4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:5

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور اپنے وہ مال جنھیں اللہ نے تمہارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے نادان لوگوں کے حوالہ نہ کروالبتہ انھیں کھانے اور پہننے کے لیے فراغت کے ساتھ دو اور دستور کے موافق ان کی دل داری کرتے رہو

وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَـکُمْ قِیٰـمًاوَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا (اور اپنے وہ مال جنھیں اللہ نے تمہارے لیے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے نادان لوگوں کے حوالہ نہ کروالبتہ انھیں کھانے اور پہننے کے لیے فراغت کے ساتھ دو اور دستور کے موافق ان کی دل داری کرتے رہو) (النسآء : 5) سُفَہَآئَ سے مراد اور مال کی اہمیت سابقہ آیت کریمہ میں یتیموں کے حقوق کے سلسلے میں حکم دیا گیا تھا کہ جن سرپرستوں کی تحویل میں یتیم ہوں جب وہ بالغ ہوجائیں اور اس قابل ہوجائیں کہ ان کے بزرگوں نے جو ان کے لیے مال وراثت چھوڑا تھا اسے سنبھال سکتے ہوں تو وہ مال ان کے سپرد کردو۔ اس آیت کریمہ میں اس حکم پر عمل کرنے کے سلسلے میں جن احتیاطوں اور نزاکتوں کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے ان کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ سب سے پہلی یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ ولی اور سرپرست کا کام چونکہ یتیموں کی بھلائی اور خیرخواہی ہے۔ اس لیے جب تک یتیم اپنے معاملات کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتا اس وقت تک اس کی تربیت کرنا ولی اور سرپرست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب وہ بڑا ہوجائے اور اس کے بزرگوں کا چھوڑا ہوا مال وراثت اگر واقعی اس کے سرپرست کے پاس موجود ہے تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ جس طرح وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ مال یتیم کے سپرد کرے اسی طرح وہ اس بات کا بھی پابند ہے کہ وہ مال سپرد کرنے میں پوری احتیاط سے کام لے۔ کیونکہ مال کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں بےاحتیاطی یا لاپرواہی سے کام لیا جاسکتا ہو۔ مال و دولت کی زندگی میں ایک اہمیت ہے بلکہ یہ ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی نہیں گزرتی۔ اس لیے اس آیت میں مال کو زندگی کے قیام وبقا کا ذریعہ فرمایا گیا ہے۔ تو جو چیز قیام وبقا کا سبب ہے اس کے بارے میں کسی طرح کی غفلت مال کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے اور نظام تمدن کو بھی تباہ کرسکتی ہے۔ مال و دولت کے بارے میں چونکہ ہمیشہ افراط وتفریط ہوتی رہی ہے اس لیے اسلامی شریعت نے اس کی اصلاح کے لیے خصوصی احکام دیئے ہیں۔ لیکن ان تمام احکام کے باوجود آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ افراط وتفریط پر مبنی طریقہ بدستور جاری ہے۔ جن لوگوں کا دین سے واجبی سا رشتہ ہے اور وہ اپنی زندگی کا اصل مقصد دنیا کمانا ہی سمجھتے ہیں انھوں نے تو دنیا اور دولت دنیا کو مقصد زندگی اور دل کا محبوب سمجھ رکھا ہے۔ وہ اسی کے لیے جیتے اور اس کے چھن جانے سے اس کے غم میں مرجاتے ہیں۔ ان کے ہاں عزت وذلت کے معیارات اسی دولت ہی کے حوالے سے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات سمجھنا آسان نہیں کہ دولت دنیا کا حصول مقصد زندگی نہیں۔ یہ زندگی کی ایک ضرورت ہے جسے بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت حاصل کرنا چاہیے۔ اس کی محبت میں ڈوب جانا ‘ یہ کسی طرح مناسب نہیں۔ جو لوگ شریعت کے پابند اور دین دار کہے جاتے ہیں وہ بھی بعض دفعہ افراط وتفریط کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں بطور ِ خاص وہ لوگ جن کو صوفیا کہا جاتا ہے وہ ہمیشہ دنیا اور دولت دنیا کی مذمت میں لگے رہتے ہیں وہ دنیا کو ایک مردار اور اس کے چاہنے والوں کو کتا قرار دیتے ہیں۔ ان کے یہاں دین کا تقاضا یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس آئے اسے فوراً اللہ کے راستے میں دے دو ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ رویہ بالکل غلط ہے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ رویہ غیر متوازن ہے۔ اگر شریعت کے احکام ایسے ہی ہوتے تو پھر احکامِ زکوٰۃ اور وراثت دینے کی کیا ضرورت تھی اور حق ملکیت کی بحثوں کا کیا فائدہ تھا نازک حالات میں آنحضرت نے ہمیشہ انفاق پر ابھارا ہے۔ کبھی یہ حکم نہیں دیا کہ لوگوں کے پاس ضرورت سے جو زیادہ ہو وہ سب چھین لیا جائے۔ مال کو خیر قرا ردیا اور ضرورت کے لیے اس کا کمانا فریضہ ٹھہرایا گیا۔ دیانت دار تاجر کے فضائل بیان فرمائے گئے، تجارت اور زراعت کو ترقی دینے کے لیے آنحضرت نے ہدایات جاری فرمائیں۔ اگر مال کے بارے میں مذکورہ بالا تصور صحیح ہوتا تو حضور کبھی یہ ہدایات جاری نہ فرماتے۔ مال نہ صرف کمانے کی اجازت دی بلکہ اس کی حفاظت کا بھی حکم دیا یہاں تک فرمایا : مَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہٖ فَہُوَ شَھِیْدٌ ” اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے جو شخص قتل ہوجائے وہ شہید ہے “۔ حقیقت یہ ہے کہ مال ایک دودھاری تلوار ہے یہ زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے لیکن اس کو مقصد زندگی بنالینے سے صرف اخلاقی مفاسد ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے لیے بھی خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اسلام نے اس کی ان دونوں حیثیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے احتیاطی احکام دیئے ہیں جس سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اس کے ضرر رساں پہلو کمزور پڑجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا : لاَ بَأسَ بِالْغِنٰی لِمَنِ اتَّقُیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ ” جو شخص اللہ عزوجل سے ڈرتاہو اس کی مال داری میں دین کا کوئی حرج نہیں “۔ جس طرح تلوار مجاہد کے ہاتھ میں اسلام کی قوت ہے اور ڈاکو اور ظالم کے ہاتھ میں انسانیت کی دشمن ہے۔ یہی حال دولت کا بھی ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے کے ہاتھ میں خلق خدا کی ضرورت اور تمدن کی خادم ہے۔ لیکن اللہ کے خوف سے بےگانہ آدمی کے پاس اخلاق اور تمدن کے لیے تباہ کن ہے شیخ عبدالقادر جیلانی ( رح) نے ایک موقعہ پر مثال دیتے ہوئے فرمایا :” زندگی کشتی کی مانند ہے اور دنیا کا مال و دولت پانی کی مانند “۔ کشتی پانی کے بغیر نہیں تیر سکتی اس طرح زندگی بھی مال و دولت کے بغیر نہیں گزرتی۔ لیکن یہ پانی اس وقت تک کشتی کے لیے مفید اور اس کی قوت ہے جب تک کشتی کے نیچے ہے اگر خدانخواستہ پانی کشتی کے اندر داخل ہوجائے تو پھر یہ پانی کشتی کی قوت نہیں بلکہ اس کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہے۔ اسی طرح مال و دولت جب تک آدمی کے ہاتھ کی چھڑی ہے تو وہ انسانی تمدن کا ستون ہے۔ اور زندگی کی ضروریات کا سہارا۔ جب تک جیب کی گھڑی ہے تو وہ زندگی میں اعتدال کا ضامن اور خلق خدا کا معاون ہے۔ لیکن جب یہ دل کا محبوب بن جاتا ہے تو پھر یہ ناگ بن جاتا ہے اب اس سے نہ انسانیت بچتی ہے نہ رشتوں کا احترام باقی رہتا ہے نہ اخلاق سلامت رہتے ہیں اور نہ نظام تمدن و معیشت خرابی سے محفوظ رہتا ہے۔ مولانا عبیداللہ احرار ایک صاحب دل بزرگ گزرے تھے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت اور خوشحالی سے بھی نواز اتھا۔ مولانا عبدالرحمن جامی انھیں کے ہمعصر فارسی کے مشہور شاعر اور اپنے وقت کے جید عالم تھے۔ انھوں نے مولانا کی شہرت سنی تو اپنے تزکیہ اور اصلاح کے لیے ان سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے گھرپہنچے تو مولانا گھر میں موجود نہیں تھے۔ انھوں نے گھر دیکھا نوکر چاکر دیکھے بدگمانی سی ہوئی کہ دنیا داروں جیسے ٹھاٹھ باٹھ اللہ والوں کے تو نہیں ہوتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ میں غلط جگہ آگیا ہوں۔ شاعر تو تھے ہی ایک مصرعہ موزوں ہوا وہیں دیوار پر لکھ دیا ؎ نہ مرد آنست کہ دنیا دوست دارد وہ شخص مرد خدا نہیں جو دنیا کو دوست رکھتا ہے واپس پلٹے قریب کوئی مسجد تھی وہاں چلے گئے کہ ذرا آرام کرلوں تھک گیا ہوں تو پھر سفر شروع کروں گا۔ اتفاق کی بات آنکھ لگ گئی خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے آپکڑا۔ الزام یہ کہ تم نے فلاں کا قرض ادا نہیں کیا ہمیں حکم ملا ہے کہ تمہیں جیل بھیج دیاجائے۔ آپ شور مچا رہے ہیں کہ میں ایک پردیسی ہوں یہاں تو میرے پاس کچھ نہیں۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ سامنے بگھی پر سوار مولانا عبیداللہ احرار تشریف لارہے ہیں انھوں نے قریب آکر بگھی روکی پوچھا اس غریب کو کیوں پکڑ رکھا ہے بتایا کہ اس نے قرض ادا نہیں کیا پوچھا کہ کتنا قرض ہے۔ بتایا کہ اتنا قرض ہے۔ آپ نے اپنے خزانچی کو حکم دیا کہ قرض ادا کردو۔ قرض ادا ہوگیا تو انھوں نے مولانا عبدالرحمن جامی کو چھوڑ دیا۔ یہ سارا خواب کا ماجرا تھا آنکھ کھل گئی۔ سمجھ گئے کہ اللہ کی طرف سے کوئی اشارہ ہے میں نے لوٹنے میں جلد بازی کی ہے۔ دوبارہ گئے مولانا سے ملاقات ہوگئی، جو کچھ پیش آیا تھا کہہ سنایا۔ مولانا نے فرمایا جو مصرعہ تم نے لکھا تھا اب پڑھو۔ انھوں نے پڑھا ؎ نہ مرد آنست کہ دنیا دوست دارد مولانا عبیداللہ احرار نے فرمایا کہ دوسرا مصرعہ اس طرح لکھو ؎ اگر دارد برائے دوست دارد اگر وہ دنیا اپنے پاس رکھے تو اپنے لیے نہ رکھے دوست یعنی اللہ کے لیے رکھے۔ بس اتنا سا فرق ہے کہ صرف اپنے لیے رکھنے سے دنیا سرتاسر تباہی ہے اور اللہ کے لیے رکھنے سے اللہ کی رحمت بن جاتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہ توجہ دلائی جارہی ہے کہ مال و دولت چونکہ زندگی کی ضرورت اور قیام وبقا کا ذریعہ ہے اس لیے ایسی مفید اور ضروری چیز کے بارے میں یہ بےاحتیاطی نہیں ہوسکتی کہ دینے سے پہلے یہ نہ سوچا جائے کہ جس کو دیا جارہا ہے وہ دیئے جانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ سیاق کلام کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہاں سُفَہَـآئَ سے یتیم ہی مراد لیے جائیں۔ اور آیت کا مطلب یہ متعین کیا جائے کہ بیوقوف یتیموں کو مال سپرد نہ کرو۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت ابو موسیٰ اشعری سے یہ منقول ہے اور امام تفسیر حافظ طبری نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے کہ سُفَہَآئَ کا لفظ عام ہے جو تمام لوگوں کو شامل ہے چاہے وہ یتیم ہوں اور چاہے وہ اپنے بچے ہوں۔ وہ اَمْوَالَکُمْ سے استدلال کرتے ہیں کہ اگر یہاں صرف یتیم ہی مراد ہوتے تو پھر اَمْوَالَھُمْکہا جاتا بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنے بچے ہوں یا زیر تربیت یتیم بچے، ان میں اگر عقل اور سمجھ کی ایسی کمی ہے کہ وہ مال کو سنبھال نہیں سکتے بلکہ اندیشہ ہے کہ نقصان کردیں گے تو انھیں مال سپرد نہ کیا جائے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ انھیں کھلانے پلانے اور پہنانے میں جزرسی سے کام نہ لیا جائے۔ یعنی یہ سمجھ کر کہ یہ سیدھے سادھے بچے ہیں جیسا سیدھا سادھا کھلاپلا دیں گے انھیں کیا شکائت ہوگی۔ وَارْزُقُوْھُمْ فِیْھَاسے اس طرف اشارہ نکلتا ہے کہ انھیں کھانے پلانے میں وسعت و فراغت سے کام لیا جائے۔ اگر معمولی کھلانے کی اجازت ہوتی تو وَارْزُقُوْھُمْ مِنْھَا ہوتا۔ ایک ضروری ہدایت ممکن ہے آپ کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ یتیم تو اپنے باپ کے مال کے وارث ہونے کی وجہ سے مال کے مالک ہوتے ہیں۔ اس لیے بالغ ہونے کے بعد انھیں مال حوالے کرنا یا ان کے کی طرف سے مال کا مطالبہ ان کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ لیکن والدین کی جانب سے اپنی اولاد کو اپنی زندگی میں مال و دولت حوالے کرنے کی نہ کوئی اخلاقی مجبوری ہے نہ قانونی۔ تو پھر حضرت عبداللہ ابن عباس اور بعض دوسرے بزرگوں کا اس آیت کے مفہوم میں انھیں شامل کرنا چہ معنیٰ دارد۔ بات دراصل یہ ہے کہ ممکن ہے خیرالقرون میں یہ باتیں اجنبی معلوم ہوتی ہوں۔ لیکن آج کے دور میں تو یہ مشاہداتی حقیقتیں ہیں کہ بچے جیسے ہی جوان ہوتے ہیں وہ بجائے اس کے کہ یہ محسوس کریں کہ بالغ اور جوان ہونے کے بعد والدین اور گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا نا ہماری ذمہ داری ہے۔ والدین اپنی ذمہ داریوں کا زمانہ گزار چکے ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری کا دور شروع ہوا ہے اس لیے ہمیں دست وبازو اور دماغی قوتوں سے کام لے کر اپنا فرض انجام دینا ہے۔ لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ اگر وہ کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے والد کو مجبور کرتے ہیں کہ کاروبار کے لیے سرمایہ آپ مہیاکریں اور اگر ملازمت اختیار کرتے ہیں تو تنخواہ میں بجائے والدین کی خدمت کرنے اور اپنے آپ کو سمیٹ کر رکھنے کے والدین سے ان کے مطالبات جاری رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات مسلسل گردش کرتی رہتی ہے کہ والدین کے پاس جو کچھ ہے وہ ہمارا ہے۔ اور ہم جتنی جلدی ان سے وصول کرلیں بہتر ہے۔ اور اس بات کو وہ غلطی سے بھی ماننے کو تیار نہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ والدین کا بھی ہے بلکہ عموماً خوشحال گھرانوں تک میں دیکھا گیا ہے کہ بچے اپنے والد سے دوبدو شکوہ کرتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا بنایا ہے لیکن انھوں نے والدین کے لیے کیا کیا ہے۔ اس کے لیے وہ کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ اسلام نے والدین پر اولاد کی جو ذمہ داریاں ڈالی ہیں وہ بلوغ تک ہیں اور اس کے بعد والدین اولاد کے ساتھ جو حسن سلوک کرتے ہیں وہ تبرع اور احسان ہے۔ جس پر بچوں کو شکر گزار ہونا چاہیے۔ اور ساتھ ساتھ یہ بات ذہن میں مستحضر رکھنی چاہیے کہ جیسے جیسے والدین بوڑھے ہوتے جارہے ہیں ان کی تمام تر ذمہ داریاں اولاد کے سر ہیں۔ جس طرح اولاد والدین کے مال کو اپنامال سمجھتی ہے اسی طرح والدین کو بھی حق ہے کہ وہ اولاد کے مال کو اپنا مال سمجھیں بلکہ بڑھاپے میں اصل حقیقت یہی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی اپنے جوان بیٹے کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ بچپن میں اس کی ماں مرگئی تھی، میں نے اس کو اس طرح پالا کہ میں اس کا باپ بھی تھا اور اس کی ماں بھی۔ میں نے اس کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔ اس کی تکلیف میں راتیں جاگ کرکاٹیں۔ اس کی ہر آسائش کے لیے بیش از بیش قربانی دی۔ اس کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اپنی ضرورتیں روکیں۔ اب جبکہ یہ جوان ہوگیا ہے اور میں بوڑھا ہوگیا ہوں یہ کمانے لگا ہے اور میں اس کی کمائی کا محتاج ہوگیا ہوں۔ تو یہ اپنی ایک ایک چیز کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ میری ہے۔ اپنے مال و دولت کو اپنا سمجھتا ہے اور میرے لیے اس میں کوئی گنجائش محسوس نہیں کرتا۔ آنحضرت نے خاموشی سے باپ کی شکایت سنی۔ پھر اٹھے، اس جوان لڑکے کا ہاتھ پکڑا اور اس کے باپ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایا : اَنْتَ وَمَالُکَ لِاَبِیْکَ ” تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے “۔ اس حدیث سے آپ کو اندا زہ ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ بچے جوان ہوتے ہی باپ سے تقاضا کرنے لگتے ہیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے اس میں ہمار احصہ ہمارے حوالے کردیجیے۔ چناچہ اس طرح کے دبائو کے تحت بعض دفعہ والدین اپنا مال اولاد کے سپرد کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ان کی ناتجربہ کاری یا نااہلیت سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچوں کی طرف سے دبائو نہیں ہوتا لیکن خود والدین کی محبت ان سے اس طرح کے فیصلے کرواتی ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیویاں ایک سے زیادہ ہیں ایک بیوی کی اولاد جوان ہوگئی۔ کاروبار کرنے لگی۔ اپنے پائوں پر کھڑی ہوگئی۔ دوسری بیوی کے بچے ابھی اس عمر کو نہیں پہنچے کہ ان پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاسکے۔ لیکن بچوں کی ماں اپنے شوہر کو مجبور کرتی ہے کہ میرے بچے آپ کے دوسروں بچوں سے پیچھے رہ گئے ہیں اس لیے آپ سرمایہ ان کے حوالے کریں تاکہ وہ بھی اپنے سوتیلے بھائیوں کی طرح خوشحالی کے دن دیکھ سکیں۔ اور ان بچوں کی ماں یہ سمجھنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتی کہ بچے ابھی نابالغ ہیں یا ان میں ابھی وہ صلاحیت پیدا نہیں ہوئی کہ وہ کامیابی سے کاروبار چلاسکیں لیکن باپ روز روز کے مطالبات سے تنگ آکر سرمایہ ان بچوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس آیت کے تحت ایسے والدین کو بھی ہدایات دی جارہی ہیں کہ دیکھو تم اس طرح کی غلطی نہ کرنا۔ بچوں کی محبت اپنی جگہ لیکن دین اور عقل کے تقاضے اپنی جگہ تمہیں بہر حال دین اور عقل کے تقاضوں پر عمل کرنا چاہیے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ سفہاء سے مراد صرف زیر تربیت یتیم بچے یا اپنے بچے ہی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک جامع ہدایت ہے جس کی مخاطب تمام امت ہے۔ ہدایت یہ دی جارہی ہے کہ مال جو زندگی کے قیام کا ذریعہ ہے اسے ایسے نادان لوگوں کے اختیار اور تصرف میں نہ رہنا چاہیے جو اسے غلط طریقے سے استعمال کرکے نظام تمدن، معیشت اور بالآخر نظام اخلاق کو برباد کردیں۔ اسلام حق ملکیت کو تسلیم کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کو جسے اپنی املاک پر حق حاصل ہے اس کا احترام ہونا چاہیے لیکن وہ ایسا غیر محدود نہیں ہونا چاہیے جس سے اجتماعی فساد برپا ہوجائے۔ ایک آدمی ذہین وفطین اور سمجھدا رہے، وہ انتہائی کامیابی سے اپنے کاروبار کو ترقی دے رہا ہے۔ لیکن اس کی دولت ملکی مصالح کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ ایسی تنظیموں کو وہ سپورٹ کررہا ہے جو ملک اور ملک کے نظریات کے لیے تباہ کن ہیں۔ اب اس شخص کو اس لیے نہ روکا جائے کہ وہ اپنے مال پر حقوق مالکانہ رکھتا ہے ریاست چونکہ اپنے شہریوں کی جان، مال، اور آبرو کے ساتھ ساتھ ان کے دین اور اخلاق کی بھی محافظ ہوتی ہے اسی طرح ملک کا دستور اس کے تقاضے اور ملک کے اساسی نظریات کی وہ سب سے بڑھ کر امین ہوتی ہے۔ اگر کسی کی دولت سے ان چیزوں کو نقصان پہنچ رہا ہے تو حق ملکیت کو راستے میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس معاملے میں نہایت احتیاط اور خدا خوفی کی ضرورت ہے کیونکہ بعض دفعہ یہی جائز اور صالح محرکات حکومت کے ظلم کا باعث بن جاتے ہیں۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر تم اگر ان کے اندر اہلیت پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اسراف اور جلد بازی کرکے ان کا مال ہڑپ نہ کرویتیم کا جو سرپرست مال دار ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیز کرے اور جو محتاج ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرالو اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے

وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰیٓ اِذَا بَلَغُوا النِّکَاحَ ج فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْٓا اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ ج وَلاَ تَاْکُلُوْھَآ اِسْرَافًا وَّبِدَارًا اَنْ یَّکْبَرُوْا ط وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ ج وَمَنْ کَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْکُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ط فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْھِمْ اََمْوَالَھُمْ فَاَشْھِدُوْا عَلَیْھِمْ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ حَسِیْبًا (اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر تم اگر ان کے اندر اہلیت پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے اسراف اور جلد بازی کرکے ان کا مال ہڑپ نہ کرویتیم کا جو سرپرست مال دار ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیز کرے اور جو محتاج ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرالو اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے) (النسآء : 6) یتیموں کا مال کب انھیں سپرد کرنا چاہیے سابقہ آیت کریمہ میں تو ان لوگوں کو مال دینے سے روکا تھا جو اس کی اہلیت نہیں رکھتے اور جنھیں سُفَہَآئَ کہا گیا تھا۔ اب وہ طریقہ بتایاجا رہا ہے جو یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے کے معاملے میں سرپرستوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس کے مختلف مدارج ہیں۔ سب سے پہلا درجہ تو یہ ہے کہ بچے ابھی چھوٹی عمر میں ہیں وہ خود سے اپنے معاملات کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے۔ تو یہ عمر ان پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالنے کی نہیں ہے بلکہ سرپرست کا فرض ہے کہ وہ ہر طرح سے ان کی تربیت کرے۔ ان کی تعلیم کا بندوبست کرے، ان کے دین اور اخلاق کی مناسب نگہداشت کرے، کیونکہ اگر ایک لڑکا مروجہ تعلیم حاصل کرلے لیکن دینی اورا خلاقی لحاظ سے بگاڑ کا شکار ہوجائے تو وہ نہ صرف اپنا اور اپنے مال کا دشمن ثابت ہوتا ہے بلکہ جس سرپرست کی تحویل میں ہے اس کا گھر بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ اس لیے سرپرست کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ صرف مروجہ تعلیم پر اکتفا نہ کرے اور کسی تعلیمی ادارے میں بچے کو بھیج کر بچے کی طرف سے بےفکر نہ ہوجائے اور تربیت کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ علمی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ اسے معاملات کی تربیت بھی دی جائے۔ بہتر لوگوں سے میل جول کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ مختلف ضرورتوں کے لیے بازار بھیج کر لوگوں کے طور اطوار سمجھنے کا موقع دیا جائے۔ اگر اسے کل کو کاروبار ہی کرنا ہے تو بڑے کاروبار کی تمہید کے لیے اس پر چھوٹی موٹی ذمہ داریوں کا بار ڈالا جائے۔ اس طرح اسے آزمایا جائے کہ اس کے ذہن اور اس کی سمجھ کی کیفیت کیا ہے۔ یہ تمہید اور تیاری بلوغ کی عمر تک جاری رہنی چاہیے۔ اگر بالغ ہونے تک یہ محسوس ہونے لگے کہ یہ لڑکا اپنے معاملات کی دیکھ بھال کرسکتا ہے تو پھر نہایت احتیاط کے ساتھ اس کی ذمہ داریاں اس کے سپرد کردی جائیں۔ مزید وضاحت کے لیے عرض کرتا ہوں کہ ذمہ داریاں سپرد کرنے سے پہلے دو پابندیاں لگائی گئی ہیں ایک تو یہ کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے، اور دوسرا یہ کہ اس میں رشد اور سمجھ آجائے۔ نکاح کی عمر سے مراد یہ ہے کہ اس کے اندر وہ علامتیں ابھر آئیں جو بلوغ کی علامتیں ہوتی ہیں اور جس کے بعد ایک بچہ بالغ مرد کہلاتا ہے اور وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس کا نکاح کردیاجائے۔ لیکن اگر بلوغ کی علامتیں ظاہر نہ ہوں تو پھر بلوغ کی عمر کیا ہونی چاہیے۔ اس میں فقہا نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے لڑکے کے لیے اٹھارہ سال اور لڑکی کے لیے سترہ سال مقرر کیے ہیں اور بعض نے دونوں کے لیے پندرہ سال قرار دیئے ہیں۔ امام ابوحنیفہ کے مذہب میں فتویٰ اسی قول پر ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں پندرہ سال عمر پوری ہونے پر شرعاً بالغ قرار دیئے جائیں گے خواہ آثار بلوغ پائے جائیں یا نہیں۔ دوسری چیزرشد اور سمجھ ہے۔ بعض بچے بالغ ہوجاتے ہیں لیکن ان میں رشد نہیں آتی۔ بالغ ہوجانا شادی کی ضمانت تو ہوسکتا ہے لیکن کاروبار سنبھالنے اور معاملات کا بوجھ اٹھانے کے لیے تو بہرحال رشد اور سمجھ داری کی ضرورت ہے اگر یہ سمجھ داری بچے میں نہیں آتی تو اب کیا کیا جائے۔ اس کے بغیر تو اس کا مال و دولت اس کے سپرد نہیں کیا جاسکتا۔ ورنہ وہ مال و دولت کو ضائع کرکے اپنے آپ کو بھی تباہ کرلے گا اور دوسروں کے حقوق کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ بےسمجھی اور عقلی طور پر عدم بلوغت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ لڑکا بالغ ہونے کے بعد بھی عقل کے اعتبار سے بالکل ہی مفلس ہے۔ پاگل یا نیم پاگل ہے۔ ایسی صورت میں تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ جب تک اس سے جنون اور پاگل پن زائل نہ ہو اس کے اموال اس کے سپرد نہ کیے جائیں۔ بےسمجھی کی دوسری قسم وہ ہے جو بچپن کے اثر سے ہوتی ہے۔ یعنی بعض بچے بالغ ہوجاتے ہیں لیکن ابھی ان میں بچپنا ختم نہیں ہوتا۔ الھڑ پن ان کے مزاج پر غالب رہتا ہے۔ ان میں دیوانگی تو نہیں ہوتی لیکن فرزانگی بھی نہیں ہوتی۔ ایسے بچے کسی کے ماتحت اور نگرانی میں تو شائد کام کرسکیں، اپنے طور پر ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے، اختلاف ایسی صورتحال میں ہے۔ امام ابوحنیفہ ( رح) فرماتے ہیں کہ یہ کم عقلی جو بچپن کے اثر سے ہے، اس کے ختم ہونے کا زیادہ سے زیادہ دس سال تک انتظار کیا جائے۔ امید ہے پچیس سال کی عمر تک بچپن کا اثر ختم ہوجائے گا، پھر اس کے معاملات اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ مکمل ہوشیاری اور دانشمندی کا انتظار نہ کیا جائے، وہ تو بعض لوگوں میں عمر بھر نہیں آتی۔ امام ابو یوسف، امام محمد اور امام شافعی ( رح) ایسی صورت میں بھی رشد پر زور دیتے ہیں۔ محتاط رائے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس معاملہ میں قاضی شرع سے رجوع کیا جائے اور قاضی پر اگر ثابت ہوجائے کہ اس میں رشد نہیں پایا جاتا، تو وہ اس کے معاملات کی نگرانی کے لیے خود کوئی مناسب انتظام کرے۔ کوئی سا انتظام بھی ہو، رشد اور سمجھ داری کی عدم موجودگی میں انتظار تو کرنا پڑے گا۔ اس انتظار کی مدت میں یہ اندیشہ پیدا ہوسکتا ہے کہ کسی مرحلے پر بھی ولی اور سرپرست کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ اس سے پہلے کہ یہ ذمہ داری میرے ہاتھ سے نکلے، میں کیوں نہ یتیم کے مال کو ختم کرنے کی کوشش کروں۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اسراف اور بدار۔ اسراف تو یہ ہے کہ یتیم کی ضروریات پر مال خرچ کیا جائے لیکن جائز حدتک نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ۔ یتیم بچہ تو یہ سمجھے گا کہ میرا سرپرست مجھے زیادہ سے زیادہ راحت دینا چاہتا ہے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوگا کہ میرا ہی کیسہ خالی کیا جارہا ہے۔ مثلاً اگر وہ لڑکا کسی تعلیمی ادارے میں تعلیم پارہا ہے تو اسے کنوینس کے لیے اگر سائیکل کفائیت کرتی ہے تو اسے موٹر سائیکل لے دی جائے اور اگر موٹر سائیکل کافی ہے تو کار خرید دی جائے۔ بےسمجھ لڑکا تو یقینا اس سے خوش ہوگا۔ لیکن آئندہ یہی چیزیں وجہ شکائت بنیں گی۔ بِدَارًًا مفہوم بِدَارًاکا مطلب یہ ہے کہ جلد بازی سے کام لیاجائے اور ہر کام میں جلدی کا سبب یہ ہو کہ اگر بچہ بڑا ہوجائے گا تو یہ اپنے اموال ہم سے واپس لے لے گا تو اس سے پہلے کہ وہ ہم سے اس کا مطالبہ کرے یا دیکھ بھال کرنے کے قابل ہوجائے کیوں نہ جلد بازی سے اس کا مال ٹھکانے لگادیاجائے۔ مال جلد ختم کرنے کی یہ دونوں ترکیبیں اگرچہ ہزار پردوں میں کی جاتی ہیں لیکن پروردگار چونکہ دلوں کا بھید جانتا ہے اس لیے جب وہ ان باتوں سے روک رہا ہے تو یقینا وہ جانتا ہے کہ کن کن راہوں سے یہ کوششیں جاری رہتی ہیں۔ تو جب وہ ان پر باز پرس کرے گا تو پورے علم اور آگاہی سے کرے گا جس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ یہاں تک تو ساری بحث یتیموں کے حقوق کی ادائیگی کے لیے تھی۔ اس لیے سرپرستوں کو ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے باربار تنبہ کیا جارہا تھا۔ لیکن یہ بھی امر واقعہ ہے کہ جس شخص نے یتیم کی تربیت اور اس کے اموال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے وہ یقینا ایک خدمت ہے جس میں وقت بھی صرف ہوتا ہے اور صلاحیتیں بھی کام آتی ہیں۔ سرپرستوں کو خدمت کے معاوضہ کے حوالے سے ہدایات دونوں صورتوں میں سرپرست کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اپنے وسائل کی فراہمی میں دشواریاں پیش آسکتی ہیں۔ اس لیے یتیموں کے حقوق کے ساتھ ساتھ سرپرستوں کے حوالے سے بھی ہدایات دی گئی ہیں کہ جو سرپرست بھی یتیموں کے حقوق ادا کرنے میں کوشاں ہیں یقینا وہ دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ ایک تو وہ ہوں گے جن کی اپنی مالی حالت بہت مستحکم ہے، وہ اگر اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں صرف کرتے ہیں تو ان کے لیے کسی دشواری کا باعث نہیں ہوتیں اور دوسرے وہ جنھیں اپنے معاش کی فکر بھی لاحق ہے اور اپنے اہل و عیال کی ذمہ داریاں بھی ان کا راستہ روکتی ہیں۔ اس لیے دونوں کے بارے میں ایک ہی ہدایت جاری نہیں ہوسکتی۔ پہلی طرح کے سرپرستوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ غنی اور مالدار ہیں اس لیے یتیموں کی خدمت کے عوض میں انھیں یتیموں کے مال میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے۔ وہ جو خدمت انجام دے رہے ہیں اس کا اجروہ اللہ سے طلب کریں۔ اللہ کے ہاں یتیموں کی خدمت بہت بڑا اجر رکھتی ہے۔ لیکن جو سرپرست خود فقیر اور محتاج ہیں، انھیں اپنے معاش کی فکر کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیتی، تو وہ اگر یتیموں کے لیے وقت نکالیں گے تو ان کے گھر کے مسائل پریشان کن صورت اختیار کرجائیں گے۔ اس لیے ایسے لوگوں کے لیے اجازت دی جارہی ہے کہ یتیموں کے والدین اگر واقعی یتیموں کے لیے مال و دولت چھوڑ کر گئے ہیں تو اس مال و دولت میں سے ان کا سرپرست ایک ایسا معقول معاوضہ لے سکتا ہے جسے دیکھنے والا ہر فرد معقول سمجھے اور کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہ کرے کہ لینے والے نے یتیم سے زیادتی کی ہے۔ اس معاوضہ کے معقول ہونے کا جہاں تک تعلق ہے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ سرپرست کو کس طرح کی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑرہی ہیں۔ اگر تو یتیم کی ملکیت چند بھیڑ، بکریاں، کچھ اشیائے خوردنی، چنداونٹ یا ایسی ہی چند اور چیزیں ہیں تو ان کا معاوضہ بھی انھیں چیزوں کو دیکھ کر طے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر یتیم کسی کارخانے کا مالک ہے، اس کا باپ کوئی مل چلارہا تھا یا کوئی وسیع کاروبار رکھتا تھا جس کے لیے ہمہ وقتی نگرانی کی ضرورت تھی تو ظاہر ہے کہ یتیم کے سرپرست کے لیے جزوقتی دیکھ بھال کافی نہیں ہوگی۔ اسے اپنا پورا وقت صرف کرنا پڑے گا اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور پھر اس معاوضے کے تعین میں جہاں ہمہ وقتی خدمت کو دیکھا جائے گا وہاں مقامی حالات اور سرپرست کے معیارِ زندگی کو بھی دیکھ کر معاوضے کا تعین کرنا پڑے گا۔ یہ ساری چیزیں مل کر یہ بتائیں گی کہ سرپرست جو کچھ لے رہا ہے وہ معقول ہے یا نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے انتقال کے بعد، حضرت صدیق اکبر ( رض) خلیفہ منتخب ہوئے۔ تو آپ دوسرے روز حسب معمول اپنے کپڑے کی تجارت کے لیے نکلے۔ راستے میں حضرت عمر فاروق ملے، انھوں نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں ؟ انھوں نے انھیں بتایا کہ میں اپنے کاروبار کے لیے جارہا ہوں۔ اگر میں کاروبار نہیں کروں گا تو اپنے بچوں کو کہاں سے کھلائوں گا۔ حضرت عمر نے کہا کہ اگر آپ کاروبار کریں گے تو خلافت کی ذمہ داریوں کا بار کون اٹھائے گا ؟ تو بڑے بڑے صحابہ کی ایک میٹنگ بلائی گئی۔ غالباً حضرت علی ( رض) نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ آپ چونکہ کمائی سے مستغنی نہیں ہیں، اس لیے آپ بھی امت سے معاوضہ لیں۔ لیکن معاوضہ اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا ایک یتیم کا سرپرست لیتا ہے۔ چناچہ آپ کے لیے جو روزینہ مقرر کیا گیا، وہ شائد ایک مزدور کے روزینہ سے بھی کم تھا۔ آپ مدت خلافت میں یہ معاوضہ لیتے رہے، لیکن انتقال کے وقت وصیت فرمائی کہ میرا مکان بیچ کر یہ ساری رقم واپس کردی جائے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ جب میں اپنے اللہ کے سامنے جاؤں، تو کیا میں یہ کہوں کہ میں حضور کی امت کی خدمت معاوضہ لے کر کرتارہا ہوں۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ یتیموں کے بالغ اور سمجھ دار ہونے کے بعد جب تم ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگوتو اس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بھی بنالو کیونکہ جب یتیموں کے مال ان کے سپرد کیے جاتے ہیں تو عموماً ایک محبت کی فضا موجود ہوتی ہے لیکن انسانی نفس انسانی معاملات میں ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ادھر ادھر سے اگر یتیم کو بہکانے کی کوشش کی گئی تو کوئی تعجب نہیں کہ یہ لڑکا اپنی یتیمی کے زمانے کو بھول جائے اور اسے بالکل یاد نہ رہے کہ میرے سرپرست نے مجھ پر کیا احسانات کیے تھے۔ بدگمانیوں کی اڑائی ہوئی دھول ایسی اس کی آنکھوں میں پڑے کہ وہ سامنے کی بات کو بھی نہ دیکھ سکے اور نتیجہ اس کا یہ ہو کہ وہ اپنے محسن سے الجھ پڑے یا بدگمان ہوجائے۔ ایسی ممکن صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گواہوں کی موجودگی میں اموال کے سپرد کرنے کی کارروائی عمل میں آئے تاکہ کسی سوئے ظن اور نزاع کا احتمال باقی نہ رہے۔ آیت کے آخری جملے میں سب سے اہم بات ارشاد فرمائی کہ گواہوں کی موجودگی میں اموال کی سپردگی سے بظاہر ہر طرح کی خرابی کا امکان ختم ہوجائے گا اور ولی اور سرپرست اہل دنیا کی نگاہوں میں سرخرو ہوجائیں گے۔ لیکن یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اصل حساب لینے والی ذات تو ” اللہ “ ہے۔ یہاں بہت ساری چیزوں پر پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔ لیکن اللہ کے علم سے کوئی بات چھپائی نہیں جاسکتی۔ جب وہ حساب لے گا تو ایک ایک بات کھل جائے گی۔ اس لیے فکر درحقیقت اس حساب کی ہونی چاہیے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، حصہ مقرر کیا ہوا ہے

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ص وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّاقَلَّ مِنْہُ اَوْکَثُرَ ط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا (والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، حصہ مقرر کیا ہوا ہے) (النسآء : 7) یتیموں کے تحفظ کی برکت گزشتہ آیات میں یتیموں کے حقوق کے بارے میں ہدایات پڑھتا ہوا جب آدمی یہاں پہنچتا ہے تو اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ جس دنیا میں یتیموں کو حقوق میسر نہیں تھے، جب اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو جہاں یتیموں کو حقوق ملے وہیں ان کی برکت سے دوسروں کے حقوق کی بھی راہ کھل گئی۔ عجیب بات ہے کہ جو خود حقوق سے محروم تھے انھیں حقوق کیا ملے وہ دوسروں کے لیے بھی حقوق کا باعث بنے۔ یہ آیات کریمہ درحقیقت تمہید ہے اس قانونِ وراثت کی جس کی تفصیل اگلے رکوع میں آرہی ہے۔ جس میں مردوں، عورتوں اور بچوں پر ہونے والے ان تمام مظالم کا سد باب کردیا ہے جو وراثت کے حوالے سے صدیوں سے انسانوں پر انسانوں کے ہاتھوں ہورہے تھے۔ قانونِ وراثت کی تمہید اور اس کے متعلق ہدایات اسلام سے پہلے صرف جزیرہ عرب میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک ہمہ نوعی ظلم کی چادر تنی ہوئی تھی جس نے پوری نوع انسانی کو اپنے سائے میں لے رکھا تھا۔ کمزور آدمی، صنفِ نازک اور یتیم بچے بالخصوص ان مظالم کا شکار تھے۔ عرب میں تو یہ اصول مروج تھا کہ ہر شخص وراثت کا استحقاق نہیں رکھتا۔ وراثت کا مستحق صرف وہ شخص ہے جو گھوڑے پر سوار ہو کر دشمنوں کا مقابلہ کرکے ان سے مال غنیمت چھین سکتا ہو۔ بچے چونکہ اپنی چھوٹی عمر کے باعث شاہسواری کا فرض انجام نہیں دے سکتے تھے اس لیے وہ وراثت کا استحقاق نہیں رکھتے تھے۔ عورتیں بھی اپنی صنفی کمزوری کے باعث یہ فرض انجام دینے سے قاصر تھیں اس لیے انھیں بھی کسی طرح وراثت میں حصہ دار نہیں بنایا جاسکتا تھا۔ صرف جوان اور بالغ لڑکا وراثت کا حق رکھتا تھا۔ اسلام آجانے کے بعد بھی جب تک کہ وراثت کے احکام نازل نہیں ہوگئے مسلمانوں میں بھی اسی طریقے سے وراثت تقسیم ہوتی تھی۔ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک واقعہ پیش آیا کہ حضرت اوس بن ثابت شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے دو لڑکیاں ایک لڑکا نابالغ اور ایک بیوی وارث چھوڑے۔ مگر عرب کے قدیم دستور کے مطابق ان کے دو چچا زاد بھائیوں نے آکر مرحوم کے پورے مال پر قبضہ کرلیا اور اولاد اور بیوی میں سے کسی کو کچھ نہ دیاکیون کہ ان کے نزدیک عورت تو مطلقاً مستحقِ وراثت نہ سمجھی جاتی تھی۔ خواہ بالغ ہو یا نابالغ اس لیے بیوی اور دونوں لڑکیاں تو یوں محروم ہوگئیں اور لڑکا بوجہ نابالغ ہونے کے محروم کردیا گیا۔ لہٰذا پورے مال کے وارث دو چچا زاد بھائی ہوگئے۔ اوس بن ثابت ( رض) کی بیوہ نے یہ بھی چاہا کہ یہ چچا زاد بھائی جو پورے ترکے پر قابض ہوگئے ہیں ان دونوں لڑکیوں سے شادی کرلیں تو چلیے میری فکر ختم ہوجائے مگر انھوں نے اسے بھی ماننے سے انکار کردیا۔ تب اوس بن ثابت کی بیوہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی گزارش پیش کی اور شکائت کی کہ حضور ان بچیوں کے پاس چونکہ کوئی مال نہیں رہا تو ان سے شادی کون کرے گا ؟ چناچہ حضور نے وحی کے انتظار میں جواب دینے میں توقف کیا تب یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ اس آیت کریمہ میں غور کیجیے ! اس میں متعدد احکام دئیے گئے ہیں۔ سب سے پہلا جو حکم دیا گیا ہے اس میں صدیوں پرانا ظلم ختم کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی میں عرض کرچکا ہوں کہ میراث میں صرف مردوں کا حصہ سمجھا جاتا تھا عورتوں یا نابالغ بچوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ سب سے پہلا یہ حکم دیا کہ جس طرح مردوں کو والدین یا اقربا کے ترکہ سے حصہ ملے گا اسی طرح عورتوں کو بھی ان کے والدین اور اقربا کے ترکہ سے حصہ ملے گا اور صدیوں پرانی رسم کو توڑنے کے لیے پوری وضاحت سے کام لیا۔ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایک ہی جملے میں حکم دیا جاسکتا تھا۔ لیکن مردوں کا حکم الگ ذکر فرمایا اور عورتوں کے حصے کا الگ حکم دیاتا کہ کسی طرح کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ اَقْرَبُوْنَکالفظ کہہ کر ایک بہت بڑی غلط فہمی کا ازلہ فرمایا۔ لوگ اپنی وراثت میں یا تو ان لوگوں کو شامل کرتے تھے جن سے معاشرتی یا سماجی تعلقات زیادہ گہرے ہوتے تھے اور یا پھر یہ سمجھتے تھے کہ مال وراثت کی تقسیم ضرورت کے معیار سے ہونی چاہیے۔ وارثوں میں جو زیادہ ضرورت مند ہے اسے وراثت میں حصہ دار بنانا چاہیے۔ یہاں بتایا جارہا ہے کہ مال وراثت کی تقسیم ضرورت کے معیار سے نہیں بلکہ قرابت کے معیار سے ہوتی ہے۔ جو شخص میت کے ساتھ رشتہ میں قریب تر ہوگا وہ بعید کی نسبت زیادہ مستحق ہوگا۔ اگرچہ ضرورت اور حاجت کے اعتبار سے بعید زیادہ محتاج ہو کیونکہ اگر ضرورت اور حاجت کو مال وراثت کی تقسیم میں معیار بنایا جاتا تو یہ کبھی بھی اصول نہیں بن سکتا تھا کیونکہ ضرورت بدلتی رہتی ہے۔ آج ایک شخص ضرورت مند اور فقیر ہے کل کو وہ غنی اور دولت مند ہوجاتا ہے اور آج ایک شخص غنی ہے تو وقت کا کوئی حادثہ اسے کل کو فقیر بناسکتا ہے۔ اس لیے یہ بات مستقل اصول بننے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ مستقل اصول یہی ہے کہ رشتے داری میں جو زیادہ قریب ہے وہی وارث بننے کا حق رکھتا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر یتیم پوتے کو وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ یتیم پوتا بہ نسبت بیٹے کے زیادہ حاجت مند بھی ہو تب بھی مستحق وراثت بیٹا ہے پوتانھیں۔ البتہ بیٹے کی ضرورت رفع کرنے کے لیے شریعت نے دوسرے انتظامات کیے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ایک اور قانونی حکم یہ دیا گیا ہے کہ میراث بہرحال تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو۔ حتی کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے اور دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسروں وارثوں سے ان کا حصہ خرید لے عربوں میں یہ بھی ایک جاہلانہ رسم پائی جاتی تھی کہ مال کی بعض اقسام خاص وارثوں کے لیے مخصوص کردی جاتی تھیں، دوسرے وارثوں کو اس سے محروم کردیا جاتا تھا۔ مثلاً گھوڑا، تلوار اور دوسرا اسلحہ یہ اگر مال وراثت میں موجود ہوتا تو یہ صرف نوجوان مردوں کا حق تھا۔ نابالغ بچوں کو تو خیر ویسے ہی وراثت نہیں دی جاتی تھی۔ بڑی عمر کے لوگ اگرچہ وراثت سے حصہ پاتے تھے لیکن اسلحہ وغیرہ سے ان کو کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ اسی طرح یہ بھی سمجھا جاتا تھا کہ ہر طرح کی وراثت قابل تقسیم نہیں ہوتی۔ یعنی وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری نہیں ہوتا۔ اسی لیے غیر منقولہ زرعی اراضی یا صنعتی ادارے وغیرہ وراثت کے طور پر تقسیم نہیں ہوتے تھے اور آج بھی بعض مذاہب میں تقسیم نہیں ہوتے۔ اسلام نے ان مظالم کی جڑ کاٹ دی تھی لیکن مسلمانوں نے جاہلیتِ قدیمہ کو پھر زندہ کردیا ہے۔ کسی جاگیر کو وراثت نہیں بننے دیا جاتا۔ عام زمیندار بھی اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی زمینوں سے حصہ دینے کے روا دار نہیں ہوتے۔ تَرَکَ کے لفظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق زندگی میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی مورث مال چھوڑ کر مرتا ہے۔ اس لیے کسی اولاد کے لیے ہرگز زیبا نہیں کہ وہ زندگی میں اپنے والدین سے وراثت کا حصہ مانگے۔ آیتِ کریمہ کا آخری جملہ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کے ذریعے جو ملکیت وارثوں کی طرف منتقل ہوتی ہے ملکیتِ جبری ہے۔ نہ اس میں وارث کا قبول کرنا شرط ہے نہ اس کا اس پر راضی ہونا ضروری ہے بلکہ اگر وہ زبان سے بصراحت یوں بھی کہے کہ میں اپنا حصہ نہیں لیتا، تب بھی وہ شرعاً اپنے حصے کا مالک ہوچکا۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ مالک بن کر شرعی قاعدہ کے مطابق کسی دوسرے کو ہبہ کردے یابیچ ڈالے یا تقسیم کر دے۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب تقسیم کے موقعہ پر قرابت دار اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو

وَاِذَاحَضَرَالْقِسْمَۃَ اُولُوالْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْھُمْ مِّنْہُ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا اور جب تقسیم کے موقعہ پر قرابت دار اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو) (النسآء : 8) گزشتہ آیات سے یہ تو واضح ہوگیا اور اس کی تفصیل اگلے رکوع میں آرہی ہے کہ وراثت میں ہر حصہ دار کا حصہ مقرر کردیا گیا ہے اور وارث بھی اللہ کی جانب سے طے فرمادئیے گئے ہیں۔ اب نہ کوئی نیا وارث بن سکتا ہے اور نہ کسی کے حصے میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود یہ بات بہرحال ممکن ہے کہ جب مال وراثت تقسیم کیا جانے لگے تو جن رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کا حق اس مال وراثت میں نہیں وہ بیخبر ی کے باعث یا تنگدستی کے سبب اس تقسیم کے وقت پہنچ جائیں۔ لاریب ان کے آجانے سے وراثت کی تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور وارث اپنا اپناحصہ وصول کرنے کے ہر طرح مستحق ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ لوگ اگرچہ مال وراثت میں حصہ نہیں رکھتے لیکن وہ قرابت داری کا تعلق تو رکھتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان سے زیادہ قریب قرابت داری کا تعلق رکھنے والوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ وراثت سے محروم رہ گئے۔ لیکن اپنی قرابت داری کے باعث اس بات کے مستحق تو ضرور ہیں کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ اسی طرح جو یتیم بچے اور مسکین لوگ ضرورت کے تحت کچھ امیدیں لے کر آگئے ہیں ان کی دل شکنی کرنا بھی کسی طرح مناسب نہیں اسلیے اس آیت کریمہ میں ایک طرح سے سفارش کی جارہی ہے کہ جن قرابت داروں یتیموں اور مسکینوں کا تمہارے مال وراثت میں کوئی حق نہیں لیکن وہ اپنی نسبتوں کے باعث کچھ امیدیں لے کر آگئے ہیں تو دل بڑاکرکے ان کو اپنے اپنے حصے سے کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کیجیے۔ پروردگار نے بغیر کسی مشقت اور محنت کے تمہیں مال وراثت کی صورت میں بہت کچھ عطا فرمایا ہے تو تم ان ضرورت مندوں کو خالی ہاتھ مت لوٹائو، تھوڑا تھوڑا کرکے بھی دو گے تو ہوسکتا ہے ان کی دلجوئی کا سامان ہوسکے۔ لیکن اگر وہ اس پر راضی نہ ہوں اور یہ سمجھتے ہوں کہ انھیں بھی پورا حصہ ملنا چاہیے تو تم انھیں مناسب طریقے اور شیریں کلامی سے سمجھانے کی کوشش کرو، کوئی سخت جملہ کہہ کر ان کی دل آزاری مت کرو۔ کس قدر حکیمانہ قرآنی نظام ہے کہ ایک طرف میراث کے حوالے سے ایسے احکام دیئے جارہے ہیں جو سراسر عادلانہ ہیں لیکن ساتھ ہی ان ضرورت مندوں کی دل جوئی کا بھی حکم دیا جارہا ہے جو اگرچہ وراثت میں اپنا حصہ تو نہیں رکھتے لیکن ان کی حالت کی رعائیت بہرحال ضروری ہے۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ ان لوگوں کو تبرعاً جو کچھ بھی دیا جائے وہ مجموعی مال میں سے نہ دیا جائے کیونکہ وارثوں میں تو نابالغ وارث بھی شامل ہوں گے۔ وہ جب تک بالغ نہ ہوں، اس وقت تک ان کے حصے میں سے کچھ نہیں دیاجاسکتا۔ اس لیے جو بالغ ورثا ہوں، وہ اپنے اپنے حصے میں سے جو دینا چاہیں دل کھول کردیں، اللہ ان کو جز ادے گا۔