4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جائو اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو۔ مگر اس صورت میں کہ وہ صریح بدکرداری کی مرتکب ہوں اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو اور اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں بڑی بھلائی پیدا کردے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَـکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا ط وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآاٰ تَیْتُمُوْھُنَّ اِلاَّ ٓ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ج وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ج فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو۔ مگر اس صورت میں کہ وہ صریح بدکرداری کی مرتکب ہوں اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو اور اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز تم کو ناپسند ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں بڑی بھلائی پیدا کردے) (النسآء : 19) عرب جاہلیت کے ایک مکروہ رواج کی اصلاح آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب میں عورتوں پر جو ظلم ہوتا تھا اس کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ جب کوئی شخص مر جاتاتو جس طرح مرنے والے کی جائیداد مال مویشی وارثوں کے حصے میں آتے تھے اسی طرح اس کی بیویاں بھی وارثوں کے قبضے میں آجاتی تھیں۔ یہ ظلم صرف عرب میں ہی نہیں تھا بلکہ یونانی تمدن اور رومی تمدن میں بھی یہی دستور تھا۔ بعض دفعہ تو ایسا ہو تاکہ باپ کے مرنے کے بعد اس کا بڑابیٹا اپنی سوتیلی مائوں میں سے جن پر اپنی چادر ڈال دیتا وہ سب اس کے تصرف میں آجاتیں۔ وہ چاہتا تو ان سے نکاح کرلیتا اور زن وشو کا تعلق ان سے قائم کرلیتا۔ تَرِثُوا النِسْآئَ سے شائد اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف ان کے اموال و جائیداد پر ہی قبضہ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے جسموں پر بھی قابض ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ وارث ان پر جو مظالم کرتے تھے، مفسرین نے اس کی تین صورتیں لکھی ہیں۔ ایک یہ کہ عورت کا جو حق شرعی میراث میں نکل رہا ہوتا اسے خود لے لیا جاتا اور اسے اس سے محروم کردیا جاتا۔ دوسرا یہ کہ ان کو صرف اس لیے نکاح نہ کرنے دیا جاتاتا کہ وہ اپنا مال و دولت اپنے ساتھ نہ لے جائیں۔ ان کو اسی طرح گھر میں رہنے پر مجبور کیا جاتاتاآں کہ اس کی موت آجاتی اور وارث اس کے مال پر قبضہ کرلیتے۔ تیسری صورت یہ تھی کہ بعض اوقات بیوی شوہر کو پسند نہ ہوتی تو وہ بلاوجہ اس کو پریشان کرتا، حقوقِ زوجیت ادا نہ کرتامگر طلاق دے کر اسے علیحدہ بھی نہ کرنا چاہتا۔ بہانے بہانے سے اسے اذیت دی جاتی تاکہ وہ تنگ آکروہ زیور اور زرِ مہر جو وہ اسے دے چکا ہے واپس کردے اور اگر ابھی حق مہر نہیں دیا تو معاف کردے، تب اسے آزادی مل سکتی ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ شوہر طلاق بھی دے دیتا لیکن پھر بھی اپنی مطلقہ کو کسی دوسرے سے نکاح نہ کرنے دیتاتا کہ وہ مجبور ہو کر اس کا دیا ہوا مہر واپس کرے یا واجب الادا مہر کو معاف کردے۔ یہ سارے مظالم اس بنیا پر کیے جاتے تھے کہ وہ عورت کے مال بلکہ اس کی جان کو بھی اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔ قرآن کریم نے اس تصور کی جڑ اکھاڑ ڈالی اور اس طرح تمام مظالم کا راستہ بند کردیا۔ ارشاد فرمایا : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَـکُمْ اَنْ تَرِثُوْا النِّسَآئَ کَرْھًا ” اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم جبراً عورتوں کے مال کے مالک بن بیٹھو “۔ یہ جبراً کی قید اس جگہ بطور شرط کے نہیں بلکہ بیان واقعہ کے طور پر ہے۔ کیونکہ عورتوں کو اللہ نے مردوں کی طرح آزاد ہستی دی ہے۔ ان کی اپنی ایک شخصیت ہے جس طرح جبراً ان پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح وہ اپنی رضا سے بھی اپنے آپ کو کسی کی ملکیت میں نہیں دے سکتیں۔ اگر کوئی عورت اپنی بےوقوفی سے کسی کی مملوک بننے پر راضی ہوجائے تو اسلامی قانون اسے مملوک نہیں بلکہ آزاد ہی قرار دے گا۔ چونکہ اسلام میں جبر کا کوئی اعتبار نہیں اس لیے شریعت نے ایسے نکاح کو کالعدم قرار دیا ہے، جس میں عورت کی رضا مندی شامل نہ ہو بلکہ جبراً اس سے نکاح کیا جائے۔ اسی طرح اگر کسی نے کسی عورت کو مجبور کرکے اس سے اپنا دیا ہوا مہر واپس لے لیایا واجب الادا مہر کو جبراً معاف کروالیاتو یہ جبری واپسی یا معافی شرعاً معتبر نہیں۔ نہ اس طرح لیا ہوا مال مرد کے لیے حلال ہوتا ہے اور نہ کوئی واجب حق اس طرح سے معاف ہوتا ہے۔ وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآاٰ تَیْتُمُوْھُنَّاگر کسی شخص کو اپنی بیوی ناپسندہوتو اسے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں ہے کہ جو کچھ اس نے آج تک اس کو دیا ہے یا کھلایا، پلایا اور پہنایا ہے، اسے اگلوانے کے لیے اسے تنگ کرے اور جینا دوبھر کردے۔ اگر وہ اسے چھوڑنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بھی شریفانہ طریقہ اختیار کرے۔ لیکن اگر اسے رکھنا چاہتا ہے تو پھر کسی طرح بھی مناسب نہیں کہ اس سے اس طرح کا رویہ اختیار کرے کہ میں نے تمہارے ساتھ جو کچھ آج تک شوہر کی حیثیت سے حسن سلوک کیا ہے تحائف دئیے ہیں، نوازشات کی ہیں، سب واپس کرو۔ کیونکہ میاں بیوی کا تعلق جن نزاکتوں کا حامل ہے اس میں اس طرح کی باتوں کی کوئی گنجائش نہیں اور پھر دئیے ہوئے تحائف واپس لینا یا ادا کردہ مہر واپس طلب کرنا یا مزید کسی فائدے کی امید میں تنگ کرنا یہ تو سراسر کمینگی ہے۔ جس کی نہ عقل اجازت دیتی ہے اور نہ مرد کی مردانگی اسے گوارا کرتی ہے۔ ہاں ایک چیز ہے جو شوہر کو بیوی سے حسن سلوک ختم کردینے کی اجازت دیتی ہے۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا : اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ” مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی بدکاری کا ارتکاب کرے “۔ فَاحِشَۃ کا مفہوم یہاں فَاحِشَۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کا اطلاق عام طور پر زنا یا اخلاقی طور پر ناشائستہ حرکت پر ہوتا ہے۔ ایسی ناشائستہ حرکت جس کے بعد ایک شریف اور غیرت مند شوہر کے لیے ایسی بیوی کو رکھنا ناممکن ہوجائے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ ( رض) کے نزدیک اس سے مرادبیوی کی طرف سے شوہر کی نافرمانی اور بدزبانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت بےحیائی پر اتر آئے اور یا وہ اپنے شوہر کے مقابلے میں نشوز کا رویہ اختیار کرلے کہ ہر بات کا ترکی بہ ترکی جواب دے۔ آداب کو بالائے طاق رکھ دے، اور شوہر کے ادب واحترام کی پرواہ نہ کرے۔ تب شوہر کے لیے مجبوری ہے کہ وہ ایسی عورت کو بیوی بنا کر نہیں رکھ سکتا۔ وہ یقینا طلاق دے گا۔ طلاق کی صورت میں گھراجڑے گا، نئی بیوی لانے کے لیے نئے اخراجات درکار ہوں گے۔ ممکن ہے شوہران باتوں کا متحمل نہ ہوسکے۔ اس لیے ایسے شوہر کے لیے اجازت ہے (چونکہ یہ ساری مشکلات بیوی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہیں) کہ وہ بیوی کو اس وقت تک روکے رکھے، جب تک وہ مہر معاف نہ کردے یا مہر لے چکی ہے تو جب تک واپس نہ کردے اور اگر کچھ اور بھی اسے دیاجا چکا ہے تو اسے واپس لے۔ لیکن اگر بیوی سے ایسی کوئی نامناسب حرکت سرزد نہیں ہوئی اور وہ ایک شریف بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے تو پھر شوہر کو اللہ سے ڈرنا چاہیے۔ محض اس کے نین نقش یا رنگ روپ کو بہانہ بنا کر اسے تنگ کرنا یا کسی اور نامناسب بات کا سہارالینا، اس کی کسی طرح بھی اجازت نہیں۔ اسے حکم دیا جارہا ہے : وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ” اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کرو “۔ اور اس خوش اسلوبی کا معیار وہ ہے جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ نے قائم کیا ہے۔ عورتوں کے حقوق کی تاکید اسلام نے جس طرح مرد کے حقوق مقرر کیے ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ شوہر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے کہ وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق بیوی کے مصارف کی کفالت کرے۔ کھانے پینے اور پہننے کی ذمہ داری معقول طریقے سے نبھائے۔ اپنی حیثیت کے مطابق اس کے لیے رہائش مہیا کرے، بیمار ہو تو اس کا علاج کرائے، یہ تو وہ بنیادی حقوق ہیں جن کی ادائیگی بہر صورت لازم ہیں۔ لیکن حسن سلوک اس سے زائد چیز ہے۔ اس کا تعلق اس معاشرت، اس رہن سہن، اور اس رویے سے ہے جو شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔ اگر ایک شخص اپنی بیوی کو ہر طرح کی سہولتیں مہیا کرتا ہے۔ لیکن اسے وقت نہیں دیتا، اس سے خندہ روئی سے پیش نہیں آتا، اس کے میل جول سے محبت کی خوشبو نہیں مہکتی، تو یہ ایک بدسلوکی ہے جس پر اللہ کے ہاں گرفت ہوگی۔ کیونکہ حکم معروف طریقے سے معاشرت کا دیا گیا ہے اس میں یہ سب باتیں شامل ہیں۔ اور آنحضرت ﷺ نے بہتر انسانوں کے لیے جو معیار ذکر فرمایا ہے وہ حسن کردار کے علاوہ یہ بھی ہے : خیارکم خیارکم باھلہ ” تم میں بہتر وہ ہیں جو اپنے گھر والوں سے بہتر ہیں “۔ اور آپ کا اسوہ یہ بات سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ بیویوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ ہونا چاہیے۔ آپ کی نو بیویاں تھیں لیکن ہر بیوی کے ساتھ آپ کا سلوک اور آپ کارویہ مثالی تھا۔ ہر بیوی یہ سمجھتی تھی کہ حضور مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ سب سے محبت کرتے تھے۔ کبھی ایک بیوی کو دوسری بیوی پر ترجیح نہیں دیتے تھے اور کبھی کوئی ایسی بات نہیں فرماتے تھے جس سے کسی بیوی کو شکائت کا موقعہ ملے بلکہ آپ کا بیویوں کے ساتھ طرز عمل اس طرح کا تھا جسے ناز برداری کہنا چاہیے۔ آپ کے گھر میں کسی نے بھنی ہوئی بکرے کی ران بھیجی۔ حضرت عائشہ ( رض) نے آپ کی خدمت میں پیش کی، آپ نے حضرت عائشہ سے پہلے کھانے کے لیے فرمایا، لیکن حضرت عائشہ کی خواہش تھی کہ حضور پہلے کھائیں بچا ہوا میں کھالوں گی۔ لیکن جب حضور نے اصرار فرمایا تو تعمیلِ حکم میں حضرت عائشہ نے دانتوں سے ران کو ایک طرف سے کھایا آپ نے ان کی دل جوئی اور ناز برداری کے لیے اسی جگہ سے تناول فرمایا جہاں حضرت عائشہ کے دانتوں کے نشان لگے تھے۔ اندازہ فرمائیے ! حضور ایک اولوالعزم پیغمبر بھی ہیں اور کائنات میں آپ کا مقام اور مرتبہ سب سے بالا ہے۔ باایں ہمہ آپ کا طرز عمل تمام بیویوں سے اسی طرح کا تھا۔ آپ کے اسی اسوئہ حسنہ کا نتیجہ ہے کہ اس امت کے صالح لوگوں نے ہمیشہ اپنے گھر میں بھی آنحضرت کی سنت کو زندہ رکھا ہے۔ مولانا تھانوی مرحوم کے پاس کسی نے تین خربوزے بھیجے۔ آپ نے ایک تو حاضرین میں تقسیم کردیا اور دو کو نصف نصف کاٹ کر دونوں میں سے ایک ایک نصف، اپنی دونوں بیویوں کے گھر بھیجا۔ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا، حضرت آپ نے دونوں کاٹ کر ایک ایک حصہ دونوں کا دونوں گھروں میں بھیجا ہے، تو آپ نے بغیرکاٹے ایک ایک خربوزہ ایک ایک گھر میں کیوں نہ بھیج دیا۔ فرمایا : میں نے سوچا ممکن ہے ان میں سے ایک میٹھا نکلے اور دوسرا پھیکا تو ایک گھر میں میٹھا جائے گا اور دوسرے گھر میں پھیکا، یہ برابری نہیں ہوگی۔ اس لیے میں نے دونوں تقسیم کرکے برابر برابربھیج دئیے تاکہ اللہ کے یہاں میں برابری نہ کرنے کے جرم میں پکڑ انہ جاؤں۔ مولانا تھانوی کے ایک خلیفہ ڈاکٹر عبدالحی عارفی صاحب مرحوم کے بارے میں کہیں پڑھا کہ ایک دفعہ انھوں نے فرمایا کہ میرے نکاح کو باون سال ہوگئے ہیں۔ لیکن آج تک لڑائی تو دور کی بات ہے میں نے لہجہ بدل کر بھی کبھی اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔ یہ وہ حسن معاشرت ہے جس کا یہاں حکم دیا جارہا ہے۔ مزید فرمایا کہ اگر تمہیں کسی وجہ سے بیوی ناپسند ہے اور وہ وجہ ایسی نہیں ہے جسے شرعی کہا جاسکے بلکہ اس کا سبب شکل و صورت کا یارنگ وروپ کا پسندیدہ نہ ہونا ہے، تو پھر یاد رکھو ! یہ کوئی قابل نفرت چیز نہیں۔ قابل نفرت چیز اخلاقی فساد ہے۔ اگر سیرت اچھی ہے اور صورت زیادہ اچھی نہیں تو شوہر کو فوراً دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسے حتی الامکان صبروتحمل سے کام لینا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ اسے بیوی کے طور اطوار، رکھ رکھائو، سلیقہ شعاری اور خدمت کا جذبہ رائے بدلنے پر مجبور کردے۔ ازدواجی زندگی ہمیشہ یکساں تو نہیں رہتی، کبھی مالی دشواریاں مسائل پیدا کردیتی ہیں یا مشترکہ گھرانوں میں رشتوں کے نشیب و فراز بہت ساری الجھنیں پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں شکل و صورت کام نہیں آتی بلکہ حسن سیرت، حسن اخلاق، سلیقہ شعاری، اور دردمندی کام آتی ہے۔ تب شوہر کو احساس ہونے لگتا ہے کہ اگر میں نے گھر میں ایک چاندی کی گڑیا لاکر بٹھائی ہوتی تو میں اس کی پوجا تو کرسکتا تھا لیکن وہ میرے کسی کام نہ آتی۔ لیکن میری اس بیوی نے جس طرح میری مشکلات میں میرا ہاتھ بٹایا ہے اور جس طرح میرے تھکے ہوئے اعصاب کو گھر کے ماحول نے راحت بخشی ہے، یہ میرے لیے ایک ایسی نعمت ہے، جس کا کوئی بدل نہیں اور اس آیت کریمہ میں تو اللہ نے ایک ایسا وعدہ فرمایا ہے، جو ایسی صورتحال میں سوچنے سمجھنے والوں کے لیے بہت بڑاسہارا ہے۔ فرمایا : فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَـکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا ” اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو “۔ عَسٰیکا لفظ اگرچہ امید کے لیے ہوتا ہے، لیکن یہی لفظ جب کسی بادشاہ کے منہ سے نکلتا ہے تو خوشی کے شادیانے بجنے لگتے ہیں اور اگر بادشاہوں کے بادشاہ سے اس کا صدورہو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں کتنا بڑا وعدہ مضمر ہے۔ جن لوگوں نے اس وعدے پر بھروسہ کرکے ناپسندیدہ بیویوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا اور اچھی زندگی گزاری انھوں نے واقعی اپنی آنکھوں سے اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔ شوہر کے صبر کا پھل مختلف صورتوں میں ملتا ہے۔ کبھی صالح اولاد سے نوازا جاتا ہے، کبھی میاں بیوی کی باہم ہم آہنگی ہر چیز پر غالب آجاتی ہے، کبھی اللہ تعالیٰ گھر میں برکت عطا فرماتے ہیں، کبھی مختلف نیکیوں اور سعادتوں سے مالا مال کردیا جاتا ہے، شرط یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر پور ابھروسہ کیا جائے اور اسی کی امید پر زندگی گزاری جائے۔
Ayahs 4:20–21

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کرکے اس کو لوگے

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور آخر تم اس سے کس طرح لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انھوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے

وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ لا وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا ط اَتَاْخُذُوُنَہٗ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْـکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کرکے اس کو لوگے اور آخر تم اس سے کس طرح لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انھوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے) (النسآء : 20 تا 21) سابقہ آیت کریمہ میں بتایا گیا تھا کہ بیوی کی ناپسندیدگی کے باوجود پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ نبھانے کی کوشش کی جائے۔ طلاق بالکل آخری چارہ کار ہے جسے ناگزیز حالات ہی میں استعمال کرنا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : ابغض الحلال الی اللہ الطلاق یعنی طلاق اگرچہ جائز ہے مگر تمام جائز کاموں میں اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند اگر کوئی چیز ہے تو وہ طلاق ہے۔ دوسری حدیث میں ہے آپ نے فرمایا : تزوجوا ولاتطلقوا فان اللہ لایحب الذواقین والذواقات ” نکاح کرو اور طلاق نہ دو کیونکہ اللہ ایسے مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں کرتا جو بھنورے کی طرح پھول پھول کا مزہ چکھتے پھریں “۔ علیحدگی ناگزیر ہو تو اس کے لیے ہدایات اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان سب ہدایات کے باوجود اگر تم نے ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی لانے کا ارادہ کر ہی لیا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس کے بغیر کوئی چارئہ کار نہیں تو پھر ٹھیک ہے اللہ نے اس کی اجازت دی ہے کر گزرو۔ لیکن اگر تم نے اپنی بیوی کو حق مہر کی صورت میں یا تحائف کے طور پر (جو اس کی ملکیت بنادئیے گئے ہیں) ، خزانہ بھی دے رکھا ہے، تو اسے واپس لینے کی کوشش نہ کرو۔ قنطار کا معنی خزانہ ہے لیکن مراد اس سے ڈھیروں مال ہے۔ یعنی اگر تم ایک بڑی سے بڑی رقم بھی یا بڑی سے بڑی قیمت کی چیزیں بھی بیوی کو دے چکے ہو تو اب چونکہ تم نے طلاق کا فیصلہ کرلیا ہے تو گزشتہ زمانہ بالکل بھول کرا یک نئی طرح مت ڈالو۔ اگر تم نباہ نہیں کرسکے تو کم از کم علیحدگی تو خوش اسلوبی سے اختیار کرو۔ عام انسانوں کا معمول یہ ہے کہ جب وہ الگ ہونا چاہتے ہیں تو خوش اسلوبی سے الگ نہیں ہوتے۔ ہمارے معاشرے میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ میاں بیوی میں علیحدگی اس طرح ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کو اس کی خبر ہو اور جو الزام ایک دوسرے پر لگایا جاسکتا ہو اس میں دریغ نہ کیا جائے۔ علیحدہ ہونے والی بیوی عام طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہوتی کہ شوہر کو زیادہ پریشان کرسکے۔ اگرچہ ارادے اس کے بھی نیک نہیں ہوتے لیکن شوہر جب بیوی سے کچھ چھیننا چاہتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ سیدھی انگلیوں سے تو گھی نہیں نکلے گا۔ اس لیے بہتان لگا کر بیوی کو مجبور کردو کہ لیا ہوا حق مہر واپس کرے اور اس کے علاوہ اگر کوئی تحائف وغیرہ ہیں تو وہ بھی واپس کردے۔ لیکن قرآن کریم نے اسے کھلی حق تلفی قرار دیا ہے، کیونکہ بیوی کی علیحدگی کی صورت میں بھی اس کے وہ حقوق تو باقی رہتے ہیں جو ایک مسلمان کے ایک مسلمان پر ہیں۔ کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا یہ کسی بھی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ چہ جائیکہ آدمی اپنی پہلی بیوی پر بہتان باندھے اور اس کی عزت کو محض چند ٹکوں کی خاطرخاک میں ملا دے۔ دوسری آیت کریمہ میں نہایت تعجب سے مرد کی مردانگی کو غیرت دلا کر فرمایا کہ تم کیسے اپنا دیا ہوا مال اس سے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم دونوں ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور ایک دوسرے کے سامنے بےحجاب ہوچکے ہو۔ اور اس طرح تم نے ایک مدت تک یک جان اور دو قالب ہو کر زندگی گزاری ہے۔ کیا علیحدگی کی تلخیاں اتنی شدید ہیں کہ تنہائیوں کے سارے تقاضے بھول جائیں ؟ اور مال کی محبت میں بیوی جو تنہائیوں کی امین رہ چکی ہے، اسے بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بنادیاجائے۔ اسی سلسلے میں مزید فرمایا کہ تم علیحدہ ہوتے ہوئے اس بات کو بھی بھول گئے ہو کہ تمہاری بیوی نے تم سے ایک مضبوط عہد لیا تھا۔ تم نے آپس میں ایک میثاقِ غلیظ باندھا تھا یعنی ایک مضبوط عہدوپیمان کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ دینے کے وعدے کیے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کی قسمیں کھائی تھیں۔ جب تم آپس میں نکاح کی شکل میں یہ عہد کررہے تھے تو اگرچہ اس میثاق کے الفاظ نہائیت سادہ اور مختصر تھے لیکن اس کے پیچھے جو عزم پوشیدہ تھا اور اس کے اندر جو مضمرات اور تضمنات مخفی تھے اسے تم بھی جانتے تھے اور تمہارے دونوں خاندان بھی جانتے تھے۔ دونوں خاندان اس عہد ومیثاق کی پشت پر تھے اور دونوں اس کے گواہ تھے۔ پھر تم نے اللہ کا نام لے کر اس عہد و پیمان کی گرہ باندھی تھی اور مخلوق کے ساتھ ساتھ تم نے اپنے خالق کو بھی اپنے اس عہد کا گواہ بنایا تھا۔ ذراغور کیجیے ! ایسے مضبوط عہد و پیمان کا انجام یہی ہونا چاہیے کہ وہ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جائے اور خود اپنے ہاتھوں سے اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی جائیں۔ نہیں ! ایسا ہرگز نہیں یہ ایک مضبوط عہد و پیمان ہے جو میاں بیوی کے درمیان ہوتا ہے۔ اسی عہد و پیمان کے نتیجے میں مرد کو حقوق ملتے ہیں، تو عورت کو بھی ملتے ہیں۔ ان حقوق کو جو بھی پامال کرنے کی کوشش کرے گا وہ اللہ کے ہاں جوابدہ ہوگا۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو مگر جو کچھ ہوچکا۔ بیشک یہ کھلی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے) ۔

وَلاَ تَنْکِحُوْا مَانَـکَحَ اٰ بَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ َسَلَفَ ط اِنَّـہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا ط وَسَآئَ سَبِیْلًا ع ( اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو مگر جو کچھ ہوچکا۔ بیشک یہ کھلی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے) (النسآء : 22) اس رکوع کے آغاز میں یہ بات گزرچکی ہے کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ باپ کی منکوحہ بیویاں بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے بعض دفعہ ان سے نکاح بھی کرلیتے تھے اور اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ وہاں دوسری قباحتوں کے ضمن میں اس کے ارتکاب سے بھی روکا گیا تھا۔ لیکن اس آیت کریمہ میں اس انتہائی بیہودہ فعل کی حتمی ممانعت کردی گئی اور صاف صاف حکم دیا کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں یعنی جو تمہاری سوتیلی مائیں ہوں ان سے ہرگز نکاح مت کرنا۔ یہ صرف برائی نہیں بلکہ بےحیائی بھی ہے، قابل نفرت چیز بھی ہے اور بہت برا راستہ بھی ہے، اس راستے پر چلنے والے تباہی کے غار میں گرے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اسلام نے اس کو فوجداری جرم قرار دیا ہے اور قابل دست اندازیِ پولیس ٹھہرایا ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا جرم کرنے والوں کو نبی کریم ﷺ نے موت اور جائیداد کی ضبطی کا حکم دیا۔ ابن ماجہ نے ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت نے یہ قاعدہ کلیہ ارشاد فرمایا تھا : من وقع علی ذات محرم فاقتلوہ ” جو شخص محرمات میں سے کسی کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کردیاجائے۔ “
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

(تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں، جنھوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے، ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشوقائم ہوچکا ہو اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس نکاح میں اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرومگر جو پہلے ہوچکا، اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُـکُمْ وَبَنٰـتُـکُمْ وَاَخَوٰ تُـکُمْ وَعَمّٰـتُـکُمْ وَخٰلٰـتُـکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰـتُـکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَـکُمْ وَاَخَوٰ تُـکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ ز فَاِنْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ ز وَحَلَآ ئِلُ اَبْنَـآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَ بِکُمْ لا وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا لا (تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں، جنھوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے، ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشوقائم ہوچکا ہو اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس نکاح میں اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہیں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرومگر جو پہلے ہوچکا، اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے) (النسآء : 23) محرمات شرعیہ کی تفصیل باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت کو بیان کرنے کے بعد ان تمام عورتوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جنھیں محرمات کہا جاتا ہے۔ یعنی جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ ان کی چار قسمیں ہیں۔ 1 محرمات نسبیہ یعنی وہ عورتیں جو رحمی رشتے کی قربت قریبہ کے باعث حرام ہوئی ہیں۔ یہ ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ 2 محرمات رضاعیہ وہ عورتیں جو رضاعت کی وجہ سے حرام ہوئی ہیں، انھیں محرماتِ رضاعیہ کہا جاتا ہے۔ وہ بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ 3 محرمات بالمصاہرہ وہ عورتیں جو بیوی سے تعلق کی وجہ سے حرام ہوئی ہیں، انھیں محرماتِ بالمصاہرہ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہیں۔ 4 وہ عورتیں جو کسی کے نکاح میں ہیں وہ دوسرے کے نکاح میں ہونے کی وجہ سے حرام ہیں۔ یہ اس وقت تک حرام ہیں جب تک دوسرے کے نکاح میں ہیں اور اگر یہ نکاح کا تعلق ختم ہوجائے تو پھر یہ حرمت ختم ہوجاتی ہے۔ محرمات نسبیہ محرمات نسبیہ میں سے جن محرمات کو بیان کیا گیا ہے انھیں ہم ایک ترتیب سے بیان کرتے ہیں۔ 1 اُمَّھٰـتُـکُمْ : ” تمہاری مائیں “۔ اس کا اطلاق جس طرح سگی ماں پر ہوتا ہے اسی طرح سوتیلی ماں پر بھی ہوتا ہے۔ پھر اسی حکم میں باپ کی ماں اور ماں کی ماں بھی شامل ہیں اور یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ ماں سے مراد ہر وہ عورت ہے جس سے باپ نے نکاح کیا ہو۔ چاہے اس سے میاں بیوی کے تعلق کی نوبت نہ آئی ہو۔ بس صرف عقد ہوجانے سے بیٹے کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر باپ نے کسی عورت سے ناجائز تعلق پیدا کیا ہو تو اس ناجائز تعلق کی وجہ سے وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اگرچہ سلف میں سے بعض بزرگوں نے اس سے اختلاف کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ تعلق زن وشو تو بڑی بات ہے اگر باپ نے کسی عورت کو شہوت سے ہاتھ بھی لگایا ہو تو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح سلف میں اس امر پر بھی اختلاف رہا ہے کہ جس عورت سے بیٹے کا ناجائز تعلق رہ چکا ہو وہ باپ پر حرام ہے یا نہیں۔ اور جس مرد سے ماں یا بیٹی کا ناجائز تعلق رہاہویا بعد میں ہوجائے اس سے نکاح ماں اور بیٹی دونوں کے لیے حرام ہے یا نہیں ؟ اس باب میں فقیہانہ بحثیں بہت طویل ہیں۔ مگر یہ بات معمولی غور وفکر سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی شخص کے نکاح میں ایسی عورت کا ہوناجس پر اس کا باپ یا اس کا بیٹا بھی نظر رکھتاہو یا جس کی ماں یا بیٹی پر بھی اس کی نگاہ ہو ایک صالح معاشرت کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہوسکتی۔ شریعتِ الٰہی کا مزاج اس معاملہ میں ان قانونی موشگافیوں کو قبول نہیں کرتا جن کی بنا پر نکاح اور غیرنکاح اور قبل نکاح اور بعد نکاح اور لمس اور نظر وغیرہ میں فرق کیا جاتا ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ خاندانی زندگی میں ایک ہی عورت کے ساتھ باپ اور بیٹے کے یا ایک ہی مرد کے ساتھ ماں اور بیٹی کے شہوانی جذبات کا وابستہ ہونا سخت مفاسد کا موجب ہے۔ اور شریعت اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتی۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : من نظر الی فرج امرأۃ حرمت علیہ امہا وابنتھا ” جس شخص نے کسی عورت کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالی ہو اس کی ماں اور بیٹی دونوں اس پر حرام ہیں “ اور لا ینظر اللہ الی رجل نظر الی فرج امرأۃ وابنتھا ” اللہ اس شخص کی صورت دیکھنا پسند نہیں کرتاجو بیک وقت ماں اور بیٹی دونوں کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالے “۔ ان روایات سے شریعت کا منشا صاف واضح ہوجاتا ہے۔ 2 وَبَنٰـتُکُمْ :” اور تمہاری بیٹیاں “ تم پر حرام کی گئی ہیں۔ جس طرح صلبی بیٹی حرام ہے، اسی طرح اس کی لڑکی اور پوتی بھی حرام ہیں۔ یعنی اس حرمت کا اطلاق بیٹی، پوتی، پڑپوتی، نواسی، پڑنواسی، پر ہوتا ہے۔ اسی طرح سوتیلی لڑکی، جو دوسرے شوہر کی ہو اور بیوی ساتھ لائی ہو۔ اس سے نکاح کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ البتہ جو لڑکا یا لڑکی صلبی نہ ہو بلکہ لے پالک ہو ان سے اور ان کی اولاد سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ کسی دوسرے طریقہ سے حرمت نہ آئی ہو۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس نطفہ سے جو لڑکی پیداہو وہ بھی بیٹی کے حکم میں ہے اس سے بھی نکاح درست نہیں۔ 3 وَاَخَوٰ تُکُمْ :” اور تمہاری بہنیں “ بھی تم پر حرام ہیں۔ اس کا اطلاق جس طرح سگی بہن پر ہوتا اسی طرح علاتی (باپ شریک) اور اخیافی (ماں شریک) پر ہوتا ہے۔ یہ بھی بھائی پر حرام ہیں۔ 4 وَعَمّٰتُکُمْ ” اور تمہاری پھپھیاں “ بھی تم پر حرام ہیں۔ وہ چاہے باپ کی حقیقی بہنیں ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی ہوں۔ تمام حرمت کے حکم میں داخل ہیں۔ 5 وَخٰلٰـتُکُمْ : ” اور تمہاری خالائیں “ بھی تم پر حرام ہیں۔ اس سے مراد والدہ کی بہنیں ہیں۔ چاہے وہ حقیقی ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی ہوں۔ 6 وَبَنٰتُ الْاَخِ : ” اور بھائی کی بیٹیاں “ یعنی بھتیجیوں سے بھی چچا کے لیے نکاح کرنا حرام ہے۔ یہ بھتیجیاں چاہے حقیقی ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی یعنی تینوں طرح کے بھائیوں کی بیٹیوں سے نکاح حرام ہے۔ 7 وَبَنٰتُ الْاُخْتِ : ” اور بہن کی بیٹیاں “ بھی تم پر حرام کی گئی ہیں۔ ان میں بھی وہی تعمیم ہے کہ چاہے حقیقی ہوں، علاتی ہوں یا اخیافی ہوں۔ یہ سات محرماتِ شرعیہ ہیں، جن کی حرمت ابدی ہے۔ اس حرمت کا سبب ان کا رحمی رشتہ اور قرابتِ قریبہ ہے۔ پروردگار کو یہ ہرگز منظور نہیں کہ رحمی رشتے کے تقدس کو جنسی آلودگیوں سے آلودہ کیا جائے۔ پھر اس رشتے میں جو گہرائی ہے اس کا بھی تقاضایہ ہے کہ اس پر صہری رشتوں کا سایہ نہ پڑنے دیا جائے تاکہ یہ خون کے رشتے ہر طرح کے جنسی جذباتِ سے محفوظ رہیں۔ محرمات رضاعیہ اب ہم ان محرمات کی تفصیل بیان کرتے ہیں، جو رضاعت کی وجہ سے حرام ہیں۔ برصغیر میں رضاعت کے رشتے کی وہ اہمیت نہیں جو عرب میں رہی ہے۔ لیکن اسلام نے اس رشتے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ وہ اس رشتے کو وہی اہمیت دیتا ہے جو رحمی رشتوں کو دیتا ہے۔ جو شخص کسی عورت کے سینے سے دودھ پیتا ہے وہ اگرچہ اس کی حقیقی ماں نہیں لیکن اس کی آغوش کے لمس اور اس کی چھاتیوں کی گرمی اور اس کے خون جگر نے دودھ کی صورت میں اس کے اندر اتر کر اسے ماں کا احترام اور وقار دے دیا ہے۔ جس طرح حقیقی ماں کا دودھ بچے کے رگ وپے میں دوڑتا ہے اور وہ ہر نازک موقعہ پر اپنے دودھ کے حوالے سے بات کرتی ہے کہ اگر تم نے یہ کام کیا تو میں تمہیں کبھی دودھ نہیں بخشوں گی۔ اسی طرح رضاعی ماں بھی دودھ کے اسی تقدس کے باعث اپنے رضاعی بیٹے کے احساسات کا حصہ بن جاتی ہے۔ جس طرح اس کا پیٹ اس کے دودھ سے سیراب ہوتا ہے اسی طرح اس کے جذبات اس تعلق سے متأثر ہوتے ہیں۔ اس طرح سے وہ دودھ پلانے والی عورت بچے کی ماں بن جاتی ہے اور اس کا شوہر باپ کے حکم میں شامل ہوجاتا ہے اور تمام وہ رشتے جو حقیقی ماں اور باپ کے تعلق سے حرام ہوتے ہیں رضاعی ماں اور باپ کے تعلق سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ اس حکم کا ماخذ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے : یحرم من الرضاع مایحرم من النسب ” جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہی رضاعت سے بھی حرام ہوجاتے ہیں “۔ البتہ ! اس امر میں اختلاف ہے کہ حرمت رضاعت کس قدر دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک جتنی مقدار سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اتنی ہی مقدار سے اگر بچہ کسی کا دودھ پی لے تو حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ مگر امام احمد کے نزدیک تین مرتبہ پینے سے اور امام شافعی کے نزدیک پانچ دفعہ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ حرمت رضاعت اسی زمانہ میں دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن میں دودھ پینے کا زمانہ ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انما الرضاعۃ من المجاعۃ ” رضاعت سے جو حرمت ثابت ہوتی ہے، وہ اسی زمانہ میں دودھ پینے سے ہوتی ہے، جس زمانہ میں دودھ پینے سے بچہ کا نشو و نما ہوتا ہے “ اگر کسی نے شیرخوارگی کی عمر کے بعد کسی خاتون کا دودھ پیا تو اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے اس نے پانی پی لیا۔ حضرت ام سلمہ اور حضرت عبداللہ ابن عباس کی یہی رائے ہے۔ حضرت علی ( رض) سے بھی ایک روایت اسی معنی میں آئی ہے۔ زہری، حسن بصری، قتادہ، عکرمہ، اور اوزاعی بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ اڑھائی سال تک اور امام مالک دو سال سے کچھ عرصہ اوپر ہونے تک احتیاطاً مدت رضاعت تسلیم کرتے ہیں۔ کچھ بزرگوں کی رائے یہ ہے کہ کسی عمر میں بھی دودھ پیا جائے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ یہی رائے حضرت عائشہ ( رض) کی ہے۔ حضرت علی ( رض) سے بھی صحیح تر روایت اسی کی تائید میں منقول ہے اور فقہاء میں سے عروہ بن زبیر، عطاء لیث بن سعد اور ابن حزم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ رضاعت کے حوالے سے جو عورتیں حرام کی گئی ہیں، ان میں سب سے پہلے 1 وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَـکُمْ ” تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے “۔ چاہے ایک دفعہ پلایاہو اور چاہے متعدد دفعہ۔ 2 وَاَخَوٰ تُـکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ ” اور رضاعت کے رشتے سے تمہاری بہنیں “ ان سے بھی نکاح حرام ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب کسی لڑکی یا لڑکے نے ایام رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لیا، وہ عورت اس کی رضاعی والدہ بن گئی اور اس عورت کا شوہر اس کا باپ بن گیا۔ اس عورت کی نسبی اولاد اس کے بہن بھائی بن گئے اور اس عورت کی بہنیں ان کی خالائیں بن گئیں اور اس عورت کا جیٹھ، دیور ان بچوں کے رضاعی چچا بن گئے اور اس عورت کے شوہر کی بہنیں ان بچوں کی پھوپھیاں بن گئیں اور باہم ان سب میں حرمت رضاعت ثابت ہوگئی۔ نسب کے رشتہ سے جو نکاح آپس میں حرام ہیں رضاعت کے رشتہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : یحرم من الرضاعۃ مایحرم من الولادۃ اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے : ان اللّٰہ حرم من الرضاعۃ ما حرم من النسب۔ اس تعلق کی وسعت دکھانے کے لیے ہم معارف القرآن سے چند مسائل نقل کرتے ہیں : مسئلہ اگر ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے کسی عورت کا دودھ پیا تو ان دونوں کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح رضاعی بھائی اور رضاعی بہن کی لڑکی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ مسئلہ رضاعی بھائی یا رضاعی بہن کی نسبی ماں سے نکاح جائز ہے۔ اور نسبی بہن کی رضاعی ماں سے بھی حلال ہے اور رضاعی بہن کی نسبی بہن سے اور نسبی بہن کی رضاعی بہن سے بھی نکاح جائز ہے۔ مسئلہ منہ یا ناک کے ذریعہ ایام رضاعت میں دودھ اندر جانے سے حرمت ثابت ہوتی ہے اور اگر اور کسی راستہ سے دودھ اندر پہنچادیا جائے یا دودھ کا انجکشن دے دیا جائے تو حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ مسئلہ عورت کے دودھ کے علاوہ کسی اور دودھ ( مثلاً چوپائے کا دودھ یا کسی مرد کا) سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ مسئلہ دودھ اگر دوا میں یا بکری، گائے، بھینس کے دودھ میں ملا ہواہوتو اس سے حرمت رضاعت اس وقت ثابت ہوگی جب کہ عورت کا دودھ غالب ہو اور اگر دونوں برابر ہوں تب بھی حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے، لیکن اگر عورت کا دودھ کم ہے تو یہ حرمت ثابت نہ ہوگی۔ مسئلہ اگر مرد کے دودھ نکل آئے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ مسئلہ اگر دودھ پینے کا شک ہو تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی اگر کسی عورت نے کسی بچے کے منہ میں پستان دیا لیکن دودھ جانے کا یقین نہ ہو تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی اور نکاح کی حلت پر اس کا اثر نہ پڑے گا۔ مسئلہ اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا اور کسی اور عورت نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے تو اگر دونوں اس کی تصدیق کریں تو نکاح فاسد ہونے کا فیصلہ کرلیاجائے گا اور اگر یہ دونوں اس کی تکذیب کریں اور عورت دیندار خدا ترس ہو تو فسادِ نکاح کا فیصلہ نہ ہوگا، لیکن طلاق دے کے مفارقت کرلینا پھر بھی افضل ہے۔ مسئلہ حرمت رضاعت کے ثبوت کے لیے دو دیندار مردوں کی گواہی ضروری ہے ایک مرد یا ایک عورت کی گواہی سے رضاعت ثابت نہ ہوگی لیکن چونکہ معاملہ حرام و حلال سے متعلق ہے اس لیے احتیاط کرنا افضل ہے۔ حتی کہ بعض فقہاء نے یہ تفصیل لکھی کہ اگر کسی عورت نے نکاح کرنا ہو اور ایک دنیدار مرد گواہی دے کہ یہ دونوں رضاعی بھائی بہن ہیں تو نکاح کرنا جائز نہیں اور اگر نکاح کے بعد ہوتواحتیاط جدا ہونے میں ہے بلکہ اگر ایک عورت بھی کہہ دے تب بھی احتیاط اسی میں ہے کہ مفارقت اختیار کرلیں۔ مسئلہ جس طرح دودیندار مردوں کی گواہی سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، اسی طرح ایک دیندار مرد اور دو دیندار عورتوں کی گواہی سے بھی اس کا ثبوت ہوجاتا ہے۔ البتہ ! احتیاط اسی میں ہے کہ اگر نصاب شہادت پور انہ ہو تب بھی شک سے بچنے کے لیے حرمت کو ترجیح دی جائے۔ محرمات صہریہ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ ( اور تمہاری عورتوں کی مائیں) تم پر حرام کی گئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی حرمت صہری رشتے کی وجہ سے ہے۔ یعنی بیوی کے حوالے سے عائد کی گئی ہے۔ یہاں بھی امہات میں تفصیل ہے کہ بیویوں کی مائوں کا اطلاق نانیوں اور دادیوں پر بھی ہوتا ہے۔ وہ چاہے نسبی ہوں یا رضاعی ہوں۔ مزید یہ کہ جس طرح منکوحہ بیوی کی ماں حرام ہے اسی طرح اس عورت کی ماں بھی حرام ہے جس کے ساتھ شبہ میں ہم بستری کی ہو یا جس کے ساتھ زنا کیا ہو یا اس کو شہوت کے ساتھ چھوا ہو۔ البتہ ! اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے محض نکاح ہوا ہو اس کی ماں حرام ہے یا نہیں۔ امام ابو حنیفہ، مالک، احمد اور شافعی اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ حضرت علی ( رض) کی رائے یہ ہے کہ جب تک کسی عورت سے خلوت نہ ہوئی ہو اس کی ماں حرام نہیں ہوتی۔ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ ز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ز ربائب، ربیبہ کی جمع ہے۔ بیوی کی پچھلگ لڑکی کو کہتے ہیں۔ اس کی حرمت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ شوہر نے اس کی ماں کے ساتھ زن وشو کا تعلق قائم کرلیا ہو لیکن اگر محض نکاح کیا ہے اور خلوت صحیحہ نہیں ہوئی تو پھر یہ لڑکی اپنے سوتیلے باپ کے لیے حرام نہیں ہوتی۔ بیوی سے نازک تعلق قائم ہونے کے بعد صرف بیٹی ہی حرام نہیں ہوتی، پوتی اور نواسی بھی حرام ہوجاتی ہے۔ اسی طرح نکاح کے بعد اگر شوہر نے اپنی بیوی کو شہوت کے ساتھ چھوا یا اس کے اعضاء صنفی کی طرف شہوت کی نگاہ سے دیکھا، تو یہ بھی ہم بستری کے حکم میں ہے، اس سے بھی اس عورت کی لڑکی یا پوتی یا نواسی سب حرام ہوجائیں گی۔ آیت کے اس حصے میں فِیْ حُجُوْرِکُمْکا مفہوم یہ ہے کہ تمہاری بیوی کی دوسرے شوہر سے لڑکیاں تمہارے آغوش تربیت میں پلی ہوں لیکن اس کے بارے میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا اس لڑکی کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں، اسے محض حکم کو موثر بنانے کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی حیثیت قید و شرط کی نہیں، اس لیے ایک ایسی خاتون جس سے اس کا شوہر تعلق زن وشو قائم کرلیتا ہے تو اس کی دوسرے شوہر سے بیٹی اس پر حرام ہوجاتی ہے چاہے وہ اس کے آغوش شفقت میں پلی ہو اور چاہے اس نے اسے دیکھا بھی نہ ہو۔ لیکن آغوش شفقت میں پلنے کا ذکر اس جذبے کو ضرور ابھارتا ہے جو باپ اور بیٹی کے درمیان ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے نگاہوں میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ بیٹوں کی بیویاں وَحَلآئِلُ اَبْنَآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَ بِکُمْ ( اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں) بھی تم پر حرام ہیں۔ جس طرح بیٹے پر باپ کی منکوحہ حرام ہے اس طرح باپ پر بھی صلبی بیٹے کی منکوحہ حرام ہے۔ اور بیٹے کے عموم میں پوتا، نواسا بھی شامل ہیں۔ لہٰذا ان کی بیویاں بھی اپنے دادا اور نانا پر حرام ہوں گی۔ مِنْ اَصْلاَ بِکُمْ کی قید سے مقصود یہ بتانا ہے کہ لے پالک بچے جنھیں متبنٰی کہا جاتا ہے وہ صلبی بیٹوں کی طرح نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی بیویوں سے نکاح حلال ہے۔ البتہ ! رضاعی بیٹا نسبی بیٹے کی طرح ہے۔ لہٰذا اس کی بیوی سے بھی نکاح کرنا حرام ہوگا۔ جمع بین الاختین اور خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی کا جمع کرنا بھی حرام ہے وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ (دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا) بھی حرام ہے، چونکہ دونوں بہنوں میں رحمی رشتہ پایا جاتا ہے اور رحمی رشتوں کی بنیادرافت و رحمت پر ہے اور اگر یہ دونوں آپس میں سوکنیں بن جائیں تو پھر یہ رافت و رحمت کا جذبہ سوکنوں کے جلاپے اور رشک و رقابت کے جذبات میں بدل جائے گا اور یہ انسانی فطری رشتوں کی شکست وریخت کا سبب بنے گا۔ اس لیے دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام قراردیا گیا تاکہ ان نازک جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ جس طرح کا رحمی رشتہ اور انتہائی قرابت دو بہنوں کے درمیان ہے اسی طرح یہ رشتہ خالہ اور بھانجی اور پھوپھی اور بھتیجی میں بھی ہے۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو بھی کسی ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ بہن کے لفظ میں عموم پایا جاتا ہے، جس طرح اس کا اطلاق حقیقی بہن پر ہوتا ہے اسی طرح علاتی اور اخیافی بہن پر بھی ہوتا ہے اور جس طرح اس کا اطلاق نسلی اور نسبی بہنوں پر ہوتا ہے اسی طرح اس کا اطلاق رضاعی بہنوں پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن یہ حرمت ابدی نہیں، عارضی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا وہ وفات پاجائے تو اس کے لیے اس کی بہن سے نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ جواز عدت گزرنے کے بعد ہے عدت کے دوران نکاح جائز نہیں۔ مَاقَدْسَلَفَ کا مفہوم آخر میں فرمایا اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَاور اس سے پہلے بھی آیت نمبر 22 میں یہ لفظ گزرچکا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ حلت و حرمت کے جو احکام اب دیئے جارہے ہیں ان کا تعلق حال اور مستقبل سے ہے۔ یہ موثربہ ماضی نہیں ہوں گے۔ جاہلیت کے زمانے میں تم جو کچھ کرچکے ہو اب اس کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی۔ تم نے اس سے پہلے اپنی سوتیلی مائوں کے بارے میں جو رویہ اختیار کیے رکھا یا دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرتے رہے یا کئی کئی عورتوں کو بیک وقت نکاح میں رکھتے رہے۔ اب اس کے متعلق باز پرس نہیں ہوگی۔ البتہ ! ان کی اصلاح ضروری ہے۔ ہر کام کو اسلام کے قانون کے شکنجے میں لانا ہوگا۔ البتہ ! گزشتہ معاملات کی تحقیق وتفتیش نہیں ہوگی، ان سے پیدا ہونے والے نتائج کو زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔ اگر کسی حرام تعلق کے نتیجے میں اولاد پیدا ہوچکی ہے، تو اسے ماں باپ سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ ہاں ! یہ ضرور ہوگا کہ ان میں سے جو چیزیں اسلامی احکام کے خلاف ہیں، انھیں اب اسلام کے مطابق کردیا جائے گا۔ کسی کے نکاح میں دو بہنیں ہیں، تو ایک کو طلاق دینا ہوگی۔ کسی نے چار سے زیادہ بیویوں سے نکاح کررکھا ہے، تو چار سے زیادہ بیویوں کو چھوڑنا ہوگا۔ البتہ ! ان معاملات پر سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ اللہ بخشنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ اس کی بخشش کا تقاضا ہے کہ گزشتہ گناہوں پر نہ پکڑے اور اس کی رحمت کا حاصل یہ ہے کہ آئندہ اسلامی احکام کی تعمیل میں تساہل نہ ہونے پائے۔