Ayahs 4:69–70ایک اہم حقیقت
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ الخ اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ روئے سخن منافقین کی طرف ہی ہے اگرچہ خطاب کسی کو نہیں۔ انھیں کو سنا کر کہا جا رہا ہے کہ تمہیں اندازہ نہیں کہ تمہیں آج تک جن لوگوں کے ساتھ چلنے کا اتفاق ہوا ہے اور جن کی نسبتوں کو کسی طرح ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہو اور جن کی رفاقتیں تمہارے لیے حاصل زندگی ہیں ‘ وہ کس طرح کے اور کس قماش کے لوگ ہیں ؟ ان میں ایک ایک آدمی مال پر جان دینے والا ‘ حبِّ جاہ کا مریض ‘ اپنی ذات کے گنبد میں بند اور اپنی ہی قوم کے حصار میں محدود رہنے والا ہے۔ ہر شخص کی اپنی اپنی عصبیتیں ہیں ‘ جنھیں وہ چھوڑنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ بظاہر نظر آنے والی رفاقتیں حقیقت میں مفادات کے بندھن ہیں۔ جیسے ہی یہ ٹوٹتے ہیں یا ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں تو تمام تعلقات دھرے رہ جاتے ہیں۔ کل کے دوست آج کے دشمن دکھائی دیتے ہیں۔ تمہیں اگر اپنی مذہبی عصبیت اور قومی تفاخر نے اندھا نہیں کردیا تو تم ہر چیز اپنی نگاہوں سے دیکھ سکتے ہو۔ لیکن اسلام کی دعوت کے بعد جس گروہ اور قوم کے ساتھ تمہیں وابستہ ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے اور تمام رشتے توڑ کر جس نئے رشتے کو قبول کرنے کے لیے تمہیں ترغیب دی جارہی ہے تمہیں اندازہ ہی نہیں کہ ان میں سے ایک ایک فرد کس سیرت و کردار کا حامل ہے اور اس قافلے کا ایک ایک راہی کس طرح اپنے دوسرے رفیقانِ سفر پر جان دیتا ہے۔ دنیا میں ان کی رفاقت بھی سب سے بڑی متاع ہے۔ لیکن آخرت میں ان کی رفاقت کے مقام و مرتبہ کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح پتھر اور لوہے سے رشتہ جوڑنے والا ہمیشہ ڈوبتا ہے اور تم موجودہ وابستگیوں کے سبب ڈوبتے جا رہے ہو اور جس طرح لکڑی سے رشتہ جوڑنے والا ہمیشہ تیرتا ہے اسلام اور مسلمانوں سے وابستگی دنیا کے خوفناک سمندر میں تیرنے کا سب سے محفوظ ذریعہ ہے۔ اور آج جو لوگ اس سے وابستہ ہوچکے ہیں انھیں غور سے دیکھو کس طرح ان میں سے ایک ایک آدمی پارس بن چکا ہے اور کس طرح ایک ایک شخص بقعہ نور بن کر تاریکیوں میں روشنی کا سامان کر رہا ہے اور یہ پورا قافلہ روشنی کی قندیلوں کی طرح خود بھی روشنی میں سفر کر رہا ہے اور دوسرے لوگوں کے راستوں کو بھی روشن کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ چناچہ اسی دوسرے قافلے کی خبر اس آیت کریمہ میں دی گئی ہے کہ اس قافلے والوں کا بنیادی اثاثہ اللہ اور رسول کی اطاعت ہے۔ جو شخص بھی چاہے وہ عربی ہو یا عجمی ‘ کالا ہو یا گورا ‘ اللہ اور رسول کی اطاعت میں شریک ہو کر اس قافلے کا رفیق بن جاتا ہے تو اس کی قسمت کو ایسے چار چاند لگ جاتے ہیں کہ اس کے آگے چلنے والے لوگ اللہ کے نبی ہوتے ہیں اور اس کے دائیں بائیں صدیقوں ‘ شہیدوں اور صالحین کا گروہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ ہر طرف سے اپنے آپ کو اس قدرمحفوظ پاتا ہے جس کا دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور یہ رفاقت کہیں ٹوٹنے والی نہیں۔ یہ لوگ دنیا میں جیتے ہیں تو اکٹھے ‘ مرتے ہیں تو اکٹھے۔ آخرت میں رہیں گے تو تب بھی ایسے ہی عظیم لوگوں کا ساتھ ہوگا۔ ان میں سے انبیائِ کرام کے تعارف کی تو ضرورت نہیں۔
صدیق کا تعارف
البتہ صدیق جس کی جمع صدیقین ہے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا لغوی معنی نہایت راست باز اور راست گفتار ہے۔ اللہ کے مقاماتِ قرب میں سے اللہ کے نبیوں کے بعد یہ شائد سب سے بڑے مقام کا نام ہے۔ شیخ محمد عبدہ لکھتے ہیں ھم الذین زکت فطرتہم و اعتدلت امزجتہم و صفت سرائرہم حتیٰ انہم یمیزون بین الحق والباطل والخیر والشر بمجرد عروضہ (صدیقین وہ لوگ ہیں جن کی فطرت اور جن کا باطن ہر گرد و غبار سے یوں پاک صاف ہوتا ہے کہ جب ان پر حق پیش کیا جاتا ہے تو بےساختہ اس کو قبول کرلیتے ہیں۔ خیر و شر کے درمیان انھیں التباس نہیں ہوتا بلکہ جیسے نگاہ سیاہ وسفید کے درمیان بےتکلف امتیاز کرلیتی ہے اسی طرح وہ حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کرلیتے ہیں) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صداقت پسندی اور حق پرستی کے اس معیار پر ہوتے ہیں اور ان کی طبیعت اس قالب میں اس طرح ڈھل جاتی ہے کہ وہ جب بھی چلتے ہیں تو صاف اور سیدھے راستے پر اور جب بھی ساتھ دیتے ہیں تو حق و انصاف کا اور جس چیز کو حق کے خلاف پاتے ہیں اس کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی ( رح) نے اس بات کو واضح کرنے کے لیے کہ صدیق کا مزاج رسول کی تربیت میں رہ کر رسول کے مزاج کا پرتو بن جاتا ہے۔ ایک مثال سے واضح کیا ہے۔ فرمایا اس کو یوں سمجھو کہ اللہ کے نبی قد آدم آئینہ کے سامنے کھڑے ہیں اور آئینہ میں ان کا عکس دکھائی دے رہا ہے۔ وہ عکس نبی نہیں بلکہ نبی کا عکس ہے۔ اور اگر اس عکس کی کوئی محسوس اور مجسم مثال دیکھنی ہو تو اسے صدیق کہا جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے جس نے بھی کہا ٹھیک کہا ؎
صدیق عکس حسن کمال محمد است
صدیق ہونے کا یہ مرتبہ یوں تو کئی صحابہ کو حاصل تھا ‘ لیکن صدیق اکبر صرف حضرت ابوبکر ( رض) ہی تھے۔ ان کی زندگی کے وہ شب و روز جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ گزرے اور وہ ماہ و سال جو آپ ( رض) نے بطور خلیفۃ الرسول ﷺ کے گزارے ‘ ان کا ایک ایک لمحہ آپ ( رض) کے اس مقام کی خبر دیتا ہے۔ آپ ( رض) کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی تو آپ ( رض) نے بےتأمل حضور ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا۔ آپ ( رض) نے معراج کی خبر سنی تو بغیر کسی تردد کے اس کی تصدیق کی۔ معاہدہ حدیبیہ پر تمام صحابہ کرام کو دلی رنج پہنچا ‘ لیکن ایک آپ ( رض) تھے کہ آپ ( رض) کو کوئی تردد نہ تھا بلکہ آپ ( رض) نے حضرت عمر فاروق ( رض) کے سوال کرنے پر تیکھے انداز میں کہا تھا کہ ” بھلے آدمی حضور کے دامن سے وابستہ رہو ‘ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ‘ آپ ﷺ کوئی کام اللہ کے حکم کے بغیر نہیں کرتے۔ “ اور دور خلافت میں آپ ( رض) کا ایک ایک قدم ‘ آپ ( رض) کے مقام و مرتبہ کا عکاس تھا۔ آپ ( رض) نے ایسے ایسے اقدامات بھی کیے کہ جلیل القدر صحابہ تک ان کی افادیت و حکمت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ لیکن بارگاہِ نبوت ﷺ کے اس مجذوب کا ایک ایک فیصلہ ہم آہنگ تقدیر ثابت ہوا۔ آپ ( رض) کی زندگی کے حالات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صدیق اکبر کا مقام و مرتبہ کیا ہوتا ہے۔ اور ایک انسان ‘ انسان ہوتے ہوئے نبی کے بعد جس اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے اس اعلیٰ مقام کا حامل کس طرح کا شخص ہوتا ہے۔
شہید کا تعارف
اس قافلے کا تیسرا اہم فرد شہید کہلاتا ہے ‘ جس کی جمع شہداء ہے۔ امام رازی (رح) تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں الشہید فعیل بمعنی الفاعل وھو الذی یشہد بصحۃ دین اللہ تارۃ بالحجۃ والبیان واخری بالسیف والسنان و یقال للمقتول فی سبیل اللہ شہید من حیث انہ بذل نفسہ فی دین اللہ و شہادتہ لہ بانہ الحق و ماسواہ الباطل (شہید کا وزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ وہ شخص جو کبھی نور برہان اور قوت بیان سے اور کبھی شمشیر وسنان سے دین الٰہی کی حقانیت کی شہادت دے ‘ وہ شہید کہلاتا ہے۔ اور راہ حق میں قتل ہونے والے کو اسی مناسبت سے شہید کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر کے دین کی حقانیت کی گواہی دی) ۔
انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کی جان ہے۔ وہ ہر چیز کو جان کی حفاظت کے لیے قربان کردیتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اس کی جان ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔ لیکن جب اللہ کے دین کی حفاظت کا سوال درپیش ہو اور اللہ کے دین کی حقانیت ثابت کرنا پیش نظر ہو تو وہ اس کی خاطر جان دے کر یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اپنی جان سے بھی زیادہ اللہ کے دین کو قیمتی متاع سمجھتا ہوں۔ اس کی خاطر سب کچھ لٹایا جاسکتا ہے۔ چناچہ یہ اپنی جان دے کر اللہ کے دین کے برحق ہونے کی ایک ایسی دلیل قائم کر جاتے ہیں جنھیں دنیا کی کوئی دلیل اور کوئی پر اپیگنڈہ غلط ثابت نہیں کرسکتا۔
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کنند ایں عاشقانِ پاک طینت را
صالح سے کون مراد ہے ؟
اس قافلے کا چوتھا ہمسفر الصالح ہے جس کی جمع الصالحین ہے۔ صالح سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے خیالات اور عقائد میں ‘ اپنی نیت اور ارادوں میں اور اپنے اقوال و افعال میں راہ راست پر قائم ہوجائے اور جو زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی شریعت کی راہنمائی میں فیصلہ کرنے اور عمل کرنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ کو اس کا پابند سمجھے۔
وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا (اور کیا ہی اچھے ہیں یہ ساتھی) یہاں بظاہر رفیق کی جگہ رفقا کا لفظ آنا چاہیے تھا کیونکہ رفقائے سفر چار قسموں پر مشتمل ہیں۔ لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ رفیق ان الفاظ میں سے ہے جو واحد ‘ جمع اور جنس سب معنی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تو یہاں رفیق اگرچہ واحد ہے لیکن معنی میں رفقا کے ہے۔ جس شخص کو دنیا میں اور آخرت میں ایسے رفیقانِ سفر ملیں یا وہ ایسے عظیم قافلہ کا ایک فرد بننے کی سعادت حاصل کرسکیے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ
یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
شانِ نزول
دنیا کی چند روزہ زندگی کے لیے آدمی بہترین رفیقہ سفر اور بہترین احباب کا انتخاب کرتا ہے اور جس کو یہ نعمتیں میسر آجاتی ہیں اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی خوش نصیب آدمی ہو۔ اسی طرح آخرت کی ابدی زندگی میں بھی یقینا ہر صالح آدمی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ جنت میں ایسے عظیم لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع عطا فرمائے۔ پیغمبر تک یہ دعا کرتے رہے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی دعا سورة یوسف میں موجود ہے تَوَفَّنِیْ مُسْلِماً وَاَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَاس لیے صحابہ کرام بھی انتہائی خواہش رکھتے تھے کہ جس طرح ہمیں دنیا میں آنحضرت ﷺ کی زیارت اور خدمت کی سعادت میسر ہے کاش جنت میں بھی یہ نعمت ہمیں میسر آئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ثوبان آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی۔ آنحضرت ﷺ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا ” یا رسول اللہ ! کوئی جسمانی تکلیف نہیں ‘ نہ کوئی گھر کی پریشانی ہے۔ البتہ ایک سوچ ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتی۔ وہ یہ کہ جب آپ ﷺ کا رخ زیبا آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے دنیا اندھیر ہوگئی۔ میں فوراً زیارت کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا ہوں ‘ لیکن مجھے رہ رہ کے یہ خیال آتا ہے کہ اگر اللہ نے مجھے جنت کی نعمت سے بہرہ ور فرمایا تو وہاں تو آپ ﷺ اپنے مقام بلند میں ہوں گے اور یہ عاجز جنت کے کسی گوشہ میں پڑا ہوگا۔ وہاں اگر یہ آنکھیں آپ ﷺ کی زیارت سے مشرف نہ ہو سکیں تو جنت میں بھی کیا جی لگے گا۔ جنت تو حقیقت میں وہ ہے جس میں محبوب کا دیدار نصیب ہو۔ یہ وہ سوچ ہے جو مجھے ہر وقت پریشان رکھتی ہے۔ “ حضور ﷺ یہ سن کر خاموش ہوگئے۔ لیکن کچھ دیر بعد جبرائیل امین یہ آیت کریمہ لے کر نازل ہوئے اور اس میں امت کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ یہ رسول اللہ ﷺ سے اطاعت کا رشتہ رکھنے والے انشاء اللہ جنت میں آنحضرت ﷺ کی معیت و وصال سے محروم نہیں رہیں گے۔ ایسا ہی ایک اور واقعہ صحیح مسلم میں روایت کیا گیا ہے کہ حضرت کعب بن اسلمی ( رض) اکثر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہتے تھے۔ ایک رات تہجد کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں وضو کا پانی ‘ مسواک اور دیگر ضروریات پیش کیں تو آپ ﷺ نے خوش ہو کر فرمایا ” مانگو کیا مانگتے ہو ؟ “ کعب اسلمی ( رض) نے عرض کیا ” حضور ! میں جنت میں آپ ﷺ کی صحبت چاہتا ہوں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” اور کچھ ؟ “ تو انھوں نے عرض کیا ” اور کچھ نہیں۔ “ اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ” اگر تم جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو اَعِنِّی عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوُدِ (تم نوافل کی کثرت سے میری مدد کرو) انشاء اللہ تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا “۔ اور بھی ایسے خوش نصیب لوگوں کا تذکرہ حدیث میں ملتا ہے جنھوں نے آنحضرت ﷺ سے اس سعادت کے حصول کی خواہش کی۔
آخری آیت کریمہ میں فرمایا کہ ایمان و عمل کا سرمایہ جتنا کسی خوش نصیب کے پاس ہوگا وہ یقینا اتنا ہی بہتر سے بہتر اجر وثواب سے نوازا جائے گا ‘ لیکن انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کی معیت اور رفاقت ‘ یہ اللہ کا وہ فضلِ خاص ہے جسے وہ چاہے گا عطا فرمائے گا۔ اور اللہ کا علم یہ جاننے کے لیے کافی ہے کہ کون خوش نصیب اس سعادت سے نوازا جانے کے قابل ہے۔ اس لیے اللہ اور رسول کی اطاعت اور محبت کے ساتھ ساتھ ہمیشہ اس سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ یا اللہ ! ہم مقدور بھر آپ کی اور آپ کے رسول پاک کی اطاعت و محبت کا حق ادا کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اس پر بھروسہ نہیں۔ ہم آپ کے فضل کے امیدوار ہیں۔ اگر آپ نے کرم فرمایا تو بخشش بھی ہوجائے گی اور متذکرہ بالا صحبت مبارک سے بھی نوازے جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔
Ayah 4:71یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَکُمْ فَانْفِرُوْا ثُـبَاتٍ اَوِانْفِرُوْا جَمِیْعًا
(اے ایمان والو ! ہوشیار رہو (اپنے اسلحہ سنبھالو) اور جہاد کے لیے نکلوٹکڑیوں کی صورت میں یا جماعتی شکل میں) (النسآء : 71)
آیت کا پس منظر
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات کریمہ جنگ احد کے بعد نازل ہوئی ہیں۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو مسلمانوں کی اپنی غلطیوں کے باعث بظاہر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کے ستر جلیل القدر اور بہادر صحابہ شہید ہوگئے۔ مشرکینِ مکہ اگرچہ اس شکست سے فائدہ نہ اٹھا سکے ‘ لیکن مدینہ کے اطراف و اکناف میں رہنے والے قبائل کے حوصلے ضرور بڑھ گئے۔ اور قریش کو بھی اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ انھوں نے اپنی اس عارضی عزت اور شہرت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلمانوں کے خلاف اپنی کوششوں کا دائرہ وسیع کردیا۔ جو لوگ مسلمانوں کی طاقت کے خیال سے دبے ہوئے تھے انھوں نے پر پرزے نکالنے شروع کردیے۔ جا بجا مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہونے لگیں۔ جنگ میں شکست کے باعث جو زخم لگے تھے ابھی وہ مندمل نہ ہونے پائے تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اپنے وقار کی بحالی اور اسلام کی عزت و حرمت کی بقا کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ان ناگفتہ بہ حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے قرآن کریم نے ان آیات میں مسلمانوں کو کچھ ہدایات دی ہیں۔
مشکل الفاظ کی تشریح
ان ہدایات کو ذکر کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ چند مشکل الفاظ کی تشریح کردی جائے۔ آیت میں ’ ’ حذر “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ” حِذْرٌ و حِذَرٌ“ دونوں ہم معنی ہیں۔ کسی خوفناک چیز سے چوکنا اور ہوشیار رہنے کو حذر کہتے ہیں۔ خُذُوْا حِذْرَکُمْ کا معنی ہوگا کہ اپنی احتیاط اور ہوشیاری کو پوری طرح بروئے کار لائو یعنی ہوشیار رہو۔ بعض اہل علم کے نزدیک حِذرْ کا اطلاق اصلاً تو دفاعی آلات پر ہوتا ہے جیسے زرہ بکتر ‘ سپر اور خود وغیرہ۔ لیکن کثرت استعمال سے اب عام اسلحہ پر بھی اس کا اطلاق ہونے لگا ہے۔ یعنی تمام اسلحہ جو ہر طرح کی جنگی ضرورتوں کے کام آتا ہے مثلاً تیر ‘ تفنگ ‘ تلوار وغیرہ انھیں بھی حِذرْ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے خُذُوْا حِذْرَ کُمْ کا معنی ہے کہ اپنے آپ کو اسلحہ سے مسلح رکھو اور اپنا اسلحہ سنبھال کر تیار رہو۔ دونوں معنوں کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے یہاں دو ہدایات دی گئی ہیں۔
دو ہدایات
ایک تو یہ کہ جنگ احد کی شکست نے چونکہ تمہارے دشمن کو دلیر کردیا ہے اور چھوٹے چھوٹے قبائل تمہارے خلاف سازشیں کرنے لگے ہیں تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم کبھی بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو اور ہر وقت بیدار اور ہوشیار رہو۔ دشمن کبھی بھی اچانک تم پر حملہ کرسکتا ہے یا کسی تدبیر سے تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یا بظاہر تم سے محبت کی پینگیں بڑھا کر تمہارے افراد کو گزند پہنچا سکتا ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ کبھی ان پر اعتماد نہ کرو۔ تبلیغ و دعوت کے کام میں بھی تم میں سے کوئی آدمی اکیلا وکیلا نہ نکلے۔ اور دوسری ہدایت یہ دی گئی کہ تمہیں ہر وقت مسلح رہنے کی کوشش کرنا چاہیے اور حالات کو دیکھتے ہوئے صورت حال کا جو بھی تقاضا ہو اس سے عہدہ برآ ہونے میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اب اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ تم دشمن کو اس بات کا یقین دلا دو کہ ہم سو نہیں رہے بلکہ پوری طرح بیدار ہیں اور جنگ احد نے ہمارے حوصلوں کو شکست نہیں کیا۔ ہم زخمی شیر کی طرح انگڑائی لے کر اٹھتے ہیں تو پہلے سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ کوئی بھی حادثہ ہمیں کمزور نہیں کرسکتا۔ کیونکہ ہماری قوت صرف اللہ پر اعتماد اور توکل ہے۔ جب تک اس ذات کی تائید ہمیں حاصل ہے ہم بڑے سے بڑے حادثے سے بھی کامیابی سے گذر جائیں گے۔ زندگی کا ثبوت دینے کے لیے تمہیں اگر فوج کے مختلف دستے بھیج کر شب خون مارنا پڑے یا گوریلا جنگ لڑنی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرنا۔ اور اگر یہ دیکھو کہ کوئی بڑا قبیلہ یا چند قبائل کا اجتماع تم پر حملہ آور ہونے والا ہے تو پوری جماعتی قوت کے ساتھ ان کا سامنا کرو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے جنگ کے ان دونوں طریقوں پر پوری احتیاط لیکن انتہائی بیدار مغزی سے عمل کیا۔ آپ ﷺ نے حالات کی تفتیش یا گوریلا جنگ کے لیے چھوٹے چھوٹے فوج کے دستوں کی صورت میں سرایا بھی بھیجے۔ اور بڑی جنگوں کے لیے غزوات بھی روانہ فرمائے جس میں بہ نفس نفیس شرکت فرمائی۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نئے جذبوں سے سرشار اور ان ہدایات سے بہرہ ور ہو کر اللہ پر بےپناہ اعتماد اور توکل کرتے ہوئے اٹھے اور ایک مختصر سے وقت میں جنگ احد سے پیدا ہونے والے اثرات کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ ان سرایا اور غزوات کی تفصیل دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب آنحضرت ﷺ اور مسلمان کوئی نہ کوئی جنگی اقدام کرتے نظر نہیں آتے۔ جاں سپاری اور سرفروشی کے درخشندہ واقعات سے ایک ایک لمحہ روشن دکھائی دیتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں مسلمانوں کو جماعتی حیثیت سے محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے ایک اور ہدایت بھی دی جا رہی ہے اور حالات سے گھونگھٹ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔
Ayahs 4:72–73وَ اِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ ج فَاِنْ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَکُنْ مَّعَہُمْ شَھِیدًا وَ لَئِنْ اَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰہِ لَیَقُوْلَنَّ کَاَنْ لَّمْ تَـکُنْ م بَیْنَـکُمْ وَ بَیْنَـہٗ مَوَدَّۃٌ یّٰـلَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَھُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا
(اور بیشک تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ڈھیلے اور کمزور پڑجاتے ہیں۔ پس تم کو اگر کوئی مصیبت پیش آئے تو وہ کہتے ہیں مجھ پر اللہ نے انعام کیا میں ان کے ساتھ شریک نہیں تھا اور اگر تمہیں کوئی اللہ کا فضل اور انعام پہنچے تو اس طرح کہ گویا تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ محبت ہے ہی نہیں ‘ کہتے ہیں اے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا کہ ایک بڑی کامیابی حاصل کرلیتا) (النسآء : 72 تا 73)
نفاق کی علامتیں
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تمہیں چونکہ نہایت خطرناک حالات سے واسطہ پڑا ہے جس میں قدم قدم پر بڑے بڑے معرکے پیش آنے کا اندیشہ ہے اور یہ راستہ ایسے دشمنوں سے اٹا پڑا ہے کہ ان کا سامنا کرنے کے لیے جس طرح ایک مضبوط ایمان اور توکل ضروری ہے اسی طرح مسلمانوں کی صفوں میں انتہائی اتحاد و اتفاق ‘ ہم آہنگی ‘ ایمان و عمل میں کامل موافقت اور انتہائی یکسوئی کی ضرورت ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے اور جنگ احد میں تمہیں اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے کہ تمہاری صفوں میں مختلف النوع منافقین موجود ہیں ‘ ان میں سے جن کے رشتے ابھی تک کافروں سے قائم ہیں ‘ ان کے چہرے تو تم نے عبداللہ بن ابی کے ساتھیوں کی شکل میں دیکھ لیے۔ لیکن ان کے علاوہ ایسے منافق بھی ہیں جو حوصلوں کے کمزور ‘ ارادوں کے ناپختہ اور ایمان میں نامکمل ہیں۔ ابھی تک دنیوی مفادات سے بلند ہو کر صرف اللہ کی رضا کے حصول اور اسلامی تحریک کے مفادات کی خاطر انھوں نے جینا اور مرنا نہیں سیکھا۔ اور تمہیں خوب معلوم ہے کہ جس گروہ اور جماعت میں منافقین موجود ہوں ان کا کوئی قلعہ بھی محفوظ نہیں ہوتا۔ اس لیے تمہیں سب سے پہلے اپنی جماعتی شیرازہ بندی کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ ان میں جو کمزور لوگ ہیں ان پر نگاہ رہے۔ اولاً تو وہ کسی معرکے میں ساتھ نہ جانے پائیں اور اگر چلے جائیں تو ان کی پوری طرح نگرانی ہو ‘ تاکہ ان کی کوئی کمزوری مسلمانوں کی صفوں میں دراڑیں پیدا کرنے کا سبب نہ بن سکے۔ پھر ان منافقوں کے نفاق کی کچھ علامتیں بھی بیان فرمائیں ‘ جن میں سے ایک علامت یہ ہے کہ جب بھی حق و باطل کا معرکہ سامنے آتا ہے تو تم ان کو دیکھو گے کہ کسی نہ کسی بہانے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عجیب و غریب عذر پیش کرتے ہیں اور اگر وہ عذر مسموع نہ ہو سکیں تو پھر نہایت کسمساتے ہوئے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں ‘ لیکن ان کا ہر قدم پیچھے کی طرف جاتا ہے۔ ان کے ارادوں کی کمزوری اور جنگ کے بارے میں ان کے خدشات نہ صرف انھیں حق و باطل کے معرکے میں بےکار کردیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دوسروں پر بھی برا اثر ڈالتے ہیں۔ حالانکہ حق و باطل کے معرکے میں جانے والے لوگ راہ کی سختیوں کو نہیں دیکھا کرتے وہ تو انھیں سامانِ سفر کے طور پر ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اور جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو وہ ان کے لیے اجنبی نہیں ہوتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ اس راہ کی سنتیں ہیں جنھیں بہرحال پیش آنا ہے اور جو جہاد و قتال کے لیے سچی سوچ رکھتا ہے وہ رفقاء کے طور پر ایسے ہی لوگوں کو تلاش کرتا ہے۔ نہ ملیں تو افسوس کرتا ہے : ؎
جو راہ کی سختی کو سامانِ سفر سمجھے
اے وائے تن آسانی کمیاب ہے وہ راہی
دوسری نشانی ان کی یہ ہے کہ اگر وہ کبھی جھوٹے سچے بہانوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور مسلمانوں کو معرکہ حق و باطل میں کسی ناگوار صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے جیسا جنگ احد میں ہوا تو یہ خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں کہ اللہ نے ہم پر بڑا فضل کیا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں تھے۔ ورنہ ہوسکتا تھا کہ ہم بھی کسی حادثے کا شکار ہوجاتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ انھیں بہرصورت اپنی ذات عزیز ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی مصیبت سے بچ جائیں تو وہ سمجھتے ہیں سارا جہان بچ گیا۔ انھیں مسلمانوں پر کسی قیامت کا ٹوٹ جانا بھی دکھ نہیں پہنچاتا ‘ بلکہ وہ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے غم ان کے غم نہیں ‘ ان کی اپنی ذات کے غم ان کے غم ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کی جماعت کا حصہ نہیں سمجھا۔ وہ مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اپنی الگ دنیا رکھتے ہیں۔ آج بھی آپ مسلمانوں میں ایسی ایک مستقل کلاس دیکھیں گے جنھیں مسلمانوں کے غم کبھی پریشان نہیں کرتے۔ مسلمان کہیں گاجر مولی کی طرح بھی کاٹے جا رہے ہوں تو وہ ان کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنے کیڑے مکوڑوں کے مرنے کو دی جاتی ہے ‘ ان کی اپنی خوش فعلیوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔ ان کی دلچسپیاں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔
اسی آیت میں آگے چل کر تیسری نشانی بیان فرمائی گئی ہے کہ اگر وہ کسی جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں اور مسلمانوں کو اس جنگ میں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرماتے ہیں اور بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آتا ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ مسلمانوں کی فتح اور کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں اور ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھیں ‘ لیکن اس کے برعکس ان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں مسلمانوں کی کامیابی پر تو کوئی خوشی نہیں ہوتی ‘ البتہ اس بات کا ضرور غم ہوتا ہے کہ میں اس جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ کیوں نہیں تھا۔ اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو یقینا مجھے بھی مال غنیمت ہاتھ آتا اور یہی میرے نزدیک سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ان کی اس بات کا حوالہ دیتے ہوئے درمیان میں ایک جملہ معترضہ کے طور قرآن کریم نے ایک جملہ استعمال کیا ہے کَاَنْ لَّمْ تَـکُنْ م بَیْنَـکُمْ وَ بَیْنَـہٗ مَوَدَّۃٌ (گویا کہ تمہارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی محبت کا رشتہ نہیں) یہی وہ حقیقت ہے جو منافق کی علامت ہے۔ اور یہی اس کی حقیقی پہچان ہے کہ نہ وہ مسلمانوں کے غموں میں اپنے آپ کو شریک سمجھتا ہے اور نہ مسلمانوں کی خوشیاں اس کی خوشیاں ہوتی ہیں۔ وہ بظاہر مسلمانوں کا رفیقِ کار اور ہمدرد و غمگسار ہوتا ہے ‘ لیکن اس کا رویہ ایک حریف کا رویہ ہوتا ہے اور اس کے پیش نظر دنیوی مفادات کے سوا اور کوئی مفاد نہیں ہوتا۔ وہ آخرت کو صرف زبان کی حد تک مانتا ہے۔ وہ کسی عمل کا صلہ آخرت میں لینے کے لیے تیار نہیں۔ وہ اپنے لیے فوزِ عظیم دنیوی فائدے کو قرار دیتا ہے۔ ایسے لوگ ظاہر ہے اسلامی قافلے کے لیے ایک بوجھ کے سوا اور کچھ نہیں۔ ان سے دشمن تو فائدہ اٹھا سکتا ہے مسلمانوں کو ان سے نقصان کے سوا اور کچھ نہیں پہنچ سکتا۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی حقیقت کو مزید کھول دیا گیا ہے۔
Ayah 4:74فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَۃِ ط وَمَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلْ اَوْیَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا
(پس چاہیے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے وہ لوگ اٹھیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے لیے تج چکے ہوں۔ اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے ‘ پھر قتل کیا جاتا ہے یا غالب رہتا ہے ہم عنقریب اس کو اجر عظیم عطا کریں گے) (النسآء : 74)
اللہ کی راہ میں لڑنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں ؟
اس آیت کریمہ میں ایک ایسی حقیقت کو بیان کیا جا رہا ہے جو معرکہ ہائے حق و باطل میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ کفر یا نفاق کے پیش نظر دنیوی مفادات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ معمول کی زندگی میں محنت کرتا ہے ‘ جان کھپاتا ہے تو مقصود صرف دنیا کمانا ہوتا ہے اور اگر کبھی وہ کسی معرکے میں شریک ہوتا ہے تو اس میں بھی اس کے پیش نظر جان دینا نہیں ‘ بلکہ جان بچانا ہوتا ہے۔ وہ اس راستے میں کچھ کھونے کے لیے نہیں بلکہ کچھ پانے اور چھیننے کے لیے جاتا ہے۔ جس راستے میں جان و تن کے مراحل نظر آتے ہیں یا جس میں دنیا کے اجڑ جانے کا اندیشہ ہو وہ کبھی اس راستے کا مسافر نہیں ہوتا۔ اس کی ذات اول و آخر اس کی امید اور اس کا مقصود ہوتی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا مقصد بھی اس کی ذات سے عظیم نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ اگر نفاق کا گھونگھٹ پہن کر مسلمانوں کی صفوں میں آ گھسیں تو یہ جگہ حقیقت میں ان کی جگہ نہیں۔ یہاں سے وہ نکلنے کے لیے اس طرح زور لگائیں گے جیسے کونین حالی معدے سے نکلنے کے لیے زور لگاتی ہے یا پرندہ پنجرے میں پھڑپھڑاتا ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی کشمکش اور آویزش سے جو فضا پیدا ہوتی ہے وہ منافق کے لیے سازگار نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس ایمان قبول کرنے والا اگر شعور سے ایمان قبول کرتا ہے تو وہ پہلے ہی دن اس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ میرا مقصود دنیا نہیں آخرت ہے۔ مجھے بندوں کو نہیں اللہ کو خوش رکھنا ہے۔ میں دنیا طلبی کے لیے اس راستے میں نہیں آیا ‘ بلکہ میں دنیا کو قربان کر کے دین کی سربلندی کے لیے راستہ صاف کرنا چاہتا ہوں۔ دنیوی نعمتیں میری ضرورت تو ہوسکتی ہیں میرا مقصد نہیں۔ مقصد صرف اعلائے کلمتہ الحق اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ یہ اتنا عظیم اور اتنا طویل مقصد ہے کہ وقت ‘ توانائی ‘ اور مال و دولت تو اس راستہ میں خرچ کرنا ہی پڑتے ہیں۔ اگر اس مقصد کے لیے جان بھی مانگ لی جائے تو وہ مقصد کی عظمت کو دیکھتے ہوئے بہت چھوٹی طلب ہے۔ یہ کشمکش کا راستہ ہے ‘ یہ سب کچھ کھو کر کچھ پانے کا راستہ ہے اور یہ راستہ اس قدر طویل ہے کہ بعض دفعہ زندگی کا سفر راستے میں ختم ہوجاتا ہے اور یہ راستہ آگے نکل جاتا ہے۔ اس کی آخری منزل آخرت ہے۔ جس میں دنیا میں پیش کردہ قربانیاں اور اس راستے میں لگے ہوئے زخموں کا صلہ ملے گا اور اتنا ملے گا کہ آدمی تمنا کرے گا کاش مجھے ہزاروں زندگیاں مل جائیں اور وہ بھی میں اس راستے میں قربان کر دوں۔ اگر زندہ رہ کر اس راستے میں کامیابی ملتی ہے تو زندہ رہنا عزیز ہوجاتا ہے۔ اور اگر کلمہ حق کی سربلندی سب کچھ قربان کر کے حاصل ہوتی ہے تو پھر جان دے دینا مقصد بن جاتا ہے۔ اس میں سودوزیاں کے پیمانے کام نہیں آتے۔ جو شخص ان پیمانوں سے ایمان کی وادی میں داخل ہوتا ہے اسے اس وادی سے کچھ نصیب نہیں ہوتا۔ اس وادی سے وہ لوگ کامیاب اور کامران نکلتے ہیں جو یہاں پھول اگانے کے لیے پسینہ بہاتے ہیں ‘ جو یہاں بہار لانے کے لیے خون دیتے ہیں ‘ جو اس کی مٹی میں اپنے آپ کو فنا کر کے آنے والی نسلوں کے لیے بہار کا سایہ فراہم کر جاتے ہیں۔ یہ راستہ ان لوگوں کا راستہ ہے۔ جو اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں جو زندگی دی ہے وہ اسی راستے میں کھپانے کے لیے دی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : ؎
برتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
مختصر یہ کہ معرکہ حق و باطل کی اس کشمکش میں صرف وہ لوگ شریک ہوسکتے ہیں اور وہ لوگ اس کا حق ادا کرسکتے ہیں جو حیات دنیا کو آخرت کے بدلے میں بیچ چکے ہوں۔ وہ زندگی کو حیات دنیا کے لیے نہیں گذارتے بلکہ حیات دنیا کا ایک ایک لمحہ وہ آخرت کی تیاری کے لیے گذارتے ہیں اس لیے ان کی امیدیں قلیل ہوتی ہیں اور ان کے مقاصد جلیل ہوتے ہیں۔ مجلسوں میں نہایت چپ رہنے والے ‘ دمِ گفتگو بظاہر نہایت کمزور لیکن غلبہ دین کی کاوشوں کے لیے نہایت سرگرم۔ وہ زبان کے زیادہ دھنی نہیں ہوتے البتہ تلوار کے دھنی دل کے غنی اور دنیا سے مستغنی ہوتے ہیں۔ وہ اس راز کو پاچکے ہیں کہ بجائے خود زندہ رہنا کوئی زندگی نہیں۔ زندگی وہ ہے جو مقصد کے فروغ میں کام آئے۔ یا مقصد کی سربلندی میں کام آجائے۔ بڑے سے بڑا حادثہ اور بڑے سے بڑا معرکہ بجائے انھیں سراسیمہ کرنے کے ان کے حوصلوں کی توانائی کا باعث بن جاتا ہے۔ مسلمان جب اسکندریہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے تو آخر شاہ مصر مقوقس نے مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ اپنا ایک اہم وفد بھیجئے جن سے میں فیصلہ کن بات کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ( رض) نے حضرت ابو درداء ( رض) کی سربراہی میں ایک وفد روانہ فرمایا۔ مقوقس نے انھیں دھمکاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دریائے نیل نے تمہارا راستہ روک رکھا ہے دوسری طرف میں تمہارے سامنے ہوں اور تیسری طرف سے قیصر کی فوجیں پہنچا ہی چاہتی ہیں۔ اس طرح تم تین اطراف سے گھر گئے ہو۔ اب صرف تمہارے پاس پسپائی کا ایک راستہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم پسپا ہوجاؤ اور میں تم میں سے ہر افسر کو دو دینار اور ہر سپاہی کو ایک دینار دینے کو بھی تیار ہوں۔ یہ مجھے پسند نہیں کہ یہ سرزمین تمہارا قبرستان بنے۔ میں تمہارا ہمدرد اور خیر خواہ ہوں اور اسی لیے میں نے تمہیں بلایا ہے۔ اس کی دھمکی آمیز یہ گفتگو سن کر بجائے سراسیمہ ہونے کے وفد کے تمام شرکاء کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ اس نے حیران ہو کر پوچھا ‘ تم بجائے پریشان ہونے کے خوش کس بات پر ہو رہے ہو ؟ حضرت ابو درداء ( رض) نے فرمایا کہ ” مقوقس ! تمہیں غلطی فہمی یہ ہے کہ ہم بھی شاید تمہاری طرح ملکوں کو فتح کرنے کے لیے نکلے ہیں اور یہ دنیا اور اس کی آسائشیں ہماری منزل ہیں۔ ہم لوگ دنیا کے نہیں آخرت کے مسافر ہیں۔ ہمیں تو ایک فرض یہاں کھینچ لایا ہے وہ یہ کہ ہم اللہ کا دین ‘ اللہ کی سرزمین پر غالب کرنا چاہتے ہیں۔ تم اسے قبول کرلو ہم واپس پلٹ جائیں گے۔ اور اگر تم اللہ کا یہ دین عوام تک نہیں پہنچنے دینا چاہتے تو پھر تلوار ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے گی۔ ہماری خوشی کا سبب یہ ہے کہ تم نے جو نقشہ کھینچا ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہماری منزل قریب آگئی ہے اس سرزمین کی قسمت میں شاید ابھی اللہ کی دین کی نعمت نہیں ہے۔ اور شاید اس سرزمین کو ابھی اللہ والوں کے خون کی ضرورت ہے۔ اگر اس خون دینے کے لیے اللہ نے ہمیں چن لیا ہے تو ہماری اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہم جو اپنے کندھوں پر سرکا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں یہ اگر اس کے راستے میں اتر جاتا ہے تو یہ ایک ایسی سعادت ہے جس کی مومن ہمیشہ تمنا کرتا ہے۔ اور اسی کے لیے وہ گھڑیاں گنتا رہتا ہے۔ تم نے اگر یہ سعادت ہمارے قریب کردی ہے تو ہمارے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کا اور کیا موقع ہوسکتا ہے۔ “ درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام نے تیار کیے ‘ جو واقعی حیات دنیا کو آخرت کے بدلے میں بیچ چکے تھے۔ یہ موت سے خوف کھانے کے بجائے اسے نوید ِ جانفزا سمجھتے تھے۔ اور اس دنیا کی ایک بہت بڑی حقیقت یہ ہے کہ موت اسے شکار کرتی ہے جو موت سے ڈرتا ہے۔ اور جو موت سے نہیں ڈرتا موت اس سے منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ اور حیات دنیا پر ریجھنے والے لوگ ایسے لوگوں کا کبھی سامنا نہیں کرسکتے۔ اکبر نے ٹھیک کہا :
جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا
جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا
یہی وہ لوگ ہیں جو زندہ رہتے ہیں تو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اور قتل ہوتے ہیں تو اللہ کی کھیتی کی سیرابی کے لیے۔ ان کا خون جہاں جہاں بھی گرتا ہے وہیں وہیں اسلام اور انسانیت کی بہار آتی ہے۔ ؎
شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
بڑی زرخیز ہوتی ہے بڑی شاداب ہوتی ہے
اور یہی لوگ اللہ کے اجر عظیم کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اور جس اجر کو اللہ عظیم ٹھہرائے اس کی عظمت کو دنیا کے پیمانے نہیں ناپ سکتے۔
Ayah 4:75وَمَا لَـکُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَھْلُہَا ج وَاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْـکَ وَلِیًّا ج لا وَّاجْعَلْ لَّـنَا مِنْ لَّدُنْـکَ نَصِیْرًا ط
(اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں جنگ نہیں کرتے حالانکہ کئی بےبس مرد اور عورتیں اور بچے ایسے بھی ہیں جو ( ظلم سے تنگ آ کر) عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ! نکال ہمیں اس بستی سے ظالم ہیں جس کے رہنے والے اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی دوست اور بنا دے ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگار) (النسآء : 75)
اس رکوع میں مضامین کی ترتیب
اس رکوع میں ترتیب مضامین پر غور کیجیے۔ سب سے پہلے ناموافق حالات میں احتیاط سے رہنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی دشمن کے جارحانہ اقدامات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مسلح رہنے اور جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور جہاد کی ضرورت کا احساس دلاتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ تمہیں اس سلسلے میں گوریلا جنگ لڑنی پڑے تو لڑو اور اگر کسی بڑی روایتی جنگ کی نوبت آجائے تو اس کے لیے پوری طرح تیار رہو۔ لیکن یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمہارے گرد و پیش میں دشمن قبائل کی ایک وسیع دنیا پھیلی ہوئی ہے۔ اور تمہاری حیثیت دشمنوں کے سمندر میں ایک جزیرے کی مانند ہے۔ تم بری طرح ان میں گھرے ہوئے ہو۔ لیکن تمہیں اپنی ایمانی قوت سے اس جال کو توڑ کر نکلنا اور ہر سطح پر زندگی کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ تم اپنی صفوں کا اچھی طرح جائزہ لو۔ تمہاری صفوں میں ابھی تک منافقین اور کمزور ایمان والے لوگ موجود ہیں۔ جن کے دل و دماغ کے رشتے ابھی تک تمہارے ساتھ مستحکم نہیں ہو سکے۔ وہ بظاہر تمہارے ساتھ شریک رہتے ہیں لیکن جب کسی ابتلاء کا وقت آتا ہے تو اس سے بچ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی جنگ میں فتح عطا فرماتے ہیں اور مال غنیمت ملتا ہے تو نہایت تأسف کے ساتھ مال غنیمت سے محرومی کی شکایت کرتے ہیں۔ گویا ان کے پیش نظر صرف دنیا اور دنیوی فوائد ہیں۔ وہ دنیا کے لیے جیتے اور دنیا کے لیے مرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم جس معرکہ حق و باطل میں جان لڑا رہے ہو اس میں ایسے دنیا کے بندوں کا کوئی گذر نہیں۔ اس معرکے میں تو صرف وہ لوگ شریک ہوسکتے ہیں جن کا ہدف اور جن کی منزل آخرت ہو۔ اور وہ اپنی زندگی اور زندگی کے فوائد کو محض اللہ کی رضا کے لیے آخرت کے بدلے میں بیچ چکے ہوں۔ اور وہ اس بات کا یقین پیدا کرچکے ہوں کہ اصل اجر تو وہ ہے جو اللہ کی جانب سے ملتا ہے۔ دنیا کی آسائشیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ اگر ہم اللہ کے لیے اللہ کے راستے میں جان دے دیں یا غازی بن کر لوٹیں ہر صورت میں وہ اجر ہمارے انتظار میں ہے۔ اس عقیدے سے ان کے اندر وہ قوت پیدا ہوتی ہے جو موت پر بھی غالب آجاتی ہے۔ چناچہ مسلمانوں کو طاقت اور قوت کے اس سرچشمے سے وابستہ کرنے کے بعد اب براہ راست حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر زندگی اللہ کے راستے میں سب کچھ قربان کردینے اور خیر و شر کی اس کشمکش میں دیوانہ وار گزر جانے کا نام ہے تو پھر تمہیں انتظار کس بات کا ہے فی سبیل اللہ صرف یہی نہیں کہ تم اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کفار سے جنگ لڑو۔ یا کفار مرکز اسلام پر حملہ کردیں تو تم مدافعت کرو۔ فی سبیل اللہ تو وہ جنگ بھی ہے جو فتنے کی سرکوبی کے لیے لڑی جائے۔ اور اسلام کے پیش نظر جو اصل ہدف ہے وہ یہی ہے کہ دنیا سے فتنہ ختم کردیا جائے۔ قرآن کریم میں پروردگار کا ارشاد ہے وَقَا تِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلَّہِ (اور تم کافروں سے لڑو حتیٰ کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کا ہو کر رہ جائے) فتنہ سے مراد ہر اس قوقت سے نبردآزما ہونا اور اس کو کچلنا ہے جو اللہ کے بندوں کو اسلام کی طرف آنے نہیں دیتی اور اگر آجائیں تو ظلم و ستم کے ذریعے ان کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کرتی ہے اور مسلمانوں پر زندگی صرف اس لیے عذاب بنادی جاتی ہے کہ تم نے اسلام قبول کر کے گویا قیامت کو دعوت دی ہے۔ ہم تمہیں صرف اس وقت زندہ رہنے کی اجازت دیں گے جب تم اسلام سے نکلنے کا اعلان کردو۔ یہ وہ فتنہ ہے جس کی سرکوبی جہاد کا اصل مقصد ہے اور قتال فی سبیل اللہ میں اس کا مقام سب سے پہلا ہے۔ یہاں اسی کا حکم دیا جا رہا ہے کہ مکہ معظمہ اور دوسری بعض بستیوں میں بےبس مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کو اس لیے ظلم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ تم اسلام کا نام کیوں لیتے ہو ؟ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو ماننے کی جرأت کیسے کی ہے ؟ اور وہ بےبس لوگ ان کے ظلم سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں پاتے۔ وہ بےبسی کے ساتھ شب و روز اللہ کو پکارتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں اس بستی سے نکال جس کے حکمران اور جس کے طاقتور لوگ ایسے ظالم ہیں جو رات دن ہم پر مشق ستم کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ان کے ظلم و ستم سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ہم اس قدر بےبس ہیں کہ ہم نہ ان کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور نہ یہاں سے نکلنے کی کوئی راہ پاتے ہیں۔ اللہ ان لوگوں کی بےبسی اور کسمپرسی کا حوالہ دے کر فرماتے ہیں کہ تم نے بھی ان کی چیخیں سنی ہوں گی اور ان پہ گزرنے والی قیامت کی داستانیں تم تک بھی پہنچی ہوں گی۔ پھر تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ ان کو وہاں سے نکالنے اور ان کو رہائی دلانے یا ان ظالموں کا پنجہ مروڑنے کے لیے قتال کیوں نہیں کرتے ؟ یہ بھی قتال فی سبیل اللہ ہے بلکہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی سب سے اعلیٰ شکل ہے۔ وہ بار بار اللہ سے اپنے لیے کسی مددگار اور کسی ہمدرد و غمگسار کے لیے التجائیں کرتے ہیں اور اس کا جواب دینا تم پہ لازم ہے۔ اس آیت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب مسلمان اپنے وطن میں رہنے کے باوجود محض اسلام کی خاطر وطن کے تحفظ سے محروم ہوجائیں اور ان کی جان ومال اور عزت ظالموں کے ہاتھ میں مباح ہو کر رہ جائے اور وہ خود اتنے بےبس اور بےکس ہوں کہ اس صورت حال کا مقابلہ نہ کرسکتے ہوں ان کے پاس سوائے اللہ کے بھروسے کے اور کوئی طاقت نہ ہو۔ تو پھر ہمسایہ ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجاتا ہے۔ اور جو مسلمان انھیں مظلومیت سے نکالنے کی طاقت رکھتے ہوں یا کسی طرح بھی ان کی اذیتوں میں کمی کا باعث بن سکتے ہوں اور پھر وہ اپنا فرض انجام دینے سے پہلوتہی کریں تو وہ شریعت کی زبان میں منافق ہیں۔ مسلمانوں پر جب جہاد فرض ہوجاتا ہے تو پھر ان کی حکومت سب سے پہلے مسئول ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے فرض کو انجام دینے سے انکار کردیتی ہے یا اس کا احساس نہیں کرتی تو پھر علماء اور قوم کو راہنمائی دینے والے اس مسئولیت سے گراں بار ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ عذر پیش کر کے اللہ کے یہاں نہیں چھوٹ سکیں گے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس فرض کو نہیں پہچانا تھا۔ حکمرانوں کو اس پر مجبور کرنا اور ملک میں ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرنا جس سے قوم میں عام بیداری پیدا ہو یہ علماء ‘ صلحاء اور تمام رہنمائی دینے والے اداروں کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اور اگر یہ لوگ بھی اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کریں اور عوام بھی اٹھنے سے انکار کردیں تو پھر پوری قوم پر اللہ کی جانب سے ذلت مسلط کردی جاتی ہے۔ آج مسلمان مجموعی طور پر اللہ کے اسی عذاب کی زد میں ہیں۔ نہ جانے کہاں کہاں مسلمانوں پر مظالم توڑے جا رہے ہیں۔ مسلمان قوت کے استعمال سے تو گریزاں ہیں ہی اخلاقی اور سیاسی امداد دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ مسلمان مسلمان کی ہر طرح کی اعانت سے محروم ہو کر رہ گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان اقلیتیں بری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں کے نشانے پر ہیں۔ وہ جب چاہتے ہیں کسی مسلمان ملک پر آتش و آہن کی بارش برسانا شروع کردیتے ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے فرائض کا احساس کب پیدا ہوگا۔
Ayah 4:76اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَـآئَ الشَّیْطٰنِ ج اِنَّ کَیْدَالشَّیْطٰنِ کَانَ ضَعِیْفًا ع
(جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنھوں نے کفر کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں تو تم شیطان کے حامیوں سے لڑو۔ بیشک شیطان کی چال انتہائی کمزور ہوتی ہے)
(النسآء : 76)
ترتیب کے لحاظ سے آخری آیت
یہ اس رکوع کی آخری آیت ہے اور ترتیبِ مضامین کے لحاظ سے اس میں آخری بات ارشاد فرمائی گئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو آئے دن جنگیں لڑنی پڑتی ہیں کبھی اس قبیلے سے جنگ ہے اور کبھی اس قبیلے سے ‘ کبھی ایک طرف سے کفر کی گھٹا چڑھ رہی ہے تو کبھی دوسری طرف سے کفر کی باد سموم نے چلنا شروع کردیا ہے مسلمان برابر ان میں سے ہر ایک کی زد میں ہیں۔ اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ مسلمانو ! تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان کا کام اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کے سوا کچھ نہیں۔ اور کافر کا کام طاغوت اور شیطان کے لیے لڑنا ہے۔ روشنی چاہے شمع کی شکل میں ہو یا ایک ٹمٹماتے دیئے کی شکل میں اسے بہرصورت اندھیرے اور تاریکی سے لڑنا اور اس وقت تک جلنے کی کوشش کرنا ہے جب تک ماحول سے تاریکی دور نہ ہوجائے۔ بارش کا کام زمین کو سیراب کرنا ہے چاہے زمین کیسی بھی جھلسی ہوئی کیوں نہ ہو۔ ایک طبیب کا کام مریض کے مرض سے لڑنا ہے چاہے مریض بر لب مرگ کیوں نہ ہو۔ اسی طرح ایک مسلمان کا کام ہر طرح کے کفر سے نبرد آزما ہونا ہے۔ چاہے وہ نظریاتی کفر ہو اور چاہے وہ عملی کفر ہو چاہے اس نے ظلم کی چادر اوڑھ رکھی ہو اور چاہے اس نے سیاست کا لبادہ پہن رکھا ہو۔ ایک مومن کا کام ہر رنگ اور ہر صورت میں اپنے جہاد کو جاری رکھنا ہے ‘ کبھی دماغی کاوشوں سے ‘ کبھی قلبی توانائیوں سے کبھی علمی دلائل سے ‘ کبھی سیاست کے صالح طور اطوار کے ساتھ۔ اور اگر معاملہ ظلم اور جارحیت تک پہنچ جائے تو پھر موجود طاقت سے کام لے کر۔ چاہے جان دینی پڑے یا جان لینی پڑے۔ یہی کام عہد نبوت میں بھی مسلمانوں کا تھا اور یہی کام قیامت تک مسلمانوں کا رہے گا۔ کیوں کہ ان کی پہچان ہی جہاد اور قتال فی سبیل اللہ ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا تحقق نہیں ہوتا۔ جس طرح کفر نے آج تک اپنے طریقے نہیں بدلے عہد نبوت اور عہد صحابہ میں بھی اہل کتاب اور دیگر کفار اسلام اور مسلمان دشمنی میں اکٹھے تھے۔ آج بھی اکٹھے ہیں۔ ان سب کا مقابلہ مسلمانوں نے ایمان کی قوت سے کیا تھا۔ آج بھی اسی قوت سے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ کیونکہ صورت حال میں کوئی تبدیلی نہ آئی ہے نہ آئے گی۔ اقبال نے ٹھیک کہا : ؎
نہ ستیزہ گاہ جہاں نئی نہ حریف پنجہ شکن نئے
وہی قوت اسد اللّہی وہ مرحبی وہی عنتری
مسلمان ریاستوں کے حکمران اور سیکولر سیاست دان آج کے کفر کے مقابلے میں چاہے کیسی خوش فہمی کا شکار ہوں اور وہ ہزار یہ سمجھیں کہ کفر نے اسلام کو برداشت کرنا شروع کردیا ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں لیکن اے کاش انھیں سوچنے کی توفیق نصیب ہو : ؎
نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی نہ تم بدلے
میں کیسے اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں
یہ آگہی دینے کے بعد حکم دیا فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآئَ الشَّیْطٰن (پس شیطان کے دوستوں سے لڑو) خیر کی پشت پناہ قوت رحمان ہے۔ اور شر کا پشتیبان شیطان ہے۔ مسلمانوں کے سر پر رحمان کا سایہ ہے اور کفر کے ساتھ شیطان کی قوتیں ہیں۔ شیطان اپنے دائو پیچ تو بدلتا ہے لیکن اپنے مقصد سے کبھی انحراف نہیں کرتا۔ اس لیے مسلمانوں کو کبھی کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے کہ لڑے بغیر چارہ کار نہ ہو تو پھر بےتأمل شیطان کی قوتوں سے لڑو۔ اور ان کی قوتوں سے کبھی مرعوب ہونے کی غلطی نہ کرو۔ شیطان کی قوتیں چاہے کتنی عظیم بھی ہوں اور بظاہر ان کا چاہے کیسا ہی چرچا کیوں نہ ہو لیکن تم یاد رکھو تمہارے سروں پر اللہ کی نصرت کا سایہ ہے۔ اور اللہ کے مقابلے میں شیطان کی قوتیں کبھی پائیدار نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے آخر آیت میں فرمایا کہ شیطان کی تدبیریں ہمیشہ بودی اور کمزور ہوتی ہیں۔ ان سے خوفزدہ ہونے کی کبھی غلطی نہ کرنا۔ البتہ اس میں دو شرطیں ہیں۔ (1) ایمان۔ (2) فی سبیل اللہ۔ یعنی مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی قوت موجودہو۔ وہ اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہ جانتے ہوں۔ ان کا سر اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہ جھکے۔ ان کے دل اللہ کی محبت سے دھڑکتے ہوں۔ ان کی زبانوں پر صرف اللہ کے دین کے ترانے ہوں اور ان کی اجتماعی زندگی میں صرف اللہ کا قانون نافذ ہو۔ اور دوسری شرط یہ کہ ان کا ہر کام فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ وہ کافروں سے اللہ کے دین اور اس کی رضا کے لیے لڑتے ہوں اپنے ذاتی مفادات یا قومی مفادات ہرگز ان کے پیش نظر نہ ہوں۔ ان دو شرطوں کے پورا کردینے کے بعد شیطان کی تدبیریں اس لیے بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں کیونکہ اللہ کی نصرت و تائید صاف صاف نظر آنے لگتی ہے۔ جنگ بدر میں شیطان نے مشرکین مکہ کو پوری طرح یقین دلایا ” انی معکم لا غالب لکم الیوم “ (میں تمہارے ساتھ ہوں آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا) لیکن جب اس نے فرشتوں کو اترتے دیکھا اور اللہ کی تائید و نصرت نظر آئی تو ابو جہل سے ہاتھ چھڑا کے بھاگا اور کہا ” جو میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ “ ہر دور کے مسلمانوں کی کامیابی کے لیے یہی دو شرطیں لازمی ہیں مقدور بھر ظاہری اسباب کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان دو بنیادی شرطوں کو بروئے کار لانے سے تو میدانِ بدر کی طرح ہمیشہ فرشتے اتر سکتے ہیں۔ ؎
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی