Ayahs 4:13–14تِلْـکَ حُدُوْدُاللّٰہِ ط وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ یُدْخِلْـہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیْمُ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْـہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا ص وَلَـہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ ع
(یہ اللہ کے ضابطے ہیں اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ضابطوں کے حدود سے باہر نکل جائے گا اسے وہ دوزخ کی آگ میں داخل کرے گا، اس میں وہ ہمیشہ ہمیش پڑا رہے گا اور اس کے لیے ذلت دینے والا عذاب ہوگا) (النساء : 13 تا 14)
قرآن کتاب ِقانون بھی ہے اور کتاب نصیحت بھی
قرآن کریم صرف آئین اور قانون کی کتاب نہیں کہ جس میں ایک ترتیب سے آئینی دفعات بیان کردی جائیں۔ بلکہ یہ ایک کتاب نصیحت بھی ہے جس میں ہمدردی اور خیر خواہی کے تمام اسالیب اختیار کیے گئے ہیں۔ اور ایک کتاب ہدایت بھی ہے جس میں رہنمائی کی تمام ضرورتیں پوری فرمائی گئی ہیں۔ اس لیے قرآن پاک جب کبھی کسی شعبہ زندگی کے بارے میں اصول و ضوابط بیان کرتا ہے تو ان تمام اسالیب سے کام لیتا ہے جن کی مدد سے ان اصول و ضوابط کو دل و دماغ میں راسخ کیا جاسکتا ہے۔ کبھی انعامات کا ذکر کرکے عمل کی آمادگی پیدا کرتا ہے اور کبھی نافرمانی کے انجام سے ڈرا کر نافرمانی کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اسی اسلوب کے تحت پیش نظر دونوں آیات میں پہلے ترغیب سے کام لیا گیا ہے اور پھر ترہیب سے۔ ان دونوں سے پہلے ان احکام کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ یہ خداوندی ضابطے ہیں جن کی حیثیت اللہ کی حدود کی ہے اس نے ان حدود کے ذریعے اپنی پسند و ناپسند کی لکیریں کھینچ دی ہیں اور صاف صاف واضح کردیا ہے کہ ان حدود اور ان لکیروں کے ایک طرف اللہ کے فرمانبرداروں کی جگہ ہے اور دوسری طرف اس کے نافرمانوں کی۔ اس لیے کبھی ان حدود کو پھلانگنے اور پامال کرنے کی کوشش نہ کرنا اگر تم ان حدود کی پاسداری کرو اور اللہ کے احکام کی تعمیل کروتو اس کا وعدہ ہے کہ وہ تمہیں آخرت میں ایسی جنتیں انعام میں دے گا جن کی شادابی اور تازگی اور جن کی خوبصورتی اور رعنائی اور جن کی دل آویزی ایسی ہوگی، جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوگی، نہ کسی کان نے سنی ہوگی اور نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہوگا اور پھر یہ نعمتیں چند دن کے لیے نہیں ہوں گی۔ یہ اندھیری رات میں چار دن کی چاندنی نہیں ہوگی بلکہ ان جنتوں کے رہنے والے ہمیشہ ہمیش کے لیے اس میں رہیں گے۔
مزید فرمایا کہ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دنیا میں اہل دنیا نے کامیابی کے نجانے کیا کیا معیارات قائم کرلیے ہیں اور اس کے لیے گو ناگوں اسباب بھی تلاش کرلیے ہیں۔ لیکن یہ سب آنکھوں کا فریب اور عقل کا دھوکہ ہے۔ اس کی حقیقت جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری سے زیادہ نہیں۔ حقیقی کامیابی صرف یہ ہے کہ آدمی ایسی زندگی اختیار کرنے میں کامیاب ہوجائے، جس کے نتیجے میں اللہ راضی ہو اور وہ خوش ہو کر جنت کی نعمتیں عطا فرمادے اور اگر خدانخواستہ یہاں بظاہر زندگی بھر کی نعمتیں میسر آبھی گئیں لیکن اس کے نتیجے میں جہنم کی ابدی سزائوں سے واسط پڑگیا تو کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو اسے کامیابی سمجھے گا۔ زندگی بھر کی راحتوں کے بدلے میں ایک دن بھی کوئی شخص جہنم میں جلنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ چہ جائیکہ چند روزہ زندگی کے بدلے میں ابدی عذاب خرید لیاجائے۔ دنیا میں بھی حقیقی آسودگی اور دل کا حقیقی اطمینان اسی کو نصیب ہوتا ہے جو اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور اخروی نعمتیں تو یقینا ضابطہ خداوندی کے اطاعت کے سواملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے فرمایا گیا کہ اللہ کے احکام کی اطاعت کرو اس کے ضابطوں کی پابندی کرو اس کی حدود کو کبھی عبور کرنے کی کوشش نہ کرو اسی کے نتیجے میں تمہیں جنت ملے گی۔ حقیقت میں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اگر تم نے اللہ کے ضوابط کو توڑا اور اس کی حدود کو پامال کیا اور اس کے احکام کی نافرمانی کی اور وہ سارے ضوابط جو یہاں یتیموں، وصیتوں اور ترکہ کے بارے میں ذکر کیے گئے ہیں۔ دیگر ضوابط سمیت ان کی بھی نافرمانی کی تو پھر یاد رکھو اگر تو یہ نافرمانی محض غفلت کے باعث اور دنیاوی ترغیبات کے سبب سے وجود میں آئی ہے تو سزا تو پھر بھی ملے گی، لیکن ایمان پر خاتمہ کے باعث کبھی نہ کبھی نجات کی امید بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اللہ نہ کرے اگر ان ضوابط کی خلاف ورزی اور ان حدود کی پامالی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہورہی ہے اور آدمی اللہ کے احکام کی پرواہ ہی نہیں کرتا تو پھر اس کے نتیجے میں جہنم کے ایسے عذاب میں ڈالا جائے گا، جس سے کبھی نکلنا نصیب نہیں ہوگا اور یہ ایک ایسا ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا کہ جہنم کے دوسرے طبقات کے لوگ بھی ان پر تھوکیں گے اور لعنت بھیجیں گے۔
آپ نے اندازہ فرمایا کہ اللہ کے احکام کی پابندی کے بارے میں کیسے کیسے انعامات کی بشارت دی گئی ہے۔ اور اس کی نافرمانی کی صورت میں کیسے ہولناک انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہودیوں کی سی جسارت کے ساتھ اللہ کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا۔
(اس قانونِ وراثت کے معاملہ میں جو نافرمانیاں کی گئی ہیں وہ اللہ کے خلاف کھلی بغاوت کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور پر محروم کیا گیا، کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھہرایا گیا، کہیں سرے سے تقسیمِ میراث ہی کے طریقے کو چھوڑ کر ” مشترک خاندانی جائداد “ کا طریقہ اختیار کرلیا گیا، کہیں عورتوں اور مردوں کا حصہ برابر کردیا گیا اور اب ان پرانی بغاوتوں کے ساتھ تازہ ترین بغاوت یہ ہے کہ بعض مسلمان ریاستیں اہل مغرب کی تقلید میں ” وفات ٹیکس Death Duty “ اپنے ہاں رائج کررہی ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ میت کے وارثوں میں ایک وارث حکومت بھی ہے، جس کا حصہ رکھنا اللہ میاں بھول گئے تھے ! حالانکہ اسلامی اصول پر اگر میت کا ترکہ کسی صورت میں حکومت کو پہنچتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کسی مرنے والے کا کوئی قریب وبعید رشتہ دار نہ ہو اور اس کا چھوڑا ہوا مال تمام اشیائے متروکہ Unclaimed Properties کی طرح داخل بیت المال ہوجائے یا پھر حکومت اس صورت میں کوئی حصہ پاسکتی ہے جبکہ مرنے والا اپنی وصیت میں اس کے لیے کوئی حصہ مقرر کرجائے ) ۔ (ماخوذ ازتفہیم القرآن)
Ayahs 4:15–16وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ ج فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْـبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰ ذُوْھُمَا ج فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا
(اور جو کوئی بدکاری کریں تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو ان پر چار مرد اپنوں میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں کے اندر محبوس کردویہاں تک کہ موت ان کو اٹھالے یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے اور جو دونوں تم میں سے اس بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو ایذا دو پھر اگر وہ دونوں توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان کا خیال چھوڑ دو ، بیشک اللہ توبہ کرنے والا اور مہربان ہے)
(النسآء : 15 تا 16)
سابقہ آیات میں ان مفاسد کا سدباب کیا گیا ہے جو حد سے بڑھی ہوئی حبِ دنیا سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور جن کی وجہ سے معاشرے میں ابتری پیدا ہوتی اور قطع رحمی کا راستہ کھلتا ہے۔ پیش نظرآیات میں ان مفاسد کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے جو صنفی انتشار اور جنسی بےراہ روی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور ہر صاحب نظر جانتا ہے کہ جس طرح مال سے حد سے بڑھی ہوئی محبت سے پیدا ہونے والے مفاسد انسانی معاشرہ کے لیے تباہ کن ہیں اسی طرح جنسی بےراہ روی، صنفی جذبات کی بےقیدی، اور شرم وحیا کے بندھن ڈھیلے پڑجانے کے باعث جو انتشار اور انارکی پیدا ہوتی ہے اور قومی خصوصیات کو نقصان پہنچتا ہے وہ اس سے بھی ہولناک ہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ گزشتہ آیات میں اگر اسلامی معاشرے کو ایک طرح کی اخلاقی بیماریوں سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرح کی اخلاقی خرابیوں سے بھی بچانے کی کوشش کی جاتی۔
عارضی تعزیراتی احکام
ان آیات میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں انھیں پڑھنے سے پہلے یہ بات یاد رہے کہ یہ اسلام کے قانونِ تعزیرات کے مستقل احکام نہیں ہیں بلکہ یہ وہ عارضی احکام ہیں جو مستقل قانونِ تعزیرات کے آنے سے پہلے مسلمان معاشرے کو صنفی جذبات کی بےقیدی سے بچانے کے لیے دیئے گئے۔ مسلمان معاشرہ وجود میں آچکا اور آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا لیکن اسے اسلامی معاشرے میں ڈھالنے کے لیے جس مستقل قانون کی ضرورت تھی ابھی اس کے لیے حالات پیدا نہیں ہوئے تھے کیونکہ ابھی اس معاشرے میں نظم و استحکام پیدا نہیں ہوا تھا۔ مدینہ طیبہ کے اندر صرف مسلمان نہیں بلکہ غیر مسلم بھی آباد تھے۔ ان میں یہود خاص طور پر اپنا ایک مذہب اور قانون رکھتے تھے۔ ان پر اسلامی قانون نافذ نہیں کیا جاسکتا تھا اور خود اوس اور خزرج جن کی اکثریت مسلمان ہوچکی تھی ابھی تک مکمل طور پر اسلام کی آغوش میں نہیں آئے تھے۔ پھر مدینہ کے اطراف میں غیر مسلم قبائل بھی موجود تھے وہ مسلمانوں سے تعلق تو رکھتے تھے لیکن پوری طرح اسلام کے زیر نگیں نہیں تھے۔ اس لحاظ سے نہ تو مسلمان ریاست میں ابھی اتنی قوت آئی تھی کہ وہ پورے مدینہ اور اس کے مضافات میں اسلامی حدود وتعزیرات نافذ کردیں اور نہ خود مسلمان ابھی قانونی پابندیوں کا بوجھ اٹھانے کے خوگر ہوئے تھے۔
ان حالات میں اسلام کا قانونِ تعزیرات نافذ کرنا سراسر حکمت اور مصلحت کے خلاف تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام جس طرح شرک کو برداشت نہیں کرتا اسی طرح بےحیائی اور صنفی آوارگی کو بھی برداشت نہیں کرتا۔ نامساعد حالات میں بھی یہ بات تصور میں نہیں لائی جاسکتی کہ مسلمانوں کو اباحیت پسندبنا دیا جائے یا ان کی اخلاقی اقدار میں دراڑیں آنے دی جائیں ان حالات میں ایک ہی راستہ تھا کہ مسلمانوں کو کچھ ایسے عارضی احکام دیئے جائیں جس سے ایک طرف اخلاقی اقدار کا تحفظ ہوسکے مسلمان اپنی امتیازی خصوصیات کو پہچان سکیں اور ساتھ ہی ساتھ اصل قانونِ تعزیرات کے لیے ذہنوں کو تیار ہونے کا موقعہ بھی ملے۔ چناچہ ان دونوں آیتوں میں اسلامی حدود وتعزیرات کے حوالے سے عارضی اور ابتدائی احکام دیئے گئے ہیں اور جن کی جگہ بعد میں سورة النور میں مستقل احکام دئیے گئے۔ اس طرح سے مسلمان سوسائیٹی کا اخلاقی اعتبار سے تحفظ بھی ہوگیا اور مسلمان معاشرے میں کسی قانونی بحران کا خطرہ بھی پیدا نہیں ہوا۔
ان دونوں آیتوں میں ان عورتوں اور مردوں کے بارے میں احکام دیئے گئے ہیں جن سے زنا کا صدور ہوا ہے۔ فاحشۃ کھلی ہوئی بےحیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں او زنا کے لیے اس لفظ کا استعمال عام ہے۔ چناچہ پہلی آیت میں اس عورت کے متعلق حکم دیا گیا ہے جو مسلمان ہو اور زنا کا ارتکاب کرے لیکن اس گناہ میں شریک مرد مسلمان معاشرے سے تعلق نہ رکھتاہو۔ ایسی صورت میں یہ تو ممکن نہیں ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو سزا دی جائے کیونکہ عورت تو مسلمان ہونے اور مسلمان معاشرے میں رہنے کی وجہ سے اسلامی احکام کی پابند ہے۔ لیکن ایک ایسا غیر مسلم جو غیر مسلم معاشرے میں رہتا ہے، لیکن مسلمانوں میں اس کا آناجانا، مسلمانوں سے سابقہ تعلقات کی بنا پر ابھی تک جاری ہے اور انھیں تعلقات نے یہ گل کھلایا ہے اور مسلمان معاشرہ ابھی ابتدائی سٹیج پر ہے۔ جس میں نہ حجاب کے احکام آئے ہیں، نہ مسلمانوں اور غیرمسلموں میں تعلقات کی تہذیب کی گئی ہے اور نہ پوری طرح مسلمان آبادیوں میں اسلام پھیل سکا ہے۔ مسلمانوں کے اندر ابھی تک غیر مسلم گھرانے آباد ہیں اور ان سے قرابت داری کے رشتے بھی ہیں۔ ایسی صورتحال میں مرد و عورت دونوں کو قانونی گرفت میں لانا ممکن نہیں۔ اس لیے صرف عارضی طور پر مسلمان عورت کے بارے میں قانون دیا گیا ہے۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر تمہیں شبہ ہو کہ مسلمان عورتوں میں سے کسی عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، تو محض شبہ پر کسی کو سز انھیں دی جاسکتی۔ اربابِ حل وعقد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس گناہ کا ثبوت تلاش کریں۔ ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ چار گواہ طلب کیے جائیں، گواہ ایسے ہوں جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں یعنی مسلمان ہوں، مرد ہوں، بالغ ہوں، عاقل ہوں، آزاد ہوں اور کبائر سے بچنے والے ہوں، ان کی تعداد کسی طرح چار سے کم نہ ہو۔ چار سے کم کی گواہی قبول نہیں ہوگی۔ اسی طرح ایسے معاملے میں عورتوں سے بھی گواہی نہیں لی جاسکتی۔ عام معاملات میں شریعت دو گواہوں کا حکم دیتی ہے لیکن زنا کے ثبوت کے لیے چار گواہ ضروری ٹھہرائے گئے ہیں کیونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ جس سے عزت وعفت مجروح ہوتی ہے اور خاندانوں کے ننگ و عار کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر ضروری تھا کہ کڑی شرائط رکھی جائیں، گواہی کا نصاب دوگنا ہو تاکہ کوئی شخص کسی کی عزت وعفت پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ زنا کے معاملے میں چار گواہوں کی شرط اس لیے لگائی گئی ہے کہ اس معاملے میں دو افراد ملوث ہوتے ہیں۔ اس طرح سے ایک ہی معاملہ دو معاملوں کے قائم مقام ہے اور ہر ایک معاملہ دو گواہوں کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا ایسا معاملہ جو دو معاملوں کے برابر ہے اس پر چار گواہ ہی ہونے چاہییں۔ اگر چار گواہ گواہی دے دیں اور جرم ثابت ہوجائے تو اس کی سزا یہ بیان فرمائی کہ ایسی بد چلن عورتوں کو گھروں میں بند کردو اور ان کی موت آنے تک ان کی یہ سزا ختم نہ ہونے پائے یا تو انھیں موت اٹھالے اور یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور حکم نازل فرمادے۔ یہ آیت کا آخری جملہ خود بول رہا ہے کہ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، وہ عارضی ہے۔ چناچہ سورة نور میں بالآخر تفصیلی احکام نازل کردئیے گئے اور ان احکام میں مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہیں رکھی گئی بلکہ دونوں اگر غیر شادی شدہ ہوں گے تو سو سو کوڑے لگیں گے اور اگر شادی شدہ ہوں گے تو سنگسار کیے جائیں گے۔
عورتوں کے بارے میں یہ جو حکم دیا گیا ہے کہ انھیں موت تک گھروں میں بند رکھا جائے جبکہ مردوں کے بارے میں یہ سختی روا نہیں رکھی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مرد عورت کے ساتھ جرم میں شریک ہے وہ اسلامی معاشرے کا فرد نہیں اور پھر مرد میں قدرت نے نیکی اور بدی دونوں اعتبار سے فتوت اور صراحت رکھی ہے۔ وہ عموماً عورت کو گناہ پر اکساتا ہے اور آگے بڑھ کر گناہ کا راستہ کھولتا ہے۔ اگر عورت کو گھر سے نکلنے کی آزادی حاصل رہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ دوبارہ اپنے آشنا سے ملنے کی کوشش نہیں کرے گی اور اس کا آشنا موقعہ پاکر اپنی دوست خاتون سے ربط و ضبط کی کوشش نہیں کرے گا۔ اگر اس خاتون نے دل سے توبہ نہ کی ہو تو وہ اس بہکاوے میں آکر کچھ بھی کرسکتی ہے۔ وہ اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہوسکتی ہے، خفیہ طریقوں سے ملاقاتیں جاری رکھ سکتی ہے، وہ مرد بھی موقعہ پاکر اغوا کی واردات کرسکتا ہے۔ ان تمام قباحتوں سے بچانے کے لیے پابندی لگادی گئی کہ ایسی عورت کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہ دی جائے۔
دوسری آیت میں زانی اور زانیہ یعنی مرد اور عورت دونوں کی سز اکا ذکر فرمایا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ انھیں ایذا پہنچائی جائے یعنی انھیں زجرو توبیخ کی جائے، ڈانٹ ڈپٹ کی جائے، تحقیر و تذلیل کی جائے، ضروری ہوتومارنے سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ کوئی ایک طریقہ مقرر نہیں فرمایا بلکہ ایذا دہی کا جو طریقہ اربابِ حل وعقد مناسب سمجھیں عمل میں لائیں۔ اگر وہ اس ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کے بعد محسوس کریں کہ انھوں نے اپنے گناہ سے توبہ کرلی ہے اور اپنا چال چلن درست کرلیا ہے، تو پھر ان سے اعراض کریں، یعنی ان سے درگزر کریں اور یہ امید رکھیں کہ آئندہ وہ ایسی کوئی نازیبا حرکت نہیں کریں گے اور معاملہ اللہ کے سپرد کردیں کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ یہ عارضی حکم تھا جو سورة نور کے نازل ہونے کے بعد منسوخ ہوگیا۔ البتہ شہادت کا یہی ضابطہ بعد میں بھی باقی رہا۔
اَلَّذٰنْ کا مفہوم
اس آیت کریمہ کے پہلے لفظ پر غور فرمائیں اَلَّذٰنْ ۔ اَلَّذِیْکا تثنیہ ہے۔ اس کا معنی ہے ” وہ دو مرد جو “ زنا کا ارتکاب کریں۔ اس سے اس کے مطلب اور مفہوم کے متعین کرنے میں دشواری ہوئی ہے۔ چناچہ ابو مسلم اصفہانی اور قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی اس طرف گئے ہیں کہ یہاں دو مردوں کے گناہ میں ملوث ہونے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک مرد دوسرے مرد سے ناجائز تعلق پیدا کرے اور غیر فطری طور پر آپس میں قضائے شہوت کریں یعنی استلذاذ بالمثل کے مرتکب ہوں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام میں یہ فعل قطعاً حرام ہے اور قرآن کریم نے صراحتاً قوم لوط پر عذاب آنے کے جو اسباب بیان کیے ہیں ان میں سب سے پہلا یہی جرم ہے۔ لیکن ہمیں قرون اولی میں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا کہ کسی نے اس جرم کی سزا کے لیے اس آیت سے استدلال کیا ہو۔ شائد یہی وجہ ہے کہ صحابہ میں ایسے بدچلن لوگوں کی سزا کے بارے میں اختلاف تھا۔ جناب ابومسلم اصفہانی نے تو عجیب بات یہ کہی ہے کہ پہلی آیت میں عورت اور عورت کے ناجائز تعلق کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں مرد کا مرد سے ناجائز تعلق کا۔
مفسر سدی کو ان دونوں آیتوں کے ظاہری فرق سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ پہلی آیت منکوحہ عورتوں کے لیے ہے اور دوسری آیت غیر شادی شدہ مرد و عورت کے لیے۔ لیکن یہ ایک ایسی کمزور تفسیر ہے جس کی سند ہمیں کہیں نہیں ملتی۔
اَلَّذٰنْکے سلسلے میں ان مختلف اقوال کو سامنے رکھئے اور پھر اس لفظ پر غور کیجیے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اَلَّذِیْ مذکر ہے اور اَلَّذٰنْاس کا تثنیہ ہے، اس لحاظ سے اس سے دو مذکر ہی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ عربی زبان میں مذکر کا صیغہ کبھی شریک غالب کے لحاظ سے بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں اسی طرح استعمال ہوا ہے۔ جس طرح والدین کا لفظ ہے تو مذکر لیکن ماں باپ دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ والدین کا ترجمہ کوئی بھی دو والد نہیں کرتا حالانکہ یہی اس کا صحیح ترجمہ ہے۔ والد اور والدہ میں چونکہ شریک غالب، والد ہے اس لیے اس کا لحاظ کرتے ہوئے والدین کا لفظ بول دیا جاتا ہے اور مراد اس سے ماں اور باپ دونوں ہوتے ہیں۔ یہاں بھی اس سے مراد زانی اور زانیہ دونوں ہیں اور زانی مرد کے اعتبار سے اَلَّذٰنْ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
دو مردوں کے ناجائز تعلق کی شناعت اور سزا
ان آیتوں کی تفسیر کا اگرچہ دو مردوں کے ناجائز تعلق سے کوئی واسطہ نہیں۔ لیکن اس جرم کی شناعت اور شیوع کا تقاضا ہے کہ اس کی جزا اور تعزیر کا ذکر کردیا جائے تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ یہ جرم اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کس قدر شدید اور قابل نفرت ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں دوسری برائیوں کی طرح آہستہ آہستہ اس کی نفرت بھی کم ہوتی جارہی ہے۔ احادیث وآثار سے اس سلسلہ میں جو کچھ ثابت ہوتا ہے اس میں سے بطور نمونہ کچھ نقل کیا جاتا ہے :۔
عن ابی ہریرہ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال لعن اللہ سبعۃ من خلقہ من فوق سبع سموتہ وردد اللعنۃ علی واحد منہم ثلاثا ولعن کل واحد منھم لعنۃ تکفیہ قال ملعون ..... من عمل عمل قوم لوط، ملعون من عمل عمل قوم لوط ملعون من عمل عمل قوم لوط، الحدیث (الترغیب والترھیب)
(حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت بھیجی ہے اور ان سات میں سے ایک پر تین تین دفعہ لعنت بھیجی ہے اور باقی پر ایک دفعہ، فرمایا ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے۔ ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے۔ ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے )
وعن ابی ہریرہ ؓ ان النبی ﷺ قال اربعۃ یصبحون فی غضب اللہ ویمسرن فی سخط اللہ قلت من ھم یارسول اللہ قال المتشبھون من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال والذی یاتی البھیمۃ والذی یاتی الرجال (الترغیب والترھیب)
(حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چار آدمی صبح کے وقت اللہ جل شانہ کے غضب میں ہوتے ہیں اور شام کو بھی اللہ جل شانہ ان سے ناراض ہوتے ہیں میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ مرد جو عورتوں کی طرح بنتے ہیں اور وہ عورتیں جو مردوں کی طرح بنتی ہیں اور وہ شخص جو چوپایہ کے ساتھ غیر فطری حرکت کرتا ہے اور وہ مرد جو مرد سے قضائے شہوت کرتا ہے)
وعن ابن عباس ؓ قال قال رسول اللہ من وجد تم وہ یعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول بہ (الترغیب والترھیب)
(حضرت ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو تم قوم لوط کی طرح غیر فطری حرکت کرتا ہوا دیکھ لو، تو فاعل اور مفعول دونوں کو مارڈالو)
حافظ زکی الدین نے ترغیب وترہیب میں لکھا ہے کہ چار خلفاء حضرت ابوبکر صدیق ( رض) ، حضرت علی ( رض) حضرت عبداللہ بن الزبیر ( رض) ، اور ہشام بن عبدالملک ( رض) نے اپنے زمانوں میں غیر فطری حرکت والوں کو آگ میں جلا ڈالا تھا۔
اس سلسلہ میں انھوں نے محمد بن المنکدر کی روایت سے ایک واقعہ بھی لکھا ہے کہ خالد بن ولید ( رض) نے حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کو خط لکھا کہ یہاں عرب کے ایک علاقہ میں ایک مرد ہے، جس کے ساتھ عورت والا کام کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے اس سلسلہ میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان میں حضرت علی ( رض) بھی تشریف لائے۔ حضرت علی ( رض) نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا ارتکاب سوائے ایک قوم کے کسی نے نہیں کیا اور اللہ جل شانہ نے اس قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ سب کو معلوم ہے میری رائے ہے کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔ دوسرے صحابہ کرام نے بھی اس سے اتفاق کرلیا اور حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے اسے آگ میں جلا دینے کا حکم دیا۔
مذکورہ روایات میں قوم لوط کے عمل کا حوالہ بار بار آیا ہے، حضرت لوط (علیہ السلام) جس قوم کی طرف مبعوث کیے گئے تھے، وہ قوم کفر وشرک کے علاوہ اس بدترین اور غیر فطری حرکت کی بھی عادی تھی اور جب حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کا ان پر اثر نہ ہوا تو اللہ جل شانہ کے حکم سے فرشتوں نے اس قوم کی بستیوں کو زمین سے اٹھالیا اور اوندھا کرکے زمین پر پھینک دیا، جس کا ذکر سورة اعراف میں آئے گا۔ انشاء اللہ
مندرجہ بالا روایات استلذاذ بالجنس سے متعلق تھیں، روایات میں عورتوں کے ساتھ غیر فطری فعل کرنے پر بھی شدید ترین وعیدیں آئی ہیں۔
عن ابن عباس ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال لاینظر اللہ عزوجل الی رجل اتی رجلا اوامرء ۃ فی دبرھا۔ (الترغیب والترہیب)
(حضرت ابن عباس ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جل شانہ اس مرد کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جو مرد یا عورت کے ساتھ غیر فطری فعل کرے )
عن خزیمۃ بن ثابت قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ لایستحیی من الحق ثلاث مرات لاتأتوا النساء فی ادبارھن (الترغیب والترہیب)
(خزیمہ بن ثابت ( رض) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہ حق بیان کرنے میں شرم نہیں کرتے، یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ ارشاد فرمائے (پھر فرمایا) عورتوں کے پاس غیر فطری طریقہ سے مت آیا کرو)
وعن ابی ہریرہ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال ملعون من اتی امرء ۃ فی دبرھا۔ (الترغیب والترہیب)
(حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے وہ شخص ملعون ہے جو غیر فطری طریقہ سے بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے)
وعنہ ان رسول اللہ ﷺ قال من اتی حائضا اوامرء ۃ فی دبرھا اوکاھنا فصدقہ فقد کفر بما انزل علٰی محمد ﷺ (حضرت ابوہریرہ ( رض) ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مرد حیض کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے یا غیر فطری طریقہ سے اس کے ساتھ جماع کرتا ہے یا کسی کاہن کے پاس جاتا ہے اور غیب کے متعلق اس کی خبر کی تصدیق کرتا ہے تو ایسے لوگ اس دین سے منکر ہوگئے جو محمد ﷺ پر نازل ہوا)
اس قبیح فعل کے لیے کسی معین حد کے مقرر کرنے میں تو فقہاء کا اختلاف ہے، جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے۔ تاہم اس کے لیے شدید سے شدید سزائیں منقول ہیں۔ مثلاً آگ میں جلا دینا، دیوار گرا کر کچل دینا، اونچی جگہ سے پھینک کر سنگسار کردینا، تلوار سے قتل کردینا وغیرہ۔
Ayahs 4:17–18اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِج حَتّٰیٓ اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَھُمْ کُفَّارَ ط اُوْلٰٓئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
(اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھیں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے اور ان لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو کیے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولا کہ اب میں نے توبہ کرلی اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کہ مرتے ہیں حالت کفر میں، ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے) (النسآء : 17 تا 18)
ربطِ کلام اور اصلاح میں توبہ کی اہمیت
سابقہ دونوں آیات میں بداخلاقی میں مبتلا ہونے والوں کے لیے ایک عارضی قانون بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اصل زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ گناہ میں مبتلا ہونے والے اگر اللہ سے توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو پھر ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کرنے والوں اور سزا دینے والوں کے سامنے اصلاح اور توبہ کی اہمیت اور افادیت واضح کی گئی کہ اسلامی قانون کا اصل مقصد اصلاح ہے، محض سزا دینا نہیں۔ سزا دینے سے مقصود بھی اصلاح کی طرف راغب کرنا ہے۔ البتہ سزا کے ذریعے ان لوگوں کو ختم کردیا جاتا ہے، جو اپنے آپ کو اصلاح سے محروم کرلیتے ہیں۔ اللہ کے نبی دنیا میں لوگوں کی اصلاح کے لیے آتے ہیں، لوگوں کو مسخر اور مغلوب کرنے کے لیے نہیں آتے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کا زور تبلیغ توبہ اور اصلاح پر صرف ہوا اور ان دونوں آیتوں کے نزول کے وقت توبہ اور اصلاح کے جذبات پیدا کرنے کی اور بھی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ ابھی اسلامی ریاست بہ ہمہ وجوہ قائم نہیں ہوئی تھی، تو اس لیے ان آیات کے بعد فوراً توبہ پر مشتمل آیات نازل کی گئیں اور توبہ کا صحیح طریقہ بھی بتایا گیا اور توبہ کی ترغیب بھی دی گئی۔
اسلام سے پہلے جتنے مذاہب تھے وہ اگرچہ دنیوی اور اخروی کامیابی کے دعوے دار تھے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پوجا پاٹ کی چند ظاہری رسوم اور شریعت کے ایک بےجان ڈھانچے کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے۔ ان کے دئیے ہوئے اعتقادات سے نہ تو انابت الی اللہ کے جذبات پیدا ہوتے تھے اور نہ کسی شخص کو اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ ہوتی تھی اور اگر کبھی کسی شخص کو خیال پیدا ہو تاکہ میں ڈھیروں گناہ کرچکا ہوں اگر اللہ کے سامنے حاضری ہوئی تو کیا جواب دوں گا، مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے تو یہ مذاہب گناہوں سے نکل کر نیکی اور اطاعت کی زندگی اختیار کرنے کے لیے نہ صرف کہ اس کی کوئی مدد نہیں کرتے تھے بلکہ اسے مایوس کرتے تھے کہ ایک دفعہ گناہوں کی زندگی اختیار کرلینے سے آدمی اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ اسے بہرصورت اس کی سزابھگتنا پڑے گی۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس نے انسان کی کمر پر بےانتہا بوجھ لاد دیا تھا اور اسے اپنی اصلاح سے اور اپنے مستقبل کی تعمیر سے مایوس کردیا تھا۔ ہندوئوں میں تناسخ اور آواگون کے تصورات اسی مایوسی کا نتیجہ تھے اور عیسائیوں نے اس کے لیے کفارہ کے نام سے ایک راستہ نکالا، جو نامعقولیت کے سوا کچھ بھی نہیں اور انھوں نے نجات کا سررشتہ مذہبی پروہتوں کے ہاتھ میں دے کر اصلاح اور توبہ کے عمل کو اور مشکل بنادیا اور انسان کی مایوسی کو اور گہرا کردیا۔
اسلام اہل دنیا کے لیے ایک نوید جاں فزا بن کر آیا۔ اس نے انسانوں کو امید کی ایک روشنی دی، انھیں بتلایا کہ انسان کی معنوی اخلاقی اور روحانی زندگی اسی قانون کے مطابق چل رہی ہے جو قانون ہم اپنے گردوپیش میں کارفرما دیکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ تکوینی اور تشریعی قوانین کا پیراہن جدا جدا ہے، لیکن ان کے اصل مزاج اور روح میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جس طرح ایک درخت بیمار ہوتا ہے اور علاج سے درست ہوجاتا ہے، چارپائے بیمار ہوتے ہیں اور علاج سے شفا پاجاتے ہیں۔ انسانی جسم بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اور بروقت علاج سے درست ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح انسانی روح کو بھی بیماریاں لگتی ہیں۔ اس کی بیماری کبھی عقیدے کی خرابی ہے، کبھی اخلاق کا بگاڑ ہے، کبھی معاملات کی بےاعتدالی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ باقی مخلوقات کی طرح اس کی بیماریوں کا علاج نہ ہوسکے اور وہ بروقت علاج سے شفا یاب نہ ہوسکیں۔ چناچہ جس طرح باقی اجسام کا علاج معالج کے پاس جانا اور اس کے بتائی ہوئی ادویہ کو استعمال کرنا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں کا علاج بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کے پیغمبر کی ہدایات کے مطابق زندگی کے اعمال کو درست کرنا ہے۔ اللہ کی طرف پلٹنے کو توبہ کہتے ہیں کیونکہ توبہ کا معنی ہی ” پلٹنا اور رجوع کرنا “ ہے۔ ایک بندہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کا آستانہ چھوڑ دیتا ہے اور شیطان یا اپنے نفس کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے آقا کا راستہ اور آستانہ چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کرگیا ہوں اب وہ اپنے غلط رویہ اور معصیت سے اللہ کی اطاعت کی طرف پلٹتا ہے اور دوبارہ پھر اس آستانے پر جھک جاتا ہے جسے وہ چھوڑ گیا تھا۔ پھر وہ اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے ان میں سے ہر وہ عمل جس سے اللہ کی نافرمانی جھلکتی ہے اسے وہ چھوڑ دیتا ہے اور بھلائیوں اور نیکی کے کاموں میں سبقت اپنا شعار بنالیتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مجھ سے جو کو تاہیاں ہوئی ہیں اس کی معافی مانگ کر میں اپنے اللہ کو راضی کرلوں۔ یہی درحقیقت توبہ ہے۔
انسان جب بگاڑکا شکار ہوتا ہے تو وہ صرف گناہ گار ہی نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی سطح سے بھی گرجاتا ہے کیونکہ انسانیت اور اللہ کی معصیت دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اس کو اپنے خاص انداز میں خوبصورت تعبیر دی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو یہ تو فرشتوں کی خصوصیت ہے یا انبیائے کرام کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رہے کبھی ان پر ندامت نہ ہو اور نہ کبھی ان کے ترک کا خیال آئے یہ درجہ شیاطین کا ہے۔ تیسرا مقام بنی آدم کا ہے کہ گناہ سرزد ہو تو فوراً اس پر ندامت ہو اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو۔ یہی وہ چیز ہے جس کا قرآن کریم نے باربار حکم دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کے بیشمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس توبہ میں حقیقت کا رنگ ہو محض الفاظ کا کھیل نہ ہو۔ آدمی زبان ہی سے توبہ نہ کرے بلکہ اس کا پورا سراپا توبہ کی تصویر بن جائے۔ اسی کو توبۃ النصوح کہا گیا ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ ایسی توبہ کے تین ارکان ہیں۔
توبہ کے تین ارکان
1 اپنے کیے پر ندامت اور شرمساری، حدیث میں بھی آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : انما التوبۃ الندم ” توبہ نام ہی ندامت کا ہے۔ “ آدمی اپنے گناہ پر اس حد تک نادم ہو کہ آنکھوں سے آنسوئوں کی برکھا برسے او دل اس تصور سے پگھلتا جائے کہ مجھ سے یہ جرم کیوں سرزد ہوا۔
2 جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اس کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرے۔
3 تلافیِ مافات کی فکر کرے یعنی جو گناہ ہوچکا ہے، اس کا جتنا تدارک ممکن ہو کرے۔ یعنی نمازیں چھوٹ گئی ہیں تو تمام چھوٹی ہوئی نمازوں کا حساب کرکے ان کی قضاکرے۔ روزے چھوٹ گئے ہیں تو ان کی بھی قضاکرے۔ جتنے سالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، حساب کرکے پوری زکوٰۃ ادا کرے۔ جتنے لوگوں کے حقوق اس کے ذمہ ہیں سب کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے۔ جو لوگ مرچکے ہوں ان کی اولاد کو دے اور اگر کوئی بھی باقی نہ ہو تو پھر خیرات کردے اور اللہ سے معافی مانگے۔ جن کی دل آزاریاں کی ہیں عزتوں کو صدمہ پہنچایا ہے سب سے معافی مانگے اور اگر مالی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت نہ رہی ہو تو پھر اہل حقوق سے معاف کرانے کی کوشش کرے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو زندگی بھر اللہ سے معافی مانگے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر واقعی تم ایسی توبہ کرو تو اللہ اسے قبول کرنے والا ہے۔ بلکہ اس نے انسانوں کو سہارا دیتے ہوئے فرمایا : لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعاً ” اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو اللہ سب گناہ بخش دے گا اس لیے کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے “۔ آنحضرت کا ارشاد ہے کہ اگر کسی کے گناہوں سے زمین اور آسمان کی فضا بھر جائے اور وہ سچے دل سے توبہ کرے اللہ اسے بھی معاف کردے گا کیونکہ
ایں درگہ ما درگہِ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
جہالت کا مفہوم
پیشِ نظر آیات میں توبہ کے لیے چند شرائط کا ذکر فرمایا گیا ہے اور چند احتیاطیں سکھائی گئی ہیں۔ جن کے ملحوظ رکھنے اور پابندی کرنے پر اللہ تعالیٰ جیسے کریم نے وعدہ فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا میری ذمہ داری ہے، یعنی میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی توبہ ضرور قبول کروں گا۔ چناچہ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگی جو جہالت سے گناہ کا ارتکاب کریں۔ سوال یہ ہے کہ جہالت کا کیا مفہوم ہے ؟ عام طور پر جہالت کا معنی بےعلمی، بیخبر ی، نہ جاننا اور نادانی سے کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر قصداً اور عمداً گناہ کرے اس کا گناہ توبہ کرنے سے بھی معاف نہیں ہوگا۔
اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو گناہ تو قصد اور ارادے سے کرتا ہے لیکن اسے گناہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ اس گناہ کا نتیجہ کیا ہوگا، آخرت میں اس پر کتنی بڑی سزاملے گی ؟ اس انجامِ بد اور اخروی عذاب سے غفلت اس کے گناہ کا سبب بن جاتی ہے۔ تو اس آیت میں جہالت سے مراد یہی اخروی عذاب سے غفلت ہے۔ اسی سے ملتا جلتا معنی حماقت اور بےوقوفی بھی ہے۔ سورة یوسف میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاہلون ” کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے کیا جبکہ تم جاہل تھے “۔ یہاں بھائیوں کو جاہل کہا گیا ہے حالانکہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ جان بوجھ کر اور عمداً کیا تھا۔ مگر انھیں اس کا اندازہ نہ تھا کہ اس فعل کا انجام کیا ہوگا ؟ اور یہی بیوقوفی ہے اورا سی لیے ان کو جاہل کہا گیا۔ شائد اسی وجہ سے صحابہ کرام اس بات پر متفق تھے کہ بندہ جو گناہ کرتا ہے چاہے وہ بالقصد ہو یا بلاقصد وہ بہرحال جہالت ہے۔
ابو حیان نے تفسیر بحر محیط میں مثال سے سمجھایا کہ اس کو ایسا ہی سمجھو جیسے حدیث میں آتا ہے لایزنی الزانی وھو مومن ” زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا “۔ یعنی وہ مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا کیونکہ جس وقت وہ اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے، تو ایمان کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے یہی چیز جہالت ہے جو گناہ کا باعث بنتی ہے۔ لیکن بعض اہل علم اسی بات کو ایک اور انداز میں سلجھاتے ہیں وہ کہتے ہیں جہالت کا لفظ جس طرح نہ جاننے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا ظلم یا گناہ کا کام کر گزرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ان کا خیال ہے یہ لفظ عام طور پر علم کی بجائے حلم کی ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ معلقات کا مشہور شعر ہے
الا لا یجھلن احد علینا
فنجھل فوق جھل الجاہلینا
(خبردار کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہوجائیں)
اس شعر میں دیکھ لیجیے جہالت کا لفظ حلم کے ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ شاعر اپنے مخالفوں سے کہہ رہا ہے کہ اپنے جذبات پر قابو رکھو اور اگر تم نے مشتعل ہو کر کوئی کام کیا تو پھر ہمارے اشتعال کو کوئی نہ روک سکے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر ( جبکہ ارادہ کام نہیں کرتا) کوئی گناہ کرگزرے اور پھر فوراً اس پر ندامت کا اظہار کرے اور اللہ کی طرف پلٹے تو اللہ اس کے گناہ کو معاف کردے گا۔ میرا ناقص خیال یہ ہے کہ جہالت کو حلم کا ضد قرار دے لیں یا اسے حماقت کہہ لیں یا اخروی عذاب سے غفلت کی تعبیر اختیار کریں۔ مآل کار سب کا مفہوم ایک ہی ہے کہ آدمی گناہ ضرور اپنے ارادہ سے ہی کرتا ہے لیکن اس وقت اس کا ارادہ دوسرے احساسات سے مغلوب ہوتا ہے اور ایسا ہی گناہ گا رہے جسے توبہ کی توفیق نصیب ہوسکتی ہے اور جو شخص گناہ کو گناہ کے جذبے سے کرتا ہے ایسے شخص کے بارے میں بہت کم امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی گنہ سے پلٹنے کی کوشش کرے گا۔
اس آیت کریمہ میں دوسری شرط لگائی گئی ہے من قریب یعنی توبہ اس کی قبول ہوگی جو فوراً پہلی فرصت یعنی قریب زمانہ میں توبہ کرے۔ جن لوگوں نے اس لفظ کو عام معنی میں لیا ہے، وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ جس نے توبہ کرنے میں تاخیر سے کام لیا اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی لیکن جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ توبہ کی قبولیت کے لیے آنحضرت کے بعض ارشادات بالکل واضح ہیں۔ معلوم ہوتا ہے من قریب کی یہی صحیح تعبیر ہے۔ آپ نے فرمایا : ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر موت اور نزع روح کا غرغرہ طاری نہ ہوجائے “۔ ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” جو بندئہ مومن موت سے ایک مہینہ پہلے اپنے گناہ سے توبہ کرے یا ایک دن یا ایک گھڑی پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ سچی توبہ کی جائے “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اور انسان موت کو سامنے نہیں دیکھ لیتا اس وقت تک اس کے لیے توبہ کا موقعہ ہے اور اللہ کی صفت کریمی سے امید واثق ہے کہ جب بھی بندہ توبہ کرے گا اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
مولانا تھانوی نے تفسیر بیان القرآن میں ایک اور طرح سے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ موت کے قریب دو حالتیں پیش آتی ہیں ایک تو بأس کی جب کہ انسان ہر دوا و تدبیر سے عاجزہوکر یہ سمجھ لے کہ اب موت آنے والی ہے، اس کو حالت بأس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دوسری حالت اس کے بعد کی ہے، جبکہ نزع روح شروع ہوجائے اور غرغرہ کا وقت آجائے، اس حالت کو ” یاس “ کہا جاتا ہے۔ پہلی حالت یعنی حالت بأس تک تو من قریب کے مفہوم میں داخل ہے اور توبہ اس وقت کی قبول ہوتی ہے مگر دوسری حالت یعنی حالت یاس کی توبہ مقبول نہیں جبکہ فرشتے اور عالم آخرت کی چیزیں انسان کے سامنے آجائیں کیونکہ وہ من قریب کے مفہوم میں داخل نہیں۔
دوسری آیت کریمہ میں ان لوگوں کارویہ ذکر کیا گیا ہے جو زندگی کے بارے میں عملی طور پر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ زندگی بہت دراز ہے، ابھی سے آخرت کی باتیں کرنا زندگی کو بےرنگ اور بےنمک بنانے والی بات ہے۔ جس زندگی میں خوشیاں نہ ہوں اور عیش و عشرت کی امنگ نہ ہو وہ زندگی تو بوجھ بن جاتی ہے۔ اس طرح کی زندگی جس میں آنے والی ناکامی کا خوف، جوابدہی کے اندیشے، موت کے لہراتے ہوئے سائے، بداعمالیوں کے پچھتاوے، طبیعتِ ثانیہ بن جائے، اس میں زندگی گزارنے کا کیا لطف رہ جاتا ہے۔ نیکی کی باتیں اچھی باتیں ہیں، آخرت کی فکر بھی بجا ہے، لیکن جب بڑھاپا آئے گا تو یہ باتیں بھی ہوجائیں گی۔ آخرت کی تیاری بھی کرلیں گے، گزری ہوئی زندگی کی بد اعمالیوں کا جائزہ لے کر توبہ کا بھی سوچ لیں گے، لیکن ابھی اتنی جلدی کیا پڑی ہے۔ یہ زندگی کا وہ رویہ ہے جس میں عام اہل دنیا گرفتار ہیں۔ مومن، مومن ہوتے ہوئے بھی اپنی بےفکر زندگی پر مطمئن ہے اور کافر اپنے کفر پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جوانی کی دیوانگی کسی کو فرزانگی کی خبر نہیں لینے دیتی۔ دنیا ایک نشہ ہے، جس میں ہر آدمی مخمور نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ توبہ کے لیے وہ رویہ درکار ہے جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے۔ اسی رویہ کی وجہ سے توبہ کی دولت نصیب ہوسکتی ہے، ورنہ یہ رویہ جس کا ذکر اس آیت میں کیا جارہا ہے یہ تو سراسر بدقسمتی اور محرومی کا غماز ہے، جس میں آدمی برائیوں پر برائیاں کیے چلا جارہا ہے۔ لیکن اسے بالکل ہوش نہیں کہ میں کس طرح اپنی زندگی ضائع کررہا ہوں، مہلت عمل میرے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ لیکن اچانک جب موت اس کے سر پر آکھڑی ہوتی ہے، تو پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اس دنیا کی طرف جانے لگا ہوں جس میں مجھے اپنی گزشتہ زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ تو تب اسے خیال آتا ہے کہ اب میں اپنے اللہ سے معافی مانگوں اللہ فرماتا ہے کہ جب سکرات الموت طاری ہوجائیں اور آنے والی دنیا کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اس وقت کی توبہ اللہ قبول نہیں فرماتا۔ جس طرح جب فرعون ڈوبنے لگا تو اس نے فوراً اللہ پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ اسے جواب دیا گیا : اَلْئٰنَ وَقَدْ عصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ” اب تجھے یاد آیا، اس سے پہلے تو نافرمانی کرتارہا ہے اور تو فساد پھیلانے والوں میں سے تھا “۔ اس کے بعد اس کو ڈبو دیا گیا۔
اسی طرح وہ آدمی جو کفر کی حالت میں ساری زندگی گزاردیتا ہے اور جب موت کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور فرشتے تک نظر آنے لگتے ہیں تو پھر وہ ایمان لانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ اس حال میں اس کا ایمان بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایمان لانا ہی اس کی توبہ ہے۔ توبہ کا وقت دوسری زندگی کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے ہے۔ یا اس کا مطلب شائد یہ ہے کہ جب ایک آدمی کفر کی حالت میں مرجاتا ہے، تو موت کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں اللہ سے دعائیں کرتا ہے کہ یا اللہ ! مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج میں تیرے فرمانبردار بندوں جیسی زندگی گزاروں گا۔ ظاہر ہے اب اسے دوبارہ دنیا میں آنے کا موقعہ نہیں دیا جائے گا۔ اسے بتایا جائے گا کہ توبہ کا وقت موت سے پہلے تھا جو تم نے ضائع کردیا۔
مختصر یہ کہ اللہ کا اپنے بندے پر کتنا بڑا انعام ہے کہ وہ زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اگر کسی وقت بھی اللہ کی طرف پلٹ آئے، معصیت کی زندگی چھوڑ دے، گناہوں سے توبہ کرلے، تو اللہ تعالیٰ نہائیت رحمت کا سلوک فرماتے ہیں۔ نہ صرف گناہ معاف کیئے جاتے ہیں بلکہ گزشتہ گناہوں کو سرے سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر توبہ اور استغفار میں اخلاص اور ندامت کا بھرپور اظہار کیا جائے اور بندگی کا پورا سرمایہ اس کے آستانے پر ڈھیر کردیا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ گناہوں کو نیکیوں کی شکل دے دیتا ہے اور گناہ گار کو اتنا نوازتا ہے کہ نوازشات کی انتہا ہوجاتی ہے۔ اس کی ندامت کے آنسوموتیوں کی طرح عزیز ہوجاتے ہیں اور اس کا پگھلتا ہوا دل اللہ کی رحمت وعنائت کا مورد بن جاتا ہے۔
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
حقیقت یہ ہے کہ نیکی ایک بڑی سعادت ہے۔ لیکن گناہوں پر ندامت سحر گا ہی کی آہیں اور نالہ ٔ نیم شب کا نیاز وہ سرمایہ ہے جس سے بندگی کو رفعتِ پرواز مل جاتی ہے۔
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے
عورتوں کے حقوق کے تحفظ اور معاشرے میں ان کے مرتبہ اور مقام کے حوالے سے ہدایات جاری تھیں کہ توبہ کے مضمون کے لیے تقریب پیدا ہوئی، چناچہ دو آیتوں میں توبہ کے مضمون کو بیان کرنے کے بعد پھر اسی سلسلہ مضمون کو لے لیا گیا ہے۔