4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayahs 4:150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی راہ نکالیں۔

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

یہی لوگ درحقیقت پکے کافر ہیں۔ اور ہم نے ان کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے یہی لوگ ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ انھیں ان کا اجر دے گا۔ اور اللہ بخشنے والارحم کرنے والا ہے)

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا لا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا ج وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًامُّہِیْنًا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع ” بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی راہ نکالیں۔ یہی لوگ درحقیقت پکے کافر ہیں۔ اور ہم نے ان کافروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے یہی لوگ ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ انھیں ان کا اجر دے گا۔ اور اللہ بخشنے والارحم کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 150 تا 152) کفر کی اقسام اس سے پہلے مشرکین اور منافقین پر تنقید گزر چکی ہے۔ مشرکین عرب نے خود اپنا نام مشرک اختیار کر کے اپنے عقائد کے بارے میں کوئی ابہام نہیں رہنے دیا۔ اور منافقین پر ایک طویل تنقید اور ان کی مختلف صفات اور علامتوں کا ذکر بھی ہم نے پڑھا ہے۔ جس کے بعد ان کی پہچان اور ان کے تعین میں کوئی شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ البتہ کفر کی کوئی ایک شکل نہیں۔ مختلف قسم کے عقائد کے حاملین کو کافر کہا گیا۔ اس لیے بعض دفعہ کافر کی پہچان میں غلطی ہوجاتی ہے۔ اور اہل کتاب تو خود اپنے بارے میں کفر کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرتے تھے۔ سورة بقرہ میں دوسرے رکوع کی پہلی آیت میں ” وَمِنَ النَّاسِ “ کے لفظ سے انھیں کا دعویٰ ذکر کیا گیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کو مانتے ہیں تو پھر ہم مومن نہیں تو اور کیا ہیں ؟ لیکن قرآن کریم نے انھیں کافر قرار دیا۔ خود مسلمانوں کے اندر بھی معلوم ہوتا ہے یہ غلط فہمی پائی جاتی تھی کہ اہل کتاب پیغمبروں کو اور کتابوں کو مانتے ہیں ‘ آخرت کو تسلیم کرتے ہیں تو اپنی ساری غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود وسرے کافروں جیسے تو نہیں ہوسکتے۔ یقینا ان میں اور دوسرے کفار میں فرق ہے اور ہمیں اس فرق کا لحاظ کرنا چاہیے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کفر کی ہر تقسیم کو ذکر فرمانے کے بعد اس کے حاملین کو کافر قرار دیا۔ فرمایا کچھ کافر تو ایسے ہیں جو نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو مانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔ وہ کیمونسٹوں اور ملحدین کی طرح کائنات کی عجیب و غریب توجیہہ کرتے ہوں گے لیکن ہمیں اس وقت اس سے سروکار نہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر تو ایمان رکھتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے ‘ لیکن اس کے رسولوں کو نہیں مانتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے اس کائنات کو پیدا کیا ‘ بیشمار مخلوقات پیدا فرمائیں۔ انہی میں سے انسان کو بڑی عظمت کے ساتھ پیدا فرمایا اور اسے جوہرِ عقل سے نوازا۔ کائنات کی ہر مخلوق کو زندگی گزارنے کے لیے حواس کی رہنمائی بخشی اور انسان کو عقل اور ادراک کی قوت دے کر ان سب پر بالا دست بنادیا۔ اب انسان اس بات کا مجاز ہے کہ وہ اپنی عقل سے کام لے کر جیسے چاہے زندگی گزارے۔ وہ اپنے لیے جیسے چاہے آئین و قانون بنائے ‘ زندگی کے مختلف شعبوں کو اجتماعی دانش کے مطابق اتفاق کے ساتھ چلانے کی کوشش کرے۔ رسالت اور نبوت کی رہنمائی کی انسانوں کو کوئی ضرورت نہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ نبوت و رسالت کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا یہ ہے کہ ہم جس نبی کو چاہیں گے مانیں گے اور جس کو نہیں چاہیں گے نہیں مانیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے اس حق کو تو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ انسانوں کی اصلاح کے لیے رسول بھیجے ‘ لیکن اسے علی الاطلاق تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں رسولوں پر ایمان ہم اپنی شرائط پر لائیں گے ‘ خدا کی شرائط پر نہیں۔ ہم ایمان کی شرائط بھی اپنی صوابدید پر مقرر کریں گے۔ اس طرح سے وہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک راستہ نکالنا چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں اور رسالت و نبوت کو بھی تسلیم کرتے ہیں ‘ اس لیے کہ یہ اسلام کا تقاضا ہے۔ لیکن کس نبی کو ماننا ہے اور کسے نہیں ماننا اس کا فیصلہ ہم اپنی صوابدید سے کریں گے۔ اس طرح سے وہ کفر اور اسلام کو اکٹھا کرنا چاہتے تھے۔ اسلام کا تقاضا تو بالکل واضح اور سادہ سا ہے۔ کہ تم اگر مسلم ہو تو اللہ کی ہر بات کو مانو اور کافر ہو تو پھر تم اپنی مرضی میں آزاد ہو۔ مسلم ہونے کا دعویٰ کرنے کے بعد اللہ کے کسی حکم کے مقابلے میں چون و چرا کی گنجائش نہیں رہتی۔ وہ جب بھی اور جس کو بھی نبی یا رسول بناکے بھیجے ‘ اس پر ایمان لانا اللہ پر ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اس میں ذرا سی حیل و حجت ایمان کو کفر سے بدل دیتی ہے۔ ان اہل کتاب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مانا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے سے انکار کردیا۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تسلیم کیا لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد یہود و نصاریٰ دونوں نے آپ ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اس طرح سے دونوں کافر ہوگئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو پیغمبر بھی اللہ کی طرف سے آیا اس پر ایمان لانا ایمان کا تقاضا تھا۔ اور اب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو ان پر بھی ایمان لانا ایمان کا تقاصا ہے۔ جو شخص بھی ایمان کے کسی تقاضے سے بھی انکار کرتا ہے وہ بالکل اسی طرح کافر ہے جیسے اللہ کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایمان اپنی شرائط پر لانا چاہتا ہے اور ایمان کے لیے پیغمبر کا انتخاب بھی خود کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں بندہ بھی ہے اور خدا بھی۔ کیونکہ جب وہ ایمان لاتا ہے تو بندہ بن جاتا ہے اور جب وہ اللہ کے کسی رسول کا انکار کرنا اور پھر ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اپنا حق سمجھتا ہے تو وہ اللہ کی خدائی میں اپنے آپ کو شریک کرتا ہے۔ اور یہ جرم چونکہ اہل کتاب کر رہے ہیں اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ پکے اور صریح کافر ہیں۔ اس لیے کسی کو ان کے کفر میں شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کے یہاں اجر وثواب اور نجات کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائے اور ان کے درمیان انھوں نے کوئی تفریق نہیں کی۔ انھوں نے مکمل طور پر اپنے آپ کو مسلم ثابت کیا۔ اور ایمان کو اپنی شرائط سے وابستہ نہیں کیا بلکہ ہرحال میں اللہ کی مخلصانہ اطاعت کی۔
Ayahs 4:153–155

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اہل کتاب آپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتاریں (اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں) انھوں نے مطالبہ کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا۔ انھوں نے کہا تھا ہمیں تم اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو ۔ تو ان کو بجلی کی کڑک نے اس زیادتی کے باعث آپکڑا۔ پھر انھوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا۔ اس کے بعد کہ آچکی تھیں ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں۔ پھر بھی ہم نے اس سے درگزر کیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نہایت واضح حجت عطا کی۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کیا ان کے عہد کے ساتھ اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہو سر جھکائے ہوئے۔ اور ہم نے ان سے کہا کہ سبت کے معاملے میں حد سے نہ بڑھنا۔ اور ہم نے ان سے ایک مضبوط عہد لیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

پس بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنے عہد کو توڑا بوجہ اس کے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے انبیاء کو قتل کیا اور بوجہ اس کے کہ انھوں نے کہا ہمارے دل تو بند ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر کردی ہے تو وہ کم ہی ایمان لائیں گے

یَسْئَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآئِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰیٓ اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَھْرَۃً فَاَخَذتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ج ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ج وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَہُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا عَلِیْظًا فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآئَ بِغَیْرِحَقٍّ وَّ قَوْلِہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط بَلْ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا ص ” اہل کتاب آپ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ براہ راست آسمان سے ایک کتاب اتاریں (اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں) انھوں نے مطالبہ کیا تھا موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا۔ انھوں نے کہا تھا ہمیں تم اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو ۔ تو ان کو بجلی کی کڑک نے اس زیادتی کے باعث آپکڑا۔ پھر انھوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا۔ اس کے بعد کہ آچکی تھیں ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں۔ پھر بھی ہم نے اس سے درگزر کیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نہایت واضح حجت عطا کی۔ اور ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کیا ان کے عہد کے ساتھ اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں داخل ہو سر جھکائے ہوئے۔ اور ہم نے ان سے کہا کہ سبت کے معاملے میں حد سے نہ بڑھنا۔ اور ہم نے ان سے ایک مضبوط عہد لیا۔ پس بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنے عہد کو توڑا بوجہ اس کے کہ انھوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ بوجہ اس کے کہ انھوں نے انبیاء کو قتل کیا اور بوجہ اس کے کہ انھوں نے کہا ہمارے دل تو بند ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان کے دلوں پر مہر کردی ہے تو وہ کم ہی ایمان لائیں گے۔ “ (النسآء : 153 تا 155) شانِ نزول مفسرین بیان کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف جو یہودیوں کے ایک قبیلے کا سردار تھا ‘ چند اور یہودیوں کو ہمراہ لے کر نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ہم آپ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں ‘ بس آپ ﷺ ہماری ایک چھوٹی سی شرط پوری کردیجیے۔ وہ شرط یہ ہے کہ جس طرح ہمارے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) پر لکھی ہوئی تورات آسمان سے نازل ہوئی تھی آپ بھی ایسی ہی کوئی کتاب اتروا دیں جو مرتب اور مجلد شکل میں ہو۔ تو ہم آج ہی ایمان لے آئیں گے۔ اہل کتاب کی تاریخ سے استشہاد ان کے اس مطالبے سے آنحضرت ﷺ کو تعجب ہوا تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ جس میں آنحضرت ﷺ سے کہا گیا ہے کہ یہود کے اس مطالبے سے آپ ﷺ کو متعجب نہیں ہونا چاہیے ‘ کیونکہ وہ تو اپنی قومی تاریخ اور قومی مزاج کے مطابق آپ ﷺ سے مطالبات کر رہے ہیں اور مزید بھی کریں گے۔ آپ ﷺ سے تو صرف کتاب اتارنے کا مطالبہ کیا ہے ‘ موسیٰ (علیہ السلام) سے تو وہ اس سے بڑے بڑے مطالبات کرچکے ہیں۔ اللہ کے لیے کتاب اتارنا کوئی مشکل کام نہیں اور لوگوں کا اس کتاب کو تحریری شکل میں دیکھنا اور پڑھنا بھی ایک ممکن امر ہے۔ یہود تو اس سے پہلے ایسا مطالبہ کرچکے ہیں جسے دیکھنے کی انسانوں میں طاقت نہیں۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ ہم اس وقت آپ ﷺ پر ایمان لانے میں مطمئن ہوں گے جب ہماری نگاہیں کھلم کھلا اللہ کو دیکھیں گی۔ آپ اگر ہم سے ایمان چاہتے ہیں تو پھر اللہ کو کھلم کھلا ہماری نظروں کے سامنے لے آیئے تاکہ ہم اسے دیکھ سکیں۔ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ انسانی نظر میں تو سورج کو دیکھنے کی طاقت نہیں اور آسمانوں کی بلندیوں کو آج تک انسان نہ دیکھ سکا۔ جو کچھ انسانوں نے آج تک دیکھا ہے وہ ان دیکھی چیزوں کی نسبت بہت کم ہے۔ تو جب وہ چیزیں جو دیکھی جاسکتی ہیں انسان انھیں دیکھنے پر قادر نہیں تو وہ اللہ کی ذات کو کیسے دیکھ سکتا ہے جب کہ وہ جسم سے پاک ہے اور زمان و مکان اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ کائنات کی ہر چیز اس کے احاطہ قدرت میں ہے ‘ لیکن وہ کسی مخلوق کے احاطہ قدرت میں نہیں آسکتا۔ ” لاتدر کہ الابصاروھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر “ (آنکھیں اسے نہیں گھیر سکتیں وہ سب آنکھوں کو گھیرے ہوئے ہے ‘ وہ لطیف ہے (اس لیے نظر نہیں آتا) وہ خبیر ہے (اس لیے سب سے باخبر ہے) انھوں نے جب اس مطالبے پر اصرار کیا تو بجلی کے ایک کڑکے نے انھیں آدبوچا ‘ سب بےہوش ہو کر گرگئے یا سب مار دیے گئے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی آہ وزاری اور بار بار دعائوں سے اللہ نے انھیں دوبارہ زندہ فرمایا۔ پھر اس سے عجیب بات یہ کہ انھوں نے کوہ طور پر اللہ کا جلال خود اپنے اوپر برستا دیکھا ‘ پہاڑ ان کے سامنے ریزہ ریزہ ہوا ‘ ہجرت کے سفر میں جب بحر قلزم نے راستہ روک لیا تو انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح عصائے موسیٰ سے اللہ تعالیٰ نے بحرقلزم کو خشک کردیا اور بنی اسرائیل نہایت اطمینان سے قلزم کو پار کر گئے۔ اور جب فرعون اور اس کی فوجیں ان کا تعاقب کرتے ہوئے قلزم میں داخل ہوگئیں تو ان کی آنکھوں کے سامنے ان کو ڈبو دیا گیا۔ پھر صحرائے تیہ میں جب کہ ان کے پاس زندگی گزارنے کے اسباب نہیں تھے اللہ نے ان کے سروں پر بادل کا سایہ کیا ‘ کھانے کو من وسلویٰ عطا فرمایا ‘ پینے کے لیے ایک چٹان سے بارہ چشمے رواں کردیے۔ یہ ساری نشانیاں انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ اس کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کی غیر حاضری میں سامری نے سونے کا ایک گوسالہ بنا کر ان کے سامنے کھڑا کردیا اور اس کے سوراخوں سے ہوا کے گزرنے سے ” باں باں “ کی آواز آنے لگی تو سامری نے ان سے کہا کہ یہی تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر سے نکال کے لایا۔ موسیٰ تو نہ جانے کہاں جا کے گم ہوگئے۔ سامری کے گمراہ کرنے سے ان کی ایک بڑی تعداد اس گو سالہ کے سامنے جھک گئی اور اس کی پوجا کرنے لگی۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس سے بھی درگزر کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو نہایت واضح حجت عطا کی تاکہ ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ حجت سے مراد آپ کے واضح معجزات بھی ہوسکتے ہیں اور تورات بھی۔ چناچہ تورات لے کر موسیٰ (علیہ السلام) جب ان کے پاس پہنچے تو انھوں نے تورات کے احکام پر عمل کرنے سے انکار کردیا اور عجیب و غریب بہانے بنا کر لیت و لعل سے کام لینے لگے۔ اللہ فرماتا ہے کہ پھر ہم نے ان کے سروں پر کوہ طور معلق کردیا۔ اور یہ دھمکی دی کہ تم چونکہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہو اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام ماننے کا عہد کرچکے ہو۔ ہم نے وہ عہد بھی ان کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اس عہد کے مطابق تورات کو قبول کرو ورنہ کوہ طور کے نیچے تمہیں کچل دیا جائے گا۔ جب انھوں نے یہ کیفیت دیکھی تو تب انھوں نے تورات کو قبول کیا۔ پھر ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اس سے مراد یا تو خیمہ عبادت کا دروازہ ہے اور یا پھر اس شہر کا پھاٹک ہے جسے سب سے پہلے بنی اسرائیل نے فتح کیا اور انھیں حکم دیا گیا کہ فاتحانہ جاہ و جلال دکھانے کے بجائے نہایت عاجزی اور فروتنی سے اس طرح شہر میں داخل ہو کہ دیکھنے والوں کو یقین آئے کہ یہ اللہ کے نیک اور عاجز بندے ہیں۔ پھر ہم نے تمہیں سبت یعنی ہفتہ کی تعظیم و تکریم کا حکم دے کر پابند کیا کہ اس دن کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ اس دن تمہارے چولہے نہیں جلنے چاہئیں ‘ تمہیں روزے سے رہنا چاہیے ‘ تمہیں دنیا کا کوئی کام نہیں کرنا بلکہ یہ دن عبادت میں گزارنا ہے اور ایک خاص بستی کے رہنے والوں کو حکم دیا کہ تم ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہیں کرو گے۔ اور ان احکام کے ساتھ تاکید کی گئی کہ دیکھنا ان احکام کی نافرمانی نہ کرنا اور تمہارے لیے جو حدود مقرر کردی گئی ہیں ان حدود سے تجاوز نہ کرنا۔ اور اس پر ہم نے ان سے پختہ عہد بھی لیا ‘ لیکن انھوں نے اس عہد کو بھی توڑ ڈالا اللہ کی آیات کا انکار کیا اور بسا اوقات انبیاء کو بےگناہ قتل کیا اور ان کی سرکشی یہاں تک پہنچی کہ نہایت تکبر اور نخوت سے پیغمبر کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ تم جو کچھ کہتے ہو یہ ہمارے دلوں میں داخل نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے دل پہلے ہی ہدایت سے لبریز ہیں ‘ اس میں تمہاری فضول باتوں کے داخل ہونے کا کوئی راستہ نہیں۔ یہ وہ واقعات ہیں جو سورة بقرہ اور سورة اعراف میں کہیں اختصار سے اور کہیں تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ واقعات بیان کرنے کا مقصود یہاں مقصود صرف ان واقعات کا حوالہ دے کر یہ بتلانا ہے کہ جس قوم کی تاریخ اس طرح کے مطالبات اور اس طرح کے جرائم سے بھرپور ہو ان کے اخلاف اگر آج آپ سے قرآن کریم کے کتابی شکل میں نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ یہ تو یوں سمجھئے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ البتہ ان کی اس تاریخ سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے بڑے بڑے معجزات دیکھ کر بھی ہدایت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس لیے آج اگر ان کا مطالبہ پورا بھی کردیا جائے تو اے پیغمبر آپ یہ خیال نہ کیجیے کہ یہ ہدایت کو قبول کرلیں گے۔ بلکہ یہ اپنی تاریخ کو بدلنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوں گے۔ یہ وہی کچھ کریں گے جو ان کے اسلاف کرتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مسلسل بد عہدیوں ‘ سرکشیوں ‘ بغاوتوں اور بد اعمالیوں کے سبب اللہ نے ان پر لعنت کردی تھی۔ اس لعنت کی گرفت اتنی شدید ہے کہ اب یہ لوگ ایمان قبول نہیں کرسکتے۔ البتہ چند ایسے خوش نصیب ضرور ہوں گے جو اپنی اصلاح کی وجہ سے ایمان کی دولت پائیں گے۔
Ayahs 4:156–159

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو انھوں نے اس کو قتل کیا نہ سولی دی۔ بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ ہوگیا اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس کے معاملہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بارے میں کوئی قطعی علم نہیں۔ بس گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا ‘

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا

وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا لا وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا م لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط َوکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا ” اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو انھوں نے اس کو قتل کیا نہ سولی دی۔ بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ ہوگیا اور جو لوگ اس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس کے معاملہ میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو اس بارے میں کوئی قطعی علم نہیں۔ بس گمان کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا ‘ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ “ (النسآء : 156 تا 158) سابقہ آیت کریمہ میں یہود کی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کو بیان کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ اس قوم کی سرشت میں یہ بات شامل رہی ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبیوں کے بڑے بڑے معجزات دیکھے ‘ لیکن اس کے باوجود ہدایت قبول کرنے یا ہدایت پر ثابت قدم رہنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اور اللہ سے سرکشی اور دین سے بغاوت ان کی اس انتہا کو پہنچی کہ بالآخر اللہ کی لعنت کا کوڑا ان پر برسا اور ہدایت سے محروم کردیے گئے۔ یہود کے کفر پر ولادتِ مسیح سے استدلال اب اس آیت کریمہ میں ان کے اسی بدترین قومی مزاج اور قابل نفرت رویہ کا ذکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالہ سے کیا جا رہا ہے۔ کہ ان بدبختوں نے اللہ کے کسی نبی اور کسی رسول کے ساتھ بھی کبھی شرافت کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ اور اس پر حیرت کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ قتل جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب اور بڑے بڑے الزامات لگانے کی جرأت اس حال میں کی کہ یہ اس پیغمبر کے بارے میں یقین کے ساتھ جانتے تھے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ بیخبر ی میں کوئی شخص یا کوئی قوم کسی جرام کا ارتکاب کرے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس نے بیخبر ی میں ایسا کیا ‘ اگر اسے حقیقت کا علم ہوتا تو وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔ لیکن ان بدبختوں کا حال تو یہ ہے کہ انھوں نے جو کچھ بھی کیا جان بوجھ کر اور علم کی پوری روشنی میں کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ان کے سامنے ہوئی۔ اور ان کی والدہ اور ان کے خاندان کی شرافت نسبی اور کرامت حسبی سے یہ پوری طرح آگاہ تھے۔ حضرت مریم سے بچپن سے جوان ہونے تک جو حیرت انگیز کرامات ظہور میں آتی رہیں یہ اس سے بھی واقف تھے۔ حضرت مریم ان کی نگاہوں میں ایک پاکیزہ عفیفہ اور مقدس خاتون تھیں۔ وہ جیسے ہی ان کے سامنے ایک نوازائیدہ بچے کو لے کے آئیں اور انھیں معلوم ہوا کہ یہ ان کا اپنا بچہ ہے تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی ‘ کیونکہ یہ لوگ جانتے تھے کہ مریم کنواری لڑکی ہیں۔ انھوں نے انتہائی تعجب اور برہمی کے انداز میں کہا ” یَٓا اُخْتَ ہَارُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امَرأَ سوئٍ وَمَاکَانَتْ اُمُّکِ بَغْیاً “ (اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدچلن تھی) تو نے یہ کیا حرکت کی ؟ اور کنوار پن میں یہ کس کے بچے کو جنم دیا۔ حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا کہ اسے ہی پوچھ لو۔ انھوں نے حیران ہو کر کہا کہ ایک نومولود سے ہم کیسے بات کریں ؟ اس پر قرآن کریم کہتا ہے ‘ جس سے زیادہ سچی کتاب دنیا میں کوئی نہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) گویا ہوئے اور اپنے پنگوڑھے سے بولے ” اِنِّیْ عَبْدُاللّٰہِ اٰتَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیَ نَبِیاً “ (میں اللہ کا بندہ ہوں ‘ مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے) اس حیرت انگیز گواہی کے بعد زبانیں بند ہوگئیں اور لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اس بچے کی پیدائش بغیر باپ کے ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ یہ بچہ نہ صرف کہ پاکیزہ ہے اور اس کی ماں ہر طرح کے گناہ سے پاک ہے بلکہ یہ اللہ کی ایک غیر معمولی نشانی ہے جسے اللہ نے بچپن میں نبوت دی ہے اور کتاب سے نوازا ہے اور اس کی ذات اور اس کی کتاب آگے چل کر دنیا کی ہدایت کا سامان بنے گی۔ چناچہ اسی یقین اور اطمینان کے باعث تیس سال تک قوم یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی الزام نہیں لگایا۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے اللہ کی طرف بلانا شروع کیا اور اپنی نبوت کی دعوت دینا شروع کی اور یہود کے احبارو رحبان کو ان کی غلطیوں پر ٹوکا اور ان کے علماء و فقہاء کو ان کی ریاکاریوں اور بد اعمالیوں پر ملامت اور ان کی عوام و خواص سب کو اس اخلاقی زوال پر متنبہ کیا جس میں وہ مبتلا ہوگئے تھے تو تب قوم یہود نے اپنے بدنما داغوں کا علاج کرنے اور اپنی بد اعمالیوں کی اصلاح کرنے کی بجائے اس آئینے پر تھوکنا شروع کردیا اور اسے توڑ ڈالنا چاہا جو انھیں ان کی اصل شکل دکھا رہا تھا۔ چناچہ وہ طرح طرح کے گھٹیا حربوں اور ناپاک ہتھیاروں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات مبارک پر حملہ آور ہوئے اور اس وقت انھوں نے آپ کی والدہ پر نعوذ باللہ زانیہ ہونے کا الزام لگایا اور آپ (علیہ السلام) کو معاذ اللہ ولد الزنا کہنے لگے۔ ان کا یہ بہتان چونکہ کسی حقیقی شبہ کا نتیجہ نہ تھا ‘ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل حقیقت کیا ہے اور وہ دل میں حضرت مریم اور ان کے صاحبزادے کی پاکیزگی کا یقین رکھتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس الزام کو بہتانِ عظیم قرار دیا۔ رسول اللہ کی توجیہ اور دوسرا جرم جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے سینہ بجا کر یہ کہا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ کو قتل کیا ہے۔ اس میں مفسرین کی ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ مسیح اور رسول اللہ کا لفظ ان کا نہیں ‘ بلکہ پروردگار کی جانب سے اضافہ ہے تاکہ ان کے جرم کی شناعت کو لوگوں کو سامنے پوری طرح نمایاں کردی جائے کہ یہ وہ بدترین قوم ہے جو مسیح ابن مریم کے قتل کا دعویٰ کرتی ہے جب کہ دل سے اس بات کو سمجھتی ہے کہ وہ مسیح بھی ہیں اور رسول اللہ بھی۔ بعض دیگر مفسرین یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ انہی کا قول ہے۔ یعنی جب انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا دعویٰ کیا تو انھوں نے صرف یہ نہیں کہا کہ ہم نے ابن مریم کو قتل کیا ہے۔ بلکہ یہ کہا کہ ہم نے رسول اللہ کو قتل کیا ہے۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے بھی قتل کر دے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے انداز واطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں۔ وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کی برائیوں پر انھیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے انھیں روکے۔ تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اس کی سیر کرنے لگا۔ عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اسے ایک تیر کا نشان نظر آیا۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسانشان ہے ؟ انھوں نے جواب دیا یہاں زکریا نبی کو ہم نے قتل کیا تھا۔ وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔ آخر جب ہم اس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اسے مار ڈالا۔ تاریخ ہمیں اور بھی انبیائِ کرام کے ایسے واقعات سے باخبر کرتی ہے کہ جن کی قوموں نے محض ان کی ہدایت اور تنقید سے تنگ آ کر انھیں قتل کر ڈالا یا ملک سے نکال دیا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل یا صلیب دینے کی تردید قرآن کریم نے یہود کے اس دعوے (کہ ہم نے مسیح ابن مریم کو قتل کیا ہے) کی صاف صاف تردید فرمائی۔ اور آپ کی موت کے چونکہ دو امکان ظاہر کیے جاتے تھے کہ آپ کو صلیب پر چڑھایا گیا یا آپ کو قتل کیا گیا۔ اور یا قتل کے اضافے کا شاید مفہوم یہ ہے کہ صلیب پر صرف چڑھایا ہی نہیں گیا ‘ بلکہ باقاعدہ آپ کو صلیب دیا گیا اور صلیب پر ہی آپ کی موت واقع ہوئی۔ تیسرا آپ کی موت کا امکان طبعی موت کی صورت میں ہوسکتا ہے اس کا یہودیوں یا عیسائیوں میں کوئی بھی قائل نہیں رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں امکانات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ انھوں نے آپ کو صلیب دیا۔ بلکہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ اسے آگے چل کر بیان فرمایا کہ اللہ نے مسیح ابن مریم کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا۔ اور یہ لوگ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے یہ دعویٰ کیوں ہے کہ انھوں نے انھیں قتل کیا ہے یا صلیب دیا ہے ؟ اور عیسائی بھی عقیدت کے باوجود انتہائی نادانی کے ساتھ ان کے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ البتہ ان کی تاویلیں اپنی ہیں۔ لٰـکِنَّ شُبِّہَ لَہُمْ کا مفہوم قرآن کریم نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ درحقیقت معاملہ ان پر مشتبہ ہوگیا۔ اس اشتباہ کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ یقینی علم تو اللہ کے پاس ہے ‘ ہمارے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہود حضرت مسیح کے دھوکے میں کسی اور کو سولی پر چڑھا گئے اور حضرت مسیح بچ نکلے۔ لیکن یہ شخص کون تھا ؟ اور اس دھوکے کی صورت کیا ہوئی ؟ اس کا تصریحی جواب نہ قرآن مجید میں ہے ‘ نہ کسی صحیح حدیث میں۔ اب اس کے چارہ نہیں رہتا کہ تاریخ کی روشنی میں واقعہ کی جزئیات کو ایک ایک کر کے لایا جائے اور اس وقت کے پس منظر کو سامنے رکھا جائے اور جو صورت واقعہ نسبتاً زیادہ قرین قیاس اور مطابق مقتضائے حال ہو اسی کو ترجیحی طور پر اختیار کیا جائے۔ تفسیر ماجدی کے مصنف محترم کی تحقیق اس معاملے میں یہ ہے : ” پہلی بات اس سلسلہ میں یہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یروشلم کے لوگوں سے ملتے جلتے کم تھے۔ نتیجہ یہ تھا کہ عوام تو عوام خواص بھی آپ کو پوری طرح پہچانتے نہ تھے۔ چناچہ جب آپ کی گرفتاری کا وقت آیا تو اس کے لیے اکابر یہود اور متعدد سپاہیوں کا ایک پورا گروہ اس ضرورت کے لیے کافی ثابت نہ ہوا۔ بلکہ آپ کی شناخت کے لیے آپ ہی کی مختصر سی پارٹی کے ایک منافق و غدار کو ساتھ لینا پڑا۔ یہ ایک خالص تاریخی حقیقت ہے امام المفسرین امام رازی اس راز سے بھی واقف ہیں۔ فرماتے ہیں ” والناس ماکانوا یعرفون المسیح الا بالاسم بانہ کان قلیل المخالطۃ للناس “ (کبیر) متی اور مرقس دونوں انجیلوں میں ہے کہ گرفتار کرنے والی پارٹی میں سردار کاہنوں اور قوم کے بزرگوں کی طرف سے ایک بڑی بھیڑ تلواریں اور لاٹھیاں لیے ہوئے سپاہیوں کی شامل تھی۔ اس پر بھی گرفتاری اور شناخت کے لیے انھیں یہوداہ منافق کا سہارا ڈھونڈنا پڑا اور انجیل یوحنا میں ہے کہ جب یہ پلٹن اور پیادے وہاں پہنچے تو ” یسوع نے ان سے پھر پوچھا کہ تم کسے ڈھونڈھتے ہو ؟ وہ بولے یسوع ناصری کو۔ یسوع نے جواب دیا میں تم سے کہہ تو چکا ہوں کہ میں ہی ہوں “ (18: 3۔ 8) حضرت مسیح کا تعظیمی تخیل تو بہت بعد کی پیداوار ہے ‘ معاصر مخالفین و معاندین کی نظر میں آپ کی حیثیت صرف یسوع ناصری نامی ایک بدنام وغیر معروف مجرم کی تھی۔ وہ سامنے موجود تھا اور پھر بھی کوئی پہچان نہیں رہا تھا۔ حالانکہ سب آئے تھے اسی کی تلاش میں۔ دوسری بات خیال رکھنے کی یہ ہے کہ حضرت کو یا بالفاظ دیگر یسوع ناصری کو تبدیل ہیئت میں خاص ملکہ تھا۔ انجیلوں میں حضرت کی اسی قدرت کو بہ طور معجزہ بیان کیا گیا ہے۔ ” چھ دن کے بعد یسوع نے پطرس اور یعقوب اور اس کے بھائی یوحنا کو ہمراہ لیا اور انھیں ایک اونچے پہاڑ پر الگ لے گیا۔ اور ان کے سامنے اس کی صورت بدل گئی اور اس کا چہرہ سورج کی مانند چمکا۔ “ (متی 17: 1۔ 2) ” جب وہ دعا مانگ رہا تھا تو ایسا ہوا کہ اسکے چہرے کی صورت بدل گئی اور اس کی پوشاک سفید براق ہوگئی۔ “ (لوقا 9: 29‘ نیز مرق 9: 2) یہ معجزہ تھا یا نہ تھا۔ یہ ایک الگ بحث ہے بہرحال آپ کو نفس قدرت اس پر حاصل تھی۔ تیسرے اس تاریخی حقیقت کا استحضار ذہن میں کرلیا جائے کہ ملک (شام و فلسطین) کی آبادی اس وقت اسرائیلیوں ‘ یہودیوں کی تھی اور اس برادری کے ایک فرد آپ بھی تھے۔ لیکن ملک پر حکومت رومیوں کی تھی اور اعلیٰ عہدہ دار اور پولیس اور فوج رومیوں پر مشتمل تھی۔ اور یہ رومی نہ صرف مشرک یعنی دین و عقیدہ میں اسرائیلیوں سے مختلف تھے ‘ بلکہ صورت ‘ شکل ‘ وضع و لباس ‘ زبان و معاشرت وغیرہ میں بھی ان سے ایسے ہی الگ تھے جیسے آج انگریز ‘ ہندوستانیوں سے مختلف و ممتاز ہیں اور جس طرح آج ہندوستانیوں کو سب فوجی گورے یکساں اور گوروں کو سارے ” کالے “ ایک سے معلوم ہوتے ہیں ‘ بدیسی رومی سپاہیوں اور فوجیوں کی نظر میں سب یہود یہود اور اسرائیلی اسرائیلی بھی ایک ہی تھے۔ چوتھی کڑی اس سلسلہ کی یہ ملایئے کہ جس مقام پر رومی عدالت تھی وہاں سے سرکاری سولی گھر فاصلہ پر تھا ‘ اور سولی یا صلیب جس کی شکل انگریزی چھاپہ کے بڑے حرف ٹی (T) کے مشابہ یا ریلوے سگنل سے ملتی جلتی ہوتی تھی ‘ وہ سولی گھر میں پوری گڑی ہوئی نہیں ہوتی تھی ‘ صرف اس کا سیدھا اور کھڑا مستون زمین میں گڑا ہوا رہتا تھا۔ باقی جو لکڑی اس کے اوپر آڑی آڑی پڑتی تھی اس کے لیے قاعدہ یہ تھا کہ وہ مجرم کو عدالت سے اپنے اوپر لاد کر سولی گھر تک لانی پڑتی تھی۔ یہاں تک جو کچھ عرض ہوا اس پر ایک نظر دوبارہ کر کے امور ذیل کو بھی نظر کے سامنے لے آیئے : 1… حکم جب سنایا گیا ہے جمعہ کا دن تھا اور دن آخر ہو رہا تھا اور یہود کو جلدی تھی کہ ہر طرح فراغت پا کر شاموں شام گھر واپس آجائیں۔ جمعہ کی شام ہی سے ان کا یوم السبت شروع ہوجاتا تھا اور یوم السبت کے حدود کے اندر مجرم کی سزا دہی وغیرہ بھی ممنوع تھی اور پھر یہود کا اہم تہوار ‘ عید فسح بھی شروع ہو رہی تھی۔ غرض یہود کو اس کی بہت ہی عجلت تھی کہ کسی طرح ان کا یہ مجرم جلد سے جلد سولی پا کر شام سے قبل ہی دفن ہوجائے۔ 2… لاغر و ناتوان مجرم (یعنی خود حضرت مسیح) کے لیے ممکن نہ تھا کہ اتنی وزنی لکڑی لاد کر اتنا فاصلہ یہود کی خاطر خواہ تیزی سے طے کرسکیں۔ خصوصاً جب کہ یہودی بچے اور شریر قسم کے یہود خود بھی قدم قدم پر انھیں چھیڑتے جاتے اور ان کا رستہ کھوٹا کرتے جاتے۔ اب اس ساری صورت حال کو اس تفصیل کے ساتھ پیش نظر رکھ کر فرمایئے کہ رومی سپاہی جو مجرم ‘ بلکہ مجرموں کو (آپ کے ساتھ سولی کے لیے دو مجرم اور بھی تھے) حراست میں لیے ہوئے تھے اور یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ وہ رعایا میں سے نہیں بلکہ حاکم قوم کے افراد تھے ایسے موقع پر کیا کرتے ؟ خود تو اپنے اوپر وہ سولی والی لکڑی کا بوجھ لادنے سے رہے۔ انھوں نے وہی کیا جو ان کی جگہ پر کوئی بھی ان جیسا انسان کرتا۔ انھوں نے مجمع ہی میں سے کسی بدتمیز یہودی کو پکڑ لیا اور صلیب کی لکڑی اسی پر لاد دی… انگریز گارد ایسے موقع پر یعنی کسی ہندوستانی مجرم کو حراست میں لیے جاتا ہوتا تو کیا کرتا ؟ یہی کرتا کہ بھیڑ میں کسی ہندوستانی ہی کو پکڑ لیتا اور اس پر لاد دیتا۔ یہ محض قیاس و قرینہ نہیں ‘ انجیلوں میں اتنے جزو کی تصریح موجود ہے۔ ” انھیں شمعون نام ایک کرینی آدمی ملا ‘ اسے بیگار میں پکڑا کہ اس کی صلیب اٹھائے۔ “ (متی۔ 27: 32) ” اور شمعون نام ایک کرینی آدمی اسکندر اور روقس کا باپ دہات سے آتے ہوئے ادھر سے گزرا۔ انھوں نے اسے بیگار میں پکڑا کہ اس کی صلیب اٹھائے “ (مرقس۔ 15: 21) ” اور جب اس کو لیے جاتے تھے تو انھوں نے شمعون نام ایک کرینی کو جو دہات سے آتا تھا پکڑ کے صلیب اسی پر رکھ دی کہ یسوع کے پیچھے پیچھے چلے “ (لوقا 23: 26) جب یہ مجمع (جو یقینا کوئی باقاعدہ و منظم، مجمع نہیں ‘ بلکہ عوام کی ایک بھیڑ تھا) اس افراتفری کے ساتھ ایک دوسرے کو ریلتا پیلتا مجرم سے چھیڑ چھاڑ کرتا ‘ اس سے تمسخر کرتا ہوا ‘ سولی گھر کے پھاٹک پر پہنچا تو رومی پولیس گارڈ جو ساتھ تھا ‘ اب اس کی ڈیوٹی ختم ہوگئی۔ اب یہاں سے جیل کے سنتریوں کا عمل و دخل شروع ہوتا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ یسوع ناصری کس کا نام ہے۔ وہ اپنے حسب دستور مجرم اسی کو سمجھے جس کے اوپر صلیب لدی ہوئی تھی… ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو مستحضر کر لیجیے کہ جیل کے رومی سپاہیوں کے لیے سب یہودی اجنبی ہی تھے اور اس لیے باہم دگرہم شکل اور یکساں۔ انھیں ایک اسرائیلی (یسوع ناصری) اور دوسرے اسرائیلی (شمعون کرینی) کے درمیان اشتباہ نہایت آسان تھا۔ انھیں دونوں کے درمیان کوئی نمایاں فرق ہی نہیں نظر آسکتا تھا۔ شمعون نے یقینا واویلا مچایا ہوگا لیکن ادھر مجمع کا شور و ہنگامہ ادھر جیل کے سپاہیوں کی اسرائیلیوں کی زبان سے ناواقفیت ‘ اور پھر سولی پر لٹکا دینے کی جلدی ‘ اسی افراتفری کے عالم میں اسی شمعون کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا گیا اور وہ چیختا چلا تا رہا۔ حضرت مسیح قدرۃً اس ہڑبونگ میں دشمنوں کے ہاتھ سے رہا ہوگئے اور دشمن دھوکے میں پڑے ہوئے ٹامک ٹویاں مارتے رہ گئے ” وَلٰکِنَّ شُبِّہَ لَہُمْ “ یہ عقیدہ نو ایجاد نہیں۔ خود مسیحیوں ہی کا ایک قدیم ترین فرقہ باسلیدیہ کے نام سے گزرا ہے۔ (بانی فرقہ کا سال وفات 120 ء) وہ اسی عقیدہ کا قائل تھا اور کھلم کھلا کہتا کہ مصلوب حضرت مسیح (علیہ السلام) نہیں ہوئے ‘ بلکہ شمعون کروینی ہوا ہے۔ قرآن مجید نے اسی عقیدہ کی تصویب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ “ (ماخوذ از : تفسیر ماجدی) اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ کا مفہوم ” وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ “ یہاں اختلاف کرنے والوں سے مراد عیسائی ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ یہود کے دعویٰ کی تائید کرتے ہوئے تسلیم کرتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب دیا گیا اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے کے بارے میں کسی ایک قول پر متفق نہیں ہیں۔ ان کا کسی ایک قول پر متفق نہ ہونا بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ اصل حقیقت ان پر مشتبہ ہے۔ اور وہ اس اشتباہ سے آج تک نہیں نکل سکے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر جو شخص چڑھایا گیا وہ مسیح نہ تھا ‘ بلکہ مسیح کی شکل میں کوئی شخص تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر چڑھایا تو مسیح ہی کو گیا تھا مگر ان کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی۔ بلکہ اتارے جانے کے بعد ان میں جان باقی تھی۔ کوئی کہتا ہے کہ انھوں نے صلیب پر وفات پائی اور پھر وہ جی اٹھے اور کم و بیش دس مرتبہ اپنے مختلف حواریوں سے ملے اور باتیں کیں۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب کی موت مسیح کے جسم انسانی پر واقع ہوئی اور وہ دفن ہوا مگر الوہیت کی روح جو اس میں تھی وہ اٹھا لی گئی۔ اور کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد مسیح (علیہ السلام) جسم سمیت زندہ ہوئے اور جسم سمیت اٹھائے گئے۔ ان تمام اقوال کو دیکھتے ہوئے یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ اگر ان لوگوں کے پاس حقیقت کا علم ہوتا تو اتنی مختلف باتیں ان میں مشہور نہ ہوتیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ ان کے ان مختلف اقوال کا سبب یہ ہے کہ ان کے پاس حقیقت کا علم نہیں بلکہ ان کے سارے علم کلام کی بنیاد ظن و گمان پر ہے۔ یقینی علم صرف یہ ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کرسکے۔ یعنی وہ ان کی جان لینا چاہتے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بات کوئی مشکل نہیں کہ وہ ایک زندہ انسان کو آسمانوں پر اٹھا لے یا کائنات کے کسی گوشے میں صدیوں تک زندہ موجود رکھے اس لیے کہ وہ عزیز اور غالب ہے اور حکمت والا ہے۔ جہاں تک اپنی طرف اٹھانے کا تعلق ہے بعض لوگوں نے اسے محض ترقی درجات و مراتب کے معنی میں لیا ہے۔ حالانکہ یہ بات عربیت کے خلاف ہے۔ کیونکہ عربی زبان میں جہاں رفع کے لفظ کو ترقی درجات کے معنی میں استعمال کرنا ہو وہاں اس کو صلہ کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا گیا ” ورفعناہ مکاناً علیاً “ (ہم نے اسے بلند مرتبے پر اٹھایا) لیکن جب رفع کو جسم مع الروح کے اٹھانے کے معنی میں استعمال کیا جائے تو پھر اس کے ساتھ الیٰ کا کا صلہ آتا ہے جیسے پیش نظر آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ آیت کے آخر میں عزیز حکیم کی صفات کا ذکر یہ بتلانے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جو دنیا میں اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا اور غیر معمولی واقعہ کیا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زندہ آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا ج ” اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوگا۔ “ (النسآء : 159) آیت کے مختلف تراجم کی وضاحت اس آیت کریمہ کے پہلے فقرے کا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو آپ متن کے نیچے دیکھ رہے ہیں اور دوسرا ترجمہ اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے۔ “ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اہل کتاب سے کون مراد ہیں ؟ سلسلہ کلام کو دیکھتے ہوئے تو یہ کہنا چاہیے کہ اس سے مراد یہود ہیں۔ لیکن جملہ معترضہ میں چونکہ نصاریٰ کا بھی ذکر آیا ہے اس حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ دونوں ہیں۔ آیتِ کریمہ کا مفہوم پہلے ترجمہ کے اعتبار سے تو یہ ہے کہ ” کوئی یہودی یا عیسائی ایسا نہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے۔ “ اس صورت میں مراد اس سے یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے ‘ دجال سے آپ کا معرکہ ہوگا ‘ دجال آپ کے ہاتھوں قتل ہوگا ‘ یہودی یا تو ایمان لے آئیں گے یا قتل کردیے جائیں گے اور عیسائیوں پر چونکہ اصل معاملہ کھل جائے گا اس لیے وہ سب ایمان لے آئیں گے۔ پھر چند سال تک عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا میں زندہ رہیں گے اور آپ عادل حکمران کی طرح حکومت کریں گے۔ جب آپ کی طبعی موت کا وقت آئے گا تو اس سے پہلے پہلے کوئی یہودی یا عیسائی ایسا نہیں ہوگا جو آپ پر ایمان نہ لا چکا ہو اور اس وقت آپ پر ایمان لانے کا مطلب محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان ہے۔ کیونکہ جو شخص بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی مانے گا وہ یقینا آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین ﷺ بھی مانے گا۔ دوسرے ترجمے کے حوالے سے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ” اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جسے موت کے وقت رسالت مسیح کے بارے میں حقیقت سے آگاہ نہ کردیا جائے۔ “ چناچہ اہل کتاب میں سے جس شخص کو بھی موت آئے گی اس وقت اس پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے گی کہ میں جو کچھ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں کہتا رہا ہوں وہ سب غلط تھا۔ وہ ایک پاک دامن عفیفہ کے بیٹے ‘ صحیح النسب اللہ کے نبی تھے ‘ وہ اپنی ذات میں ایک انسان تھے ‘ وہ نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے تھے ‘ ان کی حیثیت صرف یہ تھی کہ وہ باقی رسولوں کی طرح ایک رسول تھے۔ یہ حقیقت موت کے وقت ہر ایک پر کھول دی جائے گی ‘ لیکن چونکہ موت کے وقت جب عالم برزخ کی چیزیں نظر آنے لگیں اور آنے والے حالات منکشف ہونے لگیں تو اس وقت کا ایمان معتبر نہیں ہوتا۔ اگرچہ اہل کتاب اصل حقیقت سے آگاہ ہوجائیں گے اور اس پر ایمان بھی لے آئیں گے ‘ لیکن یہ ایمان ان کے کام نہیں آئے گا۔ یہ وہ مفہوم ہے جو متعدد صحابہ ‘ تابعین اور اکابر مفسرین سے منقول ہے۔ بعض اہل علم ایک تیسرا مفہوم مراد لیتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ” لَیُؤْمِنَنَّ “ سے ایمان مراد نہیں ‘ بلکہ یقین مراد ہے۔ جس طرح قرآن کریم میں سورة النمل میں متکبر کافروں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے ظلم اور گھمنڈ کے سبب سے اللہ کے رسول کے معجزات کا انکار کرتے ہیں ‘ لیکن ان کے دل اس پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں بھی اسی طرح کا یقین مراد ہے اور آیت میں جو ضمیریں آئی ہیں ان کے مرجع میں اختلاف ہے۔ وہ ” بہٖ “ کی ضمیر کا مرجع قرآن مجید کو اور ” مَوْتِہٖ “ کی ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو قرار دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آج یہ اہل کتاب قرآن اور نبی کریم ﷺ کی صداقت تسلیم کرنے کے لیے یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ وہ آسمان سے کتاب اتار کے دکھائیں۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب یہ لوگ قرآن اور پیغمبر کی کہی ہوئی ایک ایک بات کو واقعات کی شکل میں اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور قرآن ان کے لیے جس رسوائی و نامرادی اور جس ذلت و شکست کی خبر دے رہا ہے وہ پیغمبر کے دنیا سے اٹھنے سے پہلے پہلے اس طرح ان کی آنکھوں کی سامنے آجائے گی کہ اس کو جھٹلانا ان کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ اگرچہ ایمان کی سعادت انھیں پھر بھی نصیب نہیں ہوگی لیکن دل سے ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔ آیت کے دوسرے جملے کا مفہوم پہلے دونوں ترجموں کے حوالے سے یہ ہوگا کہ ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں گواہی دیں گے اور بتلائیں گے کہ آپ اللہ کی طرف سے جو پیغام ہدایت ان کے لیے لے کے آئے تھے انھوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا اور خود عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی زندگی میں کیا سلوک کیا اور یہی وہ گواہی ہے جس کا تفصیلی ذکر سورة مائدہ کے آخری رکوع میں ہے۔ اور تیسرے ترجمے کی صورت میں اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ نبی کریم ﷺ قیامت کے دن ان تمام لوگوں پر گواہی دیں گے اور آپ بتلائیں گے کہ انھوں نے یہودونصاریٰ پر اللہ کے دین کی ایک ایک بات کی گواہی دی تھی اور انھیں کھول کے بتایا تھا کہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جس عناد یا جس غلو میں مبتلا ہوگئے ہو وہ سرا سر غلط ہے۔ اگرچہ تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں پر شہادت دیں گے لیکن آنحضرت ﷺ چونکہ خاتم الانبیاء ہیں اس لیے آپ ﷺ کی شہادت ایک اجتماعی شہادت ہوگی جس سے تمام امتوں پر حجت قائم ہوجائے گی۔
Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

پس بسبب ان یہودی بن جانے والوں کے ظلم کے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور بسبب اس کے کہ وہ اللہ کے راستے سے بہت روکتے تھے

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا اور بوجہ اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھاتے تھے اور ہم نے ان جیسے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَ بِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا لا وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُہُوْا عَنْہُ وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ط وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا ” پس بسبب ان یہودی بن جانے والوں کے ظلم کے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور بسبب اس کے کہ وہ اللہ کے راستے سے بہت روکتے تھے اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا اور بوجہ اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھاتے تھے اور ہم نے ان جیسے کافروں کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “ (النسآء : 160 تا 161) یہود کی سرکشی کی وجہ سے بعض طیبات کی ممانعت گزشتہ آیت کی حیثیت جملہ معترضہ کی تھی۔ اس کے بعد پھر وہی سلسلہ تقریر شروع ہوگیا ہے۔ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یہود پر ایسی پاکیزہ نعمتیں بھی حرام کردی تھیں جنھیں پہلے ان کے لیے حلال کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کی سرکشی روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ جس طرح کسی شخص کے بگاڑ کو روکنے کے لیے اس پر سختی کی جاتی اور پابندیاں لگائی جاتی ہیں اسی طرح اس قوم کو بھی تنبیہ کے لیے بعض حلال چیزوں سے محروم کردیا گیا تھا۔ لیکن ان کی یہ محرومی یا ان پر ان سختیوں کا کیا جانا اللہ کی طرف سے ظلم نہیں تھا ‘ بلکہ ان کے ظلم اور سرکشی کی سزا تھی۔ اور مقصود انہیں اس سرکشی سے روکنا تھا۔ اس کے بعد چند جملوں میں ان کے اس سرکش رویے کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ سب سے پہلا ان کا جرم یہ بتایا گیا کہ وہ صرف خود ہی اللہ کے راستے سے منحرف نہیں تھے بلکہ ان کی بیباکی کا عالم یہ تھا کہ وہ اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی سرکشی کے راستے پر ڈالتے اور انھیں ترغیب دیتے تھے کہ اللہ کے احکام کی نافرمانی کی جائے۔ چونکہ اس قوم پر ان کے اسی رویے کے باعث لعنت کی گئی ہے اس کا آج تک اثر یہ ہے کہ جہاں بھی اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے کوئی تحریک اٹھتی ہے تو عموماً اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ کام کرتا نظر آتا ہے۔ اور خیر کی ہر قوت کا راستہ روکنے اور انھیں ناکام کرنے کے لیے یہودی ہی سب سے پیش پیش ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ سامنے آ کر مخالفت کم کرتے ہیں لیکن پس پردہ رہ کر اس مخالفت کے اصل دماغ وہی ہوتے ہیں۔ ہماری قریبی تاریخ میں ایک ایسا نظام جو سراسر منفی بنیادوں پر اٹھا اور جس نے ستر سال تک نوع انسانی کو بےپناہ نقصان پہنچایا بہت کچھ شکست ریخت اور ہزیمت اٹھانے کے بعد بھی وہ پوری طرح ختم نہیں ہوا میری مراد کمیونزم ہے ‘ جس نے دنیا میں پہلی مرتبہ اللہ کے وجود کے انکار پر نظام زندگی کی بنیاد رکھی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس کا بانی اور سرغنہ بھی کارل مارکس ایک یہودی تھا۔ اور اسی طرح ایک دوسرا نظام زندگی جس نے عقل کے نام پر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور جس نے ہر سطح پر اخلاق کا انکار کیا اس گمراہی کا امام بھی فرائیڈ ایک یہودی تھا۔ دوسرا جرم ان کا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ سود لیتے تھے ‘ حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا۔ تورات میں سود کی ممانعت کے احکام آج تک موجود ہیں۔ مثلاً ” اگر تو میرے لوگوں میں سے جس کسی کو جو تیرے آگے محتاج ہے کچھ قرض دیوے تو اس سے بیاجیوں کی طرح سلوک مت کر اور سود مت لے۔ “ (خروج 22: 25) ” تو اس سے سود اور نفع مت لے اپنے خدا سے ڈر تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگانی بسر کرے۔ تو اسے سود پر روپیہ قرض مت دے ‘ نہ اسے نفع کے لیے کھانا کھلا۔ “ (احبار 35: 36: 37) عجیب بات یہ ہے کہ ان احکام کے باوجود بھی یہودی دنیا کی سب سے بڑی سود خور قوم ہے۔ اور اپنی تنگدلی اور سنگدلی کے لیے مشہور ہے۔ اور ان کے شایلاک دنیا کے ادبیات میں ضرب المثل بن گئے ہیں۔ اور تیسرا جرم ان کا یہ بیان فرمایا گیا کہ وہ لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے ہضم کر جاتے تھے۔ تورات میں سود ‘ رشوت ‘ خیانت وغیرہ آمدنی کے جن ذریعوں کو حرام قرار دیا گیا تھا انہی کو اختیار کر کے وہ دنیا کے ذرائع پر بہت حد تک قابض ہوچکے ہیں۔ ان کے یہ جرائم ہیں جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر بہت ساری حلال نعمتیں حرام کردیں۔ یہاں اگرچہ ان نعمتوں کا ذکر نہیں فرمایا گیا لیکن سورة الانعام آیت نمبر 146 میں ان کا ذکر آنے والا ہے۔ وہیں انشاء اللہ تفصیلی بحث ہوگی۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ کفر کی روش پر قائم رہیں گے اور اپنی رویے میں تبدیلی لانے کی کوشش نہیں کریں گے ہم نے انکے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے قیامت میں جو ہونے والا ہے اس کا ذکر بھی قرآن کریم میں بار بار کیا گیا ہے اور دنیا میں جس طرح اس قوم کو عبرت بنادیا گیا وہ بھی نگاہ بصیرت رکھنے والوں پر مخفی نہیں اسرائیل کی صورت میں انھیں اپنی خباثتوں کے اظہار کا ایک موقع ملا ہے ‘ وہ وقت دور نہیں جب ان کا یہی رویہ پوری دنیا کو اس بات پر آمادہ کر دے گا کہ ان کو پھر اسی عذاب کی نذر کردیا جائے اور پھر اسی انجام سے دوچار کردیا جائے جو اللہ کی طرف سے ان کا اصل مقدر ہے۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

البتہ ان میں جو علم میں راسخ اور صاحب ایمان ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی۔ اور خاص کر نماز قائم کرنے والے اور زکوۃ دینے والے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ‘ یہ لوگ ہیں جن کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے)

لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیُوْمِ الْاٰخِرِ ط اُولٰٓئِکَ سَنُؤْتِیْہِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا ع ” البتہ ان میں جو علم میں راسخ اور صاحب ایمان ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی۔ اور خاص کر نماز قائم کرنے والے اور زکوۃ دینے والے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ‘ یہ لوگ ہیں جن کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔ “ (النسآء : 162) قرآن کریم کی تنقید میں عدل قرآن کریم صرف اپنے احکام اور حکمتوں کے بیان میں عدل و احسان کا ایک نادر و اعلیٰ نمونہ نہیں بلکہ وہ تاریخی واقعات بیان کرنے اور امتوں پر تنقید کے معاملے میں بھی بےمثل نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہود پر ہم نے ایک سخت تنقید پڑھی اور ان کی انفرادی اور قومی گمراہیوں اور بداعمالیوں کو بھی تفصیل سے دیکھا۔ جس سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عوام تو بگاڑ کی انتہا کو پہنچے ہی تھے خواص میں بھی کوئی ایسا قابل ذکر طبقہ باقی نہیں رہا تھا جن سے کوئی امید کی جاسکتی ‘ لیکن قرآن کریم نے اپنے بےمیل عدل سے کام لیتے ہوئے واضح فرمایا کہ اس قوم میں کچھ بہتر لوگ بھی تھے اگرچہ ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ان میں بڑے بڑے اہل علم موجود تھے لیکن دنیا داری نے ان کی علمی خصوصیات اور عملی تشخصات کو فنا کردیا تھا۔ انھوں نے اپنے علم و فکر کو حصول زر کا ذریعہ بنا رکھا تھا ‘ لیکن ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو صرف اہل علم نہیں بلکہ رسوخ فی العلم رکھتے تھے۔ بگاڑ اور زوال کے اس جھکڑ میں وہ خیر کی آخری علامت کی طرح مضبوطی سے قائم رہے اور ہر طرح کے حالات کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ اور عام لوگوں میں بھی کچھ ایسے صاحب ایمان اور سلیم الفطرت لوگ موجود تھے جنھوں نے اپنے آپ کو یہود کے عام بگاڑ سے محفوظ رکھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لائے اور سابقہ آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے تھے اور اللہ سے ان کا چونکہ بےپناہ تعلق تھا اس لیے وہ بطور خاص نمازوں سے محبت کرنے والے اور دل لگانے والے تھے۔ ” والمقیمن الصلوۃ “ کا عطف ” المؤمنون “ پر ہے۔ اس لیے اسے نحوی طور پر ” المقیمون “ ہونا چاہیے ‘ لیکن لفظ کی اعرابی حالت کو بدل کر پروردگار نے ان کی خاص صفت کی طرف اشارہ فرمایا۔ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ بعض دفعہ حالت رفعی کو بغیر کسی سبب کے حالت نصبی سے تبدیل کردیتے ہیں اور اسے ” علی سبیل الاختصاص یا علی سبیل المدح “ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں خاص طور پر اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ یہ لوگ اپنی باقی عملی خصوصیات کے ساتھ ساتھ نمازوں کی بہت پابندی کرنے والے ہیں۔ نماز کا جو اسلام میں مقام و مرتبہ ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو قیام صلوۃ میں اختصاص رکھتا ہے وہ یقینا پوری شریعت پر عمل کرنے میں کسی کمزوری کا شکار نہیں ہوتا۔ قرآن کریم میں اور بھی کئی جگہ اس اسلوب سے کام گیا ہے۔ سورة بقرہ میں بھی اس کی مثال گزر چکی ہے۔ ان کے خصائص کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں فرمایا ” کہ یہ اس راندہ درگاہ قوم کے افراد ہونے کے باوجود اپنے ایمان و عمل سے اس قابل ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اجر عظیم سے نوازیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور قرآن کریم میں مختلف مواقع پر ان کی تعریف فرمائی۔