4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayahs 4:125–126

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا Open ayah 4:125 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ہوگا دین کے اعتبار سے جس نے اپنی ذات اللہ کے سپرد کردی۔ اس حال میں کہ وہ خوب کار بھی ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرے جو بالکل یکسو تھا اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ Open ayah 4:126 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے)

وَمَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْہَہٗ لِلّٰہِ وَہُوَمُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا ط وَاتَّخَذَاللّٰہُ اِبْرٰہِیْمَ خَلِیْلًا وَلِلّٰہِ مَا فی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ مُّحِیْطًا ع ” اور اس سے بڑھ کر کون ہوگا دین کے اعتبار سے جس نے اپنی ذات اللہ کے سپرد کردی۔ اس حال میں کہ وہ خوب کار بھی ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کی پیروی کرے جو بالکل یکسو تھا اور اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست بنایا اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے۔ “ (النسآء : 125 تا 126) سب سے بہتر انسان اس آیت کریمہ نے سابقہ آیات کے مضمون کو تکمیل کی معراج تک پہنچا دیا ہے اور اس بات کا بھی جواب دے دیا کہ تم جو آپس میں افضلیت کی بحث میں پڑے ہوئے ہو ‘ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ دین کے اعتبار سے کون بہتر ہے۔ اس کی دو علامتیں بیان فرمائی ہیں ‘ ایک تو یہ فرمایا کہ دین کے اعتبار سے سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دل و جان سے جسم کی پوری توانائیوں کے ساتھ اس راستے پر پڑگیا جس راستے کا نام اسلام ہے۔ اور جسے قرآن و سنت نے واضح کیا ہے۔ پھر صرف اس راستے کا مسافر ہی نہیں بنا ‘ بلکہ اس نے اپنا سب کچھ اللہ کے سپرد کردیا اور پورے اخلاص کے ساتھ وہ اللہ کی رضا کو اپنی منزل بنا کر شریعت کے سفر پر چل نکلا ہے۔ اور دوسری علامت یہ ہے کہ وہ شریعت پر عمل نہ تو خود ساختہ طریقے سے کرتا ہے کہ جسے شریعت سمجھ لیا ویسے عمل کرلیا ‘ بلکہ وہ عمل کرنے میں پوری احتیاط سے کام لیتا ہے اس کا کوئی عمل سنت سے ہٹا ہوا نہیں ‘ اور دوسری یہ بات کہ عمل کرنے میں روایتی طریقے کا پابند نہیں کہ روا روی میں جیسے لوگ کر رہے ہیں ویسے ہی اس نے بھی کرلیا۔ جس طرح عادتاً بعض نیکیاں کرلی جاتی ہیں اسی طرح وہ بھی عادتاً بعض نیکیوں کو کرلیتا ہے لیکن اس کی اصل روح اس میں موجود نہیں ہوتی۔ یہاں اسے ” محسن “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ محسن وہ ہوتا ہے جو ہر نیکی کو صحیح طریقے کے ساتھ ساتھ اس کے آداب اور حسن کے ساتھ انجام دے۔ جسے سنت کی زبان میں “ مقام احسان “ کہا گیا ہے۔ جس شخص میں یہ دو علامتیں پائی جائیں کہ وہ ظاہر کے اعتبار سے شریعت و سنت کا پابند اور عمل کو بدرجہ کمال انجام دینے والا اور باطن کے اعتبار سے اخلاص کا پیکر ہو۔ یہ وہ دولت ہے جو انسان کو اصل عزت و کرامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور یہی ملت ابراہیمی کی پیروی ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنایا تھا اور انکو وہ مقام عطا فرمایا تھا جو اس وقت تک کسی کو نصیب نہ ہوسکا۔ اور یہ مقام انھیں اس لیے ملا تھا کہ وہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ کے ہوگئے تھے۔ دوسری آیت کریمہ میں ان تمام باتوں کا حاصل ذکر فرمایا گیا ہے۔ کہ اللہ کے یہاں قبولیت کا سب سے بڑا درجہ یہ ٹھہرا کہ آدمی ظاہر و باطن سے اللہ کا ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامات و مراتب اللہ کی ذات سے قرب و بعد کے حوالے سے طے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا غلام ہے ‘ اللہ کی ملکیت ہے۔ اللہ کا محتاج ہے۔ اور اللہ نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ جب ہر چیز اس کے احاطے اور اس کے تصرف میں ہے تو جو شخص اپنے آپ کو اس کے قریب کرنے میں کامیاب ہوجائے وہی ہر طرح کے مقام و مرتبہ کا مستحق ہوگا۔
Ayah 4:127

وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا Open ayah 4:127 in the Quran reader

(اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے ان کے بارے میں (اور یاد دلاتا ہے) وہ احکام جو پڑھے جاتے ہیں تم پر ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو وہ حق جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ خود ان سے نکاح کرلو اور (یاد دلاتا ہے تمہیں احکام) کمزور بچوں کے متعلق اور یہ کہ تم قائم رہو یتیموں کے معاملے میں احسان پر اور جو تم بھلائی کرو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے

وَیَسْتَفْتُوْنَـکَ فِی النِّسَآئِ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ لا وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَہُنَّ مَاکُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بِالْقِسْطِ ط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍفَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا ” اور لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے ان کے بارے میں (اور یاد دلاتا ہے) وہ احکام جو پڑھے جاتے ہیں تم پر ان یتیم بچیوں کے متعلق جنھیں تم نہیں دیتے ہو وہ حق جو ان کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ خود ان سے نکاح کرلو اور (یاد دلاتا ہے تمہیں احکام) کمزور بچوں کے متعلق اور یہ کہ تم قائم رہو یتیموں کے معاملے میں احسان پر اور جو تم بھلائی کرو گے تو یقینا اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (النسآء : 127) ترجمہ سے متعلق اس آیت کریمہ کی وضاحت سے پہلے ترجمہ کے حوالے سے ایک بات ذہن نشین فرما لیجیے۔” فِیْ یَتٰمَی النِّسَآئِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرْغَبُونَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ “ آیت کریمہ کے اس حصہ کا ترجمہ دو طرح سے کیا جاتا ہے اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ (اللہ تعالیٰ تمہیں یاد دلاتا ہے ان یتیم بچیوں کے بارے میں جنھیں تم ان کا حق نہیں دیتے ہو اور خواہش رکھتے ہو کہ خود ان سے نکاح کرلو) اور دوسرا ترجمہ یہ ہے (اللہ تعالیٰ تمہیں یاد دلاتا ہے ان عورتوں کے یتیموں کے بارے میں جن کا تم حق ادا نہیں کرتے ہو اور خواہش رکھتے ہو کہ خود ان سے نکاح کرلو) اور ترجمے میں ایک فرق اور بھی ہے اس کی بھی ترجمے میں گنجائش موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ ” وَ تَرْغَبُونَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ “ (تم خواہش رکھتے ہو کہ خود ان سے نکاح کرلو) اور دوسرا ترجمہ یہ ہے (تم ان سے نکاح کرنے سے اعراض کرتے ہو) یہاں چونکہ ” ترغبون “ کا کوئی صلہ ” عن “ یا ” الیٰ “ سے ذکر نہیں کیا گیا ‘ اس لیے دونوں ترجموں کی گنجائش موجود ہے۔ ربط کلام اس عظیم سورت میں آپ نے دیکھا کہ اس میں معاشرے کی تنظیم ‘ تاسیس اور تطہیر سے متعلق احکام اور ہدایات دی گئیں۔ مختلف ضمنی مباحث کے ساتھ ساتھ احکام و ہدایات کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ‘ جو گزشتہ رکوع سے اتمام کو پہنچا۔ اب اس رکوع اور اس آیت کریمہ سے جو کچھ فرمایا جا رہا ہے اس کی حیثیت خاتمہ سورت کی ہے۔ اس سورت میں نازل ہونے والے احکام سے متعلق جو سوالات مختلف وقتوں میں پیدا ہوئے ان کا جواب دیا جا رہا ہے اور اس وقت کے حالات کے مطابق منافقوں اور اہل کتاب کو آخری تنبیہات ہدایات کی صورت میں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ اہل کتاب اسلام اور مسلمانوں سے عناد اور عداوت کے انجام پر غور کرلیں اور منافقین اگر ہو سکے تو اپنی اصلاح پر توجہ دیں۔ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر لوگ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ ” یستفتون “ فعل مضارع ہے جس کا مصدر ہے ” استفتاء “ جب کوئی آدمی کسی معاملے میں شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لیے سوال کرتا ہے تو اسے استفتا کہتے ہیں۔ اور مفتی جب اس سوال کا جواب دیتا ہے تو اسے ” فتویٰ “ کہتے ہیں۔ مراد اس سے یہ ہے کہ لوگوں کو بعض سوالات درپیش ہیں وہ آپ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس بارے میں اسلامی شریعت کیا حکم دیتی ہے ؟ اور آپ جانتے ہیں کہ اسلامی شریعت کے چار مآخذ ہیں۔ قرآن اور سنت ‘ اجماع اور قیاس۔ آج جب کسی عالم سے اس طرح کا سوال کیا جاتا ہے تو وہ قرآن و سنت ‘ اجماع اور قیاس کے حوالوں سے اس کا جواب دیتا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کا حکم بھی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے اور خود آپ ﷺ کا اپنا حکم اللہ کی طرف سے دل میں اترتا ہے اور آپ اسے ادا فرما دیتے ہیں۔ چناچہ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے کچھ سوالات کیے۔ لیکن وہ سوالات کیا ہیں ؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں فرمایا۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بالعموم سوال کی تفصیل بیان نہیں کرتا ‘ البتہ جواب کی وضاحت خود سوال کو متعین کردیتی ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔ اس آیت کریمہ میں سوال کا جواب دینے سے پہلے جن احکام سے متعلق سوالات کیے جا رہے ہیں ‘ ان پر عمل کرنے کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے اور تاکید فرمائی جا رہی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ سب سے پہلے پروردگار تمہیں ان احکام کی یاد دلاتا ہے جو قرآن کریم میں پڑھے جاتے ہیں تم ان کی تلاوت کرتے ہو اور سورة النسآء کے آغاز میں آیت نمبر 2‘ 3 اور 4 میں وہ احکام موجود ہیں۔ ان آیات میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا ہے ‘ جو بچیاں یتیم رہ جاتی ہیں اور ان کے باپوں کے مرنے سے ان کی مائیں بیوہ ہوجاتی ہیں ان دونوں کے بارے میں احکام دیے گئے ہیں اور یہ تاکید کی گئی ہے کہ تم اگر ان بیوگان سے نکاح کرو یا یتیم بچیوں سے نکاح کرو تو ان کا حق مہر ادا کرو اور ان کے معاملات میں عدل سے کام لو۔ اور اس سے پہلے اگر تمہاری کوئی ایک بیوی یا بیویاں موجود ہیں تو انھیں یتیم یا لاوارث سمجھ کر نظر انداز مت کرو ‘ بلکہ ان کو وہی حق دو جو تمہاری پہلی بیوی کو میسر ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ اسلام لانے سے پہلے تو بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی ‘ تم جتنی چاہتے تھے بیویاں رکھتے تھے لیکن اب تمہیں چار سے زیادہ بیویاں ایک وقت میں رکھنے کی اجازت نہیں۔ اور اس کے ساتھ مزید شرط یہ ہے کہ ان میں انصاف کرو اور برابری کا سلوک کرو۔ ان احکام کے بارے میں مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ہم اگر یتیم بچیوں یا ان کی مائوں سے نکاح کرتے ہیں تو صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ انھیں ایک عزت کی زندگی میسر آئے اور انھیں اپنے تحفظ کا احساس ہو۔ اور اگر یتیم بچوں کی مائوں سے نکاح کیا جاتا ہے تو اس کا سبب بھی یہ ہوتا ہے کہ ہمارے بچوں کی مائیں ان یتیم بچوں پر ظلم نہ کریں۔ یا کم از کم اپنے بچوں کے مقابلے میں انھیں نظر انداز نہ کریں۔ جب وہ خود گھر میں بیوی کی حیثیت سے موجود ہوں گی تو وہ یتیموں یعنی اپنے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کرسکیں گی اور ان کے معاملات چونکہ انہی کے ہاتھوں میں ہوں گے اس لیے بچوں کو یہ شکایت نہیں ہوگی کہ دوسرے بچے یا ان کی مائیں ان پر ظلم کرتی ہیں۔ یہ جو ہم نے یتیم بچیوں یا یتیموں کی مائوں سے نکاح کا ذکر کیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی دونوں مطالب کے متحمل ہیں اور روایات بھی دونوں کی تائید کرتی ہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) کی روایت میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ بچیاں اگر خوبصورت اور مالدار ہوتیں تو بچیوں کے سرپرست ان سے اس لیے نکاح کرلیتے کہ ایک تو ان کے جمال سے فائدہ اٹھائیں گے اور دوسرا ان کا مال بھی ان کے قبضے میں رہے گا۔ اور اگر وہ بدصورت ہوتیں تو ان کے مال پر قبضہ رکھنے کے لیے کسی سے ان کا نکاح حتیٰ الامکان نہیں ہونے دیتے تھے۔ اور اگر کسی سے نکاح کرتے بھی تھے تو ایسے گرے پڑے شخص سے جو ان سے اس کے حقوق کا مطالبہ نہ کرسکے۔ اور انہی الفاظ سے بعض اہل علم نے یتیموں کی مائوں یعنی بیوگان سے نکاح مراد ہے تاکہ یتیموں کی دیکھ بھال کا مسئلہ حل ہو سکے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ ہم نے ان سے نکاح اپنی ضرورت کے تحت نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس تو پہلے ہی خوش جمال بیویاں موجود تھیں۔ ان سے نکاح تو انہی کی مصلحت کی خاطر کیا گیا۔ تو اس صورت میں ہم پر حق مہر کی ادائیگی اور عدل کی شرط نہیں ہونی چاہیے۔ چناچہ پہلے تو سورة النسآء کے آغاز میں ذکر کیے گئے احکام کی طرف توجہ دلائی گئی کہ ان میں سے کوئی حکم بھی وقتی نہیں۔ اگر تمہیں کوئی خاتون پسند نہیں تو تمہیں ہرگز اس سے نکاح نہیں کرنا چاہیے اور اگر کیا ہے تو پھر اس کے تمام حقوق ادا کرنا ضروری ہیں۔ اس لیے تمہیں حکم دیا جاتا ہے کہ ان سے انصاف سے پیش آئو اور جو یتیم بچے تمہاری تحویل میں ہیں وہ ابھی اتنے بےبس اور کمزور ہیں کہ تم سے خود کوئی مطالبہ نہیں کرسکتے۔ ان کے حقوق ادا کرو اور ان کے تمام معاملات کی نگہداشت کرو۔ اور آخر میں فرمایا کہ یتیم بچوں اور بچیوں اور ان کی مائوں کے ساتھ جو بھی تم حسن سلوک کرو گے اور ان کے اموال اور حقوق کی نگہداشت کرو گے تو اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز بھی اوجھل نہیں۔ وہ تمہاری تمام نیکیوں اور احسانات کو جانتا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ جانتے ہوئے بھی تمہیں اس کا اجر وثواب عطا نہ کرے۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر حوصلہ افزائی کرنے والا قدردان اور کوئی نہیں۔
Ayah 4:128

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا تو کوئی مضائقہ نہیں ان دونوں پر کہ آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔ طبیعتوں میں حرص رچی بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے

وَ اِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ م بَعْلِہَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْراضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَہُمَا صُلْحًاط وَالصُّلْحُ خَیْرٌ ط وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ط وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ” اور اگر کوئی عورت اندیشہ کرے اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا تو کوئی مضائقہ نہیں ان دونوں پر کہ آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔ طبیعتوں میں حرص رچی بسی ہوئی ہے۔ اور اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے۔ “ (النسآء : 128) سابقہ آیت کریمہ کی وضاحت میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ سورة ا لنسآء کی ابتدائی آیات میں یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر جو احکام دیے گئے تھے ان میں چونکہ یتیم بچیوں یا ان کی مائوں سے نکاح کی بھی اجازت دی گئی تھی تو اس سلسلے میں تین پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں۔ ایک یہ کہ بیویوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کردی گئی۔ دوسری یہ کہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کے لیے عدل کو شرط قرار دیا گیا اور تیسرے یہ کہ حق مہر کی ادائیگی لازم ٹھہرائی گئی۔ چناچہ جب اس پر سوال ہوا تو انہی آیات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ سوال اگرچہ ان خاص احکام کے حوالے سے ہوا تھا لیکن شوہر کا کسی بیوی سے مساویانہ سلوک نہ کرنے کا سبب صرف یہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی یتیم بچے کی ماں ہے اور یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر اس سے نکاح کیا گیا ہے بلکہ اس کے اسباب اور بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک بیوی بانجھ ہے یا دائمی مریض ہے یا زن و شو کے قابل نہیں رہی یا اس کی شکل و صورت واجبی سی ہے تو قرآن کریم نے اپنی عادت کے مطابق ان اسباب اور فطری اعذار کو سامنے رکھتے ہوئے چند اصولی احکام دیے کہ اگر بیوی یہ محسوس کرے کہ میری کسی کمزوری کے باعث شوہر کا تعلق مجھ سے کمزور ہوتا جا رہا ہے اور اندیشہ ہے کہ وہ یا تو مجھے چھوڑ دے گا اور یا مجھے بالکل معلق بنا کر رکھ دے گا تو ایسی صورت میں پروردگار اجازت دیتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں کے لیے کوئی حرج نہیں کہ بجائے عقد نکاح توڑنے کے وہ کسی سمجھوتے پر راضی ہوجائیں ‘ مثلاً بیوی اسے اپنا حق مہر معاف کر دے یا کم کر دے یا وہ دوسری بیوی کے حق میں اپنے حقوق زوجیت سے دستبردار ہوجائے یا دوسری بیوی کے برابر تمام مراعات لینے کا اصرار چھوڑ دے۔ اس طرح کوئی بھی مصالحت کی صورت نکل آئے تو بہتر یہ ہے کہ اسے قبول کرلیا جائے کیونکہ عقد نکاح کو آخر حد تک بچانا مسلمان معاشرے ‘ اولاد اور میاں بیوی کی مصلحت کا تقاضا ہے۔ کسی گھر کے اجڑ جانے سے ایک ایسا راستہ کھل جاتا ہے جس کے اثرات بعض دفعہ نہایت ناگوار صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ایک حکمت کی بات ارشاد فرمائی گئی۔” شُحٌّ“ کا ترجمہ ” بخل “ بھی ہوسکتا ہے اور ” حرص “ بھی۔ بخل کا معنی ہے ادائے حقوق میں تنگدلی دکھانا۔ یہ رویہ بہرحال مذموم ہے۔ اللہ کے نیک بندے ہمیشہ اپنے آپ کو بخل سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جہاں تک حرص کا تعلق ہے حرص ایک اضافی چیز ہے۔ یہ اچھی بھی ہوتی ہے بری بھی۔ نیکی کی حرص ‘ ہر خیر میں سبقت کی حرص ‘ یہ وہ چیز ہے جو ایک مومن کا مطلوب ہے۔ اس کا تعلق انسانی فطرت سے ہے۔ یہ اگر نہ رہے تو فطرت گہنا کر رہ جائے۔ لیکن اگر ایک شخص اپنی ذات کی حرص میں مبتلا ہے اور وہ ہر صورت میں اپنی بات منوانا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے ساتھ گزر بسر کرنے کی ایک ہی صورت ہے کہ دوسرا فریق ایثار اور قربانی سے کام لے۔ اس لیے بیوی کو حکم دیا گیا کہ اگر شوہر کی حرص بڑھ گئی ہے چاہے اس کے جائز اسباب بھی ہوں تو اب اس گھر کی بقا کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ تم ایثار سے کام لو اور اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہو کر کوئی تصفیہ کرلو تاکہ اس گھر میں رہ سکو۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ تمہارا ایثار شوہر کو بدلنے پر مجبور کر دے۔ عورت ایثار تو کرسکتی ہے لیکن اس کے تحمل کی بھی ایک حد ہے۔ اس لیے اس پر زیادہ بار ڈالنا قرین انصاف نہیں۔ اس مصلحت کے پیش نظر فرمایا گیا کہ ہم نے اگرچہ عورت کو ایثار کی ترغیب دی ہے لیکن احسان وتقویٰ اور ایثار و قربانی درحقیقت مرد کے زیادہ شایانِ شان ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنی فتوت اور مردانگی کی لاج رکھے۔ اور بجائے اس کے کہ بیوی کو ایثار و قربانی کی وجہ سے اپنے اوپر ایک اخلاقی تفوق دے دے اسے چاہیے کہ ہر نیکی میں اس کے لیے نمونہ بنے۔ جائز شکایات بھی ہوں تو ان سے درگزر کرے اور حتیٰ الامکان ہر نیکی میں سبقت کی کوشش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو یقینا اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ کیونکہ وہ ان دونوں کی ایک ایک بات کو جانتا ہے اور دیکھتا ہے۔
Ayah 4:129

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا عدل کرو بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کی بہت خواہش بھی کرو۔ تو یہ نہ کرو کہ جھک جائو پوری طرح جھک جانا ایک ہی بیوی کی طرف اور چھوڑ دو دوسری کو جیسے وہ درمیان میں لٹک رہی ہو۔ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ط وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ” اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ پورا پورا عدل کرو بیویوں کے درمیان اگرچہ تم اس کی بہت خواہش بھی کرو۔ تو یہ نہ کرو کہ جھک جاؤ پوری طرح جھک جانا ایک ہی بیوی کی طرف اور چھوڑ دو دوسری کو جیسے وہ درمیان میں لٹک رہی ہو۔ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “ (النسآء : 129) قرآن کریم نے بیویوں میں جو عدل اور مساویانہ برتائو کرنے کا حکم دیا اس سے لوگوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ اس حکم پر عمل کس طرح ممکن ہے ؟ لوگوں نے اپنے طور پر یہ سمجھا کہ اس حکم کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی معاملات میں بھی اپنی تمام بیویوں سے یکساں سلوک کرے ‘ جو کچھ ایک بیوی کو دے وہی دوسری بیوی کو دے۔ ایک جیسا لباس ‘ ایک جیسی رہائش ‘ ایک جیسی غذا اور ایک جیسا برتائو۔ ان میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اور دوسری یہ بات کہ جس طرح کی محبت اور محبت کے جذبات ایک بیوی کے لیے اپنے دل میں رکھو ‘ بالکل اسی طرح کے جذبات دوسری کے لیے بھی رکھو۔ صرف یہی نہیں کہ بیویوں میں باریاں مقرر کردو اور اس میں کسی کو کسی پر ترجیح نہ دو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تمہارا قلبی رجحان بھی ہر ایک کی طرف یکساں ہونا چاہیے۔ دوسری چیز چونکہ آدمی کے بس میں نہیں ‘ فرض کیجیے ایک بیوی خوبصورت ہے اور دوسری بدصورت ‘ ایک جوان ہے اور دوسری سن رسیدہ ‘ ایک دائم المرض ہے اور دوسری تندرست ‘ ایک بدمزاج ہے اور دوسری خوش مزاج ‘ ایک خوش سلیقہ ہے اور دوسری پھوہڑ ‘ اسی طرح کے اور بھی اختلاف اور تفاوت کے اسباب ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں دونوں طرح کی بیویوں کے ساتھ یکساں قلبی رجحان اور محبت کیسے ہوسکتی ہے۔ ایک خوبصورت ‘ تعلیم یافتہ ‘ سلیقہ شعار ‘ حسن کلام سے دل موہ لینے والی بیوی کے ساتھ شوہر کو جو تعلق خاطر ہوسکتا ہے وہ ان صفات سے محروم بیوی کے ساتھ کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اگرچہ حسن سلوک بھی طبعی رجحان اور جذبات ِ محبت کا عکاس ہوتا ہے۔ جو بیوی اچھی لگتی ہے اس سے خود بخود سلوک بھی اچھا ہوگا اور جو بیوی پسند نہیں اس کے ساتھ سلوک میں بھی یقینا سرد مہری ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کا لحاظ فرماتے ہوئے صاف صاف فرمایا کہ تمہیں اس بات کا حکم ہی کب دیا گیا ہے کہ تم تمام بیویوں سے دل کے رجحان اور جذباتِ محبت میں یکسانی رکھو۔ تم اگر چاہو بھی تو ایسانھیں کرسکتے۔ لیکن تمہیں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں کہ تم ایک ہی بیوی کی طرف جھک کر رہ جاؤ۔ اسی سے بات کرو ‘ اسی کی تنہائیوں میں شرکت کرو ‘ وہی تمہاری توجہ کا مرکز ہو اور دوسری بیوی گھر میں اس طرح رہے جیسے کوئی گری پڑی چیز ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ تمہارا رویہ اس طرح کا ہو جیسے وہ نہ بیوی ہے اور نہ غیر ہے بلکہ درمیان میں اسے معلق کر کے رکھ دو کہ نہ اسے طلاق دو اور نہ بیوی کے حقوق دو ۔ قلبی رجحان چونکہ تمہارے بس میں نہیں اس لیے اس پر تو گرفت نہیں ہوگی لیکن سلوک اور معاملات میں یکسانی چونکہ تمہارے بس میں ہے اس لیے اس میں تمہیں کسی بیوی کو دوسری بیوی پر ترجیح نہیں دینا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ نے نو بیویاں ہوتے ہوئے بھی کبھی کسی بیوی کو شکایت کا موقع نہ دیا۔ عصر کے بعد سب بیویوں سے ملنے کا معمول تھا۔ سب کی باریاں مقرر تھیں۔ سفر میں ساتھ جانے کا موقع اسے ملتا جس کا نام قرعہ اندازی میں نکلتا۔ سال بھر کا غلہ سب پر برابر تقسیم کردیا جاتا۔ ازواجِ مطہرات میں سے ہماری ہر ماں یہی سمجھتی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی شفقت کی نظر سب سے زیادہ اس پر ہے۔ مرض الوفات میں آپ ﷺ جب ہر بیوی کے گھر میں جانے کے قابل نہ رہے تو آپ ﷺ نے سب کو جمع کر کے اجازت لی کہ آپ مجھے عائشہ ( رض) کے گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں۔ چناچہ سب نے بخوشی اجازت دی تو آپ ﷺ نے پھر بیماری کے ایام وہیں گزارے اور وہیں آپ ﷺ نے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ﷺ ۔ یہی طریقہ سلف صالحین اور خلف صالحین کا رہا۔ تمام بزرگانِ دین ہمیشہ اپنے اہل خانہ سے محبت کا سلوک کرتے رہے اور اگر بیویاں ایک سے زیادہ تھیں تو ہمیشہ منصفانہ برتائو کیا۔ ایک بزرگ کے بارے میں میں نے پڑھا کہ ان کے پاس دو خربوزے آئے۔ آپ نے دونوں کو کاٹا اور دونوں کا ایک ایک ٹکڑا اپنی دونوں بیویوں کے گھر بھیجا۔ دیکھنے والوں نے پوچھا کہ حضرت ! دو ٹکڑے مل کر بھی ایک ہی تربوز بنتا ہے تو آپ نے ایک ایک تربوز ایک ایک گھر میں کیوں نہ بھیج دیا۔ فرمایا ہوسکتا تھا کہ ایک تربوز میٹھا نکلتا اور دوسرا پھیکا۔ تو دونوں کے ساتھ حسن سلوک میں برابری نہ ہوتی۔ اس لیے میں نے دونوں کو کاٹ کر برابر برابر دونوں کو بھیج دیا۔ تاکہ دونوں جیسے بھی ہوں دونوں کے حصے میں آئیں۔ اس طرح سے قلبی رجحان کی پابندی تو نہیں لگائی البتہ سلوک اور معاشرت میں برابری کرنے کا حکم دیا۔ لیکن اس میں بھی کبھی نہ کبھی کمی بیشی ہوجاتی ہے۔ اس لیے حکم دیا کہ تمہیں اپنے طرز عمل کا ہمیشہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور ہر وقت اپنی اصلاح کی فکر جاری رہنی چاہیے اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے ہوسکتا ہے تمہیں اپنی کوتاہیوں کا احساس نہ ہو سکے۔ اگر یہ اصلاح اور تقویٰ کی کوشش جاری رہی تو اللہ سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ غلطیوں سے صرف نظر فرمائے اور رحم اور درگذر کا سلوک فرمائے۔
Ayah 4:130

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی وسیع قدرت سے دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا حکمت والا ہے

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَ کَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا ” اور اگر دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی وسیع قدرت سے دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ وسیع بخشش والا حکمت والا ہے۔ “ (النسآء : 130) بیوی کی طرف سے تمام تر ایثار و قربانی یا شوہر کی طرف سے احسان و مروت کے باوجود دونوں میں علیحدگی ناگزیر ہوجائے اور نبھا کی ہر صورت ناکام ہوجائے تو پھر دونوں کو سوچ سمجھ کر علیحدگی کا فیصلہ کرلینا چاہیے۔ اسلام نے جو طریق معاشرت رائج کیا ہے اور مسلمانوں کو جن آداب معاشرت سے مہذب بنایا ہے اس میں اس بات پر بہت زور دیا جاتا ہے کہ حتیٰ الامکان ایک گھر وجود میں آنے کے بعد تباہ نہیں ہونا چاہیے۔ جو بھی ممکن صورت ہو میاں بیوی کے تعلق کو باقی رکھنے کے لیے بروئے کار لانی چاہیے۔ لیکن اگر طبیعتوں کی ناموافقت اور مزاجوں کی ناآشنائی اس حد تک پہنچ جائے کہ علیحدگی کے بغیر کوئی صورت نظر نہ آئے تو پھر عقد نکاح کے ٹوٹنے کو شرافت ‘ تہذیب اور خاندانی روایات کے ٹوٹنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اولاً تو میاں بیوی مل کر علیحدگی کا فیصلہ کرلیں۔ اور اگر جانبین کے جذبات میں آگ لگی ہوئی ہو تو پھر دونوں خاندانوں کے بڑوں کی ذمہ داری ہے کہ معقول طریقے سے علیحدگی کا انتظام کریں۔ اور میاں بیوی کو ایسے موقع پر خاص طور پر سہارا دیا گیا ہے کہ اگر ان کے لیے علیحدگی کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہے تو وہ کڑھ کڑھ کر اپنی زندگی کو عذاب نہ بنائیں۔ بیوی یہ نہ سمجھے کہ گھر کی یہ چھت میرے سر پر نہ رہی تو وقت کی دھوپ مجھے جھلسا دے گی۔ آوارہ نگاہیں میرا تعاقب کریں گی۔ ممکن ہے دوسرا کوئی جیون ساتھی میسر نہ آئے اور شوہر بھی یہ گمان نہ کرے کہ ایک خاتون کو طلاق دینے کے بعد کون مجھ پر اعتماد کرے گا اور کون اپنی بیٹی دینے کے لیے ایک ایسے آدمی کو تیار ہوگا جو ایک دفعہ ناکام ہوچکا ہے۔ اور اگر شادی ہو بھی گئی تو کیا کہا جاسکتا ہے کہ اس کا انجام بھی پہلی شادی جیسا نہ ہو۔ فرمایا علیحدگی اگر ضروری ہے تو پھر یہ اندیشے اور وسوسے تمہارے فیصلے اور راستے میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ معاملہ عزت نفس اور خودداری کے ساتھ طے ہونا چاہیے۔ تم نے چاہتوں سے یہ عقد باندھا تھا ‘ چاہتیں ختم ہوگئیں امیدیں ختم نہیں ہونی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے اس کے لیے کوئی بعید نہیں کہ وہ دونوں کو ایک دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے۔ خاتون کو اچھا شوہر نصیب ہو اور مرد کو اچھی بیوی مل جائے اور دونوں کے گھر آباد ہوجائیں۔ دل اللہ کے قبضے میں ہیں ‘ امکانات بھی وہی پیدا فرماتا ہے اس لیے اس سے بہتری کی امید رکھو اور اس کے لیے دعائیں مانگتے رہو۔ اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور حکمت والا ہے۔ وہ اپنی وسعتوں سے تمہیں نوازے گا اور اپنی حکمت و دانش کے ساتھ تمہارے ساتھ معاملہ کرے گا۔
Ayah 4:131

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بیشک ہم نے حکم دیا تھا ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو بیشک اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ ط وَ اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَنِیًّا حَمِیْدًا ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ بیشک ہم نے حکم دیا تھا ان لوگوں کو جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو بیشک اللہ کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے ہر تعریف کا مستحق ہے۔ “ (النسآء : 131) انسان میں اللہ تعالیٰ نے خیر کے داعیات بھی رکھے ہیں اور شر کے بھی۔ ان دونوں کو بروئے کار لانے کے لیے دونوں کی تائید و حمایت کے عوامل بھی رکھے گئے ہیں۔ عقل شعور اور تمیز کی صلاحیتیں دے کر فی الجملہ آزادی عطا کی گئی ہے کہ جو چاہو راستہ اختیار کرو۔ لیکن تمہارے اختیار کردہ راستے کے مطابق عناصر قدرت تمہارے لیے ہموار ہوتے جائیں گے اور اسی کے مطابق تمہارے ساتھ آخرت میں سلوک ہوگا۔ انسان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ چونکہ رحم و کرم کا ہے اس لیے اس نے ان کی ہدایت اور نجات کو آسان بنانے کے لیے انبیاء ِ کرام مبعوث کیے اور اپنی کتابیں نازل کیں۔ انسان کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب خواہش نفس کی پیروی اور شیطان کی وسوسہ اندازی کی وجہ سے شر کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ خواہش نفس کی پیروی میں چونکہ ایک لذت اور آسانی ہے اس لیے انسان اس کی طرف لپکتا ہے۔ اور وہ یہ بات سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ اس کے اس رویے کا انجام کیا ہوگا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خواہشات بڑھتی چلی جاتی ہیں اور شیطان کو زیادہ سے زیادہ گمراہ کرنے کے مواقع ملتے چلے جاتے ہیں۔ میاں بیوی کا نازک تعلق اس کی بہترین مثال ہے۔ میاں بیوی دونوں یا ان میں سے ایک اگر خواہش نفس کی پیروی اور شیطان کے اتباع میں حدود سے تجاوز کرجاتا ہے تو گھر کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ‘ لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انھیں کبھی انجام کی فکر کرنے کی ضرورت محسوس ہو۔ لیکن جب شیطان انھیں علیحدگی تک پہنچا دیتا ہے اور جانبین میں نفرتوں کی آگ بھڑک اٹھتی ہے تو تب انھیں کچھ اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے غلط راستہ راختیار کر کے خود اپنی زندگی برباد کی ہے۔ زندگی کے مجموعی سفر کے لیے عموماً اور عائلی زندگی کے لیے خصوصاً اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر مخلوق اللہ کی مملوک ہے۔ اللہ ان سب کا آقا ہے۔ اسے بجا طور پر انہیں حکم دینے کا حق پہنچتا ہے۔ اسی حق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے جن امتوں کو بھی کتاب دی انھیں اس بات کا حکم دیا اور مسلمانوں کو اب کتاب دی گئی ہے انھیں بھی حکم دیا جا رہا ہے کہ خواہشات نفس اور شیطان کی پیروی کرنے کی بجائے اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اس کی نافرمانی کے انجام سے ڈرو۔ اس کے احکام کی زنجیریں اپنے قدموں میں ڈال لو۔ خواہش نفس کو اس کی رضا کے سامنے سپر انداز کردو۔ شیطان اللہ کا باغی اور تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کی پیروی کرنے کی بجائے اللہ کے احکام کی پیروی کرو۔ اور دل کی اس طرح تطہیر اور تعمیر کرو کہ وہ نیکی کی طرف لپکتا چلا جائے اور گناہ کی ہر بات سے اسے نفرت ہوجائے۔ یہی حکم پہلے بھی دیا گیا اور تمہیں بھی دیا جا رہا ہے۔ کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے تم اپنے اللہ کو راضی کرسکتے ہو اور اسی سے تم اپنی عائلی زندگی سے لے کر زندگی کے تمام دائروں میں کامیابی سے عہدہ برآ ہوسکتے ہو۔ اور اگر تمہیں اس بنیادی حقیقت کو ماننے سے انکار ہو تو پھر اس حقیقت کا سامنا کرو اور تمہاے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہو تو اسے پیش کرو کہ اللہ ہی کی مخلوق اور مملوک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سب کو زندگی وہیں سے ملی ہے ‘ ہر مخلوق اسی سے غذا پاتی ہے اللہ ہی کی حفاظت سے ہر مخلوق زندہ ہے اور انسان بھی اسی کی حفاظت میں اور اسی کی توفیق سے زندگی کے فرائض ادا کر رہا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے انکار کرنا ایک بدیہی بات سے انکار کرنے کے مترادف ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ انکار کے باوجود انسانوں کی طرف اپنے نبی بھیجتا اور کتابیں نازل کرتا ہے تو کیا اس میں اس کی اپنی کوئی ذاتی احتیاج ہے جس کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہے ؟ فرمایا کہ اس کی اپنی کوئی احتیاج نہیں کیونکہ وہ تو غنی اور بےنیاز ہے۔ چونکہ وہ حمید بھی ہے اس لیے بےنیاز ہونے کے باوجود ساری مخلوق کو اپنے جودوکرم سے نواز رہا ہے۔ وہ انکار بھی کرتے ہیں تب بھی انھیں ہدایت عطا فرماتا ہے تاکہ اگر وہ چاہیں تو اپنی تباہی سے بچ جائیں۔
Ayahs 4:132–133

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

اور اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے۔

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے

وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ اَیُّہَا النَّاسُ وَیَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی ذٰلِکَ قَدِیْرًا ” اور اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے۔ اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ (النسآء : 132 تا 133) اس آیت کریمہ میں جو حقیقت سابقہ آیت میں بیان فرمائی تھی اسے تیسری دفعہ دہرایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان نے جب بھی خود سری دکھائی ہے اور اپنی طاقت و قوت کے زعم میں کمزور انسانوں پر مظالم توڑے ہیں۔ اور خود طاغوت بن کر لوگوں کو اپنی بندگی پر مجبور کیا ہے۔ اور اپنے جیسے انسانوں کو اپنے غلام بنا کر انھیں ایک فروختنی چیز بنادیا ہے اور یا انسانیت کی تذلیل کرتے ہوئے تراشے ہوئے بتوں کے سامنے سر جھکایا ہے ‘ کبھی مظاہرِ قدرت کی پوجا کی ہے ‘ کبھی دیوتائوں سے مرادیں مانگی ہیں اور کبھی جنات سے پناہ طلب کی ہے ‘ یعنی کبھی تو اتنی سرکشی اختیار کی کہ خود خدا بن گیا اور کبھی اتنی فروتنی میں اترا کہ پتھروں تک کو مسجود بنا لیا۔ اور کبھی ایسا ہوا کہ اللہ کو معبود سمجھا ‘ حاکم بھی مانا لیکن اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے سے انکار کردیا۔ اللہ کے مقابلے میں شیطان کے احکام کا اتباع کیا۔ اپنے وضعی قوانین کے مطابق زندگی گزاری۔ اپنی عدالتوں میں طاغوتی نظام کے مطابق فیصلے کیے اور کرائے۔ انسانی زندگی میں یہ تینوں قباحتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب انسان اس بنیادی تصور سے تہی دامن ہوجاتا ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات اللہ ہی کی ملکیت ہیں۔ اسی کی مخلوق ‘ اسی کی مملوک ‘ اسی کی اطاعت گزار اور اسی کے سامنے جواب دہ ہیں۔ چونکہ اسی تصور کے دماغوں سے نکل جانے کے باعث انسان گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور ہر دور میں یہی وہ بیماری ہے جس نے انسانیت کو مریض بنایا ہے۔ اس لیے تین دفعہ اس کے علاج کو دہرایا گیا اور بار بار تنبیہ کی گئی کہ اس بنیادی تصور کے ہل جانے کے باعث انسانیت کی پوری تعمیر تباہی کا شکار ہوئی ہے۔ اس لیے جب تک اس خشت اول کو درست نہیں کیا جائے گا اس وقت تک انسان کی بگڑی قسمت کبھی نہیں بنے گی۔ دوسری آیت کریمہ میں وارننگ دی گئی ہے کہ قرآن کے مخاطبین کو اچھی طرح اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح کائنات کی کوئی چیز اپنی مرضی سے وجود میں نہیں آئی اسی طرح کسی چیز کی بقا بھی اس کی اپنی مرضی سے وابستہ نہیں۔ اللہ جس چیز کو چاہتا ہے تخلیق فرماتا ہے اور جب چاہتا ہے اسے مٹا دیتا ہے۔ زمین بھی اسی نے بنائی ہے اور اس پر بسنے والے بھی اسی نے بسائے ہیں۔ جب تک وہ زندگی کی مہلت دیتا ہے ایک فرد بھی اور ایک قوم بھی زندگی گزارتی ہے اور اپنے گھروں اور اپنے شہروں میں آباد رہتی ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کی تباہی کا فیصلہ فرماتے ہیں تو ان کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ خاص طور پر رسول کی بعثت کے بعد رسول جس علاقے اور جس قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے ان کی زندگیوں کا دارومدار رسول کی دعوت کو قبول کرنے یا رد کرنے پر ہوتا ہے۔ اگر وہ قبول کرلیتے ہیں تو زندگی دراز ہوجاتی ہے اور اگر وہ رد کردیتے ہیں تو عموماً رسول کو ہجرت کا حکم ملتا ہے اور اسکی قوم کو عذاب کے ذریعے تباہ کردیا جاتا ہے۔ قوم نوح ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود اور قوم لوط کی تاریخ عربوں کی جانی پہچانی تاریخ تھی۔ وہ اپنے تجارتی اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے تھے۔ ذرا غور کریں کہ یہ قومیں اب کہاں ہیں۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے جب یہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں اور آج ان علاقوں میں دوسری قومیں آباد ہیں ‘ اسی طرح اگر اللہ چاہے تو تمہیں بھی مٹا دے اور تمہاری جگہ دوسری کسی قوم کو بسا دے۔ اللہ اس پر قادر ہے۔ اس کے لیے کسی قوم کو مٹا دینا اور اس کی جگہ کسی اور کو بسا دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ موہنجوڈارو اور ہڑپہ کے کھنڈرات صرف یہ بتانے کے لیے نہیں کہ یہاں کبھی صنعت ‘ حرفت ‘ تجارت پر مبنی تہذیب آباد تھی ‘ بلکہ وہ یہ بتانے کے لیے ہیں کہ یہاں کبھی زندہ انسان رہتے تھے۔ ذرا غور کرو وہ کیوں مٹا دیے گئے ؟ یہاں کلچر نہ ڈھونڈو عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے ؎ عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
Ayah 4:134

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو دنیا کے صلے کا طلبگار ہے تو اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا صلہ موجود ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے)

مَنْ کَانَ یُرِیْدُثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَاللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا م بَصِیْرًا ع ” جو دنیا کے صلے کا طلبگار ہے تو اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا صلہ موجود ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 134) اس کی قدرت کا عالم تو یہی ہے کہ وہ جب تک چاہے کسی کو اس دنیا میں زندگی گزارنے دے اور جب چاہے انھیں مٹا کر ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لا بسائے۔ لیکن اس وقت اس نے اپنا رسول بھیج کر تمہارے سامنے دونوں راستے کھول دیے ہیں۔ اگر رسول کی دعوت کو قبول کرتے ہو تو اس میں دنیا بھی ہے اور آخرت بھی۔ اور اگر تم اس کا انکار کر کے صرف دنیا اور اس کی نعمتوں کے حصول کے طلبگار ہو تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا بھی اسی کے قبضے میں ہے اور آخرت بھی اسی کے قبضے میں۔ وہ چونکہ غنی ہے اس لیے اگر کوئی صرف دنیا طلبی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ فوراً اس کا رستہ نہیں روکتا بلکہ اسے دنیا کی طلب میں بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ البتہ جو شخص اللہ کی رسول کا اتباع کر کے آخرت کا مسافر بنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت دونوں سے نوازتے ہیں۔ تو کس قدر عجیب بات ہے کہ تہیں جس جگہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں مل سکتی ہیں تم اس سے منہ پھیر چکے ہو۔ اور جو رویہ تمہیں آخرت سے محروم کر رہا ہے اس کی طرف بگٹٹ بھاگے جا رہے ہو۔ کاش تمہیں معلوم ہوسکتا کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ کیونکہ تمہارا ہر عمل اور تمہاری ہر بات اللہ سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔
Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

(اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے اگرچہ یہ شہادت تمہارے اپنے نفسوں کے خلاف ہو یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ کوئی امیر ہو یا غریب اللہ ہی دونوں کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جائو۔ اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلّٰہِ وَ لَوْعَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج اِنْ یُّـکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا قف فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا ج وَاِنْ تَلْوٗٓااَوْتُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے اگرچہ یہ شہادت تمہارے اپنے نفسوں کے خلاف ہو یا تمہارے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ کوئی امیر ہو یا غریب اللہ ہی دونوں کا سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ پس تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم ہیر پھیر کرو یا منہ موڑو تو بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ “ (النسآء : 135) کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ کا مفہوم اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو اس فریضہ منصبی کا احساس دلایا جا رہا ہے جس پر بنی اسرائیل کی معزولی کے بعد انھیں فائز کیا گیا۔ ” قَوَّامٌ“ مبالغہ کا صیغہ ہے۔ ” قِسْطٌ“ عدل اور انصاف کو کہتے ہیں۔ یعنی صاحب حق کو ٹھیک ٹھیک اس کا حق ادا کرنا۔ اس لحاظ سے اس آیت کریمہ کے پہلے جملے کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مضبوطی سے انصاف پر قائم رہنے والے بنو۔ اور دوسرا معنی یہ کہ تم دنیا میں انصاف کے علمبردار بنو۔ اگر پہلا معنی کریں تو پھر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ معاملہ یتیموں کا ہو یا بیوگان کا ‘ بیوی کا ہو یا کسی اور کا ‘ مسلمانوں کو ہر صورت میں انصاف کا ترازو ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیونکہ ان کے دین نے ان کی پہچان ہی یہ قائم کی ہے کہ وہ کسی معاملے اور کسی حالت میں بھی ناانصافی کبھی نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ انصاف کو مستحکم کرنے یا کسی صاحب حق کا حق دلوانے کے لیے انھیں گواہی دینے کی بھی ضرورت پڑے تو وہ یہ سمجھ کر گواہی دیتے ہیں کہ ہم یہ گواہی کسی شخص کے لیے نہیں ‘ بلکہ اللہ کے لیے دے رہے ہیں۔ وہ ہماری گواہی کے ایک ایک لفظ کو سن رہا ہے ‘ گواہی کے پیچھے مخفی جذبے کو جانتا ہے اور ہماری صحیح یا غلط گواہی پر قیامت کے دن ہمارے انجام کا فیصلہ ہوگا۔ اس لیے وہ کبھی بھی غلط گواہی دینے کی جرأت نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ اگر ان کی گواہی یا انصاف کا قیام ان کی اپنی ذات کے لیے نقصان کا باعث بنے یا اس کی زد والدین یا قریبی عزیزوں پر پڑے دوسرا فریق چاہے امیر ہو یا غریب وہ کسی حال میں بھی انصاف سے سر مو انحراف نہیں کرتے اور کبھی گواہی میں جانبداری یا جھوٹ بولنے کا تصور نہیں کرسکتے۔ اس رویے کو مسلمانوں کی شناخت قرار دے کر مزید اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اور اگر ترجمہ دوسرا کیا جائے تو پھر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہاں قسط سے مراد حق و عدل کی وہ میزان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی شکل میں عطا فرمائی ہے۔ مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار بنایا جا رہا ہے کہ ان کا کوئی قول یا عمل اس میزان سے ہٹا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ زندگی کے ہر معاملے میں اسی حق کی میزان کو جاری وساری اور قائم و نافذ کرنے کے پابند ہیں۔ انفرادی زندگی پر بھی اسی کا غلبہ ہو اور اجتماعی زندگی پر بھی یہی حکمران ہو۔ اور پھر اسی پر بس نہیں کہ انھیں اپنی زندگیوں میں اس کتاب سے راہنمائی لینا ہے اور اسے وہ حاکمانہ حیثیت دینی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کا کوئی معاشرہ اس سے انحراف نہ کرسکے۔ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں سے جہاں تک ممکن ہو سکے وہ اللہ کی اس کتاب ‘ اس دین اور اس میزان کے حق ہونے کی گواہی دیں۔ غیر مسلموں کے سامنے علمی دلائل اور اپنے اجتماعی رویے سے ثابت کردیں کہ حقوق و معاملات میں اگر کوئی چیز انسانوں کو عدل اور انصاف پر قائم رکھتی ہے اور انسانی معاشرہ جس کی وجہ سے آسودہ زندگی گزارتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے دکھی ہونے اور الجھنے کے بجائے ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار بن جاتے ہیں اور جرائم کا بیج تک ان کے معاشرے اور سماج میں مارا جاتا ہے تو وہ یہی کتاب اور میزانِ حق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ حق و باطل کے اس میزان کو انفرادی و اجتماعی عمل کی شکل میں اگلی نسلوں تک منتقل کریں تاکہ جب ان کے پاس اللہ کے نبی کی دعوت ‘ اس کا اسوہ اور اللہ کی کتاب پہنچے تو وہ اس خلجان میں مبتلا نہ ہوں کہ ممکن ہے آج کے دور میں اس کتاب پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یہ اپنی افادیت کی عمر گزار چکی ہو ‘ آج کی مشکلات اور مسائل کا حل اس کی وسعتوں میں ناپید ہو۔ کیونکہ جب بھی کوئی نظام تھیوری کی شکل میں کسی بھی قوم کے سپرد کیا جاتا ہے وہ اگر اس تھیوری کی صداقت پر ایمان بھی رکھتی ہے تب بھی اس کے قابل عمل ہونے کے بارے میں ہمیشہ شش و پنج میں مبتلا رہتی ہے جب تک کہ اسے عمل کی شکل میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے دیکھ نہیں لیتی۔ اس لیے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نظام حق پر اس طرح مخلصانہ زندگی گزاریں اور اس کے ایک ایک حکم کو انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس طرح کامیابی سے ہمکنار کر کے دکھائیں اور زندگی کا ایک ایک شعبہ اس کی رہنمائی میں اس طرح کامیابی سے چلا کردکھائیں کہ یہ تسلسل و تعامل جب اگلی نسل تک منتقل ہو تو انھیں اس کے قابل عمل ہونے میں کوئی شک و شبہ لاحق نہ ہو۔ قانون یا نظام کوئی سا بھی ہو جب تک اس کے چلانے والے ہاتھ مضبوط ‘ غیر جانبدار اور مخلص نہ ہوں اور ان کے اندر اس کے اجراء و تنفیذ کا بےپناہ جذبہ کارفرما نہ ہو اور وہ اس راستے میں پیش آنے والے موانع پر قابو پانے کی ہمت نہ رکھتے ہوں اس وقت تک کوئی سا قانون یا نظام چل نہیں سکتا۔ اس آیت کریمہ میں بھی اختصار سے ان رکاوٹوں کو ذکر فرمایا گیا جو بالعموم ناکامی کا سبب بنا کرتی ہیں۔ کسی بھی گواہی اور انصاف کے کسی پہلو کے اجراء میں بھی سب سے پہلی رکاوٹ آدمی کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ وہ حق اور انصاف کے بارے میں بہت بلند آہنگ ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اس کی زد اس کی اپنی ذات ‘ اس کی اولاد یا اس کے کسی مفاد پر پڑتی نظر آتی ہے تو پھر وہ بچ نکلنے کے راستے تلاش کرتا ہے۔ تاویلیں ڈھونڈی جاتی ہیں ‘ چور دروازے تلاش کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر اس انصاف کی زد والدین یا قریبی رشتہ داروں پر پڑتی ہو تو تب بھی آدمی کا حق پر قائم رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ والدین ‘ قریبی عزیز یا احباب کا دبائو بعض دفعہ اس قدر خطرناک صورت اختیار کرجاتا ہے کہ آدمی اس کے سامنے بالکل بےبس دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح امیر اور غریب کا فرق بھی ہر معاشرے کے ترازو کو متاثر کرنے کا ایک معمول رکھتا ہے۔ امیر اگر کوئی جرم کرتا ہے تو عموماً قانون مکڑی کا جالا بن جاتا ہے اور اگر غریب پکڑا جاتا ہے تو یہ لوہے کی زنجیر میں ڈھل جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ غریبوں کی ناروا ہمدردیاں بھی بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہیں۔ جس طرح دنیا میں بااثر لوگوں نے ہر سطح پر خرابیاں پیدا کی ہیں اسی طرح کمز ور طبقوں کی یونینز نے ہماری قریبی تاریخ میں بڑے بڑے مسائل پید اکیے ہیں۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا ہے کہ جب انہی کمزوروں اور مظلوموں کو اقتدار ملتا ہے تو وہ طبقہ امراء سے بھی بڑھ کر ظالم ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ اصل چیز تو اس کلمہ حق اور میزانِ حق سے وابستگی ہے۔ جس طبقے کا تعلق بھی اس سے ٹوٹ جاتا ہے وہی طبقہ معاشرے کے لیے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ اقبال نے شاید اسی سے متاثر ہو کر کہا ؎ زمامِ کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا طریقِ کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی مقصود صرف یہ ہے کہ کسی طرح بھی ہوائے نفس کی پیروی مت کرو۔ ایسی پیروی جو تمہیں عدل اور انصاف سے منحرف کر دے۔ یہ ہے وہ حکم جو بطور خاص حق سے وابستگی کو باقی رکھنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ اتباع ہواء وہ برائی ہے جس سے باقی ساری برائیاں پھوٹتی ہیں۔ کوئی شخص یا کوئی معاشرہ جب ہوائے نفس کے اتباع میں مبتلا ہو کر حق سے پہلو تہی کرتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نظام حق کو جو اس کی کتاب اور پیغمبر کی سنت میں محفوظ ہوتا ہے بگاڑنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جائے ‘ ترمیم اور تحریف کا راستہ کھولا جائے ‘ ایسی حرکتیں کی جائیں جس سے اس کی اصل شکل بدل جائے ‘ اس کے بعد یہ مطالبہ خود بخود ختم ہوجاتا ہے کہ اس حق پر قائم رہا جائے اور اللہ کے لیے اس کی گواہی دی جائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ اسے بگاڑنے کی کوشش تو نہ کی جائے ‘ البتہ زندگی کے معاملات سے اسے خارج کردیا جائے۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ مذہب اور دین کا ہمارے دنیوی کاموں سے کیا رشتہ ؟ مذہبی معاملات ‘ مذہبی رسوم ‘ پوجا پاٹ اور دعا و مناجات کے طریقے تو مذہب سے لیے جائیں ‘ لیکن نظام تعلیم ‘ نظام عدالت ‘ اصول معاشرت ‘ طریق سیاست اور طریق حکومت کا مذہب اور دین سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ آج کے دور میں سب سے بڑا افسون جس نے دماغوں کو معطل کر کے رکھ دیا ہے وہ یہی ہے۔ پڑھے لکھے لوگ یکسو ہیں کہ ہم مذہب کی چند رسمیں اور مذہبی تہوار ‘ مذہب کے طریقے کے مطابق مناتے ہیں بس اس کے علاوہ اور کیا چاہیے ؟ عیسائیوں کے پاس چونکہ چند رسوم عبادت کے سوا مذہب کی اور کوئی چیز موجود نہیں تھی اس لیے انھوں نے مذہب کو اجتماعی اداروں سے خارج کرنا اپنی ضرورت بھی سمجھا اور اسی سے انھوں نے مذہب کی اجتماعی گرفت سے نجات حاصل کرلی۔ اور یہی وہ فتنہ ہے جس میں آج پورا عالم اسلام گرفتار ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ جس امت مسلمہ کو حق کی گواہ بنا کر نظام حق پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا تھا اور جس نے یہ روشنی پوری دنیا تک پہچانی تھی وہ اپنے گھر کا دیا بجھا کر گہری نیند سو رہی ہے اور اسے بالکل احساس نہیں کہ مجھے اللہ نے اتنا عظیم منصب عطا فرمایا تھا اس منصب سے روگردانی کرنے کے بعد ذلت و نکبت میرا مقدر بن کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ اللہ کی قانون کے نفاذ اور میزانِ حق کی پاسداری پر قرآن کریم کے ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ نے اتنا زور دیا تھا اور اپنے عمل سے جس طرح اس کی نزاکتوں کو واضح کیا تھا اس کی ایک مختصر مثال اس ایک واقعے میں ملتی ہے جسے بخاری اور مسلم دونوں نے روایت کیا ہے۔ (جب ایک مخزومیہ عورت نے چوری کی تو اس کے معاملے کی قریش کو بڑی فکر ہوئی۔ لوگوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ کون ایسا شخص ہوسکتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے اس کی سفارش کرے۔ بالآخر یہ طے پایا کہ اس کی جرأت صرف اسامہ بن زید ( رض) کرسکتے ہیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے بڑے چہیتے ہیں۔ لوگوں کے کہنے پر اسامہ ( رض) نے حضور ﷺ سے اس کی سفارش کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” اسامہ تم اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں سفارش کرنے آئے ہو ؟ “ پھر آپ ﷺ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ” لوگو ! تم سے پہلے قوموں کو اسی چیز نے تباہ کیا کہ ان کا حال یہ ہوگیا تھا اگر ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی معمولی آدمی چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ خدا کی قسم ! میں ایسا نہیں کرنے کا۔ میں تو اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ “ )