5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:13

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةً١ۚ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ١ۙ وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١ۚ وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:13 in the Quran reader

’ ان کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں۔ اور انھوں نے اس نصیحت کا بیشتر حصہ بھلا دیا ہے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی۔ آپ ﷺ کو ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہی ہوتی رہے گی۔ مگر (ان میں) تھوڑے ہیں جو بچے ہوئے ہیں۔ سو ان کو معاف کر دیجئے اور ان سے درگزر فرمائیے۔ بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔

فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً ج یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ لا وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ ج وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خآئِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْھُمْ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ ط اِنَّ اللہ َ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 13) ” ان کی عہد شکنی کے باعث ہم نے ان پر لعنت کی اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ وہ لوگ کلام کو اس کے مواقع سے بدلتے ہیں۔ اور انھوں نے اس نصیحت کا بیشتر حصہ بھلا دیا ہے جس کی انھیں نصیحت کی گئی تھی۔ آپ ﷺ کو ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہی ہوتی رہے گی۔ مگر (ان میں) تھوڑے ہیں جو بچے ہوئے ہیں۔ سو ان کو معاف کر دیجئے اور ان سے درگزر فرمائیے۔ بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ کوئی سرکش گروہ اللہ کا چہیتا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیشہ جب کسی قوم کو ( خواہ وہ مسلمان ہوں یا بنی اسرائیل) داعی کے منصب پر فائز کرتا ہے تو ان سے ایک عہد لیا کرتا ہے۔ چناچہ سب سے پہلے ہمیں اس عہد کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ دیکھو ! بالکل اسی طرح کا عہد ہم نے بنی اسرائیل سے بھی لیا تھا اور پھر جب انھوں نے اس سے انحراف کرتے ہوئے عہدشکنی کی تو ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ دراصل ان سب باتوں سے امت مسلمہ کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اب تم جس منصب پر فائز ہو ‘ تمہارے علاوہ دوسری کوئی قوم اس منصب پر فائز نہیں۔ تم آخری رسول کی آخری امت ہو ‘ اگر تم نے اس منصب کی عہدشکنی کی تو کچھ عجب نہیں کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب الٰہی آجائے اور جس طرح آج تم بنی اسرائیل کی جگہ فائز کیے گئے ہو ‘ کل تمہاری جگہ کسی اور کو فائز کردیا جائے۔ اللہ نے ہمیشہ اپنے دین کا کام انسانوں ہی سے لیا ہے اور چونکہ اس کی کسی قوم سے رشتہ داری نہیں ہے ‘ لہٰذا ناروا عنایت بھی کسی پر نہیں ہوتی۔ اللہ کا قانون اور سنت یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم اور گروہ اس کے ساتھ کیے گئے عہدوں کو پورا کرتا ہے ‘ تب تک اللہ کی بےپایاں عنایات اس کے شامل حال رہتی ہیں اور جب کوئی گروہ اس سے سرکشی کرتا ہے تو پھر وہ گروہ خواہ ہزارہا نبیوں کی اولاد ہی کیوں نہ ہو یا اس امت کا رشتہ نبی ِآخر الزماں ہی سے کیوں نہ ہو ‘ وہ ان کو اس عظیم منصب سے معزول کردیتا ہے۔ ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ عربوں نے جب نااہلی کا ثبوت دیا تو بغداد سرنگوں ہوگیا اور تاتاریوں کے ہاتھوں ان پر ایسی تباہی لائی گئی کہ لگتا تھا کہ دین اسلام کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا۔ لیکن اللہ کی یہی سنت غالب آئی اور اللہ کا قانون حرکت میں آیا اور اس نے خود تاتاریوں کو اسلام کی دولت بخشی اور انہی میں سے ایسے لوگ اٹھائے جو تاریخ کے مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے بالآخر خلافت عثمانیہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن جب انھوں نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں کوتاہی برتی تو قدرت نے ان کو بھی ختم کردیا۔ نتیجتًا آج تمام امت مسلمہ اپنی گردن میں ذلت کا طوق ڈالے اپنی سزا سے گزر رہی ہے اور تاریخ اس بات کے انتظار میں ہے کہ دیکھیں ! امت مسلمہ کا کونسا گروہ اس عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے آگے بڑھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ چون (54) سال پہلے اللہ نے اس ملک کے رہنے والوں کو شاید اسی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے چنا تھا۔ یہ آیات ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ لوگو ! اپنے منصب کو سمجھو ‘ اپنے میثاق کو یاد رکھو۔ اس میں تمہاری عزت و زندگی کی بقا ہے۔ ان آیات میں بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ‘ مگر انھوں نے جب عہدشکنی کا ارتکاب کیا تو پھر ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ ان نکات پر نظر رکھتے ہوئے ہم ان آیات کو دیکھتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے جب یہ ذمہ داری ان پر ڈالی اور ان سے عہد لیا تو کہا تھا کہ (میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ ہر وقت تمہاری مدد کروں گا۔ لیکن میری کچھ شرائط ہیں اور وہ یہ کہ تم نماز پڑھتے رہنا، زکوٰۃ ادا کرتے رہنا ‘ جو انبیاء ہم بھیجیں گے ‘ ان پر ایمان لانا ‘ ان کے دست راست بننا اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہنا) مگر ان لوگوں نے ان میں سے ایک ایک عہد کو توڑا۔ نہ اللہ کے بھیجے ہوئے قاصدوں کی مدد کی ‘ نہ دین کے احیاء اور نفاذ کے لیے ہاتھ پائوں ہلائے ‘ نہ اقامت صلوٰۃ کی پابندی کی اور نہ ہی اقامت زکوٰۃ پر قائم رہے یعنی ان کے ذمے صرف اللہ سے وفاداری کرنا تھا۔ جب انھوں نے اللہ کی وفاداری کو چھوڑ کر نجانے اور کس کس سے وفاداری شروع کردی تو انھیں سخت ترین سزا دی گئی۔ فرمایا کہ ہم نے سزا کے طور پر ان پر لعنت کی۔ ایک اور جگہ اس کی وضاحت کے لیے اللہ نے قرآن میں یہ الفاظ استعمال کیے ہیں : وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ق وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّہِط (البقرۃ : 61) (ہم نے ان پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار ماری اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے) یعنی لعنت کی ایک صورت ذلت ‘ مسکنت اور غضب ہے۔ گویا اللہ جس قوم کو سزا دینا چاہتا ہے ‘ اسے اپنی رحمت سے دور کردیتا ہے۔ اب بنی اسرائیل ہی کی تاریخ دیکھیں کہ کہاں تو وہ حال کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ زمانے قبل تک ‘ پھر موسیٰ (علیہ السلام) سے لے کر باقی پوری تاریخ میں اللہ نے اس قوم کو کتنی سربلندیوں سے نوازا ‘ اعزازات عطا کیے اور انھیں اپنا چہیتابنا کر پالا ‘ یہاں تک کہ ان کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ شاید ہمارا اللہ سے کوئی رشتہ ہے اور کہاں پھر یہ حال کہ اللہ سے عہدشکنی اور بےوفائی اور اللہ کی بجائے دوسروں سے تعلقات استوار کرنے کے باعث اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور رحمت کی دوری کے باعث ان کے دل سخت کر دئیے گئے۔ اللہ کے عذاب کی پہلی نشانی دلوں کا سخت ہوجانا ہے جب بھی کوئی امت یا افراد اللہ کی رحمت سے دور کیے جاتے ہیں اور اس کے غضب کا شکار ہوتے ہیں تو اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو سخت کردیتا ہے کیونکہ جب بھی کوئی اللہ سے کیے گئے عہد سے اعراض و انحراف کرتا ہے تو اللہ اس کے نفس لوّامہ کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کو ملامت کرو کہ یہ لوٹ آئے۔ لیکن جب آدمی ضمیر کی بات بھی نہیں سنتا اور قرآن سے دور ہوتا چلا جاتا ہے تو مسلسل اس کے اس عمل سے قانون قدرت حرکت میں آتا ہے اور غفلت کا ایک سیاہ دھبہ اس کے دل پر پڑجاتا ہے۔ اب اگر تو وہ شخص فوراً اللہ سے توبہ کرلے ‘ تو وہ دھبہ ہٹا دیا جاتا ہے اور اگر وہ ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا دھبہ پڑجاتا ہے۔ اگر وہ پھر بھی نیکی کی طرف نہیں آتا اور توبہ نہیں کرتا تو حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر اس شخص کا دل مسلسل داغ داغ ہوتا چلا جاتا ہے ‘ حتیٰ کہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ اس کا دل قبولیت کی استعداد سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی کو دلوں پر مہر لگنا کہتے ہیں۔ یاد رکھئے ! مہر لگنے کا فیصلہ تو اللہ کی جانب سے ہوتا ہے ‘ مگر اس کا سبب وہ برا آدمی خود بنتا ہے جو مسلسل گناہ سے اپنے دل کے شفاف آئینے کو داغ دار کر کے اس کی نورانیت کھو دیتا ہے کیونکہ اللہ کسی پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔ یہی معاملہ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی ہوا کہ انھوں نے اپنی مسلسل نافرمانیوں کے باعث خود کو اللہ کی رحمت سے دور کرلیا اور اللہ نے ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ اب انھیں نصیحت بھی کرو تو یوں لگتا ہے کہ جیسے آپ کسی پتھر سے مخاطب ہیں۔ گویا ایک دیوار ہے جس سے آپ سر پٹخ رہے ہیں۔ جو لوگ دعوت و تبلیغ کا تجربہ رکھتے ہیں ‘ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بعض اوقات ایسے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑجاتا ہے کہ ان میں قبولیت کی کوئی رمق دکھائی نہیں دیتی اور انسان سوچتا ہے کہ کاش ! میں نے اس شخص کو دعوت ہی نہ دی ہوتی۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی محرومی کا فیصلہ کیا جا چکا ہوتا ہے اور ان کے دلوں کو سخت کردیا جاتا ہے۔ اہل کتاب کے دل کی سختی تاریخ کے آئینے میں بعض مقامات پر قرآن نے انسانوں کے دلوں کی سختی کو پتھروں سے بھی بڑھ کر بتایا ہے اور واقعی ایسا دیکھا گیا کہ انسان جب کسی پر ظلم توڑنے پر آتا ہے تو درندوں سے ہزار درجہ بڑھ کر درندہ بن جاتا ہے۔ مثلاً وہ لوگ یا حکومتیں جو دنیا میں حقوق کا چارٹر لیے پھرتے ہیں ‘ کسی ملک میں مارشل لاء آئے تو وہاں کے رہنے والوں کے حقوق کی فکر انھیں ستانے لگتی ہے ‘ لیکن خود جب انہی حقوق کے علمبرداروں کو کسی قوم پر حکومت یا جارحیت کا موقع ملتا ہے تو پھر ظلم کا کوئی ایسا ریکارڈ نہیں رہ جاتا جو توڑا نہ جاتا ہو۔ مثلاً کبھی جیتے جی انسانوں کو کسی مہذب قوم نے پنجروں میں بند نہیں کیا ہوگا ‘ کبھی کسی کے مسلمان ہونے کے جرم میں ان کی داڑھیاں نہیں مونڈھی ہوں گی ‘ کبھی ان کو برہنہ کر کے ان کی تصویریں نہیں لی گئی ہوں گی ‘ کبھی اسرائیل کی طرح کسی اور قوم نے زندہ بچوں کو اٹھا کر زندہ حالت میں ان کے اعضاء ان کے جسموں سے نکال کر ان کی لاشوں سے فائدہ نہیں اٹھایا ہوگا۔ یہ بات کوئی نئی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی لیبیا کے جنگلوں میں انہی اہل کتاب کہ جن کا یہاں ذکر ہے (کہ ان کا دل سخت کردیا گیا) انہی لوگوں نے طرابلس کے میدانوں میں ہوائی جہاز سے ہزاروں کی تعداد میں انسانوں کو زندہ گرایا اور وہ لوگ تڑپ تڑپ کے بھوک سے مرے ‘ مگر ان حقوق کے علمبردار مہذب لوگوں نے کبھی نہ پوچھا کہ ان کی لاشیں کہاں گئیں۔ 1857 ء میں صرف دہلی میں چودہ ہزار علماء کو اس طرح پھانسی پر لٹکایا گیا تھا کہ جب انھیں رسہ باندھ کر لٹکا دیا جاتا تو نیچے آگ سلگائی جاتی اور جب ان کی لاشیں جل کر چرڑمرڑ ہوجاتیں تو انگریز عورتیں نیچے کھڑے ہو کر تالیاں پیٹتی تھیں کہ انگریزی کا آٹھ بن گیا۔ ہمارے دلوں کی کیفیت موجودہ حالات کے تناظر میں ان اہل کتاب نے جب بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا تو ان کی فوج اس حال میں یروشلم اور بیت المقدس میں داخل ہوئی تھی کہ ان کے گھوڑوں کے صرف پائوں ہی نہیں ‘ پنڈلیاں تک خون میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ گلیوں میں خون کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ پھر جب انہی سے نوے (90) سال کے بعد صلاح الدین ایوبی نے اللہ کے اس گھر کو آزاد کروایا تو مصنف سٹینلے پول لکھتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی صرف اپنے زمانے کا ہی نہیں بلکہ تمام زمانوں کا بڑا آدمی تھا۔ وہ لکھتا ہے : صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس نے کسی ایک آدمی کی نکسیر تک بھی نہیں پھوٹنے دی اور پکڑے جانے والے تمام قیدیوں میں سے کچھ کو اس کے بھائی عادل نے اور زیادہ تر کو خود اس نے فدیہ دے کر آزاد کرایا بلکہ قیدیوں کو رخصت کرتے ہوئے ضرورت کا سامان اور پیسے تک دئیے کہ وہ حالات کی بہتری تک گذارہ کرسکیں۔ ہم تو ایسی تاریخ رکھنے والے لوگ ہیں ‘ مگر پھر بھی ہم نے کبھی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ نہیں کیا۔ لیکن وہ لوگ جن کے دل اللہ نے سخت کر دئیے ‘ ہم نے ان کے چہرے کل تک تاریخ میں دیکھے تھے اور آج سورج کی روشنی میں کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ واقعی وہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے بھائی بندوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ جس طرح آج پورے عالم میں مسلمانوں پر ظلم کا بازار گرم ہے اور اس کے خلاف کسی اسلامی ریاست سے کوئی مؤثر آواز بلند نہیں ہو رہی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دل بھی سخت ہوگئے ہوں ‘ کیونکہ قرآن ہم ہی سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے : اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّلا وَلاَ یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُفَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْط وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 16) (کیا مسلمانوں پر ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پسیج جائیں اور نرم پڑجائیں اور مسلمان کہیں ایسے نہ ہوجائیں جیسے کہ ان سے پہلے اہل کتاب تھے کہ جب انحراف اور معصیتوں کی عمر دراز ہوتی چلی گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور پھر ان کے بیشتر لوگ نافرمان ہی نکلے) ہمیں فکر کرنی چاہیے کہ کہیں ہم بھی تو ایسے نہیں ہوگئے۔ ایسی قوم جس پر اللہ لعنت کر دے ‘ نتیجتاً اس کا دل اس حد تک سخت ہوجاتا ہے کہ اللہ کی کتابیں بھی اس کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہتیں۔ چناچہ جب اہل کتاب اس لعنت کا شکار ہوئے تو نماز جیسا فریضہ نہ صرف ان کے عمل سے نکل گیا ‘ بلکہ تورات سے اس کی فرضیت تک کا ذکر نکال باہر کیا۔ مسلمانوں سے دشمنی اور حسد کے مرض میں مبتلا ہو کر حضرت ابراہیم۔ ‘ ان کی دعوت ‘ مرکز دعوت ‘ ان کی عظیم قربانی اور بیت اللہ تک کی تاریخ بالکل بدل کر رکھ دی۔ پھر فرمایا کہ ” انھوں نے بھلا دیا اس نصیحت کا بیشتر حصہ ‘ جو انھیں نصیحت کی گئی تھی “۔ قرآن کریم سے پہلے جس کتاب کو الکتاب کہا جاتا ہے ‘ وہ توریت ہے ‘ انجیل اس کا ضمنی ایڈیشن ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو توریت کی شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ کیونکہ انجیل میں شریعت نہیں آئی۔ اس لیے جس کتاب میں تحریف کا ذکر ہے ‘ وہ توریت ہے اور اسی کے بیشتر حصہ کو بھلا دیا گیا تھا اور جب میثاق ہی توڑ ڈالا گیا تو پھر توریت سے ان کا کیا تعلق باقی رہتا ؟ اسی میثاق کی بدولت تو وہ کتاب کے پابند کیے گئے تھے۔ مگر جب انھوں نے میثاق توڑا تو پھر کتاب سے جس طرح کا تعلق چاہا ‘ رکھا ‘ جب چاہا توڑ دیا۔ جو حکم چاہا لے لیا ‘ جو چاہا چھوڑ دیا۔ اور یہاں ” حَظًّا “ کا دوسرا معنی نصیب لیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے جس چیز کے ذریعے ان کی قسمت بنائی ‘ اس کو بھلا کر یا اس کے بہت سے احکام عمل میں نہ لا کر اپنی قسمت بگاڑ لی۔ قرآن کریم اہل کتاب کے اس قصے اور روش کی داستان محض یونہی نہیں سنا رہا بلکہ دراصل اس سے امت محمدیہ علی صاحبھا السلام کو تنبیہہ کی جارہی ہے کہ دیکھو ! تم یہ روش ہرگز اختیار نہ کرنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : (جس راستے سے اہل کتاب میں کمزوریاں آئیں ‘ انہی راستوں سے تم میں بھی آئیں گی۔ دیکھنا ! ان راستوں پر نہ چلنا یا ان دراڑوں کو نہ کھلنے دینا ) ایک اور جگہ فرمایا کہ (مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان راستوں سے ضرور گزرو گے اور ان بلوں میں ضرور گھسو گے جن میں وہ (اہل کتاب) گھس کر رہے اور تباہ ہوئے) اللہ کی کتاب اور ہماری روش میں بار بار اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیں اپنے آپ پر نظر رکھنی چاہیے کہ اعمال و احکام میں انھوں نے جس طرح توریت کو ایک کھیل بنا کر رکھ دیا تھا کہ جس بات پر عمل نہ کرنا چاہتے ‘ اسے تاویل کی سان پر چڑھا کر کچھ سے کچھ بنا دیتے اور جن چیزوں کو بالکل نظرانداز کرنا چاہتے ‘ تو ان کو سرے سے کتاب سے نکال دیتے اور اگر باقی رکھتے تو پھر اسے قانون کی شکل نہ بننے دیتے۔ کہیں ہمارا طرز عمل بھی ایسا تو نہیں ؟ اگر صاف صاف بات کہی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ تو بالکل ہماری کہانی ہے۔ اللہ کی کتاب ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ اس میں معاملات ‘ عبادات ‘ معاشرت ‘ معیشت ‘ سیاست ‘ قومی اور بین الاقوامی آداب سب کچھ موجود ہے۔ زندگی کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہے ‘ وہ تمام کی تمام اس کتاب اور آپ ﷺ کی سنت میں موجود ہیں۔ لیکن ہم نے اس سے عبادات تو لے لیں ‘ مگر اس نے عدالت کا جو نظام دیا تھا ‘ حدود اللہ اور شرعی قوانین دئیے تھے ‘ وہ کہاں ہیں ؟ سیاست و حکمرانی کا جو ڈھانچہ اور خدوخال دئیے ‘ وہ کیا ہوئے ؟ اس نے ہمیں پوری ایک معیشت دی تھی ‘ جس میں سود کا کوئی تصور نہیں تھا ‘ وہ کہاں گم ہوگئی ؟ اس نے ہمیں ایک معاشرت دی تھی ‘ جس میں مرد و زن کے اختلاط کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ اس نے عورتوں کو حیاء کی ایک چادر پہنائی تھی ‘ غیرت کا غازہ بخشا تھا ‘ وہ قصہ پارینہ بن گیا۔ کتاب اللہ ہمارے گھروں میں تو موجود ہے ‘ مگر دلوں سے دور ہے۔ وہ جس زبان میں ہے ‘ ہم اس زبان سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ ” انھوں نے اس کتاب کا بیشتر حصہ بھلا دیا یا یہ کہ بیشتر سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیا۔ “ ہم نے بھی یہی کیا ہے۔ اہل کتاب کی ان تمام حرکات سے آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے مخاطب ہیں اور فرماتے ہیں کہ ” آپ برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہتے ہیں “ یعنی ہم آپ کو مطلع کرتے رہتے ہیں تاکہ جہاں ضرورت ہو آپ اس کی اصلاح کردیں تاکہ تکمیل دین کا کام انجام پذیر ہو۔ اس کے ساتھ ہی فرمایا : ” آپ ان کو معاف فرما دیجئے اور درگزر کیجئے “۔ بات یہ ہے کہ جب مجھے یہ معلوم ہو کہ میرے فلاں ہمسائے نے میرے ماں باپ کے چھوڑے ہوئے خزانے میں سے خیانت کا ارتکاب کیا ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرے ذہن میں نفرت کا کیسا لاوا ابلے گا اور دل کبھی آمادہ نہ ہوگا کہ میں ان لوگوں سے ملوں ‘ چاہے وہ رشتے میں میرے چچا کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں…… یہ بنی اسرائیل بنی اسماعیل کے چچازاد ہی تو تھے۔ جب آپ ﷺ اور مسلمانوں نے قرآن کے ذریعے یہ جانا کہ انھوں نے کتاب اللہ کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ‘ بالخـصوص آنحضرت ﷺ کے متعلق جو کچھ توریت میں موجود تھا ‘ اس میں سے شاید ہی کوئی بات باقی چھوڑی ہو تو ظاہر ہے کہ ایک ناگواری کی فضاء پیدا ہوئی ہوگی اور خود آنحضرت ﷺ پر اس کا اثر ہوا ہوگا۔ اس لیے اللہ نے دکھ اور غصے کے انسانی جذبے ـکو بھڑکنے سے روکنے کے لیے درگزر کرنے کا حکم دیا ‘ جس کا بظاہر خطاب تو آپ ﷺ سے ہے ‘ مگر دراصل اس وقت کی پوری امت مسلمہ سے خطاب ہے کہ دیکھو ! ایسے کسی جذبے سے مغلوب ہو کر اپنی دعوت و تبلیغ کے فریضے میں کمی بیشی نہ کرنا۔ آپ داعی ہیں ‘ اپنا کام جاری رکھئے۔ یہ مرحلہ چونکہ دعوت و تبلیغ کا تھا ‘ لہٰذا پردہ پوشی اور درگزر کا حکم دیا گیا۔ مزید تحقیق تفتیش سے بھی روک دیا گیا کہ فی الحال اس میں نہ پڑئیے بلکہ درگزر سے کام لیجئے۔ یہ الگ بات ہے کہ آگے چل کر سورة التوبہ میں وہ مرحلہ بھی آیا کہ اللہ نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا حکم دے دیا اور آپ ﷺ کی طبیعت کی نرمی دیکھتے ہوئے حکم ہوا کہ اب نرمی نہ برتیں ‘ بلکہ سختی کریں۔ مگر چونکہ ابھی اس آیت کے نزول کے وقت دعوت اپنی تکمیل کو نہیں پہنچی تھی ‘ لہٰذا اتمام حجت کا وقت نہیں آیا تھا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ دعوت کا اصول یہ ہے کہ دوسری طرف سے چاہے کیسی ہی باتیں سننے میں آئیں ‘ مگر آپ کبھی اشتعال کا شکار نہ ہوں ‘ بلکہ نہایت صبر و تحمل کے ساتھ دعوت جاری رکھیں۔ آگے فرمایا کہ ” بیشک اللہ احسان کا معاملہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔ اللہ کا اصول یہ ہے کہ وہ بدلہ لینے کی اجازت تو دیتا ہے ‘ مگر اس کے یہاں اس کی محبت کے مستحق وہ ہوتے ہیں جو احسان کیا کرتے ہیں۔ محسنین کی بہترین مثال ” محسنین “ کے میں تین ترجمے کرتا ہوں : نیکوکار ‘ خوب کار ‘ احسان کرنے والے۔ نیکی یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ نیکی کریں ‘ لیکن اگر آپ گرفت کرلیں تو بھی ٹھیک ہے۔ لیکن خوبی یہ ہے کہ آپ خوب کار ہوں اور خوب کاری یہ ہے کہ آپ ایسے معاملے میں جہاں بدلہ لیا جانا ہو ‘ وہاں رحم اور مروت کریں۔ تیسری بات یہ کہ صرف اسی پر اکتفا نہ کریں کہ رحم و مروت کا سلسلہ جاری رکھیں بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے ساتھ احسانات بھی کریں۔ ایک مرتبہ سیدنا حسن ( رض) کے یہاں مہمان آئے ہوئے تھے۔ ان کا غلام اندر سے کھانا لا رہا تھا کہ ایک گرم گرم شوربے کا پیالہ لیے وہ جب آپ کے قریب پہنچا تو نجانے کیسے وہ برتن ہاتھ سے چھوٹ کر آپ کی کمر پر جا گر 1۔ ایسے لگا جیسے کھال تک اتر گئی ہو۔ حضرت حسن ( رض) نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ غلام ‘ خاندان نبوت میں پلا تھا ‘ وہ جانتا تھا کہ قرآن اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ اس نے ایک آیت قرآنی کا پہلا جملہ تلاوت کیا : ” وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ “ (جو اللہ والے ہوتے ہیں ‘ وہ غصے کو پی جایا کرتے ہیں) بس یہ جملہ سننے کی دیر تھی کہ حضرت حسن ( رض) نے سر جھکا دیا۔ غلام نے دیکھا کہ لوہا گرم ہے تو اس نے فوراً آیت کا اگلا ٹکڑا پڑھا : ” وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ “ (وہ لوگوں کو معاف بھی کردیا کرتے ہیں) حضرت حسن ( رض) بولے : جا میں نے تجھے معاف کردیا۔ اب اس غلام نے آیت کا تیسرا ٹکڑا پڑھا : ” وَاللّٰہُ یُحِِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ “ (اٰل عمران : 134) (اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) کہنے لگے کہ جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ یہی بات یہاں بیان کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ سے بڑھ کر اخلاق کس کے ہیں ‘ اس لیے کہ جو سند قرآن نے آپ ﷺ کو جاری کی ہے ‘ وہ دنیا میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی کہ ” آپ تو خلق عظیم کے مالک ہیں “ تو اسی لیے حکم ہوا کہ آپ تو خلق عظیم کے پیکر ہیں ‘ لہٰذا احسان کریں۔
Ayah 5:14

وَ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖ١۪ فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:14 in the Quran reader

” وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘ ہم نے ان سے بھی عہد لیا ‘ لیکن انھوں نے بھی اس کا بیشتر حصہ بھلا دیا ‘ اس کتاب سے جس سے ان کو نصیحت کی گئی تھی۔ تب ہم نے ان میں بھڑکا دی بغض اور عداوت قیامت کے دن تک کے لیے اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا جو کرتوت وہ کرتے رہے “۔

وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰٓی اَخَذْنَا مِیْثَاقَھُمْ فَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖص فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ط وَسَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللہ ُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔ (المائدہ : 14) ” وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘ ہم نے ان سے بھی عہد لیا ‘ لیکن انھوں نے بھی اس کا بیشتر حصہ بھلا دیا ‘ اس کتاب سے جس سے ان کو نصیحت کی گئی تھی۔ تب ہم نے ان میں بھڑکا دی بغض اور عداوت قیامت کے دن تک کے لیے اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا جو کرتوت وہ کرتے رہے “۔ لفظ نصاریٰ کی تاریخ جس طرح کا عہد و پیمان ہم سے اور یہود سے لیا گیا ‘ وہی عہد و پیمان نصاریٰ سے بھی لیا گیا۔ یہاں اس کی تاریخ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ لفظ نصاریٰ کے حوالے سے معترضین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کو تم لوگ بہت سنجیدہ کتاب کہتے ہو اور کہتے ہو کہ قرآن کسی کو آزار نہیں پہنچاتا تو پھر یہ لفظ ” نصاریٰ “ ہمارے لیے کیوں استعمال ہوا ہے ؟ یہ تو توہین آمیز لفظ ہے۔ پہلا جواب تو یہ ہے کہ قران کریم یہ نہیں کہتا کہ تم نصاریٰ ہو ‘ بلکہ یہ کہتا کہ جن لوگوں نے یہ کہا کہ ” ہم نصاریٰ ہیں ‘ ہم نے ان سے عہد لیا “۔ اب اگر لفظ نصاریٰ کے استعمال کی ذمہ داری ہے تو تمہارے ہی آبائواجداد پر ہے ‘ جنھوں نے یہ لفظ استعمال کیا۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ قرآن تاریخ بیان کرتے ہوئے جھوٹ بولے ‘ جیسے تم بولتے ہو ؟ دوسری بات یہ کہتے ہیں کہ اصلاً یہ لفظ ” ناصری “ کی جمع ہے اور یہ ناصرہ گائوں کی طرف منسوب ہے جو گلیلی کے علاقے میں واقع ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والوں کی توہین و تذلیل کے لیے نصاریٰ کے نام سے انھیں پکارنا شروع کیا تھا ‘ اب قرآن بھی اسی نسبت سے انھیں نصاریٰ کہہ رہا ہے۔ مگر ایسے لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ جب قرآن، نصاریٰ کہتا ہے تو اس کی نسبت ” مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ “ کی طرف کرتا ہے، جن کی قرآن نے بار بار تعریف کی ہے اور جن کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری کہا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحابہ تھے اور جن سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوال کیا تھا کہ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ (الصف : 14) (تم میں سے کون ہے جو اللہ کی دعوت پیش کرنے کے لیے میرا ساتھ دے گا) نصرت دین کی وجہ سے یہ لوگ انصار کہلائے ‘ جیسے کہ اہل مدینہ بھی انصار کہلائے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواریوں نے ایک مدت تک اپنا کوئی نام نہیں رکھا۔ وہ خود کو بنی اسرائیل ہی سمجھتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لیے شاگرد ‘ درویش یا پھر کبھی مقدس کا لفظ استعمال کیا۔ دین اخوت کی بنیاد ہے فرمایا کہ ” وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘ ان سے ہم نے عہد لیا “۔ مگر آگے چل کر سینٹ پال کے عقیدے پر چلنے والے لوگ جب آئے تو انھوں نے بھی وہی حرکت کی جو اس سے پہلے یہود کرچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ طوَسَوْفَ یُنَبِّئُھُمُ اللّٰہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ “ (تب ہم نے ان میں بھڑکا دی بغض اور عداوت قیامت کے دن تک کے لیے۔ اور عنقریب اللہ ان کو بتائے گا جو کرتوت وہ کرتے رہے) یہاں یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ کسی کے درمیان خود سے بغض و عداوت پیدا کرتا ہے ‘ بلکہ یہ کہ دنیا میں اخوت پیدا کرنے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو نہ تو وہ زبان ہے کیونکہ سب کی زبانیں ایک نہیں ‘ نہ جغرافیہ کیونکہ ساری دنیا ایک جگہ پیدا نہیں ہوتی۔ رنگ و نسل بھی نہیں کیونکہ دنیا ایک رنگ و نسل سے تعلق نہیں رکھتی۔ مفادات اور رشتے بھی نہیں کہ یہ بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اگر اس کی کوئی بنیاد ہے تو وہ دین ہے۔ حضرت بلال ( رض) حبش سے آئے ‘ حضرت حسن ( رض) بصرہ سے اور حضرت صہیب ( رض) روم سے۔ یہ سب مسلمانوں کے سر کے تاج ہیں۔ لیکن ابولہب و ابوجہل ان کے اپنے بھائی بندوں میں سے تھے ‘ مگر راندئہ درگاہ اور واجب القتل ٹھہرے۔ لہٰذا اخوت دین سے بنتی اور میثاق سے باقی رہتی ہے۔ قانون قدرت یہ ہے کہ تم دین پر چلو اور اس پر عمل کرو ‘ اخوت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوگی۔ دیکھیں کہ قران کریم کہتا ہے : وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ ط لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ لا وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیْنَھُمْ طاِنَّہٗ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (الانفال : 63) (اور الفت ڈال دی ان کے دلوں میں۔ اگر تم سب کچھ خرچ کردیتے جو زمین میں ہے ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتے ‘ لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بیشک وہ غالب ‘ حکمت والا ہے) یہ محبت دین کے حوالے سے پیدا ہوتی ہے ‘ جیسے مہاجر و انصار میں بھائی چارہ پیدا ہوا۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ (اے نبی ﷺ ! اگر آپ دنیا کا سارا مال خرچ کر کے بھی ان کے دلوں میں الفت ڈالنا چاہتے تو نہیں ڈال سکتے تھے۔ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے ان کو آپ کی معرفت دین دیا اور اسی کے حوالے سے ان کے دلوں میں گداز پیدا کیا (اور وہ بھائی بھائی بن گئے) ۔ وہ غالب ‘ حکمت والا ہے) اسی لیے اس نے کہا کہ اگر تم دین قائم کرو گے تو میں تمہارے درمیان محبت ڈالوں گا اور اگر دین نہیں رہے گا تو اخوت بھی نہیں رہے گی۔ اخوت چاہتے ہو تو دین کے واسطے سے اخوت پیدا کرو ورنہ قیامت تک بغض وعناد کا شکار رہو گے۔ ممکن ہے پڑھنے والوں کے دلوں میں یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ وہ تو اب اس موجودہ دور میں اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ جبکہ ہم فرقہ فرقہ ہیں اور انھیں سزا ملی تو کیا ہمیں نہیں ملے گی ؟ پہلی بات تو یہ کہ وہ اکٹھے ہوئے بےدین ہو کر۔ ان کے وقتی مفادات ہیں جن کی بنیاد پر وہ اکٹھے کھڑے ہیں۔ اگر وہ حقیقتاً اکٹھے ہوتے تو اپنے ہم مذہبوں سے دو جنگیں کبھی نہ لڑتے۔ اب ان کی کوشش یہ ہے کہ تیسری جنگ ہمارے یہاں لڑی جائے ‘ ورنہ وہ اکٹھے نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ یہاں یہ نہیں کہا جا رہا کہ انھوں نے میثاق کو توڑا تو ان کو سزا ملی اور اے مسلمانو ! اگر تم بھی ایسا کرو گے تو تمہیں سزا نہیں ملے گی ‘ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ باوجود اس کے کہ اللہ کی کتاب تمہارے پاس محفوظ ہے ‘ اگر تم نے بھی عہد و میثاق کی پرواہ نہ کی تو تمہارا حال بھی کچھ ان سے مختلف نہ ہوگا۔ یہ قرآن مر کھپ جانے والوں کے قصے اسی لیے تو سناتا ہے کہ ہم اس سے نصیحت حاصل کریں اور خود کو ان برے اعمال اور نتائج سے بچا لیں جو وہ پچھلے لوگ کر گزرے۔ اگر ہم بھی شیعہ و سنی بن کر اس میثاق کو توڑیں گے تو ہمارے درمیان بھی مستقل بغض و عداوت رہے گی۔
Ayah 5:15

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ كَثِیْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ١ؕ۬ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 5:15 in the Quran reader

(اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول (محمد۔ ) آگیا ہے۔ (دیکھو ! ) وہ باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو ‘ وہ سب باتیں وہ بیان کررہا ہے اور زیادہ تر باتوں سے درگزر کر رہا ہے۔ جان لو ! تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین آگئی)

یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْجَآئَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ 5 ط قَدْ جَآئَکُمْ مِّنَ اللہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبِیْنُٗ ۔ (المائدہ : 15) (اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول (محمد۔ ) آگیا ہے۔ (دیکھو ! ) وہ باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو ‘ وہ سب باتیں وہ بیان کررہا ہے اور زیادہ تر باتوں سے درگزر کر رہا ہے۔ جان لو ! تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور کتاب مبین آگئی) فرمایا : اے اہل کتاب ! تم نے جو کچھ اپنے دین اور اپنی کتاب کا حشر کیا سو کیا ‘ اب تمہارے پاس ایک نادر موقع ہے جو پھر کبھی نہ آئے گا کہ اللہ نے اپنا آخری رسول اور کتاب بھیجی ہے اور تمہارے علماء جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور وہی رسول ہے جس کا ذکر تمہارے انبیاء کرتے رہے۔ لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس مصیبت سے نکل جاؤ اور دیکھو ! وہ باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپاتے رہے ہو ‘ وہ سب باتیں ہمارا یہ نبی بیان کر رہا ہے اور زیادہ تر باتوں سے درگزر کر رہا ہے کیونکہ دراصل تمہیں شرمندہ کرنا مقصد نہیں ہے ‘ بلکہ جو ضروری باتیں ہیں ‘ محمد ﷺ وہی بیان کر رہے ہیں تاکہ تم جان سکو کہ تمہارے آبائو اجداد کیا کرتے تھے۔ فرمایا : ” تمہارے پاس نور اور کتاب آگئی ہے “۔ یہاں ” نور “ سے مراد قرآن کریم ہے ‘ اس لیے کہ دیگر مقامات پر قرآن کریم نے توریت اور انجیل کو بھی نور کہا ہے۔ ” کتاب مبین “ اور ” نور “ دونوں لفظ قرآن کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مبین سے مراد ایسی کتاب جو خفیہ گتھیوں کو کھولتی ہے ‘ جن کو آج تک نہ سلجھایا جاسکا۔ ” نور “ یہ کہ حضور ﷺ اس کتاب میں ہدایت کا وہ نور لے کر آئے ہیں جو تمہاری فکری اور ذہنی روشنی کا سامان ہے اور ” کتاب مبین “ اس طرح کہ اسلامی شریعت بھی لے کر آئے ہیں ‘ جس کا تعلق عمل سے ہے۔ گویا یہ قرآن کریم فکری الجھنوں اور ذہنی نارسائی کی بھول بھلیوں میں حقیقت و صداقت کی روشنی دینے کی وجہ سے نور ہے اور انسانی زندگی کی دستوری ‘ قانونی اور عملی رہنمائی شریعت اسلامی کی صورت میں مہیا فرمانے کے باعث کتاب مبین ہے۔
Ayah 5:16

یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 5:16 in the Quran reader

(اس کے ذریعے اللہ اس قوم کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت دے گا جو اس کی رضا کی پیروی کرے گی۔ اور جن ذہنی ظلمتوں کا تم شکار ہو ‘ اللہ تمہیں ان سے نکال کر نور کی طرف لے جائے گا اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے گا)

یَّھْدِیْ بِہِ اللہ ُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِہٖ وَ یَھْدِیْھِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم۔ (المائدہ : 16) (اس کے ذریعے اللہ اس قوم کو سلامتی کے راستوں کی ہدایت دے گا جو اس کی رضا کی پیروی کرے گی۔ اور جن ذہنی ظلمتوں کا تم شکار ہو ‘ اللہ تمہیں ان سے نکال کر نور کی طرف لے جائے گا اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے گا) فرمایا : یہ کتاب ان لوگوں کو فائدہ پہنچائے گی جو ذہنی آلودگیوں سے ماورا ہو کر اللہ کی رضا چاہتے ہوں گے۔ ورنہ یہ کتاب ہاتھوں میں ہوگی بھی تو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ یہ صراط مستقیم صرف اللہ کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب سے ملے گا ‘ جس سے تم سلامتی کی طرف چلو گے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ صرف اللہ ہی کی رضا کے طالب ہونا اور اسی سے توفیق مانگنا۔ اکبر نے ٹھیک کہا تھا ؎ کیا فائدہ فکرِ بیش و کم سے ہوگا ہم کیا ہیں جو کوئی کام ہم سے ہوگا جو ہوا ‘ ہوا کرم سے تیرے جو ہوگا تیرے کرم سے ہوگا یہ کرم اللہ ہی کی توفیق ہے اور اسی کو ملتا ہے جو اس کو اللہ سے طلب کرے۔
Ayah 5:17

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ قُلْ فَمَنْ یَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّهْلِكَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:17 in the Quran reader

(بےشک کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح ابن مریم ہے۔ (اے نبی ا ! ان سے کہہ دیجئے کہ) کون اللہ سے کچھ بھی اختیار رکھتا ہے کہ اگر وہ ارادہ کرے کہ وہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم اور اس کی ماں کو اور جتنے زمین میں ہیں ‘ ان سب کو۔ اور اللہ کے لیے ہی ہے زمین و آسمان کی سلطنت اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ جس چیز کو چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے)

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللہِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَ اَنْ یُّھْلِکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّہٗ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ط وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ط یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 17) (بےشک کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تو مسیح ابن مریم ہے۔ (اے نبی ا ! ان سے کہہ دیجئے کہ) کون اللہ سے کچھ بھی اختیار رکھتا ہے کہ اگر وہ ارادہ کرے کہ وہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم اور اس کی ماں کو اور جتنے زمین میں ہیں ‘ ان سب کو۔ اور اللہ کے لیے ہی ہے زمین و آسمان کی سلطنت اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔ وہ جس چیز کو چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت کا ربط پچھلی آیتوں سے جاننے کے لیے ہمیں پچھلی آیات کو ذہن میں رکھنا پڑے گا جن میں ہم نے ایک آیت پڑھی تھی جس میں پروردگار عالم نے یہ فرمایا تھا کہ (مسلمانو ! جس طرح ہم نے تم سے عہد لیا ہے ‘ اسی طرح ہم نے یہود سے اور ان لوگوں سے بھی عہد لیا تھا جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں) (المائدۃ : 41) ـ نصاریٰ کا سب سے بڑا جرم توحید سے روگردانی وہ عہد کیا تھا ‘ اس کی تفصیل ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ جتنے بنیادی عقائد ہیں اور اللہ کی اطاعت و بندگی کے حوالے سے جتنی بنیادی باتیں ہیں ‘ ان تمام کا عہد لیا گیا تھا کہ اس کی پابندی کرنا۔ اس آیت میں اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح یہود نے عہدشکنی کا ارتکاب کیا ‘ اسی طرح عیسائیوں نے بھی اس میثاق کو بری طرح پامال کیا اور تمام زندگی اس میثاق کے بالکل برعکس گزاری۔ چناچہ اس عہدشکنی کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے دین کی بنیاد یعنی ” توحید “ کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور اس کو اس طرح اپنی زندگیوں سے خارج کیا کہ اس کا کوئی تصور ہی باقی نہ رہا۔ اسی حوالے سے قرآن کریم میں ارشاد ہے : ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ “ یعنی عیسائیوں نے یہ کفر اختیار کیا کہ جس کو ہم اللہ کہتے ہیں ‘ وہ کوئی اور نہیں ‘ وہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ یعنی مسیح ابن مریم انسان نہیں ‘ اللہ کے رسول نہیں ‘ بلکہ وہ خود پروردگار ہیں۔ اصلاً ان کا نام خدا ہی ہے یعنی جس (مسیح ابن مریم) کو ہم انسان کی شکل میں دیکھتے رہے ‘ وہ تو ان کی ظاہری شکل و صورت تھی ‘ حقیقت میں وہ اللہ ہیں۔ فرمایا کہ توحید کی یہ پامالی اس عہدشکنی کی سب سے بڑی بات تھی حالانکہ اللہ نے اپنے بارے میں ان سے یہ عہد لیا تھا کہ اللہ کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کی صفات میں۔ اس کی مخلوقات میں سے کسی کو بھی ‘ خواہ وہ اپنی ذات وصفات میں کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ‘ اگر الوہیت کے منصب پر فائز کردیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید ختم۔ توحید تو اتنا نازک رشتہ ہے کہ وہ تو معمولی سی بات کو بھی برداشت نہیں کرتا ‘ چہ جائیکہ سرے سے یہ کہہ دیا جائے کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہیں۔ سینٹ پال کی سازش بنیادی بات وہی ہے جو میں نے پچھلی آیت کی تشریح میں بھی کہی تھی کہ جن لوگوں نے یہ کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘ وہ اصل میں نصاریٰ نہیں تھے ‘ یہ صرف ان کا دعویٰ تھا۔ نصاریٰ تو اصل میں شمعون رضا کے ماننے والے تھے ‘ جس کی انھوں نے خود تکفیر کی اور انھیں عیسائیت سے نکال دیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے دنیا سے تشریف لے جانے کے کئی سالوں کے بعد عیسائیت کا جو ایک نیا ایڈیشن تیار ہوا ‘ اس کا بانی ’ سینٹ پال ‘ تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جو دعوت پیش کی تھی ‘ اس دعوت کو ان کے حواریوں نے آگے بڑھایا اور جس طرح انھوں نے اللہ کی کتاب کو پیش کیا ‘ سینٹ پال نے اس کی بالکل تحریف کردی اور عقیدے تک بدل ڈالے۔ یہ دیکھ کر کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خرق عادت کے طور پر دنیا میں تشریف لائے ہیں (ان کا کوئی باپ نہیں ہے) اور یہ کہ خود انجیل نے انھیں روح اللہ قرار دیا ہے ‘ ان تمام چیزوں کو یکجا کر کے اس نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ مسیح ابن مریم جس کو تم ایک انسان اور پیغمبر سمجھتے ہو ‘ وہ کوئی انسان یا پیغمبر نہیں بلکہ خود اللہ کی ذات ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ انسان ہوتے تو ان کا کوئی باپ ہوتا ‘ وہ اپنے اندر دوسرے انسانوں کی سی صفات رکھتے۔ یہ جو ہم ان میں غیرمعمولی باتیں دیکھتے ہیں ‘ خاص طور پر یہ جو ان کی پیدائش کا معاملہ ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان نہیں ہیں۔ لہٰذا سینٹ پال نے ان کو اللہ قرار دے دیا یعنی یوں کہہ لیجئے کہ بنیادی طور پر اس کا تصور حلول اور اتحاد پر مبنی ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ کی ذات خود مسیح ابن مریم میں حلول کرگئی اور اس نے مسیح اور ذات پروردگار کو یکجا کر کے یہ ایک شکل اختیار کی ہے۔ وہ آسمانوں پہ اپنے رب کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اصل میں وہ اللہ ہی ہے ‘ جس نے دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے انسانی شکل میں خود آنا پسند کیا۔ اصلاً وہ انسان نہیں ہے۔ لیکن انھوں نے جب یہ دیکھا کہ خود انجیل میں ان کے اور بھی رشتے اور علامات ہیں مثلاً ان کی والدہ ہیں اور روح القدس جو ان پر اترتا ہے ‘ تو انھوں نے سوچا کہ اب اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات صرف مسیح ہے تو پھر ان کی والدہ اور روح القدس کو ہم کیا کریں گے ؟ پھر لوگ ہم سے پوچھیں گے کہ یہ کیا ہے ؟ اگر مسیح واقعی خدا ہے تو خدا کی تو ماں نہیں ہوتی۔ یہ ماں کہاں سے آگئی ؟ لہٰذا انھوں نے ان تینوں کو الوہیت کے رشتے میں شریک کرنے کے لیے تثلیث کا عقیدہ تیار کیا۔ گویا یوں کہہ لیجئے کہ ان کے عقیدے کی ایک روح ہے اور ایک اس کی تعبیر ہے۔ عقیدے کی روح تو یہ ہے کہ خود پروردگار مسیح ابن مریم ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ مسیح ابن مریم ہی اصل میں پروردگار ہے ‘ جس کا ذاتی نام اللہ ہے ‘ جبکہ صفاتی نام بہت سے ہیں اور ان کی تعبیر انھوں نے یہ اختیار کی کہ روح القدس عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی والدہ ‘ یہ تینوں مل کر الوہیت کو مکمل کرتے ہیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس کو وہ تین میں ایک اور ایک میں تین کہتے ہیں ‘ جو ظاہر ہے کہ کسی کے پلے پڑنے والی بات نہیں۔ درحقیقت اس سارے کھیل کا مقصد یہی ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا مانتے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ جب اللہ کے پیغمبر کو ہی اللہ بنا ڈالا تو میثاق توحید کا تو نام و نشان بھی باقی نہیں رہا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے استدلال کا طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ غضب اور عتاب کا رنگ اختیار کیا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ کیا کہہ رہے ہو ‘ اس لیے کہ یہ رشتہ اتنا پاکیزہ ہے اگر اس پر ضرب پڑتی ہے تو پروردگار غضبناک ہوجاتا ہے کیونکہ یہ تو سیدھا ذات خداوندی پر حملہ ہے اور اگر اس پہ اللہ کا غضب بھڑک اٹھے تو کیا دنیا میں کوئی چیز ہے جو تمہیں اللہ کے غضب سے بچا سکے ؟ بلکہ کہا کہ جس مسیح ابن مریم کو تم نے خدا بنادیا اور اس کی ماں کو خدائی میں شریک ٹھہرا یا ‘ اگر اللہ کا غضب بھڑکے اور وہ یہ چاہے کہ میں مسیح یا اس کی ماں کو ہلاک کر دوں بلکہ دنیا کی ہر مخلوق کو ہلاک کر دوں تو کیا دنیا کی کسی مخلوق میں اس بات کی طاقت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ روک لے ؟ پروردگار تو وہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں سب کی زندگی ہے اور جس کے ایک ادنیٰ اشارے سے انبیاء کو بھی موت آسکتی ہے۔ مسیح ابن مریم ‘ اگرچہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ‘ مگر پیدا کرنے والے نے ہی انھیں پیدا کیا۔ بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کی خوبی نہیں ‘ بلکہ خوبی تو اس پروردگار کی ہے جو بغیر باپ کے پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے بڑا معجزہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش ہے اس سے آگے فرمایا : ” یَخْلُقُ مَا یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ “ کسی کے غیر معمولی طریقے سے پیدا ہوجانے پر اس کی اصل حیثیت تبدیل نہیں ہوجاتی کیونکہ صفت خلق کا مالک تو اللہ ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے ‘ جیسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ قرآن کریم نے ایک اور جگہ اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ” اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَط “ (اٰل عمران : 59) تمہیں اس بات سے شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اگر انسان ہوتے تو ان کی ماں کی طرح ان کا باپ بھی ہوتا۔ فرمایا کہ اگر بغیر باپ کے پیدا ہونے سے کوئی انسان ‘ انسان نہیں رہتا بلکہ خدا بن جاتا ہے تو پھر تم بتائو کہ تم آدم (علیہ السلام) کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تو ماں ہے ‘ آدم (علیہ السلام) کی تو ماں بھی نہیں تھی۔ اگر یہ خدا ہیں تو آدم (علیہ السلام) کیا ہیں ؟ اللہ کے یہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ایسے ہے جیسے آدم (علیہ السلام) کی کہ اس نے چاہا تو آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا کردیا اور چاہا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کردیا۔ یہ تو اس کی شان قدرت ہے جس کا اظہار کہیں کسی صورت میں ہوتا ہے اور کہیں کسی صورت میں۔ بجائے اس کے کہ اس بات سے اللہ کی کبریائی اور الوہیت پر زیادہ یقین کرتے ‘ تم تو اور الجھ کر رہ گئے۔ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ خداوند ذوالجلال کتنا عظیم ہے اور کیسا قادر مطلق ہے کہ کسی چیز کا محتاج نہیں۔ وہ جس طرح چاہے کسی کو پیدا کرسکتا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا ہیں تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کیوں نہیں ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خالہ زاد بھائی حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جو ان سے چند سال پہلے دنیا میں تشریف لائے ‘ وہ پیدا ہوتے ہی اللہ کے نبی تھے ‘ جس کی گواہی قرآن نے دی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس طرح پیدا ہوئے کہ ان کے والد گرامی حضرت زکریا (علیہ السلام) جن کی عمر نوے سال تھی اور اب وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوتا۔ـ ان کی بیوی بھی قریب قریب ان کی عمر کی تھیں اور بانجھ ہوچکی تھیں۔ ان کے ہاں کسی بچے کے پیدا ہونے کا کوئی امکان ہی نہ تھا۔ لیکن نجانے انھیں کیا خیال آیا کہ جب حضرت مریم (علیہا السلام) کو دیکھا کہ گرمیوں کے موسم میں سردیوں کے اور سردیوں کے موسم میں گرمیوں کے پھل ان کے سامنے رکھے ہوتے ہیں تو انھوں نے مریم (علیہا السلام) سے پوچھا کہ ” یہ پھل تمہارے پاس کہاں سے آئے ہیں ؟ “ وہ کہنے لگیں کہ ” یہ پھل وہ ذات بھیجتی ہے جو موسموں کی محتاج نہیں۔ وہ جب چاہے ‘ جو پھل چاہے پیدا کرسکتی ہے۔ “ بس ان کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور خیال آیا کہ یا اللہ ! جب تو پھل دینے میں کسی موسم کا محتاج نہیں ہے تو اولاد دینے میں عمروں کا محتاج کیونکر ہوسکتا ہے۔ میری عمر اگرچہ اس قابل نہیں کہ میرے یہاں بچہ پیدا ہو ‘ مگر تیری قدرت تو بانجھ نہیں۔ اس پر انھوں نے دعا کی : ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗج قَالَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃًج اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآئِ ۔ فَنَادَتْہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَھُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِلا اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰ (آل عمران : 39۔ 38) (وہیں کھڑے کھڑے زکریا نے اپنے رب سے دعا کی ‘ اس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اپنے پاس سے پاک اولاد عطا کر ‘ تو بیشک دعا سننے والا ہے۔ تو انھیں آواز دی فرشتوں نے جب وہ حجرہ میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ‘ کہ اللہ تمہیں یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے) اب دیکھئے کہ اتنی بڑی بشارت پر حضرت زکریا خوش تو ہوئے ‘ لیکن ساتھ ہی طبیعت میں ایک ہیجان سا پیدا ہوا اور کہنے لگے کہ میرے یہاں بیٹا پیدا ہوگا ‘ وہ کیسے ؟ میرا حال تو یہ ہے کہ میری ہڈیوں میں گودا تک نہیں رہا ‘ سر میرا ہلنے لگا ہے اور میری بیوی بانجھ ہوچکی ہے ؟ جواب ملا ہم جب دینے پہ آتے ہیں تو اسی طرح دیا کرتے ہیں۔ کہنے لگے کہ مجھے کوئی علامت بتا دیجئے۔ فرمایا کہ علامت یہ ہے کہ تین دن تک آپ کسی سے کوئی بات نہیں کرسکیں گے ‘ اگر کوئی آپ سے بات پوچھے تو اشارے سے اس کو جواب دیں۔ اور شب و روز اللہ کی تسبیح میں لگے رہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد اللہ نے انھیں بیٹا عطا فرما دیا۔ اب غور کیجئے کہ اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ان کا نہ کوئی باپ ہے نہ ماں کیونکہ ماں اگر بانجھ ہے تو ماں کیسے ہوگئی ؟ باپ کا سر ہلتا ہے ‘ ہڈیوں میں گودا تک نہیں رہا ‘ قوت بالکل جواب دے گئی ہے تو ظاہر ہے وہ باپ کیسے بنے گا ؟ اللہ نے ان کو واسطہ بنا کر انھیں بیٹا دیا ہے ‘ لیکن حقیقتاً وہ ماں باپ نہیں ہیں۔ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خدا ہیں تو پھر حضرت یحییٰ (علیہ السلام) خدا کیوں نہیں ؟ پھر ان کو موت بھی کس طرح آئی ؟ زندگی میں بھی اتنے فقیر اور قلندر تھے کہ کبھی لباس ہی پہننے کو نہ ملا۔ ایک کمبل تھا جس کو ادھرادھر سے کانٹوں سے اٹکا کر ‘ درمیان میں سوراخ کر کے اوڑھ لیتے۔ کبھی انھوں نے کوئی خوراک نہیں کھائی ‘ بس جنگل میں چلے جاتے اور وہاں سے شہد مل جاتا تو پی لیتے یا پتے توڑ کر کھالیتے۔ دنیا نے ایسا درویش صفت انسان پھر نہیں دیکھا۔ لیکن جاہ و جلال کا عالم یہ تھا کہ وقت کی حکومتیں ان کے سامنے کانپتی تھیں۔ بادشاہوں کو ان کی بداعمالیوں پر اعلانیہ ٹوکتے تھے بالآخر حاکم وقت نے اپنی محبوبہ کے کہنے پر ان کا سر قلم کر کے طشتری میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کردیا۔ اس محبوبہ نے یہ شرط رکھی تھی کہ میں اپنے آپ کو تب تیرے سپرد کروں گی جب تو اس خدا رسیدہ آدمی (جو اپنے وقت کا سب سے سچا اور پاکیزہ انسان تھا) کا سر میرے سامنے لا کر پیش کرے گا۔ اب دیکھئے کہ پیدائش سراسر اللہ کی قدرت کا ظہور ہے اور موت بھی کیسی آئی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ تو میری قدرت ہے کہ جس کو جیسے چاہوں ‘ پیدا کر دوں۔ اس میں پیدا ہونے والے کا کیا کمال ہے ؟ تم بجائے اس کے کہ پیدا ہونے والے کے پیچھے لگو ‘ پیدا کرنے والے کو تلاش کرو۔ آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا : وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ( اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اللہ کی صفت ِقدرت پر مکمل یقین رکھنا توحید کی روح ہے مخلوقات کے بارے میں جہاں کہیں بھی شرک کی آمیزش دکھائی دیتی ہے اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کو قادر مطلق ماننے کا تصور اور عقیدہ دھندلا گیا ہے جس کے نتیجے میں مخلوقات کو اللہ کی قدرت کا مظہر جان کر اس کے بارے میں ایسے ایسے تصورات قائم کرلیے گئے ہیں جس سے توحید کی عمارت تباہ ہو کر رہ گئی ہے اور ایسا بالعموم اس وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے کسی کو کوئی عظمت ‘ کوئی رفعت ‘ کوئی کمال ‘ کوئی معجزہ اور کرامت عطا کرتا ہے اور یہ صفات عام طور پر چونکہ اللہ کے بندوں اور بالخصوص اللہ اپنے نبیوں کو عطا کرتا ہے اس لیے دنیا نے ہمیشہ اللہ کے ولیوں اور اس کے پیغمبروں کو اس کی صفات میں شریک کر کے شرک کا ارتکاب کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی ولادت اور پھر آپ سے غیر معمولی معجزات کے ظہور کے باعث عیسائیوں نے انھیں خدائی منصب پر فائز کردیا اور ان کے بارے میں ایسے عقیدے اختیار کرلیے جو صرف اللہ کی ذات کے لیے زیبا ہیں اگر عیسائیوں کی نظر اس بات پر ہوتی کہ اللہ جسے چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے وہ کمالات عطا فرما دیتا ہے لیکن یہ کمالات کسی کا ذاتی وصف نہیں بلکہ اللہ کی قدرت کا اظہار ہے اس لیے حقیقی قدرت اور طاقت صرف اللہ کو میسر ہے باقی جہاں کہیں اس کا پرتو دکھائی دیتا ہے وہ صرف اللہ کی دین ہے لیکن اہل کتاب نے اس بات کو نہ سمجھ کر بار بار شرک کا ارتکاب کیا۔ ہم چونکہ آخری امت ہیں اور ہمیں بطور خاص توحید کا امین اور علمبردار بنایا گیا ہے اس لیے آنحضرت ﷺ اس بات پر بہت پریشان رہتے تھے کہ کہیں یہ امت بھی اہل کتاب کی طرح شرک کی دلدل میں نہ اتر جائے کیونکہ امتیں ایک ہی طرح سے سفر کرتی ہیں ان میں حوادث کا وقوع پذیر ہونا اور خرابیوں کا درآنا یہ بالعموم ایک ہی طرح سے ہوتا ہے اس لیے آخری دنوں میں جبکہ حضور دنیا سے سفر فرمانے والے تھے سننے والوں نے یہ بات حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ایک سے زیادہ مرتبہ سنی کہ اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ مقصود یہ تھا کہ میری امت اس طرف سے ہوشیار رہے اور اس کے کسی طبقے میں ایسی کوئی بات پیدا نہ ہونے پائے۔ بعض مواقع پر تو آپ نے اہل کتاب کا نام لیتے ہوئے نصیحت فرمائی جس کا ترجمہ حالی مرحوم نے کیا ہے تم اوروں کی مانند دھوکہ نہ کھانا میری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا سب انساں ہیں واں جس طرح سرفگندہ مجھے حق نے دی ہے بس اتنی بزرگی کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا اسی طرح میں بھی ہوں اک اس کا بندہ کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی لیکن افسوس یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس قدر تاکیدی نصیحتوں کے باوجود اس امت نے آنحضرت ﷺ تو کیا اپنے بزرگوں کے بارے میں بھی شرکیہ کلمات کہنے اور شرک آمیز حرکتیں کرنے سے گریز نہیں کیا۔ ہمارے بڑے بڑے وہ بزرگ جنھوں نے ہمیں واقعی دین سکھایا اور جن کی محنتوں اور مہربانیوں سے آج ہم مسلمان ہیں ان کے مزارات پر جا کر دیکھ لیجئے، شیطان نے ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد کس طرح ان سے انتقام لینے کی کوشش کی۔ وہاں ایسے ایسے افعال کا ارتکاب ہوتا ہے اور ایسی ایسی باتیں کہی جاتی ہیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یا اللہ یہ وہ امت ہے جسے قیامت تک کے لیے توحید کا علمبردار بنایا گیا ہے۔ پنجاب کے مشہور بزرگوں میں ایک حضرت پیر فرید بھی گزرے ہیں جن کا مزار کوٹ مٹھن میں ہے۔ ایک پنجابی شاعر ان کی تعریف میں جو کچھ کہتا ہے اسے پڑھ کر اندازہ فرمایئے اس سے بڑھ کر شرک اور کیا ہوسکتا ہے۔ شاعر صاحب فرماتے ہیں۔ چاچڑ شہر مدینہ ڈسدا ‘ کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچ پیر فریدن ‘ باطن دے وچ اللہ اور ایک اردو کے شاعر فرماتے ہیں اور انھوں نے یہ ارشاد آنحضرت ﷺ کے بارے میں فرمایا۔ جو مستوی عرش تھا خدا ہو کر اتر پڑا مدینہ میں مصطفیٰ ہو کر یہ محض نمونے کے طور پر میں نے دو شعر نقل کیے ہیں واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کا مشرکانہ لٹریچر نثر اور نظم دونوں میں بڑی بہتات سے ہمارے ملک میں پھیلا ہوا ہے اگر ایسی باتیں عیسائیوں میں پھیلائی جاتیں تو سمجھ میں آنے والی بات تھی لیکن یہ اس امت میں پھیلائی جا رہی ہیں جسے قیامت تک توحید کی امانت کی پاسداری کرنی ہے اور اسے ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھنا ہے۔ بالخصوص پاکستان جس کے قومی شاعر نے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے فخر کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ توحید کی امانت کہاں ہے ‘ وہ سینے کہاں ہیں جو اس امانت کے امین تھے اور وہ قوم کہاں ہے جو اس توحید کی وجہ سے اپنے آپ کے بارے میں یہ تصور رکھتی ہے کہ توحید کے اس تعلق کے باعث اسے مٹانا آسان نہیں ہے۔ موحد کون ؟ موحد تو وہ ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے نہیں ڈرتا ‘ جس کا ہاتھ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے نہیں پھیلتا اور جس کے دل کی دنیا اللہ کے سوا اور کسی سے آباد نہیں ہوتی۔ موحد وہ ہوتا ہے جو اللہ کے رسولوں کے سوا کسی کو اپنا آئیڈیل نہیں مانتا۔ موحد وہ ہے کہ جس کے سامنے اشرفیوں کے توڑے رکھ دئیے جائیں ‘ تو وہ اس کے ایمان کی شمع کو خرید نہ سکیں اور اگر اس کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جائیں تو یہ اذیت بھی اس سے توحید کے سرمائے کو چھین نہ سکے۔ اگر موحد اس کو کہتے ہیں تو آپ اندازہ فرمائیے کہ ہم میں توحید کہاں ہے ؟ جس طرح پہلی آسمانی کتابوں کو ماننے والی امتوں سے عہد و پیمان لیا گیا اور انھوں نے جس طرح اس کو توڑا تو میں بڑی دردمندی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے عقائد پر غور کر کے دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں ہم بھی انہی کمزوریوں کا شکار تو نہیں ہوگئے۔