5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsروح القرآن

Ayah 5:58

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو عقل نہیں رکھتے

وَاِذَانَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ اتَّخَذُوْھَا ھُزُوًا وَّ لَعِبًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْقِلُوْنَ ۔ (المائدہ : 58) ” اور جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو عقل نہیں رکھتے “۔ ان یہودی اشرار کی اسلام دشمنی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ یہ اذان کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں آتے۔ اس کی بھونڈی نقلیں اتارتے ہیں اور ہنستے اور مذاق اڑاتے ہیں۔ اس سلسلے میں احادیث میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی تھا ‘ جس کا معمول یہ تھا کہ جب بھی اذان ہوتی تو وہ اس کی نقل اتارتا اور مذاق اڑاتا اور جب کہا جاتا ” اشھد ان محمد رسول اللہ “ تو وہ کہتا ” احرق اللہ الکاذب “ اللہ جھوٹے کو جلائے۔ یعنی وہ حضور ﷺ کو جھوٹا کہتا اور آپکے جلانے کی بددعا دیتا۔ اللہ نے اس کو سزا دی کہ ایک رات جب وہ اور اس کے گھر والے سب سو رہے تھے ‘ اس کا غلام آگ لے کر گھر میں داخل ہوا نہ جانے کیسے کوئی شعلہ اڑ کر کسی کپڑے پر جاپڑا۔ وہ غلام جا کر سو گیا۔ رات کے کسی حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور اس یہودی سمیت اس کے تمام اہل خانہ جل کر بھسم ہوگئے۔ ان کا یہ رویہ اسلام کے اس حکم کے بارے میں تھا ‘ جس کے بارے میں اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعائر اسلام میں سے ہے۔ جس کی عزت و حرمت کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ جب ان کی ان خباثتوں سے شعائر اسلام بھی محفوظ نہیں ہیں تو اس سے ان کی اسلام دشمنی کی گہرائی کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ مگر کمال ہے ان نام نہاد مسلمانوں پر جو یہود کی اسلام دشمنی کی گہرائی کو محسوس بھی کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کی حمیت و غیرت پر آنچ نہیں آتی۔ اس آیت کریمہ کے دوسرے حصے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں ‘ جو عقل نہیں رکھتے۔ اس سے ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اذان فی الحقیقت نماز یعنی عبادت کی طرف بلانے کا ایک ذریعہ ہے۔ عبادت کی طرف بلاوا چاہے کسی مذہب کی طرف سے بھی آئے وہ لائق احترام ہے۔ عام انسانی عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے ‘ کیونکہ عبادت دنیا کے ہر مذہب میں رہی ہے۔ آسمانی مذاہب میں تو نماز کا حکم بھی ہمیشہ موجود رہا۔ خود یہود کے لیے تورات میں اس کا حکم نازل کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان بدبختوں نے سب سے پہلے نماز ہی کو ضائع کیا۔ قرآن کریم ان کی اس گمراہی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : فََخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُو الصّٰلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ (مریم 19: 59) (پھر ان کے بعد نالائق جانشین آئے ‘ جنھوں نے نماز کو ضائع کردیا اور شہوات کی پیروی کرنے لگے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی مذاہب رکھنے والی قومیں ‘ جب تنزل کا شکار ہوتی ہیں تو سب سے پہلے نماز ہی ان کی زندگیوں سے خارج ہوتی ہے اور نماز کا اہتمام رفتہ رفتہ ان سے جاتا رہتا ہے۔ مسلمان بھی اہل کتاب ہی کی طرح ایک امت ہیں ‘ جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی یہ تنبیہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ جن راستوں سے برائیاں اہل کتاب میں آئیں ‘ انہی راستوں سے تم میں بھی آئیں گی۔ اس لیے ہماری یہ ملی اور دینی ذمہ داری ہے کہ اہل کتاب چونکہ نماز چھوڑ کر گمراہ ہوئے۔ ہم اپنی قوم کو اس بربادی کے راستے پر چلنے سے روکیں اور اسے تباہی سے بچائیں اور اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو جس طرح سابقہ امتیں تباہ ہوئیں ‘ اس امت کو بھی تباہی سے بچایا نہیں جاسکے گا۔ اس وقت اس امت کی غالب اکثریت نماز سے بیگانہ ہوچکی ہے ‘ جمعہ تک کی پابندی ختم ہوگئی ہے اور جہاں تک نماز کی حقیقی روح کا تعلق ہے ‘ اس کا وجود تو شاید تلاش کرنے سے بھی مشکل سے ملے۔ کہنا یہ ہے کہ نماز ہر مذہب میں موجود رہی اور نماز کی طرف بلانے کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بھی رہا ‘ جس کو اذان کہا جاتا ہے۔ اب اگر اہل کتاب اس نماز اور نماز کی طرف بلانے والی ندا کی توہین کرنے پر تل جائیں تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ بنیادی طور پر عقل سے محروم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ انھیں اگر دشمنی ہے تو وہ اسلام اور مسلمانوں سے ہے ‘ لیکن اللہ کا نام لینا اور اللہ کا نام لے کر نماز کی طرف بلانا ‘ اس میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ان کی دشمنی کو انگیخت کرتی ہو۔ لیکن اگر یہ بھی انھیں گوارا نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنی نے ان کی عقل پر غلبہ پا لیا ہے۔ اس لیے فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل نہیں رکھتے ‘ اس کے برخلاف ہم مسلمانوں کا رویہ یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے کبھی ان کی عبادت گاہوں کی توہین نہیں کی۔ حضرت صدیق اکبر ( رض) نے حضرت اسامہ کے لشکر کو روانہ کرتے ہوئے جو ہدایات دی تھیں ‘ اس میں واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ تم راستے میں اہل کتاب کی عبادت گاہوں سے گزرو گے ‘ دیکھنا ! انھیں نقصان نہ پہنچانا۔ ان عبادت گاہوں میں تمہیں تارک الدنیا راہب ملیں گے ان سے تعرض نہ کرنا کیونکہ عبادت تو ایک مشترکہ سرمایہ ہے۔ بنیادی اعتقادات اور شرعی معاملات زیر بحث آسکتے ہیں لیکن مشترکہ اقدار پر تو دشمنی کا تماشہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اہل کتاب اپنی دشمنی میں حد سے گزر چکے تھے۔ اس لیے منافقین کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے اصل حقیقت کو سمجھنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اس طرح ممکن ہے کہ ان نام نہاد مسلمانوں کے پندار کو ٹھیس لگے اور وہ راہ راست اختیار کرنے پر تیار ہوجائیں۔
Ayah 5:59

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ان سے کہیے کہ اے اہل کتاب ! تم ہم پر بس اس بات کا غصہ نکال رہے ہو کہ ایمان لائے ہم اللہ پر اور اس چیز پر ‘ جو ہماری طرف بھیجی گئی اور اس چیز پر ‘ جو پہلے اتاری گئی اور تم میں اکثر نافرمان ہیں

اہل کتاب کی دشمنی کے ذکر کے بعد پروردگار آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان اہل کتاب سے ایک سوال کیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے : قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ ھَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ اِلآَّ اَنْ اٰمَنَّا بِ اللہ ِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا مِنْ قَبْلُ لا وَاَنَّ اَکْثَرَکُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (المائدہ : 59) ” اے پیغمبر ان سے کہئے کہ اے اہل کتاب ! تم ہم پر بس اس بات کا غصہ نکال رہے ہو کہ ایمان لائے ہم اللہ پر اور اس چیز پر ‘ جو ہماری طرف بھیجی گئی اور اس چیز پر ‘ جو پہلے اتاری گئی اور تم میں اکثر نافرمان ہیں “۔ یہود و نصاریٰ کی مسلمانوں سے وجہ دشمنی مسلمانوں کے ساتھ یہود دشمنی کی پوری داستان اور اس سلسلے میں ان کی طرف سے کی جانے والی دشمنی پر مبنی شرارتوں میں سے چند ایک کا ذکر کرنے کے بعد ان سے پوچھا گیا ہے کہ آخر تم مسلمانوں سے اس قدر دشمنی کیوں روا رکھتے ہو ؟ معلوم تو ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کے ساتھ تمہاری دشمنی کے اصل اسباب کیا ہیں ؟ بظاہر تو مسلمانوں کا اس کے سوا اور کیا گناہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور تم پر جو کتابیں اتری ہیں ‘ ان پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ ان پر نازل کیا جا رہا ہے ‘ اسے وہ مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور تمہیں خوب معلوم ہے کہ جتنے بھی دنیا میں پیغمبر آئے ہیں اور جتنی ان پر کتابیں اتری ہیں ‘ ان سب کا مرکز ہدایت ایک ہے۔ ان کی بیان کردہ بنیادی صداقتوں میں کوئی اختلاف نہیں۔ ایک ہی روشنی ہے ‘ جو تمام کتابوں میں یکساں نور بن کر دکھائی دیتی ہے۔ پھر ان پیغمبروں اور کتابوں کا اسلوب دعوت ایک ہے۔ باہمی ایک دوسرے سے اس حد تک مماثل ہیں کہ پہلے پیغمبروں اور کتابوں کا جاننے والا قرآن کریم اور صاحب قرآن کی پہچان میں کبھی غلطی نہیں کرسکتا۔ انہی بنیادی صداقتوں کو ماننے والے مسلمان ہیں اور وہ انتہائی اخلاص کے ساتھ اس نازل کردہ شریعت کے ایک ایک حکم پر نہایت خوش دلی سے عمل کر رہے ہیں۔ یہ جرم ایسا ہے ‘ جو کل تک تمہارے اسلاف بھی کرچکے اور تم خود اسی کو راہ راست سمجھتے ہو ‘ اب آخر اس میں ایسی کیا بات ہے کہ تم نے واقعی اس کو جرم قرار دے کر مسلمانوں کے ساتھ ہر طرح کی دشمنی پر ادھار کھا رکھا ہے ؟ حالانکہ قابل نفرت اور قابل مذمت اگر کوئی رویہ ہے تو وہ تمہاری اکثریت کا ہے کیونکہ وہ تمہاری اپنی شریعت کے نافرمان اور باغی ہیں ‘ لیکن تم سب اپنے کرتوتوں کے باوجود ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہو اور علماء تک کو ان کی نافرمانی پر مبنی روش پر کوئی اعتراض نہیں۔ لڑائی ہے تو مسلمانوں سے جبکہ ان کا گناہ اس کے سوا اور کچھ نہیں : خونے نہ کردہ ایم و کسے رانہ کشتہ ایم جرمم ہمیں کہ عاشق رُوئے توگشتہ ایم قرآن کریم نے اس سوال کو جواب سے تشنہ چھوڑا ہے ‘ کیونکہ یہود اس کا جواب دینے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوسکتے تھے۔ اس کا جواب دینا ان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا ‘ ورنہ ان کی پوری شخصی اور اجتماعی زندگی بالکل برہنہ ہو کر رہ جاتی۔ لیکن وہ اسکے جواب کو جانتے تھے اور تمام اہل نظر بھی اسے جانتے ہیں جواب اس کا یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزمان کی تشریف آوری ‘ ملت ابراہیمی پر ان کی بعثت ‘ پھر کعبۃ اللہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنانا ‘ اسے مرکز دعوت قرار دینا ‘ دعوت ابراہیمی کو تجدیدی عمل سے گزارنا اور تکمیل دین کے اعلانات ‘ یہ تمام باتیں یہود کو یہ بتانے کے لیے کافی تھیں کہ اسلام محض ایک دعوت نہیں بلکہ یہ پوری زندگی کے لیے ایک انقلاب ہے اور مسلمانوں کا بطور امت اٹھایا جانا صرف ایک نئی امت بننے کے مترادف نہیں بلکہ ایک ایسی امت کا وجود ہے جسے شہادتِ حق ‘ عدل اجتماعی کے قیام اور پوری دنیا کی ہدایت کے منصب پر کھڑا کرنا ہے ‘ جس منصب پر اس سے پہلے بنی اسرائیل فائز تھے۔ اب نئی امت کا ان کی جگہ لینا ‘ یہ ان کی نااہلی کا اعلان ہے۔ چناچہ وہ ان تمام باتوں میں چونکہ اپنی ہمیشہ کے لیے معزولی اور اس عظیم منصب سے دھتکارے جانے کو دیکھ رہے تھے تو بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے کہ یہ برے دن ہم محض اپنی بداعمالیوں کے باعث دیکھ رہے ہیں اور پھر اپنی اصلاح کے سلسلے میں وہ اسلام کی آغوش میں چلے جاتے اور اس طرح اپنی مکمل تباہی سے بچ جاتے ‘ انھوں نے یہ راستہ اختیار کرنے کی بجائے حسد اور بغض کا راستہ اختیار کیا اور اپنے آپ کو اس کے ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے مسلمانوں ‘ ان کے رسول اور ان پر اترنے والی کتاب کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور پھر ایک ایسی دشمنی کے راستے پر چل پڑے ‘ جس کا کوئی انجام نہیں۔ یہ وہ چیز ہے ‘ جس کو یہود اچھی طرح سمجھتے تھے اور قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ‘ ان سے سوال کیا ہے۔ ظاہر ہے ‘ وہ اپنی دشمنی کو چھپاتے ہوئے اس کا جواب دینے کی کبھی جرأت نہیں رکھتے تھے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی دشمنی اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ انھوں نے تاریخی مسلمات اور ہر طرح کی عقل کی بات سے منہ موڑ لیا تھا۔ وہ نہ صرف مسلمانوں سے دشمنی کرتے اور ان کے شعائر تک کی توہین کرتے تھے بلکہ یہ بات بھی کہتے تھے کہ مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے اس حد تک برے ہیں کہ مشرکین مکہ ‘ جو صرف شرک ہی کو اپنا مذہب قرار دیتے تھے اور ہر طرح کی مذہبی راہنمائی سے محروم تھے ‘ وہ بھی مسلمانوں سے اچھے ہیں۔ اب یہ ایک ایسی بات ہے کہ جو ایک ایسی قوم کہہ رہی ہے ‘ جو اگرچہ شرک میں ملوث ہے ‘ لیکن وہ شرک کو بہرحال سب سے بڑی برائی قرار دیتی ہے اور وہ یہ بات بھی جانتی ہے کہ توحید ‘ رسالت اور آخرت پر ایمان لائے بغیر کسی بھی قوم کے لیے ہدایت کے دعویٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے مشرکین مکہ تو سرے سے ہدایت ہی سے محروم تھے چہ جائیکہ انھیں مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ قرار دیا جاتا۔ لیکن یہود کو یہ بات سمجھانا ممکن نہ تھا کیونکہ سمجھے ہوئے کو سمجھانا اور جاگتے کو جگانا ‘ ممکن نہیں ہوتا۔ البتہ الزامی دلیل کے طور پر انھیں تاریخ کا آئینہ ضرور دکھایا جاسکتا ہے تاکہ اس میں اپنی اصل شکل دیکھ کر شاید ان کی عقل ٹھکانے آئے یا ایسی بےسروپا باتوں پر وہ شرم محسوس کریں۔ اس لیے اگلی آیت میں انھیں تاریخ کا آئینہ دکھایا جا رہا ہے۔
Ayah 5:60

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

کہو ! کیا میں تمہیں بااعتبارِ انجام اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برے لوگوں کا پتہ دوں ؟ یہ وہ ہیں ‘ جن پر اللہ نے لعنت بھیجی ‘ جن پر اس کا غضب ہوا اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور سور بنائے اور جنھوں نے طاغوت کی پرستش کی۔ یہ ٹھکانے کے لحاظ سے بدتر اور اصل شاہراہ سے بعید تر ہیں

قُلْ ھَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرِّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃًعِنَْدَ اللہِ ط مَنْ لَّعَنَہُ اللہ ُ وَ غَضِبَ عَلَیْہِ وَجَعَلَ مِنْھُمُ الْقِرَدَۃَ وَالْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ ط اُوْلٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآئِ السَّبِیْلِ ۔ (المائدہ : 60) ” کہو ! کیا میں تمہیں بااعتبارِ انجام ‘ اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برے لوگوں کا پتہ دوں ؟ یہ وہ ہیں ‘ جن پر اللہ نے لعنت بھیجی ‘ جن پر اس کا غضب ہوا اور جن کے اندر سے اس نے بندر اور سور بنائے اور جنھوں نے طاغوت کی پرستش کی۔ یہ ٹھکانے کے لحاظ سے بدتر اور اصل شاہراہ سے بعید تر ہیں “۔ یہود کی نافرمانیوں کی سزا اس آیت کریمہ میں پروردگار نے براہ راست ان کی بات کا جواب دینے کی بجائے ‘ ان کی تاریخ کا انھیں آئینہ دکھایا تاکہ اگر وہ سمجھنا چاہیں تو اس آئینہ کو دیکھنے کے بعد بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اگر براہ راست انھیں اسی تند و تیز لہجے میں جواب دیا جاتا ‘ جس کے وہ مستحق تھے تو یقیناً ان کے اندر ایک اشتعال پیدا ہوتا۔ لیکن یہ اسلوب بھی اپنے اندر دعوتی حکمت رکھنے کے باوجود ایسا مُسکِت ہے کہ جس کا جواب آج تک یہود سے بن نہ پڑا۔ فرمایا گیا کہ تمہارا حال تو یہ ہے کہ تمہارے وہ اسلاف جن کے تم وارث ہو ‘ تم خوب جانتے ہو کہ اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں وہ کیسے بڑے بڑے عذابوں سے دوچار ہوئے۔ جب انھوں نے صحرائی زندگی میں اولوالعزمی ‘ جانفروشی اور سخت جانی کی تربیت حاصل کرنے کی بجائے ‘ شہری زندگی اور اس کی مراعات کا مطالبہ کیا تو انھیں حکم دیا گیا کہ جاؤ ! کسی شہر میں جا اترو ‘ تمہیں وہاں یہ ساری نعمتیں مل جائیں گی کیونکہ جس مقصد کے لیے تمہیں مصر سے نکالا گیا تھا ‘ اگر وہ مقصد تمہیں عزیز نہیں بلکہ کھانے پینے کی ہوس ہی تمہیں عزیز ہے تو پھر اللہ کی بارگاہ سے تمہارے لیے ذلت اور مسکنت کے سوا اور کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ ان پر ذلت اور مسکنت کی پھٹکار ماری گئی اور جہاں سے انھیں اللہ کی رحمت کو لے کر پلٹنا تھا ‘ وہیں سے وہ اللہ کے غضب کو لے کر لوٹے۔ پھر تاریخ تمہاری اس ذلت اور مسکنت اور غضب کی داستان سے بھری ہوئی ہے ‘ جس کو تم بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہو اور جب انھوں نے ان تاریخی حوادث اور اللہ کے غضب سے کوئی سبق نہ سیکھا تو اللہ نے سبت کی صورت میں ان پر پابندیاں لگا کر انھیں آزمایا۔ جب وہ اس آزمائش میں بری طرح ناکام ہوئے تو ان پر وہ سخت ترین عذاب آیا کہ جس میں انھیں بندر اور سور بنادیا گیا۔ سورة البقرہ میں اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ‘ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاریخی حقیقت یہود میں ایک مسلّمہ واقعہ کی حیثیت رکھتی تھی اور پھر یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ قرآن کریم کی جب یہ آیات نازل ہوئیں ‘ یہود نے ان الزامات کی ہرگز تردید نہیں کی بلکہ اس پر چپ سادھ لی کیونکہ ان حوادث سے ان کے عوام تک بھی آگاہی رکھتے تھے۔ یہ بندر اور خنزیر بنائے جانے کا واقعہ سورة الاعراف میں کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ‘ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسی بستی میں پیش آیا ‘ جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ محققین کا غالب میلان اس طرف ہے کہ یہ مقام ایلہ یا ایلات یا ایلوت تھا ‘ جہاں اب اسرائیل کی یہودی ریاست نے اسی نام کی ایک بندرگاہ بنائی ہے اور جس کے قریب ہی اردن کی مشہور بندرگاہ عقبہ واقع ہے۔ اس کی جائے وقوع بحر قلزم کی اس شاخ کے انتہائی سرے پر ہے ‘ جو جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی اور عرب کے مغربی ساحل کے درمیان ایک لمبی خلیج کی صورت میں نظر آتی ہے۔ بنی اسرائیل کے زمانہ عروج میں یہ بڑا اہم تجارتی مرکز تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے بحر قلزم کے جنگی و تجارتی بیڑے کا صدرمقام اسی شہر کو بنایا تھا۔ اس بستی کے رہنے والے بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ سبت کے احترام میں اس دن کوئی دنیوی کام نہ کریں۔ گھروں میں آگ تک نہ جلائی جائے ‘ جانوروں اور لونڈی غلاموں تک سے کوئی خدمت نہ لی جائے اور یہ کہ جو شخص اس ضابطہ کی خلاف ورزی کرے اسے قتل کردیا جائے۔ لیکن بنی اسرائیل نے آگے چل کے اس قانون کی علانیہ خلاف ورزی شروع کردی۔ یرمیاہ نبی کے زمانہ میں (جو 668 سے 586 قبل مسیح کے درمیان گزرے ہیں) خاص یروشلم کے پھاٹکوں سے لوگ سبت کے مال و اسباب لے کر گزرتے تھے۔ اس پر نبی موصوف نے اللہ کی طرف سے یہودیوں کو دھمکی دی کہ اگر تم لوگ شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی سے باز نہ آئے تو یروشلم نذر آتش کردیا جائے گا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اپنی اس بری عادت سے باز نہ آئی بلکہ اس قدر نافرمانی میں دلیر ہوگئی کہ انھیں صاف حکم دیا گیا تھا کہ تم سبت کے دن مچھلیاں نہیں پکڑو گے ‘ چونکہ ان کی گزربسر ساحل سمندر پر رہنے کی وجہ سے زیادہ تر مچھلیوں پر ہی ہوتی تھی ‘ اس لیے یہ ان کے لیے ایک سخت آزمائش تھی۔ وہ بجائے اسکے کہ اپنی اطاعت سے اس آزمائش سے نکلنے کی کوشش کرتے ‘ انھوں نے کھلم کھلا نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ البتہ حیلہ یہ اختیار کیا کہ سبت کے دن مچھلیاں حوضوں میں جمع کرلیتے اور اتوار کے دن پکڑ لیتے۔ اس پر اللہ کا عذاب حرکت میں آیا۔ قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی کے رہنے والے تین قسم کے لوگ تھے ‘ جو اپنے اعمال کے اعتبار سے یکساں نہیں تھے۔ اس لیے پروردگار نے بھی ان کے ساتھ یکساں سلوک نہیں فرمایا۔ ہم اس کی تفصیل ایک محقق کے قلم سے نقل کرتے ہیں۔ (ایک وہ ‘ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ ‘ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے ‘ مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ ‘ جن کی غیرت ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہ راست نہ اختیار کریں ‘ تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے اللہ کے سامنے اپنی براءت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے اللہ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا ‘ جس نے اپنی براءت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے) برائی کے خلاف جدوجہد کرنے والا ہی اللہ کے عذاب سے بچتا ہے بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے گروہ کے مبتلائے عذاب ہونے کی اور تیسرے گروہ کے نجات پانے کی تصریح کی ہے ‘ لیکن دوسرے گروہ کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے۔ لہٰذا اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ نجات پانے والوں میں سے تھا یا مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے۔ پھر ایک روایت ابن عباس ( رض) سے یہ مروی ہے کہ وہ پہلے اس بات کے قائل تھے کہ دوسرا گروہ مبتلائے عذاب ہونے والوں میں سے تھا ‘ بعد میں ان کے شاگرد عکرمہ نے ان کو مطمئن کردیا کہ دوسرا گروہ نجات پانے والوں میں شامل تھا۔ لیکن قرآن کے بیان پر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس ( رض) کا پہلا خیال ہی صحیح تھا۔ ظاہر ہے کہ کسی بستی پر اللہ کا عذاب آنے کی صورت میں تمام بستی دو ہی گروہوں میں تقسیم ہوسکتی ہے ‘ ایک وہ ‘ جو عذاب میں مبتلاہو اور دوسرا وہ جو بچا لیا جائے۔ اب اگر قرآن کی تصریح کے مطابق بچنے والا گروہ صرف تیسرا تھا تو لامحالہ پہلے اور دوسرے دونوں گروہ نہ بچنے والوں میں شامل ہوں گے۔ اسی کی تائید مَعْذِرَۃً اِلیٰ رَبِّکُمْ کے فقرے سے بھی ہوتی ہے ‘ جس کی توثیق بعد کے فقرے میں خود اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس بستی میں علانیہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو ‘ وہ ساری کی ساری بستی قابل مواخذہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اسے اللہ کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حد استطاعت تک اصلاح اور اقامتِ حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چناچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً ج (انفال 8: 25) ” ڈرو اس فتنہ سے ‘ جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے ‘ جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو “ اس کی تشریح میں نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ : ان اللہ لا یعذب العامۃ بعمل الخاصہ حتی یروا المنکربین ظھرانیھم وھم قادرون علیٰ ان ینکروہ فلا ینکروہ فاذافعلوا ذلک عذب اللہ الخاصۃ والعامۃ ( اللہ عزوجل خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا ‘ جب تک عامۃ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور پھر کوئی اظہار ناراضی نہ کریں، پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے) بنی اسرائیل پر مختلف وقتوں میں اترنے والے عذابوں کا ذکر فرما کر پروردگار نے ان کے ایک خاص جرم کا ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔ فرمایا وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ یعنی ان کا ایک بہت بڑا جرم یہ تھا کہ باوجود اہل کتاب ہونے کے ‘ انھوں نے طاغوت کی پرستش کی۔ طاغوت ہر اس قوت یا اقتدار کو کہتے ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنی عبادت کرواتا ہے یا اپنے وضعی قوانین کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے قوانین کے مقابلے میں اپنے زیر تسلط ملک میں یا اپنے دائرہ اثر میں نافذ کرتا ہے اور اس کی اطاعت پر مجبور کرتا ہے جبکہ غیر مشروط اطاعت صرف اللہ کی صفت ہے اور اس کی اطاعت کے توڑ پر اور اس کے احکامات کو نظر انداز کر کے ‘ جب کوئی دوسری قوت اس کی جگہ لے لیتی ہے تو وہ طاغوت کہلاتی ہے اور جو لوگ اس کی اس طرح غیرمشروط اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ طاغوت کی اطاعت کا جرم کرتے ہیں۔ یہ طاغوت ایک بادشاہ بھی ہوسکتا ہے ‘ ایک ڈکٹیٹر بھی ‘ جمہوری ملک میں پارلیمنٹ بھی اور آزادقبائل کی دنیا میں کوئی جرگہ یا پنچایت بھی یعنی جب بھی کوئی اجتماعی قوت اللہ کے قانون کو نظر انداز کر کے اپنے قانون کو رائج کرے گی اور لوگوں کو اس کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے گی ‘ وہ طاغوتی قوت ہے۔ اس کی اطاعت کرنا ‘ طاغوت کی اطاعت کرنا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی کبریائی کو چیلنج کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ جرم کوئی بھی کرے ‘ قابل مذمت ہے۔ لیکن اگر اس کا ارتکاب ایک کتاب اور شریعت رکھنے والی قوم کرے تو اس کی شناعت اور برائی میں بےحد اضافہ ہوجاتا ہے۔ چناچہ ان کی ساری وہ بداعمالیاں ‘ جس پر بنی اسرائیل عذابوں کا شکار ہوتے رہے ‘ ان سب سے بڑھ کر یہ وہ برائی اور جسارت ہے ‘ جس کا ذکر اس آیت کریمہ کے آخر میں کیا گیا ہے۔ امت مسلمہ اور طاغوت کی پرستش یہاں رک کر امت مسلمہ کو سو بار سوچنا ہوگا کہ اگر طاغوت کی بندگی اور اطاعت ‘ بنی اسرائیل کے لیے ‘ اس لیے سب سے بڑا جرم بن گئی کہ وہ ایک حامل شریعت امت تھی۔ شریعت کی موجودگی میں انھوں نے کسی اور قانون کی اطاعت اور کسی اور اتھارٹی کی بندگی کیسے قبول کرلی۔ تو امت مسلمہ نہ صرف کہ حامل شریعت امت ہے بلکہ یہ تو آخری امت ہے ‘ جس پر آخری کتاب اتاری گئی ہے ‘ جس کی طرف آخری نبی آیا ‘ اس کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا ‘ نہ کوئی کتاب اترے گی اور نہ ان کے بعد کوئی امت آئے گی۔ اب اگر یہ امت بھی صراط مستقیم سے ہٹ جاتی ہے تو پھر آخر اس دنیا کی اصلاح کے لیے اور کس سے امید وابستہ کی جائے گی۔ اس لیے اس امت مسلمہ کو اس عظیم جرم کے بارے میں جس کا ارتکاب پورے عالم اسلام میں ہو رہا ہے ‘ سو دفعہ گہرے غور و فکر سے کام لینا ہوگا اور اپنی اس گمراہی سے نکل کر اللہ کے دین کے ساتھ اپنی زندگیوں کا ربط قائم کر کے اور اللہ کے دین کو قوت نافذہ بنا کر اپنی اس بہت بڑی کوتاہی کا ازالہ کرنا ہوگا ورنہ جس ذلت سے آج یہ امت گزر رہی ہے ‘ اس سے نکلنے کی اور کوئی صورت ممکن نہیں۔ بنی اسرائیل کے اسلاف کی اس تاریخ کو بیان کرنے کے بعد ‘ آنحضرت ﷺ کے ہم عصر بنی اسرائیل کے چند ایسے کرتوتوں اور نمایاں عادتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جس راستے پر ان کے اسلاف چلتے رہے ‘ یہ اخلاف بھی اسی راستے پر چلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس لیے اب اگر انھیں شہادت حق کے منصب سے معزول کیا جا رہا ہے تو انھیں بجائے اس پر برہم ہونے اور حسد کے پھپھولے پھوڑنے کے ‘ اپنے اعمال کے آئینہ میں اپنی شکل دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چناچہ ان کے مکروہ اعمال میں سے ایک عمل یہ تھا :
Ayah 5:61

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ نکلتے ہیں اور اللہ خوب واقف ہے اس چیز سے ‘ جس کو چھپا رہے ہیں

وَاِذَا جَآء ُ وْکُمْ قَالُوْآ اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ وَھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ط وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَ ۔ ” اور جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ نکلتے ہیں اور اللہ خوب واقف ہے اس چیز سے ‘ جس کو وہ چھپا رہے ہیں “۔ اس سے پہلے یہود کی اس خباثت کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کی بہت ساری باتوں کا مذاق اڑاتے تھے ‘ حتیٰ کہ اذان جو شعائر اسلام میں سے ہے ‘ اس کو بھی وہ ہنسی اور کھیل سمجھتے تھے اور اس کی توہین کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اب اس آیت کریمہ میں ان کی ایک اور حرکت کو بیان کیا جارہا ہے۔ لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ دینی شعائر کا مذاق اڑانا شاید ان کے عوام کی حرکت تھی۔ لیکن ان کے دانشور ‘ جو اپنے علم و دانش کے زور سے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے گہری سازشوں میں مبتلا تھے۔ ان کی ایک سازش یہ تھی ‘ جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں کی مجالس میں آتے تھے تو کہتے کہ ہم بھی تو مومن ہیں۔ آخر آپ ہمیں مومن تسلیم کیوں نہیں کرتے ؟ کیونکہ ایمان نام ہے اللہ پر ایمان لانے کا ‘ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے کا اور آخرت کو ماننے کا۔ ان سب باتوں پر تو ہم بھی ایمان رکھتے ہیں ‘ ہم کئی پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں ‘ تورات اور اس کے ساتھ کئی صحیفوں کو مانتے ہیں ‘ آخرت کے ہم بھی قائل ہیں ‘ صرف اگر ہم محمد ﷺ کو نہیں مانتے تو آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟ آخر ہمارے پیغمبر اور ہماری کتاب بھی تو اللہ ہی کے بھیجے ہوئے ہیں ؟ عام مسلمان ان کی اس طرح کی باتوں سے دھوکے میں آجاتے اور ان سے ایک قسم کے حسن ظن میں مبتلا ہوجاتے۔ چناچہ پہلے پارے میں قرآن کریم نے ان کی اس بات کو مخادعت (دھوکہ دہی) سے تعبیر کیا ہے ‘ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اگر مومن ہو تو سیدھے سیدھے مسلمانوں کی طرح کیوں ایمان نہیں لاتے ؟ یعنی محمد ﷺ اور قرآن کا اقرار کیوں نہیں کرتے ؟ تو اس پر برہم ہوجاتے اور کہتے کہ ہم بیوقوفوں کی طرح کی حرکت نہیں کرسکتے ‘ ہم ملک میں صلح و امن چاہتے ہیں اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ مسلمان اگر کسی کو پیغمبر ماننا چاہتے ہیں تو مانیں ‘ لیکن ہمارے لیے اس کا ماننا ضروری قرار نہ دیں۔ اس کو مانے بغیر ہمارا دینی مقام و مرتبہ تسلیم کریں۔ اگر مسلمان اپنے سوا سب کو کافر قرار دیں گے تو اس سے ملک میں فساد برپا ہوگا ‘ جس میں سب کا نقصان ہے۔ چناچہ اس آیت کریمہ میں یہود کے انہی دانشوروں کا ذکر ہے کہ جب یہ تمہاری مجالس میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی مسلمان ہیں حالانکہ جس کفر کے ساتھ وہ آتے ہیں ‘ اسی کفر کے ساتھ وہ واپس جاتے ہیں۔ ایمان نہ داخل ہوتے وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے ‘ نہ نکلتے وقت۔ بس تمہارے سامنے دعویٰ کر کے تمہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ خوب جانتا ہے ‘ جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔ یعنی اصلاً وہ ایک سازش کا ارتکاب کر رہے ہیں تاکہ اس طرح وہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اسلام کے بارے میں یکسوئی نہ پیدا ہونے دیں۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں قرآن کریم نے ان کے اس دعویٰ ایمان کی قلعی کھولی۔ ارشاد فرمایا :
Ayah 5:62

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

تم ‘ ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی ‘ زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔ کیا ہی برا ہے ‘ جو کچھ یہ کر رہے ہیں

وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدہ : 62) ” تم ان میں سے اکثر کو دیکھو گے کہ وہ حق تلفی ‘ زیادتی اور حرام خوری کی راہ میں گرم رو ہیں۔ کیا ہی برا ہے ‘ جو کچھ یہ کر رہے ہیں “۔ سابقہ آیت میں یہود کے ایمان کا ذکر گزرا ہے۔ انھیں بہت اصرار ہے کہ ہم صاحب ایمان لوگ ہیں ‘ ہمارے ایمان کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پروردگار فرماتے ہیں کہ ذرا ان کے ایمان کا حال دیکھو کہ ان میں زیادہ تر افراد چاہے وہ عام لوگ ہوں یا ان کا پڑھا لکھا طبقہ ‘ وہ پوری طرح اخلاقی اور اعتقادی برائیوں کا شکار ہیں اور صرف یہی نہیں کہ وہ ان اخلاقی برائیوں کا کبھی کبھی ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ‘ بلکہ ” یُسَارِعُوْنَ “ کا لفظ اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ یہ بداعمالیاں اور بد اطواریاں ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہیں بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب برائی کے ارتکاب میں اس حد کو پہنچ چکے ہیں ‘ جس میں برائی کا احساس تک ختم ہوجاتا ہے۔ پھر پورا معاشرہ ان برائیوں کے ارتکاب میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں لگ جاتا ہے۔ برائی جب کسی معاشرے کا چلن بن جاتی ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا احساس مرجاتا ہے۔ پھر اگر کبھی کوئی اللہ کا بندہ ‘ اس پر سرزنش کرنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے تو وہ اپنے معاشرے میں نکو بن کر رہ جاتا ہے۔ جس طرح بیمار معدہ ہر مقوی غذا کو اگل دینے کی کوشش کرتا ہے ‘ اسی طرح معاشرہ ایسے فرد یا ایسے افراد کو اگل دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہود ایسی ہی حالت کو پہنچ گئے تھے۔ اس آیت کریمہ کے الفاظ سے مزید یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ان کی بداعمالیاں کسی ایک دائرے میں بند نہیں ‘ بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کا رویہ ہر طرح کی برائی کی تصویر بن کے رہ گیا تھا۔ عام طور پر گناہ اور برائی کو ” اثم “ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ہر طرح کے ظلم اور زیادتی کو ” عدوان “ کا نام دیا جاتا ہے اور ہر طرح کی حرام خوری بالخصوص رشوت کو ” سحت “ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہی تینوں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بڑے بڑے جرائم ہیں۔ جب کوئی قوم ان جرائم میں اس حد تک آلودہ ہوجائے کہ ان میں احساس گناہ بھی باقی نہ رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو کر رہ گیا ہے چناچہ یہی کیفیت یہود کے معاشرے کی تھی۔ وہ ان تمام بڑے بڑے گناہوں میں سر سے پائوں تک آلودہ تھے۔ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا : لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (کس قدر برا تھا ‘ جو کچھ وہ کرتے تھے) یعنی ان کی اجتماعی زندگی اعتقادی اور اخلاقی طور پر بری طرح تباہ ہوچکی تھی جس کی انتہاء یہ تھی کہ کسی بھی قوم کا صالح ترین طبقہ ان کے علماء اور مشائخ پر مشتمل ہوتا ہے۔ قومیں بگاڑ کی کسی بھی انتہاء کو پہنچ جائیں ‘ یہ طبقہ برابر اصلاح و ہدایت کے کام میں لگا رہتا ہے۔ لیکن جب یہ طبقہ بھی خود برائیوں میں ڈوب جائے اور اصلاح و ہدایت کے کام کو لپیٹ کر رکھ دے تو پھر اس قوم کی بقاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یا یہ قوم اللہ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہے اور یا تصویر حسرت بن کر دوسروں کے لیے عبرت کا سامان بن کے رہ جاتی ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
Ayah 5:63

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

کیوں نہیں روکتے تھے ‘ ان کو ان کے علماء اور فقہا ‘ گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے۔ کتنی بری ہے یہ حرکت ‘ جو یہ کر رہے تھے

لَوْ لاَ یَنْھٰھُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِھِمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ۔ (المائدہ : 63) ” کیوں نہیں روکتے تھے ان کو ‘ ان کے علماء اور فقہا ‘ گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے۔ کتنی بری ہے یہ حرکت ‘ جو یہ کر رہے تھے “۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت ” ربانی “ علماء اور ” احبار “ فقہاء کے لیے بولا جاتا ہے اور یہ دونوں گروہ کسی بھی قوم کی اخلاقی زندگی کے امین ہوتے ہیں۔ لیکن اس قوم کی اخلاقی تباہی اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ اس گروہ نے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چھوڑدیں۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود دنیوی محبت کے اسیر ہو کر ان تمام برائیوں میں ملوث ہوچکے تھے ‘ جن میں ان کی قوم ملوث تھی۔ ظاہر ہے کہ ایک مجرم تو مجرم کو نصیحت نہیں کرسکتا اور مزید یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ عوام کی غلط کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے تو لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ کہا اور ان مشائخ اور فقہاء کی بداطواریوں کا ذکر کرتے ہوئے لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ارشاد فرمایا گیا۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ ” صنع “ کے لفظ میں ” عمل “ کی نسبت زیادہ گہرائی پائی جاتی ہے۔ بتلانا یہ مقصود معلوم ہوتا ہے کہ عوام بھی بداخلاقیوں میں ڈوب چکے تھے ‘ لیکن ان کا یہ مذہبی اور علمی طبقہ اپنی بدعملیوں میں شعوری طور پر ان سے بھی آگے تھا کیونکہ ان کا گناہ صرف ان تک محدود نہیں تھا بلکہ دوسری قوم کے طبقات بھی ان کو دیکھتے ہوئے گناہ پر زیادہ دلیر ہوجاتے تھے۔ اسی لیے حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) نے فرمایا کہ مشائخ اور علماء کے لیے پورے قرآن میں اس سے زیادہ سخت تنبیہ کہیں نہیں اور امام تفسیر ضحاک نے فرمایا کہ میرے نزدیک مشائخ اور علماء کے لیے یہ آیت سب سے زیادہ خوفناک ہے۔ اس لیے علماء اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر علماء اس بات کی امید رکھتے ہوں کہ ان کی نصیحت سے لوگوں میں اچھے اثرات پیدا ہوسکتے ہیں ‘ لیکن وہ پھر بھی حق نصیحت ادا کرنے میں تأمل کریں تو اللہ کے یہاں ان کی سخت بازپرس ہوگی۔ ہاں ! اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ قوم ان کی بات نہیں سنے گی بلکہ الٹا انھیں اذیتیں دے گی تو پھر اگرچہ یہ اپنی ذمہ داریوں میں ماخوذ نہیں ہوں گے ‘ لیکن بہتر یہی ہے کہ پھر بھی عزیمت کا راستہ اختیار کیا جائے اور جیسا گزشتہ رکوع میں فرمایا گیا : وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لآَئِمٍ ط ( اللہ والے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرا نہیں کرتے) انھیں بھی نامساعد حالات کے باوجود ہر طرح کے اندیشوں سے بےنیاز ہو کر اپنا فرض انجام دیتے رہنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی خیریت و عافیت اس وقت تک ممکن ہے ‘ جب تک ان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے والے باقی رہتے اور اپنا فرض انجام دیتے رہتے ہیں اور جب یہ فریضہ رک جاتا ہے تو پھر ایسا ہی ہے ‘ جیسے ڈاکٹر مریضوں کے مرض ہی کو سامان شفا سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو کر بیٹھ جائے۔ ظاہر ہے ایسی صورت حال میں مریضوں کے انجام کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل نہیں۔ اسی طرح جب علماء اور مشائخ کا طبقہ قوم کی اصلاح سے غافل ہوجاتا ہے تو پھر قوم کی اخلاقی صحت کے بارے میں کوئی امید رکھنا خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس لیے قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر خاص زور دیا ہے۔ قرآن کریم نے اس کام کو امت محمدیہ کی خصوصیات میں شمار فرمایا ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے کو سخت گناہ اور موجب عذاب قرار دیا ہے۔ حدیث میں رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب کسی قوم میں گناہ کے کام کیے جائیں اور کوئی آدمی اس قوم میں رہتا ہو اور ان کو منع نہ کرے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں پر عذاب بھیج دے۔ مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو تباہ کردو۔ فرشتوں نے عرض کیا کہ اس بستی میں تو آپ کا فلاں عبادت گزار بندہ بھی رہتا ہے۔ حکم ہوا ‘ اس کو بھی عذاب کا مزا چکھایا جائے کیونکہ ہماری نافرمانیوں اور گناہوں کو دیکھ کر اس کو کبھی غصہ نہیں آیا اور اس کا چہرہ غصہ سے کبھی متغیر نہیں ہوا۔ علماء اور مشائخ کی تباہی کی جڑ ‘ گناہ کی بات اور حرام خوری ہیں اس آیت کریمہ میں علماء و مشائخ کے حوالے سے دو جرائم کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک ہے : ” قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ “ گناہ کی بات اور دوسرا ہے ” اَکْلِھِمُ السُّحْتَ “ یعنی حرام خوری۔ حقیقت یہ ہے کہ علماء و مشائخ کے لیے یہ دو گناہ تمام گناہوں کی جڑ اور تمام برائیوں کا سرچشمہ ہیں کیونکہ علماء و مشائخ اپنی قوم کے لیے اس وقت تک اسوہ اور نمونہ کی حیثیت رکھتے ہیں ‘ جب تک ان میں حق گوئی اور حق نصیحت کا جذبہ باقی رہتا ہے۔ لیکن جب ان کی زبان گناہ سے آلودہ ہوجائے اور بڑھتے بڑھتے اللہ کے بارے میں یا وہ گوئی سے بھی دریغ نہ کرے اور دین کی باتوں کا مذاق اڑانا یا ان کا برداشت کرنا ‘ ان کا معمول بن جائے تو پھر وہ اپنی قوم کے لیے نمونہ اور اسوہ کیا ‘ الزام بن کے رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح ان کا عمل اس وقت تک قوم کے لیے قابل تقلید رہتا ہے ‘ جب تک وہ عسرت اور تنگدستی میں زندگی گزارنے کو تو برداشت کرلیتے ہیں ‘ لیکن کبھی ہوس زر کے اسیر ہو کر حرام خوری اور مادی آلودگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔ لیکن اگر وہ خود ان برائیوں کا ارتکاب کرنے لگیں تو ان کا عمل قوم کے لیے نہ صرف قابل تقلید نہیں رہتا ‘ بلکہ ان کا وجود گالی بن کے رہ جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے بنی اسرائیل کے اس مذہبی طبقہ کو انہی دونوں بنیادی برائیوں نے اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ آج امت مسلمہ کے لیے بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ امت کی غالب اکثریت بری طرح ان مفاسد کا شکار ہوگئی ہے اور جن لوگوں کو ان برائیوں کو روکنے کے لیے عملی نمونہ بننا چاہیے ‘ اگرچہ ان میں ابھی تک قابل تقلید مثالیں موجود ہیں ‘ لیکن ان کی ایک اچھی خاصی تعداد خود ان کمزوریوں کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ میرے استاد مولانا محمد ادریس کاندھلوی (رح) نے ایک دفعہ دوران درس یہ واقعہ بیان فرمایا کہ بھوپال میں ایک قاضی صاحب تھے۔ انھوں نے ایک دفعہ خواب میں سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت کی ‘ دوران ملاقات آنحضرت ﷺ سے قاضی صاحب نے عرض کی کہ حضور ﷺ مجھے کچھ نصیحت فرمایئے۔ آپ نے انگشت شہادت اٹھائی ‘ پہلے ہونٹوں پہ رکھی اور اس کے بعد پیٹ پر اور ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کی نگہداشت کرنا یعنی پیٹ میں حرام لقمہ نہ جانے پائے اور زبان پر گناہ کی بات نہ آنے پائے۔ واقعہ یہ ہے کہ صدق مقال اور رزق حلال ہی ایک مسلمان کا حقیقی جوہر ہے اور علماء اور مشائخ کی حقیقی پہچان ‘ اگر یہ دونوں باتیں امت مسلمہ میں کمزور پڑجائیں اور بالخصوص علماء و مشائخ میں اس برائی کو داخل ہونے کا موقع مل جائے تو پھر اپنے اچھے انجام کی اللہ ہی سے دعا کرنی چاہیے۔ قَوْلِہِمُ الاِْثْمَ یعنی گناہ کی بات کی یوں تو کئی صورتیں ہیں اور اس لفظ میں بڑی وسعت ہے۔ لیکن سب سے بڑی گناہ کی بات بارگاہ ایزدی میں گستاخی کی جسارت کرنا ہے جس کی چند مثالیں پیچھے گزر گئی ہیں۔ اگلی آیت میں اس کی ایک مثال بیان فرمائی جا رہی ہے۔ ارشاد فرمایا :