4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

(اور جب تم سفر میں نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوۃِ صلے ق اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط اِنَّ الْـکٰفِرِیْنَ کَانُوْا لَـکُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا ” اور جب تم سفر میں نکلو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز میں قصر کرو۔ اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں۔ “ (النسآء : 101) آیت کا ربط جہاد اور ہجرت کا مضمون جاری ہے۔ اسی سیاق کلام میں نماز کا ذکر آگیا ہے۔ بظاہر وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ ہجرت بھی ایک سفر کا نام ہے اور جہاد میں سفر بھی ہوتا ہے اور دشمن کی طرف سے حملے کا اندیشہ بھی۔ اس لیے دونوں کے حوالے سے نماز قصر کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ہجرت کا سفر ہو یا کوئی اور تمہیں نماز قصر کرنے کی اجازت ہے اور اسی طرح اگر جنگ کے لیے بیشک لمبا سفر درپیش نہ ہو لیکن دشمن کی طرف سے حملے کے اندیشے کے باعث ایک خوف کی کیفیت ہو تو صلاۃ الخوف پڑھنے کی بھی اجازت ہے۔ اور صلاۃ الخوف میں نماز قصر کی جائے گی۔ لیکن اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پیش نظر ہجرت ہو یا جہاد ‘ ان دونوں میں حقیقی روح پیدا کرنے اور صحیح معنی میں اسے ہجرت اور جہاد بنانے میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ایک بندے کا اللہ سے رشتہ ہے۔ جسے ہم بندگی کہتے ہیں یہ تعلق اور یہ رشتہ جتنا خالص اور جتنا مضبوط ہوتا جاتا ہے اتنا ہی وہ عمل اللہ کے ہاں زیادہ اجر وثواب کا مستحق ہوتا جاتا ہے۔ بلکہ جس عمل کی قبولیت کی امید کی جاسکتی ہے وہ صرف وہ عمل ہے جس میں اللہ کے ساتھ اخلاص پایا جاتا ہو۔ ہجرت میں اگر یہ روح باقی نہ رہے تو وہ صرف ایک نقل مکانی ہے اور اگر جہاد سے یہ روح نکل جائے تو وہ جہاد ” فساد فی الارض “ بن جاتا ہے۔ حالانکہ جہاد کا اصل مقصد اللہ کی زمین سے فساد ختم کرنا ہے۔ بظاہر یہ خونریزی ہے لیکن حقیقت میں خونریزی روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔ نماز ہجرت اور جہاد کی روح ہے نماز ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کا تعلق اللہ سے قائم کرنے میں سب سے موثر عامل ہے۔ آدمی نیت باندھتے وقت پھر رکوع و سجود کرتے وقت پھر قیام و قعود میں اللہ کے ذکر کے سوا اور کچھ نہیں کرتا۔ اسی کی تسبیح کرتا ہے ‘ اسی کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے ‘ اسی سے دعائیں کرتا ہے ‘ اسی سے استغفار کرتا ہے اور اسی کے تصور میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشق ہے جو اگر شعور کے ساتھ کی جائے تو کرنے والے کا دل و دماغ اللہ کے تعلق کے حوالے سے تقویٰ اور اخلاص کا سر چشمہ بن جاتا ہے۔ اور مزید یہ کہ یہاں ذکر صرف نماز کا نہیں بلکہ باجماعت نماز کا ہے۔ اس سے جماعت کا اہتمام اور جماعت کی پابندی کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے۔ اور یہی جماعت امت میں شیرازہ بندی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اور یہی نماز کی صفیں فوج میں نظم و ضبط پیدا کرتی ہیں۔ اور فوج کی صفیں نماز کی صفوں کی یاد دلا کر دلوں میں سوزو گداز پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نماز ‘ ہجرت اور جہاد دونوں کی روح پیدا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے ہجرت اور جہاد کے سیاق وسباق میں نماز کا ذکر اجنبی نہیں بلکہ روح کی مانند ہے۔ وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ کا مفہوم وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ (اور جب تم سفر میں نکلو) آیت کے یہ الفاظ جہاد کے سفر کے لیے مخصوص نہیں۔ بلکہ ہر سفر کے لیے یہی تعبیر اختیار کی جاتی ہے۔ البتہ جہاں صرف جہاد کا ذکر مقصود ہو وہاں ” ضربتم فی سبیل اللہ “ کہا جاتا ہے کہ جب تم اللہ کے راستے میں نکلو “ یعنی جب تم جہاد کے لیے نکلو۔ تو ضربتم فی الارض کا استعمال بجائے خود اس بات کی دلیل ہے ‘ کہ یہاں مقصود صرف جہاد کا سفر نہیں بلکہ ہر وہ سفر مراد ہے جو کسی بھی اردے سے کیا جائے اور جہاد کا سفر بھی اس میں شامل ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آگے نماز میں جو قصر کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے اس کا تعلق صرف صلاۃ الخوف سے نہیں بلکہ ہر نماز سے ہے۔ اور احادیث اور امت کا تعامل بھی اس بات پر شاہد ہے کہ قصر صرف صلاۃ الخوف میں ہی جائز نہیں بلکہ ہر نماز میں قصر جائز ہے جو سفر کے دوران ہو۔ اس لیے ہم سب سے پہلے زمانہ امن کے سفر میں قصر کی تفصیل عرض کرتے ہیں۔ جو نمازیں چار رکعت پر مشتمل ہیں ان میں قصر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں دو رکعتیں پڑھی جائیں گی۔ اور جو نمازیں تین یا دو پر مشتمل ہیں ان میں قصر نہیں ہوگی۔ البتہ فرض رکعتوں کے علاوہ جہاں تک سنتوں اور نوافل کر تعلق ہے اس میں آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ فجر کی سنتیں اور عشاء کے وترتو آپ التزام سے ادا فرماتے تھے۔ مگر باقی نمازوں میں آپ ﷺ صرف فرض پڑھتے تھے ‘ سنتیں پڑھنا آپ ﷺ سے ثابت نہیں۔ البتہ نفل نمازوں کا جب بھی موقع ملتا پڑھ لیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سواری پر بیٹھے ہوئے بھی نوافل پڑھتے رہتے تھے۔ اسی بناء پر حضرت عبداللہ بن عمر نے لوگوں کو سفر میں فجر کے سوا دوسرے اوقات کی سنتیں پڑھنے سے منع کیا ہے۔ مگر اکثر علماء ترک اور فعل دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں اور اسے ہر شخص کے اختیار پر چھوڑتے ہیں کہ وہ چاہے تو پڑھے اور چاہے تو نہ پڑھے۔ حنفیہ کا مختار مذہب یہ ہے کہ مسافر جب راستہ طے کر رہا ہو تو سنتیں نہ پڑھنا افضل ہے اور جب کسی مقام پر جا کر ٹھہر جائے اور اطمینان میسر آجائے تو پھر سنتیں پڑھنا افضل ہے۔ بعض آئمہ کرام کا خیال یہ ہے کہ نماز قصر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سفر کرنے والے کا سفر فی سبیل اللہ ہو۔ یعنی وہ کسی جائز اور پسندیدہ مقصد کے لیے سفر کر رہا ہو۔ لیکن اگر کسی ایسے مقصد کے لیے سفر کر رہا ہو جو شرعاً ناجائز ہو تو اس میں قصر کی اجازت سے فائدہ اٹھانے کا اسے کوئی حق نہیں۔ لیکن حنفیہ کہتے ہیں کہ قصر ہر سفر میں کیا جاسکتا ہے۔ سفر کی نوعیت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ سفر کا جائز یا ناجائز ہونا بجائے خود ایک عمل ہے جس کی الگ بازپرس ہوگی۔ اور نماز ایک الگ عمل ہے جس کے قصر ہونے کا دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ آدمی مسافر ہو ‘ قطع نظر اس سے کہ اس کا سفر جائز ہے یا ناجائز۔ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌاس سے بعض اہل علم نے یہ سمجھا ہے کہ سفر میں قصر کرنا ضروری نہیں ہے۔ اگر ضروری ہوتا تو یہ نہ فرمایا جاتا کہ قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اس سے تو صرف اجازت معلوم ہوتی ہے۔ آدمی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے چاہے نہ اٹھائے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ قصر کرنا واجب ہے۔ ان کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سفر میں ہمیشہ قصر فرمایا اور کسی معتبر روایت میں یہ منقول نہیں کہ آپ نے کبھی سفر میں چار رکعتیں پڑھی ہوں۔ حضرت ابن عمر ( رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور حضرت عثمان ( رض) کے ساتھ سفروں میں رہا ہوں ‘ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انھوں نے سفر میں قصر نہ کیا ہو اور دیگر صحابہ سے اس کی تائید میں بہت سی روایات ملتی ہیں۔ ان کثیر روایات کے خلاف دو روایتیں حضرت عائشہ ( رض) سے مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قصر اور اتمام دونوں درست ہیں۔ لیکن یہ روایتیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہونے کے علاوہ خود حضرت عائشہ ( رض) کے ثابت شدہ مسلک کے خلاف ہیں۔ دوسری دلیل امام ابوحنیفہ ( رح) کی یہ ہے کہ حضرت عمر ( رض) نے ” فلاجناح علیکم “ کے حوالے سے ہی نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو حضور ﷺ نے فرمایا ” صدقۃ تصدق اللہ بہا علیکم فاقبلوا صدقتہ “ (یہ قصر کی اجازت ایک انعام ہے جو اللہ نے تمہیں بخشا ہے لہٰذا اس کے انعام کو قبول کرو) بادشاہوں کے انعام رد کردینا یا لوٹا دینا توہین سمجھا جاتا ہے اور ایسا کرنے والا گرفت میں آجاتا ہے۔ اللہ جیسے شہنشاہِ کائنات کے انعام کو تو دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ اور اس پر شکر بھی ادا کرنا چاہیے کہ اللہ نے ہم کمزور لوگوں پر کیسے کیسے انعامات کیے ہیں۔ رہی یہ بات کہ آخر یہ جملہ کیوں ارشاد فرمایا گیا تو اس کی مثال اس سے پہلے بھی ہم اسی سورت میں پڑھ چکے ہیں۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے حوالے سے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ” صفا اور اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ان دونوں کے درمیان سعی کرو۔ “ تو بعض صحابہ نے اس سے یہ سمجھا کہ سعی کرنا ضروری نہیں بلکہ ہمیں اختیار دے دیا گیا ہے کہ چاہیں تو سعی کریں چاہیں تو نہ کریں۔ لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے انکی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہاں اختیار نہیں دیا گیا بلکہ ایک غلط فہمی کا ازالہ فرمایا گیا ہے۔ مسلمان جب عمرہ کی قضا کرنے کے لیے سات ہجری میں مکہ معظمہ میں آئے تو انھوں نے دیکھا کہ مشرکین مکہ نے صفا اور مروہ پر دو بت رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام اساف اور دوسرے کا نام نائلہ تھا۔ ان کو خیال گزرا کہ اگر ہم نے صفا ومروہ کی سعی کی تو یہ دونوں بتوں کے طواف کے مترادف ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم سعی نہ کریں کیونکہ بتوں کا طواف اسلام میں سب سے بڑا جرم ہے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ ان بتوں کی موجودگی میں تمہارے لیے سعی کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ کیونکہ سعی مناسک حج میں سے ہے اور اس کی ادائیگی واجب ہے۔ یہاں بھی ایک اشتباہ کا ازالہ مقصود ہے۔ وہ یہ کہ بعض مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ قصر کرنے کی اجازت اسے ہے جو پوری نماز نہ پڑھ سکتا ہو۔ یہ ایک سہولت ہے جو کمزوروں کو دی گئی ہے۔ لیکن جو پوری نماز پڑھ سکتا ہو اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے۔ اور استطاعت کے ہوتے ہوئے قصر کرنا شاید گناہ کا باعث نہ ہو۔ ان کا اشتباہ دور کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ تم اگر قصر کرو تو تمہارے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں ہوگی۔ یہ تو ایک حکم کی تعمیل ہے اسلام تو تعمیلِ حکم کا نام ہے۔ اور اپنے آپ کو پوری طرح سے اللہ کے سپرد کردینے کا نام ہے۔ وہ دو کا حکم دے تو دو پڑھو اور چار کا حکم دے تو چار پڑھنا اسلام کے حکم کا تقاضا ہے۔ مقصود رکعتوں کی تعداد نہیں ‘ مقصود تو وہ اطاعت ہے جو مکمل خشوع و خضوع سے کی جائے۔ حالتِ سفر میں قصر کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ کتنے سفر پر قصر کیا جائے۔ یعنی مقدارِ سفر کیا ہو ؟ َظاہریہ کے نزدیک تو ہر سفر میں قصر کیا جاسکتا ہے چاہے وہ چند میل پر مشتمل کیوں نہ ہو۔ البتہ احناف کے نزدیک ایسے سفر پر قصر کرنے کی اجازت ہے جس کی مسافت میں پیدل یا اونٹ کی سواری سے تین دن صرف ہوتے ہوں۔ اس کا اندازہ 54 میل لگایا گیا ہے ‘ لیکن فتویٰ 48 میل پر ہے۔ یہی غالباً امام مالک (رح) کا بھی موقف ہے۔ ایک بحث یہ ہے کہ مسافر کب تک مسافر رہتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں کوئی صریح حکم مروی نہیں۔ اس لیے اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت قیام پر پوری نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور اگر کسی جگہ آدمی مجبوراً رکا ہوا ہو مثلاً کہیں پہاڑوں پر گیا اور برف باری کی وجہ سے راستے بند ہوگئے یا اور کوئی ایسا حادثہ ہوگیا کہ وہ واپس آنا چاہتا ہے لیکن آ نہیں پاتا۔ لیکن روزانہ یہ کوشش کرتا ہے کہ موقع ملے تو چلا جاؤں۔ اس طرح سے چاہے کتنا بھی وقت گزر جائے نماز قصر ہی کی جائے گی۔ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کردیں گے) یعنی میدانِ جنگ میں ہر وقت اس بات کا اندیشہ ہوتا ہے کہ غنیم کہیں حملہ نہ کر دے۔ ایسی صورت میں لمبی نماز پڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ چناچہ قصر کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ یہ صلاۃ الخوف صرف آنحضرت ﷺ کے زمانے میں مشروع تھی اب اس کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ سے قریب قریب تواتر سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امن اور خوف دونوں حالتوں میں قصر فرمایا۔ حضرت ابن عباس ( رض) کی روایت ہے ” ان النبی ﷺ خرج من المدینۃ الی مکۃ لا یخاف الا رب العالمین فصلی رکعتین “ ( نبی کریم ﷺ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور اس وقت رب العالمین کے سوا کسی کا خوف نہ تھا مگر آپ نے دو ہی رکعتیں پڑھیں)
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور اے نبی ! جب آپ مسلمانوں کے درمیان ہوں اور (حالت جنگ میں) نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اسلحہ لیے رہے ‘ پھر وہ جب سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لیے رہے۔ کیونکہ کافر یہ چاہتے ہیں کہ اگر تم غافل ہوجائو اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور تم پر کوئی حرج نہیں اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا بیمار ہوجائو تو تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور اپنے بچائو کو ملحوظ رکھو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے

وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ مَّعَکَ وَلْیَاْخُذُوْٓااَسْلِحَتَہُمْ قف فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِکُمْ ص وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَہُمْ وَاَسْلِحَتَہُمْ ج وَدَّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَ اَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَّیْلَۃً وَّاحِدَۃً ط وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَنْ تَضَعُوْٓا اَسْلِحَتَکُمْ ج وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ اَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا ” اور اے نبی ! جب آپ مسلمانوں کے درمیان ہوں اور (حالت جنگ میں) نماز پڑھانے کھڑے ہوں تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اسلحہ لیے رہے ‘ پھر وہ جب سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آ کر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنا اسلحہ لیے رہے۔ کیونکہ کافر یہ چاہتے ہیں کہ اگر تم غافل ہوجاؤ اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں۔ اور تم پر کوئی حرج نہیں اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا بیمار ہوجاؤ تو تم اپنے ہتھیار اتار کر رکھ دو اور اپنے بچائو کو ملحوظ رکھو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ “ (النسآء : 102) وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلٰوۃَ ( اے پیغمبر جب آپ ان میں ہوں اور پھر ان کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوں) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آگے نماز کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی کی وجہ سے ضروری تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی دوسرے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جاسکتی اور خود مسلمانوں کا جو آپ ﷺ سے عقیدت و محبت کا رشتہ تھا اس کی وجہ سے ہر سپاہی کی شدید خواہش ہوتی تھی کہ میں آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھوں۔ اور حالت جنگ میں اس خواہش میں اس لیے بھی اور اضافہ ہوجاتا تھا کیونکہ ہر سپاہی یہ سمجھتا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس جنگ میں مجھے شہادت نصیب ہو اور زندگی کی یہ میری آخری نماز ہو تو میں کیوں نہ اسے آنحضرت ﷺ کے پیچھے پڑھوں۔ لیکن آج جبکہ جنگ کے حالات بدل گئے ہیں اور پھر آنحضرت ﷺ بھی فوج میں موجود نہیں ہوں گے تو اب جس طریقے سے بھی نماز پڑھی جاسکتی ہو نماز پڑھنی چاہیے۔ الگ الگ جماعتیں مختلف آئمہ کے پیچھے حالات کے مطابق پڑھی جاسکتی ہیں۔ الگ الگ کمپنیاں اور بٹالینز الگ الگ جماعت کا اہتمام کریں۔ اور اگر جماعت نہ ہوسکتی ہو تو اپنے اپنے مورچوں میں الگ الگ نماز پڑھ لیں لیکن نماز پڑھنا بہرحال ضروری ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ خود اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ نے عین جنگ کے دوران صلاۃ الخوف پڑھنے کا حکم دیا اور جنگ خندق میں شدید تیر اندازی کے باعث آپ ﷺ نماز نہیں پڑھ سکے تھے تو آپ ﷺ اس پر اس قدر دل گرفتہ تھے کہ آپ ﷺ نے دشمنوں کے حق میں بددعا دیتے ہوئے فرمایا ” اللہ ان کے گھر انگاروں سے بھر دے انھوں نے ہماری نماز قضاء کردی۔ “ البتہ بعض لوگ اس آیت سے یہ سمجھتے ہیں کہ صلاۃ الخوف کا جواز صرف آنحضرت ﷺ کی موجودگی کی وجہ سے تھا اب سرے سے اس نماز کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ یہ بات سراسر غلط ہے۔ کیونکہ حدیث سے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد مختلف مواقع پر صلاۃ الخوف پڑھی۔ رہی یہ بات کہ صلاۃ الخوف پڑھنے کا طریقہ کیا ہے ؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے مختلف حالات میں مختلف طریقوں سے نماز پڑھائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طریقے سے حالات کے مطابق نماز پڑھنا ممکن ہو اسی طرح امام کو نماز پڑھانی چاہیے۔ اس سلسلے میں نماز کے کئی طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ لیکن ان میں جو زیادہ معروف ہیں وہ چار ہیں۔ 1 ایک طریقہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ امام کی ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا حصہ دشمن کے مقابلہ پر رہے۔ پھر جب ایک رکعت پوری ہوجائے تو پہلا حصہ سلام پھیر کر چلا جائے اور دوسرا حصہ آ کر دوسری رکعت امام کے ساتھ پوری کرے۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں ہوں گی اور فوج کی ایک رکعت۔ لیکن اس طریقے کو اکثر آئمہ نے دو وجہ سے قبول نہیں کیا ایک تو یہ کہ اس طرح سے امام اور مقتدی کی نیت میں موافقت نہیں رہتی۔ امام دو رکعت پڑھتا ہے اور ظاہر ہے اسی کی نیت کرتا ہے اور مقتدی ایک رکعت پڑھے گا اور ایک ہی رکعت کی نیت کرے گا۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک رکعت کی نماز سلام میں مشروع نہیں۔ مزید یہ کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ اس کے متحمل نہیں ہوتے۔ اس میں فرمایا گیا ہے ” فاذا سجدوا “ کہ جب پہلے گروہ کے لوگ ایک رکعت پڑھ چکیں تو وہ پیچھے چلے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ان کی نماز باقی ہے۔ اگر ان کی نماز کے اختتام کی طرف اشارہ کرتا ہوتا تو ” فاذا سجدت “ ہونا چاہیے تھا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلا جائے پھر دوسرا حصہ حصہ آ کر ایک رکعت امام کے پیچھے پڑھے ‘ پھر دونوں حصے باری باری سے آ کر اپنی چھوٹی ہوئی ایک ایک رکعت بطور خود ادا کریں۔ اس طرح دونوں کی ایک ایک رکعت امام کے پیچھے ادا ہوگی اور ایک ایک رکعت انفرادی۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور جب امام دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو تو مقتدی بطور خود ایک رکعت مع تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ پھر دوسرا حصہ آ کر اس حال میں امام کے پیچھے کھڑا ہو کہ ابھی امام دوسری ہی رکعت میں ہو اور یہ لوگ بقیہ نماز امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد ایک رکعت خود اٹھ کر پڑھ لیں۔ اس صورت میں امام کو دوسری رکعت میں طویل قیام کرنا ہوگا۔ یہ دونوں طریقے یعنی نمبر دو اور نمبر تین قرآن کریم میں دی گئی تفصیل کے مطابق معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ دوسرے طریقے کو حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) نے اختیار کیا ہے اور احناف بھی اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ چوتھا طریقہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ امام کے ساتھ دو رکعتیں ادا کرے اور تشہد کے بعد سلام پھیر کر چلا جائے۔ پھر دوسرا حصہ تیسری رکعت میں آ کر شریک ہو اور امام کے ساتھ سلام پھیرے۔ اس طرح امام کی چار اور فوج کی دو رکعتیں ہوں گی۔ لیکن اس طریقے میں بھی وہی سقم موجود ہے جس کا ہم پہلے طریقے میں ذکر کرچکے ہیں۔ کہ اس طریقے میں امام اور مقتدی کی نیت اور نماز میں موافقت نہیں رہتی۔ امام چار کعت کی امامت کرتا ہے اور مقتدی دو رکعت میں اقتدا کر کے فارغ ہوجاتے ہیں۔ ہم نے روایات سے جو طریقے ثابت ہیں ان میں سے مشہور چار طریقوں کا ذکر کردیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ صلاۃ الخوف کا یہ حکم اس صورت میں ہے کہ دشمن کے حملہ کا خطرہ تو ہو لیکن عملاً معرکہ قتال گرم نہ ہو۔ یعنی ابھی لڑائی چھڑی نہ ہو۔ لیکن اگر لڑائی چھڑ چکی ہو ‘ تیر اندازی ہو رہی ہو ‘ یا گولیاں چل رہی ہوں تو اس صورت میں حنفیہ کے نزدیک نماز موخر کردی جائے گی۔ نبی کریم ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پر چار نمازیں قضا فرمائیں اور پھر موقع پا کر علی الترتیب انھیں قضا کیا۔ حالانکہ غزوہ خندق سے پہلے صلاۃ الخوف کا حکم آچکا تھا۔ مزید یہ بات بھی یاد رہے کہ جس طرح حالت جنگ میں صلاۃ الخوف پڑھنے کی اجازت ہے اسی طرح اگر خوف کی کوئی اور صورت پیدا ہوجائے مثلاً کوئی شیر یا اژدھا راستہ روک لے یا قزاق اور ڈاکو راستہ روک کر بیٹھ جائیں اور کسی وقت بھی قافلے پر حملے کا اندیشہ ہو یا اس کے علاوہ خوف کی کوئی اور صورت پیدا ہوجائے تو ایسی حالت میں بھی صلاۃ الخوف پڑھی جاسکتی ہے۔ آیت میں نماز اور مسلح رہنے پر زور دیا گیا ہے اس آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا کہ دو باتوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ ایک تو یہ بات کہ حالات کیسے بھی شدید ہوجائیں اور خطرہ سر پر کیوں نہ آپہنچے اگر کسی حد تک بھی نماز پڑھنے کی گنجائش ہو تو نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اگر جماعت ہوسکتی ہو تو جماعت کا اہتمام واجب ہے اور اگر جماعت ممکن نہ ہو تو الگ الگ نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نگاہ میں نماز چونکہ تعلق باللہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور اللہ سے وفاداری کا اظہار ہے اس لیے نہایت خطرناک حالات میں بھی اسے چھوڑا نہیں جاسکتا۔ مزید برآں خطرے کی حالت میں انسان سب سے زیادہ مدد کا محتاج ہوتا ہے اور ایک مسلمان ہمیشہ اپنے اللہ سے مدد مانگتا ہے۔ نماز میں جب وہ قیام میں ہوتا ہے تو وہ اللہ سے درخواست کرتا ہوا کہتا ہے ” اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن “ ( ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں) قیام کی حالت اللہ کے سامنے اظہارِ غلامی کی حالت ہے۔ ایسی صورت میں اللہ سے جو مدد مانگی جائے گی وہ بےنیازذات اپنے غلاموں کو مایوس نہیں کرے گی۔ تو نماز اس لیے بھی ضروری ٹھہرائی گئی تاکہ ایسے خطرے کی حالت میں مسلمان اللہ سے مدد مانگ سکیں۔ دوسری بات جو اس آیت میں تاکید سے کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ تمہیں نماز کی حالت میں بھی مسلح رہنا چاہیے۔ ہتھیار اتارنے کی کبھی غلطی نہ کرنا۔ حتیٰ کہ اگر بارش یا بیماری کے باعث تمہیں ہتھیار اٹھانے سے زحمت ہوتی ہو اور اسے تکلیف کا باعث محسوس کرو تو پھر تمہیں اجازت ہے کہ ہتھیار اتار دو ۔ لیکن ” حذر “ سے غافل پھر بھی نہ ہونا۔ حذر سے مراد دفاعی آلات جنگ بھی ہیں اور ہر ممکن احتیاط بھی۔ ہتھیار اتار کر بھی تمہاری ہوشیاری اور بےدار مغزی میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ حالات کو سونگھتے رہو اور ہتھیاروں کو اپنے اتنا قریب رکھو کہ جیسے ہی خطرہ محسوس کرو فوراً ہتھیار اٹھا لو۔ اس تاکید کی وجہ یہ ہے کہ کافر اس انتظار میں ہیں کہ جیسے ہی تم نماز میں مشغول ہو کر حالات سے بیخبر اور اسلحہ سے خالی ہوجاؤ تو وہ اچانک یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ غیر مسلح آدمی فوری طور پر مسلح نہیں ہوسکتا اور غیر مسلح ‘ مسلح آدمی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ نماز کی پابندی اور اسلحہ کی پابندی کا حکم پہلو بہ پہلو دیا جا رہا ہے۔ نماز کے ساتھ ساتھ بار بار مسلح رہنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ اسلام تدبیر اور توکل کا حسین امتزاج اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام دراصل تدبیر اور توکل کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ وہ ایک طرف تو مومن کو یہ عقیدہ دیتا ہے کہ تمہارے تمام معاملات کا سررشتہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کا ارادہ اسباب پر حکمرانی کرتا ہے۔ اسباب سے تعلق ٹوٹ جائے لیکن اللہ سے تعلق ٹوٹنے نہ پائے۔ وہی تمہاری مدد کرتا ہے اور وہی تمہیں فتح و نصرت سے نوازتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ آلات جنگ کی بہم رسانی تمہاری ذمہ داری ہے۔ یہ تمہارے فرائض میں سے ایک فرض ہے۔ اس میں کوتاہی کرو گے تو اللہ کے ہاں جوابدہی کرنا پڑے گی اور ممکن وسائلِ جنگ ساتھ لے کر میدانِ جنگ میں اترو۔ جنگ کے جو بظاہر اسباب ہوسکتے ہیں ان سے غفلت مت کرو۔ لیکن بھروسہ وسائل جنگ پر نہیں اللہ پر رکھو۔ تمہاری حقیقی کامرانی اسی کے ہاتھ میں ہے لیکن وسائل جنگ کی فراہمی بھی اسی کا حکم ہے۔ حکم بجا لائو گے تو اس کی نصرت آئے گی اور نافرمانی کرو گے تو اس کی تائید و نصرت سے محروم ہوجاؤ گے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمان اللہ کی تائید و نصرت حاصل کرنے کے لیے ان دونوں باتوں کے پابند ہیں۔ وہ امکانی حد تک حالات کے تقاضوں کے مطابق آلات جنگ تیار کریں ” اَعِدُّوْا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ “ کے حکم کے تحت امت مسلمہ ہر دور میں آلات جنگ تیار کرنے کی پابند ہے۔ تلوار کے دور میں تلوار تیار کرنا ضروری تھا ‘ گھوڑوں کے زمانے میں گھوڑے پالنا فرض تھا اور آج کے دور میں ایٹمی طاقت بننا اور ٹینک تیار کرنا مسلمانوں کی شرعی ذمہ داری ہے۔ یہ اسی طرح فرض ہے جیسے نماز پڑھنا فرض ہے۔ اس میں کوتاہی کا خمیازہ دنیا میں بھی بھگتنا پڑے گا اور آخرت میں بھی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ہر سطح پر نماز کا اہتمام کرنا ہوگا۔ اور نماز چونکہ منکرات سے روکتی ہے اس لیے تمام منکرات کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ یہ دو باتیں ہر دور میں فتح و نصرت کی ضمانت رہی ہیں اور آج بھی یہی ضمانت ہیں۔ اللہ کے قوانین ہر دور میں یکساں ہیں۔ سچ کہا ظفر علی خان نے : ؎ فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی آخر میں فرمایا کہ اطمینان کے طور پر یہ بات یاد رکھو کہ تم اگر اپنی مستعدی نماز کی پابندی اور اللہ کی اطاعت میں کوئی کمی نہ آنے دو تو یقینا تمہیں اللہ کی نصرت شامل حال ہوگی۔ جہاں تک کافروں کا تعلق ہے ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب اللہ نے پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔ وہ تو اس عذاب سے اس وقت تک بچے رہتے ہیں جب تک امت مسلمہ اپنا فرض انجام نہیں دیتی۔ لیکن جیسے ہی امت اپنا فرض انجام دینے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اپنے فرض کے تقاضوں کو بروئے کار لاتی ہے تو کافروں کے لیے اللہ کا عذاب حرکت میں آجاتا ہے۔ یہ امت مسلمہ کے لیے ایک ایسی حوصلہ افزائی ہے جس پر جتنا بھی اللہ کا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پس جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ‘ بیٹھے اور لیٹے۔ پھر جب تم مطمئن ہوجائو تو پھر پوری نماز قائم کرو۔ بیشک نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ج فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ ج اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰـبًا مَّوْقُوْتًا ” پس جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو کھڑے ‘ بیٹھے اور لیٹے۔ پھر جب تم مطمئن ہوجاؤ تو پھر پوری نماز قائم کرو، بیشک نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔ “ (النسآء : 103) صلاۃ الخوف میں کمی کی تلافی ذکر اللہ کی کثرت سے جب تم نماز پڑھ چکو سے مراد یہ ہے کہ تم نے خوف کے باعث صلاۃ الخوف پڑھی ہے۔ جس میں امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کی اور باقی ایک ایک رکعت اپنے طور پر اور وہ بھی روا روی میں۔ ایک تو نماز کا قصر کرنا اور پھر اسے بھی غیر مطمئن انداز میں پڑھنا کہ ایک طرف دھیان نماز کی طرف اور دوسری طرف دھیان دشمن کے حملے کی طرف۔ اس سے یقینا طبیعت کی یکسوئی میں فرق آتا ہے اور ذکر اللہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ چناچہ ان دونوں باتوں کی تلافی کے لیے دو حکم دیے۔ پہلا حکم تو یہ دیا کہ جب تک جنگ کی کیفیت جاری ہے تمہیں نماز قصر کے ساتھ ساتھ ہر حالت میں اللہ کا ذکر جاری رکھنا چاہیے۔ تم کھڑے ہو ‘ بیٹھے ہو ‘ لیٹے ہو ‘ کوئی وقت بھی اللہ کی یاد سے غفلت میں نہ گزرے۔ تمہارے اعضاء وجوارح دشمن کے دفاع میں مصروف ہوں لیکن تمہاری زبان اور تمہارا دل اللہ کی یاد میں مشغول رہنا چاہیے۔ اسی کا ذکر دلوں کو اطمینان دیتا ہے۔ وہیں سے حوصلے کی دولت ملتی ہے۔ وہی ہے جو قدموں میں استقامت پیدا کرتا ہے اور اللہ ہی کی ذات ہے جو دشمن کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھانے والی ہے۔ اس لیے اس کی ذات اور اس کے ذکر سے زبان اور دل غافل نہ ہونے پائیں۔ اور دوسرا حکم یہ دیا کہ جب جنگ ختم ہوجائے یا رک جائے اور دشمن کا خطرہ ٹل جائے اور تمہیں اطمینان کی کیفیت محسوس ہو تو اب صلاۃ الخوف نہیں بلکہ تمہیں معمول کی مکمل نماز پڑھنی چاہیے۔ نماز کے پورے ارکان ادا ہونے چاہئیں۔ واجبات و سنن اور آداب صلاۃ کا پورا اہتمام ہونا چاہیے۔ صلاۃ الخوف میں وقت کی پوری پابندی مشکل ہوجاتی ہے لیکن اب تمہیں ہر نماز اپنے وقت پہ ادا کرنا ہوگی۔ کیونکہ وقت کے داخل ہونے سے نماز فرض ہوتی ہے۔ ہر نماز کا وقت اس نماز کی فرضیت کا باعث ہوتا ہے۔ کیونکہ مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ نماز فرض کی گئی ہے۔ اس لیے اب اس میں کمی بیشی نہیں ہونی چاہیے۔ آنحضرت ﷺ کے احکام من جانب اللہ ہیں اس میں ایک بات نہایت توجہ کے لائق ہے وہ یہ کہ یہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمانوں پر نماز وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کا ایک وقت مقرر ہے۔ اس کا ایک آغاز ہے اور ایک اختتام ہے۔ سوال یہ ہے کہ نمازوں کے یہ اوقات کس نے مقرر کیے ہیں۔ قرآن کریم نے تو کہیں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر نہیں فرمایا۔ نمازوں کے اوقات اللہ کے رسول نے مقرر فرمائے ہیں۔ اور اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اوقات کی پابندی کے ساتھ مسلمانوں پر نماز اللہ نے فرض فرمائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نمازوں کے جو اوقات مقرر کیے اور مسلمانوں پر انھیں فرض فرمایا وہ بعینہٖ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فریضہ ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کریم میں اور بھی بعض جگہ فرمائی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ دین کے معاملے میں جو بھی حکم دیتے ہیں وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں دیتے بلکہ وہ اللہ کی جانب سے دیتے ہیں۔ اور اس حکم کی اطاعت اسی طرح ضروری ہے جس طرح اللہ کے حکم کی اطاعت ضروری ہے۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور دشمن کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھائو۔ اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جس طرح تم تکلیف اٹھاتے ہو۔ اور تم خدا سے وہ توقع رکھتے ہو جو توقع وہ نہیں رکھتے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے)

وَلَا تَہِنُوْا فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ ط اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّہُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ ج وَتَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ع ” اور دشمن کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھائو۔ اگر تم تکلیف اٹھاتے ہو تو وہ بھی تکلیف اٹھاتے ہیں جس طرح تم تکلیف اٹھاتے ہو۔ اور تم خدا سے وہ توقع رکھتے ہو جو توقع وہ نہیں رکھتے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ “ (النسآء : 104) القوم کا معنی اس آیت کریمہ میں ” القوم “ کا لفظ آیا ہے جس کا ترجمہ ہم نے دشمن کیا ہے۔ کیونکہ آیت کا سیاق وسباق اس بات پر دلالت کر رہا ہے ‘ بات دشمن کی ہو رہی ہے اسی کو اب قوم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے سورة آل عمران میں اس لفظ کو اسی معنیٰ میں استعمال کیا ہے۔ ارشاد ہے : ” اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ “ ( اگر تمہیں کوئی زخم لگا تو کوئی تعجب کی بات نہیں آخر دشمن کو بھی اسی طرح کا زخم لگ چکا ہے) دشمن کے تعاقب کا حکم اور اہمیت جنگ کے نتیجے میں جنگ کے دونوں فریق زخمی ہوتے ہیں۔ دونوں طرف سے لاشیں گرتی ہیں۔ دونوں زخم اٹھاتے ہیں۔ نقصان دونوں کا ہوتا ہے ‘ کسی کا کم کسی کا زیادہ۔ البتہ جب ایک فریق جنگ سے پسپا ہوجاتا ہے تو پھر اس شکست کو مکمل کرنے کے لیے فاتح فریق بھاگنے والوں کا تعاقب کرتا ہے۔ اسی تعاقب سے فتح تکمیل پذیر ہوتی ہے۔ اور اگر تعاقب نہ کیا جائے تو اس بات کا بہت امکان ہوتا ہے کہ دشمن مجتمع ہو کر دوبارہ حملہ کر دے۔ اور یہ حملہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جب وہ حملہ کرے گا تو وہ مسلح ہوگا اور فاتح لشکر اپنی فتح کے زعم میں ہتھیار کھول چکا ہوگا۔ جس طرح جنگ احد میں جیتی ہوئی جنگ شکست میں تبدیل ہوگئی۔ چناچہ اسی تناظر میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر دشمن پسپائی اختیار کرے اور میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے تو تمہیں اس کے تعاقب میں کمزوری نہیں دکھانا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ تم زخموں سے چور ہو لیکن زخمی تو وہ بھی ہیں۔ تم نے اگر اس میں کمزوری دکھائی تو دشمن کو جمع ہونیکا موقع مل سکتا ہے۔ اور پھر اس وقت تم جو ان کی کمر توڑ سکتے ہو یہ موقع اللہ جانتا ہے پھر کب ہاتھ آتا ہے۔ اس لیے ایسے موقعوں پر زخموں سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی تعاقب میں بزدلی اور تھڑدلاپن نہیں دکھانا چاہیے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ تمہیں ایک ایسی خوش قسمتی اور سعادت حاصل ہے جس سے تمہارا دشمن محروم ہے۔ وہ یہ کہ دشمن تو اپنے لیے لڑ رہا ہے یا شیطان کے لیے دونوں صورتوں میں اس کے زخموں کی تلافی کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ خود اپنے زخم چاٹے گا اور ایک ایک زخم کو محرومی سمجھ کر غم واندوہ کی دلدل میں اترتا چلا جائے گا۔ لیکن تمہارا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ تم حق کی سربلندی کے لیے لڑ رہے ہو۔ تمہارا ایک ایک زخم جنت کا پھول بننے والا ہے۔ تمہارے پائوں میں چبھنے والا ایک ایک کانٹا جنت کی ابدی نعمتوں میں تبدیل ہونے والا ہے۔ تمہیں کل ان تکلیفوں کا جو بدلہ ملے گا تو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق تم میں ہر شخص اس بات کی آرزو کرے گا کہ کاش اللہ کے راستے میں میری کھال قینچیوں سے کاٹی گئی ہوتی تاکہ آج میں اس کا زیادہ سے زیادہ اجر وثواب حاصل کرسکتا۔ تو تم تو اپنی ہر تکلیف پر اللہ سے امیدیں رکھتے ہو۔ لیکن تمہارے دشمن کو تو اللہ سے کوئی امید نہیں۔ تمہاری یہی امید تمہارے لیے سب سے بڑے سہارے کا باعث ہے۔ اور ان کی نا امیدی ان کے لیے موت کا باعث ہے۔ وہ تو مال غنیمت کے لالچ اور فتح کی امید میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہیں۔ اور جب اس سے محروم رہتے ہیں تو پھر ان کی نا امیدی کا کچھ نہ پوچھئے ؎ منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے
Ayahs 4:105–108

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق جو کچھ اللہ نے تمہیں دکھایا ہے۔ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑے والے نہ بنو۔

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ سے استغفار کرو وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

تم حمایت نہ کرو ان لوگوں کی جو اپنے جی میں دغا رکھتے ہیں۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جس سے وہ راضی نہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَََآ اَرَاکَ اللّٰہُ ط وَلَا تَـکُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًا لا وَّاسْتَغْفِرِاللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ج وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًا ج لا یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا یَسْتخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ وَھُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ ط وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا ” اے نبی ! ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق جو کچھ اللہ نے تمہیں دکھایا ہے۔ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔ اور اللہ سے استغفار کرو وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ تم حمایت نہ کرو ان لوگوں کی جو اپنے جی میں دغا رکھتے ہیں۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جس سے وہ راضی نہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اللہ کے قابو میں ہے۔ “ (النسآء : 105 تا 108) سلسلہ بیان تو جہاد کے حوالے سے جاری ہے لیکن جہاد کے لیے مسلمانوں کی صفوں کو کسی بھی مار آستین سے محفوظ رکھنا ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔ اس لیے قرآن کریم حسب ضرورت منافقین کا بھی تذکرہ کرتا ہے۔ اور مختلف حوالوں سے ان کی نشاندہی کرتا رہتا ہے۔ تاکہ وہ خود ہی چھٹ جائیں یا مسلمان ان کے پہچاننے میں غلطی نہ کریں اور اس بات پر بھی قرآن کریم تنقید کرتا ہے کہ مخلص مسلمان بھی بعض دفعہ منافقین کے طرز عمل کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں اور اپنی سادگی اور سچائی کے باعث ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے لگتے ہیں۔ اور یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کسی کا مسلمان کہلانا ہی شاید مسلمانوں کی معاونت کے لیے کافی ہے۔ وہ مسلمان کہلا کر چونکہ مسلمانوں کی صف میں شامل ہوجاتا ہے تو مسلمان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ ہم ہر طرح سے اس کی حمایت کریں۔ چناچہ ان آیات میں بھی ایسے ہی ایک واقعے کے حوالے سے تنقید بھی کی جا رہی ہے اور ہدایات بھی دی جا رہی ہیں۔ شانِ نزول واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں ایک خاندان بنو ابیرق کے نام سے معروف تھا۔ بعض اہل علم نے اس خاندان کو بنو ظفر کا نام دیا ہے۔ اس خاندان کا تعلق انصار سے تھا۔ ان میں سے ایک شخص جس کا نام طعمہ یا بشیر بن ابیرق تھا۔ اس نے حضرت قتادہ بن نعمان کے چچا رفاعہ ( رض) کے گھر میں نقب لگا کر چوری کی۔ مدینے میں گندم کا آٹا بہت کمیاب تھا۔ کبھی کبھی شام سے آتا تو خوشحال لوگ خرید کر خود کھاتے یا مہمانوں کے لیے رکھ لیتے ‘ عام لوگوں کی دسترس میں نہ تھا۔ مدینے میں عام طور پر جو کا آٹا کھایا جاتا یا کھجوریں کھائی جاتی تھیں۔ حضرت رفاعہ نے کہیں سے گیہوں کا کچھ آٹا خرید کر ایک تھیلے میں اپنے لیے رکھ لیا اور اسی تھیلے میں کچھ اسلحہ وغیرہ ڈال کر ایک چھوٹی کھوٹھڑی میں محفوظ کرلیا۔ بشیر بن ابیرق کو کسی طرح معلوم ہوگیا تو اس نے رات کو نقب لگا کر یہ تھیلا نکال لیا۔ اور ساتھ حرکت یہ کی کہ اس تھیلے کا ایک کونا پھاڑ کر یہودی کے گھر تک تھوڑا تھوڑا آٹا بکھیر دیا تاکہ تحقیق کرنے پر یہ معلوم ہو سکے کہ یہ آٹا اسی گھر میں گیا ہے۔ صبح کو حضرت رفاعہ نے دیکھا کہ ان کے گھر میں نقب لگی ہے اور وہ سامان غائب ہے تو انھوں نے محلہ میں تفتیش شروع کی۔ بعض لوگوں نے بتایا کہ آج رات ہم نے بنوابیرق کے گھر میں دیر تک آگ جلتی ہوئی دیکھی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہی آٹا پکتا رہا۔ بنو ابیرق کو جب اس کی اطلاع ملی کہ ہمارا نام لیا جا رہا ہے تو انھوں نے جو اسلحہ چرایا تھا وہ بھی اس یہودی کے گھر میں امانت رکھوا دیا اور پھر لوگوں کے تحقیق کرنے پر پہلے تو انکار کرتے رہے اور جب بات زیادہ بڑھی تو یہودی پر الزام لگایا کہ تم اس کی گھر کی تلاشی لے کے دیکھو یہ سب کچھ اس کے گھر سے ملے گا۔ چناچہ یہودی کے گھر کی تلاشی لی گئی تو اس کے گھر سے وہ سامان نکلا تو اس نے بتایا کہ یہ سامان تو بنو ابیرق نے میرے پاس رکھوایا ہے۔ حضرت قتادہ اور حضرت رفاعہ کو کسی وجہ سے یہ غالب گمان تھا کہ یہ چوری بنو ابیرق نے کی ہے۔ ممکن ہے ان کے علم میں یہ بات ہو جسے ترمذی نے روایت کیا ہے کہ ” یہ بشیر بن ابیرق درحقیقت منافق تھا۔ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی صحابہ کرام کی توہین میں اشعار لکھ کر دوسروں کے ناموں سے اس کی اشاعت کیا کرتا تھا “ چناچہ حضرت قتادہ اور حضرت رفاعہ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر چوری کا واقعہ عرض کیا اور بنو ابیرق پر اپنے شب ہے کا اظہار کیا۔ بنو ابیرق کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ بھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کی کہ حضور ہم مسلمان ہیں اور مسروقہ مال ایک یہودی کے گھر سے برآمد ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود حضرت رفاعہ اور قتادہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہودی کی برأت کی جا رہی ہے اور ہمیں ملزم ٹھہرایا جا رہا ہے۔ آپ انھیں روکیں کہ یہ بلا ثبوت ہم پر الزام نہ لگائیں۔ خاندانِ ابیرق کے باقی لوگوں نے کچھ اپنے خاندان کی عصبیت کے باعث اور کچھ اس خیال سے کہ بشیر بہرحال مسلمان ہے وہ ایسا کام کس طرح کرسکتا ہے۔ انھوں نے بشیر کی حمایت جاری رکھی۔ اور بعض دوسرے مسلمان بھی جو اس کے نفاق سے واقف نہ تھے اسے مسلمان سمجھ کر اسے بری قرار دیتے تھے اور یہودی کو یہودی ہونے کی وجہ سے مجرم ٹھہراتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کا بھی اس مسلسل پروپیگنڈے کے باعث اس طرف رجحان ہونے لگا کہ یہ کام اس مسلمان کا نہیں بلکہ یہودی کا ہے۔ اسی تاثر کے باعث جب حضرت قتادہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بغیر ثبوت اور دلیل کے ایک مسلمان گھرانے پر چوری کا الزام کیوں لگا رہے ہو ؟ چناچہ حضرت قتادہ اس پر اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ وہ بھی اور حضرت رفاعہ بھی اپنے گھر بیٹھ گئے اور انھیں اس بات پر شدید دکھ ہوا اور وہ اس پر افسوس کرنے لگے کہ کاش میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں نہ گیا ہوتا۔ اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور پروردگار نے اس میں براہ راست مداخلت فرمائی۔ وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا لوگوں کی گواہیوں کے باعث متاثر ہوجانا اور یہ خیال کرنا کہ یہودی کو مجرم ٹھہرا کر اس پر حد جاری کردی جائے شرعی نقطہ نگاہ سے کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ کیونکہ قاضی فیصلہ کرنے کے لیے حالات اور گواہیوں کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہے۔ اور اگر جھوٹے گواہ قاضی سے غلط فیصلہ کروا دیں تو عند اللہ قاضی قصور وار نہیں ٹھہرتا بلکہ قیامت کے دن ان جھوٹے گواہوں کو پکڑا جائے گا۔ اس معاملے میں بھی اگر آنحضرت ﷺ بشیر کے حق میں اور یہودی کے خلاف فیصلہ دے دیتے تو یقینا آپ حق بجانب ہوتے۔ لیکن جب یہ معاملہ پیش آیا اس وقت اسلام اور کفر کے درمیان ایک زبردست کشمکش برپا تھی۔ اگر نبی کریم ﷺ رودادِ مقدمہ کے مطابق یہودی کے خلاف فیصلہ فرما دیتے تو اسلام کے مخالفوں کو آپ ﷺ کے اور تمام مسلمانوں کے خلاف حتیٰ کہ خود اسلام کے خلاف ایک زبردست اخلاقی حربہ ہاتھ آجاتا۔ وہ یہ کہتے پھرتے کہ چھوڑیے جناب یہاں بھی صرف دعوے ہی دعوے ہیں۔ لیکن جب کوئی فیصلہ کن وقت آتا ہے تو وہی جتھہ بندی اور عصبیت کام کرتی دکھائی دیتی ہے اور اپنے ہی گروہ کی حمایت کی جاتی ہے۔ حالانکہ رات دن اسی کے خلاف تبلیغ بھی جاری رہتی ہے کہ مسلمانوں کو گروہ پرستی نہیں کرنی چاہیے بلکہ حق کی حمایت میں عدل و انصاف سے کام لینا چاہیے۔ اس لیے پہلی آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو واقعہ کی اصل حقیقت بتا کر ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کی ذات قیامت تک کے لیے حق اور عدل کا نمونہ ہے۔ اللہ نے آپ کے سامنے عدل و احسان کی ایک ایک بات کو اس طرح واضح کردیا ہے جیسے آپ نے اسے آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اس لیے آپ کی طرف سے ان جانے میں بھی کوئی کوتاہی عظیم نتائج کی حامل ہوسکتی ہے۔ ظاہری حالات اور قرائن کی بنا پر مسلمانوں کے حق میں اور یہودی کے خلاف آپ ﷺ کا رجحان اگرچہ کوئی گناہ نہ تھا لیکن آپ ﷺ کی ذات کی عظمت کے باعث اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوسکتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حالات سے مطلع کرنا ضروری سمجھا۔ لیکن آپ جو تاثر قائم کرچکے ہیں اس پر آپ اللہ سے استغفار کریں اور آئندہ کے لیے نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو پہچاننے کی کوشش کریں کہ یہ کہیں جھوٹے اور خیانت کار تو نہیں۔ اللہ کو ایسے لوگوں کی حمایت ہرگز پسند نہیں۔ کیونکہ خائن کی حمایت دراصل خیانت کی حمایت ہے جس سے دیانت ‘ حق اور عدل تباہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ خطاب حضور سے، روئے سخن منافقین کی طرف یہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے وہ یہ کہ خطاب اگرچہ اس تنبیہ میں آنحضرت ﷺ سے ہے۔ لیکن روئے سخن ان منافقین کی طرف ہے جن کی وجہ سے آپ ﷺ کو یہ تاثر قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ لیکن پروردگار انھیں چونکہ خطاب کا اہل نہیں سمجھتے اس لیے آپ ﷺ کو خطاب فرما کر انھیں بتلانا مقصود ہے۔ کہ تمہارا رویہ کس قدر غلط تھا۔ اسی لیے براہ راست ان کے طرز عمل کی نشاندہی بھی فرمائی کہ آپ جن کی حمایت کا ارادہ فرما رہے تھے ان کا حال تو یہ ہے کہ وہ باوجود مسلمان کہلانے کے راتوں کو چھپ چھپ کر ان باتوں کے مشورے کرتے تھے جو اللہ کو ناپسند ہیں۔ کہ اپنے آدمی کی ناجائز حمایت کی جائے اور فلاں فلاں آدمی پر الزام دھرا جائے۔ یہودی کے کافر ہونے کو اچھالا جائے۔ اور اس طرح مسلمانوں کی ہمدردیاں اپنے حق میں ہموار کی جائیں۔ اور یہ مشورے وہ اپنے گھروں میں چھپ کے کرتے تھے اور کوشش یہ ہوتی تھی کہ دوسرے مسلمانوں کو اس کی اطلاع نہ ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی نادانی دیکھو کہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں لیکن اس بات کا یقین نہیں رکھتے کہ وہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں لیکن اللہ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ کیونکہ وہ تو ہرحال میں ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں ان کا کوئی عمل بھی اللہ کے احاطہ علم سے باہر نہیں اور نہ یہ لوگ اللہ کی گرفت سے آزاد ہیں۔ پہلے منہ پھیر کر انھیں تنبیہ فرمائی جا رہی تھی اب ارتقائِ کلام کے ساتھ ساتھ گفتگو کا رخ براہ راست ان کی طرف پھر گیا ہے۔ اور انھیں خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے :
Ayah 4:109

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

یہ تم ہو جنھوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی مدافعت کی تو قیامت کے دن اللہ سے کون ان کی مدافعت کرے گا۔ یا کون ان کا ذمہ دار بنے گا

ہٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ جٰدَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا قف فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَمْ مَّنْ یَّکُوْنُ عَلَیْہِمْ وَکِیْلًا ” یہ تم ہو جنھوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی مدافعت کی تو قیامت کے دن اللہ سے کون ان کی مدافعت کرے گا۔ یا کون ان کا ذمہ دار بنے گا۔ “ (النسآء : 109) ہاحرف تنبیہ ہے۔ یہ جملہ کے شروع میں آتا ہے۔ اور مقصود اس سے یہ ہوتا ہے کہ مخاطب کو ہوشیار کیا جائے کہ وہ کان کھول کر بات سنے۔ ان آیات میں دو دفعہ ” لا تجادل “ اور ” جادلتم “ ایک ہی فعل سے نکلنے والے لفظ آئے ہیں جن کا مصدر مجادلہ ہے۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا معنی مناظرہ ‘ کٹ حجتی اور جھگڑنا بھی ہوتا ہے اور ادب و احترام یا محبت سے کسی سے شکوہ کرنا یا اصرار کرنا بھی ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لیے اس کا استعمال صرف اصرار کرنے کے معنی میں ہے۔ اور دوسرے لوگوں کے حوالے سے جھگڑا کرنے کے معنی میں ہے۔ حمایت کرنے والوں کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں بنو ابیرق کی حمایت کرنے والوں کو تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم نے خاندانی عصبیت کے جوش میں تو دنیا میں ان کی حمایت کرلی لیکن یہ معاملہ یہیں تو ختم نہیں ہوجائے گا قیامت کے دن جب یہ معاملہ اللہ کے حضور پیش ہوگا وہاں بتلائو تم میں سے کون ان کی حمایت کرے گا یا کون ان کے کام آنے کی کوشش کرے گا۔ وہاں تو وہ اپنے جرم میں پکڑا جائے گا اور تم اپنی ناجائز حمایت میں پکڑے جاؤ گے۔ تم دونوں نے ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اپنے اپنے جرائم سے توبہ کر کے اپنی آخرت کو سنوار لو۔
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنی جان پر ظلم ڈھائے ‘ پھر اللہ سے مغفرت چاہے۔ تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پائے گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ” اور جو کسی برائی کا ارتکاب کرے یا اپنی جان پر ظلم ڈھائے ‘ پھر اللہ سے مغفرت چاہے۔ تو وہ اللہ کو بخشنے والا رحم کرنے والا پائے گا۔ “ (النسآء : 110) قرآن کریم کا حکیمانہ اسلوب سابقہ آیات میں درجہ بدرجہ تنقید کا حق ادا کرنے کے بعد ایک اصولی بات ارشاد فرمائی جو قرآن کریم کا عام حکیمانہ اسلوب ہے کہ وہ جب کسی برائی پر نکیر کرتا ہے اور پھر اس کے انجام سے ڈراتا ہے تو مخاطب کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔ ساتھ ہی اسے مغفرت کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔ یہاں بھی یہی فرمایا کہ تمہاری غلطیاں کو تاہیاں اور حدود سے تجاوز اپنی جگہ لیکن تمہیں اللہ کی بےپایاں رحمت کے حوالے سے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جو شخص کوئی بھی گناہ کرتا ہے اس کا تعلق چاہے حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے ‘ وہ اگر اپنے گناہ پر اصرار نہیں کرتا بلکہ اللہ سے مغفرت کا طلبگار ہوتا ہے تو وہ یقینا اپنے رب کو رحم کرنے والا اور درگزر کرنے والا پائے گا۔ یہ انسانوں کی ریت ہے کہ وہ زیادتی کرنے والوں کو جلدی معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اللہ کی رحمت تو ایسی بےساختہ ہے کہ جب بھی کوئی اسے اپنی طرف اخلاص سے متوجہ کرتا ہے تو وہ گھٹا بن کر برس جاتی ہے۔ لیکن جو بدنصیب اس رحمت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا :
Ayah 4:111

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آتا ہے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے

وَ مَنْ یَّکْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَکْسِبُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا اور جو کسی بدی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر آتا ہے۔ اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ “ (النسآء : 111) گناہ کرنے والے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جب بھی اللہ کا کوئی حکم توڑتا ہے یا اللہ کے کسی بندے کی حق تلفی کرتا ہے تو وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑتا اور نہ وہ مسلمانوں کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ البتہ اس کی ہر کرتوت کا وبال اسی پر پڑے گا۔ دنیا میں رسوائی اس کا مقدر ہوگی اور ایک وقت آئے گا جب وہ ہر چیز سے تہی دامن ہوجائے گا اور آخرت میں جہنم کے عذاب کا سزا وار ہوگا۔ اللہ علیم ہے وہ جب پکڑے گا تو انجانے میں نہیں پکڑے گا ‘ ہر شخص کا ایک ایک عمل اس کے علم میں ہے۔ وہ حکیم بھی ہے اس لیے پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا۔
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگاتا ہے تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ لیا ہے)

وَ مَنْ یَّکْسِبْ خَطِیْٓٓئَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِاحْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ع ” اور جو کسی غلطی یا گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگاتا ہے تو اس نے اپنے سر ایک بہت بڑا بہتان اور صریح گناہ لیا ہے۔ “ (النسآء : 112) اور جو شخص اپنے گناہ کی معافی مانگنے اور اس پر نادم ہونے کی بجائے مزید حرکت یہ کرتا ہے کہ دنیا کی نگاہوں میں اپنے آپ کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے اپنے گناہ کا الزام کسی دوسرے بےگناہ پر لگا دیتا ہے جیسے اس واقعے میں بنی ابیرق نے کیا کہ بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے اس نے اپنے جرم کی تہمت ایک یہودی پر لگادی اور یہودی کے کفر کو نمایاں کر کے اپنے جیسے منافقین اور کمزور مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرلیں۔ اللہ فرماتا ہے جو شخص بھی ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ دوہرے جرم میں پکڑا جائے گا۔ ایک تو اس جرم کی پاداش میں جس کا اس نے ارتکاب کیا اور دوسرا بےگناہ پر جھوٹ باندھنے اور بہتان لگانے کے جرم میں۔ یعنی اس نے اپنے اصل جرم پر ایک جھوٹ اور بہتان کا اضافہ کرلیا۔ تو جو شخص استغفار کی بجائے گناہوں میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی سخت ہوتی جاتی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بشیر بن ابیرق جس نے چوری کی تھی وہ بجائے استغفار کرنے کے مدینہ سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا۔ پہلے وہ منافق تھا تو اب کھلا کافر ہوگیا اور اگر پہلے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوگیا۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اللہ اور رسول کی مخالفت کے وبال نے بشیر بن ابیرق کو مکہ میں بھی چین سے نہ رہنے دیا ‘ جس عورت کے مکان پر جا کے ٹھہرا تھا اس کو واقعہ کی خبر ہوئی تو اس نے بھی اپنے گھر سے نکال دیا۔ اسی طرح پھرتے پھرتے آخر اس نے ایک اور شخص کے مکان میں نقب لگائی تو دیوار اس کے اوپر گرگئی اور وہیں دب کر مرگیا۔ یہ انجام ہوا اس شخص کا جس نے توبہ کی بجائے سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔