Visiting the Graveyard

زیارت قبور3 duas

1For visiting a graveزیارت قبر کی دعا

اَلسَّلَامُ عَلٰی اَهْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَاْخِرِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكَُمْ لَلَاحِقُوْنَ

Peace be upon the inhabitants of these abodes, among the believers and the Muslims. May Allah have mercy on those who have gone before us and those who will come after us. Surely, we will, by the will of Allah, join you.

مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان گھروں(قبروں)میں ر ہنے والوں پر سلام ہو، اللہ ہم سے آگے جانے والوں پراور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اوربے شک ہم بھی ان شا ء اللہ تم سے ضرور ملنے والے ہیں

[Sahih Muslim:2256]

[صحیح مسلم:2256]

Background & narration

٭ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ...جب میری(باری کی) رات ہوئی جس میں نبی کریم ﷺمیرے ہاں تھے...جبرائیل علیہ السلام نے کہا:آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں۔میں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!میں ان کے حق میں کیسے کہوں؟آپ نے فرمایا:''تم کہو: ٠ اَلسَّلَامُ عَلٰی اَہْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَاْخِرِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُوْنَ۔]صحیح مسلم:2256[ مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان گھروں(قبروں)میں ر ہنے والوں پر سلام ہو، اللہ ہم سے آگے جانے والوں پراور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے اوربے شک ہم بھی ان شا ء اللہ تم سے ضرور ملنے والے ہیں۔

2For visiting a graveزیارت قبر کی دعا

اَلسَّلَامُ عَلَیْكَُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ وَاَتَاكَُمْ مَا تُوْعَدُوْنَ غَدًا مُؤَجَّلُوْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكَُمْ لَاحِقُوْنَ

Peace be upon you, O residents of a community of believers. You have been promised what is delayed until tomorrow, and we, by the will of Allah, will certainly join you.

اے مو من قوم کے گھروالو(قبروں والو)! تم پر سلامتی ہو، جس کا وعدہ کیا جا تا تھاوہ تم تک پہنچ گیا،تم کو (قیامت تک)مہلت دے دی گئی اوربے شک ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ضرورملنے والے ہیں

[Sahih Muslim:2255]

[صحیح مسلم:2255]

Background & narration

عائشہr کہتی ہیں: جس رات رسول ا للہ eکی باری ان کے پاس ہوتی تو رسول اللہ e رات کے آخری حصّے میں بقیع کی طرف نکلتے اور فرماتے: ٠ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ وَاَتَاکُمْ مَا تُوْعَدُوْنَ غَدًا مُؤَجَّلُوْنَ وَاِنَّا اِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَاحِقُوْنَ۔ اے مو من قوم کے گھروالو(قبروں والو)! تم پر سلامتی ہو، جس کا وعدہ کیا جا تا تھاوہ تم تک پہنچ گیا،تم کو (قیامت تک)مہلت دے دی گئی اوربے شک ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ضرورملنے والے ہیں۔ ]صحیح مسلم:2255[

3For visiting a graveزیارت قبر کی دعا

اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ فَنَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ

Peace be upon you, O people of these homes, among the believers and the Muslims. We will, by the will of Allah, surely join you. You are our forerunners, and we are to follow you. We ask Allah for well-being for us and for you.

مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان گھروں ( قبروں ) میں رہنے والوں پر سلام ہو اور بے شک ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ضرور ملنے والے ہیں، تم ہم ہم سے پہلے آ گئے ہو ، ہم تمہارے پیچھے آرہے ہیں ، پس ؟ ، پس ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے لے عافیت طلب کرتے ہیں

[Musnad Ahmad:23039]

[مسند احمد : 23039]

Background & narration

سلیمان بن بریدہ مالٹے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب وہ قبرستان کی طرف نکلتے تو رسول اللہ صلی الہیم انکو تعلیم دیا کرتے تھے تو ان کا کہنے والا کہتا: . اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ فَنَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ. مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان گھروں ( قبروں ) میں رہنے والوں پر سلام ہو اور بے شک ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ضرور ملنے والے ہیں، تم ہم ہم سے پہلے آ گئے ہو ، ہم تمہارے پیچھے آرہے ہیں ، پس ؟ ، پس ہم اللہ سے اپنے اورتمہارے لیے لے عافیت طلب کرتے ہیں۔ [مسند احمد : 23039]