Ayah 5:94تمہید
پیشتر ازیں ہم یہ بات کسی حد تک واضح کرچکے ہیں کہ سورة المائدہ کے چند امتیازی پہلو ہیں ‘ جو اسے قرآن کریم کی باقی سورتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔
1 سب سے زیادہ احکام ‘ بالخصوص حلت و حرمت کے بارے میں ‘ اسی سورة میں نازل کیے گئے ہیں۔
2 بعض ایسے احکام جو بعض دوسری سورتوں میں بھی ذکر کیے گئے تھے ‘ انھیں تکمیلی شان اسی سورة میں بیان کردہ احکام سے ملی ہے اور ان احکام کی تکمیل کرتے ہوئے ‘ بعض دفعہ احکام کی حکمتیں بھی واضح کردی گئی ہیں۔
3 دوسری سورتوں اور خود سورة المائدہ میں بیان کردہ احکام کے حوالے سے جو بعض سوالات پیدا ہوئے یا جو پیدا ہوسکتے تھے ‘ اس سورة کے آخر میں تفصیل سے ان کا جواب دیا گیا ہے۔
4 احکام کے علاوہ بعض ایسے انسانی خصائص پر گفتگو کی گئی ہے ‘ جن میں ذرا سی خرابی بھی انسان کو اس حد تک بگاڑ دیتی ہے کہ وہ احکام الٰہی کی پیروی کرنے کے قابل نہیں رہتا بلکہ اس میں چور دروازے تلاش کرتا ہے۔
یہ چاروں باتیں جو سورة المائدہ کا اختصاصی پہلو ہیں ‘ ان پر چلنا اس وقت تک آسان نہیں ‘ جب تک مسلمانوں کو ایسے مراحل سے نہ گزارا جائے جس کے نتیجے میں ان کے سیرت و کردار میں ایسی پختگی پیدا ہوجائے ‘ جو انھیں کسی وقت بھی اللہ کے احکام کی تعمیل سے اور پروردگار کے ساتھ اپنے بنیادی رشتے سے منحرف نہ ہونے دے۔ چناچہ آج ہم جس رکوع کا آغاز کر رہے ہیں ‘ اس میں جہاں سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں اور بعض احکام کو تکمیلی شان عطا کی گئی ہے ‘ وہیں ان احکام کے سلسلے میں سیرت و کردار کی پختگی کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے ‘ اس کی طرف بتمام و کمال توجہ دلائی گئی ہے۔ چناچہ اس رکوع کی پہلی ہی آیت میں ایسی ہی دو بنیادی ضرورتوں کو واضح فرمایا گیا ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللہ ُ بِشَیْئٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللہ ُ مَنْ یَّخَافُہٗ بِالْغَیْبِج فَمَنِ اعْتدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابُٗ اَلِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 4)
” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری کسی ایسے شکار سے آزمائش کرے گا ‘ جو تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں آجائے گا تاکہ اللہ دیکھ لے کہ کون اس سے غیب میں ڈرتا ہے اور جس نے اس کے بعد حدود سے تجاوز کیا تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے “۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چند حقائق منکشف فرمائے ہیں جو انسانی سیرت و کردار یعنی تقویٰ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ ان کے بغیر انسانی سیرت و کردار کی تعمیر اولاً تو ہو نہیں سکتی اور اگر کسی حد تک ہو بھی جائے تو وہ دیر پا ثابت نہیں ہوتی۔ اس میں سب سے پہلی بات جس کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ تمہاری سیرت و کردار کی تعمیر اور تمہارے اندر تقویٰ پیدا کرنے اور اس کو مستحکم بنانے کے لیے جو بات انتہائی ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تمہیں آزمائش کے مرحلے سے گزارا جائے کیونکہ دنیا میں یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی آدمی کسی نظریے یا شخصیت سے وابستگی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کی اس وابستگی کے دعوے کو ضرور آزمایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ اگر دعوے کی آزمائش نہ ہو تو پھر تو دنیا میں دعویٰ کرنے والوں کے سچے یا جھوٹے ہونے کی کوئی کسوٹی باقی نہ رہ جائے اور یہ دعویٰ چاہے معمولی درجے کا ہو یا آخری درجے کا ‘ یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کا امتحان نہ کیا جائے۔ وہ چیز جسے میں یہاں وابستگی کا نام دے رہا ہوں ‘ اسی کو ہماری زبان میں محبت کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی کسی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ اس محبت کو آزمائش کی کٹھالی سے نہ گزرنا پڑے۔ بقول شاعر ؎
محبت کے مقدر میں کہاں آرام ہے ہمدم
کہیں شعلہ ‘ کہیں بجلی ‘ کہیں سیماب ہوتی ہے
اس لیے قرآن کریم میں سورة العنکبوت میں واضح طور پر ارشاد فرمایا : ” کیا لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ وہ جب ایمان کا دعویٰ کریں گے تو ہم انھیں آزمائش میں نہیں ڈالیں گے ‘ ہم نے تو انھیں بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں (اور اب مسلمانوں کو بھی آزمائیں گے) “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وابستگی اور محبت کے دعوے داروں کے لیے دنیا کے عام دستور اور الہامی زبان دونوں میں آزمائش ضروری ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔
دوسری بات جو ہمیں قرآن کریم سے معلوم ہوتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اس طرح کی آزمائشیں دو حوالوں سے ضروری ہوتی ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ کسی سے وابستگی اور محبت کا دعویٰ کرنا ‘ یہ تو کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن یہ جاننا کہ کون اپنے دعوے میں سچا ہے اور کون جھوٹا ‘ اس کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے ‘ جب آزمائش کا مرحلہ پیش آتا ہے۔ جس طرح خالص سونے کی پہچان اس وقت ہوتی ہے ‘ جب اسے بھٹی میں تپایا جاتا ہے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ اس میں خالص سونا کتنا ہے اور کھوٹ کتنا۔ انسانی سیرت و کردار، عقیدہ اور ایمان کا معاملہ سونے سے بھی زیادہ نازک ہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ان میں سچے جھوٹے اور کھرے کھوٹے کی پہچان کے لیے انھیں آزمائشوں سے نہ گزارا جائے۔
دوسری بات یہ کہ انسانی سیرت و کردار کی پختگی اور اسے جلا دینے کے لیے آزمائشوں کے مراحل انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ بعض لوگ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں ‘ لیکن جب تک ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا اور کٹھن مراحل سے گزار کر ان کی صلاحیتوں کو جلا پانے کا موقع نہیں ملتا اس وقت تک ان کی غیر معمولی صلاحیتیں کبھی ابھر کر سامنے نہیں آتیں بلکہ رفتہ رفتہ دم توڑ دیتی ہیں۔ ایک آدمی جو کبھی پانی میں نہیں اترا ‘ آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ وہ تیراک بنے تو ضروری ہے کہ آپ اسے پانی میں دھکا دے دیں۔ جس آدمی کے بارے میں یہ خواہش ہو کہ وہ تیز دوڑنے لگے تو ضروری ہے کہ آپ روزانہ اسے تیز دوڑنے پر مجبور کریں۔ آہستہ آہستہ اس کے اعصاب اس قابل ہوتے جائیں گے کہ اس کے لیے تیز دوڑنا کوئی مشکل نہیں رہے گا۔ جن لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ عام لوگوں کی نسبت زیادہ بوجھ اٹھا لیتے ہیں ‘ اگر ہم ان کی صلاحیت پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ صلاحیت مسلسل بوجھ اٹھانے اور اپنے آپ کو اس مشقت میں مبتلا کرنے سے ان کے اندر پیدا ہوئی۔ مختصر یہ کہ انسانی وابستگیوں کے حوالے سے مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا ‘ یہ غلط لوگوں کے لیے تو سزا ہوسکتی ہے ‘ لیکن فرمانبرداروں کے لیے ان کے جذبہ عبودیت و سرفروشی کو جلا دینے کی انتہائی حکیمانہ کاوش ہے ‘ جس کے بغیر ان بنیادی جذبوں میں مطلوب پختگی ‘ جسے ہم تقویٰ کا نام دیتے ہیں ‘ کبھی پیدا نہیں ہوتی۔
جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو ہمیشہ ان مراحل سے گزارا گیا ہے۔ وہ جب بھی سعادت مندی کے ساتھ ان مراحل سے گزرنے میں کامیاب ہوگئے تو دنیوی اور اخروی نعمتوں کا راستہ ان کے لیے کھل گیا اور جب جب انھوں نے اس میں کمزوری دکھائی تو اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔ قرآن کریم نے جابجا اس کی مثالیں ذکر کی ہیں۔ انہی میں سے ایک مثال جو اس آیت میں بیان کردہ آزمائش سے بہت ملتی جلتی ہے ‘ اسے سورة الاعراف کی آیت نمبر 163 میں بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ تھا جو ساحل سمندر کی کسی بستی میں آباد تھا۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو جب ہفتہ کے بارے میں خاص احکام دیئے کہ تم اس دن کا پوری طرح احترام بجا لائو گے اس میں سوائے اللہ کی عبادت کے اور کوئی دنیوی مصروفیت پیدا نہیں کرو گے۔ اس دن تمہارے چولہے تک نہیں جلیں گے ‘ بلکہ سارا دن تمہارا روزے اور عبادت میں گزرے گا اور پھر اس حوالے سے ان کی آزمائش کی گئی اور حکم دیا گیا کہ تم اس دن مچھلیاں نہیں پکڑو گے۔ ساحل بحر پر رہنے کی وجہ سے چونکہ مچھلیوں کا شکار ان کی گزر بسر کا سب سے بڑا ذریعہ تھا ‘ اس لیے اس پر عمل کرنا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ لیکن ایسا مشکل بھی نہیں تھا ‘ کیونکہ باقی ہفتے کے دنوں میں مچھلیاں پکڑ سکتے تھے اور دوسرا کاروبار بھی کرسکتے تھے۔ لیکن وہ چونکہ اپنے سیرت و کردار کو بگاڑ چکے تھے اس لیے اس امتحان میں پورے نہ اترے اور بری طرح ناکام ہو کر اللہ کے عذاب کے سزاوار ہوئے۔ پھر یہ بات بھی ایسی آزمائشوں میں نمایاں نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی نعمت سے کسی قوم کو آزماتے ہیں تو ان کی آزمائش کو مشکل بنانے کے لیے اس نعمت کو فراوانی سے ان کے دائیں بائیں مہیا کردیتے ہیں۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ قرآن کریم میں ہے :
اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْھِمْ حِیْتَانُھُمْ یَوْمَ سَبْتِھِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لاَ یَسْبِتُوْنَ لا لاَ تَاْتِیْھِمْ ج کَذٰلِکَ ج نَبْلُوْھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (اعراف 7: 163)
(اور یاد کرو ! جب کہ وہ سبت کے معاملے میں حدود الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے ‘ جب کہ ان کی مچھلیاں ان کے سبت کے دن منہ اٹھائے ہوئے نمودار ہوتی تھیں اور جب سبت کا دن نہ ہوتا تو مچھلیاں نمودار نہ ہوتیں۔ اسی طرح ہم ان کو آزمائش میں ڈالتے ہیں بوجہ اس کے کہ وہ ہماری نافرمانی کرتے تھے)
مسلمانوں کو بھی اسی طرح کی آزمائش سے دوچار کیا گیا اور کرم یہ فرمایا گیا کہ یہ بتادیا گیا کہ تمہیں اللہ تعالیٰ ایسے ایک شکار سے آزمائے گا اور وہ شکار اتنی فراوانی سے تمہارے دائیں بائیں ہوگا کہ تم چاہو تو آگے بڑھ کر اسے پکڑ سکو گے اور چاہو تو نیزوں سے شکار کرسکو گے۔ جس طرح بنی اسرائیل کی آزمائش میں قرآن کریم نے ہمیں بتایا کہ مچھلیاں سر اٹھائے ہوئے ان کی طرف آتی تھیں حالانکہ مچھلی ہمیشہ پانی میں ڈوب کے تیرتی ہے۔ لیکن وہ کشتی کی طرح سطح آب پر تیرتی ہوئی آتی تھی تاکہ ان کے شوق کو بڑھایا جائے اور آزمائش سخت کی جائے۔ یہاں بھی مسلمانوں کو اسی طرح آزمایا گیا اور مزید یہ کہ جس طرح بنی اسرائیل کی آزمائش ان کی ایسی غذا کے حوالے سے کی گئی جو ان کی ایک اہم ضرورت تھی۔ اس طرح مسلمانوں کو بھی حج کے سفر کے دوران صحرا سے گزرتے ہوئے ایک ایسی چیز سے آزمایا گیا جو ان کی سخت ضرورت تھی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ صحرائے عرب میں بہت کم ایسے علاقے ہیں ‘ جہاں کوئی چیز اگتی ہو۔ اس لیے ان کی گزربسر کا زیادہ تر دارومدار تجارت ‘ گلہ بانی یا پھر شکار پر تھا۔ حج کے سفر میں اگر ان کے پاس زاد سفر ختم ہوجاتا یا کم ہوجاتا تو راستے میں کسی چیز کا ملنا اگر ناممکن نہیں تو دشوار ضرور تھا۔ اب نہ تو ان کے لیے کوئی تجارت کا موقع تھا اور نہ گلہ بانی کا۔ ایک ہی صورت تھی ‘ جس سے ان کی معاشی ضرورتیں پوری ہوسکتی تھیں ‘ وہ شکار تھی۔ جب اس سے انھیں روک دیا گیا تو اندازہ ہوسکتا ہے کہ یہ کتنی شدید آزمائش تھی اور اس آزمائش کو مزید مشکل اس حوالے سے بنادیا گیا کہ جانوروں کی ڈاروں کی ڈاریں ‘ ان کے سامنے سے گزرنے لگیں۔ کتنے جانور تھے جو ان کے دائیں بائیں اچھلتے کودتے پھرتے تھے۔ لیکن وہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے بھی مجاز نہ تھے اور پھر بنی اسرائیل کی آزمائش تو ایک دن کے لیے تھی اور یہ تو جتنے دنوں حالت احرام میں رہتے اتنے ہی دنوں یہ آزمائش بھی جاری رہتی۔ لیکن چونکہ اس امت کو آخری امت کے طور پر ایک عظیم مقصد کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ‘ اس لیے ان کے ایمان و عمل کو جلا بخشنے اور ان کے تقویٰ میں گہرائی پیدا کرنے کے لیے انھیں ایسی آزمائشوں سے گزارنا بہت ضروری تھا تاکہ ان کے اندر وہ جوہر پیدا ہو سکے اور وہ حقیقی ملکہ ان کے اندر راسخ ہو سکے جو اصلاً زندگی کی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ اس کو بیان کرنے کے لیے ارشاد فرمایا : لِیَعْلَمَ اللہ ُ مَنْ یَّخَافُہٗ بِالْغَیْبِکہ مسلمانوں کو اس آزمائش میں ہم نے اس لیے ڈالا ہے تاکہ اللہ ممیز کر دے ان لوگوں کو جو اللہ سے غیب میں رہ کر ڈرتے ہیں ‘ ان لوگوں سے جو غیب میں اللہ کو بھول جاتے ہیں۔
اللہ پر ایمان کی کیفیت اور اس کے ثمرات
اللہ کو بن دیکھے ماننا ‘ اس کی صفات کا یقین رکھنا ‘ ہر وقت اس کی ذات کو مستحضر رکھنا ‘ اپنی تنہائیوں کو اس کی یاد سے آباد رکھنا ‘ اپنی ذات کو ہر وقت اس کی دسترس میں سمجھنا اور اپنے دل و دماغ کے خیالات تک کو اس کے علم کی گرفت میں جاننا ‘ یہ وہ تصورات ہیں جن کے نتیجے میں دل و دماغ میں وہ جوہر پیدا ہوتا ہے ‘ جو ایک مضبوط سیرت و کردار یعنی تقویٰ کو جنم دیتا ہے ‘ جس کے پیدا ہوجانے کے بعد شیطان کا کوئی حملہ کارگر نہیں ہوتا۔ ہوس کا بڑے سے بڑا بہلاوا بھی اپنا اثر پیدا کرنے سے عاجز رہتا ہے۔ انسان انتہائی عاجز ہوتے ہوئے بھی اس قدر مضبوط ہوجاتا ہے کہ نہ وہ بکتا ہے ‘ نہ جھکتا ہے۔ نہ وہ کبھی سرکشی کا راستہ اختیار کرتا ہے اور نہ کبھی معصیت کا کوئی چھینٹا اس کے دامن کو داغ دار کرسکتا ہے۔ اگر وہ بادشاہ بھی ہو تو تخت پر بیٹھ کر بھی فقیری کرتا ہے ‘ کیونکہ اسے یقین ہے کہ اس کا اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اگر وہ فقیر ہو تو قناعت اور خودداری کا ایسا پیکر ہوتا ہے کہ دیکھنے والے اس کے چہرے پر شاہوں کی بےنیازی دیکھتے ہیں ‘ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرا تعلق اس خالق کائنات سے ہے ‘ جو کائنات کے تمام خزانوں کا مالک ہے۔ قرون اولیٰ میں مسلمانوں میں جو نہایت خوبصورت سیرت و کردار اور اعلیٰ صفات دیکھتے ہیں ‘ ان کی وجہ صرف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تربیت نے اسلامی معاشرے کو جن مضبوط بنیادوں پر اٹھایا تھا ‘ ان میں سب سے مضبوط بنیاد یہی تصور تھا کہ ہم ہر وقت اللہ کے سامنے ہیں ‘ ہمارا ہر عمل اس کے علم میں ہے ‘ ہمارے تصورات اور خیالات تک سے وہ واقف ہے ‘ ہمارا کوئی عمل اس سے مخفی نہیں ‘ ایک دن اس کے سامنے پیش ہونا ہے ‘ وہ ہم سے ایک ایک بات ‘ ایک ایک عمل اور ایک ایک لمحے کا حساب لے گا ‘ اگر ہم نے کہیں بھی معصیت یا خیانت کا ارتکاب کیا ہوگا تو وہاں ہماری سخن سازی ہمیں بچا نہیں سکے گی ‘ ہمارا ایک ایک رونگٹا ہمارے خلاف یا ہمارے حق میں گواہی دے گا۔ اللہ کے ساتھ اس مضبوط رشتے نے انسان کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔
اصحابِ سیر لکھتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق ( رض) مسلمانوں کے احوال جاننے کے لیے دورے پر تھے کہ انھوں نے جنگل میں ایک چرواہے کو دیکھا ‘ جو بکریاں چرا رہا تھا۔ اس سے کہا : میں بھوکا ہوں ‘ مجھے کسی بکری کا دودھ پلائو۔ اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت میرے ریوڑ میں کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں۔ آپ نے کہا : تم کوئی بکری میرے پاس بیچ دو اور اسے ذبح کر کے مجھے کھلا دو اور مالک اگر تم سے پوچھے کہ بکری کہاں گئی تو اسے کہہ دینا کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ میری بھوک کا علاج ہوجائے گا اور تمہیں دام مل جائیں گے۔ اس نے یہ بات سن کر نہایت غصے سے حضرت عمرص کی طرف دیکھا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکلا :
فاین اللہ ایھا الرجل
(اے شخص ! پھر اللہ کہاں ہے ‘ اللہ کہاں گیا ؟ )
تم یہ سمجھتے ہو کہ مالک کو دھوکا دے کر میں اللہ کے عذاب سے بچ جاؤں گا ؟ مالک تو نہیں دیکھ رہا ‘ لیکن میرا اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ یہی وہ تصور ہے جو انسان کو گناہ سے بچاتا ہے اور ہمیشہ اسے راہ راست پہ چلنے کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی کو پروردگار فرما رہے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کو اس لیے آزمائش میں ڈالا کہ لوگوں کو معلوم تو ہو سکے کہ کون ان دیکھے خدا سے دیکھے بغیر ڈرتا ہے اور اس پر یقین رکھتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے بعد اس بات کو مکمل کرتے ہوئے فرمایا کہ جس آدمی یا جس قوم کو یہ دولت نصیب نہیں ہوتی کہ وہ آزمائشوں میں پڑ کر اپنے یقین اور ایمان کو مضبوط کرسکے کہ نہ دیکھتے ہوئے بھی اللہ کو کبھی نہ بھولے ‘ ایسی قوم اور ایسا فرد زندگی میں وہ رویہ اختیار کرتے ہیں ‘ جس پر صرف ان کی خواہشات کی چھاپ ہوتی ہے۔ وہ ہوس کے اسیر ہو کر حیوانی زندگی گزارتے ہیں اور انسانی رشتوں کو پامال کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان کے لیے عذاب الیم ہے۔
قوانین حلت و حرمت ہر دور اور ہر زمانے کے لیے ہیں
حلت و حرمت کے حوالے سے یہاں ایک اور فتنے کا ذکر کردینا شاید منفعت سے خالی نہ ہو۔ اگرچہ عام مسلمانوں کی اسلامی زندگی ابھی تک اس سے محفوظ ہے۔ لیکن بعض دانشور ایسے ہیں ‘ جو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے جھجک محسوس نہیں کرتے کہ اسلام میں حلت و حرمت کے تصور پر جو اس قدر زور دیا ہے کہ اس کی مخالفت کرنے والے کو عذاب الیم سے ڈرایا ہے ‘ وہ کوئی اسلام کا مستقل فلسفہ نہیں بلکہ ایک عارضی حکم تھا ‘ جس کی وجہ یہ تھی کہ عرب میں چونکہ اشیائے خوردنی کی بہت کمی تھی ‘ عرب کا بیشتر حصہ صحرا پر مشتمل تھا ‘ بارشیں بہت کم ہونے کی وجہ سے عموماً قحط سالی کا سماں رہتا تھا ‘ چند علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بھی زراعت کا نام تک نہیں تھا ‘ ایسی صورت حال میں مسلمان معاشرے کو جرائم سے بچانے اور بےاطمینانی کی کیفیت سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ ان پر کچھ چیزیں حرام کردی جاتیں تاکہ وہ ازخود بہت ساری چیزوں سے جب احتراز کریں گے تو تھوڑی چیزیں ان کی ضرورت کے لیے کفایت کر جائیں گی۔ اس طرح جزیرہ عرب کی معاشی پریشانیوں کا کسی حد تک علاج ہو سکے گا ‘ لیکن آج جبکہ خود جزیرہ عرب میں ہر طرح کی اشیائِ ضرورت کی فراوانی ہے اور دنیا بھر سے ضرورت کی چیزیں وہاں پہنچ رہی ہیں اور پوری دنیا سمٹ کر ایک دوسرے کے قریب آگئی ہے اور کسی بھی ملک سے کسی ضرورت کی چیز کا درآمد کرلینا کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا تو اب حلت و حرمت پر اتنا اصرار کرنا ‘ کوئی عقلمندی کی بات نہیں۔
ان دانشوروں کے ذہن میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دانش کے سوا اور سب کچھ ہے۔ اگر انھیں معمولی عقل و دانش بھی میسر ہوتی تو دو باتوں کا سمجھنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک یہ بات کہ اللہ کے احکام مستقل ہیں ‘ کسی خاص علاقے یا کسی خاص زمانے کے لیے نہیں۔ علاوہ ازیں پروردگار نے قرآن کریم میں اور نبی کریم ﷺ کی زبان سے بھی مسلمانوں کو یہ بات مکہ معظمہ ہی میں باور کرا دی تھی کہ تمہاری معاشی تنگ دستی اور سیاسی مغلوبیت کا یہ زمانہ کوئی طویل نہیں بلکہ اسلام کے غلبہ عمومی کا دور عنقریب شروع ہونے والا ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ تمہیں ایسی فارغ البالی عطا فرمائیں گے کہ تم زکوٰۃ کا مال جھولیوں میں ڈال کر نکلو گے اور تمہیں زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا۔ تعجب کی بات ہے کہ جن لوگوں کو معاشی فراوانی کی خوشخبریاں سنائی جا رہی ہیں ‘ کیا انہی لوگوں کو حلت و حرمت کے وقتی احکام دیئے جائیں گے ؟
دوسری یہ بات کہ ان دانشوروں کا اپنے پروردگار کے بارے میں نجانے کیا تصور ہے کہ اگر وہ اس طرح بعض چیزوں کی حرمت کے احکام نازل نہ کرتا تو لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی حالانکہ ایک معمولی آدمی بھی جانتا ہے کہ اللہ کے خزانے بیشمار اور بےپناہ ہیں ‘ جن میں قیامت تک کبھی کمی نہیں آئے گی۔ دنیا ظلم کے ذریعے بعض لوگوں کو بھوکا مرنے پر مجبور کر دے تو اور بات ہے ورنہ اللہ کے پیدا کردہ وسائل ہر دور میں اس کی مخلوق کی ضرورت سے زیادہ رہے ہیں نیز ہمارے پیش نظر تو صرف انسانی ضرورتیں ہیں ‘ اس کی مخلوقات تو بیشمار ہیں ‘ جن میں سے بیشتر کو ہم نہیں جانتے۔ وہ ہمارے ساتھ ساتھ ان کی ضرورتوں کو بھی پورا کرتا ہے ‘ پھر بھی اس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔ اسرائیلی روایات میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا سے منفرد حکومت عطا کی کہ ان کی رعایا میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات اور پرندے بھی شامل تھے اور بہت سارے عناصر قدرت پر انھیں اختیار عطا فرمایا گیا تھا تو انھوں نے اپنے وسیع اختیارات کو دیکھتے ہوئے پروردگار سے دعا کی کہ یا اللہ ! آپ نے مجھے اتنی بڑی حکومت عطا فرمائی ہے اور ایسے وسائل بخشے ہیں ‘ میں ان کے شکر کے طور پر یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن تیری ساری مخلوق کی دعوت کروں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سلیمان ! تم ایسا نہیں کرسکتے ‘ تمہارے وسائل اس کے لیے کافی نہیں۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بار بار التجا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی۔ کہا جاتا ہے کہ جنات نے دعوت کا اہتمام کیا۔ سینکڑوں میل لمبا دسترخوان بچھایا گیا۔ سہ پہر کے وقت سمندر سے ایک بہت بڑی مچھلی نے سر اٹھایا اور پوچھا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آج میری دعوت سلیمان کے یہاں ہے ‘ چناچہ اسے کھانا کھانے کی دعوت دی گئی۔ مچھلی باہر آئی اور وہ اس دسترخوان کی بیشتر نعمتیں چٹ کرگئی اور پھر کہنے لگی کہ اور بھی کچھ ہے ؟ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم ابھی سیر نہیں ہوئی ہو ؟ مچھلی نے کہا : کیا میزبان کی طرف سے مہمان کو ایسا جواب زیب دیتا ہے ؟ مجھے تو روزانہ اللہ کی جانب سے اتنا ہی رزق مہیا کیا جاتا ہے۔ اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) پروردگار کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور استغفار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا اللہ ! تو ہی رازق ہے ‘ تیرے ہی خزانے اس قابل ہیں کہ وہ تیری مخلوق کی ضرورت کے لیے کافی ہو سکیں۔ یہ ایک عام سی مثال سہی ‘ لیکن اس میں جو بات کہی گئی ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اس لیے یہاں حلت و حرمت کے حوالے سے جو کچھ کہا جا رہا ہے ‘ وہ اصلاً اس بات کا امتحان ہے کہ انسان اللہ کے احکام کی اطاعت میں کہاں تک مخلص ہے اور وہ بن دیکھے کہاں تک اس سے ڈرتا ہے۔
سورة المائدہ کے آغاز میں ‘ جانوروں کی حلت و حرمت کا ذکر کرتے ہوئے ‘ پروردگار نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ حالت احرام میں شکار کو حلال نہ سمجھنا۔ لیکن اس کی حرمت کے بارے میں نہ تو تاکیدی حکم دیا اور نہ تفصیلی مسائل بیان فرمائے اور نہ یہ بتایا کہ اگر کوئی آدمی اس جرم کا ارتکاب کر بیٹھے تو دنیا میں اس کی تلافی کی کیا صورت ہوگی اور آخرت میں وہ اس کی جواب دہی سے کس طرح بچ سکے گا۔ ابھی ہم نے جس آیت کریمہ کا مطالعہ کیا ہے ‘ اس میں بھی بطور آزمائش اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن صراحتاً ان باتوں میں سے کسی بات کا تذکرہ نہیں کیا۔ ظاہر ہے جب بھی کوئی آدمی سورة المائدہ کی پہلی آیت اور اس رکوع کی پہلی آیت کو پڑھے گا تو اس کے ذہن میں یقیناً تفصیلی احکام کے بارے میں سوالات پیدا ہوں گے ‘ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں انہی سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ :
Ayah 5:95یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًام بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِہٖ ط عَفَا اللہ ُ عَمَّا سَلَفَ ط وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللہ ُ مِنْہٗ ط وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔ (المائدہ : 95)
” اے ایمان والو ! حالت احرام میں شکار نہ کیجیو اور جو تم میں سے اس کو قصداً مارے گا تو اس کا بدلہ اسی طرح کا جانور ہے ‘ جیسا کہ اس نے مارا ہے ‘ جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر آدمی کریں گے یہ نیاز کی حیثیت سے خانہ کعبہ کو پہنچایا جائے۔ یا کفارہ دینا ہوگا مسکینوں کو کھانا یا اس کے برابر روزے رکھنے ہوں گے ‘ تاکہ وہ اپنے کیے کا وبال چکھے ‘ جو ہوچکا اللہ نے اسے درگزر کیا۔ لیکن جو کوئی پھر کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب اور انتقام والا ہے “۔
حالت احرام میں شکار کی ممانعت
اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے حالت احرام میں شکار کرنے کی ممانت فرمائی گئی ہے۔ لیکن اس میں دو باتوں کا جان لینا بہت ضروری ہے ‘ ورنہ اس حکم کے سمجھنے میں کوتاہی ہوگی۔ پہلی بات یہ کہ حالت احرام میں ہی شکار کرنا حرام نہیں بلکہ حرم کی حدود میں شکار کرنا بھی حرام ہے۔ حرم کی حدود میں آدمی احرام کی حالت میں ہو تب بھی شکار کرنا حرام ہے اور احرام کی حالت میں نہ ہو ‘ تب بھی شکار کرنا حرام ہے۔ دوسری بات جس کا جاننا ضروری ہے وہ یہ کہ شکار خواہ محرم خود کرے یا کسی دوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے ‘ دونوں باتیں حالت احرام میں منع ہیں۔ یعنی کوئی شکار سامنے سے گزر رہا ہو اور محرم خود تو شکار نہ کرے ‘ لیکن کسی دوسرے کو متوجہ کر کے کہہ دے یا اشارۃً کہہ دے ‘ کسی طرح بھی اگر اس شکار میں وہ اعانت کا مرتکب ہوگا تو گنہگار بھی ہوگا اور اس شکار کا گوشت کھانا اس کے لیے حرام بھی ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی اور آدمی محرم کی خاطر شکار کرے ‘ تب بھی اس کا کھانا محرم کے لیے جائز نہیں۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے محرم کو بھی تحفتاً کچھ دے دے تو اس کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ شکار نہ کرنے کے اس حکم سے موذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ مثلاً چوہا، سانپ ‘ بچھو ‘ باولا کتا ‘ کوا ‘ چیل یا کوئی بھی جانور جو حملہ کرنے کا عادی ہو ایسے تمام نقصان پہنچانے والے جانور حالت احرام میں بھی مارے جاسکتے ہیں۔
حالت احرام میں شکار کا کفارہ
دوسری بات جو اس آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت احرام میں ہونے کے باوجود عمداً اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کا کیا حکم ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ایسا شخص کفارہ ادا کرے۔ اس کی تین صورتیں ہیں : ایک یہ کہ جس طرح کا جانور اس نے شکار کیا ہے ‘ اسی قبیل کا جانور گھریلو چوپایوں میں سے کفارہ کے طور پر قربان کرے۔ اس میں البتہ علماء میں اختلاف ہے کہ ایسا گھریلو جانور جو شکار کے جانور کے مشابہہ ہو ‘ کفارے میں قربان کرنا ضروری ہے یا اس کی قیمت طے کرنے کے بعد کوئی جانور خرید کر ذبح کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ! یہ ضروری ہے کہ قیمت طے کی جائے یا پالتو جانوروں میں سے اس جیسا جانور لیا جائے ‘ اسے کعبہ شریف یعنی حرم کی حدود میں پہنچایا جائے۔ وہاں اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جانا چاہیے۔ جہاں تک جانوروں کا مثیل تلاش کرنے کا سوال ہے ‘ یہ کوئی مشکل کام نہیں کیونکہ پروردگار نے جنگلی اور پالتو جانوروں میں سے بہت سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے پیدا فرمائے ہیں۔ مثلاً ہرن کی جگہ بکری ‘ دنبہ ‘ مینڈھا وغیرہ۔ نیل گائے اور گورخر کی جگہ ‘ گائے وغیرہ۔ لیکن جہاں یہ مثلیت کا مسئلہ حل نہ ہو سکے ‘ وہاں تو سب کے نزدیک قیمت ہی اس کا بدل ہوسکتی ہے اور قیمت ہی طے ہونی چاہیے اور اگر یہ جانور کی قربانی مشکل ہوجائے تو اس جانور کی قیمت کی نسبت سے مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے اور اگر یہ بھی اس کے لیے دشوار ہو تو آخری درجہ میں اتنے روزے رکھے ‘ جتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا اس پر عائد ہوتا ہے۔ رہا اس عمل کا فیصلہ کہ شکار کردہ جانور کا مثل اور بدل پالتو چوپایوں میں سے کون سا چوپایہ ہوسکتا ہے تو اس کا فیصلہ اور اس کے متعذر ہونے کی صورت میں اس کی قیمت یا مساکین کو کھانا کھلانا یا روزوں کی تعداد کا فیصلہ تو یہ کام مسلمانوں میں سے دو ثقہ آدمی کریں گے ‘ تاکہ جرم کے مرتکب کے لیے اپنے نفس کی جانبداری کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔ اس سلسلے میں فقہاء نے بعض تفصیلی مسائل کا بھی ذکر کیا ہے ‘ جنھیں ہم معارف القرآن سے نقل کر رہے ہیں۔
مسئلہ 1: صید (شکار) جو کہ حرم اور احرام میں حرام ہے ‘ عام ہے ‘ خواہ ماکول (یعنی حلال جانور ہو) یا غیر ماکول (یعنی حرام) (لاطلاق الآیۃ)
مسئلہ 2: صید یعنی شکار ‘ ان جانوروں کو کہا جاتا ہے ‘ جو وحشی ہوں ‘ عادۃً انسانوں کے پاس نہ رہتے ہوں ‘ پس جو خلقۃً اہلی ہوں ‘ جیسے بھیڑ ‘ بکری ‘ گائے ‘ اونٹ ‘ ان کا ذبح کرنا اور کھانا درست ہے۔
مسئلہ 3: البتہ ! جو دلیل سے مستثنیٰ ہوگئے ہیں ‘ ان کو پکڑنا ‘ قتل کرنا ‘ حلال ہے۔ جیسے دریائی جانور کا شکار ” لقولہٖ تعالیٰ اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ “ اور بعضے خشکی کے جانور ‘ جیسے کوا ‘ چیل ‘ بھیڑیا ‘ سانپ ‘ بچھو اور کاٹنے والا کتا ‘ اسی طرح جو درندہ خود حملہ کرے ‘ اس کا قتل بھی جائز ہے ‘ حدیث میں ان کا استثناء مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اَلصَّیْدُ میں ” الف لام “ عہد کا ہے۔
مسئلہ 4: شکارِ حرم کو جس طرح قصداً قتل کرنے پر جزاء واجب ہے ‘ اسی طرح خطاء و نسیان میں بھی واجب ہے۔
(اخرجہ الروع)
مسئلہ 5: جیسا پہلی بار میں جزاء واجب ہے ‘ اسی طرح دوسری ‘ تیسری بار قتل کرنے پر بھی واجب ہے۔
مسئلہ 6: حاصل جزاء کا یہ ہے کہ جس زمان اور جس مکان میں یہ جانور قتل ہوا ہے ‘ بہتر تو یہ ہے کہ دو عادل شخصوں سے اور جائز یہ بھی ہے کہ ایک ہی عادل شخص سے ‘ اس جانور کی قیمت کا تخمینہ کرائے۔ پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ وہ مقتول جانور اگر غیر ماکول ہے ‘ تب تو یہ قیمت ایک بکری کی قیمت سے زیادہ واجب نہ ہوگی اور اگر وہ جانور ماکول تھا تو جس قدرتخمینہ ہوگا ‘ وہ سب واجب ہوگا اور دونوں حال میں اس کو تین صورتوں میں اختیار ہے ‘ خواہ تو اس قیمت کا کوئی جانور حسب شرائط قربانی کے خرید لے اور حدودحرم کے اندر ذبح کر کے فقراء کو بانٹ دے اور یا اس قیمت کے برابر غلہ حسب شرائط صدقہ فطر کے فی مسکین نصف صاع ‘ فقراء کو دے دے اور یا بحساب فی مسکین نصف صاع ‘ جتنے مساکین کو وہ غلہ پہنچ سکتا ہو اتنے شمار سے روزے رکھ لے اور تقسیم غلہ اور روزوں میں حرم کی قید نہیں اور اگر قیمت نصف صاع سے بھی کم واجب ہوئی ہے تو اختیار ہے خواہ ایک مسکین کو دے دے یا ایک روزہ رکھ لے۔ اسی طرح اگر فی مسکین نصف صاع دے کر نصف صاع سے کم بچ گیا تو بھی یہی اختیار ہے کہ خواہ وہ بقیہ ایک مسکین کو دے دے یا ایک روزہ رکھ لے۔ نصف صاع کا وزن ہمارے وزن کے اعتبار سے پونے دو سیر ہوتا ہے۔
مسئلہ 7: تخمینہ مذکور میں جتنے مساکین کا حصہ قرار پاوے ‘ اگر ان کو دو وقت کھانا شکم سیر کر کے کھلاوے تب بھی جائز ہے۔
مسئلہ 8: اگر اس قیمت کے برابر ذبح کے لیے جانور تجویز کیا ‘ مگر کچھ قیمت بچ گئی تو اس بقیہ میں اختیار ہے ‘ خواہ دوسرا جانور خرید لے یا اس کا غلہ دے دے یا غلہ کے حساب سے روزے رکھ لے۔ جس طرح قتل میں جزاء واجب ہے ‘ اسی طرح ایسے جانور کو زخمی کرنے میں بھی تخمینہ کرایا جائے گا کہ اس سے جانور کی کس قدر قیمت کم ہوگئی۔ اس مقدار قیمت میں پھر وہی تین مذکورہ صورتیں جائز ہوں گی۔
مسئلہ 9: محرم کو جس جانور کا شکار کرنا حرام ہے اس کا ذبح کرنا بھی حرام ہے۔ اگر اس کو ذبح کرے گا تو اس کا حکم مردار کا سا ہوگا (وفی لا تقتلوا اشارۃ الیٰ ان ذبح کالقتل) ۔
مسئلہ 0: اگر جانور کے قتل ہونے کی جگہ جنگل ہے تو جو آبادی اس سے قریب ہو ‘ وہاں کے اعتبار سے تخمینہ کیا جائے گا۔
مسئلہ !: اشارہ و دلالت و اعانت شکار میں ‘ مثل شکار کرنے کے حرام ہے۔
شکار کے جرم کے ارتکاب پر کفارے کی تفصیل بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا :
لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِہٖط
( تاکہ وہ اپنے کیے کا وبال چکھے )
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفارہ اس گناہ کا وبال یعنی سزا ہے۔ یہ سزا عام نگاہوں میں تو معمولی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن صحرائے عرب کے رہنے والے جو بنیادی انسانی ضرورتوں میں بھی خود کفیل نہیں تھے ‘ ان میں ایک عام آدمی کے لیے یہ کفارہ ادا کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ اس لیے عام آدمی کے لیے تو یہ کسی سزا سے کم نہ تھا۔ قانون سازی چونکہ ہمیشہ عام افراد کو دیکھ کے کی جاتی ہے اور پھر مقصود صرف سزا دینا نہیں ہوتا بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس سزا کے نتیجے میں گناہ کی شناعت اور مذمت کا تصور دلوں میں راسخ ہوجائے کیونکہ جب تک یہ تصور دلوں میں جڑ نہیں پکڑتا نہ اطاعت آسان ہوگی ‘ نہ آدمی گناہ سے نفرت کرے گا۔ اس لیے اصل مقصد اور عربوں کی عام حالت کو دیکھتے ہوئے یہ کفارہ واقعی ایک سزا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی ذہنوں میں رہنی چاہیے کہ سزا یعنی کفارہ وغیرہ سے اگرچہ قانونی ضرورت تو پوری ہوجاتی ہے اور وقتی طور پر تنبیہ کا عمل بھی مکمل ہوجاتا ہے ‘ لیکن اسے کارآمد اور مثمر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ دل کی آمادگی ‘ رجوع الی اللہ اور توبہ کی توفیق بھی میسر آئے ورنہ امراء کا طبقہ تو ایسے کفاروں کو دفع الوقتی کا ایک ذریعہ سمجھ کر اس کے ارتکاب کی جسارت سے کبھی نہیں رکے گا کیونکہ انھیں ایسا کفارہ ادا کرتے ہوئے کوئی بڑا مالی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ اس لیے اس کی حقیقت جیسا کہ عرض کیا ہے توبہ ہے اور جو آدمی کفارہ ادا کرنے کے ساتھ توبہ نہیں کرتا اور اللہ سے رجوع کر کے استغفار نہیں کرتا ‘ اس کے لیے یہ کفارہ اس کی گناہ کی تلافی نہیں بنے گا اور قیامت کے دن اسے نا گفتہ بہ صورت حال سے واسطہ پڑے گا۔ اس کے بعد اس آیت کریمہ کے آخر میں مزید ایک توجہ دلانے والی بات ارشاد فرمائی گئی ہے :
عَفَا اللہ ُ عَمَّا سَلَفَ ط وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللہ ُ مِنْہٗ ط وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ ۔
(اب تک جو ہوچکا ‘ اللہ نے اس سے درگزر کیا۔ لیکن جو کوئی پھر اس کا اعادہ کرے گا تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ غالب اور انتقام والا ہے)
اس سے پہلے اگرچہ یہ بات معلوم تھی کہ احرام کی حالت میں شکار کرنا جائز نہیں۔ لیکن نہ تو اس کی پوری تفصیل ذکر فرمائی گئی تھی اور نہ اسے اس امت کے لیے آزمائش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اب اس بات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ جس طرح ہم نے مچھلیوں کے شکار کو بنی اسرائیل کے لیے آزمائش بنایا تھا اور انھیں واضح طور پر بتادیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے آزما رہا ہے ‘ لیکن جب وہ مچھلیوں کے شکار سے باز نہ آئے اور اس آزمائش میں ناکام ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک ہولناک سزا دی کہ وہ تاریخ میں عبرت بن کے رہ گئے۔ اسی حوالے سے یہاں بھی فرمایا جا رہا ہے کہ ہم تمہیں واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ ان کے لیے بحری شکار آزمائش تھا اور تمہارے لیے بری شکار کو آزمائش بنایا گیا ہے۔ اگر تم ان کی طرح اس آزمائش میں ناکام ہوگئے اور اللہ کے حکم کی تم نے خلاف ورزی کی تو یاد رکھو ! تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا اور جس طرح اللہ نے ان سے انتقام لیا ‘ وہ تم سے بھی انتقام لے گا کیونکہ اس کے یہاں ایمان و عمل اور اطاعت امر کے سوا اور کسی خاص چیز کی اہمیت نہیں۔ بہتر سے بہتر نسبتیں بھی ایمان و عمل کے ساتھ ہی قابل لحاظ ٹھہرتی ہیں ورنہ وہ الٹی سزا کا موجب بنتی ہیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ امت مسلمہ نے اس حکم کی اہمیت کو سمجھا اور خیر القرون میں اس آزمائش میں سرخرو ہو کر اللہ کی طرف سے انعامات کے مستحق ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ نے زمین کے بڑے حصے پر انھیں خلافت سے نوازا اور وہ تمام وعدے پورے فرمائے جو قرآن کریم میں یا لسان نبوت سے ادا کیے گئے تھے۔
آج امت مسلمہ کی سب سے بڑی آزمائش
ان دونوں آیات میں آزمائش اور احکام الٰہی کی اطاعت کے حوالے سے جو کچھ ذکر کیا گیا ‘ آج اس امت کو پوری طرح اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ آزمائش صرف حالت احرام میں شکار کرنے میں ہی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی دنیا میں ‘ کبھی اس کا کوئی حکم آزمائش بن جاتا ہے اور کبھی کوئی حکم۔ آج ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جدید معاشی زندگی کے تقاضے، تہذیب مغرب کے مطالبے اور عالم سیاست کی نزاکتیں امت مسلمہ کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن گئی ہیں۔ اس آزمائش میں افراد اور حکمران ‘ دونوں پوری طرح شریک ہیں اور یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ تقریباً سارا عالم اسلام پوری طرح ان آزمائشوں میں ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنے کے لیے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں کہ اگر آزمائش میں ناکامی بنی اسرائیل کے لیے رسوائی کا باعث ہوسکتی ہے تو ہم اس سے بھی وسیع سطح پر قدم قدم پر جس طرح آزمائشوں میں ناکام ہی نہیں ہو رہے بلکہ سرکشی اور بغاوت کی حدوں کو چھو رہے ہیں ‘ اس کے بعد اگر ہمیں رسوائی سے واسطہ پڑے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ اس لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ ہم ان آیات کے آئینہ میں اپنی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننے کی کوشش کریں۔
مسلمانوں کو حالت احرام اور حرم میں شکار سے روک کر جس آزمائش میں مبتلا کیا گیا ‘ اس میں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ پہلی یہ بات کہ بنی اسرائیل کو بحری شکار سے روکا گیا کیونکہ یہی ان کی اصل ضرورت تھی۔ لیکن یہ ممانعت ہفتے میں صرف ایک دن کے لیے تھی جبکہ مسلمانوں کو بری شکار سے روکا گیا کیونکہ خشکی کا سفر کرتے ہوئے یہی ان کی بڑی ضرورت تھی۔ لیکن یہ آزمائش ان معنوں میں سخت تھی کہ احرام کی مدت ایک آدھ دن نہیں ہوتی بلکہ میقات سے لے کر حرم تک پہنچنا بعض دفعہ کئی دنوں کا سفر ہوتا ہے اور پھر وہاں بھی ایام حج کئی دنوں پر مشتمل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ آزمائش خاصی طویل تھی۔ میں اس سے پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اس کٹھن آزمائش میں مسلمانوں کو اس لیے ڈالا گیا ہے کیونکہ ان کی ذمہ داریاں ‘ بنی اسرائیل کی نسبت زیادہ عظیم تھیں اور ان کا زمانہ بنی اسرائیل کی نسبت زیادہ طویل تھا اور یہ مسلم بات ہے۔
؎ جن کے رتبے ہیں ‘ سوا ان کی سوا مشکل ہے
البتہ ! بری سفر میں اگر زاد سفر ختم ہوجائے تو شکار کے علاوہ دوسرے وسائل سے کسی نہ کسی حد تک ضرورتیں پوری کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اگر عمرہ اور حج کے مسافر دریا یا سمندر کے راستے سفر کر رہے ہوں اور ان پر پانی کے شکار کی پابندی لگا دی جاتی تو یہ ایک ایسی ناقابل برداشت پابندی ہوتی ‘ جس کی تلافی کبھی نہ ہوسکتی۔ اس لیے کہ سمندری سفر میں ہمیشہ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ طوفان آجانے یا ہوائوں کی سمت بدل جانے سے کشتیوں کو بعض دفعہ رکنا پڑے اور بعض دفعہ رفتار سست ہونے کے باعث چند دنوں کا سفر کئی دنوں تک طویل ہوجائے۔ اس صورت میں اگر ان کا زاد سفر ختم ہوجاتا اور مچھلیاں پکڑنے کی انھیں اجازت نہ ہوتی تو وہ تو بھوک سے مرجاتے۔ اس لیے اللہ نے کرم فرمایا۔
Ayah 5:96اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِلسَّیَّارَۃِ ج وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًاط وَاتَّقُوا اللہ َ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (المائدہ : 96)
” اور تمہارے لیے دریا کا شکار اور اس کا کھانا ‘ جائز کیا گیا ‘ تمہارے اور قافلوں کے زاد راہ کے لیے اور خشکی کا شکار جب تک تم احرام میں ہو تم پر حرام کیا گیا۔ اس اللہ سے ڈرتے رہو ‘ جس کے حضور میں سب حاضر کیے جاؤ گے “۔
احرام کی حالت میں بحری شکار جائز ہے
اللہ تعالیٰ نے دریا اور سمندر کا شکار مُحرِم کے لیے حلال فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس کا کھانا بھی حلال ہے۔ یہ اس لیے فرمایا گیا کہ بری سفر میں محرم کے لیے جس طرح شکار کرنا حرام ہے ‘ اسی طرح اس کا کھانا بھی حرام ہے۔ حتی کہ وہ خود شکار نہ بھی کرے ‘ لیکن دوسرے آدمی کو شکار کی طرف راہنمائی کرے تو تب بھی اس کے لیے اس شکار کا کھانا حرام ہے۔ ہاں ! کوئی آدمی اگر اپنے لیے شکار کرے اور وہ تحفتاً اس محرم کو کچھ بھیج دے تب اس کے لیے کھانا حلال ہے۔ لیکن بحری شکار کے لیے مطلقاً یہ اجازت دے دی کہ تم اس کا شکار بھی کرسکتے ہو اور اسے کھا بھی سکتے ہو اور مزید یہ بات بھی کہ اگر اس شکار سے تمہارے پاس کچھ بچ جائے تو تم زاد سفر کے لیے اپنے ساتھ بھی لے جاسکتے ہو اور یہ معاملہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قافلے بھی اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو ان کے لیے بھی اجازت ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اب پروردگار نے اجازت دی ہے تو بری مسافر بھی شاید اس کی آرزو کرنے لگیں۔ اس لیے وضاحت کے لیے یہ کہنا ضروری سمجھا گیا کہ بری شکار اس وقت تک تمہارے لیے حرام ہے ‘ جب تک تم حالت احرام میں ہو۔
آیت کریمہ کے آخر میں وہی بات فرمائی گئی جو ان تمام ہدایات کا حاصل ہے کہ حلال اور حرام ‘ جائز اور ناجائز ‘ اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ مقصود ان سے یہ ہے کہ اپنے ہر عمل اور اپنے ہر خیال میں تم ہمیشہ اللہ سے ڈرتے رہو اور ذہنوں سے یہ بات کبھی نکلنے نہ پائے کہ یہ زندگی تمہاری کتنی بھی دراز ہوجائے اور تمہیں خوشحالیاں کتنا بھی اس سے غافل کردیں ‘ ایک نہ ایک دن تمہیں اس کے حضور جانا ہے اور ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ درحقیقت آدمی کی فریب خوردگی کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی ہے کہ جب اللہ کی جانب سے اس کی نافرمانیوں پر گرفت نہیں ہوتی تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید اس دنیا میں اور اس دنیا کے بعد بھی کوئی پوچھنے والا نہیں تو پھر وہ دلیر ہو کر من مانی کرنے لگتا ہے۔ اس لیے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس اللہ سے ڈرتے رہو کہ یہاں اگر وہ تمہیں مہلت دے رہا ہے تو آخر ایک دن اس کے حضور حاضر تو ہونا ہی ہے۔ پھر اندازہ ہو سکے گا کہ یہاں کی غفلت ‘ وہاں کتنی مہنگی پڑتی ہے۔ ظفر علی خاں نے تنبیہ کرتے ہوئے ٹھیک بات کہی ؎
نہ جا اس کے تحمل پر کہ بےڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی دیرگیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
ایک محرم کے لیے حالت احرام میں اور ایک عام آدمی کے لیے حرم میں جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور جس طرح مسلمانوں کو ان شعائر کے احترام کی تعلیم اور تاکید کی گئی ہے ‘ اس سے آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر ان پابندیوں اور ان تاکیدات کا مقصد کیا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں انہی باتوں کو سلجھایا گیا ہے۔
Ayah 5:97جَعَلَ اللہ ُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَالشَّھْرَ الْحَرَامَ وَالْھَدْیَ وَالْقَلآَئِدَط ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْآ اَنَّ اللہ َ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الاَْرْضِ وَ اَنَّ اللہ َ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 97)
” اللہ نے کعبہ حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے مرکز بنایا اور حرمت کے مہینوں ‘ قربانی کے جانوروں اور گلے میں پٹے پڑے جانوروں کو شعیرہ بنایا۔ یہ اس لیے کہ تم جانو کہ اللہ جانتا ہے ‘ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔
” کعبہ “ کو مرکز اسلام بنایا گیا ہے
یہ سوال کہ حرم اور احرام کے حوالے سے اس قدر پابندیاں کیوں عائد کی گئیں ہیں اور شعائر کے احترام پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے ؟ اس کے جواب میں اس آیت کریمہ سے مختلف باتیں سمجھ آتی ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک امن وامان کا منطقہ قائم کیا ہے جہاں تک انسانی جنگ وجدال کا اثر نہیں پہنچنا چاہیے۔ ” کعبہ “ کو قِیَامًا لِّلنَّاس یعنی مرکز اسلام قرار دیا گیا کیونکہ دنیا کے ہر گوشے کے لوگ ہر وقت ‘ ہر موسم میں ‘ ہر طرف سے اس کا رخ کرتے ہیں ‘ پس لازم تھا ‘ ایک امن وامان کا علاقہ قائم کیا جائے۔ ایک امن کا شہر بنایا جائے۔ ایک موسم کو امن کا موسم ٹھہرایا جائے تاکہ لوگ بآسانی بےکھٹکے اس گھر میں جمع ہو کر مراسم عبادت و عبودیت اد اکر سکیں۔ دنیا بھر میں جنگ وجدال کی آگ بھڑکی ہوئی ہو ‘ مگر عین اس معرکہ کے وسط میں ‘ لڑنے بھڑنے والوں ‘ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے والوں اور ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوشش کرنے والوں کے بیچ ایک امن وامان کا علاقہ ہو۔ جہاں پر مختلف اجناس و انواع کے لوگ ہر قسم کے اختلافات کو بھلا کر اپنے مالک کے حضور میں ہدیہ عبادت و عبودیت پیش کرسکیں۔ دنیا کے متحارب گروہ ‘ متخاصم اقوام و ملل اپنے ذاتی ‘ قومی اور رنگ و نسل کے اختلافات کو نظرانداز کر کے بےخوف و خطر ‘ امن و سلامتی کے ساتھ جمع ہو سکیں۔ ایک میدان میں ‘ ایک عبادت گاہ میں ایک مسجد میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو سکیں۔ اس منطقے میں محبت ‘ بھائی چارے اور امن و سلامتی کے پر پھڑپھڑائیں۔ سب کا لباس ایک ہو ‘ ہدف ایک ہو ‘ معبود ایک ہو ‘ ایک جیسے اعمال بجا لا کر انسانیت کے ایک ہونے کا عملی ثبوت بہم پہنچا سکیں۔
دوسری بات یہ سمجھ میں آتی ہے کہ عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدس عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پورے ملک کی معاشی و تمدنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عمرے کے لیے سارا ملک اس کی طرف کھنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا ‘ مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدنی روابط قائم کرتے ‘ شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہوجاتا۔ مختصر یہ کہ یہی زمانہ تھا جس میں ان کے قافلے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بسہولت آتے جاتے تھے۔ قربانی کے جانوروں اور قلادوں کی موجودگی سے بھی اس نقل و حرکت میں بڑی مدد ملتی تھی کیونکہ نذر کی علامت کے طور پر جن جانوروں کی گردن میں پٹے پڑے ہوتے ‘ انھیں دیکھ کر عربوں کی گردنیں احترام سے جھک جاتیں اور کسی غارت گر قبیلے کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوتی۔
بعض علماء نے تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ کا معنی صرف مرکز نہیں بلکہ یہ معنی بھی ہے کہ اللہ نے بیت اللہ کو سب لوگوں کی بقاء و قیام اور معاش و معاد کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بنایا اور اہل عرب اور اہل مکہ کو خصوصیت کے ساتھ اس کی برکات ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک دنیا کا ہر ملک ہر خطہ اور ہر سمت کے لوگ اس بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا کرتے رہیں اور بیت اللہ کا حج ہوتا رہے یعنی جن پر حج فرض ہو ‘ وہ حج ادا کرتے رہیں۔ اس وقت تک یہ دنیا قائم اور محفوظ رہے گی اور اگر ایک سال بھی ایسا ہوجائے کہ کوئی حج نہ کرے یا کوئی شخص بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز ادا نہ کرے تو پوری دنیا پر عذاب عام آجائے گا۔ اسی مضمون کو امام تفسیر حضرت عطاء (رح) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : ” لو ترکوہ عامًا واحد الم ینظروا ولم یؤخروا (بحر محیط) اس سے معلوم ہوا کہ معنوی طور پر بیت اللہ اس پورے عالم کا عمود ہے ‘ جب تک اس کا استقبال اور حج ہوتا رہے گا ‘ دنیا قائم رہے گی اور اگر کسی وقت بیت اللہ کا یہ احترام ختم ہوا تو دنیا بھی ختم کردی جائے گی۔ رہا یہ معاملہ کہ نظام عالم اور بیت اللہ میں جوڑ اور ربط کیا ہے ؟ سو اس کی حقیقت معلوم ہونا ضروری نہیں ‘ جس طرح مقناطیس اور لوہے اور کہربا اور تنکے کے ربط باہمی کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں ‘ مگر وہ ایک ایسی حقیقت ہے جو مشاہدہ میں آتی ہے اس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ‘ بیت اللہ اور نظام عالم کے باہمی ربط کی حقیقت کا ادراک بھی انسان کے بس میں نہیں ‘ وہ خالق کائنات کے بتلانے ہی سے معلوم ہوسکتا ہے ‘ بیت اللہ کا پورے عالم کی بقاء کے لیے سبب ہونا تو ایک معنوی چیز ہے ‘ ظاہری نظریں اس کو نہیں پا سکتیں ‘ لیکن عرب اور اہل مکہ کے لیے اس کا موجب امن و سلامتی ہونا ‘ طویل تجربات اور مشاہدات سے ثابت ہے “۔
مختصر یہ کہ اللہ کا یہ گھر امت مسلمہ کے لیے ایک مقناطیس کی حیثیت رکھتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جسدِ امت میں اس کی حیثیت دل کی ہے۔ آج بھی وہ پورے عالم اسلام سے صالح عناصر کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ان کی شریانوں میں ایمان و عمل کا خون دوڑا کر انھیں ان کے علاقوں میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ واپس جا کر دنیا میں اسی انقلاب کو برپا کریں ‘ جو انقلاب اس گھر سے پھوٹا تھا اور جس کی وحی سب سے پہلے اسی سرزمین پر اتری تھی اور یہیں سے اللہ کا آخری رسول پوری دنیا کا راہنما اور آئیڈیل بن کر اٹھا تھا اور دنیا نے اس کی راہنمائی سے وہ زندگی پائی تھی کہ جس کی طلب صدیوں سے دنیا کر رہی تھی۔ لیکن آج ہم اللہ کے اس گھر سے صحیح معنی میں اس لیے فائدہ نہیں اٹھا رہے کہ ہمارا اس سے تعلق ‘ حقیقی نہیں بلکہ واجبی سا رہ گیا ہے۔ ہم اس کے سائے میں کھڑے ہو کر بھی اس کے پیغام سے ناآشنا رہتے ہیں۔ اس کا طواف ضرور کرتے ہیں ‘ لیکن وہاں سے ہم اللہ اور اس کے دین سے وارفتگی کا سبق نہیں لیتے۔ اللہ کے گھر کے طواف کے بعد بھی زندگی بھر ہم اپنے معدے اور اپنی خواہشات کا طواف کرتے رہتے ہیں اور ہماری زندگی کی ترجیح وہ انقلاب نہیں ہوتا ‘ جسے اللہ نے ” ھدی للعٰلمین “ قرار دیا تھا بلکہ ہم کبھی معاشی انقلاب کے چکر میں رہتے ہیں اور کبھی تہذیبی و سیاسی انقلاب ہمارا کعبہ مقصود بن جاتا ہے۔ اس لیے جب تک دو باتوں کا شعور ہمارے اندر نہیں ابھرتا۔ ایک یہ بات کہ کعبہ کی تاریخ اسلام کے دنیا میں آنے سے پہلے بھی اللہ کے بارے میں ہمیں کیا تصور دیتی ہے اور دوسری یہ بات کہ کعبۃ اللہ اور دوسرے شعائر اسلام سے ہمارا قلبی تعلق عروۃ الوثقیٰ کی طرح مضبوط نہ ہوجائے اور یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اس خطے کو اس وقت تک امن نہیں مل سکتا ہے ‘ جب تک ہم خود دل و دماغ کے حقیقی امن و اطمینان سے آشنا نہ ہوں۔
انہی دونوں حوالوں سے قرآن کریم کہتا ہے :
ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْآ اَنَّ اللہ َ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الاَْرْضِ وَ اَنَّ اللہ َ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔
(تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ )
اس مختصر سے جملے میں جیسے ابھی ہم نے عرض کیا ہے ‘ دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ پہلی بات یہ کہ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے صرف کعبۃ اللہ کی برکت سے جس طرح عرب کی زندگی رواں دواں رہی ‘ اگر صرف اس انتظام پر ہی غور کرلیا جائے تو اس امر کی بین شہادت مل سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے مصالح اور ان کی ضروریات کا کیسا مکمل اور گہرا علم رکھتا ہے اور اپنے ایک ایک حکم کے ذریعہ سے انسانی زندگی کے کتنے شعبوں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ بدامنی کے یہ سینکڑوں برس جو محمد عربی ﷺ کے ظہور سے پہلے گزرے ہیں ‘ جن میں تم لوگ خود اپنے مفاد سے ناواقف تھے اور اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے تھے ‘ مگر اللہ تمہاری ضرورتوں کو جانتا تھا اور اس نے صرف ایک کعبہ کی مرکزیت قائم کر کے تمہارے لیے وہ انتظام کردیا تھا ‘ جس کی بدولت تمہاری قومی زندگی برقرار رہ سکی۔ دوسری بیشمار باتوں کو چھوڑ کر اگر صرف اسی ایک بات پر دھیان کرو تو تمہیں یقین حاصل ہوجائے کہ اللہ نے جو احکام تمہیں دیئے ہیں ‘ ان کی پابندی میں تمہاری اپنی بھلائی ہے اور ان میں تمہارے لیے وہ وہ مصلحتیں پوشیدہ ہیں ‘ جن کو نہ تم خود سمجھتے ہو اور نہ اپنی تدبیروں سے پورا کرسکتے ہو۔
دوسری یہ بات کہ حرم مکہ زمان و مکان کے اعتبار سے ہی امن وامان کا علاقہ نہیں ہے اور اس کا امن صرف حیوان و انسان کو ہی محیط نہیں ہے بلکہ انسانی ضمیر میں بھی یہ امن وامان کا منطقہ ہے۔ زمین پر برپا ہونے والی جنگ پہلے انسانوں کے ضمیر میں بھڑکتی ہے پھر وہ زمان و مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس کا اثر انسان اور حیوان سب پر محیط ہوجاتا ہے۔ حرم مکہ کا امن وامان سب سے پہلے انسانی قلوب و ضمائر کے میدان جنگ میں قائم ہوتا ہے۔ احرام باندھنے والا اور حد حرم کے اندر داخل ہونے والا چرند پرند کی طرف اپنا ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ درآنحالیکہ حرم سے باہر وہ انسان کے لیے حلال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذہنی و قلبی اور اخلاقی تربیت کے لیے حرم مکہ اور حرم مدینہ کے احکام دیئے ہیں تاکہ انسان ان کے ذریعے سے اخلاقی عظمت حاصل کرے اور ملائِ اعلیٰ سے متصل ہو سکے۔ دنیا بھر میں امن وامان کا کوئی علاقہ نہیں اور نہ اس کا کوئی زمانہ متعین ہے۔ اسلام نے زمان و مکان ہر دو کے امن وامان اور اکرام و احترام کے احکام دے کر اس کمی کو پورا کیا ہے۔
زمان و مکان کے امن سے بہت پہلے ضمیر انسانی کا امن درکار ہے۔ جب تک انسانی قلب و ضمیر مامون نہ ہو باہر کے امن کا سوال خارج از بحث رہے گا۔ اسی حقیقت کو قرآن حکیم نے یوں بیان فرمایا ہے :
( یہ اس لیے ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے)
جب تک انسانی ضمیر میں یہ احساس زندہ نہ ہو کہ اللہ میری ہر حرکت و سکون کو جانتا ہے۔ وہ میرا محاسبہ کرنے والا ہے۔ مجھے اپنے کردار کا اچھا یا برا بدلہ مل کر رہے گا۔ اس وقت تک حقیقی اطمینان مفقود رہے گا اور جب انسانی نفوس بےامنی اور اضطراب کا شکار ہوجائیں گے تو یہ دنیا درندوں کا بھٹ بن جائے گی۔ انسانوں کو یہ علم ہونا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی طبیعت ‘ اس کی حاجات ‘ اس کے ضمیر کی پوشیدہ آرزوئوں اور اس کی روح کی پکار کو جانتا ہے۔ اور اس نے یہ شریعت عین طبائع بشریہ کے مناسب احوال قائم کی ہے۔ جب انسانوں کو پتہ چل جائے کہ اللہ کی شریعت میں ان کے لیے رحمت ہے۔ اس کا قانون ان کی حاجات کے بالکل مطابق ہے تو انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ واقعی اللہ کائنات کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔
اس کے علم پر مکمل یقین اور ایمان چونکہ ایک مومن کی دینی زندگی کی اساس ہے ‘ اس لیے پروردگار نے آیت کریمہ کے اس حصے میں اپنے علم کو فعلاً بھی بیان کیا ہے اور صفتًا بھی۔ اس لیے کہ اللہ کا علم ماضی ‘ حاضر ‘ مستقبل ‘ ظاہر ‘ باطن ‘ غائب ‘ موجود ‘ مضمر ‘ سب پر محیط ہے اور انسان کا اللہ کے علم کے متعلق یہی عقیدہ ہے ‘ جو اس کے اندر خشیت پیدا کرتا ہے۔
اللہ کے بارے میں جب آدمی کا یہ یقین مستحکم ہوجائے کہ وہ میرے ایک ایک عمل سے واقف ہے اور یہ بات بھی ذہن میں مستحضر ہو کہ وہ صفت عدل کا مالک بھی ہے تو پھر اس کے اندر وہ برائی اور وہ خرابی پیدا نہیں ہوسکتی ‘ جو ہر امت میں موجود رہی ہے اور آج اس امت میں بھی ایک بڑی تعداد اس برائی میں مبتلا ہے۔ وہ برائی یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ ایک رحم کرنے والی ذات ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے۔ دنیا میں ماں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ذات کے طور پر مشہور ہے اور اللہ کے بارے میں ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ رحیم و کریم ہے ‘ جتنی ایک ماں اپنے بچوں پر ہوتی ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ کوئی ماں اپنے بچے کو تکلیف دینا تو دور کی بات ہے ‘ تکلیف میں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی اور اگر اللہ کی ذات ماں سے زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بندوں کی بداعمالیوں سے ناراض ہو کر بندوں پر رحم کھانے کی بجائے انھیں جہنم کا ایندھن بنا دے۔ یہ وہ غلط تصور ہے جو اللہ کے علم کی شان سے بےبہرہ ہونے کی وجہ سے ہر امت کی طرح اس امت میں بھی پیدا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے شرعی احکام کی پابندی ایک تکلف بن کے رہ گئی ہے۔ چناچہ اس کے ازالے کے لیے اگلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا۔