Al-Kaafiroon 109:3

Al-Kaafiroon · from ayah 3

109:3

وَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ ۟ۚوَلَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ

اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Nor are you worshippers of what I worship.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 34 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Kaafiroon

All translations of 109:3

اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس (خدا) کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اس کی عبادت نہیں کرتے جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور نہ تم پوجتے ہو جو میں پوجتا ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ تم اس (رب) کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتاہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہ تم پوجنے کے جسے میں پوجتا ہو ں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی تم (بحالت موجودہ) عبادت و بندگی کرنے والے ہو اس (معبود برحق) کی جس کی عبادت میں کرتاہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ تم میرے معبودوں کی پرستش کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جس اللہ کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

neither do you worship Him Whom I worship;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

nor do you worship the One whom I worship.

— Muhammad Taqi Usmani

nor do you worship the One whom I worship.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Nor will you worship whom I worship."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nor are you worshippers of what I worship.

— Saheeh International

nor do you worship what I worship

— Muhammad Sarwar

Nor do you serve Him Whom I serve:

— Muhammad Habib Shakir

Nor are ye the worshippers of that which I worship.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 109:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

مشرکین الگ اور موحدین الگ : اس سورة مبارکہ میں مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اعلان ہے اور اللہ کی عبادت کے اخلاص کا حکم ہے گو یہاں خطاب مکہ کے کفار قریش سے ہے لیکن دراصل روئے زمین کے تمام کافر مراد ہیں اس کی شان نزول یہ ہے کہ ان کافروں نے حضور ﷺ سے سے کہا تھا کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں تو اگلے سال ہم بھی اللہ کی عبادت کریں گے اس پر یہ سورت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ﷺ کو حکم دیا کہ ان کے دین سے اپنی پوری بیزاری کا اعلان فرما دیں کہ میں تمہارے ان بتوں کو اور جن جن کو تم اللہ کا شریک مان رہے ہو ہرگز نہ پوجوں گا گو تم بھی میرے معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کو نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 3–4

سورة الکافرون 3 اصل الفاظ ہیں مَآ اَعْبُدُ۔ عربی زبان میں مَا کا لفظ عموما بےجان یا بےعقل چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ذی عقل ہستیوں کے لیے مَن کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں من اعبد کہنے کے بجائے مَآ اَعْبُدُ کیوں کہا گیا ہے ؟ اس کے چار جواب عام طور پر مفسرین نے دیے ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں م٘ا بمعنی من ہے۔ دوسرے یہ کہ یہاں مَا بمعنی الذی (یعنی جو باتیں) ہے۔ تیسرے یہ کہ دونوں فقروں میں مَا مصدر کے معنی میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ عبادت نہیں کرتا جو تم کرتے ہو، یعنی مشرکانہ عبادت، اور تم وہ عبادت نہیں کرتے جو میں کرتا ہوں، یعنی موحدانہ عبادت۔ چوتھے یہ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

خلاصہ تفسیر آپ (ان کافروں سے) کہہ دیجئے کہ اے کافرو (میرا تمہارا طریقہ ایک نہیں ہوسکتا اور) نہ (قوفی الحال) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو اور نہ (آئندہ استقبال میں) میں تمہارے معبودوں کی پرستش کروں گا اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرو گے (مطلب احقر کے نزدیک یہ ہے کہ میں موجد ہو کر شرک نہیں کرسکتا نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک ہو کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہو سکتے۔) تم کو تمہارا بدلہ ملے گا اور مجھ کو میرا بدلہ ملے گا (اس میں ان کے شرک پر وعید بھی سنا دی گئی۔) معارف مسائل سورت کے فضائل اور خواص۔ حضرت صدیقہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک حقیقت نفس الامری کا اظہار: ساتھ ہی ان کو اس حقیقت نفس الامری سے بھی حضور نے آگاہ فرما دیا کہ تم جو یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ تم اس خدا کو پوجنے والے ہو یا بن جاؤ گے جس کو میں پوجتا ہوں تو تمہارا یہ گمان محض گمان ہے۔ میرے پروردگار کی بندگی کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ بندگی صرف اسی کا حق ہے، اس میں کوئی دوسرا اس کا ساجھی نہیں ہے۔ تم اگر اپنے دیویوں دیوتاؤں سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو تو اس کے پرستار بھی نہیں بن سکتے۔ یہ تمہارا محض مغالطہ ہے کہ تم اپنے کوخدا کی عبادت کرنے والا سمجھتے ہو۔ خدا کی عبادت کے ساتھ کوئی اور عبادت جمع نہیں ہو سکتی۔ اس کی بندگی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–4

1۔ 1 الکفرون میں الف لام جنس کے لیے ہے لیکن بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہوگا۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–6

1: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکہ مکرمہ کے کچھ سرداروں نے جن میں ولیدبن مغیرہ، عاص بن وائل وغیرہ شامل تھے حضور اقدس ﷺ سے صلح کی یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کرلیا کریں تو دوسرے سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کرلیں گے، کچھ اور لوگوں نے اسی قسم کی کچھ اور تجویز بھی پیش کیں جن کا خلاصہ یہی تھا کہ آنحضرت ﷺ کسی نہ کسی طرح ان کافروں کے طریقے پر عبادت کے لئے آمادہ ہوجائیں تو آپس میں صلح ہوسکتی ہے، اس سورت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرمادیا کہ کفر اور ایمان کے درمیان اس قسم کی کوئی مصالحت قابل قبول نہیں ہے جس سے حق اور باطل کا امتیاز ختم ہوجائے اور دین برحق میں کفر کی ملاوٹ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–6

انکار کے بعد انکار ، تاکید کے بعد تاکید اور قطعیت کے بعد قطعیت۔ نفی ، قطعیت اور تاکید کے تمام صیغے اور اسالیب اس سورت میں جمع کردیئے گئے ہیں۔ قل ” کہہ دو “۔ یہ دو ٹوک خدائی حکم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ عقیدہ اور یہ نظریہ مامور من اللہ ہے۔ یہ اللہ وحدہ کا حکم ہے اور اس میں حضرت محمد ﷺ کا کوئی ذاتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس حکم سے سرتابی نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ کوئی ایسا وجود ہے جو اللہ کے حکم کو رد کرسکے۔ قل ............ الکفرون (1:109) ” کہہ دو اے کافرو “۔ اللہ نے ان کو اس لفظ سے پکارا جس کا اطلاق ان پر حقیقی معنوں میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی صفت سے ان کو بلایا گیا جو ان کے اندرونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

2 یعنی خدا کے سوا جو معبود تم نے بنا رکھے ہیں میں فی الحال ان کو نہیں پوج رہا اور نہ تم اس احد و صمد خدا کو بلا شرکت غیرے پوجتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ۔ } ”اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔“ اس آیت میں ان کے تمام معبودوں کی نفی کردی گئی ہے۔ وہ لوگ اللہ کی پرستش تو کرتے تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے دیوی دیوتائوں کی پوجا کے بھی قائل تھے۔ اس پس منظر میں ان پر واضح کیا جا رہا ہے کہ جس طرح میں خالص اللہ کی بندگی کرتا ہوں ‘ اس طرح تم لوگ صرف اور صرف اس کی پرستش نہیں کرتے ہو۔ چناچہ تمہاری اس انداز کی پرستش تمہارے اپنے خود ساختہ معبودوں کی پرستش تو ہوسکتی ہے ‘ ایک اللہ کی پرستش نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 قرآن نے کافروں کی اس تجویز کا دو ٹوک فیصلہ کردیا اور اپنے نبی سے فرما دیا کہ سب کافروں کے سامنے یہ اعلان کردو کہ اس شرط پر ہمارے تمہارے درمیان کبھی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ میں کسی قیمت پر تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا۔ جس کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم بھی ایک اکیلے اللہ کی عبادت کرنا گوارا نہ کرو گے اور اپنے دوسرے معبودوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہوگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ یعنی دین اسلام اور ملت شرک کے درمیان کی کوئی صورت ممکن نہیں، دونوں راہیں بالکل الگ الگ ہیں۔ (آیت) ” یایھا الکفرون “۔ اے وہ لوگو جو ملت کفر پر قائم ہو۔ یہ خطاب ان کافروں سے ہے، جو کفر و ایمان، جاہلیت واسلام کے طریقوں کو ملاجلا کر کوئی نیادین اپنی تجویز سے قائم کرنا چاہتے تھے۔ مثلا یہ کہ ایک سال تعلیم وتبلیغ خالص توحید کی ہو اور دوسرے سال مورتی پوجا کی۔ یہ کوشش عرب اور اس دور کے عرب کے ساتھ محدود ومخصوص نہ تھیں۔ بارہایہ کوششیں ہوچکی ہیں، اور اب بھی جاری ہیں کہ کفر واسلام، شرک و توحید کو ملا کر ایک کردیا جائے، اکبر کا ” دین الہی “ اسی کوشش کا ایک نمونہ تھا، اور عین اس وقت تو یہ کوششیں کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–6

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، آپ ﷺ کہہ دیجیے، اے کافرو ! نہ میں فی الحال ان بتوں کی بندگی کرتا ہوں جن کی تم بندگی کرتے ہو اور نہ فی الحال تم بندگی کرتے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اور وہ اللہ وحدہ ہے، اور نہ میں آئندہ بندگی کرنے والا ہوں جن کی تم بندگی کرتے اور نہ تم آئندہ بندگی کرنے والے ہو اس کی جس کی میں بندگی کرتا ہوں اللہ کو ان کے بارے میں علم تھا کہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور ما کا اللہ پر اطلاق بطور مقابلہ ہے، تمہارے لئے تمہارا دین شرک ہے اور میرے لئے میرا دین اسلام ہے اور یہ حکم، جہاد کا حکم دیئے جانے سے پہلے کا ہے، اور قراء سبعۃ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا انتم عبدون . اور نہ تم آئندہ عبادت کرنے والے ہو۔ چونکہ یہ جملہ اعبد کے مقابل آیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ بھی مستقبل کی نفی ہے۔ ما اعبد . جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ لفظ ما (جو بےعلم چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے) بجائے من کے (جو اہل علم کے لیے استعمال ہوتا ہے) ذکر کیا گیا (حالانکہ ما اعبد میں مَا سے مراد اللہ ہے اور اللہ سب سے بڑا عالم ہے ‘ اس لیے من کہنا چاہیے تھا) اس کی وجہ یا تو صرف لفظی مطابقت ہے ‘ پہلے ما تعبدون تھا ‘ اس کے مطابق یہاں بھی ما اعبد فرمایا۔ محض وصف معبود ملحوظ ہے (بےعلم اور ذی علم ہونے کی حیثیت ملحوظ نہیں) یعنی میں باطل کی پرستش نہیں کرونگا اور تم حق کی تلاش نہیں کرو گے ‘ یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) عاص بن وائل اور ولید بن مغیرہ نے حضور سے کہا تھا کہ آپ ہمارے معبودوں کو تسلیم کرلیں تو ہم آپ کے معبود کی عبادت شروع کردیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان استہزاء کرنے والے کافروں سے فرما دیجیے کہ نہ تو فی الحال میں تمہارے معبودوں کی پرستش کرتا ہوں اور نہ آئندہ کروں گا تمہیں تمہارا دین یعنی کفر و شرک مبارک ہو اور میرے لیے میرا دین یعنی اسلام ہے ؟ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے کیوں کہ حضور نے پھر ان سے قتال فرمایا۔ شان نزول : قل یا ایہا الکفرون الخ طبرانی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش نے حضور کو بلایا تاکہ آپ کو بہت سا مال دے دیں کہ جس سے آپ مکہ میں سب سے مال دار…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–6

(قل یھا الکفرون…: طبرانی اور تفسیر ابن ایب حاتم وغیرہ میں عبداللہ بن عباس ؓ سے جو معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ، اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں، اگر تم ایسا نہیں کرتے تو ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجا کرلیا کرو، دوسرے سال ہم تمہارے الہ کی بندگی کرلیا کریں گے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔ اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابوخلف عبداللہ ضعیف ہے، لیکن آیت :(قل افغیر اللہ تامرونی اعبدایھا الجھلون) (الزمر : 63) (کہہ دے ! پھر کیا اللہ کے غیر کے بارے میں تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں اس کی عبادت کروں اے جاہلو !) کے مضمون سے اس شان نزول کی تائید ہوتی ہے، کیونکہ قریش کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–5

قل یا ایھا الکافرون۔ تا۔ ولا انتم عبدون ما اعبد۔ علماء نے کہا : جو آدمی اپنے دل کا علاج کرنا چاہتا ہے اور ظلم و قہر کی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے رب کی طاعت کی طرف متوجہ ہونا چاہتا ہے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ لذات کو ختم کرنے والی، جماعتوں کو جدا کرنے والی، بیٹوں اور بیٹیوں کو یتیم کرنے والی کا ذکر کثرت سے کرے جو لوگ موت وحیات کی کشمکش میں ہیں ان کی ملاقات پر مواظبت اختیار کرے اور مسلمانوں کی قبروں کی زیارت میں ہمیشگی اختیار کرے۔ یہ تین امور ہیں جس آدمی کا دل سخت ہو، گناہ اس کی اپنی گرفت میں لے چکا ہو تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف اس سے مدد لے اور شیطان اور اس کے دوستوں کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة قل یا ایہا الکفرون مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت قل یا ایہا الکفرون مدینہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعوت دی کہ وہ لوگ آپ کو اتنا مال دیں گے کہ آپ مکہ مالدار لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ اور عورتوں میں سے جس کے ساتھ آپ پسند کریں گے وہ آپ کی شادی کردیں گے۔ اور کہنے لگے یہ سب کچھ آپ کے لیے ہے اے محمد ﷺ اور آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنے سے رک جائیں اور ہمارے معبودوں کا تذکریں برائی کے ساتھ نہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہ کریں تو ہم آپ پر ایک…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَآ انتم عٰبِدُوْنَ : اور نہ تم لوگ بندگی کرنے والے ہو ][ مَآ : اس کی جس کی ][ اَعْبُدُ : میں بندگی کرتا ہوں ] نوٹ 2: آیت۔ 3 ۔ میں اور۔ 5 ۔ میں مَا اَعْبُدْ آیا ہے۔ عربی زبان میں ما کا لفظ عموماً بےجان یا بےعقل چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور ذی عقل ہستیوں کے لیے مَنْ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں مَنْ اَعْبُدْ کہنے کے بجائے مَااَعْبُدْکیوں کہا گیا۔ عام طور پر اس کے چار جواب مفسرین نے دئیے ہیں۔ یہ چاروں تاویلات اگرچہ ایک ایک لحاظ سے درست ہیں اور عربی زبان میں ان سب کی گنجائش ہے، لیکن ان میں سے کسی سے بھی وہ اصل مدعا واضح نہیں ہوتا جس کے لیے مَنْ اَعْبُدْ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

یہ سورة ٴ کافرون کا پورا ترجمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل مکہ مشرک تھے کعبہ معظمہ تک کے اندر بت رکھ چھوڑے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور شرک چھوڑنے کی تبلیغ کی تو ان کو یہ بات بہت کھلی، پہلے تو آپ سے محبت رکھتے تھے اور آپ کو صادق الامین کہتے تھے۔ جب آپ نے بت پرستی چھوڑنے کا حکم فرمایا تو سخت ترین دشمن ہوگئے اور طرح طرح کی باتیں بنانے لگے، ایک دن ایسا ہوا کہ ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل اور اسود بن المطلب اور امیہ بن خلف آپس میں مل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد آؤ ہم اور تم ساجھا کرلیں اور آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں اور ہم آپ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–6

اعلان استقامت بر اسلام وشعائر اسلام وبیزاری از مراعات اھل باطل : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یایھا الکفرون ......... الی ........... لکم دینکم ولی دین “۔ (ربط) سورة کوثر میں خیر کثیر کی بشارت سنائی گئی تھی اور یہ اعلان بھی کردیا گیا تھا کہ خداوند عالم نے یہ طے کردیا تھا کہ اس کے پیغمبر ﷺ کا ہی دین غالب ہوگا۔ اور پیغمبر خدا ہی کامیاب ہوں گے اور جو بھی کوئی بغض اور دشمنی رکھے وہی ناکام ذلیل اور تباہ ہوگا، اب اس سورت میں دنیا کے تمام گمراہوں اور باطل ملت کی پیروی کرنے والوں کو جو باطل کو فروغ دینے کے لئے بڑی ہی محنت اور جدوجہد کررہے ہیں کھلے عام اعلان کیا جارہا ہے، اب حق پرستوں کی طرف سے ایسے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” قل یا ایہا الکفرون “۔ ماتعبدون میں ما سے معبودان باطل مراد ہیں۔ جن کی مشرکین اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے۔ ما اعبد میں ما سے معبود حقیقی مراد ہے جس کی پیغمبر خدا ﷺ خالص عبات بجا لاتے تھے فرمایا اگر اس طرح ایضاح و تفصیل اور ایسے دلائل قاطعہ کے باوجود بھی مشرکین مسئلہ توحید کو نہیں مانتے تو آپ اعلان فرما دیں اے کفار، تم اپنی راہ پر چلو، میں اپنی راہ پر چل رہا ہوں۔ تم جن باطل اور خود ساختہ معبودوں کی پوجا کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرسکتا اور نہ تم ہی اپنے ان معبودوں کی عبادت چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کو تیار ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الکفرون ہے۔ اس کی پہلی آیت میں کافروں کا لفظ آیا ہے۔ اسی سے سورة کا نام اخذ کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین 1 ؎ نے اس کا نام سورة المقشقشۃ یعنی شفا بخشنے والی سورة بھی بتلایا ہے کہ یہ کفر و شرک کی بیماری سے شفا بخشنے والی سورة ہے تفسیر روحی 2 ؎ المعانی میں اس کا ذکر آتا ہے۔ تاہم زیادہ مشہور سورة الکفرون ہی ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی چھ آیتیں چھبیس الفاظ اور ننانوے حروف ہیں۔ گزشتہ سورة کا خلاصہ پچھلی سورة مبارک میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی فلاح اور کامیابی کے پاکیزہ اصول 1 ؎ روح المعانی ص 249/ج 30 ، در منشور ص 404/ج 6 ، 2 ؎ روح المعانی ص 249/ج…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 3–6

وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ۝ 3 وَلَآ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ۝ 4 ۙ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِيْنِ۝ 6 ۧ دين والدِّينُ يقال للطاعة والجزاء، واستعیر للشریعة، والدِّينُ کالملّة، لكنّه يقال اعتبارا بالطاعة والانقیاد للشریعة، قال إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] ( د ی ن ) دين الدین کے معنی طاعت اور جزا کے کے آتے ہیں اور دین ملت کی طرح ہے لیکن شریعت کی طاعت اور فرمانبردار ی کے لحاظ سے اسے دین کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلامُ [ آل عمران/ 19] دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–6

ترکیب ¦ یا ایہا حرف النداء الکافرون النادی لا اعبد الخ نداء والجملۃ مقولۃ قولہ قل وفی تکریر قولہ لا اعبد الخ ولا انا عابد الخ قولان الاول التکریر للتاکید والمقام مقام التاکید لان الکفار یطلبون منہ ﷺ عبادۃ اصنامھم بالاصرار والثانی ان الاول للمستقبل والثانی للحال لان لا لاتدخل الاعلی المضارع بمعنی المستقبل فقولہ لا اعبد الخ معناہ لا اعبد فی المستقبل ماتطلبونہ منی من عبارۃ اصنامکم ولا انتم فاعلون فی المستقبل ما ارید منکم من عبارۃ ربی وقیل علی العکس وفی ما سوال لانھا غیر ذی التقول فکیف یصح قولہ ما اعبد فانہ ﷺ یعبد اللہ تعالیٰ وھواعلم العالمین والجواب منہ علی وجہین الاول ان ما مصدریۃ فی الجملتین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَـآ اَعْبُدُ ۔ (الکافرون : 3) (اور نہ ہی تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔ ) اس میں حقیقت نفس الامری بھی ہے اور ایک غلطی کی نشاندہی بھی اس آیت میں کفار کی پیشکش کا جواب بھی ہے اور ان کی غلطی کی نشان دہی بھی۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جس طرح ہم اپنے بتوں کی عبادت صرف پوجا پاٹ کی حد تک کرتے ہیں، باقی زندگی کے معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اور پھر اس عبادت میں اگر ہم کسی اور کو بھی شامل کرلیں جب بھی بتوں کی عبادت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرسکتے ہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ تم نے سمجھوتے کی جس پیشکش میں اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : نبی ﷺ کو سورة الکوثر میں حوض کوثر اور خیر کثیر کی خوشخبری دی گئی جس کا صاف معنی ہے کہ آپ ﷺ کو کسی قسم کی مداہنت کی ضرورت نہیں اس لیے کفار کو صاف طور پر کہہ دینا چاہیے کہ توحید اور شرک، کفر اور اسلام کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کی عبادت کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اہل مکہ نے نبوت کے ابتدائی دور میں نبی معظم ﷺ کی دعوت پر خاص توجہ نہ دی لیکن جوں ہی آپ کی دعوت کے اثرات پھیلنے لگے تو مکہ کے سردار چوکس ہوئے اور انہوں نے پوری کوشش کی کہ آپ کی دعوت آگے نہ بڑھ سکے، اس مقصد کے لیے انہوں نے آپ کے خلاف شدید پراپیگنڈہ کیا اور آپ کے ساتھیوں کو زدّ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ (اور نہ تم میرے معبود کی پرستش کرتے ہو) عابدونؔ اس وقت عبادت کرنے والے ہو۔ ما اعبدؔ جس کی میں عبادت کرتا ہوں یعنی اللہ تعالیٰ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–6

1۔ 6۔ طبرانی 3 ؎ اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ اور چند اور مشرکوں نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ محمد ﷺ تم ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو اور اس طرح ہم اور تم مل جل کر مکہ میں رہیں کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کی پوجا کر یا کرو ‘ ہم دوسرے سال تمہارے خدا کی بندگی کرلیا کریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی اگرچہ اس شان نزول کی روایت کی سند میں ایک شخص ابو حنیف عبد اللہ بن عیسیٰ ضعیف ہے لیکن آیت قل افغیر اللہ نامرونی اعبد ایھا الجاھلون کے مضمون سے اس شان نزول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ قریش کی جس فرمائش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ ) اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمہاری عبادت میں تمہارا خلاص معدوم ہے اللہ کے لیے تمہاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–6

الکفرملۃ واحدۃ قول باری ہے (لکم دینکم قرلی دین ۔ تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت اگرچہ بعض کافروں کے بارے میں خاص ہے اور بعض دوسرے اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے کافر اسلام لے آئے تھے اور ارشاد باری ہے (ولا انتم عابدون مااعبد۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں) تاہم یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ کفر سارے کا سارا ایک ملت ہے کیونکہ جو لوگ مسلمان نہیں ہوئے وہ اپنے مذاہب کے اختلاف کے باوجود آیت میں مراد ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مذاہب کو ایک دین قرار دیا اور مذہب اسلام کو ایک دین۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–5

4 ۔ کفر و شرک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور نہ ہی تم لوگ اے مشرکو اس معبود برحق کی عبادت و بندگی کرسکتے ہو، جس کی عبادت و بندگی میں کرتا ہوں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کی جو کہ معبود برحق اور ہر قسم کے شرک اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور برتر وبالا ہے، سبحانہ وتعالی، پس ضروری ہے کہ ہر عبادت خالص اسی وحدہ لاشریک کے لیے ہو، چناچہ اس کا صاف وصریح ارشاد ہے، وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (البینہ 5 پ 30) یعنی ان کو حکم صرف اسی بات کا دیا گیا کہ وہ بندگی صرف اللہ ہی کی کریں عبادت کو اسی کے لیے خاص کرتے ہوئے بالکل یکسو ہوکر، سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

دین کے بارے میں اللہ کا محکم فیصلہ تشریح : اس سورة مبارکہ میں حق و باطل اور دین کی مضبوط حدود کا فیصلہ کردیا گیا ہے۔ ظاہر ہے حق و باطل یعنی روشنی اور اندھیرا ' یعنی ایک ہی وقت میں دن بھی ہو اور رات بھی ' یہ تو قانون قدرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس لیے یہ تو کسی صورت ممکن ہی نہیں کہ سرداران قریش کی یہ تجویز مان لی جائے کہ کچھ مدت اللہ کے رسول ﷺ ان کے بتوں کی پرستش کریں اور کچھ مدت وہ کفار توحید کا اقرار کر کے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ کفر و اسلام کا تو اکٹھا ہونا ایسے ہی ناممکن ہے جیسے سچ اور جھوٹ ایک ہوجائیں یا روشنی اور اندھیرے کو یکجا کردیا جائے۔ اس ناممکن عمل کو یعنی شرک اور توحید کو یکجا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–6

سورة الکافرون۔ آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ کفار سے فرمادیجئے کہ میں اللہ کا رسول اور موحد ہوں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا کفار مکہ نے اس بات پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی تھی آپ بتوں کو برانہ کہیں تو ارشاد ہوا کہ باطل کو باطل نہ کہناگویا اسے قبول کرنا ہے لہذا مومن کفر کو قبول نہیں کرسکتا ، بہرحال غلط کو غلط ہی کہاجائے گا اور تم جب تک کافر ہو اور اپنے عقیدے اور عمل سے تائب نہیں ہوتے میرے معبود کی عبادت نہیں کرسکتے کہ اسلام سمجھوتے کا نام نہیں کہ کچھ کفر قبول کرلیاجائے اور کچھ باتیں اسلام کی ہوں بلکہ کفر کو مٹا کر اسلام نافذ ہوتا ہے لہذا ایسے سمجھوتے کی آئندہ بھی کوئی امید نہ رکھو میرے لیے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–6

ف 14 یعنی میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر میرے سمجھانے سے نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو آئندہ چل کر آخرت میں اپنا حشر دیکھ لو گے۔ دیکھیے سورة شوریٰ (آیت 15)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(109:3) ولا انتم عبدون ما اعبد۔ اور نہ تم آئندہ عبادت کرنے والے ہو (چونکہ یہ جملہ لا اعبد کے مقابل آیا ہے اس لئے یہاں بھی مستقبل کی نفی ہے) جس خدائے وحدہ لاشریک کی میں عبادت کرتا ہوں۔ یہاں لفظ ما جو بےعلم چیزوں کے لئے استعمال ہوتا ہے بجائے من کے (جو اہل علم کے لئے استعمال ہوتا ہے) ذکر کیا گیا ہے حالانکہ ما اعبد میں ما سے مراد اللہ کی ذات ہے اور اللہ سب سے بڑا عالم ہے اس لئے من کہنا چاہیے تھا۔ اس کی وجہ یا تو صرف لفظی مطابقت ہے۔ (کہ پہلے ما تعبدون تھا اس کے مطابق یہاں بھی ما اعبد فرمایا) محض وصف معبود ملحوظ ہے۔ بےعلم اور ذی علم ہونے کی حیثیت ملحوظ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ ما مصدریہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن۔ لا اعبد۔ میں عبادت نہ کروں گا۔ تعبدون۔ تم (جن چیزوں کی) عبادت کرتے ہو۔ انتم۔ تم۔ دینکم۔ تمہارا دین۔ لی۔ میرے لئے۔ تشریح : اتحادو اتفاق، رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا، صلح اور امن وسلامتی یہ وہ عادتیں اور صفتیں ہیں جنہیں اسلام میں بہت اہمیت دی گئی ہے لیکن بےبنیاد اتحاد و اتفاق کی باتیں، دنیا دکھاوے کے لئے زبانی رواداری کے نعرے، آپس میں مل جل کر رہنے اور ایک ہوجانے کی منافقانہ باتیں کسی طرح پسندیدہ نہیں ہیں۔ تمام مذاہب میں دین اسلام ہی وہ طریقہ زندگی ہے جس نے باہمی محبت، رواداری، حسن سلوک ہر انسان سے بحیثیت ہمدردی، امن و سلامتی اور صلح صفائی کی اعلیٰ ترین تعلیم دی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

(ف 1) شان نزول : قریش کی ایک جماعت نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ آپ ہمارے دین کا اتباع کیجئے ہم آپ کے دین کا اتباع کریں گے ایک سال آپ ہمارے معبودوں کی عبادت کریں ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت کریں گے نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک کروں، کہنے لگے ، تو آپ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگادیجئے ہم آپ کی تصدیق کردیں گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی ﷺ مسجد حرام میں تشریف لے گئے وہاں قریش کی وہ جماعت موجود تھی حضور نے یہ سورت انہیں پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہوگئے اور حضور کے اور حضور کے اصحاب کے درپے آزاد ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی اللہ کے سوا جو معبود تم نے بنا رکھے ہیں نہ میں ان کو پوجوں گا اور نہ تم اس اللہ کو بلاشرکت غیرے پوجو گے جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

سورة الکفرون 1: یعنی میں تمہارے عقائد شرکیہ سے بالکل متنفر ہوں اور کسی شکل اور کسی عنوان بھی تمہارے ساتھ متفق نہیں ہوسکتا ۔ نہ تو یہ ممکن ہے کہ میں ان بتوں کے سامنے جھکوں جن کے سامنے تم جھکتے ہو اور نہ وہ طریق عبادت اختیار کرسکتا ہوں جو تم نے اختیار کررکھا ہے میرا مسلک ہر آئینہ میرے لئے ہے جس میں کوئی تبدیلی اور ترمیم نہیں ہوسکتی اور تمہارا مسلک تم کو مبارک ہو ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–5

ف 5۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ موحد ہو کر بلائے شرک میں گرفتار نہیں ہوسکتا، نہ اب نہ آئندہ، اور تم مشرک رہ کر موحد نہیں قرار دیئے جاسکتے، نہ اب نہ آئندہ، یعنی توحید و شرک جمع نہیں ہوسکتے یعنی جب تک تم اپنے معبودوں کے عابد اور مشرک رہو گے اس وقت تک میرے معبود کے عابد یعنی موحد نہ سمجھے جاوگے، پس اس کو پیشنگوئی پر محمول کرنے کی اور اس پر جو سوال ہوتا ہے کہ بعضے تو مسلمان ہوگئے، اس کے جواب میں الکافرون کو معہود پر محمول کرنے کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

3 ؎ تم میرے متعلق جانتے ہو اور میں تمہارے متعلق جانتا ہوں کہ تم بھی اللہ کی عبادت کرتے ہو اور میں بھی اللہ کی عبادت کرتا ہو۔ نہ میں اس بات کا انکار کرتا ہوں کہ تم اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور نہ تم ہی اس بات کا انکار کرسکتے ہو کہ میں اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت نہیں کرتا۔ لیکن مجھے اس بات کا مکمل علم ہے اور میں پورے وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس طریقہ پر میں ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں تم اس طریقہ پر ایک اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ کیونکہ میں اس طرح اللہ کی عبادت میں منہمک ہوں کہ غیر اللہ کی طرف عبادت کی نظر سے دیکھنا بھی حرام جانتا ہوں اور تم ہو کہ غیر اللہ کو مع اللہ کہہ کر اللہ ہی تصور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–6

Virtues and Characteristics of the Surah Sayyidah ` A'shah ؓ reports that the Messenger of Allah ﷺ has said that it is better to recite two surahs in the sunnah prayer of fajr, namely, the Surah Al-Kafirun and Surah Al-Ikhlas. [ Transmitted by Ibn Hisham as quoted by Mazhar ]. Ibn Kathir cites several traditions in which a large number of Companions report that they heard the Messenger of Allah ﷺ often recite Surah Al-Kafiru` n and Al-Ikhlas in the sunnah prayer of fajr and maghrib. Some of the Companions requested the Messenger of Allah ﷺ to teach them some supplications to recite at the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

3 The words used are: ma a'budu. The word ma in Arabic, is generally used for lifeless or unintelligent things, and the word man for intelligent and rational beings. The question arises why has ma a `budu been used here instead of man a `budu? The commentators generally give four answers to it: (1) that ma here is in the meaning of man; (2) that ma here is in the meaning of alladhi (i.e. which or who) ; (3) that in both the sentences ma is in the meaning of a noun of action (masdar) and it means: "1 do not perform the kind of worship that you perform, i. e. polytheistic worship, and you do…

Read the full tafseer →