5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

تمہاری قسموں میں جو غیر ارادی ہیں ‘ ان پر تو اللہ تم سے موأخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہے ‘ ان پر موأخذہ کرے گا۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس معیار کا جو تم عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو اس کی مقدرت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ‘ جبکہ تم قسم کھا بیٹھو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو ‘ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام کی وضاحت کرتا ہے ‘ تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو

لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللہ ُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ وَلٰکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الاَْیْمَانَ ج فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُم اِذَا حَلَفْتُمْ ط وَاحْفَظُوْآ اَیْمَانَکُمْ ط کَذٰلِک یُبَیِّنُ اللہ ُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (المائدہ : 89) ” تمہاری قسموں میں جو غیر ارادی ہیں ‘ ان پر تو اللہ تم سے موأخذہ نہیں کرے گا۔ لیکن جن قسموں کو تم نے پختہ کیا ہے ‘ ان پر موأخذہ کرے گا۔ سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس معیار کا جو تم عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو اس کی مقدرت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھا بیٹھو اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو ‘ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام کی وضاحت کرتا ہے ‘ تاکہ تم اسکے شکر گزار رہو “۔ سابقہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے ہم اس سے پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ بعض لوگ اللہ کی جائز اور حلال نعمتوں کو اپنے اوپر ممنوع قرار دیتے ہوئے قسم کھالیتے تھے کہ آئندہ میں اس نعمت کا استعمال نہیں کروں گا تو اس کے لیے ضروری ٹھہرا کہ قسم کے بارے میں احکامات ذکر کردیئے جائیں تاکہ لوگ اس بارے میں گمراہی کا شکار نہ ہوں اس لیے مختصراً یہ سمجھ لیا جائے کہ یمین (قسم) کی تین قسمیں ہیں۔ قسم کی تین اقسام 1 یمین لغو ‘ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بلا وجہ ہر بات پر قسم کھاتے ہیں۔ یہ ان کا تکیہ کلام بن جاتا ہے۔ اسے یمین ” لغو “ کہا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک فضول قسم ہے ‘ جس کا کوئی مقصد نہیں۔ لیکن اس میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی ایک عظمت ہے ‘ لہٰذا بلا وجہ اللہ کا نام تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی ماضی کے کسی واقعہ کے بارے میں قسم کھائے کہ یہ واقعہ اس طرح پیش آیا تھا اور سمجھتا یہ ہو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل سچ ہے اور واقعہ کے مطابق ہے۔ لیکن حقیقت میں وہ واقعہ کے مطابق نہ ہو۔ اسے بھی یمین ” لغو “ کہتے ہیں۔ اس کانہ کوئی کفارہ ہے اور نہ اس کا مواخذہ ہوگا۔ اس لیے کہ قسم کھانے والے نے نہ تو قصداً جھوٹ بولا ہے اور نہ اس نے کسی وعدے یا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیونکہ یہ قسم ماضی سے متعلق ہے۔ 2 یمین کی دوسری قسم یمین ” غموس “ ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ فرض کریں ایک شخص نے کوئی کام کیا ہے اور وہ اچھی طرح جانتا ہے اور اسے یاد ہے کہ اس نے یہ کام کیا ہے اور پھر جان بوجھ کر قسم کھاتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یہ جھوٹی قسم گناہ کبیرہ ہے اور دنیا و آخرت میں وبال کا باعث ہے اور ایسی قسم کھانے والے کو توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ البتہ ! اس پر کوئی کفارہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس نے ماضی کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے اور اس سے قسم ٹوٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 3 یمین کی تیسری قسم یمین ” منعقدہ “ ہے کہ کوئی آدمی آئندہ زمانے میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائے ‘ اسے یمین ” منعقدہ “ کہا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس قسم کو توڑنے کی صورت میں کفارہ واجب ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں اس پر گناہ بھی ہوتا ہے اور بعض میں نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں تو یمین ” لغو “ کا ذکر ہے ‘ جس کے بارے میں فرمایا کہ اس پر اللہ تم سے مواخذہ نہیں کرے گا اور آیت کے دوسرے حصے میں یمین ” منعقدہ “ مراد ہے کیونکہ اس میں بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔ قسم کا کفارہ اگر کوئی آدمی یمین منعقدہ کھاتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے اب ظاہر ہے کہ اس پر کفارہ لازم آئے گا۔ آیت کے بقیہ حصہ میں کفارے کے مسائل بیان کیے گئے ارشاد فرمایا : فَکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُم اِذَا حَلَفْتُمْ ط (سو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس معیار کا جو تم عام طور پر اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا یا ایک غلام کو آزاد کرنا ہے جو اس کی مقدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جبکہ تم قسم کھا بیٹھو ) پیشتر اس کے کہ کفارے کے مسائل ذکر کیے جائیں ضروری معلوم ہوتا ہے باردگر اس تصور کو دماغوں میں تازہ کرلیا جائے کہ کفارہ سے قسم توڑ دینے کے گناہ کا ازالہ نہیں ہوتا۔ یہ تو صرف تنبیہ کا ایک انداز ہے کیونکہ جو آدمی قسم توڑتا ہے کفارہ ادا کرنے سے اسے کسی نہ کسی حد تک احساس ضرور ہوجاتا ہے کہ میں نے غلط کام کیا ہے ‘ جس کا میں جرمانہ ادا کر رہا ہوں۔ لیکن جہاں تک گناہ کا تعلق ہے ‘ اس کی معافی تو صرف استغفار سے ہوتی ہے۔ اس لیے قسم توڑنے والے کو کفارے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ کے لیے یہ عہد کرنا چاہیے کہ دوبارہ میں یہ غلطی نہیں کروں گا۔ کفارے کے ساتھ اگر استغفار کا تصور باقی نہ رہے تو پھر دولت مندوں کے حوالے سے یہ اندیشہ پریشان کن صورت اختیار کرسکتا ہے کہ وہ نہایت جسارت کے ساتھ قسمیں توڑیں کیونکہ دس آدمیوں کو کھانا کھلا دینا ‘ جن کے گھروں میں دس دس نوکر کام کر رہے ہوں کیا مشکل کام ہے۔ اس لیے وہ نہایت لاپرواہی سے قسمیں توڑیں گے اور کفارہ ادا کر کے اس سے عہدہ برآ ہوجائیں گے۔ اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کفارہ قسم توڑنے کی تلافی اسی صورت میں بن سکتا ہے ‘ جب اس کے ساتھ اس گناہ پر ندامت کا تصور بھی موجود ہو اور اس پر معافی مانگنے کی بےچینی بھی ساتھ ہو۔ قسم توڑنے کے کفارے کی تین صورتیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ 1 ” دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا “۔ یعنی جس طرح کا عام طور پر کھانا آپ کے گھر میں روزانہ کھایا جاتا ہے ‘ اس کی ایک اوسط نکال لی جائے۔ مثلاً گھر میں گوشت پکتا ہے ‘ کبھی سبزی اور کبھی دال پکتی ہے۔ اس کی اوسط یہ ہے کہ دس مسکینوں کو ایک وقت میں دال کھلا دی جائے اور دوسرے وقت میں سبزی گوشت سے تواضع کی جائے کیونکہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانے سے مراد ‘ دو وقت کھانا کھلانا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ ” اطعام “ کا معنی عربی لغت میں کھانا کھلانے کے بھی آتے ہیں اور کسی کو کھانا دے دینے کے بھی۔ اس لیے کفارہ دینے والے کو دونوں باتوں کا اختیار ہے کہ دس مسکینوں کو گھر بلا کر کھانا کھلا دے یا کھاناان کی ملکیت میں دے دے۔ فقہاء کے نزدیک ایک مسکین کا کھانا ‘ ایک آدمی کے فطرانہ کے برابر ہے یعنی پونے دو سیر گیہوں یا اس کی قیمت۔ 2 دوسری صورت یہ ہے کہ ” دس مسکینوں کو کپڑے دے دئیے جائیں “۔ یہاں ” کسوۃ “ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کا معنی پہناوا ہے ‘ لباس نہیں۔ اس لیے ان کو جو کپڑے دیئے جائیں ‘ ضروری نہیں کہ ان کی تن پوشی کے لیے کافی ہوں بلکہ صرف اتنے کپڑے جن سے سترپوشی ہو سکے ‘ وہ کافی ہیں اور کپڑا بھی ایسا ہونا چاہیے جو عام درجے کا آدمی پہنتا ہو۔ 3 تیسری صورت یہ ہے کہ ” غلام آزاد کیا جائے “۔ لیکن اب چونکہ غلامی کا رواج ختم ہوگیا ہے ‘ اس لیے اب تیسری صورت یہ ہے کہ اگر کھانا کھلانے اور کپڑے پہنانے پر قسم توڑنے والا قادر نہیں تو پھر اسے تین روزے رکھنے چاہئیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی بھی ایک صورت پر عمل کرنے کا قسم توڑنے والے کو اختیار ہے۔ یہ کفارہ کی ادائیگی اس وقت ہوگی ‘ جب قسم کھانے والا قسم توڑ دے گا۔ یعنی اپنی قسم کی خلاف ورزی کرے گا۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قسم توڑنے سے پہلے بھی کفارہ ادا کیا جاسکتا ہے ‘ یہ بڑی کمزور بات ہے۔ اس لیے کہ کفارہ ایک غلطی کا جرمانہ ہے اور جب تک اس غلطی کا ارتکاب نہیں ہوجاتا ‘ جرمانے کی ادائیگی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس طرح نماز کا وقت آنے یا نماز فرض ہونے سے پہلے نماز ادا نہیں کی جاسکتی یا ماہ رمضان آنے سے پہلے روزے نہیں رکھے جاسکتے ‘ اسی طرح قسم ٹوٹنے سے پہلے کفارہ ادا نہیں کیا جاسکتا۔ وَاحْفَظُوْآ اَیْمَانَکُمْ ( اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو) اس کے کئی مفہوم ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تک قسم کی شدید ضرورت نہ ہو اس وقت تک قسم نہ اٹھائی جائے کیونکہ قسم میں اللہ کا نام آتا ہے۔ اس کے سوا کسی اور نام کی قسم نہیں ہوتی۔ بےضرورت اگر اس کا نام استعمال کیا جائے تو اس کے نام کی قدر و قیمت دلوں سے جاتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ قسم ‘ قول وقرار ‘ شہادت اور عہد و پیمان کی بنیاد ہے اور عہد و پیمان نہ صرف تمام معاشرتی ‘ اجتماعی اور سیاسی حقوق و فرائض کی اساس ہے بلکہ اس عہد و میثاق کی بھی اساس ہے جو ہم نے اپنے رب کے ساتھ باندھا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی قسم کے معاملے میں نہایت محتاط رہے اور اگر یہ احتیاط کا دامن بار بار ہاتھ سے چھوٹنے کی وجہ سے ایک عادت سی بن جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اس قسم کا آدمی نہ معاشرے کی ذمہ داریوں کا اہل رہے گا ‘ نہ میثاقِ الٰہی کی ذمہ داریوں کا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ قسم کو صحیح مصرف میں استعمال کیا جائے ‘ فضول باتوں اور معصیت کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ تیسرامفہوم اس کا یہ ہے کہ جب کسی بات پر آدمی قسم کھالے تو اسے یاد رکھے ‘ ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے اسے بھول جائے اور پھر اس کی خلاف ورزی کر گزرے اور آخری مفہوم یہ ہے کہ جب کسی صحیح معاملہ میں بلا ارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پورا کیا جائے اور اگر اس کی خلاف وزری ہوجائے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکَرُوْنَ (اسی طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو) اس آیت میں یہ اشارہ موجود ہے کہ یہ توضیحی آیات ہیں ‘ جو بعد میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب میں نازل ہوئیں۔ انسانوں کو احکام شریعت کا ملنا اور زندگی کی راہنمائی کے لیے کتاب اور نبوت کے ذریعے زندگی کے ہر موڑ پر ہدایت اور روشنی کا عطا ہونا ‘ یہ بجائے خود اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اگر ان احکام شریعت میں کسی اجمال یا ابہام کے باعث کسی وضاحت کی ضرورت ہو اور وہ وضاحت طلب کرنے پر یا بےطلب اللہ کی طرف سے نازل ہوجائے تو یہ مزید اس کا فضل و احسان ہے اور پھر اس توضیح میں اگر بندوں کے لیے سہولت کے بھی بہت سے پہلو ملحوظ ہوں جیسا کہ غیر ارادی قسموں اور کفارہ کے معاملہ میں یہاں ملحوظ ہیں تو گویا احسان کے گوناگوں پہلو جمع ہوگئے۔ اس کا فطری تقاضا یہی ہوسکتا ہے کہ بندے اپنے پروردگار کے زیادہ سے زیادہ شکرگزار بنیں اور اگر اس ساری توضیح و تفصیل کے بعد بھی اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ انتہائی ناشکری ہوگی اور کفران نعمت ہوگا۔ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا کہ یہ آخری چند رکوع توضیحی آیات پر مشتمل ہیں ‘ جن میں سے کچھ سابقہ احکام کی تکمیل پر مشتمل ہیں اور کچھ سوالات کے جوابات ہیں۔ اگلی آیات کریمہ میں بھی انھیں دونوں ضرورتوں کو پورا کیا گیا ہے۔
Ayah 5:90

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہ شراب اور جوا ‘ یہ آستانے اور پانسے ‘ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (المائدہ :) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہ شراب اور جوا ‘ یہ آستانے اور پانسے ‘ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ‘ ان سے پرہیز کرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی “۔ اس آیت کریمہ میں چار چیزیں قطعی حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب ‘ دوسرا قماربازی ‘ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہوں اور چوتھے پانسے۔ اب تھوڑی سی ترتیب بدل کر ان تمام کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ حرمت ِ شراب شراب کی حرمت کے سلسلے میں اس سے پہلے دو حکم آچکے تھے۔ ایک سورة البقرۃ آیت 219 میں ‘ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ (اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘ آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے ‘ لیکن کچھ فائدے بھی ہیں اور گناہ ان دونوں کا ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے) پھر سورة النساء آیت 43 میں ارشاد ہوا : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نماز کے قریب مت جاؤ جب کہ تم نشے کی حالت میں ہو تاوقتیکہ (تم نشہ اترنے کے بعد) یہ نہ سمجھنے لگو کہ نماز میں کیا کہہ رہے ہو) ان دونوں آیتوں میں شراب کی مذمت اور قباحت کا ذکر ضرور موجود ہے ‘ لیکن اس کی حرمت کا ذکر نہیں اور مسلمانوں کو اس کے پینے سے منع نہیں کیا گیا۔ محتاط صحابہ ( رض) نے تو ان کے نزول پر ہی شراب سے تعلق توڑ لیا۔ لیکن بہت سی طبیعتیں اس کی کراہت کو محسوس کرتے ہوئے بھی اس سے ترک تعلق نہ کرسکیں کیونکہ اللہ نے اسے واضح طور پر حرام قرار نہیں دیا تھا ‘ اس لیے حضرت عمر فاروق ( رض) نے اس آیت کے اترنے پر اللہ کی بارگاہ میں درخواست کی : ربنا انزل علینا بیاناً شافیاً ( اے اللہ ! ہم پر واضح حکم نازل فرما) چناچہ اس دعا اور سوال کے جواب میں اور مسلمانوں کی عام ضرورت کے حوالے سے پہلی آیات کی تکمیل کے طور پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں ‘ جن میں شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری حکم کے آنے سے پہلے نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے ‘ بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے۔ لہٰذا جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو ‘ وہ اسے فروخت کردیں۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ ” اب جن کے پاس شراب ہے ‘ وہ نہ اسے پی سکتے ہیں ‘ نہ بیچ سکتے ہیں ‘ بلکہ وہ اسے ضائع کردیں “۔ چناچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ بعض لوگوں نے پوچھا : ہم یہودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے یہ چیز حرام کی ہے ‘ اس نے اسے تحفۃً دینے سے بھی منع کردیا ہے “۔ بعض لوگوں نے پوچھا : ہم شراب کو سرکے میں کیوں نہ تبدیل کردیں ؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ ” نہیں ‘ اسے بہا دو “۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دوا کے طور پر استعمال کی تو اجازت ہے ؟ فرمایا : ” نہیں ‘ یہ دوا نہیں ہے ‘ بلکہ بیماری ہے “۔ ایک اور صاحب نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں ‘ جو نہایت سرد ہے اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے۔ ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا : جو چیز تم پیتے ہو ‘ وہ نشہ کرتی ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : ہاں۔ فرمایا : تو اس سے پرہیز کرو۔ انھوں نے عرض کیا : مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔ فرمایا : اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو۔ ابن عمر ( رض) سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : لعَن اللّٰہ الخمر وشاربھا و ساقیھا وبائعھا ومبتاعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ (اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ‘ شراب پر اور اسکے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کرلے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کرلے جائی گئی ہو) ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا ‘ جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ ابتدائً آپ ﷺ نے ان برتنوں تک کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جن میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔ بعد میں جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح نافذ ہوگیا ‘ تب آپ ﷺ نے برتنوں پر سے یہ قید اٹھا لی۔ خمرکا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتا تھا اور مجازاً گیہوں ‘ جو ‘ کشمش ‘ کھجور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ لفظ بولتے تھے۔ مگر نبی ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو تمام ان چیزوں پر عام قرار دیا ‘ جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چناچہ حدیث میں حضور ﷺ کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر وکل مسکر حرام (ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے) کل شراب اسکر فھو حرام (ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے ‘ حرام ہے۔ ) وانا انھی عن کل مسکر (اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں) حضرت عمر ( رض) نے جمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ما خامر العقل (خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے ‘ جو عقل کو ڈھانک لے) نیز نبی ﷺ نے یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ : ما اسکر کثیرہ فقلیلہ حرام (جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے ‘ اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے) اور ما اسکر الفرق منہ فملٔ الکف منہ حرام (جس چیز کا ایک پورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو ‘ اس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے) شریعت کی رو سے یہ بات حکومت اسلامی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شراب کی بندش کے اس حکم کو بزور و قوت نافذ کرے۔ حضرت عمر ص کے زمانہ میں بنی ثقیف کے ایک رویشد نامی شخص کی دکان ‘ اس بنا پر جلوا دی گئی گئی تھی کہ وہ خفیہ طور پر شراب بیچتا تھا۔ ایک دوسرے موقع پر ایک پورا گائوں حضرت عمر ( رض) کے حکم سے اس قصور پر جلا ڈالا گیا کہ وہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کام ہو رہا تھا۔ جوا ‘ قمار اور ازلام کی حرمت دوسری چیز جس کو حرام کیا ہے ‘ وہ میسر ہے اس کا معنی ہے جوا اور قمار۔ شراب اور جوا یہ دونوں جڑواں بیماریاں ہیں۔ کم از کم عرب جاہلیت کی سوسائٹی میں اس کی حیثیت یہی تھی۔ اس لیے قرآن کریم بالعموم خمر اور میسر کو ایک ساتھ ذکر کرتا ہے۔ قحط سالی اور تنگدستی کے دنوں میں عرب شراب نوشی کی محفلیں منعقد کرتے تھے ‘ پھر شراب کے نشے میں دھت ہوجانے کے بعد جس کا اونٹ چاہتے ‘ ذبح کردیتے۔ مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کرلیتے ‘ پھر اس کے گوشت پر جوا کھیلتے ‘ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے ‘ ان کو بھونتے ‘ کھاتے ‘ کھلاتے اور شراب پیتے اور بعض اوقات اس شغل بدمستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کردیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہوجاتے اور سینکڑوں جانیں اس کی نذر ہوجاتیں۔ انہی دونوں برائیوں کے نتیجے میں عموماً گھر اجڑتے ‘ حتی کہ بستیاں تک ویران ہوجاتیں۔ اس کے بعد چوتھی چیز جو حرام کی گئی ہے ‘ چونکہ اس کا تعلق بھی میسر سے ہے ‘ اس لیے ہم اس کا ذکر اس کے ساتھ ہی کیے دیتے ہیں۔ وہ چوتھی چیز ہے ازلام ‘ یہ زلم کی جمع ہے۔ ازلام ان تیروں کو کہا جاتا ہے جن پر قرعہ اندازی کر کے عرب میں جوا کھیلنے کی رسم جاری تھی ‘ جس کی صورت یہ تھی کہ دس آدمی شرکت میں ایک اونٹ ذبح کرتے تھے ‘ پھر اس کا گوشت تقسیم کرنے کے لیے بجائے اس کے کہ دس حصے برابر کر کے تقسیم کرتے ‘ اس میں اس طرح جوا کھیلتے کہ دس عدد تیروں میں سات تیروں پر کچھ مقررہ حصوں کے کچھ نشانات بنا رکھتے تھے کسی پر ایک ‘ کسی پر دو یا تین اور تین تیروں کو سادہ رکھا ہوا تھا۔ ان تیروں کو ترکش میں ڈال کر ہلاتے تھے پھر ایک ایک شریک کے لیے ایک ایک تیر ترکش میں سے نکالتے اور جتنے حصوں کا تیر کسی کے نام پر نکل آتا ‘ وہ ان حصوں کا مستحق سمجھا جاتا اور جس کے نام پر سادہ تیر نکل آئے ‘ وہ حصہ سے محروم رہتا تھا۔ جیسے آج کل بہت سی قسمیں لاٹری کے طور پر بازاروں میں جاری ہیں ‘ اس طرح کی قرعہ اندازی قمار یعنی جوا ہے ‘ جو ازروئے قرآن حرام ہے۔ ان ازلام یعنی تیروں کو جس طرح جوئے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ‘ اسی طرح مشرکانہ فال گیری کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا ‘ جس میں کسی دیوی یا دیوتا سے قسمت کا حال پوچھا جاتا تھا یا غیب کی خبر دریافت کی جاتی تھی یا باہمی نزاعات کا تصفیہ کرایا جاتا تھا۔ مشرکین مکہ نے اس غرض کے لیے کعبہ کے اندر ہبل دیوتا کے بت کو مخصوص کر رکھا تھا۔ اس کے استھان میں سات تیر رکھے ہوئے تھے۔ ان پر مختلف الفاظ اور فقرے کندہ تھے۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو یا کھوئی ہوئی چیز کا پتہ پوچھنا ہو یا اونٹ کے مقدمہ کا فیصلہ مطلوب ہو۔ غرض کوئی کام بھی ہو ‘ اس کے لیے ہبل کے پانسہ دار کے پاس پہنچ جاتے۔ اس کا نذرانہ پیش کرتے اور ہبل سے دعا مانگتے کہ ہمارے اس معاملے کا فیصلہ کر دے۔ پھر پانسہ دار ان تیروں کے ذریعے سے فال نکالتا اور جو تیر بھی فال سے نکل آتا ‘ اس پر لکھے ہوئے لفظ کو ہبل کا فیصلہ سمجھا جاتا۔ اس تفصیل سے آپ نے اندازہ کرلیا ہوگا کہ ازلام ‘ جوئے ہی کی ایک دوسری صورت کا نام ہے۔ البتہ ! اس میں وسعت یہ ہے کہ ان کا استعمال عرب قرعہ اندازی کی شکل میں صرف معاملات میں ہی نہیں کرتے تھے بلکہ قسمت کا حال معلوم کرنے کے لیے بھی ان کو استعمال کیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ بت پرستی کو بھی مستحکم کیا جاتا اور ہبل کی عزت و عظمت میں اضافہ کیا جاتا تھا۔ اسلام نے میسر اور ازلام کو حرام کر کے جہاں ایک طرف بت پرستی کے واسطے سے بننے والے اتفاقی عوامل کا خاتمہ کیا ‘ وہیں جوئے کی قسم کے وہ سارے کھیل اور کام (بھی ممنوع قرار دیئے) جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کی بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقاً فلاں شخص کا نام نکل آیا ہے ‘ لہٰذا ہزارہا آدمیوں کی جیب سے نکلا ہوا روپیہ اس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے۔ یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمہ کے بہت سے حل صحیح ہیں ‘ مگر انعام وہ شخص پائے گا جس کا حل کسی معقول کوشش کی بناء پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اس حل کے مطابق نکل آیا ہو جو صاحب معمہ کے صندوق میں بند ہے۔ ان تین اقسام کو حرام کردینے کے بعد قرعہ اندازی کی صرف وہ سادہ صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے ‘ جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر حصوں کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو۔ مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے بالکل برابر ہے اور فیصلہ کرنے والے کے لیے ان میں سے کسی کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس صورت میں ان کی رضامندی سے قرعہ اندازی پر فیصلہ کا مدار رکھا جاسکتا ہے۔ یا مثلاً دو کام یکساں درست ہیں اور عقلی حیثیت سے آدمی ان دونوں کے درمیان مذبذب ہوگیا ہے کہ ان میں سے کس کو اختیار کرے ؟ اس صورت میں ضرورت ہو تو قرعہ اندازی کی جاسکتی ہے۔ نبی ﷺ بالعموم ایسے مواقع پر یہ طریقہ اختیار فرماتے تھے ‘ جبکہ دو برابر کے حق داروں کے درمیان ایک کو ترجیح دینے کی ضرورت پیش آجاتی تھی اور آپ ﷺ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپ ﷺ خود ایک کو ترجیح دیں گے تو دوسرے کو ملال ہوگا۔ آستانہ کی حرمت درمیان میں تیسری چیز جس کو حرام کیا گیا ہے وہ ہے نصب۔ جس سے مراد وہ سب مقامات ہیں جن کو غیر اللہ کی نذر و نیاز چڑھانے کے لیے لوگوں نے مخصوص کر رکھا ہو ‘ خواہ وہاں پتھر یا لکڑی کی کوئی مورت ہو یا نہ ہو۔ ہماری زبان میں اس کا ہم معنی لفظ آستانہ یا استھان ہے ‘ جو کسی بزرگ یا دیوتا سے یا کسی خاص مشرکانہ اعتقاد سے وابستہ ہو۔ عرب میں ایسے تھان یا استھان بیشمار تھے ‘ جہاں دیویوں ‘ دیوتائوں اور جنوں کی خوشنودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ مسلمان جو عقیدہ توحید کے آج سب سے بڑے علم بردار ہیں ‘ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں بھی اس طرح کی بیہودہ حرکتیں ہوتی ہیں ‘ جن کا تعلق عرب کی جاہلیت کی اسی رسم سے معلوم ہوتا ہے۔ بعض جگہ جنوں کے نام سے اور بعض جگہ بزرگوں کے نام سے ‘ ایسی ایسی خرافات کی جاتی ہیں ‘ جنھیں دیکھ کر کوئی یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ یہ امت محمدیہ ﷺ کے افراد ہیں۔ قرآن کریم نے ان چاروں چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد انھیں نجس شیطانی کاموں میں سے قرار دیا یعنی یہ شیطان کی ایجادات اور کارستانیوں میں سے ہیں۔ یہ حربے اس نے اس لیے ایجاد کیے تھے کہ بنی آدم کو شریعت کی صراط مستقیم سے بہکانے کا جو عہد اس نے کر رکھا ہے ‘ اسے پورا کرسکے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ جہاں جہاں بھی ان چاروں حرام کردہ چیزوں میں سے کسی ایک کے چلن کو بھی عام کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے ‘ وہیں شرعی احکام کی بالادستی ختم ہونے لگتی ہے اور لوگ اسلامی زندگی سے رفتہ رفتہ غیر اسلامی زندگی کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں معاشرت اور اخوت کی بنیادیں بری طرح سے شکست و ریخت کا شکار ہونے لگتی ہیں۔
Ayah 5:91

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو بتائو ! کیا اب تم ان سے باز آتے ہو ؟

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِج فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ ۔ (المائدہ : 91) ” شیطان تو بس یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں لگا کر تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے ‘ تو بتائو ! کیا اب تم ان سے باز آتے ہو ؟ “۔ شراب اور جوئے کے تین یقینی نتائج شراب اور جواء یوں تو انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ہر سطح پر تباہ کن برائیاں ہیں ‘ لیکن ان کی اصل تباہی یا وسیع تر تباہی اس وقت شروع ہوتی ہے ‘ جب کسی معاشرے میں ان کے ساتھ اشتغال اور انہماک بڑھتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ کہہ کر اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ شیطان ان برائیوں میں محدود سطح پر معاشرے کے آلودہ ہونے سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ پوری طرح معاشرے کو ان برائیوں میں ڈبو دیا جائے اور جب یہ صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو پھر اس کے تین نتائج نکلتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ شیطان یہ تین نتائج پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان تینوں باتوں کو بیان فرمایا گیا ہے : ایک یہ کہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہارے اندر عداوت اور بغض پیدا کر دے۔ دوسری یہ بات کہ تمہیں ذکر اللہ سے روکے۔ تیسری یہ بات کہ تمہارا تعلق نماز سے توڑدے۔ اگر تھوڑا سا تدبر کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تمام تر قوت انہی تینوں باتوں میں مضمر ہے کیونکہ اگر اس میں بغض اور عداوت پیدا ہوجائے تو معاشرہ کھیل کھیل ہوجاتا ہے اور اسلامی اخوت جو مسلمانوں میں اللہ کا خاص کرم ہے ‘ وہ تباہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اسلامی معاشرے کی تمام تر مضبوطی اور اس کے سمت سفر کا تعین اس کا دارومدار اللہ کی یاد کے باقی رہنے پر ہے اور یاد کی عملی شکل اور اس کی ابتدائی اور آخری صورت نماز ہے۔ اس لحاظ سے اسلامی معاشرے کا ان تینوں قوتوں سے بےبہرہ ہوجانا ‘ یہ مسلمانوں کے لیے قیامت سے پہلے قیامت ہے۔ اس لیے ہمیں اس پر تھوڑا سا غور کرنا ہے کہ شراب اور جوئے سے یہ تینوں برائیاں کس طرح پیدا ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے شراب کو لیجئے۔ جس قوم کی مجلسی زندگی میں شراب داخل ہوجاتی ہے اس کا سب سے پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب مختلف تقریبات میں شریک ہونے والے مل جل کے شراب پیتے ہیں تو ان میں سے اکثر شراب کے زیر اثر ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ پھر ان کے سفلی جذبات کے تحت جو کچھ ان کے دماغ میں ہوتا ہے ‘ وہ زبانوں پر آتا ہے اور عزتیں پامال ہونے لگتی ہیں۔ لہٰذا عموماً اسی مجلس کے شرکاء میں سے کوئی ایک اٹھتا ہے تو دوسرے شریک مجلس کی بیٹی ‘ بہن یا بیوی کے بارے میں عشق کا اظہار کرنا شروع کردیتا ہے اور جب نشہ آخری حدوں کو چھونے لگتا ہے تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ خواتین کے گریبانوں تک مردوں کے ہاتھ پہنچنے لگتے ہیں۔ اب دو صورتوں میں سے ایک صورت ضرور ہو کے رہتی ہے کہ اگر ان شرابیوں میں عفت و عصمت اور غیرت کی کوئی رمق بھی باقی ہے تو یقینا جس کی بہن بیٹی یا بیوی کے بارے میں اس طرح کی بےحیائی کا اظہار ہو رہا ہے ‘ وہ یقینا اس پر ردعمل کا اظہار کرے گا ‘ جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے گریبانوں تک ہاتھ پہنچیں گے ‘ مار کٹائی ہوگی اور کوئی بڑی بات نہیں کہ ان میں سے کئی ایک گھر جانے کی بجائے پولیس کے نرغے میں پہنچ جائیں۔ یہ صورت حال صرف ایک مفروضہ نہیں بلکہ وہ عرب جو قرآن کریم کے احکام کے براہ راست مخاطب تھے ‘ ان میں آئے دن اس طرح کے واقعات پیش آتے تھے۔ وہ ایک طرف تو شراب کے رسیا تھے اور دوسری طرف عفت کا احساس اور غیرت کا جذبہ بھی پوری طرح ان میں توانا تھا۔ اس لیے جب کوئی شرابی شراب کی ترنگ میں ان کی عزت سے کھیلنے لگتا تھا تو ہاتھ ہمیشہ قبضہ شمشیر تک پہنچتے اور کندھوں سے سروں کا بوجھ ہلکا ہونے لگتا اور پھر ایسی لڑائی چھڑتی جس کی آگ برسوں تک بجھنے نہیں پاتی تھی۔ چناچہ عربوں کی کئی بڑی بڑی لڑائیاں اسی شراب خانہ خراب کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔ حتیٰ کے شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے صحابہ ( رض) کی بعض مجالس میں بھی لڑائی تک تو نوبت نہیں پہنچی لیکن بدمزگی کے بعض واقعات ضرور پیش آئے اور انہی واقعات کے باعث حضرت عمر فاروق ( رض) نے اللہ سے دعا کی کہ ” یا اللہ ! شراب کے بارے میں مکمل حکم نازل فرما “ آج بھی اس طرح کے واقعات سے شرابیوں کے حوالے سے واقفان حال بہت کچھ آگاہی رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ شراب پینے والے شراب کے نتیجے میں ہوش و خرد کے ساتھ ساتھ عفت و عصمت کے احساس اور جذبہ غیرت سے بھی محروم ہوجائیں ‘ جس طرح مغربی سوسائٹی میں ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ شراب کے نتیجے میں ان میں عفت عزت ‘ ناموس اور وفا و حیا کا احساس تک باقی نہیں رہا۔ ظاہر ہے مسلمان کتنے بھی بدراہ کیوں نہ ہوجائیں ‘ اس صورت حال کو قبول کرنا ان کے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اس وقت بھی اگرچہ ہمارا بالائی طبقہ مغربی تعلیم و تہذیب کے زیر اثر ایک حد تک اس کا شکار ہوچکا ہے ‘ لیکن مسلمانوں کی عمومی زندگی ابھی تک اس اثر سے محفوظ ہے۔ مگر شیطان کا اصل ہدف چونکہ اسی صورت حال کو پیدا کرنا ہے ‘ اس لیے وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے اس ہدف کو حاصل نہ کرلے۔ مختصراً یہ کہ شراب کے ذریعے بغض و عداوت کا پیدا ہونا ‘ یہ ایک ایسی مشاہدے کی بات ہے ‘ جس کا انکار کرنا مشاہدے کا انکار کرنا ہے۔ جہاں تک مَیْسِرِ یعنی ” جوئے “ کا تعلق ہے ‘ اس کے ذریعے بھی شیطان مسلمانوں میں یہی بغض و عداوت کی فضا پیدا کرنا چاہتا ہے اور جہاں جہاں بھی جواء ہوتا ہے ‘ جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں ایسی صورت حال بالعموم دکھائی دیتی ہے ‘ ہمارے احتسابی ادارے مجھے نہیں معلوم کہ اس طرف دھیان دیتے ہیں یا نہیں۔ لیکن میرا گمان یہ ہے کہ یہ اندھے قتل اور نامعلوم وارداتیں ‘ جہاں ان کے اور بہت سارے اسباب ہیں وہاں اس کا ایک بڑا سبب یہ قمار باز بھی ہیں کیونکہ قمار اور جوئے کی بازی میں یہ تو طے شدہ بات ہے کہ دو فریقوں میں سے ایک فریق ہارتا ہے لیکن وہ اپنے اس شغل ناپاک سے کبھی دست کش نہیں ہوتا۔ اسے ہمیشہ یہ خیال ہوتا ہے کہ آج میں بازی ہار گیا ہوں ‘ کل ضرور جیت لوں گا۔ رفتہ رفتہ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ گھر کا اثاثہ تک اس کی نذر ہوجاتا ہے اور بعض ناہنجار تو اپنی بیویاں تک اس میں ہار دیتے ہیں۔ اندازہ فرمایئے ! جب ایک آدمی سب کچھ ہار دینے کے بعد فاقوں کی نذر ہوتا ہے اور گھر میں بچے بھوک سے بلکنے لگتے ہیں اور اس کا اپنا پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے غیظ و غضب کا تنور بن جاتا ہے تو پھر یہ شخص خود سے جیتے ہوئے آدمی کے بارے میں کیا محبت کے جذبات رکھے گا ؟ یقینا اس کے اندر غیظ و غضب کی فصل اگے گی اور عداوت اس کی رگ رگ میں سما جائے گی۔ جیسے جیسے قمار بازوں کی تعداد بڑھے گی ویسے ویسے اسلامی معاشرے میں غیظ و غضب کی فصل بھی بڑھتی جائے گی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک نہ ایک دن یہ معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔ یہی وہ صورت حال ہے ‘ جس کے بارے میں یہاں توجہ دلائی جا رہی ہے کہ خمر اور قمار سے شیطان تمہارے اندر عداوت اور بغض کے جذبات پیدا کر کے ‘ تمہیں تباہ کردینا چاہتا ہے۔ -2 دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اس خمر اور میسر یعنی شراب اور جوئے سے شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں اللہ کے ذکر سے روک دے۔ اب ہم الگ الگ دونوں حوالوں سے دیکھتے ہیں کہ شیطان کس طرح ان کے ذریعہ ذکر اللہ سے روکتا ہے۔ جہاں تک شراب کا تعلق ہے ‘ اس کا سب سے پہلا اثر جو ایک مے خوار یعنی شرابی پر ہوتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ شراب کا نشہ اسے زندگی کی ضرورتوں اور زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا راستہ دکھاتا ہے ‘ وہ اپنے فرائض اور اپنی ذمہ داریوں سے جب اپنی کوتاہیوں کے باعث عہدہ برآ ہونے سے قاصر رہتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ حالات کا مقابلہ کرے اور محنت اور کوشش سے ناکامیوں پر غالب آنے کی کوشش کرے ‘ وہ شراب کے نشے میں مغلوب ہو کر گریز کی ایک صورت پیدا کرلیتا ہے۔ شروع شروع میں تو ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے اس کی مشکلات بڑھتی جاتی ہیں ‘ ویسے ویسے اس کی خیالی جنت کی طلب افزوں ہوتی جاتی ہے ‘ آخر وہ مرحلہ بھی آجاتا ہے کہ انسانی ذمہ داریوں سے فرار کے بعد ‘ وہ اللہ کی یاد سے بھی بیخبر ہوجاتا ہے۔ اسے یہ بات بھول جاتی ہے کہ مجھے کل کو اللہ کے سامنے جواب دہی بھی کرنی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کوئی ٹیم اس وقت تک کامیابی حاصل کرتی ہے ‘ جب تک ان میں کپتان کی اطاعت کا جذبہ اور ٹیم ورک موجود ہو۔ کوئی ادارہ بھی اسی وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکتا ہے ‘ جب تک اسے اپنے سربراہ کا احساس اور اپنی ذمہ داریوں کا شعور حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خود فراموشی ‘ یہ کسی کے لیے بھی سب سے بڑی سزا ہے اور یہ اس کی ناکامیوں کا اصل باعث ہے۔ یہاں یہی کہا جا رہا ہے کہ شیطان تمہیں شراب کے ذریعے سے اللہ کے ذکر سے روک کر تمہیں اصل قوت سے محروم کر دے گا۔ شروع میں تمہارے اندر خدا فراموشی آئے گی ‘ جس کے نتیجے میں تمہیں خود فراموشی کی سزا ملے گی اور یہ وہ سزا ہے ‘ جس کے بعد نہ کوئی فرد باقی رہتا ہے ‘ نہ کوئی قوم زندہ رہتی ہے۔ جواء اور قمار کے ذریعہ بھی شیطان اللہ کے ذکر سے روکتا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ جوا کھیلنے والے کی خواش یہ ہوتی ہے کہ میں بغیر محنت کیے ‘ بغیر تکلیف اٹھائے ‘ بغیر حالات سے لڑے ‘ بغیر دوڑبھاگ کیے اور بغیر عرصہ دراز تک امید کے چراغ جلائے ‘ کوئی ایسا ہاتھ ماروں جس کے نتیجے میں مجھے ایک بڑی دولت مل جائے۔ میں راتوں رات امیر بن جاؤں۔ پھر زندگی کو میں عیش و عشرت سے گزاروں۔ یہ خواہش یوں تو بڑی مختصر اور بڑی معصوم سی لگتی ہے ‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ہوس زر اور دنیا کی محبت کا ایسا شدید غلبہ ہوتا ہے ‘ جس کے سامنے نہ حلال و حرام کی تمیز باقی رہتی ہے ‘ نہ کسی اخلاقی قدر کا وجود رہتا ہے۔ نہ انسانیت کے رشتے باقی رہتے ہیں ‘ نہ ذمہ داریوں کے احساس کا وجود رہتا ہے۔ آدمی کے سر پر پیسے دھیلے کی ایک ایسی دھن سوار ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کی سب سے بڑی قدر ‘ سب سے بڑی طاقت اور سب سے بڑی عزت کی علامت صرف دولت دنیا کو سمجھتا ہے۔ یہی اس کا معبود ہے ‘ جس کی وہ رات دن پوجا کرتا ہے۔ یہی اس کا محبوب ہے ‘ جس کے وہ راتوں کو سپنے دیکھتا ہے۔ زندگی کی حقیقتوں سے وہ اس طرح فرار اختیار کرتا ہے ‘ جس طرح ایک سگ گزیدہ پانی سے ڈرتا اور اس سے دوڑتا ہے۔ قمار اسی دولت دنیا کی ہوس کو عبادت کی حد تک پہنچا دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس کے نتیجے میں جیسے میں نے عرض کیا کہ ہر تعلق بھول جاتا ہے اور انسانیت تک پسپا ہوجاتی ہے۔ آدمی شہنشاہ بھی ہو تو حب دنیا کا اسیر ہو کر وہ اسلامی دنیا کو تباہ کرنے پر تل جاتا ہے۔ یہ ہم تاریخ میں جتنے غداروں کے نام پڑھتے ہیں ‘ ان کی اگر آپ تحقیق کریں تو ان میں سے ایک ایک فرد آپ کو حب دنیا کا اسیر بلکہ اس کی محبت میں پاگل اور دیوانہ دکھائی دے گا۔ کسی نے اس کے نتیجے میں ملک بیچا ‘ کسی نے قوم تک فروخت کر ڈالی۔ یہ جعفر و صادق قسم کی مخلوق ‘ اسی خطرناک بیماری کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مستعصم عباسی جیسا خلیفہ بھی خلافت کو تار تار کر کے رکھ دیتا ہے۔ یہ بیماری کئی اور اسباب سے بھی پیدا ہوتی ہے ‘ لیکن اس کا اہم تر ذریعہ یہی جوا اور قمار ہے ‘ جس کا آخری نتیجہ خدا فراموشی ہے۔ جس کی سزا خود فراموشی کی شکل میں ملتی ہے اور بالآخر تمام ذمہ داریوں ‘ تعلقات ‘ رشتے ناطے حتیٰ کے اپنی ذات کی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ -3 تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ” شیطان تمہیں نماز سے روک دینا چاہتا ہے “۔ یہ اگرچہ ذکر اللہ ہی کا ایک حصہ ہے ‘ لیکن الگ سے اس کا ذکر یقینا بےسبب نہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شراب ہو یا قمار ‘ ان خانہ خراب قسم کی برائیوں کے نتیجے میں شیطان سب سے پہلے جس عظیم نعمت سے مسلمانوں کو محروم کرتا ہے ‘ وہ نماز ہے کیونکہ نماز ہی اصل میں اللہ کی یاد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پانچ وقت نماز کے ذریعہ اللہ کی یاد دہانی اس طرح آسان کردی گئی ہے کہ اگر آدمی تھوڑے سے احساس سنجیدگی کے ساتھ نماز ادا کرے تو اللہ کی یاد سے غافل ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا۔ واقعہ یہ ہے کہ جس معاشرے کو اللہ کی یاد سے غافل کرنا مقصود ہو ‘ اس کی آسان ترین شکل یہ ہے کہ اسے نماز سے غافل کردیا جائے اور جس معاشرے کو اللہ سے جوڑنا مقصود ہو ‘ اس کا بھی اہم تر راستہ یہ ہے کہ اسے نماز کا عادی بنادیا جائے اور نماز کے شعور سے بہرہ ور کردیا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اندر جو سب سے پہلی خرابی پیدا ہوئی ‘ جس کے نتیجے میں پھر وہ دوسری خرابیوں کا شکار ہوئے اور آخر اپنے انجام کو پہنچ گئے ‘ وہ خرابی یہی تھی کہ انھوں نے نماز ضائع کردی تھی۔ شراب تو آدمی کو ہوش و حواس سے بےبہرہ کردیتی ہے اور خود اس کو اپنی ذات سے محروم کردیتی ہے اور جواء دنیا طلبی کی محبت میں ڈبو کر اور آئے دن جوئے کی سکیموں میں اندھوں کی طرح لگا کر باقی ہر رشتے سے کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اس لیے ان دونوں کی موجودگی میں نماز سے تعلق باقی رہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جب نماز غائب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی یاد یعنی ذکر اللہ کا کون سا موقع باقی رہ جاتا ہے۔ خمر اور قمار کے بارے میں تفصیل سے ان برائیوں کا ذکر کرنے اور اس کی ممکن قباحتوں اور خطرات سے آگاہ کرنے کے بعد مسلمانوں سے پوچھا جا رہا ہے : فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ (تو بتائو کیا اب تم ان سے باز آتے ہو) استفہام عربی زبان میں تاکید ‘ اقرار ‘ تنبیہ ‘ انکار ‘ زجر ‘ امر اور تحقیر کے مفہوم کے لیے آتا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ امر کے مفہوم میں ہے۔ لیکن اس اسلوب میں امر کے ساتھ زجر ‘ موعظت ‘ تاکید و تنبیہ اور اتمام حجت کا مضمون بھی پیدا ہوگیا ہے۔ یہاں اس حقیقت کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ شراب اور جوئے کے مقاصد کی تفصیل اتنے مختلف مواقع پر اور اتنے مختلف پہلوئوں سے تمہارے سامنے آچکی ہے کہ اب اس معاملے میں کسی کے لیے بھی کسی اشتباہ کی گنجائش باقی نہیں رہی تو بتائو اب بھی اس سے باز آتے ہو یا نہیں۔ اب تمہارے لیے ایک ہی راستہ ہے۔ اگر تم ان تمام خطرات سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنا چاہتے ہو تو شیطان کے بچھائے ہوئے جال سے نکل کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں آجاؤ اور اس کی نافرمانی اور سرکشی سے بچو۔
Ayah 5:92

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے

وَاَطِیْعُوا اللہ َ وَاَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوْا ج فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَاعَلیٰ رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ۔ (المائدہ : 92) (اور اللہ کی اطاعت کرو ‘ رسول کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہو۔ اگر تم اعراض کرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف واضح طور پر پہنچا دینا ہے) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ اور گزشتہ آیات میں محرمات شرعیہ کے سلسلے میں جس طرح تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں اتمامِ حجت کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جہاں تک سمجھانے بجھانے اور مختلف پیرایوں میں شرعی احکام کی وضاحت کا تعلق تھا اس میں کوئی کمی باقی نہیں رہی ‘ اب بھی اگر تم بجائے اطاعت کے معصیت کا راستہ اختیار کرتے ہو تو تم اللہ کے حضور اپنی ذمہ داری کے حوالے سے پکڑے جاؤ گے۔ رسول اللہ ﷺ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ ان کا کام صاف صاف واضح طور پر اللہ کے احکام کو پہنچانا ہے ‘ سو انھوں نے پوری طرح اس کا حق ادا کردیا اور مکمل طور پر اتمام حجت کردیا۔ اب جو اسکے بعد بھی بےراہ روی اختیار کرے گا وہ اسکے نتائج بھگتنے کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھے۔ شراب کی حرمت کا ذکر جس تفصیل اور شدت کے ساتھ کیا گیا ہے اور پھر آخر میں جس طرح اس سے رکنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ اس میں یقینا ایک زجر اور توبیخ مضمر ہے۔ کوئی وجہ نہیں تھی اسلامی معاشرے پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوتے جبکہ وہ معاشرہ صحابہ کرام ( رض) کا تھا۔ چناچہ انھوں نے اس کے واقعی اثرات محسوس کیے اور اس کی وجہ سے ‘ وہ اس پریشانی میں مبتلا ہوگئے کہ شراب کی حرمت کے اس حکم کے نزول سے پہلے دو ابتدائی حکم بھی آچکے تھے ‘ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بعض دوسرے صحابہ ( رض) کی طرح ہم اسی وقت شراب نوشی سے رک جاتے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شراب کی برائی کے ذکر کے باوجود (اگرچہ اس کی حرمت کا ذکر نہیں آیا تھا) ہم نے نہ رک کر کوئی برائی کی ہو اور یہ جو تاخیر ہم سے ہوئی ہے ‘ کہیں اللہ کے ہاں اس کی بازپرس نہ ہو۔ مزید پریشانی انھیں یہ بھی لاحق ہوئی کہ کتنے مسلمان شراب کی اس مکمل حرمت کے نزول سے پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے اور اس دوران وہ شراب پیتے رہے ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے اس بارے میں سوال ہو ‘ چناچہ یہی احساسات زبانوں پر بھی آئے اور اس کے جواب میں پروردگار نے اگلی آیت نازل فرمائی :
Ayah 5:93

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں جو انھوں نے کھائی ‘ جب کہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ‘ ایمان لائے اور عمل صالح کیا ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور خوبی کے ساتھ اس کا حق ادا کیا اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے

لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَامَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا ط وَ اللہ ُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 93) ” ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں جو انھوں نے کھائی ‘ جب کہ انھوں نے تقویٰ اختیار کیا ‘ ایمان لائے اور عمل صالح کیا ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور ایمان لائے ‘ پھر تقویٰ اختیار کیا اور خوبی کے ساتھ اس کا حق ادا کیا اور اللہ خوب کاروں کو دوست رکھتا ہے “۔ صحابہ ( رض) کے دلوں میں جو شبہات اور خیالات پیدا ہوئے تھے ‘ جس کا باعث اللہ کے سامنے ان کی جواب دہی کا گہرا احساس تھا ‘ اس آیت میں اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں پرسش کسی ایسی چیز کے کھانے پینے پر نہیں ہوگی ‘ جس کے بارے میں کسی صریح ممانعت کی خلاف ورزی کا ارتکاب نہیں ہوا ہے۔ شریعت الٰہی کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جس چیز کے باب میں جو حد معین ہوگئی ہو ‘ لوگ اس حد کا احترام کریں۔ پھر اگر اس حد میں کوئی اضافہ شریعت کی طرف سے ہوجائے تو اس کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کرلیں اور اگر اس پر مزید اضافہ ہوجائے تو اس کو بھی تھام لیں اور پھر پوری خوبی ‘ پوری احتیاط اور پورے اخلاص کے ساتھ زندگی بھر اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو پسند کرتے ہیں ؟ صحابہ ( رض) کو یہ جو خیال پیدا ہوا تھا کہ اس سے پہلے دو آیتوں میں چونکہ شراب کی مذمت کردی گئی تھی ‘ ہمیں اسی وقت اس سے رک جانا چاہیے تھا ‘ ہم نے اس میں تاخیر کر کے شاید کوئی جرم کیا ہے۔ اس پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ شریعتِ الٰہی میں احکام کا نزول بتدریج ہوا ہے اور یہ تدریج بندوں کی سہولت کے پہلو سے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے۔ اس وجہ سے ان لوگوں پر کوئی گرفت نہیں جنھوں نے اس کی بخشی ہوئی سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ کسی چیز سے پرہیز کرنا اس وقت لازم ہوتا ہے ‘ جب اس کی حرمت نازل ہو اور حرمت کے نازل ہونے میں تاخیر بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ پروردگار ابھی اس پر پابندی لگانا نہیں چاہتا ظاہر ہے ان لوگوں سے بازپرس کیوں کی جائے گی جنھوں نے حرمت کے نزول سے پہلے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اگرچہ ان لوگوں کو سبقت الی الخیر کا صلہ ضرور ملے گا ‘ جنھوں نے اس معاملے میں ہوا کا رخ پہچان کر اس کے پہلے ہی مرحلہ میں احتیاط اور تقویٰ کا آخری قدم اٹھا لیا۔ مثلاً شراب کی حرمت کا حکم بتدریج نازل ہوا۔ لیکن دین کے معاملے میں جن کی حس زیادہ تیز تھی ‘ وہ پہلے ہی مرحلہ میں اس سے تائب ہوگئے۔ یہ ان کے کمال درجہ فطرت اسلام پر ہونے کی دلیل ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر بھی رحم فرمائے گا جنھیں اگرچہ یہ درجہ کمال تو حاصل نہ ہوسکا ‘ لیکن انھوں نے کسی مرحلہ میں حدودالٰہی سے تجاوز نہیں کیا۔ البتہ اس آیت میں جو بات بہت توجہ کے قابل ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس میں تین بار تقویٰ کا ذکر ہوا ہے۔ پھر پہلی بار تقویٰ کے ذکر کے ساتھ ایمان و عمل کو ذکر کیا گیا ‘ دوسری دفعہ صرف ایمان کا ذکر ہے اور تیسری بار احسان کو ذکر فرمایا گیا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ چونکہ شراب کی حرمت کا ذکر تدریجاً ہوا ہے آخری آیت سے پہلے دو آیتیں مختلف وقتوں میں نازل ہوچکی تھیں ‘ اس میں اگرچہ حرمت کا ذکر تو نہیں آیا تھا ‘ لیکن جو کچھ اس میں فرمایا گیا تھا ‘ عمل تو اس پر بھی کرنا ضروری تھا اور تقویٰ چونکہ حدود الٰہی کی نگہداشت کا نام ہے ‘ اس لیے تینوں آیتوں کے حوالے سے تین دفعہ تقویٰ کو ذکر فرما کر یہ بتلانا مقصود ہے کہ صحابہ ( رض) کو اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ ہم اس سے پہلے شراب نوشی سے کیوں نہ رک گئے کیونکہ مقصود ہر طرح کے حکم کی اطاعت ہے ‘ جسے تقویٰ کہا جاتا ہے۔ پہلے جن باتوں کا حکم دیا گیا تھا ‘ انہی پر عمل کرنا ضروری تھا ‘ سو آپ لوگوں نے کیا اور جب آخری آیت میں حرمت نازل ہوگئی تو آپ لوگ شراب نوشی سے رک گئے۔ اس طرح تینوں آیتوں کے حوالے سے بفضلہ تعالیٰ تقویٰ برابر آپ کا عناں گیر رہا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے پریشانی کی کوئی وجہ نہیں۔ البتہ ! اس کے ساتھ ایمان و عمل کا ذکر کے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تقویٰ یعنی اس کے احکام کی اطاعت کرنے اور نافرمانی سے بچنے کا اعتبار صرف اس وقت ہے ‘ جب اس کے ساتھ ایمان و عمل بھی شامل ہو کیونکہ بہت سے لوگ کھانے پینے کے معاملے میں بڑے محتاط اور متقشف ہوتے ہیں حالانکہ ایمان و عمل صالح سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جوگیوں ‘ سنیاسیوں اور راہبوں سے قطع نظر جو لوگ اعمال سفلیہ کا کاروبار کرتے ہیں ‘ وہ بھی شدت سے بہت سی چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور بہت ساری پابندیاں اپنے اوپر لازم سمجھتے ہیں اور بڑی سختی کے ساتھ ان کی نگہداشت بھی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے اس پابندی اور نگہداشت کا دین سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اعتبارصرف اس احتیاط اور پابندی کا ہے جو ایمان و عمل صالح کے ساتھ ہو۔ آخر میں تقویٰ کے ساتھ احسان کی جو شرط ہے ‘ وہ یہ بتلانے کے لیے ہے کہ تقویٰ ایمان اور عمل صالح کا اپنا اپنا مقام ہے۔ لیکن یہ اپنے معراج کو اس وقت پہنچتے ہیں ‘ جب ان کے ساتھ احسان کی صفت بھی شامل ہوتی ہے۔ جس کا مقصود یہ ہے کہ آدمی اللہ کی حدود کی خلاف ورزی سے اس طرح بچے ‘ جس طرح اس سے بچنے کا حق ہے۔ وہ ہر حکم کی تعمیل اس طرح کرے گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اس یقین سے اپنے باطن کو منور رکھے کہ اگر وہ اللہ کو نہیں دیکھ رہا ہے تو اللہ تو بہرحال اس کو دیکھ رہا ہے۔ یہی احسان تقویٰ کی اصل روح اور حدودالٰہی کا اصل پاسبان ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔