Ayahs 4:41–42فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓـؤُلَآ ئِ شَھِیْدًا ط یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْتُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ ط وَلاَ یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا ع
(اس دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہ بناکرکھڑاکریں گے اس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جنھوں نے رسول کی نافرمانی کی، تمنا کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین برابر کردی جائے اور اس دن وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے) (النسآء : 41 تا 42)
سابقہ آیات میں جہاں تک حقوق وفرائض، بنیادی اعتقادات اور اخلاقی اقدار کا تعلق ہے اس کی پوری طرح وضاحت کردی گئی اور مختلف اسالیب بیان سے کہیں زور دے کر کہیں دھمکی کی صورت میں اور کہیں نفسیاتی اور افادی پہلوئوں سے پوری طرح اتمامِ حجت کردیا گیا۔ اس کے بعد بھی اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخاطب اپنی روش بدلنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا انکار وجحود برابر اپنی جگہ پر قائم ہے اور انھیں اپنے انجام کے بارے میں کوئی فکر لاحق نہیں تو ان دونوں آیات کریمہ میں ان سے آخری بات کہی جارہی ہے کہ تم دنیا میں اپنے رویے کے بارے میں کیسے ہی دلائل ڈھونڈ لو اور اس کی کیسی ہی توجیہات کرلو لیکن کبھی یہ سوچنے کی بھی زحمت نہ کرو کہ جب تمہاری اللہ کے دربار میں حاضری ہوگی تو وہ قیامت کی گھڑیاں کس قدر ہولناک ہوں گی اور تمہیں کن کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
ہر رسول اپنی امت پر گواہی دے گا
اگر تم نے اب تک غور نہیں کیا تو ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ میدانِ حشر میں بیشمار امتوں کا ہجوم ہوگا، اس میں تمہاری طرح نافرمانوں اور کافروں کے گروہ بھی ہوں گے، ہر امت کے سامنے ان کے رسول کو بلاکریہ پوچھا جائے گا کہ بتائیے ان امتوں نے آپ کی دعوت کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ وہ رسول بتائیں گے کہ یا اللہ ہم نے خون کے گھونٹ پی پی کر اپنی امت کے لوگوں تک تیرے دین کی دعوت پہنچائی، ان کی طرف سے بےپناہ مخالفتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ افہام و تفہیم کے جتنے ممکن ذرائع ہوسکتے تھے ان میں سے ایک ایک سے کام لیا، ان کی طرف سے جو تکالیف اور دکھ پہنچائے گئے ان پر کبھی شکوہ نہ کیا بلکہ ان کی گالیوں پر بھی انھیں دعائیں دیں۔ لیکن ان بدبختوں نے ہماری دعوت پر کان نہ دھرا اور آج یہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
ہمارے رسول پاک ﷺ ہم پر گواہی دیں گے
پھر یہ ہولناک منظر اپنی ہولناکی اور ہیبت ناکی میں انتہا کو پہنچ جائے گا، جب رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے سامنے گواہی کے لیے تشریف لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نہایت برہمی کے ساتھ کفار مکہ سے پوچھے گا کہ غور سے دیکھو ! یہ وہی آخری رسول ہیں جنھیں ہم نے تمہاری طرف مبعوث کیا تھا ؟ تم ان کے خاندان سے واقف تھے ؟ ان کا بچپن، لڑکپن، جوانی، چالیس سالہ عمر کا ایک ایک لمحہ تمہارے سامنے گزرا تھا ؟ انھوں نے نبوت کے اعلان سے پہلے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر تم سے پوچھا تھا کہ بتائو تم میری زندگی کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ دیانت وامانت کے حوالے سے تمہارا میرے بارے میں کیا تجربہ ہے ؟ تم میری شخصیت کے ایک ایک پہلو سے واقف ہو بتائو اس بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟
اس سوال و جواب کو مولانا حالی نے نظم کالباس پہنایا ؎
کہا سب نے قول آج تک کوئی تیرا
کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا
کہا گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا
تو باور کروگے اگر میں کہوں گا
کہ فوجِ گراں پشت کوہ صفا پر
پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پا کر
کہا تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے
کہ بچپن سے صادق ہے تو اور امین ہے
اس طرح سے آنحضرت ﷺ نے اپنی قوم سے اعتماد کا ووٹ لیا اور ایسا خطرناک ووٹ جسے حاصل کرنے کے لیے چالیس سالہ ریاضت ضروی ہے۔ اس دن پوچھا جائے گا کہ یہ اللہ کے وہ رسول ہیں جن پر تم نے غیرمشروط اور غیرمعمولی اعتماد کا اظہار کیا اور ان کی زندگی کے بارے میں تم نے غیرمعمولی شہادت دی اور یہ شہادت سچی شہادت تھی کیونکہ اس کے پیچھے کوئی دبائو یا کوئی لالچ نہ تھا۔ لیکن اسی رسول نے جب اللہ کے دین کی دعوت تمہارے سامنے پیش کی اور تمہیں دین کے بنیادی تصورات، اقدار اور احکام و فرائض سے آگاہ کیا تو تم نے نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ اس کی پاداش میں تم نے اس رسول کے لیے زندگی دشوار کردی اس کے ایمان لانے والوں کے لیے جینا دوبھر کردیا۔ کل تک جسے تم ہمیشہ الصادق اور الامین کہہ کر پکارتے تھے اور جس کے راستے میں تم آنکھیں بچھاتے تھے اب تمہاری آنکھوں سے اس کے لیے نفرت کے تیر نکلنے لگے اور تمہاری زبانیں اس کے لیے زہر اگلنے لگیں۔ کوئی ایسا الزام اور اتہام نہیں جو تم نے اس پر نہ باندھا ہو اور کوئی ایسی اذیت نہیں جو تم نے اسے نہ پہنچائی ہو۔ لیکن اس کے باوجود اس نے تمہیں محبت کا پیغام دیا تمہاری جفائوں کے مقابلے میں اس نے تمہیں دعائوں سے نوازا، تم اسے پتھر مارتے تھے، وہ تمہاری ہدایت کے لیے اللہ کے سامنے جھولیاں پھیلاتا تھا۔ اس کی بےپناہ استقامت نے تمہارے ہر تیر ونشتر کو کند کرکے رکھ دیا۔ لیکن اس کی مروت رحمت اور مؤدت کے باوجود تم نے اس کے لیے وطن کی زمین تنگ کردی۔ بالآخر وہ اپنے مخلص ایمان لانے والوں کے ساتھ ہجرت کرگیا لیکن تم نے اس کا پھر بھی پیچھا نہ چھوڑا، تم اس کی ذات کو جو تمہارے لیے رحمت بن کر آئی تھی، باربار جنگوں میں کھینچتے رہے۔ اس کشمکش کا بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ تمہارا کفر شکست کھا گیا، تمہاری طاقت کا مرکز سرنگوں ہوگیا۔ اب تم اس کے سامنے مجرموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے تھے لیکن اس نے پھر تم سے عفو و درگذر سے کام لیا۔ ایک طرف اس کا یہ رویہ اور دوسری طرف تمہارا کفر اور تمہاری ناشکری۔ بتائو تم نے یہ سب کچھ کیوں کیا ؟ تم دنیا میں تو اس رسول کا انکار کرتے رہے آج وہ رسول گواہی دے رہا ہے کہ کس طرح اس نے تمہیں اللہ کے دین سے آگاہ کیا اور تم نے کیا رویہ اختیار کیا۔ اب بتائو ہم تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں ؟ کہا اگر اس منظر کو آج اپنی آنکھوں میں سما سکو تو شائد تمہیں کل کی ندامت اور ہولناکی سے بچالے ورنہ تم اپنے سارے انکار اور جحود کے باوجود کل جس طرح شرم اور شرمندگی سے اللہ کے سامنے گڑگڑائو گے ہم تمہیں آج اس کی اس لیے خبر دے رہے ہیں کہ شاید تم اس سے ہی کچھ سبق سیکھ سکو۔ فرمایا اس دن یہ بڑے بڑے جغادری کافر اور یہ بڑے بڑے منافق جو نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن رسول کی نافرمانی کرتے ہیں اس دن تمنا کریں گے کہ اے کاش ! زمین ہم پر برابر کردی جائے۔ یعنی زمین ہمیں نگل لے اور پھر زمین کو ہموار کردیا جائے تاکہ ہمارا نام ونشان نہ رہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس قابل نہیں پائیں گے کہ اس منظر کا دیر تک سامنا کرسکیں اور آج جس طرح یہ بڑھ چڑھ کر دین کی مخالفت میں بولتے ہیں اور جس طرح پیغمبر اور ان پر ایمان لانے والوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کوئی ان سے پوچھنے والانھیں کل جب پکڑے جائیں گے تو ان کی بےبسی کا عالم یہ ہوگا کہ کوئی بات اپنے اللہ سے چھپانہ سکیں گے۔ وہ چھپانا ضرور چاہیں گے لیکن ہر چیز ان کے ہاتھ سے چھوٹ جائے گی۔ وہ بےکسی اور بےبسی کی اس طرح تصویر بن جائیں گے جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے۔
حَتّٰی اِذَا مَاجَآئُ وْھَاشَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعُھُُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ
(یہاں تک کہ وہ جب حاضر ہوں گے تو ان کے خلاف گواہی دیں گے ان کے کان ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں)
یعنی ان کارونگٹارونگٹا ان کے خلاف گواہی دے گا۔ وہ حیران ہو کر اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تمہیں قوت گویائی کیسے مل گئی ؟ اور کس نے تمہیں ہمارے خلاف گواہی دینے پر لگا دیا ؟ تو وہ جواب میں کہیں گی : اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْ ئٍ (ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی بخشی ہے جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا ہے) مزید ایک جگہ فرمایا :
اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰی اَفْوَاھِھِمْ وَتُـکَلِّمُنَـآ اَیْدِیْھِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ
(آج ہم مہر کردیں گے ان کے مونہوں پر اور ہم سے بات کریں گے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پائوں ان کے تمام اعمال اور کرتوتوں کی)
امتوں کی بد اعمالیاں ان کے رسولوں کے لیے جواب دہی کا باعث ہوں گی
اس سلسلے میں قرآن کریم کی وضاحتوں کو دیکھتے ہوئے ایک اور تکلیف دہ صورتحال کا علم ہوتا ہے، وہ یہ کہ نافرمان اور بد اطوار امتیں اپنی بداعمالیوں کے سبب خود ہی احتساب کے شکنجے میں نہیں آئیں گی بلکہ ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں کو بھی ان کی وجہ سے عدالت کے کٹہرے میں آنا پڑے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ آپ کی امتیں عقیدے کے جس فساد اور اعمال کی جس انحطاط کا شکار ہوئیں کیا آپ نے انھیں اس بات کی تعلیم دی تھی ؟ انھوں نے اللہ کے ساتھ جن جن قوتوں کو شریک کیا تھا کیا آپ نے ان کو بتایا تھا ؟ اس کی سب سے نمایاں مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی ہے جو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہونے والے آخری رسول ہیں اور جو اپنی ذاتی خصائص اور غیر معمولی معجزات کی وجہ سے بہت اعلیٰ مقام رکھتے ہیں ان کے بارے میں قرآن کریم نے پوری تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح اپنی امت کے مشرکانہ اعتقادات کی وجہ سے اللہ کے سامنے انھیں جوابدہی کرنا پڑے گی۔ سورة المائدہ میں اس کی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے۔
وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط قَالَ سُبْحٰنَـکَ مَایَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَالَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ ط اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّـکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبَّـکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّادُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدٌ
(جب کہ اللہ پوچھے گا کہ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی معبود ٹھہرائو ؟ وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ہے یہ مجھ سے کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو تجھے تو اس کا علم ہوگا۔ تو میرے دل کی باتوں کو جانتا ہے میں تیرے دل کی باتوں کو نہیں جانتا۔ غیب کی باتوں کو جاننے والاتو ہی ہے میں نے ان سے نہیں کہی مگر وہی بات جس کا تو نے مجھے حکم دیا یہ کہ اللہ ہی کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ میں جب تک ان کے اندر رہا اسی بات کی گواہی دینے والا رہا، پھر جب تو نے مجھے وفات دی تو ان کا نگرانِ حال تو رہا اور تو ہر چیز پر حاضر وناظر ہے) (المآئدہ : 116 تا 117)
ان آیات میں غو رکیجیے ! کس طرح عیسائی امت کی بداعتقادیوں کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی عدالت میں جواب دہی کے مراحل سے گزرنا پڑے گا اور کس طرح وہ بار بار اللہ سے معافی طلب کریں گے اندازہ کیجیے ! اس وقت ان کے دل پر کیا قیامت گزر رہی ہوگی کہ میں نے اس امت کو اللہ کے خالص دین کی دعوت دی، اس کی ذات وصفات سے انھیں آگاہ کیا، انھیں ہر طرح کے شرک سے بچنے کی ہدایت کی اور ان کی ہر طرح کی مخالفت کے باوجود میں نے ان کے ساتھ ہمدردی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ لیکن آج ان کے رویے کے باعث مجھے اللہ کی عدالت میں شرمسار ہونا پڑا۔
ایک اذیت ناک احساس
اس سے نہایت تشویشناک اور اذیتناک جس صورتحال کا احساس ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر عیسائی امت کی بد اطواریوں کے باعث سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے دن جواب دہی کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے تو کیا یہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام جس کی ذمہ داریاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت کی نسبت بہت زیادہ ہیں اور جس کے سر پر قیامت تک کے لیے امامت و سیادت کا تاج رکھا گیا ہے اور صدیوں تک جس نے انسانیت کی خدمت انجام دی ہے آج وہ جس برے طریقے سے اپنے فرض منصبی سے تقریباً دست کش ہوچکی ہے وہ دیکھ رہی ہے کہ کفر کی منہ زور طاقتیں صرف مسلمانوں کے خون سے ہی ہولی نہیں کھیل رہیں بلکہ اسلامی اعتقادات تک خطرے میں ہیں۔ اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کو چیلنج کردیا گیا ہے اللہ ہی کی اطاعت اور محبت کو بنیاد پرستی اور اس کے دین کی سربلندی اور مسلمانوں کی ہدایت کے لیے ہر طرح کی جدوجہد کو دہشت گردی کا نام دے دیا گیا ہے۔ مسلمان اس حد تک کفر کی طاقتوں ان کی تہذیب، سیاست اور ثقافت سے مرعوب ہوچکے ہیں ( آج تو جو قیامت گزررہی ہے اس کا تو ایک خاص سبب سہی) لیکن چند سال پہلے پاکستان سے مسلمانوں کا ایک وفد ایک مسلمان ریاست میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے گیا تھا اس مسلمان ریاست کے سربراہ کو جب انھوں نے قرآن کریم کا ایک نسخہ بطور تحفہ پیش کرنے کی اجازت چاہی تو انھوں نے یہ کہہ کرلینے سے انکار کردیا کہ اس کی وجہ سے یہاں کی عیسائی اقلیت کو شکایت پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر اس بےحمیتی اور بےغیرتی کا جواب قیامت کے دن آنحضرت ﷺ سے مانگ لیا گیا تو میں شرمساری کی وجہ سے اس تصور سے ہی خوف زدہ ہوں کہ حضور کے دل پر کیا گزرے گی ؟ اور اگر کہیں یہ سوال کرلیا گیا کہ آپ کی امت کو ہم نے دنیا میں تقریباً ساٹھ 60 ملکوں کی حکومتوں سے نوازا، ان کو تمام مذاہب سے زیادہ افرادی قوت عطا کی، دنیا کے تمام قابل ذکر ساحل ان کے قبضے میں دے دئیے اور زمین کے نیچے بہنے والا زرِ سیال ان کے حوالے کردیا، کتنی بیش قیمت دھاتوں کی کانیں ان کے ملکوں میں موجود ہیں، کوئی اللہ کی نعمت ایسی نہیں جس سے مسلمان ملک مالامال نہیں ہیں۔ باایں ہمہ ! مسلمانوں کا کوئی ایک ملک ایسانھیں ہے جس میں اللہ کا قانون نافذ ہو۔ ہر جگہ اللہ کے ساتھ شرک کیا جارہا ہے، شرک صرف یہی تو نہیں کہ کسی کو رب یا الٰہ کہہ کر پکارا جائے یا اس کو خدا کا بیٹا بنالیا جائے۔ یقینایہ بھی شرک ہے کہ اللہ کے قانون کے مقابلے میں اس کی شریعت کے توڑ پر وضعی قوانین نافذ کیے جائیں۔ حلت و حرمت کا حق اللہ سے چھین کرپارلیمنٹ کو دے دیاجائے۔ کہیں الوہیت کی پوجاہو اور کہیں فوجی ڈکٹیٹر اسلامی شریعت، اسلامی اقدار اور اسلامی تاریخ پر خنجر چلا رہے ہوں۔ اگر آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھ لیا گیا کہ کیا آپ نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی تھی کہ وہ میری بجائے اقتدار کی پوجا کریں، میرے قانون کی جگہ وضعی قانون نافذ کریں، میری بجائے غیر اللہ سے امیدیں باندھیں میں سوچتا ہوں کہ اگر آنحضرت ﷺ سے اس طرح کے سوالات کیے گئے اور ہماری وجہ سے سرکارِ دوعالم ﷺ کو شرمندگی اٹھانا پڑی تو کیا ہم آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے مستحق ہوسکیں گے ؟ یہ وہ مرحلہ ہے جس پر اس امت کو رک کردیانت داری سے سوچنا چاہیے اور اگر آج ہم نے نہ سوچا اور کوئی صحیح فیصلہ نہ کیا تو ہم بھی قیامت کے دن شائد یہ آرزو کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ کاش ! ہم پر زمین برابر کردی جائے۔
میرا گمان یہ ہے کہ یہی وہ احساس ہے اور یہی وہ اندیشے ہیں جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ اس آیت کریمہ کو سن کر اشکبار ہوگئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) سے فرمایا کہ تم مجھے قرآن پاک پڑھ کرسنائو، حضرت عبداللہ ( رض) نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے سننا چاہتے ہیں حالانکہ قرآن آپ پر نازل ہوا۔ آپ نے فرمایا : ہاں پڑھو ! حضرت عبداللہ ( رض) نے سورة النساء کی تلاوت شروع کردی جب اس آیت کریمہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : اب بس کرو۔ حضرت عبداللہ ( رض) نے جب نگاہ اٹھاکر دیکھا تو آپ کی مبارک آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ غور فرمائیے ! یہ کس بات کا احساس تھا جس نے آپ کو اشکبار کردیا۔
Ayah 4:43یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلاَ جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا وَاِنْ کُنْـتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْعَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآئَ اَحَدٌ مِّنْـکُمْ مِّنَ الْغَآئِِطِ اَوْلٰـمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَـآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَـیِّـبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّاغَفُوْرًا
(اے ایمان والو ! مت قریب جاؤ نماز کے جس وقت تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ جو کچھ تم زبان سے کہتے ہو اس کو سمجھنے لگو اور نہ اس وقت جب جنابت کی حالت میں ہو مگر یہ کہ بس گزرجانا پیش نظرہویہاں تک کہ غسل کرلو اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا آئے تم میں سے کوئی جائے ضرور سے یا عورتوں سے ہم صحبت ہوا ہو پھر تم نہ پائو پانی تو ارادہ کرو پاک زمین کا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرو، بیشک اللہ درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے) (النسآء : 43)
اس رکوع کے آغاز میں آپ نے دیکھا کہ اللہ ہی کی عبادت اور والدین، اقربا اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ احسان اور انفاق کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ساتھ جو چیزیں عبادت، احسان اور انفاق کو باطل کرنے والی تھیں مثلاً شرک، ریا اور تکبر وغیرہ کا ذکر فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں نماز کا اس حوالے سے ذکر کیا جارہا ہے کہ یہ عبادت کا سب سے اہم رکن اور اہم جز ہے۔ اس سے جہاں اللہ کے حق عبادت کی وضاحت ہوگی وہیں اس کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر فرمایا جو نماز کے لیے مفسدات کا درجہ رکھتی ہیں۔ چناچہ سب سے پہلے یہ حکم دیا کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جانا۔
صلٰوۃ کا مفہوم
صَلٰوۃ کے معنی اگرچہ نماز کے ہیں۔ لیکن اس جملے کے الفاظ پر غور کرنے سے ایک اور بات کی طرف بھی ذہن منتقل ہوتا ہے وہ یہ کہ یہاں فرمایا گیا : لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ ” نماز کے قریب نہ جاؤ “ حالانکہ نماز ادا کی جاتی ہے یا پڑھی جاتی ہے اس کے قریب جانے یا نہ جانے کا کوئی مفہوم نہیں۔ جو آدمی نماز نہیں پڑھتا وہ نماز سے دور ہے اور جو پڑھتا ہے وہ نماز کے قریب ہے، درمیان کی کوئی منزل نہیں۔ اس لیے جب بھی کسی کو نماز کا حکم دیا جاتا ہے تو اسے نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے نماز کے قریب جانے کا نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نما ز کے ساتھ کسی اور بات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ جس طرح ہم ظرف بولتے ہیں تو بعض دفعہ اس کا مظروف بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نہر چلتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پانی چلتا ہے، اسی طرح کبھی مظروف بھی ظرف کے مفہوم پر مشتمل ہوتا ہے۔ صَلٰوۃ مظروف ہے اور مسجد اس کا ظرف ہے۔ یہاں اگرچہ صلوٰۃ کا لفظ ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کے مفہوم میں مسجد بھی شامل ہے تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ تم نشے کے حال میں نماز کے لیے مسجد میں مت جاؤ اور نماز کے بغیر بھی مسجد کے قریب مت پھٹکو یعنی اس سے گزرنے کی کوشش نہ کرو۔ ہاں ! اگر کوئی اور راستہ نہ ہو اور گزرنا بہت ضروری ہو تو : اِلَّاعَابِرِیْ سَبِیْلٍکہہ کر گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ بعض فقہا نے یہ شرط عائد کی ہے کہ وضو کرلینا چاہیے۔
شراب کی حرمت تدریج کے ساتھ
اسلام کی بعثت سے پہلے عرب لوگ بہت ساری بری عادتوں میں مبتلا تھے۔ انھیں میں سے ایک عادت شراب پینا بھی تھی اور یہ ایسی بری عادت تھی کہ جنھیں عربوں سے چھڑوانا آسان کام نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض قبیلے اسلام لانے کے لیے اس شرط پر اصرار کرتے تھے کہ ہمیں شراب پینے کی اجازت دی جائے۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اسے تسلیم نہیں فرمایا۔ دنیا کا تجربہ بھی یہی ہے کہ سب سے مشکل جو عادت چھٹتی ہے وہ شراب پینے کی عادت ہے۔ امریکہ میں غالباً 1908 ء میں شراب کی حرمت کا بل پاس کیا گیا اور لوگوں کے دلوں میں شراب کی نفرت پیدا کرنے اور اس کے ترک کے فوائد بیان کرنے کے لیے کروڑوں روپیہ پر اپیگنڈہ پر صرف کیا گیا۔ لیکن آٹھ سال کے بعد جو رپورٹ ملی وہ نہایت تشویشناک تھی کہ ملک میں شراب نوشی پہلے سے کہیں بڑھ گئی، بھٹیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا۔ فرق صرف اتنا پڑا کہ اب بظاہر شراب کی بھٹیاں دکھائی نہیں دیتی تھیں لیکن گھروں میں یہ کاروبار جاری تھا۔ مایوس ہو کر پارلیمنٹ کو شراب کی حرمت کابل واپس لینا پڑا۔ اس انسانی کمزوری کا احساس کرتے ہوئے پروردگار نے شراب کو یک لخت حرام نہیں فرمایا بلکہ اس کے احکام تدریجاً نازل فرمائے۔ ابتداء میں صرف اتنا اشارہ کیا کہ یہ مضر اور نقصان دہ چیز ہے۔ اس سے بعض لطیف طبائع نے شراب چھوڑ دی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اوقاتِ نماز میں شراب کی ممانعت کردی گئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ دن میں شراب کا استعمال بندہوگیا۔ عشاء کی نماز کے بعد ہی لوگ اس سے شوق کرتے کچھ مدت بعد سورة المائدہ میں شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ اس آیت کے شان ِ نزول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک روز حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رض) کے ہاں کئی صحابہ موجود تھے کھانے کے بعد شراب کا دور چلا، جب وہ اس کے نشہ سے جھوم رہے تھے تو مغرب کی نماز کا وقت آگیا ایک صاحب امامت کے لیے آگے بڑھے اور اتفاق سے سورة الکافرون پڑھنا شروع کردی اور بےخودی میں لا اعبد ماتعبدون کی جگہ اعبد ماتعبدون پڑھ گئے، جس سے معنی بالکل بدل گیا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور نشہ کی حالت میں بارگاہِ الٰہی میں حاضری سے روک دیا گیا۔ اس سے پہلی آیت میں قیامت کے روز بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا ذکر گزرا اس آیت میں بارگاہِ الٰہی میں حاضری کے آداب سکھائے جارہے ہیں تاکہ قیامت کی حاضری آسان ہو۔
حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَاتَقُوْلُوْنَ کا مفہوم
حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَاتَقُوْلُوْنَ کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تم نماز پڑھ رہے ہو اور نماز میں جو پڑھنا چاہیے وہی پڑھ رہے ہو ایسا نہ ہو کہ تم قرآن کریم کی بجائے کوئی غزل شروع کردو اور تسبیح وتہلیل کی بجائے گانا شروع کردو۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تم جو پڑھ رہے ہو تمہیں اس کا ترجمہ آنا چاہیے۔ ترجمہ کا تعلق علم سے ہے اور علم تو حاصل کیے بغیر نہیں آتا اور جو کچھ آدمی کہتا ہے اس کے بارے میں یہ معلوم ہونا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اس کا تعلق ہوش و حواس اور سلامتیِ عقل سے ہے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے بعض لوگوں نے بلاوجہ اس سے دوسرے مطالب نکالنے کی کوشش کی ہے۔ مزید یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جس طرح یہ حکم شراب کے بارے میں دیا ہے گہری نیند کے بارے میں بھی حضور نے یہی ارشاد فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے :
اذانعس احدکم وھویصلی فلینصرف فلینم حتی یعلم مایقولُ
(جب تم میں سے کسی پر نیند کا غلبہ ہوجائے اور وہ نماز پڑھ رہاہو تو اسے چاہیے کہ وہ نماز چھوڑ کر سوجائے اور نیند پوری کرنے کے بعد جب ہوش و حواس درست ہوجائیں تو پھر نماز ادا کرے)
وَلاَ جُنُباً جس طرح تم نشہ کی حالت میں نماز اور مسجد کے قریب نہیں جاسکتے اسی طرح حالت جنابت میں بھی تم نہ نماز پڑھ سکتے ہو اور نہ مسجد میں داخل ہوسکتے ہو، جب تک غسل نہ کرلو۔
اِلاَّعَابِرِیْ سَبِیْلٍٍ کا مفہوم
اِلاَّعَابِرِیْ سَبِیْلٍاس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں۔ ایک تو یہ (مگر یہ کہ تم سفر کررہے ہو) ۔ اور دوسرا یہ (مگر یہ کہ تم راستہ گزرنے والے ہو) ۔ دوسرے ترجمے کے اعتبار سے مفہوم یہ ہوگا کہ تم نشے کی حالت میں ہو یاحالتِ جنابت میں اگر تمہیں مسجد سے گزرنا ضروری ہو اور دوسرا کوئی راستہ نہ ہو تو صرف گزرنے کی اجازت ہے ٹھہرنے کی اجازت نہیں۔ پہلے ترجمے کی رو سے مفہوم یہ ہوگا کہ سفر کی حالت میں جنبی کو اجازت ہے کہ وہ تیمم کرکے غسل کے بغیر نماز پڑھ لے۔ لیکن زیادہ واضح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے سفر نہ مراد لیا جائے کیونکہ سفر کا ذکر آگے آرہا ہے۔ اس لیے اس سے سفر مراد لینا تکلف کے سوا اور کچھ نہیں۔
کن صورتوں میں تیمم جائز ہے
وَاِنْ کُنْـتُمْ مَّرْضٰٓی یہاں سے آخر آیت تک ان صورتوں کا بیان ہورہا ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے تیمم کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ ان میں سب سے پہلی صورت یہ ہے کہ انسان بیمار ہے اور ڈاکٹروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ پانی کے استعمال سے مرض میں اضافہ ہوسکتا ہے تو پانی کی موجودگی میں بھی اس کے لیے تیمم کی اجازت ہے۔ ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ پانی کے استعمال سے مرض بڑھنے کا اندیشہ تو نہ ہو لیکن تکلیف کی شدت کے باعث یا کسی چوٹ یا زخم کی وجہ سے مریض زیادہ حرکت نہ کرسکتا ہو اور دوسرا کوئی ایسا شخص پاس نہ ہو جو اسے وضو کراسکے۔ تو اس کے لیے بھی لیٹے لیٹے یا کسی طرح اگر تیمم ممکن ہو تو تیمم کرکے نماز پـڑھ سکتا ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی حالت سفر میں ہے، اس میں دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ پانی تو موجود ہو لیکن سفر کی نوعیت اس طرح کی ہو کہ وضو کرنا انتہائی مشکل ہو۔ مثلاً جہاز کا سفر ہے اس کے تنگ سے باتھ روم میں ہر شخص کے لیے وضو کرنا آسان نہیں ہوتا یا ٹرین کا سفر ہے تو اس میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے بلکہ گندگی سے لتھڑ جانے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے اور اگر کسی اسٹیشن پر اتر کروضو کرنے کی کوشش کی جائے تو گاڑی کے نکل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ بس کا سفر تو بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ مشکلات کا باعث ہوتا ہے مختصر یہ کہ سفر کی رواروی اگر وضو کرنے کی اجازت نہ دے یا وہ جنبی ہے اور وہ غسل نہ کرسکے اور غسل کرنا تو سفر میں مشکل کیا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اس مسافر کو بعض فقہا تیمم کی اجازت دیتے ہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ سفر کی یہ رواروی تو نہ ہو لیکن پانی کم یاب یا نایاب ہو۔ پانی اس حد تک کم ہو کہ اگر غسل کرلیا گیا یا وضو کرلیا گیا تو پینے کے لیے پانی نہیں بچے گا تو اس صورت میں بھی تیمم کرنا جائز ہے اور یا یہ صورت ہو کہ سرے سے پانی موجودہی نہ ہو اور دور دور تک کوشش کرکے دیکھ لی جائے پانی ملنے کے کوئی آثار نہ ہوں تب بھی تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔
تیسرا وہ شخص ہے جو رفع حاجت سے واپس آئے۔ اس کے لیے قرآن کریم نے اَلْغَائِِطِ کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا معنی ہوتا ہے ’ نشیبی زمین ‘ لیکن یہاں یہ قضائے حاجت سے کنایہ ہے۔ دیہاتی زندگی میں جہاں گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے اور لوگوں کا معمول یہ ہے کہ وہ خاموشی سے باہر آبادی سے دور اس ضرورت سے فارغ ہوتے ہیں تو کوئی بھی آدمی جب رفع حاجت کے لیے باہر جاتا ہے تو وہ ہمیشہ نشیبی جگہ تلاش کرتا ہے اور ایسی جگہ ڈھونڈتا ہے جہاں جھاڑیاں ہوں یا کسی بھی فصل کے پودوں نے پردہ ساکررکھاہو۔ قرآن کریم نے بجائے قضائے حاجت کہنے کے، اس لفظ کے استعمال سے مفہوم بھی ادا کردیا اور حسن تعبیر کی ایک مثال بھی قائم کردی۔ ہم جانتے ہیں کہ قضائے حاجت کے بعد آدمی ناپاک ہوجاتا ہے لیکن یہ ناپاکی وضو سے دور ہوجاتی ہے، اس کے لیے غسل کرنا ضروری نہیں۔ ایسے شخص کو اگر پانی میسر نہ آئے یا وضو کرنے میں اور کوئی شرعی رکاوٹ ہو تو اس کے لیے بھی تیمم کرنا جائز ہے۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی سے ملاقات کی ہو۔ اسے قرآن کریم نے لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ سے تعبیر کیا ہے۔ ملامست کے معنی یقینا چھونے اور ہاتھ لگانے کے بھی ہیں۔ لیکن اہل زبان مباشرت کے لیے کنائے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے بھی معلوم ہوتا ہے اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ اگرچہ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اس سے مباشرت ہی مراد لیتے ہیں۔ مباشرت کے بعد غسل فرض ہوجاتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر پانی میسر نہ ہو تو تیمم کرنے کی اجازت ہے۔
آیتِ کریمہ کے آخر میں پروردگار نے صرف تیمم کرنے کی اجازت ہی مرحمت نہیں فرمائی بلکہ تیمم کا طریقہ بھی سکھایا اور سنت نے اسے عملی شکل دے کروضاحت کردی۔ تیمم کا معنی ہوتا ہے ” قصد کرنا “ اور صعید ” سطحِ ارض “ کو کہتے ہیں، لیکن وہ جگہ طیب اور پاک ہونی چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس پر مٹی بھی موجود ہو۔ زمین کی بالائی سطح یا مٹی اور اس کی جنس سے بنی ہوئی کوئی چیز چاہے اس پر غبار ہے یا نہیں تیمم کے لیے کافی ہے۔ امام صاحب کے نزدیک مٹی اور مٹی کی جنس کی سب چیزوں مثلاً پتھر، ریت وغیرہ سے بھی تیمم جائز ہے بشرطیکہ وہ پاک ہو۔ مٹی کی جنس سے ہونے کی علامت عام طور پر یہ بیان کی جاتی ہے کہ اسے آگ نہ جلاسکتی ہو۔
تیمم کرنے کا طریقہ
تیمم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے تیمم کی نیت کرے اس کے بعد دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ اگر ان کے ساتھ غبار زیادہ لگ جائے تو ہاتھوں کو جھاڑ کر یا پھونک سے کم کردے۔ اس کے بعد اپنے چہرہ پر ملے۔ دوبارہ پھر اسی طرح زمین پر دونوں ہاتھ مار کر دونوں بازوئوں کی کہنیوں تک ملے، جس طرح منہ، ہاتھ اور بازو دھوتے ہوئے بال برابر جگہ بھی خشک نہیں رہنی چاہیے اسی طرح تیمم میں بھی کوئی جگہ مسح سے باہر نہیں رہنی چاہیے۔
تیمم وضو یا غسل کا مقصد کیسے ادا کرسکتا ہے ؟
رہی یہ بات کہ تیمم وضو کے قائم مقام کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس کا تعلق ایک مومن کے احساس سے ہے۔ نماز درحقیقت اللہ کے حضور حاضری کا نام ہے۔ اس کے حضور حاضری کے لیے صرف پاکیزہ جسم درکار نہیں بلکہ دل و دماغ کے ریشے ریشے میں ہمہ نوع پاکیزگی ہونی چاہیے۔ ایسی پاکیزگی ظاہر ہے نہ جسم پر پانی بہالینے سے ہوتی ہے اور نہ ہاتھ پائوں اور منہ دھولینے سے۔ اس کے لیے تو ضروری ہے کہ آدمی کے دماغ کی فکر اور دل کا احساس ظاہری طہارت کے ساتھ ساتھ پوری طرح تطہیر کے عمل سے گزرے اور تطہیر کا یہ عمل اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے یقین اور استحضار سے شروع ہوتا ہے اور اللہ کے ساتھ عشق و محبت کی سرمستیوں اور دیدہ ودل کی بےتابیوں سے مکمل ہوتا ہے۔ ان دونوں کا تعلق نہ پانی کے استعمال سے ہے نہ مٹی کے مسح سے بلکہ وہ اس اہم نفسیاتی تدبیر سے اور اس گہرے تصور سے ہے کہ آدمی جب بھی نماز کے لیے کھڑاہو تو اس کے اندر برابر یہ احساس چٹکیاں لے کہ کیا میں پوری طرح اپنے ظاہر و باطن میں پاکیزہ ہوں یا نہیں ؟ اگر وہ واقعی اپنے اس احساس کی گرفت میں ہے تو وہ جس طرح اپنے دل و دماغ سے برے خیالات نکالنے کی کوشش کرے گا اسی طرح اگر وہ پانی کے استعمال پر قادر ہے اور پانی میسر ہے تو وہ پانی سے اپنے ظاہر کو پاک کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر پانی میسر نہیں تو وہ تیمم کے ذریعے اس احساس کو باقی رکھنے کے لیے پاکیزگی کا اہتمام کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ظاہر و باطن کی پاکیزگی اللہ کے احکام کی تعمیل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں ہے۔ یہ اگر وضو یا غسل کے ذریعے ہو تو عین سعادت کی بات ہے اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو چونکہ میرے پروردگار نے تیمم کو اس کا قائم مقام ٹھہرایا ہے تو اب میرے احساس کو اسی کے ذریعے پاکیزگی نصیب ہوسکتی ہے۔
Ayahs 4:44–45اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰـلَۃَ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِکُمْ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَلِیًّا ق ز وَّ کَفٰی بِاللّٰہِ نَصِیْرًا
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا۔ وہ گمراہی کو ترجیح دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کر بیٹھو اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور اللہ کافی ہے حمایت کے لیے اور اللہ کافی ہے مدد کے لیے) (النسآء : 44 تا 45)
اصلاحِ معاشرہ کے متعلق احکام کا جو سلسلہ جاری تھا وہ اس وقت کے معاشرے کی ضرورت کے مطابق اتمام کو پہنچ گیا۔ اب ان لوگوں کو اور ان کے کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اس اصلاحی عمل کا راستہ روکنا چاہتے ہیں اور جن کے پیش نظر اللہ کے اس دین کو ناکام کرنے کے سوا اور کوئی ہدف نہیں۔ ان میں سب سے پہلے اہل کتاب کو ذکر کیا جارہا ہے اور اہل کتاب میں سے بھی یہود پر سب سے پہلے تنقید کی جارہی ہے کیونکہ یہی گروہ اس وقت مدینہ میں علمی اور مالی حیثیت سے اور اثرواقتدار کی وجہ سے مدینہ کے معاشرے پر سب سے زیادہ اثر انداز تھا اور یہی وہ گروہ ہے جس نے من حیث المجموع اسلام اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کا فیصلہ کیا۔
اُوْتُوْا نَصِیْـبًا مِّنَ الْـکِتٰبِ کا مفہوم
یہود کے حوالے سے سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کتاب کا ایک حصہ دئیے گئے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم انھیں دوسرے مواقع پر اہل کتاب کہہ کر پکارتا ہے اہل کتاب تو وہی ہوگا جس کے پاس کتاب کا حصہ نہیں بلکہ کتاب موجود ہو۔ لیکن قرآن کریم کوئی لفظ بلاوجہ استعمال نہیں کرتا اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس پر غور کریں۔ مختلف اہل علم نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں۔ بعض اہل علم کا گمان ہے کہ دراصل گزشتہ آسمانی صحیفوں اور قرآن کریم میں نسبت جزو اور کل کی ہے۔ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کامل کتاب ہے۔ جس میں مکمل انسانی زندگی کی رہنمائی کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ اعتقادات، معاملات، اسلوبِ حکومت اور آداب زندگی میں سے ہر ضرورت کو قیامت تک کے لیے پورا کردیا گیا ہے اور پہلی کتابوں میں جو احکام دیئے گئے تھے ان میں آئندہ زمانوں کے لیے جو مفید تھے انھیں تکمیلی شکل دے دی گئی ہے اسی وجہ سے اب قیامت تک انسانوں کو کسی اور پیغمبر اور کسی اور کتاب کی ضرورت کبھی محسوس نہیں ہوگی۔ اس لحاظ سے قرآن کریم کو ایک مکمل کتاب کہنا ہر لحاظ سے بجا ہے۔ لیکن باقی آسمانی صحیفے اس کے مقابلے میں اجزا اور حصص کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہود آگے بڑھ کر قرآن کریم کو ہاتھوں ہاتھ لیتے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتے تو انھیں احساس ہو تاکہ اللہ نے ہمیں کتاب کی صورت میں جو نعمت عطا فرمائی تھی وہ اپنی تکمیلی شان میں تو اب نازل ہوئی ہے تو ان کے لیے لازم تھا کہ یہ دوسروں سے بڑھ کر اس کتاب کی قدر کرتے۔
بعض دوسرے اہل علم کا خیال ہے کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ انھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے پہلی نسلوں نے اس کتاب الٰہی کے نجانے کس کس حصے کو ضائع کرڈالاکیون کہ تورات کی پانچویں کتاب ،” کتاب تثنیہ “ انھوں نے ایسی گم کی کہ جو کئی صدیوں کے بعد انھیں دوبارہ مل سکی۔ اس کے علاوہ نجانے اور وہ کیا کیا گم کرچکے ہیں کیونکہ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ یہ کتاب تین دفعہ دنیا سے ناپید ہوچکی ہے اور جو کچھ کتاب میں سے ان کے پاس موجود بھی ہے اس کے مقصد اور روح کو اگر دیکھا جائے تو اس سے تو وہ بالکل بےگانہ ہوچکے ہیں ان کی تمام دلچسپیاں لفظی بحثوں اور احکام کے جزئیات اور عقائد کی فلسفیانہ پیچیدیگیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب رکھتے ہوئے بھی دین کی حقیقت سے ناآشنا اور دینداری کے جوہر سے محروم ہیں۔
یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰـلَۃَ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَ یہاں سے اسلام کے خلاف ان کے عزائم اور ان کی سازشوں کا بیان شروع ہو رہا ہے لیکن بات لپیٹ کر کہی گئی ہے کیونکہ وہ اپنی حرکتوں سے پوری طرح واقف ہیں اس لیے ان کے لیے تو اشارہ ہی کافی ہے اور مسلمانوں پر چونکہ اس سے پہلے سورة البقرۃ نازل ہوچکی ہے، ان کے لیے بھی ان کی حرکات کوئی نئی بات نہیں۔ وہ اس اختصار میں پوری تفصیل کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں یَشْتَرُوْنَکالفظ استعمال ہوا ہے۔ اشتراء کا معنی ” خریدنا بھی ہوتا ہے اور بیچنا بھی “۔ لیکن اس معنی کی اصل روح ترجیح دینا ہے۔ بتلانا یہ ہے کہ تم ان کی زندگیوں میں جھانک کردیکھو۔ تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ باوجود اہل کتاب ہونے کے ان کا اصل رشتہ ضلالت اور گمراہی سے ہے۔ انھیں ہدایت سے واجبی سی بھی دلچسپی نہیں وہ ہر معاملے میں ہدایت پر ضلالت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ کتاب کا علم رکھنے کی وجہ سے وہ ہدایت کے شائق اور طلب گار ہوتے لیکن انھوں نے کتاب سے اپنا تعلق ایسا توڑ لیا ہے کہ اب وہ بجائے ہدایت کے ضلالت اور گمراہی کو اپنی منزل بنا چکے ہیں اور یہ ان کی مجبوری بھی ہے کیونکہ اگر وہ ہدایت کے راستہ پر چلیں اور اپنی قوم کو بھی اس پر چلنے کی ترغیب دیں تو ان کے مفاد پرست علماء اور جاہ پرست مشائخ اپنے کاروبار اپنی فتوحات اور اپنی آمدنی سے یکسر محروم ہو کر رہ جائیں اور ایسا وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس طرح اندھیرے کا خوگر روشنی کا دشمن ہوجاتا ہے اسی طرح وہ ہدایت سے تعلق ٹوٹ جانے کے باعث صراط مستقیم سے ایسے اترے ہیں کہ تمہارے بارے میں بھی ان کی یہ کوشش ہے کہ تمہیں بھی گمراہ کردیں کیونکہ تمہاری لائی ہوئی روشنی ان کے اندھیروں کی دشمن ہے۔ چراغ جلے گا تو تاریکی کو پائوں سمیٹنے پڑیں گے اور آفتاب چمکے گا تو ہر گھر میں اجالا پھیلے گا۔ اپنے اندھیرے کو باقی رکھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ روشنیوں کو گل کرنے کی کوشش کی جائے چناچہ وہ ایسا ہی کرنا چاہتے ہیں اور ان سے جو بن پڑتا ہے اسے کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتے اس کی پوری تفصیل ” سورة البقرۃ “ میں گزر چکی ہے اور کچھ مزید اشارات آگے آرہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں استقامت کے ساتھ صراط مستقیم پر چلتے رہو۔ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارا اللہ تمہارے دشمنوں سے بیخبر ہے بلکہ وہ تمہارے دشمنوں کو تم سے زیادہ جانتا ہے اور اتنا جانتا ہے کہ تم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ ہزار پردوں میں چھپی ہوئی سازشوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور آئندہ چل کر تمہارے دشمن جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ ان سے بھی واقف ہے۔ تمہیں اپنے ایمان وعمل جذبہ جہاد اور اتحاد میں کوئی کمی نہیں آنے دینی چاہیے اور تمہارا بھروسہ صرف اللہ پر ہونا چاہیے اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ جس کا حامی، جس کا پشت پناہ اور جس کا مددگارہو اس کے لیے کوئی پریشانی کا موقعہ نہیں۔ وہ اپنے بندوں کی مدد بھی کرتا ہے اور ان کی حفاظت بھی کرتا ہے۔