4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsروح القرآن

Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن سے یا خطرے سے متعلق تو وہ اسے پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں وہ ان کو اچھی طرح سمجھ لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کا اتباع کرنے لگتے

وَاِذَا جَائَ ھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖ ط وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَ اِلٰٓی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَستَنْبِطُونَہٗ مِنْہُمْ ط وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلاً ” اور جب آتی ہے ان کے پاس کوئی بات امن سے یا خطرے سے متعلق تو وہ اسے پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولوالامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں وہ ان کو اچھی طرح سمجھ لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کا اتباع کرنے لگتے۔ “ (النسآء : 83) منافقین کی افواہوں سے دلچسپی منافقین پر تنقید جاری ہے اور ان کے منافقانہ رویے سے مسلمانوں کو حالات کو سمجھنے اور صحیح راستہ اختیار کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ جس زمانے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے وہ مسلمانوں کے لیے انتہائی تشویشناک دور تھا۔ قریش مکہ تو عداوت سے اندھے ہو ہی رہے تھے اور وہ کوئی موقع دشمنی کا ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ‘ لیکن ان کے ساتھ ساتھ یہود بھی اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے سے باز نہیں آتے تھے۔ وہ برابر قریش مکہ سے رابطے میں رہتے تھے اور دونوں قوتیں مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتی رہتی تھیں اور خود مدینے کے اندر منافقین مار آستین کا فرض انجام دے رہے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو اپنے مفادات کے ہاتھوں مجبور تھے اور کچھ لوگ ایسے تھے جنھیں یہود استعمال کر رہے تھے۔ قریش مکہ اور یہود کی دشمنی نے قریب و بعید کے قبائل کو بھی مسلمانوں پر دلیر کردیا تھا۔ ان میں سے طاقتور قبائل برابر اس تاک میں تھے کہ موقع ملنے پر مسلمانوں پر حملہ کردیں۔ مدینے کی ایک چھوٹی سی ریاست اور پوری سرزمین عرب اس کے خلاف دشمنی سے دہک رہی تھی۔ ایسی صورت حال میں جب کہ چہار طرف اندیشوں کی فصل اگ رہی ہو معمولی سی غیر ذمہ داری بڑے خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ منافقین تو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہی تھے بعض سادہ دل مسلمان بھی اپنی سادگی کی وجہ سے ان کی باتوں میں شریک ہوجاتے تھے۔ چناچہ منافقین نے اپنا یہ وطیرہ بنا لیا تھا کہ وہ آئے دن نئی نئی افواہیں گھڑتے اور انھیں پھیلاتے تھے۔ اچانک یہ افواہ پھیلا دی جاتی کہ فلاں قبیلہ مسلمانوں پر حملہ آوار ہونا چاہتا ہے ‘ فلاں طرف سے حملے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ‘ فلاں جگہ دشمن کو گھات لگا کر بیٹھے دیکھا گیا ہے اور سادہ دل مسلمان باہمی ہمدردی اور خیر خواہی کے باعث ان افواہوں سے خود بھی مضطرب ہوتے اور دوسروں کو بھی اضطرب میں مبتلا کردیتے۔ اور اس سے مقصود صرف یہ ہوتا کہ مسلسل خطرات کی افواہوں سے مسلمانوں کے حوصلے توڑ دیے جائیں۔ وہ جب محسوس کریں گے کہ ہم ہر طرف سے خطرات میں گھر گئے ہیں تو اعصاب کے تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے آخر وہ کب تک ان کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ آہستہ آہستہ وہ خوف کی گرفت میں آ کر عزائم کی بلندی سے محروم ہوجائیں گے۔ بجز چند سرفروشوں کے اور کوئی شخص بھی مسلسل ان افواہوں کا مقابلہ نہ کرسکے گا۔ افواہ سازی قوم کا حوصلہ توڑنے کا موثر ذریعہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ حربی صلاحیت اور حربیت کے اعتبار سے ایک پسماندہ زمانہ ہے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آج حربی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ اصل میدانِ جنگ قوم کے دل ہوتے ہیں۔ اگر وہ پوری توانائی اور اولوالعزمی کے ساتھ اپنی فوج کی پشت پر کھڑے ہوتے ہیں تو فوج میدانِ جنگ سے پسپا ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ لیکن اگر قوم ہمت ہار دیتی ہے اور اس کے سیاستدان اور اصحابِ اقتدار اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہو کر سمجھوتے کی میز پر آجاتے ہیں تو فوج کی جیتی ہوئی بازی بھی شکست میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس لیے نئی فوجی تکنیک یہ ہے کہ گرم جنگ سے پہلے سرد جنگ لڑی جاتی ہے۔ دشمن قوم کے دماغوں کو مسخر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے سوچنے سمجھنے والے افراد کی رائے کو بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کے اندر پانچواں کلام تیار کیا جاتا ہے جن کا کام دشمن قوم کو ہر وقت افواہوں کی گرفت میں رکھنا ہوتا ہے اور افواہ سازی کے لیے مستقل سیل قائم کیے جاتے ہیں۔ جہاں بڑے بڑے دماغ عجیب و غریب افواہوں کو جنم دیتے ہیں اور پانچواں کلام اور ان کے جاسوس اسے دشمن قوم میں پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔ آج اسے نہایت منظم طریقے سے کیا جا رہا ہے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اگرچہ یہ برائی منظم طریقے سے انجام نہیں پا رہی تھی لیکن اس کی اہمیت اور افادیت ماہرین جنگ کی نگاہوں میں آج ہی کی طرح مسلم تھی۔ چناچہ اسی اہمیت کے پیش نظر منافقین کے بارے میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے تو وہ اسے مسلمانوں میں پھیلانے کے لیے دوڑ بھاگ میں لگ جاتے ہیں۔ اس سے مسلمانوں کو یہ تربیت دی جا رہی ہے کہ منافقین تو دشمن کے ایجنٹوں کی طرح تمہارے حوصلے شکست کرنے کے لیے یہ حرکت کریں گے۔ لیکن تمہیں ان کے دیکھا دیکھی کبھی اس میں شریک ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بلکہ اس بات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے تمہارا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ جب بھی اس طرح کی بات سنو تو سب سے پہلے قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق یہ جاننے کی کوشش کرو کہ خبر لانے والا کون ہے۔ اگر کوئی فاسق یعنی بد کردار اور غیر معتبر آدمی ہے تو اس کی خبر کو مت قبول کرو۔ اور مزید یہ کہ جس بات کو سنو اسے بلا تحقیق دوسرے سے کہنا شروع نہ کردو کیونکہ جس طرح جھوٹ ایک بدترین برائی ہے اور اللہ کے یہاں اس کی بڑی سزا ہے اسی طرح وہ آدمی بھی جھوٹوں میں شمار ہوگا جو ہر سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دوسروں سے کہنا شروع کردیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ (کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو سنے کہنا شروع کر دے) جنگ کے دنوں میں اس طرح کی بےاحتیاطی بڑے خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ مگر عام دنوں میں بھی اسلام مسلمانوں کا جو مزاج پیدا کرنا چاہتا ہے اس میں اس بےاحتیاطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کیونکہ اسلام کے نزدیک جھوٹ بدترین لعنت ہے اور جھوٹ بولنے والا لعنت کا سزاوار ہے۔ اس لیے ہر وہ بات جس پر جھوٹ کا شبہ بھی ہوتا ہو یا جھوٹ پر منتج ہوسکتی ہو یا جس سے جھوٹ کا مزاج پیدا ہو اسلام ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا۔ کیونکہ ایسا رویہ زندگی کے ہر دائرے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔ گھروں میں جہاں چند افراد بستے ہوں ایک آدمی بھی اس مزاج کا ہو تو گھر میں ناچاقی اور بےاتفاقی کا ماحول پیدا ہوتا رہتا ہے۔ اور اگر معاشرے میں یہ رویہ عام ہوجائے تو آپ دیکھیں گے کہ کوئی گھر ‘ کوئی دفتر اور کوئی ادارہ حالات کی خرابی سے محفوظ نہیں رہتا۔ اس لیے اسلام کی یہ ہدایت صرف جنگی حالات تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی پر حاوی ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جب بھی کسی بھی معاشرے میں اس ہدایت کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ضرور تلخ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ سب سے پاکیزہ معاشرہ عہد نبوت کا معاشرہ ہے۔ لیکن اس میں بھی ہمیں ایسی مثالیں ملتی ہیں جس میں سے ایک مثال کو اس آیت کے شان نزول کے طور پر بھی مفسرین بیان کرتے ہیں۔ کہ حضرت عمر فاروق ( رض) کے دینی بھائی گئی رات حضرت عمر ( رض) کے دروازے پر آئے دستک دی۔ آپ گھبرا کر باہر نکلے اور گھبراہٹ میں پوچھا کہ فلاں قبیلے نے حملہ کردیا ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں ‘ اس سے بےبھی بڑی بات ہوگئی۔ پوچھا وہ کیا ؟ کہنے لگے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر ( رض) کا دل بیٹھ گیا۔ ان کی پریشانی دو گونہ تھی۔ ایک تو پریشانی کا سبب وہی تھا جو تمام مسلمانوں کے لیے تھا کہ آنحضرت ﷺ کے گھر میں خدا نہ کرے ایسی کیا بات ہوگئی ہے جب کہ وہ گھر پوری انسانیت کے لیے نمونہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کو طلاق دینے پر مجبور ہوگئے۔ اس سے دشمن فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں نہایت پریشان کن صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اور دوسرا پریشانی کا سبب یہ تھا کہ آپ ( رض) کی صاحبزادی حضرت حفصہ ( رض) آنحضرت ﷺ کے نکاح میں تھیں۔ صبح حضرت عمر ( رض) مسجد میں پہنچے تو لوگوں کو اس صدمے سے نڈھال پایا۔ ہر آدمی یہی سمجھتا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ آپ ( رض) پریشانی میں باہر نکلے معلوم ہوا کہ گھر کے اوپر کے کمرے میں حضور ﷺ تشریف فرما ہیں۔ سیڑھی کے پاس ایک لڑکا دربان کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ آپ ( رض) نے اس سے کہا کہ آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کرو میں حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ اس نے واپس آ کر بتایا کہ حضور ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ ﷺ پھر مسجد میں جا بیٹھے۔ چین نہ آیا کچھ دیر کے بعد لوٹ کر آئے اور پھر اجازت مانگی اور نہ ملی۔ تیسری دفعہ پھر حاضر ہوئے اور بلند آواز میں پکار کر کہا کہ حضور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں حفصہ ( رض) کی سفارش کے لیے آیا ہوں تو آپ مجھے حکم دیجیے میں اس کا سر اتار کر حاضر کردیتا ہوں۔ تب آپ ﷺ نے اجازت دی۔ حضرت عمر ( رض) نے بڑے ادب سے جا کر پوچھا کہ کیا جناب نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں۔ آپ ﷺ نہایت خوش ہوئے اور مسلمانوں کو آ کر اطلاع دی کہ تمہیں کسی نے غلط خبر دی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بیویوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اس سے تمام اہل مسجد کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس ایک بات سے اندازہ کیجیے کہ بلا تحقیق بات کے پھیلا دینے سے کتنے بڑے حادثے پیش آسکتے ہیں۔ اور جنگ کے زمانے میں تو اس کی خطرناکی کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت کریمہ میں منافقین کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ جس طرح خوف کی باتیں لوگوں میں اڑاتے ہیں اسی طرح امن سے متعلق کوئی بات ہو تو اسے بھی بلا تحقیق لے اڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن ہمیشہ صرف ایسی افواہیں نہیں پھیلاتا جس سے قوم کے حوصلے توڑنا مقصود ہوتے ہیں بلکہ وہ اس طرح کی افواہیں بھی اڑاتا ہے جس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ حالات چاہے جتنے بھی نامساعد ہیں لیکن وہ مسلمانوں میں یہ کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں جنگ کا دور دور تک کوئی امکان نہیں اور ہماری فوج ایسی ناقابلِ تسخیر ہوچکی ہے کہ کسی دشمن کو کبھی ہماری سرحدوں پر پائوں رکھنے کی جرأت نہیں ہوسکتی۔ وہ ہماری اسلحی برتری اور ہماری فوجی تربیت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس قوم سے ٹکر لینا سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ اس طرح کی افواہیں پھیلا کر مسلمانوں کو سلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور پھر اندر ہی اندر دشمن کے ایجنٹ اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور پتہ اس وقت چلتا ہے جب اس سوئی ہوئی قوم پر رات کی تاریکی میں دشمن وار کردیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی جب کہ ہر چہار طرف خطرات امڈ رہے تھے ایسے لوگ بھی تھے جو آج کی طرح مسلمانوں کو سلائے رکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے وہ ہر طرف خیریت کی افواہیں اڑاتے تھے اور جو لوگ خطرات کی بات کرتے تھے ان کو دشمن کا ایجنٹ قرار دیا جاتا تھا۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا کہ افواہ خوف کی ہو یا امن کی جب بھی ایسی کوئی بات تمہارے پاس پہنچے تو تمہیں منافقین کی طرح اسے پھیلانے کے بجائے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر صورت حال عرض کرنی چاہیے اور اگر آنحضرت ﷺ کی مصروفیت کے باعث ان تک نہ پہنچ سکو تو پھر ان لوگوں تک ایسی باتوں کو پہنچائو جن کے سپرد ایسے معاملات کیے گئے ہوں۔ جنھیں قرآن کریم کی زبان میں ” اولو الامر “ کہا گیا ہے۔ (اور ہم سورة النسآء آیت نمبر 59 کی تشریح میں اولو الامر کے مفہوم کی وضاحت کرچکے ہیں) جن میں علماء ‘ فقہاء اور قضاۃ بھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جن کے سپرد انتظامی ذمہ داریاں ہیں۔ عہد نبوت اور عہد صحابہ میں چونکہ دین و دنیا کی کوئی تفریق نہیں تھی اس لیے انتظامی ذمہ داریاں بھی انہی لوگوں کے سپرد کی جاتی تھی جو علوم اسلامیہ سے بہرہ ور ہوتے تھے۔ البتہ ایک بات جو ترجیح کے لائق تھی اور جس کو بطور خاص اس آیت کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ” تمہیں اولوالامر میں سے ان لوگوں کے پاس ایسے معاملات کو لے کر جانا چاہیے جنھیں اللہ نے استنباط کی صلاحیت سے بہروہ ور فرمایا ہے “ استنباط کا معنی کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا اور کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کرنا ہے۔ پھر اس مفہوم سے ترقی کر کے یہ لفظ کسی بات کی تہہ کو پہنچنے اور اس کی حقیقت پانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو ایسے نازک معاملات کسی کتابی آدمی کے پاس لے جانے سے فائدہ ہوتا ہے اور نہ ایسے آدمی کے پاس جو انتظامی صلاحیت تو رکھتا ہو لیکن بات کی تہہ تک اتر کر حقیقت معلوم کرنے کی صلاحیت سے تہی دامن ہو۔ اس کے لیے علم بھی درکار ہوتا ہے اور تجربہ بھی اور بطور خاص خداداد صلاحیت بھی۔ ایسے لوگوں کے پاس جب اس طرح کے معاملات پہنچتے ہیں تو وہ غور و فکر کے بعد معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو کچھ پھیلایا جا رہا ہے اس کی اصل حقیقت کیا ہے اور پھیلانے سے مقصود کیا ہے اور اس کے پیچھے کون لوگ کام کر رہے ہیں۔ مختلف مصادر سے ڈانڈے ملانے کے بعد اندازہ ہوجاتا ہے کہ بات کی اصل حقیقت کیا ہے۔ فضل اللہ کا مفہوم وَ لَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ الخ اس کا ایک مفہوم تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین افواہ سازی اور افواہوں کی اشاعت میں اس حد تک سرگرم ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے پوری طرح اپنے کارندے ان کے ساتھ لگارکھے ہیں اور ان کے دل و دماغ کو پوری طرح آلہ کار بنا لیا ہے۔ اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان کے پر اپیگنڈے کی شدت کو دیکھتے ہوئے یہ گمان ہوسکتا ہے کہ تم اس کار شیطان کا حصہ بن جاتے اور جو کچھ منافقین چاہتے ہیں ان کے اثرات کو تم بھی قبول کرنے لگتے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ ایمان لانے کے بعد ایمان میں ثابت قدمی اور اس کے تقاضوں پر عمل یہ اللہ کا وہ فضل و کرم ہے جس کے نتیجے میں ایک مومن میں خاص مزاج پیدا ہوتا ہے کہ شیطان کا کوئی وار بھی اس پر کارگر نہیں ہوتا۔ اس کا ایمان ایک ایسا پیمانہ فکر بن جاتا ہے جس سے وہ ہر بات کو بڑی آسانی سے اندازہ کر کے جانچ لیتا ہے۔ اور اس کی ایمانی دانش بڑی آسانی سے فیصلہ کرلیتی ہے کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ شیطان کی طرف سے ہے یا اس کی کوئی حقیقت بھی ہے۔ اس مزاج اور اس دانش کا نصیب ہونا اللہ کے رسول کی دعوت کی قبولیت اور پروردگار کے فضل و احسان کا نتیجہ ہے۔ اگر تم اللہ کے رسول ﷺ کے اتباع میں کامل نہ ہوتے تو یقینا تمہیں یہ دولت نہ ملتی اور تم اللہ کے فضل و کرم کے مستحق نہ ٹھہرتے اور پھر اس بات کا اندیشہ تھا کہ تم بھی منافقین کی طرح شیطان کے اتباع میں مبتلا ہوجاتے۔ لیکن اب اللہ کے فضل سے منافقین کی ساری کوششیں بیکار ثابت ہو رہی ہیں۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

اے پیغمبر اللہ کے راستے میں قتال کیجیے۔ تم پر اپنی جان کے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں اور ابھارو ایمان والوں کو جہاد کے لیے۔ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ روک دے زور ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا اور اللہ بڑے زور والا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج لَا تُکَلَّفُ اِلَّا نَفْسَکَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّکُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط وَاللّٰہُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْکِیْلاً ” اے پیغمبر اللہ کے راستے میں قتال کیجیے۔ تم پر اپنی جان کے سوا کسی کی ذمہ داری نہیں اور ابھارو ایمان والوں کو جہاد کے لیے۔ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ روک دے زور ان لوگوں کا جنھوں نے کفر کیا اور اللہ بڑے زور والا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔ “ (النسآء : 84) دو حقیقتیں اس آیت کریمہ کا اندازِ بیان مختلف حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن ہم ان میں سے دو کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔ 1 اس رکوع کے آغاز میں ہم نے پڑھا ہے کہ منافقین بڑے جوش و جذبے سے آنحضرت ﷺ سے استدعا کرتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں قتال کی اجازت دے۔ ہمارے بھائیوں پر کفار بےروک ٹوک مظالم توڑ رہے ہیں۔ انھیں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کہ مسلمانوں میں اس کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے۔ ہماری عفو و درگزر کی پالیسی نے انھیں بہت دلیر کردیا ہے۔ آخر ان مظالم کو ہم کب تک برداشت کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم ابھی اپنے ہاتھوں کو روک کے رکھو البتہ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی سے اس جذبے کو پیدا کرنے کی کوشش جاری رکھو جو جذبہ جہاد و قتال کی روح ہے اور جس جذبے کے بغیر آدمی میدانِ جنگ میں استقامت نہیں دکھا سکتا۔ لیکن جب اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم آگیا اور قتال فرض کردیا گیا تو منافقین پس وپیش کرنے لگے۔ ان کے دعوے چونکہ صرف زبانی حد تک تھے اس لیے جب عملی ثبوت کی بات آئی اور قربانی کا وقت آیا تو ان کے نفاق نے ان کا راستہ روک لیا۔ مسلمان کسی بھی غزوے کے لیے نکلتے تو منافقین حیلوں بہانوں سے پیچھے رہ جانے کی کوشش کرتے اور ان کی یہ روش نئے نئے مخلص مسلمانوں کے لیے بھی تردد کا باعث بنتی۔ آنحضرت ﷺ فطری طور پر اس صورت حال سے سخت کبیدہ ‘ دل گرفتہ اور پریشان ہوتے۔ چناچہ منافقین پر تعریض کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر یہ منافقین قتال کے لیے نکلنے پر آمادہ نہیں تو آپ تنہا نکل کھڑے ہوں۔ منافقین کو شاید یہ خیال ہے کہ ان کی شرکت کے بغیر اسلامی جہاد و قتال کے مقاصد پورے نہیں ہوسکتے۔ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رسول اور اس کے مخلص ساتھیوں کی پشت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کی تائید و نصرت ان کے ہمرکاب ہوتی ہے اور اللہ کی قدرت ایسی بےپناہ ہے کہ اس سے مقابلہ کرنے کی کسی میں تاب نہیں۔ وہ اگر چاہے تو اکیلا ہی ان تمام کفار کا زور توڑ سکتا ہے اور انھیں سخت سزا دے سکتا ہے۔ 2 اس آیت کریمہ میں یہ بتانا مقصود معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کی کارروائیوں سے جب قتال مسلمانوں پر فرض ہوجائے تو پھر اس کی اہمیت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ اسباب کی فراہمی تک اسے ملتوی نہیں کیا جاسکتا۔ افرادی قوت اگر محدود ہو اور وسائل جنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہوں تب بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ کفار سے ٹکرایا جائے اور اللہ کی دی ہوئی حقانیت کو خون دے کر ثابت کردیا جائے۔ یہ صحیح ہے کہ اگر مقابلے کی کوئی صورت بالکل ممکن نہ ہو اور وسائل بےحد محدود ہوں تو عام مسلمانوں پر قتال فرض نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ کا رسول چونکہ مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ بن کے آیا ہے اس پر یہ بات فرض کردی گئی ہے کہ وسائل کی کمی قتال کے راستے میں حائل نہیں ہونی چاہیے۔ اگر بہ فرضِ محال رسول تنہا بھی ہوں تب بھی ان کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں لڑنے کے لیے نکلیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افرادی قوت کی بےحد کمی اور وسائلِ جنگ ناپید ہونے کی صورت میں اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں فرماتے جس طرح مکی زندگی میں فرض نہیں ہوا۔ لیکن جب جہاد فرض کردیا جاتا ہے تو پھر رسول کو تنہا بھی نکلنا پڑے تو اسے نکلنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ کیونکہ قوموں کی زندگی میں بڑے بڑے کارنامے اور ایثار و قربانی کی محیر العقول مثالیں اور سیرت و کردار کے درخشاں کردار حقیقی زندگی کا باعث بنتے ہیں۔ جس طرح مینارے کے سر پر چمکتی ہوئی روشنی دور سے نظر آتی ہے اور گم کردہ راہ مسافر اسے دیکھ کر راستے کا تعین کرتے ہیں اسی طرح پیغمبروں اور ان کے متبعین کی درخشاں مثالیں مشعل راہ بنتی ہیں۔ اسی بات کو نمایاں کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ سے یہ سرفروشانہ نعرہ لگوایا گیا اور پھر انھوں نے اسی نعرے کو عملی صورت دینے کے لیے پوری زندگی اس کے مطابق گزاری۔ وہ نعرہ ہے ” قل ان صلوٰتی و نس کی و محیای و مماتی للہ رب العٰلمین لا شریک لہ و بذلک امرت و انا اول المسلمین “ (کہہ دیجیے میری نماز اور میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں) اللہ کی توحید کا داعی اور توحید کا پرستار آغاز نبوت میں تنہا اللہ کا نبی ہوتا ہے وہ تنہا اپنی ذات میں پورے دین کی تصویر بن کر اس کی نمائندگی کرتا ہے اور اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کو اپنے جسم و جان پر جھیلتا ہے۔ پھر جیسے جیسے افراد ملتے جاتے ہیں قافلہ بنتا جاتا ہے۔ پھر اس قافلے کے ہر فرد میں یہی روح پیدا کرنے کے لیے انھیں یہ دعا سکھائی جاتی ہے ” واجعلنا للمتقین اماما “ (الٰہی مجھے متقیوں کا امام بنا) اس راستے پر چلنے والے صاحب کردار لوگ جب کبھی کردار کی عظمتوں کا نمونہ تلاش کریں تو وہ میری طرف دیکھیں۔ جب انھیں تقویٰ کی زندگی گزارتے ہوئے مشکلات پریشان کریں تو میرا صبر ان کے لیے راہنما ہو۔ جب کبھی اس راستے میں جان دینے کی بات آئے اور سوچنے والے پس و پیش کرنے لگیں تو میری قربانی ان کے لیے مہمیز بن جائے۔ اس آیت کریمہ میں شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے کہ اب چونکہ جہاد فرض ہوچکا قطع نظر اس سے کہ منافقین کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں آپ سب سے پہلے اس راستے میں نکلنے کے مکلف بنائے گئے ہیں۔ جھلستے ہوئے صحرا میں گھٹا جھوم کے اٹھتی ہے ‘ لیکن برسنے والا ایک ایک قطرہ صحرا کی گرمی کو دیکھتے ہوئے زمین پر آنے کی جرأت نہیں کرتا۔ لیکن جب ایک قطرہ جرأت کر کے برس جاتا ہے تو پھر موسلادھار بارش ہوتی ہے۔ بند راستوں کو کھولنے والے اولوالعزم زیادہ نہیں ہوتے۔ لیکن ان کی قربانیاں ان گنت لوگوں کے لیے حوصلے کا سامان بن جاتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی پیغمبر کو ایک اور بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ منافقین کو چھوڑیے آپ کے کام کا دارومدار ان پر نہیں اللہ کی تائید و نصرت پر ہے۔ البتہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کو اس راستے پر چلنے کے لیے انگیخت کیجیے۔ انھیں ترغیب دیجیے۔ یہ ناممکن ہے کہ آپ کی ترغیب پر وہ آپ کے ساتھ چلنے پر تیار نہ ہوں۔ اسی لیے ایک اور جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ ” اے پیغمبر آپ کے لیے اللہ اور مخلص مسلمان کافی ہیں ‘ وہی آپ کا اثاثہ ہیں۔ وہ تھوڑے ہیں یا زیادہ اللہ کی قوت آپ کے ساتھ ہے۔ آپ تھوڑے بھی ہوں گے تو اس کی قوت کافروں کا زور توڑ دے گی۔ “ اسی حکم کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تنہا بھی لڑنا پڑے تو اس وقت تک لڑوں گا جب تک میری گردن میرے گندھے سے اتر نہیں جاتی۔ اور آپ کی ترغیب ہی کا اثر تھا کہ صحابہ کی صورت میں ایک ایسی سرفروشوں کی جماعت تیار ہوئی کہ جن سے زیادہ فداکار اور سرفروش لوگ چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھے۔ ہمیں یہاں رک کر تھوڑی سی غور کرنے کی زحمت گوارا کر لینی چاہیے کہ اللہ نے جہاد کے لیے حالات کی نا مساعدت کی وجہ سے اپنے رسول کو تنہا نکلنے کا حکم دیا اور رسول اللہ ﷺ بھی جان دینے تک اس فرض کی ادائیگی پر کمر بستہ رہے اور آپ کی ترغیب اور تاکیدنے ہی سرفروشوں کا بےمثال قافلہ تیار کیا ہے۔ اور اسی سرفروشی کے نتیجے میں صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اسلام زندہ ہے۔ لیکن آج ہم مغرب اور امریکہ کے زیر اثر اسی جذبہ بےپناہ اور اسی قطعی فرض کو دہشت گردی کا نام دے کر ذلت کی پستیوں میں اتر جانا چاہتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبر نے پہلے ہی خطبے میں ارشاد فرمایا تھا کہ جب تم جہاد چھوڑ دو گے تو ذلیل ہوجاؤ گے۔ آج امت مسلمہ نہ جانے کیوں اپنے ہاتھوں ذلت کا سامان کر رہی ہے اور سمجھتی یہ ہے کہ اس طرح شاید ہماری بقا کا سامان ہوجائے حالانکہ جیسے جیسے یہ جذبہ ہم سے رخصت ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہم نہ صرف غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ ہلاکت کی اتھاہ وادیوں میں اترتے چلے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے دین اور ہماری تاریخ کا فیصلہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ ؎ جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو کسی نیک کام کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور جو کوئی بری بات کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّـکُنْ لَّـہٗ نَصِیْبٌ مِّنْہَا ج وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّـکُنْ لَّـہٗ کِفْلٌ مِّنْہَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مُّقِیْتًا ” جو کسی نیک کام کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور جو کوئی بری بات کی سفارش کرے گا اس کے لیے اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 85) شفاعت کا معنی و مفہوم شفاعت کے لفظی معنی ملنے یا ملانے کے ہیں۔ اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تائید و حمایت اور کسی غریب اور کمزور کی بےکسی میں اپنی مدد ملا کر اسے قوی کردینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ مفہوم سمجھ میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول کی تشریف آوری کے بعد انسان دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک تو وہ لوگ ہیں جو اللہ کے رسول پر ایمان لائے اور دوسرے وہ لوگ جنھوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی اور آپ ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو ان کے بس میں تھا۔ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کی تعداد ابھی چونکہ کم تھی اور اکثر ایمان لانے والے اپنی مالی اور عرفی حیثیت سے بھی نہایت فروتر تھے اس لیے مخالفین کو انھیں ستانے اور اذیت پہنچانے میں کوئی روک نہیں تھی۔ یہاں ان دونوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ دو گروہ تمہارے سامنے ہیں ان میں ایک کمزور ہے ایک طاقتور ہے ایک برسر حق ہے اور دوسرا برسر باطل ہے۔ طاقتور گروہ کمزوروں کو حق پر ہونے کے باوجود اپنی طاقت اور مال و دولت سے کام لے کر مٹا دینا چاہتا ہے۔ جو لوگ ابھی حق و باطل کے اس معرکے میں غیر جانبدار بنے بیٹھے ہیں انھیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کا ساتھ دیں۔ لیکن ساتھ دینے سے پہلے وہ سوچ لیں کہ ایک طرف حسنہ ہے اور دوسری طرف سیئہ ہے۔ یعنی ایک طرف اچھائی ‘ نیکی اور حق ہے اور دوسری طرف برائی اور باطل ہے۔ وہ جس کا بھی ساتھ دیں گے اور جس کی بھی تائید کریں گے ان کا شمار اسی گروہ میں ہوگا۔ اگر وہ حق کی تائید کرتے ہیں اور بر سر حق گروہ میں شامل ہو کر اس کی قوت میں اضافہ کرتے ہیں تو انھیں حق کی تائید و نصرت کرنے کا ثواب ملے گا اور برسر حق گروہ کے لیے اللہ نے جو انعامات اور درجات رکھے ہیں یہ ان میں برابر کے شریک ہو نگے۔ لیکن اگر یہ اس گروہ میں شامل ہونے یا اس کی تائید کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو خیر کی ہر قوت کے خلاف اور برائی کی نمائندگی کر رہے ہیں تو پھر جس قدر ان کی تائید کریں گے اور ان کی قوت کا سامان بنیں گے اسی قدر ان کے اعمال میں ان کا حصہ ہوگا اور جب اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کی سزا دے گا تو یہ اس سزا میں بھی برابر کے حصہ دار ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ اس وقت حق کی قوت کمزور اور برسر باطل گروہ مضبوط ہے اس لیے شائد وہ ہر طرح کی سزا سے بچ جائیں۔ یہ غلط فہمی ہے جس سے انھیں نکل جانا چاہیے۔ اللہ کی ذات ہمہ مقتدر ہے۔ اس کی قوتوں کا کوئی اندازہ نہیں۔ وہ جب سزا دینے پہ آتا ہے تو اس کی سزا سے بچنے کے لیے کوئی جائے امان نہیں ہوتی۔ یہ تو وہ مفہوم ہے جس کی طرف سیاق کلام ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں منافقین کو سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ تم اپنے طرز عمل پر غور کرو اور سوچو کہ تم کس گروہ کے لیے تائید و قوت کا سامان بنے ہوئے ہو۔ اسی کے مطابق تمہارا انجام ہوگا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت کریمہ اپنی ذات میں ایک مکمل اور علیحدہ حیثیت بھی رکھتی ہے۔ سفارش کا صحیح مفہوم اس لحاظ سے یہاں شفاعت سے وہ سفارش بھی مراد لی جاسکتی ہے جس کا چلن اور رواج ہر دور اور ہر معاشرے میں رہا ہے اور جس کا ذکر احادیث میں بھی موجود ہے۔ صحیح بخاری میں آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد منقول ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اشفعوا فلتوجرواو یقضی اللہ علی لسان نبیہ ما شآء (تم سفارش کیا کرو تمہیں ثواب ملے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعے جو فیصلے فرمائے اس پر راضی رہو) اس حدیث پاک میں شفاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں چونکہ شفاعت یا سفارش کا غلط مفہوم لے لیا گیا ہے اور اس کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے کسی بھی شریف آدمی سے سفارش کے لیے کہا جائے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ مجھے ایک بری بات کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ حالانکہ شفاعت یا سفارش کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی اپنا حق حاصل کرنے کے لیے حق دینے والے تک پہنچنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ دوسرا آدمی اس کی مدد کرتے ہوئے اس کی بات متعلقہ افسر یا اتھارٹی تک پہنچا دیتا ہے اور ساتھ ہی اس کے کلمہ خیر بھی کہتا ہے۔ یہ وہ سفارش ہے جس کی شریعت اجازت بھی دیتی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کی حیثیت بھلائی کے کام پر دلالت کرنے کی ہے۔ یعنی ایک کمزور آدمی جو اپنی بات سمجھا نہیں سکتا یا اسے متعلقہ دفتر تک پہنچانھیں سکتا آپ نے اس کی بات یا اس کی درخواست متعلقہ دفتر پہنچا دی اور فیصلہ کرنے والی شخصیات کو آپ نے مناسب معلومات بھی پہنچا دیں تو آپ نے ایک نیکی پر رہنمائی کی ہے ‘ ایک کمزور آدمی کی مدد کی ہے اور فیصلہ کرنے والوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی پید ا کی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے اس عمل پر اجر وثواب سے نوازے گا۔ البتہ سفارش کے لیے چند شرائط ہیں : 1 سفارش کرنے والے کو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ جس بات کی سفارش کر رہا ہے کیا وہ بات صحیح ہے ‘ وہ واقعی مانگنے والے کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کے حق کو نقصان تو نہیں پہنچے گا۔ 2 اسے سفارش کرتے ہوئے صرف حقیقت بیان کرنے تک محدود رہنا چاہیے۔ حقدار کے حق کو اپنی معلومات کی حد تک ثابت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے بعد وہ اس معاملے کو فیصلہ کرنے والوں پر چھوڑ دے۔ ان پر دبائو نہ ڈالے۔ وہ اگر دیانت داری سے فیصلہ اس کے خلاف کردیں تو اپنے دل میں ان کے لیے ناراضگی پید انہ ہونے دے اور اسے اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے ان کی مخالفت کرنا نہ شروع کر دے۔ اس سے پہلے ہم نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے اس میں بھی آنحضرت ﷺ نے یہی ارشاد فرمایا کہ تم میرے پاس لوگوں کی سفارش کرو تاکہ معاملے کو سمجھنے میں مجھے مدد ملے۔ معاملے کی وضاحت کے بعد پھر تم اس بات پر اصرار نہ کرو کہ فیصلہ تمہاری رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ممکن ہے تم جس چیز کو حق سمجھ رہے ہو فیصلہ کرنے والوں کے ذرائع کے مطابق وہ حق نہ ہو۔ اس لیے فیصلہ کرنے والوں کو فی الجملہ آزادی ملنی چاہیے۔ ہر فیصلہ کرنے والا اپنی جگہ ایک عدالت کا فرض انجام دیتا ہے اور عدالت پر دبائو ڈالنا اور اپنے اثر و اختیار کر استعمال کرنا ہر قانون میں جرم ہے اور اسلام تو اس کی شدید مذمت کرتا ہے۔ 3 سفارش کرنے والا اپنی سفارش کی قیمت وصول نہ کرے۔ بلکہ وہ یہ سمجھ کر سفارش کرے کہ میں ایک نیکی کا کام کر رہا ہوں اور ایک فرض انجام دے رہا ہوں۔ مجھے معاوضہ اپنے اللہ سے لینا ہے اور اس کا وعدہ ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ” کان اللہ فی عون عبدہ ما دام فی عون اخیہ “ ( اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی امداد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی امداد میں لگا رہے) اس لیے کوئی آدمی اگر معاوضہ لے کر سفارش کرتا ہے تو یہ رشوت ہے جو اسلامی نقطہ نگاہ سے بہت بڑا جرم ہے جس کے لینے اور دینے والے کو آنحضرت ﷺ نے جہنمی کہا ہے۔ اور اگر وہ سفارش محض اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے شخص کو ڈھیروں انعامات سے نوازے گا۔ اسلام میں کمزور اور نادار انسانوں کی مدد کے لیے ہر طرح کی شفاعت اور ہر طرح کی مدد و تائید کا حکم دیا گیا ہے اور اسے بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اعتکاف میں تھے۔ ایک صاحب نے آکر کہا کہ مجھے فلاں شخص کا قرض دینا ہے۔ قرض کی تاریخ قریب آگئی ہے لیکن میری مالی حالت ایسی نہیں کہ میں قرض ادا کرسکوں۔ آپ اگر انھیں کہہ دیں تو یقینا قرض کی مہلت میں اضافہ کردیا جائے گا۔ اس طرح میں ایک بڑی مشکل سے نجات پا جاؤں گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ( رض) اسی وقت اس کے ساتھ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس شخص نے عرض کیا کہ حضرت آپ ( رض) تو اعتکاف میں ہیں۔ آپ مسجد سے باہر نہیں نکل سکتے۔ آپ ( رض) کس طرح میرے ساتھ جائیں گے۔ تو آپ ( رض) نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے فرمایا کہ اعتکاف کی قضا ممکن ہے زندگی رہی تو اگلے سال انشاء اللہ اس اعتکاف کی قضا کروں گا لیکن تیرے کام کی قضا ممکن نہیں۔ تیری پریشانی کا تقاضا یہ ہے کہ میں اعتکاف توڑ کر تیرے ساتھ جاؤں۔ چناچہ آپ ( رض) اس کے ساتھ چلے گئے۔ اسی طرح برائی اور ظلم کے حق میں سفارش بدترین گناہ ہے اور اسی کو شفاعت سیئہ کہا گیا ہے۔ جس طرح شفاعت حسنہ پر عظیم اجر وثواب کی امید ہے اسی طرح شفاعت سیئہ پر پر بڑی سخت تہدید بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ” من اعان علی قتل مومن بشطر کلمۃ القیٰ اللہ مکتوب بین عینیہ اٰئس من رحمۃ اللہ “ (جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں ایک کلمہ سے بھی مدد کی تو وہ قیامت میں حق تعالیٰ کی پیشی میں اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی پیشانی پر یہ لکھا ہوگا کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور مایوس ہے) عملی سفارش تو ایک بڑی نیکی ہے ہی ‘ آنحضرت ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا کہ کسی مسلمان کی حاجت روائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا بھی شفاعت حسنہ میں داخل ہے اور دعا کرنے والے کو بھی اجر ملتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ” جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے لیے کوئی دعائے خیر کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے ” ولک بمثل “ (یعنی اللہ تعالیٰ تیری بھی حاجت پوری فرمائے)