Ayahs 4:51–53اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓـؤُلَآئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ ط وَمَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَـہٗ نَصِیْرًا ط
(کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنھیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ دیا گیا ؟ یہ جِبْت اور طَاغُوْت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت پرتو یہ ہیں یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی ہے اور جن پر اللہ لعنت کر دے تو تم ان کا کوئی مددگار نہیں پاسکتے) (النسآء : 51 تا 52)
جِبْت اور طاغُوْت کا مفہوم
آیتِ کریمہ کی تشریح سے پہلے جِبْت اور طَاغُوْت کی تشریح کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اہل علم کی ایک رائے یہ ہے کہ جِبْت کے اصل معنی ” بےحقیقت، بےاصل اور بےفائدہ چیز “ کے ہیں۔ اسلام کی زبان میں جادو، کہانت، فال گیری، ٹونے ٹوٹکے، شگون، مہورت اور تمام دوسری وہمی اور خیالی باتوں کو جِبْت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چناچہ حدیث میں آیا ہے :
اَلنِّیَاقَـۃُ وَالطَّرْقُ وَالطَّیْرُمِنَ الْجِبْتِ
(جانوروں کی آوازوں سے فال لینا، زمین پر جانوروں کے نشاناتِ قدم سے شگون نکالنا اور فال گیری کے دوسرے طریقے سب جِبْت کے قبیل سے ہیں)
طاغوت لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنی جائز حدود سے تجاوز کرگیا ہو قرآن کریم کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے جو بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خودآقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ پھر طاغوت قرآن کریم میں طواغیت کے معنی میں بھی استعمال کیا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ طاغوت کی صرف ایک ہی قسم نہیں ہے۔ طاغوت ایک تو شیطان ہے جو اس کے سامنے نت نئی جھوٹی ترغیبات کا سدا بہار باغ پیش کرتا ہے۔ دوسرا طاغوت آدمی کا اپنانفس ہے، جو اسے جذبات و خواہشات کا غلام بنا کر زندگی کے ٹیڑھے سیدھے راستوں میں کھنیچے کھینچے لیے پھرتا ہے اور بیشمار طاغوت باہر کی دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مختصر یہ کہ جو قوت بھی اللہ کے مقابلے میں اپنی اطاعت کراتی ہے چاہے طاقت وجبر سے، چاہے خواشات کو اپیل کرکے۔ اسے قرآن کریم طاغوت کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔
بعض دیگراہلِ علم کا خیال ہے کہ جِبْت سے مراد اعمالِ سفلیہ مثلاً سحر، شعبدہ، ٹونے ٹوٹکے، رمل جفر، فال گیری، نجوم، آگ پر چلنا اور اس قسم کی دوسری خرافات ہیں۔ ہاتھ کی لکیروں کا علم بھی اسی میں شامل ہے۔ اعمالِ سفلیہ کے حوالے سے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کا تعلق بیشتر شیطانی قوتوں اور ارواحِ خبیثہ سے ہوتا ہے۔ اس طرح کے اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کو شیطانی قوتوں اور ارواحِ خبیثہ سے مدد مانگنی پڑتی ہے اور بعض دفعہ وہ اپنے معمول کو بھی ایسے وظائف بتاتے ہیں جس میں ان قوتوں سے مدد مانگنا شامل ہوتا ہے۔ اس وضاحت کو اگر سامنے رکھا جائے تو پھر یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہتا کہ اس آیت کریمہ میں انہی قوتوں کو طاغوت کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
بعض مفسرین نے اس بارے میں متعدد اقوال ذکر کیے ہیں۔
حضرت ابن عباس ( رض) ، ابن جبیر ( رض) اور ابوالعالیہ ( رض) فرماتے ہیں کہ جِبْت حبشی لغت میں ” ساحر “ کو کہتے ہیں اور طاغوت سے مراد ” کاہن “ ہیں۔
حضرت عمر ( رض) فرماتے ہیں کہ جِبْت سے مراد ” سحر “ ہے اور طَاغُوْت سے مراد ” شیطان “۔
حضرت مالک ابن انس ( رض) سے منقول ہے کہ اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے، ان چیزوں کو ” طَاغُوْت “ کہتے ہیں۔
امامِ قرطبی کی رائے یہ ہے کہ اصل میں جبت تو بت ہی کا نام تھا لیکن بعد میں اس کے استعمال میں وسعت آگئی اور اللہ کے سوا دوسری عبادت کی جانے والی چیزوں پر بھی اس کا اطلاق ہونے لگا۔
یہ جتنی آرا آپ نے دیکھی ہیں بظاہر ان میں اختلاف نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ شرک کبھی ارواحِ خبیثہ اور شیطانی قوتوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے اور کبھی شرک بت پرستی کی صورت اختیار کرجاتا ہے اور کبھی انسان اللہ کی بندگی کی طرح دوسری قوتوں کی بندگی کرنے لگتا ہے۔ جن سے وہ بےدیکھے ڈرتا ہے یا جن سے مفادات کا رشتہ ہے یا جن کے جبر اور اقتدار نے اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ تمام صورتیں شرک کی ہیں۔ ان تمام صورتوں کو سمیٹتے ہوئے جِبْت اور طَاغُوْت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔
یہود کی اصل بیماری
اس آیت کریمہ میں یہود کے دو مشرکانہ رویوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اصل بیماری جس کی طرف اشارہ سابقہ آیت میں کیا گیا ہے وہ یہی ہے کہ وہ توحید کو چھوڑ چکے اور مختلف طریقوں سے مشرکانہ اعمال کا ارتکاب کرکے اپنی دینی حیثیت کو برباد کرچکے ہیں۔ لیکن ان مشرکانہ اعمال کا ذکر کرنے سے پہلے اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ذرا یہود کو پہچاننے کی کوشش کرو یہ وہ لوگ ہیں جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ عنایت کیا گیا تھا ان پر احکامِ شریعت اتارے گئے تھے یہ لوگ مذہب کے بنیادی عقائد اور اساسی روایات سے بہت حد تک باخبر تھے۔ ان سے اس بات کی تو توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ احکام کی اطاعت میں سستی کا ثبوت دیں، معصیت کا راستہ اختیار کریں یا ان کے کچھ طبقات میں انحراف تک نوبت پہنچ جائے لیکن یہ جانتے بوجھتے کہ توحید مذہب کی بنیاد ہے اور شرک ایک ایسی بدترین لعنت ہے جو انسان کی دنیا کو بھی اور آخرت کو بھی تباہ کرکے رکھ دیتی ہے۔ باایں ہمہ ! وہ اگر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں یا مشرکوں کو موحدوں کے مقابلے میں ترجیح دیتے ہیں تو یہ ایک ایسی انہونی ہے جس کا تصور مذہب کے علمبرداروں اور توحید کے پرستاروں سے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ یہود نے مشرکانہ اعمال بھی کیے، مسلمان اور اسلام دشمنی میں بتوں کو سجدہ بھی کیا اور مسلمانوں کے مقابلے میں مشرکینِ مکہ کے ساتھ محبت کی پینگیں بھی بڑھائیں۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے :
( حضرت ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ یہود کے سردار حییّ بن اخطب اور کعب بن اشرف جنگ احد کے بعد ایک جماعت کو ساتھ لے کر مکہ معظمہ میں قریش سے ملنے گئے۔ کعب بن اشرف ابو سفیان کے پاس آیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کے خلاف ان کے ساتھ تعاون کرنے کا وعدہ کیا۔ مشرکینِ مکہ اپنی تمام گمراہیوں کے باوجود مردم شناس تو تھے۔ انھوں نے کہا کہ تم ایک دھوکہ دینے والی قوم ہو اگر تم واقعی اپنے قول میں سچے ہو تو ہمارے ان دو بتوں جبت اور طاغوت کے سامنے سجدہ کرو۔ چناچہ کعب بن اشرف نے قریش کو مطمئن کرنے کے لیے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد کعب نے قریش سے کہا کہ تیس آدمی تم میں اور تیس ہم میں سے سامنے آئیں تاکہ رب کعبہ کے ساتھ اس چیز کا عہد کریں کہ ہم سب مل کر محمد ﷺ کے خلاف جنگ کریں گے۔ کعب کی اس تجویز کو قریش نے پسند کیا اور اس طرح سے انھوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کرلیا۔ اس کے بعد ابوسفیان نے کعب سے کہا کہ تم اہل علم ہو تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے ہم تو بالکل جاہل ہیں اس لیے آپ ہمارے متعلق بتائیں کہ ہم حق پر چلنے والے ہیں یا محمد ﷺ ؟ کعب نے پوچھا کہ تمہارا دین کیا ہے ؟ ابوسفیان نے کہ ہم حاجیوں کے لیے اپنے اونٹوں کو ذبح کرتے ہیں اور ان کا دودھ پلاتے ہیں۔ مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں، اپنے خویش واقربا کے تعلقات کو قائم رکھتے ہیں اور بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف محمد ﷺ نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ اپنوں سے علیحدہ ہوچکا ہے اور اس نے ہمارے قدیم دین کے خلاف اپنا ایک نیا دین پیش کیا ہے۔ ان باتوں کو سن کر کعب بن اشرف نے کہا : تم لوگ حق پر ہو۔ محمد ﷺ (معاذاللہ) گمراہ ہوچکا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیات نازل فرماکران کے دجل و فریب کی مذمت کی۔ “
یہود کی اسلام اور مسلمان دشمنی
اندازہ فرمائیے ! یہود اہل کتاب میں سے ہیں۔ توحید کی تعلیم اور شرک کی مذمت سے تورات اب بھی معمور ہے۔ وہ مشرکینِ مکہ کی بت پرستی اور ان کے مشرکانہ عقائد کی ہمیشہ مذمت کرتے رہے ہیں۔ مذہب اور وحی الٰہی سے بالکل جاہل اور بیخبر ہونے کی وجہ سے انھیں امی کہہ کر ہمیشہ نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لیکن اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت نے انھیں یہاں تک پہنچایا کہ بتوں کو سجدہ کرنا ان کے نزدیک حرام ہونے کے باوجود اس لیے جائز ٹھہرا کہ اس کے بغیر اسلام دشمنی پر مبنی متحدہ محاذ قائم نہیں ہوسکتا تھا اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسلام توحید کا دین ہے، وہ شرک سے انتہائی نفرت کرنا سکھاتا ہے اس کے پیغمبر کی بنیادی تعلیم ہی یہ ہے۔ اس کے باوجود سیاسی ضرورت کے تحت جب مشرکینِ مکہ نے ان سے پوچھا کہ ہم ہدایت پر ہیں یا محمد ﷺ ؟ اور جو کچھ انھوں نے اپنے مذہب کے بارے میں بتایا یہودخوب جانتے تھے کہ یہ چنداخلاق کی باتیں ہیں جس کا مذہب کے بنیادی عقائد سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن انھوں نے کھل کرمشرکینِ مکہ کو آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیا اور آنحضرت ﷺ کو گمراہ ٹھہرایا۔ ان کے اس رویہ سے یہ بات سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے کہ اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے عداوت یہود کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ وہ دنیا کے بدترین لوگوں سے اسلام دشمنی کے لیے سمجھوتہ کرسکتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کا ہر مذہب اسلام سے بہتر ہے اور یہ دشمنی ان کے دل و دماغ میں اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ انھوں نے اس کو اپنے مذہب اور اپنی خارجہ پالیسی کی اس وقت بھی بنیاد بنایا تھا اور آج تک بھی یہی بنیاد ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال میں ان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور انھیں کے زیر اثر عیسائیوں نے بھی اسی پالیسی کو آج تک اپنائے رکھاکیون کہ میں اس سے پہلے اس بات کو واضح کرچکا ہوں کہ عیسائیت پر یہودیت کے اتنے گہرے اثرات ہیں کہ وہ یہودیت کا دوسرا ایڈیشن معلوم ہوتا ہے۔ ان کی دشمنی میں تو کوئی فرق واقع نہیں ہوا البتہ مسلمانوں میں یہ فرق ضرور پیدا ہوا ہے کہ قرون اولیٰ کے مسلمان بلکہ اس کے بعد بھی صدیوں تک مسلمان ان کی اسلام دشمنی کو کبھی نہیں بھولے وہ ان کے چہروں کو ہزار پردوں میں بھی پہچان لیتے تھے۔ وہ قرآن کریم کی عطا کردہ اس روشنی سے اچھی طرح بہرہ ور تھے۔
لتجدن اشدالناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا
(تم مسلمانوں کی عداوت میں یہود اور مشرکوں کو سب سے شدید پائو گے )
اور بیسیوں جگہ اس بات کا حکم دیا :
یا ایھا الذین امنوالاتتخذوا الیھود والنصاریٰ اولیاء بعض اولیاء بعض
(مسلمانو ! یہود اور نصاریٰ کو کبھی اپنا ہمدرد اور خیرخواہ نہ سمجھنا اور انھیں کبھی دوست نہ بناناوہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور خیر خواہ ہیں لیکن تمہارے بدترین دشمن ہیں)
لیکن آج کے مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ایک بڑی تعداد بری طرح اس بصیرت سے محروم ہوچکی ہے۔ یہودونصاریٰ کی دشمنی اپنی جگہ قائم ہے، لیکن ہم ان کی دشمنی کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے زندگی کے ہر مرحلے پر مسلمانوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اب تو وہ مسلمانوں کے دو ملکوں پر قبضہ بھی کرچکے ہیں۔ لیکن ہمارے بےبصیرتی کا عالم یہ ہے کہ ہم ان کی دشمنی کو بھی خیرخواہی سمجھتے ہیں۔ وہ قدم قدم پر دھوکہ دیتے ہیں لیکن ہمارے اعتماد میں کوئی کمی نہیں آتی۔ ہمارا حال تو یہ ہے : ؎
بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی ہے
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں
آج تو انھوں نے پورے عالم اسلام کو لہو میں نہلا دیا ہے۔ ان کی عظمتیں خاک آلود کردی ہیں۔ ان کے ادب و احترام کے مراکز ان کی بمباری کی زد میں ہیں۔ ان کے دین، تہذیب اور ثقافت کی ایک ایک بات انھیں کھٹکتی ہے اور وہ اسے مٹادینے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن ہمارے دانشور اور ہمارے سیاستدان ان سے اب بھی وفا کی امید رکھتے ہیں ؎
تم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
قرآن کریم نے یہود و نصاریٰ دونوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ دونوں مسلمانوں سے کبھی خوش نہیں ہوسکتے تاوقتیکہ مسلمان اپنا دین چھوڑ کر ان کا دین اختیار نہ کرلیں۔ قرآن کے نزول کے وقت یقینا یہود و نصاریٰ کا یہی حال تھا۔ لیکن ہمارے قومی شاعر اقبال نے جس طرح آزادی سے پہلے یورپ کے مرکز میں رہ کر ان استعماری قوتوں کو دیکھا اور پہچاناتو وہ اس نتیجے پر پہنچا ؎
کرے قبول اگر دین مصطفیٰ انگریز
سیاہ روز مسلماں رہے گا پھر بھی غلام
یہود و نصاریٰ کا اصل چہرہ پہچاننے کی ضرورت
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہود و نصاریٰ کا اصل چہرہ پہچانیں۔ قرآن کی دی ہوئی فکر کے مطابق ان کی دشمنی سے بچنے کے لیے مناسب تدابیر اختیار کریں۔ لیکن اس بدنصیبی کا تو کوئی علاج نہیں ہے کہ تدابیراختیار کرنا تو بہت دور کی بات ہے ہم تو یہ سمجھنے کے لیے بھی تیار نہیں کہ یہود و نصاریٰ واقعی ہمارے دشمن ہیں۔ جب تک ہماری فکر، ہماری سوچ، ہمارا ذہنی رویہ اور ہماری قوت فیصلہ ان کے طلسم سے آزاد نہیں ہوتی، اس وقت تک ہم اپنی قسمت سنوارنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔
تاریخ کا طالب علم جب یہود و نصاریٰ کی تاریخ پڑھتا ہے اور پھر ان کے موجودہ رویے کو دیکھتا ہے تو اسے مسلمانوں کے خلاف ان کی پالیسیوں کو سمجھنے میں نہایت دشواری پیش آتی ہے۔ وہ اس بات کی کوئی توجیہ نہیں کرسکتا کہ قومیں اور ان کے افراد کوئی پتھر کے بنے ہوئے مجسمے تو نہیں ہوتے کہ حالات کے ساتھ ان میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ وہ تو ہر دور میں سوچنے سمجھنے کے مراحل سے گزرتے رہتے ہیں اور اسی سے ان کے بنیادی فیصلوں میں تبدیلی بھی آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ آخر مسلمانوں کے معاملے میں پتھر کے ہو کر کیوں رہ گئے ؟ قرآن کریم نے اس عقدہ کو کھولتے ہوئے فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے “ اور جن لوگوں پر اللہ لعنت فرمادیتے ہیں ان کی ہدایت کے لیے کوئی کوشش کبھی سود مند نہیں ہوتی۔ تبلیغ و دعوت کی ہر کاوش ان کے سامنے بےبسی محسوس کرتی ہے۔ یہی حال ان دونوں قوموں کا بھی ہے۔ البتہ ! آخری جملے میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ مسلمان اگر اپنے عہد رفتہ کو تازہ کرلیں اور وہ حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں اور اسلام کے سرچشموں سے صحیح معنی میں سیرابی کا انتظام کرلیں اور پھر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان معاند قوتوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں تو تم دیکھوگے کہ ان قوتوں کو دنیا میں اپنا کوئی مددگار نہیں ملے گا۔ ان کی یہ ساری طلسم آرائی فرعون کے جادو گروں کی رسیوں کے سانپ بن جانے کی طرح ہے۔ وہ اس وقت تک لہراتی رہیں جب تک عصائے موسیٰ اژدھا بن کر ان کے سامنے نہیں آیا۔ لیکن اس کے بعد پھر ان کی زندگی دم توڑ گئی۔ غیرمسلم قوتیں اس لیے طاقتور ہیں کہ مسلمان کمزور ہیں۔ جس دن مسلمانوں نے اپنے حقیقی سرچشمے سے تعلق پیدا کرلیا اس دن صورتحال بدل جائے گی۔
اَمْ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْـکِ فَاِذًا لَّایُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًا لا
( کیا ان کا کوئی حصہ ہے سلطنت میں ؟ پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر) (النسآء : 53)
نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْـکِ کا مفہوم
اس آیت کریمہ کے مختلف مطالب اہل علم نے بیان کیے ہیں۔ اور ان میں سے ہر مطلب کے لیے اس آیت میں گنجائش موجود ہے۔ سیاق کلام پر اگر آپ کی نظر ہے تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہود کی اسلام اور مسلمان دشمنی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی اور وہ اٹھتے بیٹھے اسلام اور مسلمانوں کے عروج پر اپنی جلن کا اظہار کرتے رہتے تھے اور جس کا لاوہ ان کے سینوں میں سلگتا تھا۔ اس کا تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واشگاف کرتے ہوئے فرمایا کہ بغض اور نفرت ان کی زبانوں سے عیاں ہے۔ لیکن جو کچھ ان کے سینوں میں ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے اس بغض اور دشمنی کو دیکھتے ہوئے اور ان کے رویے کو سب کے سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے : کہ کیا اللہ کی حکومت اور سلطنت میں کوئی حصہ ان کے قبضہ میں ہے ؟ کہ یہ فیصلہ کرنے چلے ہیں کہ کون برسر ہدایت ہے اور کون نہیں ہے۔ حالانکہ یہ خود بھی جانتے ہیں کہ ایسا کوئی اختیار ان کے ہاتھ میں نہیں ہے لیکن ان کی طبیعت کی خست اور ان کے بخل کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایسا کوئی اختیار ان کے پاس ہوتا تو بھلائی کی کوئی بات اورا للہ کی کوئی نعمت کبھی کسی کے نصیب میں نہ ہوتی اور وہ پھوٹی کوڑی بھی کسی کو نہ دیتے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کیا ان کے پاس کسی ملک کی حکومت ہے ؟ کہ دوسرے لوگ اس میں حصہ بٹانا چاہتے ہیں حالانکہ ان سے حکومت چھنے ہوئے صدیاں گزر گئیں۔ لیکن یہ اس طرح نفرت اور بغض کا اظہار کررہے ہیں جیسے مسلمان قدم قدم جو آگے بڑھ رہے ہیں تو وہ ان سے حکومت چھین لینا چاہتے ہیں اور یہ اپنی حکومت بچانے کے لیے مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں۔ حالانکہ سوال صرف یہ ہے کہ حق کس کے ساتھ ہے ؟ اور اللہ نے دین کی عظمت سے کسے مالامال کیا ہے ؟ لیکن ان کی حق دشمنی دیکھئے کہ یہ اعترافِ حق کے لیے بھی تیار نہیں۔ تیسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ المُلْـکِ سے مراد ” اللہ کی حکومت اور سلطنت “ ہے۔ وہ اپنی حاکمانہ حیثیت سے جسے چاہتا ہے نبوت عطا کرتا ہے، جس قوم کو چاہتا ہے اس نبوت کی پیروکار بنا کرحاملِ دعوت امت کے منصب پر فائز کردیتا ہے۔ چناچہ اس نے اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے آج آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو اپنے اس فضل سے نوازا ہے۔ لیکن یہود کو ایسی آگ لگی ہے کہ وہ یوں سمجھتے ہیں گویا کہ ان کے اقتدار کو چیلنج کردیا گیا ہے۔ اگر ان کے پاس واقعی ایسا کوئی اختیار ہوتا تو وہ یقینا اپنی قومی خست کی وجہ سے کسی کے یہاں خیر کا سایہ بھی نہ پڑنے دیتے۔ لیکن وہ خوب جانتے ہیں کہ ایسا کوئی اختیاران کے پاس نہیں۔ تو پھر جس طرح انھوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بغض سے بھرپور ایک لڑائی شروع کررکھی ہے اس کا ہدف مسلمان نہیں اللہ کی ذات کو ہونا چاہیے کیونکہ مسلمانوں نے اپنے طور سے تو کوئی دعویٰ نہیں کیا ان میں پیغمبر تشریف لائے کتاب نازل ہوئی یہ سب اللہ کے فضل سے ہوا۔ یہود کو اگر لڑائی لڑنی ہے تو اللہ سے لڑنی چاہیے اور یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ اللہ سے لڑائی کرکے کبھی کوئی نہیں جیت سکتا تو پھر آخر وہ اپنی ان حرکتوں سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ؟ اور ایک ایسی کوشش پر جس کا کبھی کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکل سکتا وہ کیوں اپنی صلاحیتیں برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟ کیا اتنی بات کو ان کی عقلیں سمجھنے سے قاصر ہیں ؟ اس کا جواب اگلی آیت کریمہ میں دیا گیا ہے۔
Ayah 4:54اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَـآ اٰ تٰـھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ج فَقَدْ اٰ تَیَْنَـآ اٰلَ اِبْرٰھِیْمَ الْـکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاٰ تَیْنٰـھُمْ مُّلْـکًا عَظِیْمًا
(یا یہ لوگوں پر حسد کررہے ہیں اس فضل پر جو اللہ نے ان کو بخشاتو ہم نے بخش دی آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت اور ہم نے بخش دی ان کو ایک عظیم سلطنت بھی) (النسآء : 54)
یہود حسد کے مریض تھے
یہود کی دشمنی کا اصل سبب یہ ہے جسے اس آیت میں منکشف فرمایا گیا ہے کہ ان کی تمام فتنہ پروری اور ان کی مسلمان دشمنی پر مبنی یہ تمام حرکتیں اور سازشیں اس سبب سے ہیں کہ ان کے اندر کے حسد کی آگ انھیں چین نہیں لینے دیتی۔ حسد زوال نعمت کی تمنا کرنے کو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی شخص کو کسی کمال سے نوازا ہے، کسی نعمت سے مالامال کیا ہے، کوئی خاص اس پر کرم فرمایا ہے، تو دوسرا آدمی یہ چاہتا ہے کہ یہ سب اس سے چھن جائے۔ اور یہ بالکل قلاش، نادار، اور حقیر آدمی ہوکررہ جائے۔ اس خواہش کا نام ” حسد “ ہے۔ اگر تو صرف یہ خواہش ہو کہ جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اس کے پاس بھی رہے اور مجھے بھی پروردگار عطا فرمائے تو اسے رشک کہتے ہیں۔ اسلام نے اس کی اجازت دی ہے، لیکن دوسرے کی نعمت پر جلنا اور اس کے زوال کی دعائیں یا تدبیریں کرنا یہ وہ کمینگی ہے جسے حسد کہا جاتا ہے اور جو اسلام کی نگاہ میں بدترین حرکت ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
ایاکم والحسد فان الحسد یا کل الحسنات کما تاکل النار الحطب
(تم حسد سے بچو اس لیے کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاجاتی ہے )
حسد ایک ایسی کمینی عادت ہے کہ جس میں مبتلاشخص دوسروں کا کچھ بگاڑے یا نہ بگاڑے لیکن اپنا کردار اپنی صحت اور اپنا سکون ضرور غارت کرلیتا ہے۔ اس کی دنیا بھی تباہ ہوتی ہے اور آخرت بھی۔ ٹھیک کہا کسی نے ؎
حسد کی دنیا بری ہے اس کا ثمرہ ہے برا
اس مرض والے کی یکساں ہے حیات و موت بھی
یہود قوم اپنی اسی جبلت کے باعث صدیوں سے عبرت کا مرقع بنی ہوئی ہے۔ اس کی تمام کاوشیں ڈیڑھ ہزار سال سے دوسروں کی تباہی اور بربادی پر صرف ہورہی ہیں جو اس کارویہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں تھا وہی آج بھی ہے۔ اسی رویے کے باعث آنحضرت ﷺ کی نبوت کو وہ ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ انھیں زعم یہ تھا کہ نبوت بنی اسرائیل کا حق ہے، یہ جب بھی آتی ہے یا آئے گی بنی اسرائیل کے ہاں آئے گی۔ گویا وہ نبوت کو اپنی میراث سمجھتے تھے اور اس پر اپنا اختیار گمان کرتے تھے کہ یہ ہمارے ارادے اور اخیتار کے بغیر کسی کو نہیں مل سکتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک امی شخص کو جس کا تعلق آل اسماعیل سے تھا اس عظیم منصب سے بہرہ ور فرمایا تو انھیں آگ لگ گئی اور یہ صدمہ ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا۔ چناچہ انھوں نے من حیث القوم یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم اس نبی کی نبوت چلنے نہیں دیں گے۔ میں گزشتہ کسی جگہ حضرت صفیہ ( رض) کے حوالے سے عرض کرچکا ہوں کہ ان کے والد نے اپنے چھوٹے بھائی سے کہا کہ یہ یقینا وہی نبی ہیں جن کا ذکر ہماری کتابوں میں آیا ہے لیکن اس کے باوجود جب تک میری جان میں جان ہے میں ان کی نبوت چلنے نہیں دوں گا۔ چناچہ اسی حسد کے باعث انھوں نے اپنی قومی زندگی کو تباہ کیا۔ دو قبیلوں کو مدینے سے نکلنا پڑا تیسرا قتل کے گھاٹ اتر گیا۔ دور فاروقی میں بالآخر انھیں جزیرہ عرب سے بھی نکال دیا گیا۔ لیکن ان کے حسد کی آگ برابر بھڑکتی رہی۔ اللہ تعالیٰ اس آیت کریمہ میں فرما رہے ہیں کہ تم اگر اس حسد کی آگ میں جلنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو جلتے رہو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دے دی اور انھیں ملک عظیم سے بھی نواز دیا۔
یہود اس بات کو خوب سمجھتے تھے کہ سلطنت اور حکومت کتاب اور نبوت کے لوازم میں سے ہے۔ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم میں نبی اور رسول بھیجتے ہیں اور پھر انھیں کتاب اور حکمت سے نوازتے ہیں تو وہ قوم اگر رسول کے ہاتھ پر ایمان لاکر اور کتاب الٰہی کے احکام کے مطابق عمل کرکے اپنے آپ کو حزب اللہ بنالیتی ہے تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ ایسی امت کو حکومت اور سلطنت بھی عطا کرتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کے مختلف ادوار اس حقیقت کی شہادت دینے کے لیے کافی ہیں۔ چناچہ یہود مسلمانوں کی مخالفت صرف اس لیے نہیں کررہے تھے کہ وہ ایک نئی نبوت کو کیوں مان رہے ہیں بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے تھے کہ اس نبوت اور کتاب کے نتیجے میں مسلمانوں کو ایک ایسا اقتدارملنے والا ہے جس کے بعد ہمارا زوال اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔
آل ابراہیم سے کون مراد ہے ؟
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے کتاب و حکمت اور ملک عظیم دینے کا جو اعلان فرمایا ہے وہ آل ابراہیم کے لیے ہے اور آل ابراہیم جس طرح آل اسماعیل ہیں اسی طراح آل اسحاق اور بنی اسرائیل بھی ہیں۔ تو پھر اس میں مسلمانوں یا آل اسماعیل کی تخصیص کا کیا معنی ہے ؟ گر ان آیات پر معمولی تدبر سے بھی کام لیا جائے تو اس اعتراض کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ ذرا غور فرمائیے ! ان آیات میں تنقید کس پر ہورہی ہے ؟ اور ان تمام تنبیہات کا ہدکون ہے ؟ ظاہر ہے وہ بنی اسرائیل ہیں۔ انھیں سے یہ بات کہی جارہی ہے کہ تم اپنے حسد اور بغض کی آگ میں جلتے ہو تو جلتے رہو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور ملک عظیم سے نواز دیا ہے۔ جن کو یہ تنبیہ کی جارہی ہے اور جنھیں سرزنش کی جارہی ہے کیا یہ نعمتیں بھی انھیں دی جارہی ہیں ؟ یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جو بات کو سمجھنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہوچکاہو۔ بنی اسرائیل تو اس تنقید اور سرزنش کے باعث اس نعمت سے محروم ہوگئے اور آل ابراہیم کا دوسرا حصہ صرف آل اسماعیل ہے تو خود بخود یہ بات متحقق ہوجاتی ہے کہ یہاں آل ابراہیم سے آل اسمعٰیل ہی مراد ہیں۔
علاوہ ازیں ! گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اللہ نے بنی اسرائیل پر لعنت فرمائی ہے۔ اور لعنت کا مفہوم کیا ہے ؟ اللہ کی رحمت اور نعمت سے دور کردینا “۔ تو جس قوم کو دو آیتیں پہلے رحمت سے دور کردیا گیا اور وہ لعنت کی مورد ٹھہری ہے کیا اب کتاب و حکمت اور ملک عظیم اسے دیا جائے گا ؟ یقینا ایسا نہیں ہوسکتا۔ تو پھر خود بخود یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ آل ابراہیم سے مراد اس آیت کریمہ میں آل اسماعیل ہیں۔
مزید برآں ! یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہود نے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی بجائے ہمیشہ حضرت اسحاق سے ہی منسوب کیا ہے۔ تورات میں ہے کہ ابراہیم کی اولاد اسحاق کے نام سے پکاری جائے گی۔ اس کے برعکس اہل عرب اپنے آپ کو ہمیشہ حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے اس انتساب پر فخر کیا اور اپنے آپ کو ملت ابراہیم کا وارث سمجھا۔ اور وہ یہ بھی بجا طور پر دعویٰ کرتے تھے کہ ہم جس گھر کے مجاور ہیں اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا تھا اور جس شہر کے رہنے والے ہیں وہ شہر حضرت ابراہیم کی دعائوں سے بسا تھا اور ایک مدت تک ان کا مسکن رہا۔ یہ تمام واضح شہادتیں ہیں جس سے اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ یہاں آل ابراہیم سے مراد اہل عرب، آل اسمعیل اور قریش ہیں۔
تورات کو پڑھتے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پروردگار یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے جس آل ابراہیم کو نوازنے اور ترقی دینے کا وعدہ فرمایا تھا وہ آل ابراہیم آل اسمعیل ہی تھے اور جس طرح ایک وقت میں حضرت ابراہیم کی ایک شاخ آل اسحاق کو ہم نے فروغ دیا تھا اب وقت آگیا تھا کہ تورات کے وعدے کے مطابق آل اسمعیل کو ترقی دیں اور نوازیں۔ تورات کی کتاب پیدائش اور باب 22 میں یہ بات مندرجہ ذیل الفاظ میں مرقوم ہے۔
(اور خداوند کے فرشتے نے آسمان سے دوبارہ ابراہام کو پکارا اور کہا کہ خداوند فرماتا ہے کہ چونکہ تو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو ترا اکلوتا ہے دریغ نہ رکھا اس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کردوں گا اور تیری اولاد دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی کہ تو نے میری بات مانی)
تورات کے اس بیان کو غور سے پڑھئے ! صاف معلوم ہوتا ہے کہ برکت کا یہ وعدہ اس وقت کیا گیا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کے امتحان میں پوری طرح اپنے اخلاص کو ثابت کیا۔ اس سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ وعدہ حضرت اسماعیل اور ان کی نسل سے متعلق ہے۔ اس وعدے میں تین باتوں کا ذکر ہے۔
بنی اسماعیل سے اللہ کے تین وعدے
1 اللہ تعالیٰ ان کو ایک عظیم امت بنائے گا۔
2 ان کو عظیم فتوحات سے نوازے گا اور دشمنوں کے پھاٹکوں پر ان کا قبضہ ہوگا۔
3 اس نسل کے وسیلہ سے زمین کی قوتیں برکت پائیں گی۔
تاریخ آپ کے سامنے کھلی پڑی ہے، ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی دنیا پر نظر ڈالیے پھر دیکھئے کہ اللہ نے جو وعدہ تورات میں فرمایا تھا اور قرآن کریم کی صورت میں نبی امی ﷺ کی زبان سے جس کا اعلان کیا گیا وہ کس طرح پور اہوا۔ حضور کی تشریف آوری کے بعد وہ کون سی امت ہے جو مکہ معظمہ کی سرزمین سے اٹھی اور چند ہی سالوں میں پورے جزیرہ عرب پر غالب آگئی اور آج تک ہزاروں حوادث سے نبردآزماہونے کے باوجود اپنی انفرادیت پر قائم ہے اور ساری کوششوں کے باوجود جس کی شناخت کو دھندلایانھیں جاسکا۔
مزید دیکھئے ! وہ کون سی امت ہے کہ نبی امی کے ظہور کے بعد جس نے دنیا میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے اور جس نے دشمنوں کے پھاٹکوں پر قبضہ کیا۔ اس زمانے کی بڑی سلطنتیں قیصروکسریٰ اور یمن تھیں۔ گنتی کے چند سالوں میں وہ کون سی امت ہے جس نے ان تینوں کے پھاٹکوں پر قبضہ کرلیا۔ کسریٰ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرکے رکھ دیا، یمن مستقل اسلامی مملکت کا حصہ بن گیا اور قیصر مشرق وسطیٰ سے پائوں سمیٹنے پر مجبور ہوا اور پھر ایک وقت آیا جب ایشیا میں اس کا اقتدار گل ہوگیا۔ یورپ نے صلیبی لڑائیوں کا ڈول ڈالالیکن صلاح الدین ایوبی کی محدود قوت کے باوجود اسے بری طرح شکست کی ذلت اٹھانی پڑی اور عجیب بات یہ ہے کہ صحابہ کے ہاتھوں جو ممالک مفتوح ہوئے وہاں کا صرف جغرافیہ ہی اسلامی مملکت میں شامل نہیں ہوا بلکہ وہاں کی زبان، وہاں کی تہذیب، وہاں کا تمدن اور وہاں کا مذہب بھی ہمیشہ کے لیے بدل گیا اور وہ ممالک آج بھی مسلمانوں کے قبضے میں ہیں۔ البتہ اندلس اور ہندوستان جیسے ملک جو بعد میں مسلمانوں نے فتح کیے وہ اپنی غفلت اور اسلام سے دوری کی وجہ سے بالآخر ان کے ہاتھ سے نکل گئے۔ بتائیے یہ کس امت کی کہانی ہے ؟ اور دشمنوں کا کون ساپھاٹک ہے، جس پر اس امت نے قبضہ نہیں کیا ؟
جن ممالک پر مسلمان قابض ہوئے وہاں تو یقینا ایک نئی بہار آئی اور وہاں ایک نئی امت وجود میں آئی۔ لیکن جن ملکوں تک مسلمانوں کا تسلط نہ پہنچ سکا اور وہ مسلمانوں کے نظام زندگی سے محروم رہے ان میں جہاں کہیں بھی آپ حقوق کا تصور دیکھتے ہیں، عدل و احسان کا چرچا سنتے ہیں، انسان کی عظمت کے گن گائے جاتے ہیں۔ حقیقت ناشناسی اور کتمانِ حق کی بات اور ہے ورنہ تاریخ کا کوئی طالبعلم اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ جب تک مسلمان اندلس نہیں پہنچے تھے یورپ کن حالوں میں زندگی گزارتا تھا اور جب تک مسلمانوں کی کتابیں اصالتاً یاترجمے کی صورت میں یورپ میں نہیں پہنچیں اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے نظریات، خیالات اور کتابیں عام پڑھائی نہیں گئیں، اس وقت تک یورپ سائنس کی ابجد سے بھی واقف نہ تھا۔ مسلمان تاتاری حملے کی زد میں آکر اپنے بیشتر کتب خانوں سے محروم ہوگئے۔ اندلس ان کے ہاتھ سے کیا نکلا، علم کا سرمایہ ان کے ہاتھوں سے جاتارہا اور پھر ایک زوال پذیر امت کی طرح انھوں نے کئی صدیاں غفلت کی نذر کردیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا علم مسلمانوں کے دشمنوں کے کام آیا اور خود مسلمانوں کی اگلی نسلیں اس سے محروم رہ گئیں۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا :
حکومت کا کیا رونا یہ تو اک عارضی شے تھی
نہیں دنیا کے آئینِ مسلّم سے کوئی چارہ
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
غنی روز سیاہ پیرِکنعاں را تماشہ کن
کہ نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را
اس آیت کریمہ کا آخری جملہ کہ ہم نے آل ابراہیم کو ملک عظیم دے دیا ہے بجائے خود قرآن کریم کی حقانیت اور نبی کریم ﷺ کی صداقت کی دلیل ہے۔ جب یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں تو کوئی شخص تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان کبھی دنیا کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوں گے اور اہل زمین کے فیصلے ان کی تائید کے بغیر ادھورے رہیں گے۔ ان کا لوہاہرلو ہے کو کاٹے گا اور ان کی علمی اور سیاسی وجاہت پوری دنیا میں مسلم ہوگی۔ لیکن چند ہی سالوں میں اللہ کا یہ وعدہ جس طرح پور اہوا اور پھر رفتہ رفتہ جس طرح اس نے وسعت پائی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور وقت سے بہت پہلے ایسی کسی حقیقت کا انکشاف صرف نبوت ہی کی زبان سے ہوسکتا ہے اور اللہ ہی کتاب ایسی حتمی بات کی خبر دے سکتی ہے۔
Ayah 4:55فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِہٖ وَمِنْھُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْہُ ط وَکَفٰی بِجَھَنَّمَ سَعِیْرًا
(پس ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اس پر ایمان لائے اور ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس سے منہ موڑا اور ایسوں کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) (النسآء : 55)
یہاں آل اسماعیل مراد ہیں
اس آیت کریمہ کا تعلق آل اسماعیل سے ہے۔ آل اسماعیل میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جو اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوا جنھیں ہم اصحابِ رسول ﷺ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ مکہ معظمہ سے آنے والے مہاجرین بھی ہیں اور مدینہ منورہ کے انصار بھی اور یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنھوں نے اسلام کی نشرواشاعت اس کی حفاظت اس کے غلبے بالآخر نظام ِ زندگی کے طور پر اس کے نفاذ کی ایک ایک ذمہ داری کو ادا کیا اور دوسر اگر وہ وہ ہے جو ابھی تک اس سے منہ موڑے ہوئے ہے۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب ان منہ موڑنے والوں میں بہت سے لوگ اسلام کی آغوش میں آجائیں گے اور وہی لوگ آئندہ اسلامی تحریک اور اسلامی انقلاب کے لیے قوت ثابت ہوں گے۔ لیکن جو لوگ آخر حد تک اسلام کی دولت سے محروم رہیں گے یا تو وہ جزیرہ عرب سے نکل بھاگیں گے یا ختم ہوجائیں گے۔ ان بدنصیبوں اور محروموں کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب اس کا رسول اس قوم پر جس کی طرف وہ مبعوث ہوتا ہے، اتمام ِ حجت کردیتا ہے اور وہ قوم پھر بھی نہیں مانتی تو اللہ تعالیٰ بالعموم اس قوم پر عذاب بھیج کر اسے تباہ کردیتا ہے۔ لیکن ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان پر دنیا میں کوئی عذاب نہیں آئے گا۔ ان کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے۔ ان پر عذاب نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرجانے کے بعد بھی قبول اسلام کا سلسلہ رکا نہیں۔ دھیرے دھیرے لوگ اسلام کی آغوش میں اترتے چلے گئے لیکن فتح مکہ کے بعد جن لوگوں کو اسلام کی دولت نصیب نہ ہوسکی وہ یا تو تحلیل ہوگئے یا ملک چھوڑ گئے۔ دنیا میں تو یہ اللہ کے عذاب سے بچے رہے کیونکہ یہ اسلام کا راستہ نہ روک سکے اور ان کی انفرادی سرکشی اور غیر موثرمخالفت کے باوجود دنیا میں چھوٹی موٹی سزا ان کو دینا ضروری نہیں سمجھا گیا اس لیے فرمایا کہ ان کے لیے آخرت کی سزا کافی ہے اور وہ ایک ایسی بھڑکتی ہوئی آگ ہے کہ جس کے بعد کسی اور سزا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی سزا کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔
Ayah 4:56اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰـتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَارًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰـھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
(جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، ہم ان کو آگ میں جھونک دیں گے۔ جس وقت جل جائیں گی ان کی کھالیں، تو ہم ان کو بدل دیں گے دوسری کھالیں تاکہ چکھتے رہیں عذاب۔ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے) (النسآء : 56)
ایمان نہ لانے والوں کا انجام
اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرنے والوں سے قیامت کے دن جو سلوک ہوگا اس کی ایک جھلک دکھائی جارہی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت میں ڈوب جانے والے اور محض دنیا ہی کے عیش و عشرت کو اپنی منزل سمجھنے والے یہ گمان نہ کریں کہ ان کی یہ روش ہمیشہ باقی رہے گی اور وہ ہمیشہ دنیا کے مزے لوٹنے میں مصروف رہیں گے۔ یہ چند روزہ زندگی فریبِ نظر سے زیادہ نہیں۔ آنکھ بند ہونے کی دیر ہے اس کے بعد حقیقت سامنے آنے لگتی ہے۔ اے کاش ! انسان دنیا ہی میں اس بات کو سمجھ لے کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور پھر میری زندگی کی رہنمائی کیلے اس نے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کی ہیں وہ یقینا ایک نہ ایک دن مجھ سے اپنے رسولوں کی دعوت کو قبول نہ کرنے کے بارے میں جواب طلب کرے گا اور جب میں کوئی تشفی بخش جواب نہ دے سکوں گا تو میرا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ میرے جیسے سارے انکار کرنے والوں کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔ جس کی شدت اور استمرار کا عالم یہ ہوگا کہ جب جلنے والوں کی کھالیں جل جائیں گی تو کھالوں کے جل کر گر جانے سے جان نہیں چھوٹے گی کیونکہ جہنم ایک ایسی جگہ ہے جس کا عذاب ناقابلِ بیان شدید ہونے کے باوجود موت کا باعث نہیں بنے گا۔ آدمی تمنا کرے گا کہ مجھے موت آجائے لیکن موت نہیں آئے گی۔ لیکن اس سے بڑھ کر عذاب کے جس پہلو کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ کھال کے جل جانے کے بعد شاید آگ کے عذاب کا احساس کم ہوجاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسے ہی کسی کی کھال جلے گی ہم اس کے بدلے میں دوسری کھال پہنا دیں گے۔ یہ اس لیے ہوگا تاکہ عذاب میں مبتلا شخص نئے سے نئے عذاب کا مزہ چکھے۔ حضرت معاذ ( رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
(کھال جلنے اور کھال کے تبدیل ہونے کا یہ عمل اتنی تیزی سے ہوگا کہ ایک ساعت میں سو مرتبہ کھال تبدیل کی جائے گی)
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ آگ دن میں ستر ہزار مرتبہ ان کو کھائے گی جب ان کو کھاچکے گی تو ان لوگوں کو کہا جائے گا کہ تم پھر پہلی حالت کو لوٹ جاؤ پس وہ لوٹ جائیں گے۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جہنم کا عذاب کس قدر ہولناک، کس قدر تکلیف دہ اور کس قدر شدید ہوگا اور اس شدت پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو جہنم کا خالق ہے وہ عزیز اور زبردست ہے۔ وہ جس چیز کو چاہے اور جیسا چاہے پیدا کرنے پر قادر ہے۔ اس نے دنیا کی آگ میں جو جلن رکھی ہے انسان کے لیے وہ بھی ناقابلِ برداشت ہے اور جہنم کی آگ میں جلن کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ بخاری کی روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
(اہلِ جہنم میں سب سے کم عذاب کے اعتبار سے وہ آدمی ہوگا جس کے تلووں میں آگ کی دو چنگاریاں ہوں گی جس کی وجہ سے اس کا دماغ ہانڈی کی طرح کھولتا ہوگا)
Ayah 4:57وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَـآ اَبَدً ط لَھُمْ فِیْھَـآ اَزْوَاجٌ مَّطَھَّرَۃٌ ز وَّنُدْخِلُھُمْ ظِلًّا ظَلِیْلاً
(اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے ہم ان کو داخل کریں گے باغوں میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ ان کے لیے وہاں پاکیزہ عورتیں ہوں گی اور ہم ان کو گھنی چھائوں میں رکھیں گے) (النسآء : 57)
ایمان لانے والوں پر انعام
اللہ کے رسول کی دعوت کا انکار کرنے والوں اور اس کی تکذیب کرنے والوں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اللہ کے رسول پر ایمان لائے اور جن کی زندگی کا ایک ایک عمل اس کی لائی ہوئی شریعت کے عین مطابق وجود میں آیا۔ یعنی ان کا اصل سرمایہ نہ حسب و نسب ہے اور نہ مال و دولت بلکہ ایمان وعمل وہ دولت ہے جس سے وہ مالامال ہیں اور یہی وہ سکہ ہے جو قیامت کے دن چلے گا۔ جس کے پاس یہ دولت ہوگی وہ اس دن نوازا جائے گا اور جس کے پاس یہ دولت نہیں ہوگی اس کے لیے وہ ناکامی اور خسران کا دن ہوگا۔ اس سے اس بات کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جو ایمان وعمل سے محروم ہوئے اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے حسب ونسب اور اپنے انتسابات کو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ سمجھا۔ اسی گمراہی نے ان سے سیرت و کردار کی عظمت چھین لی اور اسی پندار نے نبی آخرالزمان پر ایمان لانے سے محروم رکھا۔ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ تم ایسی کسی ایسی گمراہی میں مبتلا نہ ہونا۔ اسلام کے آجانے کے بعد تمام غلط دعوے اور تمام غلط انتسابات کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔ اب یہاں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، سب انسان، انسان ہونے کے اعتبار سے برابر ہیں۔ اب تعارف اپنے قبیلوں اور اپنے آبائو اجداد کے حوالے سے نہیں ہوگا بلکہ آدمی کی ذاتی صلاحیت اس کا اصل تعارف ہوگی۔
دنیا اور آخرت میں ایمان وعمل یعنی تقویٰ عزت کا معیار ٹھہرے گا۔ جس آدمی کے پاس یہ دولت زیادہ ہوگی وہ یہاں بھی سرافراز ہوگا اور قیامت کے دن بھی شاد کام ہوگا۔ وہاں ایسے لوگوں کو ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی۔ ایک انسان اپنی رہائش کے لیے اس سے بہتر تصور نہیں کرسکتا کہ اس کے محل کے اردگرد باغات پھیلے ہوئے ہوں اور اس کے جمالیاتی ذوق کی تسکین اور احساس کی ٹھنڈک کے لیے اس کے نیچے اور دائیں بائیں نہریں بہتی ہوں۔
ازواج مطہرۃ کا مفہوم
اور تنہائیوں کی آبادی کے لیے ایسی رفیقہ حیات میسر ہو جو ہر لحاظ سے طہارت و نظافت کا پیکر ہو۔ جس طرح اس کا جسم اور اس کالباس ہر گندگی سے محفوظ اور ہر بدذوقی سے دور ہو اسی طرح اس کے اخلاق مکارمِ اخلاق کی تصویر، اس کا احساس محبت کا عکاس، اس کے افکار ذہنی الجھنوں سے آزاد اور اس کارویہ انسانی آسودگی سے سیراب ہو۔ یہ وہ ہمہ نوعی تطہیر ہے جو شاید یہاں مراد لی جارہی ہے اور ان اہل جنت کی چہل قدمی کے لیے ایسے سایہ دار درخت ہوں گے جن کے سائے کو کبھی دھوپ متاثر نہیں کرسکے گی۔
ظِلًّا ظَلِیْلاً : ظل کے بعد ظلیل کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے : شَمسٌ شَامِسٌ، لَیلٌ لَئِیلٌ، اس کا معنی ہے ” ہمیشہ رہنے والا سایہ “۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا :
ان فی الجنۃ لشجرۃ یسیر الراکب فی ظلھامائۃ عام مایقطعھا اقرأ و ان شئتم وظل ممدود۔
(جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سایہ کو ایک سوار سو سال میں بھی طے نہ کرسکے گا۔ اگر آپ چاہیں تو یہ آیت وَظِلِّ مَّمْدُوْدٍ پڑھیں) ، (یعنی اس سے معنی واضح ہوجائے گا) ۔
حضرت ربعی ابن انس فرماتے ہیں کہ ظِلًّا ظَلِیْلاً سے مرادعرشِ الٰہی کا سایہ ہے جو کبھی زائل نہیں ہوگا۔