Ayah 5:33اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللہ َ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (المائدہ : 33)
” ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنے میں سرگرم ہیں ‘ بس یہ ہے کہ عبرت ناک طور پر قتل کیے جائیں یا سولی پر لٹکائیں جائیں یا ان کے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا ملک سے باہر نکال دیئے جائیں۔ یہ ان کے لیے اس دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عذاب عظیم ہے “۔
حدود کسے کہتے ہیں ؟
انسانی جرائم کی مختلف شکلیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اللہ کے قانون کو توڑتا ہوا کسی دوسرے انسان کے ساتھ زیادتی کرتا ہے ‘ چاہے وہ زیادتی اتلاف جان کی شکل میں ہو ‘ اتلاف مال کی شکل میں ہو یا عزت و آبرو کے نقصان پہنچانے کی شکل میں۔ ان تمام جرائم میں اسلام کے عام قانون کے مطابق مجرموں کو سزا دی جاتی ہے۔ جس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان پر حد نافذ کی جائے اور دوسرا یہ ہے کہ ان پر تعزیرجاری کی جائے۔ لیکن ہمارے یہاں قانون کی مروجہ زبان میں چونکہ تمام ایسے قوانین کو تعزیرات ہی کہا جاتا ہے ‘ جیسے تعزیرات برطانیہ یا تعزیرات پاکستان۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کی وضاحت کردی جائے۔ بات یہ ہے کہ آدمی جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس میں وہ اللہ کی نافرمانی بھی کرتا ہے اور کسی دوسرے انسان کا نقصان بھی کرتا ہے۔ اب اگر اس جرم میں اللہ کی معصیت اور اس کی نافرمانی کا حصہ زیادہ ہے تو اس پر جو سزا دی جاتی ہے اس کو حد کہتے ہیں ‘ جس کی جمع حدود ہے۔ یہ حدود چار ہیں۔ حد زنا ‘ حد سرقہ ‘ حد قذف اور حد خمر۔
قصاص کیا ہے ؟
جس جرم میں انسانی نقصان غالب ہوتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کسی حد تک کم نمایاں ہوتی ہے ‘ اس میں جو سزا دی جاتی ہے ‘ اسے قصاص کہتے ہیں۔ جیسے کسی کے قتل یا کسی کو زخمی کرنے پر دی جانے والی سزا۔ مزید برآں اس میں ایک اور فرق بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ قصاص میں مقتول کے وارث اور کسی زخم کی صورت میں خود زخمی ‘ اپنے مجرم کو معاف کرسکتا ہے لیکن حدود میں جب وہ معاملہ عدالت تک پہنچ جائے تو پھر کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں رہتا کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی غالب ہے۔ اس لیے اس کے سوا کوئی اور معاف نہیں کرسکتا۔
تعزیرات کیا ہیں ؟
وہ جرائم یا گناہ کی باتیں جنھیں اسلام نے قابل مذمت قرار دیا یا ان پر لعنت فرمائی یا ان پر جہنم کی وعید سنائی ‘ لیکن ان پر کوئی سزا مقرر نہیں فرمائی ‘ اس میں حکومت کو پارلیمنٹ کی معرفت یا عدالت کی معرفت خود سے سزا دینے کا اختیار حاصل ہے بشرطیکہ ان تمام رعایتوں کو پیش نظر رکھا جائے جس کی فقہا نے تصریح کردی ہے۔ ایسی سزا کو تعزیر کہتے ہیں۔ عام جرائم میں جیسے پہلے ذکر کیا گیا حدود ‘ قصاص یا تعزیرات کے تحت سزا دی جاتی ہے لیکن جب جرم کی نوعیت یہ ہو کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جرأت و جسارت ‘ ڈھٹائی اور بےباکی کے ساتھ اس نظام حق و باطل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے یا کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے شر و فساد سے علاقہ کے امن اور نظام کو درہم برہم کر دے ‘ لوگ اس کے ہاتھوں اپنی جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کی طرف سے ہر وقت خطرے میں مبتلا رہیں۔ قتل ‘ ڈکیتی ‘ راہزنی ‘ آتش زنی ‘ اغوا ‘ زنا ‘ تخریب ‘ ترہیب اور اس نوع کے سنگین جرائم جو حکومت کے لیے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کردیں ‘ ان کو قرآن کی زبان میں محاربہ کہتے ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں عام جرائم کے حوالے سے نہیں بلکہ اس محاربہ کے حوالے سے سزائوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں مختلف سزائوں کا ذکر ہے اور اسلام نے عدالت کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ حالات کی نوعیت اور بدامنی اور قانون شکنی کے موجود اور متوقع اثرات کے لحاظ سے ‘ ان میں سے جو سزا مناسب سمجھے نافذ کرے۔ ان میں سے پہلی سزا یہ ہے۔
قتل نفس اور معاشرے میں فساد پھیلانے والوں کی سزائیں
1 اَنْ یُّقَتَّلُوْآ ” یہ لوگ بدترین طریقے سے قتل کیے جائیں “ کیونکہ یہ لفظ تقتیل سے ہے۔ قتل تو عام قتل کو کہتے ہیں اور تقتیل شر تقتیل کے معنی میں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے مجرم کو عبرت آمیز اور سبق آموز طریقے پر قتل کیا جائے ‘ جس سے دوسروں کو سبق ملے۔ اس سے صرف وہ طریقہ قتل مستثنیٰ ہے ‘ جس سے آنحضرت ﷺ نے روکا ہے۔ وہ ہے آگ میں جلانا۔ اس کے علاوہ دوسرے سب طریقے جو بدمعاشوں کو عبرت دلانے اور دہشت زدہ کرنے کے لیے آج کی دنیا میں مروج ہیں ‘ وہ سب استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
2 اَوْ یُصَلَّبُوْٓا یہاں بھی یہ لفظ صلب سے نہیں بلکہ تصلیب سے بنا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسے مجرموں کو سزا دیتے ہوئے نہایت اذیت ناک طریقے سے سولی دی جائے۔ جس سے مجرم دہشت زدہ ہو اور دوسرے لوگ عبرت پکڑیں۔
3 اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلاَفٍ ” ان کے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹ دیئے جائیں “۔
4 اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الاَْرْضِ یعنی اگر حکومت مناسب سمجھے تو ان کو سزا دینے کی بجائے ‘ جلا وطن کردیا جائے۔ لیکن حضرت عمر فاروق ( رض) کی دینی بصیرت سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ بعض دفعہ ایسے لوگوں کو جلا وطن کرنا دینی اور سیاسی نقطہ نگاہ سے خلاف مصلحت ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو قید میں ڈال دیا جائے اور اس وقت تک قید میں رکھا جائے ‘ جب تک ان کے اصلاح یافتہ ہونے کی امید نہ ہوجائے اور پھر یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ اس طرح کے حالات میں سزا بھی انفرادی حیثیت سے نہیں ‘ بلکہ گروہی حیثیت سے دی جائے۔ اگر قتل ‘ اغوا ‘ زنا ‘ آتش زنی ‘ تخریب کے واقعات پیش آئے ہوں تو یہ جستجو نہیں کی جائے گی کہ متعین طور پر ان جرائم کا ارتکاب کن ہاتھوں سے ہوا ‘ بلکہ ان کی ذمہ داری میں باغی گروہ کا ہر فرد شریک سمجھا جائے گا اور اسی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ مزید یہ ارشاد فرمایا کہ یہ سزائیں ان کے لیے دنیا میں رسوائی کا باعث ہوں گی۔ اہل دنیا کی نگاہ میں یہ لوگ پہلے کیسے بھی معتبر ہوں ‘ اب قانون کی گرفت میں آنے کے بعد ان کا ظاہری اعتبار ختم ہوجائے گا۔ جب تک یہ اپنی اصلاح نہیں کرلیتے ‘ انھیں کسی بھی عزت کے مقام پر فائز ہونے کا موقع نہیں ملے گا اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔
Ayahs 5:34–37اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ ج فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 34)
” مگر جو لوگ تمہارے قابو پانے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو سمجھ لو کہ اللہ مغفرت فرمانے والا اور مہربان ہے “۔
اگر یہ باغی لوگ اور یہ بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد حکومت کی دسترس میں آنے سے پہلے توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلیں تو پھر ان کے خلاف ان کے سابق رویہ کی بنا پر ان کو یہ سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی۔ بلکہ ان کے ساتھ رحم اور مروت کا معاملہ ہوگا۔ البتہ ان لوگوں نے جو دوسرے لوگوں کو نقصان پہنچایا ہے ‘ یہ اگر خود اس کا اعتراف کرلیں یا اس کے گواہ موجود ہوں تو پھر اسلام کے عام قانون کے تحت ان کے ساتھ معاملہ ہوگا اور لوگوں کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئی ہیں ‘ حتی الامکان ان کی تلافی کردی جائے گی۔
اس رکوع کی اختتامی آیت میں (جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں) حرابہ کی حد کا ذکر کیا گیا ہے۔ نئے رکوع میں تین آیات کے بعد سرقہ یعنی چوری کی حد کا ذکر آرہا ہے۔ لیکن اس کے درمیان میں تنبیہ اور تذکیر پر مشتمل تین آیات آرہی ہیں۔ جس میں ہمارے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا آخر وہ اسلوب کیا ہے کہ جس میں ہم یہ حیرت انگیز بات دیکھتے ہیں کہ قانونی دفعات کا ذکر کرتے ہوئے دفعتاً تنبیہ و تذکیر شروع ہوجاتی ہے۔
قرآن کا طرز خطاب فطری اور نفسیاتی ہے
بات یہ ہے کہ قرآن کریم اپنے اسلوب کلام میں دنیا کی واحد کتاب ہے ‘ جس کی نقل کرنا کسی انسان کے بس میں نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام کتابیں کسی نہ کسی ایک موضوع پہ لکھی جاتی ہیں۔ اس کی تمام ضمنی باتیں اور تمام تر تفصیلات اسی موضوع سے متعلق ہوتی ہیں لیکن قرآن کریم کسی ایک موضوع پر بند نہیں۔ وہ زندگی کے تمام مسائل کو زیر بحث لاتا ہے ‘ پھر اس پر محاکمہ کرتا ہے اور اس کے بارے میں رہنمائی دیتا ہے۔ زندگی کے مسائل چونکہ متنوع ہیں اور شاخ در شاخ پھیلے ہوئے ہیں ‘ اس لیے بظاہر اس میں ایک بےترتیبی کا احساس ہوتا ہے اور لوگ یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ قرآن مجید ایک غیرمربوط کتاب ہے حالانکہ قرآن کریم کا بھی ایک ہی موضوع ہے اور وہ ہے حضرت انسان۔ اس لیے انسان کے حوالے سے جب بحث کی جائے گی تو اس کے احساسات اور انفعالات سے لے کر اس کی قومی اور بین الاقوامی ضرورتوں تک کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اس لیے جیسے جیسے اس کی ضرورت کا تقاضا ہوگا ‘ ویسے ویسے بحث طویل ہوتی جائے گی اور اس کا اسلوب بدلتا جائے گا۔ مزید یہ کہ قرآن کریم کسی انسان کی تصنیف نہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اس کلام کا متکلم چونکہ انسانی فطرت اور انسانی نفسیات کا خالق ہے ‘ اس لیے وہ اس کو بہ تمام و کمال جانتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ انسانی طبیعتیں کسی بھی پابندی کو آسانی سے قبول نہیں کرتیں ‘ تاوقتیکہ ان کے دل و دماغ اس کی قبولیت کے لیے آمادہ نہ ہوں۔ اس لیے جب وہ کسی بات کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ تقویٰ کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ پھر اپنی ذات کا حوالہ دے کر اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ پھر اپنی نعمتوں اور احسانات کا ذکر کر کے اس پر جواب طلبی کا احساس اور اسکی جوابدہی کا یقین پیدا کرتا ہے۔ اس طرح دل میں گداز کی ایسی کیفیت پیدا ہوتی اور سوز کی ایسی روح مچلنے لگتی ہے ‘ جس کے بعد کسی بھی حکم کو قبول کرنا انسانی طبیعت کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی ہم اسی اسلوب کلام کو ملاحظہ کر رہے ہیں اور پھر مزید یہ بھی دیکھتے ہیں کہ انسانی معاشرے کو صحیح نہج پر استوار کرنے اور صحیح راہ پر چلانے کے لیے احکام و قوانین کی صورت میں ہدایات بھی دی جارہی ہیں اور عمل نہ کرنے یا مخالفت کرنے کی شکل میں حدود اور سزائوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ کوئی بھی انسانی معاشرہ محض نصیحت یا محض قانون دینے پر زندگی کے سفر کو ہموار نہیں رکھ سکتا۔ تاوقتیکہ اسے قانون توڑنے کی صورت میں اپنی سزا اور داروگیر کا یقین نہ ہو۔ جب کہ دوسرے تمام معاشرے قوانین کی تفہیم پر تو زور دیتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے ایمانی قوت یعنی دلوں میں آمادگی پیدا نہیں کرتے۔ نتیجتاً اپنے سارے وسائل کی فراوانی کے باوجود قانون کی بالادستی اور اس پر عمل کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتے ہیں۔
غالباً 1925 ء کی بات ہے کہ امریکہ نے شراب خانہ خراب کے معاشرے پر اثرات بد کو دیکھتے ہوئے اس پر پابندی کا بل پارلیمنٹ ہائوس سے منظور کروایا۔ پھر اس پر عمل کی ترغیبات کے لیے اپنے تمام ذرائع ابلاغ کو وقف کردیا۔ جو کاوشیں ممکن ہوسکتی تھیں کی گئیں۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کی عادت بد میں اضافہ ہی ہوتا گیا اور شراب پینے والوں کی تعداد کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔ شراب خانے سرکاری طور پر تو بند کردیے گئے تھے ‘ لیکن اب گھر گھر میں شراب کی بھٹیاں کھل گئیں اور شراب کشید ہونے لگی۔ بالآخر انہی برعکس اثرات کو دیکھتے ہوئے امریکہ کی پارلیمنٹ نے آٹھ سال کے بعد شراب کے اس بل کو واپس لے لیا۔ اس کے برعکس صدیوں پہلے مدینہ منورہ میں شراب کی ممانعت کا ایک تجربہ ہوا۔ قرآن کریم کی آیات نازل ہوئیں ‘ جن میں حرمت شراب کا ذکر کیا گیا تھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ان آیات کے کانوں تک پہنچنے کی دیر تھی کہ لبوں تک آئے ہوئے جام گرگئے اور چھلکتی ہوئی شراب کے مٹکے ٹوٹ گئے۔ لوگوں نے نہ صرف پینا پلانا چھوڑا بلکہ اس کی تجارت تک ممنوع ہوگئی۔ اس کے برتن تک توڑ ڈالے۔ ان دونوں طرح کے طرز عمل کو جب ہم دیکھتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کریم فطری اور نفسیاتی اسلوب کیوں اختیار کرتا ہے ‘ جس میں احکام کے ساتھ ساتھ وہ طبیعتوں کے گداز کا سامان بھی کرتا ہے۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔
قرب الٰہی کے حصول کے ذرائع
سورة المائدہ کی آیت نمبر 38 میں چوری کی سزا کو بیان کرنے سے پہلے تین آیتوں میں طبیعتوں میں گداز اور آمادگی پیدا کرنے کے لیے تنبیہ اور تذکیر سے کام لیا گیا ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ َ وَابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (المائدہ : 35)
” اے ایمان والو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے قرب کا وسیلہ تلاش کرو اور اسی کے راستے پر سرگرمِ کار رہو۔ امید ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے “۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللہ َ
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو)
-1 تقویٰ
اس میں ترغیب بھی ہے اور ترہیب بھی۔ چناچہ سب سے پہلے اہل ایمان کو تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے جو ظاہر ہے کہ اسلام اور ایمان کی روح اور عملی زندگی کا حاصل ہے۔ تقویٰ اصل میں احکام کو مستعدی سے بجا لانے اور اس کے نتیجے میں دل و دماغ میں احکام کی نافرمانی کی صورت میں اللہ کی ناراضگی کے گہرے تصور کو پیدا کرنے کا نام ہے اور یہی اسلام کی پیدا کردہ عملی زندگی کا حاصل بھی ہے کیونکہ جس انسان میں یہ تصور راسخ ہوجائے کہ میں اس لیے اللہ کے احکام پر عمل کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں س کی خوشنودی حاصل کرلوں اور اس کی ناراضگی سے بچ کر دنیوی اور اخروی عذاب سے بچ جاؤں ‘ ایسی طبیعت پر شیطان کا حملہ ‘ نفس کے وسوسے ‘ حالات کا پریشر اور خواہشوں کے بہلاوے جلدی اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ یہ وہ قلعہ ہے ‘ جس میں انسانی کردار اور حسن عمل کی دولت محفوظ کردی جاتی ہے اور اس کی اٹھائی ہوئی فصیلیں سیرت و کردار کے مخالف حملوں کے بچائو کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ لیکن یہ تقویٰ محض ایک خواہش سے آگے نہیں بڑھ سکتا یا محض زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوگا ‘ تاوقتیکہ طبیعت میں اللہ کے تقرب کے حصول کی امنگ نہ جاگ اٹھے۔
-2 وسیلہ
اس لیے دوسرا حکم یہ دیا : وَابْتَغُوْآ اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ ” اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو “۔ وسیلہ ” وسلُٗ “ سے مشتق ہے ‘ جس کا معنی ہوتا ہے ملنا یاجڑنا۔ یہ سین کے ساتھ بھی آتا ہے اور ص کے ساتھ بھی۔ البتہ جب سین کے ساتھ آتا ہے تو اس میں رغبت اور محبت کا معنی بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے وسیلہ وہ چیز ہے جو کسی کو کسی دوسرے سے محبت اور رغبت کے ساتھ ملا دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کو ملانے والی سب سے بڑی چیز ایمان اور اطاعت یا ایمان اور عمل صالح ہے۔ حضرت حذیفہ ‘ حضرت قتادہ ‘ حضرت عبد اللہ ابن عباس ( رض) بلکہ اکثر سلف صالحین سے یہی مفہوم منقول ہے۔ میں نے جیسا کہ عرض کیا کہ اس میں محبت اور رغبت کا معنی بھی شامل ہے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے لکھا کہ وہ ایمان اور عمل صالح جو اللہ کے تقرب کا ذریعہ بنتا ہے ‘ اس میں ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت شامل ہو اور اللہ کی محبت اور اس کے رسول کی محبت چونکہ اتباع رسول کے سوا نصیب نہیں ہوتی ‘ اس لیے دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہیے کہ اللہ کے تقرب کا سب سے بڑا ذریعہ اتباع رسول ﷺ ہے۔ اس آیت کے اس ٹکڑے میں مزید ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ” اِلَیْہٖ “ کو پہلے لایا گیا ہے ‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہی کا تقرب حاصل کرو کیونکہ کسی اور کے تقرب کی خواہش ‘ ایمان اور اعتقادات کی جڑ کھود کے رکھ دیتی ہے۔ اس لیے قرآن پاک میں بار بار اس بات کی تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تم جو اللہ کی ذات کو چھوڑ کر دوسروں پر اعتقاد رکھتے ہو اور یہ سمجھ کر کہ وہ تمہیں قیامت کے دن سرخرو کردیں گے اور اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے ‘ ان کا تقرب ڈھونڈنا تم نے شروع کر رکھا ہے۔ یہ چیز تمہارے لیے یہاں بھی نقصان دہ ہے اور قیامت میں بھی تباہ کن ثابت ہوگی۔ چناچہ مشرکین مکہ سے خاص طور پر کہا گیا ہے کہ جن فرشتوں کو تم اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر پکارتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ اللہ کی یہ بیٹیاں ‘ تمہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گی ‘ تمہیں معلوم ہونا چاہیے :
اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ ط (بنی اسرائیل 17: 57)
(یہ (فرشتے) وہ (مخلوق) ہیں جو ہر وقت اللہ کو پکارتے ہیں اور اس کے تقرب کو تلاش کرتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں)
اس لیے ایک مومن کے لیے اصل منزل صرف اللہ کا تقرب اور اس کی تلاش ہے۔ جن قوموں نے بھی اس ذات وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کا تقرب تلاش کیا ‘ انھوں نے دنیا بھی گنوائی اور عاقبت بھی تباہ کرلی۔ اس لیے فرمایا کہ اسی کا تقرب تلاش کرو۔
-3 جہاد
تیسرا حکم یہ دیا : وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبَیْلِہٖ کہ ” اسی کے راستے پر سرگرم کار رہو “۔ مراد یہ ہے کہ اس کا راستہ پوری زندگی میں اسی کی اطاعت ‘ اسی کی عبادت ‘ اسی کے دین کی نشر و اشاعت ‘ اجتماعی زندگی میں اسی کے دین کا غلبہ اور انفرادی اور اجتماعی اداروں میں اسی کی شریعت کا نفاذ ‘ پھر اس راستے میں آنے والی مشکلات کے خلاف جدوجہد ‘ کبھی دماغی کاوشوں سے ‘ کبھی قلم کی جولانیوں سے ‘ کبھی پسینہ بہا کر اور اگر کبھی ضرورت پڑے تو قوت کا استعمال کرتے ہوئے خون دے کر۔ یعنی ایک ہمہ جہت سرگرمی کا راستہ ہے جس میں نہ کہیں ماندگی کے وقفے ہیں اور نہ شکست و ریخت کے مرحلے کیونکہ اس کے بغیر ایمان و عمل کو اس طرح بروئے کار نہیں لایا جاسکتا جس سے اللہ کے تقرب کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور جس کے نتیجے میں تقوی کی دولت نصیب ہوسکتی ہے۔ لیکن جب آدمی بہ ہمہ تن اللہ ہی کے راستے پر پڑجاتا ہے اور وہی اس کی منزل و مقصود بن جاتا ہے ‘ پھر اللہ کی طرف سے یہ امید دلائی جاتی ہے :
لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ
(امید ہے تم کامیاب ہوجاؤ گے)
یہاں کامیابی کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تم دنیوی زندگی میں اسلامی زندگی کو اس کے مطلوبہ نتائج سمیت گزارنے میں کامیاب ہوجاؤ گے اور دوسرا یہ کہ اللہ کے یہاں قیامت کو تم اس کی جنت کو حاصل کرنے اور اس کی خوشنودی کا استحقاق پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور حقیقی معنوں میں جدوجہد کو اپنا شعار نہ بنا سکے تو پھر اندیشہ ہے کہ تم اس راستے کے مسافر بننے کے بجائے کفر کے راستے کے مسافر بن جاؤ گے، اللہ کی نعمتیں تمہیں ملیں گی لیکن تم شکر گزاری کی بجائے کفران نعمت کرو گے۔ اپنی عقل اور قوت تمیز کو اللہ اور اس کے دین کو سمجھنے کی بجائے اس سے مختلف راستے میں صرف کرو گے۔
ترغیب اور ترہیب کے اس عمل کو طبیعتوں کی آمادگی کے لیے پوری طرح بروئے کار لا کر اور سننے والوں کو سراپا گداز بنا کر پھر حد سرقہ یعنی چوری کی سزا کا ذکر فرمایا اب کوئی وجہ نہیں کہ آدمی اس سزا کو سنے اور اس سے پوری طرح اثر قبول کیے بغیر رہ سکے۔
Ayah 5:38وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْٓا اَیْدِیَھُمَا جَزَآئًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللہِ ط وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ حَکِیْمُٗ ۔ (المائدہ : 38)
” اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت ‘ پس ان کے ہاتھ کاٹ دو ۔ یہ ان کے کرتوت کی جزا اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے “۔
چوری کی حد کس وقت لاگو ہوتی ہے ؟
قرآن کریم کا عام انداز یہ ہے کہ وہ صرف مردوں کو خطاب کر کے احکام دیتا ہے اور عورتیں بھی ان احکام میں شامل ہوتی ہیں۔ لیکن حدود کے نفاذ میں چونکہ بہت احتیاط برتی گئی ہے ‘ اس لیے یہاں مردوں اور عورتوں کو الگ الگ ذکر فرمایا گیا ہے ‘ تاکہ کہیں اس شبے کا سہارا نہ لیا جائے کہ چوری کی سزا صرف مردوں پر نافذ ہوگی ‘ عورتوں پر نہیں ہوگی اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ السارق اور السارقہ یہ صفت کے صیغے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو چور قرار دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسی چیز کی چوری کرے جو قدر و قیمت کی حامل ہو۔ اسی لیے آنحضرت ﷺ اور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کسی معمولی چیز پر کبھی حد سرقہ کو جاری کرنے کا حکم نہیں دیا۔ یعنی ایک آدمی راستے میں کسی درخت سے پھل توڑ لیتا ہے ‘ کسی کے ٹال سے چند لکڑیاں اٹھا لیتا ہے ‘ سبزی کی دکان سے کوئی سبزی چرا لیتا ہے ‘ ان ناشائستہ افعال پر عدالت سزا تو دے سکتی ہے ‘ لیکن حد جاری نہیں کرسکتی کیونکہ اس کو حقیقت میں ایسی چوری قرار نہیں دیا جاسکتا ‘ جس پر اتنی بڑی سزا دی جاسکے۔ پھر قرآن و سنت سے فقہا نے چوری کا جو مفہوم سمجھا ہے ‘ اس کے پیش نظر انھوں نے اس پر چند شرائط عائد کی ہیں کہ اس چیز کی چوری کو شرعی طور پر چوری قرار دیا جائے گا ‘ جو کسی کی ذاتی ملکیت ہو۔ اگر اس میں چوری کرنے والے کا کسی حد تک بھی اشتراک ہو یا وہ چیز رفاہ عامہ سے تعلق رکھتی ہو ‘ اس پر یہ حد جا ری نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ کسی محفوظ مال کی چوری کی گئی ہو۔ اگر وہ چوری کی چیز مال تو ہے ‘ لیکن اسے باہر ڈال دیا گیا ہے یا مثلاً بھینسیں باہر چرنے کے لیے چھوڑ دی گئی ہیں اور کوئی ساتھ محافظ نہیں ہے تو ایسی چوری پر بھی اور کوئی سزا تو دی جاسکتی ہے ‘ لیکن حد جاری نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح جیب تراش چاہے وہ کسی کو ہزاروں لاکھوں سے محروم کردے یا کفن چور جو ایک نہایت سنگین چوری کرتا ہے ‘ جو ہر طرح مذمت کے قابل ہے ‘ لیکن چونکہ یہ پوری طرح حفاظت میں نہیں ہے ‘ اس لیے اس پر بھی ہاتھ نہیں کاٹے جاسکتے۔ اسی طرح اس سزا کے اجراء کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اس چیز کو چھپا کر چرایا گیا ہو۔ اگر سرعام اور جبر سے چرایا جائے تو وہ ڈاکہ ہے ‘ چوری نہیں۔ اس کی سزا اور ہے۔ اس کے علاوہ فقہ میں اس کی مزید شرائط کو دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر اس جرم کے ثبوت کے لیے بھی ‘ باقی تمام حدود کی طرح بہت احتیاط سے کام لیا گیا ہے اگر ثبوت میں ذرا سا بھی شبہ پڑجائے ‘ تو حد کا اجراء روک دیا جاتا ہے کیونکہ شبہ کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو پہنچتا ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ معلوم ہوجائے کہ چوری کرنے والا نابالغ یا اس کے دماغ میں فتو رہے ‘ جب بھی اس کو اس سزا سے بچایا جائے گا اور اگر یہ شبہ ہوجائے کہ چوری کرنے والا چوری کرنے میں اختیار نہیں رکھتا تھا ‘ بلکہ جبراً اس سے چوری کروائی گئی یا وہ اضطرار کا شکار تھا کہ اگر وہ چوری نہ کرتا تو ضرورت کے ہاتھوں ہلاک ہوجاتا ‘ تب بھی یہ سزا اس پر نافذ نہیں ہو سکے گی کیونکہ اسلام میں حدود نافذ کرنے سے مقصود لوگوں کو سزائیں دینا نہیں بلکہ لوگوں میں ایک ایسا کریکٹر پیدا کرنا ہے کہ جس سے وہ خود ہی ایسے گناہ سے بچیں اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کو ایسی بنیادوں پر اٹھانا مقصود ہے ‘ جس میں اس طرح کے گناہوں کا وقوع اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجائے۔
اسلام صرف ترغیب ہی نہیں دیتا بلکہ ترہیب سے بھی کام لیتا ہے
انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ دعوت و نصیحت سے وقتی اثر ضرور قبول کرتی ہے لیکن حالات کا دبائو اور خواہشات کی فراوانی اس اثر کو دیر پا نہیں رہنے دیتی اس کے لیے ضروری ہے کہ ترغیب کے ساتھ ساتھ ترہیب سے بھی کام لیا جائے۔ ترہیب کا سب سے اہم عنصر منکرات کے ارتکاب پر سزا کا نفاذ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو انسان کو برائی کے ارتکاب سے پہلے سوچنے اور رکنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب چور کو یہ بات معلوم ہو کہ میں اگر چوری کے جرم میں پکڑا گیا تو مجھے سخت سزا ملے گی تو وہ کبھی بھی چوری کے ارتکاب میں جلد بازی سے کام نہیں لے گا۔ مزید برآں معاشرے کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مجرم کو ملنے والی سزا اس کے لیے سامان عبرت بن جائے۔ وہ جب بھی اس سزا کے تصور کو ذہن میں تازہ کرے تو اس کے جسم پر کپکپی چھوٹ جائے اور اس کے دل کی حرکت رک رک کر چلنے لگے۔ اگر ان دو باتوں کا اہتمام کرلیا جائے تو پھر امید کی جاسکتی ہے کہ افراد معاشرہ بہت حد تک اس لعنت سے بچ جائیں گے۔ اس لیے قرآن پاک کی اس آیت کریمہ میں ان دونوں باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے فرمایا : جَزَآئًم بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللہِ یہ چوری کی سزا چور کے لیے اس کے عمل کا بدلہ ہے ‘ لیکن معاشرے کے لیے سامان عبرت ہے۔ چور نے جو حرکت کی ہے ‘ اس کے لیے چونکہ اس نے دراز دستی سے کام لیتے ہوئے حدود سے تجاوز کیا ہے ‘ اس لیے اس کا ہاتھ اب باقی نہیں رہ سکتا اور چونکہ خطرہ ہے کہ دیگر افرادِ معاشرہ بھی اس کا ارتکاب نہ کرنے لگیں ‘ اس لیے علانیہ ہاتھ کاٹنا لوگوں کو عبرت دلانے کی ایک ترکیب ہے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو چوری کی وارداتیں کبھی نہیں رکیں گی۔ جیسا کہ آج پوری دنیا میں چوری کے مجرموں کو قید وبند کی سزائیں بھی ملتی ہیں ‘ جرمانے بھی ہوتے ہیں ‘ مار پیٹ بھی ہوتی ہے ‘ مگر یہ جرم ہے کہ روز بروز دیگر جرائم کی طرح بڑھتا ہی جارہا ہے جیلیں جرائم کی درسگاہیں بن کر رہ گئی ہیں اور معاشرہ اس بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ چوری کا یہ جرم صرف ایک جرم نہیں بلکہ کئی جرائم کا عنوان ہے۔ اگر اس کو نہ روکا جائے تو بہت سارے جرائم کو وقوع پذیر ہونے اور بہت ساری محرومیوں کو معاشرے میں در آنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ فرض کریں ایک بیوہ جس نے اپنی بیٹی کو پالتے ہوئے عمر کا بیشتر حصہ گزارا ‘ جب بیٹی جوان ہوگئی تو اس نے اس کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے گھروں میں برتن مانجھے ‘ کپڑے دھوئے ‘ پیسہ پیسہ جمع کیا اور اپنی حیثیت کے مطابق اس کے لیے جہیز بنایا۔ شادی کے دن طے ہوگئے تو چور نے آ کر اس کے گھر کی روشنی بجھا دی۔ اب یہ بظاہر ایک جرم ہے ‘ لیکن حقیقت میں اس جرم کے نتیجے میں ایک بیوہ کی آرزوئوں اور ایک جوان لڑکی کے سپنوں کی شکست و ریخت کا جو صدمہ چھپا ہوا ہے اور جس کے نتائج نامعلوم کس طرح اخلاقی تباہی کی شکل میں نکلیں گے ‘ اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔ لیکن ہمارے گردوپیش میں ایسی کئی کہانیاں ہیں جن کو سن کر اور دیکھ کر ‘ بڑی آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
ایک اور بیوہ ماں نے اس لیے اپنی زندگی بھر کا زیور اور اثاثہ چھپا کے رکھا تھا کہ میرا بیٹا ‘ جب اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کالج یا یونیورسٹی جائے گا تو اس کے اخراجات میں کام آئیں گے۔ لیکن ایک چور کا ہاتھ جہاں ماں کی ساری امیدوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے ‘ وہاں عین ممکن ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے دروازے پر کھڑا ہونے والا یہ نوجوان معاشرے سے انتقام لینے کے لیے ایک خطرناک مجرم کی صورت اختیار کر جائے۔ اس لیے ہمارا پروردگار ‘ جو خالق فطرت ہے۔ وہ ہمارے دانشوروں سے زیادہ جانتا ہے کہ معاشرے کو ان محرومیوں سے بچانے کے لیے کیسی سزائیں ہونی چاہئیں ‘ جس سے واقعی جرائم کا راستہ روکا جاسکے۔ لیکن مشکل یہ ہوگئی ہے کہ جب ایک دانشور یہ سنتا ہے کہ کسی معاشرے میں کسی چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو ندامت سے اس کی پیشانی پر پسینہ کے قطرے جھلملانے لگتے ہیں ‘ لیکن پوری دنیا جس طرح ایسے جرائم کے ہاتھوں اخلاقی موت کا شکار ہو رہی ہے ‘ اس سے ہمارے دانشوروں کی پیشانیاں کبھی پسینے سے نہیں بھیگتیں حالانکہ یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اگر چند ہاتھوں کے کٹ جانے سے ہزاروں سر ‘ ہزاروں گھر اور ہزاروں قسمتیں محفوظ ہوسکتی ہیں تو یہ سودا نہ صرف یہ کہ مہنگا نہیں بلکہ انسانیت کے لیے باعث رحمت ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاہ فیصل مرحوم امریکہ کے دورے پر گئے۔ وہاں انھوں نے ایک پریس کانفرنس بلائی۔ اس پر ہجوم پریس کانفرنس میں بڑے بڑے اخباروں کے رپورٹروں نے حدود اللہ کے حوالے سے چبھتے ہوئے سوالات کیے اور بار بار یہ بات کہی کہ آپ انسانوں کے ہاتھ کاٹ کر اور حدود اللہ کو نافذ کر کے بہت بڑی انسان دشمنی کا ثبوت دیتے ہیں ‘ اس سے بڑھ کر ظالمانہ سزائیں اور کیا ہوسکتی ہیں ؟ شاہ فیصل نے جواب میں فرمایا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ تمہیں اور پورے مغرب کو انسانوں اور انسانیت سے ہمدردی نہیں بلکہ جرائم اور مجرموں سے ہمدردی ہے۔ اگر تمہیں انسانیت سے ہمدردی ہوتی تو تم نے انسانیت کے تحفظ کی کوشش کی ہوتی۔ تمہیں چونکہ جرائم اور مجرموں سے ہمدردی ہے ‘ اس لیے تم اس کے تحفظ کے لیے کوشاں رہتے ہو اور اس میں تم کامیاب بھی ہو۔ مزید فرمایا کہ میں تمہیں ڈالروں سے بھرا ہوا ایک بریف کیس دیتا ہوں اور پھر تمہیں میں اسی شہر میں گھومنے پھرنے کے لیے بغیر کسی باڈی گارڈ کے جانے کا حکم دیتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد مجھے خبر ملے گی کہ تمہیں یا تو قتل کردیا گیا ہے یا تمہارا بریف کیس چھین لیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے اور تم جانتے ہو کہ ایسا ہی ہے تو پھر تمہیں سوچنا چاہیے کہ تم نے سزائوں کے نام سے جو ایک تماشہ رچا رکھا ہے ‘ اس نے آخر تمہیں اور پوری دنیا کو کیا دیا ہے ؟ کہ جرائم میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں انسانوں کے دکھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے بر عکس میں تمہیں اپنے ملک چلنے کی دعوت دیتا ہوں۔ تم میرے ملک میں آئو ‘ میں تمہیں سونے سے لاد دوں گا اور دولت کا ایک بڑا انبار تمہارے ساتھ کر کے ‘ تمہیں حکم دوں گا کہ پورے ملک کی سیر کرو۔ اگر اس سیر میں تمہارا کوئی نقصان ہو یا تمہاری طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت کرے تو پھر میں مان لوں گا کہ تم اسلامی سزائوں کو جو ظالمانہ سزائیں کہتے ہو اور بظاہر انسانیت سے جو محبت جتاتے ہو ‘ یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن اگر تم دولت کا ایک انبار رکھتے ہوئے بھی اور تن تنہا پورے ملک میں سفر کرتے ہوئے بھی ‘ کسی حادثے کا شکار نہیں ہوتے اور کوئی تمہیں نقصان پہنچانے کی جرأت نہیں کرتا تو تمہیں مان لینا چاہیے کہ اسلام کی سزائیں جو بقول تمہارے سخت سہی ‘ سراسر رحمت ہیں ‘ اس نے انسانوں کو کچھ دیا ہے چھینا نہیں۔ کیا ایسا نہیں کہ جب کبھی یہ تجربہ ہوا ہے ‘ وہ چودہ سو سال پہلے ہوا ہو یا آج ‘ اس نے ہمیشہ انسانوں کی جان ‘ مال ‘ عزت ‘ آبرو ‘ حتیٰ کہ انسانیت کی حفاظت کی ہے۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ تم اگر انسانیت سے ہمدردی رکھتے ہو تو تمہیں اسلام کا دیا ہوا سزائوں کا نظام قبول کرنے میں آخر تأمل کیوں ہے ؟
مزید فرمایا : وَ اللہ ُ عَزِیْزٌ حَکِیمٌ اللہ غالب ہے ‘ حکمت والا ہے) وہ چونکہ غالب ہے ‘ اس لیے جو چاہے حکم دے سکتا ہے ‘ اس پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ چونکہ وہ حکیم بھی ہے ‘ اس لیے اس کا ہر حکم حکمت و دانش کا مرقع ہوتا ہے۔ انسان اپنی کوتاہ فہمی کی وجہ سے بعض دفعہ اس کے نتائج وثمرات کو سمجھنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں لیکن جب کبھی اس کا تجربہ کرتے ہیں تو تب انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و دانش سے کس طرح ہمیں نوازا ہے۔
Ayah 5:39فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہ َ یَتُوْبُ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمُٗ ۔
(المائدہ : 39)
” اور جس شخص نے اس ظلم و سرکشی کے بعد توبہ کرلی اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی ‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے ‘ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں ‘ رحم کرنے والے ہیں “۔
توبہ کے بعد ایک مجرم سے اسلامی معاشرے کا سلوک
تمام قوموں اور انسانی معاشروں میں یہ معمول رہا ہے کہ جب کسی مجرم کو سزا دی جاتی ہے تو اس کے بارے میں طبیعتوں میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں معاشرہ دوبارہ ایسے آدمی کو قبول کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اب وہ شخص یا تو محرومیوں کی پوٹ بن کر زندگی گزارتا ہے یا مایوسیوں کا شکار ہو کر خودکشی کی موت قبول کرلیتا ہے۔ لیکن ہمارا پروردگار چونکہ خالق فطرت اور انسانی جبلت کو جاننے والا ہے ‘ وہ انسانیت کا یہ نقصان کیسے گوارا کرسکتا ہے۔ اس لیے جہاں اس نے جرم کی سزا دے کر معاشرے پر پڑنے والے اس کے برے اثرات سے معاشرے کو بچایا ‘ وہیں اس نے مجرم کو معاشرے سے کٹ جانے اور دوبارہ معاشرے کے اسے قبول نہ کرنے جیسے نقصان سے بچا کر نہ صرف اس مجرم کی بلکہ جمیع انسانیت کی حفاظت کا اہتمام فرمایا۔ اس لیے ارشاد فرمایا :
فَمَنْ تَابَ مِنْم بَعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللہ َ یَتُوْبُ عَلَیْہِ ط اِنَّ اللہ َ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
(اور جس شخص نے اس ظلم و سرکشی کے بعد توبہ کرلی اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی ‘ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے ‘ یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والے ہیں ‘ رحم کرنے والے ہیں)
یعنی ایک مجرم کے لیے نہ اسلامی معاشرے کے دروازے بند ہوتے ہیں اور نہ اللہ کی رحمت کے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے سامنے معافی مانگے ‘ اپنے فعلِ بد پر ندامت کا اظہار کرے ‘ اپنے اس بگڑے ہوئے رویے کی پوری طرح اصلاح کرے اور تجدید عہد کرتے ہوئے یقین دلا دے کہ دوبارہ ایسی حرکت کا صدور نہیں ہوگا تو اللہ فرماتا ہے کہ میری مغفرت جھوم کر اس پر برسے گی اور میری رحمت اسے اپنی آغوش میں لے لے گی ‘ اس لیے کہ کسی انسان کا ٹھوکر کھا جانا ایسا جرم نہیں ‘ جس کی اصلاح ممکن نہ ہو۔ اصل جرم ‘ جرم کو جرم نہ سمجھنا اور اس پر اصرار کرتے ہوئے اسے جاری رکھنا ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کے اندر کی انسانیت تباہ ہوجاتی ہے اور انسانی معاشرہ نہ صرف اپنے ایک کارکن سے محروم ہوجاتا ہے ‘ بلکہ اس کے برے اثرات دوسروں کو اپنی لپیٹ میں لے کر اس جرم کا دائرہ کہیں سے کہیں پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ مجرم ‘ مجرم نہ رہے ‘ بلکہ نادم ہو کر اصلاح کی طرف لپکے تو نہ صرف یہ کہ انسانی معاشرے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ غلطی کرنے والوں کے سامنے ایک نمونہ آجاتا ہے ‘ جس سے ان کے لیے واپس پلٹنے کی ترغیب پیدا ہوجاتی ہے۔
سچ کہا ماہر القادری مرحوم نے ؎
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو ‘ جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے ‘ سو بار ندامت ہوتی ہے
Ayah 5:40اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہ َ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ ط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُٗ ۔ (المائدہ : 40)
” کیا تمہیں علم نہیں ہے کہ اللہ ہی ہے ‘ جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ وہی جس کو چاہے گا سزا دے گا اور جس کو چاہے گا بخشے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔
اس آیت کریمہ میں پورے سلسلہ مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے ‘ ایک جامع بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اللہ کے قانون کی تعمیل میں حیل و حجت کرنا یا اس کی حکمتوں کو سمجھنے میں پس و پیش کرنا ‘ پھر اس کے نفاذ میں بہانے تراشنا ‘ اُخروی نجات کے لیے مصنوعی سہارے تلاش کرنا اور سمجھنا کہ بخشش اور مغفرت میں شاید ان کا بھی کوئی دخل ہے ‘ یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حیثیت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اس لیے فرمایا گیا کہ تم اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ زمین و آسمان پر حکومت کس کی ہے ‘ یہ پوری کائنات کس کے حکم سے زندگی کا رزق پا رہی ہے ؟ ظاہر ہے وہ پروردگارِ عالم ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کے حکم سے وجود میں آیا ہے اور اسی کے حکم سے باقی ہے۔ حاکمیت بھی اسی کو زیب دیتی ہے کیونکہ کبریائی اور حاکمیت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب حکومت اور حاکمیت کا حق اس کا ہے تو پھر وہ جسے چاہے سزا دے اور جس کی چاہے مغفرت کرے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘ اس کی قدرت سے کوئی چیز بھی بعید نہیں ہے۔ جب حقیقت یہ ہے تو پھر اس کے احکام کی تعمیل میں پس و پیش کرنا یا اس کے قانون کے مقابلے میں دوسرے سہارے تلاش کرنا ‘ جس کے نتیجے میں خرابیوں کا سلسلہ چل نکلتا ہے ‘ کسی طرح بھی مناسب نہیں بلکہ یہی ساری نافرمانیوں کی جڑ ہے۔ اس لیے جب تک اس پر قابو نہیں پایا جائے گا اور اس حقیقت کو مذہب و دین کی روح کے طور پر قبول نہیں کیا جائے گا ‘ اس وقت تک نہ حدود اللہ کی حکمت سمجھ میں آئے گی اور نہ صحیح ذوق عمل نصیب ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ جب دیکھتے تھے کہ اہل کتاب اس بنیادی حقیقت کو ‘ جس کا ابھی ذکر ہوا ‘ بخوبی جانتے ہیں کیونکہ یہی ہر مذہب کی اساس ہے ‘ لیکن ان کا رویہ اعتقاد اور عمل دونوں کے حوالے سے اس کے بالکل برعکس ہے تو آپ کو شدید صدمہ ہوتا تھا۔ آپ دیکھتے تھے کہ اوس اور خزرج میں سے جو لوگ بظاہر مسلمان ہوئے ہیں ‘ لیکن تاحال یہودیوں کے زیر اثر ہیں ‘ اسی طرح وہ لوگ بھی جو یہود میں سے نام کے مسلمان ہیں ‘ لیکن دراصل دونوں گروہ منافق ہیں ‘ وہ زندگی کے ہر اہم مسئلے میں بجائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ سے رجوع کریں ‘ ان کی کوشش یہ ہوتی کہ یہودیوں سے راہنمائی حاصل کریں اور یہود کی عدالتوں سے فیصلے کروائیں ‘ حالانکہ ایمان کی پہلی شرط ہی یہ ہے کہ آدمی راہنمائی اور فیصلہ لینے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے ‘ لیکن جب تک کسی میں حقیقی ایمان پیدا نہیں ہوتا ‘ اس میں یہ نفاق کی سب سے بڑی علامت زندہ رہتی ہے کہ وہ انفرادی عبادات میں بعض دفعہ شریک بھی ہوتا ہے ‘ لیکن اجتماعی زندگی میں اور راہنمائی اور قانون کے حوالے سے کبھی بھی اسے یکسوئی نصیب نہیں ہوتی۔ ان منافقین کا بھی سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ ایک طرف تو ایمان لانے کے دعوے دار تھے اور دوسری طرف بار بار یہود کے پاس جا کر ان سے رہنمائی لیتے تھے اور انہی کے سکھانے ‘ پڑھانے سے آنحضرت ﷺ کی مجلس میں آ کر مسائل بھی پیدا کرتے تھے۔
قرآن کریم نے بعض دوسری سورتوں میں بھی منافقین کی اس روش کا بار بار نوٹس لیا ہے۔ ایک جگہ فرمایا :
(کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں ‘ وہ چاہتے یہ ہیں کہ زندگی کے فیصلے طاغوت سے حاصل کریں حالانکہ انھیں طاغوت سے ہر طرح لاتعلق ہونے کا حکم دیا گیا ہے) (النساء 4: 60)
پھر آگے چل کر پروردگار نے قسم کھا کر نہایت تاکید سے یہ بات فرمائی کہ :
(تم کبھی بھی حقیقی مومن نہیں ہوسکتے ‘ تاوقتیکہ اپنے متنازعہ معاملات میں صرف آنحضرت ﷺ کو فیصل تسلیم نہ کرلو اور ان کے فیصلوں کے سامنے گردن نہ جھکائو) (النساء 4: 65)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ روش ہر دور کے منافقین کی رہی ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں اسلام کا بڑا دعویٰ ہے لیکن وہ اپنی تہذیبی ‘ تمدنی اور قانونی زندگی میں کبھی اس بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ راہنمائی صرف اللہ اور اسکے رسول سے ہی لی جاسکتی ہے۔
جن حالات میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں ‘ اس وقت ایک مشکل یہ تھی کہ ابھی تک اسلام کی اس نوزائیدہ ریاست کا دائرہ بہت محدود تھا۔ یہود کے دو قبیلے بنی نضیر اور بنی قریظہ مدینہ کے مضافات میں رہتے تھے اور زندگی کے بیشترمعاملات میں انھیں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل تھا۔ ان کی اپنی عدالتیں تھیں ‘ جن میں وہ یہود کے فیصلے کرتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ اسلام عدل اور مساوات کا فی الواقع علمبردار ہے اور بارگاہِ رسالت سے ہر ایک کو انصاف مل سکتا ہے تو بعض دفعہ ان کے عوام یا ان میں سے وہ لوگ ‘ جو بظاہر اسلام قبول کرچکے تھے ‘ وہ اپنے فیصلہ طلب مسائل میں آنحضرت کی خدمت میں آنے کی کوشش کرتے تو ان کے لیڈر اور راہنماان کو یہ پٹی پڑھا کر بھیجتے کہ دیکھو ! اگر تمہیں وہاں سے فیصلہ اپنی خواہش کے مطابق ملے تو اسے قبول کرنا ‘ ورنہ رد کردینا۔ رسول اللہ ﷺ ان کے اس طرز عمل کو دیکھ کر سخت غمزدہ ہوتے کہ ایک طرف تو یہ لوگ اپنے آپ کو اللہ کے دین کا پیروکار کہتے ہیں اور دوسری طرف ان کا حال یہ ہے کہ یہ اپنی خواہشات کے سوا کسی چیز کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ چناچہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی طرف آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو متوجہ فرمایا۔