔ اور جب دوسرا مسلمان وعلیکم السلام کہتا ہے تو وہ درحقیقت اس کے سلام کو قبول کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح سے دونوں یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم دونوں ایک ہی امت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا خدا ‘ ہمارا رسول اور ہمارا دین ایک ہے۔ ہمارے حسن و قبح کے معیارات ایک ہیں۔ ہمارے تحفظات یکساں ہیں۔ ہمارے مقاصد میں ہم آہنگی ہے۔ ہماری اجتماعی مصلحتیں یکساں ہیں۔ اس ایک لفظ سے یکسانیت اور وحدت کے تمام حوالے ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں ان دونوں کے درمیان سے اجنبیت کے تمام پردے اٹھ جاتے ہیں۔ وہ دشمن کے دیس میں ہوں تو محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں ایک محفوظ پناہ مل گئی ہے۔ اور اگر اپنوں میں ہوں تو محبت کا زمزم بہنے لگتا ہے۔
3 السلام کا لفظ دعا بھی ہے۔ اور اس دعا میں بڑی وسعت ہے۔ جب ایک آدمی دوسرے کو سلام کہتا ہے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا مانگتا ہے۔ اسے دنیا میں ہر دکھ اور ہر تکلیف سے محفوظ دیکھنا چاہتا ہے۔ اور آخرت میں اسے جہنم کے عذاب سے بچانا چاہتا ہے۔ اس کی دعا صبح و شام میں محدود نہیں ہوتی۔ بلکہ پوری زندگی پر محیط ہوتی ہے۔ اور پھر دنیا سے آگے بڑھ کر آخرت کی بھلائیوں تک دراز ہوجاتی ہے۔ انہی تینوں حوالوں سے پروردگار نے سلام کو مسلمانوں کے لیے نہ صرف علامت بنایا ‘ بلکہ اس کو عبادت کا درجہ بھی دیا اور اسی کو ایک دوسرے کی حفاظت کی ضمانت بنادیا اور اس کے عام کرنے اور اس کو رواج دینے کے لیے اس کی انتہائی تاکید فرمائی اور فضائل بیان فرمائے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک حدیث ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ ” تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ ہو اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو۔ میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تم میں آپس میں محبت قائم ہوجائے گی۔ وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو عام کرو ‘ ہر مسلمان کو سلام کرو خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو۔ “
سلام کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے اس پر نیکیوں کی عطا و بخشش کا ذکر بھی فرمایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” عن ابی امامۃ قال قال رسول اللہ ﷺ ان اولیٰ الناس باللہ من بدأ بالسلام “ (حضرت ابو امامہ ( رض) سے روایت ہے کہ لوگوں میں اللہ کے قرب اور اس کی رحمت کا زیادہ مستحق وہ بندہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے)
ایک دوسری حدیث میں جو حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :
” البادیٔ بالسلام بریٔ من الکبر “ (سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہے)
سلام کو مزید موثر بنانے اور مسلمانوں کو رحمتوں سے نوازنے کے لیے آنحضرت ﷺ نے اس میں مزید دعائوں کا اضافہ فرمایا اور اس پر مزید اجر وثواب کی امید دلائی۔ اور آپ ﷺ نے اپنے عمل سے مسلمانوں کے دل و دماغ میں اسے راسخ فرمایا۔ عمران بن حصین ( رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا ” السلام علیکم “ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا پھر وہ مجلس میں بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” دس “ (یعنی اس بندے کے لیے اس کے سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک اور آدمی آیا اس نے کہا ” السلام علیکم و رحمتہ اللہ “ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” بیس “ (یعنی اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک تیسرا آدمی آیا اس نے کہا ” السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ “ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ مجلس میں بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” تیس “ (یعنی اس کے لیے تیس نیکیاں ثابت ہوگئیں) اندازہ فرمایئے کہ جیسے جیسے ایک آدمی اپنے دوسرے بھائی کے لیے دعائوں میں اضافہ کرتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی اپنی نیکیوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی تاکید و ترغیب کا نتیجہ تھا کہ صحابہ میں سلام صرف ایک علامت بن کر نہیں رہ گیا تھا بلکہ وہ اسے نیکیوں کے حصول کا ذریعہ سمجھ کر زیادہ سے زیادہ سلام کہتے اور سلام سنتے تھے۔ “ امام مالک ( رح) نے ابی ابن کعب ( رض) کے صاحبزادے طفیل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت عبداللہ ابن عمر ( رض) کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ ہمیں ساتھ لے کر بازار جاتے تھے۔ اور جس دکان اور جس کباڑیے اور جس فقیر و مسکین کے پاس سے گزرتے اس کو بس سلام کرتے اور کچھ خریدو فروخت کیے بغیر واپس آجاتے۔ ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو معمول کے مطابق مجھے ساتھ لیکر بازار جانے لگے تو میں نے عرض کیا کہ آپ بازار جا کر کیا کریں گے ؟ نہ تو آپ کسی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں نہ کسی چیز کا سودا کرتے ہیں ‘ نہ بھائو ہی کی بات کرتے ہیں اور بازار کی مجلسوں میں بھی نہیں بیٹھتے (پھر آپ بازار کس لیے جاتے ہیں ؟ ) یہیں بیٹھیے باتیں ہوں اور ہم استفادہ کریں۔ حضرت ابن عمر ( رض) نے فرمایا کہ ہم تو صرف اس غرض اور اس نیت سے بازار جاتے ہیں کہ جو سامنے پڑے اس کو سلام کریں (اور ہر سلام پر کم از کم دس نیکیاں کما کر اللہ کی رحمتیں اور بندگانِ خدا کے جوابی سلاموں کی برکتیں حاصل کریں)
یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ متذکرہ بالا حدیث میں آپ نے دیکھا کہ دعائوں کے اضافے سے اجر وثواب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن ان دعائوں میں اضافہ صرف تین کی حد تک محدود ہے یعنی وبرکاتہ تک۔ مزید اضافے کی حضور ﷺ نے اجازت نہیں دی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) کے عمل سے مزید اس کی وضاحت ہوجاتی ہے۔ جب کسی نے ان کے سامنے تین دعائوں پر اضافہ کرنے کی کوشش کی تو آپ ( رض) نے فرمایا ” ان السلام قد انتہی من البرکۃ “ (سلام لفظ برکۃ پر ختم ہوجاتا ہے اس سے زیادہ کہنا مسنون نہیں) سلام کا موقع بجائے خود اس کا تقاضا کرتا ہے کہ سلام مختصر ہونا چاہیے۔ اس میں اتنی زیادتی مناسب نہیں جو کسی کام میں مخل ہو یا سننے والے پر بوجھ بن جائے۔
جس طرح ملاقات کے وقت سلام کہنا سنت اور اس کا جواب دینا واجب ہے اور یہ مسلمانوں کے طرز معاشرت اور ثقافت کا ایک اہم عنصر ہے اسی طرح سلام کو آنحضرت ﷺ نے بعض دوسرے مواقع کے لیے بھی مسنون بنایا ہے۔ اب ہم ایک ترتیب سے ان مواقع کا ذکر کرتے ہیں :
سلام ملاقات کے علاوہ دوسرے مقاصد کے لیے بھی
1 حضرت انس ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” یا بنی اذا دخلت علی اہلک فسلم یکون برکۃ علیک و علی اہل بیتک “ (بیٹا جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرویہ تمہارے لیے باعث برکت ہوگا اور تمہارے گھر والوں کے لیے) ایک دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب گھر سے جانے لگو تو سلام کر کے نکلو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر میں داخل ہونے کے آداب میں یہ بھی ایک ادب ہے کہ اہل خانہ کو سلام کرو۔ اور بعض احادیث سے ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ سلام کہنے اور دعا کرنے سے گھر بہت سی آفات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اور جنات اس گھر میں بسیرا نہیں کرسکتے۔
2 آنحضرت ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی کہ جب کسی سے ملاقات کے لیے اس کے گھر یا کسی مجلس میں جانا پڑے تو پہلے سلام کہو اور اجازت مانگو۔ سلام اور اجازت کے بغیر گھر میں داخل ہونا یا مجلس میں جا کر بیٹھ جانا آنحضرت ﷺ کے بتائے ہوئے آداب کے خلاف ہے۔ کوئی آدمی چاہے گھر میں اکیلا رہتا ہو بغیر سلام اور اجازت کے گھر میں داخل ہونا اس کے لیے اذیت کا باعث ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے وہ اس وقت مناسب حالت میں نہ ہو یا اس کی مصروفیت ملنے کی اجازت نہ دیتی ہو۔ اس لیے حضور ﷺ نے استیذان کی پابندی کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ” تین دفعہ سلام کرو اگر جواب نہ آئے تو واپس پلٹ جاؤ اور برا نہ مانو۔ “ اور یہ سلام کہنا اور اجازت طلب کرنا بعض مواقع پر حضور ﷺ نے اس کی نہایت تاکید فرمائی ہے اور جب کسی نے اس میں تساہل برتا تو آپ ﷺ نے اسے باہر بھیج دیا کہ دوبارہ اجازت لے کر اندر آئو۔ فتح مکہ کے بعد حضور وادی مکہ کے بالائی حصے میں ٹھہرے ہوئے تھے کلدہ بن حنبل کہتے ہیں کہ میں صفوان بن امیہ کی جانب سے چند تحائف لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں سلام کہے اور اجازت لیے بغیر اندر داخل ہوگیا اور آپ ﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم واپس جاؤ اور قاعدہ کے مطابق ” السلام علیکم أ ادخل “ کہہ کے اجازت مانگو۔ کلدہ چونکہ ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے انھیں ان آداب سے آگاہی نہیں تھی اس لیے وہ حسب سابق اجازت طلب کیے بغیر حضور ﷺ کے پاس پہنچ گئے لیکن آپ ﷺ نے انھیں باہر بھیج دیا اور سلام اور اجازت کے بعد اندر داخل ہونے کا حکم دیا۔ اسی مضمون کی اور بھی متعدد احادیث ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے سلام کہنا اور اجازت طلب کرنا مسلمانوں کی ثقافت کے بنیادی عناصر میں سے تھا۔ اور جب کسی نے اس پر عمل میں کوتاہی کی تو آپ ﷺ نے اس پر تنبیہہ فرمائی۔ لیکن آج یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں نیچے سے لیکر اوپر تک ان آداب سے لاپرواہی برتی جاتی ہے۔
سلام کے لیے کچھ ضوابط
3 سلام کہنے کے کچھ آداب اور ضابطے بھی حضور ﷺ نے تعلیم فرمائے ہیں۔ جنھیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سلام صرف ملاقات کا ذریعہ ہی نہیں ‘ بلکہ تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ انسان کی بہت بڑی کمزوری جو اسے بہت سی نیکیوں سے محروم کردیتی ہے وہ ” کبر “ ہے۔ جیسے ہی طبیعت میں غرور اور نخوت کا فساد پیدا ہوتا ہے انسانیت کا احترام ‘ انسانی اقدار کا احترام ‘ اخلاقِ حمیدہ کا احترام اور ہمدردی ‘ خیر خواہی ‘ محبت اور مؤدت کے جذبات سلب ہونے لگتے ہیں۔ آدمی اپنے ذات کے گنبد میں اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا۔ “ ہر مسلمان کو سلام کہنا اور پھر سلام میں پہل کرنا تکبر کی لعنت کو ختم کردیتا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ نے سلام کے آداب میں یہ بات شامل فرمائی کہ چھوٹا بڑے کو سلام کہے۔ کیونکہ یہ احترام اور اخلاق کا تقاضا ہے۔ اور جب چھوٹا بڑے کو سلام نہیں کہتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں غیر معمولی تکبر داخل ہوگیا ہے۔ مزید فرمایا کہ گزرنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے۔ تاکہ وہ فٹ پاتھوں پر بیٹھنے والوں کو حقیر نہ سمجھے۔ سواری پر سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے بشرطیکہ سواری ایسی ہو جس سے سلام کہا جاسکتا ہو۔ اس سے سوار اور سواری سے محروم لوگوں میں فرق ختم ہوجاتا ہے۔ تحقیر کے جذبات بھی مٹ جاتے ہیں اور حسد کو بھی اپنی جگہ بنانے کا موقع نہیں ملتا۔ اسی طرح چھوٹی جماعت بڑی جماعت والوں کو سلام کرے۔ کیونکہ تھوڑے لوگوں کو بڑے لوگوں کی نسبت سلام کرنے میں آسانی ہے۔
انہی آداب میں یہ بھی واضح فرمایا کہ سلام کہنا ایک بہت بڑی نیکی ہے لیکن بعض حالتیں ایسی ہوتی ہیں جس میں سلام کہنا مناسب نہیں ہوتا۔ تو ایسے وقت میں سلام کہنے کی اجازت نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص اگر پیشاب یا استنجاکر رہا ہو تو اسے سلام نہیں کہنا چاہیے۔ اور اگر کوئی یہ غلطی کر گزرے تو پیشاب کرنے والے کے لیے اجازت نہیں کہ وہ اس کا جواب دے۔ کیونکہ سلام اللہ کے ناموں میں سے ایک ہے ‘ اسے کسی ایسی جگہ استعمال کرنا جو احترام یا پاکیزگی کی جگہ نہیں وہ اس کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح سونے والے کو سلام نہیں کہنا چاہیے تاکہ اس کی نیند نہ کھلے۔ اور اگر وہاں کچھ بیدار لوگ بھی بیٹھے ہیں تو پھر آنحضرت ﷺ کی سنت یہ ہے کہ اس طرح ہلکی آواز میں سلام کہا جائے کہ جاگنے والے سن لیں اور سونے والے کی نیند خراب نہ ہو۔ کسی نماز پڑھتے ہوئے آدمی کو سلام نہ کہا جائے۔ اور اگر کوئی دوسرے لوگ پاس بیٹھے ہوں تو نہایت ہلکی آواز میں سلام کہا جائے۔ کسی اسلامی موضوع پر کوئی درس یا تقریر ہو رہی ہو تو سلام کہنا مناسب نہیں۔ کوئی قرآن کریم پڑھ رہا ہو تو سلام کہا جاسکتا ہے اور پڑھنے والا جواب بھی دے سکتا ہے لیکن اگر وہ قرآن پاک میں تدبر اور تفکر میں مستغرق ہو تو پھر اسے ہرگز سلام نہیں کہنا چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص لائبریری میں جائے تو ہلکی آواز میں سلام کہے جس سے پڑھنے والوں کو تکلیف نہ ہو۔ مختصر یہ کہ عبادت یا تعلیم میں مصروف یا نیند اور آرام میں مستغرق یا کسی اور اچھی مصروفیت میں کھو جانے والوں کو سلام کے ذریعے سے پریشان کرنے سے روکا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے اور اگر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ سو رہی ہوتیں تو آپ ﷺ نہایت ہلکی آواز میں سلام کہتے تاکہ سلام سے گھر میں برکت تو پیدا ہو لیکن سونے والوں کی نیند نہ کھلے۔
حاصل کلام یہ کہ سلام مسلمانوں کی پہچان ‘ باہمی محبت اور موانست کا ذریعہ ‘ مسلمان بھائی کی دوسرے بھائی کے لیے دعا اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس نے مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی تکمیل اگرچہ مصافحہ سے ہوتی ہے اور اس میں مزید گہرائی بعض مواقع پر معانقہ اور تقبیل سے وجود میں آتی ہے۔ لیکن ہم اس کی تفصیلات عرض کرنے سے قاصر ہیں ورنہ یہ بحث بہت دور تک پھیل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 4:87اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ط لَـیَجْمَعَنَّـکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا ع
” اللہ ہی معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن کی طرف لیجا کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا کون ہوسکتا ہے۔ “ (النسآء : 87)
منافقین کے نفاق کا اصل سبب
مسلمانوں کو گزشتہ آیت کریمہ میں منافقین سے ترک تعلق سے روکا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جس طرح پہلے ان سے محبت سے پیش آتے تھے اسی محبت کو باقی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان آہستہ آہستہ قرآن کریم کے اسلوبِ بیان اور منافقین پر تنقید سے منافقین کے رویے کا گہری نظروں سے جائزہ لینے لگے تھے۔ مخلصین کے گروہ میں اگر کوئی غیر مخلص آدمی چھپا بیٹھا ہو اور مخلصین کو اس پر شبہ ہونے لگے تو یقینا ان کا اس کے ساتھ میل جول اور تعلق کی نوعیت میں فرق آجاتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں مسلمان بھی اسی کیفیت سے دوچار تھے۔ قرآن کریم نے ان کے ساتھ سلام کا حکم دے کر انھیں اپنے رویے میں تبدیلی لانے سے روکا اور اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو ایک بہت اہم حقیقت کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ مقصود منافقین کو اپنے سے کاٹنا نہیں بلکہ اصلاح ہے۔ اور اصلاح تمہارے طرز عمل میں تبدیلی سے نہیں ہوگی بلکہ اس سے ہوگی کہ جو سبب ان کے بگاڑ کا ہے اسے دور کرنے پر پوری توجہ دو ۔ وہ سبب یہ ہے کہ منافقین جو اسلام اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر یکسو نہیں ہو رہے اور ان کے معمولات میں بعض دفعہ نفاق جھلکنے لگتا ہے اور وہ بہانے بہانے سے جہاد و قتال سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے اندر ابھی تک اللہ کی الوہیت اور آخرت پر یقین پوری طرح جگہ نہیں بنا سکا۔ وہ اللہ کو مانتے ہیں اور اسی کے لیے تمہارے ساتھ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ‘ لیکن جس طرح اسے ماننے کا حق ہے اس طرح نہیں مانتے۔ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اللہ تعالیٰ مطاع مطلق ہے اور ہم اس کی غیر مشروط بندگی کے پابند ہیں اس بندگی اور اطاعت میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس کا رسول اس کا نمائندہ ہے۔ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ اس کے کسی حکم سے انحراف اللہ کے حکم سے انحراف کے برابر ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اللہ کا علم ایسا وسیع ہے کہ ہم ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہیں۔ وہ ہمارے ایک ایک عمل کو جانتا ہے اور ہمیں ہر لمحہ دیکھتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا اور جانتا ہے اسی کے مطابق ہمارا نامہ عمل تیار ہو رہا ہے۔ تیسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ایسی ہمہ گیر ہے کہ وہ تمام انسانوں کو جس طرح پیدا کرنے اور مارنے پر قادر ہے اسی طرح دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کب مرا اور کس سرزمین میں دفن ہو کر خاک ہوگیا۔ اس کی قدرت کے لیے یہ بات کوئی مشکل نہیں کہ وہ قیامت میں ان سب کو اٹھا کر ایک میدان میں جمع کرے گا جسے محشر یا میدانِ حشر کہتے ہیں۔ اور اس کے قیامت برپا کرنے ‘ میدانِ حشر میں ایک ایک شخص کا حساب کرنے اور اس کے جزا و سزا دینے میں کوئی شبہ نہیں۔ سب لوگ اپنا اپنا نامہ عمل ہاتھوں میں لیے اپنے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ اور چوتھی یہ بات کہ پروردگار نے جو کچھ قرآن کریم میں نازل کیا اس کی ایک ایک بات سچی اور ایک ایک حکم حق ہے۔ کیونکہ صدق اللہ کی صفت ہے اس سے بڑھ کر اور کوئی سچا نہیں۔ یہ وہ بنیادیں ہیں جس پر اسلامی عقائد ‘ عبادات اور پوری زندگی کے معاملات کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان منافقین کی تمام کمزوریوں کا سبب صرف یہ ہے کہ ان کی یہ بنیادیں پختہ نہیں۔ وہ ریت کی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ اس لیے جب جب ریت ان کے پائوں کے نیچے سے پھسلتی ہے ان کے اعمال میں دراڑیں آنے لگتی ہیں۔ انکے معاملات کی دیواریں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ان کی ان بنیادی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ جب وہ اپنے عقائد اور اپنی اساسی باتوں میں پختہ ہوجائیں تو پھر خود بخود ان کا ہر عمل اخلاص کی تصویر ہوگا۔ وہ خود نفاق کو ایک لعنت سمجھیں گے اور اللہ کے ساتھ ظاہر و باطن اپنا معاملہ درست کرلیں گے۔ اور جب تک یہ بنیادیں استوار نہیں ہوں گی تو محض سخن سازی سے ان کی زندگی میں اخلاص نہیں آسکتا۔ اکبر نے ٹھیک کہا تھا ؎
تو خاک میں مل اور آگ میں جل جب خشت بنے تب کام چلے
ان خام دلوں کے عنصر پر بنیاد نہ رکھ تعمیر نہ کر
آج بھی اگر امت کی بگڑی ہوئی حالت کا ہم جائزہ لیں تو ان کی تمام تر اخلاقی اور معاملات کی خرابیوں کا یہی سبب آپ کو ملے گا کہ وہ بنیادی ‘ نظریاتی اعتقادات میں کمزوریوں کا شکار ہیں۔ اللہ ہم سب کو اپنی عافیت میں رکھے۔ (آمین)
Ayah 4:88فَمَا لَکُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ بِمَا کَسَبُوْا ط اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَھْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ سَبِیْلًا
” پس تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ہو اللہ نے تو انھیں ان کے کرتوتوں کے باعث پیچھے لوٹا دیا ہے۔ کیا تم ان کو ہدایت دینا چاہتے ہو جنھیں اللہ نے گمراہ کیا ہے اور جن کو اللہ گمراہ کر دے تم ان کے لیے کوئی راہ نہیں پاسکتے۔ “ (النسآء : 88)
ہجرت نہ کرنے والے منافقین کے بارے میں مسلمانوں کی دو رائے
ان آیات میں ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو مکہ معظمہ یا کسی اور بستی میں مسلمان تو ہوگئے لیکن ہجرت کا حکم ان تک پہنچ جانے کے باوجود وہ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ نہیں آئے۔ ان پر یہ بات بہت گراں گزری کہ وہ اپنے قبیلے کو چھوڑ دیں ‘ اپنی زندگی بھر کے اثاثے سے محروم ہوجائیں ‘ گھر سے بےگھر ہوجائیں اور تمام رشتہ داریوں اور تمام راحتوں سے اپنے آپ کو محروم کرلیں۔ ایک نئی جگہ ‘ نیا شہرجہاں کے رہنے والے لوگوں سے پیشگی کوئی تعلق نہیں۔ وہاں کا ماحول پہلے ماحول سے مختلف اور پھر خالی ہاتھ وہاں پہنچ کر ضروریاتِ زندگی کی کفالت کا انتظام کیا ہوگا اکیلا آدمی بھی ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرسکتا چہ جائیکہ بچوں سمیت آدمی وہاں پہنچ جائے اور در در کی ٹھوکریں کھائے صرف اس بنیاد پر کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ کام بہت مشکل ہے۔ چناچہ انھوں نے محض ایمان کی خاطر ہجرت کرنا گوارا نہ کیا ‘ اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہے لیکن ان کی تمام ترجیحات اور تمام معمولات وہی رہے جو غیر مسلموں کے تھے۔ اور جب ان پر دبائو پڑتا تو وہ ان تمام کاروائیوں میں شریک ہوتے جو ان کی قوم مسلمانوں کے خلاف انجام دیتی۔ ان لوگوں کے بارے میں صحابہ میں رائے تقسیم ہوگئی۔ کچھ لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ صحیح ہے کہ وہ لوگ ہجرت کر کے یہاں نہیں آئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ان لوگوں نے اسلام قبول کیا اور وہ ابھی تک اسلام پر قائم ہیں۔ ہمیں ان سے تعلق باقی رکھنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو ان سے روابط قائم رکھنے چاہئیں۔ اور دوسری رائے یہ تھی کہ چونکہ ایمان کی تکمیل کے لیے ہجرت ضروری ہے انھوں نے اگر اپنی دنیا کو دین اور ایمان پر ترجیح دی ہے اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے باعث ہجرت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات اور دنیا کے آدمی ہیں اللہ اور اس کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں تک ان کے اسلام کے دعوے اور اقرار کا تعلق ہے وہ سراسر منافقت ہے۔ اگر اس میں سچائی ہوتی تو وہ یقینا ہماری طرح ہجرت کرتے۔ قرآن کریم نے یہاں صحابہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان لوگوں کے بارے میں دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے ہو۔ حالانکہ ان کا معاملہ بالکل واضح ہے۔ انھوں نے ایمان کی طرف قدم بڑھایا ‘ اس کے دائرے میں داخل ہونے کا ارادہ کیا لیکن اس کی سرحد سے واپس لوٹ گئے۔ انھوں نے اپنی دنیا کو دین اور ایمان پر قربان کرنے کا ارادہ نہیں کیا ‘ بلکہ دنیا کو ترجیح دی اور اللہ کے احکام کو نظر انداز کردیا۔ ان کے اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے پھر انھیں کفر کی طرف لوٹا دیا۔ رَکَسَ الشَّیٔ کے معنی ہیں ” چیز کو الٹ دیا “ اَرْکَسَہ ” اس کو اوندھا کردیا “ یعنی سابقہ حال پر لوٹا دیا۔ وَاللّٰہُ اَرْکَسَہُمْ کا مطلب بھی یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کی طرف بڑھنا چاہا لیکن ان کی دنیا کی محبت نے ان کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ ان کی اس کمزوری یا فیصلے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے انھیں ایمان سے محروم کردیا اور وہ جہاں سے چلے تھے وہیں واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے خطاب کر کے فرمایا کہ ” کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ جس کے کفر اور گمراہی کا فیصلہ کرچکا ہے تم اسے ہدایت دے دو ظاہر ہے کہ تم اللہ کے فیصلے کو بدل نہیں سکتے۔ “ اور پھر یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ اللہ نے جو ان کی نامرادی کا فیصلہ کیا ہے یہ ان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ وہ اپنے کرتوتوں کے باعث جس سزا کے مستحق ٹھہرے ہیں تم ان سے رشتہ داری یا تعلق رکھنے کے باوجود انھیں اس سزا سے نکال نہیں سکتے۔
Ayah 4:89وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنَ سَوَآئً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ ص وَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْہُمْ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا لا
” وہ تو یہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے کہ تم سب برابر ہوجاؤ۔ پس تم ان میں سے کسی کو اپنا ساتھی نہ بنائو جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اگر وہ اس سے اعراض کریں تو ان کو گرفتار کرو اور قتل کرو جہاں کہیں بھی پائو۔ اور ان میں سے کسی کو ساتھی اور مددگار نہ بنائو۔ “ (النسآء : 89)
سابقہ آیت کے مضمون کو ہی آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تم ان کے ساتھ تعلق رکھنا اور خیر خواہی کرنا چاہتے ہو اور ان کی خواہش یہ ہے کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح وہ تمہیں بھی کافر بنادیں تاکہ تم اور وہ برابر ہوجائیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا ؎
تم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ان سے تعلق رکھنے کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ تو کفر سے نکلنے کے لیے تیار نہیں البتہ تمہیں وہ کفر کی طرف کھینچنے کی ضرور کوشش کریں گے۔ تو اس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خود تو ڈوبے ہیں تمہیں بھی ڈبو دیں گے۔ اس لیے یاد رکھو ان سے کسی طرح کا کوئی تعلق قائم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ وہ تمہارے لیے اسی طرح بیگانہ ہیں جس طرح باقی کافر تمہارے لیے بیگانہ ہیں۔ ان سے تعلق کی ایک ہی صورت ہے کہ وہ اپنے ایمان کی سچائی کا ثبوت دینے کے لیے ہجرت کریں۔ اپنی دنیا کو دین پر قربان کردیں اور دین کی خاطر بالکل یکسو ہوجائیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے اور ہجرت کے لیے کسی طرح تیار نہیں تو پھر وہ تمہارے بدترین دشمن ہیں دوسرے کافروں کی طرح انھیں بھی جہاں پائو گرفتار کرو اور قتل کرو۔ اور ان کے ساتھ کسی طرح کی مروت کا تعلق مت رکھو اور ان سے کسی مدد کی امید مت باندھو۔
ہجرت مدار ایمان
یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہجرت کو مدار ایمان اور ایمان کی کسوٹی کیوں بنایا جا رہا ہے ؟ بات دراصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں ‘ اللہ کی بندگی کی دعوت دیں اور ان کو اس بات کا قائل کریں کہ تم ازاول تا آخر اللہ کے بندے ہو اور تمہیں اپنی پوری زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارنی چاہیے۔ اور جب انسانوں کی ایک معقول تعداد جمع ہوجائے تو پھر ان کے لیے ایک خطہ زمین تلاش کیا جائے جہاں وہ اللہ کی مرضی کے مطابق ایک حکومت قائم کریں اور انفرادی اور اجتماعی زندگی اس حکومت کی نگرانی میں اللہ کے احکام کے مطابق گزاریں۔ اپنے گھروں کی زندگی اسلام کے دیے ہوئے اصول معاشرت پر قائم کریں اور اجتماعی زندگی کا ایک ایک ادارہ اس آئین اور قانون کے مطابق وجود میں لائیں جس کی ہدایت اسلامی شریعت نے دی ہے۔ اور پھر ہر ادارے کو اسلامی احکام کے مطابق چلانے کی کوشش کریں۔ اس طرح سے جہاں جہاں بھی اللہ اقتدار دیتا جائے وہاں وہاں کی سرزمین کو اللہ کے احکام کی سرزمین بنادیں اور ممکن حد تک اللہ کی زمین پر اس طرح اس کی اطاعت ‘ عبادت اور بندگی عام ہوجائے کہ کہیں شیطان اور طاغوت کی بندگی کا نشان باقی نہ رہے۔
آنحضرت ﷺ نے انہی تصورات کے مطابق اہل مکہ کو دین کی دعوت دی۔ چند سعید روحیں اسلام لے آئیں لیکن بیشتر نے اسلام قبول کرنے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ایمان لانے والوں کی زندگی بھی دشوار کردی۔ آپ ﷺ نے تیرہ سال تک شب و روز مکہ اور اس کے گرد و نواح کے رہنے والوں کو اسلام کی طرف بلایا ‘ لیکن جب انھوں نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کا رہنا وہاں دوبھر کردیا اور آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے باندھنے لگے تو پہلے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو وہاں سے نکل کر کسی عافیت کدہ میں جانے کی اجازت دی اور جب اہل مدینہ نے آپ ﷺ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تو آپ ﷺ نے اس کو غنیمت جانا اور مدینے کی طرف ہجرت کر گئے۔ چناچہ جیسے ہی یہ ایک چھوٹا سا شہر اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے میسر آیا تو آپ ﷺ نے ہر جگہ کے مسلمانوں کو اللہ کا یہ حکم پہنچایا کہ اب تمہیں ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچنا ہوگا ورنہ تمہارے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ تم کافروں میں رہ کر اسلامی زندگی نہیں گزار سکتے۔ اور اسلام کے جو نئے نئے احکام نازل ہو رہے ہیں ان سے باخبر نہیں ہوسکتے۔ اور اسلام کو اپنے تحفظ ‘ بقا اور اپنے دائرے کو پھیلانے کے لیے جس اجتماعی قوت کی ضرورت ہے وہ وجود میں نہیں آسکتی جب تک تمام مسلمان مدینے کو اپنا مرکز نہ بنالیں۔ اس حکم کے بعد ہر وہ شخص جو ایمان لایا اور اس میں اتنی سکت اور طاقت تھی کہ وہ مدینے تک ہجرت کرسکتا تھا تو اس پر ہجرت فرض ہوگئی۔ اور اگر وہ ہجرت کے وسائل رکھتے ہوئے بھی ہجرت کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو اسے منافق ٹھہرایا گیا۔ البتہ جو لوگ کمزور اور بےوسیلہ تھے انھیں مستضعفین کہا گیا جن کا آگے ذکر آرہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اسلام نے ہجرت کو مدار ایمان کیوں بنایا۔ کیونکہ اس کے بغیر نہ دین پر عمل کیا جاسکتا تھا نہ دینی احکام سے آگاہی ہوسکتی تھی اور نہ وہ اجتماعی قوت وجود میں آسکتی تھی جس کی بنیاد پر اسلامی ریاست کا تحفظ ہوسکتا تھا اور اس اسلامی انقلاب کو پوری دنیا میں پھیلایا جاسکتا تھا۔ لیکن جب مکہ معظمہ فتح ہوگیا اور جزیرہ عرب کے رہنے والے مسلمانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں اسلامی زندگی گزارنے کی آزادی میسر آگئی تو مدینے کی طرف ہجرت کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اس لیے آج مسلمانوں میں ہجرت کا یہ حکم باقی نہیں۔ البتہ دو باتیں ہیں جو قیامت تک باقی رہیں گی۔ ایک یہ بات کہ اگر کوئی آدمی اپنے اسلامی ملک کو چھوڑ کر محض کمانے کی خاطر کسی دار الکفر میں جاتا ہے اور وہاں وہ محسوس کرتا ہے کہ اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنا ممکن نہیں اور قدم قدم پر اس کے بچوں کے بگڑنے کے اسباب موجود ہیں۔ تو ایسی صورت میں اپنے اور اپنے بچوں کے دین اور اخلاق کو بچانے کے لیے دارالکفر میں ٹھہرنا جائز نہیں رہتا۔ اپنے وطن واپس آنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسے ہم ہجرت تو نہیں کہہ سکتے ‘ کیونکہ یہ کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت نہیں بلکہ اپنے وطن کی طرف مراجعت ہے۔ البتہ اگر اپنا وطن ایسی صورت اختیار کر جائے کہ وہاں اسلامی زندگی مشکل ہوجائے تو پھر اگر کوئی دوسرا ملک اس وطن کے رہنے والوں کے لیے اپنے دروازے کھول دے اور ان کے لیے اسلامی زندگی کے امکانات پید اکر دے تو تب بھی اپنا وطن چھوڑ کر وہاں جانا ضروری ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایک مومن کا حقیقی وطن وہ ہے جہاں اس کی اسلامی زندگی کے امکانات ہیں۔ اور جہاں یہ امکان نہ ہوں وہ وطن ہوتے ہوئے بھی درندوں کا بھٹ ہے۔
اور دوسری یہ بات کہ وطن سے کسی دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرنے کا حکم تو اب باقی نہیں البتہ گناہوں سے نیکی کی طرف آنا ‘ بری زندگی سے اچھی زندگی کی طرف منتقل ہونا ‘ اس کو بھی حضور ﷺ نے ہجرت فرمایا اور یہ قیامت تک باقی ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” المہاجر من ہجر ما نہی اللہ عنہ “ (یعنی مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں سے پرہیز کرے جن کو اللہ نے حرام کیا ہے) اور یہ ہجرت قیامت تک باقی رہے گی۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
” لا تنقطع الہجرۃ حتی تنقطع التوبۃ “
(ہجرت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک توبہ کی قبولیت کا وقت باقی رہے گا)
Ayah 4:90اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰی قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْجَآئُ وْکُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُہُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْکُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَہُمْ ط وَ لَوْشَآئَ اللّٰہُ لَسَلَّطَہُمْ عَلَیْکُمْ فَلَقَاتَلُوْکُمْ ج فَاِنِ اعْتَزَلُوْکُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ وَ اَلْقَوْا اِِِلَیْکُمُ السَّلَمَ لا فَمَا جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ عَلَیْہِمْ سَبِیْلًا
” صرف وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جن کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ نہ اپنے اندر تم سے لڑنے کی ہمت پائیں اور نہ ہی اپنی قوم ہی سے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر دلیر کردیتا تو وہ تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں تم سے جنگ نہ کریں ‘ تمہارے ساتھ صلح جویانہ رویہ رکھیں تو اللہ تم کو بھی ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔ “ (النسآء : 90)
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا حکم بیان کیا جا رہا ہے جو مذکورہ بالا اخذ و قتل کے حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو اس قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ صلح ہے اور یا اس قبیلے کے پاس جا کر پناہ لے لیں اور وہ قبیلہ انھیں اپنے پناہ میں لے لے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ معاہدہ صلح تو نہ ہو البتہ وہ مسلمانوں کے پاس آ کر اپنی کمزوری کا اظہار کریں اور مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلائیں کہ ہم نہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے۔ ہم لڑائی سے یکسر دور رہنا چاہتے ہیں۔ اگر لڑائی چھڑ جائے تو نہ ہم آپ کا ساتھ دیں گے اور نہ ہم آپ کے خلاف اپنی قوم کا ساتھ دیں گے۔ ان دونوں گروہوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ اگر وہ لوگ اپنے معاہدے اور اپنے اقرار پر قائم رہیں تو تم بھی ان سے کنارہ کش رہو۔ جنھوں نے معاہدہ کیا ہے وہ تو معاہدے کی وجہ سے مسلمانوں سے محفوظ ہوں گے اور جن لوگوں نے اپنی بےبسی اور پس ہمتی کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ صلح سے رہنے کا ارادہ کیا ہے مسلمان ان سے بھی کوئی تعرض نہیں کریں گے۔ ان کے خاموش رہنے کو غنیمت سمجھا جائے گا۔ کیونکہ یہ بھی تو ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو جرأت دے دیتا اور وہ مسلمانوں پر اپنی قوم کے ساتھ مل کر چڑھ دوڑتے۔ اب اگر وہ مسلمانوں سے تعرض نہیں کرتے اور لڑائی میں اپنی قوم کا ساتھ نہیں دیتے اور اپنے صلح جویانہ رویے پر قائم رہتے ہیں کہ پروردگار فرماتے ہیں تو تمہیں بھی ان کے خلاف اقدام کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہ سمجھا جائے کہ ان سے محبت اور آشتی کے تعلقات بڑھانے کی اجازت ہے نہیں بلکہ صرف یہ اجازت دی گئی ہے کہ تم ان کے خلاف لڑ نہیں سکتے ہو اور اپنے ہاتھوں کو ان سے روکے رکھو۔ لیکن ان سے محبت اور پیار کی پینگیں بڑھانے کی اجازت نہیں۔
Ayah 4:91سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَََ اَنْ یَّاْمَنُوْ کُمْ وَیَاْمَنُوْا قَوْمَہُمْ ط کُلَّمَا رُدُّوْٓا اِلَی الْفِتْنَۃِ اُرْکِسُوْا فِیْہَا ج فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْکُمْ وَ یُلْقُوْٓا اِلَیْکُمُ السَّلَمَ وَ یَکُفُّوْٓا اَیْدِیَہُمْ فَخُذُوْہُمْ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ ط وَ اُولٰٓئِکُمْ جَعَلْنَا لَکُمْ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ع
” اور دوسرے کچھ ایسے لوگوں کو بھی تم پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی محفوظ رہیں۔ لیکن جب جب فتنے کی طرف موڑے جاتے ہیں اس میں گرپڑتے ہیں۔ پس اگر یہ تم سے کنارہ کش نہ رہیں تم سے صلح جویانہ رویہ نہ رکھیں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو تم ان کو گرفتار کرو اور قتل کرو جہاں کہیں پائو۔ یہ لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلا اختیار دیا ہے۔ “ (النسآء : 91)
اس آیت کریمہ میں ایک اور طرح کے منافقین کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں سے بھی بنا کے رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ یعنی اپنے آپ کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے سامنے بظاہر غیر جانبداری کے مدعی ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ غیر جانبدار نہیں۔ کیونکہ جب بھی ان کی قوم مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرنا چاہتی ہے تو نہ صرف ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ ہوتی ہیں بلکہ وہ پوری طرح اس لڑائی میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ اس رعایت کے مستحق نہیں ہیں جس کا ذکر پہلی آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ اگر تم دیکھو کہ غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھنے کے باوجود یہ تمہاری دشمنی اور مخاصمت میں اپنی قوم کے ساتھ شریک ہیں اور وہ مسلمانوں کی ایذاء دہی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تو پھر یہ بھی کھلے ہوئے دشمنوں کے حکم میں ہی شامل ہیں۔ تم انھیں جہاں پائو گرفتار کرو اور قتل کرو۔ ان کو گرفتار کرنے اور قتل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلا اختیار دیا ہے۔ تم اپنے اختیار کو پوری طرح استعمال کرسکتے ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ ان چار آیتوں میں تین طرح کے لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
1 جو ہجرت کی قدرت کے باوجود ایمان لانے کے بعد ہجرت نہ کریں۔ یا اگر ہجرت کر جائیں تو پھر دارالاسلام سے نکل کر دارالحرب چلے جائیں۔
2 دوسرے وہ لوگ جو مسلمانوں سے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرلیں یا ایسا معاہدہ کرنے والوں سے معاہدہ کرلیں۔
3 جو دفع الوقتی کی غرض سے صلح کرلیں اور جب مسلمانوں کے خلاف جنگ کی دعوت دی جائے تو اس میں شریک ہوجائیں اور اپنے عہد پر قائم نہ رہیں۔
پہلے فریق کا حکم عام کفار کی طرح ہے۔ دوسرا فریق قتل اور گرفتاری کے حکم سے مستثنیٰ ہے۔ کیونکہ یہ مسلمانوں سے معاہدہ کرچکا ہے۔ اور تیسرا فریق اسی سزا کا مستحق ہے جو پہلے فریق کے لیے تھی۔ لیکن حقیقت میں ان آیتوں میں دو حکم بیان کیے گئے ہیں۔ ایک عدم صلح کی صورت میں قتال اور دوسرا مصالحت کے وقت قتال نہ کرنا۔