Ayah 4:77اَلَمْ تَرَ اِلٰی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوْٓا اَیْدِیَکُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ ج فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّٰہِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَۃً ج وَقَالُوْا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ ج لَوْ لَآ اَخَّرْتَنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ط قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ وَالْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ التَّقٰی قف وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً
” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا جاتا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! تو نے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی ؟ کچھ اور مہلت کیوں نہ دی ؟ کہہ دو اس دنیا کی متاع بہت قلیل ہے اور جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے ان کے لیے آخرت اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور تمہارے ساتھ ذرا بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔ “ (النسآء : 77)
اس آیت کا پس منظر اور پیش منظر
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر نہ صرف قتال فرض فرمایا بلکہ ” مالکم “ کہہ کر اس پر اکسایا بھی اور ایک طرح سے تنبیہ بھی فرمائی کہ تمہارے سامنے اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے اور تمہارے اپنے دینی بھائیوں کو بری طرح اذیتیں پہنچائی جا رہی ہیں۔ تو ان کی آزادی کے لیے تم قتال کیوں نہیں کرتے۔ اب اس آیت کریمہ میں اس حکم کے پس منظر کی طرف بھی اشارہ ہے اور بعد کی صورتحال کو بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے قتال کا حکم آنے سے پہلے یقینا مسلمانوں میں ان مظلوموں کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ کیونکہ یہ مظلوم مکہ معظمہ میں ہوں ‘ گرد و نواح کے علاقوں میں یا دور دراز قبیلوں میں ‘ ان کے قرابت دار اور جاننے پہچاننے والے لوگ تھے جو ہجرت کرنے کی طاقت رکھتے تھے وہ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آچکے تھے اور جو لوگ پیچھے اپنی بےبسی اور بےبضاعتی کے باعث اذیتوں کا شکار تھے ان کے حالات سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ پہلے اگر ان سے قرابت اور وطن کا رشتہ تھا تو اب ان رشتوں سے بڑھ کر دینی رشتہ قائم ہوچکا تھا۔ اس لیے جب بھی وہ ان کو یاد کرتے تو دل گرفتہ ہوجاتے۔ اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنے احساسات کا تذکرہ بھی کرتے ہوں۔ اس لحاظ سے ان ظلم رسیدہ لوگوں کا بار بار تذکرہ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں ہوتا ہوگا۔ ان کے لیے دعائیں بھی کی جاتی ہوں گی ‘ دشمنوں کی اذیت رسانی پر غم و غصہ کا اظہار بھی کیا جاتا ہوگا اور کبھی کبھی آنحضرت ﷺ سے یہ درخواست بھی کی جاتی ہوگی کہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ ہمیں قتال کی اجازت دے اور ان غم زدہ مسلمانوں کے غموں کے ازالے کی کوئی صورت پیدا فرمائے۔ مخلص مسلمانوں اور آنحضرت ﷺ کے درمیان اس گفتگو میں منافقین بھی یقینا موجود ہوتے۔ انھیں اپنے نفاق اور اپنے ایمان کی کمزوری کا بخوبی اندازہ تھا اور ساتھ ہی اس بات کی فکر بھی رہتی تھی کہ ہم سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہونے پائے جس سے مسلمانوں کو ہمارے نفاق کا شبہ ہونے لگے۔ چناچہ جیسے ہی ان کی موجودگی میں اس طرح کی باتیں چھڑتیں تو وہ آگے بڑھ کر دشمنوں کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے۔ اور دشمن قبیلوں میں مصائب میں گھرے ہوئے مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کرتے۔ اور جب قتال کی بات ہوتی تو دوسرے لوگوں سے زیادہ جوش و خروش دکھاتے اور بڑھ چڑھ کر مطالبہ کرتے کہ ہمیں پہلی فرصت میں اس ظلم کا ازالہ کرنا چاہیے اور ان مظلوموں کو نجات دلانے کے لیے طاقت استعمال کرنی چاہیے۔
قتال سے پہلے معنوی ‘ اخلاقی اور روحانی تیاری کے لیے نماز اور روزہ کا حکم
آنحضرت ﷺ چوں کہ اللہ کے رسول تھے اس لیے آپ ﷺ کوئی بھی اقدام اللہ کے حکم اور اس کی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ بظاہر ان جاں فروشوں کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے کہ تمہارا جوش و جذبہ قابل قدر ہے اور تمہاری حمیت و غیرت میں بھی کوئی شبہ نہیں لیکن جب تک اللہ کی طرف سے حکم نہیں آجاتا ہم کوئی سا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اور مزید یہ کہ جنگ محض جوش و خروش اور دعو وں سے تو نہیں لڑی جاتی ‘ اس کے لیے تو مناسب تیاری کرنا ہوگی۔ تم سرِ دست اپنے ہاتھوں کو روک کے رکھو یعنی ابھی طاقت کے استعمال کا وقت نہیں آیا۔ یہ تیاری کا مرحلہ ہے۔ تیاری ایک تو وہ ہے جو اسلحہ کی فراہمی اور رسد و کمک کے انتظامات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے لیے سوچنا اور انتظام کرنا تو عمائدین حکومت کی ذمہ داری ہے ‘ لیکن مسلمانوں پر جو تیاری فرض ہے وہ ان کی اپنی زندگیوں کے حوالے سے ہے۔ اور یہ تیاری دوسری تیاری سے بدرجہا ضروری ہے۔ کیونکہ میدانِ جنگ میں یا قوموں کے مقابلے میں فیصلہ کن چیز قوموں کا حوصلہ اور ان کا کردار ہوتا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں لڑنے والے تو زیادہ تر اللہ کی ذات اور اپنے کردار پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کی اصل طاقت اللہ پر بےحد مضبوط ایمان ‘ دل میں اس کے ساتھ بےپناہ محبت و عقیدت ‘ ہر طرف سے کٹ کر اسی کے ساتھ وابستگی ‘ زبان پر اس کی حمد کے ترانے ‘ اعضاء وجوارح پر اس کے احکام کا نفاذ اور اسی کے لیے جینے اور مرنے کی تڑپ ‘ یہ ساری چیزیں مل کر اخلاص و للٰہیّت کہلاتی ہیں۔ اسی سے ایک ایسا فردتیار ہوتا ہے جو فی سبیل اللہ جنگ لڑ سکتا ہے۔ اور اس کی جنگ کا مقصد نہ ذاتی شجاعت کا اظہار ہوتا ہے ‘ نہ کسی علاقے پر قبضہ ‘ بلکہ از اول تا آخر صرف اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے ‘ اسی کے لیے وہ جینا چاہتا ہے اور اسی کے لیے وہ موت سے کھیل جاتا ہے۔ ایسے افراد جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو پھر ان افراد میں مضبوط نظم و اطاعت اور ناقابلِ شکست شیرازہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس سے وہ ایسی سیسہ پلائی دیوار بن جائیں جس میں شیطان یا دشمن کبھی نقب نہ لگا سکے۔ انفرادی اور اجتماعی طور پر یہ ضرورت نماز سے پوری ہوتی ہے۔ دن میں پانچ دفعہ فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ دن اور رات کے نوافل آدمی کی اندر للٰہیّت پیدا کرتے ہیں۔ نمازوں میں تسبیح وتحمید ‘ رکوع و سجود ‘ قیام و قعود اور خضوع و خشوع میں استغراق ‘ اخلاص کی تکمیل کرتے ہیں۔ مصروف اوقات سے نکل کر بار بار نماز کی حاضری اللہ سے بےپناہ وابستگی اور قوم میں شیرازہ بندی کو مضبوط بناتی ہے۔ پھر نماز میں قطار بندی اور صفوں کی برابری کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہونا ‘ ہر طرح کے تفاوت کا مٹا دینا ایک امام کی اقتدا میں تمام حاضرین کا حرکت میں آنا ‘ اس کے ایک اشارے پر اٹھنا ‘ جھکنا ‘ بیٹھنا اور سلام پھیرنا ایک ایسی مشق ہے جو فوج کے ڈسپلن کو پیدا کرتی ہے ‘ جس میں جرنیل کے حکم کو آخری حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو جنگ کے لیے افراد کی تیاری میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور نماز کی پابندی سے ان میں سے ایک ایک چیز کا پیدا کیا جانا نہایت آسان ہے۔ افراد کی تیاری کے ساتھ ساتھ جنگ کے مصارف بھی بےحد اہمیت رکھتے ہیں۔ جن حکومتوں کے پاس بےپناہ وسائل ہیں وہ تو اپنے وسائل پر جنگی مصارف کا انحصار کرسکتے ہیں۔ لیکن مدینے کی ریاست کے پاس تو وسائل نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ان کا اللہ کے بعد اگر کوئی وسیلہ تھا تو وہ مسلمانوں کے صدقات ِ واجبہ اور نافلہ تھے۔ اسی سے معمول کی زندگی میں بھی کام چلایا جا رہا تھا اور اسی کی بنیاد پر جنگیں لڑی جاسکتی تھیں۔ مصارفِ جنگ کی تیاری کے لیے اس وسیلہ کی فراہمی کی ایک ہی صورت تھی کہ مسلمانوں میں انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ اس جذبہ کو پیدا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ زکوٰۃ کی ادائیگی کی پختہ عادت ہی بن سکتی تھی۔ اس لیے یہاں فرمایا کہ تم نماز کا اہتمام کرو اور ادائے زکوۃ کو اپنی عادت بنادو۔ جب تمہیں زکوۃ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق ملے گی کہ زکوۃ کوئی بڑا مال نہیں محض اڑھائی فیصد ہے۔ لیکن اس سے یہ تربیت ملتی ہے کہ یہ مال میرا نہیں اللہ کا ہے۔ میرے پاس اس کی امانت ہے۔ عام معمول کی زندگی میں تو میں اڑھائی فیصد ادا کر کے سرخرو ہوجاتا ہوں ‘ لیکن اگر ملک ‘ ملت اور جہاد کی ضرورتوں کو اس سے زیادہ کی ضرورت پڑے تو میں اللہ کی اس امانت کو روکنے کا مجاز نہیں۔ یہی دونوں جذبے امت کی حقیقی روح اور اس کی حقیقی قوت کے ضامن ہیں۔ جس سے جہاد و قتال کی تیاری ممکن ہے۔ جب بھی مسلمانوں کو اللہ کے راستے میں کوئی جنگ درپیش ہو تو اسلحہ جنگ اور رسد و کمک کے انتظامات کے ساتھ ساتھ یہی وہ اصل تیاری ہے جس سے اللہ کے راستے میں جنگ کی جاسکتی ہے۔ اور اگر مادی ضرورتوں کی تیاری تو مکمل ہو لیکن یہ معنوی ‘ اخلاقی اور روحانی تیاری نہ کی جائے تو جہاد فی سبیل اللہ نام کی لڑائی بھی جہاد فی سبیل النفس بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسی جنگ کرنے والوں کے سر پر بیشک سبزپھریرا لہرا رہا ہو اور بیشک اس میں اللہ اکبر کے نعرے بھی گونج رہے ہوں لیکن اپنے مقصد اور اپنی روح کے اعتبار سے یہ محض ایک لڑائی ہوگی جہاد فی سبیل اللہ یا قتال فی سبیل اللہ نہیں ہوگا۔ یہ وہ بات تھی جو ان منافقین سے کہی جا رہی تھی۔ لیکن وہ محض اپنے نفاق پر پردہ ڈالنے کے لیے بار بار قتال کی اجازت طلب کر رہے تھے۔ اب جب کہ قتال ان پر فرض کردیا گیا تو زبانی دعوئوں کی حقیقت کھلنے لگی۔ اب وہ مسلمانوں سے منہ چھپانے لگے کیونکہ قتال پکنک منانے کو تو نہیں کہتے ‘ یہ تو جان و تن کی بازی ہے جسے کھیلنا منافقین کا کام نہیں۔ اس میں سر کندھوں سے اترتے ہیں ‘ بازو کٹتے ہیں ‘ جسم زخموں سے چور ہوتا ہے ‘ دنیا اندھیر ہوجاتی ہے ‘ ایسا خطرناک راستہ تو صرف وہ شخص اختیار کرسکتا ہے جو صرف اللہ سے ڈرتا اور صرف اسی سے محبت کرتا ہو۔ اب ان کا حال یہ ہوگیا کہ جنگ کی ہولناکیوں کا تصور انھیں ہراساں کرنے لگا۔ اور وہ اعدائے اسلام سے اس طرح خوف کھانے لگے جس طرح اللہ سے خوف کھانا چاہیے۔ بلکہ اللہ سے بڑھ کر لوگوں سے ڈرنے لگے۔ اگر ان کے دل میں صرف اللہ کا ڈر ہوتا تو دنیا سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ جن لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف بس جاتا اور وہ لذت آشنائی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں تو انھیں تو دوعالم سے بیگانہ ہوتے دیر نہیں لگتی۔ وہ قوت کے اصل سرچشمے سے آگاہ ہونے کے بعد نام نہاد دنیا کی قوتوں سے کبھی لرزاں و ترساں نہیں ہوتے۔ وہ بادشاہوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس طرح بات کرتے ہیں گویا ان کی نگاہوں میں بادشاہ لکڑی کے کندوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے جنھیں تحت پر سجا کے بٹھا دیا گیا ہے۔ لیکن ان منافقین کے دلوں میں چونکہ اللہ کا تعلق پید انھیں ہوسکا اس لیے وہ عجیب بےچینی کا شکار ہیں۔ تنہائی میں ہم کلامی کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ الٰہی تو نے یہ قتال ہم پر کیوں فرض کردیا ؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ ابھی اس میں مزیدتاخیر کی جاتی۔ کمزور آدمی جب کسی بڑے مقصد کی طرف بلایا جاتا ہے تو اس کی کمزوری کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ مقصد سے انکار کرنے کی بھی جرأت نہیں رکھتا اور نہ اس بلاوے پر لبیک کہنے کی ہمت پاتا ہے۔ تو پھر وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ مجھے آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار نہیں۔ لیکن ابھی میرے حالات سازگار نہیں۔ مجھے ایک مختصر مدت کے لیے مہلت دے دیجیے اس کے بعد میں انشاء اللہ جو آپ کہیں گے کرنے کے لیے حاضر ہوں گا۔ حالانکہ مختصر مدت گزرنے کے بعد بھی نہ اس میں ہمت آئے گی نہ اس کی کمزوری دور ہوگی۔ یہ ایک دفع الوقتی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ یہی حال اس وقت منافقین کا تھا۔
منافقین کا اصل روگ
لیکن ان کا جو اصل روگ تھا جس کی وجہ سے وہ سراسیمہ ہو رہے تھے قرآن کریم نے اس سے پردہ اٹھایا۔ فرمایا ” قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ ج وَ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّمَنِ التَّقٰی “ (کہہ دیجیے متاع دنیا قلیل ہے اور آخرت اس کے لیے انتہائی بہتر ہے جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہے) حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں جان دینے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے انسانی ذہن کی ساخت بدلنے کی ضرورت ہے۔ انسانی ذہن کی ساخت جن تصورات کی دیواروں پر قائم ہے ان میں بنیادی بات یہ ہے کہ دنیا ایک حقیقت ہے اور آخرت محض ایک مفروضہ۔ مذہبی لوگوں نے ایک بہلاوا بنا رکھا ہے جس سے خود بھی بہلتے ہیں اور دوسروں کو بھی بہلاتے ہیں۔ غالب نے ایسے ہی لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا ؎
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلاے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
آخرت کا چونکہ پوری طرح یقین پیدا نہیں ہوتا اس لیے باز پرس کا بھی خوف پیدا نہیں ہوتا۔ ہزار اس بات کو دہرایا جائے کہ اللہ ایک ایک بات کو جانتا ہے۔ ہمارا نامہ عمل تیار ہو رہا ہے ‘ ہمارے دونوں کندھوں پر دو فرشتے ہماری پوری زندگی کی فائل تیار کرنے میں مصروف ہیں ‘ ہم سے ایک ایک عمل کے بارے میں باز پرس ہوگی ‘ ہمارا ایک ایک احساس مجسم شکل میں ہمارے سامنے لا رکھا جائے گا۔ ان باتوں کو سن لیا جاتا ہے لیکن یہ باتیں حلق سے نیچے نہیں اترتیں۔ دنیا کی حقیقت چونکہ سامنے دکھائی دیتی ہے اس لیے انسان کو اسی کا یقین آتا ہے ‘ اسی کی طلب میں وہ محنت کرتا ہے مشقت اٹھاتا ہے اور جان کھپاتا ہے۔ اسی کی محرومی کو حقیقی محرومی سمجھتا ہے ‘ اسی کے غم کو غم اور اسی کی خوشی کو خوشی محسوس کرتا ہے۔ اس دنیا کے معمولی فوائد کے لیے دیانت چھوڑ دینا انسان کا روز مرہ ہے۔ اس کی دلچسپیاں انسانی زندگی کا حاصل ہیں۔ اسی کی متاع کو حقیقی اور دیرپا متاع سمجھتا ہے۔ اپنے سامنے جنازے اٹھتے بھی دیکھتا ہے لیکن اسے یقین نہیں آتا کہ میری بھی باری آئے گی۔ اپنے عزیزوں کو اپنے ہاتھ سے لحد میں اتارتا ہے لیکن باہر نکل کر پھر دنیا میں گم ہوجاتا ہے۔ یہ وہ احساسات اور تصورات ہیں جس سے ایک دنیا دار انسان کی ذہنی ساخت تیار ہوتی ہے۔ منافقین سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تم انہی تصورات کے تحت زندگی گزار رہے ہو حالانکہ تمہیں ایمان لانے کے بعد اس بات کا یقین پید اکر لینا چاہیے کہ متاع دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ چند روزہ کھیل ہے جو اچانک ختم ہوجاتا ہے۔ نہ حکمران باقی رہے ‘ نہ دولت مند ‘ زندگی جس طرح غریب کی گزرتی ہے امیر کی بھی گزرتی ہے۔ زندگی کا سفر ختم ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی جتنی برف کے گھلنے میں یا بلبلے کے ٹوٹنے میں۔ ایک شخص ساری عمر دولت جمع کرتا رہتا ہے۔ اچانک آگ لگ جاتی ہے اور دیوالیہ ہوجاتا ہے۔ یا خود اس کی زندگی تمام ہوجاتی ہے تو وہ سب کچھ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے دولت جمع کرنے والا اور دولت ہی کے لیے جینے والا شخص ایک چوکیدار کا فرض انجام دیتا ہے۔ پہرہ داری کرتا رہتا ہے اور دوسروں کے حوالے کر کے چلا جاتا ہے۔ جب تک زندہ رہتا ہے اس بت کو پوجتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے اسی پوجا میں میری زندگی ہے۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا : ؎
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں لا الٰہ الا اللہ
امر واقعہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا کی حقیقت کو سمجھ لیا ان کے لیے دنیا بےحقیقت ہو کر رہ گئی۔ ان کے وقت میں برکت آگئی ‘ ان کی صلاحیتیں دولت دنیا کو جمع کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت میں صرف ہونے لگیں ‘ وہ اس دھوکے اور فریب سے نکل گئے کہ دنیا کی حقیقت سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ان کے لیے جینا بھی آسان ہوگیا اور مرنا بھی آسان ہوگیا۔ انھیں دولت ملتی ہے تو نہ جانے کس کس کے کام آتی ہے۔ اور اگر نان شبینہ پر گزارہ کرنا پڑتا ہے تو وہ کبھی حرف شکایت زبان پر نہیں لاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ انسان انسانیت سے بلند ہوتا ہے۔ انسانی مفادات کے پتھر اسے ڈبونے کے کام آتے ہیں ‘ سرافراز ہونے میں کوئی مدد نہیں دیتے۔ وہ اپنی ذات کی تعمیر میں لگا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے :
تری ذات میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدار قوت حیدری
منافقین کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ متاع دنیا کی خاطر اپنی عاقبت تباہ مت کرو۔ دنیا فانی ہے آخرت باقی ہے۔ متاعِ دنیا قلیل ہے ‘ متاعِ آخرت ابدی اور سرمدی ہے۔ دنیا کی نعمتیں ناقابلِ یقین ہیں آخرت کی نعمتیں یقینی ہیں۔ دنیا ایک فریب نظر ہے آخرت سراسر یقین ہے۔ دنیا تن پروری ہے اور آخرت من کا اجالا ہے ‘ سوزومستی کا عنوان ہے۔ جذب و شوق کا حاصل بھی اور جذب و شوق کا ذریعہ بھی ؎
من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق
تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن
من کی دنیا ہاتھ آتی ہے تو پھرجاتی نہیں
تن کی دنیا چھائوں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
جب تک من کی دنیا آباد نہیں ہوتی یعنی اس میں تقویٰ پیدا نہیں ہوتا اور صرف اللہ سے لو لگا کر آسودگی حاصل نہیں ہوتی اس وقت تک آخرت کا یقین پید انھیں ہوتا۔ منافقین سے کہا جا رہا ہے کہ متاع دنیا کی حرص چھوڑو آخرت کی طلب اور آخرت کی تیاری زندگی کا عنوان بنالو اور ساتھ ہی اس بات کا یقین رکھو کہ اگر تم اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے اور تم نے آخرت ہی کو اپنا مقصود بنا لیا اور اسی کے لیے محنت کرنا اور جان لڑانا شروع کردیا تو یاد رکھو تمہیں ایک ایک بات کا ویسے ہی اجر ملے گا جیسے اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ تمہارے ساتھ ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ تم اپنے اندر تبدیلی پید اکر کے تو دیکھو کس طرح اللہ کی رحمت تم پر قربان ہوتی ہے۔ لیکن تمہاری مشکل یہ ہے کہ تم نے جس طرح متاع دنیا سے جی لگا رکھا ہے اسی طرح تمہیں یہ بھی اندیشہ لگا رہتا ہے کہ اگر ہم نے مسلمانوں کی طرح جہاد و قتال میں حصہ لینا شروع کردیا تو اس بات کا کیا بھروسہ ہے کہ ہماری زندگی محفوظ رہے گی۔ متاعِ دنیا اور متاع زندگی دونوں کے لیے عافیت اسی میں ہے کہ کبھی جہاد و قتال کا نام نہ لیا جائے۔
Ayah 4:78اَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یُدْرِکْکُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْکُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَۃٍ ط وَ اِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ط قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ط فَمَالِ ھٰٓؤُلَآئِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثًا
” تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمہیں پالے گی۔ اگرچہ تم مضبوط قلعوں کے اندر ہی ہو۔ اور اگر ان کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں یہ تمہارے سبب سے ہے۔ کہہ دیجیے ہر چیز اللہ کی جانب سے ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ (النسآء : 78)
منافقین کی مزید علامات و خصوصیات
اس آیت کریمہ میں منافقین کے نفاق کی کچھ مزید علامات اور خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔ دور صحابہ میں تو ان علامات کی مدد سے صحابہ منافقین کو پہچانتے تھے۔ کیونکہ خود ان کے اندر آنحضرت ﷺ کی تربیت کے نتیجے میں ان میں سے کوئی کمزوری باقی نہیں رہی تھی۔ اس لیے جب کسی کے اندر اس قسم کی علامات کو دیکھتے تھے تو کھٹک جاتے تھے۔ لیکن آج ہمارے دور میں ہمیں ان آیات کریمہ سے دو گونہ رہنمائی ملتی ہے۔ ایک تو یہ کہ مخلص مسلمان اپنے معاشرے اور اپنے مقتدر طبقے میں چھپے ہوئے منافقین کو آسانی سے پہچان سکتے تھے۔ اور دوسرا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ اس آیت کریمہ کی روشنی میں بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے اندر کہیں نفاق کی علامتیں پیدا تو نہیں ہوگئیں۔ لیکن اس کے لیے ایمان اور اخلاص کی فکر بنیادی چیز ہے۔ جب تک اس بات کا دھڑکا نہ لگا رہے کہ مجھے اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے وہ میرے صرف ظاہری اعمال کا ہی حساب نہیں لے گا بلکہ میرے سینے میں چھپے ہوئے رازوں کا بھی حساب لے گا اور میرے دل و دماغ کی گہرائیوں میں مچلنے والے جذبات کی بھی جواب طلبی کرے گا۔ اس وقت تک آدمی کبھی اپنا جائزہ لینے کی زحمت نہیں کرتا۔ وہ دوسروں پر تو بڑی جارحانہ تنقید کرتا ہے لیکن اپنے آپ کو ہمیشہ الائونس دیتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں منافقین کی پہلی علامتِ نفاق جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ منافق ہمیشہ موت سے خوف زدہ رہتا ہے۔ وہ کسی ایسے کام میں ہاتھ نہیں ڈالتا اور کسی ایسے اقدام میں شریک نہیں ہوتا جہاں اسے موت سے سامنا کرنا پڑے اور جہاں اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ موت خطرات میں مضمر ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو خطرات اور مہالک سے دور رکھیں گے تو ہمیشہ موت سے محفوظ رہیں گے۔ ایسا شخص کبھی کسی دریا میں نہیں اترتا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ دریا کا پانی ڈبو بھی سکتا ہے۔ وہ لمبے سفر پر نہیں جاتا اسے اندیشہ ہوتا ہے کہ راستے میں راستہ کاٹنے والے بھی مل سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی جنگ میں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ وہاں تو موت وحیات کی کشمکش ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ موت صرف خطرات میں نہیں ‘ بلکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اس وقت مقرر پر تم اگر اپنے آپ کو مضبوط قلعوں میں بھی بند کرلو موت وہاں بھی آئے گی۔ جس طرح خطرات سے کھیلنے والے موت کا شکار ہوتے ہیں اسی طرح قلعوں میں بیٹھنے والے اور تحت و تاج پر براجمان بھی لقمہ اجل بنتے ہیں۔ طبعی موت تو خیر اپنے وقت پر آتی ہے اور وہ ہر جگہ آتی ہے لیکن حادثاتی موت بھی صرف حادثات سے کھیلنے والوں کو نہیں آتی بلکہ ان لوگوں کو بھی آتی ہے جو حادثے کے نام سے بھی کانپتے ہیں۔ بظاہر اپنی حفاظت کے ہزار اسباب رکھتے ہوں لیکن جب حادثہ ہونا ہوتا ہے تو اسباب سارے دھرے رہ جاتے ہیں۔ امریکہ کا صدر کینیڈی تمام تر حفاظتی انتظامات کی موجودگی میں مارا گیا۔ سادات نے بظاہر اپنی حفاظت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن فوج اور ٹینکوں کی موجودگی میں مارا گیا۔ اندراگاندھی کو اس کے باڈی گارڈ سے مروا دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے ؎
موت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میں
ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں
نے مجالِ شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہے
زندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہے
موت کا وقت نہ آگے ہوسکتا ہے نہ پیچھے ہوسکتا ہے۔ تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ہو کے رہتا ہے۔ حضرت خالد بن ولید ( رض) نے نہ جانے کتنی دفعہ موت سے آنکھیں چار کیں۔ بیسیوں جنگوں میں اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کا سامنا کیا اور ہمیشہ شہادت کی تمنا بھی کی۔ لیکن موت آئی تو بستر پر آئی اور آپ نہایت تأسف سے فرماتے تھے کہ میرے جسم کا کوئی حصہ زخموں سے خالی نہیں۔ لیکن آج میں بزدلوں کی طرح بستر پر جان دے رہا ہوں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آدمی کوئی احتیاطی تدبیر بروئے کار نہ لائے۔ اور بلا وجہ اپنے آپ کو خطرات میں جھونک دے۔ اپنی زندگی کی حفاظت اور جان کو بچانا یہ انسان پر فرض ہے۔ لیکن موت کے خوف سے فرائض سے کنارہ کش رہنا اور کسی بڑے اقدام کی جرأت نہ کرنا اور ناگزیر ضرورتوں میں بھی مقاصد کو اہمیت دینے کی بجائے اپنی ذات کے تحفظ کو مقصد بنا لینا یہ وہ چیز ہے جسے یہاں نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے اور منافقین سے یہ بات کہی جا رہی ہے کہ تمہیں موت کے خوف سے جہاد و قتال میں شریک ہونے سے نہیں رکنا چاہیے۔ کیونکہ جہاد و قتال ایک ایسا فریضہ ہے جس سے کلمۃ اللہ سربلند ہوتا ہے ‘ انسانیت کی زندگی دراز ہوتی ہے ‘ ظلم کا راستہ بند ہوتا ہے اور اللہ کی زمین پر فتنہ ختم ہونے کے بعد اللہ کا دین غالب آجاتا ہے۔ اسی کی عبادت کی پاکیزہ جگہیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ بظاہر یہ موت کا کھیل زندگی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ جس طرح پیسہ خرچ کرنے سے پیسہ بڑھتا ہے ‘ درخت کی شاخیں کاٹنے سے نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں ‘ اسی طرح گردنیں کٹنے سے انسانیت پہ بہار آتی ہے ؎
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
منافقین کی دوسری علامت جو بیان فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے وَ اِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ ج وَ اِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَّقُوْلُوْا ھٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ ط قُلْ کُلٌّ مِّنْ عِنْدِاللّٰہ (اور اگر انھیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں یہ تیرے سبب سے ہے۔ کہہ دیجیے سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے) آیت کے اس حصے میں بظاہر ان کی ایک علامت بیان کی گئی ہے لیکن درحقیقت یہ دو علامتوں کا مجموعہ یا ایک علامت کے دو پہلو ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منافقین بظاہر تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی قدرت کامل پر ایمان رکھتے ہیں اور اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ پروردگار اپنی مرضی اور ارادے میں کسی کا پابند نہیں۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ کبھی آدمی اس حکمت کو سمجھ سکتا ہے اور کبھی نہیں سمجھتا۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ جب انھیں کوئی بھلائی یا فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اسے اللہ کی جانب سے قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کرنا یہ بھی ان کی حالت کو دیکھ کر صحیح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ محض رواروی میں اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔ لیکن ان کا دل اس پر یقین نہیں رکھتا۔ لیکن جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف کو اللہ کی طرف منسوب کرنے کے بجائے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اگر ان کا ایمان اس بات پر ہوتا کہ اللہ اپنے ارادوں میں کسی کا پابند نہیں اور دنیا میں جو کام بھی ہوتا ہے وہ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ آسانیاں بھی اسی کی طرف سے آتی ہیں اور مشکلات بھی اس کی طرف سے آتی ہیں۔ کیونکہ دنیا میں کوئی کام بھی اس کے ارادے اور مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر کام کو اس کی رضا میسر نہیں۔ لیکن فاعلِ حقیقی تو اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ لیکن منافقین کا حال دیکھئے کہ انھوں نے دنیا کے معاملات کو بھی دو مشیتوں کے تابع کردیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اس کائنات کا مالک اور حاکم ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔
اسی نفاق کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں اور رسول ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آپ ہر کام اللہ کے حکم کے مطابق کرتے ہیں۔ اس کام کے نتیجے میں اگر کوئی کامیابی ملتی ہے تو وہ اللہ کی جانب سے ہوتی ہے۔ اور اگر کسی ناکامی سے واسطہ پڑتا ہے تو اس میں بھی اللہ کے رسول کی کوتاہی کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یا تو وہ ناکامی مسلمانوں کی کسی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے اور یا اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش ہوتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو اس کٹھالی میں ڈال کر کندن بنانا ہوتا ہے۔ لیکن منافقین کا حال دیکھئے وہ آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ ہر کام اللہ کے حکم سے نہیں کرتے بلکہ اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زبان سے آپ ﷺ کی رسالت کا اقرار ضرور کرتے ہیں لیکن دل سے وہ آپ ﷺ کو اللہ کا رسول نہیں مانتے۔ ورنہ اس طرح کی دو عملی اور دو رنگی کا شکار نہ ہوتے۔ آخر میں فرمایا کہ ان کا یہ عجیب و غریب رویہ اور ان کی یہ بہکی بہکی باتیں اس لیے نہیں ہیں کہ وہ لوگ عقل سے خالی ہیں بلکہ اس لیے ہیں کہ نفاق نے ان کی ذہنی یکسوئی کو ختم کر کے رکھ دیا ہے اب کوئی سیدھی اور آسان بات بھی ان کے لیے سمجھنا آسان نہیں رہا ہے۔ کیونکہ اگر آدمی اپنی نگاہوں کا فوکس بدل لے تو دیکھنے کے باوجود بھی اسے دکھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح اگر دل و دماغ میں ہم آہنگی نہ رہے اور آدمی پریشان خیالی اور پریشان نظری کا شکار ہوجائے تو ہزار کوشش کے باوجود بھی آپ دیکھیں گے وہ کسی عقل اور سمجھ کی بات کے قریب بھی نہیں بھٹکتا۔ یہی کیفیت اس وقت منافقین کی تھی۔
Ayahs 4:79–80مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ز وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّئَۃٍ فَمِنْ نَّفْسِکَ ط وَاَرْسَلْنٰـکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ج وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ط
” تمہیں جو سکھ بھی پہنچتا ہے خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تمہارے اپنے نفس کی طرف سے پہنچتا ہے۔ اور اے رسول ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اور جو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے روگردانی کی تو ہم نے اس پر تم کو نگران مقرر نہیں کیا۔ “ (النسآء : 79 تا 80)
آیت میں بیان کردہ چند حقائق
اس آیت کریمہ میں نہایت مربوط انداز میں کئی حقائق کو منکشف فرمایا گیا ہے۔ ہم ایک ترتیب سے ان حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1 سابقہ آیت کریمہ میں منافقین سے خطاب کر کے فرمایا گیا تھا کہ اگر انھیں کوئی بھلائی ملتی ہے اور فائدہ پہنچتا ہے تو وہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی تکلیف آتی یا کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف کرتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اپنی حماقت کا اظہار بھی کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں بےادبی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ حماقت تو یہ ہے کہ اللہ جو ساری کائنات میں متصرف کامل اور مالک کل ہے اور دنیا میں کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا ‘ یہ حسنہ اور سیئہ کے انتساب میں فرق کر کے اس حماقت کا ثبوت دے رہے ہیں کہ یہ کائنات دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک میں اللہ کی مشیت کارفرما ہے اور دوسرا حصہ اس کی مشیت سے آزاد ہے۔
اور بارگاہِ رسالت میں بےادبی کا ارتکاب اس طرح سے کر رہے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ کا رسول ماننے کے باوجود ان کے ہر کام کو اللہ کے حکم کے مطابق اور اس کی تائید سے مؤید نہیں سمجھتے۔ اس طرح سے وہ رسالت کے تصور میں حماقت کا ثبوت بھی دے رہے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی ذات کی طرف برائی کا انتساب کر کے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ آپ چونکہ اپنی مرضی سے جو چاہتے ہیں سو کرتے ہیں اس طرح سے جو نقصان ہوتا ہے وہ آپ کی بےتدبیری سے ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے بڑھ کر بےادبی یا گستاخی نہیں ہوسکتی۔ اس سیاق کلام میں جب ہم پیش نظر آیت کریمہ کو دیکھتے ہیں کہ منافقین سے خطاب ختم کر کے اچانک آنحضرت ﷺ سے خطاب فرمایا جا رہا ہے۔ تو یہ بات بالکل صاف دکھائی دیتی ہے کہ منافقین سے بےالتفاتی کا سبب ان کی متذکرہ بالا دو باتیں ہیں ایک ان کی حماقت اور دوسرا ان کی گستاخی۔ کہ چونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے مقام کو سمجھنے سے قاصر ہیں تو ایسے احمقوں سے خطاب کا کیا فائدہ ؟ اور مزید یہ کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ اس لیے اب وہ اس قابل نہیں رہے کہ ان کی طرف پروردگار التفات فرمائیں اور انھیں خطاب کا مستحق سمجھیں۔ اور مزید یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ خطاب چونکہ دراصل آنحضرت ﷺ کا ہی استحقاق ہے ‘ ان کے طفیل اور ان کی برکت سے مسلمان اس خطاب سے نوازے گئے اور منافقین کو اسلام ہی کے بارے میں یکسو کرنے کے لیے خطاب کی ضرورت محسوس کی گئی اور یا ان پر اتمام حجت کے لیے خطاب فرمایا گیا۔ جب ان میں سے کوئی بات بھی باقی نہ رہی تو پھر آنحضرت ﷺ کی ذات جو اصل اس کی مستحق ہے انھیں سے خطاب فرما کر اس حقیقت کو منکشف فرمایا گیا ہے جس میں منافقین الجھ کر رہ گئے تھے۔
2 گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی بات کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ اب اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ جو سکھ یا دکھ ‘ اچھائی یا برائی ‘ راحت یا مصیبت آپ کو پہنچتی ہے اس میں اچھائی اور راحت تو اللہ کی جانب سے ہے ‘ لیکن جو مصیبت آپ کو پہنچتی ہے وہ آپ کے اپنے نفس کی طرف سے ہے۔ یہ بات بظاہر گزشتہ آیت کریمہ میں کہی ہوئی بات کے مخالف نظر آتی ہے۔ لیکن درحقیقت ان دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن اس بات کو سمجھنے کے لیے چند مقدمات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔
چند مقدمات
الف۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا فاعل چاہے انسان ہو یا کوئی اور وہ اللہ کی مشیت سے وجود میں آرہا ہے۔ انسان ہی کو دیکھ لیجیے وہ چاہے کسی اچھائی کا ارتکاب کرے یا برائی کا اس کے ہر عمل کے پیچھے جو قوت ‘ ذہانت اور صلاحیت کارفرما ہے وہ اس کی ذاتی نہیں بلکہ اللہ کا عطیہ ہے۔ خود اس کا جسم و جان اللہ کی عنایت ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ سب اس کے مالک نے پیدا کیا ہے۔ اس لحاظ سے وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ کی دی ہوئی قوت ‘ صلاحیت اور ذہانت سے کرتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان کے ہر عمل کے حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بظاہر اس کا فاعل انسان ہے لیکن حقیقت میں اس کا فاعل اللہ ہے۔ کیونکہ وہ اس کے لیے وسائل فراہم نہ کرتا یا اس کو بروئے کار آنے کی مہلت نہ دیتا تو یہ فعل کبھی وجود میں نہ آسکتا۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔
ب۔ انسان کسی نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسائل پیدا فرما دیتے ہیں اور کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے اسباب پیدا کردیے جاتے ہیں۔ لیکن جب انسان نیکی کرتا ہے تو اللہ خوش ہوتا ہے اور اپنی خوشنودی سے نوازتا ہے کیونکہ یہ اس کی رحمت کا اقتضاء ہے۔ لیکن جب انسان برائی کرتا ہے اگرچہ اس کے اسباب اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں اور وہ اللہ کی دی ہوئی مہلت سے برائی کرنے کے قابل ہوتا ہے ‘ لیکن اس پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ اس لیے وہ نیکی پر جزاء دے گا اور برائی پر سزا دے گا۔
ج۔ نیکی چونکہ اس کی رحمت سے وجود میں آتی اور اس کی خوشنودی کا سبب بنتی ہے اس لیے اس کا انتساب اللہ کی طرف ہوتا ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے عنایات کا نزول ہوتا ہے۔ برائی اگرچہ اس کی مہلت سے وجود میں آتی ہے لیکن وہ اس کی رحمت کا اقتضاء نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ صرف اس کے اس فیصلے کا نتیجہ ہے کہ اس نے انسان کو ایک آزادی دے رکھی ہے کہ وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ اس کے لیے اسباب فراہم کر دے گا۔ اور اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔ اس لیے وہ نیکی کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور برائی کو برائی کرنے والے کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ انسان کی کوشش اور اس کے فیصلے سے وجود میں آئی ہے۔ اللہ کی رحمت کا اقتضاء اس کی تائید میں نہیں تھا۔ لیکن روکا اس لیے نہیں گیا کہ روکنے سے اس کی آزادی سلب ہوجاتی اور جزا اور سزا کا ترتب خلاف حقیقت ٹھہرتا۔
ان مقدمات پر اگر غور کرلیا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ یہ بات کیوں کہی جاتی ہے کہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہوتا ہے اور پھر اچھائی کہ جس کی نسبت اللہ کی طرف اور برائی کی نسبت نفس انسانی کی طرف کیوں کی جاتی ہے۔ ان اصولوں کو سمجھ لینے سے یہ بات خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے کہ جب اللہ کی رحمت اترتی ہے تو اس پر شکر ادا کرنے اور اپنی بندگی کے عمل میں اضافہ کرنے سے اس کی رحمت میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے۔ اس لیے انسان اسی کی طرف متوجہ رہ کر مانگنے کا عمل جاری رکھتا ہے لیکن جب برائی اور بدعملی کے نتیجے میں دنیا میں کوئی سزا ملتی ہے تو آدمی اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس سے سزا کی شکایت کرتا ہے تو اسے توجہ اس کے اپنے نفس اور اپنی ذات کی طرف دلائی جاتی ہے۔ کہ تم ہم سے شکایت نہ کرو بلکہ اپنے آپ سے شکایت کرو۔ کیونکہ اس طرح کی سزائیں تمہاری اپنی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ اکبر نے ٹھیک کہا : ؎
جب میں کہتا ہوں کہ یا اللہ میرا حال دیکھ
حکم ہوتا ہے کہ اپنا نامہ اعمال دیکھ
آنحضرت ﷺ کی رسالت پر اللہ کی گواہی
وَ اَرْسَلْنٰـکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا آیتِ کریمہ کے اس حصے میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے اور منافقین کی طرف سے رخ پھیر کر ایک حقیقت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تسلی کی صورت یہ ہے کہ آپ سے کہا جا رہا ہے کہ کافر اگر آپ پر ایمان نہیں لاتے یا منافق اپنے نفاق سے تائب نہیں ہوتے اور آپ کی نصیحتیں ان پر اثر انداز نہیں ہو رہیں تو آپ کو ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے آپ کو رسول بنا کے بھیجا ہے۔ رسول کا کام اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچانا ‘ ان کے دل و دماغ کو اس پیغام کی قبولیت کے لیے مقدور بھر آمادہ کرنا اور ان کی طرف سے آنے والے سوالات کا جواب دینا ہے۔ اور اگر وہ مخالفت کے طوفان اٹھائیں تو انھیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہے۔ آپ نے نہایت حسن و خوبی سے ان میں سے ایک ایک فریضہ انجام دیا ہے۔ اس کے باوجود اگر یہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو آپ ہرگز دل گرفتہ نہ ہوں۔ ان کا ماننا یا نہ ماننا آپ کی رسالت کی گواہی کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ آپ کی رسالت کے برحق ہونے اور آپ کے سچے رسول ہونے کے لیے کسی انسان کی نہیں اللہ کی گواہی کافی ہے۔ کسی شہنشاہ کی طرف سے اگر کوئی وائسرائے یا گورنر متعین ہو کر کسی علاقے میں پہنچتا ہے تو اس کے عہدہ و منصب کے لیے صرف یہ گواہی کافی ہے کہ اس کے پاس شہنشاہ کا فرمانِ تقرر موجود ہے۔ اس کے وائسرائے یا گورنر ہونے کے لیے لوگوں کے ماننے یا نہ ماننے کا کوئی تعلق نہیں۔ رہی یہ بات کہ پیغمبر کے لیے اللہ کی طرف سے اس کے منصب کی گواہی کیا ہوتی ہے ؟ اگر دیدہ بینا اور قلب سلیم میسر ہو تو اس گواہی کو دیکھنا اور سمجھنا نہایت آسان ہے۔ پیغمبر کی سب سے پہلی گواہی اس کی اپنی شخصیت ہے۔ دل میں اتر جانے والی شکل و صورت ‘ آنکھوں میں بس جانے والی دل آویز شخصیت ‘ دل و دماغ کو جھکا دینے والا سیرت و کردار ‘ پتھروں کے ڈھیر میں ہیرے کی مانند چمکنے والی درخشاں زندگی ‘ خود اپنی ذات میں ایک مستقل گواہی ہے۔ مزید برآں آپ پر اترنے والی کتاب اپنی فصاحت و بلاغت ‘ اپنی وسعت و جامعیت اور اپنے مفہوم و معنیٰ کے اعتبار سے بےمثل اور بےبدل ‘ اپنے دیے ہوئے نظام شریعت کے اعتبار سے جامع و مانع اور اپنے علم اور مضامین کے تنوع کے اعتبار سے دماغوں کو حیرت میں ڈال دینے والی ‘ اور دنیا کو اپنی مثال کا چیلنج دیکر گنگ کردینے والی اور اپنی ہر حیثیت سے منفرد شان کی حامل کتاب سے بڑھ کر اور گواہی کیا ہوسکتی ہے۔ یہ کتاب شہنشاہِ کائنات کا فرمان ہے جس نے آپ ﷺ کے پیغمبر اور نبی ہونے کی شہادت دی ہے۔ علاوہ ازیں آپ ﷺ کی دعوت پر آپ ﷺ کی استقامت ‘ بپھرے ہوئے حالات کے مقابلے میں آپ ﷺ کا اطمینان اور صبر ‘ اپنے جانی دشمنوں کے لیے ہدایت کی دعائیں اور چند ہی سالوں میں ایک کامیاب حیرت انگیز انقلاب ‘ ان میں سے کون سی چیز ہے جو آپ ﷺ کی شہادت کی کے لیے کافی نہیں ہے۔
آنحضرت ﷺ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے
آپ ﷺ کی رسالت چونکہ ایک حقیقتِ ثابتہ ہے کہ جس کا انکار اہل کتاب جیسے دشمنوں سے بھی ممکن نہ ہوا۔ بدترین مخالف بھی آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور رہے۔ اس لیے منافقین کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یوں تو ہر رسول ہی دنیا میں اطاعت کرانے کے لیے آتا ہے لیکن یہ اللہ کا آخری اور عظیم رسول تو اس قدر شان کا مالک ہے کہ اس کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ اور صاف فرمایا کہ جس نے اس رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے اس کی اطاعت سے روگردانی کی تو اے پیغمبر ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کے نہیں بھیجا کہ آپ یہ دیکھتے پھریں کہ کون آپ کی اطاعت کرتا ہے اور کون نہیں۔ آپ کی اطاعت چونکہ اللہ کی اطاعت ہے اس لیے یہ دیکھنا ہمارا کام ہے کہ ہمارے رسول کی کون اطاعت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ یہاں پہنچ کر خود بخود یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت ٹھہرایا ہے اور اس پر اپنے رسول کو نہیں خود اپنے آپ کو نگران بنادیا ہے تو اس کی نگرانی کے نتیجے میں جو لوگ عدم اطاعت میں پکڑے جائیں گے ان کو جس طرح کا عذاب ہوگا اس کے تصور سے بھی کپکپی چھوٹ جاتی ہے۔ منافقین کو درحقیقت اسی انجام کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ تم اپنے رویے کو درست کرو ورنہ اس انجام کے لیے تیار رہو۔
Ayah 4:81وَیَقُوْلُوْنَ طَاعَۃٌ ز فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِکَ بَیَّتَ طَـآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ غَیْرَالَّذِیْ تَقُوْلُط وَاللّٰہُ یَکْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ ج فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا
” اور کہتے ہیں کہ سرتسلیم خم ہے۔ پھر جب باہر نکلتے ہیں آپ کے پاس سے تو رات بھر مشورہ کرتا ہے ایک گروہ ان میں سے اپنے قول کے بالکل برعکس اور اللہ تعالیٰ لکھ رہا ہے جو وہ سرگوشیاں کر رہے ہیں۔ پس آپ ان سے اعراض کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز۔ “ (النسآء : 81)
منافقین کا طرز عمل
گزشتہ آیت میں رسول کی برتر حیثیت کو پوری وضاحت سے کھول دیا گیا اور رسول کی اطاعت نہ کرنے پر جو انجام ہوسکتا ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجودمنافقین کا رویہ یہ رہا جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ ان کے رویے کی پوری طرح نشاندہی کے لیے ” طاعۃ “ کو خبر کے طور پر لا کر مبتداء محذوف کردیا گیا ہے تاکہ خبر پر پورا زور رہے اور یہ بات واضح ہوجائے کہ ان منافقین کے رویے میں منافقت کس حد تک اتری ہوئی ہے۔ منافقین جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ ﷺ کی ہر بات پر ” طاعۃ “ کا لفظ بولتے۔ ممکن ہے یہی لفظ بولتے ہوں یا اس کے ہم معنی الفاظ کا تکرار کرتے ہوں۔ لیکن مقصود یہ بتلانا ہے کہ وہ بات بات پر اپنے فدویت ‘ فدائیت اور غیر مشروط اطاعت کا اظہار کرتے ‘ کبھی کہتے سرتسلیم خم ہے ‘ کبھی کہتے بجا ارشاد فرمایا ‘ کبھی کہتے اس میں شبہ ہی کیا ہے ‘ کبھی کہتے ہم ہر خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ اطاعت کے مفہوم میں اس طرح کی تمام باتیں شامل ہیں۔ لیکن جب وہ حضور کی مجلس سے نکلتے اور اپنے لوگوں میں الگ ہو کر بیٹھتے تو رات کی تاریکی میں چھپ چھپ کر مشورے کرتے اور ان مشوروں میں جو کچھ طے کرتے یا جن عزائم کا اظہار کرتے ان میں سے ہر بات ان باتوں کے بالکل برعکس ہوتی جو وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کہتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بات اطاعت کی ہوتی تو یہاں مشورے معصیت اور انکار کے ہوتے۔ بلکہ جن چیزوں سے اسلام اور آنحضرت ﷺ کی ذات اور دعوت کو نقصان پہنچ سکتا ‘ ان پر غور کرتے اور ان کو بروئے کار لانے کے لیے سازشیں کی جاتیں ‘ تدبیریں لڑائی جاتیں اور منصوبے باندھے جاتے۔ یہ سب کچھ چونکہ رات کی تنہائی یا نہایت خفیہ طریقے سے ہوتا تھا اس لیے پروردگار نے انہی منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دھمکی کے انداز میں فرمایا کہ منافقین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نہایت خفیہ طریقے سے جو منصوبے تیار کرتے ہیں کسی کو ان کی خبر نہیں ہوتی۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ دنیا سے تو اپنے منصوبوں کو چھپا سکتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں لیکن اللہ کو تو دھوکا نہیں سکتے۔ وہ جو کچھ نہایت مخفی انداز میں رات کی تنہائی میں مشورے کرتے ہیں اللہ انھیں لکھ رہا ہے۔ اللہ کے لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے فرشتے اللہ کے حکم سے لکھ رہے ہیں۔ ان کی ایک ایک بات کو محفوط کیا جا رہا ہے۔ قیامت کے دن یہ سارا ریکارڈ ان کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا۔ تب انھیں اندازہ ہوگا کہ ہم نے جو سرگوشیوں میں باتیں کی تھیں وہ بھی آج ہمارے سامنے ہمارے نامہ اعمال میں مرقوم ہیں۔ لیکن اس وقت کا احساس انھیں کوئی کام نہیں دے گا۔ ضرورت تو اس کی ہے کہ آج وہ اپنے رویے کو بدلنے کی کوشش کریں اور وہ اس بات کا یقین پیدا کرلیں کہ ان کی کوئی بات بھی اللہ سے مخفی نہیں۔ وہ جب چاہتا ہے ان کی ان سازشوں سے اپنے رسول کو آگاہ کردیتا ہے۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کی پروا کرنے کے بجائے ان سے اعراض کیجیے۔ وہ جو کرتے ہیں انھیں کرنے دیجیے۔ ان سے ڈرنے یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہی آپ کا کارساز ہے۔ اور اللہ کی شان یہ ہے کہ جس کا وہ کارساز ہو اس کو کسی اور کی کارسازی کی حاجت نہیں رہتی۔
Ayah 4:82اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ ط وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِاللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا
” کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اور (اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ) اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ ضرور پاتے اس میں اختلافِ کثیر۔ “ (النسآء : 82)
منافقین کا فکری تضاد
قدم قدم پر منافقین کے فکری تضاد کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو وہ اللہ کے رسول ﷺ کی ہر بات اور قرآن کریم کی ہر آیت پر سمعنا واطعنا کہتے ہیں اور بار بار اپنی اطاعت اور فدویت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اور قرآن کریم پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ نہ وہ آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں اور نہ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب سمجھتے ہیں۔ ان کے اس متضاد رویے اور منافقانہ طرز عمل پر ہونا تو یہ چاہیے کہ انھیں بالکل دھتکار دیا جائے اور آنحضرت ﷺ کی مجلسوں میں آنے سے روک دیا جائے لیکن قرآن کریم کے اس حیرت انگیز اسلوب کو دیکھتے ہوئے یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ یقینا اللہ کی کتاب ہے۔ کون شخص ہے جو اس طرح کا رویہ رکھنے والے آدمی یا گروہ پر برہمی کا اظہار نہیں کرتا اور اپنے آپ کو ترک تعلق پر مجبور نہیں پاتا۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب دل میں برہمی ‘ کدورت یا غصہ بھڑک رہا ہو تو ایسی کیفیت میں ہر گفتگو اور ہر تحریر میں اس کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ لیکن یہاں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک جملہ پہلے آنحضرت ﷺ کو ان سے اعراض کی ہدایت کی جا رہی تھی اور اس کے فوراً منافقین کو قرآن کریم میں تدبر کی دعوت دی جا رہی ہے۔ بلکہ انھیں راستہ دکھایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کریم میں غور و فکر سے کام لیں تو انھیں یہ مانے بغیر چارہ نہیں رہے گا کہ یہ کتاب اللہ کی کتاب ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اس گرامیِ قدر ذات کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو بندوں کے جذبات سے منزہ اور بالا ہے۔
تدبر قرآن کا نتیجہ
رہی یہ بات کہ قرآن کریم میں اگر تدبر کیا جائے تو کس طرح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعی اس کتاب میں اختلاف کا کوئی پہلو نہیں اور اگر یہ کتاب اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتی تو صرف یہی نہیں کہ اس میں اختلاف ہوتا بلکہ اختلافِ کثیر ہوتا۔ اس کے لیے چند باتوں پر غور کرلینا کافی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ یہ قرآن کریم تئیس سال کے عرصے میں مکمل ہوا۔ اس عرصے میں آنحضرت ﷺ پر حالات کی ضرورت کے تحت خطبے کی شکل میں اس کتاب کا کوئی حصہ نازل کردیا جاتا۔ اور حالات اتنے متنوع ‘ اس قدر ہنگامہ خیز اور پر آشوب رہے کہ کوئی ایک دن یا ایک ہفتہ بھی کبھی سکون سے نہ گزر سکا۔ آنحضرت ﷺ پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ جس کی نظیر تاریخ میں ہمیں کہیں نہیں ملتی۔ پھر آپ کا تعلق بھی ایک طرح کے لوگوں سے نہیں رہا بلکہ مختلف قبائل ‘ مختلف قوموں اور مختلف مذاہب سے آپ کو واسطہ پڑتا رہا۔ کبھی اذیتوں کے ہجوم میں ہیجان یا ہراس پیدا ہوتا ‘ کبھی جنگوں کی ہولناکی میں حالات بےقابو ہونے لگتے ‘ کبھی منافقین کی درپردہ سازشوں سے دل و دماغ زخمی ہونے لگتے۔ غرضیکہ حالات اور واقعات کا جو اربھاٹا ہر وقت سرگرم رہتا۔ انہی حالات میں کبھی صلح سے سابقہ پڑتا اور کبھی جنگ سے۔ کبھی فتح ہوتی کبھی پسپائی۔ کبھی خوف کے حالات ہوتے اور کبھی امن کی ہمواری۔ ایسے مختلف حالات اور گوناگوں مواقع پر مختلف مضامین پر مشتمل تقریریں نازل ہوتی رہیں۔ اور تقریروں کا دورانیہ بھی سالوں میں پھیلا ہوا۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اول سے آخر تک ساری تقریریں ایسی ہموار ‘ یک رنگ اور باہم ایسی مربوط کہ آج بھی پڑھنے والا جب اسے پڑھتا ہے تو وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب تئیس سالوں میں مختلف حالات میں آیات اور رکوعوں کی شکل میں نازل ہوتی رہی۔ جس میں دور دور تک حالات کا عکس دکھائی نہیں دیتا۔ آنحضرت ﷺ جن حالات سے گزرتے رہے یقینا ان کے مطابق آپ ﷺ کے اندر جذبات موجزن ہوں گے لیکن اس کتاب میں اس کا دور دور تک شائبہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔
دوسرا پہلو اس کتاب کے حوالے سے سوچ کا یہ ہے کہ اس کتاب میں ایک پورا نظام زندگی دیا گیا ہے۔ اس کی ایک ایک بات اور ایک ایک حکم اپنے اصول اور فروع میں اس قدر مستحکم اور مربوط کہ ریاضی اور اقلیدس کے فارمولے بھی اتنے مستحکم اور مربوط نہیں ہوسکتے۔ وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے وہ ایک دوسرے سے انتہائی وابستہ و پیوستہ ہیں۔ جن عبادات اور اطاعات کا حکم دیتا ہے وہ عقائد سے اس طرح پیدا ہوتی ہیں جیسے تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں۔ وہ جن اعمال و اخلاق اور آداب کی تلقین کرتا ہے وہ اپنے اصول سے اس طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطرتی لوازم ظہور میں آتے ہیں۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی زبان قریش کی زبان ہے۔ لیکن قریش کیا ساری دنیا مل کر بھی اس زبان کی نقل نہیں کرسکتی۔ اس کا ایک ایک لفظ فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے۔ اس کا ایک ایک جملہ نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے۔ اس کی ہر بات حرف آخر ہے۔ اور اس کا یہ چیلنج کہ تم اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آئو آج تک جواب سے محروم ہے اور ساری دنیا اس کے سامنے گنگ ہو کر رہ گئی ہے۔
اگر ان چند پہلوئوں پر غور کرلیا جائے اور غور کرنے والا عصبیت سے اندھا نہ ہوچکا ہو تو چاہے اس کے اندر نفاق کی بھٹی کیوں نہ سلگ رہی ہو وہ یہ اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ کتاب اللہ کی کتاب ہے۔ اور جس ذات عزیز پر اتری ہے وہ اللہ کے رسول ہیں۔