5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

) اے ایمان والو ! تم اپنی فکر رکھو ‘ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا ‘ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اللہ کی ہی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ ج لاَ یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ط اِلَی اللہِ مَرْجِعُکُمْ جِمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ (المائدہ : 105) ” اے ایمان والو ! تم اپنی فکر رکھو ‘ اگر تم ہدایت پر ہو تو جو گمراہ ہوا ‘ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اللہ کی ہی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔ وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو “۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری اور اس کی نوعیت اس آیت کریمہ کا ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے۔ جیسے جیسے اس میں غور کریں نئے نئے مفاہیم ذہن میں آتے ہیں۔ سب سے پہلے اس کے پہلے لفظ کو دیکھئے کہ اے مسلمانو ! تم اپنی فکر رکھو۔ یہاں مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ تم امت مسلمہ کی شکل میں ایک اکائی ہو ‘ تم میں سے ہر فرد کی کوئی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ وہ اس بہتے ہوئے دریا کی ایک موج ہے۔ اس لیے تمہیں فکر کرنی ہے تو اپنی نہیں بلکہ اس پورے دریا کی یعنی مجموعی طور پر اس پوری امت کی۔ تم میں سے ہر ایک کا حقیقی مفاد وہ ہے ‘ جو پوری امت کا مفاد ہے اور حقیقی نقصان وہ ہے ‘ جو پوری امت کا نقصان ہے۔ اسی طرح خیر و شر اور علم اور اخلاق کے حوالے سے تمہاری نظر پوری امت مسلمہ پر رہنی چاہیے کہ اس میں کہیں دڑاریں تو نہیں پڑ رہیں ‘ اخلاقی مفاسد کو کہیں ان میں راہ بنانے کا موقع تو نہیں مل رہا ‘ کہیں ان کے عقائد میں اضمحلال پیدا تو نہیں ہو رہا۔ اگر تم پوری امت پر نظر رکھو اور پوری طرح ان کی فکر پر کاربند رہو تو پھر تمہارے گردوپیش باقی قومیں ‘ کچھ بھی کیوں نہ کرتی ہوں ‘ تمہارے لیے چنداں فکر کی بات نہیں۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ تم دیر تک ان سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ اس لیے کہ تمہارا ہدف پوری دنیا کو راہ راست پر لانا ہے یہ تمہارے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن اس کے لیے بنیاد اور اصل (Base) کی حیثیت تو خود امت مسلمہ ہے۔ اگر یہ پوری طرح محفوظ اور توانا ہے تو پھر دوسری امتوں کی برائیاں بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گی۔ دوسری بات جو اسی ضمن میں کہی جا رہی ہے ‘ وہ اس دور کی امت مسلمہ یعنی صحابہ کرام ( رض) کے لیے ایک کلمہ تحسین بھی ہے اور ان کے لیے تسلی بھی۔ ابھی چند آیات پہلے ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا کہ رسول کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اور آپ نے اللہ کے فضل سے اس کا پیغام پہنچانے اور اس کا حق ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ اس لیے اگر کافر راہ راست اختیار نہیں کرتے اور ایمان قبول نہیں کرتے تو اس کی ذمہ داری ان پر ہے۔ ان کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ ان سے پوچھاجائے گا کہ اس روشنی کی موجودگی میں انھوں نے آنکھیں کیوں بند کیے رکھیں ؟ آنحضرت ﷺ کو اس طرح کی تسلی اور بھی کئی جگہ قرآن پاک میں دی گئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ کافر جب اسلام کی مخالفت کرتے اور بجائے اسلام قبول کرنے کے اسکے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے اور آپ کی کاوشوں کو وہ کامیابی نہ ملتی جو ملنی چاہیے تھی تو آپ نہایت دل گرفتہ ہوتے اور کبھی کبھی یہ خیال فرماتے کہ یہ ان کا حق کو قبول نہ کرنا ‘ شاید میری کسی کوتاہی کا نتیجہ ہے اور بعض دفعہ اس تاثر کے زیر اثر بیمار بھی پڑجاتے۔ اس لیے پروردگار نے بار بار آپ ﷺ کو تسلی دی۔ یہاں اسی طرح کی تسلی صحابہ کرام ( رض) کو دی جا رہی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تربیت نے ان میں غلبہ دین کی ذمہ داریوں کا ایسا شدید احساس پیدا کردیا تھا کہ وہ بھی برابر تبلیغ و دعوت کے کام میں لگے رہتے اور جب وہ کبھی دیکھتے کہ اس قدر جان مارنے کے باوجود نتائج حوصلہ افزا نہیں ہیں تو انھیں یہ خیال دامن گیر ہوتا کہ شاید اس میں ہماری کوتاہیوں کا دخل ہو۔ چناچہ ان کو تسلی دی جارہی ہے اور اسکے ضمن میں ان کی کوششوں کا اعتراف بھی ہے کہ تم نے تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں اور غلبہ دین کے لیے جس طرح سرفروشیاں دکھائی ہیں ‘ وہ اللہ کے یہاں قبولیت پاچکی ہیں۔ رہی یہ بات کہ دنیائے کفر اس سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا رہی تو اس کا وبال انہی پر پڑے گا اور قیامت کے دن انہی سے اسکا سوال کیا جائے گا ‘ آپ اپنی فکر رکھیں ‘ ان کی گمراہی آپ کا کچھ نہیں بگاڑے گی اور اسکے حوالے سے آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ مزید اگر تدبر سے کام لیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک آنے والی امت مسلمہ کو ایک خاص فکر سے آشنا کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ رفتہ رفتہ اس امت کی یہ حالت تو باقی نہیں رہے گی ‘ یقینا اس میں زوال آئے گا ‘ پھر ایمان و عمل کی کمزوریاں پیدا ہوں گی۔ اس آنے والے دور سے پہلے یہ شعور دینا بہت ضروری ہے تاکہ اس وقت اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے وہ یہ کہ انسانی فطرت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے جسم کی حفاظت کے لیے بیماری کے بارے میں نہایت متفکر رہتا ہے۔ ذرا سی تکلیف ہوتی ہے تو علاج کی فکر کرتا ہے ‘ گھر میں اس کا ذکر کرتا ہے ‘ دوست احباب سے تذکرہ ہوتا ہے اور اگر ذرا تکلیف بڑھ جائے تو ڈاکٹر کی تلاش شروع ہوتی ہے ‘ علاج کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ بیمار آدمی کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میرے پاس اگر ملنے والے آئیں تو سوائے میری بیماری کے اور کسی بات کا ذکر نہیں ہونا چاہیے ‘ جتنا کوئی اس کی بیماری کا ذکر کرتا ہے ‘ اتنا ہی اسے ایک سکون محسوس ہوتا ہے۔ آپ کہیں کسی گھر میں عیادت کے لیے جا کر دیکھ لیجئے ‘ اگر اس گھر میں ایک سے زیادہ بیمار ہیں تو ہر ایک کی یہ خواہش ہوگی کہ پہلے میری خبر لی جائے اور میری بیماری کے بارے میں پوچھا جائے اور اگر کسی دوسرے کی طرف عیادت کرنے والا پہلے متوجہ ہوجائے تو اسے اپنے آپ کو نظر انداز کرنے کا گلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عام سی بیماری میں مبتلا ہو ‘ لیکن اس کے مقابلے میں دوسرا کوئی مریض نہایت تکلیف دہ اور مہلک بیماری کا شکار ہے تو تب بھی یہ عام سی بیماری کا مریض اس کی بیماری کو اہمیت دینے کی بجائے اپنی ہی بیماری کا تذکرہ کرتا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ اپنی بیماری کی فکر اور اپنے جسمانی تحفظ کا احساس آدمی کو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ بڑا سبق آموز اور دلچسپ ہے کہ ایک صاحب اپنی ایک عزیزہ کو جس کے پیٹ میں درد تھا لے کر ہسپتال گئے۔ وہ اس کو وہیل چیئر پر بٹھا کر جب لے جا رہے تھے تو سامنے سے ایک دوسری مریضہ کو آتے ہوئے دیکھا ‘ جس کے جسم کے تقریباً تمام جوڑوں پر پلاسٹر چڑھا ہو اتھا۔ کسی ایکسیڈنٹ میں اس کے گھٹنے ‘ ٹخنے اور بازو تک ٹوٹ چکے تھے۔ مریضہ کو لے جانے والے اس کے عزیز نے اس کی بیماری سے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے کہا کہ اس مریضہ کو دیکھو ! اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹ چکا ہے اور کس قدر تکلیف میں ہے اور تم اللہ کا شکر ادا کرو کہ تمہیں تو صرف پیٹ میں تکلیف ہے۔ خاتون نے یہ سن کر کہا کہ ہاں واقعی اس مریضہ کو بہت تکلیف ہے ‘ اس کے نجانے کتنے اعضاء ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ‘ اللہ ہی اس کو صحت دے ‘ لیکن ایک بات ہے کہ میری طرح اس کے پیٹ میں درد تو نہیں ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انسان کو چونکہ اپنی جسمانی صحت عزیز ہے ‘ اس لیے وہ اپنی بیماری کو کبھی نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح تمہارے جسم کو بیماریاں لگتی ہیں ‘ اسی طرح تمہاری روح اور تمہارے اخلاق بھی بیمار ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کی بیماریوں کو تم گناہ کے نام سے یاد کرتے ہو ‘ لیکن جس طرح جسمانی بیماریاں جسم کے لیے مہلک ہیں ‘ اسی طرح روحانی اور اخلاقی بیماریاں روح اور اخلاق کو تباہ کردیتی ہیں۔ جب تک ان بیماریوں کا جسمانی بیماریوں کی طرح احساس پیدا نہ ہو اور بجا طور پر ان کی طرف سے دل میں فکر مندی نہ ابھرے ‘ اس وقت تک آدمی کبھی بھی راہ راست پر نہیں رہ سکتا ‘ لیکن ہماری بدنصیبی کا عالم یہ ہے کہ ہم اخلاق اور روح کے اعتبار سے چاہے کتنے بھی بیمار کیوں نہ ہوں ‘ ان بیماریوں کی فکر ہونا تو دور کی بات ہے ‘ ہم ان کا کبھی تصور بھی نہیں کرتے بلکہ اگر کبھی کوئی دوسرا آدمی ہماری ان برائیوں یعنی بیماریوں کی طرف توجہ دلا دے تو ہم اس سے لڑ پڑتے ہیں اور مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم اپنے گرد و پیش بلکہ اپنے ملک میں رہنے والے سب لوگوں کو ان برائیوں میں مبتلا سمجھتے ہیں ‘ اس لیے ہم سخت سے سخت تبصرہ ان پر جاری رکھتے ہیں اور یہ کہنے سے بھی باز نہیں آتے کہ پورا ملک تباہ ہوگیا ‘ پوری قوم تباہ ہوگئی ‘ اب اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی ‘ اس قوم کا ایک ایک شعبہ اور ایک ایک ادارہ زندگی سے محروم ہوگیا ‘ لیکن اپنی ذات کا کبھی ہم بھول کر بھی نام نہیں لیتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کی نظر میں اس قوم کا ہر فرد بداخلاق ہے اور نجانے کس کس برائی کا شکار ہے ‘ لیکن صرف اس کی ذات ہے جو ہر طرح کی برائیوں سے پاک ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : ھلک من قال ھلک الناس (وہ شخص ہلاک ہوگیا ‘ جس نے کہا کہ سب لوگ ہلاک ہوگئے۔ ) یعنی وہ اپنے سوا سب کو سمجھتا ہے کہ وہ ہلاک ہوگئے ‘ لیکن اپنے بارے میں سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے کی اصل پہچان ” اپنی دینی حالت پر فکر مند رہنا “ اس لیے یہاں یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ مسلمانو ! سب سے پہلے اپنی فکر پیدا کرو ‘ یہی فکر تمہیں دنیوی اور اخروی وبال سے بچائے گی۔ صرف دوسروں کی برائیاں دیکھتے رہنا اور اس پر تبصرے کرتے رہنا ‘ آدمی کی اپنی اصلاح کے لیے نقصان دہ تو ہوسکتے ہیں ‘ مفید کبھی نہیں ہوسکتے۔ اسی ہدایت کا نتیجہ تھا کہ امت مسلمہ کا بڑے سے بڑا آدمی سب سے پہلے اپنی اصلاح کے بارے میں فکر مند ہوتا تھا۔ حضرت عمر فاروق ( رض) جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ ” میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا “ وہ بھی اپنی ذات کے بارے میں اس حد تک متفکر رہتے تھے کہ ایک دفعہ حضرت حذیفہ ( رض) سے کہنے لگے کہ حذیفہ ! تم میرے بھائی ہو ‘ اللہ کے لیے مجھ پر ایک احسان کرو ‘ میں جانتا ہوں کہ تمہیں رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے منافقین کے بارے میں نام بنام خبر دی تھی کہ کون کون لوگ منافق ہیں ‘ میں تم سے صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے صرف اتنا بتادو کہ کہیں ان میں میرا نام تو نہیں تاکہ میں اپنی اصلاح کرلوں۔ حضرت حذیفہ ( رض) نے پریشان ہو کر کہا امیر المومنین ! اللہ نہ کرے ‘ آپ ایسے کیسے ہوسکتے ہیں۔ اندازہ فرمایئے ! ان کا اپنی فکرمندی کے بارے میں کیا حال تھا اور آج ہم لوگ اپنے بارے میں کس حد تک بےفکر ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ جو آدمی اپنی دینی حالت کے بارے میں حتیٰ کے خود دین کے بارے میں فکر مند ہوگا ‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ تبلیغ و دعوت اور امربالمعروف سے لاتعلق ہوجائے کیونکہ جس آدمی کو اپنے گھر کی فکر ہے کہ کہیں اس کو آگ نہ لگ جائے ‘ اس سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ اگر اس کے پڑوسی کے گھر کو آگ لگ جائے تو وہ آرام سے اپنے گھر سویا رہے کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ اگر میرے پڑوسی کے گھر کی آگ نہ بجھی تو میرا گھر بھی جلنے سے نہیں بچے گا۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ کچھ لوگ کسی بحری جہاز پر سوار سمندر میں کہیں جا رہے ہیں۔ بحری جہاز کے تمام مسافروں کے لیے پینے کا میٹھا اور ٹھنڈا پانی جہاز کے اوپر کے درجے میں ہے ‘ نچلے درجے والے اپنی ضرورت کے لیے اوپر سے پانی لے کر آتے ہیں ‘ ان میں سے کسی نے مشورہ دیا کہ ہم بار بار اوپر پانی لینے جاتے ہیں اور تکلیف اٹھاتے ہیں ‘ ہم کیوں نہ نیچے اپنے حصے میں سوراخ کر کے پانی نکال لیں اور اس طرح اوپر جانے کی تکلیف سے بچ جائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر اوپر کے تختے پر رہنے والوں نے ان نیچے والے بیوقوفوں کو سوراخ کرنے سے نہ روکا اور یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ وہ سوراخ کریں گے تو خود ڈوبیں گے ہم انھیں کیوں روکیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ان بیوقوفوں نے واقعی ایسا کر ڈالا تو کیا ان کا حصہ جب ڈوبے گا تو جہاز کا اوپر کا حصہ بچ جائے گا ؟ ظاہر ہے کہ نہیں بچے گا۔ اسی طرح دینی حالت پر فکر مند رہنے والا شخص امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضہ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ برائی کو دیکھ کر چپ ہوجانے والوں کا انجام لیکن اس آیت کریمہ کے ظاہر اسلوب سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ صرف اپنی اصلاح کی فکر ہونی چاہیے ‘ دوسرے کی اصلاح کی فکر کرنا کوئی ضروری نہیں۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے اپنے دور خلافت میں خطبہ دیتے ہوئے اس پر تنبیہ فرمائی کہ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کہتے ہیں ‘ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے (اس کا مفہوم یہ ہے) کہ ( اگر کوئی آدمی کسی کو برائی کرتا دیکھے یا کسی بادشاہ کو ظلم کرتا دیکھے اور وہ چپ رہے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی کوشش نہ کرے تو قیامت کے دن جب برائی والا اور یہ ظالم بادشاہ پکڑے جائیں گے اور اللہ ان کو جہنم میں پھینکے گا تو یہ خاموش رہنے والے بھی ساتھ ہی پھینکے جائیں گے اور اسی عذاب کا شکار ہوں گے) یہ فکر مندی ہی ایک مسلمان کی سیرت و کردار کی اصلاح کی ضمانت بھی ہے اور اس کے کردار کا اصل جوہر بھی۔ لیکن یہ جوہر اس وقت تک باقی رہتا ہے ‘ جب تک یہ تصور دل و دماغ میں جاگزیں رہے کہ ایک نہ ایک دن اللہ کے پاس جانا ہے۔ ہم آج ہزار بےفکری کی زندگی گزار لیں ‘ اس دن پروردگار ہمیں بتائے گا کہ دنیا میں ہم کیا اعمال کرتے رہے اور آج اس کا انجام کیا ہوگا۔ جب تک یہ فکر دامن گیر نہ ہو ‘ زندگی صحیح نہج پر استوار نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی جائے تو پائیدار نہیں ہوتی۔ اگلی آیات کی حیثیت ایک تکمیلی اور اتمامی حکم کی ہے۔ سورة المائدہ کے آغاز میں بعض احکام دیئے گئے تھے۔ ان آیتوں میں ان کی وضاحت کی گئی ہے۔
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے درمیان گواہی بوقت وصیت جبکہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچا ہو ‘ اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں یا دو دوسرے تمہارے غیروں میں سے ‘ اگر تم سفر میں ہو اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے۔ تم ان کو نماز کے بعد روک لو۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو کہ ” ہم اس کے بدلے میں کوئی قیمت قبول نہیں کریں گے اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم گنہگار ٹھہریں

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

پس ‘ اگر پتہ چلے کہ یہ دونوں کسی حق تلفی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو ان میں سے کھڑے ہوں ‘ جن کی مقدم گواہوں نے حق تلفی کی ہے۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ راست ہے اور ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا ہے۔ اگر ہم نے ایسا کیا ہے تو ہم ظالم ٹھہریں

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

یہ طریقہ اس امر کے قرین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی گواہی کے بعد ان کی گواہی رد ہوجائے گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو۔ اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَھَادَۃُ بَیْنِکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الاَْرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃُ الْمَوْتِ ط تَحْبِسُوْنَھُمَا مِنْم بَعْدِ الصَّلٰوۃِ فَیْقْسِمٰنِ بِ اللہ ِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لاَ نَشْتَرِیْ بِہٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ کَانَ ذَا قُرْبٰیلا وَلاَ نَکْتُمُ شَھَادَۃَ لا اللہ اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الاْٰثِمِیْنَ ۔ فَاِنْ عُثِرَ عَلٰٓی اَنَّھُمَا اسْتَحَقَّآ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَھُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْھِمُ الاَْوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِ اللہ ِ لَشَھَادَتُنآ اَحَقُّ مِنْ شَھَادَتِھِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَآ زصلے اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ ذٰلِکَ اَدْنیٰٓ اَنْ یَّاْتُوْابِالشَّھَادَۃِ عَلیٰ وَجْھِھَآاَوْ یَخَافُوْٓااَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌم بَعْدَ اَیْمَانِھِمْط وَاتَّقُوا اللہ َ وَاسْمَعُوْاط وَ اللہ ُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ (المائدہ : 106۔ 108) ” اے ایمان والو ! تمہارے درمیان گواہی (بوقت وصیت) جب کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچا ہو ‘ اس طرح ہے کہ دو معتبر آدمی تم میں سے گواہ ہوں یا دو دوسرے تمہارے غیروں میں سے ‘ اگر تم سفر میں ہو اور وہیں تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے۔ تم ان کو نماز کے بعد روک لو۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں اگر تمہیں شک ہو کہ ” ہم اس کے بدلے میں کوئی قیمت قبول نہیں کریں گے اگرچہ کوئی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بیشک ہم گنہگار ٹھہریں “۔۔ ” پس ‘ اگر پتہ چلے کہ یہ دونوں کسی حق تلفی کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان کی جگہ دوسرے دو ان میں سے کھڑے ہوں ‘ جن کی مقدم گواہوں نے حق تلفی کی ہے۔ پس وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ راست ہے اور ہم نے کوئی تجاوز نہیں کیا ہے۔ اگر ہم نے ایسا کیا ہے تو ہم ظالم ٹھہریں “۔۔ ’ ’ یہ طریقہ اس امر کے قرین ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی گواہی کے بعد ان کی گواہی رد ہوجائے گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرتا “۔ دورانِ سفر موت آجانے کی صورت میں وصیت کا طریق کار سورة المائدہ عہد و میثاق کی سورة ہے۔ اس میں جن بنیادی باتوں پر عہد لیا گیا ہے اس میں ایک بڑی اہم بات یہ ہے کہ مسلمانو ! تمہیں اللہ کے گواہ کے طور پر اور عدل و احسان کے علمبردار کی حیثیت سے شہادت حق کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ تم اللہ اور اس کے دین کی حقانیت کی گواہی پورے عالم انسانیت کے سامنے اس طرح پیش کرو کہ اس کے نتیجے میں دنیا کے سامنے اللہ اور اس کے دین کی سچائی واضح ہوجائے۔ تمہارے علم کے سرچشمے ‘ تمہاری عبادت گاہیں ‘ تمہارے انتظامی ادارے ‘ تمہارے حکومتی ایوان ‘ حتیٰ کہ حسب ضرورت تمہارے میدان جنگ ‘ اپنے دعوؤں اور اپنے عمل سے اس شہادت حق کا فریضہ اس طرح انجام دیں کہ اللہ اور اس کے دین کی حقانیت روز روشن کی طرح واضح ہوجائے۔ یہ شہادت حق یقینا نامکمل رہتی ہے ‘ اگر انسانی معاملات پر اس کے اثرات گہرے نہ ہوں۔ ایک مسلمان جو اپنے آپ کو شہادت حق کا امین سمجھتا ہے ‘ اگر وہ باہمی معاملات میں سچی شہادت نہیں دیتا ‘ اس میں جھوٹ بولتا ہے یا کتمان سے کام لیتا ہے ‘ ایسے شخص سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں شہادت حق کا فرض انجام دے گا ؟ اس لیے کہ شخصی معاملات ‘ اجتماعی معاملات سے اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ دونوں ایک دوسرے کا اثر قبول کیے بغیر نہیں رہتے۔ افراد ہی سے اجتماعیت پیدا ہوتی ہے اور اجتماعیت کے زیر اثر افراد سازی کا کام ہوتا ہے۔ زندگی کے معاملات میں سچی شہادت دینا ‘ یہ وہ عملی تربیت ہے جو شہادتِ حق کے منصب کے حوالے سے ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضمانت دیتی ہے۔ ان آیات میں جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ‘ باہمی معاملات میں سچی شہادت دینے کا حکم دیا گیا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ باہمی انسانی معاملات کی گواہی ہے۔ لیکن ان آیات میں اسے شہادۃ اللہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپس کی چھوٹی موٹی گواہیاں بھی اس اجتماعی شہادتِ حق کا حصہ ہیں کیونکہ جس معاشرے میں معاملات شہادت باطل کا شکار ہوتے ہیں ‘ چاہے اس کا حلقہ کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو ‘ وہ معاشرہ وسیع سطح پر شہادت حق کا فرض انجام نہیں دے سکتا۔ پیشتر اس کے کہ ہم ان آیات کی وضاحت کریں یا اس کے احکام کا خلاصہ بیان کریں ‘ ہم اس کا شان نزول بیان کیے دیتے ہیں تاکہ ان آیات کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ امام قرطبی (رح) نے ان تین آیات کے شان نزول کے متعلق کہا ہے کہ مجھے اس میں کوئی اختلاف معلوم نہیں کہ یہ تین آیات تمیم دعدی اور عدی بن بداء کے متعلق نازل ہوئی تھیں۔ بخاری اور دارقطنی وغیرہ نے ابن عباس ( رض) سے روایت کی ہے ‘ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ایک مسلمان ” بُدَیل “ نامی دو نصرانیوں تمیم دعدی اور عدی بن بداء کے ساتھ بغرض تجارت ملک شام کی طرف گیا۔ شام پہنچ کر بدیل بیمار ہوگیا۔ اس نے اپنے مال کی فہرست لکھ کر اسباب میں رکھ دی اور اپنے دونوں رفیقوں کو اطلاع نہ کی۔ مرض جب زیادہ بڑھا تو اس نے دونوں نصرانی رفقاء کو وصیت کی کہ کل سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ انھوں نے سب سامان لا کر وارثوں کے حوالے کردیا ‘ مگر چاندی کا ایک پیالہ جس پر سونے کا ملمع یا نقش و نگار تھے اس میں سے نکال لیا۔ وارثوں کو فہرست اسباب میں سے دستیاب ہوئی ‘ انھوں نے اوصیاء سے پوچھا کہ میت نے کچھ مال فروخت کیا تھا یا کچھ زیادہ بیمار رہا کہ معالجہ وغیرہ میں خرچ ہو اہو ؟ ان دونوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ آخر معاملہ نبی کریم ﷺ کی عدالت میں پیش ہوا چونکہ وارثوں کے پاس گواہ نہ تھے تو ان دونوں نصرانیوں سے قسم لی گئی کہ ” ہم نے میت کے مال میں کسی طرح کی خیانت نہیں کی نہ کوئی چیز اس کی چھپائی “ آخر قسم پر فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا۔ کچھ مدت کے بعد ظاہر ہوا کہ وہ پیالہ ان دونوں نے مکہ میں کسی سنار کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ جب سوال ہوا تو کہنے لگے کہ ہم نے میت سے خرید لیا تھا چونکہ خریداری کے گواہ موجود نہ تھے ‘ اس لیے ہم نے پہلے اس کا ذکر نہیں کیا ‘ مبادا ہماری تکذیب کردی جائے۔ میت کے وارثوں نے پھر نبی کریم ﷺ کی طرف رجوع کیا۔ اب پہلی صورت کے برعکس اوصیاء خریداری کے مدعی اور وارث منکر تھے۔ شہادت موجود نہ ہونے کی وجہ سے وارثوں میں سے دو شخصوں نے جو میت سے قریب تر تھے ‘ قسم کھائی کہ ” پیالہ میت کی ملک تھا اور یہ دونوں نصرانی اپنی قسم میں جھوٹے ہیں “۔ چناچہ جس قیمت پر انھوں نے فروخت کیا تھا (ایک ہزار درہم پر) وہ وارثوں کو دلائی گئی۔ شانِ نزول میں جو کچھ بیان کیا گیا ‘ اس میں ان تینوں آیات میں بیان کردہ احکام کا اجمالی تذکرہ موجود ہے۔ لیکن پھر بھی مناسب ہے کہ ان آیات میں جو احکام بیان کیے گئے ہیں ‘ اس کا ایک خلاصہ بیان کردیا جائے۔ خلاصہ احکام یہ ہے کہ جو آدمی اپنی موت کے قریب ہونے کو محسوس کرے اور چاہتا ہے کہ حاضر مال کے بارے میں اپنے گھر والوں کو وصیت کرے تو اسے چاہیے کہ دو مسلم گواہ بنائے ‘ اگر وہ سفر پر نہیں ہے اور جو کچھ وہ اپنے غیر حاضر رشتہ داروں کو دینا چاہتا ہے ‘ وہ ان کے سپرد کر دے۔ لیکن جب وہ سفر پر ہو اور اسے دو مسلم گواہ نہیں ملتے ‘ جن کی شہادت رکھے اور اپنا مال ان کے سپرد کرے تو دو گواہوں کا غیر مسلموں میں سے ہونا بھی جائز ہے۔ پھر اگر مسلمانوں کو شک ہوجائے یا میت کے گھر والے شک میں پڑجائیں کہ آیا یہ دو گواہ جو کچھ پہنچا رہے ہیں ‘ یہ سچ ہے یا نہیں اور جس چیز کو ان کی حفاظت میں دیا گیا تھا۔ آیا انھوں نے ادا کی ہے یا نہیں۔ تو وہ ان کو ادائے صلوٰۃ کے بعد ‘ ان کے عقیدے کے موافق (نماز کے بعد) کھڑا کریں تاکہ وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ” وہ اپنے فائدے یا کسی اور کے فائدے کی خاطر قسم نہیں کھا رہے ‘ گو ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اور جو کچھ ان کی حفاظت میں دیا گیا تھا ‘ وہ اس میں سے کچھ نہیں چھپائیں گے ‘ ورنہ وہ گنہگار ہوں گے “ اس قسم کے ساتھ ان کی گواہی نافذ ہوجائے گی۔ پھر اگر اس کے بعد ظاہر ہوجائے کہ ان دونوں نے جھوٹی گواہی دینے اور جھوٹی قسم کھانے کا ارتکاب کیا ہے اور جو کچھ ان کی حفاظت میں دیا گیا تھا ‘ اس کی ادائیگی میں انھوں نے بددیانتی کی ہے تو میت کے قریب ترین وارثوں میں دو آدمی اٹھیں۔ جن کے خلاف وہ گناہ واقع ہوا تھا۔ وہ اٹھ کر اللہ کی قسم کھائیں کہ ” ان کی شہادت پہلے دونوں گواہوں کی شہادت سے صادق تر ہے اور انھوں نے اس حقیقت کے اظہار میں کوئی تعدی نہیں کی “ پس اس سے پہلوں کی شہادت باطل ہوجائے گی اور یہ دوسری شہادت نافذ ہوجائے گی۔ پھر نص قرانی کہتی ہے کہ یہ احکام شہادت کو صحیح طور پر ادا کرنے کے زیادہ ضامن ہیں یا ان سے یہ خوف لاحق ہوجائے گا کہ پہلے دو گواہوں کی شہادت رد کی جائے گی اور یہ خوف ان کو صحیح بات کہنے پر آمادہ کرے گا۔ باہمی معاملات میں شہادت کے قانون کا خلاصہ ہم نے آپکے سامنے پیش کیا ہے۔ اسکے بارے میں چند نکات ذہن میں رہنے بہت ضروری ہیں۔ شہادت کے قانون کے متعلق چند اہم نکات 1 یہ قانون ‘ شہادت کی تمام ضرورتوں اور تمام حالات پر حاوی نہیں۔ اس کا تعلق ایک عارضی حالت سے ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک شخص قریب المرگ ہے اور وہ اپنا مال چند لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اب اس وقتی ضرورت میں اس کے لیے یہ بات آسان نہیں کہ عدالتی طریقے کو اپنائے اور قانون کی تمام ضروریات کو پورا کرے ‘ اس کے لیے آسان طریقہ اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ یہی ہے ‘ جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے اور اگر وہ حالت سفر میں ہے اور سفر بھی اس زمانے کا جب کہ تمدنی ضرورتوں کا دور ‘ دور فقدان تھا۔ ایسی صورت حال میں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ ایک ایسا قانون دیا جائے ‘ جو ضرورت مند کے حالات کے مطابق ہو کیونکہ قانون سے الجھنیں پیدا کرنا مقصود نہیں ہوتا بلکہ آسانیاں پیدا کرنا ‘ قانون کا اصل ہدف ہے۔ شہری زندگی میں جبکہ تمدنی اور قانونی ضرورتیں ہر طرح دستیاب ہوسکتی ہوں اسلام نے بعض دوسرے احکام پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے ‘ جن کا ذکر فقہی کتابوں میں موجود ہے۔ 2 اس قانون میں مال جن دو آدمیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور جنھیں فقہی اصطلاح میں وصی کہتے ہیں ‘ ان کے سلسلے میں اجازت دی گئی ہے کہ اگر مسلمان میسر نہ ہوں تو غیر مسلموں کو وصی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی حالت ہے۔ عام معمول کی زندگی میں اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔ 3 اوصیاء کے لیے عادل ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ یہ مطلوب ضرور ہے ‘ لیکن ایسی لازمی شرط نہیں کہ ضرورت کے وقت بھی اس سے صرف نظر نہ کیا جاسکتا ہو۔ 4 اس قانون میں یہ بتایا گیا ہے کہ مدعی کے لیے گواہ پیش کرنا ضروری ہیں۔ اگر وہ ضابطہ شرعی کے مطابق گواہ پیش کر دے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا اور اگر وہ پیش نہ کرسکے تو پھر مدعا علیہ سے قسم لی جاتی ہے۔ اگر وہ شرعی ضابطہ کے مطابق قسم کھالے تو مقدمہ اس کے حق میں ہوجائے گا ‘ لیکن اگر مدعا علیہ قسم کھانے سے انکار کر دے تو پھر مدعی مقدمہ جیت جائے گا۔ 5 اس قانون میں قسم لینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ قسم میں شدت پیدا کرنے کا دارومدار حاکم کی رائے پر ہے۔ اس آیت کی رو سے لزوم ثابت نہیں ہوتا۔ 6 تَحْبِسُوْنَھُمَا سے ایک اصول معلوم ہوتا ہے کہ جس آدمی پر کسی کا کوئی حق واجب ہو ‘ اس کو اس حق کی ضرورت کے وقت قید کیا جاسکتا ہے۔ 7 بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اس میں نماز کے بعد جو قسم لینے کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اس سے عصر کی نماز مراد ہے۔ اس وقت کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب اس وقت کی بہت تعظیم کرتے تھے ‘ ایسے وقت میں خصوصاً جھوٹ بولنا ‘ ان کے نزدیک بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم میں کسی خاص وقت یا خاص مقام وغیرہ کی قید لگا کر تغلیظ کرنا جائز ہے۔ اسلام قانون دیتے وقت ہر دور اور ہر زمان کو مدنظر رکھتا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ قانون ایک خاص نوعیت کا حامل ہے ‘ جس میں بعض خاص ضرورتوں کا لحاظ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام صورتوں پر حاوی نہیں ہوسکتا۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ اسلام شاید کسی پسماندہ قوم کا وقتی قانون ہے ‘ کسی متمدن قوم میں چلنے کی اس میں صلاحیت نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ساری انسانیت کے لیے ہر زمانے اور ہر مکان کے لیے آیا ہے۔ دنیا کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں ‘ آج کچھ ہیں تو کل کچھ اور ہوں گے۔ ایک ملک کا ماحول دوسرے سے لازمی مختلف ہوتا ہے۔ ہر قوم و ملت کے تقاضے یکساں نہیں ہوتے۔ آج بھی دنیا میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں انسان بدویت کی طرف مائل ہے۔ اگرچہ یہ بدویت شہریت کی طرف محو سفر ہے ‘ لیکن شہری تقاضے بھی تو یکساں نہیں ہوتے اور انسانیت کو جن احکام کی ضرورت ہے ‘ وہ بحیثیت مجموعی ہیں ‘ جو ہر قسم کے احوال اور ہر قوم و ملت کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہوں۔ اسلام نے ہر ضرورت کی کفالت کی ہے اور ہر قسم کے معاشرے کے لیے ہر قسم کے احوال میں احکام دیئے ہیں۔ انسانیت ایک دور سے ‘ جب دوسرے دور میں داخل ہوتی ہے اور دوسرے سے ‘ تیسرے میں تو اپنی تمام ضروریات کا حل اسے اسلام کے پاس مل جاتا ہے۔ کیا آج کے مہذب شہروں کی بالکل وہی ضروریات ہیں ‘ جو دیہات ‘ صحرائوں اور تہذیب و تمدن سے دور علاقوں کی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ پس قانون ایسا ہونا چاہیے ‘ جو ہر معاشرے ‘ ہر فرد ‘ ہر حالت اور ہر زمان و مکان میں راہنمائی کے لائق ہو۔ صرف شہری زندگی کی نہیں بلکہ بدوی اور صحرائی زندگی کی راہنمائی بھی کرے۔ دنیا کے ہر کونے میں اس پر عمل ہو سکے۔ وہ لچک دار بھی ہو اور ہر وقت اور ہر جگہ کی ضرورت کا بھی اس میں لحاظ ہو۔ انسان اپنی اور دوسرے انسانوں کی ضروریات کا رب العالمین سے زیادہ جاننے والا اور سمجھنے والا نہیں ہے۔ کائنات کا رب اپنی مخلوق کی مصلحتوں ‘ گو ناں گوں ضرورتوں اور مختلف احوال و ظروف کو مخلوقات سے زیادہ جانتا ہے۔ قانون صرف انھیں ایک اچھی زندگی گزارنے کی آسانیاں مہیا کرتا ہے ‘ جو دل کی آمادگی کے ساتھ قانون کی پیروی کرتے ہیں اور جن کے دلوں میں قانون کے بارے میں مخاصمانہ یا منافقانہ رویہ پایا جاتا ہو ‘ ان کے لیے قانون کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔ اسلامی قانون کی اصل روح اللہ کا تقویٰ اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ اسلامی قانون کے ماننے والے اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت میں سرخروئی کے لیے اس قانون کی پابندی کرتے ہیں اور اگر یہ جذبہ مفقود ہوجائے تو اسلامی قانون اللہ کا قانون ہوتے ہوئے بھی ‘ اپنے ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اس لیے ان آیات کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا : وَاتَّقُوا اللہ َ وَاسْمَعُوْا ط وَ اللہ ُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ ۔ ( اللہ سے ڈرو ! پیغمبر کی بات سنو ! جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور پیغمبر کی بات نہیں سنتے ‘ وہ نافرمان ہیں اور اللہ ایسے نافرمانوں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔ وہ دنیا میں بھٹکتے رہیں گے اور آخرت میں اپنے انجام بد سے دوچار ہوں گے)
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

اس دن کو یاد رکھو ! ) جس دن اللہ سب رسولوں کو جمع کرے گا ‘ پھر پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں غیب کی باتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے

تمہید سورة المائدہ عہد و میثاق کی سورة ہے۔ اس لیے جن اساسی باتوں پر امت اسلامیہ کی بنیاد اٹھائی جا رہی تھی ‘ ان تمام باتوں کا اس سورة میں تذکرہ کیا گیا ہے اور اس کی پابندی کا عہد لیا گیا ہے۔ مزید برآں احکام کے سلسلے میں تکمیلی پہلوئوں سے جن مزید احکامات کی ضرورت تھی یا اس سلسلے میں جو مزید ہدایات ناگزیر تھیں ‘ ان کا بھی اس سورة میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ پھر تکمیلِ دین کی نعمت کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا ہے اور حلّت و حرمت کے تصور کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کر کے ‘ حاکمیت الہٰیہ کے بنیادی عقیدے کو دل و دماغ میں راسخ کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ مزید برآں شریعت اسلامی کی پابندی اور اللہ کی توحید کا عہد و پیمان لیتے ہوئے دوسری امتوں کا تذکرہ ‘ اس لحاظ سے کیا گیا ہے کہ اساسی اعتقادات اور شریعتِ اسلامی کی پابندی کا عہد ‘ یہ اللہ کی ایسی سنت ہے ‘ جس پر ہمیشہ عمل ہوتا رہا ہے۔ جب بھی اللہ نے کسی انسانی گروہ کو اپنی شریعت کی پابندی کے لیے چنا اور اس کو دعوت کا علمبردار بنایا ہے تو اس سے اس کی پابندی کا عہد ضرور لیا گیا ہے اور اسی عہد کی پابندی کی صورت میں ان کی دنیوی سرفرازی اور اخروی سرخروئی کا وعدہ فرمایا گیا۔ یوں بھی اگر دیکھا جائے کہ جب بھی کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا دعویٰ کر کے ‘ اس کے رسول کی امت کا ایک فرد بنتا ہے تو اصلاً وہ اللہ اور اس کے رسول سے ایک عہد و پیمان کرتا ہے کہ میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کی عبودیت میں کسی کو شریک نہیں کروں گا اور اللہ کے رسول کے مقابلے میں کسی شخصیت کو نہ اپنا رہنما سمجھوں گا اور نہ آئیڈیل کے طور پر قبول کروں گا۔ اس سورة میں بار بار ایسے ہی عہد و پیمان کی طرف نہ صرف یہ کہ متوجہ کیا گیا ‘ بلکہ اس عہد کی پاسداری کو مستحکم اور استوار رکھنے کے لیے ‘ ان تمام احکام اور اعمال پر بھی زور دیا گیا ہے ‘ جس سے اس عہد و پیمان کی یاددہانی اور اسے زندہ اور توانا رکھنے میں مدد مل سکے۔ عہد و پیمان کی یہ تمام تر تاکید اور امت اسلامیہ کی اصل حیثیت کا احساس ‘ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو صرف اسی وقت تک توانا رہ سکتا ہے ‘ جب کہ ایک ایک فرد کے دل میں اس بات کا تصور زندہ رہے کہ مرنے کے بعد ایک دن ایسا ضرور آنے والا ہے ‘ جس دن ہمیں اللہ کی بارگاہ اور اس کی عدالت میں کھڑا کیا جائے گا اور ہم سے اس عہد و پیمان کے حوالے سے اور اسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اعمال کے حوالے سے ‘ جواب طلبی ہوگی اور اگر ہم اپنے اس عہد و پیمان میں اس عدالت کے سامنے پورا اترنے میں کامیاب ٹھہرے ‘ تو ابدی نعمتوں سے ہمیں نوازا جائے گا اور اگر خدانخواستہ ہم ناکام ہوگئے تو ہمیشہ کا عذاب اور ذلت ہمارا مقدر بنے گی۔ چناچہ اس سورة کے آخری جو دو رکوع ہمارے پیش نظر ہیں ‘ ان میں اسی احساس کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ لیکن بات کا انداز اور اسلوب کلام کے تیور ایسے موثر اور تیکھے ہیں ‘ جسے پڑھتے ہوئے آدمی سہم سہم جاتا ہے۔ یَوْمَ یَجْمَعُ اللہ ُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ ط قَالُوْا لاَ عِلْمَ لَنَا ط اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ۔ (اس دن کو یاد رکھو ! ) جس دن اللہ سب رسولوں کو جمع کرے گا ‘ پھر پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا ؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں ‘ غیب کی باتوں کا جاننے والا تو بس تو ہی ہے “۔ بارگاہِ الٰہی میں جوابدہی کا تصور اور اس کی عظمت اس آیت کریمہ میں ‘ اس آیت کا پہلا لفظ ” یَوْمَ “ سب سے پہلے قابل توجہ ہے۔ قبل اس کے کہ یہ بتایا جائے کہ اس دن کیا ہوگا اور اصل میں جس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے ‘ وہ کیا ہے ‘ یَوْمَ کا لفظ کہہ کر اس دن کی ہولناکی کو نمایاں کیا گیا ہے کہ آج تمہیں جس عہد و پیمان کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ‘ تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ اس عہد و پیمان کے بارے میں ‘ تمہیں جس عدالت کے سامنے کھڑے ہونا ہے ‘ وہ کوئی دنیا کی عدالت نہیں بلکہ وہ تو ایک ایسے دن کی عدالت ہے ‘ جس میں جج اور منصف کے منصب پر خود خداوند ذوالجلال فائز ہوں گے اور اس کے جلال اور اس کی ہیبت سے ہر چیز لرزہ براندام ہوگی۔ ایک بےکراں انسانی سمندر ‘ امید و بیم کی کیفیت میں سرتاپا محو انتظار ہوگا۔ اچانک ایک آواز گونجے گی ” لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ “ انسانو ! تم نے دنیا میں کیسی کیسی بادشاہتوں کے تخت و تاج بچھا رکھے تھے اور کیسی کیسی عظمتوں کے آستانے قائم کر رکھے تھے ‘ اپنے اقتدار اور اپنی بڑائی کے کیسے کیسے دعوے تھے ‘ بتائو ! آج کس کی حکومت ہے ؟ کون ہے جو مطلق العنان بادشاہ ہے ؟ جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ؟ پھر خود ہی جواب دیا جائے گا : لِلَّہِ الْوَاحِدِ القَھَّارِ (آج اس اللہ کی حکومت ہے ‘ جو ایک ہے اور قہار ہے) مزید دل ہلا دینے والی بات یہ ہے کہ ایسے ہولناک اور ہیبت ناک دن میں ‘ سب سے پہلے جن کو حاضری کے لیے بلایا جائے گا ‘ وہ میرے اور آپ جیسے گناہ گار لوگ نہیں ہوں گے بلکہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی عظمت پاکو فرشتے سلام کرتے ہیں۔ ساری کائنات مل کر جن میں سے کسی ایک کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ اللہ نے جنھیں معصوم پیدا فرمایا اور ہمیشہ انھیں اپنی حفاظت میں رکھا ‘ جنھوں نے انسانوں کو انسانیت کا جوہر عطا کیا اور جن کے احسانات سے آج تک دنیا میں خیر کا وجود زندہ ہے۔ جنھیں ہم انبیاء و رسل کے نام سے جانتے ہیں۔ اس دن اللہ تعالیٰ ان رسولوں کو جمع فرمائے گا اور سب سے پہلے جواب طلبی اور باز پرس ان سے ہوگی اور قرآن کریم میں دنیا ہی میں اس بات کا تذکرہ اس لیے فرمادیا گیا تاکہ نوع انسانی کے افراد اس دن کی اہمیت اور اس دن میں جواب دہی کی نزاکت کو آج ہی اچھی طرح محسوس کر کے اس کے لیے تیاری کرلیں اور یہ باور کرلیں کہ جس عدالت کے سامنے نوع انسانی کے گل ہائے سرسبد کھڑے ہونے پر مجبور ہوں گے ‘ اس میں ما و شما کا کیا حال ہوگا اور اگر آج اس دن کی تیاری نہ کی گئی تو پھر جس صورت حال سے دوچار ہونا پڑے گا ‘ آج شاید اس کا تصور کرنا بھی آسان نہ ہو۔ اللہ کے جن بندوں نے دنیا میں اس عدالت کی ہولناکی اور اس کی عظمت کو سمجھ لیا ‘ ان کی زندگی گناہوں سے پاک ہوگئی اور وہ اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ‘ ہمیشہ اس تصور سے خوفزدہ رہے کہ بارگاہِ خداوندی میں کس طرح پیش ہو سکیں گے۔ تاریخ میں آتا ہے کہ کسی صاحب کو امام ابوحنیفہ (رح) سے کوئی کام تھا۔ اس نے سوچا امام صاحب نماز میں مل جائیں گے ‘ چناچہ وہ عشاء کی نماز میں مسجد میں چلا آیا۔ اتفاق سے نماز میں امام صاحب نے جو آیات تلاوت کیں ‘ اس میں یہ جملہ بھی تھا : وَاَمْتَازَو الْیَوْمَِ اَیُّھَا الْمُجْرِمْوُنَ (اے مجرمو ! آج الگ ہو کر کھڑے ہوجاؤ ) یعنی تمہیں اللہ کے نیکوکار بندوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ‘ تمہیں الگ سے کھڑا ہونا ہوگا تاکہ تمہارے جرائم کے مطابق تم سے سلوک کیا جائے۔ یہ شخص جو امام صاحب سے ملنے کے لیے گیا تھا وہ کہتا ہے کہ نماز کے بعد میں نے امام صاحب کو دیکھا کہ بیٹھے ہوئے آہیں کھینچ رہے ہیں اور بار بار اس آیت کی تلاوت کر رہے ہیں۔ کہتا ہے میں نے دیر تک انتظار کیا ‘ حتیٰ کہ جب رات ڈھلنے لگی تو میں ناامید ہو کے اٹھ آیا۔ تہجد کے وقت پہنچا تو امام صاحب کو اسی کیفیت میں پایا۔ زار و قطار رو رہے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے یہ درخواست کر رہے تھے ‘ یا اللہ ! جس دن مجرموں کو الگ کیا جائے گا ‘ اپنے غلام نعمان پر رحم فرمانا اور اس کو بخش دینا۔ یہی وہ احساس ہے جو انسان کو راہ راست پر رکھتا ہے۔ چناچہ اس آیت کے پہلے ہی جملے میں یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن کی ہولناکی کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس میں اللہ کے نبیوں اور رسولوں کو بھی جواب دہی کے لیے کھڑا ہونا پڑے گا اور پھر اللہ ان سے سوال فرمائے گا : مَاذَآ اُجِبْتُمْبتائو تمہاری امتوں کی طرف سے تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ یہ سوال دوہری نوعیت کا ہے۔ اس میں پہلا سوال جو مضمر ہے ‘ وہ یہ ہے کہ بتائو اللہ نے جو شریعت تم پر اتاری تھی اور نبوت اور رسالت کے جس عظیم منصب پر تمہیں فائز کیا گیا تھا ‘ کیا تم نے اس کا پورا حق ادا کیا ‘ اللہ کے بندوں تک اس کی شریعت کا ایک ایک حکم پہنچایا اور پھر اس کے جواب میں تمہاری امتوں نے اس پیغام اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا۔ انھوں نے قبول کیا یا اسے رد کردیا ؟ اندازہ فرمایئے ! اس سورة میں تو بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ عہد و پیمان صرف ان لوگوں سے لیا جا رہا ہے ‘ جو اللہ کے رسول پر ایمان لائے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایمان لانے والے تو اس عہد و پیمان کے حوالے سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے کیے ہی جائیں گے ‘ وہ رسول بھی جواب دہی پر مجبور ہوں گے ‘ جو ان امتوں کی طرف مبعوث کیے گئے۔ اس سے اس عہد و پیمان اور اس کی جواب دہی کی عظمت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔ پیغمبر اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہمیں اس کا کوئی علم نہیں کہ ہماری امتوں نے ہماری دعوت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ان کے جواب کا مفہوم یہ ہے کہ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنھوں نے ہماری دعوت کو رد کردیا ‘ ان کو تو پیغمبر جانتے ہیں۔ لیکن یہاں سوال ان کے بارے میں نہیں ‘ بلکہ سوال ان لوگوں کے بارے میں ہے ‘ جنھوں نے اس دعوت کو قبول کیا اور پھر اس کے تقاضوں اور ذمہ داریوں کے حوالے سے کیا کردار ادا کیا۔ ظاہر ہے ‘ اس بات کا جواب دینا پیغمبروں کے لیے ممکن نہ تھا۔ کیونکہ جواب کا تعلق دو باتوں سے ہے۔ ایک تو یہ کہ جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا ‘ کیا انھوں نے اسے ظاہری طور پر قبول کیا یا دل و دماغ کی آمادگی بھی اس کے ساتھ تھی اور انھوں نے واقعی اس کا ویسے ہی حق ادا کیا ‘ جیسے کرنا چاہیے تھا ؟ اس بات کا تعلق چونکہ انسان کے باطن سے ہے اور باطن کا جاننے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہے اور دوسری یہ بات کہ پیغمبروں کے دنیا سے اٹھائے جانے کے بعد ‘ ان کی امتوں نے اس دعوت کے ساتھ کیا سلوک کیا ‘ اس دعوت کے کیا نتائج نکلے اور اگلی نسلوں میں اس کے کیا برگ و بار پیدا ہوئے ؟ اس بات کا علم بھی پیغمبروں کو نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا کہ ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔ یعنی ہم اس کے بارے میں نہ تو یقینی طور پر کچھ جانتے ہیں اور نہ پوری تفصیل سے جانتے ہیں کیونکہ ان دونوں باتوں کا تعلق غیب سے ہے اور غیب کا علم رکھنے والا الٰہی تو ہی ہے ‘ ہم تو غیب کے جاننے والے نہیں : اِنَّکَ اَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ (بےشک غیبوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں) علمِ غیب کی حقیقت یہاں ایک بات سمجھ لینی چاہیے اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہم ایک بےکار بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ اہل علم نے علم کی پاسداری چھوڑ دی ہے۔ لہٰذا معاملہ جہلا کے ہاتھوں میں ہے ‘ وہ بلا وجہ عوام کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جہاں تک اللہ کے نبیوں اور رسولوں کے علم کا تعلق ہے ‘ وہ بلاشبہ اپنے دور کے سب سے بڑے عالم اور سب سے زیادہ باخبر لوگ ہوتے ہیں بلکہ ان کے علم کی رسائی وہاں تک ہوتی ہے ‘ جہاں دوسروں کے لیے دم مارنے کی مجال نہیں۔ پھر ان کے علم کی بنیادیں قیاسات اور تخمینوں پر نہیں اٹھائی جاتیں بلکہ ان کے علم کا ذریعہ اللہ کی وحی ہے ‘ جس میں غلطی اور گمان تک کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کو علم اور یقین سے بہرہ ور کرتے ہیں اور دنیا میں پروردگار انھیں علم اور یقین کے سرچشمے کی حیثیت سے بھیجتا ہے۔ لیکن ان کے پاس جو بھی اور جتنا بھی علم ہوتا ہے وہ ان کا ذاتی نہیں بلکہ پروردگار کی عطا اور اس کی دین ہے۔ وہ دین کے بارے میں کبھی یہ نہیں کہتے کہ ہم اس کو ازخود جانتے ہیں بلکہ ہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ وہ دنیا میں دین کے حوالے سے کسی کے شاگرد نہیں ہوتے ‘ بلکہ وہ براہ راست اور کبھی جبرائیل کے واسطے سے ‘ اپنے پروردگار سے استفادہ فیض کرتے ہیں۔ جہاں تک علم غیب کا تعلق ہے اس کی تعریف یہ ہے کہ علم غیب اس علم کو کہتے ہیں جو از خود ہو، کوئی اس کا ذریعہ نہ ہو، ایسا علم ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے ہمارے رسول پاک ﷺ علم الاولین والاخرین کے مالک ہیں لیکن آپ کا یہ تمام تر علم اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے، وہ کبھی جبرائیل کے واسطے سے اترتا ہے کبھی براہ راست اللہ کی طرف سے القاء ہوتا ہے یہی حال باقی انبیاء و رسل کا بھی ہے اس لیے علمی لحاظ سے ان کے تمام علوم کو جن تک دنیا کی رسائی نہیں ہے علم غیب نہیں کہا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ یا کسی اور نبی کے لیے عالم الغیب کا لفظ اختیار نہیں فرمایا اس رکوع میں بھی یہی کہا گیا کہ ہم تو کچھ نہیں جانتے علام الغیوب تو آپ ہیں۔ اگر اتنی سی بات کو سمجھ لیا جائے کہ یہ صرف ایک علمی اصطلاح کا معاملہ ہے نفس علم کا تو کوئی جھگڑا نہیں جو آدمی انبیاء کرام کے تمام دنیا سے زیادہ علم کا قائل نہیں وہ تو سرے سے مسلمان ہی نہیں سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا ان کا یہ علم اپنے طور سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نازل ہوتا تھا اگر دوسری صورت ہے تو اس کو علم تو کہیں گے علم غیب نہیں کہیں گے اور اگر پہلی بات ہے تو ایسا علم کسی پیغمبر کو حاصل نہیں یہ صرف اللہ کی صفت ہے۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھ لیجئے۔ مشہور واقعہ ہے جس سے ہم سب واقف ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بچپن میں ان کے بھائیوں نے کنعان کے ایک کنویں میں پھینک دیا اور گھر آکر اپنے والد گرامی سے یہ کہا کہ ان کو بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) باوجود پیغمبر ہونے کے یہ نہ جان سکے کہ بیٹا تین میل کے فاصلے پر کنویں میں پڑا ہے حتیٰ کہ یہ بیٹا ایک قافلے کی مدد سے مصر پہنچا عزیزمصر کے گھر میں پلا بڑھا پروردگار نے محض اپنے فضل و کرم سے اسے تخت و تاج کا وارث بنادیا لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس کی جدائی میں روتے رہے پھر ایک وقت آیا کہ خود یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو بتایا کہ میں ہی تمہارا بھائی یوسف ہوں۔ ان کو وہاں سے اپنا پیراہن دے کر روانہ کیا کہ جا کر ابا جان کی آنکھوں پر ڈال دینا وہ جو رو رو کے اندھے ہوگئے ہیں انشاء اللہ ان کی بینائی بحال ہوجائے گی۔ چناچہ جیسے ہی وہ پیراہن مصر سے چلا سینکڑوں میل پر بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم یہ نہ کہو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں یوسف کی خوشبو سونگھ رہا ہوں۔ شیخ سعدی نے اسی سوال کو منظوم کرتے ہوئے کہا ؎ یکے پرسید زاں گم کردہ فرزند زمصرش بوئے پیراہن شمیدی بگفت احوالِ ما برق جہاں است گہے بر طار اعلیٰ می نشینیم کہ اے روشن گہر پیر خرد مند چرا در چاہ کنعانش ندیدی دمِ پیدا و دیگر دم نہاں است گہے بر پشت پائے خود نہ بینیم (ایک آدمی نے اس بزرگ سے ‘ جس کا بیٹا گم ہوگیا تھا ‘ پوچھا کہ اے روشن گہر اور اے پیر خرد مند تو نے مصر سے تو بیٹے کے کرتے کی بو سونگھ لی ‘ لیکن کنعان کے کنویں میں تو اس کو کیوں نہ دیکھ سکا ؟ اس مردبزرگ (حضرت یعقوب۔ ) نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کی حالت دنیا کی بجلی جیسی ہے ‘ ادھر چمکتی ہے ‘ ادھر بجھ جاتی ہے۔ کبھی تو ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ ہمیں ایک اونچے بالا خانے پر بٹھا دیا جاتا ہے (اور ہم سب کچھ دیکھتے ہیں) اور کبھی ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے پائوں کی پشت کی خبر نہیں ہوتی) اس واقعہ سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پیغمبر کا علم سراسر اللہ کا عطیہ ہے۔ وہ جب چاہتا ہے ‘ جتنا چاہتا ہے ‘ عطا کرتا ہے اور جس کی ضرورت نہیں سمجھتا ‘ وہ عطا نہیں کرتا۔ اس لیے پیغمبر دنیا کو جن بےکراں علوم سے مالا مال کرتے ہیں ‘ وہ ان کی اپنی کاوشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی وحی کے ذریعے دنیا میں آتا ہے۔ اس لیے شیخ سعدی مرحوم نے فرمایا : علم غی بےکس نمی داند بجز پروردگار مصطفیٰ ہرگز نہ گوید تا نہ گوید جبرائیل ہر کسے گوید کہ می داند ازو باور مدار جبرائیل ہرگز نہ گوید تا نہ گوید کردگار ( اللہ کے سوا علم غیب کوئی نہیں جانتا۔ اگر کوئی شخص کہے کہ کوئی جانتا ہے تو اس کا یقین مت کروکیون کہ مصطفیٰ ﷺ کبھی کچھ نہیں فرماتے جب تک جبرائیل وحی لے کر نہیں آتے اور جبرائیل (علیہ السلام) ہرگز کبھی کچھ نہیں کہتے تاوقتیکہ پروردگار کا حکم نہیں ہوتا) تمام انبیاء و رسل کے اجمالی تذکرے کے بعد ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اسی جواب دہی کے حوالے سے ‘ کسی حد تک تفصیلی تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل کے سلسلے کے آخری رسول تھے اور مزید یہ بھی کہ ان کی تعلیم کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں دو قومیں تباہ ہوئیں۔ قوم یہود ان کی دشمنی کی وجہ سے اور عیسائی ان سے محبت میں غلو کے نتیجے میں۔ اس لیے یہاں بطور خاص ان کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ‘ تاکہ یہودی اس کو سمجھ کر اپنی غلطی کو محسوس کریں اور عیسائی صحیح صورت حال سے آگاہ ہونے کے بعد اپنے عقائد کی اصلاح کریں۔