اَللّٰهُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُكَ وَ اَنَا عَلٰی عَهْدِكَ وَ وَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
Allāhumma Anta Rabbī, lā ilāha illā Anta, khalaqtanī wa ana ‘abduka, wa ana ‘alā ‘ahdika wa wa‘dika mastaṭa‘tu a‘ūdhubika min sharri mā Ṣana‘tu, abu’u laka bini‘matika ‘alayya, wa abū’u bidha(n)mbī faghfirlī innahu lā yaghfirudh dhunūba illā Anta.
O Allah, You are my Lord; there is no true deity except You. You created me and I am your servant, I am upon your covenant and Your promise to the best of my ability. I seek refuge with you from the evil that I have done. I acknowledge Your bounties upon me and I acknowledge my sin, so forgive me, verily none forgives sins except you.
اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناه کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا
Ṣaḥīḥ al-Bukhārī: 6306
صحیح البخاری: 6306
Background & narration
Shaddad bin Aws (r.a) reported that the Messenger of Allah (s.a.w) said, ‘The best supplication for forgiveness is to say, O Allah! You are my Lord, there is no true deity except You. You created me and I am your servant, I am upon your covenant and Your promise to the best of my ability. I seek refuge with you from the evil that I have done I acknowledge Your bounties upon me and I acknowledge my sin, so forgive me verily none forgives sins except You.’ The Messenger of Allah (s.a.w) added, ‘If somebody recites this during the day with firm faith in it, and dies on the same day before the evening, he will be one of the people of Paradise. And if somebody recites it at night with firm faith in it, and dies before the morning, he will be one of the people of Paradise.’ [Ṣaḥīḥ al-Bukhārī: 6306]
حضرت شدّاد بن اَوس رضی الله عنه سے روایت ہے که نبی صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: سب سے عمده استغفار یه ہے۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پید اکیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے صبح ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے۔ (صحیح البخاری: 6306)