Ayah 5:98اِعْلَمُوْآ اَنَّ اللہ َ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 98)
” جان رکھو ! بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا بھی ہے اور بڑا بخشنے والا مہربان بھی ہے “۔
اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہی نہیں عادل بھی ہے
جب تم یہ سمجھتے ہو کہ اللہ کائنات کی ہر چیز کو جاننے کے ساتھ ساتھ ہمارے ہر عمل سے بھی مکمل آگاہی رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ صفت عدل کا مالک بھی ہے تو پھر تم یہ کیسے سمجھتے ہو کہ وہ اچھوں اور بروں کے ساتھ یکساں سلوک کرے گا۔ یعنی قیامت کے دن ایک آدمی ایسا آئے گا ‘ جس نے زندگی بھر اس کی کبھی نافرمانی نہیں کی ہوگی بلکہ اس کی رضا پر چلتے ہوئے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا ہوگا اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہوئے نجانے کتنی دفعہ اسے حالات سے لڑنا پڑا ہوگا ‘ حتیٰ کہ اسی کے دین کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس نے اس کے راستے میں جان بھی دی ہوگی اور دوسرا اس کے ساتھ ایک ایسا آدمی آئے گا ‘ جس نے کبھی اللہ کے کسی حکم کے سامنے سر نہیں جھکایا ہوگا۔ اولاً تو اس کی کبریائی کو مانا نہیں اور اگر زبان کی حد تک مانا بھی تو اس پر عمل کبھی نہیں کیا۔ پوری زندگی اس نے اپنی خواہشات کی تکمیل میں گزار دی اور عیش و عشرت میں ڈوب کر اللہ کے پاس جا پہنچا۔ ان دونوں کے بارے میں پروردگار مکمل علم رکھتا ہے تو کیا انسانی عقل یہ سمجھتی ہے کہ ان دونوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے کیونکہ وہ غفور الرحیم ہے ؟ قرآن کریم نے ایک دفعہ نہیں ‘ متعدد دفعہ یہ بات فرمائی کہ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم برائیوں کا ارتکاب کرنے والے اور نیکی کی زندگی گزارنے والوں کے ساتھ قیامت کے دن یکساں سلوک کریں گے ؟ فرمایا :
سَآئَ ماَ یَحْکُمُوْنَ
(کس قدر برا ہے ‘ وہ فیصلہ جو یہ لوگ کر رہے ہیں )
اس آیت کریمہ میں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ لوگو اس بات کو اچھی طرح سمجھو کہ اللہ کی صفت عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ انسانی اعمال کی جزا و سزا کے لیے اس کی دونوں صفتیں بروئے کار آئیں۔ یعنی وہ سخت سزا دینے والا بھی ہے اور بخشنے والا مہربان بھی ہے۔ اسی بات پر ایک اور جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ
(میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں غفور الرحیم ہوں اور یہ بھی بتلا دو کہ میرا عذاب ‘ عذاب الیم ہے)
رہی یہ بات کہ وہ کن باتوں پر رحم فرمائے گا اور کن باتوں پر عذاب دے گا۔ اس بات کو پروردگار نے ہماری عقلوں پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کا کرم ہے کہ اس نے کتابیں اتاریں ‘ رسول بھیجے اور سب سے آخر میں آخری رسول تشریف لائے ‘ جنھوں نے پیغامبری کا حق ادا کردیا اور جس کے بعد کہا جاسکتا ہے۔
رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
ہری ہوگئی ساری کھیتی خدا کی
اس رسول کے آجانے اور دین کے پوری طرح پہنچ جانے اور پیغامبری کے حق ادا ہوجانے کے بعد اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کن باتوں پر انعام فرمائیں گے اور کن باتوں پر سزا دیں گے۔
Ayah 5:99مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلاَّ الْبَلٰغُ ط وَ اللہ ُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ ۔ (المائدہ : 99)
” رسول پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اللہ جانتا ہے ‘ جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو “۔
جو ذمہ داری اللہ کے رسول کی تھی ‘ وہ انھوں نے بلا کم وکاست ادا کردی۔ اب آگے ذمہ داری تمہاری ہے۔ تم مانو یا نہ مانو ‘ عمل کرو یا نہ کرو۔ مانو گے تو اس میں تمہاری ہی بھلائی ہے ‘ نہ مانو گے تو اس کا انجام خود دیکھ لو گے۔ البتہ ! اس غلط فہمی میں کبھی مبتلا نہ ہونا کہ تم اپنا کوئی عمل یا کوئی خیال اللہ سے چھپا سکتے ہو۔ وہ تمہارے ان اعمال سے بھی واقف ہے ‘ جو تم ظاہر کرتے ہو اور ان اعمال سے بھی واقف ہے ‘ جن کو تم چھپاتے ہو یا چھپائو گے کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ ہم قیامت کے دن لوگوں کے منہ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے ان اعمال کی ‘ جو وہ کرتے رہے۔ ایسی صورتحال میں کس کی مجال ہوگی کہ وہ اپنا کوئی عمل ‘ اپنے رب سے چھپا سکے۔ اس لیے ہماری پوری زندگی کی اصلاح کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اللہ کی صفت علم پر مکمل یقین رکھیں۔ اس کی عطا کی ہوئی راہنمائی کو ہر طرح کے شبہ سے بالا تر سمجھیں اور اپنے اعمال کے بارے میں ایسی کسی خوش گمانی کا شکار نہ ہوں کہ ہم اللہ کے سامنے جھوٹ بول کر یا سخن سازی سے کام لے کر شاید عذاب سے بچ جائیں۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان آیات کریمہ میں جہاں حلّت و حرمت سے متعلق احکام کو بیان کیا جا رہا ہے ‘ وہیں بعض ایسی فکری کج رویوں کی اصلاح بھی کی جا رہی ہے ‘ جس کے نتیجے میں افراد اور امتوں کے مزاج بگڑتے اور اخلاق تباہ ہوتے رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک فکری کج روی اچھائی اور برائی کو یکساں سمجھنے کی بھی ہے۔
Ayah 5:100قُلْ لاَّ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ج فَاتَّقُوا اللہ َ یٰٓاُولِی الاْ َلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (المائدہ : 100)
” کہہ دو کہ ناپاک اور پاک دونوں یکساں نہیں ہوسکتے ‘ اگرچہ ناپاک کی کثرت تمہیں فریفتہ کرنے والی ہو۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اے اہل عقل ! تاکہ تم فلاح پائو “۔
جہاں تک خبیث اور طیب یعنی پاک اور ناپاک اور اچھے اور برے کا تعلق ہے ‘ یہ ایک ایسا سوال ہے جو انسانوں میں ہمیشہ قابل توجہ رہا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ہو ہر آدمی اس سوال سے تعرض کرتا ہے۔ کھانے پینے کی بیشمار چیزیں ہیں ‘ جب ہم انھیں اپنے لیے حاصل کرتے ہیں تو سب سے پہلا سوال جس سے ہماری عقل اور ہماری قوت ذائقہ کو واسطہ پڑتا ہے ‘ وہ یہ ہوتا ہے کہ ان میں کون سی اشیاء ہیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہیں اور کون سی چیزیں ہیں جو اس کے خلاف ہیں۔ مجھے چونکہ اپنی صحت عزیز ہے ‘ اس لیے میں اشیاء خوردنی میں سے ایسی کسی چیز کا انتخاب نہیں کرسکتا جو ذائقے اور شکل و صورت کے اعتبار سے چاہے کیسی ہی دلفریب کیوں نہ ہو ‘ اگر وہ میری صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے تو میں اسے کبھی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اسی طرح اگر ہم کوئی کاروبار کرتے ہیں تو پھر ہمیں اسی سوال سے واسطہ پڑتا ہے کہ کون سا کاروبار ہمارے لیے منفعت بخش ہوسکتا ہے ؟ اس لیے ہم اس کاروبار کو اپنے لیے انتخاب کرتے ہیں ‘ جس میں ہمیں منفعت کی زیادہ امید ہوتی ہے اور ایسے کسی کاروبار کو ہاتھ نہیں لگاتے جس میں نقصان کا اندیشہ ہو۔ اگر ہم اپنے بچے کو حصول تعلیم کے لیے کسی تعلیمی ادارے میں داخل کرتے ہیں تو پھر یہی سوال ہمارے دامن گیر ہوتا ہے کہ بچے کو ایسے تعلیمی ادارے میں بھیجا جائے ‘ جہاں اس کی ذہنی اور فکری تربیت ہو سکے اور اخلاق بھی پروان چڑھ سکیں اور اگر کوئی ادارہ لباس کی تراش خراش اور کھیلوں کی ترقی پر تو بہت زور دیتا ہو ‘ لیکن وہاں نہ تعلیم ہے نہ اخلاق اگر ہم اپنی اولاد کے دشمن نہیں ہیں تو ہم کبھی اپنی اولاد کو وہاں بھیجنا پسند نہیں کرتے۔ مختصر یہ کہ حیوان اور انسان میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ حیوان اپنی زندگی کے بیشتر معاملات میں خبیث اور طیب ‘ اچھے اور برے کی تمیز میں کبھی نہیں پڑتا ‘ وہ صرف شکم پروری اور لذت اندوزی کے سوا اور کسی بات کو نہیں جانتا۔
اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خبیث اور طیب کے حوالے سے جو فیصلہ بھی ہم کریں ‘ اس میں بہرصورت کثرت ہماری ترجیح نہیں ہوتی بلکہ اس میں بھی ہم اپنی صحت اپنی منفعت اور مستقبل کی بھلائی کو حتی الامکان نظر انداز نہیں ہونے دیتے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ معاملہ چاہے خبیث اور طیب کا ہو اور چاہے خبیث کی کثرت کا ‘ ہم باقی تمام معیارات کو قابل لحاظ سمجھتے ہیں۔ لیکن حلت و حرمت کے معاملے میں اللہ کی اتھارٹی ‘ سند اور کبریائی کو تسلیم کرنے کے باوجود ہم صرف اسی معیار پر اکتفا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم جب دیکھتے ہیں کہ حلال کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم ایک پر تکلف یا پر تعیش زندگی نہیں گزار سکتے تو ہم صرف گزارے کو کافی نہیں سمجھتے بلکہ حلال کمائی سے زیادہ حرام ذرائع ہمیں عزیز ہوجاتے ہیں اور جب ہمیں کبھی اس کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو ہمارا عام طور پر عذر یہ ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے ‘ حلال میں رہ کر آسودہ زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خبائث میں مبتلا ہو کر آسودہ زندگی مل سکتی ہو تو ہمیں وہ عزیز ہے۔ لیکن حلال کی حدود میں رہ کر ایک سادہ زندگی اختیار کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے اسی فکری کج روی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ہمارے ہاتھوں میں ایک بالکل نیا ترازو دیا گیا ہے ‘ جس میں سب سے پہلے تو یہ بات بتائی گئی ہے کہ جس طرح خبیث اور طیب کا اطلاق بری اور اچھی اشیاء پر ہوتا ہے۔ اسی طرح برے اور اچھے اشخاص پر بھی ہوتا ہے اور جس طرح ان اشیاء پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو مادی اعتبار سے بری اور اچھی ہیں ‘ اسی طرح ان اشیاء پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جو عقلی اور اخلاقی اعتبار سے اچھی یا بری ہیں۔ یہاں پیش نظر اشیاء اور اشخاص دونوں ہیں ‘ لیکن جہاں تک اچھائی اور برائی کا تعلق ہے ‘ وہ صرف اخلاقی پہلو سے زیر بحث ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک خیر و شر ‘ نیکی اور بدی ‘ فسق اور تقویٰ ‘ نیکوکار اور بدکار دونوں یکساں نہیں ہیں۔ اللہ خیر مطلق اور سراپا حق و عدل ہے ‘ اس وجہ سے وہ صرف خیر کو پسند کرتا ہے ‘ شر کو پسند نہیں کرتا۔ وہ صرف طیب کو قبول فرمائے گا ‘ خبیث کے لیے اس کے ہاں جہنم کی آگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اسکی تائید اسکے شان نزول سے بھی ہوتی ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ جب اسلام میں شراب کو حرام اور اس کی خریدو فروخت کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا تو ایک شخص نے جس کا کاروبار شراب فروشی کا تھا اور اس ذریعہ سے اس نے کچھ مال جمع کر رکھا تھا آنحضرت ﷺ سے سوال کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ مال جو شراب کی تجارت سے میرے پاس جمع ہوا ہے ‘ اگر میں اس کو کسی نیک کام میں خرچ کروں تو کیا وہ میرے لیے مفید ہوگا ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : اگر تم اس کو حج یا جہاد وغیرہ میں خرچ کرو گے تو وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی قیمت نہ رکھے گا ‘ اللہ تعالیٰ پاک اور حلال چیزوں کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتے۔
حرام مال کی یہ بےتوقیری تو آخرت کے اعتبار سے ہوئی اور اگر گہری نظر سے معائنہ کیا جائے اور سب کاموں کے اخروی اور اجتماعی انجام کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے کاروبار میں بھی حلال و حرام برابر نہیں ہوتے۔ حلال سے جتنے فوائد اور اچھے نتائج اور حقیقی آرام و راحت نصیب ہوتی ہے ‘ وہ کبھی حرام سے نہیں ہوتی۔
دنیا کا ہر معاشرہ جرائم کی روز افزوں ترقی سے پریشان ہے اور وہ ساری انسدادی تدبیروں کے باوجود نہ جرائم پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکا ہے اور نہ مجرمانہ ذہنیت کو بدلنے میں۔ اگر اس صورت حال پر غور کرنے کی زحمت کرلی جائے تو بعض دوسرے اسباب سمیت ایک بڑا سبب یہ سامنے آئے گا کہ خبیث اور طیب کی تقسیم ختم کر کے اور ان دونوں کو یکساں حیثیت دے کر ہم نے جس طرح حلال کی بجائے حرام کا راستہ کھولا ہے اور جائز کی بجائے ناجائز کو فروغ دیا ہے اور مادی زندگی کو جس طرح اخلاقی زندگی پر برتری دی ہے ‘ یہ جرائم اور مجرمانہ ذہنیت دونوں اس کے منطقی نتائج ہیں۔ محنت و کوشش سے حلال کمائی کی بجائے ‘ اگر حرام ذرائع سے چند دنوں میں دولت و امارت حاصل کی جاسکتی ہے اور معاشرہ ایسے شخص کو صرف دولت مندہونے کی وجہ سے عزت کے مناصب پر بٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ان رستوں پر چلنے والوں کو آخر جرائم کے ارتکاب سے کس طرح روکا جاسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں رشوت بھی عام ہوگی ‘ سمگلنگ بھی بڑھے گی ‘ چوریاں اور ڈاکے بھی ہوں گے ‘ دھوکہ دہی کی وارداتیں بھی ہوں گی اور جب ان کی برائی کا تصور بھی دلوں سے نکل جائے گا تو پھر ان کا راستہ روکنے کا کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس کے روکنے کی ایک ہی صورت ہے کہ قرآن کریم کا دیا ہوا یہ تصور یعنی خبیث اور طیب کے فرق کو دل و دماغ میں راسخ کیا جائے۔
خبیث کتنا ہی زیادہ ہو طیب کے مقابلے میں کچھ نہیں
عجیب بات یہ ہے کہ خبیث اور طیب کا فرق جب سے مٹا ہے ‘ ایک اور غلط ذہنیت بھی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ یہ کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اور عام کاروباری زندگی سے لے کر حکومت کے ٹیکس لگانے تک ہر جگہ یہ سوچ کارفرما ہے کہ حلال اور طیب کی پابندی سے نہ اجتماعی رفاہی ادارے وجود میں آسکتے ہیں اور نہ ہی مالی اعتبار سے ترقی ہوسکتی ہے ‘ اس لیے یہ اگر برائی بھی ہے تو ایسی ناگزیر ہے ‘ جس کے ارتکاب کے بغیر چارہ نہیں۔ لیکن مسلمانوں نے اپنے زمانہ عروج میں بھی اس سے احتراز کر کے یہ ثابت کیا کہ یہ ایک غلط ذہنیت ہے ‘ جس نے ہمیشہ انسانی معاشروں کو تباہ کیا ہے۔ تفسیر ” درّمنثور “ میں ہے کہ زمانہ تابعین کے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے جب اپنے سے سابق امراء کے ناجائز ٹیکس ختم کیے اور جن لوگوں سے ناجائز طور پر اموال لیے گئے تھے ‘ وہ واپس کیے تو نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ سرکاری بیت المال خالی ہوگیا اور آمدنی بہت محدود ہوگئی تو ایک صوبہ کے گورنر نے ان کی خدمت میں خط لکھا کہ بیت المال کی آمدنی بہت گھٹ گئی ہے ‘ فکر ہے کہ حکومت کے کاروبار کس طرح چلیں گے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے جواب میں یہی آیت تحریر فرمائی اور لکھا کہ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم و جور کے ذریعہ جتنا خزانہ بھرا تھا ‘ تم اس کے بالمقابل عدل و انصاف قائم کر کے اپنے خزانہ کو کم کردو اور کوئی پرواہ نہ کرو ‘ ہماری حکومت کے کام اسی کم مقدار سے پورے ہوں گے۔ ان کی دو اڑھائی سال کی حکومت کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ عراق میں حجاج ابن یوسف کے تمام ظالمانہ ٹیکس جب ختم کردیئے گئے تو بظاہر کمی کا یہی خدشہ پیدا ہوا ‘ لیکن دو ہی سالوں میں صوبہ کی آمدنی حجاج کے زمانے کے تمام ظالمانہ ٹیکسوں کے خاتمے کے باوجود ‘ حجاج کے زمانے سے کئی گنا بڑھ گئی۔ چناچہ جب اس کی اطلاع حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ حجاج کو نہ دنیا کی سمجھ تھی نہ دین کی۔ اس نے یہ سمجھا کہ ظلم سے شاید ملک ترقی کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں عدل سے نازل ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں زمین کی قوت روئیدگی میں اضافہ ہوتا ہے ‘ فصلیں پہلے سے زیادہ لہلہانے لگتی ہیں ‘ غلے کی پیداوار میں اضافہ ہوجاتا ہے ‘ پھل دار درختوں کے پھلوں میں برکت آجاتی ہے ‘ دودھ دینے والے جانوروں میں دودھ بڑھا دیا جاتا ہے ‘ اس طرح ایک عام برکت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے ‘ جس سے اللہ کے نیک بندے شادکام ہوتے ہیں۔ لیکن انسان اپنی اجتماعی زندگی میں ہمیشہ فریب نظر کا شکار رہتا ہے۔ وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ سو روپے بمقابلہ پانچ روپے کے لازماً زیادہ قیمتی ہیں کیونکہ وہ سو ہیں اور یہ پانچ۔ تو وہ اپنے انہی مادی پیمانوں کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے ‘ جس کا ابھی ذکر کیا گیا۔ لیکن یہ آیت کریمہ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب تک تم اپنے ان مادی پیمانوں کو توڑ کر اخلاقی پیمانے اختیار نہیں کرو گے ‘ تمہاری زندگی میں حقیقی آسودگی کبھی نہیں آسکتی اور تم اس تباہ کن مستقبل سے کبھی نہیں بچ سکو گے ‘ جو اس صورت حال کا لازمی نتیجہ ہے۔ اس لیے تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام کے یہاں خبیث اور طیب ہرگز برابر نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ سو روپے ‘ پانچ روپے سے زیادہ ہیں۔ لیکن سو روپے اگر اللہ کی نافرمانی کر کے حاصل کیے گئے تو وہ ناپاک ہیں اور پانچ روپے اگر اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے کمائے گئے تو وہ پاک ہیں اور ناپاک خواہ مقدار میں کتنا ہی زیادہ ہو ‘ بہرحال وہ پاک کے برابر کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے اور پیشاب کی ایک لبریز ناند کے مقابلے میں پاک پانی کا ایک چلو زیادہ وزنی ہے۔ لہٰذا ایک سچے دانشمند انسان کو لازماً حلال ہی پر قناعت کرنی چاہیے ‘ خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر و قلیل ہو اور حرام کی طرف کسی حال میں بھی ہاتھ نہ بڑھانا چاہے خواہ وہ بظاہر کتنا ہی کثیر و شاندار ہو۔
Ayah 5:101تمہید
یہ بات اس سے پہلے بھی کہی جا چکی ہے کہ سورة المائدہ کے آخری چند رکوع توضیحی آیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سورة المائدہ میں جو اساسی امور بیان کیے گئے ہیں یا جو احکام ذکر کیے گئے ہیں ‘ ان میں وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں ضرورت محسوس کی گئی کہ ان مجمل احکام کی وضاحت کی جائے اور اساسی امور کو کسی حد تک کھول کر بیان کردیا جائے اور بعض دفعہ اس صورتحال سے جنم لینے والے سوالات ‘ زبانوں پر بھی آئے یا ذہنوں میں مچلتے رہے تو پروردگار نے ان آخری رکوعوں میں ایسے تمام سوالات کے جوابات دیئے ہیں اور اساسی امور کے لیے جہاں وضاحت کی ضرورت تھی ‘ وضاحت بھی کی گئی ہے اور جن احکام کی تکمیل کے لیے مزید آیات کا اترنا ضروری تھا ‘ وہ تکمیلی آیات بھی نازل کی گئیں۔ چناچہ جب یہ کام مکمل ہوگیا تو اب ضرورت پیدا ہوئی کہ سوالات کے حوالے سے اس خاص دور کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ‘ جس دور میں یہ آیات نازل ہو رہی تھیں ‘ چند اصولی ہدایات بھی جاری کی جائیں۔ اس رکوع کے آغاز میں یہی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ پیشتر اس کے کہ ہم ان ہدایات کی وضاحت کریں ‘ ان آیات کا پس منظر اور تہہ منظر ذکر کردینا ضروری سمجھتے ہیں۔
سورة المائدہ کا نزول چھٹی ہجری کے آخر میں یا ساتویں ہجری کے آغاز میں ہوا ممکن ہے آئندہ چند سالوں میں اس کی تکمیل ہوئی ہو چناچہ اس سورة کے زمانہ نزول پر جب ہم غور کرتے ہیں تو بعض امور ہمارے سامنے آتے ہیں۔ مختصراً جن کی تفصیل یہ ہے :
یہ وہ زمانہ ہے ‘ جب حدیبیہ کا معاہدہ ہوچکا تھا۔ مسلمان جو اب تک ایک بند دائرے میں گھرے ہوئے تھے ‘ ان کے لیے قدرت نے اس معاہدے کے نتیجے میں تبلیغ و دعوت کا ایک وسیع میدان کھول دیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے تیرہ سال مکہ میں گزرے اور چھ سال مدینے میں۔ ان انیس سالوں میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ‘ ان کی تعداد چار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔ لیکن حدیبیہ کے معاہدے کے دو سال بعد جب فتح مکہ کا عظیم واقعہ پیش آیا تو مسلمانوں کی تعداد بیس پچیس ہزار سے بھی زیادہ ہوچکی تھی اور پھر اس کے بعد کے دو سالوں میں اس تیزی سے اسلام پھیلا کہ مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ اس صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حدیبیہ تک جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ‘ ان کو تربیت حاصل کرنے کا زیادہ موقع ملا اور وہ تربیت کے نتیجے میں پختہ فکر ‘ پختہ عزم اور پختہ کردار کے مالک ہوگئے۔ لیکن بعد کے سالوں میں جس تیزی سے اسلام کی نشر و اشاعت میں وسعت آتی گئی ‘ اسی تیزی سے نومسلموں کی تعداد بھی بڑھی۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اسلام کے دامن میں ضرور آگئے ‘ لیکن ابھی ضرورت تھی کہ چند سال یہ زیر تربیت رہیں تاکہ ان کے اندر مہاجرین اور انصار جیسا عظیم کردار پیدا ہو سکے۔ لیکن تربیت کے اس عرصے میں ان نئے نئے اسلام کی آغوش میں آنے والوں میں چند باتوں کا ہونا نہایت فطری تھا۔ ایک تو یہ بات کہ یہ لوگ کفر کے ماحول سے نکل کر آئے تھے ‘ شرک ان کی گھٹی میں پڑا تھا ‘ اخلاقی پابندیاں ان کے لیے نئی تھیں۔ اس لیے اس دوسرے ماحول میں آتے ہی فکری یکسوئی اور ذہنی پختگی کا پیدا ہوجانا ‘ سراسر خلاف توقع تھا۔ چناچہ یہ بات عین توقع کے مطابق تھی کہ یہ جیسے جیسے اسلام کو جاننے کی کوشش کرتے ‘ ویسے ویسے ان کے ذہنوں میں سوالات سر اٹھاتے۔ صحابہ ( رض) چونکہ ایک عرصہ دراز تک تربیت حاصل کرچکے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی ذہنی جلا پیدا فرمائی تھی کہ وہ مزاج شناس رسول بھی تھے اور مزاج شناس قرآن بھی۔ اس لیے حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) کے بقول وہ اس قدر صاف ستھرے ذہن کے مالک تھے اور اللہ نے اپنی الوہیت ‘ حاکمیت اور حقانیت پر انھیں اس قدر شرح صدر عطا فرمایا تھا کہ بہت کم سوالات ان کی زبانوں پر آتے تھے۔ چناچہ حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ( رض) نے آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں آپ سے صرف تیرہ سوالات پوچھے ‘ جن کا قرآن کریم میں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن اسلام کی آغوش میں نئے نئے آنے والوں کی یہ فطری مجبوری تھی کہ ایک نیا ماحول نیا مذہب ‘ نیا طرز زندگی ‘ نئے نئے اہداف اور نئے نئے آداب کی پابندی ‘ عدم یکسوئی کے ساتھ ساتھ ان کے دماغوں میں اشتباہات پیدا کرتی۔ چناچہ یہ نئے نئے آنے والے لوگ بار بار آنحضرت ﷺ سے مختلف قسم کے سوالات پوچھتے۔ ان کے سوالات کے پوچھنے کے نتیجے میں جو صورت حال پیدا ہو رہی تھی ‘ اس میں صاف نظر آتا تھا کہ یہ سوالات کہیں تو اس لیے زبان پر آرہے ہیں کہ وہ ابھی تک ذات رسالت مآب ﷺ کے عظیم مرتبہ و مقام سے پوری طرح آگاہ نہیں ہو سکے ‘ اس وجہ سے بجائے اسکے کہ وہ دینی احکام سے متعلق سوال کریں ‘ ان میں سے کوئی آدمی یہ پوچھتا کہ حضور ﷺ میرا مقام جنت ہے یا جہنم ؟ کوئی یہ سوال کرتا کہ میرا باپ کون ہے ؟ ظاہر ہے ‘ اس طرح کے سوالات پیغمبر کے ادب و احترام کے خلاف تھے۔ ضروری تھا کہ ان سوالات کو روک کر ان کی تربیت کا انتظام کیا جاتا اور بعض سوالات ایسے تھے جو شریعت کے مزاج کو نہ سمجھنے کا نتیجہ تھے۔ وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے کہ پیغمبر کی زبان سے اللہ کے قانون کا اعلان اور اظہار ہوتا ہے۔ ان کی زبان سے جو نکلے گا وہ قانون بن جائے گا۔ اس لیے ہم اسلامی احکام کے سلسلے میں ایسا کوئی سوال نہ کریں جس سے پابندیوں میں اضافہ ہوسکتا ہو یا احکام سخت ہوسکتے ہوں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :
وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ البَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً (آل عمران : 97)
(جو بیت اللہ تک جانے کی استطاعت رکھتے ہیں ‘ ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے حج فرض ہے)
ایک شخص جس کا نام ” اقرع بن حابس “ تھا۔ اس نے کھڑے ہو کر سوال کیا۔ حضور کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔ اس نے پھر پوچھا ؟ آپ نے پھر اعراض فرمایا۔ تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ نے فرمایا : تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ’ ہاں ‘ نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار دیا جائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکو گے اور نافرمانی کرنے لگو گے۔ یہ حالات اور اس سے پیدا ہونے والی وہ صورت حال تھی جس کی اصلاح کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآئَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ج وَاِنْ تَسْئَلُوْا عَنْھَا حِیْنَ یُنَرَّلُ القُرْاٰنُ تُبْدَ لَکُمْ ط عَفَا اللہ ُ عَنْھَا ط وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ حَلِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 101)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو ‘ جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ لیکن اگر تم انھیں ایسے وقت پوچھو گے ‘ جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا ‘ اسے اللہ نے معاف کردیا ہے۔ وہ درگزر کرنے والا اور بردبار ہے “۔
سوال کرنے کی ممانعت کی دو بنیادی وجوہ
اس آیت کریمہ میں دو وجہ سے سوال کرنے سے روکا گیا ہے اور جو اسباب سوال کرنے کا باعث بن رہے ہیں ‘ اگر تدبر سے کام لیا جائے ‘ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں تو وہ اسباب بھی اس آیت میں صاف جھلک رہے ہیں۔
سوال سے منع کرنے کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تم اگر ایسے امور کے بارے میں سوال کرو گے ‘ جس کا تعلق تمہاری پرائیویٹ زندگی سے ہے۔ اللہ سے چونکہ کوئی چیز مخفی نہیں ‘ ممکن ہے تمہارے سوال کے جواب میں وہ بات تمہیں بتادی جائے۔ لیکن اگر وہ بات تمہاری معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہونے والی ہو تو خود سوچو تمہارے لیے کیسے پیچیدہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور جب ان مسائل سے تمہیں واسطہ پڑے گا تو تم اپنے آپ کو کو سو گے اور تمہارے متعلقین تمہیں برا بھلا کہیں گے ‘ اس طرح اپنی عزت بھی کھو دو گے اور اپنے خاندان کے لیے بھی مسائل پید اکر دو گے۔ پھر یہ بات بھی کہ اللہ کے نبی دنیا میں شخصی خبریں دینے کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے آتے ہیں اور ان معاملات میں راہنمائی دیتے ہیں ‘ جس میں راہنمائی کی اور کوئی صورت ممکن نہیں۔ اس لیے بجائے وہ باتیں پوچھنے کے ایسی ویسی باتیں پوچھنا ‘ جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضروت ہے اور نہ دنیا کے کسی اہم معاملہ میں تو یہ سراسر نبوت کے مقام کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اس لیے مسلسل تربیت سے اس بنیادی کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرو۔
سوال سے منع کرنے کی دوسری وجہ جو اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی آسانی کے لیے بعض امور کو مجمل بیان کیا ہے اور ہمیں اس کی تفصیل کی پابندیوں سے بچایا ہے اور بعض احکام مطلق بیان کیے ہیں ‘ جس میں مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پروردگار ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات ‘ تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ امت مسلمہ پر بہت بڑا ظلم کرتا ہے اور مسلمانوں کو ایک بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ مابعد الطبیعی امور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی ‘ ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ الجھن کے مواقع بڑھیں گے اور احکام میں جتنی قیود زیادہ ہوں گی پیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی کے امکانات اسی قدر زیادہ ہوں گے۔ مزید یہ بات بھی کہ آنحضرت ﷺ چونکہ آخری رسول ہیں ‘ آپ کے بعد وحی الٰہی کا سلسلہ رک جائے گا ‘ اس لیے قیامت تک آنے والے مسائل کے بارے میں ایک متعین بات کہہ کر ہمارے لیے زندگی کو مشکل نہیں بنایا گیا بلکہ بنیادی اصول دے کر مسلمانوں کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھول دیا گیا ہے تاکہ وہ ہر دور میں شریعت اسلامی کے مزاج کو سامنے رکھ کر اس کے نظائیر پر غور کر کے ‘ احکام کی علتوں کو پہچان کر ‘ خود سے اسلامی احکام کا تعین کریں۔ ایسی کوششوں کے سلسلے میں یقینا مجتہدین میں اختلافات ہوں گے اور قانون سازی کے مراحل میں یہی وہ اختلافات ہیں ‘ جو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق امت کے لیے رحمت ثابت ہوتے ہیں۔ چناچہ انہی حکمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے سختی سے اس طرح کے سوالات کرنے سے منع فرمایا ‘ جس طرح قرآن کریم میں منع کیا جا رہا ہے۔ چناچہ حدیث میں ہے :
ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ
(مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے ‘ جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا ‘ جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھہرائی گئی۔ )
ایک دوسری حدیث میں ہے :
ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا وحرم حرمات فلا تنتھکوھا وحد حدودًا فلا تعتدوھا وسکت عن اشیاء من غیر نسیان لا تبحثوا عنھا
( اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں انھیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو لہٰذا ان کی کھوج نہ لگائو)
جو سوالات دین سیکھنے اور بات سمجھنے کے لیے پوچھے جاتے ہیں ‘ نہ قرآن کریم نے ان کی ممانعت کی ہے نہ رسول اللہ ﷺ نے۔ جن دو باتوں کی وجہ سے سوالات کی ممانعت فرمائی گئی ہے ‘ اس کا ذکر اوپر گزر چکا۔ لیکن آج جب کہ قرآن کا نزول بند ہوگیا ہے ‘ وحی الٰہی رک گئی ‘ اب احکام میں اضافے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی اس آیت کریمہ پر عمل باقی ہے ؟ یعنی کیا اب بھی امت مسلمہ اس بات کی پابند ہے کہ وہ شریعتِ اسلامی کے بارے میں سوالات نہ کرے ؟ بات یہ ہے کہ آج یقینا وہ خطرہ باقی نہیں رہا ‘ جو پیغمبر کی زندگی میں وحی الٰہی کے نزول کے وقت ہوتا ہے۔ لیکن غیر متعلق اور لایعنی سوالات اور فضول قیل و قال سے جو نقصان اس وقت ہوتا تھا ‘ وہ آج بھی ہوتا ہے۔ وہ نقصان یہ ہے کہ جس آدمی کو بات سمجھنا مقصود ہو ‘ اسے کبھی ضرورت سے زیادہ سوالات کرنے کی حاجت نہیں ہوتی۔ وہ جب بات کو سمجھ لیتا ہے تو عمل کرنا شروع کردیتا ہے۔ اب اس کی ساری توجہ بہتر سے بہتر عمل کرنے پر مرتکز ہوتی ہے سوالات کی طرف نہیں۔ لیکن جس آدمی میں بےعملی یا بدعملی کے جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں ‘ وہ اس لیے سوالات نہیں کرتا کہ وہ بات کو سمجھنا چاہتا ہے بلکہ وہ اپنی بےعملی یا بدعملی کو چھپانے کے لیے سوالات کا سہارا لیتا ہے یا احکام کی پابندی سے بچنے کے لیے سوالات کے ذریعہ کوئی چور دروازہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے اور یہ مرض آج نیا نہیں ‘ ہر بےعمل قوم میں ‘ چاہے وہ صدیوں پہلے گزری ہو ‘ اس عمل کی موجودگی کا ہمیں سراغ ملتا ہے۔ اگلی آیت کریمہ میں اسی کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
Ayah 5:102قَدَ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِھَا کٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 102)
” تم سے پہلے ایک قوم نے اسی قسم کے سوالات کیے تھے ‘ پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے “۔
انھوں نے احکامات پر عمل کرنے کی بجائے مسلسل سوالات کے ذریعہ ‘ جب اپنے لیے آسانیاں تلاش کرنا شروع کیں تو سوالات کے نتیجے میں تفصیلات اور قیود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرلیا۔ پھر خود ہی اس میں الجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمایوں میں مبتلا ہوگئے۔ انھوں نے تو اپنے لیے چور دروازے تلاش کیے تھے ‘ لیکن ان کی نادانیوں کے نتیجے میں مزید احکام نازل ہوتے گئے اور احکام میں شدت آتی گئی۔ لیکن اصل چیز جس کی طرف اس قوم کی مثال سے توجہ دلائی گئی ہے ‘ وہ اس قوم کی بدعملی پر مبنی ان کا ذہنی رویہ ہے (اور یہ یاد رہنا چاہیے کہ یہاں اس قوم سے مراد یہود ہیں) ان کے ذہنی رویے کی عکاسی قرآن کریم نے سورة البقرۃ میں ایک واقعہ سے کی ہے ‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومیں جب بدعمل یا بےعمل ہوجاتی ہیں تو وہ احکام کی تعمیل کرنے کی بجائے کس طرح کا رویہ اختیار کرتی ہیں اور اس رویے کے نتیجے میں اپنے لیے کیسی کیسی مشکلات پیدا کرلیتی ہیں۔
وہ واقعہ سورة البقرۃ میں آیت نمبر 67 تا 71 میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم اس کا ترجمہ نقل کردیتے ہیں :
( پھر وہ واقعہ یاد کرو ! جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔ بولے ‘ اچھا ! اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ! اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہیے ‘ جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے ‘ اس کی تعمیل کرو۔ پھر کہنے لگے ! اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ فرماتا ہے ‘ زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے ‘ جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہوجائے۔ پھر بولے ! اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتائو ‘ کیسی گائے مطلوب ہے ‘ ہمیں اس کے تعین میں اشتباہ ہوگیا ہے۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا : اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے ‘ جس سے خدمت نہیں لی جاتی ‘ نہ زمین جوتتی ہے ‘ نہ پانی کھینچتی ہے ‘ صحیح سالم اور بےداغ ہے۔ اس پر وہ پکار اٹھے کہ ہاں ! اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر انھوں نے اسے ذبح کیا ‘ ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے)
یہ ذہنیت یا ذہنی رویہ یہود کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جب بھی کسی امت میں بےعملی اپنی جڑ بنا لیتی ہے ‘ اس کی کیفیت اس سے مختلف نہیں ہوتی۔ آج مسلمانوں میں اگر آپ دیکھنا چاہیں تو آپ کو جابجا اس کی مثالیں ملیں گی۔ اسلامی شریعت کے کسی بھی حکم کی بات چھیڑ کے دیکھ لیجئے ‘ ایک فرد سے لے کر اجتماعی اداروں تک ‘ بجائے اس پر عمل کرنے کے ‘ یہی رویہ آپ کو کارفرما دکھائی دے گا۔ بحثوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا اور ایک مخلص اور سنجیدہ آدمی یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ یا اللہ ! یہ کیا رویہ ہے ؟ لیکن پریشان کن چیز یہ رویہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ ذہنیت ہے ‘ جس کے نتیجے میں یہ رویہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ کے لیے اس امت کو بلاضرورت سوالات کرنے سے منع فرمایا ہے بلکہ ہر ایسے کام سے منع فرمایا ہے ‘ جس کا دنیا اور دین سے کوئی تعلق نہیں۔ ارشاد فرمایا :
من حسن اسلام المرئِ ترکہ ما لا یعنیہ
(کسی بھی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی باتوں کو چھوڑ دے)
اس لیے آج بھی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم اپنا قیمتی وقت بجائے ضروری امور میں صرف کرنے اور دین سیکھنے میں لگانے کے فضول سوالات میں ضائع کریں اور اسے ہم دینی خدمت سمجھیں۔ آپ نے بعض لوگوں کو دیکھا ہوگا جو عجیب و غریب ‘ غیر متعلق باتوں میں وقت صرف کر رہے ہوتے ہیں اور اسے تحقیق کا نام دیتے ہیں۔ کوئی پوچھتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا نام کیا تھا ؟ کسی نے یہ تحقیق شروع کر رکھی ہے کہ کشتی نوح کا طول و عرض کیا تھا ؟ کوئی حروف مقطعات کے معنی معلوم کرنے کی فکر میں ہے اور کسی کو یہ فکر لاحق ہے کہ متشابہات کا مفہوم معلوم کیا جائے حالانکہ خود قرآن کریم نے متشابہات کے پیچھے پڑنے والے کو ذہنی کج روی کا مریض قرار دیا ہے کیونکہ متشابہات بالعموم اللہ کی صفات پر مشتمل ہیں یا اللہ کی ان مخلوقات سے متعلق ہیں ‘ جن کا تعلق عالم غیب سے ہے ‘ کسی آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ عالم غیب پر رسائی حاصل کرسکے۔ اب اگر وہ اس کو اپنی تحقیق کا موضوع بناتا ہے تو اندازہ فرمایئے ! آخر وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح کی مصروفیات ہیں ‘ جو قوائے عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں۔
سورة المائدہ میں احکام کے بیان کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ دو باتوں پر زور دیا گیا ہے۔
سورة المائدہ کے دو بنیادی مضامین
1 حلت و حرمت کی اتھارٹی اور اختیار اللہ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں۔ جو بھی یہ اختیار اپنے لیے مخصوص کرتا ہے ‘ وہ گویا اللہ کی صفت حاکمیت اور اس کی کبریائی میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہے اور یہ ایک بدترین شرک ہے ‘ جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرماتا۔
2 مخلوقات کے لیے ایسی عزت و حرمت کا فیصلہ کرنا ‘ جس کا تعلق ثواب و عقاب سے ہو اور جس کا رشتہ دین سے باندھا جائے ‘ اس کا حق بھی سوائے اللہ کی ذات کے اور کسی کو نہیں۔ جو چیز اس کی طرف منسوب ہوجاتی ہے یا اس کی عظمت کی علامت بن جاتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے انسانوں کے لیے واجب الاحترام قرار دے دیتا ہے اور ایسی چیزیں جن کا احترام اور ادب واجب ہے ‘ انھیں ” شعائر اللہ “ کہا گیا ہے۔ کسی کو شعائر اللہ میں سے قرار دینا ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ دوسرا اگر کوئی ایسا کرے تو یہ شرک ہے۔
اگلی آیت کریمہ میں مشرکین مکہ کی اس جسارت کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفات اور پروردگار کے ان دونوں خصوصی حقوق میں ‘ دوسروں کو دخیل کر کے شرک کا ارتکاب کرتے تھے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اسے اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ہمیں یا ہمارے بتوں یا ہمارے دیوتائوں کو اللہ نے اس کا حق دیا ہے۔
Ayah 5:103مَاجَعَلَ اللہ ُ مِنْم بَحِیْرَۃٍ وَّ لاَ سَآئِبَۃٍ وَّلاَ وَصِیْلَۃٍ وَّلاَ حَامِ لا وَّلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللہِ الْکَذِبَ ط وَاَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (المائدہ : 103)
” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں (کہ ایسے اوہام کو مان رہے ہیں) “۔
جس طرح ہمارے ملک میں گائے ‘ بیل اور بکرے اللہ کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انھیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے ‘ اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو پُن کر کے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔
بحیرہ : اس اونٹنی کو کہتے تھے ‘ جو پانچ دفعہ بچے جَن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا ‘ نہ اس کا دودھ پیا جاتا ‘ نہ اسے ذبح کیا جاتا ‘ نہ اس کی اون اتاری جاتی۔ اسے حق تھا کہ جس کھیت اور جس چراگاہ میں چاہے ‘ چرے اور جس گھاٹ سے چاہے ‘ پانی پئے۔
سائبہ : اس اونٹ یا اونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی منت کے پورا ہونے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر بطور شکرانہ کے پُن کردیا گیا ہو۔ نیز جس اونٹنی نے دس مرتبہ بچے دیئے ہوں اور ہر بار مادہ ہی جنی ہو ‘ اسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔
وصیلہ : اگر بکری کا پہلا بچہ نر ہوتا تو وہ خدائوں کے نام پر ذبح کردیا جاتا اور اگر وہ پہلی بار مادہ جنتی تو اسے اپنے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اگر نر اور مادہ ایک ساتھ پیدا ہوتے تو نر کو ذبح کرنے کی بجائے یونہی خدائوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کا نام وصیلہ تھا۔
حام : اگر کسی اونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا تو اس بوڑھے اونٹ کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نیز اگر کسی اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوجاتے تو اسے بھی آزادی مل جاتی۔
اندازہ فرمایئے ! جن جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور انسانوں کو ان سے انتفاع کی اجازت دی اور جنھیں انسان کی خدمت کے لیے وجود بخشا گیا ‘ کیسی جہالت کی بات ہے کہ ان جانوروں کو ‘ جنھیں اللہ نے مختلف کاموں کے لیے انسانوں کی خدمت میں دیا تھا ‘ مخدوم بنادیا جائے اور جن سے نفع اٹھانے کا انسانوں کو حق بخشا گیا تھا ‘ انھیں مقدس اور مطہر بنا کر محض آوارہ گھومنے کے لیے چھوڑ دیا جائے اور اس میں اللہ نے جتنی نفع کی شکلیں رکھی تھیں انسانوں کو اس سے محروم کردیا جائے۔ لیکن جہالت کے ساتھ ‘ جب مذہبی عقیدت شامل ہوجاتی ہے تو ایک ایسی جبر کی صورت اختیار کرلیتی ہے کہ اس پر چلنے والے نہ صرف اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ اسے اپنی عقیدت کا مظہر سمجھتے ہوئے اسے باقی رکھنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور مزید ستم کی بات یہ ہے کہ ہر برائی کی طرح یہ برائی بھی کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ یہ شاید جہالت کا نتیجہ ہے آج جبکہ روشنی علم و ہنر کا دعویٰ ہے ‘ مختلف قوموں اور ممالک میں آج بھی اس کا چلن دکھائی دیتا ہے۔ خود مسلمان ‘ جنھوں نے جاہلیت کو ختم کر کے دنیا کو وحی الٰہی کی روشنی سے منور کیا ہے ‘ ان کے مختلف علاقوں میں آج بھی اس کے مظاہر کہیں کہیں نظر آجاتے ہیں۔ کئی پیران کرام اپنے مریدوں کے پاس جب نزول اجلال فرماتے ہیں تو بعض دفعہ جانوروں کا ایک غول بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے مریدوں کے پاس مقیم رہتے ہیں ‘ یہ جانور جو اکثر گائیوں پر مشتمل ہوتے ہیں ‘ آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں ‘ جس فصل کو چاہتے ہیں ‘ اجاڑ دیتے ہیں۔ کسی بھی کھانے والی چیز میں منہ ڈال دیں ‘ کوئی اسے روکنے کی جرأت نہیں کرتا کیونکہ انھیں یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ یہ مقدس جانور ہیں ‘ انھیں اگر روکا گیا تو اس کے نتیجے میں تمہارے رزق میں کمی آجائے گی یا تم کسی اور نقصان سے دوچار کردیئے جاؤ گے اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے ‘ جیسے اس سے پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس سراسر جہالت کی کارروائی کو یہ نام نہاد پیران کرام مشرکین مکہ کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس لیے اس آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ یہ لوگ سراسر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور سمجھتے اس لیے نہیں وَاَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ ” اور اکثر ان میں عقل نہیں رکھتے “۔ یعنی بیوقوف ہیں ‘ انھوں نے جہالت کو علم سمجھ رکھا ہے اور گمراہی کو ہدایت سمجھتے ہیں اور اتنی معمولی بات نہیں سمجھتے کہ زندگی گزارنے یا زندگی میں راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ‘ ہمارے پاس بنیادی ذرائع کیا ہیں۔ یہ بجائے ان بنیادی ذرائع کی طرف لوٹنے کے اپنے نام نہاد مفروضوں پر زندگی گزارنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ایک بےعقلی کا عمل ہے ‘ جس کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ ان کی اس بےعملی کی دلیل اور اس پر تنبہ کے لیے اگلی آیت میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔
Ayah 5:104وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلیٰ مَآ اَنْزَلَ اللہ ُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْہِ اَبَآئَ نَا ط اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لاَ یَھْتَدُوْنَ ۔ (المائدہ : 104)
” جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس چیز کی طرف آئو ‘ جو اللہ نے اتاری ہے اور رسول کی طرف آئو تو جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے وہی کافی ہے ‘ جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ‘ کیا اس صورت میں بھی ‘ جبکہ ان کے باپ دادا نہ کچھ جانتے رہے ہوں اور نہ ہدایت پر رہے ہوں “۔
آباء کی اندھی تقلید
عرب کے جاہل معاشرے میں جس چیز نے ان کو جہالت پر ثابت قدم رکھا ہوا تھا اور جس کی وجہ سے وہ اپنی نادانیوں اور بےوقوفیوں کو بھی عقل اور ہدایت کی بات سمجھتے تھے ‘ وہ ان کی تقلید آباء کی ایک مستقل روایت تھی ‘ جس سے وہ دستبردار ہونے کو کسی بھی طرح تیار نہیں تھے۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ زندگی میں صحیح راہ عمل اختیار کرنے اور صحیح اہداف مقرر کرنے اور پھر کامیابی سے اس پر چلنے کے لیے دو چیزیں درکار ہیں اور جس کے بھی دماغ میں تھوڑی سی عقل موجود ہے ‘ وہ ان دونوں باتوں سے انکار نہیں کرسکتا۔ وہ ہیں علم اور اہتداء۔ آپ کسی بھی چیز کو اختیار کرنا چاہیں ‘ کوئی رویہ اپنانا چاہیں ‘ کسی طرز عمل کا فیصلہ کرنا چاہیں تو سب سے پہلے آپ اس کے مَالَہٗ وَمَا عَلَیْہِسے واقف ہونا ضروری سمجھیں گے۔ آدمی تجارت کرنا چاہے تو تجارت کے رموز و اسرار سے آگاہی حاصل کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ملازمت کرنے کا ارادہ ہو تو ملازمت کی تمام شرائط کو جاننا اور اس کی پوری تفصیلات کو سمجھنا ‘ یہ ہماری جانی پہچانی سی بات ہے۔ کھیلوں سے لے کر زندگی کے سنجیدہ فرائض تک کوئی سا کام بھی پیش نظر ہو ‘ جب تک اس کی مکمل واقفیت حاصل نہیں کرلی جاتی ‘ اس وقت تک اس کام کو شروع کرنا ‘ بےعقلی کی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے ” علم “ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسری چیز جس کا جاننا اسی طرح ضروری ہے ‘ وہ یہ کہ جس طرح آپ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اس کا علم حاصل کرتے ہیں ‘ اسی طرح آپ یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں نے کامیابی سے اس کام کو سرانجام دیا ہے ‘ میں ان لوگوں سے مل کر دیکھوں ‘ تاکہ مجھے یہ معلوم ہو سکے کہ اس راستے کے نشیب و فراز کیا ہیں اور اس راستے میں کیا کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ یعنی علم کے ساتھ ساتھ اس راستے پر چلنے والوں کا عمل ‘ ان کا تجربہ ‘ نئے چلنے والوں کے لیے راہنمائی کا کام دیتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے ‘ جس کو اہتداء کہا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ‘ اگر اختصار سے ہم ان دونوں لفظوں کی تعریف کریں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ علم نام ہے منزل مقصود اور اس تک پہنچنے کے طریقوں کی آگاہی کا اور اہتداء اس علم کے مطابق عمل مستقیم کا نام ہے۔ یہی دو چیزیں جس طرح زندگی کے عام معمولات کے لیے ضروری ہیں ” خود زندگی کے لیے “ اس سے بھی زیادہ ضروی ہیں اور پھر ایسی زندگی جس کا تعلق صرف دنیا سے ہی نہیں بلکہ آخرت سے بھی ہو اس میں تو ان دونوں چیزوں کی پابندی اور بھی ضروری ہوجاتی ہے۔
اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ خود زندگی کا مقصود کیا ہے ؟ زندگی کے سفر کی آخری منزل کیا ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے طریقے کیا ہیں اور پھر وہ کونسی شخصیت ہے ‘ جس نے ان طریقوں پر چل کر اور منزل مقصود کو آسان بنا کر انسانی زندگی کے لیے راہنمائی فراہم کی ہے ؟ اگر کسی شخص کے دل و دماغ پر اندھی عصبیت کی پٹی بندھی ہوئی نہیں ہے تو اس کے لیے یہ جاننا کوئی مشکل نہیں کہ یہ علم وہ ہے ‘ جو نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل کیا جا رہا ہے اور اس راستے کے راہنما وہ ہیں ‘ جنھیں ہم نبی آخر الزماں کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن عرب کے مشرکین کی نادانی ملاحظہ فرمایئے کہ انھیں جب علم اور اہتداء کے انہی دونوں ذرائع کی طرف دعوت دی جاتی ہے کہ آئو ! اسے قبول کرو اور اس کی راہنمائی میں زندگی گزارو ‘ تو وہ اس کے جواب میں کس قدر نادانی کی بات کہتے ہیں کہ ہمیں اس طرف نہیں آنا بلکہ ہماری راہنمائی کے لیے تو وہ چیز کافی ہے ‘ جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر علم اور اہتدا کو نظرانداز کر کے صرف تقلید آباء ہی کو زندگی کا راہنما مان لیا جائے تو پھر وہ علم اور عقل جو انسانیت کے جوہر ہیں ‘ ان کا تو دنیا سے جنازہ اٹھ جائے گا اور اس کے بعد خود انسان کا مستقبل کیا ہوگا۔ کیوں کہ تقلید آباء تو زندگی گزارنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔ ہاں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اگر آباء و اجداد علم اور ہدایت کے نور سے بہرہ ور ہوں اور وہ یہی روشنی آئندہ نسلوں کے سپرد کرنا چاہتے ہوں تو پھر یقیناان کی تقلیدہونی چاہیے کیونکہ یہ تقلید اصلاً ان کی نہیں بلکہ اس علم و ہدایت کی ہے ‘ جس کی خود وہ تقلید کرتے رہے ہیں ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل جس راہنمائی کے پیچھے چلنا ہے ‘ وہ علم اور ہدایت ہے ‘ آبائو اجداد نہیں۔ اس لیے مشرکین عرب کو اپنی جہالت سے نکل کر اور عصبیت سے جان چھڑا کر علم و ہدایت کی روشنی سے اکتساب فیض کرنا چاہیے ‘ اسی میں ان کی دنیا ہے اور اسی میں آخرت۔
مشرکینِ عرب کے رویے پر قرآن کریم کی اس تنقید کی روشنی میں ہمارے سوچنے کی بھی بہت سی باتیں ہیں۔ ہم جب اپنے حالات پر نظر ڈالتے اور اپنے گرد و پیش کو دیکھتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علم کے سارے دعوؤں کے باوجود ‘ ہم بھی اس بیماری کے شکار ہیں۔ دیہات میں برادریوں کے فیصلے بالعموم آبائو اجداد کی تقلید پر مبنی ہوتے ہیں۔ کوئی سی بات کر کے دیکھ لیجئے ‘ ان کا سب سے بڑا حوالہ یہی ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور کوئی اللہ کا بندہ اگر کبھی ان کی غلطیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے تو اسے ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جہاں تک شہروں کا تعلق ہے ‘ دینی معاملات میں شہروں کے رہنے والوں کا حال بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ‘ بجز اس کے کہ اللہ نے کسی پر اپنا فضل کیا ہو اور وہ اہل علم کی مجلسوں میں بیٹھنے کی وجہ سے یا اپنے ذاتی مطالعہ کے نتیجے میں دین کی بنیادی باتیں سمجھ چکا ہو تو اور بات ہے ورنہ ہمارے اکثر تعلیم یافتہ لوگ اپنی مذہبی تعلیم سے یکسر بیگانہ ہیں ‘ اس لیے ان کی راہنمائی کا بھی سب سے بڑا ذریعہ ان کے اپنے آبائو اجداد کا طرز عمل ہی بنتا ہے۔ آپ اگر ان کی غلطیوں پر انھیں آگاہ کیجئے تو وہ جواب میں یہی کہیں گے کہ ہم نے اپنے بڑوں کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور جہاں تک ہمارے سیاسی معاملات کا تعلق ہے ‘ اس میں بھی وسعت ظرف اور شعور و آگہی کا چلن کوئی زیادہ دکھائی نہیں دیتا ‘ بلکہ پارٹی کی روایت، بڑے لیڈروں کے فیصلے اور اگر کوئی ایسا بڑا لیڈر ہو جس کی عقیدت نے اکثریت کو اسیر کر رکھا ہو تو اس کے ذاتی فیصلے اور ذاتی پسندو ناپسند پوری پارٹی کی راہنما بن جاتی ہے ‘ قطع نظر اس سے کہ اس میں علم و ہدایت کا کوئی دخل ہے یا نہیں۔ اس لیے ہمارے لیے بھی یہ سوچنا ازبس ضروری ہے کہ قرآن کریم کی دی ہوئی اس راہنمائی کے مطابق ہم اپنے طرز عمل میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں یا نہیں۔ اگلی آیت کریمہ میں براہ راست مسلمانوں سے خطاب فرمایا جا رہا ہے ‘ جس میں انھیں نہایت اساسی باتوں پر توجہ دلائی جا رہی ہے۔