5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا ‘ فیصلہ کرتے تھے اسی تورات کے مطابق وہ نبی ‘ جو خود اسکے فرمانبردار تھے یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا اور اسی طرح علمائے حقانی اور فقہاء بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) ‘ کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ کہ تم لوگوں سے مت ڈریو اور صرف مجھی سے ڈریو اور میرے احکام کو دنیا کی متاع حقیر کے عوض مت بیچو۔ جو بھی اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں

اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ ج یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللہِ وَکَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآئَ ج فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (المائدہ : 44) ” ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا ‘ فیصلہ کرتے تھے اسی تورات کے مطابق وہ نبی ‘ جو خود اس کے فرمانبردار تھے یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا اور اسی طرح علمائے حقانی اور فقہاء بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) ‘ کیونکہ انھیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے کہ تم لوگوں سے مت ڈریو اور صرف مجھی سے ڈریو اور میرے احکام کو دنیا کی متاع حقیر کے عوض مت بیچیو۔ جو بھی اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں “۔ تورات علم و ہدایت کا سرچشمہ تھی ارشاد فرمایا : اِنَّآاَنْزَلْنَا التَّوْرٰۃَ فِیْھَا ھُدًی وَّ نُوْرٌ ج (ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھا) بنی اسرائیل کے حالات کو دیکھتے ہوئے ‘ آدمی یہ گمان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل جس صورت حال تک پہنچے اور اپنے بگاڑ کی جس انتہا کو انھوں نے چھوا ہے ‘ اس کا شاید سبب یہ تھا کہ ان پر جو کتاب اتاری گئی تھی ‘ اس میں ان کی زندگی کی ضرورتوں کی رہنمائی کے لیے شاید مکمل سامان نہیں تھا۔ وہ ایسی کتاب ہوگی کہ جس کو لذت اندوزی کے لیے شاید پڑھا جاتا ہوگا ‘ لیکن زندگی کے تلخ حقائق سے اسے شاید کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ دنیا میں ہر زبان میں لٹریچر کی بہت ساری ایسی کتابیں ہیں ‘ جو صرف دفع الوقتی یا لذت طلبی کے لیے پڑھی جاتی ہیں یا ان سے کسی تقریب میں مجلس آرائی کا کام لیا جاتا ہے ‘ لیکن زندگی کے تلخ حقائق میں ان سے کبھی راہنمائی نہیں لی جاتی ‘ کیونکہ اس کا سروسامان وہ اپنے اندر نہیں رکھتیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں بتایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنا ہی تعجب کرو ‘ لیکن یہ ایک واقعہ ہے کہ بنی اسرائیل پر جو کتاب تورات کے نام سے اتاری گئی ‘ اس میں انسانی راہنمائی کے لیے پورا سامان موجود تھا۔ زندگی گزارنے کے لیے دو طرح کی راہنمائی انسان کو مطلوب ہوتی ہے۔ ایک فکری راہنمائی اور دوسری قانونی راہنمائی۔ فکری راہنمائی سے ذہنی الجھنوں کا علاج ہوتا ہے اور دل کے ناآسودہ تصورات اطمینان پاتے ہیں۔ فکری الجھنوں کے ہزاروں رنگ ہیں ‘ جو دل کی بےاطمینانی پر منتج ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ فکروخیال کی ایسی روشنی قلب و دماغ کو میسر آئے ‘ جس سے ایک ایک الجھن کا علاج ہوتا رہے اور آدمی فکری گتھیوں سے نجات پا سکے۔ ہر دور میں انسانی زندگی اور اس کے خالق کے بارے میں ‘ کائنات سے اس کے تعلق کے بارے میں ‘ اس کے آغاز اور اس کے انجام کے بارے میں اور اس کے مقاصد اور اہداف کے بارے میں ‘ ہمیشہ نئے نئے خیالات ‘ نئی نئی تھیوریاں ‘ سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر ان کا کوئی متعین حل تجویز نہ کیا جائے تو انسانی قلب و دماغ کو پراگندہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ جس کے نتیجے میں زندگی کی کوئی جہت اور کوئی سمت ِسفرمتعین کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے کوئی ایسی روشنی میسر آئے ‘ جس سے آدمی ان تمام اندھیروں میں اصل منزل کا سراغ پا سکے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ اسی فکری راہنمائی کے لیے ہم نے تورات کو نور بنا کر بھیجا ‘ یعنی اس میں وہ روشنی موجود تھی ‘ جسکی معاونت سے فکری آسودگی حاصل کی جاسکتی تھی۔ لیکن ان دل و دماغ کے اندھوں نے ہمیشہ اس سے روگردانی کی ‘ اس سے روشنی حاصل کرنے کے بجائے ‘ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتے رہے۔ انسانی زندگی کی دوسری ضرورت آئین اور قانون ہے ‘ جس سے انسانی اعمال کی حدود متعین ہوتی ہیں۔ اچھائی برائی کے معیارات متعین ہوتے ہیں۔ آدمی حیوانوں کی طرح جنگل کا باسی اور اندھیروں کا مسافر نہیں بلکہ وہ آبادیوں میں رہنے والا ‘ انسانی معاشرے کا فرد اور اپنے حقوق و فرائض کا احساس رکھنے والا ہے اور یہ دولت اسے ہمیشہ ایک متعین آئین کی شکل اور انسانی راہنمائی کی تحریک کی شکل میں میسر آتی ہے۔ کسی قوم کو اگر یہ دولت نصیب نہیں ہوتی تو اس کی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے ‘ نہ تمدن۔ حتیٰ کہ وہ آداب زندگی تک سے تہی دامن رہتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس دولت سے محروم نہیں رکھا بلکہ اس کو جو کتاب عطا کی گئی اس کے بارے میں فرمایا کہ اس میں ہدایت تھی یعنی وہ ہر لحاظ سے ایک راہنما تھی ‘ جس میں آئینی اور قانونی ضرورتیں پوری کرنے کی صلاحیت تھی اور وہ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لیے ایک مکمل رہنما تھی۔ قرآن میں لفظ ہدایت کے استعمال جہاں تک لفظ ” ہدایت “ کا تعلق ہے ‘ قرآن کریم اس کو مختلف معانی میں استعمال کرتا ہے اور تورات ان سب معانی کے اعتبار سے ‘ ایک واقعی ہدایت تھی۔ قرآن کریم نے ” ہدایت “ کا لفظ ایک تو صراط مستقیم کے لیے استعمال کیا۔ ارشاد فرمایا : اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الحج 22: 67) یہاں ہدایت صراط اور راستے کے معنی میں ہے کہ ” آپ صراط مستقیم پر ہیں “۔ کبھی اسے فعل ہدایت کے معنی میں استعمال فرمایا مثلاً لَیْسَ عَلَیْکَ ھُدَاھُمْ (البقرۃ : 272) (ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں) یعنی زبردستی بالفعل ان کو ہدایت کے راستے پر ڈال دینا یا ہدایت یافتہ بنادینا ‘ یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ کبھی اسے نشان راہ کے مفہوم میں قرآن کریم نے استعمال کیا۔ جیسے سڑکوں پر سنگ میل ہوتے ہیں ‘ جو راہ کے نشان کے طور پر منزل کی خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح حیات انسانی کے سفر پر اللہ کی کتابیں بار بار آدمی کو راہنمائی مہیا کرتی ہیں ‘ تاکہ وہ منزل تک پہنچ سکے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے رات کی تاریکی میں دور سے ایک آگ جلتی ہوئی دیکھی تو آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا کہ آپ یہاں ٹھہریں ‘ میں وہاں جا کر دیکھتا ہوں ‘ ہوسکتا ہے کہ میں وہاں سے تمہارے تاپنے کے لیے آگ لے آئوں۔ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ھُدًی۔ (طہٰ 20: 10) (یا ہوسکتا ہے میں اس آگ پر کوئی نشان راہ پا لوں) جس سے ہمیں اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ کبھی قرآن کریم نے ” ھُدًی “ کے لفظ کو قلبی نور و بصیرت کے معنی میں استعمال کیا یعنی آدمی بعض دفعہ کسی اقدام کا ذہنی طور پر فیصلہ کرلیتا ہے ‘ لیکن دل اس سے مطمئن نہیں ہوتا۔ طبیعت اس پر یکسو نہیں ہوتی یا آدمی اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہوجاتا ہے۔ فرمایا یہ تورات اپنے اندر دلوں کا اطمینان اور بصیرت کا سامان بھی رکھتی ہے۔ اصحاب کہف کے بارے میں اسی معنی میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا۔ فرمایا : اَنَّہُمْ فِتْیَۃٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّھِمْ وَ زِدْنٰہُمْ ھُدًی۔ (الکہف : 13) وہ چند نوجوان لڑکے تھے ‘ جو اپنے رب پر ایمان لے آئے ‘ لیکن آنے والے خطرات سے گھائل ہو رہے تھے۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا کہ وہ اس ہولناک صورتحال سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ حکومت ان کی گرفتاری کے لیے برابر تعاقب کر رہی تھی۔ کافر معاشرہ ‘ ان کو نگل جانا چاہتا تھا۔ ایسی صورت حال میں فرمایا جا رہا ہے کہ (ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا یعنی انھیں دل کا اطمینان اور بصیرت عطا فرمائی) اندازہ فرمایئے ! جس کتاب کی یہ شان ہے کہ وہ نور بھی ہے اور ہدایت بھی (ان تفصیلات سمیت جو میں نے عرض کی ہیں) ‘ لیکن بنی اسرائیل کا پھر بھی اس سے فائدہ نہ اٹھانا ‘ یہ ان کی اپنی بدنصیبی اور محرومی ہے ورنہ اللہ کی طرف سے کرم فرمائی میں کوئی کمی نہ تھی۔ بات یہ نہیں تھی کہ انھیں راہنمائی میسر نہ تھی۔ بات یہ تھی کہ وہ راہنمائی قبول کرنے کو تیار نہ تھے ؎ موسم اچھا پانی وافر مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان یہود کے تورات سے فائدہ نہ اٹھا پانے کے تین بنیادی اسباب اور ہم یَحْکُمُ بِھَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالاَْحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبٍ اللہِ وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآئَ ج (فیصلہ کرتے تھے اسی تورات کے مطابق وہ نبی ‘ جو خود اس کے فرمانبردار تھے یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا اور اسی طرح علمائے حقانی اور فقہاء بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انھیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے) آیت کریمہ کے اس حصہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئیں اور یہ تین وہ بنیادی اسباب ہیں جن کی وجہ سے یہود اپنے پاس تورات رکھتے ہوئے بھی اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ 1 سب سے پہلی وجہ یہ کہ انھوں نے اس بات کو سمجھنے سے انکار کردیا یا سمجھ کر ماننے سے انکار کردیا کہ تورات کی اصل حیثیت ان کی زندگی میں کیا ہے۔ انھوں نے اس کتاب کو صرف تبرک جانا ‘ اس لیے اس سے محض برکت کے حصول کی خاطر ‘ وہ ہمیشہ اس کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ ثواب کی نیت سے پڑھتے اور بیماریاں دور کرنے کے لیے اس سے فائدہ اٹھاتے۔ لیکن جہاں تک اس کی اصل حیثیت کا تعلق تھا ‘ اس کو کبھی قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ اس آیت کے اس پہلے لفظ میں اس کی حیثیت کا تعین کیا گیا کہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اور زندگی کے تمام حقائق میں ‘ تہذیبی اور تمدنی ضرورتوں میں ‘ آئینی اور قانونی مسائل میں ‘ علمی اور عملی گتھیوں میں ‘ غرضیکہ زندگی کے تمام مراحل میں ‘ وہ ایک حاکمانہ حیثیت کی مالک ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ تم اس کے سامنے اپنے مسائل رکھو۔ وہ تمہارے مسائل کا فیصلہ کرے۔ یعنی تم اس کی راہنمائی میں مسائل کا فیصلہ کرو۔ وہ مسائل چاہے معاشی ہوں ‘ چاہے معاشرتی ‘ چاہے انفرادی ہوں ‘ چاہے اجتماعی ‘ چاہے وہ قومی ہوں ‘ چاہے بین الاقوامی ‘ ہر صورت میں اس کتاب کی طرف رجوع کرنا ‘ یہ اس کتاب کی بنیادی حیثیت کا تقاضہ ہے۔ لیکن یہود نے تورات کی اس حیثیت کو ماننے سے ہمیشہ انکار کیا۔ وہ اس کا احترام بجا لاتے ‘ اس کو اللہ کی کتاب جانتے ‘ اس کو چوم کر خوبصورت جزدانوں میں لپیٹ کر ایک اونچے طاقچے میں سجا دیتے تھے ‘ تاکہ اس کی بےادبی نہ ہونے پائے۔ رہا زندگی کا سفر ‘ اس کا دھارا ہمیشہ اس سے دور بہتا تھا۔ اس پر نفس کی حکمرانی تھی یا طاغوت اور شیطان کی حاکمیت تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کس طرح ممکن تھا کہ ان کی زندگی میں اس (تورات) سے تأثر کی چھاپ بھی ہوتی۔ 2 دوسری بات یہ فرمائی گئی کہ جو نبی اس کتاب کے مناد اور مبلغ رہے یا جن پر اللہ کی کتابیں نازل ہوتی رہیں ‘ ان کی حیثیت یہ نہ تھی کہ وہ خود مستقل بالذات مرجعِ ہدایت ہوتے بلکہ وہ نبی ہوتے ہوئے بھی اسی کتاب تورات کی پیروی کرتے ‘ اسی کی فرمانبرداری بجا لاتے تھے۔ یہ بات بطور خاص شاید اس لیے کہی جا رہی ہے کہ انسانوں کی فطرت یہ رہی ہے کہ وہ جب کسی کو نبی بلکہ ولی مان لیتے ہیں تو پھر ان کی ذات سے ان کا ایسا تعلق قائم ہوجاتا ہے کہ وہ انہی کو مستقل بالذات مرجعِ ہدایت سمجھتے ہیں۔ صحیح غلط ‘ حلال حرام اور اچھائی برائی کی سند اور اتھارٹی ‘ ان کے یہاں صرف ان کی ذات ہوتی ہے۔ وہ ان کی عقیدت میں اللہ کی پوری شریعت کو بعض دفعہ نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم اپنی آنکھوں سے اپنے ملک کے مختلف حصوں میں اس کے مظاہر دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ والوں نے تو ہمیشہ شریعت کی پابندی کی بھی اور کروائی بھی ‘ لیکن عام طور پر مریدوں نے تو اپنے پیروں کو ہی سب کچھ سمجھنے کی کوشش کی۔ دنیا دار پیر ‘ ہمیشہ اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے رہے اور جن اللہ والوں نے اس روش کو روکنا چاہا ‘ عام طور پر خلق خدا کا رجوع ان کی طرف نہیں رہا ؎ اللہ کے کچھ بندے معبود ہی بن بیٹھے لوگوں میں نظر آئی جو خوئے جبیں سائی اس فطری کمزوری کا عالم تو یہ ہے کہ ہم بعض دفعہ بڑے بڑے بزرگوں کو بھی اسی پیمانے سے جانچتے ہیں۔ مشہور واقعہ ہے کہ حضرت مجدد الف ثانی ( رح) کے پیر و مرشد حضرت خواجہ باقی باللہ (رح) کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور تقریباً آٹھ سال تک وہاں مقیم رہا۔ شیخ نے اس سے کبھی نہیں پوچھا کہ تم کس مقصد سے آئے ہو۔ آٹھ سال کے بعد اس نے واپسی کا ارادہ کیا تو اجازت طلبی کے لیے حاضر ہوا۔ تب شیخ نے پوچھا کہ بھئی ! تم کیسے آئے تھے اور واپس کیوں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا حضرت آپ کی بزرگی کی شہرت سن کر آیا تھا ‘ لیکن میں نے اتنے سالوں تک آپ کی کوئی کرامت نہیں دیکھی۔ اب مایوس ہو کر واپس جا رہا ہوں۔ حضرت فرمانے لگے کہ بھئی ! ہمارے پاس ایسی کرامتیں کہاں ‘ البتہ ایک بات بتائو کہ تم نے اتنے سالوں میں ہمارا کوئی کام خلاف سنت بھی دیکھا ؟ اس نے کہا کہ نہیں ! ایسا تو نہیں دیکھا۔ شیخ نے فرمایا یہی سب سے بڑی کرامت ہے۔ اس سے آپ اندازہ کیجئے کہ وہ صاحب سنت کے متلاشی نہیں تھے بلکہ وہ تو خواجہ صاحب کو عقیدت کا مرکز جان کر ‘ انہی کی ذات میں سب کچھ دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ تورات کی عظمت کا اس سے اندازہ کرو کہ وقت کے نبی بھی ‘ اسی سے فیصلہ کرتے تھے اور خود بھی ‘ اسی کے فرمانبردار تھے اور علمائے حقانی اور فقہا اور قضاۃ بھی ‘ اسی تورات سے فیصلے کیا کرتے تھے۔ یعنی بنی اسرائیل کے اکابر اور اسلاف میں ‘ جن لوگوں نے صحیح معنی میں تورات سے فائدہ اٹھایا ‘ وہ چاہے نبی ہوں اور چاہے علما اور ماہرین قانون اور عدالتوں کے ججز ‘ سب کے لیے راہنما کتاب یہی تھی۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس سے یہی ایک کام ہے ‘ جو کبھی لینے کی زحمت نہ کی۔ 1 تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ سلف صالحین تورات سے اس لیے ہمیشہ وابستہ رہے کہ انھیں ہمیشہ اس بات کا احساس رہا اور اسی احساس نے ہمیشہ ان کو بھٹکنے سے روکا بلکہ کتاب اللہ سے جذباتی تعلق ‘ ان کا قائم رکھا۔ کہ وہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے ہیں اور اس پر گواہ ٹھہرائے گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب کی حفاظت ‘ اس کے سوا تو ممکن نہیں ہے کہ وہ جس طرح گھروں میں پڑھی جائے ‘ اسی طرح تعلیمی اداروں میں سکھائی جائے ‘ اسی طرح اس کا دیا ہوا قانون عدالتوں میں عدل و انصاف لینے کا ذریعہ بنے اور ایوان ہائے حکومت میں اسی کی آئینی حیثیت ہو اور پورے معاشرے پر اس کی ایسی گرفت ہو کہ زندگی میں راہنمائی کے لیے کسی اور طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا جائے۔ اسی کا علم ‘ عزت اور ترقی کا زینہ ہو۔ اسی میں مہارت ‘ علمی وجاہت کی آئینہ دار سمجھی جائے۔ دنیا بھر کے علوم سے انتہا درجے کا شغف رہے ‘ لیکن اس کے حسن و قبح کا معیار اور کسوٹی ‘ یہی کتاب ہو۔ اسی طرح اسکی شہادت بھی بجز اسکے ممکن نہیں کہ جس طرح یہ کتاب منبر و محراب سے بولتی ہوئی سنائی دے ‘ اسی طرح ہمارے تمام اجتماعی ادارے اسی کے مطابق وجود میں آئیں اور اسی کے مطابق عمل پیرا ہوں۔ ہمارا نظام مالیات ‘ ہمارا نظام تعلیم ‘ ہمارا نظام عدالت ‘ ہمارے تہذیب و تمدن کے مظاہر ‘ حتیٰ کہ ہمارے ایوان ہائے حکومت اسی کے آئینہ دار ہوں نیز ہمارے علمی مذاکرات اور اسی حوالے سے منعقد ہونے والی ورکشاپس اور سیمینار ‘ اسکی سچائی ‘ علمی بلندی اور عملی گرفت کی منہ بولتی تصویر ہوں۔ ہر چھوٹا بڑا عالم اسی اعتماد سے سرشار ہو اور اس کے اثرات عوام تک میں نظر آئیں کہ جب بھی کبھی کسی حقیقت کا سامنا ہو تو ہر آدمی پورے اعتماد سے یہ بات کہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ ہمارے ان تمام چھوٹے بڑے مسائل کا حل اور ہمارے مشکلات سے نکلنے کا راستہ ‘ اس کتاب الٰہی کے سوا اور کہیں نہیں۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے ‘ جب تک کہ ان دو باتوں کی پابندی نہ کی جائے۔ فَلَاتَخْشَوُ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثمَنًا قَلِیْلاً ط ( تم لوگوں سے مت ڈریو اور صرف مجھی سے ڈریو اور میرے احکام کو دنیا کی متاع حقیر کے عوض مت بیچیو) آیت کا یہ ٹکڑا خطاب کے صیغوں پر مشتمل ہے۔ اس لیے اسکے دو مفہوم ہوسکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب قرآن پاک نازل ہو رہا تھا ‘ اس زمانے میں موجود یہود کو مخاطب کر کے یہ کہا جا رہا ہے کہ ” دیکھو ! تم اللہ سے ڈرو ‘ لوگوں سے مت ڈرو اور میرے احکام کو دنیا کی متاع حقیر کے بدلے میں مت بیچو “۔ یہ مفہوم اگر لیا جائے تو ظاہر ہے ‘ اس میں کوئی قباحت نہیں۔ اس لیے کہ ہر آنے والے رسول کی زندگی میں لوگوں کو آخر حد تک ‘ چاہے وہ بگاڑ کی کسی انتہا تک بھی پہنچے ہوئے ہوں ‘ راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہم اگرچہ مسلسل یہ بات دیکھ رہے ہیں کہ یہود میں ہدایت پانے کی صلاحیت یکسر مفقود معلوم ہوتی ہے اور صدیوں سے ان کا معاملہ نافرمانی اور سرکشی کا آئینہ دار ہے ‘ لیکن اس کے باوجود قرآن کریم انھیں راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ یا پھر دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آنحضرت کے زمانے کے یہود سے خطاب نہیں ‘ بلکہ یہ خطاب انہی لوگوں سے ہے ‘ جن کا تذکرہ اس سے پہلے یہود کے اکابر اور اسلاف کے حوالے سے کیا جا رہا تھا۔ اس میں انبیاء کرام بھی ہیں اور علمائے حقانی بھی اور ان کے فقہاء بھی۔ البتہ ! یہ بات کھٹکتی ہے کہ اس سے پہلے غیب کے صیغوں سے بات کرتے کرتے اچانک خطاب کا اسلوب کیوں اختیار کرلیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ بات کھٹکنے کی نہیں کیونکہ قرآن کریم کا عام اسلوب جابجا اس کی گواہی دیتا ہے۔ اس میں بہت ساری جگہوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ بات غیب میں ہو رہی ہے مگر اچانک حاضر کا اسلوب اختیار کرلیا گیا ہے یا اس کے برعکس اسلوب میں تبدیلی آگئی ہے اور اس کی جابجا آپ کو مثالیں ملیں گی۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اس تبدیلی سے ایک تو کلام میں تنوع پیدا ہوتا ہے اور دوسرا مخاطب یکسانیت سے نکل کر ایک دوسری کیفیت میں پہنچ کر ایک تازگی محسوس کرتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی یہی ہوا ہے کہ یہود کے اکابر اور اسلاف کی بات کہی جا رہی تھی کہ اچانک ان کو مخاطب کر کے یہ دو ہدایات دی گئیں۔ اس طرح ان کو دو ایسی رکاوٹوں سے اور موانع سے آگاہ کردیا گیا جو زندگی کی کٹھن صداقتیں ہیں۔ ہم تاریخ کے آئینہ میں اس کے بہت سارے شواہد دیکھ سکتے ہیں کہ اچھے اچھے لوگ اور قابل ذکر قومیں زندگی کے سفر میں اس لیے ناکام ہوگئیں کہ کبھی انھیں خوف اور خشیت سے واسطہ پڑا تو اس میں استقامت نہ دکھا سکیں اور کبھی انھیں اس دنیائے فانی اور اس کی نعمتوں کا لالچ دیا گیا یا اس کے عہدہ و منصب سے آزمایا گیا تو وہ اس آزمائش میں پوری نہ اتر سکیں۔ ہمارا سقوط بغداد کا حادثہ ‘ ان دونوں تلخ صداقتوں کا گواہ ہے۔ ہماری اپنی قریبی تاریخ جس میں ہم غلامی کی ذلت سے دوچار کیے گئے ‘ اس میں آپ برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ‘ انہی حوادث سے دوچار ہوتا دیکھیں گے۔ واقعہ یہی ہے کہ لوگ کبھی کوڑوں سے آزمائے گئے ہیں اور کبھی اشرفیوں کے توڑوں سے۔ یعنی کبھی مصائب میں ڈال کر اور کبھی زندگی کی آسائشوں میں مبتلا کر کے۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ان دونوں آزمائشوں میں مبتلا ہونے والے لوگ ‘ ساحل مراد تک پہنچ سکے ہوں۔ چناچہ یہود سے بھی یہی کہا گیا کہ تمہیں بار بار ان حوادث سے واسطہ پڑے گا۔ دیکھنا دنیا کی سرفرازیاں اور دنیا طلبی کا جوش تمہیں دین سے غافل نہ کر دے۔ اسی طرح مصائب کا ہجوم تمہیں اپنے اللہ اور آخرت سے مایوس نہ کر دے۔ تمہیں ہرحال میں اللہ کے احکام کی پابندی کرنی ہے۔ وقتی حوادث ضرور آئیں گے ‘ لیکن اللہ اور اس کے دین سے وفاداری ‘ یہ وہ چیز ہے جو تمہاری قومی زندگی ‘ دنیوی اور اخروی کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہ باتیں صرف یہود سے ہی نہیں کہی جا رہی ہیں ‘ بلکہ اصلاً قرآن کریم میں ان کے نزول کا باعث ان کے تاریخ کے آئینہ کو ہمارے سامنے رکھ کر ‘ ہمیں سمجھانا مقصود ہے کہ دیکھنا قیامت تک تمہیں اس منصب پر فائز کیا جا رہا ہے ‘ جس پر کبھی یہود فائز رہ چکے ہیں۔ انہی دونوں راستوں سے انھوں نے ٹھوکریں کھائی تھیں۔ تم ان دونوں راستوں پر ثابت قدم رہنا۔ تمہیں ہر سطح پر ڈرایا ‘ دھمکایا بھی جائے گا اور تمہیں یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی جائے گی کہ اگر تم نے اپنے دین سے تعلق نہ توڑا تو تم قصہ ماضی بن کر رہ جاؤ گے۔ اسی طرح تمہیں سبز باغ بھی دکھائے جائیں گے اور بڑی بڑی پیشکشیں بھی ہوں گی۔ تمہاری قسمت بدلنے کے دعوے ہوں گے۔ لیکن یہ بات کبھی نہ بھولنا کہ پورا کفر اسلام کے مقابلے میں ‘ ایک ملت ہے۔ وہ آپس میں چاہے ہزار اختلاف رکھتے ہوں ‘ لیکن اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں سب متفق اور متحد ہیں۔ اس لیے ان کی پیشکشیں ‘ تمہاری خیر و فلاح کا باعث کبھی نہیں ہوسکتیں۔ ان کی طرف سے چھلکتے ہوئے جام دیکھ کر خوش فہمی میں مبتلا نہ ہونا بلکہ اس ساقی کو پہچاننے کی کوشش کرنا کیونکہ ہماری پوری تاریخ میں ان کی طرف سے کبھی ہمیں بھلائی کی ادنیٰ رمق بھی نصیب نہ ہوسکی۔ جہاں تک ان کے ڈرانے دھمکانے کا تعلق ہے ‘ یقیناً وقت ان کے ساتھ ہے۔ وہ اپنے ساتھ ایک بڑی قوت کا سامان بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اس سے بھی بڑی ایک حقیقت اور ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ومالک بھی ہے۔ اگر کمزور قومیں ‘ اس کے سہارے اٹھنے کا فیصلہ کرلیں تو اس کے راستے پر چلنے والے مصائب کا شکار تو ہوسکتے ہیں ‘ وقتی حوادث سے بھی دوچار ہوسکتے ہیں ‘ لیکن آخرکار اگر اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں استقامت کا ثبوت دے دیا جائے تو غلبہ ہمیشہ حق کا ہوتا ہے اور بڑی سے بڑی جابر و قاہر قوتیں بھی فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہیں۔ یہی ایمان و یقین ایک مسلمان کی حقیقی پہچان ہے۔ محمد علی جوہر مرحوم نے ٹھیک کہا تھا : توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے جو شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ‘ وہ کافر ہیں وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔ (جو بھی اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ تو کافر ہیں ) یعنی یہود پر ایک ایک بات واضح کردینے کے بعد ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تمہاری زندگی کا اصل مقصد اور تمہاری اجتماعی توانائیوں کا اصل ہدف اللہ کی شریعت کا نفاذ اور پوری زندگی میں اس کے دین کی بالا دستی ہے اور مختلف حوالوں سے اس کی ایک ایک بات کو تمہارے سامنے واضح کیا جا رہا ہے۔ اگر تم پھر بھی اللہ کی کتاب کے نفاذ کا حق ادا کرنے سے پہلو تہی کر رہے ہو بلکہ خیانت تک کا ارتکاب کرنے سے باز نہیں آتے ہو تو پھر سن لو کہ جو بھی اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اور اس کو حاکمانہ حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے ‘ اللہ کی نگاہ میں یہی لوگ تو کافر ہیں۔ ” کفر “ کا معنی ہے ” اللہ اور اس کی شریعت کو ماننے سے انکار کردینا “۔ یہ لوگ اگرچہ اس کو ماننے سے منکر نہیں تھے ‘ لیکن ان کا عملی رویہ انکار ہی کی تائید کرتا تھا کیونکہ انھوں نے اپنی عملی زندگی سے اللہ کی کتاب کو خارج کردیا تھا۔ زبان سے اقرار اور عمل سے انکار ‘ بلکہ خود کتاب خداوندی میں ترمیم ‘ تحریف اور اجتماعی اداروں میں اس کے نفوذ سے یکسر انکار۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑا کفر اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی بہت بڑی عقل کی ضرورت نہیں ہے کہ قرآن کریم جو بات یہود کے بارے میں کہہ رہا ہے اور جس رویے کے نتیجے میں کہہ رہا ہے ‘ وہی رویہ آج اگر مسلمانوں کا ہوگا اور وہ اپنی اجتماعی زندگی میں اگر اسی سرکشی اور تمرد کو اپنائیں گے تو انھیں بھی اسی سلوک کا مستحق سمجھا جائے گا۔ اللہ کے یہاں نسبتوں کا اعتبار نہیں بلکہ ایمان و عمل کا سکہ چلتا ہے۔ جو بات اہل کتاب کے لیے کفر کا باعث بنی ہے۔ یقیناً وہی بات اس امت کے لیے بھی کفر کا باعث بنے گی۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر فرض کیا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے تو جس نے اس کو معاف کردیا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں گے تو وہی لوگ ہیں ‘ جو ظالم ہیں

وَ کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ فِیْھَآ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ لا وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ لا وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہُ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمْ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (المائدہ : 45) ” اور ہم نے ان پر فرض کیا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور اسی طرح دوسرے زخموں کا بھی قصاص ہے تو جس نے اس کو معاف کردیا تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کریں گے تو وہی لوگ ہیں ‘ جو ظالم ہیں “۔ نفاذ شریعت میں سے سب سے مشکل مرحلہ سزائوں کا نفاذ ہوتا ہے گزشتہ آیات میں ہم نے یہود کی کج رویوں کی جو پوری داستان پڑھی ہے ‘ اس میں ایک بات بڑی نمایاں ہے اور وہ یہ کہ یہود کتاب اللہ کے احکام کے نفاذ کے سلسلے میں جس طرح ناکام ہوئے ہیں ‘ اس کا ایک بڑا سبب حدود اللہ کے نفاذ میں ان کی بدنیتی رہی ہے۔ یہ وہ میدان ہے ‘ جس میں ان کے قدم بار بار پھسلے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عبادت کرلینا اور دیگر معاملات میں تھوڑی بہت اطاعت کرنا ‘ اگرچہ یہ بھی آسان نہیں ‘ لیکن یہ وہ کٹھن مرحلہ نہیں ہے جس سے امتیں مجموعی طور پر پھسل جاتی ہیں۔ البتہ ! جب اللہ کے قانون کو اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کا موقع آتا ہے اور اس میں خصوصاً جب سزائوں کے نفاذ کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے اور وہ بھی اس وقت جبکہ اس امت کے صاحب اقتدار اور خوشحال لوگ جرائم کا ارتکاب کرنے لگیں تو پھر عموماً حدود کے نفاذ میں امتیں کمزوری کا شکار ہوجاتی ہیں۔ شروع شروع میں بڑے لوگوں کو سزائوں سے بچانے کی کوشش ہوتی ہے جو بالآخر عوام کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے تحریف اور عام نافرمانی کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس لیے اس باب کو الٹتے ہوئے قرآن کریم نے تورات میں سزائوں کا ذکر اس حوالے سے کیا ہے کہ یہ سزائیں صرف قرآن پاک میں امت مسلمہ کے لیے ذکر نہیں کی جا رہیں ‘ بلکہ اہل تورات کو بھی ہم نے ان کا پابند ٹھہرایا تھا۔ لیکن انھوں نے جس طرح بہ لطائف الحیل شروع شروع میں اس سے بچ نکلنے کی کوششیں کیں اور پھر آخر کار کھلی نافرمانی تک جا پہنچے ‘ اس کی طرف یہاں واضح اشارہ کیا گیا ہے اور اس امت کو وارننگ دی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے بھی یہی مرحلہ ایک نازک مرحلہ ہوگا۔ دیکھنا ! اس میں تمہارے قدم پھسلنے نہ پائیں۔ باہمی اختلافات کے نتیجے میں انسانی جان لینے کی کوشش کرنا ‘ یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ‘ جو کبھی کبھی پیش آتا ہو۔ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں میں سب سے پہلے یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کو انسان کی بنیادی کمزوری جان کر ‘ جہاں قانون کی گرفت سے اس کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے ‘ وہیں ایک خاص تصور سے بھی اس میں کمی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ یہ کہ مقتول کے وارثوں کو یا زخم کا شکار ہونے والوں کو یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ تم اگر قاتل یا ظلم کرنے والوں کو معاف کردو تو اللہ کے یہاں تمہاری زندگی کے بہت سارے اور گناہ بخش دیئے جائیں گے اور یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ قاتل کی زندگی اس کو بخش دی جائے گی۔ اس لیے کہ اس نے اصل جرم مقتول اور اس کے وارثوں کے ساتھ کیا ہے ‘ جب وہ معاف کردیں گے تو قانون تو معاف کرے گا ہی ممکن ہے اللہ کے یہاں بھی اس کو معافی مل جائے۔ اس جملہ معترضہ کے بعد پھر یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے یہود کو یہ قانون دیتے ہوئے تاکیداً یہ بات کہی تھی کہ جو لوگ بھی اللہ کے اس نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے ‘ یہی لوگ تو ظالم ہیں۔ یہاں ظلم ایک تو عدل کے مقابل میں استعمال ہوا ‘ یعنی یہ لوگ اگر اس نظام عدل کو برپا نہیں کریں گے تو نتیجے میں معاشرہ ظلم کا شکار ہوجائے گا اور پھر اس ظلم سے نہ خواص بچتے ہیں اور نہ عوام محفوظ رہتے ہیں ‘ اس لیے جو معاشرہ آپ اپنا دشمن نہیں ہے ‘ اسے نظام عدل کے راستے میں رکاوٹ کھڑی نہیں کرنی چاہیے۔ دوسرا مفہوم ظلم کا حق تلفی اور حق شکنی ہے۔ جو لوگ اللہ کے قانون کو نافذ نہیں کرتے ‘ وہ اللہ کے سب سے بڑے حق کو تلف کرتے ہیں۔ کیونکہ حاکمیت صرف اسی کو زیب دیتی ہے اور یہ فقط اسی کا حق ہے۔ سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری قرآن کریم میں اللہ کی اس حق تلفی کو شرک کا نام دیا گیا ہے اور اس کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ شرک وہ جرم ہے ‘ جسے پروردگار کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ ایک بالکل پیش پا افتادہ حقیقت ہے کہ اللہ کی اس کائنات اور بطور خاص اس زمین پر ‘ جہاں انسان کو آزادی بخشی گئی ہے اور بیشمار نعمتوں سے اسے نوازا گیا ہے ‘ وہ اگر اللہ کے احکام کو نافذ نہیں کرتا تو دوسرے لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین پر اور اپنے اوپر اللہ کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ مطلق العنان حکمرانی صرف اللہ کا حق ہے اور اسی کو زیب دیتی ہے۔ اس لیے اس حق کا تلف کرنا ‘ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہوسکتا اور یقیناً اسے ناقابل معافی ہونا چاہیے۔ چناچہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد مزید اسکی تائید کے لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی دعوت کو پیش کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو کہ جب بھی کبھی کوئی رسول آیا ہے ‘ اسکے پیش نظر یہی بنیادی کام رہا ہے کہ وہ اللہ کی زمین ‘ پر اللہ کی شریعت کو نافذ کرے۔ چناچہ ارشاد فرمایا :
Ayahs 5:46–47

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے ‘ انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔ مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اسکو عطا کی انجیل ہدایت اور روشنی پر مشتمل ‘ مصداق اپنے سے پیشتر موجود تورات کی اور ہدایت و نصیحت خدا ترسوں کے لیے

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور واجب ہے کہ اہل انجیل بھی فیصلہ کریں اس کے مطابق ‘ جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں

وَقَفَّیْنَا عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ التَّوْرَۃِ ص وَاٰتَیْنٰہُ الاِْنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرٌ لا وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہٖ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ وَلْیَحْکُمْ اَھْلُ الاِْنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فِیْہِط وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہ ُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 46۔ 47) ” اور ہم نے ان کے پیچھے ‘ انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔ مصداق پیشتر سے موجود تورات کے اور ہم نے اس کو عطا کی انجیل ہدایت اور روشنی پر مشتمل ‘ مصداق اپنے سے پیشتر موجود تورات کی اور ہدایت و نصیحت خدا ترسوں کے لیے اور واجب ہے کہ اہل انجیل بھی فیصلہ کریں اس کے مطابق ‘ جو اللہ نے اس میں اتارا اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ فاسق ہیں “۔ تورات اور انجیل بھی ہدایت اور نور تھیں وَقَفَّیْنَا عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَکہ ہم نے ان کے پیچھے ‘ انہی کے نقش قدم پر عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا۔ یعنی جو مقصد حیات لے کر اور جو دعوت لے کر ‘ اس سے پہلے انبیاء اور رسل آچکے تھے ‘ بالکل انہی کے نقش قدم پر ‘ اسی کام کے کرنے اور اسی ذمہ داری کو سرانجام دینے کے لیے حضرت عیسیٰ کو بھی بھیجا گیا۔ ” اٰثار “ کا معنی ہوتا ہے ‘ نقوش قدم۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انہی رسولوں کے قدم بہ قدم چلتے ہوئے ‘ اسی فریضہ کی انجام دہی کے لیے تشریف لائے ‘ جس فریضہ کو اس سے پہلے رسول انجام دیتے رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء و رسل میں ان کی شخصیت ‘ ان کے مزاج ‘ ان کے کردار ‘ ان کی دعوت اور ان کے مقاصد دعوت میں کوئی جوہری فرق نہیں ہوتا۔ وقت کی ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے طریقِ دعوت اور اسلوبِ دعوت میں فرق ہوسکتا ہے ‘ لیکن دعوت اور مقاصد دعوت میں کسی فرق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس طرح ایک شجرہ طیبہ کے برگ و بار ‘ باہم نہایت تشابہہ اور یکسانیت رکھتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آم کے درخت کو ایک طرف آم لگیں تو دوسری طرف انگور لگنا شروع ہوجائیں۔ اسی طرح ‘ اللہ کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء جیسا کہ عرض کیا گیا ہے ‘ ایک دوسرے سے مشابہہ اور یکساں دعوت کے حامل ہوتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا : مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہٖ مِنَ التَّوْرٰۃِ ( پیشتر سے موجود تورات کے وہ مصدق بن کے آئے۔ ) یعنی انھوں نے تورات کی محفوظ شریعت کی تصدیق و تائید کی ‘ بلکہ اپنی امت کو اللہ کی طرف سے اسی شریعت کا پابند ٹھہرایا کیونکہ اللہ نے ان پر جو انجیل نازل فرمائی ‘ اس میں شرعی احکام نہیں تھے بلکہ احکام کی حکمت بیان کی گئی تھی۔ کیونکہ یہود اپنے پاس کسی نہ کسی حد تک شریعت تو رکھتے تھے ‘ لیکن حکمت شریعت سے محروم ہوچکے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اسی شریعت کو باقی رکھتے ہوئے ‘ حکمت شریعت کو عام کرنے کی کوشش فرمائی۔ اور اسی لیے فرمایا : وَاٰتَیْنٰہُ الاِْنْجِیْلَ فِیْہِ ھُدًی وَّ نُوْرُٗلا وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہٖ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْن۔ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی ‘ جس میں ہدایت اور نور تھا اور وہ بھی تورات کی تصدیق کرنے والی تھی۔ یعنی جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کی تصدیق کر رہے تھے ‘ اسی طرح انجیل بھی تورات کی تصدیق کر رہی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اپنی دعوت سے الگ کسی حیثیت کا مالک نہیں ہوتا۔ کتاب اور پیغمبر ‘ دونوں مل کر انسانوں کی اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ پیغمبر کی زبان سے کتاب بولتی ہے اور پیغمبر کا عمل کتاب کی شرح ہوتا ہے۔ اسی طرح کتاب ‘ ہوبہو پیغمبر کی سیرت کا عکس ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ پیغمبر اور کتاب دونوں ایک ہی مقصد کو بروئے کار لانے کا ذریعہ ہیں اور دونوں کے سامنے ایک ہی مقصد ہوتا ہے ‘ وہ ہے اللہ کی زمین اور انسانوں پر اللہ کی شریعت کو نافذ کرنا اور انسانوں سے اس کی حاکمیت کا اعتراف کروانے کے بعد ان کی اصلاح کے عمل کو مکمل کرنا۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل ‘ دونوں مل کر اس کام کی تکمیل کر رہے تھے۔ مزید فرمایا کہ جیسے تورات میں اللہ نے افکار اور اعمال کی رہنمائی کے لیے ہدایت اور نور رکھا ہے اسی طرح انجیل کو بھی انہی دونوں صفات سے مرصع کیا گیا تھا۔ ہم نے یہاں ” مصدق “ کا معنی ‘ بار بار تصدیق کرنے والا کیا ہے۔ لیکن اس کا ایک دوسرا معنی ‘ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے ‘ وہ ہے مصداق۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر نازل ہونے والی کتاب ‘ تورات کا مصداق تھی۔ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب کی جو جو علامتیں اور نشانیاں بیان کی گئی تھیں ‘ حضرت عیسیٰ اور انجیل بالکل ویسے ہی تھے۔ یعنی تورات میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی خرق عادت ولادت اور خلاف معمول آپ کا بچپن میں باتیں کرنا اور پھر بچپن ہی میں نبوت کا اعلان کرنا ‘ یہ من جملہ نشانیوں میں سے چند نشانیاں ہیں ‘ جس کی خبر تورات نے دی تھی اور عیسیٰ u‘ ان تمام علامتوں کا مصداق تھے۔ یہ صرف اس لیے تھا کہ یہود آپ کو دیکھ کر پہچان لیں کہ ان کی کتاب میں جس آنے والے کی خبر دی گئی ہے ‘ وہ آپ ہی ہیں تاکہ جو ہدایت اور موعظہ اپنے ساتھ وہ لے کر آئے ہیں ‘ اس سے وہ فائدہ اٹھائیں اور فائدہ وہ اسی صورت میں اٹھا سکتے ہیں کہ اللہ کا تقویٰ ان کے دلوں میں ہو ورنہ جو دل اللہ سے بےنیاز ہوگا ‘ وہ کبھی بھی پیغمبر کی دعوت کو قبول نہیں کرتا۔ اس لیے فرمایا : وَھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ (یہ انجیل ہدایت اور نصیحت ہے ‘ متقین کے لیے۔ ) اس مکمل تعارف کے بعد اہل انجیل کو وہی پیغام اور وہی حکم دیا جا رہا ہے ‘ جو اہل تورات کو دیا گیا تھا کہ ان پر واجب ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کریں اور اس انجیل کو حاکمانہ حیثیت دے کر زندگی کے تمام مسائل میں اور زندگی کی ہر سطح پر ‘ اس طرح اس کی راہنمائی قبول کریں کہ وہی ان کے لیے سب سے بڑا علم بھی ہو اور وہی اجتماعی معاملات میں قانون کی حیثیت بھی رکھتی ہو اور وہی ان کے لیے آداب زندگی کا درس بھی دیتی ہو۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ سمجھا جائے گا کہ انھوں نے واقعی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کیا اور انجیل کا حق ادا کیا ہے۔ لیکن اگر انھوں نے اس کتاب کے مطابق اور تورات کی شریعت کے مطابق ‘ فیصلے نہ کیے اور زندگی میں اس کی آئینی حیثیت اور اس کی بہ ہمہ وجوہ راہنمائی کو قبول نہ کیا تو پھر یہی لوگ تو فاسق ہیں کیونکہ ان پر تورات کی شریعت کا اختیار کرنا لازم ہے اور اس کے بارے میں فرمایا جا چکا ہے کہ جو لوگ اس شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے ‘ وہ کافر بھی ہیں اور ظالم بھی اب چونکہ اسی شریعت کی یاد دہانی کے لیے اللہ کے عظیم رسول حضرت عیسیٰ ابن مریم اور ان پر نازل ہونے والی کتاب انجیل آچکے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے فریضہ کی ادائیگی میں زیادہ ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس لیے اب اگر انھوں نے اس میں تساہل برتا یا انحراف کا راستہ اختیار کیا تو یہ کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کنویں میں گرنے والی بات ہوگی۔ اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اب بھی اگر یہ اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے تو یہ فاسق ہوں گے۔ فاسق کون ہوتا ہے ؟ ” فاسق “ کا لفظ فقہی اصطلاح کے معنوں میں استعمال نہیں ہو رہا بلکہ یہ قرآن کریم کی اپنی اصطلاح ہے ‘ جس کا معنی ہے ‘ حد سے گزر جانے والا اور اللہ کی شریعت کا باغی و نافرمان کیونکہ عربی لغت میں فسق اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ عرب ایک محاوہ بولتے ہیں ” فسقت الرطبۃ عن القشرۃ “ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تازہ کھجور کو انگوٹھے کے پور پر رکھ کر انگلی سے دبائیں تو اس کی گٹھلی پھدک کر باہر نکل جاتی ہے۔ یہ پھدکنے اور اچھلنے کو ‘ یہاں فسق سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے ” فاسق “ وہ ہوگا ‘ جو تمام حدود کو پھلانگ جائے اور شریعت کے کسی حکم کی اس کو پرواہ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہود جن کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے ‘ اگر وہ تورات رکھتے ہوئے اس کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو یقیناً وہ کافر اور ظالم ہیں اور اس کے بعد عیسائی اپنے پاس تورات اور انجیل رکھتے ہوئے اگر شریعت کی پرواہ نہیں کرتے تو وہ دوہرے اور انتہائی مجرم ہیں۔ اس لیے ان کو یہاں فاسق سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک اور بات کو سوچتے ہوئے دل کانپنے لگتا ہے کہ اگر تورات اور انجیل کے نزول کے بعد اللہ کی شریعت کے عدم نفاذ سے کفر ‘ ظلم اور فسق لازم آتے ہیں تو قرآن کریم جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور سرکار دو عالم۔ ‘ جو اللہ کے آخری رسول ہیں ‘ ان کے تشریف لے آنے کے بعد اور قرآن کریم کے نزول کے بعد ‘ اگر یہی رویہ مسلمان ان کے ساتھ اختیار کریں تو پھر ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ‘ جو ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اگلی آیتیں پڑھنے سے پہلے اس کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر کلام الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش نہیں بلکہ سیاق وسباق اس پر واضح طور پر دلالت کر رہا ہے کہ ان آیات سے مسلمانوں کو الرٹ کیا جا رہا ہے ‘ تاکہ وہ پوری طرح بیدار ہوجائیں اور اپنے دل و دماغ میں اس بات کو مستحضر کرلیں کہ ہمیں پہلی امتوں کی داستان ‘ ان کی گمراہیوں اور ان کے انجام سے اسی لیے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ہم اس راستے پر چلنے سے احتراز کریں۔ جس راستے پر چل کر وہ گمراہ بھی ہوئے اور معذب بھی ٹھہرے۔ اسی لیے جب حضرت حذیفہ ( رض) سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں نازل ہوئی ہیں اور وہ انہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ یعنی اللہ کی کتابوں کے مطابق انھوں نے اگر فیصلہ نہیں کیا تو وہ اسکی وجہ سے کافر ‘ ظالم اور فاسق ٹھہرے تو یہ تہدید صرف ان کے لیے ہے ‘ مسلمانوں کے لیے نہیں۔ اس پر حضرت حذیفہ ( رض) نے فرمایا : نعم الاخوۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّۃ ولکم کل حلوۃ کلاّ واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک (کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے۔ ہرگز نہیں ‘ اللہ کی قسم ! تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے۔ ) یعنی تم اگر وہی رویہ اختیار کرو گے تو تمہارا انجام بھی اہل کتاب سے مختلف نہ ہوگا۔ اس لیے آنے والی آیات کو پڑھنے سے پہلے مسلمانوں کو اپنے دل و دماغ میں ان تصورات کو پوری طرح مستحضر کرلینا چاہیے ‘ تاکہ وہ ان آیات سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکیں۔