5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبر ان لوگوں کی روش تمہیں غم میں نہ ڈالے جو کفر کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں ان لوگوں میں سے جو زبان سے تو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دلوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور ان لوگوں میں سے جنھوں نے یہودیت اختیار کی ہے یہ جھوٹ کے رسیا اور دوسروں کی باتیں ماننے والے ہیں جو خودتمھارے پاس نہیں آتے وہ اللہ کے کلام اور اس کے احکام کا (موقع و محل اور اس کا محمل و مصداق متعین ہونے کے باوجود) اس کو اس کے موقع و محل سے ہٹا دیتے ہیں ‘ اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ‘ نہیں تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہیں چاہا ‘ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاھِھِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُھُمْ ج وَمِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا ج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا ط وَمَنْ یُّرِدِ اللہ ُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَیْئًا ط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللہ ُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْط لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ لا وَّلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 41) ” اے پیغمبر ! ان لوگوں کی روش تمہیں غم میں نہ ڈالے ‘ جو کفر کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں میں سے جو زبان سے تو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دلوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور ان لوگوں میں سے جنھوں نے یہودیت اختیار کی ہے یہ جھوٹ کے رسیا اور دوسروں کی باتیں ماننے والے ہیں ‘ جو خودتمھارے پاس نہیں آتے۔ وہ اللہ کے کلام اور اس کے احکام کا موقع و محل اور اس کا محمل و مصداق متعین ہونے کے باوجود اس کو اس کے موقع و محل سے ہٹا دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ‘ نہیں تو نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو ‘ اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہی لوگ ہیں ‘ جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہیں چاہا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے “۔ خلوص نیت سے دین کا کام کرنے والوں کے لیے تسلی پہلی بات کی طرف یٰٓااَیُّھَا الرَّسُوْلُ کے خطاب سے آنحضرت ﷺ کو توجہ دلائی گئی کہ آپ ان لوگوں کی اس روش اور ان کے کرتوتوں سے غمزدہ نہ ہوں اور اس بات کو کبھی محسوس نہ فرمائیں کہ آپ کی تمام تر ہمدردیوں ‘ خیرخواہیوں اور کوششوں کے باوجود ‘ یہ لوگ کفر میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ کا منصب رسالت ہے۔ آپ کو اس سے ہرگز اثر قبول نہیں کرنا چاہیے کہ آپ کے حق رسالت کی ادائیگی کے باوجود ‘ یہ لوگ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اس کا جواب اللہ کے یہاں انھوں نے دینا ہے ‘ آپ نے نہیں۔ آپ اس پر غمزدہ کیوں ہیں اور مزید یہ بات کہ آج تک جتنے رسول دنیا میں مبعوث ہوئے ہیں ‘ ان کی قوموں نے ان کے ساتھ کب اچھا رویہ اختیار کیا ہے ‘ ان کی خیر خواہی کے جواب میں انھوں نے ہمیشہ بدخواہی کی ‘ پیغمبروں نے خون کے گھونٹ پی پی کر ان کو راہ راست پر لانا چاہا ‘ مگر وہ ان کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ انھوں نے راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ سے ان کی ہدایت کے لیے دعائیں مانگیں ‘ مگر ان کی قوموں نے ہمیشہ ان کے قتل کے منصوبے باندھے۔ جب رسالت کی تاریخ ایسے ہی تجربات سے بھرپور ہے اور قرآن کریم بار بار ان کا تذکرہ بھی کر رہا ہے تو پھر اے پیغمبر ! آپ کو ان کی ایذائوں اور ان کے کرتوتوں سے ہرگز متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ؎ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں ‘ یہ ان سے جنگ کرتا ہے اللہ کے نبیوں کی شان تو خیربہت بڑی ہے ‘ لوگوں نے تو اپنے مصلحین کے ساتھ کبھی اچھا رویہ اختیار نہ کیا۔ بہت کم مصلح ایسے گزرے ہیں ‘ جنھیں اپنی اصلاحی کوششوں کے جواب میں اچھے نتائج ملے ہوں اور اپنے ان غمگساروں کے ساتھ لوگوں نے کبھی شریفانہ رویہ اختیار کیا ہو۔ لاہور میں ‘ اس لاہور کے سب سے بڑے مصلح اور محسن شیخ علی ہجویری ( رح) جو ” داتا صاحب “ کے نام سے معروف ہیں ‘ تاریخ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ اہل لاہور نے زندگی میں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ زندگی میں جن مصلحین کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا جاتا ہے ‘ مرنے کے بعد ان کی پوجا شروع کردی جاتی ہے۔ اسی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی نے نہایت دکھ سے یہ بات کہی تھی : یہ قوم گویا ہے اک پہیلی ‘ جو عقل دقت سے بوجھتی ہے جو بات اوروں کو جلد سوجھے ‘ وہ دیر بعد اس کو سوجھتی ہے یہ زندگی میں برا ہی کہتی ہے ‘ موت کے بعد پوجتی ہے سَمّٰعُوْنَ سے مراد کون لوگ ہیں دوسری بات جس کی طرف ان آیات میں متوجہ کیا گیا ہے وہ ہے : سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط ” سَمّٰعُوْنَ “ جمع ہے سمّاع کی۔ یہ اسم مبالغہ ہے ‘ جس کا معنی ہے ‘ بہت سننے والا۔ اس کا استعمال عام طور پر دو معنوں میں ہوتا ہے ‘ ایک تو اس آدمی کو کہتے ہیں ‘ جو کسی چیز کا رسیا ہو اور دوسرا اس کا معنی ہوتا ہے ” جاسوس “۔ یہاں دونوں معنی مرادہو سکتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ جھوٹ کے رسیا ہیں اور دوسری قوم یعنی یہود کے جاسوس ہیں اور ان دونوں کے درمیان چونکہ حرف عطف نہیں ہے ‘ اس لیے اصلاً یہ ایک ہی بیماری کی دو شکلیں ہیں۔ پروردگار ہمیں یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ ان منافقین کی یہ روش اس وجہ سے ہے کہ ان کو جھوٹ سے انتہادرجہ کی سازگاری ہے۔ یہ اپنی زندگی کے تمام معاملات اور گفتگو کے تمام اسالیب میں جھوٹ ہی کو اپنا راہنما جانتے ہیں۔ یعنی جھوٹ بولتے ہیں ‘ جھوٹ سنتے ہیں ‘ معاملات میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں ‘ فیصلوں میں بھی جھوٹ بول کر اپنا مطلب حاصل کرتے ہیں ‘ گواہی کی ضرورت پڑے تو جھوٹے گواہ بنا لیتے ہیں۔ جن لوگوں کا اوڑھنا بچھونا جھوٹ بن جائے اور ان کی پوری زندگی جھوٹ سے عبارت ہو۔ ان کے لیے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی صحبتوں سے فائدہ اٹھائیں یا آپ کی عدالت سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہیں۔ اس لیے کہ یہاں آ کر ان کو سوائے صدق اور سچائی کے ‘ کسی چیز کی کارفرمائی نظر نہیں آئے گی۔ وہ یوں محسوس کریں گے جیسے نئی صورت حال سے دوچار ہو رہے ہوں اور دوسری مشکل ان کی یہ ہے ‘ جو اسی برائی کا دوسرا رخ ہے کہ وہ دوسری قوم یعنی یہود کے جاسوس ہیں۔ ان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انھیں سچائی سے نفور ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ایجنٹ ہیں ‘ انہی کی راہنمائی میں اور انہی کے اشاروں پر چلنا اور زندگی گزارنا اپنا رویہ بنا چکے ہیں۔ اب اگر ان کی طبیعت میں کبھی اچھائی کا تصور آتا بھی ہے تو برسوں کی برائی کی چھاپ ان کے اچھائی کے تصور کو دبا دیتی ہے اور یا ان کے ان حاکموں کا اثر اور ان کے مفادات ‘ جن کے یہ جاسوس ہیں ‘ اس روش سے انھیں نکلنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان منافقین کی اس بیماری کے تذکرے میں ‘ ہم مسلمانوں کو آئینہ دکھایا جا رہا ہے۔ ہم بفضلہ تعالیٰ اسلام کا دعویٰ رکھتے ہیں ‘ لیکن جب کبھی مملکت خداداد کی عدالتوں میں اسلامی نظام کے نفاذ کا سوال اٹھتا ہے اور اس کے پورے سیٹ اپ کو بدل کر سچائی کے مطابق بنانے کی بات ہوتی ہے تو ہماری جھوٹ اور جھوٹی زندگی سے محبت ‘ ہمیں بغاوت پر آمادہ کردیتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر سچائی کو غلبہ مل گیا تو ہمیں اپنے کتنے جھوٹے مفادات سے دستبردار ہونا پڑے گا ‘ کتنے مظالم ہیں جن کی ذمہ داری قبول کرنا پڑے گی۔ جھوٹ کا ایک کاروبار جو نام نہاد وکالت کے نام سے ہماری عدالتوں میں جاری ہے ‘ وہ ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ جھوٹے گواہوں کا عدالتوں میں داخلہ تک ممنوع ہوجائے گا۔ یہ پورا مافیا ہے ‘ جس نے ہمارے نظام عدالت کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ اس لیے وہ اسلامی نظام عدالت کو کبھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور دوسری یہ بات کہ ہمارے دانشوروں کا ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے کہ جن کی تاریں ہمیشہ باہر سے ہلتی ہیں۔ انھوں نے غیر ملکی مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں۔ فلسفہ کفر سے دماغ کو آباد کیا ہے۔ بے خدا تہذیب کے دیئے ہوئے ثمرات انھیں باہر سے ورثے میں ملے ہیں اور پھر باہر کی قوتوں کا سیاسی اور ثقافتی غلبہ ہمارے نام نہاد تعلیم یافتہ دانشوروں کو کبھی اپنی عقل سے کام لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ہم مسلمان ہو کر بھی وہی سوچتے اور وہی کرتے ہیں ‘ جو کچھ ہمارے باہر کے آقا کرنے کا حکم دیتے ہیں اور جن کی ناراضگی سے ہم ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ ظفر علی خاں مرحوم نے ٹھیک کہا تھا ؎ تم سمجھتے ہو پرایوں نے کیا ہم کو تباہ بندہ پرور کہیں اپنوں کا یہ کام نہ ہو یوں تو شرم پیمبر ہے انھیں بھی لیکن ان کو ڈر یہ ہے کہ ناراض کہیں ٹام نہ ہو علماء یہود کا کردار اس کے بعد ارشاد فرمایا : یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہٗ فَاحْذَرُوْاط یہ منافقین جن یہود کے اشاروں پر چلتے ہیں ‘ وہ کم از کم اتنا ہی غور کرلیں کہ ان کا اصل کردار کیا ہے کہ یہ اپنی زندگی ان کے ہاتھوں میں دے کر خود پتلیوں کی طرح ایک تماشہ بنے ہوئے ہیں ‘ لیکن انھیں یہ تک معلوم نہیں کہ ان کے ان آقائوں کی کارستانیاں کیا ہیں اور وہ کس سیرت و کردار کے مالک ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے کلام اور اس کے احکام کا موقع و محل اور اس کا محمل و مصداق متعین ہونے کے باوجود ‘ اس کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا دیتے ہیں ‘ جس سے حکم کا مقصد بالکل فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔ جن کی جرأتوں اور جسارتوں کا یہ عالم ہو کہ اللہ کے کلام میں اس صریح تحریف سے بھی باز نہ رہیں اور انھیں اس بات کا ذرہ بھر خیال نہ رہے کہ قیامت کے دن جب اللہ کے حضور جواب طلبی ہوگی تو ہم اس کا کس طرح جواب دے سکیں گے۔ عجیب بات ہے کہ یہ منافقین ان بےایمان اور بدکردار یہود کے اشاروں پر چلتے ہیں اور ان کی راہنمائی قبول کرتے ہیں۔ یہود کے سیرت و کردار کا ایک غلیظ پہلو تو یہ تھا جو ابھی سامنے آیا کہ وہ اللہ کے عذاب اور اس کا سامنا کرنے سے بالکل نہیں گھبراتے تھے ‘ بلکہ آخرت ان کے لیے ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں تھی اور دوسری طرف ان کے اس برے کردار کا دوسرا پہلو جو اس آیت سے واضح ہو رہا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ وہ اپنے زیر اثر لوگوں کو استعمال کرنے اور ان کے سیرت و کردار کے بگاڑنے میں بھی ذرہ بھر شرم محسوس نہیں کرتے تھے بلکہ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی بھی ان کو شرم نہ تھی۔ وہ ان کے پاس قضایا اور معاملات کو بھیجتے ہوئے ‘ یہ ہدایت دینے سے بھی ہچکچاتے نہیں تھے کہ تم یہ معاملات محمد ﷺ کی عدالت میں لے جاؤ ‘ لیکن یہ یاد رکھنا کہ وہاں سے اگر فیصلہ تمہاری خواہش کے مطابق ہو تو اسے قبول کرلینا اور اگر تمہاری خواہش کے خلاف ہو تو ہرگز قبول نہ کرنا۔ یعنی وہ انسانی تصفیہ طلب مسائل میں بھی اپنی کو رباطنی سے باز نہیں آتے تھے۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اسلام کی اس نوزائیدہ مملکت میں یہودیوں کے قبیلوں کو ایک قبائلی نوعیت کا اقتدار حاصل تھا۔ وہ اس بات کے پابند نہیں تھے کہ ضرور آنحضرت ﷺ کی عدالت سے اپنے قضایا کا تصفیہ کروائیں ‘ چناچہ روایاتِ تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کے نزول سے پہلے دو واقعات پیش آئے تھے۔ اس پر ان کے انفرادی اور اجتماعی کردار کے جو جو پہلو سامنے آئے ‘ ان آیات میں ان کے حوالے سے اصولی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ مسند احمد اور ابو دائود میں حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) سے اس کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے۔ مدینہ طیبہ میں یہود کے دو قبیلے بنو قریظہ اور بنو نضیر آباد تھے۔ ان میں سے بنو نضیر ‘ قوت و شوکت اور دولت و عزت میں ‘ بنو قریظہ سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ‘ بنو قریظہ پر ظلم ڈھاتے اور وہ بیچارے بادل نخواستہ اس کو برداشت کرتے تھے۔ حتی کہ بنو نضیر نے بنو قریظہ کو ایک نہایت ذلت آمیز معاہدے پر مجبور کردیا۔ معاہدہ یہ تھا کہ اگر بنونضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کا قصاص لینے کا انھیں کوئی حق نہ ہوگا بلکہ صرف ستر وسق کھجوریں ان کے خوں بہا کے طور پر ادا کی جائیں گی (وسق تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا ہے) اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا ہے تو اس کے قاتل کو قتل بھی کیا جائے گا اور ان سے خون بہا بھی لیا جائے گا اور وہ بھی بنو نضیر کے خوں بہا سے دوگنا ہوگا۔ اسی طرح اور بھی نہایت غیر منصفانہ باتیں اس میں شامل تھیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ طیبہ میں تشریف لے آنے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا کہ بنو قریظہ کے ایک آدمی نے بنو نضیر کے کسی آدمی کو مار ڈالا تو بنو نضیر نے معاہدہ مذکور کے مطابق بنو قریظہ سے دوگنی دیت یعنی خوں بہا کا مطالبہ کیا۔ بنوقریظہ اگرچہ اسلام میں داخل نہ تھے ‘ لیکن مسلمانوں کے عدل و مساوات کو دیکھ رہے تھے۔ اس لیے انھوں نے اس ظلم کو ماننے سے انکار کردیا اور یہ مطالبہ کیا کہ ہم مسلمانوں کے پیغمبر سے اس معاملے کا فیصلہ کروائیں۔ شروع میں تو بنو نضیر نے اس پر بڑی برہمی کا اظہار کیا ‘ آخر اس پر راضی ہوگئے۔ مگر اس میں سازش یہ کی کہ آپ کے پاس مقدمہ لے جانے سے پہلے ‘ کچھ ایسے لوگوں کو آگے بھیجا ‘ جو اصل میں تو انہی کے ہم مذہب یہودی تھے ‘ مگر منافقانہ طور پر اسلام کا اظہار کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے جاتے تھے اور مطلب ان کا یہ تھا کہ یہ لوگ کسی طرح مقدمہ کے فیصلہ سے پہلے اس معاملہ میں آنحضرت ﷺ کا عندیہ اور نظریہ معلوم کرلیں اور ان لوگوں کو یہ تاکید بھی کی کہ اگر مسلمانوں کے پیغمبر نے ہمارے مطالبہ کے موافق فیصلہ کیا تو اس کو قبول کرلینا اور اس کے خلاف کوئی حکم دیا جائے تو ماننے کا وعدہ نہ کرنا۔ دوسرا واقعہ یہ پیش آیا تھا کہ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا۔ تورات کی رو سے اس کی سزا رجم تھی۔ یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے ‘ لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد ﷺ کو پنچ بنایا جائے۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اور حکم دیں تو قبول کرلیا جائے اور رجم ہی کا حکم دیں تو قبول نہ کیا جائے۔ چناچہ مقدمہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ انھوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ اس پر آپ نے پوچھا : تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے ؟ انھوں نے کہا کوڑے مارنا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرنا۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر پوچھا : کیا تورات میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے ؟ انھوں نے پھر وہی جھوٹا جواب دیا۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا ‘ جو خود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں تورات کا سب سے بڑا عالم تھا ‘ خاموش رہا۔ آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھے اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ‘ جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور کوہ طور پر تمہیں شریعت عطا کی۔ کیا واقعی تورات میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے ؟ اس نے جواب دیا ” اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں کبھی نہ بتاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تو رجم ہی ہے۔ مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حکام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انھیں چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے اگر یہی حرکت سرزد ہوتی تو انھیں رجم کردیا جاتا۔ جب اس سے عوام میں ناراضگی پیدا ہونے لگی تو ہم نے تورات کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنا لیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انھیں منہ کالا کر کے گدھے پر الٹے منہ سوار کیا جائے “۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہود جن کے ہاتھوں میں یہ منافقین کھیل رہے تھے وہ کس سیرت و کردار کے مالک تھے اور قلب و دماغ کے حوالے سے کس سطح کے لوگ تھے۔ اس لیے منافقین کو یہ سوچنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اپنی دنیا اور آخرت دے کر آخر تم کیا حاصل کرنا چاہتے ہو ؟ عافیت کا راستہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اپنے اندر ایمان وتقویٰ پیدا کرو اور یہ لوگ جو سرے سے ہر اچھی بات کے دشمن ہیں ‘ ان سے لاتعلق ہوجاؤ کیونکہ وہ لوگ اس جگہ تک پہنچ گئے ہیں ‘ جہاں سے پلٹنے کی کوئی امید نہیں ہوسکتی۔ گناہ کی روش پر ضد کا انجام اس لیے فرمایا : وَمَنْ یُّرِدِ اللہ ُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللہِ شَیْئًاط یہ اللہ کی اس سنت اور قانون کا بیان ہے جو ہمیشہ ایسے لوگوں کے بارے میں جاری رہا ہے ‘ جنھوں نے آخر حد تک حق سے روگردانی کی ہے۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ انسان کو شعور اور قوت تمیزدے کر پیدا کرتا ہے۔ پھر جب وہ تکلیف شرعی کی عمر کو پہنچتا ہے ‘ اس کے سامنے فطرت اور اللہ کی جانب سے خیر اور حق کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوسری طرف نفس اور شیطان کی جانب سے گمراہی کے بہلاوے ‘ اس کا راستہ روکتے ہیں۔ یہ اس کی قوت تمیز اور عقل کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کدھر جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر وہ صحیح راستے کا انتخاب کرتا ہے تو قدرت کی جانب سے اس کے لیے اس راستہ پر چلنے کی آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں اور اس کی طبیعت کو ایک استحکام اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ تمام تر فطری ہدایات اور اللہ کی جانب سے ہدایت کے سارے امکانات کے باوجود غلط راستے پر چلنے پر اصرار کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسی راستے پر چلنے کے لیے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ اسے غفلت کی نیند سے اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر وہ غفلت کا بستر کسی طرح بھی چھوڑنے کی کوشش نہیں کرتا تو قدرت بھی اسے اسی بستر پر پڑا رہنے دیتی ہے۔ یہاں اسی قانون کو بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو فتنہ میں ڈالنا چاہتا ہے تو اے پیغمبر ! آپ اللہ کے مقابلے میں اس کا کچھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اس نے اپنی کوتاہیوں سے اپنے آپ کو سنت الٰہی کی زد میں دے دیا ہے اور جب کوئی سنتِ الٰہی کی زد میں آجاتا ہے تو پھر کسی کے امکان میں یہ نہیں رہتا کہ وہ اس کو باطل سے موڑ کر حق کی راہ پر ڈال دے۔ یہ لوگ چونکہ اب اس قانونِ الٰہی کی زد میں آچکے ہیں اور ان کے طور اطوار خود اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ نبی آخر الزمان کے آنے کے باوجود بھی اور قرآن کریم کے نزول کے بعد بھی ‘ یہ اپنی روش بدلنے کے لیے بالکل تیار نہیں ‘ بلکہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آنا بھی یہ اپنے لیے کسر شان سمجھتے ہیں اور اللہ کے نازل کردہ قانون کے بارے میں ان کا رویہ حسد پر مبنی ایک تمسخر سے زیادہ نہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا : اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللہ ُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ ط لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ ج صلے وَّلَھُمْ فِی الاْٰخِرَۃِعَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (یہی لوگ ہیں ‘ جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہیں چاہا ‘ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ ) یعنی اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے ‘ وہ اب ان کے دلوں میں ہدایت حق کے لیے کوئی آمادگی پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ اور اپنی کوتاہیوں اور نادانیوں سے جس طرح انھوں نے اپنے دل کو گندا کرلیا ہے اور اسے آب و تاب سے بالکل محروم کردیا ہے کہ اس میں قبول حق کی کوئی رمق باقی نہیں رہ گئی ہے۔ اب اس کے بعد ان سے تعلق رکھنا سراسر خسران کا سودا ہے۔ دل و دماغ کی اس کیفیت کو قرآن کریم نے رین سے تشبیہ دی ہے جس کا نتیجہ طبع قلوب فرمایا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ دل ایک آئینہ کی مانند ہے۔ جب آدمی کوئی گناہ کرتا ہے تو اس پر ایک سیاہ دھبہ پڑجاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرے تو یہ دھبہ مٹ جاتا ہے اور اگر مزید گناہ کرے تو اور ایک دھبہ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلسل اگر یہ دھبے بڑھتے جائیں تو آخر دل کا آئینہ آب و تاب کھو کر بالکل سیاہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ ‘ اس دل والے کے بارے میں محرومی کا فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ ہم نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے کہ جب کوئی بندہ کسی برے راستے کو اختیار کرتے ہوئے اس پر مسلسل چلنے پر اصرار کرتا ہے اور برائی کی کسی سطح پر بھی رکنے کا نام نہیں لیتا تو پھر اس کی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ خیر و شر کے تصور سے بھی محروم ہوجاتا ہے بلکہ جو باتیں کبھی اس کو اچھی معلوم ہوتی تھیں ‘ وہ بھی اسے بری لگنے لگتی ہیں۔ اقبال نے ایک دوسرے حوالے سے شاید اسی کا ذکر کیا ہے : تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر ضمیر سے مراد یہی دل ہے ‘ جو قبولیت کی استعداد سے محروم ہوجاتا ہے چناچہ ایسے آدمی کو اگر کبھی سمجھانے کی کوشش کی جائے تو سمجھانے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ میں شاید کسی دیوار سے سر پھوڑ رہا ہوں ‘ سننے والے کو پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ مجھے کیا کہا جا رہا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ سمجھانے والے کو دیوانہ اور پاگل سمجھتا ہے آدمی حیران ہوتا ہے کہ یہ شخص دانا و بینا ہوتے ہوئے بھی ‘ آخر اتنی سیدھی بات کو کیوں نہیں سمجھ پا رہا ؟ حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ وہ اللہ کے اس قانون کی زد میں آ کر قبولیت حق کی استعداد سے محروم ہوچکا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے میں ایک چھوٹا سا لطیفہ عرض کرتا ہوں کہ کوئی صاحب اپنی گاڑی میں ایک بستی سے گزر رہے تھے ‘ نماز کا وقت تھا ‘ مسجد قریب آئی ‘ ڈرائیور نمازی تھا ‘ اس نے اپنے صاحب سے عرض کیا کہ صاحب اگر اجازت ہو تو میں مسجد میں جا کر نماز پڑھ لوں ؟ اس کے صاحب نے ناگواری سے کہا کہ جاؤ ‘ جلدی آئو۔ اس نے نماز میں دیر لگا دی یا شاید اس کو محسوس ہوا ‘ اس لیے باہر گاڑی سے اس نے چیختے ہوئے کہا کہ ارے تجھے کس نے اندر پکڑ رکھا ہے ‘ تم باہر کیوں نہیں آتے ؟ تو اس نے اندر سے جواب دیا کہ صاحب مجھے اسی نے پکڑ رکھا ہے ‘ جس نے باہر آپ کو پکڑ رکھا ہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ لوگ جھوٹ کے رسیا اور پرلے درجے کے حرام خور ہیں ‘ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے ‘ خواہ ان کے معاملے کا فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو اور اگر تم ان کو ٹال دو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان قانون عدل کے مطابق فیصلہ کرو ‘ اللہ قانون عدل پر عمل کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے

سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآئُوْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ ج وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا ط وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللہ َ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (المائدہ : 42) ” یہ لوگ جھوٹ کے رسیا اور پرلے درجے کے حرام خور ہیں۔ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے ‘ خواہ ان کے معاملے کا فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو اور اگر تم ان کو ٹال دو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان قانون عدل کے مطابق فیصلہ کرو ‘ اللہ قانون عدل پر عمل کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے “۔ جھوٹ اور رشوت کی تباہ کاریاں منافقین اور یہود کی سیرت و کردار اور طور اطوار کی مذمت کرنے کے بعد اور ان کے رہنمائوں کی سازشوں سے پردہ اٹھانے کے بعد اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روئے سخن آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی طرف پھیرا جا رہا ہے اور یہ توجہ دلائی جا رہی ہے کہ یہ اہل کتاب جو کبھی حامل دعوت امت رہ چکے ہیں ‘ یہ تو اپنے زوال کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں تم پر جو قیامت تک اس عظیم منصب کی ذمہ داریاں ڈالی جا رہی ہیں تمہیں اس امت کے خدوخال کو اچھی طرح پہچان کر اپنے بارے میں ہمیشہ محتاط رہنا ہوگا۔ اس لیے ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ یہ جو اپنے منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے نااہل ثابت ہوئے ہیں تو بہت ساری خرابیوں کے ساتھ ساتھ ‘ ان میں دو بنیادی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ ارشاد فرمایا : سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ (یہ لوگ جھوٹ کے رسیا اور پرلے درجے کے حرام خور ہیں) ” اَکَّالُٗ “ اسم مبالغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ” بہت کھانے والا “ اور ” سُحْتِ “ کہتے ہیں ” حرام کمائی “ کو۔ لیکن امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہاں ” سُحْتِ “ سے مراد ” رشوت “ ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ انسان کے انفرادی کردار کی سب سے بڑی بنیاد ‘ سچائی ہے۔ جھوٹ ‘ اس بنیاد کو اکھاڑ دینے والی چیز ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے جب پوچھا گیا تھا کہ حضور ﷺ کیا ایک مسلمان چور ہوسکتا ہے ‘ ڈاکو ہوسکتا ہے ‘ زانی ہوسکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ہوسکتا ہے یعنی یہ برائیاں اندیشہ ہے کہ مسلمانوں میں پیدا ہوجائیں۔ لیکن جب پوچھا گیا کہ کیا مسلمان جھوٹ بھی بول سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا مسلمان کبھی جھوٹا نہیں ہوتا۔ یہ اہل کتاب جب دینی اعتبار سے اپنے زوال کی انتہا کو پہنچے تو جھوٹ ان کا اوڑھنا بچھونا بن گیا تھا ‘ جس نے ان کی اخلاقی زندگی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں سب سے اہم رول ادا کیا۔ اسی طرح انسان کی اجتماعی زندگی کی استواری اور ہمواری کے لیے جو چیز انتہائی ناگزیر ہے ‘ وہ ہر سطح پر اور ہر لحاظ سے کسب حلال ہے اور اس میں سب سے اہم چیز رشوت سے بچنا ہے لیکن جب کسی قوم کو زوال آگھیرتا ہے ‘ پھر وہ آہستہ آہستہ رزق حلال سے محروم ہوتی جاتی ہے اور حرام کے سارے دروازے اس پر کھلتے جاتے ہیں اور آخری وہ چیز ‘ جو اس کی اجتماعی زندگی کو مکمل طور پر تباہ کردیتی ہے ‘ وہ اس کے اجتماعی اداروں میں ہر سطح پر رشوت کا داخل ہوجانا ہے۔ مسلمانوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اہل کتاب اور منافقین جھوٹ کے رسیا بن کر انفرادی زندگی میں ہر طرح کے اخلاق سے عاری ہوگئے اور اجتماعی اداروں میں رشوت کے بازار گرم ہونے کی وجہ سے ‘ اجتماعی اخلاق سے محروم ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حق سے تعلق تو ٹوٹا ہی تھا ‘ حقوق کی بازیابی کے لیے آخری سہارا ادارے اور عدالتیں ہوتی ہیں ‘ وہ رشوت کی نذر ہو کر ‘ اپنا اصل کردار ادا کرنے سے معطل ہو کر رہ گئیں۔ مسلمانوں سے یہی بات اس سورة کے آغاز میں کہی گئی : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَائَ بِاالْقِسْطِ ز (المائدۃ 5: 8) اے مسلمانو ! تمہاری منصبی ذمہ داری کا تقاضہ یہ ہے کہ تم دو ذمہ داریاں ادا کرو۔ ایک یہ کہ حق کی بےلاگ شہادت دینے والے بنو اور دوسرا یہ کہ قانون عدل و قسط کے مطابق بےلاگ فیصلہ کرنے والے تم میں موجودہونے چاہئیں۔ یہ دونوں چیزیں ‘ نظام حق و انصاف اور قیام عدل و قسط کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور جھوٹ اور رشوت ‘ ان دونوں کے لیے سم قاتل ہیں اور اس پورے نظام کو تباہ کردینے والی ہیں۔ شاید اسی لیے عربی زبان میں ’ سُحْتِ ‘ جو رشوت کے لیے استعمال ہوتا ہے ‘ حقیقت میں اس کا معنی ” استیصال کردینا “ ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے : ” فَیُسْحِتَکُمْ بِعَذَاب “ کہ اللہ تمہیں عذاب کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا۔ اس کا مطلب یہ کہ رشوت وہ لعنت ہے ‘ جو انسانی تہذیب و تمدن اور اجتماعیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں یہ رشوت کی چاٹ ‘ جب اداروں کو لگ جاتی ہے تو پھر اس معاشرے کو تباہی سے بچانا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور مسلمان جس عظیم منصب پر فائز کیے گئے ہیں ‘ اس میں ظاہر ہے ‘ یہ جھوٹ اور رشوت اگر عام ہوجائے تو پھر مسلمانوں کو اس تباہی سے کون بچا سکتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا پورا معاشرہ سر سے پائوں تک اس لعنت میں ڈوب چکا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ دفاتر تباہ ہوگئے ہیں ‘ احتسابی ادارے اپنا وقار کھو بیٹھے ‘ عدالتیں رسوا ہوگئیں ‘ حتی کہ ایوان ہائے حکو مت میں کہانیاں بننے اور پھیلنے لگیں۔ امت کے راہنما ‘ اپنا دامن ناگفتنیات سے بچا نہ سکے۔ جرائم پیشہ لوگوں کی چاندی ہوگئی ‘ جان ‘ مال ‘ عزت و آبرو ‘ ہر چیز معرض خطر میں ہے۔ ایک قاتل بڑے اطمینان سے انسان کی جان لیتا ہے اور جانتا ہے کہ قانون میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس لیے کہ ایف آئی آر سے لے کر سپریم کورٹ کے فیصلے تک ‘ ہر جگہ رشوت کی ہم آہنگی ہے تو انصاف کیسے ملے اور جرائم کیسے ختم ہوں اور انسانیت کے آنسو کیسے پونچھے جائیں۔ چناچہ مسلمانوں کو وارننگ دی جا رہی ہے کہ دیکھنا تم ان منافقین اور یہود جیسا رویہ اختیار نہ کرنا۔ ان کی ان تمام برائیوں کے باوجود آنحضرت ﷺ سے ارشاد فرمایا جا رہا ہے : فَاِنْ جَآؤُکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْج وَاِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًاط وَاِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللہ َ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے ‘ خواہ ان کے معاملے کا فیصلہ کرو یا ان کو ٹال دو اور اگر تم ان کو ٹال دو گے تو یہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان کے درمیان قانون عدل کے مطابق فیصلہ کرو ‘ اللہ قانون عدل پر عمل کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی یہ یہود اور منافقین اپنی خباثتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ اس لیے کبھی اگر آپ کی عدالتوں میں یہ فیصلہ لینے کے لیے آجائیں تو آپ کو کوئی مجبوری نہیں کہ آپ ضرور ان کے مقدمات کو لیں بلکہ اگر آپ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انھیں سننا پسند نہ فرمائیں تو آپ کی اپنی مرضی ہے۔ ممکن ہے یہ بعض ایسے مقدمات آپ کے پاس بھیجیں ‘ جن میں اسلامی قانون میں سزائیں سخت رکھی گئی ہوں اور ان کا مقصود یہ ہو کہ اس طرح آپ کو بدنام کیا جائے اور یا اگر آپ مقدمہ لینے سے ہی انکار کریں تو پھر آپ کی بےرخی کا ڈھنڈورا پیٹ کر آپ کے اخلاق میں کیڑے ڈالے جائیں۔ کوئی سی صورت حال بھی ہو یہ آپ کو کوئی بھی نقصان پہنچانے کا ارادہ کریں تو آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ البتہ ! یہ بات ضرور ہے کہ اگر آپ اپنی عدالت میں ان کا مقدمہ لے لیں تو ان کے رویے اور ان کی کرتوتوں سے متاثر ہو کر آپ اپنے فیصلے کو سرِ مو انصاف سے ہٹنے نہ دیں ‘ بلکہ آپ کا ہر فیصلہ آپ کے انصاف کا منہ بولتا ثبوت ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جس قوم کو نوازتا ہے ‘ وہ نسبتوں کی وجہ سے نہیں نوازتا ‘ بلکہ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ عدل و قسط کے حوالے سے اور سیرت و کردار کے تناظر میں اس قوم کا کردار کیا ہے۔ اب چونکہ امت مسلمہ ہی کو دنیا کی قیادت و امامت کرنی ہے ‘ اس لیے اس امت کو حق کی بےلاگ شہادت بھی دینی ہے اور قانون عدل و قسط کے مطابق بےلاگ فیصلے بھی کرنے ہیں۔ یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس امت سے گویا عہد لیا جا رہا ہے کہ دیکھنا عدل و قسط کی کبھی مخالفت نہ ہونے دینا۔ چناچہ قرون اولیٰ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان عدالتیں اور خلافتِ راشدہ میں تو مسلمان حکومتیں بھی ‘ اپنے اس عہد کی پابندی پر نہ صرف یہ کہ قائم رہیں بلکہ انھوں نے تاریخ کے لیے ایسی مثالیں چھوڑی ہیں ‘ جو ہمیشہ تابندہ رہیں گی۔ لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ کیا یہی مسلمان ہیں کہ جنھوں نے تاریخ بنائی تھی ‘ آج تاریخ میں گالی بنتے جا رہے ہیں ؎ کبھی ان نوجوانوں نے رخ ہستی سنوارا تھا مگر آج ان کی اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تمہیں ” حَکَم “ کس طرح بناتے ہیں ‘ جب کہ تورات ان کے پاس موجود ہے ‘ جس میں اللہ کا حکم موجود ہے پھر ” حَکَم “ بنانے کے بعد برگشتہ ہوجاتے ہیں ‘ یہ ہرگز باایمان لوگ نہیں

وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 43) ” اور یہ تمہیں ” حَکَم “ کس طرح بناتے ہیں ‘ جب کہ تورات ان کے پاس موجود ہے ‘ جس میں اللہ کا حکم موجود ہے۔ پھر ” حَکَم “ بنانے کے بعد برگشتہ ہوجاتے ہیں ‘ یہ ہرگز باایمان لوگ نہیں “۔ ایک قاری جب ان آیات کو پڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچتا ہے تو اسے حیرت ہونے لگتی ہے کہ جب ان کے پاس خود اللہ کی کتاب ‘ تورات موجود ہے اور پھر اس میں اللہ کا حکم بھی موجود ہے ‘ یعنی اس مقدمہ کے بارے میں جو اس وقت ان کے سامنے ہے تو پھر یہ آنحضرت ﷺ کی عدالت میں کیوں آنا چاہتے ہیں اور پھر مزید تعجب اس بات پر ہے کہ جب آپ کو حَکَم بنا لیتے ہیں تو پھر آپ جو فیصلہ فرماتے ہیں ‘ اس سے روگرانی کرتے ہیں یعنی اسے ماننے سے انکار کردیتے ہیں حالانکہ انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کا فیصلہ قانون خداوندی کے عین مطابق ہے کیونکہ جہاں تک تعزیرات کا تعلق ہے ‘ قرآن اور تورات کے قانون تعزیرات میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے اور پھر آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب تک قرآن کریم میں کسی قضیے کے بارے میں حکم نازل نہیں ہوتا تھا ‘ آپ تورات کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے کیونکہ جب تک قرآن تورات کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتا تو وہ واجب العمل ہے۔ ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود حیرانی ہے کہ وہ آپ کو حَکَم بناتے ہیں اور پھر آپ کے فیصلے کو صحیح جانتے ہوئے بھی ماننے سے انکار کردیتے ہیں ‘ اولاً تو حکم بنانا ہی تعجب خیز ہے کیونکہ وہ حضور ﷺ کو اللہ کے رسول نہیں سمجھتے ہیں اور پھر حَکَم بنانے کے بعد فیصلہ قبول نہ کرنا ‘ جبکہ وہ تورات کے مطابق بھی ہو “ یہ اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے۔ لیکن ہمیں اس تعجب کو سمجھنے میں اس لیے دشواری نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ہمارا اپنا رویہ اس سے ذرا بھی مختلف نہیں ہے ‘ ہم قرآن کریم کو اللہ کی کتاب سمجھتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری رسول جانتے ہیں ‘ بایں ہمہ ہم کسی ایسے قرآنی فیصلے کو قبول کرنے کو تیار نہیں ‘ جو ہماری اپنی خواہشات ‘ رسوم و رواج یا ملکی قانون کے خلاف ہو۔ جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو ہم قرآن کریم کو تراویح میں بھی سنتے ہیں اور شبینہ میں بھی ‘ پھر اس کو شوق و ذوق سے پڑھتے بھی ہیں۔ کوئی مرجاتا ہے تو اس کو پڑھ پڑھ کر بخشتے ہیں ‘ لیکن اسے اپنی عدالتوں اور اپنے ایوان ہائے حکومت سے دور رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو جن لوگوں کا یہ رویہ ہو انھیں اہل کتاب کے اس رویے کو سمجھنے میں کیا دشواری ہوسکتی ہے۔ ہم شاید خود تو اسے قبول نہ کریں ‘ لیکن قرآن کریم نے اس اصل بیماری کا نام دے دیا ہے ‘ جس میں اہل کتاب بھی مبتلا تھے اور ہم بھی مبتلا ہیں۔ وہ بیماری ہے ” وَمَا اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُوْمِنِیْنَ “ یہ اس لیے آپ کے فیصلوں کو قبول کرنے سے انکاری ہیں کہ یہ تورات پر ایمان نہیں رکھتے۔ ایمان کا دعویٰ ضرور ہے ‘ لیکن حقیقی ایمان سے یہ محروم ہیں۔ یہ باتیں چونکہ امت مسلمہ کو سنائی جا رہی ہیں ‘ اس لیے یہ بات بےحد ضروری ہے کہ ہم بھی اپنے رویوں پر نظر ثانی کریں اور یہ سوچنے کی کوشش کریں کہ کیا ہم بھی اسی صورت حال سے دوچار تو نہیں ؎ تیری ہر ادا میں بل ہے ‘ تیری ہر نگاہ میں الجھن میری آرزو میں لیکن ‘ نہ پیچ ہے نہ خم ہے تمہید اس سے پہلے کے رکوع میں ہم بنی اسرائیل کے حوالے سے ‘ جو مسلمانوں سے پہلے حامل دعوت امت تھی ‘ ان کی کو تاہیوں ‘ نافرمانیوں ‘ خیانتوں ‘ بلکہ سرکشیوں کی تاریخ پڑھ چکے ہیں ‘ جس میں سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جس صورت حال کو پہنچ چکے ہیں ‘ اس کی سب سے بنیادی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اللہ کی کتابوں یعنی اس کے قانون اور آئین کے بارے میں ایسا رویہ اختیار کیا ‘ جو اس رویے سے بالکل مختلف تھا ‘ جس کا ان سے عہدو پیمان لیا گیا تھا اور وہ بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئے کہ اللہ کے قانون کو انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا تو دور کی بات رہی ‘ اس میں انھوں نے تحریف کی۔ جا بجا اس کے محمل سے اسے ہٹایا۔ حتی کہ اللہ کے قانون سے ان کو ایک چڑسی پیدا ہوگئی ‘ جس نے ان کو سرکشی تک پہنچا دیا۔ بنی اسرائیل کا یہ رویہ ‘ بگڑی ہوئی امتوں کی تاریخ میں کوئی نیا رویہ نہیں بلکہ اسی کا تتمہ اور بگاڑ کی تکمیلی شکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلی امتیں بھی نہ صرف اس صورت حال سے دوچار ہوئی ہیں بلکہ اللہ کے عذاب کا شکار بھی ہوئی ہیں۔ ان کی تاریخ اگرچہ ناپید نہیں ‘ لیکن غیر محفوظ ضرور ہے۔ اس کے صرف وہ گوشے محفوظ ہیں ‘ جنھیں قرآن پاک نے محفوظ کرلیا۔ لیکن اس بگاڑ کا مکمل ریکارڈ ‘ جسے تاریخ کہا جاسکتا ہے اور اس کی اصلاح کی کوششوں کا بھی مکمل ریکارڈ جسے انبیاء کی سند حاصل تھی ‘ اس سے ہم باقاعدہ طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے آگاہ ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ کے قانون کے ساتھ انسانی بگاڑ کا رویہ جو سرکشی تک پہنچ گیا ‘ اس کی تاریخ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور سے نمایاں طور پر شروع ہوتی ہے ‘ جو مختلف ادوار سے ہوتی ہوئی ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک پہنچی ہے ‘ جس میں اس جلیل القدر پیغمبر کی کاوشیں بھی ایک جزوی اصلاح کی حیثیت سے تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن اہل کتاب کا رویہ اپنی سرکشی اور تمرد کے لحاظ سے مسلسل آگے بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ بالآخر یہ کشمکش آنحضرت ﷺ کی بعثت مبارکہ سے اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے اور ایک عہد آفریں انقلاب کی شکل میں منصہ شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے۔ اسی امانت کی امین اور اسی کی ذمہ داریوں سے گراں بار یہ امت محمدیہ ہے ‘ جسے آج ہم حالات کے تھپیڑے کھاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چناچہ اس لیے اس امت کو اس رکوع میں اس تاریخ کے بنیادی سبب سے ایک نہایت احسن ترتیب کے ساتھ آگاہ کیا جا رہا ہے تاکہ امت اپنے سے پہلے حامل دعوت امت کی معزولی اور ناکامی کے اسباب کو سمجھ سکے اور ان سے عبرت پکڑتے ہوئے اپنی اصلاح کے لیے آمادہ ہو سکے۔