4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:136

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری۔ اور جو اللہ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَالْکِتٰبِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا ” اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری۔ اور جو اللہ ‘ اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار کرے وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ “ (النسآء : 136) صاحب ایمان لوگوں کو ایمان لانے کا مفہوم اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو صاحب ایمان کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے اور اس کے بعد انھیں پھر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سرسری نظر میں یہ بات بہت عجیب سے معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ پہلے ہی صاحب ایمان ہیں انھیں دوبارہ ایمان لانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے ؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی آدمی کپڑے پہنے کھڑا ہو اسے یہ کہا جائے کپڑے پہن کے آئو۔ حقیقت یہ ہے یہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں تعجب یا اجنبیت کی کوئی بات نہیں۔ سب سے پہلے تو لفظی حیثیت سے دیکھئے۔ عربی زبان کا یہ طریقہ ہے کہ فعل کبھی اپنے ابتدائی اور ظاہری معنی میں استعمال ہوتا اور کبھی حقیقی اور کامل معنی میں۔ یہاں ” یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا “ میں ” اٰمَنُوْا “ ابتدائی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور اس کے بعد ” اٰمِنُوْا “ حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ معنوی حیثیت سے اگر آپ دیکھیں تو ایمان کا لفظی معنی تو ہے صرف مان لینا۔ یعنی زبان سے اقرار کرلینا۔ دل کی تصدیق ‘ دماغ کا اطمینان اور عمل کی تائید بیشک اس میں شامل نہ ہو۔ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو مانتا ہوں اور میں مسلمان ہوں۔ تو سننے والا اسے مومن سمجھے گا چاہے اس کے دل و دماغ کی کوئی بھی کیفیت ہو اور خواہ اس نے پوری زندگی اسلام کے مطابق کوئی کام نہ کیا ہو۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے جن میں منافقین بھی شامل ہیں۔ اور یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خطاب صرف منافقین سے ہو۔ وہ چونکہ اپنے آپ کو مومن کہتے تھے اور مسلمانوں میں بڑھ چڑھ کر اپنے ایمان کا یقین بھی دلاتے تھے۔ تو پروردگار نے انھیں خطاب اسی حیثیت سے کیا ہے کہ ” اے وہ لوگو جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہو تم واقعی اگر اپنے دعوے میں مخلص ہو تو پھر اس میں حقیقت بھی پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ کیونکہ محض ایمان کا دعویٰ کرنے سے ایک ایسی صورت وجود میں آجاتی ہے جو حقیقت سے خالی ہے۔ لیکن صورت بےحقیقت کا تو دنیا میں کوئی اعتبار نہیں اللہ کے ہاں کیا اعتبار ہوگا۔ بازار میں پلاسٹک کے بنے ہوئے خوبصورت پھل ملتے ہیں ‘ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے یہ سچ مچ کا کیلا ‘ سیب ‘ انگور یا نارنگی ہے ‘ لیکن نہ اس میں خوشبو ‘ نہ اس میں مزہ ‘ نہ وہ کھانے کے قابل ‘ اس سے بچے کھیل تو سکتے ہیں لیکن کوئی عقلمند آدمی انھیں پھل سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ کھلونوں کی شکل میں درندے نظر آتے ہیں ‘ ہاتھی ‘ چیتے ‘ شیر ‘ بعض دفعہ بچے انھیں دیکھ کے ڈر جاتے ہیں ‘ لیکن سمجھ دار آدمی جانتا ہے کہ یہ محض صورتیں ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔ اسی پر ایمان کو قیاس کر لیجیے۔ ایمان کی ایک حقیقت ہے اور ایک صورت۔ صورت صرف مان لینے کا نام ہے اور حقیقت وہ ہے جو انسان کی شخصیت کو مکمل طور پر تبدیل کردیتی ہے۔ انسان کی سوچ ‘ رویہ ‘ احساسات ‘ محبت و نفرت کے حوالے ‘ تعلقات کی دنیا ‘ پسند و ناپسند ‘ زندگی کا ایک ایک عمل ‘ غرضیکہ ہر چیز بدل کے رہ جاتی ہے۔ وہ شخص جو صرف ذاتی غم کو جانتا ہے ایمان کی حقیقت آجانے کے بعد وہ اجتماعی غم سے آشنا ہوجاتا ہے۔ اس کی منزل دنیا نہیں آخرت بن جاتی ہے۔ اب وہ دنیا چھن جانے سے نہیں روتا ‘ بلکہ نماز قضا ہونے سے روتا ہے۔ رات کے پچھلے پہر اسے نیند میٹھی معلوم نہیں ہوتی ‘ بلکہ اس کی آنکھوں سے برسنے والی برکھا اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ یہاں اسی حقیقت کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے کہ بیشک زبان سے ایمان کا اقرار کرچکے ہو لیکن اگر تم حقیقت میں ایمان سے بہروہ ور ہونا چاہتے ہو تو پھر ضروری ہے اللہ اس کے رسول ‘ قرآن کریم اور پہلی آسمانی کتابوں پر بھی اس طرح ایمان لائو جس طرح ایمان لانے کا حق ہے۔ لیکن اگر زبان سے اقرار کے بعد بھی تمہارے اندر اقرار و انکار کی وہی مصنوعی دنیا باقی رہتی ہے تو پھر تم حقیقت میں مومن نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جو شخص اللہ ‘ اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرتا ہے اسے ایمان تو کیا نصیب ہوگا وہ تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ کیونکہ ایمان اور کفر کے درمیان فرق کرنے والی چیز انہی حقائق کو تسلیم کرنا ہے۔ جس نے ان کا انکار کردیا اس نے تو تاریک رات میں اپنے ہاتھ کی مشعل توڑ ڈالی۔ اب وہ جیسے جیسے ٹامک ٹوئیاں مارتا ہوا چلے گا ویسے ویسے وہ اپنے راستے سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ اس آیت میں ایمان کے جن اجزاء کا ذکر کیا گیا ہے اور کتابوں کے نزول کے لیے ” اَنْزَلَ “ اور ” نَزَّلَ “ دو فعل ذکر کیے گئے ہیں۔ ان تمام باتوں کی تفصیل اس سے پہلے ہم مختلف مقامات پر پڑھ چکے ہیں۔ اس لیے میں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں سمجھتا۔
Ayah 4:137

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا لَّمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَھْدِیَہُمْ سَبِیْلاً ط ” بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کفر کیا پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے اللہ ان کی مغفرت فرمانے والا ہے اور نہ ان کو راہ دکھانے والا ہے۔ “ (النسآء : 137) سابقہ آیت کے اصحاب ایمان کے کردار کی تصویر اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی تصویر کھینچی گئی ہے جنھیں سابقہ آیت میں ایمان کے دعویٰ کے باوجود حقیقی ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ان کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان لائے ‘ پھر کفر کیا۔ پھر ایمان لائے پھر کفر کیا۔ پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ ہمارے بعض مفسرین نے اس کا ایک مطلب تو یہ لیا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ‘ پھر بچھڑے کی پوجا کر کے کافر ہوگئے۔ عجل پرستی سے توبہ کر کے پھر مسلمان ہوئے ‘ ان کی نسلیں عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لا کر پھر کافر ہوگئیں۔ اب رسول اللہ ﷺ پر بظاہر ایمان لا کر اور حقیقت میں کفر کا رویہ اختیار کر کے کفر میں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔ لیکن بعض مفسرین اسے منافقین کا ذہنی رویہ قرار دیتے ہیں کہ انھوں نے دین کو ایک غیر سنجیدہ تفریح سمجھ رکھا ہے۔ گویا ایک کھلونا ہے جس سے وہ اپنے تخیلات یا اپنی خواہشات کے مطابق کھیلتے رہتے ہیں۔ جب فضائے دماغی میں ایک لہر اٹھی مسلمان ہوگئے ‘ جب دوسری لہر اٹھی کافر بن گئے۔ یا جب فائدہ مسلمان بن جانے میں نظر آیا مسلمان بن گئے اور جب معبودِ منفعت نے دوسری طرف جلوہ دکھایا تو اس کی پوجا کرنے کے لیے بےتکلف اسی طرف چلے گئے۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے پاس نہ مغفرت ہے نہ ہدایت۔ بعض اہل علم نے اسے ذہنی رویہ ہی سمجھا ہے۔ لیکن ان کی تعبیر یہ ہے کہ یہ منافقین ہیں جنھوں نے ایمان و کفر کو ہمیشہ کھیل سمجھا ہے۔ ایک کھیل تو وہ ہے جو تورات کے ساتھ پہلے کھیل چکے ہیں۔ اسے مانا بھی اور اسے بگاڑا بھی۔ اور دوسرا کھیل یہ ہے جو وہ اسلام کے ساتھ کھیل رہے ہیں کہ پہلے آگے بڑھ کر اس کے ماننے کا اقرار کیا اور اب رات دن اس کے خلاف سازشیں کرنے کے درپے ہیں۔ انھوں نے اپنے رویے سے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ اب اللہ کی رحمت کے مستحق نہیں رہے۔ اس لیے پروردگار نے فرمایا کہ اللہ نہ تو ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ ان کے لیے ہدایت کا کوئی اور راستہ کھولے گا۔ یہ اسلام دشمنی میں جس طرح بڑھتے جا رہے ہیں ان کی یہی روش بالآخر انھیں جہنم لے جائے گی۔
Ayahs 4:138–141

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

منافقوں کو مژدہ سنائو کہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمان کے مقابلے میں۔ یا وہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ؟ تو بیشک عزت سب کی سب اللہ کے لیے ہے۔

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اللہ نازل کرچکا ہے تم پر کتاب میں یہ حکم کہ جب تم سنو اللہ کی آیتوں کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو مت بیٹھو ان لوگوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں۔ ورنہ تم بھی انہی کی طرح ہو گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

وہ منافق جو انتظار کر رہے ہیں تمہارے لیے گردشوں کا۔ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور کافروں کو کوئی جیت ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر چھائے نہیں رہے اور ہم نے مسلمانوں سے تم کو بچایا نہیں ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اور اللہ کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا)

بَشِّرِالْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ط وَقَدْ نَزَّلَ عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِہَا وَ یُسْتَہْزَأُ بِہَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَہُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖٓ صلے ز اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَالْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعَانِ لا الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ج فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ صلے ز وَاِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ لا قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَلَنْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلاً ع ” منافقوں کو مژدہ سنائو کہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے جو کافروں کو دوست بناتے ہیں مسلمانوں کے مقابلے میں۔ یا وہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ؟ تو بیشک عزت سب کی سب اللہ کے لیے ہے۔ اللہ نازل کرچکا ہے تم پر کتاب میں یہ حکم کہ جب تم سنو اللہ کی آیتوں کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو مت بیٹھو ان لوگوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں۔ ورنہ تم بھی انہی کی طرح ہو گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنے والا ہے سب منافقوں اور سب کافروں کو جہنم میں۔ وہ منافق جو انتظار کر رہے ہیں تمہارے لیے گردشوں کا۔ اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور کافروں کو کوئی جیت ہوجائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر چھائے نہیں رہے اور ہم نے مسلمانوں سے تم کو بچایا نہیں ؟ تو اللہ ہی فیصلہ کرے گا تمہارے درمیان قیامت کے دن اور اللہ کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا۔ “ (النسآء : 138 تا 141) گزشتہ آیات کریمہ میں جن لوگوں پر تنقید کی گئی اور جنھیں حقیقی ایمان لانے کی دعوت دی گئی پیش نظر آیت کریمہ نے واضح کردیا کہ مراد اس سے منافقین ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ اللہ نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد ان کی علامتیں بیان فرمائی ہیں۔ ہم آج کسی کے بارے میں ختمی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ منافق ہے۔ لیکن ان علامتوں کے ذکر نے منافقین کی پہچان آسان کردی ہے۔ ہم کسی پر منافق ہونے کا فتویٰ نہ بھی دیں جب بھی مسلمان ایسے منافقین کو پہچان کر اپنی صفوں کو درست کرسکتے ہیں۔ اور اجتماعی پالیسیاں بناتے ہوئے اور قومی معاملات کا فیصلہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کے بارے میں ہوشیار اور چوکنا رہ سکتے ہیں۔ جب تک وہ مسلمانوں کے مشترکہ مطالبات کا ساتھ دیں تو انھیں ساتھ لیا جائے لیکن نہایت بیدار مغزی سے ان کی ایک ایک حرکت کا مطالعہ کیا جائے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے ہوشیار منافق ساتھ چلتے چلتے مسلمانوں کی سادگی سے اس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں کہ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا ہاتھ کر گئے ؟ اور کچھ نہیں تو مسلمانوں کے باہمی فیصلوں اور ان کے اندر کے احساسات سے باخبر ہو کر دشمن کو اپنے دفاعی اقدامات کرنے میں مدد بہم پہنچاتے ہیں۔ منافقین کی پہلی علامت سب سے پہلی علامت یہ بیان فرمائی گئی کہ تم ایسے منافقین کو دیکھو گے جن کا رجحان اور جن کی دوستیاں مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں یعنی مسلمانوں کے دشمنوں سے ہوتی ہیں۔ جب بھی انھیں موقع ملتا ہے یہ ان کی صحبتوں میں شریک ہوتے ہیں ‘ بہانے بہانے سے ان سے راہ و رسم پیدا کرتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ہمعصر منافقین زیادہ تر یہود سے تعلقات رکھنے اور بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔ عبداللہ بن ابی ٔ نے تو ایک دفعہ صاف کہہ بھی دیا کہ ہم یہود سے تعلقات توڑ کر کسی مصیبت کا شکار نہیں ہونا چاہتے۔ کیونکہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ممکن ہے مسلمانوں کو غلبہ مل جائے اور ممکن ہے یہود یا مشرکین ان پر غالب آجائیں تو ہم صرف مسلمانوں کے ساتھ نتھی ہو کر اپنا مستقبل مخدوش نہیں بنانا چاہتے۔ بلکہ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین بظاہر اللہ اور رسول پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن کافروں کی ایسی مجالس میں شریک ہوتے ہیں جہاں اللہ کی آیات کے خلاف بکواس کی جاتی ہے اور اللہ کے دین کا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔ اور یہ ان کے پاس صرف اس لیے جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ راہ و رسم کو اپنے لیے عزت کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ چونکہ مدینہ اور اطرافِ مدینہ میں اپنی ایک حیثیت اور ایک اثر رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ اپنے آپ کو ان سے وابستہ رکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بڑے لوگوں کی پناہ لے رکھی ہے۔ عربی زبان میں ” عزۃ “ کا لفظ ذلت کے متضاد کے طور پر ہی استعمال نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس میں عزت کا مفہوم کسی شخص کو ایسی حیثیت کا مالک سمجھنا ہے جب کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ منافقین یہ سمجھتے تھے کہ ہمیں یہ تحفظ انہی کے ساتھ رہ کر حاصل ہوسکتا ہے۔ پروردگار فرماتے ہیں کہ اگر یہ واقعی مومن ہیں تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ‘ دبدبہ اور غلبہ سراسر اللہ کی ذات کے لیے ہے۔ یہ دولت جسے بھی ملتی ہے اسی کی عطا سے ملتی ہے۔ اور مزید فرمایا کہ ہم اس سے پہلے سورة الانعام کی آیت نمبر 68 میں یہ حکم نازل کرچکے ہیں کہ ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی کا جذباتی رشتہ بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جڑ جائے۔ اس کی حمیت و غیرت کبھی گوارا نہ کرے کہ کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کے دین سے متعلق نازیبا بات کہنے کی جرأت کرسکے۔ اور اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو اگر طاقت میسر ہو تو کہنے والی زبان نہیں رہنی چاہیے۔ اور طاقت میسر نہ ہو تو پھر ایمانی غیرت و حمیت کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں شرکت کا تصور بھی نہ کیا جائے۔ اور اگر کبھی بھول کر ایسی کسی مجلس میں بیٹھنے کا اتفاق ہو ہی جائے تو یاد آنے پر فوراً اٹھ جائے۔ لیکن اس واضح حکم کے باوجود ان کا رویہ یہ تھا کہ یہ یہود یا دوسرے منافقین کی مجالس میں جاتے ‘ وہاں آنحضرت ﷺ اور قرآن کے بارے میں نامناسب باتیں کہی جاتیں اور مذاق اڑایا جاتا ‘ لیکن ان کے سر پر جوں تک نہ رینگتی۔ اگر ان میں ایمان کی رتی بھی ہوتی تو یہ کبھی ایسی مجالس میں بیٹھنا گوارا نہ کرتے۔ لیکن ان کی ایسی مجالس میں شرکت اور پھر ایسی باتوں کا برداشت کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی زبانوں پر ایمان کا اقرار ضرور موجود ہے ‘ لیکن ان کے دلوں میں بالکل ایمان نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ اگر تم یہ سب کچھ سن کر برداشت کرتے ہو تو پھر تم انہی میں سے ہو۔ جیسے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں تم بھی دشمن ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں منافقین کی یہی خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن اور مسلم ہونے کا دعویٰ صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ مسلمان معاشرے سے جو فوائد اٹھائے جاسکتے ہیں ان میں کمی نہ آنے پائے۔ ورنہ ان کا قلبی رشتہ اور ان کا دماغی رجحان چونکہ مفادات کے تابع ہے اس لیے وقت کی غالب قوت چاہے وہ اسلام اور مسلمانوں کی کیسی ہی بدترین دشمن کیوں نہ ہو یہ ان سے اپنا تعلق عزت اور فخر کی علامت سمجھتے ہیں۔ ان کی مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں آپ متعصب مسلمان نہ سمجھیں ‘ اسلام سے ہمارا محض نام کا رشتہ ہے ‘ ہماری دلچسپیاں اور وفاداریاں تو سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اسلام اور کفر کی کشمکش میں آپ دیکھیں گے کہ ہمارا وزن آپ کے پلڑے میں ہوگا۔ ہمیں آپ کا قرب عزیز ہے۔ اس کے لیے ہمیں مسلمانوں کو خون میں بھی نہلانا پڑے اور ان کی عزت و حرمت کا سودا کرنا پڑے تو ہمیں اس سے بھی دریغ نہیں ہے۔ غلامی کے زمانے میں بھی ہمارے جاگیردار ‘ ہمارے و ڈیرے ‘ حتیٰ کہ بعض علماء اور بعض گدی نشین بھی اسی نفاق کا شکار تھے۔ اور انہی کی وجہ سے انگریز تعداد کے اعتبار سے محدود ہونے کے باوجود دو سو سال تک حکومت کرتا رہا۔ ظفر علی خان نے اسی صورت حال سے آزردہ ہو کر کہا تھا : نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں فقیہِ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا تمسخر کرنے والے دین سے ہی گر مہذب ہیں تو ان تہذیب کے پتلوں سے مجھ جیسا گنوار اچھا اور آج مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں اس میں بھی ہمارے نام نہاد حکمران ‘ ہمارا طبقہ امراء ‘ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ‘ ہمارے بعض علماء و مشائخ یہی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ قرآن کریم کی اتنی واضح تنقید اور تنبیہ کے بعد بھی ان مسلمان کہلانے والے منافقین پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ منافقین کی دوسری علامت منافقین کی دوسری علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ ان کی ہمدردیاں اور خیرخواہیاں مسلمانوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے اولیائِ نعمت کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یعنی اس قوت کے ساتھ جو علاقے کی غالب کافر قوت ہے۔ اور مسلمان جن کے ساتھ حق و باطل کی کشمکش میں مصروف ہیں۔ یہ ہمیشہ اس کے انتظار میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچے اور ہم مسلمانوں کے دشمن اور اپنے آقائوں کے پاس جا کر انھیں یقین دلائیں کہ مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ہے اور آپ کو فتح ہوئی ہے اس میں ہمارا بھی ایک کردار ہے ؟ اگر ہم پیچھے رہ کر تمہارے لیے یہ یہ کام نہ کرتے اور مسلمانوں سے تمہیں محفوظ نہ رکھتے تو یقینا تمہارے لیے فتح حاصل کرنا مشکل ہوتا۔ اور اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے تو مسلمانوں کے پاس آ کر مال غنیمت میں حصہ بٹانے کے لیے بار بار یقین دلاتے ہیں کہ ہم تو اس معرکے میں قدم قدم پر آپ کے معاون و مددگار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم ایسے منافقین اور کفار کو جہنم میں جمع کریں گے۔ اور اسی دن اللہ ان کے تمام کرتوتوں سے پردہ اٹھائے گا اور ہر دیکھنے والی نگاہ دیکھے گی کہ یہ لوگ حقیقت میں کس قدر مسلمانوں کے دشمن تھے۔
Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

(بےشک منافقین اللہ سے چالبازی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ چال وہ ان سے چل رہا ہے۔ اور جب یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان ‘ نہ ادھر ہیں نہ ادھر۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے تم ہرگز اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پاسکتے

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَھُوَ خَادِعُہُمْ ج وَاِذَا قَامُوْٓا اِلٰی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی لا یُرَآئُ وْنَ النَّاسَ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا ز لا مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ صلے ق لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآئِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ سَبِیْلاً ” بیشک منافقین اللہ سے چالبازی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ چال وہ ان سے چل رہا ہے۔ اور جب یہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کھڑے ہوتے ہیں کاہل بن کر محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔ ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان ‘ نہ ادھر ہیں نہ ادھر۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے تم ہرگز اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پاسکتے۔ “ (النسآء : 142 تا 143) ربطِ کلام سلسلہ کلام منافقین سے متعلق ہے۔ انہی کی علامتیں اور خصوصیات بیان کی جا رہی ہیں۔ ان آیات کے نزول کے وقت مسلمان حق و باطل کی شدید کشمکش سے گزر رہے تھے۔ مشرکین مکہ اڑوس پڑوس کے قبائل کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرتے رہتے تھے اور یہود سے بھی ان کی مراسلت جاری رہتی تھی۔ اور یہود اپنے طور پر بھی مسلمانوں کے بدترین دشمن تھے۔ وہ مختلف طریقوں سے اسلام کے راستے میں روڑے اٹکانے اور مسلمانوں کو پریشان کرنے کی سازشیں کرتے رہتے تھے۔ ان سازشوں کا ایک اہم عنصر مسلمانوں کی صفوں میں منافقین کا وجود تھا جو یہود ہی سے آئے تھے یا یہود کے زیر اثر تھے۔ حق و باطل کی یہ کشمکش چونکہ مسلح تصادم کی صورت اختیار کرتی جا رہی تھی اس لحاظ سے شدید ضرورت تھی کہ مسلمان اپنی صفوں میں چھپے ہوئے آستین کے سانپوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہ رہیں۔ اس لیے منافقین کی شناخت کے لیے ان کی علامتوں اور صفات کو وقتاً فوقتاً بیان کیا جا رہا تھا ‘ لیکن ساتھ ہی یہ کوشش بھی جاری تھی کہ وہ کمزور مسلمان جو یہود کے آلہ کار نہیں ‘ لیکن ابھی تک ان کے ایمان میں وہ استحکام پیدا نہیں ہوسکا جو حق و باطل کی کشمکش میں کام آنے والا سرمایہ ہے۔ ان کے ایمان کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے ان علامتوں کے ذریعے بالواسطہ انھیں سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر اگر یہ کمزوریاں باقی ہیں تو یہ نفاق کی علامتیں ہیں۔ تمہیں پہلی فرصت میں ان کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے۔ اور مسلمانوں میں ایک معتدبہ تعداد ایسے لوگوں کی بھی تھی جو منافقین کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ انھیں منافقین کی علامتوں کے ساتھ ساتھ منافقین کے عزائم کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ وہ بھی منافقین کے بارے میں یکسو ہوجائیں۔ منافقین کی جسارت چناچہ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات ان کے عزائم کے حوالہ سے ہی کہی جا رہی ہے کہ یہ منافق لوگ ایسے نہیں ہیں کہ جو سادگی میں دوسروں کے ہاتھوں میں استعمال ہو رہے ہوں۔ بلکہ ان کی جسارتوں کا عالم تو یہ ہے کہ یہ اللہ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ چالبازی کر رہے ہیں۔ نہ جانے انھوں نے یہ کیسے گمان کرلیا ہے کہ اللہ کو ان کی خفیہ کاروائیوں کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے سینے میں چھپے ہوئے رازوں سے واقف نہیں۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ اللہ تو ہر وقت ‘ ہرحال میں ان کی ایک ایک بات سے آگاہ رہتا ہے تو پھر وہ اللہ کو دھوکا دینے کا تصور بھی کیسے کرسکتے تھے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب کسی شخص یا کسی گروہ کی آنکھوں پر دنیا کے مفادات اور ہوس اقتدار کی پٹی باندھ دی جاتی ہے تو وہ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتا۔ مسلمانوں میں طبقہ امراء ‘ سیاستدانوں اور ارباب حل و عقد کو دیکھ لیجیے ‘ یہ تمام لوگ بفضلہ تعالیٰ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی ایک ایک حرکت اللہ کے سامنے ہے اور انھیں اس سے بھی انکار نہیں کہ قیامت آئے گی اور اللہ کے سامنے ایک ایک بات کا جواب دینا ہوگا۔ با ایں ہمہ وہ سیاست کے کھیل اور ہوس زر میں مبتلا ہو کر اور اقتدار کی مصلحتوں کی خاطر جو کچھ کر گزرتے ہیں اس کی کسی مسلمان سے توقع نہیں ہوسکتی۔ ان کے اس رویے کو دیکھ کر اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال کے پس پردہ جو محرکات رکھتے ہیں ‘ اللہ کو ان کی کیا خبر ؟ اور یہی بیخبر ی کا تصور انھیں ہر غلط کام کرنے پر اکساتا اور ہمت دیتا ہے ‘ کچھ ایسا ہی حال منافقین کا بھی تھا کہ وہ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کر رہے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ خدع اللہ کا مفہوم اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کو کیا دھوکا دیں گے اور اس کے ساتھ کیا چال بازی کریں گے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ چال چل رہا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب ” خدع “ کے لفظ کا انتساب اللہ کی طرف ہو تو اس کا معنی دھوکا دینا نہیں ہوتا بلکہ اس کا لازمی معنی مراد ہوتا ہے۔ لازمی معنی سے مراد یہ ہے کہ اللہ ان سے دھوکا نہیں کرتا بلکہ ان کے دھوکے کی سزا دیتا ہے کہ وہ ان کی ایک ایک بات کو محفوظ کر رہا ہے ‘ ان کا نامہ عمل ان کی ان حرکتوں سے لبریز ہو رہا ہے۔ وہ قیامت کے دن اپنے اس نامہ عمل سمیت اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو تب انھیں ایک ایک کرتوت کی سزا دی جائے گی۔ اور انھیں اپنے ایک ایک عمل کا بدلہ ملے گا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ تو اپنی تدبیروں اور حرکتوں سے اللہ کے ساتھ چالبازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ‘ لیکن اللہ کی چال یہ ہے کہ وہ ان کی ڈور ڈھیلی چھوڑتا جا رہا ہے۔ وہ جیسے جیسے اپنے برے ارادوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اللہ ان کے لیے راستے کھولتا چلا جا رہا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے ارادوں میں کامیاب ہو رہے ہیں ‘ حالانکہ وہ اس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں جو جہنم کی صورت میں ان کے انتظار میں ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ مچھلی کا شکار ی کنڈی کی نوک پر گوشت کا ٹکڑا لگا کنڈی پانی میں پھینکتا ہے۔ مچھلی گوشت کھانے کے لیے لپکتی ہے۔ وہ یہ سمجھتی ہے کہ میری ضیافت کی گئی ہے۔ چناچہ جیسے ہی کنڈی کو منہ مارتی ہے شکاری ڈور ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ مجھے کھلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ شکاری یہ چاہتا ہے کہ کانٹا اچھی طرح اس کے حلق میں اتر جائے تو پھر میں ڈور کھینچوں۔ چناچہ جب یہ کانٹا اس کے حلق میں اتر جاتا ہے تو شکاری ڈور کھینچ لیتا ہے۔ لیکن مچھلی آخر وقت تک یہی سمجھتی رہتی ہے کہ یہ میرے کھانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ؎ مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمہ پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی اللہ تعالیٰ بھی ان کی رسی دراز کرتا جاتا ہے تاکہ کانٹا اچھی طرح ان کے حلق میں اتر جائے اور جب وقت آئے گا تو وہ رسی کھینچ لے گا۔ پھر انھیں تڑپنے کی بھی مہلت نہیں ملے گی۔ یہ ہے وہ اللہ کی چال جسے منافقین اور اہل دنیا سمجھنے سے ہمیشہ قاصر رہتے ہیں۔ نماز اسلام کی علامت ہے اپنے نفاق کو چھپانے کے لیے منافقین ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد جو سب سے پہلا فرض ایک مسلمان کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نماز ہے اور جو علامت بنا رہتا ہے اس بات کی کہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے والا اپنے دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا ؟ کیا وہ واقعی اللہ کا وفادار ہے یا محض دکھاوے کے لیے دعویٰ کر رہا ہے ؟ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اذان سننے کے بعد کسی شخص کا گھر میں بیٹھ رہنا اور بغیر کسی عذر شرعی کے جماعت میں شامل نہ ہونا ایک ایسا گناہ تھا جس کا تصور بھی مسلمانوں کے لیے مشکل تھا۔ چناچہ جب وہ دیکھتے کہ کوئی شخص جماعت میں مسلسل شریک نہیں ہوتا تو انھیں خیال ہوتا کہ وہ بیمار ہوگا۔ چناچہ وہ عیادت کے لیے اس کے گھر کا رخ کرتے۔ لیکن اگر انھیں محسوس ہونے لگتا کہ غیر حاضر ہونے والا شخص بغیر کسی عذر کے غیر حاضر ہوتا ہے تو مسلمانوں کو اس کے نفاق کا یقین ہوجاتا تھا۔ یہ نماز تھی جو مخلص اور غیر مخلص میں فرق کرتی تھی۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے نماز کے بارے میں فرمایا ” الصلوٰۃ فارق بین الحق والباطل “ (نماز حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے) تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صدیوں میں مسلمانوں میں بہت سی کمزوریاں پیدا ہوئیں ‘ ہر طرح کے عیوب ان میں پیدا ہوگئے ‘ لیکن مسلمان ملکوں میں استعمار آنے سے پہلے کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان بےنماز بھی ہوسکتا ہے۔ کوئی مسلمان ماں بےنماز بچہ نہیں جنتی تھی۔ مسلمان گھروں میں اور مسلمان آبادیوں میں بےنماز آدمی پنپ نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک ایسا عیب تھا جو مسلمان کو نکو بنا دیتا تھا۔ لیکن اس بات پر جنتا بھی صدمے کا اظہار کیا جائے کم ہے کہ وہ بد عملی یعنی ترک نماز جس کے ارتکاب کا کسی عام مسلمان سے بھی تصور نہیں ہوسکتا تھا آج مسلمانوں کے رہنما اور سیاسی لیڈر کھلم کھلا ترک نماز میں مبتلا ہیں۔ اور وہ اس کو محسوس ہی نہیں کرتے کہ نماز کی پابندی بھی کوئی ضروری چیز ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمان نہ صرف انھیں برداشت کرتے ہیں بلکہ انھیں اپنا رہنما بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن حضور ﷺ کے زمانے میں منافقین نہ چاہتے ہوئے بھی نماز پڑھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے۔ البتہ مخلص مسلمانوں کی نمازوں اور ان کی نمازوں میں فرق یہ تھا کہ وہ خوش دلی اور آمادگی سے نماز کے لیے نہیں آتے تھے ‘ بلکہ وہ اس طرح آتے جیسے خود نہیں آرہے بلکہ انھیں کوئی کھینچ کے لا رہا ہے۔ وہ نماز کے لیے اٹھتے تو کاہل بن کر ‘ ڈھیلے ڈھالے ‘ الکساتے ہوئے ‘ جیسے آدمی کسی ایسے کام کو کرتا ہے جسے وہ کرنا چاہتا نہ ہو۔ عین وقت پر مسجد میں پہنچتے ‘ جماعت میں شامل ہوتے اور جیسے ہی جماعت ختم ہوتی جوتے اٹھا کر باہر نکل آتے۔ نماز میں خاموشی سے امام کے پیچھے کھڑے رہتے لیکن نہ وہ نماز سے پہلے پہنچتے تاکہ کوئی تسبیحات کرسکیں اور نہ بعد میں ٹھہرتے تاکہ اللہ کی یاد میں کچھ وقت گزاریں۔ مجبوراً اگر اللہ کو یاد کرتے بھی تو بہت معمولی سا۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے آج مسلمانوں کا طرز عمل منافقین سے بھی بدتر ہے۔ وہ تو نماز کے لیے آتے تھے ‘ آج مسلمانوں کی اکثریت بےنماز ہے۔ اور جو مسجدوں میں آتے بھی ہیں ضروری نہیں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور اگر جماعت میں شامل ہوں تو امام صاحب کے سلام پھیرتے ہی باہر کا رخ کرتے ہیں اور ہر شخص دوسرے سے آگے نکلنے کی فکر میں ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث مبارکہ میں اس رویے کو ” نفاق “ فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” المؤمن فی المسجد کالسمک فی الماء والمنافق فی المسجد کالطیر فی القفس “ ( مومن مسجد میں ایسا ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے میں) مچھلی کبھی پانی سے نکلنا پسند نہیں کرتی۔ وہ جانتی ہے کہ باہر موت ہے۔ اور منافق مسجد میں ایسے ہوتا ہے جیسے پرندہ پنجرے پھڑپھڑاتا ہے اور موقعے کے انتظار میں ہوتا ہے کہ کہیں دروازہ کھلا رہ جائے تو میں نکل بھاگوں۔ منافق کی نماز محض دکھاوا ہے اس کے بعد منافقین کی نماز پڑھنے کی اصل وجہ بھی بیان فرما دی گئی کہ وہ نماز محض مسلمانوں کو دکھانے کے لیے پڑھتے ہیں۔ مقصود اللہ کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان انھیں دیکھیں اور حاضری لگا دیں تاکہ انھیں اطمینان ہوجائے کہ ہم مسلمان ہیں منافق نہیں۔ آگے ان کی بےبسی کی تصویر کھینچی گئی ہے کہ اس رویے نے انھیں کس قدر اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے کہ اسلام اور کفر کے درمیان ڈانواں ڈول اور ہچکولے کھاتے پھر رہے ہیں۔ نہ ادھر کے ہیں ‘ نہ ادھر کے۔ کبھی مسلمانوں میں آ کے یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اور کبھی کافروں کو جا کے اطمینان دلاتے ہیں کہ ہماری ساری ہمدردیاں تمہارے ساتھ ہیں۔ سنت اللہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی کی موجودگی اور صحابہ کا ہر وقت کا ساتھ ان بدنصیبوں کو اسلام کے بارے میں مطمئن کیوں نہیں کردیتا ؟ اور یہ اطمینان کے ساتھ ایک راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے ؟ آیت کے آخر میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص سوچ سمجھ کر اپنی مرضی اور ارادے کے ساتھ ایک راستے پر چلنے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ زبردستی اسے اپنی مرضی پر نہیں چلاتا۔ اس نے اپنے پیغمبر بھیج کر اور کتابیں اتار کر حق کا ایک ایک گوشہ واضح کردیا ہے۔ اور خیر و شر کا ایک ایک پہلو واضح کردیا ہے۔ اس کے بعد بھی جو آدمی خیر اور اسلام سے منہ پھیر کر باطل کے راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ زبردستی اسلام کے راستے پر کبھی نہیں ڈالتا۔ کیونکہ ہر شخص کا امتحان اس آزادی اور اختیار میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کے فیصلے میں اسے عطا کر رکھا ہے اس لیے نہ تو وہ کسی کو زبردستی مسلمان بناتا ہے اور نہ زبردستی کافر بناتا ہے۔ اور جب کوئی شخص اللہ سے کفر اور انحراف کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور پیغمبر کی دعوت اور کتاب کا اعجاز بھی اسے اپیل نہیں کرتا اور وہ اپنے راستے پر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تو پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ ہدایت سے اس کی محرومی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ اس فیصلے کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ اب اس کی گمراہی جسے اس نے خود اختیار کیا تھا اس کے اپنے اختیار میں نہیں رہی بلکہ اللہ کا فیصلہ بن گئی ہے۔ تو اللہ کے فیصلے کو نہ تو وہ خود بدل سکتا ہے نہ کوئی اور بدل سکتا ہے۔ تو یہاں اسی سنت اللہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے کرتوتوں سے اپنے آپ کو اللہ کے فیصلے کے حوالے کردیا ہے ‘ اس لیے اب ان کے لیے ہدایت کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
Ayah 4:144

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مومنوں کے مقابلے میں کافروں کو دوست نہ بنائو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ” اے ایمان والو ! مومنوں کے مقابلے میں کافروں کو دوست نہ بنائو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ۔ “ (النسآء : 144) دوست نہ بنانے کا مفہوم اولیاء ولی کی جمع ہے۔ ولی کا معنی ہے ” دوست ‘ ہمراز ‘ مددگار “۔ قرآن کریم میں متعدد مواقع پر مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ اور اس آیت کریمہ میں بھی شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے۔ اس کی وضاحت شاید آگے چل کر کسی اور جگہ آئے اس وقت صرف دو باتیں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کو کبھی بھی غیر مسلموں کے ساتھ ایسا تعلق پیدا نہیں کرنا چاہیے جس کو ” بطانۃ “ کہا جاتا ہے۔ یعنی مسلمان حکمران کافروں کے اتنے قریب ہوجائیں کہ اپنے راز ان تک پہنچانے لگیں۔ اور اپنی کمزوریاں کھول کر ان کے سامنے رکھ دیں اور اپنے ملک کے بعض ایسے گوشے جنھیں پردہ حجاب میں رہنا چاہیے وہ ان کی فورسز کے سامنے کھول دیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب کبھی اختلافات پیدا ہوں تو دشمن ان اسرار و رموز سے واقفیت کی وجہ سے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچانا چاہے پہنچائے۔ اور مسلمان چونکہ اپنی کمزوریاں ان کے سامنے کھول چکے ہیں اس لیے اس کا ازالہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ دوسری بات یہ کہ عام معمول کے تعلقات غیر مسلموں سے بنا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ دنیا کا نظام اسی طرح چلتا ہے کہ ملک ملک سے حکومتیں حکومتوں سے مختلف قسم کے تعلقات رکھتی ہیں۔ اس لیے کہ کوئی ملک بھی اپنی تمام ضرورتوں میں خود کفیل نہیں ہوتا۔ لین دین کا سلسلہ ملکوں میں بھی جاری رہتا ہے اور اب تو حالات ہی ایسے ہوگئے ہیں کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گائوں بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن ایسے تعلقات جس کی زد مسلمانوں پر پڑتی ہو اور کافر ان تعلقات کی وجہ سے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرسکتا ہوا سطرح کے تعلقات رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ بقائِ باہمی کی پالیسی ایک حکمت اور ایک مصلحت ہے۔ لیکن اس کا نقصان کسی دوسرے مسلمان ملک یا مسلمان رعایا کو اگر پہنچنے کا اندیشہ بھی پیدا ہوجائے تو ایسے تعلقات ناجائز ہوجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے بالمقابل کفار سے دوستی دلیل کفر ہے اس آیت کریمہ میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تم مسلمانوں کے خلاف کافروں کو دوست نہ بنائو۔ وہ چونکہ آج کل مسلمانوں کو ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور تم ایک طرح سے حالت جنگ میں ہو۔ ایسی حالت میں تمہارا ان سے تعلق صریحاً کفر کی حمایت اور اسلام سے دشمنی ہے۔ اور یہ وہ جرم ہے جو کبھی قابل معافی نہیں ہوتا۔ بےعملی یا بدعملی ‘ گوارا ہوسکتی ہے لیکن اسلام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی کے ہاتھ میں کھیلنا یہ نرم سے نرم الفاظ میں غداری ہے۔ اسے تو کبھی کوئی ملک یا کوئی قوم برداشت نہیں کرتی۔ اگر تم نے یہ رویہ نہ بدلا اور اپنے تعلقات تم نے یہود سے نہ توڑے اور اپنی دلی ہمدردیاں تم نے مسلمانوں سے وابستہ نہ کیں تو یہ ایک ایسا جرم ہے جس کے نتیجے میں تم پروردگار کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو گے کہ وہ تمہاری ہدایت سے محرومی کا فیصلہ کر دے اور یا تمہیں اپنے عذاب کا نشانہ بنا دے۔
Ayahs 4:145–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائو گے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

البتہ وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کرلیا تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور اللہ ایمان والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب دے کر اگر تم شکرگزاری اختیار کرو اور ایمان لے آئو۔ اللہ تو بڑا قدردان اور سب کچھ جاننے والا ہے

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا لا اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا ” بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائو گے۔ البتہ وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کرلیا تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہیں اور اللہ ایمان والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ کیا کرے گا اللہ تمہیں عذاب دے کر اگر تم شکرگزاری اختیار کرو اور ایمان لے آئو۔ اللہ تو بڑا قدردان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ “ (النسآء : 145 تا 147) ” الدَّرْک “ اور ” الدَّرَک “ دونوں لغتیں ہیں۔ بلندی کی طرف جو یکے بعد دیگرے درجے ہوتے ہیں انھیں اہل عرب درجات کہتے ہیں اور پستی کی طرف یکے بعد دیگرے جو درجے ہوتے ہیں انھیں ” دَرَکات “ کہتے ہیں۔ دَرَک کا معنی درک کے معنی ” اقصیٰ قَعرِ الشَییٔ“ یعنی کسی شے کا سب سے نچلا حصہ۔ اور اسفل نے اس میں مزید تاکید پیدا کردی۔ جہنم کے پستی کی طرف مختلف طبقات کے نام یہ ہیں (1) …جہنم۔ (2)… لظی۔ (3)… حطمہ۔ (4)…سعیر۔ (5)…سقر۔ (6)…جحیم۔ (7) ہاویہ۔ یہ سب سے نچلا درجہ ہے جو منافقین کا ٹھکانہ ہے۔ منافقین کا انجام معلوم ہوتا ہے یہ منافقین کو آخری تنبیہہ ہے کہ تم نہ جانے کیا سمجھتے ہو لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق اللہ کے یہاں تمام جرائم میں سے بدترین جرم ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والا کافروں سے بھی زیادہ سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ جہنم کا سب سے نچلا درجہ جس سے خود جہنم بھی پناہ مانگتا ہے اس درجے میں انھیں رکھا جائے گا۔ انھوں نے اگرچہ کلمہ پڑھا ‘ اللہ اور رسول کا اقرار کیا ‘ مسلمانوں کے ساتھ بظاہر نمازیں بھی پڑھیں ‘ لیکن انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام کے ساتھ ان کا یہ ظاہری تعلق نہ صرف یہ کہ کام نہیں آئے گا بلکہ بدترین جرم شمار ہوگا۔ اور ان سے یہ کہا جائے گا کہ تم نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بظاہر مسلمان بن کر مار آستین کی طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اللہ کے رسول ﷺ کو پس پردہ اذیتیں پہنچائیں۔ شمع اسلام کو بجھانے اور کفر کو غالب و منصور کرنے میں تمام طاقتیں صرف کر ڈالیں۔ اس لیے تمہارا انجام بھی سب سے خطرناک ہوگا۔ اور تم ایک ایسی بےبسی کی کیفیت میں مبتلا کیے جاؤ گے جس میں تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ انسانوں کے جس گروہ کے اس طرح کے جرائم ہوں ان کے لیے معافی کا ہر دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ لیکن اللہ کے کرم اور اس کی رحمت کا کیا ٹھکانہ ہے کہ وہ ایسے بڑے مجرموں کو بھی مایوس نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ فرمایا کہ ہم تمہیں پھر ایک موقع دینا چاہتے ہیں کہ تم اپنی ان حرکتوں سے توبہ کرلو ‘ اپنے گناہوں کی اللہ سے گڑگڑا کر معافی معانگو۔ اور اس توبہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ایک ایک بدعملی کی اصلاح کرو۔ اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو مضبوطی سے تھام لو۔ اور اللہ اور اس کے رسول سے مخلصانہ اطاعت کا رشتہ قائم کرو۔ اگر تم نے اس طرح اپنے آپ کو پوری طرح بدل دیا تو تمہارے گزشتہ کرتوتوں کا تم سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ تم نے جو بڑے بڑے نقصانات پہنچائے ہیں ان کا انتقام نہیں لیا جائے گا ‘ بلکہ تمہارے تمام جرائم کو عفو و درگزر سے مٹا دیا جائے گا اور تمہیں ان لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملے گا جن میں ابوبکر و عمر اور عثمان و علی ( رض) جیسے فرشتہ صفت مجاہد اور ایثار پیشہ مخلصین موجود ہیں۔ وہ برسوں کی قربانیوں کے بعد جہاں کھڑے ہیں تم توبہ کے بعد وہیں ان کے ساتھ کھڑے ہو گے۔ اور جب اللہ قیامت کے دن انھیں بےپناہ اجر سے نوازے گا تو اس اجر عظیم سے تم بھی نوازے جاؤ گے۔ اور آخری آیت میں منافقین کی طرف التفات فرمایا اور رحمت کی انتہا کردی اور نہایت پیار سے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا ؟ وہ جذبہ انتقام سے پاک ہے۔ اس لیے انتقام کی آگ بجھانے کے لیے کسی کو عذاب نہیں دیتا اور نہ کوئی اس کی ہمسری کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ اس لیے کسی کو مٹا کر اسے سکون نہیں ملتا کہ میں نے اپنی برابری کرنے والے کو مٹا دیا ہے۔ وہ ان تمام جذبات اور تاثرات سے پاک ہے۔ تمہاری بندگی کے تقاضے اور تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ تم شکر بجا لائو۔ اور ایمان سے اس شکر کو مستحکم کرو۔ اگر تم یہ دونوں صفات اپنے اندر پیدا کرلو تو تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوجاؤ گے۔ کیونکہ وہ بہت شکر قبول کرنے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
Ayahs 4:148–149

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتامگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے پوشیدہ رکھو ‘ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے

لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ط وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا ” اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتامگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے پوشیدہ رکھو ‘ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 148 تا 149) ان آیتوں کی تشریح میں صاحب تدبر قرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس لیے ہم اسی کو نقل کر رہے ہیں : تعینِ اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے ” یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی ایک تنبیہہ ہے جس طرح کی تنبیہہ آیت 86 میں گزر چکی ہے۔ جس طرح وہاں منافقین سے جب اعراض کا حکم ہوا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت کردی گئی کہ جو تمہیں سلام کرے تم اس کے سلام کا جواب دو اور مقصود اس سے یہ تھا کہ مبادا پرجوش مسلمان ان لوگوں سے سلام کلام ہی بند کردیں جن پر ان کو منافقت کا شبہ ہوجائے۔ اسی طرح یہاں اوپر والی آیات میں منافقین کے لیے چونکہ ” فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “ تک کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے اس بات کا اندیشہ تھا کہ مسلمان علانیہ سخت الفاظ میں منافقین کی برائیوں کا اظہار و اعلان شروع کردیں گے۔ اس وجہ سے یہ ہدایت کردی گئی کہ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے ‘ دوسروں کے لیے اللہ اس کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ بات چونکہ جماعتی زندگی کے نہایت اہم مسائل میں سے ہے ‘ اس وجہ سے اس کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ جماعتی زندگی کی ایک اہم ہدایت جماعتی زندگی میں کسی گروہ کے اندر اگر کوئی ایسی برائی جڑ پکڑ رہی ہو یا پکڑ چکی ہو جو پوری جماعت کے لیے خطرہ بن سکتی ہو تو اس کا تدارک ضروری ہوتا ہے اور اس تدارک کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس برائی کی قباحت و شناعت ‘ اس کے نتائج بد اور اس کے مرتکبین کے انجام کو اچھی طرح واضح کردیا جائے تاکہ جماعت کے افراد اس کے شر سے محفوظ رہیں ‘ لیکن ساتھ ہی اس امر کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ جماعت کے عام افراد عام صیغہ سے کہی ہوئی بات کو مجرد اپنے اندازے ‘ قیاس اور گمان کی بنا پر معین اشخاص پر منطبق کرنا نہ شروع کردیں۔ اس سے نہ صرف اس بات کا اندیشہ ہے کہ بہت سے بےگناہ اشخاص تہمتوں کے بدف بن جائیں گے بلکہ جماعت میں انتشار و فساد پیدا ہوجانے کا خطرہ بھی ہوگا۔ یہاں منافقین سے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں ‘ دیکھ لیجیے ‘ بالکل عام صیغے سے بیان ہوئی ہیں اور مقصود یہ ہے کہ جو لوگ یہ حرکتیں کر رہے ہیں وہ اگر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو اصلاح کرلیں اور اگر وہ اصلاح نہ کریں تو کم از کم مسلمان اپنے آپ کو ان فتنوں سے محفوظ رکھیں۔ اس حد تک یہ چیز نہ صرف یہ کہ ٹھیک ہے بلکہ جماعتی بقا کے لیے ناگزیر ہے ‘ لیکن اگر یہی چیز یہ شکل اختیار کرلے کہ اس کو دلیل بنا کر عام افراد تعین کے ساتھ ایک دوسرے کو ہدف مطاعن بنانا شروع کردیں کہ تو منافق ہے ‘ تو کافر ہوگیا اور فلاں ” فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “ کا سزاوار ہے۔ تو پوری جماعت میں ایک طوفان برپا ہوجائے گا۔ اس فتنے کی سد باب کے لیے یہ ہدایت فرما دی گئی کہ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار و اعلان صرف اس شخص کے لیے جائز ہے جس پر شخصاً ظلم ہوا ہے۔ اس صورت میں ظلم ‘ ظالم اور مظلوم تینوں متعین ہوں گے اور قانون اس کا مداوا کرسکے گا۔ جب تک یہ شکل نہ ہو بات عام صیغے ہی سے کہنی چاہیے ‘ جس طرح قرآن نے کہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے علم میں بھی جب اس طرح کی کوئی برائی آتی تو آپ ﷺ ہمیشہ عام صیغہ ہی سے اس پر لوگوں کو ملامت فرماتے۔ آپ ﷺ کا عام اندازِ کلام یہ ہوتا ” مَا بَالُ قَوْمٍ یَفْعَلُوْنَ کَذَاوَ کَذَا “ ( ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو اس اس طرح کے کام کرتے ہیں) البتہ جب کوئی متعین شخص کسی متعین جرم کے ساتھ سامنے آتا تو اس پر قانون کے مطابق گرفت فرماتے۔ صفاتِ الٰہی کے ذکر سے مقصود ان کا لازم ہے ” وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا “ بطور تنبیہ ہے۔ یعنی کوئی شخص اگر اس ہدایت کے خلاف روش اختیار کرے گا تو وہ یاد رکھے کہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔ ہم ایک سے زیادہ مقامات پر یہ اصول بیان کرچکے ہیں کہ اس طرح جب صفات الٰہی کا حوالہ آتا ہے تو مقصود اس سے ان کا لازم ہوتا ہے۔ یعنی جب خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے تو اس پر وہ گرفت بھی لازماً فرمائے گا۔ “ پسندیدہ روش کا بیان ” اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا …الخ “ خدا کو جو روش ناپسند ہے اس کو بیان فرمانے کے بعد یہ پسندیدہ روش کا بیان ہے۔ فرمایا کہ پسندیدہ روش یہ ہے کہ آدمی اچھی بات کا اظہار کرے ‘ اچھا جذبہ دل میں پرورش کرے اور دوسرے کی برائیوں سے درگزر کرے۔ اس کے بعد اپنی دو صفتوں ” عفو اور قدیر “ کا حوالہ دیا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ خدا ہر طرح کی قدرت رکھنے کے باوجود لوگوں کی برائیوں سے درگزر فرماتا ہے۔ اس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ اس کی ان صفات کا عکس اس کے بندوں کے اندر بھی پایا جائے۔ آدمی طاقت رکھتا ہو کہ وہ کسی کو ترکی بہ ترکی جواب دے سکے ‘ لیکن اس کے باوجود وہ درگزر کر جائے تو یہ عفو ہے۔ “ (ماخوذ از : تدبر قرآن)