5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے اور حال یہ ہے کہ مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو ‘ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ جو کوئی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

لَقَدْ کَفَرَ الَّذیْنَ قَالُوْآ اِنَّ اللہ َ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اعْبُدُوا اللہ َ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ ط اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ بِ اللہ ِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہ ُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰہٗ النَّارُ ط وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ۔ (المائدہ : 72) ” بیشک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ خدا تو یہی مسیح ابن مریم ہے اور حال یہ ہے کہ مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو ‘ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ جو کوئی اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ان ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا “۔ نصاریٰ کا عقیدہ ” حلول “ پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ نصاریٰ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ قرار دیتے تھے یعنی حلول کے قائل تھے اور وہ اللہ کو اور مسیح کو ایک ہی ذات سمجھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اللہ مسیح میں حلول کر گیا ہے۔ اس پر مسیح (علیہ السلام) نے انھیں نہایت سامنے کی بات کہی کہ نادانو تم دیکھ رہے ہو کہ جس طرح تم رہتے سہتے ‘ کھاتے پیتے اور جیتے جاگتے ہو اور جن اسباب سے تمہاری تربیت ہو رہی ہے بالکل اسی طرح میں بھی تربیت پا رہا ہوں اور ہم سب کا تربیت کرنے والا ‘ یعنی پالنے والا ایک اللہ ہے۔ وہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی کیونکہ زمین کی غذائوں سے میں جیتا ہوں اور عناصر کائنات کا تمہاری طرح میں بھی محتاج ہوں تو پھر جس طرح تم بندے ہو ‘ اس طرح میں بھی ایک بندہ ہوں۔ بندہ تو کبھی خدا نہیں ہوسکتا تو میں کیسے خدا ہوگیا۔ ہر بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے رب اور اپنے اللہ کی بندگی کرے ‘ سو میں بھی اسی کی بندگی کرتا ہوں تم بھی اسی کی بندگی کرو۔ جو بالکل سامنے کی بات کو نظر انداز کر کے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا ‘ اللہ نے ایسے شخص کے لیے جنت کو حرام کردیا ہے۔ وہ شرک کا ارتکاب کر کے اپنے ساتھ بھی اور ذات باری تعالیٰ کے ساتھ بھی ظلم کر رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی کبھی مدد نہیں کرتا۔
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود ‘ مگر ایک ہی معبود ہے اور اگر یہ باز نہ آئے ‘ ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا ‘ ان کو ایک دردناک عذاب پکڑے گا

لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللہ َ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ م وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلآَّ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ط وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (المائدہ : 73) ” ان لوگوں نے بھی کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تین کا تیسرا ہے۔ حالانکہ نہیں ہے کوئی معبود ‘ مگر ایک ہی معبود ہے اور اگر یہ باز نہ آئے ‘ ان باتوں سے جو یہ کہہ رہے ہیں تو ان میں سے جنھوں نے کفر کیا ‘ ان کو ایک دردناک عذاب آپکڑے گا “۔ نصاریٰ کا عقیدہ ” اقانیم ثلاثہ “ دوسری آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نصاری میں سے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے یعنی وہ اقانیم ثلاثہ کے قائل ہیں کہ وہ اللہ کی عبودیت میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شریک سمجھتے ہیں اور یا حضرت عیسیٰ اور حضرت جبرائیل یعنی روح القدس کو اللہ کا شریک مانتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ جس طرح مسیح کو اللہ کہنے والوں نے کفر کیا ‘ اسی طرح عقیدہ تثلیث اختیار کرنے والوں نے بھی کفر کیا کیونکہ اللہ تو وحدہٗ لاشریک ہے۔ اس کی ذات یا اس کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنے سے بڑا شرک اور ظلم کیا ہوگا اور اس سے بڑھ کر جہالت بھی کیا ہوگی کہ جو شخص اللہ کو الٰہ مانتا ہے اور پوری کائنات کا خالق سمجھتا ہے ‘ وہ اس کی خدائی کے دو حصوں کو دوسری ذاتوں کے سپرد کر کے اس کے ایک تہائی خدا ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے اور تثلیث کے قائل ہونے کا ظاہر ہے اس کے سوا اور کیا مطلب ہے کہ پروردگار اس کائنات کا مکمل الٰہ اور خدا نہیں بلکہ ایک تہائی خدا ہے اور یہ سراسر جہالت کی بات ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اگر یہ لوگ ایسی بات کہنے سے باز نہیں آئیں گے اور سمجھانے کے بعد بھی اس سے توبہ نہیں کریں گے تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب پہنچے گا۔ مزید فرمایا :
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا یہ اللہ کی طرف رجوع اور اس سے مغفرت طلب نہیں کرتے ‘ حالانکہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے

اَفَلاَ یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللہِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَہٗ ط وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (المائدہ : 74) ” کیا یہ اللہ کی طرف رجوع اور اس سے مغفرت طلب نہیں کرتے ‘ حالانکہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔ یعنی مسیح کو اللہ قرار دینایا اللہ کو تین میں تقسیم کر کے ‘ اس کو تین میں تیسرے کا درجہ دینا ‘ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسا جرم کا کرنے والا کسی رحم کا مستحق نہیں رہتا۔ لیکن پروردگار اتمامِ حجت کے طور پر فرما رہے ہیں کہ ہم نے نصاریٰ کے اتنے بڑے جرم کے بعد بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں کیا۔ اس لیے اب بھی اگر کوئی اس راستے سے داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کی قدر افزائی کریں گے۔ اس لیے فرمایا اے گروہ نصاریٰ ! کیا اب بھی تم اللہ کی طرف رجوع کر کے اور اس سے معافی مانگ کر اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھائو گے اور تم جانتے ہو کہ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے ‘ اس لیے اس سے بخشش چاہو اور اس کی مہربانی کے سائے میں آجاؤ۔ ان تین آیتوں میں نہایت سادہ اور قابل فہم اسلوب میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حیثیت واضح کردی گئی ہے اور شرک کا پوری طرح ابطال کردیا گیا ہے۔ لیکن استدلال کی اپنی ایک حیثیت ہے ‘ اس لیے کہ عقل کی خوگر طبیعتیں استدلالی انداز سے زیادہ اثر قبول کرتی ہیں ‘ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں ایک ایسے سادہ لیکن پرکار اور موثر طریقہ استدلال سے اس مضمون کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جس طبیعت میں قبولیتِ حق کا ذرا بھی مادہ ہو ‘ وہ اس استدلال سے اثر قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
Ayahs 5:75–76

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ابن مریم تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور ان کی ماں ایک صداقت شعار بندی تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ! کس طرح ہم ان کے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان کر رہے ہیں ‘ پھر دیکھو ! وہ کس طرح اوندھے ہوئے جا رہے ہیں

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

کہو ! کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتی اور سننے والا اور جاننے والا تو بس اللہ ہی ہے

مَاالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ ط وَ اُمُّہٗ صِدِّیْقَۃٌط کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَط اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَھُمْ الاْٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ۔ (المائدہ : 75) ” مسیح ابن مریم تو بس ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور ان کی ماں ایک صداقت شعار بندی تھیں۔ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ! کس طرح ہم ان کے سامنے اپنی آیتیں کھول کر بیان کر رہے ہیں ‘ پھر دیکھو ! وہ کس طرح اوندھے ہوئے جا رہے ہیں “۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی اصل حیثیت اس آیت کریمہ میں حضرت مسیح ابن مریم کی اصل حیثیت کو واضح کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے استدلال فرمایا گیا ہے۔ پہلی یہ بات فرمائی کہ مسیح کو تم اپنی انجیل میں جس طرح دیکھتے ہو اور جس طرح تم نے ان کے حواریوں سے ان کے حالات سنے ہیں کیا تم نے ان کو خدا پایا ہے یا خدا کا رسول ؟ بعد کے خیالی فلسفوں کو چھوڑ کر آج بھی اگر انجیل کو دیکھا جائے تو اس میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) انسان کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ وہ دنیا میں باقی رسولوں کی طرح رسالت کا فرض انجام دینے کے لیے تشریف لائے تھے۔ پھر جس طرح باقی رسول اپنی طبعی زندگی میں اپنا فرض انجام دینے کے بعد واپس چلے گئے اور موت سے ہمکنار ہوئے بالکل اسی طرح حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی ایک مختصر زندگی لے کر آئے بالآخر اپنے اللہ کے پاس چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان جو ایک مختصر زندگی لے کر آتا ہے اور پھر موت کا شکار بھی ہوتا ہے اور ایک محدود وقت دنیا میں گزار کر یہاں سے جانے پر مجبور ہے ‘ کیا وہ خدا ہوسکتا ہے ؟ خدا ایک ابدی ذات کا نام ہے۔ اسے کبھی فنا نہیں۔ اللہ خود فرماتا ہے : کُلُّ شَیْئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗ (القصص 28: 88) (ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے) بقا اس کی ذات کی صفت ہے ‘ جو اسی کے ساتھ خاص ہے۔ باقی ہر چیز فانی ہے اور فانی خدا نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح بھی باقی مخلوقات کی طرح فانی ہیں تو وہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں ؟ دوسری بات یہ فرمائی کہ ان کی ماں ایک راست باز خاتون تھیں یعنی ان کی ایک والدہ تھیں ‘ وہ ایک خاتون کے بیٹے تھے حالانکہ اللہ کی صفت یہ ہے کہ نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا ہے کیونکہ بیٹا ہونا فنا اور احتیاج کی دلیل ہے اور اللہ تعالیٰ ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ مسیح تو خدا کا بیٹا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ ان کی ماں ایک راست باز خاتون تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسیح میرا بیٹا ہے اور خود مسیح نے ہمیشہ اپنی ماں کا فرمانبردار ہونے کا اعلان کیا اور اس کا ذکر انجیل اور قرآن دونوں کتابوں میں موجود ہے تو جو شخص کسی کا بیٹا ہو ظاہر ہے وہ انسان ہوگا اور انسان تو خدا نہیں ہوتا۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ دونوں ماں اور بیٹا کھانا کھاتے تھے۔ کھانا کھانا احتیاج کی علامت ہے اور احتیاج بھی ایسی کہ جس کے لیے نجانے دست سوال کہاں کہاں پھیلتا ہے کیونکہ ایک آدمی جو غذا کھاتا ہے ‘ اس کے وجود میں آنے کے لیے عناصر کا ایک طویل سلسلہ ہے ‘ جو خدمت انجام دینے پر مجبور ہے کیونکہ غذا کا کوئی ذرہ بھی اپنے وجود میں آنے کے لیے زمین کی روئیدگی ‘ سورج کی تمازت ‘ چاند کی حلاوت ‘ سمندر سے کرنوں کا اٹھنا اور فضا میں بادلوں کا پھیلنا اور پھر چھم چھم برسنا اور ہوائوں کا پودوں کو لوریاں دینا اور موسم کے تغیرات جیسے بنیادی عوامل کا محتاج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے جو بھی غذا کا محتاج ہے ‘ وہ اصلاً ان تمام عناصر اور عوامل کا محتاج ہے۔ اب اگر حضرت مریم (علیہا السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کھانا کھاتے تھے تو یقیناً وہ ان تمام عوامل اور عناصر کے محتاج تھے۔ اللہ کی شان تو اللہ الصمد ہے یعنی اللہ بےنیاز ہے اور جو بےنیاز نہ ہو بلکہ محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ قرآن کریم نے یہ کہہ کر کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ‘ شاید کوئی بےاصل بات کہی ہے۔ اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ یہاں انجیل سے ایک حوالہ دے دیا جائے تاکہ اس بارے میں پوری طرح اطمینان پیدا ہو۔ انجیل لوقا میں صفحہ 24-36-43 میں یہ عبارت موجود ہے۔ (وہ (یعنی حواری) یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ یسوع آپ ان کے بیچ میں آکھڑا ہوا اور ان سے کہا ‘ تمہاری سلامتی ہو۔ مگر انھوں نے گھبرا کر اور خوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی روح کو دیکھتے ہیں۔ اس نے ان سے کہا تم کیوں گھبراتے ہو اور کس بات سے تمہارے دل میں شک پیدا ہوتا ہے۔ یہ میرے ہاتھ اور میرے پائوں دیکھو کہ میں ہی ہوں۔ مجھے چھو کر دیکھو کیونکہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی ‘ جیسا مجھ میں دیکھتے ہو اور یہ کہہ کر اس نے اپنے ہاتھ اور پائوں دکھائے۔ جب مارے خوشی کے ان کو یقین نہ آیا اور تعجب کرتے تھے تو اس نے ان سے کہا کہ کیا یہاں تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے انھوں نے اسے بھنی ہوئی مچھلی کا قتلہ دیا۔ اس نے لے کر ان کے روبرو کھایا۔ ) آیت کے آخر میں پروردگار نے فرمایا : دیکھو ! کس طرح ہم واضح دلائل سے نہایت سادگی کے ساتھ تم پر اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا خدا ہونا یا اللہ کی خدائی میں شریک ہونا ‘ کس قدر دلیل سے خالی ‘ معقولیت سے عاری اور حقیقت کے منافی دعویٰ ہے لیکن عجیب بات ہے کہ اس قدر واضح دلائل کے ہوتے ہوئے بھی تم ایسے اندھے ہوئے ہو کہ اس اندھے پن سے نکلنے کو تیار نہیں۔ دراصل تمہاری اصل مصیبت یہ ہے کہ یہود کو تو گستاخی اور سرکشی نے تباہ کیا ‘ لیکن تم عقیدت میں غلو کا شکار ہوئے اور یہ دونوں چیزیں راہ حق سے پھیر دینے کے لیے کافی ہیں اس لیے ارشاد فرمایا : قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ مَالاَ یَمْلِکَ لَکُمْ ضَرًّا وَّ لاَ نَفْعًا ط وَ اللہ ُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (المائدہ : 76) ” کہو ! کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی بندگی کرتے ہو جو تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتی اور سننے والا اور جاننے والا تو بس اللہ ہی ہے “۔ عبادت کس کی کرنی چاہیے ؟ ان کی نادانی اور جہالت کی طرف توجہ دلانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی بندگی کرتے ہو جو براہ راست کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے حالانکہ انسان کو عبادت تو صرف اس ذات کی کرنی چاہیے جو حقیقی معنوں میں نفع و ضرر کی مالک ہے اور ایسی ذات صرف اللہ کی ذات ہے۔ وہ نافع اور ضار بھی ہے اور وہی سمیع وعلیم بھی ہے۔ دوسروں کی عبادت سے کیا حاصل ‘ جو نہ نافع و ضار ہیں اور نہ سمیع وعلیم۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہہ دو اے اہل کتاب اپنے دین میں بےجا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لاَ تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعُوْآ اَھْوَٓئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ ۔ (المائدہ : 77) ” کہہ دو اے اہل کتاب اپنے دین میں بےجا غلو نہ کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے گمراہ ہوئے اور جنھوں نے بہتوں کو گمراہ کیا اور جو راہ راست سے بھٹک گئے “۔ نصاریٰ کی اصل بیماری ” غلو “ آخری آیت میں اگرچہ خطاب عام اہل کتاب سے ہے لیکن اس کا رخ نصاریٰ ہی کی طرف ہے اور ان کی اصل بیماری کی خبر دی گئی ہے جو کہ اسی غلو کا نتیجہ ہے کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو رسول سے خدا بنا ڈالا۔ پھر ان کی ماں اور روح القدس کو بھی خدائی میں شریک کردیا۔ یہ اسی غلو کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے خواہشات نفس کو دین کا درجہ دے دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے حق کی پیروی کرنے کے ‘ وہ گمراہ قوموں کی پیروی کرنے لگے ‘ خصوصاً فلاسفہ یونان کی۔ جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے ‘ جس کی طرف ابتدائً میں ان کی راہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے ‘ وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے ‘ جس کا مشاہدہ انھوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی اور رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح (علیہ السلام) کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متأثر ہو کر اپنے عقائد کی مبالغہ آمیزفلسفیانہ تأویلیں شروع کردیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب اختیار کرلیا ‘ جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہ رہا۔ اس باب میں خود ایک عالم دینیات کا بیان قابل ملاحظہ ہے جو اس نے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں یسوع مسیح (علیہ السلام) کے عنوان پر لکھا ہے وہ ایک طویل مضمون ہے۔ ہم اس کے صرف چند فقرے نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے : (پہلی تین انجیلوں ‘ متی ‘ مرقس ‘ لوقا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے ‘ جس سے یہ گمان کیا جاسکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع (علیہ السلام) کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا ‘ ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی روح سے فیضیاب ہوا تھا) اس رکوع سے امت مسلمہ کو کیا سبق ملتا ہے ؟ ہم نے اس رکوع میں اہل کتاب کو جو پیغام دیا گیا ہے وہ بھی پڑھا ہے اور اس کے ضمن میں یہود و نصاریٰ کی گمراہیوں کا تذکرہ بھی پڑھا۔ یہود میں اگر تفریط کی بیماری ہے تو نصاریٰ میں افراط اور غلو کی بیماری ہے۔ ایک کو سرکشی نے تباہ کیا ہے اور دوسرے کو محبت اور عقیدت میں غلو نے اور خواہشاتِ نفس کو بدعات کا رنگ دے کر اس کی پرستش کرنے نے۔ امت مسلمہ کو اگر اللہ کے یہاں جواب دہی کا کچھ بھی احساس ہے تو اس کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ کی تاریخ کے آئینہ میں ان کی بداعمالیوں کو سمجھ کر خود اس سے بچنے کی کوشش کرے اور اس بات کا اچھی طرح جائزہ لے کہ اس امت کے کسی طبقے نے سرکشی کا راستہ تو اختیار نہیں کرلیا یا اس امت کا کوئی طبقہ غلو کا شکار ہو کر بدعات و شرک کی وادی میں داخل تو نہیں ہوگیا۔
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جنھوں نے کفر کیا ‘ ان پر دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت ہوئی۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حد سے آگے بڑھ جایا کرتے تھے

تمہید سابقہ رکوع میں جو پیغام بنی اسرائیل کو اتمامِ حجت کے طور پر دینا مقصود تھا ‘ اس کی تفصیل ہم پڑھ چکے ہیں۔ پھر اس پیغام کے ردعمل کے طور پر جو رویہ بنی اسرائیل کا سامنے آیا ‘ قرآن کریم نے اس کی توجیہہ کرتے ہوئے یہود و نصاریٰ کے مجموعی طرز عمل کو اعتقادات اور اعمال کی صورت میں بیان کر کے اہل کتاب پر حجت تمام کی اور امت محمدیہ کے لیے مستقبل کے خطرات کی نشاندہی کی۔ پھر نصاریٰ کے عقائد کو بیان کرتے ہوئے ان کے عقیدے کی دو بنیادی خرابیوں کا بطور خاص تذکرہ کیا اور بتایا کہ یہ وہ خرابیاں ہیں ‘ جن کی وجہ سے ان کے اندر وہ غلط عقائد پیدا ہوئے جن کا ذکر کیا گیا ہے اور امت اسلامیہ کو بھی اس بات سے ہوشیار رہنا چاہیے کہ آئندہ چل کر کہیں ان میں یہ دو بنیادی خرابیاں پیدا نہ ہوں۔ آج کے رکوع کے آغاز میں بظاہر ایک ایسی بات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جو سزا کے طور پر ان پر وارد ہوئی۔ لیکن درحقیقت ایک اہم حقیقت سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ قومیں اور امتیں جن علائق اور موانع کی وجہ سے بالعموم راہ راست پر نہیں آتیں ‘ وہ فطری نتائج ہیں اس کوتاہی ِ فکر کے جس نے ان کے اندر ایک ایسا رویہ جنم دیا جس کی وجہ سے وہ کبھی اپنی تاریخ سے کبھی دامن چھڑانے کی کوشش نہیں کرتیں اور اپنے ماضی کی اسیر ہو کر کبھی بھی صحیح راہ عمل اختیار کرنے کی جرأت نہیں کرتیں۔ اقبال نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا : آئینِ نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں بنی اسرائیل بھی اس تصور سے دست کش ہونے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ہم اس کی خاص قوم ہیں۔ ہم انبیاء کی اولاد ہیں۔ صدیاں گزر گئیں ‘ نبوت ہمیشہ ہم میں آتی رہی۔ آج اگر بنی اسماعیل کو اس نعمت سے نوازا جا رہا ہے اور ان میں آخری نبی کو اٹھا کر دنیا کی سیادت و قیادت انھیں دی جا رہی ہے تو بنی اسرائیل کا احساسِ تفاخر کسی قیمت پر بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ یہ بنی اسماعیل جن کو ہم ہمیشہ امی ّ کہہ کے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور جنھیں کوئی قابل ذکر مقام حاصل نہیں ‘ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم جیسی معزز قوم ان کے نبی پر ایمان لے آئے اور ان کی قیادت کو قبول کرلے یعنی وہ اپنے ماضی کی بنیاد پر اللہ کے اس آخری پیغام کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ پروردگار نے اس رکوع کی پہلی آیتوں میں انھیں تاریخ کا آئینہ دکھا کر ان کے اس خیال باطل کا علاج کیا ہے کہ نادانو ! تم جس تاریخ پر اتراتے ہو اور جس کی وجہ سے تم راہ ہدایت اختیار کرنے سے انکار کر رہے ہو ‘ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تمہارے اپنے پیغمبر تاریخ کے مختلف ادوار میں تم پر لعنت برساتے رہے ہیں۔ لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْم بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ عَلیٰ لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔ (المائدہ : 78) ” بنی اسرائیل میں سے جنھوں نے کفر کیا ‘ ان پر دائود اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت ہوئی۔ یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور حد سے آگے بڑھ جایا کرتے تھے “۔ بنی اسرائیل پر تمام انبیاء نے لعنت کی یہاں ذکر صرف دو نبیوں کا کیا گیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تورات اور قرآن کریم پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی رسول شاید ایسا نہیں گزرا ‘ جس نے ان کی بداعمالیوں کے باعث ‘ ان سے ناخوشی کا اظہار نہ کیا ہو اور اللہ کی جانب سے ان پر لعنت نہ کی ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے چند رکوع پہلے ہم ایسی ہی صورت حال پڑھ چکے ہیں اور یہاں حضرت دائود (علیہ السلام) کا ذکر شاید اس لیے کیا گیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) وہ رسول ہیں کہ جنھیں بنی اسرائیل اپنی عظمتوں کا امین سمجھتے اور دنیوی رفعتوں کے اعتبار سے انھیں تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں شمار کرتے تھے اور ان کے بنی اسرائیل میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ان پر فخر کا اظہار کرتے تھے اور مزید یہ بات بھی کہ حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح پر جلال پیغمبر نہیں تھے بلکہ ان کی طبیعت پر جمال کا غلبہ تھا اور شاید اسی جمال ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے ان کو خوبصورت آواز عطا فرمائی تھی۔ تاریخ میں آج تک خوبصورت آواز کے لیے ” لحنِ دائودی “ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے اور پھر آواز میں ایسا سوز و گداز تھا کہ جب وہ پہاڑوں میں مزامیرِ زبور کی تلاوت کرتے تھے تو پہاڑ ان کے ساتھ ہم آواز ہوجاتے اور پرندے جھوم جھوم کے اترتے اور بعض دفعہ بےہوش ہو کر گرجاتے۔ بنی اسرائیل کی بداعمالیوں کا اندازہ فرمایئے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) جیسی دل آویز شخصیت بھی ان پر لعنت کرتی اور ناگواری کا اظہار کرتی ہے کیونکہ بنی اسرائیل کی بدعہدیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا دل زخمی تھا۔ اس لیے اپنی دعائوں اور مناجاتوں میں بار بار اپنی نارضامندی کا اظہار فرماتے۔ ہم ان کی مناجاتوں میں سے صرف ایک مناجات کا ایک ٹکڑا پیش کرتے ہیں جس سے بنی اسرائیل کے بارے میں ان کے انداز کی وضاحت ہوتی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے : لیکن خدا شریر سے کہتا ہے تجھے میرے آئین بیان کرنے سے کیا واسطہ اور تو میرے عہد کو اپنی زبان پر کیوں لاتا ہے ؟ جب کہ تجھے تربیت سے عداوت ہے۔ اور میری باتوں کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتا ہے۔ تو چور کو دیکھ کر اس سے مل گیا۔ اور زانیوں کے شریک رہا ہے۔ تیرے منہ سے بدی نکلتی ہے۔ اور تیری زبان فریب گھڑتی ہے۔ تو بیٹھا بیٹھا اپنے بھائی کی غیبت کرتا ہے۔ اور اپنی ماں کے بیٹے پر تہمت لگاتا ہے۔ تو نے یہ کام کیے اور میں خاموش رہا۔ تو نے گمان کیا کہ میں بالکل تجھ ہی سا ہوں۔ لیکن میں تجھے ملامت کر کے ‘ ان کو تیری آنکھوں کے سامنے تربیت دوں گا ایسا نہ ہو کہ میں تم کو پھاڑ ڈالوں اور کوئی چھڑانے والا نہ ہو۔ (زبور 50: 16-22) اسی طرح سیدنا مسیح نے بھی ان پر بارہا لعنت کی ہے جن کی مثالیں انجیلوں میں موجود ہیں۔ ہم اختصار کے خیال سے ان کے خطاب سے صرف دو اقتباس نقل کرتے ہیں۔ ارشاد فرماتے ہیں : (اے سانپو ! اے افعی کے بچو ! تم جہنم کی سزا سے کیوں کر بچو گے ؟ اس لیے دیکھو ! میں نبیوں اور دانائوں اور فقیہوں کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں۔ ان میں سے تم بعض کو قتل کرو گے اور صلیب پر چڑھائو گے اور بعض کو اپنے عبادت خانوں میں کوڑے مارو گے اور شہر بہ شہر ستاتے پھرو گے تاکہ سب راست بازوں کا خون جو زمین پر بہایا گیا تم پر آئے۔ راست باز ہابل کے خون سے لے کر برکیاہ کے بیٹے زکریا کے خون تک ‘ جسے تم نے مقدس اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس زمانے کے لوگوں پر آئے گا۔ اے یروشلم ! اے یروشلم ! تو جو نبیوں کو قتل کرتی اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ان کو سنگسار کرتی ہے۔ کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں کے نیچے جمع کرلیتی ہے ‘ اسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کرلوں مگر تم نے نہ چاہا۔ دیکھو ! تمہارا گھر تمہارے لیے ویران چھوڑا جاتا ہے۔ کیوں کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے ‘ جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے) (متی 23: 14-39) لعنت کے دو مفہوم اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تاریخ کے ابتدائی دور کے ایک عظیم رسول اور پھر بنی اسرائیل کی تاریخ کے آخری رسول ‘ دونوں کے حوالے سے ان پر لعنت کا ذکر فرمایا ہے۔ اس طرح اس تاریخ کے درمیان میں جو ہزاروں نبی گزرے ہیں ‘ ان کا ذکر اگرچہ نہیں کیا گیا ‘ لیکن پہلی اور آخری کڑی کا ذکر کر کے گویا پوری تاریخ کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ اس تاریخ کے تناظر میں جو بات انتہائی قابل توجہ ہے ‘ وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں کچھ بھی رہے ہوں ‘ بہرحال ایک حامل دعوت امت تھے۔ ایسی امت پر بار بار لعنت کا برسنا ‘ یہ ان کی تاریخ کا ایسا داغ ہے جس کو کبھی بھی دھویا نہیں جاسکتا کیونکہ لعنت کے دو مفہوم ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کی رحمت سے دوری اور دوسرا اس بات کا اعلان کہ یہ قوم قبولیت حق سے پوری طرح محروم ہوچکی ہے ‘ اب ان سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہم اپنے معاشرے میں آج بھی اس لفظ کا استعمال تقریباً اس کے قریب قریب معنی کے لیے کرتے ہیں۔ کسی آدمی پر لعنت اس وقت کی جاتی ہے جب اس کے اخلاق اور شرافت کی طرف سے بالکل مایوسی ہوجاتی ہے۔ یہ قوم بھی معلوم ہوتا ہے ‘ ایسی ہی انتہاء کو بار بار چھوتی رہی۔ اب رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی صورت میں انھیں جو آخری موقع دیا جا رہا ہے ‘ اسے تو انھیں غنیمت سمجھ کر قبول کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس کے نتیجے میں انھیں ایک نئی زندگی مل سکتی تھی۔ لیکن یہ لوگ چونکہ اپنی تاریخ اور اپنے ماضی کے اسیر تھے ‘ اس لیے یہ اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔ البتہ ! ایک سوال باقی رہ جاتا ہے ‘ وہ یہ کہ لعنت جیسا کہ عرض کیا سب سے بڑی محرومی کا نام ہے۔ بنی اسرائیل سے ایسا کون سا جرم سرزد ہوا تھا کہ انھیں اتنی بڑی محرومی کی سزا دی گئی ؟ بنی اسرائیل پر لعنت کی وجوہات اس کا جواب ان دو آیات کریمہ میں دیا گیا ہے۔ 1 فرمایا گیا کہ ان کا پہلا جرم تو یہ تھا ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا کہ یہ لعنت ان پر اس لیے کی گئی کہ وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے یعنی وہ اللہ کے احکام کے نافرمان تھے۔ قرآن کریم سے ان کی اس نافرمانی کی تین شکلیں معلوم ہوتی ہیں : (ا) ان بنی اسرائیل میں ایک ایسا طبقہ بھی موجود تھا کہ جو اللہ کے احکام کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیتا تھا۔ چناچہ اس کی مثالیں ان کی ابتدائی تاریخ کے آخری دور تک آپ کو جابجا ملیں گی۔ جب ان پر تورات نازل کی گئی ‘ جس طرح انھوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا اور پھر کوہ طور کو ان کے سروں پر لا کر ان کو اسے قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ‘ یہ ان کی ابتدائی تاریخ کی ایک نمایاں مثال ہے۔ پھر جزیرہ نمائے سینا میں جب انھیں فلسطین پر حملہ کرنے کا حکم دیا گیا اور انھوں نے جس طرح اس حکم سے سرتابی کی بلکہ ایک حد تک بغاوت کردی ‘ اس کا تذکرہ خود تورات میں موجود ہے اور بعد کی تاریخ میں ان کی سرتابیوں اور نافرمانیوں کا تذکرہ مختلف صحیفوں میں موجود ہے۔ (ب) بنی اسرائیل کا ایک خاصہ بڑا عنصر ایسا تھا جو صاف صاف اللہ کے احکام کو قبول کرنے سے تو انکار نہیں کرتا تھا لیکن اس میں چور دروازے نکالنے اور اپنی بےعملی کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے ‘ پے در پے سوالات کرتا تھا۔ قرآن کریم نے سورة البقرہ میں ان کی اس بری عادت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس امت کو تنبیہ کی ہے کہ تم قوم موسیٰ کی طرح نہ ہوجانا۔ (ج) ان لوگوں میں ایک اور عادت تھی۔ وہ یہ کہ احکامِ حق سے انحراف نہیں کرتے تھے ‘ البتہ وہ آداب زندگی جو پیغمبر کے واسطے سے ملتے ہیں کیونکہ اللہ کی کتاب تو اصول اور احکام دیتی ہے ‘ لیکن زندگی کے آداب اللہ کے نبیوں کی سنت سے ملتے ہیں اور یہی وہ آداب ہیں جو ثقافت و تہذیب کا تانا بانا تیار کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل پیغمبر کی دی ہوئی اس زندگی سے معلوم ہوتا ہے ‘ اختلاف کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث پاک میں ان کی اس خوئے بد کا ذکر فرمایا : انما اھلک الذین من قبلکم کثرۃ مسائلھم و اختلافھم علی انبیائھم ( تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ‘ کثرت سوالات نے اور اپنے انبیاء سے اختلاف نے۔ ) نافرمانی کی یہ تینوں شکلیں بتمام و کمال بنی اسرائیل میں موجود تھیں۔ 2 ان کا دوسرا جرم اور برائی جو ان کے لیے لعنت کا باعث ہوئی وہ ہے : کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ( یہ لوگ حد سے گزر جایا کرتے تھے۔ ) نافرمانی کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت نہ کی جائے۔ حد سے گزر جانا اس کا اگلا مرحلہ ہے۔ وہ یہ ہے کہ اطاعت نہ کرنے میں یہ احساس بھی مرجائے کہ میں نے اطاعت نہ کر کے کوئی جرم کیا ہے ‘ بلکہ بڑے سے بڑے جرم کو بھی آنحضرت کے ارشاد کے مطابق یوں سمجھا جائے کہ ایک مکھی تھی جو چہرے پر بیٹھی اور اڑ گئی جبکہ ایک مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو یوں محسوس کرتا ہے جیسے پہاڑ اس کے سر پر گرگیا ہو۔ معصیت اور اس کے احساس کا مٹ جانا یہ بجائے خود بہت بڑی محرومی کی علامتیں ہیں۔ لیکن ایسی صورت حال میں اگر اس قوم یا اس معاشرے میں خیر کی دعوت دینے والے نیکی کی طرف بلانے والے اور برائی سے روکنے والے لوگ موجود رہیں اور وہ اپنا فرض انجام دیتے رہیں ‘ اس کے نتیجے میں کسی نہ کسی حد تک قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ رہتا ہے ‘ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بگڑے ہوئے افراد کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں ملتا اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملے میں تساہل شروع کر دے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کی بجائے انھیں سوسائٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دے اور خیر کی طرف بلانے والے لوگ اشرار کے خوف سے گھر میں چھپ کے بیٹھ جائیں تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدود ہوتی ہے ‘ پوری قوم میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب قوم قبولیتِ حق کی استعداد سے محروم ہوجاتی ہے اور پھر برائی کا احساس آہستہ آہستہ دم توڑ جاتا ہے۔ اب اگر برائی کی طرف سے روکنے کی کوشش بھی کی جائے تو لوگ اسے دیوانگی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں یہی صورت حال پیدا ہوئی جس کا اس آیت کریمہ میں تذکرہ کیا جا رہا ہے -
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

جس برائی کو اختیار کرلیتے ‘ اس سے باز نہ آتے۔ نہایت ہی بری بات تھی ‘ جو یہ کرتے تھے

کَانُوْا لاَ یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہٗ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 79) ” جس برائی کو اختیار کرلیتے ‘ اس سے باز نہ آتے۔ نہایت ہی بری بات تھی ‘ جو یہ کرتے تھے “۔ 3 لاَ یَتَنَاھَوْنَ کے دو معنی ہیں ایک معنی تو یہ ہے کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو برائی کرنے سے روکتے نہیں تھے۔ گویا ان کے اندر تبلیغ و دعوت کا سلسلہ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جذبہ نہ صرف کہ سرد ہوگیا تھا بلکہ مرگیا تھا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس قوم کا اجتماعی مزاج یہ بن گیا تھا کہ اگر انھیں کسی برائی سے روکا جاتا تھا تو برائی سے رکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ ظاہر ہے یہ دوسرا رویہ پہلے رویے کا منطقی نتیجہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث پاک میں ان دونوں باتوں کی طرف توجہ دلائی۔ آپ نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ” بنی اسرائیل میں جب شروع شروع میں برائی کا آغاز ہوا تو ایک ایسی تعدادا ان میں موجود تھی جو انھیں اس برائی کے ارتکاب سے روکتی تھی۔ لیکن ان سے الگ نہیں ہوتی تھی ‘ بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں روک دینے سے ہمارا فرض مکمل ہوگیا ‘ اب اگر وہ نہیں رکتے تو وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ لیکن جہاں تک ہمارے تعلقات کا سوال ہے ‘ اس میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ چناچہ وہ اسی طرح ہم نوالہ و ہم پیالہ اور باہم شیرو شکر رہتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ برائی کا ارتکاب کرنے والوں کے اثرات روکنے والوں کے دلوں پر بھی پڑنے لگے۔ ان کے اندر سے برائی تو کیا ختم ہونا تھی ‘ ان نیک لوگوں کے اندر سے بھی نیکی کی عصبیت ختم ہوگئی۔ آخر جب اللہ کا عذاب آیا تو اس نے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا “۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ہمیں اپنی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کے لیے جو اصول دیئے ہیں ان میں اس بات کو بےحد اہمیت حاصل ہے کہ تم اپنی نیکی پر اس وقت تک قائم رہو گے ‘ جب تک تم خیر کی دعوت دیتے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض انجام دیتے رہو گے۔ جب تم دیکھو کہ کسی گروہ پر تمہاری کاوشیں بےنتیجہ ہو رہی ہیں اور وہ خیر کی طرف آنے کے لیے قطعاً تیار نہیں تو پھر تمہارے لیے لازم ہے کہ تم ایسے لوگوں سے ترک تعلق کردو۔ چناچہ یہی وجہ ہے کہ دعائے قنوت میں ہمیں اس عہد کو بار بار دہرانے کا حکم دیا ہے ‘ تاکہ اسے یاد رکھنے میں ہمیں آسانی رہے۔ وہ عہد یہ ہے : وَ نَخْلَعُ وَ نَتْرُکُ مَنْ یَفْجُرُکَ ( ’ ہم بائیکاٹ کردیں گے اور ترک تعلق کردیں گے اس آدمی سے جو تیرا قانون توڑے گا اور تیری نافرمانی کرے گا) حاصل کلام یہ کہ بنی اسرائیل پر لعنت کے اسباب تین تھے : 1 اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی۔ 2 نافرمانی میں حد سے گزر جانا۔ 3 ایک دوسرے کو برائی سے نہ روکنا اور اگر روکا جائے تو رکنے سے انکار کردینا۔ اللہ فرماتا ہے کس قدر برے تھے وہ کرتوت ‘ جو یہ لوگ کرتے تھے۔ کہیں خدانخواستہ ہم بھی اللہ کی لعنت کی طرف تو نہیں بڑھ رہے بنی اسرائیل اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ قرآن کریم نے ان کے واقعات کا تذکرہ کر کے ہمارے لیے نصیحت و عبرت کا سامان بہم پہنچایا۔ یہاں رک کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا یہ تینوں برائیاں اس امت میں موجود تو نہیں۔ کہیں ہم بھی اللہ کی نافرمانی تو نہیں کرتے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نافرمانی میں ہم بھی حد سے گزر چکے ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم کسی برائی کا ارتکاب کر رہے ہیں تو اس میں ہمارا رویہ یہ ہوگیا ہے کہ جو ہمیں اس سے روکتا ہے ‘ ہم اس کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن اس سے رکنے کا کبھی نام نہیں لیتے ؟ اگر امت کی اجتماعی حالت دیکھی جائے اور اپنے اجتماعی اداروں بالخصوص احتسابی اداروں ‘ عدالتوں اور ایوان ہائے حکومت کے طرز عمل کو سامنے رکھا جائے تو یہ دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے کہ یہ تینوں بیماریاں بہت حد تک ہم میں در آئی ہیں اور سود کے مسئلے میں تو ہمارا نظام حکومت اور نظام عدالت بالکل عریاں ہو کر سامنے آگیا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف بنی اسرائیل ہی کے بارے میں نہیں بلکہ اپنے بارے میں سوچنا ہے کہ اگر ہم نے اپنا فرض نہ پہچانا تو کہیں اس لعنت کا رخ ہماری طرف تو نہیں ہوجائے گا۔ انسان کا ذوق اس کے اعمال کا سرچشمہ ہوتا ہے یہود کی بنیادی بداعمالیوں اور ان کے مجموعی رویے کا ذکر تفصیل سے ہم پڑھ چکے ہیں۔ اگلی آیت میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی زندگی میں جس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے یا قومیں اپنی اجتماعی زندگی میں جو معمول اپنا لیتی ہیں ‘ آہستہ آہستہ اس کے نتیجے میں ایک مزاج اور ذوق پیدا ہوتا ہے جو ان کی زندگیوں کے تمام اعمال اور باہمی معاملات پر نہ صرف ہے کہ اثر انداز ہوتا ہے بلکہ تمام اعمال کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ فرد یا قوم کے لوگ اعمال کرنے میں اپنی عقل یا اپنے اعتقادات کو بہت کم استعمال کرتے ہیں بلکہ ان کے تمام تر اعمال ان کے مزاج اور ذوق کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور اسی ذوق کے آئینہ دار بھی ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت ہم ایک فرد کے عام طرز زندگی میں بھی دیکھتے ہیں اور کسی بھی قوم کے مجموعی رویے میں بھی۔ آپ کسی بھی ایسی قوم کا مطالعہ کریں جو بیشک اپنی دنیوی زندگی میں نہایت پسماندگی کی علامت ہو اور انھیں اپنی زندگی کی ضروریات میں نہایت خست سے کام لینا پڑتا ہو اور لوگ انھیں کسی طور بھی قابل ذکر نہ سمجھتے ہوں۔ لیکن اگر انھوں نے کبھی غلامی کی زندگی اختیار نہیں کی اور ہمیشہ آزادی ان کے اجتماعی طرز عمل کا جوہر رہی ہے تو آپ ان سے مل کے دیکھئے ‘ آپ ان کے ایک ایک فرد میں آزاد روی ‘ اولوالعزمی اور خود اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت محسوس کریں گے۔ وہ زندگی کی سب سے قیمتی متاع عزت اور غیرت کو قرار دیں گے ‘ وہ ایسے کسی بڑے سے بڑے دنیوی فائدے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے جس سے ان کی آزاد روی میں فرق آتا ہو۔ لیکن اس کے برعکس جو قومیں غلامی کا شکار ہوتی ہیں ان کے ہر ادنیٰ و اعلیٰ فرد میں حتی کہ ان کے اہل علم میں بھی اور دنیوی اعتبار سے ان کے بالا قامت لوگوں میں بھی اور انتہاء یہ کہ ان کے مشیخت اور تقدس کے دعوے داروں میں بھی ‘ آپ عزت اور غیرت کی خوشبو مشکل سے ہی سونگھ پائیں گے۔ برصغیر کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ جس قوم نے سید احمد شہید ‘ علمائے بنگال ‘ علمائے صادق پور اور ریشمی رومال جیسی تحریکوں کو جنم دیا۔ اس کے سجادہ نشین اور مذہبی پیشوا فاتح قوت کے سامنے کس طرح اپنی وفاداریاں بیچتے رہے اور کس طرح چشم فلک نے اس ملک کے جاگیرداروں کو اس فاتح قوم کے معمولی عہدیداروں کے سامنے سر جھکاتے اور ذلت کی تصویر بنے دیکھا اور وہ فاتح قوم جو ایک محدود تعداد میں یہاں آئی ‘ لیکن برصغیر میں بسنے والی کروڑوں افراد پر مشتمل قوم محض اس لیے ان کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی کہ ان کو مسلسل غلامی نے غیرت و حمیت سے محروم کر کے ایک نئے مزاج اور ذوق سے آشنا کیا ‘ جس نے ان سے عزت سے زندہ رہنے اور آزادی کو اپنے سب سے بڑا سرمایہ سمجھنے کی خوبو چھین لی اور وہ چیزیں ‘ جو کل تک ان کے لیے عزت و افتخار کی علامت تھیں ‘ وہ آہستہ آہستہ ناقابل توجہ ہوتی چلی گئیں۔ بقول اقبال : تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا کہ غلامی میں بدل جاتے ہیں قوموں کے ضمیر کسی بھی انسان کا اصلی جوہر جو اس کی انسانی قدروقیمت کی پاسبانی کرتا ہے۔ درحقیقت اس کا اپنا احساس ہے ‘ جس کو دل کی بیداری بھی کہا گیا ہے۔ جب تک یہ دل کی زندگی کی صورت زندہ رہتا ہے تو آدمی زندہ رہتا ہے اور جب یہ مرجاتا ہے تو آدمی اور اس کی ہر چیز مرجاتی ہے۔ اس لیے اقبال نے کہا ؎ اے دل زندہ کہیں تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی مثالیں بڑی بڑی حقیقتوں کے لیے عقدہ کشا ثابت ہوتی ہیں۔ ایسی ہی مثالوں میں ایک چھوٹا سا واقعہ سن لیجئے کہ میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دفتر کے باہر دو لڑکوں کے بولنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے کان لگائے تو ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ بھیٔ تم نے یہ اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے ‘ بال تمہارے الجھے ہوئے ہیں ‘ کپڑے تمہارے شکن آلود ہیں ‘ شیو تمہاری بڑھی ہوئی ہے ‘ آخر تم اپنا خیال کیوں نہیں کرتے ؟ دوسرے نے جواب دیا یار ! اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پہلے نے کہا فرق پڑتا ہے۔ دوسرے نے کہا ‘ کیا ؟ اس نے کہا۔ It looks very awkward (بہت برا لگتا ہے) میں سوچ میں پڑگیا کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ ایک چیز ایک آدمی کو بری نہیں لگتی۔ لیکن دوسرے کو بری لگتی ہے۔ آپ غور کریں گے تو یقینا آپ میرے ساتھ اتفاق کریں گے کہ دونوں میں فرق جمالیاتی ذوق کا ہے۔ جس میں جمالیاتی ذوق ہے ‘ وہ اس بےترتیبی کو ناگوار سمجھتا ہے اور جس میں جمالیاتی ذوق کی کمی ہے ‘ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہنا یہ ہے کہ افراد اور قوموں کی زندگی میں سب سے موثر عامل جو ان کی زندگی میں رہنما ثابت ہوتا ہے ‘ وہ ان کا مزاج اور ذوق ہے اور یہ اچانک وجود میں نہیں آتا بلکہ اس کے پیچھے ہر صاحب ذوق کا اجتماعی رویہ کارفرما ہوتا ہے۔ ہم گزشتہ رکوع میں دیکھ چکے ہیں کہ یہود کا طرزعمل اسلام ‘ قرآن اور خود ذات رسالت مآب ﷺ کے ساتھ کیا ہے۔ ان کے اس طرز عمل نے ان کے اندر ایک خاص ذوق پیدا کیا۔ وہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز برداشت کرسکتے ہیں یا ہر ایک سے تعلق جوڑ سکتے ہیں۔ لیکن نہ وہ اسلام کو قبول کرسکتے ہیں اور نہ مسلمانوں سے کوئی تعلق رکھ سکتے ہیں۔ چناچہ اگلی آیات میں اسی حقیقت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تم ان میں سے بھتوں کو دیکھوگے کہ کفار کو اپنا دوست بناتے ہیں ‘ نہایت برا توشہ ہے ‘ جو انھوں نے اپنے لیے بھیجا کہ ان پر خدا کا غضب ہوا اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے بنے

تَرٰی کَثِیرًا مِّنْھُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ وَ فِیْ الْعَذَابِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ ۔ (المائدہ : 80) ” تم ان میں سے بہتوں کو دیکھوگے کہ کفار کو اپنا دوست بناتے ہیں ‘ نہایت برا توشہ ہے ‘ جو انھوں نے اپنے لیے بھیجا کہ خدا کا ان پر غضب ہوا اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے بنے۔ جب کوئی حامل مذہب قوم لا مذہب کو دوست بنا لے یعنی ان کی زندگی کے طرز عمل نے ان میں جو ذوق پیدا کیا اور جس طرح کا مزاج ڈھالا اس کا نتیجہ ہے کہ وہ کافروں سے پیار کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اگرچہ وہ دعوے دار تو ہمیشہ مذہب کے رہے ‘ لیکن زندگی کا رویہ ہمیشہ مذہب سے بغاوت پر مبنی رہا۔ اس سے جو ذوق تشکیل پایا ‘ اس میں مذہب سے تعلق اور خدا پرستی کا جذبہ کہاں سے آئے گا۔ اس کے نتیجے میں یقینا ان کو وہ لوگ اچھے لگیں گے جو مذہب کے منکر اور خدا کے باغی ہیں اس لیے کہ انسانی فطرت ہے کہ ایک پڑھا لکھا آدمی ہمیشہ پڑھے لکھے سے دوستی کرتا ہے ‘ ایک مہذب آدمی اپنے رفاقت کے لیے کوئی مہذب آدمی چنتا ہے ‘ ایک عالم فاضل شخص کسی جاہل کی دوستی سے کبھی خوش نہیں رہ سکتا ‘ ایک نیک آدمی برے کی صحبت سے بچتا ہے اور اپنے جیسے آدمی کو ہم نشینی کے لیے تلاش کرتا ہے حتیٰ کہ ہم جانوروں تک میں دیکھتے ہیں کہ ہر جانور اپنے ہم جنسوں میں خوش ہوتا ہے اور ناجنسوں کے قریب نہیں جاتا ؎ کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز یہی حال قوموں کا بھی ہے۔ وہ بھی ہمیشہ اپنے ہم جنسوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہیں اور جب کبھی یہ نظر آئے کہ کوئی حامل مذہب قوم لامذہب لوگوں سے دوستی کا تعلق پیدا کر رہی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ حامل مذہب قوم مذہب سے بغاوت اختیار کر کے اپنے اندر لامذہب لوگوں جیسا ذوق پیدا کرچکی ہے۔ اس لیے ہم یہود کو دیکھتے ہیں کہ ان کے ذوق اور مزاج کے بگاڑ کی انتہا یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار مکہ کو ترجیح دیتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ اس سے ان کی ذہنی پستی کا اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اعتقادی اور عملی بگاڑ نے ان کے ذوق کو کس حد تک پست کردیا تھا۔ چناچہ سورة النساء میں پروردگار نے ان کی اس حالت پر اظہار تعجب بھی فرمایا ہے اور ان کی اس حرکت کی بناء پر ان پر لعنت بھی کی ہے : اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھٰٓؤُلآَئِ اَھْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً ۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللہ ُ ط وَمَنْ یَّلْعَنِ اللہ ُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ نَصِیْرًا۔ (النساء 4: 51-52) (کیا تم نے ان کو نہیں دیکھا ‘ جن کو کتاب الٰہی کا ایک حصہ ملا اور وہ جبت اور طاغوت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ایمان لانے والوں سے زیادہ ہدایت پر ہیں ؟ یہی ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر اللہ لعنت کر دے تو ان کا تم کوئی مددگار نہیں پاسکتے) یہود کے مجموعی رویے نے ان کے اندر یہ مزاج پیدا کیا کہ ان کو مسلمانوں کی بجائے وہ کافر اور مشرکین اچھے لگتے تھے جو سرے سے مذہب ہی کے منکر تھے۔ نہ آخرت پر یقین رکھتے تھے اور نہ کسی نبی اور رسول کے قائل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اور یہود میں زندگی کے اساسی عقائد اور مسلمات کے حوالے سے کوئی ایک چیز بھی مشترک نہیں تھی ‘ سوائے اس کے کہ دونوں میں اللہ کے احکام سے بغاوت کا جذبہ یکساں تھا۔ آج ہم مسلمان بفضلہ تعالیٰ ایمان بھی رکھتے ہیں اور اسلامی شریعت کے ساتھ تعلق کا ہمیں بھی دعویٰ ہے لیکن اس کے باوجود ہم پورے عالم اسلام میں اس بیماری کو رواں دواں دیکھ رہے ہیں ‘ جس کا ابھی یہود کے مزاج کے حوالے سے تذکرہ ہوا کہ جس طرح ان کی دوستیاں کافروں کے ساتھ تھیں باوجود اس کے کہ یہ اس دور کے مسلمان تھے۔ آج ہم مسلمان ہیں ‘ اپنے پاس ایک دین رکھتے ہیں اور شہادتِ حق کی ذمہ داری ہم پر عائد کی گئی ہے۔ لیکن ہماری دوستیاں اور ہماری محبتیں مسلمانوں سے کم ‘ غیر مسلموں سے زیادہ ہیں۔ اسلامی اخوت کو معمولی ذاتی اور ملکی مفاد پر قربان کرتے ہوئے ہمیں کبھی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ کسی بھی مسلمان ملک کے خارجی تعلقات اور تجارتی معاہدوں کو دیکھ لیجئے ‘ مسلمان ملکوں سے کم ہوں گے اور غیر مسلم ممالک سے زیادہ۔ مشرق وسطیٰ ہی کے ممالک کو دیکھ لیجئے۔ وہ ہمارے ساتھ اخوت اسلامی میں شریک ہیں ‘ وہ خوب جانتے ہیں کہ کشمیر میں ہندوستان کس حد تک مظالم توڑ چکا ہے اور پاکستان کو ہندوستان سے تین جنگیں لڑنی پڑی ہیں اور بین الاقوامی معاملات میں اس نے کبھی نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ باایں ہمہ ! پورے عرب ممالک تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہندوستان کو پاکستان پر ہمیشہ ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے تجارتی روابط اور معاہدے پاکستان کی نسبت ہندوستان سے زیادہ ہیں اور سیاسی اور سفارتی تعلقات پاکستان کی نسبت ہندوستان سے زیادہ گہرے ہیں۔ کسی ملک کا نام لینا مناسب معلوم نہیں ہوتا ورنہ ایک ایک ملک کے تعلقات کی نوعیت کو دیکھ لیجئے ‘ آپ کو تعجب ہوگا کہ یا اللہ ! ہندوستان کے ساتھ آخر ان کی قدرمشترک کیا ہے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں عالم اسلام میں یہود جیسا ذوق اور مزاج پیدا تو نہیں ہوگیا۔ اس سے آگے بڑھ کر میں تو خود پاکستان کے بارے میں متفکر ہوں کہ ہمارا بالائی طبقہ ‘ اپنے دل و دماغ کے رشتے خود اپنے ملک کی نسبت مغربی ملکوں سے زیادہ محسوس کرتا ہے اور اپنے مفادات کو مغربی ملکوں میں زیادہ محفوظ سمجھتا ہے۔ یہ ایک مستقل وجہ پریشانی ہے ‘ مجھے نہیں معلوم آپ اس کو کیسا دیکھتے ہیں ‘ میرا حال تو یہ ہے کہ : پریشاں ہوں مرے دل کی پریشانی نہیں جاتی بڑی مدت ہوئی اس گھر کی ویرانی نہیں جاتی اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں فرمایا گیا ہے : لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ وَفِی الْعَذَابِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ (نہایت برا توشہ ہے جو انھوں نے اپنے لیے بھیجا ہے کہ خدا کا ان پر غضب ہوا اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے بنے) افراد یا قومیں ‘ وہ جو کچھ یہاں کرتی ہیں ‘ اس کے نتائج کچھ یہاں بھی انھیں بھگتنے پڑتے ہیں ‘ لیکن اصل جزا و سزا کا معاملہ تو آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ یہاں آدمی اعمال کی صورت میں جو کچھ کرتا ہے ‘ وہ آخرت کے سفر کے لیے توشہ تیار کرتا ہے اور یہی زاد سفر ہے ‘ جسے اس کو ساتھ لے کر جانا ہے۔ اسی سے اسے سفر میں آسانی ہوگی اور اسی سے اس کے انجام کا تعین ہوگا۔ اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ان نادانوں نے اپنے لیے جو توشہ بھیجا ہے ‘ ان کو اندازہ نہیں کہ وہ توشہ ایسا ہے ‘ جس نے اللہ کے غضب کو دعوت دی ہے کیونکہ افراد اور اقوام کے انفرادی اعمال سے بعض دفعہ صرف نظر بھی کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اعمال اس قوم کا اجتماعی رویہ بن جائیں اور مزید یہ کہ ان اعمال کا تعلق اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کی صورت میں نکلے تو یہ وہ خطرناک رویہ ہے ‘ جس سے اللہ کا غضب بھڑکتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ کے ساتھ تعلق کا کم سے کم تقاضہ یہ تو ہونا چاہیے کہ آدمی اپنے اللہ سے جو وفا کا رشتہ رکھتا ہے ‘ اسے ٹوٹنے نہ دے۔ لیکن اگر انتہا یہ ہوجائے کہ وہ اللہ کے مقابل میں اس کے باغیوں اور دشمنوں سے جاکر رشتہ محبت قائم کرلے تو یہ ایسا خطرناک اقدام ہے جس کو پروردگار کبھی معاف نہیں فرماتے۔ اس لیے یہود کے اس رویے نے ان پر اللہ کے غضب کو بھڑکایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ فرماتا ہے کہ اب یہ لوگ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے کیونکہ انھوں نے ہم سے تعلق توڑ کر ہماری مغفرت اور رحمت سے تعلق توڑ لیا ہے اور ہمارے دشمنوں سے تعلق جوڑ کر انھوں نے عذاب سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان کے اپنے اختیار کردہ رشتے کے نتیجے میں ‘ یہ ہمیشہ عذاب میں ڈال دیئے جائیں گے۔ اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے پروردگار نے ان کی دکھتی ہوئی رگ کو چھیڑا ہے کہ ان ظالموں نے یہ جو رویہ اختیار کیا ہے ‘ جو ان کے مجموعی مزاج کا آئینہ دار ہے۔ یہ اچانک پیدا نہیں ہوگیا بلکہ اس کے ڈانڈے تاریخ کے ان ادوار سے ملتے ہیں جس پر انھیں بڑاناز ہے اور جس کے حوالے سے ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ہم ہی تو ہیں جو آج بھی توحید کے علمبردار ہیں ‘ رسالت کو مانتے ہیں ‘ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور پوری دنیا کی امامت و سیادت کے منصب پر صدیوں سے ہم فائز ہیں اس لیے ہم جیسا کون ہوسکتا ہے ؟ اس لیے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور آدمی کے اندر کا اعتقاد اس کے عمل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تم اگر واقعی اپنے دعوے میں سچے ہو تو پھر تمہارا تعلق اسلامی قوتوں کو چھوڑ کر کافر قوتوں کے ساتھ کیوں۔ اس لیے کہ نبی کا ماننے والا ‘ نبی کے منکر سے تو کبھی رشتہ نہیں رکھ سکتا۔ اللہ کا پرستار اللہ کے سامنے سر نہ جھکانے والے سے کیسے محبت رکھ سکتا ہے ؟ اور ان دونوں کے درمیان آخر فکری ہم آہنگی کی کیا صورت ہوسکتی ہے ؟ اسی طرح جو آدمی اللہ کی کتاب اور اس کی نازل کردہ شریعت پر ایمان رکھتا ہے ‘ وہ کتاب اور شریعت کے انکار کرنے والے کے ساتھ محبت و اخوت کی پینگیں کیسے بڑھا سکتا ہے ؟ جس طرح تاریخ کے دو باب کبھی اکٹھے نہیں ہوسکتے ‘ جس طرح اندھیرا اور اجالا یکساں نہیں ہوسکتا اور جس طرح زمین و آسمان ہم آغوش نہیں ہوسکتے ‘ اسی طرح صاحب ایمان اور بےایمان میں ‘ خدا پرست اور خدا کے منکر میں ‘ نبی کے ماننے والے اور اسکے انکار کرنے والے میں بھی کوئی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے تم جن ادوار پر فخر کرتے ہو کہ تم اللہ کے نبی پر ایمان رکھتے تھے اور اللہ کو مانتے تھے ‘ اگر اس میں واقعی کوئی حقیقت ہے تو پھر تمہارے آج کے طرز عمل کی کیا توجیہہ ہوسکتی ہے اس لیے ارشاد فرمایا :
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر یہ اللہ پر ‘ نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اتارا گیا ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کفار کو دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے تو اکثر نافرمان ہیں

وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِ وَالنَّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآئَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 81) ” اور اگر یہ اللہ پر ‘ نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف اترا ‘ ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کفار کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں سے تو اکثر نافرمان ہیں۔ اس آیت کریمہ میں نبی سے مراد ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں “ اور مَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ سے مراد ” تورات “ ہے یعنی ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے ہیں اور تورات کو بھی مانتے ہیں۔ گویا یہ مذہب سے قدیمی تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور ان پر نازل کردہ شریعت کے متبع ہیں۔ اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ان کا آج کا طرز عمل بلکہ ان کا مجموعی مزاج جو انھیں کافروں اور مشرکین مکہ سے جوڑتا ہے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے قریب نہیں آنے دیتا ‘ یہ آخر کس بات کا غماز ہے ؟ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ایمان و عمل کے سارے دعوے سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اگر ان میں کوئی صداقت ہوتی تو انھیں تو آگے بڑھ کر اسلام کا علمبردار ہونا چاہیے تھا کیونکہ ان کی کتابوں میں نبی آخر الزمان ﷺ کی علامات اور ان کی تشریف آوری کا تذکرہ ہے۔ قرآن کی خصوصیات تک کا ذکر کیا گیا ہے اور مزید یہ کہ اپنی کتابوں کے علم کی وجہ سے ان کے اہل علم خوب جانتے ہیں کہ سچے نبی کی علامتیں کیا ہوتی ہیں اور اس کا اسلوب دعوت کیا ہوتا ہے۔ اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کی پہچان میں کبھی غلطی نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود ان کا آنحضرت ﷺ کو تسلیم نہ کرنا اور مسلمانوں کی بجائے غیر مسلموں سے دوستی کا تعلق رکھنا ‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ( ان میں زیادہ تر لوگ فاسق (یعنی اللہ کے باغی) ہیں) اس لیے ان کے ایمان و عمل کے دعوے اور نبی اور کتاب کے تذکرے ‘ یہ سب بےکار ہیں۔ اس لیے کہ ان کا ماننا ‘ صرف زبان سے ماننا ہے ‘ حقیقت میں ان کی اکثریت ہمیشہ باغیوں پر مشتمل رہی ہے اور ان کے تاریخی تعامل نے اب ان کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ یہ مسلمانوں کی بجائے غیر مسلموں سے دوستی کا تعلق رکھنا پسند کرتے ہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے ساتھ تمام دنیا کی قوموں سے بڑھ کر دشمنی کا تعلق رکھتے ہیں۔ اب گلہ یہ نہیں کہ یہ مسلمانوں سے دوستی کیوں نہیں رکھتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔