Ayah 4:113وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکَ وَ رَحْمَتُہٗ لَہَمَّتْ طَّّّـآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنْ یُضِلُّوْکَ ط وَمَا یُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَضُرُّوْنَـکَ مِنْ شَیْئٍ ط وَ اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلَیْکَ الْـکِتٰبَ وَ الْحِکْمَََۃَ وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ ط وَکَانَ فَضْلُ اللّٰہِ عََلَیْکَ عَظِِِیْمًا
” اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تہیہ کرلیا تھا۔ کہ وہ تمہیں غلط فہمی میں ڈال دیں۔ حالانکہ وہ غلط فہمی میں نہیں ڈالتے مگر اپنے آپ کو اور تمہیں ضرر نہیں پہنچا سکتے کچھ بھی اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تمہیں وہ چیز سکھائی ہے جو تم نہیں جانتے تھے اور اللہ کا تم پر فضل عظیم ہے۔ “ (النسآء : 113)
اس رکوع کے مضمون کا تعلق بھی گزشتہ رکوع کے مضمون سے ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے ایک ہی واقعہ ہے دونوں رکوعوں میں جس کے حوالے سے ہدایات دی جا رہی ہیں۔ جس شخص نے چوری کی تھی اس کے قبیلے اور اس کے حمایتیوں نے آنحضرت ﷺ کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کی پوری کوشش کی۔ وہ بار بار اس بات پر زور دیتے کہ جس شخص پر چوری کا الزام لگایا جا رہا ہے وہ مسلمان ہے ‘ اس کا قبیلہ مسلمان ہے ‘ اس کا کہنا یہ ہے کہ یہ چوری میں نے نہیں کی بلکہ یہودی نے کی ہے اور یہودی کے گھر سے مسروقہ سامان بھی برآمد ہوچکا ہے سامان کا برآمد ہونا بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہودی ہی اس جرم کا مرتکب ہے اور مزید یہ بات کہ اگر وہ جرم سے انکار کرتا ہے تو انکار تو یہ شخص بھی کر رہا ہے جس پر الزام لگایا جا رہا ہے تو دو انکار کرنے والوں میں ایک یہودی ہے اور ایک مسلمان۔ دونوں میں اعتبار کس کا ہونا چاہیے ؟ مسلمان کا یا یہودی کا ؟ یہ وہ منطق تھی جس کی بنیاد پر وہ اپنا کیس آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دلائل سے جس طرح دوسرے مسلمان متاثر ہوگئے تھے اسی طرح آنحضرت ﷺ نے بھی سوچنا شروع کردیا تھا ‘ لیکن اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسول کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونے دیتا اور اگر اس کا امکان پیدا ہوجائے تو وہ خود مداخلت کرتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی پروردگار نے مداخلت فرمائی اور جو اصل واقعہ تھا اس سے آنحضرت ﷺ کو مطلع فرمایا۔ یہی وہ بات ہے جس کا یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر اللہ کا فضل آپ ﷺ پر نہ ہوتا اور وہ فضل یہ ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کی غلطیوں سے حفاظت کرتا ہے۔ تو کچھ لوگوں نے تو آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا سارا سامان کردیا تھا۔ اور وہ ہر ممکن طریقے سے آپ سے غلط فیصلہ کروانا چاہتے تھے۔ لیکن اللہ کے فضل کی موجودگی میں وہ اس میں کس طرح کامیاب ہوسکتے تھے۔ چناچہ اللہ نے انھیں ناکام کردیا اور صحیح صورتحال اپنے پیغمبر پر واضح کردی۔ مزید فرمایا کہ اگر بفرض محال وہ آپ سے غلط فیصلہ کروا بھی لیتے تو اس سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ‘ کیونکہ ایک قاضی اور منصف کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ معاملے کو امکانی حد تک سمجھنے کی کوشش کرے اور پھر اگر مدعی کے پاس گواہ ہوں تو گواہوں کے مطابق فیصلہ کرے۔ اور اگر گواہ نہ ہوں تو پھر مدعا علیہ سے قسم لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے۔ اگر مدعی جھوٹے گواہوں کے ذریعے اپنے حق میں فیصلہ کروا لے یا مدعا علیہ جھوٹی قسم اٹھا کر فیصلہ اپنے حق میں کرا دے تو اس میں الزام اور گناہ جھوٹ بولنے والے اور غلط فیصلے کے لیے کوشش کرنے والوں پر آئے گا قاضی پر نہیں۔ یہ لوگ بھی جھوٹ بول کر آنحضرت ﷺ سے غلط فیصلہ لے لیتے ہیں تو اس کا گناہ اور نقصان ان کے ذمے ہے حضور کا وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو اے پیغمبر آپ کو ہر طرح سے غلط فہمی میں مبتلا کر کے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ‘ لیکن آپ پر چونکہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اس لیے وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے اور آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ البتہ اپنی ان ناجائز کوششوں سے انھوں نے اپنی آخرت ضرور تباہ کرلی۔ آپ کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے لیکن خود اپنا سب کچھ بگاڑ لیا۔ کیونکہ دوسروں کو گمراہ کرنے والے جب اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہوتے اور جادہ حق پر استوار رہنے والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ ضرور ہوتا ہے کہ خود ان کی اپنی گمراہی اور اپنی بدقسمتی اس قدر مستحکم ہوجاتی ہے کہ اب اس سے نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس کے بعد اللہ نے اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا ہے جو نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی پر فرمایا گیا اور آپ کے واسطے سے ساری دنیا کو اس کا فیض پہنچا۔ وہ احسان یہ ہے کہ اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور آپ کو وہ کچھ سکھایا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے۔ کتاب سے مراد تو قرآن کریم ہے۔ لیکن حکمت سے مراد قرآن کریم نہیں بلکہ قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور چیز ہے جس کو ” وائو “ کے عطف کے ساتھ لایا گیا اور ہم جانتے ہیں کہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغائرت ہوتی ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکمت کتاب سے ایک زائد چیز ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ زائد ہونے کے باوجود قرآن کریم سے الگ یا بیگانہ نہیں ‘ بلکہ قرآن کریم سے ہی ماخوذ اور مستنبط ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں گہری نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت کا اطلاق اس گہری بصیرت پر ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو عطا فرماتے ہیں ‘ جس کے نتیجے میں پیغمبر اللہ کی شریعت کے اصولی احکام کو جزئیات کی تفصیل دیتا ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اسی طرح نافذ کرتا اور عملی شکل دیتا ہے جس طرح اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ اگرچہ اس بصیرت کا راہنما وہ علم ہوتا ہے جو بغیر الفاظ کے اس کے دل پر اترتا ہے ‘ لیکن اس سے ایک پورا نظام اور ایک عمل کی ہیئت کو مستنبط کرنا اللہ کے رسول کی بصیرت اور حکمت کا کمال ہوتا ہے۔
اسی طرح حکمت کا لفظ اس قوت و صلاحیت پر بھی بولا جاتا ہے جس قوت و صلاحیت سے انسان معاملات کا فیصلہ حق کے مطابق کرتا ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بارے میں پروردگار نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ” وَ اٰتَیْنَاہُ الْحِکْمَۃَ وَ فَصْلَ الْخِطَابَ “ ( ہم نے اس کو حکمت عطا کی اور فیصلہ معاملات کی صلاحیت بھی بخشی) یہ ” فَصْلُ الْخِطَاب “ حکمت کا بیان معلوم ہوتا ہے۔
اسی طرح اللہ اپنے پیغمبر کو اخلاق کی ایسی پاکیزگی اور تہذیب کی ایسی شائستگی عطا فرماتا ہے جس کا پوری دنیا میں کہیں نشان تک نہیں ہوتا۔ یہ بھی اسی حکمت کا ثمرہ ہے۔ مختصر یہ کہ اللہ نے جس طرح قرآن کریم کی شکل میں علم ‘ قانون اور تہذیب کا ایک خزانہ آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا ہے اسی طرح آپ کو حکمت کی صورت میں گہری بصیرت ‘ بلند اخلاق اور فیصلہ معاملات کی صلاحیت بھی بخشی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے علماء نے حدیث اور سنت قرار دیا ہے۔ اور آپ کو وہ کچھ سکھایا جو آپ نہیں جانتے تھے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کے رسول کا علم جیسا اور جتنا بھی ہو وہ اللہ کی عطا ہوتا ہے ذاتی نہیں ہوتا ‘ اسی لیے قرآن کریم میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے علم کے خزانے عطا فرمائے لیکن نبوت سے پہلے آپ کا حال یہ تھا کہ ” ما کنت تدری ما الکتاب ولا الایمان “ (آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے) نبوت سے پہلے کی بیخبر ی کا یہ عالم تھا اور نبوت کے بعد رفتہ رفتہ اللہ کی طرف سے علم نازل ہوتا گیا اور اب آپ ﷺ کا حال یہ ہے کہ خود پروردگار آپ ﷺ پر اپنے اس فضل کا ذکر فرماتے ہیں اور اسے اپنی رحمت قرار دیتے ہیں۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کا رسول دنیا میں کسی کا شاگرد نہیں ہوتا۔ وہ براہ راست تلمیذ رحمان ہوتا ہے۔ اللہ کا علم اس کے دل پر اترتا ہے یا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے واسطے سے آتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ آپ ﷺ کا اپنے پروردگار سے ایسا بھی تعلق ہوتا ہے جس میں کسی مقرب فرشتے کا بھی گزر نہیں ہوسکتا۔ کسی عالم کے علم کی وسعت اور اس کی پختگی کے حوالے کے لیے ہمیشہ اس کے استاد کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ وہ اتنے بڑے عالم کا شاگرد ہے تو یقینا وہ خود بڑا عالم ہوگا۔ جس ذات عزیز کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ براہ راست اللہ سے علم حاصل کرتی ہے تو اس کی علم کی وسعتوں اور گہرائی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے ؟ اس لیے اجمالی طور پر صرف یہ عقیدہ رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اپنے آخری رسول کو وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو آپ کی شان کے لائق تھا۔ اور اس میں کوئی نبی اور کوئی رسول بھی آپ ﷺ کا ہمسر نہیں۔ لیکن ہم آپ کے علم کو ناپنے کی گستاخی نہیں کرسکتے اور نہ ایسا دعویٰ کرسکتے ہیں جس میں اللہ کے علم کے ساتھ ساتھ برابری کا شبہ بھی ہونے لگے۔
Ayah 4:114لَاخَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰہُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ م بَیْنَ النَّاسِ ط وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا
” نہیں ہے کوئی بھلائی ان کی اکثر سرگوشیوں میں بجز ان لوگوں کے جو حکم دیں صدقہ دینے کا یا نیک کام کا یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کا۔ اور جو اللہ کی رضا جوئی میں ایسا کریں گے تو ہم ان کو اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ “ (النسآء : 114)
گزشتہ رکوع کی ایک آیت میں فرمایا تھا کہ چور کی حمایت کرنے والے دراصل منافق ہیں اور یہ راتوں کو چھپ چھپ کر ایسی باتوں کے مشورے کرتے ہیں جنھیں اللہ پسند نہیں کرتا۔ یعنی وہ خلاف اسلام باتیں ہوتی ہیں۔ یہاں اس بات کو مزید کھول دیا گیا ہے کہ یہ منافق لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ ” نجوٰی “ سرگوشی کو کہتے ہیں۔ یعنی راز داری کے انداز میں کسی سے کوئی بات کرنا۔ اس میں بظاہر کوئی قباحت نہیں کیونکہ زندگی میں بسا اوقات رازداری میں بات کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اچھے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور برے لوگ بھی۔ البتہ اس میں برائی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سرگوشی غلط باتوں کی کی جائے۔ منافقین کی عادت تھی کہ مسلمانوں کے خلاف جب کوئی بات کہنا اور دل کی بڑھ اس نکالنا چاہتے تو ہمیشہ رازداری کے انداز میں ایک دوسرے کے کان میں باتیں کرتے۔ اس لیے یہاں قرآن کریم نے اصولاً یہ خبر دی کہ ان لوگوں کا حال عام طور پر یہ ہے کہ یہ جب بھی سرگوشیاں کرتے ہیں تو عموماً اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یا کسی برائی کو پھیلانے کے لیے کرتے ہیں ‘ ان کی اکثر سرگوشیوں میں خیر نہیں ہوتی۔ اور پھر مسلمانوں کو سرگوشیوں کے حوالے سے وہ تعلیم بھی دے دی جس کی ضرورت تھی۔ اور اشارتاً یہ بھی بتادیا کہ یہ لوگ سرگوشیوں میں کس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تعلیم تو یہ دی کہ رازداری سے بات کرنا برا نہیں ‘ البتہ اس میں ہونا یہ چاہیے کہ آدمی دوسروں سے فرداً فرداً ملے ‘ علیحدگی میں ملاقاتیں کرے تو عنوان یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے اندر کتنے لوگ کسمپرسی کا شکار ہیں۔ کتنے گھر ایسے ہیں جن میں چولہا نہیں جلتا۔ کتنی ایسی اجتماعی ضرورتیں ہیں جو لوگوں کے مالی تعاون کی محتاج ہیں۔ ہمیں آپس میں کوشش کرنی چاہیے کہ مالی تعاون کی ایک فضا پیدا کریں تاکہ مسلمانوں کی یہ ساری ضرورتیں پوری ہونے لگیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو یہاں ” اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک دوسرے کو صدقہ اور خیرات کرنے کا مشورہ دو اور دوسری بات فرمائی کہ آپس کی سرگوشیوں میں معروف کا ذکر ہونا چاہیے۔ معروف سے مراد یہ ہے کہ اصلاحی منصوبوں اور نیکی کے کاموں کو عملی جامہ پہنانے کی تدبیریں کی جائیں۔ ایک ایک فرد سے مل کر ہر اچھے کام میں تعاون کی فضا پیدا کی جائے۔ اور تیسری بات فرمائی ” اِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ “ جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں عموماً تلخیاں پائی جاتی ہیں۔ فتنہ و فساد کی آئے دن آگ بڑھکتی رہتی ہے۔ ہمیں مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ اسے کیسے فرو کیا جائے اور لوگوں میں کس طرح محبت کی فضا پید ا کی جائے کہ لوگ ایک دوسرے کی ساتھ معاملات درست کرنے کی کوشش کریں۔ معروف کا لفظ اگرچہ ہر نیکی کو شامل ہے لیکن ناراض آدمیوں میں صلح کرانے کا الگ سے ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ وہ کام ہے جو سب کاموں پر فوقیت رکھتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ ” کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتائوں جس کا درجہ روزہ ‘ نماز اور صدقہ سے بھی افضل ہے۔ “ صحابہ نے عرض کیا ” ضرور فرمایئے۔ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” وہ کام اصلاح ذات البین “ یعنی دو شخصوں کے درمیان کوئی رنجش پیدا ہوجائے تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرنا اور ان کی حالات کو درست کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ سب سے بڑی نیکی ہے۔ ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا ” فساد ذات البین ہی الحالقۃ “ ( لوگوں کا آپس میں جھگڑا فساد مونڈ دینے والی چیز ہے) پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ” یہ جھگڑا سر کو نہیں مونڈتا بلکہ انسان کے دین کو مونڈ ڈالتا ہے “ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اسلام میں جھوٹ بولنا بدترین گناہ ہے۔ لیکن دو شخصوں میں صلح کرانے کے لیے حضور ﷺ نے جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صلح کرانے والا جب دو فریقوں سے ملے گا تو ہر فریق یقینا دوسرے کی برائی کرے گا۔ صلح کرانے والے کو حضور نے اجازت دی ہے کہ دونوں فریق تو ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے لیکن تم دونوں سے باری باری یہ کہو کہ ” تم تو بہت ناراض ہو اور دوسرے کے بارے میں بہت سخت باتیں کہہ رہے ہو لیکن وہ شخص تو تمہاری بہت تعریف کرتا ہے اور اسے اس بات کا شدید رنج ہے کہ ہمارے تعلقات آپس میں کیوں بگڑ گئے۔ اس طرح جب دونوں سے بات کی جائے گی تو یقینا دونوں نرم پڑجائیں گے اور صلح کی امکانات بڑھ جائیں گے۔
ان تین باتوں کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے کہ سرگوشی کرنے کی اگر ضرورت پیش آئے تو سرگوشی ان امور پر ہونی چاہیے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو مسلمانوں کے فکر مندی کے موضوعات ہونے چاہئیں۔ لیکن بالواسطہ یہ بتانا بھی مقصود معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جب آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں تو ان کے سرگوشیوں کے موضوع بالکل اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ وہ بجائے مسلمانوں سے مالی تعاون اور ان کی ضروریات کے لیے کوئی راستہ نکالنے کے وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ جہاں جہاں سے بھی ان سے مالی تعاون روکا جاسکتا ہے اس کے لیے مقدور بھر کوشش کی جائے۔ عبداللہ بن ابی ٔ اور اس کے ساتھیوں کا تذکرہ تو سورة المنافقون میں موجود ہے۔ اس نے اپنے احباب کو یہ مشورہ دیا ہوتا ” لا تنفقوا علی من عند رسول اللہ “ (جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس ہیں (یعنی مہاجرین) ان پر خرچ مت کرو) یہ بھوکے ننگے لوگ ہیں جب تم ہاتھ کھینچ لوگے تو یہ خود ہی چلتے بنیں گے۔ اسی طرح ان کی سرگوشیوں کا موضوع کوئی معروف نہیں ہوتا بلکہ ان کی سرگوشیاں مسلمانوں میں منکرات پھیلانے کے لیے ہوتی ہیں۔ آج کے منافقین کو بھی دیکھ لیجیے جن کے قبضے میں ذرائع ابلاغ ہیں وہ بھی بڑی بلند جگہوں پر بیٹھ کر مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانے اور دوسرے منکرات کو عام کرنے کی منصوبہ بندی میں لگے رہتے ہیں اور اسی کو بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ تیسری بات ارشاد فرمائی کہ ان کی سرگوشیاں اصلاح بین الناس کے لیے نہیں ہوتیں ‘ بلکہ افساد بین الناس کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ لڑانے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ منافقین کا طرز عمل تو یہی ہے جس کا تذکرہ ہوچکا ‘ لیکن جو شخص مسلمانوں کی مالی ضرورتوں کے لیے پریشان ہے اور اس کا کوئی راستہ نکالنا چاہتا ہے وہ ایک ایک نیکی کے لیے لوگوں کے ذہنوں کو ہموار کرنے کی تدبیر کرتا ہے اور اس کی تمام کوششیں لوگوں کے معاملات اور تعلقات کو درست کرنے میں صرف ہوتی ہیں۔ اور وہ یہ سب کچھ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے تو ہم اس کو اجر عظیم عطا کریں گے۔ یہ کام ایسے ہیں جن کا کرنے والا یقینا ایک بہت بڑے اجر کا مستحق ہوجاتا ہے۔
Ayah 4:115وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ م بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلَِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَہَنَّمَط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا ع
” اور جو شخص مخالفت کرے رسول کی اس کے بعد کہ روشن ہوگئی اس کے لیے ہدایت اور پیروی کرے مسلمانوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی تو ہم اس کو اسی راہ پر ڈالیں گے جس پر وہ پڑا اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ “ (النسآء : 115)
کہا جاتا ہے کہ یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی (جس کا ذکر گزشتہ رکوع میں ہوا) جس نے چوری کی تھی ‘ لیکن اپنے جرم کا اعتراف کرنے کی بجائے الزام ایک یہودی پر لگا دیا ‘ لیکن قرآن کریم نے جب اس واقعے کی اصل حقیقت کو ظاہر کردیا تو آنحضرت ﷺ نے یہودی کے حق میں اور اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ‘ اسے جاہلیت کا ایسا شدید دورہ پڑا کہ وہ مکہ معظمہ بھاگ گیا اور مشرکین مکہ کے ساتھ جا ملا۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ اگر وہ اس سے پہلے مسلمان تھا تو مرتد ہوگیا اور اگر وہ منافق تھا تو اب کافر ہوگیا۔ اور وہیں پھر ایک گھر میں چوری کرتے ہوئے اس کے اوپر دیوار آگری اور اس کے نیچے آ کر وہ مرگیا۔ اور یہ انجام اس کا اس لیے ہوا کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی مخالفت کی اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر کافروں کے راستہ پر چل پڑا۔
شانِ نزول سے قطع نظر اس آیت میں چند بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ اللہ کا رسول دنیا میں ہدایت کی شناخت بن کے آتا ہے۔ شناخت کیسی بھی مکمل ہو پہچاننے والوں کی نگاہیں یکساں نہیں ہوتیں اس لیے کوئی جلدی پہچان لیتا ہے اور کوئی دیر بعد پہچانتا ہے اور جس کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہو وہ ساری عمر بھی نہیں پہچان پاتا۔ لیکن جو شخص ہدایت واضح ہو چکنے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرتا ہے تو وہ درحقیقت اللہ کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ رسول اپنی بات نہیں کرتا اس کی ہر بات اللہ کی بات ہوتی ہے۔ اسی طرح جو رسول پر ایمان لاتے ہیں وہ جس راستے پر چلتے ہیں وہی راستہ رسول کا راستہ ہے اور وہی راستہ اللہ کی ہدایت کا راستہ ہے۔ اب جو شخص رسول کی مخالفت میں دھڑے بندی شروع کر دے اور بجائے انکا اتباع کرنے کے اپنے گروہ اور اپنے دھڑے کے ساتھ چلنا شروع کر دے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی الگ پارٹی بنا لے ایسا شخص اس قابل نہیں رہتا کہ وہ ہدایت قبول کرسکے۔ یا ہدایت کے راستہ پر چل سکے۔ اس کی مخالفت اسے اللہ اور اس کے رسول کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے پوری طرح شیطان کو اپنا امام مان لیا ہے اور اس نے اپنی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں دے دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں ہمارا قانونِ ہدایت و ضلالت حرکت میں آتا ہے تو پھر ہم اسے اسی راستے کی طرف پھیر دیتے ہیں جس پر وہ چلنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ دراصل اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اللہ کو اپنا ولی بنا لیتا ہے۔ اللہ پھر اسے ہر طرح کی تاریکی سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے اور اسے ہر گمراہی سے بچاتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنا ولی شیطان کو بنا لیتا ہے اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو شیطان اس پر مسلط ہوجاتا ہے۔ وہ اس کا مستقل ساتھی بن جاتا ہے اور اسے ہر روشنی سے بچا کر تاریکی کی طرف لے کے جاتا ہے۔ دنیا کی ہر برائی اس کے لیے آسان ہوجاتی ہے اور ہر نیکی اسے بری لگنے لگتی ہے۔ اس کی یہ کیفیت بالآخر اسے جہنم کا مسافر بنا دیتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ پھر ہم ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دیتے ہیں اور جہنم بہت برا ٹھکانہ ہے۔
Ayah 4:116اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ضلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا
” بیشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے۔ اور بخش دے گا اس کے سوا جس کو چاہے گا۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا وہ بہک کر دور جا پڑا۔ “ (النسآء : 116)
ربطِ کلام
سابقہ آیات میں فرمایا گیا ہے کہ جو منافقین اللہ کی ہدایت واضح ہو چکنے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف اپنی الگ راہ نکالنا چاہتے ہیں ‘ بلکہ ان کے مقابلے میں اپنی ایک پارٹی کھڑی کرنا چاہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ایسے منافقین کو جہنم میں ڈالیں گے۔ اس پر سوال پیدا ہوا کہ وہ ایسا بڑا جرم کیا ہے جس کی سزا جہنم سے کم نہیں۔ ان آیات میں اس کا جواب ارشاد فرمایا گیا ہے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کی ہدایت کے خلاف کوئی ہدایت اختیار کرنا اس کے رسول کے خلاف کسی اور کو رسالت کا حق دینا اور مومنوں سے الگ ایک راہ اختیار کرنا اور اپنی ایک پارٹی بنانا یہ سراسر اللہ کے اختیارات میں شرکت کرنے والی بات ہے۔ رسول بھیجنا ہدایت نازل کرنا اور رسول کے ماننے والوں کو زندگی کا ایک نظام دینا اور اس پر انھیں چلنے کا پابند کرنا یہ سراسر اللہ کے اختیارات ہیں۔ منافقین یہ اختیارات جب کسی اور کو دیتے ہیں اور اسے وہی حیثیت دے کر اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں تو وہ درحقیقت اسے اللہ کا شریک بناتے ہیں اور اس طرح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور شرک چونکہ کفر کے بعد سب سے بڑا جرم ہے جس کی سزا جہنم ہے اس لیے فرمایا گیا کہ ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
شرک کی کبھی بخشش نہیں ہوگی
اس آیت کریمہ میں پروردگار نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ پہلی یہ بات کہ شرک اللہ کی نگاہ میں اتنا بڑا جرم ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرمائیں گے۔ کیونکہ شرک ایک ایسی جسارت ہے جس میں اللہ کی ذات اس کی صفات اور اس کے حقوق کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ شرک کرنے والے انہی تینوں حیثیتوں میں کسی نہ کسی حیثیت سے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات کے مقابلے میں کسی اور کو خدا مانتے ہیں یا اللہ کی مخصوص صفات میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں اور یا اللہ کی صفات سے جو حقوق لازم آتے ہیں وہ حقوق کسی اور کے لیے ثابت کرتے ہیں۔ ان میں سے کسی اعتبار سے بھی شرک کرنا اللہ کے خلاف صریح بغاوت ہے۔ بغاوت تو کفر بھی ہے ‘ اسی وجہ سے کافر کی بھی کبھی مغفرت نہیں ہوگی۔ لیکن مشرک کی مغفرت نہ ہونے کا ذکر اس لیے بار بار کیا جاتا ہے کہ مشرک بظاہر اللہ کو ماننے کا اعلان کرتا ہے۔ بعض دفعہ اس کی عبادت بھی کرتا ہے ‘ اس کی تسبیحات بھی پڑھتا ہے اور اس کا احترام بھی بجا لاتا ہے ‘ لیکن اسے اس طرح نہیں مانتا جیسے اسے ماننے کا حق ہے۔ ایک ایسے شخص کو بادشاہ مان لیا جائے جو بادشاہ نہ ہو تو اس کے لیے تو یہ بہت بڑا اعزاز ہے لیکن اگر کسی شہنشاہِ مطلق سے یہ کہا جائے کہ ہم آپ کو بادشاہ مانتے ہیں ‘ لیکن فلاں فلاں کو بھی بادشاہ سمجھتے ہیں تو اس شہنشاہِ مطلق کی اس سے بڑی توہین کوئی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ اس کی ذات اور اس کی صفات اور اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہے۔ اور اس کی حقیقی حیثیت کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔
باقی گناہوں کو بخشنے کا امکان ظاہر فرمایا ہے وعدہ نہیں
دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ شرک کے علاوہ یا شرک سے نیچے جتنے اور گناہ اور جرائم ہیں اللہ اگر چاہے گا تو اس کے مرتکب کو بخش دے گا۔ لیکن اس بات کو سمجھنے میں چند در چند غلطیاں کارفرما ہیں ‘ جن کی اصلاح ضروری ہے۔ پہلی تو یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے باقی گناہوں کے بخشنے کا امکان ظاہر فرمایا ہے وعدہ نہیں فرمایا۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ شہنشاہ جب کسی چیز کو عطا کرنے کا امکان ظاہر کرتے ہیں تو ان کی شان کریمی اور شان بےنیازی کو دیکھتے ہوئے امیدیں جوان ہوجاتی اور آرزؤیں کھل اٹھتی ہیں اور گمان یقین کو چھونے لگتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فیصلے کو اپنی مشیت کے ساتھ مشروط کیا ہے اور قرآن کریم میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اس کی حکمت سے الگ نہیں۔
مشیت حکمت کی پابند ہے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہوتا وہی ہے جو اس کی مشیت چاہتی ہے لیکن اس کی مشیت چونکہ حکمت کی پابند ہے اس لیے اس کی حکمت نے جو قوانین و آداب مقرر کر رکھے ہیں وہ اس کی مخالفت کبھی نہیں کرتی۔ اور تیسری یہ بات کہ شرک کے علاوہ باقی گناہوں کو بخشنے کا ہرگز یہ مفہوم نہیں ہے کہ ایک مومن جس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے وہ قیامت کے دن بڑے بڑے گناہوں کی موجودگی میں پہلے ہی مرحلہ میں جنت میں بھیج دیا جائے گا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ کے ارشادات اور قرآن کریم کی نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو آدمی فرائض کا تارک ہوا اور کبائر کا ارتکاب کرتا رہا ‘ قیامت کے دن اسے ان بداعمالیوں کی پاداش میں جہنم میں اس وقت تک رکھا جائے گا جب تک وہ ان گناہوں کی سزا نہ بھگت لے گا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہیں کہ وہ چاہیں تو ان تمام جرائم کی سزامعاف فرما دیں لیکن اس کا قانون یہی ہے کہ وہ فرائض کے ترک پر بھی سزا دے گا اور کبائر کے ارتکاب پر بھی مواخذہ کرے گا۔ جب اس گنہگار کا دامن ان گناہوں کی آلودگی سے صاف ہوجائے گا تو پھر اس کی مغفرت فرما دی جائے گی اور اسے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔
جہنم کے عذاب کی شدت کا استحضار ضروری ہے
ان غلطیوں کے ازالے کے بعد ایک اور بات بھی کہنا ضروری ہے وہ یہ کہ مسلمانوں میں عام طور پر جہنم کے عذاب کی طرف سے ایک لاپرواہی سی پائی جاتی ہے۔ جب بھی کبھی عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو عام طور پر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں یہ ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر سزا دیں گے لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ سزا کے بعد مغففرت ہوجائے گی۔ اور جب مغفرت کا ہونا یقینی ہے۔ اور اللہ کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے تو پھر جہنم کی سزا کی چنداں فکر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ رویہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ پروردگار نے بنی اسرائیل کی گمراہیوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بالکل اسی رویے کا نہایت افسوس سے ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے جہنم کو ایسا لگتا ہے کہ غسل خانہ سمجھ رکھا ہے کہ وہاں داخل کیے جائیں گے اور نہا دھو کے واپس نکل آئیں گے۔ حالانکہ وہ ایسا دارالعذاب ہے جس کے عذاب کی شدت کا تو کیا کہنا ‘ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ ” جس شخص کو سب سے ہلکا عذاب ہوگا اسے آگ کا جوتا پہنایا جائے گا جس کی تپش سے اس کا دماغ اس طرح ابلے گا جیسے دیگچی میں پانی ابلتا ہے۔ جہنم کی بعض وادیاں ایسی ہیں جس کی آگ کی تپش اور جس کے عذاب کی شدت سے باقی جہنم پناہ مانگتا ہے۔ جہنم کا اگر ایک شعلہ زمین پر گرجائے تو ساری زمین بھسم ہوجائے۔ اس کے تصور سے بھی کپکپی طاری ہوجانی چاہیے چہ جائیکہ اسے اس طرح ہلکے انداز میں لیا جائے کہ جیسے ایک فارمیلٹی ہے جسے پورا کیا جائے گا۔ ورنہ اصل چیز تو اللہ کی بخشش ہے جس سے ہم نوازے جائیں گے۔
دور کی گمراہی میں پڑنے کا مفہوم
تیسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ درحقیقت بہت دور کی گمراہی میں جا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو آدمی شرم و حیا سے عاری ہوجاتا ہے وہ صرف بےحیا بنتا ہے ضروری نہیں کہ بدمعاملہ بھی ہوجائے۔ اسی طرح جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے یہ صحیح ہے کہ اس کے ذہن میں اللہ کی وفاداری کا جذبہ ماند پڑنے لگتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ بےحیا بھی ہوجائے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر گمراہی کا ایک طبعی نتیجہ ہے اور اس کا ایک دائرہ ہے۔ لیکن شرک ایک ایسا فساد اور ایک ایسی گمراہی ہے جس سے زندگی کا ہر دائرہ اور ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ اللہ کی ذات وصفات اور اس کے حقوق میں شرک کا اثر عبادات پر بھی پڑتا ہے ‘ معاملات پر بھی ‘ اخلاق پر بھی ‘ طرز زندگی پر بھی ‘ معاشرتی طور اطوار پر بھی حرام اور حلال کے طریقوں پر بھی اور حکومت اور ریاست کے آئین و قانون پر بھی۔ کیونکہ جس پاور ہائوس سے زندگی کی ایک ایک کرن نصیب ہوتی ہے اور جس مینارہ نور سے راستے روشن ہوتے ہیں اور جس سرچشمہ علوم سے علم کی وادیاں جگمگاتی ہیں اور جس سرچشمہ حیات سے زندگی کو صراط مستقیم ملتی ہے اس میں شرکت یقینا پوری زندگی کو نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ تلپٹ کر کے رکھ دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک ایسی گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے جس گمراہی کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ تاریکیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے ‘ اللہ سے دور اور شیطان کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ جنت سے محروم اور جہنم کا مستحق ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر دور کی گمراہی اور کیا ہوگی ؟
Ayahs 4:117–119اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰـثًا ج وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا لا لََّعَنَہُ اللّٰہُ م وَقَالَ لَاتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا لا وَّلَاُضِلَّـنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط وَمَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا ط
” وہ اللہ کے سوا نہیں پکارتے مگر دیویوں کو۔ اور وہ نہیں پکارتے مگر شیطانِ سرکش کو جس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں ہتھیا کے رہوں گا تیرے بندوں میں سے ایک معین حصہ اور ان کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا اور ان کو آرزوئوں کے جال میں پھنسائوں گا اور ان کو سمجھائوں گا پس وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سمجھائوں گا۔ پس وہ خدا کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑیں گے۔ اور جو شخص شیطان کو کارساز بناتا ہے اللہ کو چھوڑ کر تو وہ کھلی ہوئی نامرادی میں جا پڑا۔ “ (النسآء : 117 تا 119)
شرک کا بوداپن
شرک کی مذمت کے بعد ان آیات میں بعض مشرکانہ اعمال اور رسوم کی وضاحت فرمانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی صراحت فرمائی کہ اللہ کے مقابلے میں ان لوگوں نے جو شرک کا کاروبار جاری کر رکھا ہے اس میں نہ صرف بودا پن پایا جاتا ہے ‘ بلکہ یہ انتہائی غیر سنجیدہ اور لغو حرکت معلوم ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ نزول قرآن کے وقت تمام دنیا میں شرک رائج تھا اور توحید کی حقیقی معرفت کہیں بھی نظر نہیں آتی تھی۔ چین ‘ ہندوستان ‘ مصر اور بابل و نینوا وغیرہ مشرکانہ عقائد اور اعمال میں زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ ان کی دیو مالا میں سب سے زیادہ شہرت دیویوں کی نظر آتی ہے۔ عرب چونکہ ان ملکوں میں کاروباری ضرورتوں کے تحت آتے جاتے تھے ‘ وہ ان کی مشرکانہ رسوم سے بھی متاثر ہوئے اور ان کے یہاں بھی دیویوں کا تصور اس طرح رائج ہوا کہ باقی تمام مشرکانہ تصورات پر غالب آگیا۔ وہ سب سے زیادہ فرشتوں کو پوجتے تھے اور انھیں اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور پھر شاید انھیں کے تصور میں بعض بت تراش رکھے تھے ‘ ان میں سے اکثر مؤنث خیال کیے جاتے تھے۔ مثلاً لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ ان کے یہاں دیویوں کے نام تھے۔ اور یہی دیویاں خدائی نظام پر زیادہ تر حاوی نظر آتی تھیں اور ان کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ دیویوں کے پاس بہت سارے اختیارات ہیں اور زندگی کی بیشتر ضروریات انھیں کے ہاتھوں میں ہیں۔ وہ اپنے ماننے اور پوجا کرنے والوں پر جب خوش ہوتی ہیں تو ان کی ضروریات پوری کردیتی ہیں۔ اور اگر کبھی بڑے خدا سے کوئی بات منوانے کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ چونکہ اس کی بیٹیاں ہیں اس لیے ضد کر کے بھی اپنے باپ کو آمادہ کرلیتی ہیں۔ قیامت کے بارے میں بھی ان کا یہی تصور تھا کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آ بھی گئی تو اللہ کی بیٹیاں اور یہ دیویاں ہمیں خدا کے عذاب سے بچا لیں گی۔ اس عقیدے کی کمزوری اور بودا پن کا آپ اس سے اندازہ لگایئے کہ عربی زبان میں ” اناث “ انثیٰ کی جمع ہے جس کا لغوی مفہوم نرم و نازک اور ڈھیلی ڈھالی چیز کے ہیں۔ اور عام طور پر اس کا استعمال عورت کے لیے ہوتا ہے۔ اور عربوں کے یہاں عورت نہایت کمزور ‘ ناقص العقل اور ہر معاملے میں مرد سے فروتر سمجھی جاتی تھی۔ اب جس لفظ کا مصداق ان کے یہاں ان منفی صفات کا حامل تھا اس لفظ کا اطلاق ان نام نہاد دیویوں پر کرنا جن سے وہ مرادیں مانگتے اور استمداد کرتے تھے کس قدر بودا پن کا ثبوت تھا۔ اور مزید لغویت اس میں یہ ہے کہ اس وقت کی دنیا میں عموماً اور عرب میں خصوصاً عورت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ بعض قبیلوں میں اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا جاتا اور جہاں باقی رکھا جاتا تھا وہاں بھی ہوس کے کھلونے سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ با ایں ہمہ حیرانی کی بات ہے کہ اپنے معبودوں کو مونث نام دیے گئے اور مونث ہی کے طور پر پکارا جاتا تھا اور باقی مشرک قوموں کی طرح ہر ضرورت کے لیے دیویوں کا تصور اختراع کر رکھا تھا ‘ انھیں کی وہ پوجا کرتے تھے اور انھیں کو وہ اپنی ضرورتوں کے لیے پکارتے تھے۔
شیطان کو پکارنے کا مفہوم
مزید فرمایا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ پوجا تو دیویوں کی کرتے ہیں اور مرادیں بھی انھیں سے مانگتے ہیں لیکن ان کی نکیل جس کے ہاتھ میں ہے وہ دیویاں نہیں بلکہ شیطان رجیم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یہ لوگ شیطان کو اپنا معبود نہیں سمجھتے اور نہ اس کے آگے مراسمِ پرستش بجا لاتے ہیں اور نہ کوئی اسے الوہیت کا درجہ دیتا ہے ‘ لیکن اسے پکارنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے پیچھے چلنے والا ہر شخص اپنے نفس کی باگیں اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے ‘ جدھر وہ چلاتا ہے ادھر چلتا ہے۔ گویا یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کے احکام کی بےچون و چرا اطاعت اور اندھی پیروی کرنے کا نام بھی عبادت ہے۔ اور جو شخص اس طرح کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اس کی عبادت بجا لاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پروردگار نے خود شیطان کا تعارف بھی کروایا کہ ایک طرف تو عرب اللہ کو ارض و سما اور انسانوں کا خالق تسلیم کرتے تھے۔ اور دوسری طرف زندگی کی باگ ڈور اس شیطان کے ہاتھ میں دے رکھی تھی جس نے تخلیق آدم کے وقت ہی سرکشی دکھائی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اور پھر جب اللہ نے اس کے اس تمرد اور سرکشی پر لعنت فرمائی تو بجائے خوفزدہ ہونے اور توبہ کرنے کے اس نے دھمکی دی کہ میں تیرے بندوں کو مختلف طریقوں سے گمراہ کروں گا۔ اس لحاظ سے دیکھاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شرک جہاں کہیں بھی اور جس شکل میں بھی پایا جاتا ہے اس کا امام درحقیقت شیطان ہی ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم صرف سورة اعراف سے چند آیتوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ پروردگار ارشاد فرماتے ہیں :
قَالَ مَا مَنَعَکَ اَ لَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ ط قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ ج خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَایَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ لا ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ م بَیْنِ اَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِہِمْ وَ عَنْ شِمَآئِلِہِمْ ط وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْئُ ْومًا مَّدْحُوْرًا ط لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکُمْ اَجْمَعِیْنَ
” اللہ نے پوچھا کہ جب میں نے تجھے سجدہ کا حکم دیا تو تجھے سجدے سے کس چیز نے روکا ؟ شیطان نے جواب دیا کہ میں آدم سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے بنایا ہے۔ خدا نے فرمایا تو یہاں سے اتر تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو اس میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ پس تو یہاں سے نکل جا تو خوار ہونے والوں میں سے ہے۔ اس نے کہا مجھے لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک مہلت دے دے۔ خدا نے فرمایا تجھے مہلت دی گئی۔ شیطان نے کہا چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے اس وجہ سے میں ان کی گھات میں تیری سیدھی راہ میں بیٹھوں گا ‘ پھر میں ان کے آگے سے ‘ ان کے پیچھے سے ‘ ان کے دائیں سے ‘ ان کے بائیں سے ان پر گھیرے ڈالوں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکرگزار نہ پائے گا۔ خدا نے فرمایا تو ذلیل و خوار ہو کر یہاں سے دور ہو ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ “
(الاعراف : 12 تا 18)
ان آیات کو غور سے پڑھیے۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیطان اول روز سے اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کے معاملے میں کتنا پرجوش ہے اور وہ اولادِ آدم سے کس قدر کینہ ‘ بغض اور پرخاش رکھتا ہے۔ اور اس کی جرأت کی داد دینی چاہیے کہ اس نے اپنے ارادوں کو مخفی نہیں رکھا۔ اس کا اعلان بھی کسی اور جگہ نہیں بلکہ اس ذات کے سامنے کیا ہے جس کی بندگی کرنے اور عبادت بجا لانے کا انسان کو مکلف بنایا گیا ہے۔ اور شیطان یہ بھی جانتا ہے کہ اس کا عذاب کتنا بےپناہ ہے اور اس کی ناراضگی ناقابل برداشت ہے۔ باایں ہمہ اس نے کھل کر اپنی دشمنی کا اظہار کیا اور جس جس طرح سے وہ اولاد آدم کو گمراہ کرنا چاہتا تھا ان میں سے ایک ایک بات کا ذکر کیا۔ ان آیات کریمہ میں جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں چند باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
شیطان کا بندوں سے مقررہ حصہ لینے کا مفہوم
پہلی بات یہ کہ میں تیرے بندوں میں اپنا مقرر حصہ لے کے رہوں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو نے انسانوں کو زندگی کی مہلت دی ہے میں ان کے اوقات میں سے اپنے لیے اوقات لینے کی کوشش کروں گا۔ یعنی انھیں اس بات کا موقع نہیں دوں گا کہ وہ اپنے اوقات کو تیری بندگی میں صرف کریں۔ بلکہ میں ان کی اس طرح برین واشنگ کروں گا اور ان کے دلچسپی کے موضوعات میں ایسی تبدیلیاں لائوں گا کہ وہ ایسے مشاغل خود بخود اختیار کریں گے جس میں ان کے اوقات کا ایک معتد بہ حصہ ان کاموں میں صرف ہوگا جن کاموں کا تعلق تیری بندگی اور تیری رضا کی حصول کے طریقوں سے ہرگز نہیں ہوگا۔ بلکہ ان کا تعلق ان موضوعات سے ہے جس سے شیطنت پنپتی اور انسانیت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسی طرح ان کی محنتوں ‘ کوششوں ‘ قوتوں اور قابلیتوں میں بھی اپنا حصہ لگا کے چھوڑوں گا۔ وہ خود میرے طریقے کو اختیار کرنے اور آگے بڑھانے پر محنت کریں گے۔ اس کے لیے مساعی بروئے کار لائیں گے ‘ ان کی ذہنی صلاحیتیں اور جسمانی قوتیں میرے پروگرام میں صرف ہوں گی۔ میں ان کے مال کا بیشتر حصہ اپنے پروگرام کے لیے صرف کرنے کے راستے نکالوں گا اور ان کی اولادوں میں اس طرح حصہ بٹائوں گا کہ ہر باپ اپنے بیٹے کو نیک دیکھنا چاہتا ہے۔ لیکن میں اس کے ذہن میں یہ بات ڈالوں گا کہ نیکی بہت اچھی بات ہے لیکن دنیا کے ساتھ چلنا اور وقت کا ساتھ دینا یہ تمہاری ضرورت ہے۔ وہ جب دنیا کے ساتھ چلنے کی کوشش کرے گا تو پھر وہ اپنی اولاد کو ان اداروں میں بھیجے گا جس میں اللہ کی بندگی کم اور میری بندگی زیادہ ہوگی۔ اس طرح انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنا حصہ لگانے کے لیے کوشش کروں گا۔
آرزئوں کا جال
پھر اس نے بات کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میں انھیں گمراہ کروں گا۔ ان کو آرزوئوں کے جال میں پھنسائوں گا اور آرزوئوں کا جال تو ایسی خطرناک چیز ہے کہ جو اس میں پھنس گیا وہ موت سے پہلے کبھی نکلنے پر قادر نہیں ہوگا۔ بجز اس کے کہ اللہ کسی پر اپنا رحم فرمائے۔ مثلاً جس کی آرزو دولت کا حصول بن جاتی ہے وہ اپنی صحت ‘ توانائی اور ذہانت سب کچھ دولت کے حصول کے لیے نچوڑ دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اسی مقصد کے حصول میں اسے یہ بھی احساس نہیں رہتا کہ میرے عزیز رشتے چھوٹ رہے ہیں ‘ میری اقدار بگڑتی جا رہی ہیں۔ میری زندگی میں اور کسی مقصد کے لیے جگہ نہیں رہی اور میری صحت بھی اس مصروفیت نے تباہ کر ڈالی۔ اس جال کا ایک ایک حلقہ اسے اس طرح اپنے اندر جکڑتا ہے کہ وہ موت کی وادی میں داخل ہونے سے پہلے تک اس سے نکلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اسی پر مختلف آرزوئوں کو قیاس کر لیجیے۔ آرزوئوں کے جال میں پھنسانا شیطان کا وہ خطرناک حربہ ہے کہ جس کے ادراک کے لیے بھی اللہ کی مدد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ میں اولادِ آدم کو مشورہ دوں گا اور انھیں سمجھائوں گا اور وہ جانوروں کے کان کاٹیں گے۔ یعنی وہ جانوروں کے بارے میں ایسے فیصلے کریں گے اور ایسے ایسے تصورات اختیار کریں گے جن کا انھیں ہرگز اختیار نہیں اور انہی کے واسطے سے وہ شرک کی دلدل میں اترتے چلے جائیں گے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ عربوں نے بہت سے مشرکانہ تصورات اپنا رکھے تھے ان میں سے ایک تصور یہ بھی تھا کہ جب اونٹنی پانچ یا دس بچے جن لیتی تو وہ اس کے کان پھاڑ کر اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے تھے۔ اسی طرح جس اونٹ کے نطفہ سے دس بچے ہوجاتے اسے بھی دیوتا کے نام پر پُن کردیا جاتا تھا۔ اور کان چیرنا اس بات کی علامت تھی کہ یہ پن کیا ہوا جانور ہے۔ یہ مشرکانہ حرکت تو آج تک ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے۔ آپ نے کئی دفعہ سڑکوں پر گائیاں کھلی پھرتی دیکھی ہوں گی۔ ان کے اگرچہ کان تو نہیں پھاڑے جاتے لیکن کسی کے نام پر انھیں کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ تصور ہمارے یہاں ہندوئوں سے آیا ہے۔ وہ یہاں سے چلے گئے لیکن ہم ابھی تک ان کے تصورات سے نجات نہیں پا سکے۔
خدائی ساخت میں تبدیلی کا مفہوم
شیطان نے مزید کہا کہ میں انھیں حکم دوں گا یا مشورہ دوں گا (کیونکہ امر کا معنی حکم دینا بھی ہوتا ہے اور مشورہ دینا بھی اور دلوں میں وسوسہ ڈالنا بھی) کہ وہ خدائی ساخت میں ردوبدل کریں۔ خدائی ساخت میں تبدیلی کا اصولی مفہوم اللہ کی فطرت کو بدلنا ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا ہے۔ لیکن اس کے تحت یوں تو بہت ساری چیزیں شامل ہیں ‘ لیکن صاحب تفہیم القرآن نے نہایت سلاست سے چند باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
” خدائی ساخت میں ردوبدل کرنے کا مطلب اشیاء کی پیدائشی بناوٹ میں ردوبدل کرنا نہیں ہے۔ اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے تب تو پوری انسانی تہذیب ہی شیطان کے اغوا کا نتیجہ قرار پائے گی۔ اس لیے کہ تہذیب تو نام ہی ان تصرفات کا ہے جو انسان خدا کی بنائی ہوئی چیزوں میں کرتا ہے۔ دراصل اس جگہ جس ردوبدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لیے خدا نے اسے پیدا نہیں کیا ہے۔ اور کسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا ہے۔ بالفاظ دیگر وہ تمام افعال جو انسان اشیاء کی فطرت کے خلاف کرتا ہے اور وہ تمام صورتیں جو وہ منشاء فطرت سے گریز کے لیے اختیار کرتا ہے اس آیت کی رو سے شیطان کی گمراہ کن تحریکات کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً عمل قوم لوط ‘ ضبط ولادت ‘ رہبانیت ‘ برہم چرچ ‘ مردوں اور عورتوں کا بانجھ کرنا ‘ مردوں کو خواجہ سرا بنانا ‘ عورتوں کو ان خدمات سے منحرف کرنا جو فطرت نے ان کے سپرد کی ہیں اور انھیں تمدن کے ان شعبوں میں گھسیٹ لانا جن کے لیے مرد پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے بیشمار افعال جو شیطان کے شاگرد دنیا میں کر رہے ہیں ‘ دراصل یہ معنی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ خالق کائنات کے ٹھہرائے ہوئے قوانین کو غلط سمجھتے ہیں اور ان میں اصلاح فرمانا چاہتے ہیں۔ “ (ماخوذ از تفہیم القرآن)
اولادِ آدم کے بارے میں شیطان کے عزائم اور اس کے گمراہی کے طریقوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جو شخص شیطان کی شیطنت کو سمجھنے کے بعد بھی اللہ کو چھوڑ کر اسے اپنا ولی بناتا ہے ‘ یعنی اسے اپنا کارساز اور ہمدرد اور غمگسار سمجھتا ہے اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔ اور اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا اور ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کا نتیجہ سوائے نامرادی اور تباہی کے اور کچھ نہیں۔
Ayahs 4:120–121یَعِدُ ہُمْ وَیُمَنِّیْہِمْ ط وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا
” وہ لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انھیں امیدیں دلاتا ہے ‘ اور شیطان کے وعدے سرتاسر فریب ہیں۔ “ (النسآء : 120)
شیطان کا کاروبارِ ضلالت …وعدے کرنا اور امیدیں دلانا
بات کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ شیطان کا سارا کاروبارِ ضلالت صرف دو چیزوں پر چلتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ امیدوں کے سبز باغ دکھاتا ہے۔ جس شخص نے مال و دولت ہی کو زندگی کا حقیقی مقصد بنا لیا ہے اور اس کے سوا باقی ہر چیز ثانوی ہو کر رہ گئی ہے آپ کبھی اس سے بات کر کے دیکھ لیجیے ‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ اس کے سامنے دولت کے حصول اور اس کے نتیجے میں زندگی کا ایک ایسا خوبصورت نقشہ ہے ‘ جس کی حیثیت فریبِ نظر سے زیادہ نہیں اور اسے اس پر ایسا محکم یقین ہے جس میں شکست کا کوئی امکان نہیں۔ وہ اپنے آپ کو قارون اور شداد سے بڑھ کر دولت کے بل بوتے پر اپنے تصور کے مطابق کامیاب آدمی دیکھنے کا یقین رکھتا ہے۔
اسی طرح جس آدمی نے اقتدار کو اپنا معبود بنا لیا ہے آپ اس کی زندگی کے طور اطوار کو دیکھ لیجیے کہ وہ ا اقتدار کی ہوس کے سوا باقی ہر چیز کو بھول چکا ہوگا۔ اسے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے میں تامل نہیں ہوگا۔ آپ اس کی زندگی کا گہرائی میں جا کر مطالعہ کریں تو آپ محسوس کریں گے کہ یہ شیطان کے وعدوں کی گرفت میں آچکا ہے۔ جس طرح سراب کے پیچھے بھاگنے والا فریب نظر سے کبھی جان نہیں چھڑا سکتا اس طرح ہر وہ شخص جو شیطان کے وعدے پر اعتبار کرتا ہے اور اس کی دی ہوئی امیدوں میں بہکتا ہے اسے بھی اس فریب نظر سے نکلنے کا کبھی موقع نہیں نکلتا اور بالآخر اسی میں برباد ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ مَاْوٰہُمْ جَہَنَّمُ ز وَلَا یَجِدُوْنَ عَنْہَا مَحِیْصًا
” ان لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘ جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے۔ “ (النسآء : 121)
Ayah 4:122وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا ط وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا
” اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا۔ “ (النسآء : 122)
شیطان کی پرفریب چالوں ‘ اس کے وعدوں اور اس کی امیدوں کے بہلاو وں کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ نجات پانے والے شیطان کے وعدوں پر بھروسہ کرنے والے لوگ نہیں ‘ ان کی حیثیت تو فریب نظر سے زیادہ نہیں۔ اور فریب نظر کے پیچھے بھاگنے والا ہمیشہ ہلاک ہوتا ہے۔ حقیقی نجات پانے والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ یعنی جن جن بنیادی حقیقتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان سب کو دل کے اطمینان کے ساتھ مانیں اور پھر جیسے جیسے اسلامی شریعت نے احکام دیے ہیں ان پر عمل کریں تو یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہم ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بات شیطان کی وعدوں کی طرح فریب نظر نہیں ہے۔ بلکہ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ اور اللہ سے بڑھ کر کون ہے جو اپنی بات میں سچا ہوگا۔ اس کی فرمائی ہوئی ہر بات پتھر پر لکیر ہے۔ اور اس کا ہر حرف حرف آخر ہے۔ اس لیے حقیقی انجام اس شخص کو نصیب ہوگا جو اللہ کے وعدوں پر اعتماد کرے گا ‘ اسی پر ایمان لائے گا اور اسی کے احکام پر عمل کرے گا۔
Ayah 4:123لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَلَآاَمَانِیِّ اَہْلِ الْکِتٰبِ ط مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَبِہٖ لا وَلَایَجِدْلَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّلَا نَصِیْرًا
” نہ تمہاری امیدوں پر مدار ہے نہ اہل کتاب کی امیدوں پر ‘ جو کوئی برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا اور وہ اپنے لیے اللہ کے مقابل کوئی کارساز اور مددگار نہ پا سکے گا۔ “ (النسآء : 123)
شانِ نزول
یوں تو اس آیت کریمہ میں ایک اصولی بات فرمائی گئی ہے لیکن ہمارے مفسرین کرام نے ایک شان نزول بھی لکھا ہے جس سے بات مزید واضح ہوجاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی۔ اہل کتاب نے کہا ” ہم تم سے افضل و اشرف ہیں۔ کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے اتری ہے۔ “ مسلمانوں نے کہا کہ ” ہم تم سب سے افضل ہیں اس لیے کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ﷺ ہیں اور ہماری کتاب آخری کتاب ہے۔ جس نے پہلی سب کتابوں کو منسوخ کردیا ہے۔ “ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب کو ایسے ہی تصورات نے عمل کی زندگی سے بیگانہ کردیا۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہم چونکہ انبیاء کرام کی اولاد ہیں ‘ ہمارے پاس آسمانی کتابیں ہیں ‘ اس لیے ہم سب سے افضل و اشرف ہیں۔ قیامت کے دن ہم سے اولاً تو باز پرس ہوگی ہی نہیں اور اگر ہوئی بھی تو ہمارے آبائو اجداد ہمیں چھڑا لیں گے۔ مسلمانوں اور اہل کتاب دونوں سے خطاب کرتے ہوئے یہاں فرمایا گیا ہے کہ ایسی آرزوئیں نہ اہل کتاب کے کام آئیں اور نہ اے مسلمانو ! تمہارے کام آئیں گی۔ اللہ کسی قوم کے بارے میں یہ نہیں دیکھتا کہ اس کا رشتہ کس سے ہے بلکہ وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ ان کے اعمال کیسے ہیں ؟ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور اس کی جزا و سزا کا طریقہ بالکل بےلاگ ہے۔ جب اس کے سامنے کوئی شخص یا کوئی قوم لائی جائے گی تو وہ اس کا شجرہ نسب نہیں دیکھے گا ‘ بلکہ اس کانامہ عمل دیکھے گا۔ جس شخص نے بھی کوئی برائی کی ہوگی اسے اس کی سزا ضرور دی جائے گی۔ پھر اس سزا سے بچنے کے لیے نہ انھیں کوئی ولی ‘ یعنی کارساز ملے گا اور نہ کوئی مددگار ملے گا جن کے بل بوتے پر اہل کتاب نے بدمستیوں کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ اس روز ان کے کام نہیں آئیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ سخت پریشان ہوئے ‘ جامع ترمذی اور تفسیر ابن جریر نے حضرت صدیق اکبر ( رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب یہ آیت سنائی تو ان پر ایسا اثر ہوا جیسے ان کی کمر ٹوٹ گئی ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اسے محسوس فرمایا اور پوچھا ” کیا بات ہے ؟ “ صدیق اکبر ( رض) نے عرض کیا ” حضور ! ہم میں ایسا کون شخص ہے جس سے کبھی نہ کبھی برائی کا صدور نہیں ہوتا۔ اور جب ہر برائی کی جزا ملنا ضروری ہے تو ہم میں سے کون بچ سکے گا ؟ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” ابوبکر ! آپ اور آپ کے مومن بھائی پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ دنیا کی تکالیف کے ذریعہ آپ لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ “ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ” کیا تم لوگ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا تمہیں کوئی مصیبت اور غم نہیں پہنچتا ؟ “ صدیق اکبر ( رض) نے عرض کیا “ بیشک سب چیزیں لاحق ہوتی ہیں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” بس یہی جزا ہے تمہاری برائیوں کی۔ “ ایک اور حدیث میں ہے کہ ” بندہ کو جو بخار ہوتا ہے یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے یا کوئی کانٹا لگتا ہے تو اس کے گناہوں کفارہ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی شخص اپنی کوئی چیز ایک جیب میں تلاش کرے مگر دوسری جیب میں ملے اتنی مشقت بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔ “
Ayah 4:124وَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلِمُوْنَ نَقِیْرًا
” اور جو نیکی کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہے یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ “ (النسآء : 124)
اس آیت کریمہ نے پہلی آیت کریمہ کے مضمون کو مکمل کیا ہے۔ اس میں صرف یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ لیکن ایمان کا ذکر نہیں کیا۔ اور اس سے یہ غلط فہمی ہوسکتی تھی کہ اس معاملے میں کافر اور مومن اور سابقہ اہل کتاب شاید سب برابر ہیں۔ کیونکہ بات صرف عمل کی کی گئی ہے۔ لیکن اس آیت کریمہ نے اس غلط فہمی کو دور کردیا۔ اس میں پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ نجات کا دارومدار کسی نسبت پر نہیں ‘ اعمال پر ہے۔ اور یہ وہ ہمہ گیر اور انقلاب انگیز اعلان ہے جو اسلام سے پہلے اس اہمیت کے ساتھ کہیں سنائی نہیں دیتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ افراد اور اقوام کی پہچان ان کے حسب و نسب ‘ انکی قوت و شوکت اور ان کی نسبتیں نہیں ‘ بلکہ حسن عمل اور حسن کردار ہے۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا یہ شخص کون ہے ‘ یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا کردار کیا ہے ‘ اس کی صلاحیتیں کیسی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس بنیادی شناخت میں مرد اور عورت کی تخصیص نہیں۔ بلکہ دونوں میں سے جو بھی اپنے آپ کو حسن عمل اور حسن کردار سے آراستہ کرے گا وہی اللہ کے ہاں نجات کا مستحق بنے گا اور مسلمان معاشرے میں اسے ہی عزت نصیب ہوگی۔ اور تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اس عمل کی بنیاد ایمان پر ہے۔ اگر وہ شخص صاحب ایمان نہیں تو اس کے عمل کا کوئی اعتبار نہیں۔ آخری پیغمبر اور آخری کتاب آجانے کے بعد یہ ضروری ہے کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والے اور دوسرے انبیاء پر ایمان رکھنے والے اس آخری پیغمبر اور آخری شریعت پر ایمان لائیں۔ اور اگر وہ اس سے انکار کریں گے تو محض ان کا عمل ان کی نجات کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ لیکن اگر وہ ان شرائط کو پورا کردیں تو پھر عربی اور عجمی اور کالے گورے میں کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔ اللہ کے یہاں سب کو ایمان و عمل کا اجر ملے گا اور کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی بےانصافی نہیں ہوگی۔