Ayah 5:24قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَھَآ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْھَا فَاذْھَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ ۔ (المائدہ : 24)
(وہ بولے کہ اے موسیٰ ! ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے ‘ جب تک وہ اس میں موجود ہیں۔ تو تم اور تمہارا خداوند جا کر لڑو ‘ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کا کورا جواب
تورات میں بھی ان کے جواب کا ذکر کیا گیا ہے ‘ جو اگرچہ اس سے کچھ مختلف ہے۔ لیکن ان کی پست ہمتی اور بزدلی کا پوری طرح آئینہ دار ہے۔ تورات میں ہے
(تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی اور وہ لوگ اس رات روتے ہی رہے اور کل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی ہائے کاش ! ہم مصر ہی میں مرجاتے ‘ کاش ! اس بیابان میں ہی مرجاتے۔ خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے)
اندازہ فرمایئے ! جس قوم کی بزدلی اور دہشت زدگی کا یہ عالم ہو ‘ انھیں موسیٰ (علیہ السلام) جیسا عظیم پیغمبر اور یوشع اور کالب جیسے مجاہد بھی اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ زندہ قوموں میں اگر تنزل کے آثار ظاہر ہونے لگیں تو بڑے لوگوں کے پندونصائح اور مجاہدین کی حوصلہ مندیوں سے ان کا ازالہ ممکن ہے۔ لیکن جو قوم تنزل کی آخری حد کو پہنچ جاتی ہے ‘ وہ گویا مرجاتی ہے۔ ایسے لوگوں میں کسی مسیحائی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ چناچہ بنی اسرائیل کی یہ حالت دیکھتے ہوئے اور ان کا آخری جواب سن کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی غم اور صدمے میں ڈوب گئے تب آپ نے اللہ سے دعا مانگی :
Ayah 5:25قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔
(المائدہ : 25)
(موسیٰ نے دعا کی اے میرے پروردگار ! میرا اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر کچھ زور نہیں ‘ پس تو ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان علیحدگی کر دے ‘)
بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیزاری
علیحدگی کردینے کا مفہوم جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مجھے ان کی قیادت و اصلاح کے بار عظیم سے سبکدوش کردیا جائے کیونکہ اتنی طویل جدوجہد اور اتنے بیشمار خوارق و عجائب کے بعد بھی ان کی بےیقینی کا یہ عالم ہے کہ ایک شخص بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں اور جنھیں اپنی زندگی کی بقاء اور اپنے خوردونوش کی فکر کے سوا اور کسی چیز کی فکر نہیں تو ایسے حیوانوں سے کون سے معرکے کی امید کی جاسکتی ہے اور ایسے پتھروں میں کیا جونک لگائی جاسکتی ہے۔ اس لیے مجھے ان کی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا جائے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) چونکہ خود اللہ کے مقرر کردہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وزیر بھی تھے اور پیغمبر بھی ‘ اس لیے آپ نے بطور خاص اس کا ذکر کیا۔ اس لیے کہ پیغمبر ہونے کی وجہ سے ان کے ایثار و سرفروشی میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ وہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کی طرح معصوم تھے۔ اب اگر یہ دعاقبول کرلی جاتی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا جاتا اور یا ان کو ہجرت کا حکم دے دیا جاتا تو اللہ کے قانون کے مطابق بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہوجاتا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا تو قبول نہ فرمائی گئی اور اس طرح بنی اسرائیل کو ہلاکت کے عذاب سے تو بچا لیا گیا۔ لیکن ان کی ناقدری اور بےیقینی کی سزا ان کو چالیس سال تک اس سرزمین میں سرگرداں رہنے اور فلسطین سے محرومی کی شکل میں دی گئی۔
Ayah 5:26قَالَ فَاِنَّھَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْہِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً ج یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ط فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدہ : 26)
(فرمایا کہ یہ سرزمین ان پر چالیس سال کے لیے حرام ٹھہری۔ یہ لوگ زمین میں بھٹکتے پھریں گے۔ پس تو ان نافرمان لوگوں کا غم نہ کھا)
انکار جہاد پر بنی اسرائیل کو سزا
تورات نے بھی اس کا ذکر کیا ہے :
(اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا میں کب تک اس خبیث گروہ کو جو میری شکایت کرتا رہتا ہے ‘ برداشت کروں۔ بنی اسرائیل جو میرے برخلاف شکایتیں کرتے رہتے ہیں ‘ میں نے سب شکایتیں سنیں ‘ سو تم ان سے کہہ دو خداوند کہتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ہے کہ جیسے تم نے میرے سنتے کہا میں تم سے ضرور ویسا ہی کروں گا۔ تمہاری لاشیں اسی بیابان میں پڑی رہیں گے اور تمہاری ساری تعداد میں سے یعنی بیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر کے تم سب جتنے گنے گئے اور مجھ پر شکایت کرتے رہے ‘ ان میں سے کوئی اس ملک میں جس کی بابت میں نے قسم کھائی تھی کہ تم کو وہاں بسائوں گا ‘ جانے نہ پائے گا ‘ سوائے یفنہ کے بیٹے کالب اور نون کے بیٹے یشوع کے اور تمہارے بال بچے جن کی بابت تم نے یہ کہا کہ وہ تو لوٹ کا مال ٹھہریں گے ‘ ان کو میں وہاں پہنچائوں گا اور جس ملک کو تم نے حقیر جانا ‘ وہ اس کی حقیقت پہچانیں گے اور تمہارا یہ حال ہوگا کہ تمہاری لاشیں اس بیابان میں پڑی رہیں گی اور تمہارے لڑکے بالے چالیس برس تک بیابان میں پھرتے اور تمہاری زناکاریوں کا پھل پاتے رہیں گے) (گنتی باب 14۔ 27-24)
تاریخِ بنی اسرائیل اور مسلمانانِ پاکستان
جب ہم اس پوری صورت حال پر تدبر کی نگاہ ڈالتے ہیں ‘ جس میں بنی اسرائیل کا کردار بھی ہمارے سامنے ہے اور اس پر انھیں ملنے والی سزا بھی پیش نظر ہے تو چند باتیں بالکل واضح ہو کر سامنے آتی ہیں جنھیں اس امت محمدیہ کو عبرت آموزی کی خاطر سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اگرچہ یہ امت بڑی تیزی سے اس انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ لیکن پھر بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اس لیے ہم چند سبق آموز باتوں کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
بنی اسرائیل کے کردار کا یہ بودہ پن جس نے ان سے اولوالعزمی اور سرفروشی کے تمام جذبات چھین لیے۔ یہ نتیجہ ہے ان کی اس غلامی کا جس کا وہ ایک طویل عرصہ تک شکار رہے۔ جس نے انھیں زندگی کے اجتماعی حسن سے یکسر محروم کر کے رکھ دیا۔ اس غلامی کی حقیقت پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں تو استعمار کے نتیجے میں قوم سیاسی طور پر غلامی کا شکار ہوتی ہے۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ سیاسی غلامی ہمہ جہت غلامی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں قوم ذہنی صلاحیتیوں سے لے کر عملی صلاحیتوں تک زندگی کے ہر دائرہ میں عضو معطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہم چونکہ خود دو سو سالہ غلامی کی ایک طویل رات کاٹ چکے ہیں اس لیے ہم اس کے اثرات اور نتائج کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں اس سیاسی غلامی سے آزاد ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ‘ لیکن اس کے باوجود ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فرنگی استعمار نے اس قوم کو دو سو سال تک جس طرح قومی و ملی خصوصیات سے محروم کیا ‘ بالخصوص تعلیمی اداروں میں جس طرح تعلیم دی اور پھر تعلیم یافتہ طبقہ کو جس تربیت سے گزارا ‘ اس کے نتیجے میں ایک خاص ذہنی ڈھانچہ تیار ہوا ‘ جس میں اجتہادی فکر کی بجائے استعماری آقائوں کی تقلیدِ محض کا ایک ذوق پیدا ہوا۔ جس کا مقصد یہ ٹھہرا کہ مسلمانوں کو اور سب کچھ رہنے دیا جائے ‘ لیکن مسلمان نہ رہنے دیا جائے۔ تعلیمی اداروں کو ایسے نصاب تعلیم سے مسلح کیا جائے جس کے نتیجے میں وہاں سے تعلیم پا کرنکلنے والا نوجوان یقین و ایمان کی روح سے خالی ‘ شکوک و ارتیاب کا پیکر ‘ ملی خصوصیات سے یکسر بےبہرہ اور غیرت و حمیت کے جذبات سے لاتعلق ہو۔ اسے وحی الٰہی میں قدم قدم پر شک ہو ‘ لیکن آسمان مغرب سے اترنے والی ہر بات اس کے لیے زاد آخرت سے کم نہ ہو اور اس تعلیم کو افرادِ قوم کو بدلنے کے لیے ایسے موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا جس سے قومی خودی یکسر پامال ہو کر رہ گئی۔ اقبال نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ؎
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو
ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر
تاثیر میں ‘ اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیر
نتیجتاً ایک ایسی قوم جس کے پاس وحی الٰہی پر مبنی ایک نظام زندگی تھا ‘ جس کی اپنی ایک تہذیب تھی ‘ اپنا تمدن تھا ‘ جس کے اپنے اجتماعی ادارے تھے ‘ جس کے پاس دنیا کی سب سے زیادہ پاکیزہ شخصیتیں آئیڈیل کے طور پر موجود تھیں ‘ جس کی راہیں علم کے نور سے روشن اور عمل کی قوت سے توانا تھیں ‘ وہ غلامی کے ہمہ پہلو اثرات سے اس حد تک متاثر ہوئی کہ نہ صرف یہ کہ نصف صدی کے بعد بھی اس کے تعلیم یافتہ اصحاب و دانشوروں کو اپنے راستے کے تعین میں مشکل پیش آرہی ہے ‘ بلکہ وہ اپنی منزل تک کو بھول گئے ہیں۔ انھیں معلوم ہی نہیں کہ ہماری اصل حقیقت کیا ہے اور ہمیں کہاں جانا ہے۔ اسی لیے اقبال نے شیخ حرم کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس امت کے نوجوان کے اصل مرض کو سمجھا جائے اور پھر اس کے علاج کی فکر کی جائے۔ کیونکہ غلامی نے اس کو بری طرح کھیل کھیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اس نے کہا تھا ؎
اے شیخ حرم رسم و رہِ خانقہی چھوڑ
مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دے سبق انھیں خود شکنی ‘ خود نگری کا
تو ان کو سکھا خارہ شگافی کے طریقے
مغرب نے سکھایا انھیں فن شیشہ گری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا
چناچہ یہی وہ اصل مرض ہے اور جو قوم بھی اس مرض میں مبتلا ہوتی ہے ‘ اس کے اصلاح پذیر ہونے کے امکانات اگر یکسر ختم نہیں ہوتے تو دھندلا ضرور جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل اس ابتلا میں مبتلا ہوئے اور اپنے انجام کو پہنچے اور آج ہم اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ ہم محسوس کرسکتے ہیں کہ سیاسی غلامی سے آزادی کے باوجود بھی ہم تاحال تعلیمی ‘ تہذیبی ‘ قانونی اور تمدنی غلامی کا بری طرح شکار ہیں اور اسی وجہ سے اپنی منزل کی طرف بڑھنا اور سمت ِسفر کا تعین کرنا ہمارے لیے روزبروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بنی اسرائیل کا یہ انجام ہمیں توجہ دلا رہا ہے کہ قدرت بہت دیر تک مہلت نہیں دیا کرتی۔ اگر آبرومندانہ زندگی عزیز ہے تو اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔
دوسری چیز جو ہمیں اس واقعہ میں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو یہ سزا دی گئی کہ تم چالیس سال تک اسی وادیٔ سینا اور صحرائے تیہ میں سرگرداں رہو گے ‘ تاوقتیکہ تم میں بیس سال سے بڑی عمر کے لوگ موت کا شکار نہ ہوجائیں۔ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ چالیس سال میں لوگ پیدل بھی دنیا بھر کا سفر کرلیتے ہیں ‘ لیکن بنی اسرائیل فی الواقع اڑتیس سال تک اسی صحرا میں بھٹکتے رہے۔ اسی دوران پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتقال فرمایا اور یہ اس وقت تک صرف وادی اردن تک پہنچ سکے۔ چالیس سال پورے ہونے کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) کی قیادت میں ان کو اللہ نے فلسطین فتح کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ یہ نہایت عبرت کا مقام ہے کہ ایک قوم جو ہوش و حواس رکھتی ہے ‘ اللہ کے نبی کی قیادت اسے میسر ہے ‘ لیکن وہ ایک محدود سے صحرا میں سال ہا سال تک سرگردانی کی سزا میں مبتلا رہتی ہے۔ اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی اللہ پر ایمان لانے والی اور اس کے ساتھ عہد و پیمان میں جکڑی ہوئی قوم ‘ اس سے انحراف کا راستہ اختیار کرتی ہے اور بجائے اس کے کہ وہ راست بازی کے ساتھ راہ کی مشقتوں کو سامانِ سفر سمجھ کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے ‘ وہ نہ صرف پسپائی کا سفر اختیار کرلیتی ہے بلکہ بغاوت پر اتر آتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت اس سے عقل و خرد کا جوہر چھین لیتی ہے ‘ اسے قوت فیصلہ سے محروم کردیا جاتا ہے ‘ انھیں راستہ دکھانے والے لوگ راستہ دکھاتے ہیں ‘ لیکن وہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔ آج ہم شاید اللہ نہ کرے اسی عذاب کا شکار ہیں۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہم نے یہ ملک کیوں بنایا تھا۔ ہماری منزل کیا تھی۔ اللہ سے ہم نے کیا وعدے کیے تھے اور ہمارے مقاصد کیا تھے۔ لیکن اس امت کی ایک بہت بڑی تعداد نے بالکل اس کی الٹی سمت سفر شروع کر رکھا ہے اور ہمارے ارباب اقتدار اس طبقے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ‘ بلکہ انھیں باقاعدہ سپورٹ کیا جا رہا ہے اور جو انھیں ان کے عہد و پیمان کی یاد دلانا چاہتا ہے ‘ اس کے لیے زنجیریں تیار کی جا رہی ہیں اور ملک کے سفر کا حال یہ ہے کہ جہاں ہم تریپن (53) سال پہلے کھڑے تھے یا تو وہیں کھڑے ہیں اور یا شاید اس سے بھی پیچھے جا چکے ہیں۔ منیر نیازی نے ٹھیک کہا تھا :
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
تیسری چیز جس کی طرف قرآنی آیات ہمیں توجہ دلا رہی ہیں ‘ وہ یہ ہے کہ اولوالعزمیوں کا سفر اور وفا شعاریوں کے معرکے اور اجتماعی زندگی کی ذمہ داریوں کی ادائیگی ‘ یہ غلامی میں پلے ہوئے لوگوں کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی قوم آپ اپنی دشمن نہیں ہوتی تو اسے نوجوان نسل کو وفا شعاری اور جفاکشی کے ماحول میں تربیت دے کر ان مقاصد کے حصول میں شب و روز کھپا دینا چاہیے ‘ جو اس قوم کے مقاصد کا درجہ رکھتے ہیں اور جس سے اس قوم کی اجتماعی زندگی عبارت ہوتی ہے۔ کیونکہ ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا اور اجتماعی مخالفتوں کا سامنا کرنا اور عہد رفتہ کی عظمتوں کو واپس لانا اور جہاد اور سرفروشی کو زندگی کا معمول بنانا ‘ یہ غلامی کے مارے ہوئے لوگوں کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے تو ایسے نوجوان چاہئیں جنھیں فاقہ کشی اور سرفروشی کا خطرہ کبھی منزل سے ہٹا نہ سکے بلکہ اپنے مقصد کی لگن ان کے دلوں میں ایسی فروزاں رہے کہ وہ کسی بھی خطرے سے کھیلنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں۔ اور
؎ جو راہ کی سختی کو سامان سفر سمجھیں
بنی اسرائیل کو اس لیے صحرا میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا گیا تاکہ نوجوانوں کا ایک ایسا قافلہ تیار کیا جائے جو صحرا میں پل کر جوان ہو اور پہاڑوں کی بلندیاں اس کے عزم کو ہمیشہ توانائی عطا کرتی رہیں کیونکہ ؎
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
Ayah 5:27تمہید
اس سے پیشتر کے رکوع میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ اللہ نے ان پر بیشمار انعامات فرمائے ‘ تورات ان پر نازل کی گئی ‘ موسیٰ (علیہ السلام) جیسا جلیل القدر نبی ان کی طرف مبعوث ہوا۔ لیکن اس کے باوجود جب انھیں فلسطین کو فتح کرنے کا حکم دیا گیا تو صرف اس لیے انھوں نے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کردیا کہ فلسطین میں ایک طاقتور قوم آباد ہے۔ ہم اپنے اندر اس کے مقابلے کی ہمت نہیں پاتے۔ جس کے نتیجے میں انھیں یہ سزا دی گئی کہ بیس سال کی عمر سے اوپر کے تمام لوگ اسی صحرائے تیہ میں سرگرداں رہیں گے اور یہیں ان کو موت آئے گی۔ فلسطین کو فتح کرنے کی توفیق ان کی اولاد کو ہوگی ‘ لیکن یہ اس سے محروم رہیں گے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ تمام بنی اسرائیل کے لوگ فرعون کی غلامی میں وہ تمام خصائص کھو چکے تھے ‘ جن کے نتیجے میں قومی خودداری ‘ خود اعتمادی اور سرفروشی جیسے خصائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے پروردگار نے یہ حکم دیا کہ یہ ہر طرح کی آزادی کی خصوصیات سے بےبہرہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان پر کسی آزاد ملک کی ذمہ داری ڈالی جائے۔ کیونکہ آزادی کی ذمہ داریوں کا بوجھ یا معرکہ کارزار میں سرخرو ہونے کی سعادت صرف ان کو نصیب ہوتی ہے جو آزاد فضا میں جیتے ہیں اور صحرائی زندگی میں تربیت پاتے ہیں۔
امت مسلمہ کو یہ سبق دیا گیا کہ تم اپنی شہری زندگی میں دیکھنا کبھی جفاکوشی ‘ سرفروشی اور جاں سپاری کی صفات کو اپنے اندر سے جانے نہ دینا ‘ ورنہ تمہارا انجام بھی بنی اسرائیل سے مختلف نہ ہوگا۔ جس رکوع کو اب ہم پڑھنے لگے ہیں اس میں پروردگار نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا ہے جس میں ایک نے دوسرے کو قتل کردیا تھا۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ جس طرح اجتماعی زندگی میں سرفروشی اور ایثار و قربانی بنیادی صفات ہیں ‘ جس کے بغیر کوئی قوم اپنا تشخص باقی نہیں رکھ سکتی ‘ اسی طرح انفرادی زندگی کے باہمی معاملات میں ہمواری ‘ حسد ‘ بغض سے دوری ‘ اخلاص اور بےنفسی اس کی بقا کی ضامن ہیں۔ بنی اسرائیل اگر اجتماعی خصائص کھو دینے کی وجہ سے اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے تو قابیل انفرادی صفات سے محروم ہو کر شخصی نامرادی کی علامت بن گیا۔ اس لیے امت مسلمہ کو جہاں بنی اسرائیل کے انجام سے سبق سیکھنا ہے وہیں انھیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی ہے کہ کوئی اجتماعی زندگی ‘ انفرادی زندگی کی اصلاح کے بغیر استوار نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی ایک کشتی کی مانند ہے اور انفرادی زندگی کشتی کے تختوں کی طرح۔ اگر کشتی کے تختے دیمک زدہ ہیں تو کشتی کبھی مضبوط اور پائیدار نہیں ہوسکتی۔
دوسری بات جو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے میں بہت نمایاں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ دونوں حقیقی بھائی کا رشتہ رکھتے تھے۔ لیکن جب ایک نے اپنی کمزوریوں کے علاج کی بجائے اپنے بھائی کی خوبیوں سے حسد کرنا شروع کیا اور اپنی محرومیوں کا سبب اپنے بھائی کی نیکیوں کو سمجھا تو نتیجہ یہ ہوا کہ اس سے ایک ایسا فعل سرزد ہوا جس سے اس کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوگئیں۔ اس قصے کے ذریعے بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ دونوں میں ہم نسل ہونے کا رشتہ ہے لیکن بنی اسرائیل صرف اس لیے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں کہ وہ بجائے بنی اسرائیل کے بنی اسماعیل میں کیوں پیدا ہوگئے۔ نبوت تو ہمارے گھر میں آنا تھی ‘ یہ بنی اسماعیل میں کیسے چلی گئی۔ ان کو بھی اسی طرح حسد کا دورہ پڑا جیسے قابیل کو پڑا تھا۔ وہ یہ بات بھول گئے کہ نبوت سراسر اللہ کا عطا کردہ ایک اختصاص ہے ‘ جس میں کسی کی ذاتی پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہیں۔ پہلے اگر اس نے بنی اسرائیل سے پیغمبر اٹھائے تو اب یہ سعادت اگر اس نے بنی اسماعیل کے گھر میں منتقل کردی ہے تو دین داری کا تقاضہ تو یہ ہے کہ بنی اسرائیل اسے آگے بڑھ کر اور اپنی متاع جان کر اس کی پیروی کریں نہ کہ حسد کی آگ میں جل کر اپنی قسمت کو آگ لگا دیں۔ چناچہ یہ بات سمجھانے کے لیے اس واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ م اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ ط قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ط قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہ ُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ۔ (المائدہ : 27)
(اور ان کو آدم کے دو بیٹوں کی سرگزشت اس کی حکمت کے ساتھ سنائو ‘ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔ وہ بولا کہ میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔ اس نے جواب دیا اللہ تو صرف اپنے متقی بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے)
قصہ ہابیل اور قابیل کی بنیاد ” حسد “
اس آیت کریمہ میں سرگزشت کے لیے نبَاَ کا لفظ استعمال ہوا ہے نَبَا کسی عام خبر پر نہیں ‘ بلکہ بہت ہی اہم خبر پر بولا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ قیامت کے لیے النَبَأ الْعَظِیْم کا لفظ بولا ہے۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے صرف دو لڑکوں کا قصہ بیان کیا ہے اور اس کو نبَاَ یعنی بہت اہم خبر قرار دینا ‘ بظاہر یہ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو یہ بات عجیب نہیں لگتی بلکہ ایک بہت اہم حقیقت کی طرف نشاندہی کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانی رویئے یا انسانی معاملات کی ساری خرابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آدمی اپنی کمزوری کو سمجھنے کی بجائے اس کا ذمہ دار دوسرے کی نیک نامی کو ٹھہرائے اور بجائے اپنی اصلاح کرنے کے حسد کے مرض میں مبتلا ہوجائے۔ اگر یہ کیفیت کسی بھی آدمی میں پیدا ہوتی ہے تو کبھی بھی اس کی اصلاح کی امید نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایک ایسا بخار ہے کہ جب کسی بھی انسان یا کسی بھی قوم کے دماغ کو چڑھتا ہے تو عدل اور احسان کا خون کیے بغیر نہیں اترتا اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس حسد کے نتیجے میں دوسرا شخص ظلم کا شکار ہوتا ہے ‘ لیکن حسد کے مریض کو اس سے کوئی آسودگی نہیں ملتی ‘ بلکہ وہ خود اپنی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اگرچہ ان دو لڑکوں میں سے ایک لڑکے میں اس مرض کی نشاندہی کی گئی ہے ‘ مگر فی الحقیقت تمام افراد انسانی یا تمام اقوام عالم اسی مرض کا شکار ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ انسانوں کے دو ہی گروہ رہے ہیں۔ ایک وہ گروہ جس کی زندگی نیکی اور بھلائی سے عبارت ہے اور وہ دوسرے کی برائی کو بھی حتی الامکان نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرے کے ظلم کو بھی اس وقت تک برداشت کرتا ہے ‘ جب تک وہ دوسرے مظالم کا پیش خیمہ نہیں بن جاتا۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ہمیشہ دوسروں کی خوبیوں سے جلتا اور اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں کی خوبیوں کو اپنی محرومیوں کا سبب سمجھتا ہے یہی دو گروہ ہمیشہ خیر و شر کی علامت رہے ہیں۔ چونکہ ان دونوں کا آغاز ہابیل اور قابیل کے رویئے سے ہوا ہے ‘ اس لیے قرآن کریم نے اسے ایک بہت اہم واقعہ قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو انسانی رویئے اتنے ہی قدیم ہیں ‘ جتنی کہ خود انسان کی تاریخ۔
تاریخ پر مورخین کے ظلم
دوسرا لفظ جو اس آیت کریمہ میں بہت توجہ طلب ہے وہ بِا الْحَقْ ہے ارشاد ہوا ہے :
واَتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقْ
(انھیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ حق کے ساتھ پڑھ کے سنایئے۔ )
یہاں حق کا لفظ دو باتوں کی طرف رہنمائی کررہا ہے ایک یہ کہ آپ اس اہم واقعہ کو بالکل ویسے ہی بیان کیجئے جیسا وہ واقعہ میں ہے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی پیوند کاری ہرگز نہ کیجئے کیونکہ کوئی بھی تاریخی سرگزشت اپنا صحیح اثر اس وقت پیدا کرتی ہے جب اسے اسی طرح بیان کیا جائے جس طرح حقیقت میں وہ واقع ہوئی ہے اور اگر اپنی طرف سے اس کی اثر اندازی کو نمایاں کرنے کے لیے کوئی بھی اضافہ کیا جائے گا تو عین ممکن ہے کہ سرگزشت کسی اور بات کی غمازی کر رہی ہو اور یہ اضافہ اسے کسی اور طرف لے جائے۔ ایسی صورت میں اس سرگزشت کو سنانے کا فائدہ کیا ہوگا۔ اب مشکل یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ اسی انداز سے تاریخ پر مہربانیاں کی ہیں۔ تاریخ کا کوئی کردار اگر اپنا ممدوح ہے تو اس کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اس میں ایسے ایسے اضافے کیے کہ حقیقت سے اس کا تعلق ختم ہوگیا اور اگر وہ مؤرخ کی نگاہ میں ناپسندیدہ کردار ہے تو اس کی تصویر بگاڑنے میں مؤرخ نے پورا زور قلم صرف کردیا۔ نتیجتاً تاریخ ہر مؤرخ کے ذاتی تأثرات کا اظہار بن کر رہ گئی ہے۔ اس لیے بالحق کے لفظ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تاریخ پر یہ ظلم ہوتا رہا ‘ حتیٰ کہ آسمانی کتابیں بھی اس سے محفوظ نہ رہیں۔ اس لیے اس واقعہ کو اسی طرح بیان کیجئے جیسا وہ حقیقت میں ہے۔ اور دوسری بات جو اس سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تاریخ کا مقصد محض قصہ گوئی اور اس کے نتیجے میں تفریح طبع نہیں ہے بلکہ مقصود اس سے نصیحت یا عبرت حاصل کرنا ہے۔ اس لیے صرف ایک واقعہ کو سادہ انداز میں بیان کردینا اور اس کے عبرت خیز اور نصیحت آموز پہلوئوں کو نمایاں نہ کرنا یہ تاریخ کی کوئی خدمت نہیں۔ فرمایا کہ اس واقعہ کو اس طرح بیان کرو کہ جس میں حق یعنی نصیحت اور عبرت اپنی ذات میں نمایاں ہوجائیں۔ چناچہ قرآن پاک کے بیان کردہ اس قصے کو جب ہم دیکھتے ہیں اور پھر اس کا مقابلہ تورات کے بیان کردہ قصے سے کرتے ہیں تو یہ حقیقت مزیدواضح ہوجاتی ہے۔ قرآن کریم نے اگرچہ اس واقعہ کو اپنے اسلوب کے مطابق نہایت اختصار سے بیان کیا ہے ‘ لیکن اس سے سرگزشت کے وہ پہلو جو سرگزشت کی جان ہیں انھیں نمایاں کر کے نصیحت و عبرت کا سامان کردیا گیا ہے۔
تاریخی روایات میں قصہ ہابیل و قابیل
پہلی آسمانی کتابوں اور تاریخی روایات کو دیکھتے ہوئے جو پورا قصہ سامنے آتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اللہ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو اولاد عطا کی جس میں بیٹیاں بھی تھیں اور بیٹے بھی۔ ظاہر ہے کہ سب ایک ماں باپ کی اولاد ہونے کی وجہ سے آپس میں بہن بھائی تھے اور بہن بھائی کا چونکہ آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا اس لیے سوال پیدا ہوا کہ ان کا آپس میں نکاح کیسے کیا جائے اور اگر نکاح نہ کیا جائے تو نسل انسانی کی بقا کا کیا انتظام ہوگا۔ چناچہ پروردگار نے حکم دیا کہ ایک دفعہ جو بیٹا اور بیٹی پیدا ہو وہ آپس میں بہن بھائی ہوں گے اور جب دوسری دفعہ بیٹا اور بیٹی پیدا ہوں وہ آپس میں تو بہن بھائی ہوں گے لیکن پہلے پیدا ہونے والوں کے لیے اجنبی اور نامحرم ہوں گے۔ اس لیے ان دونوں میں نکاح ہوسکتا ہے۔ چناچہ واقعہ یہ پیش آیا کہ اللہ نے ہابیل اور قابیل کی شکل میں دو بیٹے عطا فرمائے۔ ہابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بدصورت تھی اور جو لڑکی قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی وہ خوبصورت تھی۔ جب دونوں کے نکاح کا وقت آیا تو قاعدے کے مطابق قابیل کی شادی ہابیل کی بہن کے ساتھ اور ہابیل کی شادی قابیل کی بہن سے ساتھ قرار پائی۔ ہابیل کی بہن چونکہ خوبصورت نہیں تھی اس لیے قابیل نے اس سے نکاح کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میری بہن چونکہ خوبصورت ہے اس لیے میں خود اس سے نکاح کروں گا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا کہ نادان نہ بنو تمہارا نکاح اپنی بہن سے نہیں ہوسکتا۔ لیکن جب اس نے کسی طرح بھی ماننے سے انکار کردیا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اتمام حجت کے لیے دونوں کو قربانیاں کرنے کا حکم دیا۔ دونوں نے اپنی اپنی قربانیاں ان کی اپنی شریعت کے مطابق ایک ٹیلے کی چوٹی پر جا کر رکھ دیں۔ آسمان سے ایک آگ آئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو جلا دیا گویا اس کو قبول کرلیا گیا کیونکہ یہی قبولیت کی علامت تھی اور قابیل کی قربانی کو آگ نے نہیں جلایا ‘ گویا اسے قبول نہیں کیا گیا۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء کے یہاں جو قربانی قبول کی جاتی تھی اس کی علامت یہی تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر اسے جلا دیتی تھی۔ چناچہ بنی اسرائیل نے آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات کیے ان میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں تو پھر آپ کی قربانی کو آگ کیوں نہیں جلاتی اور ہم تو آپ ﷺ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم خود یہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔
اَلاَّ نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّیٰ یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ ط (آل عمران 3: 183)
( ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں ‘ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے جسے آگ کھالے)
لیکن یہ سلسلہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ختم کردیا گیا اور قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی گئی۔ مختصر یہ کہ جب قابیل کی قربانی قبول نہیں کی گئی تو اسے حسد کا بخار چڑھا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا : لَاَقْتُلَنَّکَ ” میں تجھے ضرور قتل کروں گا “۔ جواب میں ہابیل نے کہا :
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہ ُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
( اللہ تو قربانی صرف متقین سے قبول کرتا ہے)
یعنی تمہیں میرے قتل کے درپئے ہونے کی بجائے قربانی کی عدم قبولیت کی اصل وجہ سمجھنی چاہیے ‘ وہ میری ذات نہیں بلکہ تمہارے اندر اخلاص کا نہ ہونا ہے۔ اب اگر تم مجھے قتل بھی کردو گے تو اس سے تمہاری قربانی قبول تو نہیں ہوجائے گی بلکہ یہ تو اس سے بھی بڑا جرم ہوگا اس لیے تمہیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے اور اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اندازہ فرمایئے کہ یہ کتنے واضح دو رویئے ہیں۔ ایک رویہ پوری طرح نفسانیت کا آئینہ دار ہے اور وہ خواہش نفس میں ڈوب کر دوسرے کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ دوسرا رویہ سراسر اللہ سے ڈرنے اور اس کی رضا کے لیے اس کا تقویٰ پیدا کرنے کی فکرکا غماز ہے۔ یہی دونوں رویئے شر اور خیر کی علامت ہیں۔ اس سے ایک اور بات کی طرف راہنمائی ہوتی ہے وہ یہ کہ آج کا مؤرخ اور دانشور یہ کہتا ہے کہ آج کا انسان جو توحید کا پرستار اور خیر کا علمبردار ہے ‘ یہ اپنی اس منزل تک نجانے کتنے ہزاروں سال کے سفر کے بعد پہنچا ہے۔ شروع شروع میں انسان نجانے کس کس کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا تھا ‘ نجانے کس کس مظہر قدرت کے سامنے جھکتا تھا۔ پھر وہ آہستہ آہستہ توحید تک آیا۔ لیکن اس واقعہ سے ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریخ انسانی کے پہلے دو افراد ہیں جو خیر اور شر کی پوری طرح نمائندگی کر رہے ہیں۔ جو بات ہابیل نے قابیل سے کہی کہ کوئی نیک عمل بھی اخلاص کے بغیر قبول نہیں ہوتا۔ وہی سب سے آخر میں آنے والی کتاب قرآن کریم نے ہمیں بتائی کہ تم جو قربانیاں دیتے ہو ان کا گوشت اور پوست اللہ کو نہیں پہنچتا :
وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ (الحج : 37)
( بلکہ تمہارا تقویٰ اللہ تک پہنچتا ہے)
یعنی وہی ہابیل کی بات قرآن کریم اس امت کو سمجھا رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جب دنیا میں بھیجا گیا تھا تو اللہ اور اس کی صفات اور انسان کا اپنے اللہ سے تعلق اور عبودیت اور الوہیت کے مابین رشتے کی پوری تفہیم کے ساتھ بھیجا گیا تھا۔
Ayahs 5:28–29لَئِنْم بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہ َ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓئَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ج وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 28۔ 29)
” اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر دست درازی کرو گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر دست درازی کرنے والا نہیں۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں “۔ ” میں چاہتا ہوں کہ میرا گناہ اور اپنا گناہ دونوں تم ہی لے کر لوٹو اور جہنم والوں میں سے بنو۔ یہی سزا ہے ظالموں کی “۔
اگر تم میرے بھائی ہو کر بھی صرف اتنی بات پر کہ تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی اور میری قربانی قبول کرلی گئی اور تم میرے قتل کے درپے ہوگئے ہو تو دیکھو اگر تم مجھ پر دست درازی کرو گے ‘ تاکہ تم مجھے قتل کردو تو میں تمہیں قتل کرنے کے لیے تم پر دست درازی نہیں کروں گا۔ یعنی میں اس رشتے کو کبھی نہیں بھول سکتا جو میرے اور تیرے درمیان ہے۔ ایک تو یہ کہ تم میرے بھائی ہو ‘ دوسرا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان ایک دین کا رشتہ ہے اور تیسری بات یہ کہ بغیر کسی وجہ کے کوئی انسان کسی انسان کو قتل نہیں کرسکتا۔ تم اگر بغیر کسی وجہ کے میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہو تو میں تمہارے قتل کا ارادہ نہیں کرسکتا۔ البتہ ! اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی آدمی اگر کسی دوسرے پر قتل کے ارادے سے حملہ آور ہو تو وہ اپنا دفاع بھی نہ کرے ‘ یہ تو سراسر اپنے قتل میں معاون بننے کے مترادف ہے۔ کسی شریعت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ یہاں جو نہایت حکمت کی بات بیان کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں یہ خبر ہو کہ وہ آپ کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو محض اس کے ارادہ کرنے سے آپ کے لیے اس کا قتل مباح نہیں ہوجاتا۔ آپ اس سے بچنے کی تدبیر تو کرسکتے ہیں ‘ لیکن اس خیال سے کہ وہ آپ کو قتل نہ کر دے ‘ آپ اسے پہلے قتل کردیں ‘ اس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے چند خوارج کو باتیں کرتے ہوئے سنا کہ وہ حضرت علی ( رض) کے قتل کی قسمیں کھا رہے تھے کہ اگر ہمیں موقع ملا تو ہم انھیں قتل کر کے چھوڑیں گے۔ مسلمان انھیں پکڑ کر حضرت علی ( رض) کی خدمت میں لے گئے اور بتلایا کہ یہ آپ کے قتل کا ارادہ کر رہے تھے ‘ اس لیے آپ انھیں قتل کروا دیں۔ آپ نے فرمایا کہ میں کس جرم میں انھیں قتل کروا دوں ؟ کیا انھوں نے واقعی مجھے قتل کردیا ہے ؟ اندازہ فرمایئے کہ اس آیت میں بھی پہلی نسل انسانی کا ایک شخص کس قدر پر حکمت باتیں کہہ رہا ہے۔
Ayah 5:30فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 30)
” بالآخر اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا اور وہ اس کو قتل کر کے نامرادوں میں سے ہوگیا “۔
حسد ایک شدید ترین جذبہ ہے :
فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ
(بالآخر اسے اس کے نفس نے آمادہ کر ہی لیا)
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس انتہائی اقدام پر آسانی سے تیار نہیں ہوگیا ‘ بلکہ اسے ایک بڑی کشمکش سے گزرنا پڑا کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ اللہ نے انسان میں دو طرح کے داعیات رکھے ہیں۔ ایک اس کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور دوسرا اس کو برائی کی دعوت دیتا ہے اور جب آدمی اس برائی کی دعوت کو قبول کرنے لگتا ہے اور کسی برے فعل کے ارتکاب کے لیے اقدام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا خیر کا جذبہ اسے اس سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے ہم نفس لوامہ یا ضمیر کہتے ہیں۔ جسے قدرت نے ایک چوکیدار کی طرح انسان کے اندر بٹھا دیا ہے۔ اگر کبھی اس کی عقل خواہشاتِ نفس سے مغلوب ہو کر یا مفادات کی اسیر ہو کر اسے برائی پر آمادہ کرتی ہے تو ضمیر کا کام یہ ہے کہ وہ اسے اس فعل کے ارتکاب سے روکے۔ چناچہ ہم اپنے تجربات سے اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب ایک ملازم آدمی پہلے پہل رشوت لینے کا ارادہ کرتا ہے تو نجانے اسے کتنی دفعہ اپنے ارادے کو توڑنا پڑتا ہے۔ آخر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس سے باز آجاتا ہے یا اسے کر گزرتا ہے۔ پہلی دفعہ گناہ ہمیشہ ایسے ہی مراحل سے گزرتا ہے اور جب بار بار آدمی اس کا ارتکاب کرتا ہے تو پھر نفس لوامہ خاموش ہوجاتا ہے ‘ کیونکہ انسان کو جس آزمائش میں ڈالا گیا ہے ‘ اس میں جس طرح اس کے لیے نیکی کے مراحل آسان کیے گئے ہیں ‘ اسی طرح برائی کے ارتکاب سے بھی اسے جبراً نہیں روکا جاتا ‘ صرف نفس لوامہ اور ضمیر سے اسے رکنے کے اشارے ملتے ہیں اور جب وہ ان اشاروں کی پرواہ نہیں کرتا تو پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں بھی ہابیل نے نجانے کتنے دن اس کشمکش میں گزارے آخر وہ ایک پیغمبر کا بیٹا تھا اپنے اندر خیر کے جذبات بھی رکھتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے حسد کا جذبہ اتنا شدید ہے جو گھر کی تربیت ‘ آغوش مادر کے اثرات ‘ باپ کی نصیحتیں ‘ ہر چیز کو مٹا کے رکھ دیتا ہے۔ اس سے بنی اسرائیل کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ یہی حسد کا جذبہ ہے ‘ جس نے تمہیں ہر طرح کے خیر کے جذبات سے عاری کردیا ہے۔ تم اپنی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی نشانیاں دیکھتے ہو۔ بجائے ان سے اثر لینے کے تمہارے حسد کے جذبے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے تمہیں قابیل کے انجام کو دیکھتے ہوئے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں تم بھی اس کی طرح اپنی تخریبی کارروائیوں کے نتیجے میں نامراد ہو کر نہ رہ جاؤ۔ قابیل اپنے اس جذبہ حسد پر قابو نہ پاسکا بالآخر اپنے بھائی کو قتل کردیا اور نامرادوں میں سے ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے ‘ دنیا میں دو ہی قافلے ہیں۔ ایک بامراد لوگوں کا قافلہ ہے ‘ جو نیکی کی دعوت کو سمجھتا ہے ‘ اللہ اور اسکے رسول کے احکام پر عمل کرتا ہے اور بالآخر فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوجاتا ہے اور دوسرا ایسے نامرادوں کا قافلہ ہے کہ جب وہ اندھوں کی طرح برائی کی راہوں پر بڑھتا چلا جاتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ ہم پھر ان پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں ‘ جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے۔
قصہ ہابیل و قابیل سے کیا سبق ملتا ہے
تمام اعمال صالح کی قبولیت کی بنیاد ” تقویٰ “ ہے
جب ہم اس پورے واقعہ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں چند چیزیں نہایت واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ جن میں سب سے نمایاں بات تقویٰ ہے۔ ہابیل اپنے بھائی قابیل کو اس نہایت اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دیکھو ! اللہ کے یہاں اعمال بھی اور دعائیں بھی صرف تقویٰ کے طفیل قبول ہوتی ہیں۔ یہی تمام عبادات کا حاصل ہے ‘ یہی بندگی کی روح اور یہی ہر مذہب کی جان ہے۔ تم اگر اپنے اندر تقویٰ یعنی اللہ کا خوف ‘ نیکی کی طرف میلان ‘ خوشنودیٔ رب کی تڑپ اور برائی کے انتہا درجے کا تنفر پیدا کرلو تو تم دیکھو گے کہ تمہاری زندگی میں کتنا بڑا انقلاب آگیا ہے۔ یہی بات آنحضرت ﷺ نے ایک سے زیادہ مواقع پر ارشاد فرمائی اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمیشہ اس کو حرز جان بنائے رکھتے تھے۔ ایک صحابی ( رض) کو لوگوں نے دیکھا کہ وہ آخری لمحوں میں نہایت رقت کا شکار تھے۔ کسی نے ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے آپ کو عظیم اعمال خیر کی سعادت بخشی ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ آپ جہاد میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس لیے آپ کو اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے ‘ ایسی دل گرفتگی کی کیا وجہ ہے ؟ فرمانے لگے تم نے نہیں سنا :
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہ ُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ
( اللہ صرف متقین سے اعمال قبول کرتا ہے)
اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم نے جیسے کچھ اعمال کیے ہیں ‘ اس میں تقویٰ کہاں تک شامل تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ( رح) ہمیشہ لوگوں کو تقویٰ کی نصیحت فرماتے اور بار بار اس پر توجہ دلاتے تھے کہ ” لوگو ! تقویٰ کی دعوت دینے والے تو بہت ہیں ‘ لیکن تقویٰ پر عمل کرنے والے تھوڑے ہیں “۔ ہم اپنی عملی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ قدم قدم پر خواہشات کا ہجوم ہوتا ہے ‘ مفادات کی ہوس اکساتی ہے ‘ حرام ذرائع سے دنوں میں دولت مند ہوجانے کی خواہش باربار راہ سے ہٹاتی ہے ایسے تمام مواقع پر اگر کوئی چیز آدمی کو راہ راست پر رکھتی ہے تو وہ صرف تقویٰ یعنی اللہ کا خوف ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف ہابیل اپنے بھائی کو متوجہ کر رہا ہے بلکہ انسانی اقدار کی تاریخ کے اوراق پر تقویٰ و خشیت کا اولین سبق لکھ رہا ہے۔
دوسری چیزجو ہابیل کے کردار سے بہت نمایاں ہے وہ اس کا رویہ ہے۔ جس سے تقویٰ چھن چھن کر نکل رہا ہے کہ اس نے نہ صرف اپنے بھائی کو آخر حد تک اس گناہ سے روکنے کی کوشش کی بلکہ اپنی زندگی تک دائو پر لگا دی۔ حتیٰ کہ اس راستے میں جان دے کر آنے والی نسلوں کو بتارہا ہے کہ میں یہ رویہ اس لیے اختیار کر رہا ہوں کہ میں رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ یہی باتیں پوری انسانی زندگی کو بدلنے کی ضامن ہیں اور اللہ کے اس عظیم بندے نے تاریخ کے پہلے ورق کے طور پر نوع انسانی کو یہ ہدیہ کی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ چند سطروں میں قرآن کریم نے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ لیکن اس کے وہ پہلو جو نصیحت اور عبرت کے لیے ضروری تھے ‘ اس نے ان کو ذکر کردیا اور غیر متعلقہ باتوں کو چھوڑ دیا۔ اس کے برعکس ہم تورات کو دیکھتے ہیں تو اس میں واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن کسی نصیحت اور کسی عبرت پر زور دینا تو دور کی بات ہے ‘ سرسری طور پر بھی کسی نصیحت یا عبرت کو بیان کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ تورات میں یہ واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
تورات میں قصہ ٔ ہابیل و قابیل
(اور آدم اپنی بیوی حوا کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور اس کے قائین پیدا ہوا۔ تب اس نے کہا مجھے خداوند سے ایک مرد ملا۔ پھر قائین کا بھائی ہابل پیدا ہوا اور ہابل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قائین کسان تھا۔ چند روز کے بعد یوں ہوا کہ قائین اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے واسطے لایا اور ہابل بھی اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ ان کی چربی کا ہدیہ لایا اور خداوند نے ہابل اور اس کے ہدیے کو منظور کیا۔ پر قائین کو اور اس کے ہدیے کو منظور نہ کیا۔ اس لیے قائین نہایت غضب ناک ہوا اور اس کا منہ بگڑا اور خداوند نے قائین سے کہا تو کیوں غضب ناک ہوا ؟ اور تیرا منہ کیوں بگڑا ہوا ہے ؟ اگر تو بھلا کرے تو کیا تو مقبول نہ ہوگا ؟ اور اگر تو بھلا نہ کرے تو گناہ دروازے پر دبکا بیٹھا ہے اور تیرا مشتاق ہے ‘ پر تو اس پر غالب آ اور قائین نے اپنے بھائی ہابل پر حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا۔ تب خداوند نے قائین سے کہا کہ تیرا بھائی ہابل کہاں ہے ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں ‘ کیا میں اپنے بھائی کا محافظ ہوں ؟ پھر اس نے کہا تو نے یہ کیا کیا ؟ تیرے بھائی کا خون زمین سے مجھ کو پکارتا ہے اور اب تو زمین کی طرف سے لعنتی ہوا ‘ جس نے اپنا منہ پسارا کہ تیرے ہاتھ سے تیرے بھائی کا خون لے۔ جب تو زمین کو جوتے گا تو اب وہ تجھے اپنی پیداوار نہ دے گی اور زمین پر تو خانہ خراب اور آوارہ ہوگا) (کتاب پیدائش باب 4‘ 1-12)
ہابیل کے قتل کا واقعہ چونکہ زمین پر پہلا واقعہ تھا ‘ اس لیے قابیل نہ جان سکا کہ میں اس لاش کے ساتھ اب کیا کروں۔ اس کے ذہن میں یقینا دو خیالات پریشانی پیدا کر رہے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ اس لاش کو میں کہیں چھپا دوں تاکہ میرے گرامی قدر والد کو اس کا علم نہ ہو سکے اور وہ مجھے اس پر سرزنش نہ کریں۔ تورات سے ہمیں اس کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے ‘ اس لیے وہ پریشان پھرتا تھا کہ آخر اس کی لاش میں کہاں چھپائوں۔ لیکن اسے کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اس لیے بعض اہل تأویل نے اسرائیلی روایات کا سہارا لیتے ہوئے ایک لمبی کہانی لکھ ڈالی ‘ جس کی حیثیت ایجادِ بندہ کے سوا کچھ نہیں۔ دوسرا تصور جو اس کو پریشان کرتا تھا ‘ وہ یہ بات تھی کہ قتل کرنے کو تو وہ کر بیٹھا، لیکن اب وہ اسے ٹھکانے لگانا چاہتا ہے ‘ وہ کیسے لگائے۔ اس لیے کہ ابھی تک اس کے سامنے تکفین و تدفین کے عمل کی نوبت نہیں آئی تھی۔
Ayah 5:31فَبَعَثَ اللہ ُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْاَۃَ اَخِیْہِ ط قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْاَۃَ اَخِیْ ج فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 31)
” پھر اللہ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین میں کریدتا تھا تاکہ وہ اس کو دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح چھپائے۔ وہ بولا کہ ہائے میری کمبختی ! کیا میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو ڈھانپ دیتا۔ سو وہ اس پر شرمسار ہوا “۔
کوے کے اس عمل نے قابیل کے سامنے ایک طریقہ واضح کیا کہ تم اگر اس لاش کو ٹھکانے لگانا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم زمین کو کھودو ‘ اس میں گڑھا بنا کر ‘ اس میں لاش کو رکھ کر اوپر مٹی ڈال دو ۔ اس طرح لاش انسانی نگاہوں سے چھپ بھی جائے گی اور ٹھکانے بھی لگ جائے گی۔ اس سے ایک عجیب بات ذہن میں آتی ہے کہ پروردگار نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے اپنے پیغمبر بھیجے اور کتابیں اتاریں تاکہ انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارتے ہوئے کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ لیکن انسان کی فطرت عجیب واقع ہوئی ہے یہ اللہ کے نبیوں کی راہنمائی کو ماننے سے انکار کردیتا ہے اور پھر نتیجتاً کوے کی راہنمائی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ کی راہنمائی کو قبول نہیں کرتے ‘ وہ ہر گری پڑی راہنمائی کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ انسان کا ایسا حیرت انگیز رویہ ہے جس کی تأویل کرنا مشکل ہے کہ وہ انکار کرنے پر آتا ہے تو اللہ کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتا ہے اور جب جھکنے پہ آتا ہے تو پتھروں کے سامنے جھک جاتا ہے۔ یعنی خالق کائنات سے سرتابی اور سرکشی اور بتوں کے سامنے بندگی اور عبادت۔ اگر واقعی یہی انسان کی کہانی ہے تو پھر پیغمبروں کی راہنمائی سے انحراف کر کے آخر انسان اپنی منزل کو کیسے پاسکتا ہے۔
اس آیت کریمہ کے آخری لفظ سے ایک اور حقیقت کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان وقتی طور پر خواہشات نفس کا اسیر ہو کر بعض دفعہ ایسا کام کر گزرتا ہے جسے کرنے پر اسے بےحد اصرار ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہ کام اس کی فطرت کی آواز نہیں ہوتا اور نہ عقل و شعور اسے تسلیم کرتے ہیں۔ خواہشات کا غلبہ ایسی شدید چیز ہے کہ وہ وقتی طور پر انسان سے اپنی اطاعت کروا لیتا ہے۔ جب یہ غلبہ اپنا اثر کھونے لگتا ہے یا جب آدمی وہ عمل کر گزرتا ہے تو پھر اسے اس پر ندامت ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ندامت اصلاً اس کی انسانیت کا دوسرا نام ہے اور اس کی فطرت کی پکار ہے۔ اس لیے جب بھی کسی کو اس راستے پر چلنے اور انسانوں کو راہنمائی دینے کا موقع میسر آئے تو اسے لوگوں کی معصیت میں ڈوبی ہوئی زندگی کو دیکھ کر کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اسے کام جاری رکھنا چاہیے اور اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے ‘ جب یہ معصیت کا بحران اپنی عمر گزار کے ٹلے اور ندامت کا مرحلہ آئے تو یہ ٹھیک وہ وقت ہوگا جب بگڑے ہوئے انسانوں کو دوبارہ ان کی منزل کی طرف لایا جاسکتا ہے۔
ہابیل اور قابیل کے اس واقعہ نے اگرچہ ہمارے سامنے بہت ساری حکمتیں اور عبرتیں نمایاں کی ہیں لیکن ان میں جو بالکل ایک سامنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے آغاز ہی سے انسان کی یہ سرشت ہمارے سامنے واضح ہوتی ہے کہ وہ اپنے اندر دو طرح کے جذبات رکھتا ہے اور انہی حوالوں سے دو انسانی رویے وجود میں آتے ہیں۔ ایک ہے خدا ترسی اور حق و عدل پر قائم رہنے کا رویہ اور دوسرا ہے سنگدلی اور دوسروں کے خو ن بہانے کا رویہ۔ ہابیل اور قابیل انہی دونوں رویوں کے نمائندہ ہیں اور آج تک سبھی انسان انہی دونوں رویوں کے حامل دکھائی دیتے ہیں۔ اس لیے صحیح رویے کی حفاظت اور غلط رویے کی اصلاح کے لیے ضروری تھا کہ وحی الٰہی کی راہنمائی ظہور میں آتی جس میں صحیح رویے پر جزا اور انعام کا ذکر ہوتا اور غلط رویے پر گرفت ہوتی۔
Ayah 5:32مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ ج کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَمَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط ولَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ز ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ۔ (المائدہ : 23)
” اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ فرض کیا کہ جس کسی نے کسی کو قتل کیا ‘ بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا ملک میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سب کو قتل کیا اور جس نے اس کو بچایا تو گویا اس نے سب کو بچایا اور ہمارے رسول ان کے پاس واضح احکام لے کر آئے۔ لیکن اس کے باوجود ان میں بہت سے ہیں جو زیادتیاں کرتے رہے “۔
قتل ناحق معاشرے کے بگاڑ کی نشانی ہوتا ہے
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ہابیل اور قابیل کے اس واقعہ کی وجہ سے قصاص کا یہ حکم نازل ہوا حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ بنی اسرائیل تو ہابیل اور قابیل کے واقعہ سے ہزاروں سال بعد وجود میں آئے اور تورات اس واقعہ کے ہزاروں سال بعد نازل ہوئی اور پھر یہ بھی ہے کہ قصاص کا یہ حکم صرف بنی اسرائیل ہی پر نازل نہیں ہوا بلکہ تورات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی امت پر بھی یہی قانون نافذ تھا۔ یعنی اس سے پہلے کوئی امت ایسی نہیں گزری جس پر یہ حکم اتارا نہ گیا ہو۔ اس لیے یہاں اس حکم کے نزول کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ‘ خاص طور پر اس واقعہ کے حوالے سے ‘ کیونکہ یہ حکم تو پہلے سے شریعتوں میں موجود رہا ہے۔ البتہ اس واقعہ کے حوالے سے مقصود اس ذہنیت کا حوالہ دینا ہے جس ذہنیت نے ہابیل کو قتل کیا اور یہ ذہنیت انسانوں میں ہر دور میں زندہ رہی۔ اس لیے جب بنی اسرائیل کو حامل دعوت امت کے طور پر اٹھایا گیا تو انھیں صرف یہ حکم نہیں دیا گیا بلکہ یہاں اس کا فلسفہ اور اس کی حکمت و مصلحت بیان کی گئی اور امت بنی اسرائیل کو یہ حکمت واضح کر کے بتلایا گیا ہے کہ وہ ذہنیت جو دوسروں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور جس کی نگاہ میں انسانی جان ‘ انسانی مال اور انسانی آبرو کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ‘ اس کی سنگینی کو محسوس کیا جانا چاہیے۔ انھیں نہ صرف خود اس سے بچنا چاہیے بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ نوع انسانی کو اس سے بچائیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا : کہ کسی ایک جان کا ناحق قتل یہ اصلاً پوری نوع انسانی کا قتل ہے اور کسی ایک جان کی حفاظت پوری نوع انسانی کی حفاظت ہے اس فلسفے اور حکمت کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم غور کرتے ہیں تو جو چند باتیں ہمارے سامنے واضح ہوتی ہیں۔ ان میں پہلی بات یہ کہ جب بھی کسی آبادی میں قتل نفس کا واقعہ پیش آئے تو اس آبادی کے رہنے والوں میں ایک بےچینی اور ہلچل پیدا ہوجانی چاہیے کیونکہ یہ واقعہ صرف ایک انسانی جان کا ضیاع نہیں ‘ بلکہ یہ علامت ہے اس بات کی کہ اس بستی کے رہنے والوں میں کسی کی جان بھی محفوظ نہیں کیونکہ انسانوں میں جب ایک کا خون بہتا ہے تو یہ گویا اس بات کی خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد کسی دوسرے کا خون بھی بہہ سکتا ہے کیونکہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک کے بعد دو تین چار کا وجود نہ ہو۔ اس لیے اس بستی کے اربابِ بست و کشاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ فوراً قاتل کو پکڑیں اور قانون قصاص کو بروئے کار لا کر انسانی جان کے لیے جو خطرہ پیدا ہوا ہے ‘ اس کا سدباب کریں۔
دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ کہ قتل نفس چونکہ نوع انسانی کے قتل کے مترادف ہے ‘ اس لیے کسی گھر میں اگر کوئی قتل ہوجاتا ہے تو یہ ذمہ داری صرف اہل خانہ کی نہیں کہ وہ اس کا کھوج لگائیں بلکہ اس ذمہ داری میں پوری آبادی اور بستی شریک ہے۔ انھیں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ جس بھیڑیے نے ایک کی جان لی ہے وہ اس بستی میں کسی دوسرے کی جان بھی لے سکتا ہے۔ اس لیے اس بھیڑیے کو اپنے انجام تک پہنچانا ‘ پوری بستی کی ذمہ داری ہے۔
تیسری بات جو اس سے سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ کسی اور کے گھر میں قتل نفس کو یہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ قتل میرے گھر میں نہیں ہوا ‘ جس گھر میں ہوا ہے یہ اسی کی ذمہ داری ہے۔ بلکہ اخوت اسلامی کا تقاضہ یہ ہے کہ اس گھر کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھا جائے اور اس میں جو مقدور بھر حمایت ومدافعت ہوسکتی ہے ‘ اس سے دریغ نہ کیا جائے اور اگر اس میں کچھ خرچ کرنے کی نوبت بھی آجائے تو اس میں بخل سے کام لینا ‘ خود اپنی جان کو غیر محفوظ کرنا ‘ بلکہ پوری نوع انسانی کو غیر محفوظ کرنا ہے۔
اسی طرح چوتھی بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اگر کسی آدمی کو اس قتل کے بارے میں کوئی بھی آگاہی ہے تو اس کی گواہی دینا اس کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اور اگر خدانخواستہ وہ اس کے برعکس جھوٹی گواہی دیتا ہے یا قاتل کی ضمانت دیتا ہے یا قاتل کو پناہ دیتا ہے یا قاتل کی دانستہ وکالت کرتا ہے تو وہ اس جرم میں برابر کا شریک ہے اور اگر کوئی عدالت دانستہ ایسے مجرم کو بری کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نوع انسانی کے قاتل کو بری کرتی ہے اور عین ممکن ہے کہ کل کو اس قاتل کا شکار کسی جج کا بیٹا ‘ کسی جھوٹے گواہ کا بیٹا یا کسی پناہ دینے والے کا بیٹا بنے۔
پانچویں بات جو اس سے سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ کہ مقتول کے اعزاہ و اقربا کی مدد کرنا اور ان کی ڈھارس بندھانا ‘ یہ دراصل نوع انسانی کی حمایت و مدافعت کے برابر ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے زندگی قرار دیا ہے۔ جو معاشرہ آپ اپنا دشمن نہیں ہے ‘ اسے یقیناً ان تمام حقائق کو حرز جان بنانا چاہیے اور اسے معاشرے میں بیداری کی ایک ایسی لہر اٹھا دینی چاہیے جس کے نتیجے میں دوسروں کے ساتھ ہونے والے جرائم کے بارے میں لاتعلقی اور بےنیازی کے رویے کو ایک جرم سمجھا جائے اور معاونت اور خیر خواہی کو اپنے باقی فرائض کی طرح ایک فرض سمجھ کر ادا کیا جائے اور اس پر صرف اللہ سے اجر کی امید رکھی جائے۔
اس آیت کے آخری حصے میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے صرف قصاص کا حکم دے کر بنی اسرائیل کو نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہم مسلسل ان کی طرف یاددہانی کے لیے رسول بھیجتے رہے۔ تاکہ وہ کل کلاں کو یہ عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمیں اگرچہ قتل نفس کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا تھا۔ لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ہماری نسلیں اسے بھول گئیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس عذر کو ختم کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اپنے رسول بھیجے وہ برابر ان کو یاد دلاتے رہے کہ دیکھنا اگر انسانی زندگی کی حفاظت مطلوب ہے اور انسان کو ایک آبرومندانہ زندگی دینا ہماری منزل ہے تو پھر کبھی بھی قتل نفس کی سنگینی کو کمزور نہ پڑنے دینا اور ہمیشہ قصاص کے حکم پر عمل جاری رکھنا۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ بنی اسرائیل نے اس ساری آگاہی کے باوجود ظلم اور اسراف سے کبھی کنارہ کشی نہ کی۔ تاریخ ان کے مظالم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد جب ان کی سلطنت کو زوال آیا اور دو مستقل حکومتیں یہودا اور اسرائیل کے نام سے قائم ہوگئیں تو انھوں نے صدیوں تک ایک دوسرے کا خون بہایا ‘ بلکہ ان کی شقاوت کی انتہا یہ ہے کہ جو اللہ کے نبی ان کی اصلاح کے لیے اٹھتے رہے ‘ ان میں سے بیشتر کو انھوں نے قتل کر ڈالا اور شقاوت و بدبختی کی ان کی یہ عادت آج تک رکی نہیں۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد ان کے تینوں قبیلے جو مدینہ میں آباد تھے ان کو جب بھی موقع ملا انھوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کیا۔ غزوہ خندق میں پورے عرب سے جو سیل بلا مدینے کی طرف امڈ کے آیا ‘ وہ انہی اہل کتاب کا لایا ہوا تھا۔ ان میں سے ہر قبیلے نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں۔ بنو خزاعہ نے تو مسلمانوں کی تباہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حتیٰ کہ مختلف معاملات میں جب کبھی نبی کریم ﷺ کو ان سے کسی امر کا تصفیہ کرنے کے لیے ان کی آبادی میں جانا پڑاتو انھوں نے آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے :
ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ
(پیغمبروں کے بار بار آنے اور سمجھانے کے باوجود) ان میں سے بیشتر اس کے بعد بھی ہمیشہ زمین میں اسراف اور زیادتیاں کرتے رہے)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ہدایات کے نزول کے باوجود انسانی تاریخ ظلم و ستم اور خوں ریزی کی داستان ہے ‘ جس کے بہت بڑے نمائندہ خود بنی اسرائیل ہیں۔ اس لیے انسانوں کو راہ راست پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں انھیں حکمت و مصلحت کی باتیں سمجھائی جائیں ‘ وعظ و نصیحت سے ان کے دل موم کیے جائیں ‘ وہیں ان کے لیے سخت سزائیں بھی مقرر کی جائیں تاکہ بگڑے ہوئے لوگ اپنے انجام کو پہنچیں اور باقی لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔