Seeking forgiveness excessively opens the doors of mercy and goodness.
اپنے گناہوں کی معافی مانگنے اور کثرت سے استغفار کرنے سے خیر و بھلائی کے دروازے کھلتے ہیں
continuing showers. And give you increase in wealth and children and provide for you gardens and provide for you rivers. (Nūḥ: 10-12)
نوح: 12-10
Background & narration
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّهٗ کَانَ غَفَّارًا o یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا o وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا o
And I (Nuḥ) said, Ask forgiveness of your Lord. Indeed, He is ever a Perpetual Forgiver. He will send [rain from] the sky upon you in [continuing] showers. And give you increase in wealth and children and provide for you gardens and provide for you rivers.
(Nūḥ: 10-12)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّهٗ کَانَ غَفَّارًا o یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا o وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا o
تو میں(نوحؑ) نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو یقیناً وه بہت بخشنے والا ہے۔ وه تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا بھیجے گا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔
(نوح: 12-10)
2
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ
Allāhummaghfirli dha(n)mbī.
O Allah, forgive my sins.
اے الله میرے گناه کو معاف فرما دے
Ṣaḥīḥ Muslim: 6986
صحیح مسلم: 6986
Background & narration
Abū Hurairah (r.a) narrated that the Prophet (s.a.w) said while narrating from his Lord, Glorified and Exalted, ‘A servant (of Allah) committed a sin and said:
‘O Allah, forgive me my sins.’
And He said: ‘My servant has committed a sin and has known that he has a Lord who forgives sins and punishes for them.’
[Ṣaḥīḥ Muslim: 6986]
حضرت ابو ہریره رضی الله عنه سے روایت ہے که نبی صلی الله علیه وسلم نے اپنے رب عز و جل سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: کسی بندے نے گناه کیا پھر کہا:٠
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ۔
اے الله میرے گناہ کو معاف فرما دے۔ تو الله تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناه کیا پس وه جانتا ہے که اس کا رب گناه کو معاف بھی فرماتا ہے اور گناه پر گرفت بھی کرتا ہے۔
(صحیح مسلم: 6986)
3
رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ
Rabbighfirlī khaṭī’atī yawmad dīni.
My Lord, forgive me my sin on the Day of Recompense.
اے میرے رب! بدلے کے دن تو میری خطائیں بخش دینا
Ṣaḥīḥ Muslim: 518
صحیح مسلم: 518
Background & narration
‘Ā’ishah (r.a) narrated that she said, ‘O Messenger of Allah (s.a.w)! During the days of ignorance, the son of Jid‘ān would join the relations of kinship and feed the poor. Will these deeds benefit him on the Day of Judgment? The Messenger of Allah (s.a.w) replied, ‘It will not benefit him because he did not once say,
Rabbighfirlī khaṭī’atī yawmad dīni.
My Lord, forgive me my sin on the Day of Recompense.’
[Ṣaḥīḥ Muslim: 518]
حضرت عائشه رضی الله عنھا سے روایت ہے که میں نے کہا، اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم جدعان کا بیٹا جاہلیت کے زمانے میں صله رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یه کام اس کو (قیامت کے دن) فائده دیں گے۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: اس کو کچھ فائده نه دیں گے کیونکه اس نے ایک دن بھی یه نه کہا تھا که رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ اے میرے رب! بدلے کے دن تو میری خطائیں بخش دینا۔
(صحیح مسلم: 518)
Subḥānaka wa bi ḥamdika, astaghfiruka wa atūbu ilaika.
Glory be to You O Allah, and all praise be to You! I seek Your forgiveness and turn in repentance to You.
پاک ہے تو اور تیری ہی تعریف ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور میں تیری طرف توبه کرتا ہوں
Ṣaḥīḥ Muslim: 1086
صحیح مسلم: 1086
Background & narration
‘Ā’ishah (r.a) reported that the Messenger of Allah (s.a.w) before his death recited often:
Glory be to You O Allah, and all praise be to You! I seek Your forgiveness and turn in repentance to You.
I said, ‘O Messenger of Allah (s.a.w), what are these words that I find you reciting?’ He said, ‘There has been made a sign for me in my Ummah; when I saw that (i.e. the sign), I uttered them (i.e. these words of glorification for Allah), and the sign is:
When there comes the help of Allah (s.w.t) and the Conquest… (till the end).
[Ṣaḥīḥ Muslim: 1086]
حضرت عائشه رضی الله عنھا سے روایت ہے که رسول الله صلی الله علیه وسلم وفات سے پہلے اکثر فرماتے تھے سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔ پاک ہے تو اور تیری ہی تعریف ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور میں تیری طرف توبه کرتا ہوں۔ میں نے عرض کیا یا رسول الله صلی الله علیه وسلم یه کیا کلمے ہیں جن کو آپ صلی الله علیه وسلم نے بیان کیا آپ صلی الله علیه وسلم انہی کو کہا کرتے ہیں آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: میرے لیے میری امت میں ایک نشانی مقرر کردی گئی جب میں نے اس کو دیکھا تو یه کلمے کہے، إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْحُ ...۔
(صحیح مسلم: 1086)
Rabbighfirlī wa tub‘alayya innaka antat tawwābur raḥīmu.
My Lord, forgive me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Oft Relenting, the always All Merciful.
اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر مہربان ہوجا، بے شک تو ہی بہت توبه قبول کرنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے
Sunan Abū Dawūd: 1516 Ṣaḥīḥ
سنن أبی داؤد: 1516 صحیح
Background & narration
‘Abdullāh bin ‘Umar (r.a) narrated, we counted that the Messenger of Allah (s.a.w) would say a hundred times during a gathering:
My Lord, forgive me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Accepting of repentance, the always All Merciful.
[Sunan Abū Dawūd: 1516] Ṣaḥīḥ
حضرت ابن عمر رضی الله عنه کہتے ہیں که بلا شبه ہم شمار کرتے تھے که رسول الله صلی الله علیه وسلم ایک ایک مجلس میں سو سو بار یه کلمه دہراتے تھے رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھ پر مہربان ہوجا، بے شک تو ہی بہت توبه قبول کرنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے۔
(سنن أبی داؤد: 1516) صحیح
O Allah, forgive me and have mercy on me and guide me and provide for me.
اے الله! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما
Ṣaḥīḥ Muslim: 6849
صحیح مسلم: 6849
Background & narration
Abū Mālik Ashja‘ī (r.h) narrated from his father that the Messenger of Allah (s.a.w) taught this supplication to anyone who accepted Islam:
O Allah, forgive me and have mercy on me and guide me and provide for me.
[Ṣaḥīḥ Muslim: 6849]
ابو مالک اشجعی رضی الله عنه اپنے والد سے روایت کرتے ہیں که رسول الله صلی الله علیه وسلم ہر مسلمان ہونے والے آدمی کو یه دعا سکھاتے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ اھْدِنِیْ وَ ارْزُقْنِیْ۔
اے الله! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔
(صحیح مسلم: 6849)
I seek forgiveness from Allah, there is no true deity except Him. The Ever Living, the Self Subsisting and I turn (in repentance) towards Him.
میں بخشش مانگتا ہوں الله سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زنده، قائم رہنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبه کرتا ہوں
Sunan Abū Dawūd: 1517 Ṣaḥīḥ
سنن أبی داؤد: 1517 صحیح
Background & narration
Zaid (r.a) narrated that I heard that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘Whoever says:
I seek forgiveness from Allah, there is no true deity except Him. The Ever Living, the Self Subsisting and I turn (in repentance) towards Him.
he is forgiven even if he has run away from the battle field.’
[Sunan Abū Dawūd: 1517] Ṣaḥīḥ
حضرت زید رضی الله عنه نے نبی صلی الله علیه وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص یوں کہتا ہے اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ۔ میں بخشش مانگتا ہوں الله سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زنده، قائم رہنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبه کرتا ہوں۔ تو اس کو بخش دیا جاتا ہے اگرچه وه جہاد سے بھی بھاگا ہو۔
(سنن أبی داؤد: 1517) صحیح
O Allah, forgive me my sins, mistakes, and misdeeds. O Allah, I seek guidance from You to guide my affairs, and I seek refuge in You from the evil of my soul.
اے اللہ!میرے گناہوں، لغزشوں اور جان بوجھ کر کیے جانے والے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ!میں تجھ سے اپنے معاملات میں رشدوہدایت کا طلب گار ہوں اور اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ میں آتاہوں۔
[Musnad Ahmad:16269]
[مسند أحمد:16269]
Background & narration
٭ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
٠ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَہْدِیْکَ لِاَرْشَدَ اَمْرِیْ،وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ.
اے اللہ!میرے گناہوں، لغزشوں اور جان بوجھ کر کیے جانے والے گناہوں کو معاف فرما، اے اللہ!میں تجھ سے اپنے معاملات میں رشدوہدایت کا طلب گار ہوں اور اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ میں آتاہوں۔
] مسند أحمد:16269[
I seek forgiveness from Allah - the Most Great, there is no true deity except Him. The Ever Living, the Self Subsisting and I turn (in repentance) towards Him.
میں عظیم الله سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی اِلٰه نہیں، وه زندہ، قائم رہنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبه کرتا ہوں
Sunan al-Tirmidhī: 3577 Ṣaḥīḥ
سنن الترمذی: 3577 صحیح
Background & narration
Zaid (r.a) narrated that I heard that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘Whoever says:
I seek forgiveness from Allah - the Most Great, there is no true deity except Him. The Ever Living, the Self Subsisting and I turn (in repentance) towards Him.
he is forgiven even if he has run away from the battle field.’
[Sunan al-Tirmidhī: 3577] Ṣaḥīḥ
حضرت زید رضی الله عنه سے مروی ہے که انہوں نے نبی صلی الله علیه وسلم سے سنا آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے کہا اَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ۔ میں عظیم الله سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی اِلٰه نہیں، وه زنده، قائم رہنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبه کرتا ہوں۔ تو الله اس کو بخش دے گا اگرچه وه جہاد سے بھاگا ہو۔
(سنن الترمذی: 3577) صحیح
Allāhummaghfirlī warḥamnī wa tub ‘alayya innaka antat tawwabur raḥimu.
O Allah, forgive me and have mercy on me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Accepting of repentance, the always All Merciful.
اے الله مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، میری توبه قبول فرما، بے شک تو نہایت توبه قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے
Musnad Aḥmad, Vol: 9, 5354 Ṣaḥīḥ
مسند احمد، ج: 9 ‘5354 صحیح
Background & narration
Ibn ‘Umar (r.a) narrated that once as I sat with the Messenger of Allah (s.a.w), I heard him seek forgiveness hundred times. Then he said,
O Allah, forgive me and have mercy on me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Accepting of repentance, the always All Merciful.
[Musnad Aḥmad, Vol: 9, 5354] Ṣaḥīḥ
ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے که ایک مرتبه میں نبی صلی الله علیه وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ صلی الله علیه وسلم کو سو مرتبه استغفار کرتے ہوئے سنا پھر آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ اے الله مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، میری توبه قبول فرما، بے شک تو نہایت توبه قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔
(مسند احمد، ج: 9 ‘5354) صحیح
Allahummaghfirlī mā akhṭa’tu wamā ta‘amma(d)ttu wa mā asrartu wa mā a‘lantu wa mā jahiltu wa mā t‘amma(d)ttu.
O Allah, forgive for me my mistakes, and what I did intentionally and secretly and openly and in ignorance and intentionally.
اے الله! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے غلطی سے کیے، جان بوجھ کر کیے، چھپ کر کیے، اعلانیه طور پر کیے، نادانی میں کیے یا جانتے بوجھتے ہوئے کیے
Musnad Aḥmad, Vol: 33, 19925 Ṣaḥīḥ
مسند احمد، ج: 33 ،19925 صحیح
Background & narration
‘Imran bin Huṣain (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) often supplicated,
O Allah, forgive for me my mistakes, what I have done deliberately, secretly and openly, in ignorance and intentionally.
[Musnad Aḥmad, Vol: 33, 19925] Ṣaḥīḥ
عمران بن حصین رضی الله عنه سے مروی ہے که اکثر نبی صلی الله علیه وسلم کی دعا یه ہوتی تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَاْتُ وَ مَا تَعَمَّدْتُّ وَ مَا اَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ وَ مَا جَہِلْتُ وَ مَا تَعَمَّدْتُّ۔ اے الله! میرے ان گناہوں کو معاف فرما جو میں نے غلطی سے کیے، جان بوجھ کر کیے، چھپ کر کیے، اعلانیه طور پر کیے، نادانی میں کیے یا جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔
(مسند احمد، ج: 33 ،19925)صحیح
Allāhummaghfirlī wakhsa’ shaiṭānī wa fukka rihānī wa thaqqil mīzānī waj‘alnī fin nadiyyil a‘lā.
O Allah forgive me, drive away my Satan, free my soul (from the Hell-fire), make my scales heavy and place me in the highest assembly (i.e. the angels).
اے الله! مجھے بخش دے، میرے شیطان کو دور کردے، میرے نفس کو (آگ سے) آزاد کر دے، میرے میزان کو بھاری کر دے اور مجھے اعلی مجلس والوں میں شامل کردے
Al-Mustadark lil Ḥākim, Vol: 2, 2026 Ṣaḥīḥ
المستدرک للحاکم، ج: 2، 2026 صحیح
Background & narration
Zuhair Anmārī (r.a) narrated that when the Messenger of Allah (s.a.w) came to his bed he said,
O Allah forgive me, drive away my Satan, free my soul (from the Hell-fire), make my scales heavy and place me in the highest assembly (i.e. the angels).
[Al-Mustadark lil Ḥākim, Vol: 2, 2026] Ṣaḥīḥ
حضرت زہیر انماری رضی عنه فرماتے ہیں که جب رسول الله صلی علیه وسلم اپنے بستر پر آتے تو فرماتے اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ اخْسَاْ شَیْطَانِیْ وَ فُکَّ رِھَانِیْ وَ ثَقِّلْ مِیْزَانِیْ وَ اجْعَلْنِیْ فِی النَّدِیِّ الْاَعْلٰی۔ اے الله! مجھے بخش دے، میرے شیطان کو دور کردے، میرے نفس کو (آگ سے) آزاد کر دے، میرے میزان کو بھاری کر دے اور مجھے اعلی مجلس والوں میں شامل کردے۔
(المستدرک للحاکم، ج: 2، 2026) صحیح
Allāhummaghfirlī khaṭī’atī wa jahlī wa isrāfī fī amrī wa mā anta a‘lamu bihī minnī, allāhummaghfirlī hazlī wa jiddī wa khaṭa’ī wa ‘amdī wa kullu dhālika ‘indī
O Allah, forgive my faults, my ignorance and my excess in my affairs, You are better aware of my faults than myself. O Allah, forgive my faults which I committed in fun or in seriousness, inadvertently or deliberately and all of these (attributes) are within me.
اے الله! بخش دے میری خطا، میری جہالت، میرے کام میں میری ز یادتی اور وه جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے الله! ہنسی مذاق میں، سنجیدگی میں، بھول کر اور جان بوجھ کر کیے ہوئے میرے گناه بخش دے اور یه سب میرے اندر ہیں
Ṣaḥīḥ Bukhārī: 6399
صحیح البخاری: 6399
Background & narration
Abū Mūsa Al-Ash‘arī (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) used to supplicate,
O Allah, forgive my faults, my ignorance and my excess in my affairs, You are better aware of my faults than myself. O Allah, forgive my faults which I committed in fun or in seriousness, inadvertently or deliberately and all of these (attributes) are within me.
[Ṣaḥīḥ Bukhārī: 6399]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنه روایت کرتے ہیں که نبی صلی الله علیه وسلم دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَ جَھْلِیْ وَ اِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ وَ مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّیْ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ھَزْلِیْ وَ جِدِّیْ وَ خَطَئِیْ وَ عَمْدِیْ وَ کُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔ اے الله! بخش دے میری خطا، میری جہالت، میرے کام میں میری ز یادتی اور وه جس کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے الله! ہنسی مذاق میں، سنجیدگی میں، بھول کر اور جان بوجھ کر کیے ہوئے میرے گناه بخش دے اور یه سب میرے اندر ہیں۔
(صحیح البخاری: 6399)
14Asking to remain obedient and compliantمطیع و فرمانبردار رہنے کا سوال کرنا
O my Lord! assist me, but do not assist against me, support me, but do not support against me, guide me, and make guidance easy for me. O Allah! Make me (of those who) remember You abundantly, are extremely grateful to You, obedient to You, humbled before You,grieving (and frequently) returning (to You in repentance). O my Lord! Accept my repentance, and wash away my sins, and answer my supplication, and establish my proof, and guide my heart, and keep my tongue truthful (straightforward), and rid me of (all) negativities of my heart.
اے میرے پروردگار! میری مدد فرما اور میرے خلاف مدد نہ کر، میری اعانت فرما اور میرے خلاف امداد نہ کر، مجھے ہدایت فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما۔ اے اللہ! مجھے اپنا ذکر کرنے والا، اپنا شکر کرنے والا، اپنا فرمانبردار، اپنا عاجز، اپنے در کا آہیں بھرنے والا اور اپنی جانب لوٹنے والا بنا ۔ اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا کو شرف قبولیت عطا فرما، میرے دلکو ہدایت فرما، میری زبان کو سیدھی اور دل کو ثابت رکھ اور میرے دل کی سیاہی، کینے اور غصے کو نکال باہر کر۔
There is no god but Allah, the Forbearing, the Generous. Glory be to Allah, the Lord of the Mighty Throne, and all praise is due to Allah, the Lord of the Worlds.
اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ نہایت بردبار نہایت کرم والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں وہ بلند و بالا اور عظمت والا ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
[مسند احمد:712]
Background & narration
Ali رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ once said to me: "Shall I not teach you some words that, when you say them, your sins will be forgiven, even though your sins have already been forgiven? Say these words:
لَا اِلٰہَ ِالَّااللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ."
]Musnad Ahmad: 712[
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ جب تم انہیں زبان سے ادا کرلو تو تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں، حالانکہ تمہارے گناہ پہلے ہی معاف ہو چکے ہیں؟ یہ کلمات کہہ لیا کرو:
٠ لَا اِلٰہَ ِالَّااللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ."
]مسند أحمد: 712[
Allāhumma Anta Rabbī, lā ilāha illā Anta, khalaqtanī wa ana ‘abduka, wa ana ‘alā ‘ahdika wa wa‘dika mastaṭa‘tu a‘ūdhubika min sharri mā Ṣana‘tu, abu’u laka bini‘matika ‘alayya, wa abū’u bidha(n)mbī faghfirlī innahu lā yaghfirudh dhunūba illā Anta.
O Allah, You are my Lord; there is no true deity except You. You created me and I am your servant, I am upon your covenant and Your promise to the best of my ability. I seek refuge with you from the evil that I have done. I acknowledge Your bounties upon me and I acknowledge my sin, so forgive me, verily none forgives sins except you.
اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناه کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا
Ṣaḥīḥ al-Bukhārī: 6306
صحیح البخاری: 6306
Background & narration
Shaddad bin Aws (r.a) reported that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘The best supplication for forgiveness is to say,
O Allah! You are my Lord, there is no true deity except You. You created me and I am your servant, I am upon your covenant and Your promise to the best of my ability. I seek refuge with you from the evil that I have done I acknowledge Your bounties upon me and I acknowledge my sin, so forgive me verily none forgives sins except You.’
The Messenger of Allah (s.a.w) added, ‘If somebody recites this during the day with firm faith in it, and dies on the same day before the evening, he will be one of the people of Paradise. And if somebody recites it at night with firm faith in it, and dies before the morning, he will be one of the people of Paradise.’
[Ṣaḥīḥ al-Bukhārī: 6306]
حضرت شدّاد بن اَوس رضی الله عنه سے روایت ہے که نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: سب سے عمده استغفار یه ہے۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پید اکیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے صبح ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے۔
(صحیح البخاری: 6306)
Allāhumma innī as’alukath thabāta fil amri wal ‘azīmata ‘alar rushdi wa as’aluka mujibāti raḥmatika wa ‘azā’ima maghfiratika wa as’aluka shukra ni‘matika wa ḥusna ‘ibādatika wa as’aluka qalban salīman wa lisānan Ṣādiqan wa as’aluka min khairi mā ta‘lamu wa a‘ūdhubika min sharri mā ta‘lamu wa astaghfiruka limā ta‘lamu innaka anta ‘allāmul ghuyūbi.
O Allah, indeed I ask You for steadfastness upon deen and firmness upon guidance. And I ask You for that which makes Your mercy compulsory and the things that necessitate Your forgiveness. And I ask You for the capacity to be grateful for Your blessings and to worship You in a beautiful manner. And I ask You for a sound heart, a truthful tongue. And I ask You for all goodness that You know of and I seek refuge in You from all evil that You know of and I seek forgiveness from all that You know of. Indeed, it is You who is the Knower of the unseen.
اے الله! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی، ہدایت پر پختگی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والے اور تیری مغفرت کو لازم کرنے والے امور کاسوال کرتا ہوں میں تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اچھے انداز سے عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سلیم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور ہر اس برائی سے تیری پناه چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے (ان تمام گناہوں کی) بخشش چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں بے شک تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے
Shaddad bin Aws (r.a) narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘O Shaddad bin Aws! When you find people collecting treasures of gold and silver, read these words excessively:
O Allah, indeed I ask You for steadfastness upon deen and firmness upon guidance. And I ask You for that which makes Your mercy incumbent and the things that necessitate Your forgiveness. And I ask You for the capacity to be grateful for Your blessings and to worship You in a beautiful manner. And I ask You for a sound heart and a truthful tongue. And I ask You for all goodness that You know of and I seek refuge in You from all evil that You know of and I seek forgiveness from all that You know of. Indeed, it is You who is the Knower of the unseen.
[Al-Mu‘jam al-Kabīr al-Ṭabaranī, Vol: 7, 7135] Ṣaḥīḥ
حضرت شداد بن اوس رضی الله عنه کہتے ہیں که رسول الله صلی الله علیه وسلم نے مجھ سے کہا: اے شداد بن اوس جس وقت تم دیکھو که لوگ سونے چاندی کے خزانے جمع کر رہے ہوں، تم ان کلمات کو کثرت سے پڑھنا اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ، وَ الْعَزِیْمَةَ عَلَی الرُّشْدِ، وَ اَسْاَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَ عَزَآئِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَ اَسْاَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَ اَسْاَلُکَ قَلْباً سَلِیْماً، وَ لِسَاناً صَادِقاً، وَ اَساَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔ اے الله! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی، ہدایت پر پختگی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والے اور تیری مغفرت کو لازم کرنے والے امور کا سوال کرتا ہوں میں تجھ سے تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اچھے انداز سے عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سلیم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور ہر اس برائی سے تیری پناه چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور تجھ سے (ان تمام گناہوں کی) بخشش چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں بے شک تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔
(المعجم الکبیر للطبرانی، ج: 7، 7135) صحیح
Rabbighfirlī wa tub ‘alayya innaka Antat Tawwābul Ghafūru. (100 times)
My Lord, forgive me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Oft Relenting, the Oft Forgiving.
* During a Gathering (100 times)
اے الله تو مجھے بخش دے میری توبه قبول کر بے شک تُو بہت توبه قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے (سو بار)
٭ دوران مجلس
Recite 100 times
0 / 100 · tap the circle to count
Sunan al-Tirmidhī: 3434 Ṣaḥīḥ
سنن الترمذی: 3434
Background & narration
‘Abdullāh bin ‘Umar (r.a) narrated, that the Messenger of Allah (s.a.w) would say a hundred times before rising from a gathering:
My Lord, forgive me and turn towards me (to accept my repentance). Verily You are the Oft Relenting, the Oft Forgiving.
[Sunan al-Tirmidhī: 3434] Ṣaḥīḥ
حضرت ابن عمر رضی الله عنه سے روایت ہے که گِنا جاتا تھا که رسول الله صلی الله علیه وسلم ہر مجلس میں اُٹھنے سے پہلے سو بار فرماتے رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ اے الله تو مجھے بخش دے میری توبه قبول کر بے شک تُو بہت توبه قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
(سنن الترمذی: 3434)
SubḥānakAllāhumma wa bi ḥamdika, ash-hadu a(n)l lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaika.
Glory be to You O Allah, and all praise be to You! I bear witness that there is no true deity except You, I seek Your forgiveness and turn in repentance to You.
* At the End of a Gathering
پاک ہے تو اے الله اور تیری ہی تعریف ہے میں گواہی دیتا ہوں که کوئی اله نہیں مگر تو اور میں تیری طرف توبه کرتا ہوں
٭ مجلس کے اختتام پر
Sunan Abū Dāwūd: 4859 Ḥasan Ṣaḥīḥ
سنن أبی داؤد: 4859 حسن صحیح
Background & narration
Abū Barzah Aslamī narrated that during the last days of his life after rising from a gathering, the Messenger of Allah (s.a.w) said:
Glory be to You O Allah, and all praise be to You! I bear witness that there is no true deity except You, I seek Your forgiveness and turn in repentance to You.’
A man asked, ‘What are these words that you speak which you did not say before?’ He (s.a.w) said, ‘This is the atonement for a gathering.’
[Sunan Abū Dāwūd: 4859] Ḥasan Ṣaḥīḥ
حضرت ابو برزه اسلمی رضی الله عنه سے روایت ہے که رسول الله صلی الله علیه وسلم اپنے آخری ایّام میں جب کسی مجلس سے اُٹھتے تو یه کلمات کہتے تھے:٠
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔ پاک ہے تو اے الله اور تیری ہی تعریف ہے میں گواہی دیتا ہوں که کوئی اله نہیں مگر تو اور میں تیری طرف توبه کرتا ہوں۔ ایک شخص نے آپ صلی الله علیه وسلم سے پو چھ لیا که اے الله کے رسول صلی الله علیه وسلم آپ یه کلمات کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے؟ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’یه اس چیز کے کفَّارے کے لیے ہے جو مجلس میں ہو جاتی ہے‘‘۔
(سنن أبی داؤد: 4859) حسن صحیح