Ayahs 4:163–164اِنَّـآ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنْم بَعْدِہٖ ج وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِیْسٰی وَاَیُّوْبَ وَیُوْنُسَ وَھٰرُوْنَ وَسُلَیْمٰنَ ج وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ج وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰـہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَطوَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَـکْلِیْمًا ج
”(اے پیغمبر۔ ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف وحی کی تھی۔ اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان (علیہم السلام) کی طرف اور ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور دی۔ اور ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی بھیجی جن کا حال ہم تم کو پہلے سنا چکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کو حال ہم نے تمہیں نہیں سنایا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) سے تو اللہ نے کلام کیا۔ “
(النسآء : 163 تا 164)
یہود کے مطالبہ کا جواب ایک دوسرے پہلو سے
گزشتہ رکوع میں یہود کا یہ مطالبہ گزر چکا کہ ہم آپ پر اس صورت میں ایمان لائیں گے کہ آپ ہماری آنکھوں کے سامنے کتاب اتار کے دکھائیں۔ آسمان سے ایک کتاب اترے جو بالکل مرتب اور مجلد شکل میں عام کتابوں کی طرح ایک کتاب ہو ‘ ہم اسے نازل ہوتا بھی دیکھیں اور اسے چھو کر اور پڑھ کر بھی دیکھیں۔ اس کے جواب میں ان کے ان کارناموں کا تفصیل سے ذکر فرمایا گیا جس پر انھیں شرم آنی چاہیے۔ اور اب ایک دوسرے پہلو سے ان کے اسی مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ جواب کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ تاریخ نبوت سے واقف نہیں ہیں وہ تو شاید اس بات کو نہ سمجھ سکیں ‘ لیکن تم اہل کتاب تو اچھی طرح اس بات کو جانتے ہو کہ خود بنی اسرائیل میں سے ایک بڑی تعداد اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی اٹھائی گئی ہے۔ اور خود تمہاری کتاب تورات میں کتنے انبیائِ کرام کے صحائف موجود ہیں اور ان میں وہ مشہور رسول جن کے ناموں سے تم واقف ہو ان سب کو نام بہ نام گن کر فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ رسول ہیں ‘ جن پر کتابیں اتریں اور تم ان سے اچھی طرح واقف ہو۔ اور ان سب کا ذکر تورات میں موجود ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو کتاب نازل ہوئی یہود اسے مانیں یا نہ مانیں لیکن عیسائی تو اسے مانتے ہیں۔ اور جو کتاب حضرت دائود (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اس کا ذکر خود تورات میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ کتنے ایسے صحیفے ہیں جنھیں عہد عتیق میں شامل کیا گیا ہے اور تم ان سب سے واقف ہو۔ ان میں سے کسی رسول کے بارے میں تم بتاسکتے ہو کہ ان کی امت نے ان سے یہ مطالبہ کیا ہو اور پھر پروردگار نے ان کے سامنے کتاب اتار کے دکھائی ہو۔ ہر پیغمبر کو جب بھی مانا گیا تو اس کی سچائی اور اس کی سیرت کی پاکیزگی اور اس کی بےعیب شخصیت کی وجہ سے مانا گیا۔ اور اس کی کتاب پر جو لوگ ایمان لائے وہ کتاب کی اعجازی حیثیت کو دیکھ کر ایمان لائے۔ لیکن اس طرح کا بےہودہ مطالبہ کبھی کسی نے نہیں کیا۔ یا کم از کم کسی کتاب کے اس طرح نازل ہونے کا کوئی واقعہ تاریخِ مذہب میں شامل نہیں۔ ان تمام انبیاء میں ایک موسیٰ (علیہ السلام) خاص خصوصیت کے حامل ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا ‘ لیکن یہ کلام بھی رو در رو نہیں تھا بلکہ من ورائِ حجاب تھا جسے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کانوں سے سنتے تھے ‘ یہ ان کا اختصاص اور امتیاز ہے۔ لیکن اے یہود اس پر بھی تمہارے آبائو اجداد کا حال یہ تھا کہ انھوں نے کہا کہ جب تک خدا ہم سے رودر رو ہو کر کلام نہ کرے ہم کس طرح باور کریں کہ وہ تم سے کلام کرتا ہے۔ اللہ نے انھیں تورات عطا فرمائی تو اسے وہ خود کوہ طور سے لے کے آئے ‘ اسے لوگوں کے سامنے نازل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جن حقائق پر ایمان لانا ایمان کی بنیاد ہے اور وہ اصلاً انسانوں کی آزمائش بھی ہے اسے پروردگار اس طرح عام نہیں کرتا اور محسوس شکل نہیں دیتا کہ جس سے ایمان کی آزمائش ہی ختم ہو کر رہ جائے۔ حاصل کلام یہ کہ جب انبیاء کی پوری تاریخ میں کبھی اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا اور اگر کبھی کیا بھی گیا تو اسے پورا نہیں کیا گیا تو تم آخر کس بنیاد پر آنحضرت ﷺ سے اس طرح کا لایعنی مطالبہ کر رہے ہو۔ دوسری بات یہ ہے کہ تمام انبیاء اپنے سیرت و کردار اور اپنی تعلیم میں ایک اشتراک رکھتے ہیں اور تمام اپنی خصوصیات میں یکساں ہیں۔ ان کی انفرادی سیرت سے لے کر ان کے دعوتی کارناموں تک اور ان کے اعلیٰ اخلاق سے لیکر ان کی قوموں کے ردِّعمل تک ہر چیز میں وہ بالکل ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ یہی یکسانیت پیغمبروں کی علامت ہے اور یہی ان کی صداقت کی دلیل ہے۔ جس بات کا نام و نشان ان کی پوری تاریخ میں کہیں دکھائی نہ دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز یا وہ دعویٰ نبوت اور رسالت سے میل نہیں کرتا۔ اہل کتاب چونکہ معتد بہ انبیائِ کرام کو جانتے ہیں ‘ ان کی کتاب میں نبوت کی تاریخ پھیلی ہوئی ہے اور وہ خوب سمجھتے ہیں کہ انبیائِ کرام کی یکساں علامتیں کیا ہوتی ہیں اور وہ کن خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اس لیے ان کی طرف سے ایسے کسی مطالبے کا آنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ راہ راست سے ہٹ چکے ہیں ‘ اخلاص ان کے اندر سے نکل چکا ہے۔ ورنہ وہ اس طرح کی کوئی کہنے کی جرأت نہ کرتے۔
یہاں جن انبیائِ کرام کا ذکر کیا گیا ہے ان کی تعداد صرف گیارہ ہے۔ اور قرآن کریم میں ان کے علاوہ بھی انبیاء و رسل کا ذکر ہے۔ لیکن اصولی طور پر قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے ” لِکُلِّ قَوْمٍ ہَادٍ “ (ہر قوم کی طرف کوئی نہ کوئی ہدایت دینے والا ضرور آیا ہے) اس لحاظ سے جہاں جہاں بھی انسانوں کی آبادی ہے وہاں یقینا اللہ کے نبی اور رسول آئے ہیں۔ لیکن ان میں سے نمایاں ترین افراد کا ذکر کردیا گیا جن کی اہل کتاب میں عام شہرت تھی۔ ان میں حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) تو ایک تاریخی ترتیب رکھتے ہیں۔ اور ان میں نسبی رشتہ بھی ہے۔ یہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ لیکن اس کے بعد حضرت عیسیٰ ‘ حضرت ایوب ‘ حضرت یونس اور ہارون (علیہم السلام) میں صفاتی ترتیب ہے۔ یہ تمام بزرگ مختلف قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کیے گئے اور تمام تائید الٰہی سے نوازے گئے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان اور حضرت دائود (علیہما السلام) میں نسبت یہ ہے کہ دونوں باپ بیٹا ہیں ‘ دونوں نبی ہیں اور دونوں بادشاہ ہیں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر باپ ہونے کی حیثیت سے پہلے آنا چاہیے تھا لیکن ان کے ذکر کو صرف اس لیے موخر کیا گیا تاکہ اللہ نے ان پر زبور نازل کر کے جو اختصاص عطا فرمایا اس کو ذکر کیا جائے۔ زبور اپنی بہت ساری خصوصیات کی وجہ سے ایک منفرد کتاب ہے۔ لیکن موجودہ بائبل میں زبور کے نام سے جو کتاب پائی جاتی ہے وہ ساری کی ساری زبور دائود نہیں ہے۔ اس میں بکثرت مزامیر دوسرے لوگوں کے بھی بھر دیے گئے ہیں اور وہ اپنے اپنے منصفین کی طرف منسوب ہیں۔ البتہ جن مزامیر کے بارے میں تصریح ہے کہ وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہیں ان کے اندر فی الواقع کلام حق کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے ایک تو اس خصوصیت کے باعث جو موسیٰ (علیہ السلام) کا اختصاص ہے اور دوسرا اس لیے کہ ان کی حالات بہت حد تک آنحضرت ﷺ کے حالات کے مشابہ ہیں۔ اس لیے قرآن کریم بار بار موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات کا تذکرہ کرتا ہے۔
Ayah 4:165رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
” اللہ نے بھیجا ہے رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بنا کر ‘ تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت۔ اللہ غالب اور حکیم ہے۔ “ (النسآء : 165)
رسولوں کے بھیجنے کا مقصد
اس آیت کریمہ میں دو باتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ رسولوں کے بھیجنے کا مقصد کیا تھا ؟ اور دوسری یہ بات کہ ان کو بھیجنے کی ضرورت کیا تھی ؟ رسولوں کے بھیجنے کا مقصد اور رسولوں کا مشن یہ تھا کہ وہ انسانوں کو یہ بتانے کے لیے بھیجے جاتے تھے کہ تمہیں اللہ نے باقی تمام مخلوقات پر ایک شرف اور فضیلت بخشی ہے۔ تم کسی صحرا کے خود رو پودے نہیں ہو ‘ بلکہ اللہ نے تمہارے جد امجد کو اپنے دست قدرت سے بنایا ‘ پھر اس میں روح پھونکی ‘ فرشتوں کا اسے مسجود بنایا اور زمین پر اسے اپنا خلیفہ اور نبی بنا کر بھیجا۔ وہیں سے اس نبوت و رسالت اور ہدایت کے سلسلے کا آغاز ہوا اور ہر آنے والے نبی نے انسانوں پر واضح کیا کہ تم ایک مکلف مخلوق ہو ‘ اللہ نے تمہیں زندگی گزارنے کا ایک ضابطہ عطا فرمایا ہے جسے شریعت کہتے ہیں۔ تم اگر اپنی زندگی میں اس کی اطاعت کرتے اور ان احکام کی پابندی کرتے ہو تو تمہیں زندگی میں بھی آسانیاں ملیں گی ‘ آسودگی نصیب ہوگی ‘ حقوق و فرائض کی ادائیگی سے اس زمین کے رہنے والے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک اور ایک دوسرے کی خوشیوں کا باعث ہوں گے۔ ہمدردی اور غمگساری ان کی زندگیوں کے دکھوں کو آسان کر دے گی ‘ تم جب یہ زندگی گزار کے اپنے اللہ کے پاس پہنچو گے تو وہاں ایسی ایسی نعمتیں اور ایسی خوشیاں تمہاری انتظار میں ہوں گی جن کا کبھی تصور بھی تمہارے دل و دماغ میں نہیں گزرا ہوگا۔ اس کامیاب زندگی کی بشارت دینے کے لیے اللہ کے نبی تشرف لاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ یہ بتانے کے لیے آتے ہیں کہ تم نے اگر اپنے مالک ‘ اپنے آقا اور اپنے معبودِ حقیقی کو نہ پہچانا ‘ اس کے احکام کی اطاعت نہ کی ‘ اس کی نازل کردہ شریعت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ نہ کیا تو تم دنیا میں بھی دکھ بھری زندگی گزارو گے ‘ ہمدردی و غمگساری کے بجائے ایذاء دہی اور خوں ریزی کا چلن عام ہوجائے گا ‘ انسان حیوان اور درندے بن جائیں گے ‘ ہر طرف تباہی مچ جائے گی ‘ بر و بحر میں فساد پھیل جائے گا ‘ ہر طاقت ور کمزور کا شکار کرے گا اور ہر ظالم کے ہاتھوں کمزور پناہ مانگیں گے اور جب تم یہ زندگی گزار کے اللہ کے حضور پہنچو گے تو وہاں سخت جواب دہی کے مراحل سے گزرو گے ‘ ناکامی کی صورت میں جہنم کا وہ عذاب تمہارا مقدر بن جائے گا جس کی ہولناکی کا تم آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ ہے وہ مشن جسے لیکر دنیا میں انبیاء و رسل آتے تھے۔
رسولوں کی بعثت کی ضرورت
اور اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ انسانوں سے سوال کرے گا بتائو تم نے زندگی کیسے گزاری تمہاری زندگی میرے احکام کی تعمیل میں گزری یا اس کی نافرمانی میں اور اگر تم نے میرے احکام کو توڑا ہے تو آج تمہیں اس کا ہولناک انجام دیکھنا ہوگا۔ تو اگر لوگوں تک اس پورے پر اسس کی خبر پہلے نہیں پہنچی ہوگی اور لوگ کسی ضابطہ حیات اور شریعت سے واقف نہیں ہوں گے اور انھیں اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ ہمارا ایک آقا اور رازق بھی ہے جس کا دیا ہم کھاتے ہیں اور اسی کے دیئے ہوئے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کے پابند ہیں تو جب ایسے بیخبر لوگوں کو جواب دہی کے لیے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا تو وہ پروردگار سے کہنے کی جرأت کریں گے کہ جن باتوں کا ہم سے سوال کیا جا رہا ہے ہمیں تو ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا ‘ ہم تو نہیں جانتے تھے کہ ہمارا ایک آقا بھی ہے ‘ ہم اسی کے احکام کے پابند ہیں ‘ ہمارا ایک معبود بھی ہے جس کی ہمیں بندگی بجا لانا ہے ‘ ہمیں تو کسی بتانے والے نے ان باتوں کی خبر نہیں دی تھی اور کسی ہادی نے ہماری سامنے ہدایت کا راستہ نہیں کھولا تھا ‘ تو جن باتوں کے بارے میں ہمیں بتایا نہیں گیا آج ہم سے اس کا سوال کیوں کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سب سے زیادہ عدل و انصاف کی حامل ہے۔ وہ کسی سے بےانصافی نہیں کرسکتی۔ جب اس کے بندے یہ کہتے کہ ہمیں تو ان باتوں کی کوئی خبر تک نہ تھی جس کا ہم سے جواب طلب کیا جا رہا ہے تو پروردگار نہ تو ان سے کوئی بات پوچھ سکتے اور نہ انھیں سزا دے سکتے ہیں۔ اس ضرورت کے تحت پروردگار نے رسول بھیجے ‘ انھوں نے انتہائی مصائب اور مخالفتوں کے ہجوم میں بھی لوگوں تک اللہ کا دین پہنچایا اور ان کے سامنے یہ بات واضح کی کہ تمہارا ایک خالق ومالک ہے ‘ وہ ایسی اور ایسی صفات کا حامل ہے ‘ اس کی خوشی ان باتوں میں ہے اور وہ ان باتوں سے ناراض ہوتا ہے ‘ تم اس کی رضا حاصل کرلو گے تو اخروی نعمتوں سے شادکام ٹھہرو گے اور اگر تم نے اسے ناراض کردیا تو ابدی جہنم تمہارا مقدر ہوگا۔ اس ضرورت کے تحت اللہ نے اپنے رسول بھیجے اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہ رہا جس میں اس کے بشارت دینے اور ڈرانے والے نہ آئے ہوں۔ البتہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد چونکہ نبوت ختم ہوگئی تو وہ ذمہ داری جو انبیاء و رسل ادا کرتے تھے وہ اس امت کے سپرد کردی گئی۔ اور اس امت کو اس بات کا پابند کردیا گیا کہ دنیا کے ایک ایک کونے میں تمہیں اللہ کا دین پہنچانا ہے تاکہ کل کو کوئی شخص اللہ کے سامنے حجت بازی نہ کرسکے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاہ فیصل مرحوم کے چچا شاہ عبداللہ حج کے موقع پر منیٰ میں یا حج سے فراغت کے بعد ریاض میں دنیا بھر سے آئے ہوئے علماء کو علمی مجالس میں مدعو کرتے اور ان سے علمی موضوعات پر گفتگو کیا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب کہ دنیائے اسلام کے بڑے بڑے علماء موجود تھے اور اتفاق سے ان علماء میں سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمۃ بھی موجود تھے۔ میرا گمان یہ ہے کہ مولانا اس کے بعد اپنی علالت کی وجہ سے سعودی مملکت کا سفر نہیں کرسکے۔ شاہ عبداللہ نے پوچھا کہ میں نے سنا ہے کہ آج بھی افریقہ کے بعض جزیروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جن تک اللہ کے دین کی دعوت نہیں پہنچی اور وہ کچھ نہیں جانتے کہ اسلام کیا ہے ؟ تو قیامت کے دن کیا تعالیٰ ایسے لوگوں سے بھی سوال کرے گا ؟ علماء نے اس کے مختلف جوابات دیئے۔ میزبان نے سب سے آخر میں مولانا مودودی مرحوم سے بھی پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ مولانا نے فرمایا کہ یہ تو میں نہیں جانتا اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے کیا پوچھیں گے ؟ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ ہم سے کیا پوچھا جائے گا ؟ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے حکمرانوں اور ان کے ذمہ دار لوگوں سے یہ سوال کریں گے کہ میں نے تمہیں ڈیڑھ عرب کے قریب افرادی قوت عطا کی تھی ‘ ساٹھ کے قریب تمہیں ملک بخشے تھے ‘ سمندر کے تمام قابل ذکر ساحلوں پر تمہارا قبضہ تھا ‘ تمہارے پائوں تلے زرسیال بہتا تھا ‘ دولت کے خزانے میں نے تمہارے ہاتھوں میں دے دیئے تھے ‘ لیکن ان تمام وسائل کے باوجود دنیا میں ایسے لوگ بھی تھے جن تک میرا دین نہیں پہنچا ‘ بتائو تم کہاں مرگئے تھے ؟ تم نے ان وسائل کو کہاں استعمال کیا ؟ تمہارے خزانے کہاں لٹتے رہے ؟ تم آخری امت ہونے کی وجہ سے اس امانت کے امین بنائے گئے تھے ‘ تمہیں شہادت حق کے منصب پر فائز کیا گیا تھا ‘ تم نے اس شہادت کا حق کہاں تک ادا کیا ؟ کہا جاتا ہے کہ مولانا کی یہ بات سن کر شاہ عبداللہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ شاید اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کے بعد رابطہ عالم اسلامی جیسا ادارہ وجود میں آیا۔ مدینہ یونیورسٹی جیسی درسگاہ قائم ہوئی اور وہاں سے فارغ ہو کر نکلنے والوں کو دنیا بھر کے ممالک میں مبلغ اور مندوب بنا کر بھیجا جانے لگا۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ نے تمہیں عقل اور فطرت کی رہنمائی سے نوازا ہے۔ خیر و شر کی معرفت تمہارے اندر ودیعت کی ہے۔ وہ اگر اپنے رسول نہ بھیجتا اور اس کے باجود تمہیں نافرمانیوں کی سزا میں پکڑ لیتا تو کوئی شخص اس کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہ کرتا۔ اور کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ ہوتا۔ کیونکہ وہ غالب اور عزیز ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چونکہ وہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ کسی کو اتمام حجت کے بغیر سزا نہ دے۔ انبیاء کرام کو بھیج کر اور کتابیں اتار کر اس نے انسانوں پر حجت تمام کردی ‘ تاکہ کسی شخص کو عذر باقی نہ رہے۔
Ayahs 4:166–169لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدَّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا لا اِلَّاطَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
” لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہی کو تو اللہ ہی کافی ہے۔ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ‘ جن لوگوں نے کفر کیا اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ان کو نہ تو خدا بخشنے والا ہے اور نہ جہنم کے سوا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ان کو کوئی اور راستہ دکھانے والا ہے۔ اور اللہ کے لیے یہ بات آسان ہے۔ “ (النسآء : 166 تا 169)
آنحضرت ﷺ کو تسلی
سابقہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم رسولوں کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی دنیا میں اسی مقصد کے لیے بھیجے گئے ہیں آپ اس عظیم قافلے کے آخری فرد اور سالار ہیں۔ آپ کے بعد سلسلہ نبوت ختم کردیا گیا ہے۔ اگر لوگوں نے آپ کی دعوت سے ہدایت حاصل نہ کی تو آپ کے بعد ہدایت کا کوئی اور ذریعہ نہیں۔ اس میں جہاں لوگوں کے لیے تنبیہ ہے وہیں آنحضرت ﷺ کے لیے ایک فکر مندی کی بات بھی ہے۔ کہ یہ بدبخت لوگ اگر میری دعوت پر ایمان نہیں لاتے تو میرے بعد تو کوئی سمجھانے والا نہیں آئے گا جو جگر کا خون پی پی کر ان کی ہدایت کا سامان کرے اور ان کی طرف سے دکھ اٹھا اٹھا کر ان کے لیے دعائیں مانگے۔ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ ان کی ناقدری اور ناشکری کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کر دے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی نہیں دیتے اور یہ آپ ﷺ کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور عجیب و غریب اعتراضات اور شبہات آپ کی نبوت پر وارد کر رہے ہیں تو آپ ہرگز اس کی پرواہ نہ کریں۔ یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ آپ کی حقانیت کی گواہی دیں۔ اور اس بات کو سمجھ سکیں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کی گواہی خود اللہ دیتا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ آپ پر جو وحی اتری ہے یہ کسی انسانی وسوسہ کا نتیجہ نہیں ‘ بلکہ اللہ نے اپنے علم سے اسے نازل فرمایا ہے۔ اس میں کسی دغدغہ شیطانی کی کوئی آمیزش نہیں۔ اس کا تعلق علم الٰہی کے اس سرچشمہ سے ہے جس سے تمام رسول فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔ اور اس پر اللہ کے فرشتے بھی گواہ ہیں۔ فرشتوں کا سردار جب اس وحی کو لے کر اترتا ہے تو ہزاروں فرشتے اس کے ہمرکاب ہوتے ہیں۔
اللہ اور فرشتوں کی گواہی کا ادراک
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی پر جب یہ وحی اترتی ہے تو یقینا اللہ اس کا گواہ ہوتا ہے اور فرشتے بھی اس کی گواہی دیتے ہیں ‘ لیکن انکار کرنے والوں پر اس گواہی کا کیا اثر ہوسکتا ہے ؟ انھیں اس بات کا کس طرح احساس ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وحی کے گواہ ہیں اور فرشتے بھی اس کی گواہی دے رہے ہیں لیکن جو آدمی تھوڑی سی بصیرت رکھتا ہے ‘ اس سے اللہ اور اس کے فرشتوں کی یہ گواہی مخفی نہیں رہ سکتی۔ ایک امی نبی کی زبان سے ایسے کلام کا جاری ہوجانا جس کا جواب لانا انسانی بس کی بات نہیں اور بڑے بڑے فصیح وبلیغ جس کے سامنے گنگ ہو کر رہ گئے پھر اس نبی کا ایک ایسے ماحول میں ہر لحاظ سے ایسی پاکیزہ زندگی گزارنا جس کا تصور بھی اس ماحول میں نہ کیا جاسکتا ہو اور پھر اس کے ہاتھ سے ایسے معجزات کا ظہور جس کے لیے صرف اللہ کے فرشتے ہی کافی ہوسکتے ہوں ‘ یہ اللہ اور اس کے فرشتوں کی گواہی نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اہل دنیا پیغمبر پر اترنے والی وحی کے بارے میں ہزار اشتباہات کا اظہار کریں ‘ یہ امر واقعہ ہے کہ خود پیغمبر کو کبھی اس میں اشتباہ لاحق نہیں ہوتا۔ وہ کلام الٰہی کو اپنے دل میں محسوس کرتا ہے اور فرشتوں کی آوازوں کو اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ وہ افق کے پار آیات الٰہی کو دیکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر ایک ایسا یقین پیدا ہوتا ہے کہ ساری دنیا کی مخالفتوں کے طوفان بھی اس میں تزلزل پیدا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ پیغمبر کا یہ یقین اور اطمینان بجائے خود ایک صاحب بصیرت کے لیے اللہ کی گواہی ہے۔ دنیا ساری بھی پیغمبر کو ماننے سے انکار کر دے لیکن پیغمبر کے اطمینان کے لیے اللہ کی گواہی کافی ہے۔ اور اس گواہی کے اثرات پیغمبر کے باطن پر محیط تو ہوتے ہی ہیں پیغمبر کے واسطے سے اس کا اثر مخالفین تک بھی پہنچتا ہے۔ وہ بیشک ایمان نہ لائیں لیکن اپنی زبان سے پیغمبر کو جھوٹا کہنے کی جرأت بہت کم کرتے ہیں۔ ان کی سرکشی اور نفرت انھیں جھکنے نہیں دیتی لیکن ان کے دل اس یقین سے بہرہ ور ہوتے ہیں کہ پیغمبر کی دعوت ایک سچی دعوت ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ ایسی یقینی اور کھلی دعوت کو بھی ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے خود بھی رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ‘ اب ان کو اس گمراہی سے نکالنے والا شاید کوئی نہ ہو۔ اور جن لوگوں نے اس دعوت کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا انھوں نے دراصل اپنے ساتھ ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی نہ مغفرت فرمائیں گے اور نہ انھیں اس الجھن سے نکلنے کا کوئی راستہ دیں گے ‘ اب ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے اور وہ جہنم کا راستہ ہے ‘ جس پر یہ چلتے ہوئے بالآخر جہنم رسید ہوجائیں گے۔
Ayah 4:170یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَ کُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط وَ اِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
” اے لوگو تمہارے پاس یہ رسول تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے پس ایمان لے آئو ‘ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اور اگر انکار کرتے ہو تو بیشک اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔ “ (النسآء : 170)
ایک عام تنبیہ جس میں روئے سخن نصاریٰ کی طرف ہے
اس آیت کریمہ میں اگرچہ خطاب تمام انسانوں سے ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن اہل کتاب کی طرف ہے اور ان میں بھی بطور خاص نصاریٰ کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تم نے آج تک اپنی شریعتوں میں نہ جانے کیسی کیسی تحریفات کی ہیں۔ اور تمہارے اہل علم جانتے ہیں کہ تم نے حق کو بےمیل نہیں رہنے دیا۔ صرف احکام ہی میں کمی بیشی نہیں کی بلکہ دین کے بنیادی تصورات تک بدل ڈالے۔ اللہ کے رسول کی حیثیت کو کیا سے کیا بنادیا۔ تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ رسول حق لے کر آیا ہے اور جن باتوں کو تم نے بگاڑ دیا تھا اس کو صحیح شکل و صورت میں واضح کر رہا ہے اور جن حقائق کو تم مسخ کرچکے ہو ان میں سے ایک ایک حقیقت کو دلائل وبراہین کے ساتھ تمہارے سامنے ثابت کر رہا ہے۔ اب تمہارے لیے یہی بہتر ہے کہ ایمان لے آئو۔ اللہ کے اس آخری رسول کو مانو اور آخری شریعت کو تسلیم کرلو۔ لیکن اگر تم اپنے مذہبی تعصبات کا شکار ہو کر ایمان لانے سے انکار کرتے ہو تو پھر یاد رکھو کہ تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑو گے کیونکہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی مخلوق اور اس کی مملوک ہے۔ اور کائنات کا ایک ایک انچ اس کے قبضے میں ہے اور ایک ایک مخلوق اس کے قابو میں ہے۔ تم اس کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ وہ سب کے اعمال سے واقف ہے اور جب جزاء و سزا دینے پر آئے گا تو اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔ لیکن اب اگر وہ پکڑنے میں جلدی نہیں کر رہا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ حکیم ہے ‘ ابھی اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ڈھیل دی جائے۔ اسی ڈھیل کی وجہ سے تمہیں مہلت ملی ہوئی ہے ‘ لیکن تمہیں اس میں دلیر نہیں ہونا چاہیے۔
Ayah 4:171یٰٓاَہْلَ الْکِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ ط اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہٗ ج اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ ز فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ قف وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ ط اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰـہٌ وَّاحِدٌ ط سُبْحٰنَہٓٗ اَنْ یَّکُوْنَ لَـہٗ وَلَدٌ م لَـہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا ع
” اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو مت کرو اور اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ ڈالو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ ہیں۔ جسے اس نے مریم کی طرف القا فرمایا۔ اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں ‘ پس اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو اور تثلیث کا دعویٰ نہ کرو۔ باز آجاؤ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔ معبود تو بس تنہا اللہ ہی ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ کافی کارساز ہے۔ “ (النسآء : 171)
عیسائیوں کا اصل روگ غلو ہے
اس آیت کریمہ میں اہل کتاب سے مراد نصاریٰ ہیں۔ انھیں خطاب کر کے ان کے ایک ایک غلط عقیدے کا ذکر فرمایا اور پھر اس کی اصلاح فرمائی ہے۔ یہ آیت کریمہ اتنی واضح ‘ اس قدر سہل اور اس قدر مدلل ہے کہ ہدایت حاصل کرنے والوں کے لیے اس ہدایت سے بڑھ کر شاید کہیں اور روشنی کا سامان نہ ہو۔ سب سے پہلے تو اصل مرض کی نشاندہی فرمائی گئی کہ غلو نہ کرو۔ غلو کہتے ہیں کہ دین میں جس چیز کا جو درجہ و مرتبہ یا جو وزن و مقام ہو اس کو بڑھا کر کچھ سے کچھ کردیا جائے۔ عیسائیوں کے تمام عقائد کی خرابی کا اصل سبب یہی ہے کہ یہود نے جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دشمنی میں غلو کیا تھا عیسائیوں نے اس سے بڑھ کر ان کی محبت میں غلو کیا۔ اور اس غلو کے نتیجے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عجیب و غریب عقائد اختیار کرلیے۔ اس لیے فرمایا کہ اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کسی اور بات کو منسوب نہ کرو۔ کیونکہ تم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ کی جانب جو باتیں منسوب کر رکھی ہیں وہ ہرگز حق نہیں۔ حق صرف یہ ہے کہ عیسیٰ ابن مریم ہیں۔ یعنی وہ حضرت مریم کے بیٹے اور اللہ کے رسول ہیں اور اس کے کلمہ ہیں۔ لیکن تم نے نہ جانے انھیں کیا سے کیا بنادیا ہے ؟ جو شخص ایک عورت کا بیٹا ہے وہ خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے اور جس عورت سے انسانی اولاد ہوتی ہے اور وہ دوسری عورتوں کی طرح کھاتی پیتی اور ان تمام عوارض اور لوازم کا شکار ہوتی ہے جس سے دوسری عورتیں دو چار ہوتی ہیں وہ عورت خدا کیسے ہوسکتی ہے ؟ پروردگار نے حضرت عیسیٰ کو کلمتہ اللہ فرمایا۔ تو اللہ کے کلمہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے اپنا حکم حضرت مریم کے رحم پر نازل فرمایا کہ کسی مرد کے نطفہ سے سیراب ہوئے بغیر حمل کا استقرار قبول کرلے۔ لیکن تم نے بیہودگی یہ کی کہ کلمہ کو حکم کے معنی میں لینے کے بجائے یونانی فلسفہ سے متأثر ہو کر کلام کے معنی میں لیا اور پھر اسے رفتہ رفتہ اللہ کی ذاتی صفت کلام میں بدل دیا۔ اور اس سے یہ قیاس کیا کہ اللہ کی اس ذاتی صفت نے حضرت مریم کے بطن میں داخل ہو کر وہ جسمانی صورت اختیار کی جو مسیح کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ اس طرح مسیح کو الوہیت کے مقام پر فائز کردیا۔ حالانکہ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو بغیرباپ کے محض اپنے کلمہ ” کُنْ “ سے پیدا فرمایا۔ اور اس میں کوئی تعجب کی بات نہ تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو کلمہ ” کن “ یعنی اپنے حکم سے پیدا فرمایا ہے۔ انسانوں کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) بھی کلمہ کن سے پیدا ہوئے ‘ حضرت عیسیٰ کے تو والد نہیں تھے والدہ تو تھیں لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) کے نہ والد تھے نہ والدہ۔ انھیں اللہ نے کلمہ کن سے پیدا فرمایا تو وہ نہ خدا کے بیٹے ہوئے اور نہ خدا ٹھہرے۔ لیکن حضرت عیسیٰ کو تم نے اسی کلمہ کا سہارا لے کر خدا بنا ڈالا۔
اس کے بعد دوسرا لفظ ہے ” روح منہ “ (کہ وہ اللہ کی جانب سے روح ہیں) اس سے عیسائیوں نے عقیدہ بنا لیا چونکہ انھیں خدا کی طرف سے ایک روح کہا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی روح ہیں۔ انھوں نے ” روح من اللّٰہ “ کو ” روح اللہ “ قرار دے دیا۔ اور اس کا مطلب یہ لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی روح مقدس تھی۔ جو مسیح کے اندر حلول کرگئی تھی۔ اس طرح اللہ اور مسیح کے ساتھ ایک تیسرا خدا روح القدس کو بنا ڈالا گیا۔ حالانکہ جس طرح اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) میں اپنی روح پھونکنے کا ذکر فرمایا ہے اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں فرشتوں کو اللہ نے حکم دیا ” نفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین “ (جب میں اس میں اپنی روح ڈال دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں اپنی روح ڈالی۔ تو اس سے روح القدس کے نام سے ایک خدا وجود میں آگیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) میں اپنی روح ڈالی تو ان کے بارے میں تو عیسائیوں نے ایسا کوئی عقیدہ اختیار نہیں کیا حالانکہ بات صاف ہے جس کو بھی زندگی ملتی ہے وہ اللہ کی روح کی نسبت سے ہی ملتی ہے۔ اسی روح کو اپنے خاص بندوں میں تعظیم و تکریم اور تقرب الٰہی کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ اپنی طرف نسبت دے دیتے ہیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اس نسبت سے شاید یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وہ پاکیزہ روح عطا کی ہے جو بدی سے ناآشنا ‘ سراسر حقانیت اور از سرتاپا فضیلت اخلاق کی حامل ہے۔
ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بھی باقی رسولوں کی طرح ایک رسول تھے اور تثلیث کے دعوے سے باز آجاؤ۔ معبود تو بس وہی ایک اللہ ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے ‘ نہ کوئی ہمسر۔ وہ اس بات سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو ‘ کیونکہ اولاد اپنے باپ کا عکاس ہوتی ہے اور باپ اپنی اولاد کی جوانی کا محتاج ہوتا ہے۔ اللہ ہر احتیاج سے پاک ہے۔ دنیا میں ہر چیز اس کی ملکیت ہے ‘ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ سب اس کے حکم کا اسیر ہے۔ ساری دنیا کی کارسازی کے لیے اللہ کی ذات تنہا کافی ہے۔ تم نے اس قسم کے بیہودہ تصورات آخر کس بنیاد پر پیدا کیے ؟ تمام رسولوں کی تعلیمات کو دیکھو تمہیں کہیں تثلیث کا سراغ نہیں ملے گا۔ تو آخر یہ فتنہ تم نے کہاں سے اختراع کرلیا ؟ جب وہ اپنی ذات اور صفات میں کامل اور اپنی خلق کی کارسازی کے لیے کافی ہے تو پھر تم نے شرک کی گنجائش کہاں سے نکالی ؟ لیکن عیسائیوں نے اپنے لیے ایک ایسی الجھن پیدا کرلی ہے اور اٹھارہ سو سال سے اس کے ایسے اسیر ہوئے ہیں کہ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔ وہ ایک طرف تو توحید کو مانتے ہیں کیونکہ انجیل میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اقوال صریح طور پر توحید کو ثابت کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ تثلیث کے بھی قائل ہیں انھوں نے مسیح اور روح القدس کی الوہیت کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے ساتھ شامل کر کے تثلیث کا عقیدہ گھڑ لیا ہے۔ ایک طرف توحید اور دوسری طرف تثلیث یہ ایک ایسی چیستان ہے جس کا کوئی حل ممکن نہیں۔ تین میں ایک اور ایک میں تین اس لایعنی بات کو کون سلجھا سکتا ہے۔ لیکن ایک پوری امت ہے جو اس پر اصرار کیے چلی جا رہی ہے۔
Ayahs 4:172–173لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَلَا الْمَلٰٓئِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط وَمَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْفَسَیَحْشُرُہُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَیَزِیْدُہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ج وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوْا وَاسْتَکْبَرُوْا فَیُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ لا وَّلَا یَجِدُوْنَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلِیًّا وَّ لَانَصِیْرًا
” مسیح (علیہ السلام) ہرگز عار نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے بندہ ہوں اور نہ مقرب ترین فرشتے۔ جو اللہ کی بندگی کو عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو اللہ ان سب کو اپنے پاس اکٹھا کرے گا۔ پس جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے تو اللہ انھیں ان کا پورا پورا اجر دے گا اور اپنے فضل سے انھیں مزید عطا کرے گا۔ اور رہے وہ لوگ جنھوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا پس اللہ ان کو عذاب دے گا دردناک عذاب۔ اور وہ اللہ کے بالمقابل نہ کسی کو اپنا دوست پائیں گے نہ مددگار۔ “ (النسآء : 172 تا 174)
قوموں کی گمراہی کا ایک سبب
قوموں کی گمراہی کا ایک سبب تو یہ رہا کہ ان کے پندارِ نفس اور غرور عقل نے انھیں اللہ کی ذات کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہ ہونے دیا۔ کائنات کی تخلیق کی اپنی عقل سے عجیب و غریب توجیہات کیں۔ اور اگر ان میں سے کسی نے اللہ کو بطور خالق تسلیم بھی کیا تو انسانی زندگی کے راہنما اور ضابطہ حیات دینے والے کی حیثیت سے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پیدا کر کے اور کائنات کو حرکت دے کر فارغ ہوگیا اب کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق اور خود انسان کو اپنی زندگی گزارنے کے لیے راہنما اصول اور ضوابطِ کار بنانے کا کام خو د سے انجام دینا ہے۔ اس کی عقل و دانش اس بات کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر بات کی حقیقت کو سمجھے اور زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے طریق کار طے کرے۔ اور جہاں کہیں دشواری پیش آئے باہمی مشاورت سے اس کا راستہ نکالے۔ لیکن ہرحال میں اسے زندگی اسی طرح اور اسی طریقے سے گزارنی ہے جس کی راہنمائی انسانی عقل مہیا کرے۔ یہ وہ طبقہ ہے جنھوں نے انسانی عقل و دانش کی حقیقت سمجھنے میں کوتاہی کی۔ اور اس پر وہ بوجھ ڈال دیا جس کی وہ متحمل نہیں ہوسکتی۔ اور اسے راہنمائی کے لیے زندگی کے ان دوائر میں کھینچ لیا گیا جو دوائر اس کی حدود سے ماورا اور اس کی رسائی سے بالا تھے۔ نتیجہ معلوم ہے کہ اس طرح سے انسان نے قدم قدم پر ٹھوکریں کھائیں اور ایسے ایسے فیصلے کیے جس نے انسانیت کی قسمت کھوٹی کردی۔
دوسرا سبب
انسانوں کی دوسری قسم یا دوسرا طبقہ وہ ہے جنھوں نے اس بات کو تو تسلیم کیا کہ عقل و دانش کی راہنمائی محسوسات اور معقولات میں تو کام دے سکتی ہے لیکن ما بعد الطبیعات اور عالم غیب سے تعلق رکھنے والے مسائل میں اس کی راہنمائی نہ صرف ناکافی ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اس لیے ان مسائل کے حل کے لیے یہ لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اس کی نازل کردہ کتابوں کو تسلیم کیا۔ ان میں سے جو لوگ جادہ مستقیم پر قائم رہے اور مذہب کی ہدایات کو علی حالہٖ اور کما حقہ تسلیم کیا وہ تو اللہ کی طرف سے ہدایت پر ہیں ‘ اللہ ان کی دنیا میں بھی مدد فرماتا ہے اور آخرت میں بھی ان کو سرخرو فرمائے گا۔ لیکن ان میں سے ایسے لوگوں کی بھی بڑی تعداد ہے جو اپنے انبیاء اور مذہبی راہنمائوں کو مان لینے کے بعد انکی دی ہوئی ہدایات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور پھر ان کی عظمت اور ان کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے ایسے غلو کا شکار ہوتے ہیں کہ اللہ کا نام تو برائے وزن بیت رہ جاتا ہے ساری عقیدتوں اور محبتوں کا مرکز ذات نبوت بن جاتی ہے۔ ان میں وہ ایسے ایسے خصائص ‘ ملکات اور صلاحیتوں کو تسلیم کرنے لگتے ہیں جن کا رشتہ اللہ کی صفات سے ہے۔ بعض دفعہ تو انھیں خدا ہی قرار دے دیتے ہیں ‘ لیکن اگر گمراہی میں اتنی دور نہیں بھٹکتے تو خدا کی صفات میں شرکت تو ان لوگوں کے نزدیک نبوت یا بزرگی کا لازمہ ہے۔ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی محیر العقول پیدائش ‘ آپ کا پنگوڑھے میں باتیں کرنا اور نبوت کے اعلان کے بعد آپ کے حیرت انگیز معجزات ان کے غلو کا سبب بنے۔ اور انھوں نے یقین کرلیا کہ جس ذات میں ایسی خارق عادت صفات پائی جاتی ہیں وہ اگر خدا نہیں تو خدا کا بیٹا اور خدا جیسا ضرور ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایسی عظمتوں کی مالک شخصیت اللہ کی بندہ کہلائے اور اس کی بندگی بجا لائے۔ چناچہ یہ لوگ بشریت اور عبدیت کو ایک کمتر مرتبہ سمجھ کر اپنی ممدوح شخصیت کو اس سے بالا قرار دینے کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔ عیسائی تو اس غلو کی سب سے اعلیٰ مثال ہیں لیکن باقی امتیں بھی اس فتنہ سے محفوظ نہ رہیں۔ ان کے لیے ہمیشہ یہ بات فتنہ کا باعث بنی رہی کہ اللہ کا نبی اپنی ایسی ایسی عظمتوں کے باوجود اللہ کا بندہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ یقینا اللہ کے بندوں سے کسی برتر مقام کا حامل ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو قوموں کے لیے مزلہ قدم بنی اور یہیں پہنچ کر پائوں پھسلنے لگتے ہیں۔ امت مسلمہ کو دیکھ لیجیے باوجود اس کے کہ انھیں حامل دعوت امت قرار دیا گیا اور توحید کی امانت ان کے سپرد کی گئی اور قرآن کریم نے سب سے زیادہ زور کلمہ توحید کے تحفظ پر دیا اور جن جن راہوں سے گمراہی پید اہو سکتی تھی وہیں وہیں نشاندہی فرما کر بچنے کی تلقین فرمائی۔ باایں ہمہ امت مسلمہ آج جس طرح اس میدان میں ٹھوکریں کھا رہی ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ آنحضرت ﷺ اس حقیقت سے پوری طرح بہرہ ور تھے ‘ اس لیے آپ نے اپنے مرض الوفات میں بار بار اس کی طرف توجہ دلائی اور یہود و نصاریٰ پر بیماری کے دوران آپ ﷺ لعنت فرماتے رہے کہ ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ عیسائیوں کی گمراہیوں کی طرف آپ ﷺ نے بطور خاص متوجہ فرمایا جسے حالی مرحوم نے نظم کرتے ہوئے لکھا ؎
تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا
کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا
مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا
بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا
سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ
اسی طرح میں بھی ہوں اک اس کا بندہ
مجھے حق نے دی ہے بس اتنی بزرگی
کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی
مقام بندگی
ایک روایت میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ معراج کی رات مقام قرب کی انتہا تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا ” بِمَآ اُشَرِّفُکَ یَا مُحَمَّد “ ( اے محمد ﷺ ! میں آج تجھے کس اعزاز سے مشرف کروں ؟ ) تو حضور نے عرض کی ” بِنِسْبَتِیْ اِلَیْکَ بِالْعَبُوْدِیَّۃِ “ (مجھے اپنا بندہ ہونے کا شرف عطا فرما) شاید یہی حکمت ہے کہ جس آیت میں معراج کا ذکر ہے وہاں حضور ﷺ کو اپنا بندہ کہہ کر ذکر فرمایا گیا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اسی حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ تم نے مسیح اور بعض مقرب فرشتوں کو اللہ کے ساتھ شریک کردیا اور تمہیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ وہ اپنی اس قدر بڑائی کے باوجود پھر بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہیں۔ فرمایا تمہیں تو یہ بات عجیب اس لیے لگتی ہے کہ تمہیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ انبیاء کرام ‘ فرشتوں اور بزرگانِ دین کو جو عظمتیں نصیب ہوتی ہیں وہ ان کی بندگی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ وہ جیسے جیسے اللہ کی بندگی میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں ‘ ویسے ویسے ان کے مقامات بلند ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ عبدیت ہی چونکہ مقاماتِ عظمت کا مقدمہ ہے اور یہی تمام عظمتوں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کی بندگی بجا لانے اور اللہ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنے سے انکار ہو۔ اور وہ اس بات کو اپنے لیے عار سمجھیں۔ جو چیز ان کے لیے وجہ شرف ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص بھی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کو اپنے حضور اکٹھا کریں گے۔ کاش تم اس دن انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھو کہ اس وقت ان کی کیا کیفیت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ انھیں کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھے گا ” لِمَنِ الْمُلْکَ الْیَوْمِ “ (بتائو آج کس کی حکومت ہے ؟ ) سروری ‘ بڑائی اور عظمت کا مالک بتائو آج کون ہے ؟ آج کہاں ہیں تکبر کرنے والے اور کہاں ہیں وہ جن کو تم عبدیت سے بالا سمجھتے تھے ؟ تب سب اللہ کے حضور لرزاں و ترساں کھڑے ہوں گے اور اللہ کے جلال سے کانپ رہے ہوں گے۔ اس روز وہ لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے اور بعض ایسے ہوں گے جن پر اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزاری۔ ان کا ایک ایک لمحہ اللہ کی فرمانبرداری میں گزرا انھیں اللہ تعالیٰ ان کے ایمان و عمل کا نہ صرف پورا پورا بدلہ دے گا بلکہ اپنے فضل و کرم سے اس بدلے میں اضافہ بھی کرے گا لیکن جن لوگوں نے اللہ کی بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا اللہ ان کو ایسا عذاب دے گا کہ خود عذاب بھی اس سے تکلیف محسوس کرے گا۔ وہاں یہ لوگ چیخیں گے اور مدد کے لیے ان ہستیوں کو پکاریں گے جنہیں وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے لیکن وہ کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہیں پائیں گے۔ اس دن کوئی بھی اللہ کے جلال کے سامنے دم نہیں مار سکے گا۔
Ayahs 4:174–175یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ کُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَاعْتَصَمُوْا بِہٖ فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ لا وَّیَھْدِیْہِمْ اِلَیْہِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ط
” اے لوگو ! آگئی تمہارے پاس ایک روشن دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور ہم تم پر ایک کھلا ہوا نور نازل کرچکے ہیں۔ تو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے انھوں نے مضبوط پکڑا اللہ انھیں ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور انھیں ہدایت کرے گا اپنی طرف سیدھے راستے کی۔ “ (النسآء : 174 تا 175)
برہان اور نور سے مراد
اس آیت کریمہ میں خطاب تو پوری نوع انسانی کو ہے لیکن اس سے پہلے کی آیات میں چونکہ نصاریٰ کے باطل عقائد پر تنقید کی گئی ہے اس لیے روئے سخن ان کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے تمام دنیا کے لوگو ! اور خاص طور پر عیسائیو ! تمہاری طرف تمارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آگئی ہے۔ اور ہم نے تمہاری طرف ایک واضح روشنی اور نور بھی نازل کیا ہے۔ یہاں روشن دلیل سے مراد آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اور نور مبین سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم اپنی ہدایت اور حکمت کے ساتھ دل و دماغ کی گتھلیاں سلجھاتا ‘ الجھنیں دور کرتا اور اڑچنوں کے بل نکالتا ہے۔ انسان بعض دفعہ جدید مسائل کے حل میں علم کی مختلف وادیوں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسے بار بار پڑھتا ہے اور اس کی گہرائیوں میں ڈوب کر غور و فکر کرتا ہے تو اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ تقریبا ً ڈیڑھ ہزار سال پہلے آنے والی کتاب بعض دفعہ چند جملوں میں لا ینحل عقدوں کو کھول کر رکھ دیتی ہے۔ اور دل و دماغ کی تاروں کو اس چابک دستی سے چھیڑتی ہے کہ تمام اڑچنیں اور الجھنیں کافور ہوجاتی ہیں۔ اور پھر ایک ایسا مرتب اور منظم ضابطہ حیات عطا کرتی ہے جس کے کسی شعبے میں اندھیرے کے سائے باقی نہیں رہتے۔ اور جہاں تک تعلق ہے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی کا تو وہ قرآن کریم جیسی حکمت و دانش کی کتاب کو عملی شکل اس کامیابی سے عطا فرماتے ہیں کہ کتاب کی حکمت و دانش زندگی میں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ جن مغیبات کو عقل تسلیم کرنے سے عاجز ہے ‘ ذات نبوت کا یقین و ایقان ان کی قبولیت کے لیے آمادگی پیدا کرتا ہے اور راہ حق کے مسافر کو جب کبھی مشکلات کا سامنا کرنا دشوار محسوس ہونے لگتا ہے تو آنحضرت ﷺ کی استقامت اور آپ ﷺ کا اطمینان روشنی کا سامان کرتا ہے۔ اہل کتاب بصیرت کھو چکے ‘ اپنے پیغمبروں کی سنت گم کرچکے۔ اللہ کی کتاب کو بازیچہ اطفال بنادیا۔ اور خواہشات کی دلدل میں ایسے دھنسے کہ نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی ان کی راہنمائی کے لیے موجود ہے۔ اور قرآن کریم جیسی کتاب آئین ‘ قانون ‘ تہذیب اور اخلاق کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے میسر ہے۔ اب بھی اگر علم و حکمت کے ان سرچشموں اور راہنمائی کے روشن میناروں سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا تو زندگی اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔ اور انسانیت کی ایک ایک قدر دم توڑ جائے گی۔
Ayah 4:176یَسْتَفْتُوْنَکَ ط قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ ط اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗٓ اُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ ج وَھُوَ یَرِثُہَآ اِنْ لَّمْ یَکنْ لَّہَا وَلَدٌ ط فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ ط وَاِنْ کَانُوْٓا اِخْوَۃً رِّجَالًا وَّ نِسَآئً فَلِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ط یُبَبِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ ع
” اے پیغمبر لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے کلالہ (کی میراث) کے بارے میں۔ اگر کوئی ایسا آدمی فوت ہوجائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو بہن کا نصف حصہ ہے اس کے ترکہ میں سے اور وہ اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر اس بہن کی کوئی اولاد نہ ہو۔ پھر اگر دو بہنیں ہیں تو ان دونوں کو دو تہائی ملے گا ا س سے جو اس نے چھوڑا اور اگر وارث ہوں بہن بھائی مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد (بھائی) کا حصہ دو عورتوں (بہنوں) کے حصہ کے برابر ہے۔ بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تاکہ گمراہ نہ ہوجاؤ۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ “ (النسآء : 177)
کلالہ سے متعلق سوال کا جواب
اس سے پہلے کی آیت پر سورة النسآء مکمل ہوگئی۔ یہ آیت کریمہ احکامِ میراث کے ایک خاص مسئلہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہاں اسے بطور ضمیمہ لگایا گیا ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں احکامِ میراث میں کلالہ کی میراث کا ذکر بھی آیا ہے۔ لوگوں نے اس سلسلے میں بعض سوالات کیے جس سے ان کی تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان سوالات کی وضاحت کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس نے کلالہ کے مسائل کو مکمل کردیا۔ لیکن اس کا نزول سورة النسآء کی تکمیل کے کئی سال بعد ہوا۔ کلالہ کی تعریف کے بارے میں صحابہ ( رض) میں اختلاف رہا۔ بعض کی رائے میں کلالہ وہ شخص ہے جو بےاولاد بھی ہو اور جس کے باپ اور دادا بھی زندہ نہ ہوں۔ اور بعض کے نزدیک کلالہ اسے کہتے ہیں جس کی اولاد نہ ہو ‘ باپ دادا بیشک زندہ ہوں۔ حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے پہلی تعریف کے حق میں رائے دی۔ اس پر صحابہ کا تقریبا ً اتفاق ہوگیا اور قرآن پاک سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ کیونکہ اس آیت کریمہ میں کلالہ کی بہن کو اس کی میراث میں نصف حصہ دیا گیا ہے۔ احکامِ میراث کی رو سے اگر باپ زندہ ہوتا تو بہن کو کوئی حصہ نہیں ملتا۔ تو بہن کا نصف حصہ اس بات کی دلیل ہے کہ کلالہ وہی ہوتا ہے جس کے اصول و فروع میں کوئی بھی نہ ہو۔ اس سے پہلے سورة النسآء میں کلالہ کی بہن کو چھٹا حصہ دیا گیا ہے اور یہاں نصف دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بہن سے مراد حقیقی بہن ہے اور یا وہ بہن مراد ہے جو باپ کی طرف سے ہو اور وہاں جس بہن کے حصے کا ذکر ہے وہ وہ بہن ہے جو ماں کی طرف سے ہو۔ اور علم الفرائض کی زبان میں کہنا چاہیے کہ سورة النسآء میں اخیافی بہن کا ذکر ہے اور یہاں عینی اور علاتی بہن کا ذکر ہے۔ اور دونوں کا حصہ الگ الگ ہے۔ بہن کو نصف حصہ دینے کے بعد بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہوا یعنی چچا ‘ چچا زاد بھائی وغیرہ تو ان کو ملے گا ورنہ یہ نصف بھی بہن کی طرف لوٹ آئے گا۔
اور اگر دو بہنیں ہوں تو انھیں وراثت میں سے دو تہائی ملے گا۔ اور بقیہ ایک ثلث عصبہ کو ملے گا اور اگر عصبہ کوئی نہ ہو تو پھر یہ تیسرا ثلث بھی انہی دونوں بہنوں کو ملے گا۔ اور یہ یاد رہے کہ بہنیں دو ہوں یا دو سے زیادہ سب کا ایک ہی حکم ہے۔
اگر کلالہ کے وارثوں میں بھائی اور بہن دونوں ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے یہ تمام احکام کھول کر بیان کردیے ہیں تاکہ تم کسی گمراہی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ اور سورة النسآء میں احکامِ میراث کا تین جگہ ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عربوں میں چونکہ احکامِ میراث کے معاملے میں بہت افراط وتفریط تھی۔ اور کمزور وارث ظلم کا شکار ہوتے تھے اس لیے قرآن کریم نے تین جگہ ان مسائل کو بیان فرمایا تاکہ مسلمان کسی گمراہی کا شکار نہ ہوں۔ لیکن اس بات پر جتنا بھی دکھ کا اظہار کیا جائے تھوڑا ہے کہ آج مسلمان میراث کی تقسیم میں نہ صرف گمراہی میں مبتلا ہوگئے بلکہ کمزور وارثوں کے ساتھ انھوں نے بھی ظلم کا رویہ اختیار کرلیا۔ صنف نازک اس وقت بھی محرومی کا شکار تھی اور اسلام نے اس کی محرومیوں سے اسے نجات دی اور آج پھر عملی طور پر اسے میراث سے محروم کردیا گیا ہے۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یعنی تمہیں جو نظام زندگی دیا جا رہا ہے اور احکامِ میراث جو تم پر نافذ کیے گئے ہیں یہ کسی ایسے قانون ساز کی تخلیق نہیں جس کی معلومات ناقص اور جس کا علم نارسا ہو۔ بلکہ یہ اس پروردگار کے نازل کردہ احکام ہیں جو ہر حکم کی رعایتوں اور مصلحتوں سے واقف ہے۔