4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ تمہاری مِلکِ یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے اور حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے ان کے ماسوا عورتیں اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو، قیدِ نکاح میں لانے کو نہ بدکاری کے طور پر پھر ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہے تو انھیں ان کے مہر دو فریضہ کی حیثیت سے، تم پر کوئی گناہ نہیں جس پر تم آپس میں رضا مند ہوجائو مہرمقرر کرنے کے بعد، بیشک اللہ خبردار حکمت والا ہے

وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّامَا مَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ ج کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ج وَاُحِلَّ لَـکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِـکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ط فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ بِِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ م بَعْدِالْفَرِیْضَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ تمہاری مِلکِ یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے اور حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے ان کے ماسوا عورتیں اس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے ان کے طالب بنو، قیدِ نکاح میں لانے کو نہ بدکاری کے طور پر پھر ان میں سے جن سے تم نے تمتع کیا ہے تو انھیں ان کے مہر دو فریضہ کی حیثیت سے، تم پر کوئی گناہ نہیں جس پر تم آپس میں رضا مند ہوجاؤ مہرمقرر کرنے کے بعد، بیشک اللہ خبردار حکمت والا ہے) (النسآء : 24) منکوحہ عورت دوسرے کے لیے حرام ہے اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں کہ چار قسم کی عورتیں ہیں جن سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے حرام ہے، ان میں سے تین قسمیں تو پہلے بیان ہوچکی ہیں اب چوتھی قسم بیان کی جارہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت پہلے سے کسی کے نکاح میں ہے یعنی وہ شادی شدہ ہے، اب وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کرسکتی۔ جس طرح ایک مرد ایک سے زیادہ بیویاں کرسکتا ہے اس طرح ایک عورت ایک سے زیادہ شوہر نہیں کرسکتی۔ ممکن ہے ذہن میں یہ خیال آئے کہ کیا کبھی کسی عورت نے یہ بھی سوچا ہے یا سوچ سکتی ہے کہ میں ایک سے زیادہ مردوں کی بیوی بن کر رہوں ؟ جس طرح مرد چار تک بیویاں کرسکتا ہے اسی طرح میں بھی ایک سے زیادہ شوہروں سے تعلق رکھوں۔ عورت کی فطرت اور اس کے خصائص کو دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنا یقینا بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کا کیا جائے کہ آج جو کچھ دیکھنے اور سننے میں آرہا ہے اس سے تعجب ہی نہیں ہوتا بلکہ اقبال کی طرح اندیشہ ہائے دوردراز بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس نے کہا تھا ؎ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے جدید تعلیم کے حوالے سے اس نے فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ یہ منظر دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ اب پردہ اٹھتا جارہا ہے اور وہ وہ باتیں سننے کو مل رہی ہیں جن کے تصور سے بھی پیشانی عرق آلود ہوجاتی ہے۔ میں لاہور کے لڑکیوں کے ایک بڑے کالج میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے گیا۔ وہاں نو عمر اور نوجوان طالبات نے جو مجھ سے سوالات کیے اور جن میں سے بعض سوالوں پر میں دیر تک پریشان رہا۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ جس طرح مرد چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے، اسلام میں چونکہ بہت حد تک مساوات ہے، کیا اسلام عورتوں کو بھی چار مردوں سے نکاح کی اجازت دیتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر نہیں دیتا تو کیوں ؟ اور کیا یہ عورت کے ساتھ زیادتی نہیں کہ جو حق مرد کو دیا جارہا ہے اسے اس سے محروم رکھا جارہا ہے ؟ یہاں دیکھ لیجیے ! قرآن کریم نے ایک شوہر والی عورت کو دوسرے کسی مرد کے لیے مطلقاً حرام کیا ہے۔ ایک مسلمان عورت کے لیے یہی بات کافی ہونی چاہیے کہ تحلیل وتحریم کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ اللہ کے نبی بھی اپنے اختیار سے کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں ٹھہراسکتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کے لیے دوسرے شوہر کو حرام ٹھہرا یا ہے تو اس کے لیے یہ سوچنا بھی گناہ ہے کہ وہ کبھی کسی دوسرے شوہر سے تمتع کرسکتی ہے کیونکہ اللہ کے حکم نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اسے کوئی اور قوت یا ہماری کوئی دلیل حلال نہیں کرسکتی۔ لیکن جدیدتعلیم نے جو نتائج پیدا کیے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ اللہ کا حکم سن کر اپنی رائے بدل لینے کے لیے ہم تیار نہیں ہوتے ہم اس کے بعد بھی دلیل کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے حکم کے بعد کسی اور دلیل کے لیے کیا گنجائش رہ جاتی ہے کیونکہ اللہ کے حکم کے بعد کسی اور دلیل کی اہمیت کا یہ مفہوم ہوگا کہ دلیل کا وزن اللہ کے حکم سے زیادہ ہے اور دلیل دینے والے کی حیثیت اللہ کی حیثیت سے فائق ہے۔ حاکم مطلق صرف اللہ کی ذات نہیں بلکہ کوئی اور بھی ہے، یہ تمام تصورات اپنے اندر کفر کے اثرات رکھتے ہیں جس سے ہزار دفعہ اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ لیکن اگر اس سے ہٹ کر بھی دیکھا جائے تو تاریخی لحاظ سے، عقلی طور پر، اور اخلاقی نقطہ نگاہ سے کسی طرح بھی یہ بات قابل فہم دکھائی نہیں دیتی۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی اور اس نے اخلاقی اقدار کو پہچانا ہے اس وقت سے لے کر تہذیبِ مغرب کے پیدا ہونے سے پہلے تک کبھی بھی عورت کے لیے ایک سے زیادہ شوہر کا تصور بھی پیدا نہیں ہوا۔ مانی یا مزدک جیسے شہوت گزیدہ نفسیاتی مریضوں کو چھوڑ کر کسی صالح طبقہ میں دور دور تک آپ کو اس کے اثرات نہیں ملیں گے۔ جہاں تک عقل کا تعلق ہے وہ یہ کہتی ہے کہ انسان بعض دوسرے تصورات کے ساتھ ساتھ اولاد کے حصول کے لیے نکاح کرتا ہے۔ اگر ایک عورت کے ایک سے زیادہ شوہر ہوں تو وہ ایک شوہر سے حاملہ ہوجانے کے بعد دوسرے مرد سے تو حاملہ نہیں ہوسکتی۔ اب دوسرے شوہر کے لیے اس کے سوا کیا چارہ کار ہے کہ یا تو وہ ایک طویل وقت کے لیے انتظار کرے اور یا دوسری بیوی کا انتظام کرے اور پھر اس کا بھی کیا بھروسہ ہے کہ پہلے شوہر کے بچے کی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد وہ ضرور ہی دوسرے شوہر کے بچے کی ماں بنے۔ ہوسکتا ہے پھر پہلے شوہر کی قسمت یاوری کرے، ایسی صورت میں اس گھر کا مستقبل کیا ہوگا ؟ جہاں یہ کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ایک عورت اپنے ساتھ کچھ کمزوریاں بھی رکھتی ہے وہ ایام مخصوص میں اپنے شوہر کے قابل نہیں ہوتی اور اگر وہ حاملہ ہوجائے تو دورانِ حمل آخری مہینوں میں وہ ایک شوہر سے تعلق رکھنا بھی تکلیف کا باعث سمجھتی ہے اور بعض صورتوں میں بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے، تو دوسرے شوہروں کے ساتھ وہ کس طرح تعلقات رکھ سکتی ہے ؟ اور اگر دوسرے شوہر اس پر اصرار کریں تو کوئی عقلمند بتائے کہ ایسی صورت میں خاتونِ خانہ کی صحت کی ضمانت کون دے سکتا ہے ؟ جبکہ ہر سنجیدہ فکر آدمی جانتا ہے کہ عورت بعض دفعہ ایک شوہر کے حقوق ادا کرنے پر بھی پوری طرح قادر نہیں ہوتی اور ایسی ہی مجبوریاں ہیں جن کی وجہ سے شریعت نے دوسری بیوی کی اجازت دی ہے۔ ورنہ کتنے ایسے صحت مند مرد ہیں جو ایسی صورتحال میں گناہ کی طرف مائل ہو کر معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ نکاح کا اصل مقصد تو اولاد حاصل کرنا ہے۔ ایک سے زیادہ شوہروں کی بیوی اگر امید سے ہوتی ہے تو ہمارے پاس کون سا ذریعہ ہے جس سے معلوم کرسکیں کہ یہ بچہ کس کا ہے ؟ رہی یہ بات کہ آج۔ .N.A. ٹیسٹوں کے نتیجے میں اس کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کے انجام پر ہم نے غور نہیں کیا۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انسانی مشینیں نتیجہ دینے میں کبھی غلطی سے مبرّا نہیں ہوتیں۔ اولاد کے خواہش مند ہر باپ کے دل میں ان وسوسوں کا آنا اور بھی قرین قیاس ہے۔ ٹیسٹ جب اس کے خلاف نکلے گا تو اس کا دل و دماغ کیسا رد عمل دکھائے گا ؟ اسے صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر ٹیسٹ کے نتیجے میں بننے والے باپ کو اس فیصلے سے یکسوئی نہ ہوئی تو وہ نومولود کے حوالے سے عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی کفالت کہاں تک کرے گا ؟ اس کا جواب دینا بھی آسان نہیں۔ جہاں تک اخلاقی نقطہ نگاہ کا تعلق ہے نکاح کا سب سے بڑا مقصد ایک ایسے قلعہ کی تعمیر ہے جس میں میاں بیوی کا ایمان، شرم وحیا کی قدریں اور بیوی کا شرف عفت وعصمت پوری طرح محفوظ ہو۔ کسی کو کبھی یہ جرأت نہ ہوسکے کہ وہ اس قلعہ کی دیواروں کو پھلانگ سکے یا اس میں دراڑیں ڈال سکے اور اس قلعہ میں پلنے والی اولاد اخلاقی قدروں کی امین اور ماں باپ کے جذبہ احترام سے مالا مال ہو۔ لیکن اگر ایک عورت ایک سے زیادہ مردوں سے نکاح کرتی ہے اور مرد اپنے ازدواجی تعلق کے لیے باری باری اپنی بیوی سے رجوع کرتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ ذہنی اور جسمانی طور پر بیوی پر کیا گزرتی ہے ؟ اخلاقی طور پر وہ اپنی بیوی کے بارے میں کس طرح کے احساسات رکھتے ہیں اور بیوی اپنے ہر شوہر کے بارے میں کس قدر محبت کا جذبہ رکھتی ہے اور ایک گھر میں مختلف شوہروں کی اولاد کیا ماحول پیدا کرتی ہے ؟ اور جب ان میں سے ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ فلاں فلاں شخص جو میرا باپ نہیں لیکن میری ماں کا شوہر ہے تو اس کے اندر کی غیرت پر کیا قیامت گزرتی ہے ؟ ان باتوں پر غور کرنے کے بعد کیا اس گھر کو گھر قرار بھی دیا جاسکتا ہے ؟ کیا ایسے گھر اور قحبہ خانے میں کوئی فرق کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیا اسلامی معاشرے کو واقعی کیا ایسے ہی گھروں کی ضرورت ہے ؟ کیا ایسے ہی گھروں سے بننے والا معاشرہ اسلامی ریاست کے لیے تقویت کا باعث ہوگا ؟ فاعتبروایا اولی الابصار۔ مختصر یہ کہ شادی شدہ عورت سے نکاح اس لیے حرام کیا گیا ہے کہ فطری، عقلی اور اخلاقی طور پر کوئی اس کا جواز نہیں۔ ہاں ! دوسرے نکاح کی ایک صورت ہے کہ کسی لونڈی سے نکاح کیا جائے، بیشک وہ پہلے کسی شخص کی بیوی ہو۔ اِلاَّمَامَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ سے اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو غیر مسلم عورتیں جنگ میں گرفتار ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں اور ان کے کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میں آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا جاسکتا ہے اور جس کی ملک یمین میں ہوں وہ ان سے تمتع بھی کرسکتا ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ گرفتار ہوں تو ان کا کیا حکم ہے ؟ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور امام مالک و شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ان کا نکاح بھی باقی نہ رہے گا۔ لونڈیوں سے متعلق ضروری تفصیل لونڈیوں سے تمتع کے معاملہ میں بہت غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ لہٰذا حسب ذیل مسائل کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے : 1 جو عورتیں جنگ میں گرفتارہوں ان کو پکڑتے ہی ہر سپاہی ان کے ساتھ مباشرت کرلینے کا مجاز نہیں ہے بلکہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی عورتیں حکومت کے حوالہ کردی جائیں گی۔ حکومت کو اختیار ہے کہ چاہے ان کو رہا کردے، چاہے ان سے فدیہ لے، چاہے ان کاتبادلہ ان مسلمان قیدیوں سے کرے جو دشمن کے ہاتھ آجائیں اور چاہے تو انھیں سپاہیوں میں تقسیم کردے۔ ایک سپاہی صرف اس عورت ہی سے تمتع کرنے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کی ملک میں دی گئی ہو۔ 2 جو عورت اس طرح کسی کی ملک میں دی جائے اس کے ساتھ بھی اس وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں اور یہ اطمینان نہ ہوجائے کہ وہ حاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے مباشرت کرنا حرام ہے اور اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل سے پہلے مباشرت ناجائز ہے۔ 3 جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں سے تمتع کے معاملہ میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اہل کتاب ہی میں سے ہوں ان کا مذہب خواہ کوئی ہو جب وہ تقسیم کردی جائیں تو جن کے حصہ میں وہ آئیں وہ ان سے تمتع کرسکتے ہیں۔ 4 جو عورت جس شخص کے حصہ میں دی گئی ہو صرف وہی اس کے ساتھ تمتع کرسکتا ہے۔ کسی دوسرے کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس عورت سے جو اولاد ہوگی وہ اسی شخص کی جائز اولادسمجھی جائے گی جس کی ملک وہ عورت ہے۔ اس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں صلبی اولاد کے لیے مقرر ہیں۔ صاحب اولاد ہوجانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جاسکے گی اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ سے آپ آزاد ہوجائے گی۔ 5 جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اس کا مالک کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے دے تو پھر مالک کو اس سے دوسری تمام خدمات لینے کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا۔ 6 جس طرح شریعت نے بیویوں کی تعداد پر چار کی پابندی لگائی ہے اس طرح لونڈیوں کی تعداد پر نہیں لگائی۔ لیکن اس معاملہ میں کوئی حد مقرر نہ کرنے سے شریعت کا منشا یہ نہیں تھا کہ مالدار لوگ بیشمار لونڈیاں خرید خرید کر جمع کرلیں اور اپنے گھر کو عیاشی کا گھر بنالیں بلکہ درحقیقت اس معاملہ میں عدم تعین کی وجہ جنگی حالات کا عدم تعین ہے۔ 7 ملکیت کے تمام دوسرے حقوق کی طرح وہ مالکانہ حقوق بھی قابل انتقال ہیں جو کسی شخص کو ازروئے قانون کسی اسیر جنگ پر حکومت نے عطا کیے ہوں۔ 8 حکومت کی طرف سے حقوق ملکیت کا باقاعدہ عطا کیا جانا ویسا ہی ایک قانونی فعل ہے جیسا نکاح ایک قانونی فعل ہے۔ لہٰذا کوئی معقول وجہ نہیں کہ جو شخص نکاح میں کسی قسم کی کراہت محسوس نہیں کرتا وہ خواہ مخواہ لونڈی سے تمتع میں کراہت محسوس کرے۔ 9 اسیرانِ جنگ میں سے کسی عورت کو کسی شخص کی ملکیت میں دے دینے کے بعد پھر حکومت اسے واپس لینے کی مجاز نہیں رہتی۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی عورت کا ولی اس کو کسی نکاح میں دے چکنے کے بعد پھر واپس لینے کا حقدار نہیں رہتا۔ 0 اگر کوئی فوجی کمانڈر محض وقتی اور عارضی طور پر اپنے سپاہیوں کو قیدی عورتوں سے شہوانی پیاس بجھالینے کی اجازت دے دے اور محض کچھ وقت کے لیے انھیں فوج میں تقسیم کرے، تو یہ اسلامی قانون کی رو سے قطعاً ایک ناجائز فعل ہے۔ اس میں اور زنا میں کوئی فرق نہیں اور زنا اسلامی قانون میں جرم ہے۔ (ماخوذاز تفہیم القرآن) حاصل کلام یہ کہ جن عورتوں کی آپ نے تفصیل پڑھی ہے، یہ وہ چار قسم کی عورتیں ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور یہ اللہ کا قطعی حکم ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ البتہ ! اس کے علاوہ جتنی عورتیں ہیں وہ سب مسلمانوں کے لیے حلال ہیں، لیکن دو شرائط کی پابندی ضروری ہے۔ پہلی شرط یہ ہے کہ جس عورت سے تم نکاح کرنا چاہو اس کا مہر ضرور مقرر کرو۔ اگر کسی نے مہر مقرر نہ کیا تو پھر اسے وہ مہر ادا کرنا ہوگا جو اس کی منکوحہ جیسی لڑکیوں کا مہر مقرر کیا جاتا ہے یعنی جو اس کے خاندان جیسے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں، ان کا مالی پس منظر اس جیسا ہو، وہ حسن و جمال میں ان سے کم نہ ہو اور وہ اپنے اخلاق کے بارے میں اسی طرح نیک شہرت کی مالک ہو۔ جتنا حق مہر عام طور پر ان کا مقرر ہوتا ہے، وہی حق مہر مقرر نہ کرنے کی صورت میں اس کا مہر ہوگا۔ اس کو مہرمثل کہتے ہیں اور یہ شوہر کو ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص یہ نیت رکھے کہ مہر جتنا بھی مقرر کرلیا جائے مجھے بہرحال ادا نہیں کرنا تو نکاح کے ایجاب و قبول کے باوجود نکاح نہیں ہوگا کیونکہ ایسے شخص نے نکاح کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھا۔ وہ اسے محض جنسی تعیش کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ شریعت قید لگا کر اس معاملہ کو سنجیدہ بنانا چاہتی ہے تاکہ اسے لڑکوں کا کھیل نہ سمجھا جائے۔ نکاح کرنے والا اپنے دل میں یہ محسوس کرے کہ میں بظاہر ایک لڑکی سے تعلق پیدا کررہا ہوں، لیکن حقیقت میں اس کے تحفظ کے لیے شرائط آسمان سے اتری ہیں اور مزید یہ کہ ان تحفظات کو اسلامی شریعت کے ساتھ ساتھ دونوں خاندانوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ نکاح سے مقصود عورت کو اپنی حمائیت و حفاظت میں لینا ہو، یعنی نکاح کرنے والا اس بات کا یقین رکھتاہو کہ نکاح دراصل ایک قلعہ تعمیر کرنا ہے۔ جس میں میں ہمیشہ اپنی بیوی کی عفت وعصمت کی حفاظت کروں گا اور اپنے بچوں کی تربیت کروں گا۔ اس سے مقصود کوئی شہوت رانی نہیں کہ ایک وقتی تلذذ اور جنسی آسودگی کے بعد یہ سمجھ لیا جائے کہ اب میری ذمہ داریاں ختم ہوگئی ہیں بلکہ یہ زندگی بھر کا سنجوگ ہے اور ایک ایسا عہدوپیمان ہے جس کے ایفا سے ایک صالح گھر تعمیر ہوتا ہے جس میں قوم کے مستقبل کے محافظ تیا رہوتے ہیں یہی گھر مضبوط خاندان کی خشت اول بنتا ہے اور اسی سے اسلام کا سیاسی نظام وجود میں آتا ہے۔ متذکرہ احساسات کے ساتھ متعہ میل نہیں کھاتا ان احساسات اور شرائط کے ساتھ جو رشتہ وجود میں آتا ہے اس میں متعہ کا تصور کہاں راہ پاسکتا ہے۔ لیکن قرآن میں تحریف کی کوشش کرنے والوں کو داد دینی چاہیے کہ انھوں نے فما استمتعتم سے متعہ کا جواز ڈھونڈ نکالا ہے حالانکہ اس آیت میں استمتاعکا معنی بیوی سے ہمبستر ہونا اور وطی کرنا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھائی جارہی ہے کہ اگر ایک آدمی نکاح کرتا ہے اور بیوی سے تعلق پیدا کرنے سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے تو مہر مقرر کرنے کی صورت میں آدھا مہر ادا کرنا واجب ہوگا۔ لیکن اگر اس نے بیوی سے استمتاع کرلیا۔ یعنی اس سے خلوت صحیحہ ہوگئی تو اب پور امہر ادا کرنا ضروری ہے۔ اس میں کوتاہی کرنا شریعتِ اسلامی کے خلاف ہے۔ اندازہ فرمائیے ! جس جملے سے عورت کی عفت وعصمت اور اس کی عزت کی حفاظت کی گئی ہے اور جس کے لیے مہر کا ادا کرنا واجب ٹھہرایا گیا ہے اسی سے متعہ کا جواز کشید کرنا بڑی ذہانت کی بات ہے۔ لیکن یہ وہ ذہانت ہے جو ایمان کے مفلوج ہوجانے کے بعد وجود میں آتی ہے۔ جس شریعت نے نکاح کے لیے احصان اور مہر کی شرط لگائی ہے یعنی وہ اس نکاح کو تسلیم نہیں کرتا جس میں مہر ادانہ کیا جائے اور بیوی کو اپنی حمائیت اور حفاظت میں زندگی بھر لینے کا تہیہ موجود نہ ہو۔ اور جو شریعت نکاح مؤقت کی اجازت نہ دے (یعنی نکاح بھی ہو مہر بھی ادا کیا جائے لیکن صرف ایک مقرر پیریڈ کے لیے نکاح کیا جائے تو وہ حرام ہے ) ۔ اس میں متعہ کا تصور کیسے پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ متعہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مرد کسی عورت سے یوں کہے کہ اتنے دن کے لیے اتنے پیسوں یا فلاں جنس کے عوض میں تم سے متعہ کرتا ہوں۔ انصاف کیجیے ! اس میں اور زنا میں کیا فرق ہے ؟ زنا میں بھی زانی قیمت دے کر منہ کالا کرتے ہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ بعض دفعہ یہ مختصر وقت کے لیے ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایک لمبی مدت کے لیے۔ لیکن دونوں میں بنیادی طور پر کوئی فرق نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے واضح طور پر اس کی حرمت ثابت ہے۔ عن علی بن ابی طالب ان النبی ﷺ نھی عن متعۃ النساء وعن لحوم الحمرالاھیۃ زمن خیبر (حضرت علی ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا) ۔ حضرت علی ( رض) کی یہ حدیث بخاری ومسلم میں بھی ہے۔ دوسری حدیث جو امام ترمذی نے نقل کی ہے وہ یہ ہے۔ عن ابن عباس قال انما کانت المتعۃ فی اول الاسلام حتی اذا نزلت الایۃ الا علے ازواجھم اوماملکت ایمانھم قال ابن عباس فکل فرج سواھما فھوحرام (حضرت ابن عباس ( رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں متعہ اسلام کے عہداول میں مشروع تھا۔ یہاں تک کہ آیت کریمہ اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَـکَتْ اَیْمَانُھُمْ نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ زوجہ شرعیہ اور مملوکہ شرعیہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع حرام ہے) مورخین لکھتے ہیں کہ مامون الرشید نے ایک دفعہ نجانے کس بہکاوے میں آکر متعہ کے حلال ہونے کا حکم دے دیا اور باقاعدہ اس کی منادی کرادی۔ چندعلماء پریشانی کی حالت میں شیخ الاسلام کے پاس پہنچے۔ انھیں سارا واقعہ سنایا کہنے لگے کہ تم دربار میں چلو میں تیارہوکر آتا ہوں۔ دربارپہنچے توچہرہ اترا ہوا اور پیشانی پر بل پڑے ہوئے تھے۔ خلیفہ مامون الرشید نے دیکھتے ہی پوچھا خیریت تو ہے آپ بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اس سے بڑھ کر پریشانی کیا ہوگی کہ زنا حلال کردیا گیا ہے۔ مامون نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کس نے حلال کیا ہے ؟ شیخ الاسلام نے کہا آپ نے۔ آپ نے متعہ حلال قرار دے کر زنا کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ مامون نے کہا : متعہ تو حلال ہے۔ اس کی زنا سے کیا مشابہت ؟ شیخ الاسلام نے کہا : قرآن کریم میں سورة المومنون میں مومنوں کی صفات بیان فرماتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا : وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّاعَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اَوْمَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُمَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ (المؤمنون : 5 تا 7) (مومن وہ لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں سوائے اپنی بیویوں اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں) ان آیات میں دیکھ لیجیے ! ایک مومن کے لیے جائز تعلق کی جگہ صرف دو ہیں۔ ایک بیوی دوسرے لونڈی۔ امیر المومنین ! میری گزارش یہ ہے کہ جس عورت سے کوئی شخص متعہ کرتا ہے کیا وہ بیوی بن جاتی ہے ؟ کیا وہ اپنے اس نام نہاد شوہر کی وارث ہوگی ؟ امیر المومنین نے کہا کہ وہ بیوی تو نہیں۔ تو شیخ الاسلام نے پوچھا : کیا وہ لونڈی ہے ؟ اس نے واقعی اسے خریدا ہے ؟ مامون نے کہا : وہ لونڈی بھی نہیں۔ تو شیخ الاسلام نے کہا : نہ وہ بیوی ہے نہ لونڈی تو پھر وہ کس حیثیت سے حلال ہے ؟ کیونکہ بیوی اور لونڈی کے علاوہ تو کوئی عورت مسلمان کے لیے حلال نہیں۔ امیر المومنین مامون الرشید نے فوراً اپنے فیصلے سے توبہ کی اور شہر میں اعلان کروادیا کہ متعہ حرام ہے۔ کوئی اس کی جرأت نہ کرے۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو تم میں سے مقدرت نہ رکھتاہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں، اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ سو ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کو ان کے مہر دو ۔ وہ قید نکاح میں آنے والیاں ہوں نہ مستی نکالنے والیاں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کرنے والیاں، پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں تو اگر وہ بدکاری کا ارتکاب کریں تو آزاد عورتوں کے لیے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اجازت تم میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہو اور یہ کہ تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے)

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْـکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّامَلََـکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰـتِکُمُ الْمُؤْ مِنٰتِ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ط بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ ج فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مَتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ج فَاِذَٓا اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْـکُمْ ط وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ع ( اور جو تم میں سے مقدرت نہ رکھتاہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے تو اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں، اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ سو ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کو ان کے مہر دو ۔ وہ قید نکاح میں آنے والیاں ہوں نہ مستی نکالنے والیاں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کرنے والیاں، پھر جب وہ قید نکاح میں آجائیں تو اگر وہ بدکاری کا ارتکاب کریں تو آزاد عورتوں کے لیے جو سزا ہے اس کی نصف سزا ان پر ہے۔ یہ اجازت تم میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑجانے کا اندیشہ ہو اور یہ کہ تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اللہ غفور الرحیم ہے) (النسآء : 25) لونڈی سے نکاح کی اجازت اور اس کی شرائط ان آیات کے نزول کے وقت مسلمانوں کی مالی حالت نہائیت ناگفتہ بہ تھی۔ ہر آدمی آزاد خاندانی عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ طول ” غنا اور قدرت “ کو کہتے ہیں کہ تم میں سے جو شخص آزاد خاندانی عورت سے نکاح کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آزاد خاندانی عورت کا حق مہر بھی زیادہ ہوگا، اس کی زندگی کے باقی اخراجات کی کفالت بھی اس کے خاندانی مالی حالات کے مطابق ہوگی، تو ایک غریب آدمی یقینا اس کا متحمل نہیں ہوسکتا اور دوسری طرف حال یہ ہے کہ اسلام نے برائی کے تمام دروازے بند کردئیے ہیں، دلوں میں احساسات کو بیدار کردیا ہے۔ جو نکاح کرنے پر قادر نہیں وہ گناہ کی زندگی بھی اختیار نہیں کرسکتا کیونکہ اللہ ہر وقت دیکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا کرے ؟ اسے کوئی سہولت ملنی چاہیے اگر متعہ کی کچھ بھی اجازت ہوتی تو اس موقعہ پر ایسے لوگوں کو اس کی اجازت ملنی چاہیے تھی۔ لیکن اس کی بجائے یہ فرمایا : تم کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلو۔ اس کا حق مہریقینا تھوڑا ہوگا اس کے اخراجات بھی ایک غریب عورت کے اخراجات ہوں گے، جسے ایک غریب آدمی برداشت کرسکتا ہے۔ البتہ ! یہ لازمی شرط ہے کہ اسے مومنہ ہونا چاہیے، کافر لونڈی سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے ذہنوں میں یہ خیال آئے کہ لونڈی کے ایمان کا کیا اعتبار ؟ اس لیے فرمایا کہ دلوں کا حال تو اللہ جانتا ہے آزاد ہونا ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ نہیں۔ اس لیے ضروری نہیں کہ جو لونڈی ہو اس کے ایمان میں بھی کمزوری ہو۔ ہوسکتا ہے وہ ایمان میں آزاد عورتوں سے بلکہ تم سے بھی بہتر ہو۔ باقی رہا اس کا لونڈی ہونا تو یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، تم سب انسان ہوآزاد بھی انسان ہے اور غلام بھی انسان ہے۔ حالات کے پھیر نے بعض لوگوں کو غلامی تک پہنچادیا ہے۔ حقیقت میں تو سب حضرت آدم کی اولاد ہیں۔ اصل کے اعتبار سے تم میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے لونڈیوں سے نکاح کرتے ہوئے تمہیں ہرگز تامل نہیں ہونا چاہیے۔ البتہ یہ بات یاد رکھو ! ان سے نکاح کرتے ہوئے ایمان کے ساتھ ساتھ مزید تین باتوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ 1 جس لونڈی سے تم نکاح کرنا چاہتے ہو تم نکاح کی بات چیت اس کے مالک اور اس کے آقا سے کروگے۔ وہ اگر اجازت دے تو نکاح ہوگا اور اگر اجازت نہ دے تو نکاح نہیں ہوسکتا۔ 2 آزاد عورت کی طرح لونڈی کا بھی حق مہر ہے اور اس کا ادا کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے۔ اس لیے اگر نکاح کرلوتو ان کے مہر بھی فرض سمجھ کر ادا کرو۔ مہر کی کمیت میں فرق ہوسکتا ہے لیکن اس کے فرض ہونے میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے اگر تم اس کا مہر ادا کرنے کی نیت نہیں رکھتے تو پھر اس نکاح کا بھی کوئی جواز نہیں۔ 3 ان کو نکاح میں لانے کے لیے بھی تمہارے ارادے پختہ اور نیک ہونے چاہییں۔ ان کے ساتھ نکاح انھیں جذبات کے ساتھ کیا جائے جن جذبات کے ساتھ ایک آزاد عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی بیوی کو نکاح میں لاکر عفت وعصمت کا ایک حصارتیار کرنا ہے اور لونڈی کو بھی یہ بات اچھی طرح دل و دماغ میں اتارنی ہے کہ میں شوہر کی حمائیت اور حفاظت میں جارہی ہوں۔ میرا اس کے ساتھ زندگی بھر کا رشتہ ہے، اب وہی میری عزت کا محافظ ہے اور میں اس کی پرائیویسی (Privacy) کی محافظ ہوں۔ اس نکاح سے مقصود محض عیاشی کرنا اور انرجی ضائع کرنا نہیں اور نہ ایسا ہے کہ نکاح کرنے والی لونڈیاں چھپ چھپ کر آشنائی کرنے والی ہوں، نہائیت پاکیزہ جذبات کے ساتھ یہ رشتہ وجود میں آنا چاہیے۔ اس حصن نکاح میں آجانے کے بعد ایک لونڈی محصنہ بن جاتی ہے۔ اب وہ اپنے شوہر کی حفاظت میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کا ایک تعلق اپنے آقا سے بھی ہے۔ اس کا آقا نکاح ہوجانے کے بعد اس سے تمتع تو نہیں کرسکتا لیکن خدمت کے لیے اسے طلب کرسکتا ہے۔ اس لحاظ سے کبھی وہ اپنے خاوند کے گھر میں ہوگی اور کبھی اپنے آقا کے گھر میں۔ خاندان کا وہ تحفظ جو ایک عورت کی جائے پناہ ہوتا ہے اور ماں باپ کا گھر جو اس کے لیے جنت ہوتا ہے وہ یقینا اس لونڈی کو میسر نہیں۔ شوہر کا تحفظ اسے ضرور ملا ہے لیکن آقا کے رشتے نے اسے مکمل نہیں ہونے دیا۔ لیکن فی الجملہ اسے ایک پناہ گاہ مل گئی ہے۔ اس وجہ سے اب اس کے طور اطوار ہر طرح سے ایک مومنہ عورت کے ہونے چاہئیں۔ جس میں کسی بداخلاقی کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ کوئی بدکاری کا ارتکاب کرتی ہے تو اب چونکہ وہ مسلمان معاشرے کا ایک فرد بن گئی ہے۔ اسے برائی کے لیے آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا، اب اسے سزا ملے گی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اسے ایک آزاد عورت جیسا خاندانی تحفظ حاصل نہیں اور اس کی ذمہ داری دو گھروں میں تقسیم ہونے کے باعث اس تحفظ کو اور بھی کمزور کرچکی ہیں۔ اس لیے اللہ کی صفت عدل نے اس کی اس کمزوری پر رحم فرمایا اور اس کی سزا میں تخفیف کردی اور حکم دیا کہ اس کی سزا ایک غیر شادی شدہ آزاد لڑکی سے نصف ہونی چاہیے یعنی اسے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے تاکہ وہ آئندہ کے لیے ایسی کسی برائی کا سوچ بھی نہ سکے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں محصناتکا لفظ دو دفعہ آیا ہے اور دونوں دفعہ الگ الگ معنی میں استعمال ہوا ہے۔ محصنات، محصنہ کی جمع ہے۔ اس کا ایک معنی ہے ” شادی شدہ عورت “ ، اور دوسرا معنی ہے ” آزاد کنواری لڑکی “۔ یہ لفظ لونڈی کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے۔ آخر آیت میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ لونڈی سے شادی کرنے کی اجازت صرف ان لوگوں کو ہے جو آزاد خاندانی عورت سے نکاح کرنے کی مقدرت نہ رکھتے ہوں اور ساتھ ہی انھیں یہ بھی خطرہ ہو کہ اگر میں نے نکاح نہ کیا تو شائد میں بند تقویٰ کو ٹوٹنے سے نہ بچاسکوں، ممکن ہے کسی گناہ میں آلودہ ہوجاؤں۔ اس سے یہ نہ سمجھاجائے کہ لونڈی سے نکاح کرنا کوئی فروتر بات ہے۔ نہیں ! اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ لونڈی اپنے آقا کی بھی خدمت کرے گی اور اپنے شوہر کی بھی۔ عین ممکن ہے کہ اس کا شوہر اس منقسم زندگی سے مطمئن نہ رہے اور اس کا اس کے آقا کے پاس جانا اسے اچھا نہ لگے اور یہی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی آسودگی کے لیے پھانس بن جائیں۔ اس لیے فرمایا : اگر تم صبر کرو اور اچھے حالات کا انتظار کرو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ بخشنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔
Ayahs 4:26–28

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

(اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لیے اور ہدایت دے تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ فرمائے اور وہ لوگ جو اپنی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم پھر جائو راہ سے بہت دور

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَـکُمْ وَیَھْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَیَتُوْبَ عَلَیْـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لیے اور ہدایت دے تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے) (النسآء : 26) خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی امتِ مسلمہ کے نام سے جو نئی امت تشکیل پارہی ہے اس کے حوالے سے سورة بقرۃ میں اور پھر سورة نساء میں یہاں تک معاشرت، تمدن اور تہذیب کی تشکیل و تعمیر کے لیے ہدایات جاری تھیں کہ درمیان میں یہ تین آیتیں ایک خاص مقصد کے لیے نازل کی گئیں اور اس کے بعد پھر اصلاحی ہدایات کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ ان تین آیتوں میں سے سب سے پہلی آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ امت اسلامیہ کا ظہور اس طرح نہیں جس طرح کبھی بین الاقوامی حالات کے الٹ پھیر سے اچانک نئی قوم وجود میں آجاتی ہے۔ اگرچہ اس کے پیچھے بھی قضاوقدر کا فیصلہ ہوتا ہے لیکن اس کا وجودحالات کے نتیجے سے زیادہ کسی بڑے مقصد کا حامل نہیں ہوتا۔ وہ باقی قوموں کی بھیڑ میں ایک اضافے کے طور پر اپنا وجود باقی رکھتی ہے اور انھیں جیسے طو راطوار اختیار کرکے زندگی گزارتی رہتی ہے۔ لیکن امت مسلمہ کا وجودحالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کا فیصلہ ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی زمین فساد سے بھر گئی ہے، بروبحر میں فساد پھیل گیا ہے، زمین کا کوئی حصہ اس فساد سے محفوظ نہیں۔ چناچہ اس نے فیصلہ کیا کہ ایک نبی مبعوث فرماکر ایک امت اٹھائی جائے اور اس کے سامنے زندگی کے وہ تمام طریقے واضح کیے جائیں اور ان تمام اچھائیوں کی اسے ہدایت دی جائے جن پر چل کر اپنے اپنے وقتوں میں اللہ کے نیک بندوں نے فلاح پائی ہے، اللہ کی زمین خیروصلاح سے معمو رہوئی ہے، زمین پر بسنے والوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور لوگوں نے اپنے فکر وعمل سے اللہ کی رضا کو دعوت دی ہے۔ آج شدید ضرورت ہے کہ زمین کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے دوبارہ ان پر زندگی کے وہ طور اطوارکھولے جائیں اور ظاہر ہے اتنا بڑا کام اللہ کے فیصلے کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے آپ اس آیت میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو یُرِیْدُ اللّٰہُُسے بیان فرمایا ہے اور اس کی تاکید کے لیے یُبَیِّنَ پر ” لام “ کا اضافہ کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ارادہ الٰہی دنیا کی طرف متوجہ ہوچکا ہے اور وہ اہل زمین سے بھلائی کا فیصلہ کرچکا ہے اور اس کے لیے امت مسلمہ کو چن لیا گیا ہے لیکن وہ افراد کا مجموعہ ہوتے ہوئے بھی اپنے اعمال و کردار میں باقی افراد انسانی کی طرح نہیں ہوگی اس کا وجود انسانوں کے لیے بہار کا جھونکا بھی ہوگا لیکن مفسدین کے لیے ڈاکٹر کا خنجر بھی کیونکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کو بروئے کار لائیں گے۔ اس آیت میں ایک طرف تو مخالفین کو تنبیہ کرنا ہے کہ تم اس امت کو غریب مسلمانوں کا گروہ سمجھ کر ان سے معاملہ نہ کرنا بلکہ ان کی مخالفت کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا کہ ان کے پیچھے اللہ کی قوت کارفرما ہے۔ یہ اس کے ارادے کی تکمیل کے لیے اٹھے ہیں، ان کے سر پر اللہ کی رحمت کا سایہ ہے اس لیے انھیں کسی طور شکست نہیں دی جاسکتی اور مسلمانوں کو یہ حوصلہ دینا ہے کہ تمہیں جو اصلاحی ہدایات دی جارہی ہیں یہ صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ یہ ہدایات ہر دور میں ان لوگوں کو دی گئی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کامورد بنایا ہے اور اپنے بندوں کی اصلاح کے لیے چنا ہے اور پھر ان کے واسطے سے ارادہ الٰہی کی تکمیل ہوئی ہے۔ اس لیے تمہیں قدم قدم پر مخالفتوں سے ضرور واسطہ پڑے گا لیکن تمہیں یہ اطمینان رکھنا چاہیے کہ تم اللہ کے سپاہی ہو جنھیں ایک عظیم مقصد کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ اللہ جب کسی کو کسی عظیم مقصد کے لیے اٹھاتا ہے تو اسے جس طرح اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے اسی طرح ان کی آزمائش کے لیے مصائب سے بھی گزارتا ہے کیونکہ ؎ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے وَاللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ قف وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّھَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا (اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ فرمائے اور وہ لوگ جو اپنی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم پھر جاؤ راہ سے بہت دور) (النسآء : 27) مسلمانوں کے مقابل کون اور کیسے ؟ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ تم جس جانگسل کشمکش سے گزر رہے ہو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تم سے جو رحمت کا سلوک فرمانا چاہتا ہے تمہیں اس کامورد بنادیا جائے گا اور اس کی رحمتیں تم پر جھوم جھوم کر اتریں گی۔ لیکن یہ کبھی نہ بھولو کہ اس کشمکش میں جن لوگوں سے تمہیں واسطہ ہے وہ کیسے لوگ ہیں اور ان کے عزائم کیا ہیں ؟ ایک طرف تو ان میں قدامت پرست جہلاء ہیں۔ جن کے لیے اپنے آبائواجداد کی ہر بات جسے وہ مذہب کا رنگ دے چکے ہیں اور ہر رسم جو روایت کا درجہ پاچکی ہے کو زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ جب کبھی بھی جہالت کی ان باتوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مذہب پر حملہ کیا جارہا ہے چناچہ وہ پوری قوت سے مقابلے کے لیے اٹھتے ہیں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ میراث میں لڑکیوں کو حصہ دیا جارہا ہے، بیوہ عورت کو سسرال کی غلامی سے نکلنے کا حق مل رہا ہے، دو بہنوں کے ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے کو ناجائز قرار دیا جارہا ہے، متبنٰی کو وراثت سے محروم کیا جارہا ہے، اسی طرح کی دوسری اصلاحات سے انھوں نے محسوس کیا کہ ہم آج تک اپنی معاشرت کو جن بنیادوں پر قائم کیے ہوئے تھے ان میں سے ایک ایک کو ڈھایا جارہا ہے اور مزید یہ کہ ان میں سے بعض چیزوں کے نتائج کا حوالہ دے دے کر لوگوں میں اشتعال بھی پیدا کیا جارہا ہے، مثلاً جس طرح کے نکاح کو اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے اور پہلے اس پر عمل ہوتا تھا اور اس کے نتیجے میں اولاد بھی ہوتی تھی تو یہ کہہ کر آگ لگانے کی کوشش کی گئی کہ اگر اس طرح کے رشتے ناجائز تھے تو ان کی اولاد بھی ناجائز ہوگی اور انھیں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو آج معاشرے کے جانے پہچانے لوگ ہیں تو ان کا کیا بنے گا ؟ جب لوگ یہ کہیں گے کہ ان کا تو نسب ہی ثابت نہیں۔ دوسری طرف یہودی تھے جنھوں نے صدیوں کی موشگافیوں سے ایک ایسی خانہ ساز شریعت ایجاد کرلی تھی جس نے اصل شریعت کو بیکار کرکے رکھ دیا تھا اور ایسے مصنوعی قوانین پیدا کرلیے تھے جن کے نتیجے میں بکثرت حلال چیزیں حرام کردی گئی تھیں اور حرام چیزیں حلال کردی گئی تھیں۔ بہت سارے توہمات کو قانونِ خداوندی میں داخل کرلیا تھا، اب جب کہ ان کو اسلام کی سیدھی سادی شریعت سے واسطہ پڑاجو اللہ کا آخری نبی اور قرآن پیش کررہا تھا تو وہ ہر بات پر مشتعل ہوتے اور ایک ایک چیز پر سو سو اعتراضات کرتے تھے۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یا تو قرآن ان کے فقہا کے تمام اجتہادات اور ان کے اسلاف کے سارے اوہام و خرافات کو شریعتِ الٰہی قرار دے ورنہ یہ ہرگز کتاب الٰہی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر یہودیوں کے ہاں دستور تھا کہ ایام ماہواری میں ہندوئوں کی طرح عورت کو بالکل اچھوت سمجھتے تھے۔ نہ اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھاناکھاتے نہ اس کے ہاتھ سے پانی پیتے، نہ اس کے ساتھ فرش پر بیٹھتے بلکہ اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھو جانے کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ ایامِ مخصوص میں عورت ایک عضو معطل بن کر رہ جاتی یا گھر میں اس کی حیثیت ایک اچھوت کی طرح ہوتی۔ یہی رواج یہودیوں کے اثر سے مدینہ کے انصار میں بھی چل پڑا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا۔ آپ نے قرآن کریم کے حوالہ سے بتایا کہ ایام مخصوص میں عورت سے صرف مباشرت ناجائز ہے باقی تمام تعلقات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، عورت عبادت نہیں کرسکتی باقی بھلائی کے ہر کام میں شریک ہوسکتی ہے۔ اس پر یہودیوں میں ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور انھوں نے لوگوں کو یہ کہہ کرمشتعل کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک سازش ہے جو پہلے کے ہر معاشرتی سسٹم کو تباہ کردینا چاہتا ہے اور ہر حلال کو حرام اور ہر حرام کو حلال میں بدل دینا چاہتا ہے۔ تیسری طرف منافقین اور معاشرے کے وہ اوباش لوگ تھے جو اسلام کی معاشرتی اصلاحات کو اپنی نفسانی خواہشات کے خلاف ایک چیلنج سمجھتے تھے وہ دیکھ رہے تھے کہ اباحیت اور فسق وفجور کا ایک ایک دروازہ بند کیا جارہا ہے اور عیاشی کے جتنے راستے ہیں ان پر پہرے لگائے جارہے ہیں۔ انسان کو نفسانیت کے چنگل اور خواہشات کی غلامی سے نکال کر خودآگاہی اور خدا آگاہی کی فضا مہیا کی جارہی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فسق وفجور کی تمام آزادیاں ختم ہوجائیں گی ان کے لیے یہ بات کسی طور بھی گوارا نہ تھی کہ محرم اور نامحرم کے شعور سے ہماری آزادیوں کو محدود کردیا جائے اور عورت کو اپنے حقوق کا شعور دے کر عورت پر ظلم وتعدی کے راستے بند کردئیے جائیں۔ چناچہ انھوں نے ان اصلاحات کے مقابلے میں اس طرح پروپیگنڈا کیا کہ گویا یہ عورت کی آزادی محدود کرنے کی کوشش ہورہی ہے اور اس کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے علم و ہنر میں کتنی ترقی کی ہے لیکن اس کی خواہشِ نفس جس طرح دور جاہلیت میں اس پر حکمران تھی اسی طرح آج بھی حکمران ہے۔ مغرب میں پوری قوت سے محرم اور نامحرم کا فرق مٹایا جارہا ہے، نکاح کے بندھن کو توڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عورت کے لیے سر پر سکارف باندھ لینا بھی ان کے ہیجانِ نفس کے لیے ناگوار ہے۔ ساری دنیا کو رواداری اور آزادی کا درس دینے والے عورت کے سر پر کپڑے کا ایک چیتھڑا برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کی بےحیائی پر کوئی تنقید کرے تو رجعت پسندی ہے اور وہ شرم وحیا کی ہر قدر کو مٹادیں اور مکارمِ اخلاق کی معمولی باتوں کو بھی برداشت نہ کریں تو یہ تہذیب ہے۔ تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں ہے اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًاسے ایک اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جاہلیتِ قدیمہ ہو یا جاہلیتِ جدیدہ ہر دور کے نفسانی شہوات کے پیروکار اور سفلی جذبات کے پرستار صرف یہی نہیں چاہتے کہ ان کے لیے بےحیائی کے راستے کھلے رہیں بلکہ ان کا اصل زور اس بات پر ہے کہ جو لوگ ان کے حیوانی اور شہوانی رویے کو پسند نہیں کرتے اور اس کے مخالف ہیں انھیں بھی کسی طرح اس حد تک گمراہ کردیں کہ وہ بھی یہی رویہ اپنانے پر مجبور ہوجائیں۔ یہ لوگ اپنی بربادی پر قناعت کرنے والے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے بارے میں ان کے عزائم یہ ہیں : ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے آنحضرت ﷺ کے ہمعصر جاہلیت کے پرستار بھی اسی ڈگر پر چل رہے تھے اور آج کی جاہلیت کے علمبردار بھی اسی راستے کے مسافر ہیں۔ انھوں نے تہذیب و ثقافت کے نام پر جس طرح انسان کو حیوان بنایا اور شرم وحیا کا ایک ایک ٹان کہ اس طرح توڑا کہ ان کے اندر سے شرافت، نجابت اور غیرت وحمیت کے تصورات یارخصت ہوگئے یا اپنے معنی کھوگئے، جس کے نتیجے میں ان کا خاندانی نظام تباہی کے کنارے جالگا۔ میاں بیوی کا رشتہ ایسا کچا دھاگابنا کہ جس کے ٹوٹنے کی آواز بھی نہیں آتی۔ وفاومحبت کے دعوے قصہ پارینہ بن گئے باربار کی بےوفائی کے جھٹکے خودکشی کی صورت میں ڈھلنے لگے اور مغرب کی خوشحال آبادی لاکھوں کی تعداد میں خودکشی کی وارداتیں کرنے لگی۔ اولاد اور والدین کا رشتہ جوانیوں کی طغیانیوں میں بہہ گیا۔ اپناگھراجاڑلینے کے بعد اب مغرب کی پوری کوشش ہے کہ مشرق کو بھی اس انجام سے دوچار کیا جائے۔ وہ اپنی تعلیم، تہذیب اور ثقافت کے زور سے مشرق کو بھی اپنے رنگ میں ڈبو دینے پر تل گئے ہیں۔ اب تو یہاں تک اندھیر ہوگیا ہے کہ جو ملک اپنی اخلاقی قدریں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ان پر عجیب و غریب سیاسی اور معاشی پابندیاں عائد کردی جاتی ہیں۔ ان کے حکمرانوں کو اپنے نصاب تعلیم سے ہر ایسی چیز نکالنے پر مجبور کیا جاتا ہے جو اخلاق کا جذبہ ابھارتی اور اپنے اسلاف سے رشتہ جوڑتی ہے۔ فرانس جیسا ملک جو اپنے آپ کو جمہوریت کا منشا اور معاد سمجھتا ہے۔ وہاں ہر طرح سے جمہوری آزادیاں کارفرما ہیں لیکن سکولوں کی بچیاں اپنی مرضی سے سر پر سکارف نہیں باندھ سکتیں۔ غور کیجیے ! سکارف کپڑے کا ایک مختصر ساٹکڑا ہے جسے سرڈھانپنے یابال سنبھالنے کے لیے باندھ لیا جاتا ہے، آخر فرانس کی قوم یا اس کے معاشرے پر اس کا کیا اثر پڑسکتا ہے ؟ لیکن عدالت کا غیرجانبدار ادارہ بھی اس معاملے میں حکومت کا شریک کار ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھیں کپڑے کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا اصل میں اس شرم وحیا کی یاد دلاتا ہے جو ان کی زندگیوں سے نکل چکی ہے اور وہ ہر دوسرے شخص یا دوسری قوم کے افراد میں سے نکال دینے پر تل گئے ہیں اور ان کا یہ پروپیگنڈا یا ان کا سیاسی اثر جس میں وہ پورے مغرب کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اس قدر موثر ہے کہ ان کے نقوش قدم پر چلنے والی مشرقی یا مسلمان حکومتیں بھی بےدینی اور بےحیائی کے ہر کام میں روادار ہیں۔ لیکن شرم وحیا کی عکاس کوئی چیز بھی انھیں بری طرح پریشان کردیتی ہے۔ ترکی کی پارلیمنٹ میں ایک مسلمان خاتون جو ان کی نیشنل اسمبلی کی منتخب رکن ہے سکارف باندھ کرچلی جاتی ہے تو حکومت کے وزیراعظم، صدر اور نیشنل اسمبلی کے سپیکر تک کے حقوق مجروح ہوجاتے ہیں اور وہ اس عفت مآب خاتون کی رکنیت ختم کردیتے ہیں کیونکہ اس نے سر پر یہ خطرناک کپڑا کیوں باندھا جس سے شرم وحیا کی بو آتی ہے۔ جس سے عفت اور پاکدامنی جنم لے سکتی ہے، جو کبھی حجاب اور نقاب تک کا مسئلہ پیدا کرسکتی ہے۔ اندازہ فرمائیے ! اسلام اور اسلامی احکام جو کبھی ابوجہل جیسے لوگوں کو پریشان کرتے تھے آج وہ اہل مغرب اور ان کے راستوں پر چلنے والے مستغربین کو پریشان کرتے ہیں اور یہی اتباعِ شہوات کرنے والوں کی اصل منزل ہے۔ یُرِیْدُاللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ ج وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے) (النسآء : 28) ایک اہم حقیقت اس آیت کریمہ میں جس حقیقت کو منکشف فرمایا گیا ہے وہ ایک طرف تو سراسر اللہ کا احسان ہے اور دوسری طرف ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقے کی خودساختہ غلط فہمیوں کا علاج بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت انسان جس طرح سوچتا تھا آج کا دانشور بھی اسی طرح سوچتا ہے۔ وہ بھی اللہ کی شریعت کو اپنی آزاد زندگی کے لیے اک پابندی سمجھتا تھا اور آج کا دانشور بھی یہ سمجھتا ہے کہ شریعت کے احکام ایسی زنجیریں ہیں جن کو پہن لینے کے بعدآدمی دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ اس کی خواہشات محدود ہوجاتی ہیں ایک آسودہ زندگی اس کے لیے خواب و خیال ہو کر رہ جاتی ہے وہ سوائے اس کے کہ ابلہ مسجد بن کے رہے زندگی کے کسی کارآمد ادارے کے قابل نہیں رہ جاتا۔ حالانکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ شریعت انسان کے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے آئی ہے، اس کی زنجیریں کاٹنے کے لیے آئی ہے، اس کے طوق اتارنے کے لیے آئی ہے، اس کی ذہنی پریشانیوں کو دو رکنے کے لیے آئی ہے، اس کی الجھنوں کو ختم کرنے کے لیے آئی ہے۔ بظاہر دنیوی زندگی جو اتباعِ شہوات کا نام ہے اس میں بڑی چکاچوند دکھائی دیتی ہے۔ مگر یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری کے سوا کچھ بھی نہیں۔ چہرے میک اپ سے بیشک روشن بنائے دئیے جاتے ہیں، لیکن کاش ! کوئی اندر جھانک کر دیکھے کہ کس قدر اندھیرا اور کس قدر ویرانی ہے۔ مسجدوں کے لوگ جیسے روشن چہرے رکھتے ہیں اس سے زیادہ روشن دل رکھتے ہیں۔ لیکن بظاہر مہذب اور مثقف کہلانے والے مغموم اور بجھے ہوئے دلوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پریوں سمجھئے کہ ایک آدمی جس کی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہیں کبھی اس کی زندگی کو دیکھئے کہ اسے ضروریات ِ زندگی میں سے جو جائز طریقے سے مل جاتا ہے وہ اسی پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ نہ کثرت کے حصول کے لیے اس کی راتوں کی نیند حرام ہوتی ہے اور نہ حرام کا ارتکاب کرکے وہ احتسابی اداروں سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ اس کی ساری توجہ زندگی کے مقاصد پر ہوتی ہے اور یہ مقاصد ایسے ہیں جس میں اگر ایک طرف اللہ کے قرب سے دل روشن ہوتا ہے تو دوسری طرف بندوں کے ساتھ بھلائی کی وجہ سے معاملات میں بہتری اور ہر کام میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ انسان کی عملی زندگی کی پہلی منزل گھر بسانا ہے۔ گھر میں میاں بیوی ہوتے ہیں اور پھر اگر اللہ برکت دے تو اولاد ہوتی ہے۔ اس گھر کی بہتری، استواری، پائیداری، اور خیروبرکت کا مرکز ہونے کے لیے چند باتوں کی ضرورت ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے محبت کرنے والا، اس کے ہر دکھ درد کو اپنا سمجھنے والا، اور اس کی عزت کی حفاظت کرنے والاہو اور بیوی اپنے شوہر کی اطاعت گزار، اس کے دکھوں میں شریک، اس کی خوشیوں کی امین اور اس کی غیر حاضری میں شرم وحیا اور گھر کی حفاظت کرنے والی ہو اور اگر اللہ اولاد دے تو ماں باپ اولاد کے لیے شفیق ہوں اور اولاد ماں باپ کی فرمانبردارہو۔ جس گھر میں بھی یہ باتیں پائی جائیں گی وہ گھر دنیا میں جنت کا نمونہ ہوگا۔ یہی وہ باتیں ہیں جو گھر کے بارے میں شریعت کے احکام ہیں اور اگر خدانخواستہ ان میں سے ایک ایک بات ختم ہوتی جائے میاں بیوی میں اعتماد اٹھ جائے، دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خیانت کرنے لگیں، اولاد اپنے ماں باپ کی گستاخ ہوجائے اور ماں باپ اپنے بچوں سے بیزار ہوجائیں، گھر میں شوہر جو کچھ کماکرلائے بیوی ہمیشہ اس سے زیادہ کا مطالبہ کرے اور اولاد اپنے ہوائے نفس کے تقاضوں کے لیے اس کمائی کو ناکافی سمجھے، شوہر جیسے جیسے غلط ذرائع استعمال کرتاجائے ویسے ویسے ان مطالبات میں بھی ترقی ہوتی جائے۔ اندازہ فرمائیے ! اس گھر کی دیواریں تو شائد کھڑی رہیں لیکن اس گھر کے مکین اس گھر سے لاتعلق ہوجائیں گے اور یہ گھر ان کے لیے پناہ گاہ یا ٹھنڈا سایہ نہیں بلکہ ایک سرائے بن کر رہ جائے گا۔ اولاد صرف راتیں گزارنے کے لیے اسے استعمال کرے گی تو کیا آپ اس گھر کو واقعی گھر کہہ سکتے ہیں ؟ اگر آپ غور فرمائیں تو اسی نتیجے ہر پہنچیں گے کہ اس گھر کو جہنم بنانے والی چیز پر وہ آزادیاں ہیں جنھوں نے شریعت کے احکام کو توڑا اور آزادیاں حاصل کرتے کرتے گھر کی حقیقت کو پامال کردیا۔ زندگی کی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے تمہیں جو معاشرتی اصلاح کے احکام دیئے ہیں بظاہر وہ احکام ہیں لیکن حقیقت میں وہ تمہاری بہت ساری بیڑیاں توڑنے اور بہت سارے طوق اتارنے کا ذریعہ ہیں اس نے تمہارے بہت سارے بوجھ ہلکے کردئیے ہیں اور ان میں سے کوئی حکم ایسا نہیں جو تمہارے لیے دشواری کا باعث ہو کیونکہ پروردگار سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ اسے کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ وہ سخت احکام کا متحمل نہیں ہوسکتا لیکن ساتھ ساتھ پروردگار یہ بھی جانتا ہے کہ وہ آوارگی اور عیاشی کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ناگوار پابندیاں اس کے لیے دشواری کا باعث ہوسکتی ہیں اسی طرح حد سے بڑھی ہوئی آزدیاں بھی اس کی انسانیت کے لیے سم قاتل بن سکتی ہیں۔ اس لیے اسے ایسے احکام دئیے گئے جس کے نتیجے میں وہ ایک ایسی معتدل زندگی گزار سکتا ہے جو اس کی ذات اور صفات کے عین مطابق ہو۔