5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

کہہ دو : اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں جب تک تم تورات ‘ انجیل اور اس چیز (قرآن) کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو

قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوْا التَوْرَاۃَ وَالاِْنْجِیْلَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْط وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا ج فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 68) ’ ’ کہہ دو : اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی بنیاد نہیں جب تک تم تورات ‘ انجیل اور اس چیز (قرآن) کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے۔ لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی تو تم اس کافر قوم پر غم نہ کرو “۔ شہادتِ حق کے منصب پر فائز امت کا اصل کام اس سلسلے میں سب سے پہلے اس چیز کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ‘ جو اہل کتاب کی ہدایت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی تھی ‘ وہ چیز اہل کتاب کا یہ زعم باطل تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘ ہماری حیثیت دنیا کی ساری قوموں کے مقابلے میں ایک منفرد نوعیت کی ہے۔ ساری دنیا اپنے اعمال کے حوالے سے پرکھی جائے گی ‘ لیکن ہمارے لیے یہ نسبتیں کافی ہیں۔ ہم کیسی بھی بداعمالیاں کیوں نہ کریں جہنم کی آگ ہمیں کبھی نہ چھوئے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ چند روز کے لیے ہمیں جہنم میں جانا پڑے ‘ لیکن اس کے بعد جنت کے وارث ہم ہی ہوں گے۔ ان کے یہی تصورات تھے جنھوں نے انھیں شریعت کی پابندیوں سے یکسر غافل کردیا تھا۔ وہ بڑے سے بڑا جرم کرنے میں دلیر اس لیے ہوگئے تھے کہ انھیں جوابدہی کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے آپ کو اپنے قومی خصائص کی وجہ سے ان چیزوں سے بہت بالا بلند سمجھتے تھے۔ سب سے پہلے ان کے اسی احساسِ تفاخر پر چوٹ لگائی گئی ہے۔ ایک جراح کا نشتر ہمیشہ وہاں چبھتا ہے جہاں مادہ فاسد جمع ہوتا ہے کیونکہ اگر جسم سے فاسد مادہ نکال دیا جائے تو جسم اصلاح کے راستے پر پڑجاتا ہے۔ ان کی اصلاح کی صورت بھی یہی تھی کہ ان کے اس احساسِ تفاخر پر چوٹ لگتی اور یہ فاسد مادہ ان کے دماغوں سے نکلتا تو پھر امید کی جاسکتی تھی کہ شاید وہ اصل حقیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس لیے فرمایا کہ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ‘ تم کسی بنیاد پر نہیں ہو۔ اس لیے کہ نسبتوں کا دعویٰ کرنا اور ایمان و عمل سے تہی دامن ہوجانا ‘ یہی تو محرومی کی دلیل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ تم اپنی محرومی کو اپنی خوبی بلکہ تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھ رہے ہو۔ اب اس پیغام کے آغاز ہی میں جو چوٹ لگائی جا رہی ہے ‘ اس سے یہ اندیشہ بےسبب نہیں کہ وہ لوگ بھڑک کر کچھ بھی کر گزریں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اصلاحی عمل میں اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کیونکہ بیمار جسم سے مادہ فساد نکالنا یا اس کو ابھار کر اوپرلے آنا ‘ بہت ضروری ہوتا ہے۔ مشہور ہے کہ نظام حیدرآباد دکن نے ایک دفعہ حکیم اجمل خان کو اپنی ایک جلدی بیماری کے علاج کے لیے اپنے یہاں بلایا۔ حکیم صاحب نے جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کے لیے آپ کو میرے مطب میں تشریف لانا ہوگا۔ نظام نے ہرچند کوشش کی کہ حکیم صاحب اس کے یہاں حاضری دینے پر آمادہ ہوجائیں ‘ لیکن حکیم صاحب اس کے لیے تیار نہ ہوئے۔ مجبوراً اپنی تکلیف کی وجہ سے نظام حکیم صاحب کے پاس آئے۔ حکیم صاحب نے مزید ستم یہ کیا کہ بجائے باہر آکر ان کا استقبال کرنے کے ‘ ان کو انتظار گاہ میں بٹھا دیا۔ نظام صاحب نے اس کو اپنی توہین جانا، غصے سے بےقابو ہوگئے اور انتظار گاہ میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے اور بار بار غصے کا اظہار بھی کرنے لگے۔ حکیم صاحب نے کافی انتظار کے بعد جب ان کو اپنے پاس بلایا تو اس وقت تک نظام صاحب کا غضب اپنی حدود عبور کرچکا تھا۔ اب حکیم صاحب ان کی پیشوائی کے لیے آگے بڑھے ‘ نہایت معذرت پیش کی جب ذرا ان کا غصہ فرو ہوا تو تب انھیں بتایا کہ یہ جو کچھ میں نے کیا ‘ یہ سب کچھ آپ کے علاج کے لیے ضروری تھا۔ آپ کی جلدی تکلیف کے علاج کے لیے ضروری تھا کہ آپ کو جوشِ غضب میں مبتلا کیا جاتا اور اس کے نتیجے میں چہرے پر جس کیفیت کا اظہار متوقع تھا ‘ اس سے میں مرض کا اندازہ کرسکتا تھا ‘ چناچہ میں نے ایسا ہی کیا اور میرے اندازے کے مطابق نتائج سامنے آئے اور میں مرض کو سمجھنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علاج کے لیے مرض کا اظہار ‘ بعض دفعہ ضروری ہوجاتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال سے اہل کتاب کو دوچار کرنے کے لیے سب سے پہلے ان کے اصل مادئہ فساد پر چوٹ لگائی گئی اور پھر انھیں اصل مرض سے آگاہ کیا گیا ہے کہ تم اپنی حیثیت نام نہاد نسبتوں میں سمجھتے ہو حالانکہ ایک حامل دعوت امت ہونے کے لحاظ سے اور شہادت حق کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے تمہارا اصل کام یہ تھا کہ تم تورات اور انجیل اور اس چیز کو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ اسے قائم کرو یعنی زندگی کے معاملات و مسائل سے عملاً ان کا ربط قائم کرو۔ زندگی کے تمام شعبوں میں اس کی حاکمیت کو بروئے کار لائو ‘ انفرادی اور اجتماعی زندگی انہی کی راہنمائی میں دے دو ‘ ہر دیکھنے والا محسوس کرے کہ زندگی کے ہر شعبے پر صرف ان کتابوں کی راہنمائی کی چھاپ کے سوا اور کچھ نہیں۔ سابقہ رکوعوں میں تفصیل کے ساتھ یہ بات بتائی گئی ہے کہ یہ تورات و انجیل اللہ کے عہد و میثاق کے صحیفے ہیں۔ ان میں اللہ نے اپنے احکام و قوانین دیئے اور یہ عہد لیا کہ انہی کے مطابق زندگی گزاری جائے اور انہی کے مطابق باہمی نزاعات کے فیصلے کیے جائیں۔ اسی ذمہ داری کے لیے ان کے حاملین کو قوامین بالقسط اور شہداء اللہ کا لقب عطا ہوا۔ اگر اسی عہد و میثاق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں اور زندگی سے عملاً ان کا کوئی تعلق یا تو سرے سے باقی ہی نہیں رہا یا باقی ہے تو صرف اس حد تک جس حد تک اپنی خواہشوں کی سند اس سے حاصل ہو سکے تو آخر دینی پیشوائی مذہبی تقدس اور خدا رسیدگی کے یہ سارے دعوے کس بنیاد پر ہیں ؟ ایسے لوگوں کو اللہ سے کیا تعلق اور اللہ کو ایسے لوگوں سے کیا واسطہ ؟ بنی اسرائیل کو قرآن نافذ کرنے کا حکم اور ان کا رد عمل اس آیت کریمہ میں تورات و انجیل کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کو قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے لیکن اس کی تعبیر بجائے لفظ قرآن کے مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ سابقہ رکوع کی وضاحت میں اگرچہ ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں ‘ لیکن یہاں بھی اتنی بات یاد رکھنے کی ہے کہ اسی آیت میں آگے مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِّنْ رَّبِّکَ کا جملہ آرہا ہے ‘ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن قرآن کریم کے لفظ کی بجائے یہ تعبیر اختیار کرنا اس میں کئی حکمتیں ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ تورات ‘ زبور اور انجیل یہ بنی اسرائیل کی طرف نازل ہوئی تھیں۔ اب اہل کتاب کو غلط فہمی یہ تھی کہ قرآن کریم شاید بنی اسماعیل کی طرف نازل ہوا ہے۔ ان کی یہ غلط فہمی دور کی جا رہی ہے کہ یہ قرآن کریم ذکر للعالمین ہے یعنی سارے جہانوں کے لیے نصیحت بن کے آیا ہے۔ اس کا خطاب کسی ایک قبیلے یا قوم سے نہیں ‘ اس لیے جس طرح اس کے مخاطب بنی اسماعیل ہیں ‘ اسی طرح تم بھی ہو۔ تمہیں آگے بڑھ کر اس کتاب کا حامل بننا چاہیے کیونکہ تم خوب پہچانتے ہو کہ اللہ کی طرف سے آنے والی کتابوں کی صفات کیا ہوتی ہیں اور پھر یہ بھی تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے پاس آسمانی کتابوں میں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی صفات تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ ان کی روشنی میں تمہیں قرآن کریم کو پہچاننے میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی اور مزید یہ بات بھی کہ تمہاری کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ تم سے تمہارے پیغمبروں کی معرفت یہ عہد لیا گیا تھا کہ جب وہ اللہ کے آخری رسول آئیں تو تمہیں ان پر ایمان لانا ہے اور ان کی مدد کرنی ہے اور اس عہد میں بھی رسول کا لفظ اختیار کیا گیا تھا اور یہاں اس پیغام کی تمہید میں بھی شاید اسی لیے رسول کا لفظ اختیار کیا تاکہ اہل کتاب کو اپنے عہد کو یاد کرنے میں آسانی ہو۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جیسے قرآن کریم نازل ہوتا گیا اور اسلام کا دائرہ اثر پھیلتا گیا اور رسول اللہ ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے نتیجے میں اور آپ کی ہمہ گیر شخصیت کے زیر اثر اہل کتاب کا قافیہ تنگ ہوتا گیا تو ان کی دشمنی جو دھیرے دھیرے سلگ رہی تھی بجائے کم ہونے کے پوری طرح بھڑک اٹھی ‘ جس کے نتیجے میں ہدایت کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ان کے کفر اور سرکشی میں اضافہ ہوا۔ چناچہ اسی حوالے سے یہاں پروردگار ذکر فرما رہے ہیں : وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا (لیکن وہ چیز جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے ‘ وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور ان کے کفر میں اضافہ کرے گی) چناچہ ایسا ہی ہوا ان کی بعد کی تاریخ اس پر شاہد و عادل ہے کہ انھوں نے بجائے ذات رسالت مآب ﷺ اور قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرنے اور اپنا رویہ بدلنے کے اپنی سازشوں کو مزید تیز کردیا۔ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ پورے عرب میں دشمنی کی آگ تیز کردی اور ہر قبیلے میں جا جا کر ان کو اسلام کے خلاف بھڑکایا۔ آنحضرت ﷺ ان کو اہل کتاب سمجھتے ہوئے ان سے بہت امیدیں رکھتے تھے کہ یہ تو دوسرے لوگوں کی نسبت میری دعوت کو جلدی قبول کریں گے۔ اس لیے جب ان کی طرف سے اس طرح کے واقعات سامنے آتے تو حضور ﷺ کے دل کو بہت ٹھیس لگتی تھی۔ آپ ﷺ اس پر کبھی افسوس کا اظہار کرتے اور کبھی اسے دل کا غم بنا لیتے۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : فَلاَ تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (آپ اس کافر قوم پر غم نہ کھائیں ) یہ آنحضرت ﷺ کو ایک طرح کی تسلی بھی ہے اور آپ ﷺ کے طبعی اضطراب کو دور کرنے کی ایک کوشش بھی۔ پروردگار نے جیسی آپ ﷺ کو طبیعت بخشی تھی ‘ اس کو پروردگار سے زیادہ کون جانتا تھا۔ اسے خوب معلوم تھا کہ کفار اپنی اسلام دشمنی اور حق سے دوری میں جتنا آگے بڑھتے ہیں ‘ آنحضرت ﷺ کے غم اور اضطراب میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ دنیا کے لیے رحمت بن کر آئے تھے اور بندوں کے لیے رحمت کا اظہار ہدایت کی صورت میں ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے دنیا میں آدمی خوف سے نجات پاتا ‘ نفسانی آلودگیوں سے پاک ہوتا اور اخلاق حسنہ کا پیکر بنتا ہے اور آخرت میں اسی کی وجہ سے اللہ کی رضا نصیب ہوگی اور سرخروئی اس کا مقدر بنے گی۔ جب آپ دیکھتے تھے کہ یہ لوگ حق سے منہ موڑ کر جہنم کے ایندھن بنتے جارہے ہیں تو آپ کی پریشانی میں حد درجہ اضافہ ہوجاتا تھا، چناچہ خود اس کا ایک موقع پر اظہار بھی فرمایا۔ چناچہ فرمایا : ( میری اور کفار کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی تو پروانے اور دوسرے کیڑے مکوڑے اس میں آ آکر گرنے لگے اور بھسم ہونے لگے ‘ اب وہ آگ جلانے والا چاروں طرف ہاتھ مار رہا ہے کہ میں ان پروانوں کو جلنے سے بچائوں ‘ لیکن وہ پروانے ہیں کہ بجائے اس کی کاوشوں کی قدر کرنے کے ‘ جل مرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں) کہا ان لوگوں کا اور میرا بھی یہی حال ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ جہنم کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔ میں اپنی امکانی مساعی کو بروئے کار لا کر ان کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں ‘ لیکن بجائے اس کے کہ یہ میری کوششوں کے ساتھ تعاون کریں ‘ یہ میرے ساتھ دشمنی کرتے ہیں اور مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ آپ ﷺ کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑی خوشی اس بات میں تھی کہ لوگ اسلام کے راستے پر آجائیں اور کسی ایک فرد کا اسلام قبول کرلینا آپ ﷺ کے نزدیک دنیا کی سب سے قیمتی چیز سے بڑھ کر قیمتی تھا۔ چناچہ حضرت علی ( رض) کو جب یمن میں عامل بنا کر بھیجا تو آپ نے انھیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ (علی ص ! اگر تمہارے ہاتھ پر کوئی ایک یا دو کافر مسلمان ہوجائیں تو یہ تمہارے لیے سو سرخ اونٹوں سے بڑھ کر قیمتی ہے) آنحضرت ﷺ کی طبیعت اور فطرت پر معلوم ہوتا ہے انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ اس حد تک غالب تھا کہ آپ ﷺ ان کی سرکشی اور کفر کے رویے کو دیکھ کر اس حد تک کڑھتے اور پریشان ہوتے تھے کہ قرآن کریم نے متعددبار آپ کو تسلی دے کر آپ کے اس طبعی و فطری جذبے کو سکون آشنا کیا۔ سورة الکہف میں ارشاد فرمایا : (آپ محض اس لیے اپنے آپ کو بیمار کرلیں گے کہ یہ لوگ آپ کی دعوت پر ایمان نہیں لائے) اور سورة طٰہٰ میں فرمایا کہ (ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے تو نازل نہیں فرمایا کہ آپ گھل گھل کر مرجائیں ) یہاں بھی آپ کی اسی صفت رحمت اور خیر خواہی کے حوالے سے آپ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کافر قوم پر غم نہ کھائیں کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لائیں گے تو یقینا جہنم کا ایندھن بنیں گے کیونکہ ان کے ایمان لانے یا نہ لانے کے آپ مکلف نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کا کام تو صرف اللہ کا پیغام پہنچانا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے اپنی امکانی مساعی کو بروئے کار لانا ہے۔ اس پر لوگوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ‘ وہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں لاتے ‘ یہ ان کا اور پروردگار کا معاملہ ہے۔ آپ اس پر دل گرفتہ کیوں ہوتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی معرفت اہل کتاب کو جو عظیم پیغام دیا ‘ اس میں ان کی اس بنیادی بیماری کا سب سے پہلے ذکر کیا ہے کہ تم انبیاء کرام کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنے بارے میں خاص تصورات پیدا کرچکے ہو اور اسی کو تم اللہ کے یہاں اپنے تقرب کی بنیاد بنا چکے ہو۔ اس لیے انھیں صاف صاف کہا گیا کہ تمہارے لیے اصل فضیلت کی بات یہ نہیں ہے کہ تم کس انسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہو بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جو فرض اور ذمہ داری تمہیں سونپی گئی ہے کہ تم نے اللہ کے قانون کو اللہ کی دھرتی پر قائم کرنا ہے ‘ جب تک تم اس ذمہ داری کو ٹھیک ٹھیک پورا نہیں کرو گے ‘ اس وقت تک تم اپنی اس شرف اور فضیلت کو نہیں پاسکتے جو ایک حامل دعوت امت ہونے کی حیثیت سے تمہیں حاصل رہی ہے۔ اس کے بعد ان کی بدنصیبیوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اتنے واضح پیغام کے بعد بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ان کے حسد اور بغض میں مزید اضافہ ہوا اور وہ بجائے اسلام کے ‘ کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ آخر میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ اہل کتاب اگر اپنی روش کو بدلنا نہیں چاہتے تو آپ بھی ان کی روش پر غم نہ کھائیں اور اپنے آپ کو پریشان نہ کریں ‘ اب اس کے بعد کی آیت میں ان کی اسی بنیادی بیماری اور اس کے نتیجے میں حق سے دوری کو ایک دوسرے پہلو سے اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شاید وہ پیرایہ بیان کے بدل جانے کے بعد اپنی حالت پر نظر ثانی کے لیے تیار ہوجائیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ کسی بھی گہرے مرض کے علاج کے لیے اس وقت تک اس پر محنت کی جاتی ہے اور بار بار ضروری باتوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے ‘ جب تک مریض کے بارے میں مایوسی کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اور مزید یہ بات کہ مریض کے عدم تعاون کے باعث اس کا مرض چاہے کیسی ہی صورت اختیار کر جائے ‘ معالج اگر سراپا ہمدردی اور غمگساری ہے تو وہ آخری حد تک اس کو سمجھانے اور اس کا علاج کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ یہاں بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب قومی خودپسندی کے جس مرض میں مبتلا ہیں اور وہ حسب و نسب کو جس طرح آخرت میں سرخروئی کی بنیاد بنا چکے ہیں اور پھر بار بار سمجھانے کے بھی وہ اس مرض سے نکلنے پر تیار نہیں ہیں ‘ ہونا تو یہ چاہیے کہ انھیں یکسر نظرانداز کردیا جائے ‘ لیکن پروردگار اور ان کی طرف سے آنے والے رسول چونکہ انسانوں کے معاملے میں انتہا درجہ ہمدرد اور غمگسار واقع ہوئے ہیں ‘ اس لیے وہ انسانی امکانات کی حد تک ان پر اتمام حجت کردینا چاہتے ہیں۔ اس لیے پیرائیہ بیان بدل کر ان کو پھر اسی بیماری کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے ‘ جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ ‘ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰی مَنْ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاَخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (المائدہ : 69) ’ ’ بیشک جو ایمان لائے ‘ جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصاریٰ ‘ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے “۔ صٰبِئُوَنکون تھے ؟ اس آیت کریمہ میں چار مذہبی گروہوں یعنی مومن (مسلمان) یہودی ‘ نصاریٰ اور صابیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں مسلمانوں کا ذکر قطع نظر اس کے کہ باقی گروہوں کے اعتبار سے وہ راہ راست اور ہدایت پر ہیں ‘ اس وقت صرف ایک گروہ کے طور پر کرنا مقصود ہے۔ دوسرا گروہ یہودی اور تیسرا نصاریٰ ۔ ان کے بارے میں تو ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں البتہ جہاں تک چوتھے گروہ یعنی صابیوں کا تعلق ہے ‘ ان کا آج دنیا میں کہیں وجود نہیں۔ اس لیے ان کے تعارف میں دشواری پیش آتی ہے۔ اہل علم کے اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ مجاہدؔ اور حسن کے نزدیک یہ لوگ کسی خاص دین کے پیرو نہیں تھے ‘ بلکہ یہودیت اور مجوسیت کے بین بین تھے۔ ان لوگوں کے نزدیک ان کا ذبیحہ حرام ہے۔ ابن زیدؔ کا قول ہے کہ یہ ایک مخصوص دین کے پیرو تھے اور جزیرہ موصل میں آباد تھے۔ ان کا عقیدہ توحید تھا ‘ لیکن نہ تو یہ کسی نبی اور کسی کتاب کے پیرو تھے اور نہ ان کے ہاں شرعی اعمال کا کوئی مخصوص نظام تھا۔ قتادہؔ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ملائکہ کی پرستش کرتے ‘ قبلہ کی طرف نماز پڑھتے اور زبور کی تلاوت کرتے تھے۔ ابوالعالیہؔ اور سفیانؔ کے نزدیک یہ لوگ اہل کتاب میں سے ایک فرقہ تھا۔ محققین فرماتے ہیں کہ یہ اقوال بظاہر متضاد نظر آتے ہیں ‘ لیکن حقیقت میں ان میں تضاد نہیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ اوّل اوّل یہ لوگ دین حق پر تھے ‘ لیکن بعد میں یہ لوگ دین حق سے منحرف ہو کر ملائکہ اور ستاروں کی پرستش میں مبتلا ہوگئے۔ قرآن کریم نے اس گروہ کا جس انداز سے ذکر فرمایا ہے ‘ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابتدائًً دین حق پر تھے ‘ بعد میں بدعتوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے۔ تاریخی روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نماز پڑھتے تھے اور اس کا ان میں عام رواج تھا۔ چناچہ اسی اشتراک کے سبب سے مشرکین آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ ( رض) کو صابی کہتے تھے، چونکہ اس مذہب کے پیرو کاروں کا وجود اب کہیں باقی نہیں رہا ہے اور نہ ان کی کوئی مستند تاریخ ہی موجود ہے ‘ اس وجہ سے ان کے متعلق اعتماد سے کوئی بات کہنا مشکل ہے۔ لیکن قرآن مجید کے زمانہ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرقہ کی حیثیت سے ان لوگوں کا وجود بالکل معروف تھا۔ اللہ کے ہاں خاندانی نسب اور گروہی نسبت کی کوئی وقعت نہیں اہل مذاہب میں چار آسمانی کتابیں معلوم و معروف ہیں اور ان کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ تورات کے ماننے والے یہود ہیں۔ انجیل کے ماننے والے عیسائی ہیں اور قرآن کے ماننے والے مسلمان ہیں۔ صابیوں کا ذکر شاید اسی وجہ سے کیا گیا ہے کہ یہ چار کتابوں میں سے زبور کے ماننے والے تھے۔ قرآن کریم کے ان چاروں کے ذکر کرنے سے مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ دیکھو یہ چار گروہ اس وقت موجود ہیں ‘ ان میں مسلمان اس وقت راہ ہدایت پر قائم ہیں ‘ لیکن اگر وہ بھی ان تینوں گروہوں کی طرح صرف گروہی نسبت کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھ کر اس پر قانع ہو کر بیٹھ جائیں تو جس طرح ان تینوں گروہوں کے لیے یہ گروہی نسبت نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی ‘ اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی نجات کا ذریعہ نہیں بنے گی۔ اس سے اہل کتاب اور مسلمانوں کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ گروہی نسبتیں اور گروہی انتسابات اللہ کے یہاں کسی قدر و قیمت کے حامل نہیں۔ اس کے یہاں جو چیز قدر و قیمت کی حامل سمجھی جاتی ہے وہ صرف ایمان و عمل کا سرمایہ ہے۔ اس لیے اے اہل کتاب تمہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے آج تک صرف اپنے خاندانی نسب اور گروہی نسبت کو سب کچھ سمجھ کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کی ہے ‘ اس لیے اب تمہیں اپنی اس گمراہی سے تائب ہو کر راہ راست پر آجانا چاہیے۔ وحدتِ ادیان کا بھونڈا نظریہ دونوں آیتوں کے سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے اس آیت کا یہ وہ صاف اور سیدھا مفہوم ہے ‘ جو ہم نے ذکر کیا ہے لیکن برا ہو کج فہمی کا کہ بعض لوگوں نے نہ جانے کیسے یہ مفہوم اس سے اخذ کرلیا کہ سابقہ امتوں کے لوگ اگر اپنے اپنے صحیفوں اور اپنی مذہبی تفصیلات پر عمل کرتے رہیں تو ان کی نجات کے لیے کافی ہے۔ رسولوں پر ایمان لانا اور بالخصوص آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ‘ جس پر اسلام کا دارومدار ہے ‘ کوئی ضروری نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سیاق کلام خود بول رہا ہے کہ یہاں تردید ان کی گروہی عصبیت کی کی جا رہی ہے اور اہل کتاب کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم نے اپنی عصبیتوں کی وجہ سے جس طرح اپنی مذہبی اور شرعی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو آزاد کرلیا ہے ‘ یہ تمہارے لیے تباہی کا راستہ ہے ‘ حالانکہ تمہارے پاس کتابیں موجود ہیں ‘ پیغمبر آتے رہے ‘ انھوں نے ہمیشہ تمہیں ایمان و عمل کی تاکید کی ‘ لیکن بجائے ایمان و عمل پر محنت کرنے کے تم اپنی نسبتوں پر فخر کر کے آج تک زندگی گزارتے رہے ہو۔ اس لیے اب بھی موقع ہے کہ اگر ایمان و عمل کا راستہ اختیار کرو تو تم اللہ کے یہاں اجر وثواب کے مستحق ٹھہرو گے ‘ واضح ہے کہ اس میں نہ ایمان کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور نہ عملی مسائل چھیڑے گئے ہیں ‘ بلکہ ان کی بنیادی کمزوری کا ذکر کرنے کے بعد ان کو اساسی حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ لیکن جو بات کج فکری یا بدنیتی سے اس میں ڈالی جا رہی ہے ‘ جسے آج کی زبان میں وحدت ادیان کا نام دیا گیا ہے ‘ اگر اسے صحیح تسلیم کرلیا جائے تو پھر دو باتوں کا جواب ضروری ہے : ایک تو یہ بات کہ اگر کسی ایک مذہب کو ماننا اور اس کی دی ہوئی شریعت پر عمل کرنا نجات کے لیے کافی ہے تو پھر یہ بار بار اللہ کی جانب سے انبیاء و رسل کیوں آتے رہے ؟ دوسری یہ بات کہ اگر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں تو حضور ﷺ کو دنیا میں کیوں بھیجا گیا ؟ قرآن کریم کیوں اتارا گیا اور اس وقت کی دنیا میں اس دین کے نفاذ کے لیے جس طرح آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) نے برس ہا برس تک جان توڑ محنت کی اور اس راستے میں زندگی کا ہر دکھ اٹھایا اور قربانیوں کی ایسی تاریخ مرتب کی جس کی نظیر کہیں اور ملنا آسان نہیں تو آخر اس سارے تکلف کی ضرورت کیا تھی ؟ صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ لوگ اپنے اپنے صحیفوں پر عمل کرتے رہیں ‘ جو مذہب بھی جس کے پاس موجود ہے وہ اس کی نجات کے لیے کافی ہے۔ کیا ایمانیات میں اللہ کے ساتھ کسی اور چیز پر ایمان ضروری ہے ؟ اہل علم کے نزدیک یہ اصول ہمیشہ مسلّم رہا ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت سے اگر کوئی بات پوری طرح سمجھ نہ آرہی ہو یا اشتباہ پیدا ہو رہا ہو تو اس کے سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی دوسری آیات کو دیکھا جائے۔ اگر قرآن کریم کی دوسری آیات میں اس کی وضاحت مل جائے تو پھر کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ہم دو باتیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس آیت کریمہ میں چونکہ صرف اللہ پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے اور رسولوں پر ایمان کا کوئی تذکرہ نہیں۔ تو کیا دوسری آیات میں کہیں رسولوں پر ایمان لانے کو ضروری قرار دیا گیا ہے یا نہیں اور ساتھ ہی یہ بات بھی کہ کیا ایمانیات میں اللہ کے ساتھ کچھ اور بھی چیزیں موجود ہیں یا نہیں ‘ جن پر ایمان لانا ضروری ہو۔ اس حوالے سے صرف دو آیتوں پر غور فرمایئے۔ تمام رسولوں پر ایمان نہ لانے والا کافر ہے اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُوْمِنُ بَبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضً لا وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً ۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًا ج (النساء 4: 150) (جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کردیں (کہ اللہ پر تو ایمان لائیں مگر اس کے رسولوں پر ایمان نہ ہو) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض (رسولوں) کو مانتے ہیں اور بعض (رسولوں) کو نہیں مانتے اور وہ یہ چاہیں کہ (کفر و اسلام کے) بیچ کا ایک راستہ نکال لیں ‘ تو سمجھ لو کہ وہی اصل میں کافر ہیں) اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اللہ پر ایمان اور اس کے رسولوں کے انکار کو کفر قرار دیا ہے اور جو لوگ صرف اللہ پر ایمان کو کافی سمجھتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ‘ انھیں کافر قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی دیکھ لیجئے کہ قرآن کریم اللہ کے ساتھ اور کن پر ایمان لانا ضروری قرار دیتا ہے۔ اس کی تفصیل کا تو موقع نہیں ‘ صرف ایک مختصر آیت پیش خدمت ہے۔ یہ آیت کریمہ سورة البقرہ کی ان آخری آیات میں سے ہے ‘ جو آنحضرت ﷺ پر معراج کے سفر میں نازل ہوئیں اور حضور ﷺ نے جن کی بےانتہا فضیلت بیان فرمائی۔ اس میں ایمانیات کی تفصیل کو بیان کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں : کُلٌّ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ قف لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ قف (البقرہ 2: 285) (سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ‘ اس طرح کہ اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے) توجہ فرمایئے ! اس آیت میں اللہ کے ساتھ فرشتوں ‘ کتابوں اور رسولوں کو بھی ایمانیات میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کفر ہے۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے کی حقیقت دوسری بات جو سمجھنا بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا اس حد تک ضروری ہے کہ اس کے بغیر اسلام کے تحقق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ خود باری تعالیٰ پر ایمان بھی اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لایا جائے اور ان کی دی ہوئی ہدایات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو نہ سمجھا جائے۔ اس لیے کہ بغیر ذات نبوت کے نہ تو ذات باری تعالیٰ کا یقین پیدا ہوسکتا ہے اور نہ اس کی صفات کے علم کا کوئی اور ذریعہ ہے۔ اس لیے جب ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ کے رسول کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق لاتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ہم اس عظیم ذات کے بارے میں کوئی واضح تصور قائم نہیں کرسکتے۔ اس وجہ سے قرآن کریم نے پوری نوع انسانی کو جب اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے تو ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی لازمی قرار دیا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا : قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا نِالَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ یُحْیِِ وَ یُمِیْتُ ص فَاٰمِنُوْا بِ اللہ ِ وَ رَسُوْلِہِ النَّبِیِّ الاُْمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِ اللہ ِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَاتَّبِعُوْہٗ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (الاعراف 7: 158) (کہہ دو ! اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس اللہ کا جس کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر ‘ جو ایمان لاتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو ‘ تاکہ تم راہ یاب ہو) سورة اعراف ہی کی ایک اور آیت کریمہ میں بطور خاص اہل کتاب سے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد اہل کتاب میں سے اللہ کی رحمت سے صرف وہ لوگ حصہ پائیں گے ‘ جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لائیں گے اور جو حضور ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے ان کا اللہ کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ قرآن کریم میں موسیٰ (علیہ السلام) کی اپنی امت کے لیے رحمت کی دعا نقل کی گئی ہے کہ آپ نے اللہ سے اپنی امت کے لیے رحمت مانگی تو پروردگار نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ رحمت ان لوگوں کے لیے خاص ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں گے ‘ زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اس رحمت سے وہ لوگ نوازے جائیں گے جو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں گے۔ اب ذرا اس آیت کریمہ کو پڑھئے : وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِیْ الآْخِرَۃِ اِنَّا ھُدْنَآ اِلَیْکَ قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآئُج وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍط فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰاتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الاُْمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالاِْنْجِیْلِ یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ و یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہُٓ لا اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (الاعراف 7: 157-156) (اور ہمارے لیے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے ‘ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا ‘ میں اپنے عذاب جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز کو عام ہے۔ سو میں اس کو لکھ رکھوں گا ‘ ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ اختیار کریں گے اور زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائیں گے۔ (یعنی) جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جس کو لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں ‘ جو ان کو حکم دیتا ہے نیکی کا اور روکتا ہے برائی سے اور حلال ٹھہراتا ہے ان کے لیے پاکیزہ چیزیں اور حرام ٹھہراتا ہے ناپاک چیزیں اور ان سے دور کرتا ہے وہ بوجھ اور پھندے جو ان پر تھے۔ پس جو اس پر ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی تائید اور مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے ‘ وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ ) قرآن کریم کی اس قدر واضح آیات کے بعد میں نہیں سمجھتا کہ اس غلط فہمی کی کیا بنیاد باقی رہ جاتی ہے کہ صرف اللہ پر ایمان کافی ہے کسی اور پر ایمان کی ضرورت نہیں یا یہ کہ رسولوں پر ایمان ضروری نہیں اور آخری انتہائی خطرناک بات یہ کہ نبی آخری الزمان ﷺ پر ایمان لانا کوئی ضروری نہیں۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد دنیا کے لیے صراط مستقیم پانے اور نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اگر کوئی ہے تو یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لایا جائے اور آپ کی پیروی کی جائے۔ اس کے سوا نجات حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اور پھر اس پر قرآن کریم کی بیسیوں آیات واضح راہنمائی بھی دے رہی ہیں۔ لیکن کج فکری اور کج روی کی انتہا ہے کہ تمام آیات کی طرف سے آنکھ بند کرلی جائے اور صرف ایک آیت کو ذریعہ بنا کر اپنی کج فکری اور گمراہی کا سامان کیا جائے۔ گزشتہ دونوں آیات میں ہم اچھی طرح پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب کو ان کی اصل ذمہ داری کی طرف واپس لانے اور ان کی اصل بنائے فضیلت کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف پیرایوں سے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمہاری اصل ذمہ داری یہ تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کی طرف نازل کردہ کتابوں کی روشنی میں اس کے پیغام کو عام کرتے اور اس کے دیئے ہوئے نظام زندگی کو اپنی اور دوسروں کی زندگیوں پر نافذ کرتے۔ اب اگلی آیت کریمہ میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے ان کی اصل ذمہ داریوں کے بارے میں صرف یہی نہیں کیا کہ ان کو آگاہ کردیا ہو بلکہ ہم نے بنی اسرائیل سے اس کا عہدوپیمان بھی لیا اور پھر ان کے پیشگی تغافل کو دیکھتے ہوئے اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ ایک ہی دفعہ کا عہد و میثاق کافی ہے بلکہ ہم نے یاد دہانی کے لیے بار بار رسول بھیجے۔ لیکن ان سے انھوں نے جس طرح کا سلوک کیا اس کے حوالے سے آغاز کلام میں یہ ارشاد فرمایا گیا تھا کہ اے اہل کتاب ! تم کسی بنیاد پر کھڑے نہیں ہو ‘ کیونکہ تم نے ہر بنیاد کو اپنے ہاتھوں سے گرا دیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسی بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی ‘ تو ایک گروہ کی انھوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَٓئِ یْلَ وَ اَرْسَلْنَآ اِلَیْھِمْ رُسُلاً ط کُلَّمَا جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ م بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُھُمْ لا فَرِیْقًا کَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَ ۔ (المائدہ : 70) (ہم نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے۔ جب جب آیا ان کے پاس کوئی رسول ایسی بات لے کر جو ان کی خواہش کے خلاف ہوئی ‘ تو ایک گروہ کی انھوں نے تکذیب کی اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے ‘) بنی اسرائیل کا رسولوں اور نبیوں سے سلوک ‘ امت مسلمہ کے لیے عبرت یعنی ان سے شریعت کی پاسداری احکام خداوندی کے نفاذ اور عدل اجتماعی کے قیام کا جو عہد و میثاق لیا گیا تھا ‘ جب انھوں نے اس میں کمزوری اختیار کی تو اللہ نے اس کی یاد دہانی اور ان کی اصلاح کے لیے رسول اور انبیاء بھیجے تو یہ لوگ اس حد تک خواہشات نفس کے اسیر ہوچکے تھے کہ اپنی خواہشوں کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے آنے والے نبیوں کی ہدایات کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام زوال پذیر قومیں شاید ایک ہی جیسا مزاج رکھتی ہیں کہ جب ان کے اندر دینی زوال کے نتیجے میں اللہ کے قانون کو بار پانے کا موقع نہیں ملتا اور اخلاقیات کے بندھن ٹوٹنے لگتے ہیں تو پھر خواہشات نفس ‘ مقاصد زندگی کی جگہ لے لیتی ہیں اور قومیں ان کے حصول کے لیے دیوانہ وار ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں لگ جاتی ہیں۔ اس جنونی کیفیت میں جب بھی ان کا کوئی راستہ روکتا ہے ‘ یعنی ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اسے اپنا دشمن خیال کرتی ہیں۔ پھر یا تو اس کا جینا دوبھر کردیتی ہیں اور یا سرے سے اس کی زندگی کا خاتمہ کردیتی ہیں۔ یہی تاریخ بنی اسرائیل کی تھی اور یہی شاید آج امت مسلمہ کی بھی ہے کہ مادے کی ہوس نے پورے عالم اسلام کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور ہر جگہ دینی قوتیں اور اصلاح کا عمل کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو مرنے والی قوموں کا خاصہ رہا ہے ‘ وہ لوگ ان کی بھلائی کی بات کرتے ہیں ‘ یہ اس کا جواب دشمنی سے دیتے ہیں اور یہی شاید زمانے کی ریت ہے۔ زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے وہ درس صلح دیتے ہیں یہ ان سے جنگ کرتا ہے بنی اسرائیل کی تاریخ ہمارے سامنے اسی لیے بیان کی جا رہی ہے کہ مسلمان اس سے سبق سیکھیں اور وہ غلطیاں نہ کریں جس کے نتیجے میں بنی اسرائیل عذاب کا شکار ہوئے۔ چناچہ یہاں بتایا جا رہا ہے کہ جب ان کی خواہشاتِ نفس کو اللہ کے نبیوں نے لگام دے کر اصلاح کی کوشش کی تو انھوں نے کسی کی تو تکذیب کی اور جس پر بس چلا ‘ اس کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا اور پھر شقاوت کی انتہا ہے کہ انھوں نے اپنی اس تاریخ کو خود بیان بھی کیا۔ ہم یہاں چند واقعات کا اس لیے ذکر کرتے ہیں کہ شاید امت مسلمہ اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ 1 حنانی نبی u : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد جب بنی اسرائیل کی سلطنت تقسیم ہو کردو ریاستوں (یروشلم کی دولت یہودیہ اور سامریہ کی دولت اسرائیل) میں بٹ گئی تو ان میں باہم لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ یہودیہ کی ریاست نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف دمشق کی آرامی سلطنت سے مدد مانگی۔ اس پر خدا کے حکم سے حنانی نبی نے یہودیہ کے فرمانروا آساکو سخت تنبیہ کی۔ مگر آسا نے اس تنبیہ کو قبول کرنے کے بجائے خدا کے پیغمبر کو جیل بھیج دیا۔ (2۔ تواریخ ‘ باب 17۔ آیت 7-10) 2 حضرت الیاس (ایلیاء Elliah) (علیہ السلام) نے جب بَعْل کی پرستش پر یہودیوں کو ملامت کی اور از سر نو توحید کی دعوت کا صور پھونکنا شروع کیا تو سامریہ کا اسرائیلی بادشاہ اخی اب اپنی مشرک بیوی کی خاطر ہاتھ دھو کر ان کی جان کے پیچھے پڑگیا ‘ حتیٰ کہ انھیں جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ اس موقع پر جو دعا حضرت الیاس (علیہ السلام) نے مانگی ہے ‘ اس کے الفاظ یہ ہیں : ” بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا… تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں ‘ سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں “۔ (1۔ سلاطین باب 19۔ آیت 1-10) 3 ایک اور نبی حضرت میکایاہ (علیہ السلام) کو اسی اخی اب نے حق گوئی کے جرم میں جیل بھیجا اور حکم دیا کہ اس شخص کو مصیبت کی روٹی کھلانا اور مصیبت کا پانی پلانا۔ (1۔ سلاطین۔ باب 22۔ آیت 26-27) 4 حضرت زکریا۔ : پھر جب یہودیہ کی ریاست میں علانیہ بت پرستی اور بدکاری ہونے لگی اور زکریا نبی نے اس کے خلاف آواز بلند کی تو شاہ یہوداہ یوآس کے حکم سے انھیں عین ہیکل سلیمانی میں ” مقدس “ اور ” قربان گاہ “ کے درمیان سنگسار کردیا گیا۔ (2۔ تواریخ ‘ باب 24۔ آیت 21) 5 ایک اور نبی حضرت عاموس (علیہ السلام) کے متعلق لکھا ہے کہ جب انھوں نے سامریہ کی اسرائیلی ریاست کو اس کی گمراہیوں اور بدکاریوں پر ٹوکا اور ان حرکات کے برے انجام سے خبردار کیا تو انھیں نوٹس دیا گیا کہ ملک سے نکل جاؤ اور باہر جا کر نبوت کرو۔ (عاموس ‘ باب 7۔ آیت 10-13) 6 حضرت یحییٰ (یوحنا) (علیہ السلام) نے جب ان بداخلاقیوں کے خلاف آواز اٹھائی جو یہودیہ کے فرمانروا ہیرودیس کے دربار میں کھلم کھلا ہو رہی تھیں ‘ تو پہلے وہ قید کیے گئے ‘ پھر بادشاہ نے اپنی معشوقہ کی فرمائش پر قوم کے اس صالح ترین آدمی کا سر قلم کر کے ایک تھال میں رکھ کر اس کی نذر کردیا۔ (مرقس ‘ باب 6‘ آیت 17-19) 7 آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بنی اسرائیل کے علماء اور سرداران قوم کا غصہ بھڑکا ‘ کیونکہ وہ انھیں ان کے گناہوں اور ان کی ریاکاریوں پر ٹوکتے تھے اور ایمان و راستی کی تلقین کرتے تھے۔ اس قصور پر ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ تیار کیا گیا ‘ رومی عدالت سے ان کے قتل کا فیصلہ حاصل کیا گیا اور جب رومی حاکم پیلاطس نے یہود سے کہا کہ آج عید کے روز میں تمہاری خاطریسوع اور برابّا ڈاکو ‘ دونوں میں سے کس کو رہا کروں ‘ تو ان کے پورے مجمع نے بالاتفاق پکار کر کہا کہ برابّا ڈاکو کو چھوڑ دے اور یسوع کو پھانسی پر لٹکا۔ (متی ‘ باب 27۔ آیت 20-26) جس قوم کے ہاتھ سے اللہ کے یہ برگزیدہ بندے بھی ظلم اور قتل سے نہ بچ سکے حقیقت یہ ہے کہ اسے روئے زمین پر زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن اللہ کا اپنا ایک قانون ہے کہ وہ اپنے علم کے مطابق قوموں کو مہلت دیتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اصلاح کرلیں۔ لیکن اگر وہ قومیں اصلاح کی بجائے بگڑتی چلی جاتی ہیں تو یہ ان کی انتہائی بدنصیبی کا دور ہوتا ہے۔ قدرت انھیں پھر بھی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتی۔ لیکن اب انھیں اس لیے مہلت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھر لیں اور اپنی فائل اچھی طرح موٹی کرلیں تاکہ جب قدرت ان پر ہاتھ ڈالے تو انھیں چیخنے کا بھی موقع نہ ملے اور وہ فریاد کرنا چاہیں تو عذاب کا ہاتھ ان کے گلے تک پہنچ چکا ہو۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے اسی قانون کے تحت مہلت دی۔ لیکن ان کی کج فکری ملاحظہ فرمایئے کہ انھوں نے اس مہلت عمل کو اپنے لیے ہر طرح کے جرائم کا لائسنس سمجھ لیا۔ نتیجہ واضح ہے کہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انھوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی ‘ بس اندھے اور بہرے بن گئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی ‘ پھر ان میں سے بہت سے اندھے بہرے بن گئے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں

وَحَسِبُوْا اَلاَّ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ ط وَ اللہ ُ بَصِیْرٌ م بِمَا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 71) ” اور انھوں نے گمان کیا کہ کوئی پکڑ نہیں ہوگی ‘ بس اندھے اور بہرے بن گئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی ‘ پھر ان میں سے بہت سے اندھے بہرے بن گئے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں “۔ بنی اسرائیل کے سدھرنے کا آخری موقع جیسا کہ گزشتہ آیت کریمہ کی تفسیر میں عرض کیا گیا کہ بنی اسرائیل نے رسولوں کی تکذیب اور ان کے قتل کے بڑے بڑے جرائم کیے۔ لیکن جب ان پر کوئی گرفت نہ ہوئی تو وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اب کوئی پکڑ نہیں ہوگی اور پھر وہ اللہ کے دین کی طرف سے ‘ اپنی ذمہ داریوں کی جانب سے ‘ رسولوں کی تبلیغ و دعوت کے حوالے سے ‘ اس طرح کا رد عمل ظاہر کرنے لگے ‘ گویا کہ وہ اندھے اور بہرے ہیں۔ یعنی وہ اپنی انفرادی زندگی میں اخلاقی بگاڑ کے نقصانات کو دیکھ رہے تھے اور اجتماعی زندگی میں ہمسایہ حکومتوں کی جانب سے بار بار کے حملوں سے بھی دوچار ہو رہے تھے۔ اس کے باوجود ان کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے وہ کسی چیز کو دیکھ نہیں رہے اور پکارنے والے ان کو پکار پکار کر تھک چکے تھے اور حالات کی سنگینی سے بار بار انھیں آگاہ کرچکے تھے کہ اگر تم نے اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کی تو تمہاری مکمل تباہی میں کوئی دیر نہیں۔ لیکن انھوں نے قسم کھالی تھی کہ ہم کوئی بات سن کر نہیں دیں گے۔ اس کے بعد ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ‘ وہ ایک طویل داستان ہے۔ اس آیت کریمہ میں نہایت ایجاز کے ساتھ اس کی طرف اشارے کیے گئے ہیں اور سورة بنی اسرائیل میں ان اشاروں کو کسی حد تک کھولا گیا ہے۔ اس آیت میں تھوڑا سا تدبر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے انجام کے مختلف مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ وہ اندھے اور بہرے بن گئے تو اب یقینا ان پر اللہ کا کوئی عذاب آیا ہوگا۔ لیکن نہ اس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ اس کی بعد کی صورت حال کا البتہ ثُمَّ تَابَ اللہ ُ عَلَیْھِمْ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ان پر عذاب آیا اور پھر انھوں نے توبہ کی۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما کر انھیں پھر اپنی ملی زندگی گزارنے کا ایک موقع عطا فرمایا۔ لیکن اس کے بعد پھر وہ اندھے بہرے ہوگئے یعنی انھوں نے پھر وہی زندگی اختیار کرلی جس پر وہ عذاب کا شکار ہوچکے تھے۔ اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ دوبارہ ان کو توبہ کی توفیق نہیں ملی بلکہ برابر اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے گئے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ تو اندھے اور بہرے بن کر مسلسل اپنی قسمت کو بگاڑتے چلے جا رہے ہیں ‘ لیکن اللہ تو بینا ہے ‘ وہ برابر ان کے کرتوتوں کو دیکھ رہا ہے اور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے ان کو سنبھلنے کا ایک موقع بھی دے رہا ہے۔ اگر انھوں نے اس سے فائدہ اٹھایا تو امت مسلمہ میں شامل ہو کر ہر طرح کی عزت سے سرفراز ہوں گے ورنہ اسی انجام کو پہنچیں گے ‘ جو سرکش اور غافل قوموں کا انجام ہوتا ہے۔ یہ ہم نے اس آیت کا مختصراً ایک مفہوم بیان کیا ہے۔ لیکن اس وقت تک پوری طرح اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ‘ جب تک کسی حد تک تاریخی اسباب اور واقعات کا ذکر نہ کردیا جائے۔ اس لیے ہم مختصراً اس کو بیان کرتے ہیں۔ تاریخ بنی اسرائیل یوں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل جب فلسطین کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تو اس کے بعد جلد ہی ان کی سرکشی اور عہد فراموشی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن قدرت کی کرم فرمائی اور اپنی مسلسل تباہیوں کے احساس سے ‘ ایک وقت آیا جب انھوں نے ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی اور حضرت سموئیل (علیہ السلام) سے ایک بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی۔ اس طرح ان کو سنبھلنے کا ایک موقع ملا اور قدرت نے انھیں ایک متحدہ سلطنت عطا فرما دی ‘ جس کے مسلسل تین فرماں روا ہوئے۔ حضرت طالوت ‘ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہما الصلوٰۃ السلام۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا عروج عطا فرمایا کہ بحیرہ روم کے مشرقی کناروں سے لے کر افریقہ کے مشرقی ساحلوں تک ان کی حکومت کا پھریرا لہراتا تھا اور حجاز اور یمن تک ان کے عروج و اقبال کے پرچم گڑے ہوئے تھے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ اپنی عظمت کو سنبھال نہ سکے اور جلد ہی ترقی معکوس کا سفر شروع ہوگیا۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بعد ان کا بیٹا تخت پر بیٹھا تو اس نے اقتدار کے نشہ میں مست ہو کر اپنے والد ماجد کی تمام روایات کو پس پشت ڈال دیا۔ اس کا فوری نتیجہ تو یہ ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایک خادم یربعام نے مرکز کے خلاف بغاوت کر کے شمال میں اسرائیل کے نام سے ایک الگ سلطنت قائم کرلی ‘ اب بنی اسرائیل جو اس زمانے کے مسلمان تھے ‘ دو حکومتوں میں بٹ گئے۔ شمال میں اسرائیلی سلطنت تھی ‘ جس کا پایہ تخت سامرہ (موجودہ نابلس) اور جنوب میں یہودیہ کی سلطنت جس کا مرکز یروشلم (بیت المقدس) تھا۔ اس افتراق و انتشار کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بنی اسرائیل کی جو عسکری قوت کبھی ملکہ سبا کے دروازوں پر دستک دیا کرتی تھی ‘ اب باہمی خانہ جنگی میں صرف ہونے لگی ‘ یہودیہ اور اسرائیل دونوں سلطنتیں سالہا سال تک ایک دوسرے سے لڑتی رہیں۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں 937 ق م سے لے کر 586 ق م تک کا پورا عرصہ ان خانہ جنگیوں کی دل خراش داستان ہے۔ ایک ایک جنگ میں بعض اوقات پانچ پانچ لاکھ بنی اسرائیل کا خون بہا ‘ مگر اقتدار کی یہ رسہ کشی بند نہ ہوئی۔ دوسری طرف بنی اسرائیل کی اکثریت نے اپنے آبائو اجداد کے دین کو بالکل پس پشت ڈال کر بت پرستی اور ستارہ پرستی شروع کردی ‘ حکمرانوں نے عیاشی پر کمر باندھ لی اور علماء میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر مذہبی اختلافات پھوٹ پڑے۔ اس دوران اللہ کی طرف سے جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) ہدایت کا اجالا پھیلانے کے لیے تشریف لاتے رہے ‘ مگر چند مختصر وقفوں کو چھوڑ کر بنی اسرائیل کا زمانہ بداعمالیوں اور عیش پرستیوں میں بسر ہوا۔ قدرت کسی قوم پر اپنا قہر اور عذاب ایک دم نازل نہیں کرتی ‘ بلکہ پہلے اسے مختلف طریقوں سے جھنجھوڑتی ہے۔ چناچہ اس موقع پر انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے علاوہ بنی اسرائیل کو بیدار کرنے کے لیے ہلکے ہلکے تازیانے بھی لگائے جاتے رہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد بیرونی طاقتیں ان پر حملہ آور ہوتیں اور ان کی سرحدوں کو مختصر کر کے واپس لوٹ جاتیں۔ کبھی مصر کا بادشاہ چڑھ آتا ‘ کبھی صور کا حکمران حملہ کردیتا ‘ کبھی آرام کا فرمانروا یلغار کرتا ہوا یروشلم پہنچ جاتا۔ لیکن یہ تمام حملے جزوی طور پر نقصانات پہنچا کر واپس چلے جاتے ‘ بنی اسرائیل دیکھ رہے تھے کہ بیرونی دشمن ہماری تاک میں ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کررہا ہے ‘ لیکن ان کی آنکھ نہ کھلی۔ عیش و آرام کے خلوت کدوں کو چھوڑ کر عمل کے خارزاروں میں اترنا ان کے مزاج نازک کے خلاف تھا۔ حضرت ارمیاء ‘ حضرت شعیا اور حضرت حزقیل (علیہم السلام) انھیں متواتر جھنجھوڑتے رہے کہ خدا کے لیے ! اپنی حالت درست کرلو ‘ بابل کا بادشاہ تمہاری چار دیواری تک پہنچ چکا ہے اور اگر تمہیں ہوش نہ آیا تو تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔ مگر ” بابربہ عیش کوش “ کے نغموں میں مست لوگ ‘ بابل کی طرف سے پیٹھ موڑ کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم مامون ہوچکے ہیں۔ اور یہود کے علماء کو یہ گھمنڈ تھا کہ ہم اللہ کی محبوب ترین قوم ہیں۔ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ہاتھ پائوں ہلانے کی ضرورت نہیں ‘ دشمن جب یروشلم کا رخ کرے گا تو آسمان کی غیبی طاقتیں اس پر بجلیاں برسائیں گی اور وہ بھسم ہو کر رہ جائے گا۔ بخت نصر کا حملہ ان حالات میں ٹھیک اس وقت جبکہ حکام عیش و نشاط میں محو تھے اور علماء اس بات پر مناظرے کر رہے تھے کہ ایک سوئی کے ناکے پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں ؟ بابل کا جابر بادشاہ بخت نصر ان پر قہر خداوندی بن کر نازل ہو 1۔ یروشلم (بیت المقدس) اور اس کے گرد و نواح سے بنی اسرائیل کا بیج مارا گیا۔ اس کی فوج کیا تھی ؟ ایک طوفان تھا ‘ جس نے مزاحمت کی ہر دیوار کو ڈھا کر یہودیوں کی پوری سلطنت کو پیوند زمین کر ڈالا اور ظلم و ستم کے ایسے ایسے اسلوب ایجاد کیے جن کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ بادشاہ کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیٹے ذبح کردیئے گئے۔ بادشاہ اور رہے سہے یہودی پابہ زنجیر بابل لے جائے گئے اور پچاس سال تک بخت نصر کی غلامی میں حسرت و ندامت کے آنسو بہا کر اپنے دن کاٹتے رہے۔ قرآن کریم نے سورة بنی اسرائیل میں اسی قہر الٰہی کو اس طرح بیان فرمایا ہے : فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُوْلِیْ بَأسٍٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلاً ۔ (بنی اسرائیل 17: 5) (پس جب دونوں میں سے پہلے وعدے (کا وقت) آیا تو ہم نے تم پر اپنے کچھ بندے بھیجے جو شدید قوت والے تھے ‘ وہ گھروں میں گھوم گئے اور یہ ہونے والا وعدہ تھا) اس زبردست طوفان نے بنی اسرائیل کی کچھ آنکھیں کھول دیں۔ ان کی غلامی کی زندگی پہلے کی بہ نسبت کافی پاکیزہ ہوچکی تھی ‘ آپس کے اختلافات کم ہوگئے تھے اور تمام لوگوں کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ قدرت نے انھیں ایک اور موقع دیا۔ 536 ق م میں ایران کے بادشاہ خسرو نے بابل پر چڑھائی کر کے اسے فتح کرلیا اور بنی اسرائیل پر رحم کھا کر انھیں دوبارہ بیت المقدس تعمیر کرنے اور فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ چناچہ 515 ق م میں بیت المقدس دوبارہ آباد ہوا اور بنی اسرائیل نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی موجودگی میں رورو کر توبہ کی اور آئندہ خدا کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کیا۔ کچھ عرصے تک یہ لوگ اپنے عہد پر قائم رہے ‘ رفتہ رفتہ ان کی خوش حالی واپس آنے لگی ‘ انھیں حکومت تو نصیب نہ ہوسکی ‘ مگر مال و دولت اور وسائل و اسباب کی پھر فراوانی ہوگئی اور عیش و مسرت کی زندگی پھر لوٹ آئی۔ قرآن کریم اسی نئی زندگی کا تذکرہ اس طرح فرماتا ہے : ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنَاکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا (بنی اسرائیل 17: 6) (پھر ہم نے ان پر تمہاری باری پھیر دی (تمھیں غلبہ دے دیا) اور مالوں سے اور بیٹوں سے ہم نے تمہیں مدد دی اور ہم نے تمہیں بڑا جتھا (لشکر) کردیا ) اس کے ساتھ ہی اللہ کی طرف سے انھیں یہ تنبیہ بھی فرما دی گئی کہ : اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لاَِنْفُسِکُمْ قف وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا ط (بنی اسرائیل 17: 7) (اب اگر تم اچھے کام کرو گے تو تمہارے لیے مفید ہوں گے اور اگر تم نے بدکاری کی تو اپنا ہی کچھ بگاڑو گے) انیتوکس ایپی کا حملہ لیکن نیکوکاری کی یہ زندگی پائیدار ثابت نہ ہوئی ‘ خوشحالی بڑھی تو عیش و نشاط کی وہ محفلیں پھر لوٹ آئیں ‘ بت کدے پھر آباد ہونے لگے۔ فارغ البالی نصیب ہوئی تو ایک دوسرے سے جھگڑنے کا مشغلہ پھر زندہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بنی اسرائیل پھر اسی حالت کو پہنچ گئے جس میں ان پر بخت نصر کا عذاب نازل ہوا تھا ‘ اس مرتبہ بخت نصر کی جگہ روم کے بادشاہ انیتوکس ایپی فاینس نے 165 ق م میں بیت المقدس پر حملہ کر کے دوبارہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ‘ تورات کے تمام نسخے چن چن کر جلا دیئے ‘ بنی اسرائیل کو ایک ایک کر کے تہ تیغ کیا اور جو لگ بچ گئے انھیں لوٹ کھسوٹ کر جلا وطن کردیا۔ قرآن کریم اس واقعہ کا ذکر اس طرح فرماتا ہے : فَاِذَاجَآئَ وَعْدُالآٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗ اوُجُوْھَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہٗ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرَا۔ (بنی اسرائیل 17: 5) ( اور جب آخری (عذاب) کا وعدہ آیا ‘ تاکہ وہ (یعنی رومی) تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (اقصیٰ ) میں داخل ہوں ‘ جیسے کہ وہ (یعنی کلدانی) پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے ‘ اور جس چیز پر ان کا غلبہ ہوا اس کو برباد کردیں) یہ قوم یہود کو آخری موقعہ دیا گیا تھا ‘ حکومت تو ان سے چار سو سال پہلے چھن ہی چکی تھی ‘ اب ہمیشہ کی ذلت و خواری ان کی قسمت میں لکھ دی گئی ‘ اور کسی خطے میں یکجا ہو کر عزت کی زندگی گزارنے کا موقع بھی ان سے چھین لیا گیا۔ تاریخِ بنی اسرائیل امت مسلمہ کے لیے آئینہ یہود کی یہ تاریخی سرگزشت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں امت مسلمہ ایک حامل دعوت امت کے عروج وزوال کے پورے خدوخال ملاحظہ کرسکتی ہے اور یہ بھی دیکھ سکتی ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں ‘ جن سے امتیں گرتی اور اللہ کے غضب کا شکار ہوتی ہیں اور قرآن کریم میں اس تاریخی سرگزشت کے مختلف ابواب کو امت مسلمہ کی سبق آموزی کے لیے ہی متعدد مرتبہ بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ امت اللہ کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے کہیں بھی خلا محسوس نہ کرے اور ان نشیب و فراز سے پوری طرح آگاہ رہے ‘ جن سے یہود بار بار دوچار ہوتے رہے اور ان کھائیوں کو پوری طرح پہچانے جن میں گرنے کے بعد یہود آج تک نہ اٹھ سکے۔ اس کے بعد کی آیت کریمہ میں یہود کے تذکرہ کے بعد نصاریٰ کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ‘ تاکہ بنی اسرائیل کی دوسری شاخ (جن کو یہود ہی کی طرح اپنے برگزیدہ ہونے کا دعویٰ ہے اور اسی وجہ سے وہ شرعی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں) کے بھی اصل خدوخال کو بیان کردیا جائے جس سے یہ اندازہ کرنے میں آسانی رہے کہ جس طرح یہود اپنی بداعمالیوں اور بد اعتقادیوں کے باعث بگاڑ کا شکار ہوئے ‘ یہ نصاریٰ بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہ تھے۔ ان پر سرکشی غالب رہی اور یہ کفر و شرک میں پوری طرح دھنستے چلے گئے۔ انھوں نے اگر اللہ کے نبیوں کو قتل کیا تو انھوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں وہ رویہ اختیار کیا جو عقیدہ توحید کے سراسر خلاف تھا چناچہ ارشاد فرمایا گیا :