5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:4

یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ۙ وَ مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللّٰهُ١٘ فَكُلُوْا مِمَّاۤ اَمْسَكْنَ عَلَیْكُمْ وَ اذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 5:4 in the Quran reader

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں ؟ کہہ دیجئے کہ تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں اور جو ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو جس طرح سے اللہ نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے ‘ (اس طریقے سے) تم نے ان کو سکھایا ہو۔ تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو (اور شکاری جانور چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَھُمْ ط قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ لا وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللہ ُ ز فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللہِ عَلَیْہِ ص وَاتَّقُوا اللہ َ ط اِنَّ اللہ َ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (المائدہ : 4) ” تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں ؟ کہہ دیجئے کہ تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال ہیں اور ان سدھے ہوئے شکاری جانوروں کا شکار جو شکار پر چھوڑے جاتے ہیں۔ تم ان کو اس طریقہ پر سکھاتے ہو جو تمہیں اللہ نے سکھایا ہے۔ تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو کھالیا کرو (اور شکاری جانور چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے “۔ اسلام میں شکار کا طریقہ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب دیا گیا ہے۔ سوال اختصار سے اور جواب وضاحت کے ساتھ ہے۔ یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ وہ عموماً سوال ذکر ہی نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو نہایت اختصار سے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ صحابہ ( رض) اس قدر مزاج شناس قرآن اور مزاج شناس رسول ﷺ ہوچکے تھے کہ انھیں قرآن اور آنحضرت ﷺ کی بات سمجھنے میں بہت کم دشواری پیش آتی تھی۔ اس لیے پورے قرآن پاک میں صحابہ کی طرف سے جو سوال ہوئے ہیں ‘ وہ کل نو ہیں۔ تیئس سالوں کے عرصے میں مجموعی طور پر جو سوالات ہوئے ہیں ‘ ان کی تعداد غالباً سترہ ہے۔ جس طرح آدمی کسی چیز کا مزاج آشنا ہوجاتا ہے اور وہ چیز اسے فوراً سمجھ میں آجاتی ہے ‘ بالکل اسی طرح صحابہ رـضوان اللہ اجمعین مزاج شناس رسول ﷺ بھی تھے اور مزاج شناس قرآن بھی۔ لیکن جب کہیں بات الجھتی تھی چونکہ معاملہ آخرت کا تھا ‘ اس لیے پوچھ بھی لیتے تھے۔ یہاں یہ بات الجھی کہ یہ جو کہا گیا کہ جس کو درندہ کھالے اور وہ مرجائے تو حلال نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ زندہ تمہارے قابو میں آجائے تو پھر تم ذبح کر کے اسے پاک کرسکتے ہو۔ اس سے سوال پیدا ہوا کہ اگر درندے کے زخمی کرنے سے وہ جانور مرجائے تو وہ حرام ہے تو کیا درندے کے ذریعے شکار کرنا بھی جائز ہے یا نہیں ؟ اس لیے کہ عربوں کی زندگی کے گذربسر کا دارومدار تین باتوں پر تھا۔ ایک تجارت ‘ دوسرا گلہ بانی اور تیسرا شکار۔ ان کا شکار ہمارے ہاں کے جاگیردار اور زمیندار کا سا نہیں تھا ‘ جنھیں کچھ اور نہیں سوجھتا تو شکار کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ عربوں کا تو یہ حال تھا کہ ان کی تو غذائی ضرورت ہی ایک حد تک شکار سے پوری ہوتی تھی۔ عدی بن حاتم طائی جب مسلمان ہوئے تو وہ بڑے شکاری تھے اور نجد کے علاقے میں شکار ہوتا بھی زیادہ تھا ‘ اس لیے ان کی گزر بسر کا بہت بڑا ذریعہ شکار تھا انھوں نے یہ سوال کیا کہ حضور ! میں کتے کے ذریعے شکار کرتا ہوں اور کتا ایک درندہ ہے۔ جب وہ شکار پکڑے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ زندہ ہی میرے پاس لے آئے۔ جو جانور اس نے پکڑا ہے اگرچہ اپنی ذات میں وہ حلال ہے ‘ مگر اس کے پکڑنے سے اگر وہ مرگیا تو وہ اس آیت کے حوالے سے تو حرام ہوجائے گا ؟ سوال تو صرف اتنا ہی تھا ‘ لیکن قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ اس سے ایک بوند مانگی جاتی ہے تو وہ بارش برسا دیتا ہے۔ سوال تو یہ تھا کہ کتے کے ذریعے کیے جانے والے شکار کے بارے میں وضاحت ہوجائے۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے شکار کے حوالے سے ساری اصولی باتیں بیان فرما دیں بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ ساتھ یہ بھی جان لو کہ حلال اور حرام کی بنیاد کیا ہے ؟ کچھ لوگ تو وہ ہیں جنھیں مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ‘ انھیں تو جانے دیجئے۔ لیکن کچھ لوگ وہ ہیں جو مذہب کے بہت مخلص پیروکار ہیں لیکن ان کے گہرے تقشف کے باعث ان میں ایک خاص مزاج پروان (Develop) چڑھتا ہے ‘ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ جب تک ان کو بتا نہ دیا جائے کہ شریعت نے اس چیز کو حلال کیا ہے ‘ وہ اس وقت تک وہم کا شکار رہتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ حلال ہے یا حرام۔ یعنی ان کی فکری بنیاد دراصل انھیں یہود سے ملی ہے ‘ جنھوں نے اپنی شریعت میں بہت پابندیاں لگا لی تھیں۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہر چیز حرام ہے ‘ بجز اس کے جسے شریعت نے حلال قرار دے دیا یعنی جب تک کسی چیز کے حلال ہونے کی سند ہمارے پاس نہیں ہے ‘ وہ چیز حرام ہے۔ قرآن کریم نے اس صورت حال کو بالکل بدل ڈالا اور یہی وجہ ہے کہ قیامت تک یہ دین چل سکتا ہے۔ فرمایا : لوگو ! تمہارے لیے ہر چیز حلال ہے ‘ سوائے اس کے جسے اللہ نے حرام کردیا۔ تم ڈھونڈتے ہو حلال کیا ہے حالانکہ تمہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ حرام کیا ہے۔ البتہ ! حلت کی چند شرطیں ہیں۔ اللہ نے چونکہ تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لیے حلال کردی ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے یہ دیکھو کہ وہ چیز طیب اور پاکیزہ ہے یا نہیں ‘ اگر وہ چیز طیب اور پاکیزہ ہے تو سمجھ لو کہ وہ حلال ہے اور اس میں یہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے کہ قرآن اور حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے یا نہیں ‘ صرف اسے طیب ہونا چاہیے۔ جتنی چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ‘ وہ ساری طیب ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ جانور ایسا نہیں ہونا چاہیے جس جانور کی شکل پر لوگوں کی شکلیں تبدیل یعنی بگاڑ دی گئیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب قوموں پر عذاب آیا تو بعض قوموں کے چہرے بگاڑ کے بعض جانوروں کی شکلوں جیسے بنا دیئے گئے ‘ یہ جانور مستقلاً حرام ہیں۔ مثلاً یہود کے ایک گروہ پر عذاب آیا وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ (انھیں اللہ نے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دیا) اس لیے سور اور بندر سارے حرام ہیں۔ دوسرا یہ کہ وہ جانور جو خود شکار کرتے ہیں اور گوشت کھاتے ہیں یعنی تمام کچلیوں والے جانور ‘ جنھیں ہم درندہ کہتے ہیں ‘ حرام ہیں۔ اس طرح وہ سارے جانور جو پنجے رکھتے ہیں اور پنجوں کے ذریعے شکار پکڑتے ہیں ‘ جیسے باز ‘ عقاب اور شکرا وغیرہ سب حرام ہیں۔ اسی طرح تمام مردار خور جانور حرام ہیں کیونکہ ان کی فطرت میں پاکیزگی کہاں رہ سکتی ہے ؟ اس طرح وہ عام جانور جو زمین کھود کھود کر گندگی کھاتے ہیں ‘ حرام ہیں اور ہر وہ جانور جسے انسان کی فطرت سلیمہ قبول کرنے سے انکار کر دے ‘ حرام ہے۔ ایسی فطرت جو شریعتِ الٰہی کے مطابق عمل کرنے کی وجہ سے خاص قالب میں ڈھل جاتی ہے ‘ اس کا ایک مزاج بن جاتا ہے ‘ آپ اس کے سامنے کوئی ایسی چیز لائیں گے جو حرام کے قریب ہے تو وہ اس سے گھن کھائے گا ‘ اس کو وہ کبھی قبول نہیں کرے گا۔ یہ اس طبیعت کی بات نہیں ہے جو شراب پی پی کر اپنا سب کچھ بگاڑ چکی ہے ‘ اسے تو چائے بری لگے گی شراب اچھی لگے گی۔ بات فطرتِ سلیمہ کی ہورہی ہے اور فطرتِ سلیمہ کی نمائندہ شخصیات چونکہ دنیا میں اللہ کے نبی ہوتے ہیں ‘ وہ چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے جس چیز سے انھوں نے طبعاً اپنے آپ کو کھانے سے روکا ہے ‘ انسان کو اس سے رک جانا چاہیے ‘ اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکیزہ نہیں ہے ‘ اس میں کوئی نہ کوئی گندگی ہے اور آخری بات یہ کہ جو جانور پاکیزہ ہو لیکن اس میں غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی وجہ سے یا کسی استھان پر ذبح کرنے کی وجہ سے گندگی آئی ہو ‘ اس میں معنوی گندگی ہے۔ یہ بھی طیبات میں شامل نہیں ہے، تو جو چیزیں طیبات میں شامل نہیں ہیں ‘ وہ ساری حرام ہیں۔ باقی ہر طیب و طاہر چیز حلال ہے۔ کسی جانور یا پرندے کا پکڑا شکار حلال ہے وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ سے اصل سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ یہاں ” جَوَارِحْ “ کا لفظ آیا جو ” جَارِحْ “ کی جمع ہے ‘ درندے کو کہتے ہیں۔ صرف کتا ہی درندہ نہیں ہے ‘ آپ چاہیں تو چیتا ‘ ریچھ ‘ باز ‘ عقاب وغیرہ سے شکار کریں۔ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ تم نے اسے سدھایا ہو۔ سدھے ہوئے جانور کی اور ناسدھے جانور کی پہچان درندوں میں سے یہ ہے کہ جب تم اسے جانور پکڑنے کے لیے چھوڑو مثلاً خرگوش پر چھوڑتے ہو تو وہ اسے پکڑ کر اپنے مالک کے پاس لائے ‘ خود اس میں سے بالکل نہ کھائے۔ اگر اس میں سے خود کھاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سدھایا ہوا نہیں ہے ‘ ابھی اس کی تربیت (Training) مکمل نہیں ہوئی ہے۔ حضرت عدی بن حاتم کے سوال کے جواب میں حضور اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ تم اگر اپنا جانور چھوڑو اور وہ جانور اس میں سے خود کھالے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی اس کی تربیت (Training) میں کمی ہے ‘ تم اسکو مت کھانا ‘ وہ تمہارے لیے حرام ہے۔ اگر وہ شکار کو محفوظ حالت میں تمہارے پاس پکڑ کرلے آئے تو پھر ٹھیک ہے۔ پرندوں کے لیے فرمایا کہ جب تم پرندے کو کسی پرندے کو پکڑنے کے لیے چھوڑو اور وہ ابھی اڑا ہی ہو اور اتنی دور گیا ہو کہ تمہاری آواز سن سکتا ہو ‘ تم اسے کہو واپس آجا۔ اگر وہ تمہارے کہنے پر واپس آجاتا ہے تو اس کا پکڑا ہوا جانور حلال ہے ‘ اگرچہ وہ مرجائے اور اگر وہ واپس نہیں آتا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سدھایا ہوا جانور نہیں ہے ‘ اب اگر وہ پکڑ کرلے بھی آئے تو تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے چار پانچ باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ مُکَلِّبِیْنَ کا اصل مفہوم پہلی بات یہ کہ سدھائے ہوئے جانور کا شکار حلال ہے ‘ غیر سدھائے ہوئے کا نہیں۔ دوسری بات یہ کہ تم اس کو شکار پر خود چھوڑو ‘ اگر وہ شکار کو دیکھ کر خود ہی دوڑ پڑے اور شکار مار لائے تو وہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ بات ہم نے لفظ ” مُکَلِّبِیْنَ “ سے لی ہے۔ عام طور پر لوگ اس کا ترجمہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا مفہوم سمجھ لیں کیونکہ اس کا ترجمہ اردو زبان کی گرفت میں آتا بھی نہیں ہے۔ مُکَلِّبِیْنَ ” تکلیب “ سے ہے ‘ جس کا لفظی معنی ” کتے کو تربیت (Training) دینا ہے “ پھر اس کا استعمال شکاری جانوروں کی تربیت کے لیے عام ہوگیا خواہ کتا ہو یا شکاری درندوں اور پرندوں میں سے کوئی اور جانور۔ اس سے فقہاء نے یہ سمجھا کہ اگر کوئی اپنے سدھائے ہوئے جانور کو خود چھوڑے گا تو اس کا پکڑا ہوا جانور حلال ہوگا ‘ ورنہ نہیں ہوگا۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ اگر وہ زخمی کر کے لے آئے مگر جانور زندہ ہو اب تم اسے ” بسم اللہ “ پڑھ کر خود ذبح کرو گے تو وہ حلال ہوگا ‘ ورنہ نہیں ہوگا۔ ایک اور بات جسے امام ابوحنیفہ ( رح) ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شکاری درندے کا پکڑا ہوا جانور زخمی بھی ہو ‘ اگر وہ زخمی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے ‘ ظاہر ہے گلا گھٹ کر مرا ہوا جانور حرام ہے۔ پانچویں بات یہ کہ جب تم اسے چھوڑو ” بسم اللہ “ پڑھ کر چھوڑو ‘ اگر تم نے ” بسم اللہ “ پڑھ کر نہیں چھوڑا تب بھی اس کا پکڑا ہوا جانور حلال نہیں ہوگا۔ غیر مسلم اور مسلم کے شکاری جانور میں فرق : اب آیت کو ایک اور پہلو سے ذرا ملاحظہ کریں۔ فرمایا کہ ” تمہارے لیے حلال کی گئی ہیں پاکیزہ چیزیں (اور پھر سوال کا جواب دیا اور) وہ شکاری جانور جن کو تم سدھاتے ہو اور اسے خود چھوڑتے ہو اور شکار کو پکڑنے کے لیے جن کو تم تعلیم دیتے ہو اس تعلیم میں سے جو اللہ نے تمہیں دی ہے “ اس سے بعض مفسرین نے بڑی خوبصورت بات سمجھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مربی اور تربیت دینے والا جسے تربیت دیتا ہے ‘ اس کا ذوق تربیت اس میں منتقل ضرور ہوتا ہے۔ خواہ وہ انسان ہو یا حیوان کیونکہ جب استاد کسی کو تربیت دے گا تو اس کا ذوق بھی علم کے ساتھ منتقل ہوگا۔ فرمایا کہ اللہ نے تمہیں سکھایا پڑھایا ‘ تم نے قرآن اور حضور ﷺ کی صحبت سے ساری باتیں سیکھیں ‘ اب دیکھو ! تم جب اپنے جانوروں کو تربیت دو (تربیت تو غیر مسلم بھی اپنے جانوروں کو دیتے ہیں) تو تمہارے تربیت یافتہ جانور اور غیر مسلم کے تربیت یافتہ جانور میں ذوق کے اعتبار سے فرق ہونا چاہیے اور وہ فرق یہ ہے کہ غیر مسلم جب اپنے جانور کو چھوڑتا ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں کس شکار کو پکڑ رہا ہوں۔ لیکن جب مسلمان اپنا جانور چھوڑتا ہے تو اس کا سدھایا ہوا جانور یہ خیال رکھتا ہے کہ میں خرگوش پکڑوں ‘ بِجّو نہ پکڑوں۔ اسے پتہ ہے کہ بِجّو پکڑ کرلے بھی جاؤں تو میرا مالک نہیں کھائے گا کیونکہ بِجّو فی نفسہٖ حرام ہے ‘ طیبات میں سے نہیں ہے کیونکہ وہ مردار کھاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ جیسے تمہارے ذوق میں اور غیر مسلم کے ذوق میں فرق ہے ‘ ایسے ہی تمہارے سدھائے ہوئے جانور میں اور غیر مسلم کے سدھائے ہوئے جانور کے ذوق میں بھی فرق ہونا چاہیے اور اس فرق کو تربیت دینے والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْامساک کے معنی ” روکنے اور تھامنے “ کے ہیں جب اس کے ساتھ علی آئے جیسا کہ اُمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ میں ہے تو اس کے اندر اختصاص کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی کسی خاص شے کو کسی خاص کے لیے روک یا سینت رکھنا۔ اب یہ سوال کا اصل جواب ہے فرمایا کہ اگر مذکورہ شرائط کے مطابق تربیت کیا ہوا جانور ہو تو اس کے کیے ہوئے شکاروں میں سے وہ شکار تمہارے لیے جائز ہوگا جو وہ خاص تمہارے لیے روک رکھے اور اگر وہ شکاری جانور شکار میں سے کچھ کھالے تو وہ شکار جائز نہ ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عدی ابن حاتم کے سوال پر ارشاد فرمایا تھا کہ اگر شکاری جانور نے شکار میں سے کچھ کھالیا ہو تو مت کھائو کیونکہ اس نے شکار کو دراصل اپنے لیے پکڑا ہے (تمھارے لیے نہیں) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شکار میں سے شکاری جانور کھالے تو اس جانور کا کھانا حلال نہیں رہتا۔ اس کے بعد پروردگار نے ارشاد فرمایا : وَاذْکُرُو اسْمَ اللہِ عَلَیْہِاس میں ضمیر مجرور کے مرجع سے متعلق اختلاف کرتے ہوئے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس کا تعلق علمتم من الجوارح سے ہے یعنی جس جانور کو چھوڑنا ہے پہلے اس پر بسم اللہ پڑھوبعض لوگوں نے کہا کہ نہیں اس کا مرجع مَآ اَمْسَکْنَہے یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم شکار کو پکڑ لو اسے ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھو۔ لیکن اس قول میں ضعف محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس کا تعلق فَکُلُوْا سے ہے کہ جب اسے کھانے لگو تو ” بسم اللہ “ پڑھو حالانکہ یہ بات اس لیے زیادہ مناسب معلوم نہیں ہوتی کہ کھاتے ‘ پیتے وقت کیا پڑھنا چاہیے کیا نہیں پڑھنا ‘ اس کا تعلق آداب سے ہے اور قرآن کریم عام طور پر آداب کا ذکر نہیں کرتا ‘ احکام کا ذکر کرتا ہے۔ آداب ہمیں حدیث اور سنت سے معلوم ہوتے ہیں ‘ اس لیے درست بات یہ ہے کہ اس کا تعلق مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِسے ہے یعنی جب تم سدھایا ہوا جانور چھوڑنے لگو تو ” بسم اللہ “ پڑھو۔ اس کی تائید میں آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث ہے جو حضرت عدی سے مروی ہے۔ ” حضرت عدی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں اور کوئی دوسرا کتا بھی اس میں شریک بن جائے تو اس کا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ایسا شکار نہ کھانا کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا ہے دوسرے کتے پر نہیں لیا “۔ شکار کرنا عرب کی شدید ضرورت رہی ہے اور جب ضرورت کے تحت آدمی کسی جانور کو پکڑتا ہے تو پھر وہ احتیاطوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرتا ‘ صرف بھوک اور ضرورت اس کے سر پر مسلط ہوتی ہے اور وہ ایسے معاملات میں حدود کو نظر انداز بھی کرجاتا ہے ‘ اس لیے فرمایا کہ حدود کو نظر انداز نہ کرنا تم ہزار اس سے لاپرواہی کرو اللہ تو جانتا ہے ‘ اس لیے اللہ سے ڈرتے رہنا ‘ بیشک اللہ جلدی حساب لینے والا ہے۔
Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی (بشرطیکہ طیبات میں سے ہو) تم پر حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے۔ اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو ‘ نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی (مقصود ہو) اور جو شخص ایمان کا منکر ہوا ‘ اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ط وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ص وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّھُمْ ز وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ز وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 5) ” آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کردی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی (بشرطیکہ طیبات میں سے ہو) تم پر حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو ‘ نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی (مقصود ہو) اور جو شخص ایمان کا منکر ہوا ‘ اس کے عمل ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا “۔ اس آیت کریمہ میں حلال و حرام کے حوالے سے چند ایسے معاشرتی مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے جن کا تعلق بنیادی طور پر اہل کتاب کے ساتھ ہے اور یہ ایسے نازک مسائل ہیں جن میں معمولی سی غلطی سے بین الاقوامی تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں اور امت مسلمہ کے اپنے مزاج پر بھی غلط اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس لیے ان معاشرتی مسائل کا ذکر کرنے سے پہلے ارشاد فرمایا گیا اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُم الطَّیْبَاتِ حالانکہ گزشتہ آیت میں یہی جملہ پہلے گزر چکا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ بلاوجہ تکرار کلام کا عیب ہے اور قرآن کریم تو ایسے ہر عیب سے مبرا ہے ‘ یہاں اس تکرار سے کیوں کام لیا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں جن مسائل کو چھیڑا جارہا ہے ان کی بنیاد ہی طیبات اور خبائث پر ہے اور اس میں معمولی فروگزاشت بڑے سنگین نتائج پیدا کرسکتی ہے اس لیے جس ہدایت سے ان نتائج کو روکا جاسکتا تھا اس کا سب سے پہلے ذکر فرمایا گیا اب ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہیں۔ 1 امتیں جب نئی نئی وجود میں آتی ہیں تو انھیں اپنی انفرادیت اور تفرد کا شدید احساس ہوتا ہے چونکہ ان کے مزاج میں جذبہ انقلاب غالب ہوتا ہے اس لیے یا تو وہ انقلاب برآمد کرتی ہیں اور یا پھر دوسری قوموں سے فاصلے پر رہتی ہیں امت مسلمہ ایک داعی جماعت کے طور پر وجود میں آئی تھی ضروری تھا کہ اسے ایسے کسی بھی احساس سے بچایا جائے اس لیے بالواسطہ اسے یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ تم اگر الگ تھلگ رہو گے تو دعوت کا کام متاثر ہوگا اس لیے تمہیں دوسری قوموں سے میل ملاپ رکھنا ہے اور ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنے ہیں اور یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ جب تعلقات قائم کیے جاتے ہیں تو اس کا آغاز باہمی مجلسی زندگی سے ہوتا ہے جس میں ضیا فتِ طبع کے لیے کھانا پینا اور کھلانا پلانا لازمی باتیں ہیں اور پھر یہی میل جول ہے جو بڑھتے بڑھتے صھری تعلقات تک بھی پہنچ جاتا ہے اور یہ دونوں چیزیں یعنی ضیافت و مناکحت کے طور اطوار اور حلال و حرام کے مسائل ہر قوم کے اپنے ہوتے ہیں جب ایک قوم کا فرد دوسری قوم کے کسی فرد سے ملنے جاتا ہے اور وہ حق مہمانی ادا کرتے ہوئے کھانے پینے کی چیزیں سامنے لا کر رکھتا ہے تو وہ یقیناً ایسی چیزیں ہوں گی جو ان کے اپنے مذہب کے مطابق حلال اور طیب ہوں گی۔ اس لیے یہاں ایک مختصر سے جملے سے دو ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پہلی ہدایت یہ دی کہ مسلمانو ! جب تمہیں دوسری قوموں کے ساتھ ایسی صورت حال سے واسطہ پڑے تو دیکھنا بعض دوسری قوموں کی طرح چھوت چھات کو اپنا طریقہ نہ بنانا ہر انسان بنیادی طور پر اولاد آدم میں ہونے کی وجہ سے انسانی شرف کا حامل ہے اس کے ساتھ لگنے اور چھو جانے سے کوئی انسان ناپاک نہیں ہوتا اور نہ کوئی برتن ناپاک ہوتا ہے اس لیے تمہیں دوسری قوموں سے میل جول میں ایسے کسی احساس سے معرا رہنا چاہیے تاکہ تمہارے تعلقات آگے بڑھیں اور تمہارا دعوتی عمل نتائج پیدا کرسکے اور دوسری یہ ہدایت دی کہ تمہارے سامنے دسترخوان پر تمہارا میزبان جو بھی لا کر رکھے اس میں مہمان ہونے کے ناطے سے ہر چیز کا کھا لینا اور ہر چیز کا استعمال تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں بلکہ تمہیں اسی سورة المائدہ میں بتادیا گیا ہے کہ حرام چیزیں کیا ہیں اور حلال کیا ہیں۔ طیبات کیا ہیں اور خبائث کیا ہیں۔ جتنی چیزیں حلال ہیں وہ ساری طیبات ہیں اور جتنی حرام ہیں وہ سب خبائث میں شامل ہیں اس لیے تمہیں یہ تاکید کی جا رہی ہے کہ تم دوسری قوموں سے حسن سلوک اور مروت سے پیش آئو لیکن طیبات کی ہمیشہ پابندی کرو اس میں کسی کمی بیشی کی ہرگز گنجائش نہیں۔ ایک اور بہت اہم حقیقت جس کی طرف اس آیت کریمہ کا پہلا لفظ اَلْیَوْمَ ہماری راہنمائی کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ بار دگر اس بات کا دہرانا کہ تمہارے لیے طیبات حلال کردی گئی ہیں اور اسے آج کہہ کر دہرانا اس میں دراصل ایک تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ یہود نے اپنے فاسد مزاج کے تقاضوں سے بعض طیبات کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا اور بعض خبائث اپنے لیے جائز ٹھہرا لی تھیں اور ان کی ضد سرکشی اور کٹ حجتی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر بعض پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ تورات میں آنحضرت ﷺ کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں کی گئیں ان میں ایک پیشگوئی یہ تھی کہ جب وہ آخری نبی آئیں گے تو اہل کتاب کو طیبات و خبائث سے متعلق خدا کے امر و نہی سے آگاہ کریں گے اور حلال و حرام کے بارے میں ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کردیں گے جو انھوں نے اپنے اوپر یا تو ازخود عائد کر رکھی ہیں یا ان کی سرکشی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کردی ہیں۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہ جو طعام اور محصنات کی حلت کا حکم دیا جارہا ہے یہ انہی پیش گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور رسول اللہ ﷺ کی زبان سے وعدے کو ایفا کیا جا رہا ہے۔ اور اَلْیَوْمَ سے اسی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں مجلسی زندگی میں پیدا ہونے والے معاشرتی مسئلے کو لیا جا رہا ہے۔ ارشاد فرمایا : وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ط وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّھُمْ ز ( جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے ان کا طعام تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا طعام ان کے لیے حلال ہے) سابقہ توضیحات کی روشنی میں اس جملے کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن نجانے کیوں مصر کے بعض مفتیانِ کرام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے عجیب دو باتیں ارشاد فرمائیں۔ ایک بات تو یہ ارشاد فرمائی کہ یہاں طعام سے مراد کھانے کی ہر چیز ہے چاہے وہ حرام ہو یا حلال۔ جو کچھ بھی اہل کتاب کے دسترخوان پر موجود ہے مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ تم شوق سے اسے تناول کرسکتے ہو اور دوسری یہ بات کہ اہل کتاب سے دنیا کے تمام اہل مذاہب مراد ہیں جس کسی کو بھی اہل کتاب ہونے کا دعویٰ ہے یعنی وہ اپنے پاس کوئی سی مذہبی کتاب رکھتا ہے وہ اہل کتاب میں شامل ہے یہ دونوں باتیں اگر کسی جاہل نے کہی ہوتیں تو چنداں تعجب نہ ہوتا لیکن اس کے کہنے والے چونکہ بڑے بڑے مفتیانِ کرام ہیں اس لیے حیرت ہوتی ہے کہ جو چیزیں مسلمانوں کے لیے حرام کی گئی ہیں یا وہ طیبات نہیں بلکہ خبائث میں شامل ہیں اور مسلمان انھیں استعمال نہیں کرسکتے اہل کتاب کے دسترخوان پر بیٹھ کر آخر ان کے لیے کیسے حلال ہوجائیں گی ؟ پھر تو ہمیں حلت و حرمت کی پوری بساط ہی لپیٹنی پڑے گی۔ ظاہر ہے بقائمی ہوش و حواس کوئی مسلمان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور جہاں تک کھانے پینے کی ایسی اشیاء ہیں جن کا تعلق زمین کی مفید نباتات یا پھلوں سے ہے تو اس میں اہل کتاب کی کیا تخصیص ہے چاہے اسے مذہب کے منکرین یا مشرکین بھی بازار میں سپلائی کریں یا کسی طرح مسلمانوں کو کھانے کے لیے پیش کریں اس کے کھانے میں تو کوئی شرعی رکاوٹ نہیں اس لیے ہمیں سوچنا ہوگا کہ طعام سے آخر کیا مراد ہے اور اہل کتاب کن لوگوں کو کہتے ہیں ؟ جہاں تک کتاب کا تعلق ہے کتاب ہر نوشتے کا نام نہیں بلکہ اس سے مراد وہ کتابیں ہیں جو اللہ کی طرف سے اس کے رسولوں پر نازل ہوئیں اور جنھیں خود قرآن کریم نے تسلیم بھی کیا ہے اس لیے کہ بعض ایسے گروہ ہیں جن کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی کتاب کے ماننے والے ہیں جیسے صابی یا زردشتی لیکن قرآن کریم نے بطور اہل کتاب ان کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح بعض کتابوں کے بارے میں آج کی دنیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق شاید آسمانی کتابوں سے ہے مثلاً بحر مردار کی غاروں سے کوئی پرانے نوشتے ملے ہیں جن کے بارے میں بعض مستشرقین کا خیال ہے کہ یہ شاید حضرت ادریس (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کے حصے ہیں حالانکہ جس زبان میں وہ نوشتے ہیں وہ آج تک پڑھی نہیں جاسکی۔ ایسے بےسند دعو وں سے کسی کتاب کو آسمانی کتاب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس لیے قرآن کریم میں جنھیں اہل کتاب کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔ ان سے مراد صرف یہود اور نصاریٰ ہیں اس کے علاوہ کسی اور کتاب کو کتاب اللہ قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ اس کے ماننے والوں کو اہل کتاب سمجھ کر ان کے ساتھ وہ تعلقات قائم کیے جاسکتے ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں جو احکام دیئے گئے ہیں وہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ سے متعلق ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ طعام سے کیا مراد ہے ؟ طعام کے لغوی معنی ” کھانے کی چیز “ کے ہیں اور عربی لغت کے اعتبار سے یقیناً اس میں ہر قسم کے کھانے کی چیزیں شامل ہیں لیکن جمہور امت کے نزدیک اس جگہ طعام سے مراد صرف ” اہل کتاب کا ذبیحہ “ ہے کیونکہ گوشت کے سوا دوسری اشیائے خوردنی میں اہل کتاب اور دوسرے کفار میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں۔ کھانے پینے کی خشک چیزیں گیہوں ‘ چنا ‘ چاول اور پھل وغیرہ ہر کافر کے ہاتھ کا بھی حلال اور جائز ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ مختصر یہ کہ طعام اہل کتاب سے مراد اس آیت میں بہ اتفاق علمائے تفسیر وہ طعام ہے جس کی حلت مذہب اور عقیدہ پر موقوف ہے یعنی ذبیحہ، اس لیے اس طعام میں اہل کتاب کے ساتھ امتیازی معاملہ کیا گیا کیونکہ وہ بھی اللہ کی بھیجی ہوئی کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان کے مدعی ہیں اگرچہ ان کی تحریفات نے ان کے دعویٰ کو مجروح کردیا ہے۔ یہاں تک کہ شرک اور کفر میں مبتلا ہوگئے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان کے دین میں سینکڑوں تحریفات ہونے کے باوجود اس مسئلے میں ان کا مذہب بھی اسلام کے بالکل مطابق ہے۔ یعنی وہ ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا عقیدۃً ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے بغیر جانور کو مردار اور حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن کریم کے نزول کے وقت تورات اور انجیل جس حالت میں ان کے پاس موجود تھی اور آج بھی چند تبدیلیوں کے ساتھ یہ دونوں کتابیں جس حالت میں موجود ہیں اس سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ بائبل کے عہدنامہ قدیم و جدید جو موجودہ زمانہ کے یہود و نصاریٰ دونوں کے نزدیک مسلّم ہے اس میں ذبیحہ کے متعلق یہ احکام موجود ہیں۔ 1 جو جانور خودبخود مرگیا ہے اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو ان کی چربی تو کام میں لاسکتے ہو لیکن اسے کسی حال میں نہ کھانا۔ (احبار : 24) 2 پَر گوشت کو تو اپنے سب پھاٹکوں کے اندر اپنے دل کی رغبت اور خداوند اپنے دی ہوئی برکت کے موافق کھا سکے گا… لیکن تم خون کو بالکل نہ کھانا۔ (استثنا : 12-15) 3 تم بتوں کی قربانیوں کے گوشت ‘ لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے پرہیز کرو۔ (عہد نامہ جدید کتاب اعمال : 15-29) 4 عیسائیوں کا سب سے بڑا پیشوا پولس کرنتھیون کے نام پہلے خط میں لکھتا ہے کہ جو قربانی غیر قومیں کرتی ہیں شیاطین کے لیے کرتی ہیں نہ کہ خدا کے لیے اور میں نہیں چاہتا کہ تم شیاطین کے شریک ہو۔ تم خداوند کے پیالے اور شیاطین کے پیالے دونوں میں سے نہیں پی سکتے۔ (کرنتھیون : 10-20 ۔ 20 ) 5 کتاب اعمال حوارین میں ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ کر کے لکھا ہے کہ وہ صرف بتوں کی قربانی کے گوشت سے ‘ لہو اور گلا گھونٹے ہوئے جانوروں اور حرام کاری سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔ (اعمال : 21-25) آج کے امریکہ اور یورپ میں اگرچہ یہود اور عیسائی آباد ہیں جو آج بھی اپنے پاس آسمانی کتابیں رکھتے ہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ان کی کتابوں میں یہ احکام آج بھی موجود ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مذہب کے ان احکام کو زندگی سے بالکل خارج کردیا ہے اس لیے آج وہ جانوروں کی حلت و حرمت اور ان کے ذبح کرنے کے معاملے میں جن طریقوں پر عمل کر رہے ہیں وہ اہل کتاب کا طریقہ نہیں بلکہ ایک ایسی قوم کا طریقہ ہے جو اپنی کتابوں سے منحرف ہوچکی ہے۔ میں نے اس سے پہلے عرض کیا ہے کہ مجلسی زندگی کا میل جول قوموں میں بالعموم صھری رشتوں تک پہنچ جاتا ہے اس لیے ضروری تھا کہ اس کے لیے بھی احکام دے دیئے جائیں۔ چناچہ اس اہم مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ (اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں ‘ سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی ‘ تمہارے لیے حلال ہیں ) قرآن میں ” مُحْصَنٰت “ کی اصطلاح کے تین معنی : ” مُحصنٰت “ کا لفظ قرآن کریم نے تین معنوں میں استعمال کیا ہے : -1 کبھی اس کا معنی ہوتا ہے ” شادی شدہ عورتیں “ -2 کبھی اس کا معنی ہوتا ہے ” آزاد عورتیں “ -3 کبھی اس کا معنی ہوتا ہے ” پاک دامن عورتیں “۔ یہاں یہ ” پاکدامن عورتوں “ کے معنی میں ہے۔ یعنی (تمھارے لیے حلال کی گئی ہیں پاکدامن عورتیں مسلمانوں میں سے اور پاکدامن عورتیں ان میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے) البتہ ! علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کی پاکدامنی میں شبہ ہوجائے تو اس سے نکاح حلال تو ہے۔ لیکن ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ جب وہ پاکدامنی سے محروم ایک مسلمان عورت کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے تو پھر اہل کتاب فاحشہ عورت کو قبول کیوں کرے۔ یہی وجہ ہے کہ قرون اولیٰ میں امت کا عمل اسی بات پر رہا ہے اور جب بھی انھوں نے اس کی خلاف ورزی کی ہے تو خلفاء راشدین نے روکا ہے۔ حضرت علی ( رض) نے صاف طور پر فرمایا کہ ” بنی تغلب “ کے عیسائیوں کی عورتوں سے بالکل نکاح نہ کیا جائے اور ان کا ذبیحہ بھی نہ کھایا جائے کیونکہ وہ اپنی شریعت پر بالکل عمل نہیں کرتے۔ عیسائیت سے انھوں نے شراب نوشی کے سوا کچھ نہیں لیا چونکہ وہ خود اپنی شریعت پر عمل نہیں کرتے ‘ اس لیے تم بھی ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو اور نہ ان کا ذبیحہ کھائو۔ آج آپ دیکھ لیں کہ اکثر اہل کتاب کا حال کیا ہے ؟ یعنی وہ بنیادی طور پر اہل کتاب ہیں ہی نہیں ‘ بلکہ انھیں لبرل کہہ لیجئے یا سیکولر کہہ لیجئے۔ وہ اپنی انجیل اور توریت کو نہیں مانتے۔ میرے بھائی نے ایک بار بتایا کہ انگلینڈ میں جب میں اپنی ڈیوٹی پر جاتا تو وہاں کا منیجر مجھے Priest سمجھتے ہوئے میرا بڑا احترام کرتا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتا کہ میں چائے اس کے ساتھ پیوں۔ جب رمضان آیا تو حسب معمول اس نے مجھے چائے پر بلایا۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ چائے نہیں پی سکتا۔ اس نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : میں روزے سے ہوں۔ وہ کہنے لگا کہ ” روزہ “ کیا ہوتا ہے ؟ میں نے اسے کسی حد تک سمجھایا کہ ہم طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کچھ کھاتے پیتے نہیں۔ اس نے کہا کہ آپ کو کیا ہوجاتا ہے ‘ کیوں نہیں کھاتے پیتے ؟ تو میرے بھائی نے سمجھانے کے لیے کہا کہ تمہارے مذہب میں بھی تو ” روزہ “ ہے ‘ تمہاری انجیل میں ” روزے “ کے متعلق لکھا ہے۔ اس نے پوچھا : کیا تم انجیل پڑھتے ہو ؟ بھائی نے جواب دیا : ہاں۔ کہا کہ ہم تو پڑھتے نہیں ‘ تم کیوں پڑھتے ہو ؟ معلوم ہوا کہ ان کی عام زندگی سے انجیل نکل چکی ہے۔ اس لیے وہ اہل کتاب کے حکم میں نہیں ہیں۔ (مدائن کے فتح ہونے کے بعد حضرت حذیفہ بن یمان ( رض) (یہ وہی جلیل القدر صحابی ہیں ‘ عراق میں آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے ان کے جسد خاکی کو نکالا گیا اور دوسری جگہ منتقل کیا گیا تھا اور ہزار ہالوگوں نے دیکھا تھا کہ ان کی آنکھوں کی چمک اب بھی موجود تھی) جب وہاں پہنچے تو ضرورت کے تحت انھوں نے وہاں ایک عیسائی عورت سے شادی کرلی۔ حضرت عمر فاروق ص کو پتہ چلا تو انھوں نے خط لکھا کہ اس کو طلاق دے دو ‘ تم نے اچھا نہیں کیا۔ انھوں نے جواب میں پوچھا کہ امیر المومنین ! کیا یہ میرے لیے حرام ہے ؟ حضرت عمر ( رض) نے دوبارہ جواب میں لکھا کہ میں تمہیں قسم دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ تم میرا یہ خط ہاتھ سے رکھنے سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور لکھا کہ اس کی دو وجوہات ہیں : ایک وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں پاکدامنی نہیں ہے۔ یہ عورتیں تمہارے گھروں میں آئیں گی تو عفت و حرمت تمہارے گھروں سے رخصت ہوجائے گی۔ دوسری بات یہ کہ اس علاقے کی عورتیں بڑی خوبصورت ہیں ‘ تمہاری پہلی بیویاں جو عرب کی ہیں ‘ وہ اتنی خوبصورت نہیں ہیں۔ جب تم انھیں گھروں میں لائو گے تو تمہاری عرب بیویوں کی عزت کہاں رہے گی ‘ ان کے لیے فتنے پیدا ہوجائیں گے ‘ اس لیے اس راستے پر مت چلو) (بحوالہ ” کتاب الآثار “ از امام محمد۔ ) یہاں ایک اور پہلو پر توجہ دینا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت سے کتابیات سے نکاح کی اجازت یقینا ثابت ہوتی ہے لیکن اگر تھوڑے سے تدبر سے کام لیا جائے اور صحابہ کے طرز عمل کو سامنے رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے یہ اجازت عَلیٰ سَبِیْلِ التَنَزل دی ہے اس میں نکاح کرنے والے ‘ اس کی آل اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ مخفی ہے ‘ وہ اہل نظر سے مخفی نہیں۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں کو تو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے لیکن مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی گئی یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے کوئی مستحسن چیز نہیں اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کرلے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا : اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ط (بشرطیکہ ان کو قید نکاح میں لا کر ان کے مہر ان کو دو نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے اور آشنائی گانٹھتے ہوئے ) یعنی مسلمان عورتوں اور کتابیات سے نکاح کی دو شرطیں ہیں اور یہ دونوں شرطیں بیک وقت مطلوب ہیں۔ ایک یہ کہ نکاح مال یعنی مہر کے ساتھ ہو اور دوسری یہ کہ اس نکاح سے مقصود عورت کو اپنی حمایت و حفاظت میں لینا ہے نہ کہ وقتی طور پر شہوت رانی کر کے محض ہیجان نفس کو تسکین دینا۔ مقصود یہ ہے کہ نکاح کے معاملے کو ایک سنجیدہ معاہدے کی حیثیت حاصل ہوجائے اس کو لڑکوں کا کھیل نہ بنایا جاسکے کیونکہ جس معاملے کے ساتھ ادائے مال کی شرط لگی ہو اور اس ادائے مال کی حیثیت محض ایک تبرع اور احسان کی نہ ہو بلکہ ایک فریضہ کی ہویہاں تک کہ اگر وہ مذکور نہ بھی ہو جب بھی لازماً مضمر سمجھا جائے اور عورت کی حیثیت عرفی کے اعتبار سے اس کی ادائیگی واجب قرار پائے تو شرعاً و عرفاً وہ ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ مصلحتیں ہیں جس کی وجہ سے مہر کی شرط لازم ٹھہرائی گئی۔ جن لوگوں کی نظر ان مصلحتوں کی طرف نہیں گئی وہ سمجھتے ہیں کہ اس شرط نے عورت کو ایک خریدنی و فروختنی شے کے درجے تک گرا دیا ہے۔ یہ خیال محض ناسمجھی کا نتیجہ ہے۔ یہ شرط تو ایک آگاہی ہے کہ جو بھی عورت کے حرم میں قدم رکھنا چاہے وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم رکھے۔ ایسے سنجیدہ معاملے میں کسی مذاق کی گنجائش نہیں ہے۔ مہر کے بعد دوسری شرط احصان کی لگائی گئی ہے کیونکہ نکاح کا اصل مقصد اسی شکل میں پورا ہوتا ہے جب اس کے ساتھ احصان پایاجائے یعنی ایک مرد ‘ ایک عورت کو سنجیدہ ارادے اور زندگی بھر کے سنجوگ کے عزم کے ساتھ اپنی حفاظت و حمایت میں لے اور عورت اسی شعور و ارادہ کے ساتھ اسکے حصن حمایت میں داخل ہو اس احصان کے بغیر عورت اور مرد کے تعلق سے وہ مقصد پورا نہیں ہوسکتا جو قدرت نے اس سے پورا کرانا چاہا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی عورت سے ایک وقتی اور عارضی تعلق پیدا کرتا ہے اور اس کے لیے اس نے نکاح کی رسم بھی پوری کی ہے اور اسکو مال بھی دیا ہے لیکن وہ احصان کا جذبہ نہیں رکھتا تو یقین کیجئے کہ اس نے جنسی تلذذ اور جنسی ہوس کو پورا کرنے کے لیے ایک موقعہ تو پیدا کرلیا ہے لیکن جو شریعت اور فطرت کا اصل مقصود ہے وہ اس سے کوسوں دور ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ یہ قید لگائی گئی غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ۔ سفح کا لغوی معنی بہانے کے ہیں اسی سے مسافحت ہے جس کے معنی عیاشی اور بدکاری کے ہیں اس لیے کہ اس میں بھی عورت اور مرد محض تلذذ کو مقصد قرار دے کر اپنا مادہ منویہ برباد کرتے ہیں اور اس کا آغاز چونکہ خفیہ آشنائیوں سے ہوتا ہے اس لیے اس کو روکنے کے لیے فرمایا : وَلاَ مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانِ ( نہ وہ چھپ کر آشنائی کرنے والے ہوں) کیونکہ نکاح جس طرح معاشرے کو اخلاقی قلعوں میں محصور کرتا ہے اور وہ تمام برائیاں جو عفت و عصمت کے دامن کو تار تار کرتی ہیں ان کے راستوں پر پہرے بٹھا کر مرد و عورت کے تطہیر عمل کا سامان کرتا ہے وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ بدکاریوں کا ہر راستہ بند کردیا جائے اور چھپی آشنائیاں چاہے وہ مخلوط اجتماع کے نتیجے میں ہوں یا نوجوان بچیوں کے نوجوان لڑکوں سے پڑھنے کے نتیجے میں ہوں جسے ٹیوشن کی شکل دے کر اس خطرناک برائی کو گویا سند جواز دے دی ہے اس کا راستہ بند کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے بعد فرمایا : وَمَنْ یَّکْفُرْبِالاِْیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ز وَھُوَ فِی الاْٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے گا ‘ اس کا عمل ڈھے جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں ہوگا ) اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ آدمی اللہ اور رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی کرے اور ساتھ ہی اللہ اور رسول کے احکام کے صریح خلاف محض اپنی خواہشات کے اتباع میں قانون و شریعت ایجاد کر کے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ وہی ایمان ہے جس کا قرآن کریم نے سورة البقرۃ میں ذکر کیا کہ (تم اللہ کی کتاب کی کسی بات کو مانتے ہو اور کسی بات کا انکار کردیتے ہو) اس کا مقصود شاید یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی یہ چاہتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ بھی باقی رہے اور کفر سے تعلق بھی نہ ٹوٹے۔ گویا اس کا ایمان یا اس کا عملی رویہ کفر اور ایمان کا ایک ملغوبہ ہے۔ اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کی شرائط پر ہو۔ جو لوگ اپنی شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال اللہ کے ہاں ڈھے جائیں گے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دینے کے باوجود یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ جو شخص کتابیات سے نکاح کرے اسے اپنے ایمان و اخلاق کی طرف سے بےفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس بات کا بہت امکان ہے کہ کافر بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر یا اس کے عقائد و اعمال سے متاثر ہو کر وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا اخلاق و معاشرت میں ایسی روش پر چل پڑے جو ایمان کے منافی ہو چناچہ ہمارے گردوپیش میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جو لوگ باہر سے بیگمات ساتھ لے کر آئے۔ ان کا اپنے والدین اور اپنے عزیز و اقارب سے معاشرتی ناطہ تو ٹوٹا ہی تھا وہ اسلامی روایات سے بھی بےبہرہ ہوگئے اور مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ غیر مسلم عورتوں نے حکمرانوں کے حرم میں داخل ہو کر وہ وہ فتنے اٹھائے جن کے زخم آج تک ٹیس دے رہے ہیں۔