Ayah 5:110اِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْکَ وَ عَلٰی وَالِدَتِکَ مہ اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ قف تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلاً ج وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالاِْنْجِیْلَ ج وَاِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ بِاذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْھَا فَتَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِیُٔ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ج وَاِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰی بِاِذْنِیْ ج وَاِذْ کَفَفْتُ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ عَنْکَ اِذْ جِئْتَھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ اِنْ ھٰذَا اِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (110)
” جبکہ اللہ کہے گا : اے عیسیٰ ابن مریم ! میرے ان احسانات کو یاد کرو ‘ جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیے ‘ جبکہ میں نے روح القدس سے تمہاری تائید کی ‘ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گہوارے میں بھی اور ادھیڑعمر کا ہو کر بھی اور یاد کرو ! جبکہ میں نے تمہیں کتاب اور حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی اور یاد کرو ! جبکہ تم مٹی سے ایک صورت ‘ پرندے کی صورت کی مانند ‘ میرے حکم سے بناتے تھے ‘ پھر تم اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی اور تم اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتے تھے اور یاد کرو ! جبکہ تم مردوں کو میرے حکم سے (قبروں سے) نکال کھڑا کرتے اور یاد کرو ! جبکہ بنی اسرائیل کے شر کو میں نے تم سے دور رکھا جبکہ تم ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو ان کے کافروں نے کہا کہ یہ تو بس صریح جادو ہے “۔
یہود اور عیسائیوں پر اللہ کی طرف سے اتمامِ حجت
اس آیت کریمہ میں پروردگار یہود و نصاریٰ دونوں پر حجت تمام فرما رہے ہیں۔ یہود پر ان معنوں میں کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو قبول کرنے سے انکار کیا اور آپ کے معجزات کو جادو اور شیطانی اثرات کا نتیجہ قرار دیتے رہے۔ ان کے سامنے جب اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر فرمائیں گے اور یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کے احسانات تھیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں پر ان کا ظہور دراصل وہ بینات تھے ‘ جو ان کی نبوت اور صداقت کے دلائل تھے۔ لیکن یہود نے اس کو قبول نہ کر کے اپنی عاقبت تباہ کی اور قرآن کریم کے نزول کے وقت قیامت سے پہلے ‘ ان باتوں کا بیان کرنا یہود کے لیے ایک اتمام حجت سے کم نہیں کہ آج بھی اگر وہ چاہیں تو گمراہی سے نکل کے ہدایت کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں کیونکہ آج اگر وہ قرآن پر اعتماد کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کی صحیح حیثیت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم نہ کریں اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ایمان نہ لائیں۔ یہی ان کے لیے ہدیت اور سلامتی کا راستہ ہے۔ عیسائیوں پر اس طرح حجت تمام کی جا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ محترمہ پر جو بھی انعامات ہوئے ‘ وہ ان کی ذات کا اظہار نہ تھے ‘ دراصل وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی نبوت کے دلائل تھے اور ان کا ظہور عیسیٰ (علیہ السلام) کے کسی کمال کا نتیجہ نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور تھا۔ اس صورت حال میں عیسائیوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو خیالات بنا رکھے ہیں اور جس طرح سے انھیں خدائی منصب پر فائز کر رکھا ہے ‘ اس کا آخر کیا جواز ہے۔
اب ہم ان معجزات کی جو سراسر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں ‘ تھوڑی سی وضاحت کرتے ہیں ‘ تاکہ انھیں سمجھنے میں آسانی ہوجائے۔
ْحضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات
(ا)…حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت : اس میں سب سے پہلے جس احسان کا ذکر ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اے عیسیٰ ! میرے اس احسان کو یاد کرو ! جو میں نے تجھ پر کیا اور تیری والدہ پر کیا۔ یوں تو یہ احسانات کا ایک طویل سلسلہ ہے ‘ لیکن بطور خاص یہاں جس بات کا ذکر ہو رہا ہے ‘ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خرق عادت ولادت ہے۔ اس صورتحال کو آپ ذہن میں لایئے تو پھر اندازہ ہوسکتا ہے کہ یہ کتنا بڑا احسان تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ماں بیٹے پر کیا۔ صورتحال یہ ہے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) ابھی کنواری ہیں ‘ اس کنوارے پن میں اللہ تعالیٰ انھیں اس آزمائش سے دوچار کردیتے ہیں کہ وہ ایک بچے کی ماں بن جاتی ہیں۔ آپ ایک جانے پہچانے معروف اور معزز خاندان کی آبرو ہیں۔ اچانک جب وہ اس نوزائیدہ بچے کو لے کر اپنے لوگوں میں آتی ہیں تو انھیں عجیب صورتحال سے واسطہ پڑتا ہے۔ لوگ دیکھتے ہی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ زبانیں کھلنے لگتی ہیں۔ قرآن پاک اس کا تذکرہ کرتے ہوا کہتا ہے :
فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَھَا تَحْمِلُہٗ ط قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا۔ یٰٓاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّ مَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا۔ فَاَشَارَتْ اِلَیْہِ ط قَالُوْا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِ صَبِیًّا۔ قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللہِ قفط اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ ص وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا۔ وَّبَرًّام بِوَالِدَتِیْ ز وَلَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا۔ وَالسَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَیَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا۔ (سورۃ مریم 19: 27 تا 33)
(پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے ” اے مریم ! یہ تو تو نے بڑا پاپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن ! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا ہم اس سے کیا بات کریں ‘ جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے ؟ بچہ بول اٹھا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی ‘ اور نبی بنایا اور بابرکت کیا ‘ جہاں بھی میں رہوں اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا ‘ جب تک میں زندہ رہوں اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا اور مجھ کو جبار اور شقی نہیں بنایا۔ سلام ہے مجھ پر ‘ جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں)
اندازہ فرمایئے ! صورتحال کس قدر سنگین ہے ‘ حضرت مریم (علیہا السلام) کی عفت و عصمت اور ان کے صاحبزادہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا حسب و نسب دونوں معرض خطر میں ہیں۔ ایک کنواری لڑکی ‘ ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے۔ دنیا کا کوئی اخلاق اس لڑکی کی عفت مآبی کی گواہی نہیں دے سکتا اور دنیا کا کوئی قانون بیٹے کو صحیح النسب ثابت نہیں کرسکتا۔ ایسے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پنگھوڑے میں بولنا اور اللہ کی طرف سے اپنے نبی ہونے کا اعلان کرنا ‘ یہ ایک ایسا غیر معمولی واقعہ ہے ‘ جس نے شک و شبہ کرنے والوں کے دلوں کو بدل ڈالا اور طعن وتشنیع کرنے والوں کی زبانیں گنگ کردیں۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ احسان نہ فرماتے تو زمین و آسمان بھی ہم آغوش ہوجاتے تو بھی نہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی پاکدامنی ثابت ہوسکتی اور نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نسب کی گواہی دی جاسکتی۔ اس لیے قرآن کریم نے سب سے پہلے اللہ کے اسی احسان کا ذکر فرمایا۔
(ب) …روح القدس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد : دوسرے جس احسان کا ذکر کیا گیا ہے ‘ وہ ہے ” اِذْ اَیَّدْتُّکَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ کہ ” ہمارے اس احسان کو یاد کرو ! جب ہم نے روح القدس سے تمہاری تائید کی۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے اس کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔
مختصراً گزارش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ کی نبوت کی شہادت کے لیے ‘ آپ کو بڑے بڑے معجزات عطا کیے ‘ جو آپ کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے اس قدر واضح تھے کہ ان کو خدا کی طرف سے ہونے میں کوئی ہٹ دھرم ہی شک کرسکتا تھا۔ لیکن یہودنے ان کھلے کھلے معجزات کو بھی تائید ربانی اور فیض روح القدس کا نتیجہ قرار دینے کی بجائے ‘ نعوذ باللہ ! شیطانی تصرف کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ معجزے شیطانوں اور بھوتوں کے سردار ” بعلز بول “ کی مدد سے دکھاتے ہیں۔ قرآن کریم نے یہود کے اسی الزام کی تردید کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بار بار یہ فرمایا :
اَیَّدْ نَاہُ بِرُوْحِ القُدُس
(ہم نے روح القدس سے اس کی مدد کی )
یعنی اس سے جو معجزے صادر ہوئے ‘ یہ تائید روح القدس کا نتیجہ ہیں نہ کہ کسی شیطان یا جن کی مدد کا ‘ جیسا کہ یہود کہتے ہیں۔ انجیل میں یہود کے اس الزام کا ذکر بار بار آیا ہے اور ان کے اس الزام کا جو جواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دیا ہے ‘ وہ بھی نقل ہوا ہے۔ ہم یہاں ایک اقتباس انجیل متی سے پیش کرتے ہیں :
(اس وقت اس کے پاس لوگ ایک اندھے، گونگے کو لائے ‘ جس میں بدروح تھی۔ اس نے اسے اچھا کردیا۔ چناچہ وہ گونگا بولنے اور دیکھنے لگا اور ساری بھیڑ حیران ہو کر کہنے لگی کہ کیا یہ ابن دائود ہے۔ فریسیوں نے سن کر کہا ! یہ بدروحوں کے سردار بعلزبول کی مدد کے بغیر بدروحوں کو نہیں نکالتا۔ اس نے ان کے خیالوں کو جان کر ان سے کہا ‘ جس بادشاہی میں پھوٹ پڑتی ہے ‘ وہ ویران ہوجاتی ہے اور جس شہر یا گھر میں پھوٹ پڑے گی وہ قائم نہ رہے گا اور اگر شیطان ہی نے شیطان کو نکالا تو وہ آپ اپنے مخالف ہوگیا ‘ پھر اس کی بادشاہی کیونکر قائم رہے گی اور اگر میں ” بعلز بول “ کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو تمہارے بیٹے کس کی مدد سے نکالتے ہیں ؟ پس وہی تمہارے منصف ہوں گے ‘ لیکن اگر میں خدا کی روح کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آپہنچی یا کیونکر کوئی آدمی کسی زورآور کے گھر میں گھس کر اس کا اسباب لوٹ سکتا ہے جب تک کہ پہلے اس زورآور کو نہ باندھ لے۔ پھر وہ اس کا گھر لوٹ لے گا۔ جو میرے ساتھ نہیں ‘ وہ میرے خلاف ہے۔ جو میرے ساتھ جمع نہیں کرتا ‘ وہ بکھیرتا ہے۔ اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا ‘ مگر جو کفر روح کے حق میں ہے ‘ وہ معاف نہ کیا جائے گا اور جو کوئی ابن آدم کے برخلاف کوئی بات کہے گا ‘ تو وہ معاف کی جائے گی۔ لیکن جو کوئی روح القدس کے خلاف کوئی بات کہے گا ‘ وہ معاف نہ کی جائے گی ‘ نہ اس عالم میں اور نہ آنے والے عالم میں یا تو درخت کو بھی اچھا کہو اور اس کے پھل کو بھی اچھا یادرخت کو بھی براکہو اور اس کے پھل کو بھی برا کہو کیونکہ درخت پھل سے ہی پہچانا جاتا ہے)
(متی باب 12۔ آیات 22-23)
اس پس منظر کو اگر سامنے رکھا جائے تو تب یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں روح القدس کی تائید کا کیوں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ جہاں تک روح القدس کی تائید کا ذکر ہے ‘ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت نہیں۔ وہ ہر پیغمبر کو حاصل ہوتی ہے اور پیغمبر سے جو معجزات صادر ہوتے ہیں ‘ وہ اسی تائید کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں اس بات کا اظہار بار بار اس لیے فرمایا گیا کہ یہود ان پر مذکورہ بالا الزام لگاتے تھے۔ روح القدس سے مراد وہ پاکیزہ روح ہے ‘ جو خدا کی طرف سے آتی ہے اور عبرانی میں اس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔
(ج) …حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بڑھاپے میں بھی لوگوں سے کلام کریں گے : تیسرا معجزہ جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے وہ ہے :
تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَ کَھْلاً
(تو لوگوں سے باتیں کرتا ہے ‘ گہوارے میں اور بڑھاپے میں۔ )
جہاں تک گہوارے میں باتیں کرنے کا تعلق ہے ‘ یہ تو یقیناً ایک معجزہ ہے کیونکہ انسانی بچہ ایک خاص عمر کو پہنچ کے بولنا سیکھتا ہے ‘ پیدا ہونے کے چند دنوں بعد بولنے لگنا اور وہ بھی اس طرح جیسے بڑی عمر کا آدمی بولتا ہے اور ایسی عقل و خرد کی باتیں کرنا کہ بڑے بڑے اسے سن کر دنگ رہ جائیں۔ یہ یقینا ایک غیر معمولی بات ہے ‘ جو ایک معجزہ ہی کہی جاسکتی ہے۔ لیکن کہولت اور بڑھاپے میں باتیں کرنا یہ تو ایک معمول کی بات ہے۔ ہر آدمی بڑھاپے میں ‘ جب تک اس کی زبان ساتھ دیتی ہے، باتیں کرتا ہے بلکہ جیسے جیسے بوڑھا ہوتا جاتا ہے ‘ زیادہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس لیے ایک ایسی بات کو جو تمام انسانوں میں پائی جاتی ہے ‘ معجزے کے طور پر پیش کرنا ‘ ناقابل فہم سی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کا پس منظر سمجھ لیا جائے تو پھر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بات کتنا بڑا معجزہ ہے۔
بات اصل میں یہ ہے کہ عیسائی دنیا کا یہ دعویٰ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے دنیا میں تینتیس (33) سال عمر گزاری ہے۔ تیس سالوں کے بارے میں عیسائی کچھ نہیں جانتے۔ البتہ ! آخری تین سالوں کے بارے میں انجیل ان کے احوال سے بھری ہوئی ہے۔ اس کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ یہودی جو آپ کی پیغمبرانہ دعوت کی وجہ سے ان کے جانی دشمن ہوگئے تھے ‘ انھوں نے آنجناب کے خلاف سازش تیار کی ‘ حکومت کو ورغلایا ‘ بالآخر آپ کو گرفتار کرانے میں کامیاب ہوگئے ‘ پولیس آپ کو گرفتار کر کے عدالت تک لے گئی ‘ عدالت نے آپ کو سولی دینے کا حکم دیا۔ چناچہ یہود و نصاریٰ ‘ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کو سولی دے دی گئی۔ البتہ ! عیسائیوں کا مزید یہ دعویٰ ہے کہ :
(تین دن کے بعد آپ کی قبر خالی پائی گئی اور آپ قبر سے نکل کر آسمانوں پر چلے گئے اور وہاں اللہ کے عرش پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیٹھ کر کائنات پر حکمرانی کرنے لگے)
اس پوری صورتحال کو سامنے رکھیے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بڑھاپے کی عمر سے پہلے ہی موت کی آغوش میں چلے گئے۔ لیکن اس کے برعکس مسلمانوں کا دعویٰ یہ ہے اور قرآن کریم جس کی شہادت دیتا ہے کہ یہود اپنی ساری کوششوں کے باوجود نہ آپ کو صلیب دے سکے اور نہ آپ کو قتل کرسکے۔ انھوں نے اپنے تئیں آپ کے قتل کے سارے اسباب فراہم کردیئے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ قربِ قیامت میں دجال کا فتنہ فرو کرنے کے لیے آپ دمشق میں اتارے جائیں گے اور آپ اسی عمر میں ہوں گے جس عمر میں آپ آسمانوں پر اٹھائے گئے تھے۔ پھر آپ رسول اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے ‘ چالیس سال تک ایک عادلانہ حکومت کریں گے۔ جب آپ بوڑھے ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو موت دے گا اور آپ اپنے اللہ کے پاس پہنچ جائیں گے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو جب آپ موت سے دوچار ہوں گے تو اس وقت آپ کی عمر تہتر سال ہوگی اور اس وقت تک آپ ایک حکمران کی حیثیت سے احکام جاری کرتے ہوں گے۔ وعظ و نصیحت فرماتے ہوں گے ‘ اصلاح و تبلیغ کا کام کرتے ہوں گے ‘ یہ ہے بڑھاپے میں آپ کا بولنا ‘ جو ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ جوانی میں اٹھائے جانے کے بعد آسمانوں سے پھر آپ کا نزول ہونا اور پھر بڑھاپے کی عمر تک ایک عادلانہ حکومت چلانا ‘ یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے ‘ جو صرف آپ کی خصوصیت ہے۔ اس لحاظ سے یہاں اس کو معجزہ قرار دیا گیا ہے اور اللہ کے احسانات میں شمار کیا گیا ہے۔
(د) …حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی : اس کے بعد فرمایا :
وَ اِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰۃَ وَالاِْنْجِیْلَ
(اور اس وقت کو یاد کرو جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل دی)
تورات اور انجیل کے الفاظ یہاں کتاب اور حکمت کی تفسیر کے طور پر آئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان دونوں چیزوں کی تعلیم عطا فرمائی۔ جہاں تک کتاب و شریعت کا تعلق ہے ‘ حضرت مسیح ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے پیرو اور داعی تھے وہ تورات سے الگ شریعت لے کر نہیں آئے تھے۔ اس حقیقت کا اعلان بار بار بڑے زور اور تاکید کے ساتھ انھوں نے خود فرمایا تھا۔ انجیلوں میں اس کی تصریحات موجود ہیں۔ البتہ ! انھوں نے اس شریعت کی روح اور اس کی حکمت نہایت معجزانہ انداز میں بےنقاب فرمائی ہے اور اناجیل درحقیقت ان کی انہی حکمتوں کا مجموعہ ہے۔ یہود نے تورات کو بالکل بےروح احکام اور بےجان رسوم کا مجموعہ بنا کر رکھ دیا تھا۔ اس وجہ سے ان کی شریعت زندگی سے بالکل خالی ‘ ان کے لیے صرف ایک بوجھ بن کے رہ گئی تھی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اس کے اندر اپنی تعلیمِ حکمت سے زندگی پیدا کی اور یہی وہ چیز ہے ‘ جس کو یہاں معجزے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اس کے بعد مزید چند معجزات کا ذکر ہے ‘ جن کا تذکرہ انجیل میں بھی کیا گیا ہے۔ یعنی مٹی سے پرندے کی ایک شکل بنانا اور پھر اس میں پھونکنا اور اللہ کے حکم سے اس کا پرندہ بن جانا۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو اللہ کے حکم سے صحت مند کردینا۔ مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کردینا۔ لیکن ان تمام معجزات کے ذکر میں بطور خاص جو لفظ توجہ کے قابل ہے ‘ وہ ہے ” بِاِذْنِِی “ جس کا معنی ہے ” میرے حکم سے “۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ عیسائیوں کے عقیدے کا بگاڑ اس سبب سے ہوا کہ انھوں نے حضرت مسیح کے تمام معجزات کو ان کی ذات کی طرف منسوب کیا۔ یہاں ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ ان سے جتنے حیرت انگیز معجزات کا صدور ہوا ہے ‘ وہ ان کی اپنی ذات کے کمال کا نتیجہ نہیں ‘ بلکہ وہ سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور تھے۔ انھوں نے جتنے معجزات بھی دکھائے ‘ سب اللہ کے اذن و حکم سے دکھائے۔ یہ بالکل سامنے کی بات ہے ‘ جس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ جب یہ سارے معجزات اللہ کے حکم اور اذن سے صادر ہوئے ہیں تو پھر نصاریٰ یہ بتائیں کہ انھوں نے آخر کس علمی دلیل کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا بنا ڈالا کیونکہ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میرے ہاتھ سے جو کچھ صادر ہو رہا ہے ‘ میں خود اس کا فاعل ہوں بلکہ جب آپ کسی مردے سے یہ کہتے کہ تم زندہ ہوجاؤ تو آپ یہ نہیں کہتے تھے کہ میرے حکم سے زندہ ہوجاؤ بلکہ یہ کہتے تھے کہ میرے رب کے حکم سے زندہ ہوجاؤ۔ اسی پر باقی معجزات کو بھی قیاس کرلیجئے۔ جب حقیقت صرف یہ ہے تو پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں الوہیت کی علامات کہاں سے تلاش کرلی گئیں کہ ان کو خدا یا خدا کا بیٹا بنادیا گیا بلکہ اس آیت کے اگلے حصے میں یہ تک فرمایا گیا ہے کہ جب یہود (بنی اسرائیل) نے آپ کو صلیب دینے کی کوشش کی اور آپ کی جان کے درپے ہوگئے تو خود آپ کے بس میں یہ بات نہ تھی کہ اپنے آپ کو ان دشمنوں کی دسترس سے بچا لیتے۔ اللہ فرماتا ہے۔ یہ میرا احسان ہے کہ میں نے بنی اسرائیل کی ظالمانہ کاروائی سے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ کو آسمانوں پر اٹھا لیا۔ جو ذات والاصفات اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ‘ اپنی ذات کا تحفظ نہ کرسکے اس کے لیے بھی وہ اپنے اللہ کی محتاج ہو ‘ اسے بجائے اللہ کا برگزیدہ بندہ قرار دینے کے ‘ خود معبود قرار دے دینا ‘ تاریخ میں شاید اس سے بڑے ظلم کی مثال اور کوئی نہ ہو۔
اگلی آیت کریمہ میں ایک عجیب بات ارشاد فرمائی جا رہی ہے ‘ وہ یہ کہ انسانی قلوب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ انھیں جدھر چاہتا ہے ‘ پھیر دیتا ہے۔ اگر وہ کسی کو مسلمان بنانا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے اسلام قبول کرنے سے روک نہیں سکتی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اگر واقعی خدائی قدرتوں کے مالک تھے تو پھر کس قدر عجیب بات ہے کہ وہ اپنی ساری دعوتی مساعی اور اپنے سارے معجزات کے صدور کے باوجود نہ یہودی عوام کو قائل کرسکے اور نہ یہودی علماء کو بلکہ جیسے جیسے ان کی تبلیغی کاوشوں میں تیزی آتی گئی ‘ ویسے ویسے ان کی دشمنی بھی بڑھتی گئی۔ بالآخر ایک ذخیرہ آب کے کنارے پہنچے تو وہاں ماہی گیروں کے سامنے اللہ کا دین پیش کیا۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ میرا فضل و احسان تھا کہ میں نے ماہی گیروں کے دلوں میں یہ بات ڈالی کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں ورنہ حضرت مسیح کے بس میں یہ بات نہ تھی کہ وہ ایمان کی دولت سے انھیں بہرہ ور کرسکتے۔
Ayah 5:111وَاِذْ اَوْ حَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ ج قَالُوْٓا اٰمَنَّا وَاشْھَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ ۔ (111)
” اور یاد کرو کہ جب حواریوں کے دل میں ‘ میں نے یہ بات ڈالی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائو ‘ تو وہ بولے کہ ہم ایمان لائے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلم ہیں “۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مذہب اسلام تھا
” حَوَارِیُّوْنَ “ حواری کی جمع ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے ‘ جس کا معنی ہے ” ہمدرد ‘ خیر خواہ ‘ غمگسار اور مددگار “۔ یوں کہنا چاہیے کہ یہ ” انصار “ کا ہم معنی لفظ ہے۔ جس طرح مدینے کے مسلمان ‘ اسلام کی نصرت و تائید اور مسلمانوں کی ہر طرح کی مدد کی وجہ سے ” انصار “ کہلائے اور اسلامی تاریخ میں نہایت عزت و وقار کی علامت بن گئے۔ اس کے قریب قریب مقام، عیسائیت میں ان حواریوں کا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں ‘ جنھوں نے ناگفتہ بہ حالات میں یہود کی دشمنی کی دہکتی آگ کے باوجود ایمان لانے کی ہمت کی۔ پھر اللہ کے اس دین کی تبلیغ و دعوت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کی اور انہی کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلفاء کی حیثیت بھی حاصل ہوئی۔ اس لیے بطور خاص ان کے ایمان کا تذکرہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جبکہ ماحول قبولیتِ اسلام کے لیے بالکل ناسازگار تھا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت مسلسل ناکامی کے زخم اٹھا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ ان غریب لوگوں کو اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائی اور مزید اس میں ایک اور بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب اسلام لے آئے اور انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرلی تو انھوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم مسیحی ہیں بلکہ یہ کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جب بھی اللہ کا کوئی نبی یا کوئی رسول اللہ کے جانب سے دین لے کر آیا ہے تو اسکے ماننے والے ہمیشہ مسلمان ہی کہلائے ہیں۔ لیکن جب ان میں بگاڑ پیدا ہوا تو پھر اسکی انتہاء یہ ہوئی کہ وہ اپنا اصل نام گم کر بیٹھے اور کہیں وہ یہود ہوگئے اور کہیں مسیحی بن گئے۔ امت مسلمہ کے لیے یہ بات نہایت فکرمندی کی ہے کہ پہلی امتیں جس فساد کا شکار ہوئیں اور اپنا نام تک انھوں نے کھو دیا ‘ ہمیں اس حوالے سے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ جو آئے دن نئے نئے انتسابات اس امت میں پیدا ہو رہے ہیں اور نئے نئے نام اختراع کیے جا رہے ہیں اگر اس صورتحال کو نہ روکا گیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی یہودو نصاریٰ کی طرح اپنے انجام کی گرفت میں آجائیں۔
ابھی میں نے عرض کیا کہ حواریوں کا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا رشتہ تھا اور تبلیغ و دعوت میں ان کا کیا مقام رہا ہے اور امت عیسائیت پر ان کے کیا کیا احسانات ہیں چونکہ اس سلسلہ مضمون میں ان کا ذکر آگیا ہے تو اپنی اس اہمیت کی وجہ سے پروردگار نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ عیسائی جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو صحیح نہ سمجھنے کے باعث گمراہی کا شکار ہوئے ‘ اسی طرح انھوں نے حواریوں کی طرف بھی بعض غلط باتیں منسوب کردیں اور پھر اسی کو سند جان کر بہت ساری بدعات کو فروغ دینے میں کامیاب ہوگئے۔ اس لیے یہاں حواریوں کا تذکرہ کر کے عیسائیوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم حواریوں کے بارے میں نجانے کیا کیا غلط انتسابات کرچکے ہو۔ ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ حواری پروردگار اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کیا تصورات رکھتے تھے۔
Ayahs 5:112–115اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ ط قَالَ اتَّقُوا اللہ َ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ قَالُوْ نُرِیْدُ اَنْ نَّاکُلَ مِنْھَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَکُوْنَ عَلَیْھَا مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآئِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لاَِّوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنْکَ ط وَارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ ۔ قَالَ اللہ ُ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ ج فَمَنْ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَاِنِّیْٓ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لآَّ اُعَذِّبُہٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (112 تا 115)
” یاد کرو ! جبکہ حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تمہارا رب یہ کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے خوان اتارے ؟ اس نے کہا : اللہ سے ڈرو ! اگر تم سچے مومن ہو “۔ ” وہ بولے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم یہ جان لیں کہ تم نے سچ کہا اور ہم اس کی گواہی دینے والے بنیں “۔ ” عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی ‘ اے اللہ ! ہمارے پروردگار تو ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار ‘ جو ہمارے لیے یادگار بن جائے ‘ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے اور تیری طرف سے ایک نشانی ٹھہرے ‘ عطا فرما تو بہترین عطا فرمانے والا ہے “۔ ” اللہ نے فرمایا : میں یہ خوان ضرور تم پر اتاروں گا لیکن اس کے بعد ‘ جو تم میں سے کفر کرے گا تو میں اس کو سزا بھی وہ دوں گا ‘ جو جہاں والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا “۔
سب سے پہلے ان آیات کے بعض نکات پر غور فرمایئے۔
1 حواری جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے براہ راست شاگرد اور آپ کے مقرب ترین صحابہ ہیں پہلی آیت کے آغاز ہی میں دیکھئے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرتے ہوئے ” اے عیسیٰ ابن مریم “ کہہ رہے ہیں۔ نہ انھیں اللہ کہہ رہے ہیں ‘ نہ ابن اللہ ‘ نہ اس طرح کا کوئی اور لقب۔ اگر اس طرح کی کسی بات کی گنجائش ہوتی تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے اصل رازدان تو یہی لوگ تھے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج شناس بھی یہی تھے۔ وہ یقینا اس گنجائش سے فائدہ اٹھاتے اور آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہنے کی جسارت کبھی نہ کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو جو دین سکھایا تھا اور دین کی جن بنیادی باتوں پر ان کی تربیت کی تھی ‘ اس کے حوالے سے وہ آپ کو عیسیٰ ابن مریم ہی سمجھتے تھے کیونکہ یہی اس کا تقاضہ تھا اور اس سے زیادہ یا کم کسی اور لفظ کا استعمال وہ ہرگز آپ کے لیے مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے ذہن میں عیسیٰ (علیہ السلام) ایک انسان تھے الوہیت کا کوئی تصور ان سے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ اس لیے وہ اس سے مختلف کوئی بات آپ کے بارے میں نہ سوچ سکتے تھے اور نہ کہنے کی جسارت کرسکتے تھے۔
2 اس سے پہلے کی آیت میں جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں ‘ حواریوں نے جس دین کو قبول کیا ‘ اسے انھوں نے اسلام کا نام دیا اور اپنے آپ کو انھوں نے مسلمان کہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اچھی طرح اس بات کو سمجھتے تھے کہ یہ دین یہودیت یا نصرانیت نہیں بلکہ اسلام ہے۔
3 ان آیات میں عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے رب سے یہ دعا کریں کہ وہ ہم پر ایک خوان نعمت نازل کرے۔ اس آیت میں انھوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست یہ نہیں کہا کہ آپ آسمان سے ہمارے لیے خوان نعمت اتاریں بلکہ ان سے درخواست کی جارہی ہے کہ آپ اللہ سے دعا مانگیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو بالذات معجزات کا دکھانے والا نہیں سمجھتے تھے بلکہ ان کو صرف ان کے ظہور کا ایک ذریعہ جانتے تھے اور یہی وہ بنیادی تصور ہے ‘ جو ایک آدمی کو راہ راست پر رکھ سکتا ہے کیونکہ جب آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اصل قدرت کا مالک ‘ وہ پروردگار ہے اور جس کے ہاتھ سے اس قدرت کا اظہار ہو رہا ہے وہ صرف ایک ذریعہ ہے ‘ قدرت کا مالک نہیں۔ اب وہ جو کچھ بھی عبودیت کے احساسات اپنے اندر محسوس کرے گا اور پھر اس کی اچھی سے اچھی تعبیر لانے کی بھی کوشش کرے گا تو اس کی مصداق پروردگار کی ذات ہوگی اور وہ پیغمبر یا رسول مصداق نہیں ہوگا ‘ جس کے ہاتھ سے ان معجزات کا ظہور ہوتا ہے۔
آیت نمبر 12 میں ایک لفظ استعمال ہوا ہے ” ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ “ کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہماری مطلوب نعمت کو اتار سکے۔ اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ یہ حواری جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابہ ہیں ‘ کیا انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی طاقت کے بارے میں کچھ شبہ تھا کہ وہ بعض کام کرسکتا ہے اور بعض نہیں کرسکتا ‘ ظاہر ہے کوئی بھی مومن جو اللہ کو قادر مطلق مانتا ہے ‘ وہ کبھی بھی ایسے شب ہے کا اظہار نہیں کرسکتا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس لفظ کا یہاں وہ مفہوم نہیں ہے ‘ جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ وہ اصل میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ ” آپ اللہ سے اس نعمت کے نازل کرنے کے لیے دعا فرمائیں ‘ لیکن پہلے یہ معلوم کرلیں کہ کیا اللہ کی حکمت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ ایسے معجزے کو ظاہر فرمائے اور ہمیں اس کی اجازت دے کہ ہم اس معجزے کا مطالبہ کرسکیں “ یعنی یہاں مقصود یہ نہیں ہے کہ ایسا کرنا اس کی قدرت میں ہے یا نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کی قدرت کا ظہور ہمیشہ اس کی حکمت کے ساتھ ہوتا ہے ‘ تو کیا ایسا معجزہ طلب کرنا اس کی حکمت کے مطابق بھی ہے یا نہیں۔ حواری صاحب ایمان لوگ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ معجزات طلب کرنا ‘ اسکی بھی ایک خاص حد ہے۔ جب یہ طلب اس حد سے آگے نکل جائے اور وہ ایمان کے بنیادی تقاضوں ہی کو پامال کرنے لگے تو پھر اس کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ بعض دفعہ اس پر خدا کا عذاب آجاتا ہے۔ وہ یقینا اس مثال سے واقف تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر تورات لینے کے لیے گئے تو اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے چند اشراف کو بھی لے گئے۔ لیکن وہاں پہنچ کر ان اللہ کے بندوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عجیب و غریب چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔ وہ یہاں تک بڑھے ‘ کہنے لگے :
لَنْ نُّوْمِنَ لَکَ حَتیٰ نَرَیٰ اللہ َ جَھْرَۃً (البقرۃ 2: 55)
(ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ‘ تاوقتیکہ کھلم کھلا اللہ کو نہ دیکھ لیں)
اس پر وہ اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے کیونکہ اللہ پر ایمان لانا ‘ ایک آزمائش ہے اور یہ آزمائش اس وقت تک ہے ‘ جب تک بن دیکھے اللہ کو مانا جائے اور اگر یہ شرط لگا دی جائے کہ میں اللہ کو دیکھ کر ایمان لائوں گا تو پھر یہ آزمائش نہیں رہتی کیونکہ دیکھ کر کسی چیز کو مان لینا ‘ یہ تو ایک معمول کی بات ہے۔ ایمان تو اصل میں اللہ کے نبی پر اعتماد کرتے ہوئے تمام ان باتوں کو ماننا ہے ‘ جنھیں مانے بغیر آدمی مومن نہیں ہوسکتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے ‘ جیسے میں کسی سے یہ کہوں کہ فلاں جگہ ‘ فلاں واقعہ پیش آیا اور وہ مجھے پلٹ کر یہ کہے کہ اس طرح ہم نہیں مانتے۔ آپ ہمیں وہاں لے جا کر دکھایئے ‘ دیکھنے کے بعد ہم مانیں گے۔ آپ اندازہ فرمایئے کہ اگر وہ دیکھ کر مان بھی گئے تو اس کی میرے نزدیک کیا قدر و قیمت ہوگی کیونکہ میرے نزدیک قدر و قیمت تو تب ہوگی ‘ جب میرے اعتماد پر اسے تسلیم کیا جائے۔ یہ باتیں حواری جانتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے یہ بات کہی کہ ہم اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے آپ اس کا اطمینان کرلیں کہ یہ پروردگار کی حکمت کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگرچہ یہ مطالبہ ایسا تو نہیں تھا ‘ جسے ایمانی حقیقت کے خلاف قرار دیا جاتا۔ لیکن یہ ضرور تھا کہ یہ پیغمبر کے اصحاب کے مقام و مرتبہ سے میل نہیں کھاتا تھا۔ اس لیے حضرت عیسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ سے ڈرو ! اگر تم مومن ہو۔ ایمان لانے کے بعد معجزات کی طلب ‘ کوئی پسندیدہ روش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کے بارے میں کوئی ایک واقعہ بھی ریکارڈ پر نہیں کہ ایمان کے دائرے میں آنے کے بعد کبھی بھی اس طرح کے کسی مطالبے کے بارے میں انھوں نے سوچا بھی ہو۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری یقینا برگزیدہ لوگ تھے ‘ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا واقعہ ہے ‘ جبکہ وہ ابھی زیر تربیت تھے اور پھر یہ بات بھی ہے کہ اصحاب محمد ﷺ اور اصحاب عیسیٰ (علیہ السلام) دونوں کا اپنا اپنا مقام ہے۔
ان آیات کے سلسلے میں ایک بات مزید کہنے کی ہے ‘ وہ یہ کہ یہاں جس خوان نعمت کا مطالبہ کیا گیا ہے ‘ کیا وہ نازل کیا گیا یا نہیں ؟ اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے کیونکہ قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا اور انجیل میں تو سرے سے اس واقعے کا تذکرہ ہی نہیں۔ اس لیے اکثر اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جب پروردگار نے یہ تنبیہ کی کہ تمہارے مطلوبہ معجزے کو میں نازل تو کر دوں گا ‘ لیکن اس کے بعد اگر کسی نے کفرانِ نعمت کیا تو سزا ایسی دوں گا ‘ جو آج تک کسی کو نہیں ملی ہوگی۔ اس سے حواری خوفزدہ ہوگئے۔ چناچہ انھوں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ لیکن بعض لوگ اِنِّیْ مُنَزِّلُھَا عَلَیْکُمْ سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک طرح سے پروردگار کا وعدہ ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ یہ مائدہ نازل نہ کیا گیا ہو۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ اگر یہ نازل کیا گیا تو اس کے بعد کیا ہوا ؟ اس کے بارے میں کوئی بات کہنا ممکن نہیں کیونکہ جتنی باتیں اس حوالے سے کہی گئی ہیں ‘ ان میں سے کوئی بات بھی ثبوت کے مقام کو نہیں پہنچتی۔
تمہید
سابقہ آیات میں عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ کے احسانات کا ذکر ہوا تاکہ یہود پر اتمام حجت ہوجائے۔ پھر اس میں ” بِاِذْنِیْ “ کی تکرار سے عیسائیوں پر اتمامِ حجت کیا گیا کہ تم ان معجزات کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بالذات منسوب نہ کرو ‘ وہ صرف ان کا واسطہ ہیں۔ اصل فاعل اللہ کی ذات ہے۔ اس لیے تمہیں اللہ کی قدرت کا قائل ہونا چاہیے نہ یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کے منصب پر فائز کردو۔ پھر حواریوں کے تذکرے سے مزید عیسائیوں کو سمجھایا گیا کہ دیکھو ! جو براہ راست حضرت مسیح کے شاگرد تھے ‘ ان کا تصور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں کیا تھا اور تم ان کو کیا سمجھے بیٹھے ہو۔ ان باتوں کو ذکر کرنے کے بعد اگلی آیات میں عجیب منظر نامہ ہمارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ‘ جس کا ایک ایک لفظ دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس میں جہاں عیسائیوں کے لیے بہت عبرت کے مقامات ہیں ‘ وہاں مسلمانوں کے لیے بھی غور و فکر کا بہت مواد ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک امت کی بےاعتدالیاں ‘ کس طرح ایک برگزیدہ پیغمبر کو عدالت ِ خداوندی کے کٹہرے میں کھڑا کردیں گی اور کس طرح ان کی بداعمالیوں کا حساب ان کے برگزیدہ پیغمبر سے لیا جائے گا۔ اسکو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں امت مسلمہ کی بےاعتدالیاں ‘ جو وہ اولیائے امت کے بارے میں روا رکھتے ہیں ‘ کہیں ان اولیائے کرام کو اللہ کی عدالت میں کھڑا ہونے پر مجبور نہ کردیں۔ آج جو کچھ ہم بڑے بڑے بزرگانِ دین کے مزاروں پر کر رہے ہیں اور جیسے جیسے تصورات ‘ ان کے بارے میں ہم نے اختیار کرلیے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان بزرگوں کو ان کی جواب دہی کرنا پڑے حالانکہ یہی وہ بزرگ ہیں ‘ جو برصغیر کے ایک ایک مسلمان کے محسن ہیں۔ لاہور میں حضرت شیخ علی ہجویری المعروف داتا صاحب اور پاکپتن میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر اور اسی طرح اور بزرگان دین ‘ اگر نہ ہوتے تو پنجاب میں لوگ شاید مڑھیاں پوج رہے ہوتے۔ نہ جانے کتنے لوگ آج تک اسلام کی دولت سے محروم ہوتے۔ اس لحاظ سے ہمارا رواں رواں ان کا شکر گزار ہے۔ لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ انھوں نے ہمیں تعلیم کیا دی تھی اور ہم ان کے مزاروں پر کیا کر رہے ہیں ؟ بعض دفعہ ایسی ایسی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ ایک مسلمان بھی کبھی اس طرح سوچ سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار آدمی نے مجھے یہ صحیح واقعہ سنایا کہ لاہور کی ایک فیملی حج کرنے گئی ‘ چند دنوں کے بعد اس خاندان کی بڑی اماں کا اہل خانہ کو خط ملا کہ اللہ کا شکر ہے ‘ ہم خیریت سے مکہ معظمہ میں ہیں۔ عمرہ ادا ہوگیا ہے۔ روزانہ حرم میں نماز پڑھتے ہیں ‘ طواف کرتے ہیں ‘ اب صرف حج کا انتظار ہے۔ آپ سب لوگ داتا صاحب کے مزار پر جا کر دعا کرنا کہ اللہ ہمیں خیریت سے واپس لائے۔
شاید ایسے ہی احساسات تھے جن کی وجہ سے آنحضرت ﷺ آخری دنوں میں بار بار اس فکر مندی کا اظہار فرماتے تھے کہ جن باتوں سے اہل کتاب گمراہ ہوئے ‘ کہیں وہ باتیں اس امت میں بھی نہ آجائیں۔ صحابہ ( رض) کہتے ہیں کہ آپ بار بار یہ فرما رہے تھے :
لعن اللہ الیہود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجدًا
( اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے ‘ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا)
اس سے امت کو یہ سمجھانا مقصود تھا کہ دیکھو ! اگر نبیوں کی قبریں سجدہ گاہ نہیں بن سکتیں تو پھر اولیاء امت کی قبریں سجدہ گاہ کیسے بن سکتی ہیں ‘ اس لیے دیکھنا تم کسی افراط وتفریط کا شکار نہ ہونا۔
اب اگلی آیات کو ملاحظہ فرمایئے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی امت کی بےاعتدالیوں کے حوالے سے جواب طلبی کی گئی ہے :
Ayahs 5:116–117وَاِذْ قَالَ اللہ ُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَاَنْتَ قُلْتَ لِنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ق بِحَقٍّ طصہ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ط تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلآَ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلاَّ مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ج وَ کُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْھِمْ ج فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ط وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ شَھِیْدُٗ ۔ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ج وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (المائدہ : 116 تا 118)
” اور یاد کرو ! جب کہ اللہ پوچھے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنائو۔ وہ جواب دے گا تو پاک ہے ‘ میرے لیے کیسے روا تھا کہ میں وہ بات کہوں ‘ جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے یہ بات کہی تو توُ اسے جانتا ہے۔ تو جانتا ہے ‘ جو کچھ میرے دل میں ہے ‘ پر میں نہیں جانتا ‘ جو تیرے دل میں ہے۔ غیب کی باتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے۔ میں نے تو ان سے وہی بات کہی ‘ جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ اللہ کی بندگی کرو ‘ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی اور میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں موجود رہا۔ پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو توہی ان پر نگران رہا اور توُ تو ہر چیز پر گواہ ہے ہی۔ اگر تو ان کو سزا دے ‘ تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے ‘ تو بیشک توغالب اور حکمت والا ہے “۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی عدالت میں
اللہ کے دین میں چونکہ سب سے بنیادی عقیدہ توحید ہے۔ اس لیے ہر امت میں اسی پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ کیونکہ اسی عقیدہ میں اضمحلال کے باعث صاحب ایمان لوگ بھی عقیدہ کی خرابی کا شکار ہوجاتے ہیں اور اگر یہ عقیدہ محض الفاظ کا کھیل بن کے رہ جائے اور اس کی روح موت کا شکار ہوجائے تو پھر وہ قومیں ایمان و اسلام کا نام لینے کے باوجود بھی اسلامی زندگی سے محروم ہوجاتی ہیں۔ ان کے اندر شرک کی آمیزش سے ایک ایسا کردار پیدا ہوتا ہے ‘ جس میں نہ اللہ کا خوف ہوتا ہے ‘ نہ اللہ پر توکل۔ اعمال میں وہ لوگ اپنی خواہشات کے بندے ہوتے ہیں۔ تقویٰ کی پرچھائیں بھی ان پر نہیں پڑتی۔ پہلی امتیں اسی آشوب کا شکار ہوئیں اور بالآخر تباہی کو پہنچ گئیں۔ اسیلیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی امت کے حوالے سے سب سے پہلے عقیدہ توحید سے متعلق ہی بازپرس ہو رہی ہے کیونکہ اس امت نے اس عقیدہ کی جس طرح دھجیاں اڑائی ہیں ‘ اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا حالانکہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی الوہیت یا قدوسیت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے بلکہ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں سکندریہ کے بعض علمائِ دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ” اُمّ اللہ “ یا ” مادرِ خدا “ کے الفاظ استعمال کیے۔ اسکے بعد آہستہ آہستہ الوہیت ِمریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول اول چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نسطوریس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جداگانہ شخصیتیں جمع تھیں ‘ مسیحی دنیا میں بحث وجدال کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے 431 میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ” مادرِ خدا “ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا ‘ وہ اسکے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے گا ‘ حتیٰ کہ نزول قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ ‘ بیٹا اور روح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہوگئے۔ ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیسائوں میں رکھے ہوئے تھے ‘ ان کے آگے عبادت کے جملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے ‘ انہی سے دعائیں مانگی جاتی تھیں ‘ وہی فریاد رس ‘ حاجت روا ‘ مشکل کشا اور بیکسوں کی پشتیبان تھیں اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ” مادرِ خدا “ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ ” قیصر جسٹینیئن “ اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہور جنرل ” نرسیس “ میدان جنگ میں حضرت مریم (علیہا السلام) سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے ہمعصر ” قیصر ہرقل “ نے اپنے جھنڈے پر ” مادرِ خدا “ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہوگا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مریم پرستی کے خلاف شدت سے آواز اٹھائی ‘ لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔
اس تفصیل سے آپ کو کسی حد تک اندازہ ہوگیا ہوگا کہ عیسائی دنیا نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ محترمہ کے بارے میں جو تصورات اختیار کیے ‘ وہ کس حد تک عقیدہ توحید کو تباہ کرنے والے تھے اور ایسے عقائد کے بعد ایسے عقائد کے حاملین کا اللہ سے کیا رشتہ باقی رہ سکتا ہے۔ اسی لیے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سب سے پہلے اسی بنیادی عقیدے کے حوالے سے ان کی امت کے طرز عمل کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے رسول تو دنیا میں اپنی امتوں کو اسی عقیدہ توحید پر قائم کرنے کے لیے آتے ہیں ‘ لیکن آپ کی امت نے جس طرح اس عقیدہ کے پرخچے اڑائے ‘ کیا آپ نے انھیں اسکی تعلیم دی تھی ؟ ظاہر ہے ‘ یہ سوال اس قدر تکلیف دہ اور حیران کن ہوگا کہ حضرت عیسیٰ u‘ اس لرزہ خیز سوال کا جواب ہانپتے کانپتے ہونٹوں کے ساتھ ‘ عاجزانہ دل سے ‘ گردن جھکا کر ‘ نہایت ادب اور خشوع سے دینے کی کوشش فرمائیں گے۔ لیکن شدت احساس کے باعث یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ براہ راست اس سوال کا جواب دیں۔ اس لیے اس جواب کا آغاز اللہ کی تسبیح و تنزیہ سے کریں گے۔ لفظ ” سبحان “ تعجب آمیز خوف پر بھی دلالت کرتا ہے اور اللہ کی تنزیہ پر بھی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک طرف تو تعجب آمیز خوف میں پوری طرح مبتلا ہوں گے اور آپ اس احساس میں ڈوبے جا رہے ہوں گے کہ میری ساری تعلیم کے باوجود ‘ میری اس امت نے آخر اتنا بڑا جرم کیسے کیا اور دوسری طرف ‘ وہ اللہ کی ذات کو دیکھتے ہوئے کہ وہ ہر طرح کی شرک سے پاک ہے ‘ بار بار اسکی شرک سے پاکیزگی کا اظہار کریں گے۔ انہی جذبات میں غلطاں و پیچاں ‘ بڑی مشکل سے آپ یہ کہنے کی جسارت فرمائیں گے کہ اے پروردگار ! آپ نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ‘ رسول کا کام لوگوں کو اللہ کی ذات اور صفات کا صحیح تصور دینا اور اسی کی بنیاد پر ان کی صحیح تربیت کرنا ہے ‘ اس لیے میرے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ میں رسول ہوتے ہوئے ‘ اس طرح کی بات کہتا۔ ایسی بات تو کوئی عامی بھی کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا ‘ جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں معمولی علم بھی رکھتا ہو۔ مجھے تو آپ نے منصب رسالت پر فائز کیا تھا اور علم نبوت سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ میرے لیے یہ کیسے ممکن تھا اور میرا مقام اسکی کیسے اجازت دیتا کہ میں ان سے اس طرح کی بےسروپا بات کہتا۔ پھر اپنے اسی جواب کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید عرض کریں گے کہ یا اللہ ! تیری صفات میں سے ایک صفت علم بھی ہے ‘ تو ہر چیز کا جاننے والا ہے ‘ تیرے علم سے تو دنیا کی کوئی چیز مخفی نہیں ‘ یہ کیسے ممکن تھا کہ اگر میں ایسی بات کہتا تو آپ کے علم میں نہ آتی۔ اس لیے اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی تو یقیناً آپ کے علم میں ہوگی۔ کیونکہ میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں سخن سازی سے کام لیتے ہوئے اپنے دل میں کسی بات کو چھپائوں کیونکہ تو تو میرے دل کے بھیدوں سے بھی واقف ہے ‘ البتہ ! میں ایک بندہ ہوتے ہوئے ‘ یہ بالکل نہیں جانتا کہ تیرے دل میں کیا ہے ‘ اس لیے کہ
اِنَّکَ اَنْت عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ (بےشک غیبوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ )
عبرانی زبان میں ” اب “ اور ” ابن “ کا مطلب
اس عاجزی اور سرافگندگی کے بعد ‘ اب عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے آپ کو کچھ سنبھال پائیں گے تو ہمت کر کے اصل بات کہنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ عرض کریں گے کہ میرے مالک میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی ‘ جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کیونکہ میں تیرا رسول معصوم ہوں ‘ تیرے احکام سے ہٹ کر میں ان سے کوئی اور بات کیسے کہہ سکتا تھا اور وہ بات یہ تھی :
اَنِ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ
( اللہ کی بندگی کرو ‘ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ )
اس میں اس بات کا امکان ہرگز نہیں تھا کہ وہ آپ کی ربوبیت اور الوہیت میں مجھے اور میری والدہ کو شریک کرتے۔ یہاں رک کر شاید اس کی وضاحت مناسب رہے گی کہ عبرانی زبان میں اصل میں ” اب “ کا لفظ رب اور اب یعنی باپ اور رب دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح ” ابن “ کا لفظ بیٹا اور بندہ دونوں معنوں میں بولا جاتا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اب کے لفظ کو ” رب “ کے معنی میں استعمال کیا اور ” ابن “ کو بندہ کے معنی میں۔ لیکن بعد کے مترجمین نے اس کو بجائے رب اور بندہ کے معنی میں لینے کے باپ اور بیٹے کے معنی میں لیا اور یہاں سے بگاڑ بڑھتے بڑھتے اس انتہاء کو پہنچ گیا ‘ جو آج ہمارے پیش نظر ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اسی کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ میری دعوت تو صرف یہ تھی کہ اللہ ہی کی عبادت اور بندگی کرو جو تمہارا بھی رب ہے اور میرا بھی رب ہے۔ انھوں نے بجائے رب کے اس کو اب یعنی باپ بنا لیا اور مزید یہ کہ میں جب تک ان میں موجود تھا ‘ میں ان کا نگران تھا اور میں جانتا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے بارے میں اور میرے بارے میں کیا طرز عمل رکھتے ہیں۔ لیکن جب آپ نے مجھے اٹھا لیا ‘ اس کے بعد تو آپ ان کے نگران تھے اور آپ ہی ان کے حالات کو جاننے والے تھے ‘ میں تو ہرگز نہیں جانتا کہ میرے بعد انھوں نے کیا کیا کیونکہ ہر چیز کے ہر وقت جاننے والے تو آپ ہی ہیں ‘ کسی اور میں یہ قدرت تو نہیں کہ وہ ہر طرح کا علم ہر زمانے میں رکھتا ہو۔ میری غیر حاضری میں انھوں نے کیا گل کھلائے ‘ یہ تو وہ جانتے ہیں یا پھر آپ جانتے ہیں۔ میں اس سے بالکل بیخبر ہوں۔ اس لیے ان کی بداعمالیوں کی ذمہ داری مجھ پر کیسے ہوسکتی ہے ؟ یہ تمام وضاحتیں میدانِ حشر میں تمام دنیا کے سامنے ہو رہی ہوں گی اور عیسائی دنیا بھی برابر اس کو سن رہی ہوگی ‘ جس کے نتیجے میں وہ ندامت کے سمندر میں غرق ہوگی اور لوگ برابر نفرت کے تیر ان پر برسا رہے ہوں گے۔ یہی وہ تصور ہے ‘ جو عیسائی دنیا کو دینا مقصود ہے کہ تمہارے مشرکانہ عقائد کی وجہ سے تمہیں کل کو جس صورتحال سے دوچار ہونا ہے ‘ آج موقع ہے کہ نبی آخر الزماں کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول سے تمہارے لیے جو ہدایت کا سامان ہو رہا ہے اور کل کا پیش آنے والا منظر نامہ تمہاری آنکھوں کے سامنے کھول کر دکھا دیا گیا ہے تاکہ اگر تمہیں کچھ بھی اپنے آپ سے ہمدردی ہے تو اس سے عبرت حاصل کرو۔
قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر اس بات کو بیان کیا ہے کہ اللہ کے نبیوں کو بھی اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی مشرک کے بارے میں اللہ سے مغفرت کی سفارش کریں۔ حتیٰ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے والد ‘ جن کا انتقال حالت شرک میں ہوا ‘ کی شفاعت سے روک دیا گیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنی امت کے بارے میں ان کے مشرکانہ عقائد کے واضح ہوجانے کے بعد ‘ کوئی سی بھی سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو رقت قلبی اور دل کے گداز کی نعمتوں سے جس طرح نوازتا ہے ‘ اس کی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنی امت کے بارے میں سرتاپا رحمت بنے رہتے ہیں۔ چناچہ اسی احساس کے پیش نظر ایک طرف تو عیسیٰ (علیہ السلام) یہ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ آپ اپنی امت کی سفارش کریں ‘ لیکن ساتھ ہی دل کے ہاتھوں مجبور بھی ہیں۔ اس لیے پیرایہ بیان ایسا اختیار فرمایا ہے کہ سفارش کا الزام بھی نہیں لیا ‘ لیکن اللہ کی رحمت کو آواز دیئے بغیر بھی نہیں رہ سکے۔
Ayah 5:118عرض کیا :
اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ج وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔
(اگر تو ان کو عذاب دے ‘ تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے ‘ تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے)
جنت انعام کر کہ دوزخ میں جلا
وہ رحم ترا ہے یہ عدالت تیری
Ayah 5:119قَالَ اللہ ُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ط لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاط رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہٗ ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔
(المائدہ : 119)
” اللہ فرمائے گا : آج سچوں کو ‘ ان کی سچائی کے نفع پہنچانے کا دن ہے۔ ان کے لیے باغ ہوں گے ‘ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ‘ جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ‘ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ‘ یہی بڑی کامیابی ہے “۔
مطلب یہ ہے کہ آج کا دن تو راست بازوں کی فتح مندیوں اور کامرانیوں کے ظہور کا دن ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہدومیثاق کو پوری طرح نبھایا اور اپنے قول و عمل اور جفاکوشی اور وفا شعاری سے اس کو سچ ثابت کیا اور ہر طرح کے نشیب و فراز میں ‘ اس پر قائم رہے یہ دن ان کی کامیابیوں کا دن ہے۔ آج بدعہدوں ‘ خائنوں اور جھوٹی آرزوئوں میں زندگی گزارنے والوں کے لیے حسرت و یاس کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جنھوں نے اللہ کے ساتھ رشتہ اخلاص کو مضبوط رکھا ‘ ان کے لیے آج باغ ہوں گے ‘ جن کے نیچے نہری جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یعنی ان کے رب نے جو کچھ ان سے چاہا ‘ انھوں نے اس کی رضا کے مطابق وہ پورا کر دکھایا اور انھوں نے اپنے رب سے جو امیدیں باندھیں ‘ ان کی توقعات اور ان کے تصورات سے ہزاروں ‘ لاکھوں درجہ بڑھ کر وہ پوری ہوئیں۔ یہی وہ بڑی کامیابی ہے ‘ جو ایک مومن کی اصل منزل ہے اور آج مومن اپنی اس منزل کو پالیں گے۔