Ayah 5:51یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ مؔ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ ط اِنَّ اللہ َ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (المائدہ : 51)
” اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو ۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائے گا تو وہ انہی میں سے ہے ۔ یقینا اللہ ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا “۔
یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوتے
اس آیت کریمہ میں خطاب کمزور مسلمانوں سے یا منافقین سے ہے ۔ جن کا ذکر اس سے پہلے رکوع میں ہوچکا کہ یہ منافقین یہود کے زیر اثر ہیں ‘ جو ان سے کسی طرح ترک تعلق کی جرأت نہیں رکھتے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں ایمان کا دعویٰ ہے یعنی تم اسلامی نظریہ حیات سے وابستگی کا اقرار کرتے ہو۔ اگر یہ تمہارا دعویٰ سچا ہے تو پھر یہ بات سمجھنا تمہارے لیے مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ یہود اور نصاریٰ تمہارے نظریہ حیات کے بدترین دشمن ہیں اور قدم قدم پر تمہیں اس کا تجربہ ہوچکا ہے ؟ اس کے باوجود تم اگر ان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جس نظریہ حیات پر ایمان لا چکے ہو ‘ اس کے بارے میں تم یکسو نہیں ہو ؟ کیونکہ آدمی اگر اپنے نظریہ حیات سے یکسو اور مخلص ہو اور وہ یہ بھی جانتا ہو کہ فلاں گروہ میرے نظریہ حیات کے ساتھ مخالفت اور دشمنی کا تعلق رکھتا ہے تو وہ کبھی بھی اس کو اپنا دوست نہیں سمجھ سکتا کیونکہ دوستی اور دشمنی کبھی ایک دل میں یا ایک تعلق میں یکجا نہیں ہوسکتیں یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ کے دشمنوں سے اور اللہ کے دوستوں سے آدمی یکساں تعلق رکھے۔ دوستی کے تقاضے اور ہیں اور دشمنی کے تقاضے اس کے بالکل برعکس ہیں۔ جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ زمین اور آسمان ہم آغوش ہوجائیں یا ندی کے دو پاٹ آپس میں مل جائیں یا تاریخ کے دو باب جمع ہوجائیں یا اندھیرا اور اجالا یکساں ہوجائیں۔ اسی طرح ایک دل میں دوستی اور دشمنی کے یکساں جذبات ‘ یہ ان سے بڑھ کے ناممکن باتیں ہیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آدمی یا تو کسی فریبِ نظر کا شکار ہو اور یا پھر وہ جانتے بوجھتے نفاق کے مرض میں مبتلا ہو۔ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم یہود و نصاریٰ کو اپنے نظریہ حیات کا دشمن سمجھتے ہو تو پھر ان کے ساتھ دوستی کا تعلق مت رکھو۔
ولی کسے کہتے ہیں ؟
یہاں لفظ اولیاء استعمال ہوا ہے ‘ جو ولی کی جمع ہے۔ ” ولی “ ہلکے پھلکے تعلق والے پر نہیں بولا جاتا ‘ بلکہ ایسے آدمی پر بولا جاتا ہے ‘ جس کے ساتھ ہمراز ہونے کا ‘ دم سازہونے کا ‘ خیر خواہی کا ‘ اعتماد کا اور غمگساری کا رشتہ ہو۔ ظاہر ہے ایسا گہرا رشتہ تم اپنے نظریہ حیات کے دشمنوں کے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ البتہ ! جہاں تک عام تعلقات کا سوال ہے ‘ مثلاً کاروباری تعلقات ‘ ہمسائیگی کے تعلقات ‘ ملازمت کے تعلقات وغیرہ اس طرح کے تعلقات رکھنے میں اسلام کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔ جہاں اس نے مسلمانوں کو کافروں سے گہرے تعلقات رکھنے سے منع کیا ہے ‘ وہاں اس نے بطور خاص یہ شرط لگائی ہے ” مِنْ دُوْنِ الْمُوْمِنِیْنَ “ یعنی یہ تعلقات مومنوں کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں۔ یعنی ایسے تعلقات نہیں ہونے چاہئیں ‘ جہاں مسلمانوں کے مجموعی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔ چاہے وہ مفادات تہذیبی اور تمدنی ہوں ‘ چاہے ان کا تعلق بین الاقوامی سیاست سے ہو ‘ چاہے وہ ملکی سا لمیت پر اثر انداز ہوسکتے ہوں یا ملکی آزادی اور خودمختاری ‘ ان سے متأثر ہوتی ہو۔ اس نوعیت کے کوئی سے تعلقات بھی غیر مسلموں سے نہیں رکھے جاسکتے۔
” بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ “ کہہ کر اس بات کی اہمیت کو ایک اور حوالے سے نمایاں کیا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کا حال یہ ہے کہ وہ باوجود آپس میں دشمنی کے تمہارے خلاف اکٹھے ہیں اور یہ معاملہ صرف یہود و نصاریٰ تک نہیں ‘ بلکہ پوری دنیائے کفر آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق ملت واحدہ ہے ‘ جو ملت اسلام کے خلاف اکٹھی ہے۔ چناچہ جب ہم یہود و نصاریٰ اور دوسرے غیر مسلموں کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دشمنی کی بنیادیں اس قدر گہری ہیں کہ یکجائی کا تصور بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً یہود و نصاریٰ ہی کو دیکھ لیجئے کہ یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ‘ ان کی والدہ محترمہ پر کیسے کیسے اخلاقی الزامات لگائے۔ حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو زنا کا نتیجہ قرار دیا۔ اتنے بڑے الزام کے بعد عیسائیوں کا یہود کو برداشت کرنا ‘ بےغیرتی کی انتہا ہے اور مزید یہ کہ یہود کا دعویٰ ہے کہ ہم نے مسیح کو سولی پہ لٹکایا اور سولی پر اس کو موت آئی اور سولی پر آنے والی موت کو ان کے نزدیک لعنت کی موت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو لعنت کی موت سے مرنے والا قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ من ذالک) ۔ بایں ہمہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب بھی تاریخ میں کبھی مسلمانوں کا یہود یا نصاریٰ سے تصادم ہوا ہے تو یہ دونوں مسلمانوں کے مقابلے میں ہمیشہ اکٹھے ہوگئے۔ اس لیے قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے معاون ‘ حمایتی ‘ ہمدرد و غمگسار ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے تعلقات قائم کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات کو نہیں ‘ بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کو دیکھنا ہوگا۔ اگر ان کے تعلقات سے امت مسلمہ کے لیے کسی خرابی کا اندیشہ ہو یا اس سے امت مسلمہ کے مجموعی مفادات متأثر ہو رہے ہوں تو پھر یہ نہیں دیکھاجائے گا کہ آپ کے ان کے ساتھ انفرادی مفادات کا کیا حال ہے کیونکہ انفرادیت ہمیشہ اجتماعیت کے ساتھ مل کر پروان چڑھتی ہے اور اجتماعیت سے کٹ کر ایک فرد کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بقول اقبال ؎
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
سورة انفال میں اسی بات کو زیادہ نمایاں طریقے سے اور زور دے کر کہا گیا ہے، فرمایا :
وَالَّذِیْنَ کَفَُرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط اِلاَّ تَفْعَلُوْہٗ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الْاَرْضِ و فَسَادٌ کَبِیْرٌ۔ (الانفال 8: 73)
(کافر ایک دوسرے کے حمایتی اور مددگار ہیں۔ اگر تم نے آپس میں اسی طرح کا اتحاد قائم نہ کیا (یعنی مسلمان ‘ امت مسلمہ کے مجموعی مفادات کے لیے ‘ اسی طرح ایک دوسرے کے حمایتی نہ بنے) تو زمین میں فتنہ اٹھے گا اور بہت فساد مچے گا)
مسلمانوں کی آپسی نااتفاقی اور یہود و نصاریٰ سے دوستی کے نتیجے میں
پیدا ہونے والی ہولناک صورت حال
یہ مسلمانوں کے لیے کھلی کھلی وارننگ تھی کہ تمہاری بطور ایک امت کی بقاء کی ضمانت اور تمہاری عزت و سرفرازی کا وجود ‘ اگر کسی بات میں ہے تو وہ دنیائے کفر کے مقابلے میں ‘ دنیائے اسلام کا مکمل اتحاد اور اتفاق ہے۔ مسلمانوں کا ایک دوسرے کے لیے جسدِ واحد بن جانا ہے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر زمین میں فتنہ اٹھے گا اور بہت بڑا فساد مچے گا۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو مدینہ منورہ کی آبادی چند ہزار نفوس سے زیادہ نہیں تھی۔ اس لیے زمین میں فتنہ پھیلنے اور فساد مچنے کا صحیح اندازہ کرنا ‘ اس وقت قطعاً ممکن نہیں تھا۔ یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ اس فتنہ کی وسعت کا حال کیا ہوگا۔ لیکن آج ہم اپنی آنکھوں سے اس امت کی نااتفاقی کا انجام دیکھ رہے ہیں۔ نیویارک سے ایک فتنہ اٹھا ‘ جس نے بڑھتے بڑھتے عالم اسلام کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں پیش آنے والے واقعہ میں جن لوگوں کو محض شکوک کی بنیاد پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ‘ ان میں ایک بھی پاکستانی نہیں اور پھر جو بائیس افراد امریکہ کو مطلوب ٹھہرے ‘ ان میں بھی کوئی پاکستانی نہیں۔ لیکن اس فتنے کی وسعت اور ہولناکی کا اندازہ کریں کہ افغانستان کی تباہی کے بعد ‘ اب پاکستان اس فتنے کا سامنا کر رہا ہے۔
اگر عالم اسلام نے اپنے اپنے مفادات کی بجائے ‘ امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات کو دیکھا ہوتا تو آج عالم اسلام اس زبوں حالی کا شکار نہ ہوتا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ آج کے دور کے عالم اسلام کے حوالے سے ‘ جب مورخ قلم اٹھائے گا تو ان باتوں کی کیا توجیہ کرے گا کہ کشمیر میں مسلمان کا خون ارزاں ہوگیا ہے ‘ مائوں ‘ بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال ہو رہی ہیں۔ لیکن جس ملک کے ہاتھوں یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ باقی سارے عالم اسلام کے تعلقات چاہے وہ سیاسی ہوں یا تجارتی ‘ برابر اس ملک کے ساتھ قائم ہیں۔ اس ملک کے افراد کو اپنے یہاں تجارتی پیکج دیئے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے پر اجیکٹس کے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں ‘ ثقافتی وفود کے تبادلے ہوتے ہیں ‘ معمولی مالی مفادات کے لیے ‘ ملی مفادات کو قربان کیا جا رہا ہے۔ افراد کی ایک بڑی تعداد کو ملازمتیں مہیا کر کے ‘ اس ملک کے لیے زرمبادلہ کا سامان کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس کی فوجی قوت میں اضافہ کیا جاتا ہے اور ایک لمحے کو یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی جاتی کہ آخر اس ملک کا مسلمانوں کے معاملے میں کردار کیا ہے۔ یہی حال فلسطین کے بارے میں بھی ہے کہ اسرائیل ‘ سارے عرب ممالک کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔ لیکن جو غیر مسلم ممالک اس کی تقویت کا باعث ہیں اور ہر طرح سے اس کی پشت پناہی کررہے ہیں ‘ ان سے مسلمان ممالک کے نہایت دوستانہ قریبی روابط ہیں اور ان میں کسی طرح بھی کمی کرنے کے لیے کوئی مسلمان ملک تیار نہیں ہے۔ حالانکہ اس آیت کریمہ میں صاف فرمایا جا رہا ہے کہ جو مسلمان ملک یا مسلمانوں کا کوئی گروہ ‘ ان یہود و نصاریٰ سے دوسرے مسلمانوں کے مفادات کے خلاف دوستی کا رشتہ قائم کرتا ہے تو وہ انہی میں شمار ہوگا یعنی قیامت کے دن اس کا شمار مسلمانوں میں نہیں ‘ بلکہ یہود و نصاریٰ میں ہوگا۔
مزید یہ فرمایا : اِنَّ اللہ َ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ کہ اگر مسلمان اپنا یہ رویہ تبدیل نہیں کرتے اور یہود و نصاریٰ سے ایسے ہی بےغیرتی کے تعلقات قائم رکھتے ہیں تو پھر یہ لوگ ظالم ہیں یعنی خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور اپنے پائوں پہ کلہاڑی مار رہے ہیں اور اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی ایسے ظالموں کو راہ یاب نہیں کیا کرتا۔ یعنی وہ اپنے اجتماعی مفادات کے حوالے سے ہمیشہ زبوں حالی کا شکار رہتے ہیں اور دنیا انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ چناچہ عالم اسلام جس طرح صدیوں سے زخم پہ زخم کھا رہا ہے ‘ اس کی پوری تاریخ اس حقیقت کی منہ بولتی تصویر ہے۔
اس آیت کریمہ میں بغیر نام لیے اصولی بات فرمائی گئی ہے کہ جو قوم یا افراد کا گروہ بھی یہود و نصاریٰ سے دوستی کا رشتہ قائم کرے گا ‘ وہ انہی میں شمار ہوگا اور اپنے انجام کو پہنچے گا۔ لیکن آنے والی آیت کریمہ میں ‘ ان لوگوں کا چہرہ دکھا دیا گیا ہے اور ان کی اصل بیماری بھی بتادی گئی ہے۔
Ayah 5:52فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ ط فَعَسَی اللہ ُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلیٰ مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَط۔ (المائدہ : 52)
(تم ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے ‘ دیکھتے ہو کہ وہ ان کی طرف پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں تو بہت ممکن ہے کہ اللہ فتح یا اپنی طرف سے کوئی خاص بات دکھائے اور انھیں اس چیز پر ‘ جو یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں ‘ نادم ہونا پڑے)
یعنی یہود و نصاریٰ سے جو لوگ تعلقات اور روابط ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہ بیماری نفاق کی بیماری ہے ‘ یعنی یہ لوگ پوری طرح اسلام کے بارے میں یکسو نہیں ہیں۔ ان کی زبانوں پر اسلام کا نام ہے ‘ لیکن دلوں میں ابھی تک یہود و نصاریٰ کے لیے نرم گوشہ موجود ہے اور چونکہ اس وقت تک اسلام نے ایک فیصلہ کن قوت اختیار نہیں کی تھی کہ جس سے مستقبل کے بارے میں کوئی قطعی بات واضح ہوجاتی اور منافق یہ سمجھ لیتے کہ اب مستقبل کی قوت اسلام ہے اور کفر تو ایک گرتا ہوا گھر ہے ‘ جس کی پاسبانی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس غیر واضح صورت حال اور مسلسل کشمکش کی فضا میں ‘ وہ کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔ انھیں اندیشہ ہوا کہ اگر ہم نے مسلمانوں کے ساتھ پختہ رشتہ باندھ کر یہود و نصاری سے اپنا تعلق توڑ لیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں کفر غالب آجائے تو یہود و نصاریٰ کے سامنے ہم پھر کیا منہ لے کر جائیں گے اور ان کے ساتھ ہمارے مفادات کیسے محفوظ رہیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عبادہ ابن صامت ( رض) نے جن کے یہود کے ساتھ بڑے وسیع تعلقات تھے ‘ صاف اعلان کردیا کہ آج کے بعد میں یہود سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھوں گا ‘ بلکہ اللہ اور رسول کے ساتھ میرا رشتہ آخری اور قطعی رشتہ ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں عبد اللہ بن ابی نے صاف کہا کہ میں یہ خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ہوسکتا ہے ‘ یہود غالب آجائیں تو ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائیں۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ دونوں ہی سے رسم و راہ باقی رہے۔ تاکہ ہر صورت میں ہمارے مفادات محفوظ رہیں۔ جو قوت بھی غالب آجائے ‘ ہم اسے یقین دلا سکیں کہ ہم تو آپ ہی کے ساتھ تھے۔ یہ وہ موقع شناسی ہے ‘ جس کا راستہ نفاق دکھاتا ہے اور ایک مخلص مومن کے لیے اس صورت حال کو قبول کرنا ‘ ایمان کی جان کنی سے کم نہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں ان منافقین کا پردہ چاک کر کے مسلمانوں کو اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ تم اطمینان رکھو ‘ وہ وقت دور نہیں ‘ جب پروردگار ایسی صورت حال پیدا فرما دے گا ‘ جب منافقین کو سوائے ندامت اور شرمندگی کے اور کچھ نہیں ملے گا اور وہ مسلمانوں کے سامنے ندامت سے منہ چھپاتے پھریں گے۔ اس کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک صورت تو یہ کہ اللہ تعالیٰ مکہ معظمہ کی فتح کے لیے اسباب پیدا فرما دیں ‘ جس کے نتیجے میں پورے عرب پر اسلام کا غلبہ مکمل ہوجائے۔ چناچہ بعد میں ایسا ہی ہوا اور دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی ایسی سورة نازل فرما دیں جس سے منافقین کا کچا چٹھا کھل کر مسلمانوں کے سامنے آجائے۔ چناچہ سورة توبہ میں اسی کا حوالہ دیا گیا ہے ارشاد فرمایا :
یَحْذَرُا الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْھِمْ سُوْرَۃٌ تُنَبِّئُھُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ ط قُلِ اسْتَھْزِئُ وْا ج اِنَّ اللہ َ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ ۔ (التوبہ 9: 64)
(منافقین ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے باب میں کوئی ایسی سورة نہ نازل ہوجائے ‘ جو ان کے دلوں کے سارے راز ان پر آشکارا کر دے۔ کہہ دو ! مذاق کرلو ‘ اللہ ظاہر کرنے والا ہے ‘ جس کا تم اندیشہ رکھتے ہو)
چناچہ بعد میں پیش آنے والے واقعات نے ان دونوں باتوں کی سچائی کو واضح کردیا۔ بنو قینقاع کو مدینہ طیبہ سے نکلنا پڑا ‘ بنو نضیر شہر بدر کیے گئے اور جنگ خندق کے فوراً بعد ‘ بنو قریظہ اپنے انجام کو پہنچے۔ بالآخر کفر کی قوتیں اس حد تک کمزور ہوگئیں کہ مکہ معظمہ ‘ جو ان کی طاقت کا مرکز اور سرچشمہ سمجھا جاتا تھا ‘ وہ بھی سرنگوں ہوگیا۔ کفر اور جاہلیت کی اپنی بقاء کی آخری کوشش مذبوحی جنگ حنین کی صورت میں تھی۔ لیکن اللہ نے اس میں بھی ‘ ان کو ناکامی سے دوچار کیا۔ اس طرح پورے جزیرہ عرب میں اسلام کے غلبے کا راستہ کھل گیا اور جہاں تک منافقین کا تعلق ہے ‘ جیسے جیسے تاریخ آگے بڑھتی گئی ‘ بار بار مسلمانوں کے لیے سرفروشی اور اخلاص کے مواقع پیدا ہوتے گئے۔ نتیجتاً منافقین اپنے اصل چہرے کو چھپانے سے عاجز رہ گئے اور مسلمان آہستہ آہستہ ان میں چھپے ہوئے نفاق کا اندازہ کرنے لگے۔ جنگ تبوک نے بہت حد تک ان کے چہرے کا گھونگھٹ الٹ دیا۔ پھر جنگ تبوک سے واپسی پر آنحضرت ﷺ نے سورة توبہ کی روشنی میں جو اقدامات فرمائے ‘ ان سے بڑے بڑے منافقین کا پردہ فاش ہوگیا۔ اب مسلمان انھیں حیرت سے دیکھتے اور تعجب سے ایک دوسرے سے وہی کہنے لگے ‘ جس کی قرآن کریم نے آنے والی آیت میں پہلے سے خبر دی تھی۔
Ayah 5:53وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَھٰٓؤُلآَئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِ اللہ ِ جَھْدَ اَیْمَانِھِمْ لا اِنَّھُمْ لَمَعَکُمْ ط حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 53)
” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں ‘ جو بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ وہ تو تمہارے ساتھ ہیں ؟ ان کے سارے اعمال ڈھے گئے اور وہ نامراد ہوگئے “۔
منافق کے تمام اعمال صالح ضائع ہوجاتے ہیں
مسلمانوں کو ان کے سابقہ طرز عمل پر انتہائی تعجب ہو رہا تھا کہ وہ کس طرح بڑھ بڑھ کر اپنی وفاداری اور اخلاص کا ثبوت دیا کرتے تھے۔ نمازوں میں شریک ہوتے ‘ زکوٰتیں دیتے ‘ جہاد کا اعلان ہوتا تو بڑھ چڑھ کر بہادری اور سرفروشی کی باتیں کرتے۔ اب جو ان کا اصل چہرہ مسلمانوں کے سامنے آیا تو انھیں حیرت اور تعجب ہی ہوسکتا تھا۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ کوئی گروہ اس طرح دو چہروں کے ساتھ بھی زندگی گزار سکتا ہے۔ لیکن منافقین کی مشکل یہ تھی کہ اگر وہ یہ اسلامی زندگی اختیار نہ کرتے تو اسلامی معاشرے میں ان کے لیے رہنا ممکن نہ تھا۔ کیونکہ وہ معاشرہ ہماری طرح کا معاشرہ نہیں تھا کہ جس میں صرف اسلام کا نام لینے سے کام چل سکتا ہو۔ اس معاشرے میں تو ہر آدمی کی شناخت اس کے کردار اور عمل سے ہوتی تھی۔ یہ ممکن نہ تھا کہ نماز کے وقت میں کوئی آدمی نماز نہ پڑھتا اور اذان کے ہوجانے کے بعد کوئی شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا اور اگر ایسا عمل کسی سے ظہور پذیر ہوتا تو صحابہ ( رض) یا تو اسے بیمار سمجھ کر اس کی مزاج پرسی کے لیے اس کے گھر کا رخ کرتے اور اگر معلوم ہوتا کہ وہ صحت مند آدمی ہے تو پھر یہ گمان ہونے لگتا کہ یہ شخص منافق ہے۔ اس لیے منافقین کے لیے اسلام کا لبادہ اوڑھنا ایک مجبوری تھی اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب تھے۔ اب جب ان کے چہرے سے پردہ ہٹا تو مسلمانوں کو ان پر یقیناً تعجب ہونا چاہیے تھا ‘ سو ہوا۔ لیکن ان کے وہ اعمال خیر ‘ جو وہ مسلمانوں کے ساتھ دکھاوے کے لیے کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ اعمال ان کے ڈھے گئے اور ضائع ہوگئے کیونکہ کوئی عمل بھی ایمان اور اخلاص کے بغیر اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس کے یہاں عمل کی صورت کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت بھی دیکھی جاتی ہے۔ جب تک یہ دونوں بہم نہ ہوں قبولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا کہ وہ لوگ نامراد ہوگئے۔ یہ اصلاً اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ یعنی منافقین اسلام کے بارے میں محض اس لیے یکسو نہیں ہو رہے تھے کہ انھیں کفر کے غلبے کی صورت میں نقصان اٹھانے اور نامراد ہونے کا اندیشہ تھا۔ پروردگار ان سے یہ فرما رہے ہیں کہ دیکھو ! تمہیں جس نامرادی کا ڈر تھا اور جس نقصان سے تم خوف زدہ تھے ‘ اس نقصان سے تم دوچار تو ضرور ہوئے ہو لیکن اس کا سبب وہ نہیں جو تم سمجھتے تھے بلکہ اس کا سبب تمہارا نفاق ہے جس نے تمہیں اسلام سے دور رکھا اور تم کفر کی پناہ کو آخری پناہ سمجھتے رہے۔ اب جب کہ اللہ نے اسلام کو غلبہ دیا ہے تو تمہارے لیے اس انجام کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
اس طرح منافقین کو آنے والے دنوں میں جو صورت حال پیدا ہونے والی تھی ‘ اس کا آئینہ دکھا کر انھیں جھنجھوڑا گیا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو اور اپنی دنیا اور آخرت کی حفاظت کی کوشش کرو ‘ ورنہ یہ روش تمہیں ارتداد تک لے جائے گی کیونکہ نظریہ حیات کے بارے میں یکسو نہ ہونا اور نظریہ حیات کے دشمنوں سے پینگیں بڑھانا ‘ یہ اسلام سے تعلق کی علامت نہیں بلکہ اسلام سے دشمنی کے مترادف ہے اور تم اسی راستے پر بڑھتے جا رہے ہو۔ تم شاید یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری اس روش سے شاید اسلام کو کوئی نقصان پہنچے گا ‘ یہ تمہارا خیال خام ہے۔ اس سے اسلام کو تو کیا نقصان پہنچے گا ‘ البتہ تمہاری دنیا اور آخرت تباہ ہوجائے گی۔ اس لیے ارشاد فرمایا :
Ayah 5:54یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللہ ُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗٓ لا اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ز یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لآَئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ اللہ ُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ۔
(المائدہ : 54)
” اے ایمان والو ! جو تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ کو کوئی پرواہ نہیں۔ وہ جلد ایسے لوگوں کو اٹھائے گا ‘ جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔ وہ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں کے مقابلے میں سخت ہوں گے ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ وہ جس کو چاہے بخشے گا اور اللہ بڑی سمائی رکھنے والا ہے اور علم والا ہے “۔
دین کا کام کرنے والوں کی صفات
یہاں خطاب اگرچہ مسلمانوں سے ہے ‘ لیکن روئے سخن منافقین ہی کی طرف ہے۔ ان سے صاف فرمایا جا رہا ہے کہ تم میں سے جو بھی دین سے پھرجائے گا ‘ وہ دین کا کوئی نقصان نہیں کرسکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کے لیے ایسے لوگوں کو کھڑا کرے گا ‘ جن میں یہ یہ صفات ہوں گی۔
یہاں جن لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے ‘ جن کو ان کے مقابلے میں اٹھایا جائے گا ‘ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ اس بارے میں اہل تفسیر کی دو رائے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ آیت درحقیقت آنے والے فتنہ کی پیشین گوئی اور اس کا ہمت کے ساتھ مقابلہ کر کے کامیاب ہونے والی جماعت کے لیے بشارت ہے۔ آنے والے فتنہ سے مراد فتنہ ارتداد ہے ‘ جس کے کچھ جراثیم تو عہد نبوت کے بالکل آخری ایام میں پھیلنے لگے تھے اور پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد پورے جزیرۃ العرب میں اس کا طوفان کھڑا ہوگیا اور بشارت پانے والی جماعت صحابہ کرام ( رض) کی ہے جس نے خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر ( رض) کے ساتھ مل کر اس فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا۔
واقعات یہ تھے کہ سب سے پہلے تو ” مسیلمہ کذاب “ نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک نبوت ہونے کا دعویٰ کیا اور یہاں تک جرأت کی کہ آپ کے قاصدوں کو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اگر ساری دنیا میں قاصدوں اور سفیروں کا قتل کرنا حرام نہ ہوتا تو میں تمہیں قتل کردیتا۔ اسی طرح یمن میں قبیلہ مذحج کے سردار ” اسود عنسی “ نے اپنی نبوت کا اعلان کردیا۔ رسول کریم ﷺ نے اپنی طرف سے مقرر کیے ہوئے حاکم یمن کو اسکا مقابلہ کرنے کا حکم دیا ‘ مگر جس رات میں اس کو قتل کیا گیا ‘ اس کے اگلے دن ہی آنحضرت ﷺ کی وفات ہوگئی۔ صحابہ کرام ( رض) تک اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی۔ اسی طرح قبیلہ بنو اسد کے سردار ” طلیحہ بن خویلد “ نے بھی نبوت کا دعویٰ کردیا۔ یہ تین وہ جھوٹے اشخاص ہیں ‘ جنھوں نے آپ کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس طرح ارتداد کا راستہ کھولا۔ لیکن آپ کی وفات کی خبر نے اس فتنہ ارتداد کو ایک طوفانی شکل دے دی اور عرب کے سات قبیلے مختلف مقامات پر اسلام اور اس کی حکومت سے منحرف ہوگئے اور خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق ( رض) کو اسلامی قانون کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کردیا۔ سرور کائنات ﷺ کی وفات کے بعد ملک و ملت کی ذمہ داری خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر ( رض) پر عائد ہوئی ایک طرف ان حضرات پر اس حادثہ عظیم کا صدمہ جاں گداز اور دوسری طرف یہ فتنوں اور بغاوتوں کے سیلاب۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد جو صدمہ میرے والد حضرت ابوبکرصدیق ( رض) عنہ پر پڑا ‘ اگر وہ مضبوط پہاڑوں پر بھی پڑجاتا تو ریزہ ریزہ ہوجاتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر و استقامت کا وہ اعلیٰ مقام عطا فرمایا تھا کہ تمام آفات و مصائب کا پوری عزم و ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بالآخر کامیاب ہوگئے۔ اس لیے حضرت علی ‘ حسن بصری ‘ ضحاک ‘ قتادہ وغیرہ جمہور آئمہ تفسیر نے بیان فرمایا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقص اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہی سب سے پہلے اس قوم کا مصداق ثابت ہوئے ‘ جن کے من جانب اللہ میدان میں لائے جانے کا آیت مذکورہ میں ارشاد ہے۔
دوسری رائے یہ ہے کہ آیت نمبر 41 جہاں سے اس بحث کا آغاز ہوا ‘ وہاں آنحضرت ﷺ کو خطاب فرما کر پروردگار نے تسلی دی ہے کہ اے پیغمبر ! یہ منافقین ‘ جو کفر میں سبقت کرتے جا رہے ہیں ‘ آپ ان کے طرز عمل سے دل گرفتہ نہ ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ حقیقی کمانڈر کو فوج کا ایک ایک سپاہی عزیز ہوتا ہے جبکہ اس کا مقابلہ بھی دنیا بھر کے دشمنوں سے ہو۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ میری فوج کے سپاہیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں ‘ جو بجائے اسلام کو اپنا سب کچھ سمجھنے کے غیر مسلم قوتوں کی آغوش سے نکلنے کا نام نہیں لیتے بلکہ بار بار انھیں کی پناہ میں جانے کی کوشش کرتے ہیں تو کمانڈر کو یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اس طرح میری فوج کی افرادی قوت اور اس کے اصل جوہر میں بھی کمی آجائے گی تو پھر دنیا بھر کے دشمنوں سے عہدہ برآ ہونا کس طرح ممکن ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ان منافقین کے طرز عمل کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے ہی احساسات تھے ‘ جن پر آپ کو تسلی دی جا رہی ہے اور اس کا اختتام مذکورہ آیت میں اس بات پر ہو رہا ہے کہ آپ افرادی قوت کے کم ہونے کے اندیشہ سے پریشان ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اگر اپنے طرز عمل سے بڑھ کر بھی ارتداد کا راستہ اختیار کرلیں تو یہ اللہ کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ‘ اس کا محافظ خود پروردگار ہے۔ ان کے نکل جانے کے بعدوہ ان کی جگہ ایک تازہ دم فوج لائے گا ‘ جو ان جیسے نہیں ہوں گے۔ چناچہ جب ہم تاریخ کے آئینہ میں دیکھتے ہیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ ” اسود عنسی “ کے مقابلے میں ” ابومسلم خولانی “ جیسے مجاہدوں نے جان پر کھیل کر اپنا فرض انجام دیا اور یمن کو اپنی ایمانی حرارت سے گرما دیا اور ” مسیلمہ کذاب “ کے چالیس ہزار لشکری ‘ جو اس کی بہت بڑی قوت تھے اور جن کی جنگجوئی اور شجاعت میں پورا عرب رطب اللسان تھا ‘ مسیلمہ کے قتل کے بعد اللہ نے اس پوری قوت کو اس طرح اسلام کی قوت میں ڈھالا کہ انہی کی سرفروشیوں سے عراق اور شام حتیٰ کہ اس زمانے کی بڑی بڑی طاقتیں بالآخر اسلام کی آغوش میں آئیں اور اسلامی قوت کے سامنے یہ ملک سرنگوں ہوتے چلے گئے۔
ایسے پاکیزہ لوگوں کے اٹھانے کی خبر پر پروردگار نے اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کی پاکیزہ صفات کا بھی ذکر کیا تاکہ ایک طرف پوری دنیا کو یہ معلوم ہوجائے کہ جو لوگ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اٹھتے ہیں ‘ ان کی صفات کیا ہوتی ہیں اور دوسری طرف منافقین کو یہ بتلانا ہے کہ تم نے اسلام کا لبادہ تو اوڑھ رکھا ہے ‘ لیکن یہ صفات تمہارے اندر نہیں ہیں۔ اگر تم واقعی حقیقی مومن بننا چاہتے ہو تو تمہیں اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنی چاہئیں۔ اب ہم ایک ایک کر کے ان صفات کا ذکر کرتے ہیں۔
1 اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والوں میں سب سے پہلی صفت یہ ہوتی ہے :
یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ ( اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں )
اللہ کی محبت کسی کے نام و نسب ‘ شکل و صورت اور مال و جان سے نہیں ‘ بلکہ ایمان و عمل اور اخلاق و کردار سے ہوتی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ ایمان و عمل اور اخلاق و کردار کا معیار کیا ہے ‘ جس کے نتیجے میں اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے ؟ قرآن کریم کے قربان جایئے ‘ اس نے اس مشکل سوال کا ایک متعین جواب مرحمت فرمایا ہے۔ فرمایا :
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ َ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ ُ (ال عمران 31)
(اے پیغمبر ! کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو پھر میری پیروی کرو ‘ اللہ تم سے محبت کرے گا)
یعنی ایمان و عمل کا معیار رسول اللہ ﷺ کی اتباع ہے اور یہ وہ سرمایہ ہے ‘ جس کے حاصل ہوجانے کے بعد اللہ کی محبت نصیب ہوسکتی ہے تو یہ لوگ ‘ جو اللہ کے دین کی علمبرداری کے لیے اٹھیں گے ‘ ان کی پہلی شناخت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں کامل ہوں گے۔ دوسری بات فرمائی کہ یہ لوگ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ جو آدمی اللہ سے محبت کا دعویدار ہے ‘ وہ یقینا اسلام کے ساتھ وفاداری کا تعلق رکھتا ہوگا اور اس تعلق کے ساتھ یکسوئی میں اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ وہ اپنی وفاداری اور سرفروشی کا حوالہ اللہ کے سوا کسی اور کو ہرگز نہیں بنائے گا۔ اس کے لیے یہ بات ممکن ہی نہیں ہوگی کہ وہ اللہ کے دین کے دشمنوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھے ‘ جس سے اسلام یا مسلمانوں کے مجموعی مفادات پر آنچ آتی ہو۔ اس کا رویہ کبھی ان منافقین جیسا نہیں ہوگا ‘ جو محض اس اندیشہ سے کہ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے کفر کو غلبہ مل جائے اور ہمارے مفادات محفوظ نہ رہیں ‘ اسلام کی دشمن قوتوں سے پینگیں بڑھانے سے بھی گریز نہ کریں۔ اللہ کے ان سپاہیوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ آنے والے دنوں میں حالات کیسے ہوں گے ‘ خطرات کا عالم کیا ہوگا ‘ کس طرح کے مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ وہ تو صرف ایک بات کو جانتے ہیں کہ ہمیں چونکہ اپنے اللہ سے محبت ہے تو اس سے وفاداری اور اس کے دین کی پابندی ہی ہماری اول و آخر ترجیح ہے اور یہ ہماری محبت کا کم سے کم تقاضہ ہے ‘ یہ بات ہمارے سوچنے کی نہیں کہ اس محبت کی قیمت ہمیں کیا ادا کرنا ہوگی۔ اس کے لیے انھیں سر بھی کٹوانا پڑے تو وہ اسے بھی کوئی بڑی قیمت نہیں سمجھتے۔ انتہائی نامساعد حالات میں ان کی سوچ کا انداز یہ ہوتا ہے ؎
ہری ہے شاخ تمنا ‘ ابھی جلی تو نہیں
دبی ہے آگ دل کی ‘ مگر بجھی تو نہیں
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسر میداں ‘ مگر جھکی تو نہیں
2 ” اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ “ مسلمانوں کے لیے نرم مزاج۔ ’ ’ اَذِلَّۃٍ “ یہ ذلیل یا ذلول کی جمع ہے۔ صاحب قاموس نے تصریح کی ہے کہ یہ لفظ دونوں کی جمع کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ذلول کا معنی ہے ” نرم خو ‘ نرم مزاج ‘ فرماں بردار ‘ متواضع اور سہل الا نقیاد “ یعنی یہ لوگ مسلمانوں کے لیے نہایت نرم خو ‘ بھولے بھالے ہر پہلو سے لچک قبول کرنے والے اور ہر سانچے میں ڈھل جانے والے ہوتے ہیں۔ اللہ انھیں اگر اقتدار بھی عطا کر دے تو ان کی ان صفات میں کبھی کمی نہیں آتی۔ ناواقف آدمی انھیں دیکھے تو ایک مزدور سمجھے اور جسے ان سے معاملہ کرنے کا موقع ملے ‘ وہ ان کو نہایت وسیع القلب ‘ متحمل اور ایثار کا پیکر پائے۔ اگر کبھی اپنے جائز حقوق کے بارے میں بھی انھیں کسی ضدی اور جھگڑالو آدمی سے واسطہ پڑجائے تو وہ اپنے جائز حقوق سے دستبردار ہونے سے بھی دریغ نہ کریں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ان کے پیش نظر رہتا ہے :
اَنَا زَعِیْمٌ بَبَیَتِ فِیْ رَبْضِ الْجَنَّۃَ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَھُوَ مُحِقٌ
(میں ضمانت دیتا ہوں عین وسط جنت میں گھر لے کردینے کی اس آدمی کو ‘ جو حقدارہوتے بھی جھگڑا چھوڑ دے)
3 ” اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ “ کافروں کے مقابلے میں سخت۔ ” اَعِزَّۃٍ “ عزیز کی جمع ہے۔ یہ بالکل ذلیل یا ذلول کے مقابل لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے معنی ہیں ” سخت ‘ مشکل ‘ بھاری ‘ ناقابل شکست ‘ ناقابل عبور اور عسیرالانقیاد “ یعنی یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں نہایت نرم ہوں تو ہوں ‘ لیکن کافروں کے مقابلے میں پتھر کی چٹان ہوتے ہیں۔ وہ اگر اپنے اغراض و مقاصد کے لیے ان کو استعمال کرنا چاہیں تو کہیں سے انگلی دھنسانے کی جگہ نہ پاسکیں۔ ان کی صحیح منظر کشی اقبال نے کی ہے ؎
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
اس کے برعکس منافقین کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے تو بڑے ہوشیار اور گھاگ ہوتے ہیں۔ پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے لیکن یہود اور مشرکین کے ہاتھوں میں موم کی ناک اور کٹھ پتلی بنے رہتے ہیں۔ وہ جس طرف چاہتے ہیں ‘ انھیں موڑتے اور جس طرح چاہتے ہیں ‘ انھیں نچاتے ہیں۔ قرنِ اول کے مسلمانوں میں ہمیں بڑے سے بڑے معرکے میں بھی مسلمانوں کی یہ صفت چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ دشمن کے لیے ایک ایک مسلمان لوہے کا چنا ثابت ہوتا ہے ‘ لیکن جب ان کا معاملہ مسلمانوں سے پڑتا ہے تو یہ ریشم سے زیادہ نرم ثابت ہوتے ہیں۔
4 ” یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ط “ وہ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرتے نہیں ہیں۔ ان پاکیزہ صفات لوگوں کی یہ چوتھی صفت ہے ‘ جو پہلی تین صفات کا منطقی نتیجہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ صرف اللہ ہی سے محبت کریں اور اللہ کے مقابلے میں دشمن قوتوں کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کردیں اور دشمن انھیں ہر قیمت پر اپنے سامنے سرنگوں ہونے کے لیے مجبور کریں تو پھر ان کے سامنے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ اللہ کی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے اعلائے کلمۃ الحق کا فرض انجام دیتے ہوئے ‘ جو کچھ ان کے بس میں ہے ‘ وہ کر گزریں۔ جہاد اپنی ہمت اور توانائی کو آخری حد تک اللہ کے دین کی گواہی اور کلمہ حق کی سربلندی کے لیے خرچ کرنے اور کھپا دینے کا نام ہے۔ یہ سعی و محنت کبھی علمی اسلوب میں ہوتی ہے تو استدلال کی قوت ‘ افکار کی صداقت و سطوت اور زبان و قلم کی رعنائی سے کام لیا جاتا ہے۔ لوگوں میں نفوذ پیدا کرنے کے لیے دوڑ بھاگ اور میل ملاپ سے کام لیا جاتا ہے۔ کبھی پاکیزہ سیاسی طور اطوار اختیار کر کے ریاست کے مختلف اداروں میں فہم و تفہیم کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ کبھی قانونی اور آئینی جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ لیکن اگر ان تمام راستوں کو بالجبر بند کرنے کی کوشش کی جائے یا دشمن دین قوتیں مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیں تو پھر قتال تک بھی نوبت پہنچ سکتی ہے ‘ نتیجتاً جہاد قتال کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اب مسلمان اپنے پاس موجود قوت کے تمام ذرائع اور وسائل سے کام لیتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن یہ جو کچھ ہوگا، فی سبیل اللہ ہوگا یعنی اللہ کے راستے میں ہوگا ‘ اپنے نفس کے راستے میں یا شہرت و نمود کی خاطر یا قوم کے مالی مفادات کے لیے یا محض اپنی کلغی اونچی کرنے کے لیے نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد اعلائے کلمۃ الحق اور اللہ کی رضا کا حصول ہوگا اور اگر اس پر اس سے متصادم کسی اور جذبے یا خواہش کی پرچھائیں بھی پڑجائے تو یہ ساری تگ و دو اور جہاد و قتال مسموم ہو کر رہ جاتا ہے اور اسلام میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ واضح ہے کہ یہ ایک جانگسل مرحلہ ہے اور جان پر کھیل جانے کی ایک کوشش ہے۔ جس کو اختیار کرنے سے پہلے آدمی کو ہر طرح کے علائق سے دامن کشاں ہونا پڑتا ہے۔ وہ پوری سنجیدگی سے اس راستے پر چلنے سے پہلے اس کے مخالف تقاضوں کو نظر انداز کر کے یکسو ہوجاتا ہے اور اگر کوئی اس راستے میں اس کے لیے عناں گیر ہونا چاہتا ہے تو وہ جھٹک کر اپنے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اس لیے یہاں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور پھر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرتے نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے گھر سے یہ فیصلہ کر کے نکلتے ہیں کہ اس راستے میں ہمیں کسی کی بات سننی نہیں ہے اور زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی انسان کسی بڑے اقدام کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی بھی عزم و جزم والے راستے پر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور یا ایسا فرض انجام دینا چاہتا ہے ‘ جس میں قدم قدم پر بلائوں سے واسطہ پڑ سکتا ہے تو سب سے پہلی چیز جو اس کا دامن کھینچتی ہے ‘ وہ یہی ملامت کرنے والے کی ملامت ہے یعنی اپنے احباب کا حلقہ ‘ اس کے لیے حلقہ زنجیر بن جاتا ہے۔ اس کے عزیز و اقارب بات بات پر اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم آخر یہ کیا کام کرنے لگے ہو۔ ایک بالکل معمولی سی مثال سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ کوئی آدمی اگر اپنے بچے کو اس خیال سے کسی دینی مدرسے میں داخل کروا دے کہ کم از کم میں اپنے ایک بیٹے کو عالم بنا کر اللہ کے سامنے سرخرو ہوجاؤں تو پورا خاندان اس کے پیچھے پڑجاتا ہے کہ تم اپنے بچے کو مسیتڑ بنا کر کیوں برباد کرنے لگے ہو۔ اگر کوئی آدمی تنگی ترشی میں گزارا کرتا ہے ‘ جب کہ وہ ایک ایسی سیٹ پر بیٹھا ہے ‘ جس میں مال حرام کمانے کے ذرائع کشادہ ہیں تو اس کے دفتر کے احباب نصیحتوں سے اس کا جینا مشکل کردیں گے۔ بیشمار مثالیں ہیں ‘ جو ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں ‘ جس میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نیکی پر چلتے ہوئے جو سب سے پہلے اور نہایت جاندار قسم کی رکاوٹ پیش آتی ہے ‘ وہ یہی سمجھانے والوں کا سمجھانا اور ملامت کرنا ہے۔ اس لیے ہم شعرا کو دیکھتے ہیں ‘ چاہے وہ عرب کے ہوں یا عجم کے کہ جب وہ عشق کی وادی میں داخل ہوتے ہیں ‘ یہ چونکہ سب کچھ کھو دینے والی وادی ہے تو وہ سب سے پہلے انہی ملامت کرنے والوں کی ملامت اور ناصحین کی نصیحت کا ذکر کرتے ہیں۔ دور کیوں جایئے ہمارے اردو کا بہت بڑا شاعر مرزا غالب بھی بڑے عزم کے ساتھ ناصحین کی نصیحت کو رد کرتا ہوا کہتا ہے :
حضرتِ ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا وے کہ سمجھائیں گے کیا
اور پھر وہ دوستوں کی شکایت کرتا ہوا کہتا ہے ؎
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا ‘ کوئی غمگسار ہوتا
مختصر یہ کہ فتنہ ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ جس اولوالعزم گروہ کو اٹھائے گا ‘ ان کی یہ پاکیزہ صفات ہوں گی۔ لیکن ان کے ساتھ ساتھ ایک اور صفت بھی ان میں ہوگی کہ وہ اپنی ان صفات کو اپنی ذاتی صلاحیتوں اور محنتوں کا نتیجہ نہیں سمجھیں گے۔ وہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ایمان و عمل کی راہ پر چلنا اور ان کا حق ادا کرنا ہر آدمی کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ راستہ اللہ کی توفیق کے بغیر سر ہونا ممکن نہیں ہے اور اگر اس راستے میں کچھ کامیابیاں ملیں تو شیطان پھر بہکانے کی کوشش کرتا ہے اور دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ تم تو ماشاء اللہ بڑی قدآور شخصیت بن گئے ہو۔ اس لیے فرمایا کہ ان کے باطن کی پاکیزگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ
ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ
( یہ اللہ کا فضل ہے ‘ وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے )
ان کی یہ ساری صفات اللہ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہیں اور یہ فضل جسے بھی ملتا ہے ‘ اس کی توفیق سے ملتا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اس کی مشیت اور اس کی توفیق بندوں کی محنت و عمل اور حسن نیت کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ لیکن ہر بات کا سر رشتہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ‘ اس لیے ہمیشہ اسی سے مانگتے رہنا چاہیے۔ بقول اکبر ؎
کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا
ہم کیا ہیں ‘ جو کوئی کام ہم سے ہوگا
جو ہوا ‘ ہوا کرم سے تیرے
جو ہوگا ‘ تیرے کرم سے ہوگا
صفات کے اس آئینہ میں اصلاً منافقین کو اپنی شکل دیکھنے کا موقع دیا جا رہا ہے کہ اللہ کے راستے پر چلنے والے اور ایمان و یقین کا حق ادا کرنے والے لوگ ‘ وہ ان صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ تو صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ ہی کے راستے میں فدا ہوتے ہیں۔ دشمنانِ دین سے وہ کبھی ایسا تعلق قائم کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ‘ جس سے اسلامی صفوں میں دراڑیں پڑ سکیں۔ اس کے برعکس تم اچھی طرح اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھو ‘ تمہیں صاف نظر آئے گا کہ تم ان صفات میں سے کسی صفت کے بھی حامل نہیں ہو۔ تمہیں بجائے اللہ سے محبت کے ‘ یہود و نصاریٰ سے محبت ہے۔ تم بجائے اللہ پر اعتماد کرنے اور اسے معتمد سمجھنے کے ‘ تم یہود و نصاریٰ کو اپنا معتمد سمجھتے ہو اور اپنے مستقبل میں انہی پر اعتماد رکھتے ہو۔ اب بھی تمہارے لیے سمجھنے کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس لیے اب ہم مثبت انداز میں تمہیں توجہ دلا رہے ہیں کہ اچھی طرح اس بات کو سمجھ لو کہ زندگی میں تمہارا ولی ‘ تمہارا دوست اور تمہارا معتمد کون ہے۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 5:55اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہ ُ وَ رَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ ۔ (المائدہ : 55)
” تمہارے دوست اور معتمد تو بس اللہ ‘ اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں ‘ جو نماز کا اہتمام کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں فروتنی کے ساتھ “۔
مسلمان قوم کے دوست
یعنی تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست اور معتمد نہ بنائوبل کہ اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا دوست اور معتمد بنائو۔ تمہارا ایمان ‘ اگر تمہیں واقعی اس سے کوئی تعلق ہے تو وہ تمہیں ان سے جوڑتا ہے ‘ یہود و نصاریٰ سے نہیں۔ اللہ اور رسول سے زیادہ تو ظاہر ہے کوئی ہمدرد ‘ غمگسار ‘ مشکل وقت میں مدد دینے والا اور بےبسی میں سہارا بننے والا اور کون ہوسکتا ہے اور جہاں تک تعلق ہے مسلمانوں کا ‘ ظاہر ہے ایمان کے دعوے داروں کے ساتھ ان سے بڑھ کر اور کس کا قریبی رشتہ ہوسکتا ہے۔ اسلامی اخوت اور اسلامی حمایت اور حمیت نے جس طرح مسلمانوں کو جسد واحد بنادیا ہے ‘ اس کی موجودگی میں ان کو چھوڑ کر کسی اور سے رسم و راہ پیدا کرنا حماقت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ‘ اس لیے ان کمزور مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم صحیح راستے کو چھوڑ کر ‘ ایک غلط راستے پر چل نکلے ہو اور مزید یہ بھی فرمایا کہ مسلمان بھی ایسے ہونے چاہئیں جو نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں فروتنی اور عاجزی کی تصویر ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان جو مسلمانوں کو اعتماد کی دولت فراہم کرتے ہیں اور جن پر ہر معاملے میں اعتماد کیا جاسکتا ہے اور جو اسلام کی اصل قوت ہیں ‘ وہ وہ ہیں جن کا نماز ‘ زکوٰۃ ‘ عاجزی اور انکساری سے رشتہ ہے کیونکہ جو مسلمان نماز نہیں پڑھتا ‘ وہ گویا اللہ کے عہد وفا سے انحراف اختیار کرتا ہے اور جو زکوٰۃ نہیں دیتا وہ مال و دولت کو اللہ کی امانت کی بجائے ذاتی ملکیت سمجھتا ہے اور جو انکساری اختیار نہیں کرتا ‘ یقیناً اس کے اندر تکبر اور غرور کا مادہ ہوگا۔ ایسا شخص مسلمانوں کے اجتماعی معاشرے میں معاشرت کے توازن کو درہم برہم کرنے کا سبب بنتا ہے تو ایسے مسلمان تو اپنے لیے بھی طاقت کا باعث نہیں ہوتے باقی اسلامی سوسائٹی کو کیا طاقت دے سکتے ہیں۔ مزید فرمایا :
Ayah 5:56وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللہ َ وَ رَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (المائدہ : 56)
” اور جو اللہ ‘ اس کے رسول اور اہل ایمان کو دوست بناتے ہیں تو وہ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ ہی کی جماعت ہے ‘ جو غالب رہنے والی ہے “۔
آخری فتح مومنین ہی کی ہوگی
یہاں ایک بہت بڑی حقیقت کا انکشاف کیا جا رہا ہے ‘ جو آج ہمارے لیے بھی چشم کشا ہے اور اس دور کے منافقین کے لیے بھی سبق آموز تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہود و نصاریٰ اور دوسرے کفار چونکہ ابھی تک بڑی طاقت کے مالک ہیں ‘ اس لیے ان سے ترک تعلق نہیں ہوسکتا ورنہ کسی بھی نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے اور آج ہم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ‘ قوت اور طاقت ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے مسائل کے حل اور اپنی بقا کے سروسامان کے لیے ان قوتوں کی طرف دیکھنا چاہیے ‘ جو دنیا کو لیڈ (Lead) کر رہی ہیں۔ لیکن یہاں پروردگار اس حقیقت کا انکشاف فرما رہے ہیں کہ اصل طاقت اللہ کے پاس ہے اور اس کی طاقت اس قوم کے ہم رکاب ہوتی ہے ‘ جو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا تعلق رکھتی ہے ‘ جس کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوچکا اور اپنے اندر وہ صفات پیدا کرلیتی ہے ‘ جن کا گزشتہ آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس صورت میں وہ ایک قوم نہیں رہتی بلکہ وہ ایک قطرہ ہوتے ہوئے بھی اللہ کی قوت کے بےپناہ سمندر کا حصہ بن جاتی ہے۔ اب اس کی طاقت ایک قطرے کی طاقت نہیں بلکہ سمندر کی طاقت ہے۔ اب ریت کا طوفان بھی اس پر غالب آکر اسے خشک کرنے کی کوشش کرے تو ناکامی کا منہ دیکھے گا۔ اب یہ قوم محض انسانوں کا ایک ہجوم نہیں رہتی بلکہ یہ اللہ کی جماعت اور پارٹی ہے اور اللہ کی پارٹی کو اور اس کی جماعت کو دنیا کی پارٹیاں اور جماعتیں شکست نہیں دے سکتیں کیونکہ اس کی شکست اللہ کی شکست ہوگی اور اللہ تو ہمیشہ غالب رہتا ہے۔ اسی طرح اللہ کی جماعت بھی ہمیشہ غالب رہتی ہے۔ یہی وہ بات ہے جس کو اقبال نے کہا :
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کارکشا و کارساز
Ayah 5:57تمہید
افراد ہوں یا اقوام ‘ جب وہ نظریاتی قوت یا سیرت و کردار کی عظمت سے محروم ہوجاتی ہیں تو وہ ہمیشہ اپنے معاملات کو صرف نفع و ضرر کے حوالے سے دیکھتی ہیں۔ جہاں وہ محسوس کرتی ہیں کہ ہمیں یہاں سے نقصان پہنچ سکتا ہے ‘ وہ اس کے قریب جانا بھی پسند نہیں کرتیں۔ اسی طرح وہ اپنے تعلقات کو بھی عافیت و خطر کے حوالے سے متعین کرتی ہیں۔ جہاں انھیں خطرے کا احساس ہوتا ہے یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کی بقا کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے تو وہ ایسے تعلق کو ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ گزشتہ رکوع میں کمزور مسلمانوں اور منافقین کو اسی طرز عمل میں ہم نے گرفتار دیکھا ہے۔ وہ یہود و نصاریٰ سے اس لیے ترک تعلق پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے کیونکہ ابھی تک وہ کفر کو عرب کی غالب قوت سمجھتے تھے۔ لیکن عرب قوم میں بہت ساری خصوصیات میں سے ایک نہایت اہم خصوصیت جو قابل ذکر ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس کے افراد میں حمیت و غیرت کا عنصر ہمیشہ غالب رہتا تھا۔ جب کسی چیز میں وہ یہ دیکھتے تھے کہ ان کی حمیت و غیرت پر حرف آسکتا ہے تو وہاں وہ ہر طرح کے نقصان یا خطرے کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ لیکن اپنی حمیت کو ہاتھ سے کھونے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اس رکوع کی پہلی آیت میں ان کی اسی قومی خصوصیت کو حوالہ بنا کر انھیں راہ راست دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سابقہ حکم ان کی اس خصوصیت کے حوالے سے دوبارہ دیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے :
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآئَ ج وَاتَّقُوْا اللہ َ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 57)
” اے ایمان والو ! ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بنائو ‘ جنھوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے۔ ان لوگوں میں سے ‘ جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور نہ کفار کو اور اللہ سے ڈرو ! اگر تم مومن ہو ؟ “۔
یعنی اگر تمہارا ایمان کے ساتھ کوئی بھی رشتہ ہے اور تم اسلام کو واقعی اپنا دین قرار دے چکے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس دین سے ایک نسبت ہے اور اس دین کو تم سے نسبت ہے تو کیا تم یہ نسبت رکھتے ہوئے بھی ان لوگوں سے تعلق قائم کرنا برداشت کرو گے ‘ جو تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں ؟ جبکہ تمہاری قومی روایت یہ ہے کہ تمہارا تعلق جس چیز سے بھی ہو تم اس کی توہین و تذلیل کبھی برداشت نہیں کرتے ‘ کسی قبیلے کا سردار بھی اگر تمہارے غلام پر ہاتھ اٹھائے اور وہ غلام تمہارے قبیلے کا نام لے کر تمہیں اپنی مدد کے لیے پکارے تو تم بےسوچے سمجھے تلواریں سونت کے نکل پڑتے ہو اور اس وقت تک تلوایں بےنیام رکھتے ہو ‘ جب تک تم اپنے غلام کی توہین کا بدلہ نہیں لے لیتے حالانکہ تمہارے معاشرے میں ایک غلام کی کسی قبیلے کے سردار کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے۔ لیکن چونکہ وہ غلام تمہارا ہے اور تم سے اسے ایک نسبت ہے ‘ تم اس نسبت کو اپنی حمیت کا حوالہ سمجھتے ہو۔ اگر زندگی کے عام معاملات میں تمہارا یہ رویہ ہے تو دین تو زندگی کا سب سے نازک رشتہ ہے۔ اس معاملے میں تم یہ بےحمیتی کیسے گوارا کرلیتے ہو کہ اہل کتاب اور دوسرے کفار تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور تم پھر انہی سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو۔
ان اہل کتاب کے بعض اشرار کا یہ رویہ تھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی مجلس مبارک میں آتے تو طریقے طریقے سے شرارتیں کرتے اور دل کے پھپھولے پھوڑتے۔ آنحضرت ﷺ کو آکر بظاہر سلام کہتے ‘ لیکن حقیت میں بدتمیزی کرتے۔ بجائے ” السلام علیکم “ کہنے کے ” السام علیکم “ کہتے۔ ” السلام علیکم “ کا معنی تو ہے آپ پر سلامتی ہو اور ” السام علیکم “ کا معنی ہے ‘ آپ کو موت آئے۔ لیکن وہ اس طرح دبی زبان میں کہتے کہ مسلمانوں کو اس کا احساس نہ ہوتا۔ ایک دن انہی میں سے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ سے گھر پر ملنے کے لیے آئے اور اسی خباثت کا اظہار انھوں نے پھر کیا ‘ حضرت عائشہ ص پسِ پردہ بیٹھی تھیں ‘ انھوں نے سنا تو آگ بگولہ ہوگئیں اور کہا کہ اللہ کرے تمہیں موت آئے اور تم پر اللہ کی لعنت ہو۔ آنحضرت ﷺ نے روکا اور فرمایا : یَا عائشہ الرفق الرفق ” نرمی نرمی “ جس کو اللہ نے نرمی سے محروم کردیا ‘ اس کو نصف دین سے محروم کردیا۔ حضرت عائشہ ( رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ : آپ نے سنا نہیں ‘ انھوں نے کیا کہا۔ فرمایا میں نے سنا اور جواب بھی دے دیا۔ انھوں نے کہا ” السام علیکم “ یعنی تمہیں موت آئے میں نے کہا ” وعلیکم “ اور تمہیں بھی آئے۔ اخلاق کی کیا بلندی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے السلام کا لفظ زبان مبارک پر لانا گوارا نہیں فرمایا۔
صحابہ کرام ( رض) کی عادت تھی کہ جب آنحضرت ﷺ کی گفتگو میں کسی لفظ کے بارے میں انھیں شبہ ہوتا اور وہ اسے جاننا چاہتے تو کہتے ” یا رسول اللہ راعنا “ اے اللہ کے رسول ہماری رعایت فرمایئے۔ یعنی وہ بات دھرا دیجئے۔ لیکن یہ یہود کے اراذل اور کمینے جب حضور ﷺ کی خدمت میں آتے تو ایسے موقعوں پر ” راعنا “ کی بجائے ” راعینا “ کہتے۔ یعنی اے ہمارے چرواہے۔ چناچہ قرآن کریم میں پروردگار نے اس لفظ کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا تاکہ یہود اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں اور حکم دیا کہ تم ” راعنا “ کی بجائے ” انظرنا “ کہا کرو۔ اہل کتاب کا یہی وہ رویہ تھا جس کی طرف یہاں توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وہ تو ہر موقع پر اس طرح کی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور تم پھر انہی کے ساتھ دوستی کا تعلق رکھنا چاہتے ہو۔ پھر اگلی آیت میں اس کی ایک بہت نمایاں مثال بھی ذکر فرمائی۔