5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:18

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ١ؕ قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١٘ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 5:18 in the Quran reader

اور یہود اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ ” ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “۔ ان سے پوچھو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے جرائم پر سزا کیوں دیتا ہے ‘ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے بشر ہو وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے

گزشتہ آیات میں قرآن کریم ہمیں اہل کتاب کے بار بار نقض عہد کی داستان سناتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود سے اپنی عبادت اور اطاعت کا عہد لیا تو انھوں نے اسے بار بار توڑا اور اس کی کئی مثالیں بیان فرمائیں۔ اسی طرح نصاریٰ سے بھی اسی طرح کا عہد لیا گیا تو اس کی ایک مثال گزشتہ آیت میں بیان کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ توحید جس پر پورے دین کا مدار ہے انھوں نے اسے ہی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔ قرآن پاک کا پڑھنے والا یہ پڑھ کر حیران ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ جیسی امتیں جن میں بار بار اللہ کے نبی اور رسول آئے اور ان میں کتابیں اترتی رہیں ‘ صحیفے نازل ہوتے رہے جس سے بار بار انھیں اللہ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کی یاد دہانی ہوتی رہی ‘ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان پر ثابت قدم نہ رہ سکے اور بار بار انھوں نے اسے توڑ کر اللہ کے عذاب کو دعوت دی۔ چناچہ اب جو آیت آرہی ہے اس میں پروردگار نے ان (یہود و نصاریٰ ) کی اس مشترکہ گمراہی کا ذکر فرمایا ہے جو پوری طرح ان دونوں میں موجود تھی اور اسی گمراہی کے باعث یہ بار بار نقض عہد کا مختلف شکلوں میں ارتکاب کرتے رہے۔ وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤْا اللہِ وَ اَحِبَّآؤْہٗ ط قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ط یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ز وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (المائدہ : 18) (اور یہود اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ ” ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں “۔ ان سے پوچھو کہ پھر وہ تمہیں تمہارے جرائم پر سزا کیوں دیتا ہے ‘ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ) تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے بشر ہو وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے) یہود و نصاری کی تنزلی کا اصل سبب ارشاد فرمایا : وَقَالَتِ الْیَھُوْدُ وَالنَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ط (اور یہود اور نصاری نے دعویٰ کیا کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) یعنی ان کی اصل بیماری ان کا یہ زعم باطل ہے کہ ہماری دنیوی اور اخروی کامیابی کے لیے ایمان و عمل کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں اور وہ اپنے بیٹوں اور اپنے چہیتوں سے کوئی باز پرس نہیں کیا کرتا۔ اس زعم باطل نے ان کو ایمان و عمل کی ذمہ داریوں سے یکسر بےنیاز کردیا۔ ظاہر ہے کہ جب ایمان و عمل کا احساس ہی جاتا رہا تو پھر عہد و پیمان کی پابندی کیسے باقی رہتی۔ اس لیے کہ ان سے جو عہد و پیماں لیے جاتے رہے ان میں تو ان دو باتوں پر ہی زور دیا جاتا رہا ‘ ایک ایمان پر اور دوسرا مختلف قسم کے اعمال صالحہ پر۔ لیکن جب ان کے اندر اس بنیادی تصور نے جگہ بنا لی کہ تم سے کوئی باز پرس ہونے والی نہیں ہے بلکہ تمہیں یہاں بھی اپنے چہیتوں کی طرح رکھا جائے گا اور آخرت میں بھی تمہارا استقبال اللہ کے بیٹوں اور اس کے چہیتوں کی طرح ہوگا۔ یہ کہنے کو تو ایک زعم باطل اور محض ایک بیہودہ تصور ہے ‘ لیکن اگر یہ کسی بھی قوم کا عقیدہ بن جائے تو پھر اسے دنیا کی کوئی طاقت بےعملی سے نہیں روک سکتی حالانکہ دنیا میں ایک معمولی سے معمولی انسان بھی بڑی آسانی سے اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ یہاں آدمی کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس کے اپنے کرتوتوں ہی کا پھل اور اپنی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ اچھے اعمال کرتا ہے تو اچھے صلے سے نوازا جاتا ہے اور اگر وہ برے اعمال یعنی برائیاں ‘ بداخلاقیاں اور بد اطواریاں اختیار کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اسے مختلف مصائب سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک فطری قانون ہے ‘ جس سے کسی کو بھی رستگاری نہیں کیونکہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے بحیثیت قوم ہم تنزلی کا شکار کیوں ؟ لیکن اگر کسی کم عقل آدمی کے دماغ میں یہ تصور سما جائے کہ میں کوئی سا کام کرنے کا بھی پابند نہیں ہوں بلکہ یہاں مجھے ہر چیز بغیر کیے کے ملے گی تو آپ ایسے آدمی سے کسی بھی عمل کی توقع نہیں کرسکتے ‘ وہ شخص دھرتی کا بوجھ بن جائے گا اور اپنے پرائے اسے ایک ناکارہ چیز سمجھ کر اپنے سے دور کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر خدا نہ کرے یہ برائی کسی قوم میں پھیل جائے تو وہ قوم باقی قوموں کے لیے ایک عبرت کا سامان بن جاتی ہے ‘ جب تک باقی رہتی ہے دوسروں کی دست نگر ہو کر جیتی ہے اور بالآخر جب اپنے منطقی انجام کو پہنچتی ہے تو دوسرے ان کی تباہی پر غم کھانے کی بجائے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ” خس کم جہاں پاک “ اور اگر یہ بیماری مذہبی معاملات میں پیدا ہوجائے تو پھر ایسی قوم نماز ‘ روزہ یعنی عبادات سے یکسر لاتعلق ہو کر نہ صرف بےعملی کا شکار ہوجاتی ہے بلکہ برائیوں کے جہنم میں ڈوب جاتی ہے اور انسانی معاملات میں تمام جذباتِ خیر سے تہی دامن ہو کر حقوق و فرائض سے یکسر لاتعلق ہوجاتی ہے۔ یہی حال ان اہل کتاب کا بھی ہوا کہ ان کی مذہبی زندگی بھی تباہ ہوئی اور ان کی تہذیب اور تمدن بھی اس لعنت کے برے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بظاہر تو یہ بات نہایت بےعقلی اور بےسمجھی کی معلوم ہوتی ہے ‘ لیکن ہم جب بھی قوموں کے عروج وزوال کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا کوئی جواب نہیں ملتا کہ قومیں جب بھی تنزلی کا شکار ہوتی ہیں تو ان میں اس برائی کو ہم پوری طرح کارفرما دیکھتے ہیں کہ وہ پھر ایسے ہی سہاروں کے ذریعے سے جیتی ہیں کیونکہ ہر وہ شخص جو آخرت پر یقین رکھتا ہے اسکے اندر یہ کسک کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہے کہ یہ دنیا میں تو جیسی گزری سو گزری آخرت سے جب معاملہ پڑے گا تو وہاں کیا ہوگا۔ اس لیے وہ اپنی اس کسک کو بہلانے کے لیے اس طرح کے سہارے اختیار کرتا ہے جیسے ان اہل کتاب نے اختیار کر رکھے تھے کہ ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں آخرت کی بازپرس سے ہمیں کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایسے ہی سہارے اس امت نے بھی اختیار کرلیے ہیں جسے پوری دنیا کی امامت پر فائز کیا گیا ہے اور قیامت تک جس نے دنیا کو ہدایت دینے کا فرض انجام دینا ہے۔ اس میں وہ بگڑے ہوئے مذہبی لوگ جو علم کے بغیر نجات کے تصورات رکھتے ہیں ‘ ان کا تو خیر ذکر ہی فضول ہے ‘ شکایت تو ان سے ہے جنھیں ہم اپنا دانشور طبقہ کہتے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے لوگ نہایت خوبصورت پیرائے میں اس طرح کی بےسرو پا باتیں کہتے ہوئے نہیں شرماتے۔ اردو زبان کا سب سے بڑا شاعر اسی تصور کی نمائندگی کرتے ہوئے کہتا ہے ؎ کہاں کا آنا کہاں کا جانا ‘ فریب ہے امتیازِ عقبیٰ نمود ہر شے میں ہے ہماری ‘ کوئی ہمارا وطن نہیں ہے بلکہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے ؎ ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے جب ایک ایسا شخص جس کے آبائو اجداد عجمی ہیں اور جس کے نسب میں کوئی قابل فخر بات بھی نہیں پائی جاتی ‘ وہ اس طرح کی باتیں کہتا ہے تو پھر بنی اسرائیل کی اس گمراہی کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ وہ تو انبیاء کی اولاد تھے ‘ وہ جب دیکھتے تھے کہ ہمارے آبائو اجداد میں ہزاروں انبیاء کرام آچکے ہیں اور ہمارے گھروں میں کتنی کتابیں اتر چکی ہیں تو وہ اس زعم باطل کو اختیار کرتے ہوئے کس طرح شرما سکتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں شریعت کی پابندی کا احساس اس وقت تک موجود رہا جب تک وہ اس طرح کے بیہودہ تصورات سے بچے رہے اور انھیں اللہ سے کیے ہوئے عہود اور مواثیق یاد رہے اور بار بار اس کی یاد دہانی ان کو ایمان وعمل پر آمادہ کرتی رہی۔ لیکن یہ تصور جب ان میں کمزور پڑگیا تو پھر نہ صرف یہ لوگ عملی پابندیوں سے بےنیاز ہوئے بلکہ ان کی جسارتیں اس حد تک بڑھ گئیں کہ انھوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف تک کر ڈالی اور احکام خداوندی کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا ڈالا اور جب اللہ کی طرف سے آنے والے انبیاء نے انھیں سرزنش کی اور انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی تو ان بدبختوں نے انھیں قتل تک کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ ان کی صدیوں کی تاریخ اللہ کے عظیم بندوں پر ان کے مظالم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اور یہی حال ہم مسلمانوں کا بھی دیکھتے ہیں کہ ان کے سامنے بھی جب تک اللہ کے سامنے جواب دہی کا تصور پوری توانائی سے زندہ رہا ‘ ان کے حکمران تخت حکومت پر بیٹھ کر بھی لرزہ براندام رہتے تھے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہم بار بار اس کی مثالیں دیکھتے ہیں اور شاید اسی احساس نے آنحضرت ﷺ کو مجبور کیا کہ آپ اس بنیادی کمزوری کی طرف بار بار امت کی توجہ دلائیں۔ چناچہ جب بھی ایسا کوئی موقع آیا تو آپ نے ہمیشہ اس پر توجہ دلائی۔ حدیث میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک دفعہ اپنے خاندان کے جستہ جستہ لوگوں کو اپنے گھر دعوت پر بلایا تو آپ ﷺ نے ان کے سامنے خطاب کرتے ہوئے بطور خاص یہ بات فرمائی کہ (اے میرے چچا ! اور اے میری پھوپھی صفیہ (r) ! اور اے میری بیٹی فاطمہ (r) ! تم میرے مال میں سے جو چاہو میں تمہیں دینے کو تیارہوں ‘ لیکن اگر تم نے ایمان و عمل کا سرمایہ اپنے یہاں جمع نہیں کیا تو میں کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکوں گا ) آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے امکانی حد تک مشرکین مکہ کے خلاف آپ کی حفاظت کی اور ان کے شر سے آپ ﷺ کو بچانے کے لیے ہر ممکن مدد دی۔ ان کے احسانات کو دیکھتے ہوئے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ شاید یہی احسانات ان کی نجات کے لیے کافی ہیں ‘ لیکن جب ہم حدیث میں یہ واقعہ پڑھتے ہیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ اللہ کے یہاں سرخروئی کے لیے بنیادی چیز ایمان و عمل ہی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوطالب کے آخری وقت میں ان کے پاس بیٹھ کر ان کو ایمان کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ” چچا آپ میرے کان ہی میں کلمہ پڑھ دیں تاکہ میں اللہ کے سامنے آپ کی سفارش کرسکوں لیکن اگر آپ ایمان نہ لائے تو پھر معاملہ بڑا مشکل ہے “۔ پاس ہی قریش کے سردار بیٹھے تھے وہ فوراً بول پڑے کہ شیخ کیا آپ آخری وقت میں عبدالمطلب کا دین چھوڑ دیں گے۔ ان کے اصرار پر بالآخر ابوطالب یہ کہہ کر دنیا سے رخصت ہوگئے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر مرتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ کو یہ سن کر بہت رنج ہوا ‘ آپ اپنے آنسو ضبط نہ کرسکے اور یہ فرما کر رہ گئے کہ ” میں اس وقت تک اپنے چچا کے لیے استغفار کروں گا جب تک پروردگار مجھے اس سے روک نہ دے “۔ ان تمام ترغیبات اور تاکیدات کے باوجود اس امت محمدیہ کے ایک بڑے حصے کو جس چیز نے تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے وہ یہی تصورات ہیں کہ ” ہمارے رسول پاک ﷺ اللہ کے محبوب ہیں ‘ ہم ان کی لاڈلی امت ہیں اور قیامت کے دن وہ ہماری شفاعت فرمائیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہماری بخشش میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو “۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ ہمارے رسول پاک ﷺ حبیب اللہ ہیں اور ہمیں اللہ نے خیر الامم قرار دیا ہے ‘ لیکن اللہ کے یہاں نجات کا دارومدار ‘ خیرالامم ہونے کا امتیاز اور رسول پاک ﷺ کی شفاعت کا استحقاق صرف ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی سے پیدا ہوتا ہے ‘ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جب کسی فرد یا کسی قوم کو بلند مرتبہ عطا کرتا ہے تو اس کی ذمہ داریاں بھی دوسروں سے بڑھ کر ہوتی ہیں کیونکہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے اس امت کو صرف ایمان اور عمل صالحہ ہی نہیں بچائیں گے بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کے نفاذ کی عملی کوششیں اللہ کے یہاں سرخروئی کے لیے لازمی شرائط ہیں اور جہاں تک اس امت کے افراد کا تعلق ہے ان میں سب سے بڑی نسبی شرافت ذات رسالت مآب ﷺ سے قرابت کا تعلق ہے ‘ ابھی پیچھے حدیث گزر چکی ہے کہ یہ تعلق بھی ایمان و عمل کے بغیر کام نہیں آئے گا۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ ایمان و عمل کی توفیق بخشے تو یقیناً ایک سید زادہ اپنے درجات میں دوسروں سے آگے بڑھ جائے گا۔ لیکن اگر ایمان و عمل سے بےنیاز رہا تو یہی قرابت داری اللہ کے یہاں زیادہ ناراضگی کا سبب بنے گی کیونکہ پروردگار ان سید زاروں اور اس امت کے بڑے لوگوں کو اسی نسبت سے پکڑے گا اور پوچھے گا کہ تم نہ صرف اپنے پاس اللہ کی کتاب رکھتے تھے بلکہ تمہیں صاحب کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نسبی تعلق بھی حاصل تھا۔ اس لیے جب تمہارے سامنے دین کی دھجیاں اڑائی جاتی تھیں تو تمہیں غیرت کیوں نہیں آتی تھی ؟ تمہیں تو دوسروں سے بڑھ کر اللہ کے دین کے بارے میں غیرت مند ہونا چاہیے تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کے مشہور ادیب احمد شاہ بخاری پطرس مرحوم کے جناب سید عطا اللہ شاہ بخاری صاحب مرحوم کے ساتھ بڑے قریبی تعلقات تھے اور دونوں سید بھی تھے۔ شاہ صاحب ایک دفعہ لاہور میں انہی کے مہمان تھے۔ جب واپس جانے لگے تو نجانے کیا خیال آیا ‘ شاہ صاحب نے پطرس مرحوم سے کہا کہ پطرس یہ قرآن تمہارے گھر میں نازل ہوا اور عجیب بات ہے کہ تم نماز بھی نہیں پڑھتے ‘ تم ہی اگر اس کی لاج نہیں رکھو گے تو اور کون رکھے گا ؟ پطرس کے دل پر ایک چوٹ سی لگی اور شاہ صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگا کہ شاہ جی آج رک جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد ان کی زندگی میں واضح تبدیلی آگئی۔ حاصل ِکلام یہ کہ قوموں میں مصنوعی سہارے ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نہایت ہی مہلک ثابت ہوتے ہیں اور انہی سہاروں نے اہل کتاب کی مذہبی اور ملی زندگی میں نہایت تباہ کن کردار ادا کیا۔ اللہ کی طرف سے یہود و نصاریٰ کے زعم باطل کا جواب قرآن کریم ان کی اس بنیادی کمزوری کا ذکر کرنے کے بعد اس پر تنقید کرتے ہوئے سمجھانے کے انداز میں کہتا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہو تو پھر تمہارے گناہوں پر اللہ تمہیں عذاب کیوں دیتا رہا ہے کیونکہ خدا کے محبوب اور چہیتے ہونے کے سبب سے تو تمہیں خدا کے ہر طرح کے مواخذے اور عذاب سے بری ہونا چاہیے تھا۔ تم دنیا میں جو چاہے سو کرتے لیکن کبھی عذاب کا کوڑا تمہاری پشت پر نہ برستا۔ لیکن یہاں تو تمہاری پوری تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جب بھی تم نے خدا سے سرکشی کی ‘ تو اس نے تمہیں نہایت عبرت انگیز سزائیں دیں۔ ایسی عبرت انگیز سزائیں کہ دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں ایسی سزائوں کی مثال نہیں ملتی۔ کبھی رومیوں اور اہل بابل کے ہاتھوں اور کبھی ایرانیوں کے ہاتھوں ‘ پوری قوم کی غلامی ‘ پوری قوم کی صحرا گردی ‘ پوری قوم کی جلاوطنی اور متعدد بار پوری قوم کا قتل عام اور بیت المقدس کی عبرت انگیز تباہی ‘ یہ سارے واقعات تو وہ ہیں جس پر خوداہل کتاب کا لٹریچر شاہد ہے۔ اس کے بعد کی تاریخ میں بھی تاریخ کے مختلف ادوار میں اور دنیا کے مختلف ممالک میں ہم یہود کا قتل عام ہوتا دیکھتے ہیں۔ اگر یہ لوگ ایسے ہی اللہ کے چہیتے ہوتے اور انبیاء کی اولادہونے کی وجہ سے انھیں کوئی خاص اعزاز مل چکا ہوتا تو پھر اللہ کی طرف سے ان پر یہ بار بار عذاب کے کوڑے نہ برستے اور وہ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق دنیا میں ذلت اور مسکنت کی تصویر نہ بن جاتے۔ ممکن ہے یہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ آج تو انھیں روئے زمین پر ایک ملک میسر ہے ‘ جس میں ان کی اپنی حکومت ہے اور وہ اتنی طاقت پکڑ چکے ہیں کہ تمام عرب ممالک نہ صرف ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے بلکہ مسلسل ان کے لیے اس کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ‘ اب تو ذلت اور مسکنت کی تصویر یہود نہیں بلکہ خودعرب بنے ہوئے ہیں اور پورا عالم اسلام تباہ کن صورتحال سے دوچار ہے۔ اس لیے قرآن کریم کا یہ کہنا کہ وہ جہاں بھی ہوں ان پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار مار دی گئی ہے کہاں تک صحیح ہے۔ قرآن کریم نے اس کا جواب دیا ہے : ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْٓا اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ (اٰل عمران 3: 112) (ان پر ذلت کی پھٹکار مار دی گئی ہے وہ جہاں بھی ہوں بجز اس کے کہ وہ اللہ کی رسی کو پکڑ لیں یا بندوں کی رسی کو پکڑ لیں) یعنی یہ جو پروردگار نے ان پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار ماری ہے اس سے بچنے کی دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اللہ کی رسی کو پکڑ لیں یعنی اسلام قبول کرلیں پھر ظاہر ہے وہ یہود نہیں ہوں گے ‘ بلکہ مسلمان ہوں گے اور ان کی تاریخ مسلمانوں کی تاریخ ہوگی اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ لوگوں کی رسی پکڑ لیں یعنی کسی بڑے ملک کی پناہ میں آجائیں جو ان کو اپنا آلہ کار بنا لے ‘ ان کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اپنے عزائم پورے کرتا رہے اور ان کو مسلمانوں سے تحفظ فراہم کرے۔ چناچہ اسرائیل کے نام سے جو عرب کی سرزمین میں ایک ناسور پیدا کیا گیا ہے اس کی حیثیت ایک آزاد ریاست کی نہیں بلکہ امریکہ اور برطانیہ کی گماشتہ ریاست کی ہے۔ یہ انہی کی چھتری کے نیچے پھل پھول رہا ہے۔ آج اگر امریکہ اس کی پشت پناہی چھوڑ دے تو اسرائیل کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہوجائے کیونکہ اس کی حیثیت عربوں کے مقابلے میں ایک گٹھلی سے زیادہ نہیں اگر وہ مل کر اس پر تھوکنا شروع کردیں تو وہ اس میں بہہ جائے۔ جنگ رمضان میں سادات نے برملا یہ بات کہی تھی کہ میں اسرائیل سے تو لڑ سکتا ہوں لیکن امریکہ سے نہیں لڑ سکتا یعنی وہ مسلسل اپنے مقبوضہ علاقے اسرائیل سے واگزار کروا رہا تھا کہ امریکہ پوری طاقت سے حرکت میں آیا اور اس نے مصر کے ریڈار تک جام کر ڈالے۔ لیکن اللہ کا وعدہ ایک دائمی وعدہ ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ برطانیہ اپنی طاقت کھوتا جا رہا ہے ‘ امریکہ بھی ہمیشہ نہیں رہے گا جب یہ طاقتیں اپنی حقیقی قوت کھو بیٹھیں گی تو پھر اسرائیل کو اپنے انجام سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اہل کتاب کو ان کی تاریخ کا آئینہ دکھانے کے بعد ایک سامنے کی بات کہی جا رہی ہے کہ تم اس غلط فہمی سے نکلو کہ تم باقی انسانوں سے الگ کوئی مخلوق ہو اور تمہارے لیے ایمان و عمل کی کوئی پابندی نہیں ‘ تمہیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے : بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ (بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے بشر ہو) یعنی تم کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں ہو بلکہ عام انسانوں کی طرح انسان ہو ‘ جس طرح باقی انسانوں سے قیامت کے دن مواخذہ ہوگا ‘ تم سے بھی ہوگا۔ رہی اللہ کے یہاں مغفرت اور بخشش ‘ تو اس کے لیے کسی کی قرابت داری کام نہیں دیتی بلکہ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ( البقرۃ 2: 284) ( اللہ جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے) اس لیے بخشش اور عذاب کے فیصلے اس کی مشیت کے پابند ہیں ‘ تمہاری نسبتوں کے نہیں اور پھر یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اللہ نے محض اپنے فضل و کرم سے اپنی مشیت کو بھی اپنے قانون کا پابند کر رکھا ہے اور اس کا قانون یہی ہے کہ وہ بخشش اور عذاب کا فیصلہ افراد اور قوموں کے ایمان و عمل کو دیکھ کر کرتا ہے۔ جس کا ایمان و عمل جس سلوک کا سزاوار ہوگا وہ اسی سے بہرہ ور کیا جائے گا۔ اس قانون مغفرت کی ایک دفعہ یہ ہے کہ ” اللہ مشرک کو کبھی نہیں بخشے گا “ تو اہل کتاب کو تفصیلات میں جائے بغیر اتنی بات تو سمجھ لینی چاہیے کہ انھوں نے جس طرح اللہ کی حاکمیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرایا حتیٰ کہ اس کی ذات وصفات میں نجانے کس کس کو شریک کرلیا ہے اور پھر مصنوعی سہارے تجویز کر کے اللہ کے عہد ہی کو توڑ ڈالا اس کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اپنے انجام کے بارے میں بڑی آسانی سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے یہ بات سمجھنا دشوار نہیں ہوسکتا کہ جب اللہ کا شریک کوئی نہیں اور مغفرت و عذاب سراسر اللہ کی مشیت کے تابع ہے اور اس کی مشیت میں شرک کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر شرک کرتے ہوئے یہ سمجھنا کہ دنیا میں ایسے سہارے بھی ہیں جو شرک جیسے جرم کے ارتکاب کے بعد بھی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات کا اللہ ہی مالک نہیں کوئی اور بھی ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا : لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالاَْرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ز وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ (آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کا ہے) یعنی اسی کی ملکیت ہے اور اسی کی حکومت کے ماتحت ہے اور بالآخر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس کائنات کے مالک کی موجودگی میں کسی اور کی کیا مجال کہ وہ اس قانون میں دخل دے سکے اور وہ اللہ کو مجبور کرسکے کہ وہ اپنے قانون سے ہٹ کر اس کی مرضی سے ان اہل کتاب کی بخشش کرے اور پھر یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ لے سکیں چونکہ انھیں بہرحال اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے ‘ اس لیے اس کے مواخذہ سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ عقل کی بات یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہو کے رہنا ہے تو پھر آج ہی سے اس کی تیاری کیوں نہ کی جائے۔
Ayah 5:19

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ١٘ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:19 in the Quran reader

اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول ‘ رسولوں کے وقفے کے بعد تمہارے لیے دین کو واضح کرتا ہوا آگیا ہے ‘ مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا تو آیا ہی نہیں ‘ دیکھ لو ! ایک بشیر و نذیر تمہارے پاس آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئَکُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآئَنَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ ز فَقَدْ جَآئَکُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 19) (اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول ‘ رسولوں کے وقفے کے بعد تمہارے لیے دین کو واضح کرتا ہوا آگیا ہے ‘ مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا تو آیا ہی نہیں ‘ دیکھ لو ! ایک بشیر و نذیر تمہارے پاس آگیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت کریمہ میں ایک جملہ استعمال ہوا ہے عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِرسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔ ” فَتْرَۃٌ“ اس وقفے کو کہتے ہیں جو ایک چیز کے ظہور کے بعد سے اس کے دوسرے ظہور تک کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے مثلاً باری کے بخار کے دو حملوں کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے ‘ اس کوفَتْرَہ کہتے ہیں۔ آیت میں اس سے مراد وہ وقفہ ہے جو دو نبیوں کی بعثت کے درمیان ہوتا ہے۔ یوں تو ہر دو نبیوں کے درمیان وقفہ معمول کی بات ہے ‘ لیکن یہاں بطور خاص اس کا ذکر اس لیے کیا جا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ تک اس خطہ میں کوئی رسول نہیں آیا اور یہ تقریباً پونے چھ صدیوں پر محیط وقفہ ہے۔ اہل کتاب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جن گمراہیوں میں مبتلا ہوچکے تھے اور وقتاً فوقتاً اس کی سزائیں بھی بھگت چکے تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد ان کی اصلاح کی ایک صورت پیدا ہوئی تھی ‘ لیکن اس طویل وقفے میں انھوں نے نہ صرف اس اصلاح کی تمام مساعی کو ضائع کر ڈالا بلکہ یہود نے بالخصوص بجائے عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصلاح کو قبول کرنے کے ان کے ساتھ اور ان کی دعوت کے ساتھ نہایت خطرناک دشمنی کا رویہ اختیار کیا۔ اس لیے ان میں کسی تبدیلی کے عمل کے واقع ہوجانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ‘ البتہ اہل کتاب کے دوسرے گروہ یعنی نصاریٰ میں اس کی امید کی جاسکتی تھی۔ لیکن پال کی سازش اور اس پر مبنی کاوشوں سے عیسائیت کا جس طرح حلیہ بگڑا اس نے تمام تر اصلاح کی کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ اس وقفہ میں وہ ساری خباثتیں اور گمراہیاں ان میں راہ پا گئیں جو کسی بھی بگڑی ہوئی امت میں تصور کی جاسکتی ہیں۔ اس پوری صورت حال کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اے اہل کتاب اب تمہیں سنبھلنے کا ایک آخری موقع مل رہا ہے۔ اگر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تمہاری دنیا بھی بن سکتی ہے اور آخرت میں بھی تم سرخروہو جاؤ گے اور وہ آخری موقع یہ ہے کہ تمہارے پاس ہمارا آخری رسول آگیا ہے۔ اس کی شان یہ ہے کہ تمہارے علماء و فقہاء نے تورات و انجیل میں جو خیانتیں کی ہیں اور جن حقیقتوں کو چھپایا ہے وہ انھیں کھول کھول کر بیان کر رہا ہے اور جن روحانی عقدوں کو کھولنے میں تمہیں محرومی کا سامنا رہا ہے ‘ وہ ایک ایک عقدے کو اس طرح کھول رہا ہے کہ بقول شاعر ؎ جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں تمہارے لیے یہ نادر موقع ہے کہ تم اللہ کے نبی پر ایمان لائو اور اپنی قسمت بنا لو ‘ کیونکہ آج اگر تم نے یہ موقع ضائع کردیا تو یاد رکھو ! اس کے بعد نہ نبوت ہوگی ‘ نہ رسالت ‘ نہ کوئی نئی امت بنے گی ‘ نہ کوئی نئی شریعت نافذ ہوگی ‘ نہ آسمان زمین سے دوبارہ ہمکلام ہوگا۔ اس نبی کی تشریف آوری سے تم پر ایک اتمام حجت ہو رہا ہے ‘ جس کے بعد تم قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکو گے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر اور نذیر نہیں آیا تھا۔ چناچہ اب جو آنے والا آیا ہے وہ بشیر بھی ہے اور نذیر بھی ‘ وہ تمہارے لیے بشارتیں لے کر آیا ہے ‘ تم اس کی دعوت قبول کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اس کی دعوت قبول کرنے سے انکار ہو تو پھر جان لو کہ وہ تمہیں انذار بھی کرنے آیا ہے کیونکہ تمہاری اپنی کتاب یعنی تورات کی خبر کے مطابق وہ اپنے ساتھ آتشیں شریعت لے کر آیا ہے، جس کے نتیجے میں تمہیں جہاد و قتال کے معرکوں سے گزرنا پڑے گا اس میں نہ جانے کتنے سر اڑیں گے اور جو بچ رہیں گے انھیں ملک بدر ہونا پڑے گا۔ تم اہل کتاب ہو۔ تم اپنی کتاب کے مطالعے سے اس نبی کی علامتوں سے واقف ہو اور پھر نبی کی جو عام پہچان کے حوالے ہوتے ہیں ‘ تم ان سے بھی آگاہ ہو۔ جو ایک نبی کی دعوت کا اصول ہوتے ہیں ‘ اس سے بھی واقف ہو۔ ان تمام باتوں کے آئینے میں اس نبی کو پہچاننا چاہو تو تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اگر تم اپنے حسد کے پپھولے پھوڑتے رہے کہ انبیاء تو بنی اسرائیل میں آتے تھے ‘ یہ آخری رسول بنی اسماعیل میں کیوں آگیا ؟ تو اس طرح کی باتوں سے تم اللہ کو تو مجبور نہیں کرسکتے اس لیے کہ اللہ تو ہر بات پر قادر ہے وَ اللہ ُ عَلیٰ کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ البتہ ایسی باتوں سے تم اپنی دنیا اور عاقبت ضرور تباہ کرلو گے۔ تمہید سورة المائدہ چھٹے پارے کے آٹھویں رکوع میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے اہم واقعہ سے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ پہلی بات یہ کہ اس سے پہلے کی آیات میں اگرچہ بنی اسرائیل پر اتمام حجت کردیا گیا ہے۔ لیکن ان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مختلف ادوار میں انھوں نے اس طرح بار بار اللہ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو توڑا ہے اور پھر اس پر خوفناک سزائیں بھی برداشت کی ہیں کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان سے کسی خیر کی توقع کرنا بہت مشکل ہے اور دوسری بات جس کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ نوزائیدہ امت محمدیہ جسے اب حامل ِدعوت امت کے طور پر دنیا کی اصلاح کے لیے اٹھایا جا رہا ہے اور جس نے اب وہی فرض انجام دینا ہے ‘ جو اس سے پہلے بنی اسرائیل دے چکے۔ انھوں نے جس طرح اس میں ٹھوکریں کھائیں اور بالآخر اس سے معزول کیے گئے۔ ان کی داستان کے اہم حوالوں سے اس امت کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ دیکھو ! تم ایسی صورت حال اپنے اندر کبھی پیدا نہ ہونے دینا ‘ ورنہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو اس امت کا تمہارے سامنے ہوا۔ اس واقعہ میں یہود کو ان پر کیے جانے والے چند احسانات کے تذکرے سے اس بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ پروردگار نے مختلف اوقات میں تمہارے اسلاف اور اکابر پر کیسے کیسے انعامات کیے اور انھیں کیسے کیسے احسانات سے نوازا تھا۔ جس فرد اور جس قوم میں انسانیت دم نہ توڑ چکی ہو وہ کبھی احسان فراموشی جیسے جرم کا ارتکاب نہیں کرتی۔ لیکن جب کوئی قوم احسان فراموش ہوجاتی ہے ‘ تو پھر اس سے کسی اچھی بات کی توقع کرنا ایک کار عبث ہے۔
Ayah 5:20

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا١ۖۗ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:20 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میرے ہم قومو ! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا ق وَّ اٰتٰکُمْ مَّالَمْ یُوْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (المائدہ : 20) (اور یاد کرو ! جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا اے میرے ہم قومو ! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا) بنی اسرائیل پر اللہ کے تین عظیم احسان اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں بنی اسرائیل پر تین احسانات کا ذکر فرمایا۔ 1 پہلا احسان یہ کہ ” اس نے تم میں انبیاء اٹھائے “۔ انبیاء اس زمین پر اللہ کے قاصد کی حیثیت سے انسانوں کو اللہ کے پیغام پہنچاتے اور اس کے ذریعے سے انسانی اصلاح کا کام انجام دیتے ہیں۔ وہ خود بھی انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی طرف اللہ کے قاصد اور نمائندہ بن کے آتے ہیں۔ توجہ اس بات کی طرف دلائی جا رہی ہے کہ انسانوں میں سے کسی انسان کا اللہ کے نمائندہ بن کے آنا یہ اتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ پوری نوع انسانی اس پر جتنا فخر کرے کم ہے جبکہ یہاں تو بطور خاص انسانوں میں سے نمائندہ بنانے کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اللہ نے تم میں سے اپنے انبیاء یعنی نمائندے اٹھائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم بطور قوم اللہ کو کتنی عزیز اور اہل زمین میں کس قدر عزت کی مالک ہو کہ اس نے نمائندے چنے تو تم میں سے چنے۔ کسی قبیلے یا کسی بستی سے کوئی بادشاہ اگر اپنا سفیر چن لیتا ہے تو پوری بستی اس پر فخر کرتی اور اتراتی ہے اور اگر خالق کائنات کسی قوم میں سے اپنا نمائندہ اور سفیر چن لے تو اسے بجا طور پر ناز کرنے اور فخر کرنے کا حق ہے۔ 2 دوسرا احسان یہ فرمایا کہ ” ہم نے تمہیں صرف دنیا پر روحانی سیادت کے لیے ہی نہیں چنا بلکہ تمہیں حکومتیں اور بادشاہتیں بھی بخشیں “۔ جس قوم کو روحانی اور معنوی سیادت کے ساتھ اقتدار بھی دے دیا جائے اس قوم کے لیے انقلاب برپا کرنا اور اپنے مقاصد کے مطابق نیا انسانی معاشرہ وجود میں لانا کوئی مشکل کام نہیں رہتا اور یہ وہ احسان ہے جو قدرت بہت کم قوموں پر کیا کرتی ہے۔ 3 تیسرا احسان یہ فرمایا جس کو پہلے بیان کیے گئے دونوں احسانات کا نتیجہ کہنا چاہیے کہ ” تمہیں وہ کچھ دیا جو اس وقت کی دنیا میں کسی اور کو نہیں دیا “ مراد یہ ہے کہ تمہیں حامل ِدعوت امت کی حیثیت سے مخصوص کرلیا گیا اور دنیا بھر کی رہنمائی اور ان کی ہدایت کا کام تمہارے سپرد کیا گیا۔ یہ تینوں احسانات ایسے ہیں کہ جن پر یہ قوم جتنا فخر کرے کم ہے۔ ان احسانات کے حوالے سے اس آیت کریمہ کے الفاظ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان تینوں احسانات کو اللہ تعالیٰ نے ماضی کے افعال سے ذکر فرمایا ہے۔ اس کا بظاہر مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں احسانات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے گزرنے والے بنی اسرائیل پر کیے گئے تھے اور جن کا بطور احسان قوم موسیٰ کو ذکر سنایا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ بات غلط معلوم نہیں ہوتی ‘ اگرچہ وہ پوری تاریخ اس وقت محفوظ حالت میں نہیں ہے ‘ لیکن پھر بھی ہم اتنا جانتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) لڑکپن میں حادثاتی طور پر کنعان سے نکلے ‘ غلام بنے ‘ بکتے بکاتے مصر پہنچ گئے ‘ وہاں اللہ تعالیٰ نے انھیں غلامی اور جیل کے راستے سے اپنی قدرت خاصہ سے اقتدار تک پہنچا دیا۔ چناچہ اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے اپنے خاندان اور اپنے محترم والدین کو مصر بلا لیا۔ وہاں پر ان کی اولاد خوب پھلی پھولی اور معلوم ہوتا ہے کہ کئی نسلوں تک ان میں نبوت بھی رہی اور حکمرانی بھی۔ اس طرح وہ اس وقت کی معلوم دنیا کی قیادت کرتے رہے۔ دوسری سوچ یہ ہے کہ یہاں فعل ماضی مستقبل کے معنی میں ہے اور یہ قرآن کریم کا عام اسلوب ہے کہ وہ جس بات کو مستقبل میں یقینی طور پر وقوع پذیر ہونے کی خبر دینا چاہتا ہے ‘ اس کو فعل ماضی میں بیان کرتا ہے ‘ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ بات تو مستقبل میں واقع ہوگی لیکن تم اس کو یوں جانو کہ گویا یہ واقع ہوچکی ہے۔ یہ انداز بیاں اس کے حتمی ہونے کا غماز ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورتحال ہے بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ اب قوم موسیٰ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں نبوت تو دے ہی چکا لیکن یہ نبوت کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا اور نسلوں تک چلے گا اور پھر انہی کی نسلوں میں بادشاہ اٹھیں گے اور اللہ انھیں اقتدار سے نوازے گا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی کم ہمتی اور کوتاہ فکری کے باعث اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ان کو اقتدار نہ مل سکا ‘ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) نے مسلسل فتوحات کا سلسلہ شروع کیا حتیٰ کہ فلسطین پر قابض ہوگئے۔ اس طرح سے بنی اسرائیل کے اقتدار کا آغاز ہو اجو تاریخ کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حیرت انگیز بادشاہی تک پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں نہ صرف انسانوں پر حکومت بخشی بلکہ بیک وقت جنات اور جانور تک ان کے زیر نگیں تھے اور آپ کو پروردگار نے ایسا بےمثل اقتدار عطا کیا کہ جس کی کوئی نظیر نہ اس سے پہلے موجود تھی ‘ نہ بعد میں پیدا ہوسکی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دن نماز پڑھاتے ہوئے آنحضرت ﷺ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹے تو صحابہ کے استفسار پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شیطان جن میری نماز توڑنے کے لیے حملہ آور ہوا تھا میں نے چاہا کہ اسے پکڑ کر باندھ دوں لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی دعا یاد آئی کہ یا اللہ میرے بعد کسی کو مجھ جیسی حکومت نہ دینا۔ یعنی ایسی حکومت جس میں جنات بھی زیر نگیں ہوں۔ مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مسلسل بنی اسرائیل میں انبیاء بھی آئے، انھیں اللہ نے اقتدار بھی دیا اور امامت و قیادت بھی انہی کے پاس رہی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس وقت جس عظیم احسان کی طرف بنی اسرائیل کو متوجہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کل تک غلامی کی ذلت کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ فرعونی اور قبطی ایسے ایسے مظالم ان پر توڑ رہے تھے جو کسی بھی قوم کو عزت سے محروم کرنے اور اس کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کے بھیجا اور ان کے واسطے سے ان کو مصر سے نکالا۔ اب یہ وادی سینا میں اس قابل ہیں کہ اگر چاہیں تو اپنی اولوالعزمی اور ارادہ اور عمل کی پختگی سے اپنے لیے وہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ‘ جس کا اس آیت میں ذکر کیا جا رہا ہے۔ قدرت ان پر مہربان ہے۔ صرف ان کے جوش عمل کا انتظار ہے۔ جیسے ہی انھوں نے اپنے آپ کو اس قابل ثابت کردیا وہ سارے مذکورہ انعامات سے نوازے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں ان تمام باتوں کے احتمالات موجود ہیں۔ ہم کوئی سا مفہوم مراد لے لیں آیت کے الفاظ اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اسلوب کے لحاظ سے بھی ایک بات توجہ طلب ہے۔ وہ یہ کہ سلسلہ نبوت کی تعبیر کے لیے تو فرمایا : جَعَلَ فِیْکُم اَنْبِیَائَ (تم میں انبیاء بنائے) لیکن سلسلہ بادشاہی کی تعبیر کے لیے فرمایا : وَجَعَلَکُم مُّلُوْکاً (اور تم کو بادشاہ بنایا) ان دونوں اسلوبوں پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبوت ایک مرتبہ اختصاص ہے جو صرف اسی سے مخصوص ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس منصب پر فائز فرماتا ہے ‘ دوسرے اس میں شریک نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس بادشاہی ایک منصب اجتماعی ہے ‘ جس میں بادشاہ کے ساتھ اس کی پوری قوم حصہ دار ہوتی ہے۔ اگر کسی بادشاہی میں قوم شریک نہ ہو تو وہ استبداد اور مطلق العنانی ہے۔
Ayah 5:21

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَرْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:21 in the Quran reader

اے میرے ہم قومو ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجائو ‘ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پیٹھ پیچھے نہ پھرو۔ ورنہ ! نامرادوں میں سے ہو کر رہ جائو گے

یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللہ ُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ ۔ (المائدہ : 21) (اے میرے ہم قومو ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ ‘ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور پیٹھ پیچھے نہ پھرو۔ ورنہ ! نامرادوں میں سے ہو کر رہ جاؤ گے) کوہِ سینا پر بنی اسرائیل کی پرورش ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر بحرقلزم سے نکلے اور جزیرہ نما سینا میں داخل ہوئے ‘ آپ کی منزل کوہ سینا تھی ‘ جسے ہم ” کوہ طور “ کہتے ہیں۔ آپ اس کے دامن میں جا کر ٹھہرنا چاہتے تھے۔ یہ صحرا ایسا نہیں تھا کہ سرے سے اس میں انسانوں کا نشان نہ ہو بلکہ راستے میں بہت سی بستیاں بھی تھیں جن میں بعض قبائل آباد تھے اور ان بستیوں کے نام بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔ چناچہ آپ مارہ ‘ ایلیم اور عیدیم کی بستیوں سے ہوتے ہوئے کوہ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے بھی زائد مدت تک اس مقام پر ٹھہرے رہے۔ یہیں پر تورات کے بیشتر احکام نازل ہوئے اور یہیں وہ بڑے بڑے معجزات پیش آئے جس کا قرآن کریم نے بھی ذکر کیا ہے اور تاریخ بھی اس کا ذکر کرتی ہے۔ مثلاً ابر کا سایہ کرنا ‘ چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹنا ‘ من وسلویٰ کا نازل ہونا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایسے ایسے احسانات کیے ہیں ‘ جس کی مثال ہمیں اور کہیں نہیں ملتی۔ ورنہ انسانوں کا یہ ہجوم کہ اسرائیلی روایات کے مطابق اس کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچتی ہے۔ اچانک صحرائے سینا میں پہنچا ہے ‘ جہاں زندگی گزارنے کے کوئی امکانات نہیں۔ اگر اس طرح قدرت ان کی پاسبانی نہ کرتی اور ان کو زندگی گزارنے کے امکانات مہیا نہ کرتی تو یہ بھوک اور پیاس کی شدت اور موسمی حملوں سے ہلاک ہوجاتے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی ملک میں کوئی ایسا بڑا حادثہ ہوجاتا ہے ‘ جس کے نتیجے میں وہاں سے چند لاکھ مہاجرین نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تو جس پڑوسی ملک میں مہاجرین کا یہ قافلہ داخل ہوتا ہے ‘ وہ ملک سراپا احتجاج بن جاتا ہے اور نتیجتاً اس کی استعانت اور استمداد کا دائرہ پوری دنیا تک پھیل جاتا ہے ‘ اقوام متحدہ حرکت میں آتی ہے ‘ تب بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہونے پاتا حالانکہ آج کی دنیا کے پاس وسائلِ رزق اور وسائلِ مواصلات کی وہ فراوانی ہے جس کا اس دور میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن قدرت کی کارفرمائی دیکھئے کہ اس نے اتنی بڑی تعداد میں ایک امت کو زندہ رکھا اور اپنی طرف سے اس پر ایسے حیرت انگیز انتظامات کیے جس کا تصور بھی آج مشکل ہے۔ ” من “ یعنی ایک طرح کی گوند نما چیز زمین پر گرتی اور یہ اس کو اٹھا کر اس کی روٹی بنا لیتے جو حلوے سے زیادہ لذیذ ہوتی تھی۔ ” سَلْوٰی “ بٹیر کی طرح کا ایک پرندہ تھا جو ان کے خیموں سے ٹکرا ٹکرا کے گرتا اور یہ اس کے گوشت سے محظوظ ہوتے۔ پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اسے عصائے موسیٰ کی ضرب سے اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان سے بارہ چشموں کی صورت میں ایسے رواں کردیا کہ ہر قبیلے کے لیے الگ الگ گھاٹ مقرر کردیئے گئے۔ بنی اسرائیل کا جہاد سے انکار اسی کوہ سینا میں جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا کہ تم ارض مقدسہ یعنی فلسطین کی طرف جاؤ اور اسے فتح کرلو ‘ اللہ نے اسے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ یعنی اسے تمہاری میراث بنادیا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لیے ہوئے تبعیر اور حصیرات کے راستے جب دشت فاران میں تشریف لائے تو وہاں آپ نے اپنی قوم کو یہ حکم سنایا اور وہیں آپ نے ان میں سے بارہ نقیب مقرر فرمائے اور انھیں فلسطین کے حالات معلوم کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔ یہ بارہ افراد پر مشتمل وفد کئی دن گزارنے کے بعد (بعض روایات کے مطابق چالیس دن تک) فلسطین کے مختلف علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد واپس آیا اور قادس جو دشت فاران کا آخری علاقہ ہے ‘ وہاں آکر انھوں نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ حضرت یوشع اور کالب کے سوا پورے وفد کی رپورٹ نہایت حوصلہ شکن تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں ‘ بڑا خوشحال علاقہ ہے ‘ نعمتوں کی فراوانی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم نے وہاں بنی عناق کی نسل کے لوگوں کو دیکھا ہے (جن کو تورات اور قرآن کریم نے ” جبار “ کہا ہے) ” جبار “ عربی زبان میں کھجور کے ان درختوں کو کہتے ہیں جو بہت قدآور ہوں اور بڑا سایہ دیں۔ انسانوں میں بھی ” جبار “ بڑے مضبوط اور قدآور لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایسے قدوقامت کے لوگ ہیں کہ ہم ان کی نظروں میں ایسے لگتے تھے جیسے ٹڈے۔ کہنے لگے کہ اگر وہ لوگ وہاں نہ ہوں تو وہاں کی خوشحالی اور فارغ البالی کے باعث ہم ہر وقت وہاں جانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی میں ہم وہاں جائیں ‘ یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ ان کی موجودگی میں جانے کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہاں جا کر ہم ان کی تلواروں کا قیمہ بنیں۔ چناچہ یہ ساری قوم رات بھر روتی رہی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کرتی رہی کہ تم ہمیں یہاں اس لیے لائے تھے کہ ہمارا قیمہ بنواؤ اور اس کے بعد ہماری بیویاں اور بیٹیاں ان کی لونڈیاں اور بچے غلام بن جائیں اور پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آئو ہم کسی کو اپنا سردار بنالیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔ اس پر ان بارہ نقیبوں (سرداروں) میں سے جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے۔ دو سردار یوشع اور کالب اٹھے اور انھوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کرلیں کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔ صرف یہ ہونا چاہیے کہ تم خداوند خدا سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو اور ہمارے ساتھ خداوند ہے ‘ سو ان کا خوف نہ کرو۔ مگر قوم نے جواب یہ دیا کہ انھیں سنگسار کردو۔
Ayah 5:22

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ١ۖۗ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ Open ayah 5:22 in the Quran reader

وہ بولے کہ اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں۔ ہم اس میں نہیں داخل ہونے کے ‘ جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے

قَالُوْا یٰمُوْسٰٓی اِنَّ فِیْھَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ ق صلے وَ اِنَّا لَن نَّدْخُلَھَا حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْھَا ج فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا فَاِنَّا دَاخِلُوْنَ (المائدہ : 22) (وہ بولے کہ اس میں تو بڑے زور آور لوگ ہیں۔ ہم اس میں نہیں داخل ہونے کے ‘ جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوں گے) ” غلامی “ بنی اسرائیل کی بزدلی کی اصل وجہ بنی اسرائیل کی یہ حالت دیکھ کر اور ان کی روداد پڑھ کر آدمی کو حیرت ہوتی ہے کہ ایک قوم جو اللہ کے نبی پر ایمان لا چکی ہے اور مسلسل اس پر اللہ کی نعمتیں برس رہی ہیں ‘ وحی الٰہی اتر رہی ہے اور آنے والے مستقبل کے لیے انھیں ایک قائد امت کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے ۔ بایں ہمہ ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی بھی معرکہ کارزار میں اترنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح اب تک ہر کام حضرت موسیٰ کے معجزات اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے انجام پذیر ہوا ہے ‘ یہ مرحلہ بھی اسی طرح سر ہوجانا چاہیے ۔ بحر قلزم اگر عصائے موسیٰ سے پایاب ہوسکتا ہے تو فلسطین بھی ایسے ہی معجزے سے فتح کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں آخر اس مصیبت میں کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ ان میں یہ جو بزدلی اور اجتماعی کمزوری دکھائی دیتی ہے ‘ آدمی کو اس پر حیرت ضرور ہوتی ہے۔ لیکن اس میں ایسی کوئی بات نہیں جو سمجھ میں آنے والی نہ ہو۔ جس آدمی نے بھی قوموں کی تاریخ پڑھی ہے ‘ وہ خوب جانتا ہے کہ آزادی قوموں کو خوداعتمادی دیتی ہے ۔ اپنی قسمت آپ بنانے کا حوصلہ دیتی ہے اور اپنے قومی تشخص کو باقی رکھنے کے لیے بڑے سے بڑے معرکے میں اتر جانا ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔ وہ جانتے ہیں ۔ ؎ بے معرکہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں لیکن جب کوئی قوم غلامی کا شکار ہوتی ہے تو وہ صرف قومی تشخص ہی سے نہیں ‘ بلکہ قومیت کے احساس سے بھی محروم ہوجاتی ہے ۔ وہ انسانوں کا ایک ایسا ہجوم ہوتا ہے جن کی ضرورت صرف کھانا پینا اور زندہ رہنا ہے۔ انھیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ قومی آزادی ‘ قومی خوداعتمادی ‘ قومی وقار اور روئے زمین پر عزت و سربلندی سے زندہ رہنا کیا چیزیں ہیں۔ وہ ان چیزوں کو کتابی علم سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ۔ اس لیے جب بھی انھیں کبھی کسی ایسے معرکے میں شامل ہونے کے لیے کہا جائے جہاں ایثار ‘ سرفروشی اور جاں سپاری کے مراحل درپیش ہوں ۔ وہ ان سے کوسوں دور بھاگتی ہیں کیونکہ غلامی ان کے اندر ان خصائل میں سے کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتی ‘ بلکہ وہ یہ تک بھول جاتی ہیں کہ حسن و خوبی کے معیارات کیا ہیں اور عزت اور ذلت کس چیز کا نام ہے ۔ اقبال مرحوم نے ٹھیک کہا تھا ؎ غلامی کیا ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومی جسے زیبا کہیں آزاد بندے ‘ ہے وہی زیبا بنی اسرائیل چونکہ تاریخ کے اس جبر کا شکار تھے اور وہ آزادی کے خصائص سے یکسر محروم ہوچکے تھے اور اب تک انھوں نے ہر کام معجزات سے ہی ہوتا دیکھا تھا ‘ اس لیے وہ کسی بھی ایسے معرکہ کارزار میں شامل ہونے کو تیار نہ تھے ‘ جس میں انھیں خطرات سے دوچار ہونا پڑے۔ اس لیے باوجود اللہ کے اس وعدے کے کہ یہ فلسطین کی سرزمین تمہارے لیے مقدر کردی گئی ہے ‘ بس ضرورت صرف یہ ہے کہ تم کسی حد تک اولوالعزمی کا ثبوت دو ۔ انھوں نے صاف انکار کردیا کہ ہم ایسی کسی مہم میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں ۔ ہرچند کہ یہ پوری قوم بزدلی کی تصویر بن گئی۔ لیکن اللہ کا قانون یہ معلوم ہوتا ہے کہ قومیں ہزار تنزل کا شکار ہوجائیں ‘ ان میں کچھ نہ کچھ نمونے کے لوگ باقی رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ آخری دم تک قوم کے سامنے اتمام حجت کا فرض انجام دیتے رہیں۔ چناچہ جو بارہ افراد کا ایک وفد فلسطین کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا گیا تھا ان میں سے دو افراد ایسے تھے جنھوں نے ان کا حوصلہ بندھانے کی کوشش کی۔
Ayah 5:23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّكُمْ غٰلِبُوْنَ١ۚ۬ وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:23 in the Quran reader

دو شخصوں نے ‘ جو تھے تو انہی ڈرنے والوں ہی میں سے اور خدا کا ان پر فضل تھا ‘ للکارا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے پھاٹک میں گھس جائو۔ جب تم اس میں گھس جائو گے تو تمہی غالب رہو گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللہ ُ عَلَیْھِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْھِمُ الْبَابَ ج فَاِذَا دَخَلْتُمُوْہٗ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ 5 ج وَ عَلَی اللہِ فَتَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ (المائدہ : 23) (دو شخصوں نے ‘ جو تھے تو انہی ڈرنے والوں ہی میں سے اور اللہ کا ان پر فضل تھا ‘ للکارا کہ تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے پھاٹک میں گھس جاؤ۔ جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو تمہی غالب رہو گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو ‘) تاریخی روایات میں ہے کہ ان دو نوجوانوں کا نام یوشع اور کالب تھا۔ حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے۔ یہ دونوں بنی اسرائیل کی قوم سے ہی تعلق رکھتے تھے اور دونوں غلامی کے زخم بھی سہہ چکے تھے۔ اس کے باوجود حیرت ہے کہ اللہ نے ان میں ایک اولوالعزم اور صداقت شعار قوم کے افراد کی خصوصیات زندہ رکھیں۔ ایسی خصوصیات کا وجود غلام قوم کے افراد میں بجائے خود بہت نادر ہے۔ یہ اسی کے نصیب میں ہوتا ہے جس پر اللہ اپنا فضل فرمائے۔ چناچہ ان پر بھی اللہ نے اپنا فضل فرمایا اور انھوں نے قوم کو ڈھارس بندھانے اور اپنے فرض کی انجام دہی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی۔ اہل ِایمان صرف اللہ سے ڈرتے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک اور بات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرنے والے تھے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس سے ڈرتے تھے ؟ تاکہ معلوم ہو کہ ان کا تعلق کس گروہ سے تھا۔ ایک بات جو زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ تھے اپنی ہی قوم کے انہی لوگوں میں سے جو کسی بھی سرفروشی کے کام میں شریک ہونے سے ڈرتے تھے۔ ان کے اندر یہ حس مرچکی تھی کہ قومی سربلندی کے لیے افرادِ قوم کو جانگسل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور صداقت شعاری کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ لیکن اللہ نے ان پر اپنا فضل فرمایا اور یہ انہی میں سے ہونے کے باوجود سرفروشی کا راستہ اختیار کر رہے تھے۔ دوسرا مطلب اس کا یہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں اللہ سے ڈرنے والے لوگوں میں سے تھے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ قوم بنی اسرائیل میں کوئی ایک گروہ تھا ‘ جو اللہ سے ڈرتا تھا اور یہ ان لوگوں میں سے تھے ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں خیر و شر کے حوالے سے ہمیشہ دو گروہ رہے ہیں۔ اہل خیر کا گروہ دنیا کی کسی قوت سے کبھی نہیں ڈرتا۔ بلکہ وہ ہمیشہ اللہ سے ڈرتا ہے اور اس گروہ کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوتا ہے۔ ہر دور میں اس کا وجود ہمیں ملتا ہے۔ چناچہ بنی اسرائیل کے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوہ طور پر ان کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو ان کو معجزہ عطا کرتے ہوئے پروردگار نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا پھینکو۔ جیسے ہی عصا پھینکا گیا وہ ایک اژدھا بن گیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے یہ ایک نہایت حیرت انگیز اور ڈرا دینے والا واقعہ تھا۔ ویسے بھی آپ عجیب صورتحال سے دوچار کردیئے گئے تھے کہ اچانک انھیں اللہ سے ہم کلامی کا موقع ملا اللہ کا کلام سرتاپاجلال ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے حصار میں تھے کہ اچانک یہ واقعہ پیش آیا۔ خوف آپ پر غالب آیا اور آپ ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہاں پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا : یَا مُوْسٰی لاَ تَخَفْ قف اِنِّی لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْن۔ (اے موسیٰ مت ڈر میرے یہاں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے) (النمل 27: 10) اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحب ایمان لوگوں کا اور ان کی طرف مبعوث ہونے والوں کا ہمیشہ یہ نشان رہا ہے کہ وہ اللہ کے سوا ہر طرح کے خوف سے بےنیاز ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں قرآن کریم نے جادوگروں کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کے ایمان لانے کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے ‘ اس میں بھی سب سے بڑی بات جس سے ہمارے ایمان کو روشنی ملتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جب انھوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کو معجزاتی شکل میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ نبوت ہے تو پھر انھوں نے فرعون کے سارے جاہ و جلال کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ اللہ کے حضور سجدے میں گرگئے۔ فرعون نے جب ان کو اپنی قوت اور جبروت سے ڈرانے کے لیے دھمکیاں دیں تو انھوں نے صاف کہا کہ بادشاہ آپ جو چاہیں کر گزریں ہم اس ذات پر ایمان لا چکے ہیں جس کے بعد کسی اور سے ڈرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ اہل حق کا یہ وہ قافلہ ہے جن کی علامت یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا نہ کسی کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور نہ کسی سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ” توکل علی اللہ اور مقدور بھر کوشش “ فضل الٰہی کے نزول کے لیے شرط یہ دونوں نوجوان بھی اسی قافلہ حق کے مسافروں میں سے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ آپ کو دو کام کرنے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فلسطین پر چڑھ دوڑو اور اس کی فصیل پر یلغار کرتے ہوئے اس کے بڑے گیٹ میں گھس جاؤ۔ وہاں تک پہنچنا تمہارا کام ہے ‘ اس لیے کہ تمہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے، یہ تمہارا کام نہیں بلکہ یہ سراسر اللہ کی ذات کا فیصلہ ہے۔ اگر تمہارے اندر اخلاص ہوا اور تم نے توکل اور بھروسہ کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہوئے اپنی کوششوں میں کوئی کمی نہ کی تو یقیناً اللہ تمہیں فتح سے ہمکنار کرے گا اور تم میں سے جن لوگوں کو وہ زیادہ بلند مرتبہ دینا چاہے گا ان کو شہادت سے بہرہ مند فرمائے گا۔ لیکن تمہارا کام یہ ہے کہ ایک دفعہ شہر پر چڑھ دوڑو۔ یہ بالکل اللہ کی وہی سنت ہے جو ہم یوسف (علیہ السلام) کے واقعے میں دیکھتے ہیں کہ زلیخا نے ان کو گناہ کی دعوت دی اور اس سے بچ نکلنے کے تمام امکانات ان کے سامنے مسدود کردیئے۔ اب بظاہر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ لیکن اللہ کی طرف سے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا گیا کہ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ ہر بند دروازے تک دوڑتے ہوئے پہنچ جاؤ ‘ اس کے بعد اس کے تالوں کو توڑنا اور دروازوں کو کھولنا ‘ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ شرط یہ ہے کہ تمہارے اعتماد علی اللہ اور تمہاری کوشش میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے۔ بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں چناچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) دروازے پر دوڑتے ہوئے پہنچتے تو دروازہ ان کے لیے کھل جاتا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ان کی کوششوں کے نتیجے میں ان کو محفوظ رکھا۔ ہم اپنی اسلامی تاریخ میں بھی قدم قدم پر اس کے شواہد دیکھتے ہیں۔ خود جنگ بدر میں مسلمانوں کے پاس وسائل جنگ کے حوالے سے تہی دامنی کے سوا اور کیا تھا۔ افرادی قوت ایک تہائی سے بھی کم تھی۔ مقابلے کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی۔ لیکن ان کی اصل قوت کیا تھی ؟ وہی جس کا ابھی ذکر ہو رہا ہے۔ حفیظ نے اس کی ٹھیک منظر کشی کی ہے : تھے ان کے پاس دو گھوڑے ‘ چھ زرہیں ‘ آٹھ شمشیریں پلٹنے آئے تھے ‘ یہ آج دنیا بھر کی تقدیریں نہتے تھے ‘ مگر تسکین و اطمینان رکھتے تھے کہ ساماں پر نہیں ‘ ایمان پر ایمان رکھتے تھے یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے عرض کیا تھا کہ یا اللہ ! سالہاسال کی محنت کا ثمر آپ کے حضور لے آیا ہوں ‘ اب ان کو بچانا اور ان کی مدد فرمانا آپ کے ذمہ ہے۔ انہی حقائق کی طرف ان نوجوانوں نے اپنی قوم کو ہرچند متوجہ کیا۔ لیکن غلامی کی زخم خوردہ یہ قوم چونکہ ملی خصوصیات سے بالکل محروم ہوچکی تھی ‘ اس لیے انھوں نے نہ صرف اس نصیحت کو قبول کرنے سے یکسر انکار کردیا بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا :